Stories


سسر سے چدائی از رابعہ رابعہ 338

ہائی! دوستوں، میرا نام خوشی ہے اور اب میری عمر 22 سال ہے! میں نے ایک بہت خوبصورت اور جوان عورت ہوں، میرا قد 5 فٹ 6 انچ ہے! اور میرا رنگ بہت صاف ہے! میرا جسم بالکل کسی کاریگر کہ تراشي ہوئی ماربل کی مورتی کہ طرح ہے، لوگ مجھے اس خوف سے نہیں چھوتے کہ میرے جسم پر کوئی داغ نہ لگ جائے! میرا پھگر 36-24-36، اور میری چوچیاں مست گول ہے! وہ اب بھی سوڈول اور سخت ہیں، ان میں ابھی تک کوئی ڈھلكان نہیں آئی ہے! گورے رنگ کہ چوچیوں پر گہرے برون رنگ کہ ڈوڈیو (نپل) بہت خوبصورت لگتی ہیں! میری شادی ہوئے 2 سال ہو گئے ہیں اور میرا ایک بیٹا ہے، جو کہ میری شادی کے ایک سال تین ماہ بعد ہوا تھا اور اب ***** (*** Edited ***) کا ہے! جب وہ چار ماہ کا تھا تب میرے میرے شوہر کا تبادلہ امریکہ ہو گیا تھا! كيوك ان کا کام کے مقام نيكليےر اےريے میں تھا اس لئے وہ خاندان کو اپنے ساتھ نہیں لے جا سکتے تھے! انہیں ہر گیارہ ماہ کے بعد ایک ماہ کے لئے اپنے خاندان کے پاس انڈیا آنے کہ اذاذت تھی! خارجہ جانا ان کی ایک مپھبوري تھی، اس لئے مجھے اور میرے ***** (*** Edited ***) کے بیٹے کو اکیلا چھوڑ کے گے! ہم اکیلے نہ رہیں پڑے اس کے لئے میرے شوہر نے میرے سسر (یعنی پاپاجي) کو ہمارے ساتھ رہنے کے لئے گاؤں سے شہر بلا دیا تھا میرے سسر، جب ہمارے ساتھ رہنے کے لئے آئے تب ان کی عمر 47 سال کہ تھی! وہ ہم سے الگ، گاؤں میں رہتے تھے! میری ساس کہ موت ڈیڑھ سال پهےلے ہوگئی تھے اور گزشتہ ایک سال سے وہ زیادہ تر وہیں گاؤں والے گھر میں اکیلے ہی رہتے تھے! پاپاجي (یعنی میرے سسر) آرمی میں میجر رہ چکے تھے اور ریٹائرڈ ہونے کے بابجود وہ بہت پھرتيلے تھے! آرمی کے طور تاريكے اور تہذیب وہ ابھی تک نہیں بھولے تھے! گاؤں میں رہنے اور كھےتيباڑي کرنے اور گاؤں کے خالص ماحول کی وجہ ان کا جسم بہت گٹھيلا تھا اور اس عمر میں بھی وہ ایک دم 27-28 سال کے جوان لڈكو جیسے لگتے تھے! پہلے جب بھی کبھی وہ ساسو ماں کے ساتھ ہمارے پاس آ کے رہتے تھے تو میری پڑوسنے انہیں میرے شوہر کے بڑے بھائی ہی سمجھتی تھی! شوہر کے جانے کے بعد، گزشتہ سات ماہ سے وہ ہمارے ساتھ ہی رہ رہے ہیں! پڑھے لکھے ہونے کی وجہ ان کا اٹھانا بیٹھنا اور جوڑا بھی شہر اہل جیسا ہے، اس لئے میرے ساتھ گھر میں بہت جلد ایڈجسٹ ہو گئے ہیں! گھر کے کام میں اور بچے کہ دیکھ بھال میں بھی میرا ہاتھ بٹا دیتے ہیں مجھے اور میرے شوہر کو جنسی بہت پسند ہے اور شادی کے بعد کوئی دن بھی ایسا نہیں تھا جب ہم ایک یا اس سے زیادہ بار چدائی نہ کرتے ہوں! اب میرے شوہر کو امریکہ گئے تقریبا سات ماہا ہو چکے ہے اور ان سات ماہ میں سے پہلے دو ماہ تو مجھے ایک بار بھی سیکس کرنے کو نہیں ملا تھا! اس لئے میں اتنی بے چین رہتی تھی اور سارا دن جنسی کے لئے تڈپتي رہتی تھی! چوت مروانے کہ لالسا لئے کسی کو ڈھوڈھتي رہتی تھی، پر کوئی بھروسے کا نظر نہیں آتا تھا! لیکن پانچ ماہ پہلے مجھے اچانک ہی ایک ایسا موقع ملا جس سے مجھے زندگی کا سب سے انتہائی خوشی ملی اور وہ اب بھی جاری ہے یہ اس دن کی بات ہے جب میں گھر کا صفائی کرتی ہوئی پاپاجي جی کے کمرے گئی تو میں نے پایا کہ وہ کمرے میں نہیں ہیں! مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کہاں گئے ہوں گے، اس لئے میں ادھر ادھر دیکھنے لگی اور تبھی مجھے ان باتھ کہ لائٹ جلتی ہوئی نظر آئی، میں تجسس وش اس طرف چلی گئی! وہاں میں نے دیکھا کہ باتھ کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا ہے اور اندر سے اه اه کہ آواز آ رہی ہا! میں سن کر گھبرا گئی اور سوچا کہ شاید پاپاجي جی کہ طبیعت ٹھیک نہیں ہے یا وہ کسی تکلیف میں ہیں! میں گھبراہٹ میں جلدی سے باتھ کا دروازہ کھول کر اندر جھانک کے دیکھنے لگی! اندر کا نظارہ دیکھ کے میرے تو ہوش اڑ گئے، پاپاجي جی اپنے نو انچ طویل اور ڈھائی انچ موٹے لںڈ شیف کہ بڑی تسسلي سے مساج کر (مٹھ مار) رہے تھے! اس سے پہلے میں نے اپنے آپ کو ہینڈل تبھی میں نے دیکھا کہ پاپاجي جی نے اههه کہ آواز نکال کر اپنے لںڈ شیف سے رس کہ پچکاری چھوڑی جو کہ دو فٹ دور دیوار پر جا پڑی! پاپاجي جی کا ڈھیر سارا گاڑھا رس، اتنا زیادہ اور اتنی زور سے، نکلتے ہوئے دیکھ کر میری زور سے ایک طویل سانس نکل گئی جسے سن کے پاپاجي نے پلٹ کر دیکھا اور مجھے دیکھتے ہی غصے میں پوچھا "تو یہاں کیا کر رہی ہے؟ "ان کی غصے سے بھری آواز سن کر میں ڈر گئی اور بغیر جواب دیا وہاں سے بھاگ گئی! اس واقعہ کے دو گھنٹے بعد تک تو میں ان کے سامنے بھی نہیں گئی! لیکن دوپہر کو کھانا بنانے کے وقت بیٹا تنگ کر رہا تھا تو مجھے مجبور ہو کر اسے ان کو دینے کے لئے جانا پڑا، تب وہ بالکل نارمل طریقے سے پیش آئے! اس سے میری جان میں جان آئی اور میں بھی ان کے سامنے آنے جانے لگی اور نارمل طریقے سے ويهوار کرنے لگی! لیکن اس واقعہ کے بعد اگلے دن بھی میں اس نظارے کے بارے میں ہی سوچتی رہتی! میرے شوہر کا لںڈ تو صرف سات انچ لمبا اور دو انچ موٹا ہے اور انتہائی لطف دیتا ہے، لیکن پاپاجي کا یہ لںڈ شیف کیسے مزے گا میں اس کے خواب لینے لگی تھی اور اپنی چوت اس کو ڈلوانے کہ منصوبہ بناتی رہی اگلے دن، رات کو سونے کے وقت میرا بیٹا بہت رونے لگا! جب وہ چپ نہیں ہوا تو میں اسے پاپاجي کے کمرے میں لے گئی اور انہیں دے کر ان سے اسے چپ کرانے کی اپیل کی! پاپاجي نے اسے گود میں لیا اور مجھے تیل لانے کو کہا! میں نے انہیں تیل لا کر دیا تو انہوں نے وہ میرے بیٹے کے پیٹ پر ملنا شروع کر دیا! کچھ ہی دیر میں بیٹا چپ کر گیا اور ان کی گود میں کھیلنے لگا! پوتے کو دادا کے پاس چھوڑ کر میں اپنے کپڑے تبدیل کرنے چلی گئی! تبھی میرے دماغ میں منصوبہ آئی کہ اگر میں پاپاجي کو اپنے بلوغت کہ جھلک دكھا تو شاید کچھ بات بن جائے اور میری لںڈ شیف سے چدنے ک اچھا بھی پوری ہو جائے! میں نے جھٹ سے برا اور پیںٹی سمیت اپنے سارے كپڑے اتارے اور اپنا پںک رنگ کا شفاف سا نائیٹ گاؤن پہنا! میں نے گاؤن کے اوپر کے دو اور نیچے کے تین بٹن کھلے چھوڑ دئے اور بیٹے کو لینے پاپاجي کے کمرے میں گئی! جب میں چلتی تھی تو رانوں تک میری ٹاںگے نںگی ہو رہیں تھی اور میری ڈولتي ہوئی چوچیوں اور اس پر کھڑی برون رنگ کہ ڈوڈیو گاؤن میں سے جھلک رہیں تھی! پاپاجي نے مجھے ان کپڑوں میں دیکھا اور ایکٹک دیکھتے ہی رہے! ان کی آنکھوں کہ چمک بتا رہی تھی کے وہ میرے بچھايے جال میں پھنس جائیں گے، مجھے صرف کچھ انتظار کرنا پڑے گا! جب میں نے پاپاجي سے بیٹے کو لینے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو ان کا دھیان میری چچیوں کہ طرف گیا اور وہ انہیں دیکھتے ہوئے ایک دم مستحکم ہو گئے! میں نے کہا "پاپاجي، یہ سوگيا ہے لاے میں اس اس کے بستر پر سلا دوں!" تب هڈبڈا کر انہوں نے کہا "یہ ابھی ابھی سویا ہے اور کچی نیند میں ہے اس لئے اسے ابھی یہیں سونے دے میں "ہاں جی" کہتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی! مجھے نیند نہیں آ رہی تھی اس لئے میں بہت دیر تک ایسے ہی لیٹی کروٹیں بدلتی رہی! تبھی مجھے یاد آیا کہ میں نے بچے کو دودھ تو پلایا ہی نہیں! میں اٹھی اور پاپاجي کے کمرے میں گئی تو پایا کہ وہ بھی سو گئے ہیں! تب میرے دل میں آیا کہ میں بھی اسی کمرے میں سو جاتی ہوں اور میں ان کے ساتھ والے بیڈ پر لیٹ گئی! بیٹے کو اپنے پاس کھینچا اور گاؤن میں سے چچیاں نکال کر اسے دودھ پلانے لگی! اتنے میں پاپاجي نے نیند میں ہی کروٹ بدلی اور براہ راست ہو کر سونے لگے، تب میری نظر ان کی لںگی پر گئی جو کے کھل کر الگ ہو گئی تھی اور وہ بالکل ننگے لیٹے ہوئے تھے! ان کا لںڈ شیف بڑے آرام سے ان کی رانوں پر سویا ہوا تھا! میرا دھیان بچے کو دودھ پلانے میں کم اور لںڈ شیف کہ طرف زیادہ متوجہ ہو گیا! میں بہت احتیاط سے اس کے اور اس کی ساخت کو دیکھتی رہی! پاپاجي کا لںڈ شیف تو بہت پرکشش تھا! اس کا سائیز تو میں اوپر بتا چکی ہوں، پر ان ٹٹٹے بھی تو کمال کے تھے، تقریبا تین انچ سائیز کے گیندوں کے برابر ہوں گے! ان کا لںڈ شیف سوئے ہونے کے بابجود بھی پانچ انچ لمبا لگ رہا تھا! اوپر کا سپاڑا تو ڈھکا ہوا تھا لیکن اس کے آگے کے نصف انچ حصہ کے اپر گوشت نہیں تھا اور ان کا پیشاب اور رس نکلنے کا ڈال بالکل صاف نظر آ رہا تھا میرے بیٹے کا پیٹ بھر چکا تھا اس لئے اس نے چچیوں کو چھوڑ دیا تھا اور سو گیا تھا، لیکن مجھے نیند نہیں آ رہی تھی! میں بچے کو الگ سے سلا دیا اور وہیں بیٹھ کر پاپاجي کے اس ہتھیار کو نهارتي رہی جو وہاں لیٹے لیٹے مجھے چڑھا رہا تھا! میں نے محسوس کیا کہ میں اپنی ترشا کو اب اور نہیں دبا سکتی تھی اور اس کا لنڈ شیف کو چوسنا اور اسے اپنی چوت میں لے کر زندگی کا مزا لینا چاہتی ہوں! میں اپنا تنہائی دور کرنا چاہتی ہوں، اپنی جنسی کہ بھوک مٹانا چاہتی ہوں! اس کے لئے اب مجھے میرے شوہر کہ غیر ہاجری میں بھروسے کا اور مکمل مطمئن کرنے والا مرد اور اس کا یہ ہتھیار مل گیا تھا! اب میں اور انتظار نہیں کر سکتی تھی اور اس لئے میں نے اپنی ساری جھجھک چھوڑی، اپنا گاؤن اتارا اور سرک کر پاپاجي کہ رانوں کے پاس آ کر بیٹھ گئی پاپاجي جاگ نہ جائیں اس لئے میں نے ان لںڈ شیف کو ہاتھ سے نہیں چھوا اور اپنے منہ کو اس کے پاس لےجا کر اسے چومنے اور جیب سے اسے چاٹنے لگی! شاید یہ لںڈ شیف چومنے اور چاٹنے سے خوش ہونے والے نہیں تھے اور اسے تو چساي چاہئے تھی، اس لئے اس نے ہلنا شروع کر دیا! اس کہ اس حرکت سے میں تھوڑا گھبرائی، لكن پھر ہمت باندھ کر لںڈ شیف کو ہاتھ سے پکڑ لیا، اپر کا گوشت پیچھے سرکا کر سپاڈے کو باہر نکلا اور اسے اپنے منہ میں ڈال کر چوسنا شروع کیا! کچھ ہی لمحات میں لںڈ شیف خوش ہو کر تن گئے! تبھی پاپاجي کا ہاتھ میرے سر پر پڑا اور وہ اسے نیچے دبانے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے لںڈ شیف میرے مہں سے ہوتے ہوئے میرے گلے تک پہنچ گیا! میری حالت پتلی ہو گئی تھی، مری سانس اكھڈ رہی تھی! پھر بھی میں نے ہمت نہیں چھوڑی اور چساي چال رکھی! تقریبا ایک منٹ کے بعد پاپاجي کا ہاتھ میرے سر سے ہٹ کر نیچے آگیا اور وہ میری چچیوں کو پکڑ کر انہیں دبانے لگے! ان کی اس حرکت سے میں بہت ہی پرسن ہوئی اور میری چوت گیلی ہونے لگی! پھر انہوں نے میری ڈوڈیو کو اپنی انگلیوں میں دبا کر مسلنے لگے، جس سے میں نے گرم ہونے لگی اور میں ایک ہاتھ سے اپنی چوت میں کھجلی اور اوںگلی کرنے لگی مجھے ابھی مزہ آنا شروع ہی ہوا تھا کہ پاپاجي اٹھ کے بیٹھ گئے! انکی چوچی سے نکلے دودھ کی وجہ سے ان کے ہاتھ گیلے ہونے لگے تھے، جس سے ان کی نیند کھل گئی تھی! انہوں نے مجھے جھٹکے کے ساتھ اپنے لںڈ شیف سے الگ کر دیا! پھر انہوں نے نے اٹھ کر لائٹ جلائی اور بھوچكے سے میرے ننگے جسم کو دیکھنے لگے! تبھی انہیں اپنے ننگے ہونے کا احساس ہوا اور چستی سے اپنی لںگی اٹھا کے پہن لی اےوم میرا گاؤن مجھے پکڑا گيا اور بولے "یہ کیا کر رہی تھی؟ جاؤ کپڑے پهنو "! "پاپاجي میں تو وہی کر رہی تھی جو آپ چاهتے ہیں!" میں نے جواب دیا! "میں نے ایسا کرنے کو کب کہا" پاپاجي بولے! "میں تو بیٹے کو لے جانے کے لئے آئی تھی، آپ کی کھلی ہوئی لںگی دیکھ کر اسے آپ کے اپر اوڑھ رہی تھی، تب آپ نے میرے سر کو پکڑ لیا اور اسے اپنے شیف پر دبا دیا! میں سمجھی کہ آپ اس کی مالش چاہتے ہیں "میں نے ایک دم سے جھوٹ بول دیا! "تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا اور صاف انکار کر دینا چاہئے تھا" پاپاجي پھر بولے! "میں نے آج تک آپ کا کوئی بھی حکم یا اشارہ، کبھی نہیں ٹالا تو یہ کیسے نہ مانتی" میں نے اتر دیا! "ارے میں تو نيد کے خواب میں تھا جس میں یہ سب تنهاري ساس کر رہی تھی، اس لئے میں نے ایسا اشارہ کیا ہو گا" پاپاجي نے کہا! "پاپاجي تو کیا ہو گیا اگر میں نے اشارے کو آپ کا حکم سمجھ کر آپ کہ یہ خدمت بھی کر دی! آپ کا خواب اور میرا فرض دونوں پورے ہو گئے "میں نے کہا! "نہےں، تو میری بات کیوں نہیں سمجھ رہی ہے! میں تیرے ساتھ ایسا کچھ نہیں کر سکتا "وہ بولے! "اب تو ہم دونوں ایک ساتھ یہ قدم اٹھا چکے ہیں، دونوں میں سے کوئی ایک بھی قدم پیچھے لے جاتا ہے تو دوسرے کو برا لگے گا! بتايے، اب ہم یہاں سے آگے بڑھنے کے علاوہ اور کیا کر سکتے ہیں، "میں نادان بنتے ہوئے بولی اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہیں اور بات زیادہ بگڑے، میں اٹھ کر کھڑی ہو گئی اور اںگڑائی. لیتے ہوئے، آپ کے جسم کہ نمائش کرتی ہوئی ان کے پاس آ کر ان کے ہاتھوں کو پکڑا اور اپنی چچیوں پر رکھ دئے! پھر ان کے لںڈ شیف کو پکڑ کر هلاتي ہوئی بولی: - "پاپاجي، اب تو آپ کا یہ شیف بھی گرم ہیں اور میری مہارانی میں بھی آگ لگی ہوئی ہے! اس لئے میں آپ کے پاو پڑھتی ہوں اور ونت کرتی ہوں کہ براہ مہربانی سب کچھ بھول جائیں اور جو کھیل شروع کیا تھا اسے آگے کھیلتے رہتے ہیں! پلیز یہ مہارانی کہ جلن کو بجھانے کے لئے اس میں اپنے شیف سے پوچھ گچھ شروع کرا دیجئے "! انہیں آگے کچھ بولنے کا کوئی موقع دیئے بغیر، میں ان کے پیروں کو پکڑ کر نیچے بیٹھ گئی اور ان کا شیف منہ میں لے کر زور زور سے چوسنے لگی! پاپاجي کچھ نہیں بولے اور چپ چاپ کھڑے رہے! میں سمجھ گئی کے اب لوہا گرم ہو رہا ہے اور چوٹ مارنے کا وقت آ گیا ہے! میں نے جھٹ سے ان ہاتھوں کو کھیچ کر اپنی چچیوں پر رکھ دیا! بس پھر تو ایسا لگا کہ جنگ جیت لی، كيوك پاپاجي نے میری چچیوں کو مسلنے لگے، پر ان میں سے دودھ نہ نکلنے لگے اس لئے انہوں نے ڈوڈييو کو نہیں مسئلہ! پھر وہ بیڈ پر بیٹھ کر لںڈ شیف چسانے لگے اور اپنا ہاتھ میری چوت پر رکھ دیا! وہ کبھی اس کے اندر اوںگلی کرنے لگے اور کبھی چھولے کو رگڑنے لگے! بس میں تو ساتویں آسمان پر پہنچ گئی، اب تو موسل چند سے رگڈاي کے جھٹکوں کا انتظار تھا! میری تیز تیز چساي سے پاپاجي کے لںڈ مہاراج کی انتہائی مزیدار پہلے رس (پری کم) میرے منہ میں آنا شروع ہوگیا تھا! یہ محسوس کر کے پاپاجي بولے "کیسا لگ رہا اس کا ذائقہ؟" میں بولی "بہت سوادج ہے، کچھ میٹھا اور کچھ نمکین"! وہ بولے "کیا میرا سارا رس تم فری میں پی جاؤ گی اور بدلے مجھے کچھ نہیں دوگی! اٹھو اور بیڈ کے اوپر آ کر لےٹو تاکہ میں بھی تمهري مهراني کا رس پی سکوں " "اچھا پاپاجي" میں نے کہا اور جھٹ سے بیڈ پر آ کر لیٹ گئی پھر تو پاپاجي 69 کہ پوزیشن میں لیٹ کر میری ٹاںگے چؤڑی کر کے میری چوت رانی کو چوسنے لگے اور میں ان کے لںڈ بادشاہ کو! پاپاجي کبھی چوت میں اپنی جیبھ ڈالتے تو کبھی اس کی ساڈے چوستے لیکن جب وہ چھولے پر زبان چلاتے تو میری چوت کے اندر عجیب سی گدگدی ہوتی اور مجھے لگتا ہے کہ میں جنت میں پہنچ گئی ہوں! ہم دونوں کہ اس چساي سے اتتےجت ہو کر ہمارے دونوں کے منہ سے اههههههههه .... اههههههههه ... اور اهههههههه ... اهههههههه ... کہ آوازیں نکلنے لگی تھیں! میرا تو یہ حال تھا کہ میری چوت کا پانی بھی نکلنے لگا تھا، جسے پاپاجي بڑے مزے سے پی رہے تھے اور ڈکار بھی نہیں لے رہے تھے! اچانک پاپاجي نے میرے چھولے پر کس کے جیب ماری اور میری چوت ایک دم سے سكڑي اور کا رس پھارا پاپاجي کے منہ پر چھوڑ دیا! ان کا حالت دیکھنے کا تھا، ان کا مکمل چہرہ میری چوت رانی کہ اس شرارت سے بھیگ گیا تھا! وہ ایکدم اٹھ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے "لگتا ہے یہ شرارتی رانی کو کچھ تو سبق سکھانا ہی پڑے گا، کوئی سزا دینی پڑے گی"! میں اس سے پہلے ان کا شیف مہں سے نکلتی انہوں نے ایک چھوٹی سی پچکاری میرے منہ میں چھوڑ دی! میں اس کے لئے تیار نہیں تھی اس لئے کچھ رس تو میرے گلے سے نیچے اتر گیا لیکن باقی کا سارا رس میرے پورے چہرے اور میری گردن پر فیل گیا! پھر وہ الگ ہٹ گئے! میں نے اٹھ کے اپنے آپ کو اور پاپاجي کو پوچھا اور پاپاجي کہ طرف آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگی! پاپاجي ہنستے ہوئے بولے "ملی گئیں نہ تجھے شرارت کہ سزا! فکر مت کر ابھی تو اس سے بھی بڑی سزا یہ رانی کو دینی ہے "! میں نے انجان بنتے ہوئے پوچھا "پاپاجي اور کیسی بڑی سزا دیں گے" تو انہوں نے اپنی بلشٹ باجاوں سے اٹھا کر مجھے میرے کمرے میں لے جا کر بیڈ پر پٹک دیا اور میرے چوتڈوں کے نیچے ایک تکیا رکھ دیا! تب میں نے دیکھا کہ رس چھوٹنے کے بعد بھی پاپاجي کا لںڈ شیف اب بھی لوہے کہ چھڈ کہ طرح اکڑا ہوا ہے اور وہ اگلی چڑھائی کے لئے تیار ہے! پھر انہوں نے میری ٹگے چوڑی کر کے چوت مہارانی کو دیکھنے لگے اور بولے "یہ تو بہت نازک سی لگ رہی ہے! کیا یہ اس شیف کو جھیل پايےگي "میں فوری طور بول پڑی" پاپاجي آپ ٹرائی تو کریے! آگے جو ہوگا دیکھا جائے گا تب وہ میری ٹاںگو کے درمیان میں آ کر بیٹھ گئے اور اپنے شیف کو میری مہارانی کے چھولے پر رگڑنے لگے! اس سے میری حالت بہت خراب ہونے لگی! میں نے کہا "پاپاجي، اب اور مت چڑھاو اور اسے جو سزا دینی ہے وہ جلدی سے دے دیجئے"! تب پاپاجي بولے "فکر نہ کر ذرا سزا کے لئے اسے تیار تو کر لوں"! اس کے بعد انہوں نے اپنا لنڈ شیف، جو کہ اس وقت اپنے پورے اپھان پر تھا اور فل سائیز کا ہو چکا تھا، میری چوت کے منہ کے پاس رکھ دیا اور ہلکے سے دھکے مار کر اسے چوت کے اندر شامل کرنے لگے! میری چوت تو اس وقت لںڈ کہ اتنی گرسنہ تھی کے اس کا منہ اپنے آپ کھلنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پاپاجي کے شیف کے سپاڈے کو نگلنا شروع کر دیا! پاپاجي مہارانی کہ یہ حماقت دیکھ کر بہت حیران ہوئے اور جوش میں آ کر ایک جور کا دھکا دے مارا! پھر کیا تھا مهراني کہ تو چوں بول گئی اور میرے منہ سے ایک زور کہ چیخ "اييييييييييييے ....." نکل گئی پاپاجي اےكدن میرے پر جھک گئے اور میرے نارمل ہونے تک ویسے ہی رکے رہے! وہ میری چچیوں کو دباتے رہے اور مجھے زور سے کس کرتے رہے! جب میں کچھ نارمل ہوئی تب میں نے ان سے پوچھا "کتنا گیا" تو وہ بولے "ابھی تو آدھی سزا ملی ہے! باقی آدھی سزا کے لیے تیار ہو تو بتاؤ! "جب میں نے حامی بھر دی تب انہوں نے کس کر ایک اور دھکا مارا اور اپنا مکمل شیف میری مہارانی کے باغ میں پہنچا دیا! میں نے ایک بار درد کے مارے پھر "اييييييييييے .... اييييييييييے .." کر کے چللا اٹھی! مجھے لگا کہ میری چوت پھٹ گئی ہے اور اسی لئے اتنا درد ہو رہا ہے! میری چوت کہ سیل ٹوٹنے پر اور بیٹے کے ہونے پر بھی اتنی درد نہیں ہوئی تھی جتنی کہ اب ہو رہی تھی! پاپاجي نے میری تکلیف کو سمجھتے ہوئے رک گئے تھے اور اپنا دایاں ہاتھ میری چوت کے اپر اگے ہوئے بالوں کے اپر رکھا اور تھوڑا دبایا اور میرے اوپر لیٹ گئے! بائیں ہاتھ سے میری چوچی کو مسلتے ہئے پچھا "اب کیسا لگ رہا ہے! اگر آپ کہتی ہو تو میں نکل لیتا ہوں نہیں تو جب كهوگي تبھی آگے سزا دوں گا "اور اس کے بعد اپنے ہوںٹوں کو میرے ہوںٹوں پر رکھ کر انہیں چوسنے اور چوسانے لگے! ہم قریب پانچ منٹ ایسے ہی پڑے رہے اور میں اپنی قسمت کو اتنا لمبا موٹا اور سخت لںڈ سے چدائی کے لئے سهرانے لگی! میری چدنے کی تممنا کتنی اچھی طرح پوری ہو رہی ہے اس سے میں بہت خوش تھی! جب مجھے لگا کہ میں آگے کے جھٹکے سہ لوں گی تب میں نے پاپاجي سے کہا "میں آپ کی دینے والی باقی کہ سزا اب کاٹنے کو تیار ہوں! چلئے شروع ہو جائیں "! میرا اتنا کہنا تھا کہ پاپاجي نے اپنی گاڑی سٹارٹ کری اور دھکے لگانے لگے! پهےلے فرسٹ گے़ر لگایا، پھر سیکنڈ گے़ر اور اس کے بعد تھرڈ گے़ر میں چلنے لگے اور مجھ پوچھنے لگے "کیوں کوئی تکلیف تو نہیں ہو رہی" میں نے کہا "نہیں، مجھے تو ابھی مزے آنے شروع ہی ہوئے ہے! آپ ابھی اسی سپیڈ سے میری چدائی کرتے رہیں! جب سپیڈ بڑھاني ہوگی میں بتا دوںگی "! اگلے دس منٹ ہم دونوں اسی طرح چدائی کرتے رہے اور جب میں نے محسوس کیا کہ سپیڈ بڑھانے کا وقت آ گیا ہے، تب میں نے بھی اپنے جسم کو پاپاجي کہ رفتار کے حساب سے ہلانا شروع کر دیا اور بولی "پاپاجي اب اپنی گاڑی کو چوتھے گے़ر میں ڈالے پھر کیا تھا پاپاجي نے تھوڑی سپیڈ اور بڑھا دی اور ہماری چدائی کے لطف کو چار گنا کر دیا! میں اب اچھل اچھل کے چد رہی تھی اور پاپاجي جھٹکے پر جھٹکے مار کر چدائی کرے جا رہے تھے! ہم دونوں کے منہ سے اههههههههه .... اههههههههه ... اور اهههههههه ... اهههههههه ... کی تیز تیز آوازیں نکلنے لگی تھیں! اس ڈر سے کہ آوازیں باہر نہ سنائی دے ہوجن دونوں نے اپنے ہوںٹ اپنے دانتوں کے نیچے دبا رکھے تھے! اب میری چوت میں هلبلي ہونے لگی تھی اور وہ دم تن ہو کر پاپاجي کے لںڈ کو جكڑنے لگی تھی! اتنے میں چوت کے اندر كھچاو ہونا شروع ہوگیا اور اس کی چوت میں سے پانی بھی لیک کرنا شروع ہوگیا! میں نے دو بار تو چھٹ بھی گئی تھی اور اب تیسرا كھچاو آنے والا تھا! اب مجھ سے اور نہیں سہا جا رہا تھا اس لئے میں نے پاپاجي سے کہا "اب جلدی سے ٹاپ گے़ر لگا دیجئے میرے کہنے پر انہوں نے فل سپیڈ کر دی اور میری چوت میں وہ اس زندگی کے سب سے تیز جھٹکے لگانے لگے! ان کا لںڈ شیف میرے چوت کہ گہرائیوں کو پار کر میری بچہ دانی کے اندر گھس گیا تھا! اب میرے سے نہیں رہا گیا اور میں چللا اٹھی "پاپاجي، اور تیز، اور تیز، آہ .. آہ .. میں گييييے .. گييييے .. گيييييييے .. گييييييييييييييي .."! میرا جسم اکڑ گیا اور چوت لںڈ سے چپک گئی! اسی وقت پاپاجي کی بھی هنكار سنائی پڑی اور ان کا لںڈ میری چوت میں پھڈپھڈايا! ایک زبردست پچکاری چھوٹی اور میں تو اس وقت کے لطف میں پاپاجي کے رس کہ دریا میں بہہ گئی! اس کے بعد پاپاجي میرے ہی اوپر لیٹ گئے اور ہم دونوں کو معلوم ہی نہیں رہا کے ہم اس طرح کتنی دیر ایسے ہی پڑے رہے! پھر ہم اٹھے اور اپنے آپ کو ایک دوسرے سے الگ کیا اور ہم دونوں کے کشتوں کا چوتشےك نکل کے میری رانوں سے نیچے کہ طرف بہنے لگا! میں باتھروم کہ طرف بھاگی اور پاپاجي میرے پیچھے وہیں آ گئے! میری جاںگھوں پر بہتے ہوئے چوتشےك کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے! تبھی میری نظر پاپاجي کے لںڈ پر پڑی اور میں نے دیکھا کی ان کا لںڈ باتھ کہ لائٹ میں ایسے چمک رہا تھا جیسے اس پر چاندی کا ورک چڑھا دیا تھا! اصل میں چوت سے نکالنے پر اس کے اپر چوتشےك کا لیپ ہو گیا تھا اور وہ چمک رہا تھا! میرے سے رہا نہیں گیا اور میں نے اس اپنے منہ میں لیا اور چوسنے لگی! میں نے جب لںڈ کو چاٹ کے صاف کر دیا تو پاپاجي نے پچھا "ٹیسٹ کیسا ہے" میں نے جواب دیا "ملائی جیسا ہے"! تب پاپاجي نے اپنی دو انگلیوں میری چوت میں ڈال کر باہر نكالي اور اس میں لگے چوتشےك کو چاٹنے لگے! پھر بولے "ہاں تم ٹھیک کہہ رہی ہو، یہ تو ملائی ہی ہے، میری اور تمہاری! آج تو یہ بہہ گئی پر اگلی بار اسے اكٹھا کر کے كھاےگے "! پھر ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دھونے اور صاف کرنے لگے جب ہم ایک دوسرے کا لںڈ / چوت مسح رہے تھے، تبھی بیٹے کے رونے کہ آواز آئی! میں بھاگ کر اس کے پاس لیٹ گئی اور اس کے منہ میں چوچی کہ ڈوڈي دے دی، وہ چپ چاپ دودھ پینے لگا! پاپاجي بھی میرے پاس آ کر لیٹ گئے اور میں نے بیٹے کو دودھ پلانے کے ساتھ ساتھ ایک ہاتھ سے پاپاجي کے لںڈ کو بھی پکڑ لیا! جب بیٹے نے دودھ پینا بند کر دیا تو میں نے اسے بیڈ پر لٹا کر پاپاجي کے پاس ان کے ساتھ چپک کر انہی کے بیڈ پر لیٹ گئی! میری چدائی کہ خواہش پوری ہوئی تھی اس لئے میری خوشی کا ٹھکانا نہیں تھا، مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں آگے کیا کروں! تبھی پاپاجي نے کہا "خوشی میں تھک گیا ہوں اور مجھے بھوک بھی لگ آئی ہے اس لئے تھوڑا گرم دودھ لا دو! تم بھی تھوڑا پی لو، بچے کو بھی تو پلاتی ہو! "میں نے جھٹ سے کہا" نہیں پاپاجي مجھے تو بالکل بھوک نہیں ہے، میرا پیٹ تو آپ کی ملائی اور سزا کے لطف سے بھر گیا ہے! " پھر میں نے کہا "پاپاجي میری چچیوں میں بہت دودھ ہے آپ اسے پی کر اپنی بھوک مٹا لیجئے" وہ بولے "یہ کیسے ہو سکتا ہے، بچے کے لئے کم ہو جائے گا"! میں نے کہا "ابھی تو یہ اپنا پیٹ بھر کے سو گیا ہے اور اب صبح سات بجے ہی اٹھے گا! تب تو اسے گاے کا دودھ دینا ہے، میری چچيو کے دودھ کہ باری تو قریب صبح دس بجے کے بعد ايگي! تب تک تو یہ چچیاں پوری بھر جائیں گی اور کوئی کمی نہیں رہے گی! "یہ سن کر پاپاجي مان گئے، وہ میری ڈوڈييا باری باری چوسنے لگے اور میرا دودھ پینے لگے! جب دونوں طرف کہ تھےليا خالی کر دی تب ہی وہ الگ ہوئے اور اپنے کھڑے لنڈ کو پکڑ کر مجھے دکھانے لگے! میں نے کہا "جی ہاں میں جانتی ہوں کہ آپ کے شیف کو آرام کے لئے گدیدار اور گرم جگہ چاہئے، اس کا انتظام میں ابھی کر دیتی ہوں! اب اس کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی آرام کرنا چاہئے، نہیں تو آپ کی کمر کہ درد آپ کو پریشان کر دے گی! اب یہ مزے تو ہم آگے زندگی بھر لیتے رهےگے اس کے بعد میں نے اٹھ کے پاپاجي کے اوپر آگئی اور ان کھڑے لنڈ پر جا کر بیٹھ گئی، اور ان کا لںڈ میری چوت کہ گہرائیوں کہ نرم اور ملائم جگہ آرام کرنے پہنچ گیا تھا! پھر میں پاپاجي کے اوپر ہی ان پت میں اٹکی ہوئی لیٹ گئی! ہم دونوں کو کب نیند آگئی ہمیں پتہ ہی نہیں چلا

Posted on: 08:02:AM 14-Dec-2020


1 0 149 1


Total Comments: 1

Asad: Ager koi girl ya aunty mujh se apni felling share karna chahti hai.ya Good Friendship Love and Romantic Chat Phone sex Ya Real sex karna chahti hai to contact kar sakti hai 0306_5864795



Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com