Stories


شرارتی بہن کا بھائی سے سیکس از حسن خان

اس کہانی کو آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کرنے سے پہلے کئی بار سوچا کہ شیئر کرو یا نہ کرو لیکن پھر خیال آیا کہ انسان کی زندگی میں کئی بار اس طرح کے موڑ آجاتے ہیں اور ہو سکتا ہے جس طرح میرے محسوسات بن گئے تھے اور بھی کئی لوگوں کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا رہا ہو میری شرارتی بہن اور میری عمر میں صرف ایک سال کا فرق ہے مگر ہم دونوں ایک ہی کلاس میں پڑھتے تھے اس سے پہلے ایک بات واضح کر دوں وہ شرارتی شرارتی بہن ہے ہم چونکہ ایک ہی کلاس میں پڑھتے تھےاس کی وجہ سے ہم دونوں کو ایک ساتھ ہی پڑھائی کرنے کا کافی موقع ملتا رہتا تھاہم دونوں شرارتی بہن بھائی بجائے اپنے اپنے کمروں میں جانے کے مین لاونج میں بیٹھ کر ایک ساتھ اپنا ہوم ورک کیا کرتے تھےہمارے والدین کافی سخت اور مذہبی مزاج والے لوگ ہیں اور پڑھائی کے معاملے میں اور بھی زیادہ سختی تھی انہوں نے ہمارا ٹی وی دیکھنا ہمارےپڑھنے سے مشروط کر رکھا ہے اور ہمیں خرچہ بھی سکول کے مارکس کو دیکھ کر ملا کرتا تھاہمیں بھی اس سے کوئی پریشانی نہیں تھی کیونکہ ہم عام بچوں کی طرح اپنی توجہ پڑھائی پر ہی رکھا کرتے تھےہم بالکل عام شرارتی بہن بھائی کی طرح تھےمگر وہ سال کچھ عجیب ہی تھامیں نے اپنی شرارتی بہن کے بارے میں کبھی غلط نہیں سوچا تھا سعدیہ میری شرارتی بہن عام لڑکیوں کی بجائے اپنی عمر سے چھوٹی دکھتی تھی ہائی سکول کی دوسری لڑکیوں کی طرح ابھی تک اس کا جسم مکمل طور پر ان خدوخال سے محروم تھا جو اس عمر کا خاصہ ہوتا ہے مجھے محسوس ہوتا تھا کہ وہ اس معاملے میں پریشان رہتی تھی مگر عام شرارتی بہن بھائیوں کی طرح ہمارے درمیان کبھی اس معاملے میں بات نہیں ہوئی اس سال اسکا جسم بھرنا شروع ہوگیا تھا اور اسکے ساتھ ہی اسکے کپڑے بھی لڑکیوں کی طرح فیشن زدہ ہونے لگےمیری والدہ نے اسکو کبھی ایسے کپڑے نہیں پہننے دئیے جو کہ اشتعال انگیز ہوں مگر سعدیہ کوئی نا کوئی طریقہ ڈونڈھ لیا کرتی تھی ہم دونوں اس دن میتھ کررہے تھے اور ہم نے مختلف مشقیں بانٹ رکھی تھی کچھ وہ حل کر رہی تھی اور کچھ میں حل کر رہا تھا ہم دونوں ٹی وی لاونج میں بیٹحے کام کررہے تھے اور امی جان تھوڑی دور بیٹھی سبزی کاٹ رہی تھیں ہم نے ڈیڑھ گھنٹا پڑھنا تھا تا کہ بعد میں ہم ٹی وی دیکھ سکیں اچانک میری نظر اٹھی تو ایک عجیب منظر میرے تھاشرارتی بہن سعدیہ سر جھکائے اپنا کام کر رہی تھی اور اس نے اپنی زبان اپنے گال میں گاڑ رکھی تھی جیسا کہ وہ عموما کرتی تھااور خاص طور پہ اس وقت لازمی کرتی تھی جب اس شرارتی بین نے شرارت کرنی ہوتی تھی اس نے ایک تنگ سفید شلوار قیمیض پہن رکھی تھی قمیض اسکی نئی جوانی کے دباو کی وجہ سے تنگ پڑ رہی تھی اس نئی جوانی کو آپ سمجھ گئے ہونگےچلیں بتا دیتا ہوں اس کے بوبز بہات نمایاں ہو رہے تھے ٹائٹ ایک دم۔ مگر جو چیز مجھے متوجہ کررہی تھی وہ میری شرارتی بہن کے دو بٹن تھے قمیض کے سامنے والے دو بٹن کھلے رہ گئے تھےجسکی وجہ سے اسکی قمیض ایک سائڈ پر تھوڑی سی جھک گئی تھی اور اسکے بریزئیر کا سٹریپ نظر آ رہاتھا اور جب میری شرارتی بہن کتاب کو دیکھنے کے لئے زرا سا جھکتی تو اسکا گریبان تھوڑا ڈھلک جاتا اور اسکا سفید بریزئیر اندر سے جھلکنے لگتا لڑکپن میں آپ کو تو پتہ ہے بریزئیر اور مموں کے درمیانی خلا پر نظر یوں رک جاتی ہے جیسے کوئی انمول خزانہ ہاتھ آگیا ہو اگرچہ یہ میری بہن کا بریزئیر تھا مگر اس پر میری نظر جم کر ہی رہ گئی تھی مجھے اس بات کے اعتراف میں اگرچہ جھجھک بھی ہے لیکن سچائی بہرحال یہ ہی تھی کہ میں اپ سیٹ ہو چکا تھامیری توجہ مکمل طور پر اپنی شرارتی بہن کی جوانی کی گولائی اور اسکے سفید بریزئیر کے سٹریپ پر جم گئی تھی مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی میں اس منظر سے کیسے جان چھڑاوں میں اس معاملے میں بے بس تھا میرا لن کھڑا ہونا شروع ہو گیا تھا اور وہ بھی میری اپنی بہن کی وجہ سےحد ہو گئی اس نے اپنا سر اٹھایا اور میری شرارتی بہن میری طرف دیکھ کر ہلکا سا مسکرائی اور پھر اپنا سر جھکا کر کام مشغول ہوگئی تو کیا وہ شرارتی بہن اس طرح کی بھی شرارت کر سکتی تھی اور میں غور سے دیکھ رہا تھامیں سوچ میں پڑ گیا کہ میں کہیں پکڑا تو نہیں گیا میں نے اپنا سر جھکا لیا اور اپنا ہوم ورک کرنے لگا مگر اب میرا من ہوم ورک میں نہیں لگ رہا تھا میں نے سراٹھا یاوہ اس دفعہ پہلے سے زیادہ جھکی ہوئی تھی اور سب سے غضبناک چیز یہ تھی کہ اسکی قمیض کا درمیانی خلا مزید گہرا ہو چکا تھا اور میں اسکے بریزئیر میں لپٹے ہوئے ممے کو آسانی سے تاڑ سکتا تھامیری حالت خراب ہو چکی تھیمیری شرارتی بہن نے زندگی کی سب سے بڑی اور بھیانک قسم کی شرارت کی تھی یا پھر محض اتفاق تھا میں کنفیوز ہو چکا تھا مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی اب میں برف کی طرح پگھلنا شروع ہوگیا تھا اس نے ایک دفعہ سر پھر اٹھایا اس بار میں ہڑبڑا گیا ہو اور میں نے جلدی سے سر جھکا لیا اور میں نے سر جھکائے رکھنے میں ہی عافیت جانی میں اپنی شرارتی بہن کی نظروں سے نظریں ملانے کی ہمت کھو رہا تھا کچھ دیر کے بعد مجھے سرسراہٹ محسوس ہوئی میں نے دیکھا تو یہ ایک کاغذ کا ٹکڑا تھا اس پہ کچھ لکھا تھا میں نے سر مزید اٹھایا تو سعدیہ کا بازو واپس جاتا دکھائی دیا میری شرارتی بہن میری طرف نہیں دیکھ رہی تھی میں نے امی کی طرف دیکھا وہ ابھی بھی سبزی ہی کاٹ رہی تھیں امی کو پڑھتے ہوئے ہمارا بات کرنا سخت ناپسند تھا میں اور سعدیہ پڑھتے ہوئے قطعا بات کرنے سے گریز کرتے تھےمیں نے کاغذ اٹھا یا اور پڑھا۔ میں نے اپنی شرارتی بہن کے ہاتھ کا لکھا ہوا کاغذ کا ٹکڑا اٹھایا اس پہ لکھا تھا کیا دیکھ رہے ہو بھائی او تیری خیر میرا رنگ پیلا پڑ گیامیں پکڑا گیا تھا میں نے اسکی طرف دیکھا شرارتی بہن خاموشی سے مسکرارہی تھی اور میری طرف معنی خیز طریقے سے دیکھ رہی تھی اسکے بٹن ابھی بھی کھلے ہوئے تھے اور میں ابھی بھی اسکا سٹریپ دیکھ سکتا تھا مگر میں ناقابل یقین حد تک شرمندگی محسوس کررہا تھا میں نے سر جھکا کر کام کرنے میں عافیت جانی مگر میرے زہن میں یہ سوال گردش کررہا تھا کہ اس نے مجھے کب دیکھا اور اگر دیکھ تو اپنی حالت کیوں نہیں درست کی کہ وہ میرے سامنے تقریبا اپنا گریبان کھول کر بیٹھی تھی وہ ابھی تک اپنی اسی حالت میں بیٹھی تھی میں نے کاغذ کا ٹکڑا اٹھایا اور اس پر لکھا میں کیا کروں میرے اختیار میں نہیں ہے شرارتی بہن اور یہ ٹکڑا اسکی طرف سرکا دیاشرارتی بہن نے میری طرف دیکھا اور اپنا ہاتھ بڑھا کر وہ ٹکڑا دبوچ لیا اور چپکے سے پڑھنے لگی وہ پڑھنے کے بعد ہلکا سا مسکرائی اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگی اس نے اپنی انگلی سے اپنی قمیض کی طرف اشارہ کیا اور نہیں کہنے کے انداز میں سر ہلایا شرارتی بہن نے ایک اور ٹکڑا پھاڑا اور اس پر لکھنے لگی۔ میری دل کی دھڑکن تیز ہو گئی خون کی گردش برداشت سے باہر کیا اسکا چہرا لال ہو گیا ہے غصہ یا شرم کچھ نہیں بتایا جا سکتا اور پھر وہ کاغذ کا ٹکڑا میرے سامنے آ پہنچالکھا تھا مگر کیوں جناب میرا چہرا شرم سے لال سرخ ہوگیا ہوگیا میری شرارتی بہن وہ اب مجھے تنگ کر رہی تھی یا مذاق اڑا رہی تھی یا غصہ تھی کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا خیر میں نے لکھا غضب لگ رہی ہوتم شرارتی بہن ہو یا چڑیل مجھے تمہاری کسی چال کی سمجھ نہیں آ رہی کیا شرارتی بہن چاہتی ہے کہ اس کا بھائی اس کو غور سے اس طرح دیکھے۔ جب اس تک کاغذ پہنچا اور اس نے پڑھا تو اس نے ہونٹ سکیڑ کر سیریس شکل بنا کر میری طرف دیکھنے لگی جیسے کہہ رہی ہو کہ یقین نہیں آتا کہ تم نے یہ لکھا ہے خیر اس نے سر جھکایا اور اپنی کاپی سے ایک صفحہ پھاڑا اور شرارتی بہن اس پر لکھنے لگی اور پھر دوبارہ وہ صفحہ میری طرف سرکا دیا اس دفعہ تحریر لمبی تھی اور کچھ یوں مخاطب ہوئی۔ تمہیں ایسے نہیں دیکھنا چائیے بھائی مگر واقعی واقعی میں اچھی لگ رہی ہوں مجھے لگتا ہے میں ابھی بھی اپنی عمر سے کافی چھوٹی سی لگتی ہوں مطلب آپ سمجھ گئے نا کسی لڑکے کی رائے جاننے میں حرج نہیں ہے چاہے وہ آپ ہی ہیں کیا خیال ہےمیں نے تحریر پڑھی دوبارہ پڑھی جیسے اسے اپنے اندر جذب کر رہا ہوں ہم دونوں آپس میں کافی کلوز تھے مگر میں نے اسکے جسم کے بارے میں کبھی کچھ نہیں کہا تھا کیونکہ وہ میری شرارتی بہن تھی ۔ اور اچھی دوست بعد میں تھی پہلے تو شرارتی بہن ہی تھی مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اسکا کیا جواب دوں وہ میرے طرف ہی دیکھے جا رہی تھی موضوع کس طرف جا رہا تھا وہ اس دفع تھوڑا شرمائی اور سمٹی سمٹی سی لگ رہی تھی اسکے گال لال ہو رہے تھے مگر کمبخت اسکا گریبان ابھی تک کھلا ہوا تھا اور وہ تھوڑا جھکی ہوئی تھی اور وہ اپنے آپ کو چھپانے کی زرا بھی کوشش نہیں کر رہی تھی وہ میری نظریں اپنے گریبان پر مرکوز دیکھ کر بھی کچھ نہیں کر رہی تھی میری آنکھوں میں جلن ہونے لگ گئی تھی اور میرا چہرا میرا چہرا گرمی کی وجہ سے دہک رہا تھا۔ میں نے ٹکڑا پھاڑا اور لکھا تم اب کافی بڑی لگ رہی ہو کافی زیادہ میرے خیال میں تو تمہارا سائز کمال ہےمیں نے اپنی تحریر پڑھی اور سوچا یہ آر یا پار ہے اور ہمت کر کے اسکی طرف سرکا دیااس نے ٹکڑا اٹھایا اور پڑھا اس کے ہونٹوں پر ایک بڑی مسکراہٹ آگئی اس نے ٹکڑے کو فولڈ کیا اور اپنے بریزئیرمیں سرکا کر چھپا لیا مجھے لگا میرا سانس رک جائے گا میرے پیٹ میں خالی پن کا احساس ہونے لگا مجھے لگے کہ میں دم گھٹنے سے مر جاونگا اور میرا دم گھٹے جا رہا تھا مجھے اس سے پہلے بوبز اس طرح تاڑنے کا بھی اس حد تک اتفاق نہیں ہوا تھا اور ہوا بھی تو شرارتی بہن کے بوبز پہ کیا عجیب اتفاق تھا۔ اسی وقت امی کی آواز آئی سعدیہ بیٹا کام ختم کر لیا شرارتی بہن سعدیہ نے جوابا کہا جی امی جی کام ختم ہو گیا ۔ میں بس کتابیں سمیٹ رہی تھی شاباش تم دونوں کافی محنت کررہے ہو خدا کرے محنت رنگ لائے امی نے کہامیں نے صرف سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا جو میں اور میری شرارتی بہن محنت کر رہے تھے وہ خدا ہی جانتا تھا کہانی کس موڑ کی طرف جا رہی تھی معلوم نہیں تھا اور اب میں نے زیادہ سوچنے کی بجائے معاملے کو وقت اور حالات کے سپرد کر دینے کا سوچنا شروع کر دیا تھا یا شائد میرا ذہن اس حد تک شرارتی بہن کو تاڑنے پہ آمادہ ہو چکا تھا۔ اور یہ شام اختتام کو پہنچی کافی دیر بعد تک بھی میں اپ سیٹ رہا رات ڈھلنے لگی لیکن وہ سکسی منظر آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو رہا تھا شرارتی بہن اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف جا چکی تھی اور میں سوچ رہا تھا کہ کب میرا اکڑا لن بیٹھے اور میں اٹھوں خیر تھوڑی دیر میں میں اپنے کمرے میں تھا اور میں آج جلدی سونے کے لئے لیٹ گیا۔ میرے ذہن میں آج کے واقعات کی فلم چل رہی تھی میری نظروں کے سامنے سعدیہ کا گریبان ہی آ رہا تھا اور میں ابھی تک اسکا ہاتھ کاغذ کے ٹکڑے کو بریزئیر میں ٹھونس ہوئے اپنی گہری سوچوں میں دیکھ سکتا تھا پتا نہیں کب اسی دوران مجھ پر نیند کی دیوی مہربان ہو گئی اور میں خوابوں کی وادی میں تھا وہاں بھی بڑے بڑے بوبز نظر آتے رہے۔ اسکے بعد چند دن ہم دونوں ہوم ورک کے لئے اکٹھے نہیں بیٹھ سکے کچھ میری شرمندگی وجہ بنی اور کچھ دوسری مصروفیات اور پھر سوموار کے دن ہم دونوں دوبارہ لاونج میں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے اب میری شرارتہ بہن دوبارہ میرے سامنے بیٹھی تھی اور ہم دونوں اپنے اپنے ہوم ورک میں مصروف تھے۔ میں یوں تو اپنی کتابوں میں مصروف تھا مگر میرا کھڑا ہوتا لن میرے زہن کو پریشان کئے ہوئے تھا امی پاس ہی بیٹھی کوئی رسالہ پڑھ رہی تھیں اور پاپا بھی آج گھر تھے اگر کوئی گڑ بڑ ہو گئی یا شرارتی بہن نے پاپا کو بتا دیا اس کی تو جان چھوٹ جائے گی لیکن میری خیر نہیں تھی یوں ہمارا یہ سکسی سا کھیل بہت مہنگا پڑ سکتا تھا اور پاپا تو پاپا امی نے جو ہاتھ میں ؤئے اسی سے دھلائی شروع کر دیا کرتی تھیں اور اس نے تو شرارتی بہن بن کے جان چھڑا لینی تھی شرارتی بہن سعدیہ نے پیلے رنگ کی قمیض پہنی ہوئی تھی ایک عام سی قمیض کوئی لیس نہیں کوئی بٹن یا نقش نگار نہیں وہ میرے سامنے بیٹھے کچھ پڑھ رہی تھی وہ کچھ غور سے پڑھنے کے لئے جھکی تو اسکے بالوں کی ایک لٹ سامنے آگری جسے اس نے انگلی کی مدد سے کان کے پیچھے اڑس لیا اور میری طرف گہری نظر سے دیکھا میں نے یوں ظاہر کیا جیسے میں اسکی طرف متوجہ ہی نہیں ہوں۔ اور وہ دوبارہ جھکی میری حالت غیر ہوگئی اسکی یہ قمیض تھوڑی کسی ہوئی تھی جسکی وجہ سے اسکا کالے رنگ کا بریزئیر واضع طور پر کپڑوں کے نیچے سے دکھ رہا تھا جھکنے کی وجہ سے شرارتی بہن کی چھاتی کے خطوط خطرناک حد تک واضع ہوگئے تھے اسکا گریبان تھوڑا سا ڈھلک گیا جس سے انگریزی حرف وائے کی طرح دبی ہوئی لکیر نظر آرہی تھی اسکے بریزئیر دائیں طرف سے ہلکا سا باہر جھانکنے لگا اگر اسکے پیچھے بیٹھی ہوئی امی اسے اس حالت میں دیکھ لیتی تو ہم دونوں کی خیر نہیں تھی شرارتی بہن میرے ساتھ کیا کروائے گی میرا ذہن آندھی کی زد میں تھا۔ اور پھر پہلی پرچی میری طرف کھسکی بھائی آج پھر بس کر دیں میری سانس بھاری ہوگئی تھی اور میں دمے کے مریض کی طرح لمبے سانس لینے لگا خیر میں نے پرچی پلٹ کر جواب لکھامیں کیا کروں تم ہی باز نہیں آرہی اس نے میرا جواب پڑھا اور ہلکا سا مسکرائی اس نے سر کھجایا اور نئی پرچی پر جواب لکھنے لگی اور پرچی میری طرف بڑھا دی آپ تو نظر ہی نہیں ہٹا رہے خیر میں نے آج نئے کپڑے پہنے ہیں کیسی لگ رہی ہوں میں نے جواب پڑھا اسکی طرف غور سے دیکھا مگر یہ تو اس کی پرانی قمیض ہی ہےمیں نے یہی لکھ ڈالا یہ تو تمہاری پرانی قمیض نہیں ہے اس میں نیا کیا ہےاس نے پرچی پڑھی اور سر پر ہاتھ مارا اور دوبارہ ایک پیغام لکھ کر میری طرف بڑھا دیااب وہ مجھے بے وقوف بھی سمجھ رہی تھی شائد۔ جناب آپ جہاں دیکھ رہے ہیں میں وہاں کی بات کررہی ہوں پچھلا لباس تنگ تھااوہ تیری خیر یہ شرارتی بہن اپنے بریزئیر کے بارے میں بتا رہی ہیں اور اسے آنکھ بچاکر اپنے گریبان کی طرف اشارہ بھی کر دیا مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ میری شرارتی بہن جو کہ ٹین ایج تھی اس قدر شریر اور سیکس بارے بات کرنے میں نڈر بھی ہو سکتی ہے اس کا شوہر بھی خوش قسمت ہو گا کیونکہ بطور مرد مجھے معلوم ہے سیکسی گرم اور سیکس انجوائے کرنے والی بیویاں اکثر بلکہ سبھی کو پسند ہوتیں ہیں اور اس طرح کی لڑکیوں کو عام طور پہ کم طلاق کا سامان کرنا پڑتا ہے۔ شوہر اس طرح کی لڑکی اگر روٹھ جائے تو زیادہ دیر تک اس سے ناراض نہیں رہ سکتا اور جلد منا لیتا ہے مجھے اپنے ہونے والی بہنموئی کی قسمت پہ رشک آ رہا تھا میں ایک بار پھر شرارتی بہن کی سکسی لک کو دیکھا اورمیں نے بھی اس دفعہ ہمت پکڑی اور لکھامجھے تو یہاں سے کچھ نہیں دکھ رہا مجھے کوئی خاص اندازہ نہیں ہو رہا کچھ دکھے گا تو بتاوں گا نا۔ اس نے جب پرچی پڑھی تو اسکے چہرے پر معنی خیزمسکراہٹ دوڑ آئی اس نے میری طرف دیکھا اور سر ہلایااس کا پیغام دوبارہ آن پہنچابھائی اگر امی کو پتہ چل جائے تو ہم دونوں مارے جائے مجھے ایک پریشانی سی ہےمیں نے پیغام پڑھ کر اسکی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا اس نے فورا ایک اور پرچی پھاڑی اور لکھابھائی پلیز میرا مذاق مت اڑانا مجھے لگتا ہے میرے جسم کے ساتھ مسئلہ ہے ۔ اسی دوران ہمسائے کی ملازمہ آئی اور امی سے کہا خالہ جی سبھی عورتیں میلاد میں شرکت کے لیے ہمارے گھر پہنچ چکی ہیں بس آپ کی دیر ہے میری باجی کہہ رہی ہیں خالہ سے کہو جلدی آ جائیں بس ایک ڈیڑھ گھنٹہ میں میلاد کی محفل ختم ہو جائے گی امی نے جواب دیا بیٹی ان سے کہو میرے میاں دوسرے شہر گئے ہوئے ہیں نہ جانے کب آ جائیں ان کے لیے بس کھانا بنا رہی ہوں اور آتی ہوں۔ پھر نہ جانے کیا سوچا اور میری شرارتی بہن سے مخاطب ہوئیں سعدیہ تم پڑھائی سے فارغ ہو کے روٹیاں بنا لینا میں چلی ہی جاتی ہوں کب سے میرا انتظار کر رہی ہیں اور ہاں سنو میں گیٹ کی بند کر کے بیٹھنا آج کل چور ڈاکو سر شام ہی گھس آتے ہیں اور شرارتی بہن نے کہا جی امی اور اس طرح امی ہمسائیوں کے گھر جانے کی تیاری کرنے لگیں ۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ جیسے انکا سائز مخلتف ہے مجھے کوئی بیماری تو نہیں میں نے پرچی پڑھی تو الجھ گیا میں اس کی طرف دیکھا وہ دم سادھے میری طرف دیکھ رہی تھی میں نے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا کیا اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنی چھاتیوں کی طرف اشارہ کیا اور سر نفی میں ہلایا یعنی کہ محترمہ اس حوالے سے پریشان تھی کہ اسکی چھاتیوں کا سائز ایک سا ہے یا نہیں فضول سوال خیر میرا تو بھلا ہو رہا تھا۔ میں نے لکھا کہ میں اتنی دور سے کیسے بتاوں دیکھنا پڑے گاشرارتی بہن نے جواب پڑھ کر سر ہلایا اور لکھاٹھہریں بھائی اس نے میز پر پڑے پانی کی گلاس کو پیا اور تھوڑا سا پانی باقی چھوڑ دیا اور پھر اس پر اس طرح ہاتھ مارا کہ پانی اسکے اوپر آن گرا امی نے گلاس گرنے کی آواز سن کر سر اٹھایا اور کہا کیا ہواشرارتی بہن نے جواب دیا امی پانی گر گیا کپڑوں پرامی نے کہا جاو کپڑے بدل کر آو اور کوئی کام دھیان سے بھی کر لیا کروسعدیہ نے میری طرف دیکھ کر آنکھ ماری اور اٹھ کر آپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ اس دوران امی تیار ہو چکیں تھیں میلاد پہ جانے کے لیے اور مجھے کہا بیٹا گیٹ بند کرو اور میں بس میلاد میں شرکت کر کے آتی ہوں اور میں نے ان کے جانے کے بعد گیٹ بند کیا اور میرا لن اس وقت اور بھی ٹائٹ اور فل کھڑا ہو گیا جب میں اپنی شرارتی بہن کے کمرے کی طرف جا رہا تھا مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا ہو رہا ہے اور آگے کیا ہونے والا ہے۔ جیسے ہی میں اندر داخل ہوا میری حیرت کی انتہا تھی سامنے شرارتی بہن صرف اپنی سکسی بریزئر اور ٹراوزر میں منہ دوسری جانب کیئے کھڑی تھی اور ہاتھ اس نے چھاتیوں پہ رکھے ہوئے تھے میرا لن یو لگا کہ ابھی پھٹ جائے گا اس میں بارود جیسے کسی نے بھر دیا ہو میں نے چند ایک بار بلیو فلم دیکھی تھی بالکل آج بھی اسی طرح میرا لن تن چکا تھا۔ میں نے ہمت کی اور شرارتی بہن کو اپنی جانب کیا وہ شرما رہی تھی میں نے کہا اب شرمانے کی ضرورت نہیں اپنا سائز دکھاو تو پتہ چلے کوئی فرق ہی یا نہیں اس نے کہا دیکھو اور جلدی بتاو میں نے شرارتی بہن سے کہا ایسے کیسے بتاو بریزئر اتارو گی تو اصل مسئلہ معلوم ہو گا اس نے کہا اب یہ کام بھی میں کروں تب مجھے اپنی بے وقوفی پہ افسوس ہوا۔ میں نے اپنی شرارتی بہن کے بریزئر اتار دی واہ کیا چھتیس سائز کے ٹائٹ تنے ہوئے گلابی رنگ کے نپلز والے بوبز تھے میں نے مست چکنے بوبز کو ہاتھوں میں بھر لیا اور جیسے ہی میرا ہاتھ بوبز کے نپل کو ٹچ ہوا بہن کی سسکاری نکل گئی اور اس کا چہرہ لال سرخ ہونے لگا میں نے بوبز کو ہاتھوں میں لیے رکھا جیسے ناپ رہا تھا کوئی فرق تو نہیں اور پھر کہا ایک سائڈ کا کم ہے شرارتی بہن پریشان ہو کے بولی تو اب کیا ہو گا میں نے کہا حل ہے اگر تم اجازت دوں۔ شرما کے بھولی بھیا حل کروں نا مجھے اس مسئلہ کا حل لازمی چاہیئے تب میں نے کمرے کی لائٹ کم کر دی اور اپنی شراتی بہن کو ڈریسنگ ٹیبل پہ بٹھا دیاا ور ہمت کر کے اس کے ایک بوبز جس بارے جھوٹ بولا تھا کہ اس کا سائز کم ہے اسے اپنے ہونٹوں میں لے گیا اور ایک دم سے وہ سسکی اور اس کے بدن کے بال کھڑے ہو گئے بس پھر کیا تھا میں دیوانوں کی طرح اس کے بڑے بڑے ٹائٹ مست بوبز چوسے جا رہا تھاا ور اس کی سسکیاں رکنے کا نام نہیں لے رہی تھیں ۔ مجھے پتہ ہی نہیں چلا کب میں نے اس کا ٹراوزر بھی اتار دیا اور اس کی شیو چوت ایک دم سیل بند ایک فلم دیکھی تھی بالکل اسی انداز سے میں نے اپنی شرارتی بہن کی چوت پہ منہ رکھ دیااا ور چوس چوس کے انتہا کر دی اور اپنے جوان مست لن کا ہیڈ اس کی نکھری نکھری چوت پہ سیٹ کیا اورہلکے ہلکے ڈالنا شروع کیا اس کی چیخیں نکل رہی تھیں اور میرا ہاتھ اس کے منہ پہ تھا لن یوں ا سکی چوت پھاڑ رہا تھا جیسے کورا لٹھا پھٹ رہا ہو۔ پانچ منٹ بعد سارا لن اندر جا چکا تھا اور اگلے پانچ منٹ کی چدائی کے بعد اب اس کی چیخیں بند ہو گئیں تھیں اور پھر ایک دم وہ چلائی بھیا اور زور سے بھیا سارا اندر تک پہنچا دو اور میں نے سارا لن اس کی بچے دانے تک پہنچا دیا اس نے جھٹکے لیئے اور کنواری چوت فارغ ہو گئی اور اگلے ہی لمحے میں نے بھی اپنا لن باہر نکالا اور اس کی چوت کے اوپر منی بکھیر دی شرارتی بہن نے مجھے اپنی بانہوں میں کس لیاا ور بولی بھیا کچھ ہو گا تو نہیں ناں میں نے جواب دیا کچھ نہیں ہو گا بے فکر رہوں میری سویٹ گڑیا اور ہم دونوں دیر تک ایک دوسرے کے ساتھ لپٹ کے پڑے رہے۔

Posted on: 07:55:AM 14-Dec-2020


1 0 308 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com