Stories


حنا کا ٹیوشن از مناہل

حسبِ معمول میں بچوں کو پڑھا رہا تھا کہ میرے ایک اسٹوڈنٹ کی والدہ آگئیں۔ وہ اکیلی نہیں تھیں بلکہ ان کے ساتھ کوئی نقاب پوش لڑکی بھی تھی۔ انھوں نے مجھے سلام کیا اور امی کے پاس بیٹھ گئیں جب کہ مجھے فکر لاحق ہو گئی کہ کسی بڑی کلاس کی لڑکی پڑھنے آ گئی ہے کیوں کہ مجھےمیٹرک کی انگلش اور ریاضی پڑھاتے ہوئے کافی مشکل پیش آتی تھی۔ اب صورتِ حال یہ تھی کہ وہ میرا انتظار کر رہی تھیں اور میں بچوں ہی میں مصروف رہنے کی پوری کوشش کر رہا تھا لیکن مجھے معلوم تھا کہ یہ مصیبت، جو گلے پڑچکی ہے، اب اسے بھگتےبنا چارہ نہیں۔ چناں چہ کوئی آدھے گھنٹے تک مسلسل انتظار کر کر کے بچے کی والدہ آخر خود ہی مجھ سے مخاطب ہوئیں کہ... ماسٹر جی ذرا فارغ ہو کر ہماری بات بھی سن لیں... میں نے مسکراتے ہوئے ان کی طرف دیکھا اور کہا کہ بس ابھی آیا ۔ ایک بچے کو سبق دے کر میں ناچار ان کی جانب بڑھا اور ان کے ساتھ پڑی چارپائی پر بیٹھ گیا۔ یہ گرمیوں کے دن تھے اور ہمارا گھر دو کمروں، ایک کچن، باتھ اور کھلے سے صحن پر مشتمل تھا۔ مغربی دیوار کچھ اونچی تھی اس لیے شام چار بجے سے وہاں چھاؤں آ جاتی تھی ۔ یہاں میں چٹائی بچھا لیا کرتا تھا۔ محلے کے خاصے بچے پڑھنے آجایا کرتے تھےجن میں نرسری سے دہم تک کی سبھی کلاسز شامل تھیں لیکن تعداد کے اعتبار سے ان میں کچھ اختلاف تھا یعنی کسی کلاس کے بچوں کی تعداد چار پانچ ہے تو کسی کلاس کے فقط ایک یا دو بچے ۔میں خود بی اے کر رہا تھا اور میٹرک کے بعد سائنس سبجیکٹس سے علٰحدہ ہو گیا تھا۔ گو کہ میں ریاضی میں بہت اچھا تھا لیکن پھر بھی مجھے امدادی کتب سے مدد لینا پڑتی تھی کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ ریاضی جب تک ہی آتا ہے جب تک اسے کرتے رہیں۔ جوں ہی مشق چھوڑی ، یہ بھول جاتا ہے...اور میری یادداشت تو ویسے بھی خاصی کمزور تھی اسلیے مجھے اپنے دماغ کو زیادہ مشقت کروانا پڑتی تھی۔ آنٹی نےبات کا آغاز کیا اور اس لڑکی کا تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ وہ لوگ اس محلے میں ایک دو ماہ پہلے ہی آئے ہیں۔ لڑکی کے اکلوتے بڑے بھائی کو کسی نے چند ماہ پہلے قتل کر دیا تھا اور وہ اس صدمے کی وجہ سے دہم کے امتحانات کی صحیح تیاری نہ کر سکی۔ اس وجہ سے اس کی انگلش اور ریاضی میں سپلی آ گئی تھی۔اب کچھ دنوں میں سپلیمنٹری کے امتحانات کے داخلے جا رہے تھے، وہ اسی میں اپنی سپلی کلیئر کرنا چاہ رہی تھی اور تیاری کے لیے اسے ٹیوشن کی ضرورت تھی۔ اکیڈمیاں ہمارے محلے سے خاصے فاصلے پر تھیں اور لڑکی کی ماں اسے اکیلا بھیجنا نہیں چاہ رہی تھی۔ اس نے اُن آنٹی سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ جہاں ان کا بیٹا جاتا ہے وہیں یہ چلی جایا کرے۔ یہیں محلے میں لڑکا ہے جو بہت اچھا پڑھاتا ہے اور اس طرح وہ آنٹی اس لڑکی کے ساتھ اب میرے سامنے موجود تھیں۔ آنٹی نے پہلے صرف لڑکی کی تیاری کے سلسلے میں اسے پڑھانے کے لیے ہی بات کی تھی اور میں نے اپنی طبیعت پر جبر کرتے ہوئے نرم لفظوں میں صاف انکار کر دیا تھا حالانکہ یہ میرا خاصہ نہیں تھا۔لیکن میں چاہتا تھا کہ اگر اس نے سپلی کی تیاری کرنی ہے تو اسے کسی اچھی جگہ سے تیاری کرنی چاہیے نہ کہ مجھ سے، کیوں کہ مجھے خود اپنے اوپر اعتماد نہیں تھا تو میں اسے کس طرح مطمئن کرتا! اس لیے میں نے کہہ دیا کہ میں صحیح طرح نہیں تیاری کروا سکوں گا آپ کسی اوراچھی جگہ داخل کروائیں۔ تب اس لڑکی نے زبان کھولی۔ سر میں ... میں ایک ادارے میں کام کرنے بھی جاتی ہوں اور کسی اکیڈمی میں داخلہ لینا میرے لیے ممکن نہیں ہے اس لیےپلیز... اصل میں میرے بھائی کی کچھ عرصہ پہلے ڈیتھ ہو گئی ہے ورنہ وہ مجھے لے جایا کرتا اور لے آتا لیکن .... آپ جانتے ہیں کہ... رات کے وقت واپس آنا مشکل ہو جائے گا... میں تو آنا بھی نہیں چاہ رہی تھی لیکن آنٹی نے بڑی امید دلائی کہ ... آپ مدد کر دیں گے۔ ... اسلیے۔۔۔۔۔ اور میں اس کی آواز میں کھو گیا تھا۔ بہت خوبصورت آواز تھی اس کی۔ اور نقاب سے جھانکتی گہری گہری آنکھیں، جن میں بھائی کا ذکر کرتے ہوئے نمی اتر آنے سے مزید کشش در آئی تھی۔میں نے اس کے بھائی کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا اور پھر بالآخر تیاری کروانے کی حامی بھر لی۔ آنٹی سے فیس کا پوچھا تو میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ جو مرضی دے دیجیے گا۔ اِس پر وہ بولی کہ وہ آپ کو توقع سے زیادہ ہی دیں گے۔ بس آپ تیاری کروا دیجیے۔ اس طرح وہ اگلے دن کا کہہ کر گھر چلی گئی۔ میں نے باقی بچوں کو پڑھایا اور پھررات کو اس کے بارے میں سوچنے لگا۔ عائشہ کی وجہ سے میرے اندر ایسی سوچیں پیدا ہونے لگی تھیں ورنہ میں نے پہلے ایسا کبھی نہیں سوچا تھا۔ عائشہ بھی دو سال پہلے میرے پاس پڑھنے آئی تھی اور بعد میں اس نے موبائل پر رابطہ کر کے آہستہ آہستہ سٹوڈنٹ سے زیادہ ایک محبوب دوست کی جگہ بنا لی تھی بلکہ دوست سے بھی کچھ زیادہ ہی۔ یہ ایک الگ داستان ہے جو فرصت ملی تو پیش کروں گا۔ میری آنکھوں کے سامنے اس لڑکی کا چہرہ آ رہا تھا جو نقاب میں چھپا ہوا تھا اور اس کی جاذبِ نظر آنکھیں جھانک رہی تھیں۔ میں نے ایک لمحے کو سوچا...اس نقاب کی کیا ضرورت تھی، کچھ دن تک تو اسے یہ مسئلہ لگنے لگے گا کہ اس نے نقاب کیوں کیا، بنا نقاب کے جانا ہی ٹھیک تھا۔۔۔ اس سوچ کی وجہ یہ تھی کہ میں کافی خوبصورت تھا اور خوش اخلاق بھی اور مجھے پتا تھا کہ وہ لڑکی بھی جلد ہی مجھے چاہنے لگے گی۔ ویسے یہ میرے پچھلے تجربات کی وجہ سے میرا خیال ہی تھا ورنہ اس کے برعکس بھی ہو سکتا تھا۔ آخر سب لڑکیاں ایک جیسی تو نہیں ہوتیں۔ اگلے دن صبح صبح وہ آ گئی۔ یہ ساڑھے چھے بجے کا وقت تھا۔ سب صحن ہی میں سو رہے تھے اور اسے اندر کمرے میں لے جاتے ہوئے مجھے عجیب سی شرمندگی محسوس ہوئی کیوں کہ آڑے ترچھے لیٹے ہوئے بھائیوں کا نقشہ عجیب سا لگ رہا تھا۔بہر حال میں نے اس سے تعارف لیا۔ اس نے اپنا نام حنا بتایا۔ پھر میں نے اس سے کتاب لے لی اور ورق گردانی کرتے ہوئے اسے بتانے لگا کہ ابتدا سے ہی شروع کرتے ہیں۔ لیکن اس نے کہا کہ دائرے والا باب اس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا، اگر وہاں سے شروع کیا جائے تو زیادہ اچھا ہے۔ میری چھوٹی بہن بھی پاس آ کر بیٹھ گئی اور وہ بھی باتیں سنتی رہی۔آنے والے دنوں میں وہ اس کی بہت اچھی دوست بن گئی تھی۔وہ اتنی صبح اس لیے آتی تھی کہ اسے بعد میں آفس جانا ہوتا تھا جہاں وہ کمپیوٹر آپریٹر تھی۔اس نے کوئی چھوٹا سا کورس کیا ہوا تھا اس لیے یہ جاب کر رہی تھی۔ کچھ دن وہ اسی طرح صبح کے وقت آتی رہی، ساتھ ہی اس کی امی بھی آکر بیٹھ جاتی اور اسے اپنے ساتھ ہی لے جاتی۔ میں بڑا حیران تھا کہ آخر ان کے آنے کی کیا ضرورت ہے۔ بعد میں پتا چلا کہ وہ واپسی کے راہ میں اس کی حفاظت کے لیے آتی ہیں۔ ہمارے ملک میں اکثریت ابھی بھی ایسی ہی ہے کہ لڑکیوں کو لڈو پیڑا سمجھتی ہے اور گھر سے نکالتے ہوئے ڈرتی ہے کہ کوئی لڑکا لے جا کر اس کے ساتھ زیادتی ہی نہ کر دے۔ کچھ اسی طرح کی دقیانوسی قسم کی ماں حنا کی بھی تھی۔یہ رمضان کا مہینہ تھا اور کچھ ہی دن بعد عید آ گئی۔ تب تک حنا کافی فرینک ہو چکی تھی۔ اس نے داخلہ بھی بھیج دیا تھا۔ اور اب زور شور سے تیاری جاری تھی۔ پھر عید پر میں ہی ان کے گھر سوّیاں بھی دے کر آیا۔ اس نے موبائل نمبر بھی لے لیا تھا اور اس پر بھی میسج کرنے لگ پڑی تھی۔ اسے جب پتا چلا کہ میں گھر آیا تھا اور امی کو پتا نہیں چل سکا تو وہ بڑی ناراض ہوئی امی پر اور مجھ سے سوری کیا کہ مجھے بٹھایا نہیں۔ میں نے کہا کہ اسکی کوئی ضرورت نہیں مجھے برا تو بالکل بھی نہیں لگا۔ میں بیٹھنے کی غرض سے آیا بھی نہیں تھا۔ آہستہ آہستہ میسجنگ زیادہ ہوتی چلی گئی۔ ایک دن اس نے مجھ سے پڑھنے کے بعد پوچھا کہ سر آپ سے ایک بات کہنا تھی اگر آپ کو برا نہ لگے۔ میں نے کہا کہ بلا جھجک کہو۔ وہ بولی کہ میرا یہاں آنا مشکل ہے۔ امی باربار بولتی ہیں کہ مجھ سے نہیں جایا جاتا تمھارے ساتھ۔ اس لیے اگر آپ.... میرے گھر آکر....پڑھا دیا کریں تو.....سر میں یہ نہیں کہنا چاہ رہی تھی لیکن .... میں بہت مشکل میں ہوں... اور یہ کہتے ہوئے اس نے سر جھکا لیا۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں، میں فوراً راضی ہو گیا۔ میں نے اس کی ڈھارس بندھائی اور کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں میں آجایا کروں گا۔ وہ اس بات پر اتنا خوش ہوئی کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ بعد میں گھر جا کر میسج پر بھی میرا بہت بہت شکریہ ادا کیا اور بار بار پوچھتی بھی رہی کہ آپ کے لیے مشکل تو نہیں ہو گا نا۔۔۔ میں نے کہا کہ بالکل بھی نہیں۔ بل کہ میں خود بھی یہی چاہ رہا تھا اور اس بات کو محسوس بھی کر رہا تھا۔ اگلے دن سے میں نے ان کے ہاں جانا شروع کر دیا۔ اس نے مجھے بیٹھک میں بٹھایا اور گھر میں کھلنے والے دروازے پر پردہ ڈال دیا۔ بیٹھک کا ایک دروازہ باہرگلی میں کھلتا تھا جہاں سے میں اندر چلا جاتا تھا۔مجھے یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ اس کی امی اور بہن پردہ نہیں کرتی تھی لیکن وہ نقاب کیا کرتی تھی۔ اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ میرا اپنا دل نقاب کرنے کو مانتا ہے اس لیے کیا کرتی ہوں۔بہر حال انھی دنوں اس کی بہن کی شادی آگئی۔ اس نے مجھے بھی دعوت دے دی۔ چناں چہ جس دن بارات آئی اس دن بھی میں ان کے ہاں گیا۔ پینٹ شرٹ اور واسکٹ میں مَیں بہت خوب صورت لگ رہا تھا اس نے میسج پر تعریف کی۔ ایک بات اور کہ ان کے والد صاحب بزرگ آدمی تھے اس لیے گھر سے باہر کی اشیا لانے والا ان کے سوا اور کوئی نہیں تھا۔ اور موٹر سائیکل انھیں ویسے ہی نہیں چلانی آتی تھی اسلیے جو اشیا دور کی مارکیٹ سے لانا ہوتیں وہ مشکل میں پڑ جاتے۔ میرے ساتھ رابطے کی وجہ سے انھیں یہ فائدہ بھی ہو گیا کہ وہ مجھے گھر کے ایسے کام بھی کہنے لگ پڑے جو مارکیٹ سے متعلق ہوتے۔ لیکن حنا کو برا لگتا تھا اور وہ معذرت بھی کرتی تھی کہ میں یہ اچھا نہیں کر رہی ، آپ میرے سر ہیں اور میں آپ سے گھر کے کام بھی لے لیتی ہوں۔ میں بات کو ہنسی میں ٹال دیتا کہ ایسی کوئی بات نہیں، میرا تو یوں بھی چکر لگتا ہی رہتا ہے پھر تمھارے لیے میں نے خاص طور پر تو جانا نہیں ہوتا۔ جب چکر لگتا ہے تبھی تمھارا کام بھی کر دیتا ہوں۔ لیکن وہ اس پر بھی راضی نہیں تھی۔ دوسرے دن ولیمے پر بھی ہم شادی ہال گئے۔ وہاں اس نے نقاب اتارا ہوا تھااور اسے ڈر تھا کہ میری اس پر نظر نہ پڑ جائے لیکن میں نے بھی قصداً دیکھنے سے گریز کیا تا کہ اس کا مجھ پر اعتماد بحال رہے۔ شادی ہال گھر سے کچھ قریب ہی تھا اس لیے پیدل ہی جا پہنچے۔ میں اس دن گلابی سوٹ میں تھا اور وہ واپسی پر پیدل گھر آتے ہوئے بار بار اپنی پُر کشش آنکھوں سے میری طرف دیکھتی رہی تھی۔ پھر میسج پراس نے مجھے ’’پِنکُو‘‘ کہہ کر بلایا۔ میں نے کہا۔ یہ کیا کہا ہے مجھے؟ تو اس نے استفسار کیا کہ آپ کو برا لگا کیا؟ میں بولا نہیں برا تو نہیں لگا مگر ایسے کیوں کہا۔ اس نے کہاکہ آپ گلابی سوٹ میں تھے نا ں تو میری بہن نے بھی آپ کو دیکھا تھا اور وہ کہہ رہی تھی کہ تمھارے سر کیسے لگ رہے ہیں دیکھو۔۔۔ پِنکُو ۔۔۔ اور پھر ہنس پڑی اس کے ساتھ ہی حنا بھی ہنسنے لگی۔ میں یہ بات سن کر مسکرا دیا۔ اس کی آنکھوں نے بتا دیا تھا کہ وہ بھی شکار ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ کچھ یہ بھی تھی کہ پچھلے دن اس نے مجھے کیمرے میں فلم ڈلوانے کے لیے بھیجا تھا اور جب میں واپس دینے گیا تو ان کے گھر آئے مہمانوں میں اس کے ایک انکل نے کیمرا مجھ سے لیا اور اسے چلانے کا طریقہ بھی سمجھتے رہے۔ بعد میں حنا نے مجھے میسج پر بتایا کہ وہ اُس سے پوچھ رہے تھے کہ یہ لڑکا کون ہے؟ اس نے جب بتایا کہ میں اُسے ٹیوٹ کرتا ہوں تو وہ معنی خیز نظروں سے دیکھنے لگے اور بولے۔۔۔ ہممم ۔۔ ماسٹر جی ہیں ں ں ں۔۔۔۔۔ واہ بھئی مساسٹر تو بہت خوب صورت ڈھونڈا ہے تم نے۔۔۔ اور میں اس بات پر ہنس پڑا۔ وہ بھی ہنسنے لگی۔ آہستہ آہستہ وہ میری طرف مائل ہوتی چلی گئی۔ میں میسج پر اسے’’سونے‘‘ لکھ کر بھی مخاطب کر لیتا تھا۔ کوئی ایک آدھ میسج اس کی بہن نے بھی پڑھ لیا اور اسے چھیڑنے لگی کہ یہ کیا چکر ہے جی۔۔۔ جس پر اس نے کہا کہ میں نے بات ٹال دی کہ سر اسی طرح بلاتے ہیں مجھے۔ مگر مجھے معلوم ہو چکا تھا کہ وہ مجھ میں دلچسپی لینے لگی ہے۔ میں اگرچہ کسی اور میں انٹرسٹڈ تھا لیکن حنا کو بھی روک نہیں سکتا تھا ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ میری فطرت تھی۔ میں ہر اس لڑکی کو ویلکم کہتا تھا جو میری طرف خود آتی تھی، مجھے کسی کو بھی انکار نہیں کیا جاتا تھا۔ اس سے آگے وہ جس حد تک جانا چاہے یہ اس کی اپنی مرضی پر منحصر ہوتا تھا۔ یہی بات حنا کے ساتھ بھی ہو رہی تھی اور وہ جہاں تک جانے والی تھی مجھے اس کا اندازہ نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔ دن گزرتے گئے۔ میرا روزانہ صبح کے وقت جا کر اسے پڑھانا معمول بن گیا۔ ایک دن میں جب اس کے گھر پہنچا تو وہ پہلے سے بیٹھی ہوئی تھی۔ باہر کا دروازہ اس نے کھول دیا تھا۔ اکثر وہ دروازنہ کھول کر پردہ ڈال دیا کرتی تھی۔ کیوں کہ اس وقت مَیں نے ہی آنا ہوتا تھا، اور شاید اسے یہ تھا کہ مجھے دستک دے کر انتظار کی کوفت بھی نہ کرنی پڑے۔ میں اندر داخل ہوا تو دیکھا کہ محترمہ بیٹھے بیٹھے سو گئی ہیں۔ میں بھی اس کے قریب والے سنگل صوفے پر بیٹھ گیا۔ اسے جگانا مناسب نہیں سمجھا اور سوچا خود ہی آنکھ کھل جائے گی۔ اس دوران میں اس کے چہرے کو دیکھنے لگا جس پر نقاب چڑھا ہوا تھا۔ صبح سورج نکلنے سے پہلے کا وقت۔۔۔ اور پنکھے کی ہلکی ہلکی آواز۔۔۔ ایسے میں بالکل تنہائی۔۔ اور سامنے ایک جوان لڑکی، یوں بے خبر پڑی سو رہی ہو، تو کون نہیں بہکے گا۔ میری نظریں غیر ارادی طور پر اس کے چہرے سے ہوتی ہوئیں اس کے سینے تک چلی گئیں۔ اگرچہ اس نے چادر سے اپنے آپ کو اچھی طرح ڈھانپا ہوا تھا، لیکن پھر بھی میں اس کے ابھاروں کو تلاش کرنے لگا۔ چادر کے نیچے ہلکا ہلکا ابھار بتا رہا تھا کہ سینہ کافی بھرا بھرا ہے، اور ابھار بالکل چھوٹے سے نہیں ہیں۔۔۔ اُف۔۔۔۔ میں نے اپنی شلوار میں کسی جگہ پر تناؤپیدا ہوتا ہوا محسوس کیا۔ پھر میری نظریں اور نیچے چلی گئیں اور اس کے کولہوں اور ٹانگوں کا جائزہ لینے لگیں۔ وہ بڑی محنتی لڑکی تھی اور اس کا جسم اس بات کی بھرپور عکاسی کر رہا تھا۔ خوبصورت سانچے میں ڈھلا ہوا جسم۔۔۔ کچھ دیر بے خودی میں تکتے رہنے کے بعد میں نے خود کو ملامت کی، کہ کیا کر رہا ہوں مَیں! اور ہلکا سا ہنکارا بھرا۔۔۔ وہ دھیرے سے کسمسائی اور پھر اس کی آنکھ کھلی۔ چند لمحوں میں اسے احساس ہو گیا کہ وہ کہاں ہے۔ پھر اس نے نظریں گھمائیں تو مجھے موجود پا کر وہ جلدی سی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی اور مجھ سے معذرت کی کہ اس کی آنکھ لگ گئی تھی۔ میں نے مسکرا کر کہا کہ کوئی بات نہیں۔ ایسا ہو جاتا ہے۔ میسجز پر بعض اوقات معنی خیز باتیں بھی ہو جاتیں۔ جن پر وہ غصہ نہیں ہوتی تھی بل کہ بات کو ٹالنے کی کوشش کرتی یا خاموش ہو جاتی۔ پھر اس نے ڈھکے چھپے الفاظ میں اس بات کا اظہار بھی شروع کر دیا کہ وہ مجھ سے پیار کرتی ہے۔ ایک دن میں جلد سو گیا تو صبح اٹھنے پر اس کا میسج پڑھا جو کچھ یوں تھا: ‘‘آپ نے کہیں میرے سر کو دیکھا ہے؟ اگر دیکھا ہے تو انھیں کہنا کہ ان کا بچہ ان سے بہت پیار کرتا ہے اور ان کو یاد کر رہا تھا۔’’ میں مسکرا دیا۔ پھر اس نے مجھے ‘‘آئی لو یُو سر’’ کہنا بھی شروع کر دیا۔ میں پہلی دفعہ تھوڑا حیران ہوا۔ پھر مجھے پتا چل گیا کہ وہ ایسے ہی کہہ رہی ہے جیسے کوئی بچہ اپنے والدین کو کہہ دیتا ہے۔ لیکن اس کے پیچھے جو جذبہ چھپا ہوا تھا اسے میں بہ خوبی سمجھ رہا تھا۔ میں بھی جواب میں ‘‘می ٹو’’ کہتا رہا۔ پھر اس نے ایک دن یہ کہا کہ اگر آپ رات کو فون پر بھی مجھے تھوڑا پڑھا دیا کریں۔ مجھ سے سبق سن لیا کریں؟ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ چناں چہ ہماری کال پر بھی بات ہونے لگی۔ دو تین دن تو یہ سلسلہ انگلش کا سبق سننے تک رہا لیکن بعد میں باتوں کا رخ بدلنے لگا اور ادھر اُدھر کی باتیں ہماری پڑھائی کا حصہ بنتی چلی گئیں۔ پہلے تو صرف گھر بار اور خاندان کی باتیں ہی رہیں۔ اور بعد میں آہستہ آہستہ ہمارے تعلق کے بارے میں بات چیت شروع ہوگئی۔ آخر اس نے ایک دن مجھ سے کھلے لفظوں میں کہہ ہی دیا۔ میں چھٹیاں ہونے کی وجہ سے گھر ہی ہوتا تھا جب ایک دن اس نے مجھے اُسی طرح I love You کہا۔ میں نے بھی Me too کا جواب دیا۔ لیکن اس نے کہا کہ میں سچ والا پیار کرنے لگی ہوں آپ سے۔ میں نے اسے کہا کہ سونے پیار پیار ہی ہوتا ہے۔ وہ جھوٹا نہیں ہوتا۔ اس نے کہا: ہاں میں جانتی ہوں لیکن مجھے آپ سے وہ والا پیار ہے جو کوئی لڑکی کسی لڑکے کے لیے اپنے دل میں رکھتی ہے۔ اب میری منزل تو مل گئی مجھے لیکن میں اسے یہ بتا دینا چاہ رہا تھا کہ وہ مجھ سے شادی والی کوئی امید نہ رکھے۔ اس کے لیے میں نے باتیں بنانا شروع کیں اور کہا کہ ٹھیک ہے تمھیں مجھ سے پیار ہے تو۔ مجھے بھی تم سے پیار ہے حنا۔ لیکن ضروری نہیں ہے کہ جس سے پیار ہو اس کے ساتھ زندگی بھر کا ساتھ بھی ممکن ہو سکے۔ اس لیے تم بے شک میرے لیے اپنے دل میں پیار رکھو، لیکن یہ کبھی نہ سوچنا کہ ہم مل بھی پائیں گے۔ ساتھ ہی میں نے اسے بتا بھی دیا کہ میں اس حوالے سے کسی اور کو بھی پسند کرتا ہوں۔ اس نے سن کر کچھ دیر کی خاموشی اختیار کر لی۔ ایک آدھ دن میں وہ پھر سے بات کرنے لگی۔ آیندہ دنوں میں مَیں نے اسے اپنے فلسفے کے ذریعے اس بات پر اطمینان دلایا کہ ایک سے زیادہ لوگوں سے پیار ہونے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ زندگی میں ہمیں ایک ہی بار نہیں، بل کہ بار بار پیار ہوتا ہے، اور ہر شخص کے لیے دل میں ایک الگ جگہ ہوتی ہے، جیسے ماں باپ، بہن بھائیوں کے لیے اور دوستوں کے لیے ایک الگ جگہ ہوتی ہے، اسی طرح جس سے ازدواجی تعلق قائم کرنے کے لیے پیار ہوتا ہے، ان سب میں سے بھی ہر کسی کے ساتھ الگ الگ محبت ہوتی ہے۔ ہر کسی کا اپنا مقام ہوتا ہے دل میں۔ اسی طرح حنا کا مقام بھی اسی طرح ہے میرے دل میں جیسے میرے پہلے پیار کا۔ دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ کچھ حد تک مطمئن ہو گئی۔ لیکن اس نے یہ کہا کہ مَیں بہر حال اس کے لیے پہلا پیار ہی ہوں۔ اور وہ چاہتی ہے کہ ہم ایک بھی ہو جائیں۔ رات کو اکثر جب شہوانی جذبے مجھ پر غالب آتے تو میں میسجز میں اسے کہہ دیتا کہ اسے مِس کر رہا ہوں۔ لیکن ابھی زیادہ آگے تک بات نہیں بڑھی تھی کہ میں کھل کر اس کا اظہار بھی کرتا کہ کس طرح کا مِس کر رہا ہوں۔ البتہ یہ ضرور تھا کہ ہماری فرینکنس کافی ہو چکی تھی۔ اور وہ اب یہ بھی کرتی کہ جب میں پڑھانے کے بعد اس کے گھر سے نکلنے لگتا تو وہ پھر سے آواز دیتی۔ میں مڑ کر دیکھتا تو مسکرا رہی ہوتی اور کہتی، کچھ نہیں۔ یوں دروازے تک پہنچنےسے پہلے پہلے وہ دو سے تین بار ضرور کرتی۔ میں نے دو تین دن بعد اس کا مقصد پوچھا تو کہنے لگی کہ بس آپ کو دیکھنے کا دل کرتا ہے تو کہہ دیتی ہوں۔ میں نے مسکرا کر کہا کہ وہ تو مجھے تم پڑھائی کے دوران بھی دیکھتی ہی رہتی ہو۔ تو کہنے لگی کہ پھر بھی میرا دل چاہتا ہے کہ میں آپ کو دیکھتی ہی رہوں۔ میں مسکرا دیا۔ بچی بری طرح پھنستی جا رہی تھی۔ امتحانات کے دن ہمارے ملک میں ہمیشہ سردیوں میں ہی آتے ہیں۔ اس کے گھر جاتے ہوئے مجھے کوئی ڈیڑھ مہینا ہو چکا تھا۔ اس دوران میں اس کی امی اور ابو سے بھی بہت اچھی سلام دعا ہو گئی تھی۔ پھر انھوں نے بیٹھک تک محدود رکھنے کا تکلف بھی ختم کر دیا۔ اس کی بہنوں کی شادی ہو چکی تھی اور آخری جو رہتی تھی، اس کی بھی شادی ہو جانے کے بعد اب گھر میں وہ کل تین افراد بھی تھے۔ چناں چہ کوئی ایسا بندہ نہیں تھا جس سے مجھے پردہ کرانے کے لیے بیٹھک تک رکھا جاتا۔ اس لیے اب میں اندر بھی چلا جاتا۔ بلکہ پھر یوں ہوا کہ اس کے امی ابو نے اپنے کام کے لیے بیٹھک منتخب کر لی اور اب حنا کی پڑھائی کے لیے مجھے اندر کے کمرے میں ہی اس کے ساتھ اکیلے رہنا ہوتا تھا۔ اس کے امی ابو مصنوعی زیورات بنانے کا کام کرتے تھے۔ اگرچہ ابو فیکٹری میں بھی جاتے تھے۔ مگر گھر میں آ کر اُس کی امی کے ساتھ اس میں بھی ہاتھ بٹاتے تھے۔ یہ کام وہ شروع سے کر رہے تھے۔ اس لیے اسے چھوڑا نہیں تھا۔ اس کی امی ہی مال کی ڈلیوری کے لیے مارکیٹ جایا کرتی تھیں۔ سردیاں ہونے کی وجہ سے رضائیوں کا سیزن شروع ہو گیا تھا۔ چناں چہ جب میں جاتا، حنا مجھے رضائی اوپر کر لینے کا کہہ دیتی۔ فرش پر ہی بستر بچھایا ہوا تھا کمرے میں۔ اس لیے وہ بھی وہیں بیٹھی ہوتی، اور مجھے بھی اُسی رضائی میں بیٹھ جانے کا کہتی۔ شروع شروع میں مجھے جھجک ہوئی۔ پھر عادت ہو گئی۔ پہلے پہلے تو میں کچھ فاصلے پر بھی بیٹھا کرتا تھا۔ لیکن ریاضی سمجھانے کے لیے اس کے قریب ہونا پڑتا تھا۔ سامنے بیٹھ کر یہ مسئلہ حل ہو جایا کرتا۔ مگر اس نے سامنے بیٹھنےمیں بھی چھیڑ چھاڑ شروع کر دی۔ کچھ میرا بھی دل چاہ رہا ہوتا تھا، اس لیے چوکڑی کے انداز میں بیٹھنے کے باوجود میں ایک پاؤں ذرا آگے کر دیا کرتا۔ اور وہ بھی اپنے پاؤں سے مجھے چھونے لگتی۔ پھر اس نے ایک دن میرا پاؤں اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔ میں نے چونک کر اسے دیکھا۔ اور مسکراتے ہوئے پوچھا: کیا کر رہی ہو؟ کہنے لگی۔ کتنے ٹھنڈے ہو رہے ہیں آپ کے پاؤں۔ اور اپنے ہاتھوں میں لے کر سہلانے لگی۔ ہلکا ہلکا دبا بھی لیتی۔ تنہائی کی وجہ سے مجھ میں ہیجان بھرنے لگتا اس کی اِس حرکت سے۔ مگر میں بمشکل ضبط کیے رہتا۔ کیوں کہ میں حتی المقدور کوئی پیش رفت نہیں چاہ رہا تھا۔ اس سے میرا رشتہ ہی کچھ ایسا تھا۔ پھر ایک دن اس کے ابو کی امی یعنی اس کی دادی ان کے گھر رہنے کے لیے آ گئیں۔ اب وہ اسی کمرے میں پڑے پلنگ پر ہوتیں اور ہم نیچے بیٹھے ان کے سامنے پڑھائی کا کام جاری رکھتے۔ مجھے ان کے آنے سے اندرونی طور پر کوفت ہوئی۔ کیوں کہ یہ کباب میں ہڈی والا ہی معاملہ تھا۔ ویسے میں حنا کی امی اور ابو کے رویے پر کافی حیران تھا کہ وہ ہمیں ایک کمرے میں اکیلا چھوڑ کر آرام سے بیٹھے رہتے ہیں۔ کیا انھیں یہ ڈر نہیں کہ دونوں جوان ہیں۔ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ اس کی امی کا دو گھنٹوں میں شاید ہی کبھی ایک یا دو بار چکر لگتا تھا کمرے میں۔ ورنہ کبھی تو آتی ہی نہیں تھیں۔ حنا نے بتایا کہ دادی کو اونچا سنائی دیتا ہے۔ اس لیے کم از کم یہ تسلی تھی کہ ہم اگر سرگوشی میں کوئی معمول سے ہٹ کر بات بھی کرتے تو ان کو نہیں سن سکتا تھا۔ کچھ ہی دنوں میں اس نے میرے سامنے بیٹھنے کے بجاے ساتھ بیٹھنا شروع کر دیا۔ اس دوران وہ رضائی کے اندر میرا ہاتھ پکڑ لیتی اور دیر تک پکڑے رہتی۔ پھر ایک دن جب میں گھر واپس آنے لگا تو اس نے معمول کے مطابق مجھے آواز دی۔ میں مسکرا کر مڑا تو اس نے آگے بڑھ کر مجھے گلے لگا لیا۔ مجھے ایک زور کا جھٹکا لگا۔ اس نے مجھے زور سے اپنے بازوؤں میں گھونٹا۔ اور اس سے پہلے کے میں اپنے ہاتھ اس کی کمر تک لا کر اسے بھی اپنے ساتھ دباتا، اس نے چھوڑ دیا اور کہا مسکرا کر کہا: اب جائیں۔ میں حیرانی کے عالم میں مسکراتا ہوا الوداع کہہ کر اپنے گھر آ گیا۔ کچھ دیر بعد میسجز پر بات شروع ہوئی تو میں نے کہا کہ میں ابھی تک شاک میں ہوں۔تم نے کیسے کر لیا ؟ وہ کہنے لگی۔ بس دل کیا تو کر لیا۔ میں بولا: خیر جو بھی تھا، بہت اچھا تھا۔ پھر کال پر بھی کچھ دیر بات ہوتی رہی۔ اگلے دن بھی اس نے گلے لگایا، اس بار میں نے بھی بھرپور انداز سے بازوؤں میں لیا۔ اور اس کے گال پر ایک کِس بھی کر دی۔ پھر دو تین دنوں میں یہ کِس ہونٹوں تک آ پہنچی۔
 میسجز اور کال پر بات کرتے ہوئے اب ہم بہت رومانٹک ہونے لگے تھے۔ پھر ایک دوسرے کے قریب آنے کی تمنا کا اظہار بھی ہو گیا۔ اور ایک دن جب اس کے امی ابو بازار گئے ہوئے تھے، اس نے مجھے میسج کر کے بتایا اور میں اس کے گھر پہنچ گیا۔ اس نے منہدی رنگ کا فراک پہنا ہوا تھا جس پر چھوٹے چھوٹے موتی لگے ہوئے تھے۔ بیٹھک کے راستے میں اندر آیا اور اس نے دروازاہ بند کرتے ہی میری طرف منہ کر کے بانہیں کھول دیں۔ میں نے اسے گلے لگایا تو اس نے مجھے بہت زور سے ہگ کیا۔ بیٹھک کی لائٹ آف تھی۔ صرف اندر کی طرف کھلے ہوئے دروازے سے ہی بہت ہلکی روشنی آ رہی تھی۔ جس سے نیم تاریکی پیدا ہو جانے سے ماحول بہت رومانٹک ہو گیا تھا۔ بالکل خاموشی تھی گھر میں۔ اور اس میں ہماری سانسوں کی آواز ہی اس وقت ایک دوسرے کو سنائی دے رہی تھی۔ وہ سانولی رنگت کی لڑکی تھی۔ اس نے دو ماہ بعد میرے سامنے نقاب اتار دیا تھا۔ کیوں کہ اب یہ ضروری نہیں رہا تھا۔ پھر وہ اپنے گھر والوں کے سامنے بھی میرےسامنے کھلے منہ آنے لگ پڑی تھی۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ بہت خوبصورت تھی۔ قبول صورت بہر حال تھی ہی۔ لیکن اس کا جسم بہت سمارٹ تھا۔ پرفیکٹ جسم۔ ابھی اٹھارہ سال عمر ہوئی تھی اس کی۔ اور اس عمر میں کوئی بھی لڑکی اپنی خوبصورتی کے سب سے سنہرے دور سے گزر رہی ہوتی ہے، اگر وہ زیادہ موٹی نہ ہو۔ اور حنا چوں کہ بہت محنتی لڑکی تھی اس لیے اس کا جسم مسلسل کام کرتے رہنے کی وجہ سے انتہائی مناسب سانچے میں ڈھلا ہوا تھا۔ میں نے اسے گلے لگا کر اس کی گردن پر ہونٹ رکھ دیے اور آہستہ آہستہ چومنا شروع کیا۔ اس کا نیم گرم جسم میری پیاس بھڑکا رہا تھا۔ اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے۔۔۔ اور اپنے ساتھ گھونٹتے ہوئے میں اسے چومتا ہوا اس کے چہرے تک آ گیا اور اس کے گالوں کو چومنے لگا۔ پھر اس کے کانوں کی لو پر زبان لگائی۔ وہ مست ہوتی جا رہی تھی۔ اس نے خود کو بالکل ڈھیلا چھوڑ دیا تھا۔ میں نے اس کی آنکھیں چومیں، اس کی پیشانی اور بھویں چومیں۔ پھر ناک سے ہوتا ہوا اس کے ہونٹوں پر آ گیا۔ پہلی بار کسی لڑکی کو میں اتنے اطمینان سے کِس کرنے جا رہا تھا۔ ہونٹ چومتے ہوئے میں نے اس کے ہونٹ ہونٹوں میں بھرنا شروع کیے اور پھر فرنچ کِس سٹارٹ ہو گئی۔ دیر تک ہماری سانسوں کے سِوا کوئی آواز نہیں تھی جو ہمیں سنائی دیتی۔ یوں کھڑے کھڑے رومانس کرنا کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ اس لیے میں نے اس کے ہونٹوں پر سے ہونٹ ہٹائے۔ اس نے کچھ محسوس کرتے ہوئے اپنے فراک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا کہ اگر یہ تنگ کر رہا ہے تو اتار دُوں؟ میں اس کے اس سوال پر حیران ہو گیا۔ اگر چہ وہ فراک مجھے کچھ نہیں کہہ رہا تھا، مگر ایک دم میرے ذہن میں خیال آیا کہ شاید وہ خود لباس اتارنا چاہ رہی ہے، اس لیے میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا دیا۔ اس نے سنجیدہ سے انداز میں اوکے کہا، اور فراک اتارنے لگی۔فراک اتارنے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ فراک جالی دار ہے اور اس کے نیچے اس نے شمیز پہنی ہوئی ہے۔ دل میں جو ہلچل پیدا ہوئی تھی۔۔ اس کے بدن کو ایک دم اپنی آنکھوں کے سامنے برہنہ دیکھنے کی، وہ کچھ مدھم پڑ گئی اور میں یہ دیکھ کر مایوس ہوا کہ فراک اتارنے پر بھی کچھ خاص فرق نہیں پڑا تھا۔ البتہ یہ ضرور تھا، کہ منہدی رنگ کی شمیز میں اس کا خوبصورت جسم مزید دلکش ہو کر سامنے آیا تھا۔ سلِیو لیس شمیز میں اس کی بانہیں بہت خوبصورت لگ رہی تھیں اور شمیز اس کے پیٹ اور چھاتیوں سے بالکل چپکی ہوئی ہونے کی وجہ سے میرے شہوانی جذبے مزید بھڑک اٹھے تھے۔ میں نے پھر سے اُسے بازوؤں میں بھر لیا اور اور اس کے کاندھے پر ہونٹ رکھ دیے۔ وہ تو بے خود ہی ہو گئی۔ اس نے اپنا جسم بالکل ڈھیلا چھوڑ دیا ، گویا خود کو میرے حوالے کر دیا۔ میں کاندھوں سے گردن تک چومتا ہوا اس کے گرم بدن کی سلگتی ہوئی نرم و نازک جلد کو ہونٹوں میں بھرنے لگا اور پھر اس کی گردن کو چوسنا شروع کر دیا۔ پورے ہونٹ کھول کر زبان سے چاٹتا ہوا میں اس کی جلد بار بار مختلف جگہ سے ہونٹوں میں بھرتا رہا۔ اس کی سانسیں واضح طور پر تیز ہوتی ہوئی محسوس ہونے لگیں۔ یوں ہی کرتے ہوئے میں نے اسے بڑے صوفے پر لا بٹھایا۔ اور آرام سے پیچھے کی جانب لٹاتے ہوئے صوفے کے بازو پر اس کا سر ٹکا دیا۔ پھر اس کے چہرے کی جانب ایک پل کے لیے دیکھا تو اُف۔۔۔۔۔ اس کی آنکھیں ادھ کھلی ہوئیں تھیں اور ہونٹ بھی۔۔۔ اور ایسے لگ رہا تھا، جیسے اُسے کسی نے سُن کر دیا ہو۔ وہ بالکل کچھ نہیں کر رہی تھی، اور جیسی اس کی حالت تھی، کرنا بھی نہیں چاہ رہی تھی۔ جیسے اس کے دل میں یہی خواہش تھی، کہ آج سب کچھ تجھے ہی کرنا ہے میرے محبوب۔ یہ بدن تیرے حوالے ہے۔ میں نے اس کے ہونٹوں کو پیار سے چوما اور پھر سے باری باری سب اعضا چومتا چلا گیا۔ ایسا کرتے کرتے اس کے بازو پکڑ کر دبانے لگا اور پھر بازوؤں سے میرے ہاتھ۔۔ دھیرے دھیرے۔۔ اس کے ابھاروں کی طرف سرکنے لگے۔۔۔۔ سرکتے سرکتے۔۔۔ میں چومتا ہوا بھی اس کے گلے سے ہوتا ہوا اس کے سینے کے کھلے حصے تک آ گیا ۔۔۔ اور تبھی۔۔ میں نے اپنے ہاتھ اس کے ابھاروں پر رکھ دیے۔۔۔ اس نے ایک لمبی سانس بھری۔۔۔ اور میں نے تیز ہوتی ہوئی دھڑکنوں میں سیکنڈ کے سوویں حصے میں جان لیا کہ اُسے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔ سو اپنے ہاتھوں میں نرمی سے اُن نرم حصوں کو تھام لیا۔ مگر میرا جوش نرمی تک محدود ہی کہاں رہنے دے رہا تھا مجھے۔۔ دو چار بار ہولے ہولے دبائے اور پھر۔۔۔۔ میں انھیں زور سے دبانے لگا، بھرپور طریقے سے پکڑ کر اپنے ہاتھوں میں بھینچنے لگا۔ بتیس اور چونتیس کے درمیان میں انتہائی مناسب سائز کے ابھار تھے اس کے۔ ۔۔ اور میری جان نکال رہے تھے کہ میں کب انھیں ہونٹوں میں بھر لوں۔۔۔ اس کی شمیز کے اوپر ہی سے میں نے ان پر ہونٹ رکھ دیے اور انھیں چومنے لگا۔ دباتا بھی رہا اور چومتا بھی رہا، پھر انھیں منہ میں بھی بھرا۔ اس سے اس کی شمیز کا وہ والا حصہ گیلا ہو گیا جو ان دودھ کے پیالوں پر چڑھا ہوا تھا۔ نپلوں کے دانے محسوس ہونے لگے تھے مجھے۔۔۔ مستی میں باہر نکل آئے تھے مگر لباس میں دبے ہونے کی وجہ سے ہلکا ہلکا سا ابھار بن گیا تھا شمیز میں سے ان کی جگہ پر۔ ۔۔ اور یہ نظارہ زیادہ پاگل کر رہا تھا مجھے۔۔۔ میں انھیں چوستا ہوا اس کےپیٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا اور اسے کمر سے پکڑ کر سہلانے لگا۔ اتنے میں اُس نے مجھے پکڑا تو میں نے اُس کی طرف دیکھا۔ وہ اٹھنا چاہ رہی تھی۔ میں نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا تو اس نے دھیمے لہجے میں کہا کہ مجھے اوپر آنے دیں۔ میں نے مسکرا کر اسے اٹھنے کو جگہ دی اور خود صوفے پر اس کی جگہ لیٹ گیا۔ وہ میری ٹانگوں کے اوپر بیٹھ گئی اور مجھ پر جھک کر مجھے چومنے لگی۔ میں تو اس احساس سے جیسے مدہوش ہی ہو گیا۔ کچھ ہی دیر میں مجھے احساس ہوا کہ وہ میرے عضو کے بالکل اوپر بیٹھی ہوئی ہے۔ مجھے اس خیال نے اور زیادہ مست کر دیا۔ میرا دل کیا کہ میں اسے اپنے عضو کے کھڑے ہونے کا احساس دلاؤں۔ سو میں نے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا اور بھینچنا شروع کر دیا۔ ساتھ ہی ساتھ میں تھوڑا تھوڑا اس کے جسم کے ساتھ اپنے کولہوں کے حصے کو رگڑنے لگا۔ بدن بدن سے ملا کر دھکے لگانے لگا۔ اب تو اسے واضح طور پر محسوس ہو گیا کہ نیچے بھی کوئی چیز ہے جو بے تاب ہو چکی ہے۔ وہ بھی اپنا بھرپور دباؤ دینے لگی اور مجھے چومتی بھی رہی۔ میرا چوں کہ بالکل پہلا تجربہ تھا کہ کسی لڑکی کی قربت میسر آئی تھی اور وہ بھی اتنی بے باکانہ طریقے سے ساتھ دے رہی تھی، اور کچھ میری مشت زنی کی عادت نے مجھے کمزور کر رکھا تھا، سو اس کے مسلسل دباؤ سے میری حالت بری ہو گئی اور لاکھ چاہنے کے باوجود ، کہ میں نے ابھی نہ چھوٹوں۔۔ خود پر قابو نہیں رکھ پایا۔۔۔ نتیجتہً کچھ ہی دیر بعد مجھے جھٹکنے لگنے لگے اور انزال ہو گیا۔۔۔۔ اسے بھی شاید میری تیز سانسوں اور ماتھے پر آتے پسینے کی وجہ سے احساس ہو گیا تھا ۔ سو وہ نیچے اتر گئی۔ اور اندر چلی گئی۔ پھر میرے لیے پانی لے آئی۔ میں نے پانی پیا تو میرے ساتھ صوفے سے نیچے ہی بیٹھ کر میری گود میں سر رکھ لیا۔ پھر مجھ سے باتیں کرنے لگی۔ میں اس کے سر میں ہاتھ پھیرتا رہا اور جواب دیتا رہا۔ پھر کچھ دیر میں مَیں گھر آ گیا۔ بہت افسوس تھا کہ میں اتنی جلدی کیوں ڈسچارج ہو گیا۔ خود کو کوس رہا تھا کہ اتنا پیارا موقع ہاتھ سے نکل گیا۔ کال پر بات کرتے ہوئے میں نے اس سے معذرت کی کہ اگر گود میں سر رکھے ہوئے اسے کچھ بُو محسوس ہوئی ہو۔ اُس نے مسکرا کر کہا، کوئی بات نہیں۔ مجھے تو پتا بھی نہیں چلا۔ میں نے مزید بات بڑھانا مناسب نہیں سمجھا کہ وہ بھی مطمئن ہوئی یا نہیں۔ اور ظاہری بات ہے اُسے کب قرار آیا ہو گا۔ مگر فطری حیا کے تحت اس نے ذکر نہیں کیا تو الگ بات تھی۔ یوں ہی نامراد سو گیا اُس رات۔ پھر دن گزرتے رہے۔ میرا اُسے پڑھاتے رہنے کا معمول جاری رہا۔ مگر رضائی میں ایک ساتھ بیٹھے رہنے سے ہماری چھیڑ چھاڑ بھی جاری رہی۔ پھر کچھ دنوں کے لیے اس کی دادی اماں پھرسے اپنے گھر واپس چلی گئیں تو ہم اندر والے کمرے میں پھر سے اکیلے ہو گئے اور ہنسی مذاق کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو ٹچ کرنے کا سلسلہ بھی چلتا رہتا۔ کبھی گرم ہونا شروع ہوتے تو ایک دوسرے کو کِس بھی کر لیتے۔۔۔ پھر ایک دن میں جی ایم آئی کمپنی کی ایک کانفرنس میں گیا تو اس دن کوٹ پینٹ میں ملبوس تھا۔ اسی طرح اُسے پڑھانے چلا گیا۔ اُس کی آنکھیں ہی بتانے لگ پڑیں کہ میں کتنا خوبصورت لگ رہا ہوں اور پھر اس نے بہت بہت تعریف بھی کی۔ چناں چہ جب ہم پڑھنے الگ کمرے میں بیٹھ گئے تو کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد میں نے اس سے کہا کہ چلیے پڑھائی شروع کرتے ہیں۔ لیکن اس نے ایک ادائے ناز سے کہا۔۔ اوں ہوں۔۔۔ آج پڑھائی نہیں کرنی۔ بس آج آپ سے باتیں کرنی ہیں۔ میں مسکرا دیا۔ اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ میری سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔ وہ مجھ سے باتیں کر رہی تھی لیکن میرا دل کچھ اور کرنے کو چاہنے لگا تھا۔ میں ہوں ہاں میں اس کو جواب دیتا رہا اور مسکرا کر اس کی جانب دیکھتا بھی رہا۔ کچھ دیر میں اس نے نوٹ کر لیا کہ میں اسے مسلسل دیکھ رہا ہوں۔ تو شرما کر کہنے لگی کہ کیا ہوا؟ میں نے مسکرا کر کہا۔ کچھ نہیں۔ پھر آگے بڑھ کر اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دیے۔ وہ شرمیلی مسکراہٹ کے ساتھ خاموش ہو گئی۔ہونٹ چومتے ہی میرے اندر کھلبلی مچ گئی۔وہ سرھانے کی طرف تھی اور میں ذرا نیچے کی طرف بیٹھا تھا۔ فرش پر ہی بستر بچھا تھا لیکن آج بالکل دروازے کے سامنے تھا۔ دروازہ بند کیا ہوا تھا۔ میں نے غیر محسوس طور سے اپنے کانوں کے ذریعے اندازہ لگایا کہ باہر ہال میں تو نہیں کوئی پھر رہا۔ کوئی نہیں تھا۔ اس کے امی ابو بیٹھک ہی میں اپنے کام میں لگے ہوئے تھے۔ چناں چہ میں رضائی کا کنارہ اٹھا کراُس کی ٹانگیں سیدھی کرتے ہوئے اس کے اوپر آ گیا۔ وہ مسکراتے ہوئے مجھے دیکھ لیتی تھی، زیادہ تر نظریں نیچے ہی کیے رکھتی تھی۔ ایک دفعہ اس نے بھی سنجیدہ انداز میں دروازے کی جانب دیکھ کر تسلی کر لی تھی اور پھر سے اسی رومانوی ماحول میں واپس آ گئی تھی۔ میں نے اسے بازوؤں میں بھرلیا اور کچھ دیر یوں ہی بھرے رکھا۔ پھر اس کے چہرے کو چومتا ہوا اسکے ہونٹ چوسنے لگا۔ ہماری سانسیں بہت تیز ہو چکی تھیں۔ کچھ دیر یوں ہی چومتے رہنے کے بعد میں نے آرام سے اٹھا اور پینٹ کی زپ کھولنے لگا۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ میں نے مسکرا کر اس کی جانب دیکھا تو اس نے نفی میں سر ہلا کر مسکراتے ہوئے آنکھیں جھکا لیں۔ پھر ہلکی آواز میں بولی۔ امی آ جائیں گی اس لیے ۔۔۔ میں بات سمجھ گیا مگر دل کہاں ماننے والا تھا۔ میں دوبارہ زپ کھولنے لگا اور اس کے روکنے کے باوجود زپ کھول کر پھر سے رضائی لے کر اس کے اوپر لیٹ گیا۔ اس نے مجھے بازوؤں میں بھر لیا تھا۔ میرا ایک ہاتھ دھیرے سے نیچے گیا اور میں نےآہستگی سے انڈرویر کے اندر تنا ہوا عضو باہر کھینچا۔

Posted on: 08:05:AM 14-Dec-2020


5 0 216 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 63 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com