Stories


قیمت از حسن خان

میرے موبائل پر مسلسل ملک کی کال آرہی تھی، کوئی اور وقت ہوتا تو میں فوراً کال ریسیوکرتا مگر اس وقت میں انتہائی اہم کام میں مصروف تھا۔ اس وقت میں انیلہ کی چدائی میں مصروف تھا اور ملک کی کال کو نظر انداز کر رہا تھا۔ انیلہ کوئی اور نہیں میری گرل فرینڈ تھی ہم پچھلے ایک سال سے ساتھ تھے اور مستقبل میں ہمارا شادی کا ارادہ بھی تھا، اس دوران ہم کئی بار سیکس کرچکے تھے اور آج بھی انہیں لمحات سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ انیلہ اس وقت گھوڑی بنی ہوئی تھی اور میں اس کی کمر کو گرفت میں لئے ہوئے پوری طاقت سے جھٹکے مار رہا تھا ہم دونوں چدائی کے آخری حصے میں پہنچے ہوئے تھے جہاں منزل بہت قریب نظر آتی ہے۔ ملک چاہے میرا کتنا بھی جگری ہو اس لمحے میں کوئی دوست اچھا نہیں لگتا اس لئے لنڈ کی بات سنتے ہوئے اور دل کی آواز کو دباتے ہوئے میں انیلہ کی کمر کے اوپر جھک کر اس کی خوبصورت گانڈ کے ساتھ چپکا ہوا تھا اس انداز کے ساتھ میں اپنی کمر کو پوری رفتار کے ساتھ ہلا رہا تھا اور گھوڑی بنی انیلہ بھی اپنی آہیں مجھے سنا کر یہ خبر سنا رہی تھی کہ وہ منزل پانے والی ہے، میں اپنے آپ کو قابو میں رکھتے ہوئے چند مزید جھٹکے لگائے تو انیلہ نے ایک سریلی چیخ مارتے ہوئے پانی چھوڑ دیا اور اسی لمحے کے انتظار میں اپنی ڈیوٹی دیتا ہوا میرا لنڈ بھی اپنا آخری فرض انجام دینے لگا اور منی کی تیز دھار اس کی چوت میں چھوڑنے لگا۔۔ انیلہ اب پیٹ کے بل لیٹ چکی تھی اور میں بھی اسی پوزیشن میں اس کے اوپر لیٹا ہوا تھا . کچھ لمحوں بعد میں نے اپنا موبائل اٹھایا تو ملک کی تین مس کالز آچکی تھیں، چدائی کا نشہ جب سر سے اترا تو دوست کی فکر ستانے لگی، پتا نہیں ملک کو کیا ایمرجنسی ہوگی ؟ گالیاں دے رہا ہوگا مجھے، انہیں سوچوں کے دوران میں نے ملک کو کال کی، چند گھنٹیاں بجنے کے بعد اس نے کال ریسیو کی۔:حرامی کہاں مرا ہوا تھا میری کال کیوں ریسیو نہیں کررہا تھا، ملک نے کال ریسیو کرتے ہی گالی دے کربولا۔ ابے یار سویا ہوا تھا اور موبائل سائلنٹ پے تھا، تو بول کیا آفت آگئی تیرے پہ۔۔ میں نے اسے ٹوپی پہناتے ہوئے پوچھا۔۔ یار کچھ نہیں اکتوبر کا مہینہ ہے میں اور فہد پروگرام بنا رہے ہیں شمالی علاقہ جات کی سیر کا، ابھی پروگرام فائنل نہیں ہوا ہے ہم نے سوچا تجھسے پوچھ لیں اگر تجھے بھی ساتھ جانا ہے تو بتا دے ویسے بھی بہت ٹائم ہوگیا ہم لوگ کہیں گھومنے نہیں گئے۔ اس نے اپنی بات مکمل کی۔ فہد ،ملک اور میں جگری دوست تھے، ہم اسکول میں ساتھ پڑھے تھے اور بعد میں کالج میں بھی ساتھ ہی ایڈمشن لیا تھا فہد اور ملک نے ماسٹرز بھی ایک ہی سبجیکٹ میں کیا تھا لیکن میں اپنی مالی حالات کی وجہ سے آگے نہیں پڑھ پایا تھا۔ جس کا ہم دوستوں کو بہت افسوس بھی تھا لیکن ہماری دوستی میں کبھی فرق نہیں آیا ہم تب بھی اچھے دوست تھے اور اب بھی ہیں۔فہد اور ملک دونوں شادی کرچکے تھے جبکہ میں ابھی کنوارے پن کی زندگی کو انجوائے کر رہا تھا۔ جانی مجھے اپنے آفس سے چھٹیاں لینی پڑیں گی اس میں ٹائم لگے گا یار۔۔ میں نے اسے جواب دیا۔ تو مانگ کے تو دیکھ تیری سیکسی میڈم تجھے فٹا فٹ چھٹی دے گی ویسے بھی تیری دیوانی ہے وہ۔ ملک میری باس کے بارے میں کمنٹ پاس کر رہا تھا۔ اچھا چل کوشش کروں گا کل بتاتا ہوں تجھے فائنل اوکے۔ میں نے اسے مطمئن کردیا۔ بیٹا کوشش نہیں پکا کام کرنا، اب تجھے کیا کرنا ہے یہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے سمجھا۔ چل رکھتا ہوں فون۔ کال ختم ہوئی تو انیلہ سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ میں اسے تفصیل سے ساری بات سمجھائی ، ویسے بھی وہ ملک اور فہد دونوں کو اچھی طرح جانتی تھی اور اسے ہماری دوستی کا بھی اچھی طرح پتا تھا اس لئے وہ بناء کوئی سوال جواب کئےمجھ سے لپٹ گئی ۔ تابش...سنا ہے وہاں بہت خوبصورت لڑکیاں ہوتی ہیں کہیں کسی کے چنگل میں پھنس مت جانا، اپنی زنانہ فطرت سے مجبور انیلہ آخر بول ہی پڑی۔۔ بے فکر رہو میں کہیں نہیں پھنسے والا کیونکہ تم میرے لئے پرفیکٹ ہو، جہاں بھی جاوں گا لوٹ کر تمہارے پاس ہی آوں گا ہم تینوں دوستوں کی زندگی میں بہت سے راز تھے لیکن ہم ایک دوسرے کے رازوں کے امین بھی تھے اور ایک دوسرے پر بھروسہ بھی بہت کرتے تھے۔ میں کراچی میں ایک پرائیویٹ فرم میں اسٹنٹ مینیجرمارکیٹنگ کی پوسٹ پر کام کرتا ہوں۔ مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کی ہیڈ حسینہ میڈم اپنے نام کی طرح تھی اور اپنے وقت میں انتہائی حسین بھی رہی ہونگی مگر ڈھلتی جوانی اچھے اچھوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیتی ہے اور یہی حال حسینہ میڈم کا بھی ہوا تھا، لیکن پھر بھی چالیس کے پیٹے میں موجود حسینہ میڈم اپنی عمر سے کچھ سال کم ہی دکھتی تھیں جس میں ان کی خود کی محنت بھی شامل تھی، اور ان کا مجھ پر فدا ہونا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں تھا آفس کے اکثر لوگ جانتے تھے کہ میڈم کی مجھ پر نظر کرم ہے اور میں بھی اس کا فائدہ اٹھاتا رہتا تھا مگر اس کے بدلے میں مجھے بھی اپنی سروس دینی پڑتی تھی۔ آج کے دن بھی اسی سروس کی ضرورت پڑنے والی تھی اور میں اس کے لئے تیار بھی تھا۔۔ ہائے میڈم کیسی ہیں آپ۔۔میں نے ان کے آفس میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔۔ ہائے تابش آئی ایم فائن تم کیسے ہو ڈئیر؟ حسینہ میڈم کی آنکھوں کی چمک صاف دکھائی دے رہی تھی۔ میڈم میں تو ٹھیک ہوں مگر میری ایک قریبی خالہ کی طبیعت بلکل ٹھیک نہیں ہے انہیں کینسر ہے جو آخری اسٹیج پر ہے میں نے سوچا ہوا بہانہ میڈم کے حضور بیان کرنا شروع کیا۔۔ اوہ سو سیڈ۔۔ میں کیا کرسکتی ہوں تمہارے لئے؟ میڈم کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ میری بات پر یقین کر رہی ہیں۔ مجھےپندرہ دن کی چھٹی چاہئیے تاکہ ان کی عیادت کے لئے جاسکوں۔ وہ لاہور میں رہتی ہیں۔ کوئَی بات نہیں تم ضرور جاو مگر میں کیسے پندرہ دن تمہارے بغیر رہ پاوں گی ؟ میڈم اب اپنے مطلب کی بات پر آرہی تھیں۔۔۔ آپ فکر کیوں کرتی ہیں میں آپ کو پندرہ دن کی دوائی دے کر جاوں گا۔۔ میں نے میڈم کے قریب آتے ہوئے بولا۔۔ اوہ تابش تم بہت اچھے ہو میرے دل کی بات فوراً سمجھ لیتے ہو۔۔شام میں گھر آجانا۔۔ پلیز اور ہاں پندرہ دن کی دوائی پوری چاہئے مجھے۔۔ سمجھے۔ جی بلکل سمجھ گیا۔۔ آپ بے فکر ہوجائیں۔ حسینہ طلاق یافتہ تھی اور اکیلے ہی اپنی زندگی کی گاڑی آگے بڑھا رہی تھی۔ اس تنہائی نے اس کے جسم کی طلب کو اور بھی بڑھا دیا تھا۔ یوں تو اس کے جوان دوستوں کی تعداد کئی تھی مگر اس کا خاص دھیان مجھ پر رہتا تھا جس کی وجہ وہ میرا سیکس اسٹائل بتاتی تھی۔۔ پتا نہیں کہ اس کی بات میں کتنا سچ تھا اور مجھے اس سے کوئی سروکار بھی نہیں تھا۔ شام کے سات بج رہے تھے جب میں وائن کی بوتل لئے حسینہ کے گھر کے سامنے کھڑا دروازے پر بیل بجا رہا تھا۔ تھوڑٰی دیر بعد حسینہ نے دروازہ کھولا اور مجھے دیکھ کر مسکراتے ہوئے راستہ دیا اور بولی۔ میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی میرے ہاتھ میں وائن کی بوتل لیتے ہوئے بولی۔ میں شراب کا عادی بلکل نہیں تھا مگر حسینہ تھی اور ایسی ایسی شراب پیتی تھی جس کا میں نے نام بھی نہیں سنا تھا۔ حسینہ چونکہ میری باس بھی تھی لہِذا اس کو خوش کرنے کے لئے اس کے ساتھ ایک جام پی لیا کرتا تھا۔ شراب پینے کے بعد حسینہ نے اپنے روم میں موجود میوزک پلئیر پر ایک انگریزی دھن لگا دی جس پر ہم دونوں ڈانس کرنے لگے۔۔ حسینہ پر اب شراب کا نشہ چڑھ رہا تھا، حسب عادت اسنے دو گلاس خالی کردئیے تھے جبکہ میں نے آدھا بھی نہیں پیا تھا۔ حسینہ اب میری گردن پر اپنے ہونٹ رکھ کر چومنا شروع کرچکی تھی۔ میرے لئے یہ سب نیا نہیں تھا مگر ہر بار حسینہ کے ہونٹوں کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا۔ یہ بات سچ تھی کہ وہ سیکس کی ماہر تھی اور پوری طرح اس کھیل کو کھیلنا بھی جانتی تھی کچا تو میں بھی نہیں تھا مگر ابھی حسینہ کے مقابلے میں طفل مکتب ہی تھا۔۔ حسینہ نہایت آہستگی سے میری شرٹ کے بٹن کھولنے لگی. اس کے ہاتھوں کی جنجش اتنی کم تھی کہ ہمارے ڈانس پر کوئی فرق نہیں پڑھ رہا تھا مگر میں جانتا تھا کہ جتنی آہستگی سے یہ کام شروع ہوا ہے اس کا اختتام اتنے ہی شور سے ہوگا۔ اب میں نے حسینہ کی گردن کو پکڑ کر اپنے ہونٹ سے اس کے ہونٹ ملا دئیے، حسینہ کو میرے ہونٹوں سے زیادہ میری زبان کی فکر تھی اور اس کی زبان اپنا راستہ بناتے ہوئے میری زبان تک پنچ گئی اور میری زبان کو اپنے منہ میں آنے دعوت دینے لگی۔۔پھر کبھی میری زبان وہ چوستی تو کبھی میں اس کی زبان سے لذت اٹھاتا۔ کسنگ کے دوران ہی حسینہ کا اصل رنگ ظاہر ہونے لگا، میری شرٹ کے بٹن تو کھل چکے تھے مگر میری شرٹ اتار کر اس نے پھینکے میں بھی زرا دیر نہیں کی اور میری سر میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنے سر کو جتنا ممکن تھا اگے بڑھا کر میرے ہونٹ چوسنے لگی۔ اس کا ایک ہاتھ اب میری جینز کے اوپر سے ہی میرے لنڈ کو دبانے لگا۔ اور وہاں اٹھان محسوس کرتے ہی اس نے میری جینز کی بیلٹ کھولنے لگی۔۔ اب اس نے کسنگ چھوڑ دی تھی اور دونوں ہاتھوں سے بیلٹ کھول کر میری جینز کو نیچے گرا دیا اورنیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر انڈر وئیر کے اوپر سے ہی میرے لنڈ پر زبان پھیرنے لگی۔۔ اسکی آنکھیں میرے چہرے پر ہی تھی مگر اس کی زبان میرے انڈروئیر پراور پھر اس نے انڈر وئیر سے میرا لنڈ نکال لیا اور اس کی کیپ پر زبان پھیرنے لگی۔۔ اس حرکت کا مزہ مجھے ہمیشہ پاگل کردیتا تھا اور میں جنونی سا ہوجاتا تھآ۔ اس بار بھی میں اسی کیفیت میں چلا گیا اور حسینہ کے بال پکڑ کر اس کے منہ کے اندر اپنا لنڈ گھسا دیا۔۔حسینہ پر یہ اچانک حملہ کافی سخت تھا اور ایک لمحے کے لئے وہ کھانس اٹھی مگر اگلے ہی لمحے اس نے ایک ہاتھ سے میرا لنڈ پکڑ کر دوبارہ چوسنے لگی اوراس کا دوسرا ہاتھ میرے ٹٹوں کے ساتھ کھیل رہا تھآ، لنڈ چوسنے کے دوران وہ کبھی کبھی میری طرف دیکھنے لگتی اور میرے چہرے پر موجود مزے کے تاثرات دیکھ کر وہ مسکرا دیتی اور اپنی قابلیت محسوس کرتے ہوئے اور تیزی سے لنڈ چوسنا جاری رکھتی۔ اس دوران وہ میرے ٹٹوں کو بھی چوستی اور ان پر زبان پھیرتی جس سے میں آہیں بھرنے لگتا۔۔ اور پھر میں نے حسینہ کے دونوں ہاتھ اس کے کمر کے ساتھ جوڑ دئیے اور اس کے سر کو پکڑ کر میں نے کچھ زور دار اسٹروک لگا دئیے جس سے حسینہ کے چہرے کا رنگ لال ہوگیا مگر نہ اسنے ہمت ہاری اور نہ میں رکا اور مزید پانچ چھ جھٹکوں کے بعد میں نے اپنی منی اس کے منہ میں ہی چھوڑ دی حسینہ کو منی پینے کا بہت شوق تھا پتا نہیں کونسی جنسی تسکین کرتی تھی وہ مگر جو بھی مجھے اس سے کیا۔۔ حسینہ ہمیشہ کی طرح میرے لنڈ سے نکلنے والی منی کو پی گئی اور مسکرا تے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی وہ جانتی تھی کہ اس حرکت کے بعد میں اسے کس نہیں کروں گا اس لئے وہ باتھ روم چلی گئی اپنا منہ صاف کرنے کے لئے، تھوڑی دیر بعد اس کی واپسی ہوئی تو اس نے نائٹی پہن رکھی تھی، اپنا لباس وہ باتھ روم میں ہی اتار آئی تھی۔ میں اب بیڈ پر لیٹ چکا تھا اور وہ بھی میرے پاس آکر بیڈ پر لیٹ گئی۔ اب میں نے اس کی نائٹی کو اتار پھینکا، نیچے اس نے پینٹی بھی نہیں پہن رکھی تھی اس لئے اسکا جسم اب پوری طرح ننگا ہوچکا تھا۔ اپنے جسم پر اسنے بہت محنت کی تھی جس کا انعام اسے کسے ہوئے جسم کی صورت میں ملا تھا۔ اس عمر میں بھی چھتیس کے آس پاس ممے اور پتلی کمر جو کسی جوان لڑکی سے کم نہیں تھی میں اس گردن پر زبان پھیر رہا تھا اور اس کی کانوں کی لو کو چوس اور چاٹ رہا تھا ہم دونوں پہلو بہ پہلو لیٹے ہوئے تھے میرا ایک ہاتھ اب بھی اس کی چوت کو مسل رہا تھا اور جبکہ دوسرا ہاتھ اس کے سر کے نیچے سے ہوتے ہوئے اس کی گردن کو جکڑے ہوئے تھا جس کی مدد سے میں اس کے سر کو اپنے قریب کرکے اس کے ہونٹوں کو چوسنے میں مصروف تھا. اب ہم دونوں کو چدائی کی اشد ضرورت محسوس ہورہی تھی اس لئے میں نے اسے اس کی کمر سے پکڑ ا اور اس کے اوپر آگیا حسینہ بھی شدت سے میرے لنڈ کی پیاسی ہورہی تھی اس لئے اور دیر نہ کرتے ہوئے اس نے میرا لنڈ اپنے ہاتھ سے پکڑ کر اپنی چوت کے سوراخ پر ٹکا دیا اور نیچے سے ایک جھٹکا مار کر میرے لنڈ کو اپنی چوت میں لینے کی اپنی سی کوشش کرنے لگی۔۔ حسینہ رنڈی بہت دل چاہ رہا ہے تہمارا چدوانے کا؟ میں نے حسینہ کو گالی دیتے ہوئے کہا۔۔ اسے سیکس کے دوران گالیاں سننا بہت پسند تھا اس سے وہ مزید گرم ہوجاتی تھی۔۔ ہاں نا راجہ اب چود دو مجھے پلیز۔۔ حسینہ اب منت سماجت پر اتر آئی تھی۔ میں نے ایک ہاتھ سے اس کی کی گردن پکڑی اور نیچے سے اس کی چوت پر ٹکا ہوا لنڈ ایک ہی جھٹکے میں اس کی چوت میں اتار دیا لے رنڈی تیری چوت میں گھسا دیا ہے لنڈ۔اووف تابش کیا مزہ ہے تمہیں تو میری سواری کرنے کا پورا حق ہے۔۔ حسینہ اب مزے میں اپنی چوت کو نیچے سے میرے لنڈ پر مارنے لگی۔۔ ہم دونوں کا ردھم ایسا بن گیا کہ جیسے میں لنڈ باہر نکالتا وہ اپنی چوت پیہچھے کردیتی اور پھر میں جب آگے کی جانب جھٹکا لیتا تو وہ بھی اپنی چوت کو میرے لنڈ سے ملا دیتی اس طرح میرا لنڈ حسینہ کی چوت کی جڑ تک اندر جارہا تھا اور وہ اس چدائی کو بھرپور انجوائے بھی کر رہی تھی دس منٹ کی چدائی میں وہ ایک بار فارغ ہوچکی تھی اور اب میں بھی قریب تھا کہ چھوٹ جاتا مگر پندرہ دن کی چھٹیاں ایسے نہیں ملنے والی تھیں اس لئے میں نے چدائی روک دی اور اس کے تنے ہوئے نپلز پر جھک گیا۔۔ حسینہ سوال کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھی کیونکہ اسے مزہ چاہئے تھا اور سوال مزے کو خراب کرسکتا تھا۔۔ میں حسینہ کے نپلز کو چاٹںے لگا اور پھر نپلز کو کاٹنے بھی لگا۔۔ حسینہ بھی جنونی ہو رہی تھی اس نے میرے بالوں کو سختی سے جکڑ رکھا تھا ۔ اب میں اوپر اٹھا اور ایک زور دار تھپڑ اس کے ممے پر رسید کیا۔۔ اووفف حسینہ کے منہ سے کراہ نکلی، میں کراہ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دوسرے ممے پر بھی وار کیا اور پھر لگاتار چھ تپھڑ میں نے حسینہ کے دونوں مموں پر رسید کئے۔ حسینہ کا چہرہ لال ہوچکا تھا مگر اسنے مجھے بلکل نہیں روکا کیونکہ وہ یہی چاہتی تھی. میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے بیڈ سے اتار دیا۔ وہ میرا ارادہ سمجھ گئی تھی اس لئے بنا کسی تردد کے وہ اپنے ہاتھ بیڈ کے کناروں پر رکھ کر گھوڑی بن گئی اور میں اب اس وقفے کا فائدہ اٹھانے کے لئے بلکل تیار تھا۔ میں نے اس پر زرا بھی رحم نہ کرتے ہوئے حسینہ کی چوت میں اپنا لنڈ ٹکا کر اس کے کولہوں کو مضبوطی سے پکڑا اور پھر ایک تیز جھٹکا دے مارا۔۔ اس کی پانی چھوڑتی چوت میں میرا لنڈ کسی بجلی طرح سفر کرتے ہوئے اندر جاپنچا اور پھر تو جیسے میں پاگل سا ہوگیا۔۔ میں لگاتار تیز جھٹکے مارتا گیا اور اس دوران میں اس کے لمبے بال پکڑ لئے تھے اور جیسے کسی گھوڑی کی سواری میں اس کی لگام پکڑی جاتی ہے ویسے ہی میں نے اس کے بالوں کو پکڑ رکھا تھا اور میرا دایاں ہاتھ اس کی کولہوں پر وار کرنے لگا اس کے چوتڑ لال ہوچکے تھے مگر نہ تو میرے تیز جھٹکوں میں کوئی کمی آرہی تھی اور نہ ہی میرے تھپڑوں میں کوئی نرمی تھی میرے تھپڑوں اور چدائی نے حسینہ کی حالت بری کردی تھی مگر میں جانتا تھا کہ اندر ہی اندر اس کے جنونی پن کو تسکین بھی مل رہی تھی۔ یہ وحشی چدائی بہت تیزی سے اپنے انجام کی جانب بڑھنے لگی اور پھر میں اپنی بچی کچی طاقت بھی لگاتے ہوئے اس چدائی کو ختم کرنے لگا۔۔ ہم دونوں منزل کو پہنچنے لگے تو جنون اپنی حد کو چھو رہا تھا میں حسینہ کو اور حسینہ مجھے ایک دوسرے کے اندر سمو لینا چاہتے تھے اور پھر میرے لنڈ سے ایک تیز دار نکل کر اس کی چوت کی وادیوں میں کہیں گم ہونے لگی اور اس کی چوت سے نکلا ہوا پانی میرے لنڈ اور اوپری حصے کو بگھو گیا۔۔ ہم تین دوستوں کا گروپ تھا اس لئے ہم جہاں بھی جاتے صرف تینوں ہی جاتے نہ کسی لڑکے کو بھی ساتھ ملایا اور نہ ہی کبھی کسی لڑکی کو بیچ میں لایا۔ لیکن اس بار پنگا ہوگیا تھا۔ فہد کی بیوی اسے جانے نہیں دے رہی تھی، ویسے تو وہ کبھی اپی بیوی کے رعب میں نہیں آتا تھا مگر اس بار لگتا ہے کوئی ایسی مجبوری تھی جو وہ اپنی بیوی کے آگے کچھ بول نہیں پایا اور پھر پروگرام چینج ہوگیا اور فہد کے ساتھ ساتھ اب ملک کی بیوی بھی جارہی تھی۔ دل تو کیا کہ اب کیا خاک مزہ آئے گا پکنک کا مگر چھٹیاں لے چکا تھا اور ان چھٹیوں کے بدلے معاوضہ بھی ادا کرچکا تھا اب میں پریشان تھا کہ کروں تو کیا کروں پھر سوچا کیوں نہ انیلہ کو بھی ساتھ لے جاوں مگر خرچہ ڈبل ہوجاتا اور انیلہ کے گھر والوں کو راضی کرنا بھی کوئی آسان کام نہیں تھا، مانا کہ وہ میری منگیتر اور گرل فرینڈ تھی مگر پھر بھی کوئی اپنی جوان بیٹی کو غیر مرد کے ساتھ پندرہ دن نہیں چھوڑ سکتا تھا، ویسے انیلہ کی ماں اور بھائی اس کی کل فیملی تھی بھائی اسکا فوج میں تھا اور اسکی ماں گھر میں ہی رہتی تھی اس کے علاوہ اس کی ایک بھابھی بھی تھی۔ میں ابھی اپنی سوچوں میں گم ہی تھا کہ ملک کا فون آگیا۔۔ ہاں جانی بول میں نے بات شروع کی۔۔ تجھے چھٹیاں مل گئیں۔۔۔ ملک کا لہجہ سوالیہ کم اور مستی بھرا زیادہ لگ رہا تھا۔۔ ہاں کمینے مل گئیں تیرے چکر میں اتنی محنت کی اور ملا کیا ؟ تم لوگ تو اپنی بیویوں کے ساتھ انجوائے کرو گے اور مییں ہاتھ میں لے کر گھوموں گا۔۔ ابے چل نہ سالے تجھے وہاں بھی کوئی نہ کوئی مل جائے گی، ملک مجھے مسکہ لگانے کے چکر میں تھا۔ میں کوئی پرنس چارمنگ ہوں جو مجھے کوئی بھی مل جائے گی؟ خیر چھوڑ دیکھتا ہوں اگر انیلہ کے گھر والے مان گئے تو اسے ساتھ لے جاوں گا ورنہ میرا کینسل سمجھو۔۔ میں ملک کو دھمکاتے ہوئے بولا۔۔میرے ذہن میں آئیڈیا اگیا تھا، اگر ملک اور فہد کی بیویاں انیلہ کی ماں سے بات کرتیں تو شاید وہ اسے جانے کی اجازت دے دیتیں کہ چلو دو عورتیں ساتھ ہیں مگر یہ بھی صرف امید تھی لیکن میں کوئی بھی چانس چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔۔ یار تو فکر نہ کر مان جائیں گے انیلہ کے گھر والے، تو بول تو میں خود بات کرلیتا ہوں انیلہ کی امی سے۔۔ ملک بولا۔۔ نہیں یار تیری کیوں مانیں گی وہ؟ سدرہ بھابھی سے بول وہ منائیں گی انیلہ کی امی کو تبھی وہ مانیں گی۔۔ ملک میری بات سن کر سوچنے کے بعد بولا۔ چل ٹھیک ہے میری جان تو بھی کیا یاد کرے گا میں اور تیری بھابھی کل انیلہ کے گھر آئیں گے تو بتا دینا انیلہ کو۔۔ اب خوش ۔۔۔ ہاں یار چل میں انیلہ کو فون کرتا ہوں۔۔ اور پھر سب معاملہ سیٹل ہوگیا۔۔ انیلہ کی امی بڑی مشکل سے مانی مگر مان گئیں صرف ملک اور سدرہ بھابھی ہی نہیں فہد اور بینش بھابی کو بھی کال کرکے سفارش کرنی پڑی تب جا کر انیلہ کی امی مانی اور ہم سب نے شکر کا سانس لیا ہمارا پروگرام ہزارہ کے بالائی علاقے گھومنے کا بنا۔ ویسے بھی خیبر پختون خواہ میں موجود یہ ہزارہ کا ایریا انتہائی خوبصورت علاقہ ہے۔ اس علاقے میں ہری پور، ایبٹ آباد، مانسہرہ، بالا کوٹ، آذاد کشمیر جیسے خوبصورت علاقے گھومنے کا پروگرام تھا جس کے لئے ہم سب بہت پرجوش بھی تھے سب سے پہلے ہمارا پروگرام ہری پور جانے کا بنا ہم شام کے وقت وہاں پہنچے جب اندھیرا ہونے لگا تھا۔ چونکہ وہاں ہماری کوئی جان پہنچان یا رشتہ دار نہیں تھے کہ ان کے ہاں رہتے اس لئے وہاں ہوٹل میں روم بک کرلئے، اب پکنک منانے ساتھ نکلے تھے مگر روم الگ الگ لینا مجبوری تھی اس لئے تین روم بک کروالئے اور سفر کی تھکن دور کرنے کے لئے ہم اپنے اپنے کمروں میں پہنچ گئے اس دوران انیلہ نے اپنے گھر اپنی خیریت بتانے کے لئے کال کرلی تھی اور اب ہمارے پاس پوری رات تھی، انیلہ کی آنکھوں میں بھی خوشی کی چمک صاف دکھائی دے رہی تھی، ہماری سیکس لائف میں یہ پہلی بار ہوا تھا کہ ہم کسی دوسرے شہر میں ایک ساتھ ایک کمرے میں موجود تھے، انیلہ کمرے میں گھس کر نہانے کے لئے باتھ روم چلی گئی اب تھکن دور کرنے کے لئے نیند بھی ضروری تھی مگر دو مخالف جنس کے جسم ایک کمرے میں بند ہوں تو کیسے وہ ایک دوسرے کے پاس جانے س بچ سکتے ہیں؟ میں نے باتھ روم کا دروزا کھٹکٹایا تو انیلہ کی آواز آئی۔۔ کیا ہے تابش نہانے دو نا،، وہ تم سے ایک بات کرنی تھی۔۔ مجھ کچھ بہانہ نہیں سوجا تو میں نے بات شروع کی۔۔ کیا بات کرنی ہے؟ انیلہ بولی۔ ارے دروازہ کھولو نا تب بتاوں گا۔ ایک سپرائز ہے تمہارے لئے۔۔ میرے دماغ نے اب کام کرنا شروع کردیا تھآ۔۔ اچھا آتی ہوں۔۔ سرپرائز کا نام سن کر انیلہ بھی جھانسے میں آگئی، ابھی اس نے دروازہ کھولا ہی تھا کہ میں دروازہ پکڑ کر اندر گھس گیا اور انیلہ کو دیکھنے لگا، انیلہ کپڑے اتار چکی تھی اور اس وقت پوری طرح بھیگی ہوئی تھی، شاید ابھی خود کو گیلا کیا تھا اور صابن لگانے والی تھی کیا ہے بولو۔۔ انیلہ اب سپرائز کے بارے میں جاننا چاہتی تھی۔۔ میں نے انیلہ کے دونوں ہاتھوں کو پکڑا اور خود کی طرف کھینچ کر اس گلے لگا لیا اورپھر میرا ایک ہاتھ اس کی چوت کی طرف بڑھا اور اس کی بھیگی ہوئی چوت کو مسلنے لگا۔۔ انیلہ اس اچانک مزے کی شدت کو برداشت نہ کرسکی ہو بے اختیار سسکاریاں بھرنے لگی۔۔ اندر سے وہ بھی گرم تھی اور شاید میرے کچھ کرنے کے انتظار میں تھی۔ میرا ایک ہاتھ انیلہ کی چوت کی سیر کر رہا تھا اور دوسرا انیلہ کی پتلی کمر پرموجود تھا۔ ہمارے ہونٹ جڑ چکے تھے اور میں انیلہ ہونٹوں پر موجود پانی کی بوندیں پی رہا تھا۔۔ انیلہ کو کسسنگ میں کافی مہارت تھی کیونکہ ایک سال کی پریکٹس بھی تو میں نے کرائی تھی انیلہ میرے ہونٹ سے ہونٹ ملاتے ہوئے میرے چہرے کو تھآمے ہوئے تھی اور پھر اسنے بنا وقت ضائع کئے میری کپڑے اتار دئیے، شرٹ اتارنے کے بعد اسنے میری پینٹ بھی اتار دی ہم دونوں اپنے حواس کھونے لگے تھے اس کے چہرے پر ہوس کے سائے گہرے ہوگئے گئے تھے اور اب مجھ سے بھی صبر نہیں ہورہا تھا وہ نیچے بیٹھ کر میرے لنڈ کو مسلنے لگی اور پھر اسنے لنڈ کی ٹوپی کو منہ میں لیا اور اپنے ہونٹوں کو سختی سے لنڈ کی ٹوپی پر پھیرنے لگی اور لنڈ کو چوسنے لگی جیسے اس میں سے کچھ نکال کر ہی چھوڑے گی۔۔ اس کے ہونٹوں کے گرپ میرے لنڈ پر اتہائی سخت تھی ایسے تنگ سواراخ کو محسوس کرتے ہی میں نے بھی اپنے کمر کو ہلانا شروع کردیا اور وقفے وقفے اور آہستگی سے انیلہ کے منہ میں دھکے لگانے لگا۔ تھوڑی ہی دیر بعد میں نے انیلہ کو دیوار سے لگایا اور اس کو گود میں اٹھا لیا، شاور کا پانی میری کمر پر بہہ رہا تھا مگر اب اسے بند کرنے کا ہوش کسے تھا. انیلہ کا سینہ میرے سینے سے دب چکا تھا اور انیلہ کی پیٹھ دیوار سے چپکی ہوئی تھی، انیلہ کا وزن زیادہ نہیں تھا اس لئے اسے اٹھائے رکھنے میں مجھے کوئی دقت پیش نہیں آرہی تھی اب میں نیچے سے اپنا لنڈ بھی انیلہ کی گیلی چوت میں ڈال چکا تھا اور انیلہ کے ہونٹوں سے رس پیتا ہوا نیچے سے زبردست جھٹکے مار رہا تھا جسے برداشت کرنا انیلہ کے لئے آسان نہیں تھا مگر جہاں مزہ ہوتا ہے وہاں مشکل چیز بھی آسان ہوجاتی ہے اور یہاں تو مزے کا سمندر تھا جس میں ہم دونوں تیر رہے تھے، انیلہ کی چوت سے میرا لنڈ باہر آنے کا تیار نہیں تھا اور پھر میں نے انیلہ کی پیٹھ اپنی طرف کی اور اور انیلہ کا منہ دیوار کی طرف کردیا اور اس کی چوت میں لنڈ گھسا دیا اور دھکوں کی رفتار میں تیزی لانے لگا۔۔ انیلہ کو آوازیں مجھے پاگل کرنے کے لئے کافی تھیں اور ہم دونوں اب غیر انسانی اّوازیں نکال رہے تھے اور پھر میں اپنے آپ پر مزید قابو نہ رکھ سکا اور انیلہ کی چوت میں اپنا پانی چھوڑنے لگا۔۔۔ہم دونوں یکے بعد دیگرے اپنی منزل کو پہنچ چکے تھے اور اب ہمیں ایک بھرپور نیند کی اشد ضرورت محسوس ہورہی تھی میں نے انیلہ کو گود میں اٹھا لیا اور بیڈ پر لا کر لٹا دیا۔ ساتھ لیٹتے ہی انیلہ میری سینے سے چپک گئی تھوڑٰی دیر باتیں کرنے کے بعد ہم دونوں سوگئے اگلی صبح چھ بجے ہی آنکھ کھل گئی میں جاگا تو محسوس ہوا کہ میں نے اور انیلہ دونوں نے کچھ نہیں پہن رکھا بستر سے نکلنے کے بعد میں نہانے چلا گیا اور انیلہ کو سوتے ہی رہنے دیا، باتھ روم سے نکلا تو انیلہ کو جاگتا ہوا پایا ۔ ہم دونوں جب تیار ہوکر باہر نکلے تو ساڑھے سات بج چکے تھے اس دوران میں ملک اور فہد دونوں کو کال کر کے ناشتے کا پروگرام بنا چکا تھا اور باقی کا دن کہاں گزارنا ہے یہ بھی وہیں طے کرنے کا پلان تھا۔ چونکہ ہم ہوٹل میں ٹھہرے تھے اس لئے وہاں بھی ناشتہ کیا جا سکتا تھا لیکن پھر اس خوبصورت شہر کا دیدار نصیب کیسے ہوتا۔۔ اس لئے ناشتہ کرنے ہم ایک ڈھابے پر پہنچے۔ اور وہاں سالن اور پراٹھوں کا تگڑا ناشتہ کرنے کے بعد قہوہ پیا۔ اور پھر وہییں پہاڑی علاقے میں گھومنے کا پلان بنا۔ ہری پورایک مکمل شہر ہے جہاں اب باقاعدہ شاپنگ مال، ریسٹورنٹس، سڑکیں اور دیگر تمام چیزیں موجود تھیں جو کہ کسی اور شہر میں موجود ہونگی۔ ہری پور گھومنے کے لئے ہم نے ٹیکسی بک کرلی اور ہم اس شہر میں گھومنے لگے کئی جگہ ہم نے تصاویر بھی بنائیں۔ انیلہ، سدرہ اور بینش بھابھی بھی اس سفر کو بہت انجوائےکر رہے تھے۔ ملک بھی خوب مستیاں کر رہا تھا البتہ فہد کچھ اپ سیٹ دکھائی دے رہا تھا مگر یہ میرا گمان تھا یا وہ واقعی اپ سیٹ تھا اس پر سوچنے کے لئے میرے پاس وقت نہیں تھآ۔
 گھومنے کے بعد تقریبا شام کے تین بجے عورتوں کو شاپنگ کی یاد آگئی کیونکہ کل ہم ہری پور سے روانہ ہونے والے تھے اس لئے وہ یہاں کچھ روایتی چیزوں کی خریداری کرنا چاہتی تھیں تو ہم نے ٹیکسی ڈرائیور سے بات کرکے اسے سمجھآدیا کہ وہ لیڈیز کو شاپنگ سینٹر لے جائے جہاں ہم مرد حضرات تھوڑی دیر دیگر جگہیں گھومنے کے بعد آکر ساتھ ہوٹل چلیں گے۔ ملک، فہد اور میں ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھ گئے کیونکہ ویسے بھی اب لیڈیز کو کم سے کم دو گھنٹے تو شاپنگ میں لگنے تھے۔ ہم گپ شپ کر رہے تھے کہ ملک کے موبائل پر میسج آیا یوں تو میں کبھی اتنا غور نہیں کرتا مگر اس میسج کے ملنے کے بعد ملک کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تیرنے لگی، میں اس کے بچپن کا دوست تھا ا سلئے اس کی طبیعت سے اچھی طرح واقف تھا ابھی میں اس سے کچھ پوچھتا کہ وہ خود ہی بول پڑا۔۔ یار مجھے جانا ہوگا۔۔۔ کدھر جانا ہوگا؟ میں اور فہد دونوں ساتھ بولے۔۔ ارے یار ایک دوست ہے میرا ہری پور میں اس سے ملنا ہے کچھ رقم بھی تھی اس کی طرف میری وہ بھی لینی ہے۔۔ ملک نے بتایا تیرا یہاں کونسا دوست آگیا سالے؟۔ میں اب مستی سے اسے تنگ کرنے لگا۔۔ یار ہے ایک دوست بس میں یوں گیا اور یوں آیا۔۔ یہ بول کر ملک اٹھ کھڑا ہوا اور مجھے اور فہد کو چھوڑ کر نکل گیا۔۔ میں فہد سے بات کرنے لگا اور اس سے آکر پوچھ بیٹھا یار تو کچھ اداس لگ رہا ہے کیا بات ہے۔۔ کچھ نہیں یار میں ٹھیک ہوں۔۔ فہد دھیمے لہجے میں بولا۔۔ بتا نا ۔۔ اب مجھ سے چھپایا گا تو،، میں بولا نہیں یار کچھ نہیں ہے بس سفر کی تھکن ہے اور کچھ نہیں۔۔ اسی طرح بات کرنے ہوئے ہمیں ایک گھنٹہ گزر گیا اور پھر بینش بھابھی کے نمبر سے کال آئی۔ کال ریسیو کرنے پر انیلہ کی آواز سنائی دی۔۔ ہیلو۔۔ انیلہ کے پاس موبائل نہیں تھا اس لئے بینش کے موبائل سے کال کر رہی تھی۔۔ ہاں بولو انیلہ۔۔ شاپنگ ہوگئی۔ ہم آجائیں کیا؟ میں نے پوچھا شاپنگ تو بس ہوگئی ہے مگر سدرہ اور بینش بھابھی گم ہوگئی ہیں وہ تو شکر ہے انکا موبائل ہے میرے پاس سوچا پہلے تمہیں کال کرلوں کہاں گم ہوگئیں؟ میں نے پریشانی سے پوچھآ۔۔ پتا نہیں۔ تم کال کرو سدرہ بھابھی کو پیلز۔۔ انیلہ نے پریشانی سے کہا سدرہ بھابھی کو کال ملا کر میں فہد کی جانب دیکھنے لگا جو کہ ہماری بات سن کر پریشان ہوگیا تھآ۔۔ سدرہ بھابھی نے کال ریسیو کی اور پھر ہماری بات ہوئی سدرہ اور بینش بھابھی ہوٹل پہنچ گئی تھیں، شاپنگ کے دوران دونوں انیلہ سے الگ ہوگئی تھیں اور پھر کافی ڈھوڈنے کے بعد بھی جب انہیں انیلہ نہیں ملی تو وہ سمجھیں کہ شاید انیلہ ہوٹل چلی گئی ہوگی اور پھر وہ دونوں ہوٹل پہنچ گئیں دوسری ٹیکسی سے۔۔ خیر فہد اور میں انیلہ کے ساتھ ٹیکسی میں ہوٹل پہنچے تو وہاں سدرہ اور بینش دونوں ہمارا انتظار کر رہی تھی ان دونوں کو خیریت سے دیکھ کر ہم تینوں نے شکر ادا کیا۔۔ مگر ملک اب بھی غائب تھا اس سے کال پر بات ہوئی تو پتا چلا کہ وہ بھی ہوٹل ابھی ابھی پہنچا ہے۔۔ رات کو ہم سب اپنے اپنے روم میں پہنچ چکے تھے۔۔ میں انیلہ کے ساتھ لیٹا ہوا تھا اور انیلہ مجھے کیا کیا خریدا اس کے بارے میں بتا رہی تھی کہ اچانک انیلہ بولی۔۔ اوہ یہ بینش کا موبائل تو میرے پاس ہی رہ گیا آپ یہ ان کو دے آئیں پلیز۔۔ میں نے سرسری نگاہ موبائل پر ڈالی جو کہ ایک عام سا فون تھا ابھی میں اٹھنے ہی والا تھا کہ موبائل پر ایک میسج آیا۔ میسج پڑھ کر میں حیرت زدہ رہ گیا ۔ تجسس سے مجبور ہوکر میں نے ان بکس میں موجود باقی میسجز دیکھنے چاہے تو ان بکس خالی ملا، دماغ نے کام کیا اور میں نے سینٹ یعنی بھیجے گئے میسجز کھولے جو تقریباً سات میسجز تھے جو آج کی ہی تاریخ میں بھیجے گئے تھے جیسے جیسے میں میسجز پڑھتا جارہا تھا میرا دماغ ماوف ہوتا جارہا تھآ۔۔ میسجز کیا تھے کئی بم تھے جو میرے سر پر پھوٹتے جارہے تھے۔ جو میسج آیا تھا وہ کچھ یوں تھا۔۔ آج تو مزہ ہی آگیا۔۔ اس کمینے کو کچھ پتا بھی نہیں ہوگا اس کے پیچھے کیا کیا ہوگیا۔۔ اور پھر جو میسجز بینش بھابھی کے موبائل سے بھیجے گئے تھے وہ کچھ یوں تھے۔ پہلا: کہاں ہو، اتنی دیر سے انتظار کررہی ہوں۔۔ دوسرا: یہ کمینی تو جان ہی نہیں چھوڑ رہی اس کے سامنے تو تم سے بات بھی نہیں کرسکتی۔۔ تیسرا: رکو میں کچھ کرتی ہوں۔۔ اور پھر آخری میسج میں لکھا تھا۔ کوئی دیکھ نہ لے دھیان سے آنا یہ تمام میسجز جس نمبر پر کئے گئے تھے وہ نمبر میرے لئے انجان تھا اور مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ بینش بھابھی کس سے ملنے کے لئے اتنی پاگل ہورہی تھیں اور پھر ایسا کیا ہوا ہے اس کمینے کے پیچھے؟ اور یہ کمینہ کسے کہا جارہا ہے؟ ابھی میں انہیں سوچوں میں گم تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے فورا موبائل کو سائیڈ پر رکھ دیا۔۔ دروازے پر انیلہ گئی تو بینش بھابھی اپنا موبائل لینے آئی تھیں۔ اور پھر مجھے موبائل دینا پڑا، میں ٹھیک سے وہ انجان نمبر بھی نوٹ نہیں کرپایا تھا وہ رات میں نہ ٹھیک سے سو پایا اور نہ ہی ٹھیک سے انیلہ کےساتھ سیکس کرپایا۔۔ سوالوں کی بوچھاڑ سی تھی جو میرے دماغ کو سن کئے جارہی تھی اور میرا دماغ ان سوالوں کے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا تھا۔ صبح ہونے تک میں اپنے آپ سے فیصلہ کرچکا تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے۔ یہ پلان میں کسی سے بھی شئیر نہیں کرسکتا تھا میں نہیں جانتا تھا کہ اس میں کون کون ملا ہوا ہے اور کس کس کو کیا کیا پتا ہے۔ اس لئے جو کرنا تھا مجھے ہی کرنا تھا اور بینش بھابھی اور اس انسان کا آپس میں کیا چکر چل رہا ہے وہ مجھے پتا کرنا تھآ اگلی صبح ہم ایبٹ آباد کے لئے روانہ ہوگئے جو ہری پور سے صرف تقریباً تین گھنٹے کے فاصلے پر تھا اس لئے ہمیں سفر میں تھکن کے بجائے مزہ ہی آیا۔ اور چونکہ ہم سب صبح سویرے ہی سفر کے لئے نکلے تھے اس لئے گیارہ بجے ہی ہم ایبٹ آباد پہنچ چکے تھے، ہوٹل میں روم بک کروانےاور کمروں میں سامان رکھوا کر ہم گھومنے نکل گئے، انیلہ، سدرہ اور بینش تینوں خوبصورت جسم کی مالک تھیں اور ہم تینوں مرد اپنی پارٹنرز کے ساتھ انجوائے بھی کر رہے تھے مگر بینش بھابھی فہد سے کچھ کھیچی کھچی سی نظر آرہی تھیں جس کو صرف میں نے ہی نہی انیلہ نے بھی نوٹ کیا۔ گھومنے کے بعد ہم نے ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا اور پھر شام کے وقت اپنے ہوٹل میں پنچ گئے۔ اپنے کمرے میں پہنچتے ہیں میں نے انیلہ کو بانہوں میں قید کرلیا اور اسے چومنے لگا۔ ارے بات تو سنیں انیلہ کسمسائی۔ ہاں بولو۔۔ میں نے چومنا چاری رکھتے ہوئے کہا۔۔ اس ٹھنڈے موسم میں آپ نے مجھے آئس کریم بھی نہیں کھلائی میں جانتا تھا انیلہ کو آئس کریم بہت پسند ہے۔ کھلا دوں گا پہلے میرا کچھ خیال تو کرو۔۔ میں ابھی باہر جانے کے موڈ میں بلکل نہیں تھا۔۔ نہیں نا۔۔ پلیز لے آئیں نا بہت دل چاہ رہا ہے میرا پلیز۔۔ انیلہ نے کچھ اس ادا سے کہا میں اس کی بات رد نہیں کر پایا اور اس کے ہونٹوں پر ایک لمبی کس کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا اور باہر آگیا۔ قریب میں کوئی دکان نہیں تھی اس لئے مجھے دور جانا پڑتا سوچا کیوں نہ ہوٹل والوں سے پتا کروں شاید ان کے پاس ہو۔ ہوٹل ریسپشن سے پتا کرنے پرمعلوم ہوا کہ ان کے پاس کافی برانڈڈ آئس کریم موجود ہیں اور انیلہ کا پسندیدہ فلیور بھی موجود تھا میں نے وہ آئس کریم اپنے روم نمبر بتا کر بھجوانے کا کہا اور انہیں پیسے ادا کردیئے میرے ذہن میں فہد کی پریشانی اور اداسی بھی چل رہی تھی میں ہوٹل میں فہد سے تنہائی میں بات کرنا چاہ رہا تھا کیوں کہ مجھے فہد سے بینش بھابھی کے حوالے سے بات کرنی تھی۔ وہ میرا جگری دوست تھا اور میں اسے پریشان نہیں دیکھ سکتا تھا۔ میں نے سوچا فہد کو کال کرکے کمرے سے باہر بلوالیتا ہوں تا کہ آرام سے بات ہوسکے ۔ میں نے کال کی لیکن فہد نے کال ریسیو نہیں کی اس کا موبائل آن تھا مگر اس پر کوئی جواب نہیں دے رہا تھا میں نے فہد کے کمرے میں جانے کا فیصلہ کیا کہ وہاں سے اسے باہر لے آوں گا۔ میں فہد کے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا ہم تینوں کے کمرے ایک دوسرے سے کافی دور تھے اس لئے فہد کے کمرے تک پہنچنے کے لئے ایک راہداری سے گزرنا پڑتا تھا اور ابھی میں اس راہداری کے پاس پہنچا ہی تھا کہ مجھے زور سے ہنسنے کی آواز آئی ابھی میں آواز پہنچاننے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ مجھے ہانپتی ہوئی نسوانی آواز آئی جیسے وہ کہیں سے تیزی سے دوڑ کر آئی ہو ارے یہیں کروگے کیا سب؟ کوئی دیکھ لے گا؟ اور پھر دوسری آواز آئی جو کہ صاف سنائی دی وہ ملک کی آواز تھی جو اس عورت سے مخاطب تھا۔۔ اسے تو تم نے باہر بھیج دیا اب موقع ملا ہے کیسے چھوڑ دوں۔۔۔ چل اندر۔۔ میں نے راہداری کی اوٹ لیتے ہوئے جھانکا تو فہد کے کمرے میں نے ملک کو اندر داخل ہوتے ہوئے دیکھا اس سے پہلے وہ عورت کمرے کے اندر داخل ہوچکی تھی جسے میں نہیں دیکھ پایا تھآ۔ میں کمرے کی جانب سے بڑھا لیکن دروازے کے پاس آکر رک گیا، اندر موجود لوگوں کو دیکھنے کے لئے میرے پاس کوئی ذریعہ نہیں تھا اور اندر دیکھنا بھی ضروری تھا، اپنی بے بسی پر میں جھلا گیا اور دانت پیسنے لگا۔ چاہتا تو دروازہ توڑنے کی کوشش بھی کرسکتا تھا مگر اس صورت میں وہ دونوں کچھ بھی بہانہ بنا سکتے تھے میں انہیں رنگے ہاتھوں پکڑنا چاہتا تھا اور پھر میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا اور میں باہر نکل گیا۔ اپنے پلان کے مطابق میں نے کچھ ضروری سامان خریدا اور پھر ہوٹل پہنچ گیا جہاں اب ملک اور فہد باہر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ میں ان کے پاس سے گزر گیا اور اتفاق سے ان دونوں نے بھی مجھے نہیں دیکھا اور میں سیدھا فہد کے روم میں گیا۔ میں دعا کر رہا تھا کہ بینش بھابھی وہاں موجود نہ ہوں اور میری خوش قسمتی تھی کہ بینش بھی اپنے کمرے میں نہیں تھی۔ میں کمرے میں گھسا اور کمرے کو لاک کردیا اور پھر جلدی سے بازار سے خریدا ہوا ایک چھوٹا مگر اچھی ریزولوش والا کیمرہ بیڈ کے بلکل سامنے موجود سنگھار میز میں ایسی جگہ چھپا دیا جہاں سے بیڈ کا نظارہ صاف دکھائی دے اور کسی کو وہ کیمرہ نظر بھی نہ آئے اس کیمرے کی خاص بات اس کی نائٹ وژن کوالٹی تھی جس کی وجہ سے رات اندھیرے میں ہونے والی کاروائی ریکارڈ بھی کی جاسکتی تھی. ابھی میں یہ کیمرہ فٹ کرکے مڑا ہی تھا کہ باتھ روم کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور میری سانس وہیں رک گئی بینش بھابھی بنا کپڑوں کے صرف ایک ٹاول باندھے ہوئے باہر آگئی تھیں۔ بینش بھابھی اور میں نے بیک وقت ایک دوسرے کو دیکھا اور مجھے لگا کہ بینش بھابھی مجھ پر شک نہ کرلیں کہ میں یہاں کیا کرنے آیا تھا۔ اس دوران بینش بھابھی نے مجھ سے۔۔ تابش تم یہاں ۔۔۔۔کچھ چاہئیے کیا؟ نہیں بھابھی بس ایسے ہی سوچا فہد سے مل لوں۔ مگر وہ تو یہاں ہے ہی نہیں شاید باہر گئے ہیں بینش نے مسکرا کر جواب دیا۔ ان کا مسکرا مجھے ہمت دے گیا اور میں نے کہا چلیں فہد نہیں ہے تو کیا ہوا آپ تو ہیں آپ سے باتیں کرلوں گا۔۔ میری اس بات مطلب بینش شاید غلط سمجھ بیٹھی تھی اور ایک ادا سے چل کر میرے پاس آئی اور بولی تو کرو نا باتیں کس نے منع کیا ہے۔۔ اور پھر پتا نہیں کیسے ان کا ٹاول کھل گیا اور سیدھا ان کی ٹانگوں میں آگرا۔۔ اب بینش بھابھی کے جسم پر رتی برابر بھی کپڑا یا ڈھکنے کے لئے کچھ بھی موجود نہیں تھا۔ میرے لئے یہ نظارہ برداشت سے باہر تھا اس لئے میں اپنی آنکھیں نہ تو جھکا سکا اور نہ ہی وہاں سے ہٹا سکا۔ بینش کے تنے ہوئے پستان اور کی دلکش کمر، اور پھر نیچے تک نظر پہنچتے پہنچتے میرے بدن پر جیسے چیونٹیاں رینگنے لگی تھیں۔ اس دوران بینش بھابھی مڑ کر کھڑی ہوگئیں جیسے بے اختیار وہ اپنے آپ کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہوں مگر یہ تو میرے ضبط کا امتحان لیا جارہا تھا کیوں کہ اب بینش بھا بھی کی پیٹھ میرے طرف تھی اور چٹان کی مانند کھڑے ان کے چوتڑ دیکھ کر تو میں جیسے اپنے حواس کھوتا جارہا تھا۔ اور پھر بینش بھابھی کو شاید مجھ پر رحم آگیا اور انہوں نے نیچے جھک کر اپنا ٹاول اٹھا لیا اور ان کا یہ جھکنا بھی کمال کرگیا وہ بیٹھ کر ٹاول اٹھانے کے بجائے رکوع کی حالت میں جھکی جس کی بدولت مجھے ان کی چوتڑ اور اس کی لکیر جو کہیں نیچے وادیوں میں گم ہورہی تھی نظر آئی اب بینش نے ٹاول اٹھا کر باندھ دیا تھا اور میں وہاں سے باہر نکل آیا پیچھے سے بینش نے آواز بھی دی لیکن اگر میں وہاں چند لمحے بھی مزید رکتا تو کچھ غلط ہوجاتا جو کہ میں نہیں چاہتا تھآ باہر آکر میں اپنے حواس بحال کرنے لگا اور اپنے آپ پر قابو پانے لگا۔ اس دوران اب میں اپنے کمرے میں جاچکا تھا

Posted on: 07:37:AM 14-Dec-2020


0 0 178 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com