Stories


دوستی کا سفر از جواد جواد۔لیسبو سیکس

دن دو بجے کا وقت تھا۔ سڑک پر کافی رش تھا۔ ھلکی پھلکی بارش کی وجہ سے مری ایکسپریس وے پر تھوڑی سی پھسلن بھی تھی، جس کی وجہ سے ڈرائیور گاڑیاں احتیاط سے چلا رہے تھے۔ لیکین بلیک کلر کی ہنڈہ سیویک کار رش میں تیزی سے آگے نکل رہی تھی۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی رُباب کی ساری توجہ اپنی ڈرائیونگ پر تھی اور وہ مہارت سے کار کو مری کی جانب دوڑا رہی تھی۔ 24 سال کی عمر میں رُباب کا جسم کسی سیکسی ماڈل سے کم نہ تھا۔ اُوپر سے اُس نے ٹایٹ ٹی شرٹ اور جینز پہن رکھی تھی۔ ہلکے میک اپ اور کھلے بال، رباب کے حسن کو دوآتشہ کر رہے تھے۔کار میں ہلکی انگلش میوزک چل رہی تھی، لیکین رباب اس سے بے نیاز اپنی ڈرائیونگ انجوائے کر رہی تھی۔ لیکن رباب کے برعکس، اُس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی نائیلہ کی ساری توجہ انگلش دُھن پر تھی۔ اور گانے کی لے کے ساتھ نایلہ آھستہ آھستہ سیٹ پر بیٹھے بیٹھے تھرک رہی تھی۔ ٹایٹ جینز میں اُس کی 23 سالہ جوان کولہے مست جھوم رہے تھے۔ اور اُس کے 36 کے ممے برا نہ ہونے کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی اُچھل رہے تھے اور اُنھیں فُل بازو لیکین کھلے گلے والی شرٹ بھی قابو نہیں کر پا رہی تھی۔ بارش کی وجہ سے باہر کا موسم بہت سہانہ ہو چکا تھا، مری کے سیزن کے دِن تھے اور لوگ ویک اینڈ کے لئے مری کا رُخ کر رہے تھے۔گاڑی کے اندر AC کی وجہ سے موسم اور بھی خشگوار تھا اور کار میں موجود جوان حسیناوں کے بدن سے اُٹھنے والی مسحور کُن خوشبو ماحول کو اور ھوشرُبا بنا رہی تھی۔ لیکین اس سارے ماحول سے بے نیاز نازیہ پیچھلی سیٹ پر اُکھتائی بیٹھی تھی۔ وہ کافی دیر سے اپنے میک اپ کو آخری ٹچز دینے کی کوشش کر رہی تھی مگر رُباب کی تیز درائیونگ اور مری کے پیچدار راستے کی وجہ سے اُسے بڑی مشکل پیش آرہی تھی۔ آخر اُس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور رُباب کے گورے سڈول شانے پر چپت لگاتے ہوے چلائی۔نازیہ:رُباب کی بچی گاڑی تھوڑی سلو چلاو۔ مجھے میک اپ کرنے دو ۔۔۔۔۔۔ نازیہ کی بات سُن کر رُباب نے بیک مرر سے پیچھے بیٹھی نازیہ کو مُسکرا کر دیکھا۔ اور گاری کی سپیڈ تھوڑی سی کم کر دی۔ زُباب کو اس وقت نازیہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ جس نے ٹایٹ پاجامہ کے اوپر پھولدار کاٹن کا کُرتا پہن رکھا تھا اور اُس کے دلکش ممے پہت سیکسی لگ رہے تھے۔ رُباب ھمشہ سے نازیہ کے جسم پر مرتی تھی۔ اگر چہ نازیہ اُن سب میں سب سے چھوٹی تھی مگر 22 سال کی عمر میں بھی اُس کا جسم باقی سب سے بھرا بھرا تھا۔ نازیہ کے بغل میں بیٹھی افشاں، نازیہ کی بات پر مُسکرا رہی تھی، اور جب نازیہ نے رُباب سے گاڑی آھستہ کرنے کو کہا تو افشاں نے اُسے چھیڑتے ہوئے کہاافشاں: تم تو ایسے تیار ہو رہی ہو جیسے مری میں تیری شادی ہونے والی ہے۔ اچھی تو لگ رہی ہو۔ چھوڑو میک اپ کی جان اور ماحول کو انجوائے کرو۔ دیکھو تو باہر کتنا سہانہ موسم ہے۔ اِس ہلکی بارش نے تو مری کی پہاڑیوں کو نکھار دیا ہے۔ چھوڑو اس میک اپ کو اور انجوائے کرو۔افشاں کی بات سُن کر آگے بیٹھی نایلہ نے پیچھے مُڑکر دونوں کی طرف دیکھ کر کہا۔نایلہ: ہایے کاش مجھے کوئی ہینڈسم دولہا مری میں مل جائے میں تو وہیں اُس سے شادی کر کے سہاگ رات منا لوں گی۔نایلہ کی باتھ پر سب لڑکیاں مسکرا دی۔ نازیہ نے بھی اب میک اپ ختم کر دیا تھا۔ اور باقی سہیلیوں کے ساتھ سفر کو انجوائے کر رہی تھی۔نازیہ: اچھا تو پر تمہارے اُس عامر کا کیا ہو گا۔۔ کیا اُسے ڈھمپ کر دو گی۔۔۔نایلہ: ہائے نہیں میری جان۔۔ اب وہ ساتھ نہیں ہے تو کوئی تو چاہیے نا۔۔افشاں: بے فکر رہو، عامر کی کمی میں پُوری کر دوں گی۔۔۔ افشاں کی باتھ پر سب لڑکیاں مُسکرا دیں۔نازیہ: ہائے کاش آج شہزاد ساتھ ہوتا تو کتنا مزہ آ جاتا۔۔رُباب: یار تجھے ہر وقت اپنے بوایے فرینڈ کی پڑی رہتی ہے۔ کبھی ہمیں بھی وقت دیا کرو جان۔ مرہ نہ آیے تو ۔۔ وہ کیا کہتے ہیں۔۔۔ ہاں مزہ نہ آئے تو پیسے واپس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رُباب کی بات پر تینوں لڑکیاں ہنسنے لگی۔۔۔۔نازیہ: اچھا تم ڈرائیونگ پر توجہ دو۔ کہیں گاڑی ٹھونک ہی نہ دو۔۔۔۔۔۔۔ نازیہ کی اواز میں مصنوعی غصے کے ساتھ ساتھ شوخی بھی تھی۔۔۔رُباب:بے فکر رہو میری جان۔ میں گاڑی نہیں صرف تمہیں ٹھوکوں کی۔۔۔۔ رُباب نے بیک مرر میں نازیہ کو دیکتھے ہوے انتہائی لوفرانہ انداز میں کہا۔ رُباب کی بات سُن کر سب لڑکیوں نے قہقہہ لگایا۔نازیہ: چلو مری پہنچنے دو پر دیکھتے ہیں تمہاری ٹھونکنے کو بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نازیہ کی آواز میں واضع شوخی اور دعوت تھی جِسے سب نے محسوس کیا۔رُباب: آہا۔۔۔ لگتا ہے آج میری قسمت کھلنے والی ہے۔ مزہ آ جائے گا قسم سے میری جان۔۔۔۔۔۔۔ رُباب نے پہلے کی طرح لوفروں کے انداز میں چہکتے ہووے کہا۔نازیہ: قسم سے رُباب تم بہت کونی ہو۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے جیسے تیرے اندر کوئی مرد چھُپا بیٹا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ نازیہ کی باتھ سُن کر سب نے زور کا قہقہہ لگایا۔نایلہ: ویسے تیری بات میں وزن ہے۔۔۔۔ آج صبح مُجھے ایسے کس کر رہی تھی جیسے عامر بھی نہیں کر پائے گا۔۔ بلکل مردانہ کسنگ کر رہی تھی۔۔۔ افشاں: شکر ہے صرف کس کر رہی تھی۔ یہ تو چودنے پہ آ جائے تو ڈلڈو کو ایسے یوز کرتی ہے جیسے مرد کا لوڑا۔۔۔۔ افشاں کی بات پر نازیہ نے ہنستے ہوے افشاں کے ہاتھ پر ہاتھ مارا۔۔رُباب: اچھا خیر اب ایسی بھی کوئی بات نہیں۔۔۔ لیکیں کیا کروں۔۔ تم سب سے مجھے پیار بھی تو بہت ہے۔۔۔۔نایلہ:ویسے رُباب۔۔ ہم سب کے بوائے فرینڈ ہیں لیکین تیرا کوئی نہیں۔۔ کہیں مکمل لیسبین تو نہیں بن گئی ہو۔۔۔ سب اس باتھ پر ہنسنے لگے۔رُباب: ارے یار ابھی 10 دن تو ہووے ہیں احتشام سے علیحدہ ہووے۔۔ جب تک کوئی اور نہیں مل جاتا تب تک تم لوگوں کے سہارے گزارہ چلاوں گی۔۔۔۔۔ کیا خیال ہے۔۔۔۔۔۔۔ اُس نے بیک مرر میں نازیہ کو دیکھ کر آنکھ مارتے ہوے کہا۔نازیہ: وہ تو خیر بوائے فرینڈ ہو یا نا ہو۔۔۔ ہم چاروں کا پیار تو چلتا رہے گا۔۔ لیکین کوئی ہاٹ مُنڈہ دیکھ بھی رکھا ہے کہ نہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نازیہ نے بیک مرر میں رُباب کو شوخی سے گھورتے ہوے پوچھا۔۔۔۔ وہ اور باقی سب بھی جانتی تھیں کہ رُباب نازیہ پر مرتی ہے۔رُباب: ہائے جان۔۔۔ دِل تو کرتا ہے تجھے ہی اپنا بوائے فرینڈ بنا لوں، لیکیں کیا کروں تیری جان تو شہزاد میں اٹھکی ہے۔نازیہ: ہایے میرا شہزاد۔۔۔۔۔۔۔۔ اُس نے رُباب کو جلانے کے انداز میں اپنے سینے پر ہاتھ مارتے ہووے کہا۔ اور سب لڑکیاں ہنس پڑی۔۔۔افشاں: ویسے واقعی رُباب تم بغیر بوائے فرینڈ کے کیسے گزارہ کرتی ہو۔۔ میں تو شاہد کے بغیر ایک ویک سے زیادہ نہیں گزار سکتی۔۔۔رُباب:ویسے نظر میں ایک لڑکا ہے تو صحیح۔۔۔۔ لیکیں پتہ نہیں وہ مجھے اپنی گرل فرینڈ بنائے گا بھی یا نہیں؟۔۔۔۔۔۔ اُس نے ایک بار پر نازیہ کو بیک مرر میں گھورتے ہووے کہا۔۔نایلہ: ہائے کون ہے وہ ۔ ہمیں بھی تو بتاورُباب: ہے بس ایک میرے دِل کے قریب۔۔۔افشاں: ویسے تیرا دل تو نازیہ میں ہے۔۔۔ افشاں نے شوخ انداز میں کہارُباب: وہی تو۔۔نازیہ:کیا مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔ اُس نے رُباب کو گھورتے ہووے کہا۔افشاں:مطلب میں سمجھاتی ہوں۔۔۔ اسے نازیہ کے بھائی سے پیار ہو گیا ہے۔۔۔ ہے نا رُبی۔۔۔۔ افشاں نے پیار سے رُباب سے کہا۔۔۔نازیہ:کیا واقعی رُباب۔۔۔۔ ہہ افشاں کی بچی سچ کہہ رہی ہے؟رُباب:تیری قسم۔۔۔ ہایے کیا فیس ہے ظالم کا۔۔ کیاحسن ہے۔۔۔ اُف اُس کی مست باڈی۔۔۔۔ ہایے جب بھی اُسے دیکھتی ہوں میری تو گیلی ہونے لگتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رُباب نے بہت ہی فحش انداز میں اپنے سینے اور ٹانگوں کے بیچ ہاتھ پھیرتے ہووے کہا۔ اور اُس کے اس انداز پر ساری لڑکیوں نے قہقہہ لگایا سوائے نازیہ کے۔نازیہ: جھوٹ۔۔۔ تم جھوٹ بول رہی ہو نا۔۔۔رُباب:تیری قسم میری جان۔۔۔ تم دونوں بھائی بہن میں میری جان اتکی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رُباب کی آواز میں بےباکانہ پن تھا اور اُس کی بات سُن کر باقی ساری لڑکیاں ہنسنے لگی۔۔۔۔نایلہ: تم تھوڑی ہیلپ کر دو نا نازیہ رُباب کی۔۔۔۔ اپنے بھائی سے اس کی سیٹنگ کرا دو۔۔۔نازیہ: وہ تو کر دوں لیکیں کونسے والے سے۔۔۔۔ کامران سے یا عمران سے۔۔۔۔۔۔رُباب:عمران سے ہائے کیا مست ہے وہ۔۔ کامران تو مجھ سے چھوٹا ہے۔۔ ویسے اُس کی اپنی کوئی گرل فرینڈ تو نہیں ہے؟ رُباب نے نازیہ سے پوچھا۔۔۔نازیہ: پتہ نہیں ویسے میں پتہ کرا لوں گی۔۔۔۔رُباب: بس تم صرف یہ پتہ کروا لو باقی میں خود ہی کر لوں گی۔۔۔۔۔۔ رُباب کی بات پر سب نے قہقہہ لگایا۔۔افشاں: اُف مری کب پہنچیں گے۔۔۔ میں تو بیٹھے بیتھے تک گئی ہوں۔رُباب: بس 10 15 منٹ کا فاصلہ رہ گیا ہے۔۔ اور پھر ہم ہوٹل میں ہوں گی۔۔ نایلہ: ہوٹل کونسا ہے۔۔ ہے تو اچھا نا۔۔۔ اُس نے رُباب سے پوچھا۔رُباب: ہاں اچھا ہے۔ 5 سٹار تو نہیں ہے۔ 4 سٹار ہے۔۔ پورا سویٹ بُک کرایا ہے بابا نے۔۔ افشاں: واہ رانا انکل زندہ باد۔۔۔۔ اور افشاں کے نعرے پر سب نے کہا رانا انکل زندہ باد۔۔۔۔۔۔ اور پر کوئی 15 منٹ بعد وہ ہوٹل میں پہنچ گئیں۔۔۔ سویٹ واقعی شاندار تھا۔۔ دو بیڈ روم اورسٹنگ روم کے ساتھ ہر سہولت دستیاب تھی۔ ساری لڑکیاں سویٹ میں پہنچتے ہی سِٹنگ روم میں صوفوں پر ڈھیر ہو گئیں۔ ویٹر نے اُن کا سامان بھی وہیں رکھ دیا۔۔۔۔ ویٹر:اور کچھ میڈم۔۔۔ رُباب: نو تھینکس۔۔۔ اور یہ کہہ کر اُس کے نے ویٹر کو ٹِپ دے کر فارغ کر دیا۔۔۔ ویٹر کے جانے کے بعد نازیہ اُتھی اور اندر جانے لگی۔۔ اندر جاتے ہوے اُس نے رُباب کی طرف دیکھ کر معنی خیز انداز میں کہا۔۔۔۔ نازیہ: میں تو فریش ہونے جا رہی ہوں ۔۔ باتھ لے لوں۔۔۔ نایلہ: ہاے گھومنے باہر نہیں جانا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔ رُباب نازیہ کو اندر بیڈ روم میں جاتے ہوے دیکھ رہی تھی۔۔ اُس نے نایلہ کی بات پر شوخی سے کہا۔۔ رُباب: اتنی بھی کیا جلدی۔۔۔ ابھی تو سارہ دن پڑا ہے۔۔۔ ابھی سب فریش ہوتے ہیں۔۔ افشاں: ویسے بات صحیح ہے۔۔ تھوڑا فریش ہو کر شام کو باہر جاییں کے۔۔ مری کا ماحول ویسے بھی شام کو ہی گرم ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ افشاں کی بات سُن کر رُباب بھی کھڑی ہو گئی۔۔ اور جس بیڈ روم میں نازیہ گئی تھی اُس طرف دیکتھے ہوے کہا۔۔۔۔۔ رُباب: میں بھی تھوڑی فریش ہو کر آتی ہوں۔۔۔۔۔ اور یہ کہہ کر وہ اُسی بیڈ روم کی طرف چھل دی جدھر نازیہ گئی تھی۔۔ اُس کی بات پر نایلہ اور افشاں معنی خیز انداز میں ایک دوسری کو دیکھتے ہوے مُسکُرا دیں۔۔ افشاں ہم بھی چلیں کیا؟نایلہ: اُن کے پاس۔ افشاں: نہیں یار اُن کو انجوائے کرنے دو۔۔۔ ہم دوسرے روم میں چلتے ہیں۔۔۔ ابھی افشاں کی بات ختم ہی ہوئی تھی کہ نایلہ کا فون بجنے لگا۔۔۔۔ نایلہ نے فون اُتھا کر دیکھا تو اُس کے ڈیڈ کی کال تھی۔۔۔ نایلہ۔ گھر سے کال ہے یہ اٹینڈ کر لوں پر چلتے ہیں ۔افشاں: تھیک ہے میری جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ---- رُباب آہستہ سے اُس کمرے میں چلی گئی جہاں تھوڑی دیر پہلے نازیہ گئی تھی۔ اُسے نازیہ بہت اچھی لگتی تھی۔ جب بھی وہ چاروں آپس میں پیار اور محبت کرتی تھیں، تورُباب کی ہمیشہ کوشش ہوتی کہ وہ نازیہ کے ساتھ ہو۔ یہ بات نہیں کہ اُسے افشاں اور نایلہ میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، وہ اُن دونوں کے ساتھ بھی بہت ینجوائے کرتی تھی مگر نازیہ کے لئے اُس کے دل میں ایک خاص جگہ تھی، اور یہ بات سب لڑکیاں جانتی تھیں۔ اس لئے جب نازیہ نے باتھ روم جاتے ہوے رُباب کو دعوت انگیز انداز میں دیکھا تو رُباب کے پورے بدن میں ایک سرور سا چھا گیا۔ اور افشاں اور نایلہ نے بھی اسی وجہ سے اُن دونوں کو ڈسٹرب نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بیڈ روم میں پہنچ کر رُباب نے دیکھا کہ کمرے میں کوئی نہیں ہے۔ لیکین باتھ روم سے نازیہ کے گنگنانے کی ہلکی آواز آ رہی تھی۔ رُباب باتھ روم کی طرف بڑھی۔ باتھ روم کا دروازہ ادھ کھلا تھا۔ اور اُس ادھ کھلے دروازے سے جو منظر رُباب نے دیکھا وہ اُس کے ہوش اُڑانے کے لئی کافی تھا۔ نازیہ شرٹ اُتار چکی تھی اور اب پاجامہ اُتارنے میں مگن تھی۔ اُسکی کمر دروازے کی طرف تھی اس لئے اُسے رُباب کے آنے کی خبر نہ ہو سکی۔ اُس کی گوری کمر پر سرخ کلر کی برا کا سٹرپ بہت سیکسی لگ رہا تھا۔ اُسکا پاجامہ بہت ٹایٹ تھا اور نازیہ کو اُتارنے میں مشکل ہو رہی تھی۔ اُس کا پاجامہ اُس کے گھٹنوں میں پھنسا ہوا تھا، اور وہ اُسے اُتارنے کے لئے آگے جھکی ہوئی تھی۔ جھکنے کی وجہ سے اُس کے سدول گورے گورے کوہلے باہر کو نکلے ہوے تھے اور رُباب کو دعوت نظارہ دے رہے تھے۔نازیہ کے دونوں کولہوں کے بیچ میں پھنسی اُس کی لال کلر کی پینٹی نظارے کو اور زیادہ سحر انگیز بنا رہی تھی۔ رُباب وہیں باتھ روم کے باہر کھڑے کھڑے اپنے کپڑے اُتارنے لگی۔ وہ بہت جلدی میں لگ رہی تھی۔ رُباب نے شرٹ اور پینٹ کے ساتھ ساتھ برا اور پینٹی بھی اُتار لی تھی۔ وہ ابھی تک کمرے میں باتھ روم کے دروازے کے قریب تھی۔ کپڑے اُتار کر وہ آہستہ سے باتھ روم میں چلی گئی۔ نازیہ پاجامہ اُتار کر جیسے سیدھی ہوئی تو رُباب اُس کے پیچھے پہنچ چکی تھی۔ رُباب نے نازیہ کی گوری کمر کے ساتھ جیسے ہی اپنے ممے ٹچ کیے تو نازیہ نے چونک کر سر پیچھے گھمایا۔ اور رُباب کو دیکھ کر اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔ نازیہ کو بھی رُباب کے ساتھ اچھا لگتا تھا۔ رُباب جس جوش اور چاہت سے اُسے پیار کرتی تھی وہ اُسے مدھوش کر دیتی۔ رُباب نے اب نازیہ کو پیچھے سے اپنی بانہوں میں لے لیا تھا۔ رُباب کے ممے نازیہ کی کمر سے مس کر رہے تھے اور رُباب کی رانیں نازیہ کے بھرے بھرے سڈول کولہوں سے۔ رُباب: آئی لو یو جانو۔۔۔۔ رُباب کی آواز خمار آلود تھی۔ وہ نازیہ کے گورے اور صاف شفاف پیٹ کو اپنے ہاتھوں سے آہستہ آہستہ سہلا رہی تھی۔ اور ساتھ ہی ساتھ وہ نازیہ کی گردن اور گالوں کو چوم رہی تھی نازیہ: می ٹو۔۔۔ جانو۔۔۔۔۔۔ نازیہ نے بھی اُسی چاہت سے جواب دیا جو چاہت اُس نے رُباب کے لہجے میں محسوس کی تھی رُباب نازیہ کے بدن کے لمس سے گرم ہو رہی تھی۔۔ اُس نے ایک ہاتھ سے نازیہ کے گال کو سہلاتے ہوے اُس کا چہرہ پیچھے اپنی طرف موڑ لیا۔ رُباب نے نازیہ کو پیچھے سے بانہوں میں پکڑے رکھا تھا اور جب نازیہ نے چہرہ پیچھے گھمایا تو رُباب نے بے ساختہ اُس کے نرم ہونٹوں کو چومنا شروع کیا۔ نازیہ بھی اُس کا بھرپور ساتھ دے رہی تھی۔ رُباب کا ایک ہاتھ ابھی تک نازیہ کی گال پر تھا اور وہ نازیہ کے ستھ کسنگ کرتے ہوے اُس کی گال کو آہستہ آہستہ سے سہلا رہی تھی۔۔ رُباب کا دوسرا ہاتھ ابھی تک نازیہ کے پیٹ پر تھا اور وہ اب نازیہ کی نرم گداز ناف میں بڑے پیار سے اُنگلی پھیر رہی تھی۔ وہ دونوں ایک دوسری کے ہونٹوں کو کس کر رہی تھیں۔ رُباب ، نازیہ کے ہونٹوں کی نرمی میں جیسے کھو سی گئی تھی۔۔ نازیہ کے ہونٹوں پر لگی وہ ساری لپ سٹک کی شوخی ماند پڑھ رہی تھی جو اُس نے راستے میں کار میں لگائی تھی۔ فرینچ کس کرتے ہوے نازیہ اور رُباب کی زُبانیں باربار ایک دوسرے سے ٹکرا جاتی۔ اور پر ایک بار جب نازیہ کی زبان اُس کے ہونٹوں میں سے کچھ زیادہ ہی باہر آ گئی تو رُباب نے اُس کی زُبان کو اپنے ہونٹوں میں دبا لیا اور پورے انہماک سے اُسے چوسنے لگی۔ اب نازیہ پوری طرح گھوم گئی اور اُس کا چہرہ رُباب کے سامنے تھا اور اُسے کا سینہ رُباب کے سینے سے ٹچ کر رہا تھا۔ رُباب نے دونوں ہاتھوں سے نازیہ کو اپنی بانہوں میں کس کر بھر لیا اور نازیہ نے اپنی بانہیں رُباب کے کاندوں کے اُوپر سے اُس کی گردن کے گرد جما دیں۔ رُباب، نازیہ کو بانہوں میں لئے اور اُس کی زبان اور ہونٹ چوستے ہوے اُسے آہستہ سے شاور کےقریب لے گیئی۔ نازیہ نے ابھی تک برا اور پینٹی پہن رکھی تھی۔ لیکین وہ دونوں تو ایک دوسرے کے ستھ کسنگ میں اتنی مصروف تھیں کہ اور کسی طرف اُن کی توجہ ہی نہیں تھی۔۔ رُباب نے ایک ہاتھ سے شاور کھول دیا۔ وہ دونوں ابھی شاور کے نیچھے نہیں تھی۔ شاور کا پانی پہلے ٹھندا تھا لیکین پر وہ معتدل ہو گیا۔ اور پر رُباب نے کسنگ جاری رکھتے ہوئے نازیہ کو اپنی بانہوں میں بھر کر شاور کے نیچے کر دیا۔ وہ دونوں پانی میں بھیگنے لگیں۔ پانی نے اُن کے اند کی گرمی کو کم کرنے کے بجائے اُسے دوآتشہ کر دیا۔ وہ دونوں اب ایک دوسرے کے گیلے بدن کو اپنے ہاتھوں سے مسل رہی تھیں۔ اور کسنگ کرتے کرتے وہ ایک دوسرے کے گالوں اور گردن اور پورے چہرے کو چومنے چاٹنے لگی۔۔ اُن کا جوش بڑھ رہا تھا۔ وہ دونوں بھرپورانداز میں ایک دوسرے سے پیار کر رہی تھیں۔ پانی دونوں جوان لڑکیوں کے گداز بدن کو گیلا کرتے ہوے اُن کے کولہوں اور ٹانگوں سے نیچھے بہہ رہا تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے پورے بدن کو ہاتھوں سے مسل رہی تھیں۔ اور ایک دوسرے کے چہرے گردن اور ہونٹوں کو پیار کر رہی تھیں۔ رُباب نے نازیہ کی برا کا ہُک کھول کر برا کو نازیہ کے جسم سے الگ کر دیا۔ اور پر نیچھے اُس کی پینتی میں ھاتھ ڈال کر اُس کی پینٹٰی کو نیچھے کرتے ہوے اُسے نازیہ کے گھٹنوں سے بھی نیچھے کر ،دیا جِسے نازیہ نے اپنی ٹانگوں سے نیچھے کرتے ہوے نکال دیا۔ نازیہ بھی اب مکمل ننگی ہو چکی تھی۔ رُباب نے نازیہ کی گردن کو چومنا شروع کیا۔ اور چومتے چومتے وہ نازیہ کے پستانوں تک پہنچ گئی۔ اُف کیا خوبصورت لگ رہے تھے نازیہ کے سڈول جوان ٹایٹ پستان اور اُن کے اوپر پنک کلر کے نپلز۔۔ آآہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔ اُنہیں دیکھ کر رُباب کے مُنہ سے بے ساختہ ایک آہ نکل گئی۔ رُباب اس وقت نازیہ کے سامنے جھکی ہوئی تھی۔ اُس نے ایک ایک ہاتھ میں نازیہ کے دونوں مموں کو دبوچ رکھا تھا۔ پر اُس نے دائیں پستان کو چومنا اور چاٹنا شروع کیا۔ رُباب کافی دیر تک نازیہ کے ممے اور نپل باری باری چومتی چاٹتی رہی اور اس دوران نازیہ اُس کے بالوں میں پیار سے انگلیاں پھیرتی رہی۔ پھر رُباب اُٹھی اور دوبارہ نازیہ کے ساتھ کسسنگ کرنے لگی۔ شاور کا پانی اُن دونوں کو مسلسل بگھو رہا تھا۔ رُباب نے سایڈ ریک میں پڑا ہوا شیمپو اُٹھایا اور کھول کر نازیہ کے کاندھوں اور سینے پر شیمپو دالنے لگی۔ پر رُباب کے ہاتھوں سے شیمپو کی شیشی نازیہ نے لی اور شیمپو رُباب کے جسم پر ڈالنے لگی۔ نازیہ نے شیمپو کی شیشی سایڈ پر رکھ لی اور پھر رُباب کے بدن پر شیمپو ملنے لگی۔ یہی کچھ رُباب نازیہ کے ساتھ کر رہی تھی۔ دونوں کے جوان بدن جھاگ سے بھر گئے۔ وہ دونوں کبھی ایک دوسری کے پستانوں پر جھاگ مل رہی تھی اور کبھی رانوں اور کولہوں پر۔ شاور ابھی بھی چل رہا تھا لیکین وہ دونوں اُس سے سایڈ پر تھیں۔ رُباب ایک ہاتھ نازیہ کی ٹانگوں کے درمیان لے گئی اور جھاگ کو نازیہ کی چوت اور گانڈ پر ملنے لگی۔ جس سے نازیہ کا شوق بڑنے لگا۔ اور وہ آہستہ آہستہ مزے سے کراہنے لگی۔ پر یہی کچھ نازیہ رُباب کے ساتھ کرنا شروع ہوئی۔ اب دونوں کی مٹھی کراہوں سے باتھ روم کا ماحول اور بھی شہوت انگیز ہو گیا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ دونوں دوبارہ شاور کے نیچے چلی گئی اور پانی سے جھاگ ایک دوسری کے بدن سے دھونے لگی۔ سفید سفید جھاگ دونوں کے کنوارے گورے بدن سے نیچے بہنے لگا۔ جب دونوں پوری طرح سے جھاگ سے صاف ہو گئی تو رُباب نے ٹاول اُتھا کر نازیہ کے بدن کو سکھایا اور پر اُسی ٹاول سے نازیہ نے رُباب کے بدن کو سکھایا۔ رُباب نے نازیہ کو بانہوں میں لے کے اُس کے ہونٹوں کا ایک طویل بوسہ لے کر کہا۔۔۔ رُباب: جان بیڈ پر چلیں؟ رُباب کی آواز میں دعوت تھی نازیہ: چلو۔۔ نازیہ نے بھی اُسی ادا سے جواب دیا رُباب اور نازیہ ایک دوسری کی بانہوں میں بانہیں ڈالے بیڈ روم میں آ گئیں۔ نازیہ بڑی ادا سے رُباب سے الگ ہو کر بیڈ پر ہاتھ اور پاوں کی مدد سے چڑھی۔ اس دوران وہ پیچھے رُباب کو خمار آلود نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔ اُس کی نگاہوں میں کھلی دعوت تھی۔ بیڈ پر چرھنے کے بعد وہ بیڈ پر ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چلتی ہوئی بیڈ کے درمیان میں پہنچی۔ اس دوران اُس کے کولہے رُباب کی جانب اُٹھے ہوے تھے اور دونوں کولہوں کے بیچ میں نازیہ کی چوت اور گانڈ واضع ہظارہ دے رہیں تھی۔ بیڈ کے بیچ میں پہنچ کر نازیہ سیدھی لیٹ گئی اور دونوں ٹانگیں کھول کر اپنی چوت کے لبوں پر انگلی پھیرتے ہوے رُباب کو دعوت دیتی نگاہوں سے دیکھنے لگی۔ رُباب بھی نازیہ کا اشارہ سمجھ گئی۔ وہ بھی اُسی انداز میں ہاتھوں اور ٹانگوں کے بال بیڈ پر چرھ کر نازیہ کی ٹانگوں کے بیچ پہنچ گئی اور بڑے پیار اور انہماک سے نازیہ کی چوت پر اُنگلی پھیرنے لگی۔ نازیہ کو بہت مرہ آ رہا تھا۔ وہ اوووو آآآآہ ہ ہ کرنے لگی۔۔ نازیہ کی چوت گیلی ہو رہی تھی۔ نازیہ کی چوت سے پانی نکلتے دیکھ کر رُباب بھی اور گرم ہو گئی۔ اور دوسرے ہاتھ سے وہ اپنی چوت کو مسلنے لگی۔ تھوڑی دیر تک اپنی اور نازیہ کی چوت انگلیوں سے مسلنے کے بعد، رُباب نازیہ کی چوت کے اُوپر جُھک گئی اور اپنا منہ اُسکی چوت پر رکھ کر نازیہ کی چوت کو پہلے اُوپر اُوپر سے چومتی رہی اور پر دھیرے سے اپنی نرم زبان نازیہ کی صاف پنک اور گیلی چوت کے اندر گھسا دی۔ جیسے ہی رُباب کی زبان نے نازیہ کی چوت کے دانے کہ ٹچ کیا تو نازیہ کے منہ سے بے اختیار آہ ہ ہ ہ ہ ہ کی ایک سیکسی کراہ نکل گئی۔ رُباب اب نازیہ کی چوت کو اندر سے چاٹ رہی تھی۔ اور نازیہ مزے اور جوش میں کبھی اپنے سر کو دائیں بائیں کر رہی تھی اور کبھی اپنے ہونٹ دانتوں میں دبا رہی تھی۔ اُس کی سیکسی آوازیں سارے کمرے میں گھونج رہی تھیں۔ وہ مسلسل رُباب کے سر میں پیار سے ہاتھ پھیر رہی تھی اور کبھی کھبی رُباب کے سر پر دباو ڈالتی جس سے رُباب کی زبان اُس کی چوت میں اور اندر تک چلی جاتی۔ کچھ دیر اسی پوزیشن میں رہنے کے بعد، نازیہ نے دونوں ہاتوں سے رُباب کے چہرے کو پکڑ کر اُس کے منہ کو اپنی چوت سے ہٹایا اور اُس کے سر کو اُوپر اُٹھا دیا۔ رُباب نے نازیہ کی طرف دیکھا اور پوچھا۔۔ رُباب: کیا ہوا میری جان۔۔۔ مزہ نہیں آ رہا کیا؟ نازیہ: اوہ جان، بہت مزہ آ رہا ہے۔ لیکین میں نے تیری چوت بھی چاٹنی ہے۔ اپنی چوت میرے اوپر لے آو نازیہ کی باتھ سُن کر رُباب نے شوخ نظروں سے اُسے دیکھا اور پر اپنی جگہ سے اُتھ کر گھومی اور اپنی دونوں رانیں نازیہ کے چہرے کے دائیں بائیں رکھ کر آگے سے وہ نازیہ کی چوت کے اوپر جھک گئی۔ اب وہ دونوں 69 کی پوزیشن میں تھیں۔ نازیہ نیچے لیٹی ہوئی تھی اور رُباب اُس کے اوپر۔ نازیہ کے چہرے کے اوپر رُباب کی چوت تھی اور رُباب کے منہ کے نیچے نازیہ کی چوت۔ اور پر وہ دونوں ایک دوسرے کی چوت کو چومنے چاٹنے لگی۔ دونوں کی کراہیں اور ممیانے کی شہوت انگیز آوازیں پورے کمرے میں گھونج رہی تھیں۔ دونوں زبان کے ساتھ ساتھ انگلیوں کا بھی استعمال کر رہی تھیں۔ کبھی وہ ایک دوسری کی چوت کو زبان سے چاٹتی اور کبھی اُس میں انگلی ڈال کر مزہ دیتی۔ وہ کافی دیر تک ایک دوسری کے ساتھ یہ کھیل کھیلتی رہی اور پر جب دونوں چھوٹ گئیں تو دونوں کی لمبی لمبی سانسوں کی آوازوں نے باقی آوازوں کو دبا دیا۔ رُباب نازیہ کے اوپر سے اُتری اور نازیہ کے ستھ لیٹ گئی۔ وہ نازیہ کے ہونٹوں کو کس کرنے لگی۔ اور اُس کے ممے ملتی رہی۔ جواب میں نازیہ بھی اُس کے بدن پر ہاتھ پھیر رہی تھی۔۔۔ رُباب: کیسا لگا میری جان؟ نازیہ: ہمیشہ کی طرح بہت مزہ آیا۔۔ آئی لو یو رُبی رُباب: آئی لو یو ٹو میری جان۔۔۔۔ اور پھر دونوں ایک دوسرے کو کس کرتے ہوے ایک ستھ لیٹ گئی ُرباب اور نازیہ کی سسکیاں اور آوازیں لاونج میں بیٹھی افشاں اور نایلہ کے کانوں تک پہنچ رہی تھیں اور دونوں زیرلب مسکرا رہی تھی۔ نایلہ ابھی تک کال پر گھر والوں سے باتیں کر رہی تھی۔ لیکین اندر کی آوازیں وہ بھی سُن رہی تھی۔ لیکین اُس کی زیادہ توجہ فون پر تھی۔ لیکیں افشاں کی ساری توجہ اُن آوازوں کی طرف تھی۔ ہائے کیسی میٹھی رسیلی آوازیں تھی۔ اُس کا ہاتھ بے اختیار اپنی چوت پر چلا گیا اور وہ اپنی چوت اوپر سے مسلنے لگی۔ افشاں اور نایلہ دونوں نے ٹایٹ جینز اور ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں۔ افشاں نے پینٹ کے اوپر بیلٹ نہیں پہنی تھی۔ اُس نے اپنی چوت مسلتے مسلتے اپنی پینٹ ڈھیلی کی اور چوت کے اوپر سے کھول لی۔ نیچے سے اُس کی ریڈ کلر کی پینٹی نظر آنے لگی۔ افشاں نے اپنی پینٹی میں ہاتھ ڈالا اور اپنی چوت کو مسلنے لگی۔ اُس نے ایک انگلی اپنی چوت میں گھسا رکھی تھی۔ اندر کمرے سے رباب اورنازیہ کی پیار بھری میٹھی آوازیں مسلسل آ رہی تھی۔ اور اُن کی شہوت بھری آوازیں افشاں کو اور گرما رہی تھی۔ اُدھر نایلہ فون پر مصروف تھی۔ وہ کھِن اکھیوں سے افشاں کو اپنے آپ سے کھیلتے ہوے دیکھ رہی تھی۔ اور اب اُسے جلدی ہو رہی تھی فون بند کر کے افشاں کے ساتھ پیار کرنے کے لیے۔ اُس نے فون جیسے بند کیا، تو افشاں اُس کے قریب ہو گئی اور نایلہ کو بانہوں میں ساییڈ سے لے کر اُس کے گال چومنے لگی۔
 نایلہ نے بھی اپنی بانہیں اُس کی گردن میں ڈالی اور چہرہ افشاں کی طرف موڑ لیا۔ اور پر دونوں ایک دوسری کے ساتھ کسنگ کرنے لگی۔ کافی دیر تک وہ ایک دوسرے کو چومتی چاٹتی رہی۔ افشاں نایلہ سے الگ ہو کر اپنے کپڑے اُتارنے لگی۔ اُس کی دیکھا دیکھی نایلہ نے بھی اپنے کپڑے اُتارنے شروع کئے۔ پھر تھوڑی دیر میں دونوں صوفے پر ننگی ایک دوسرے کے سامنے بیٹھی تھیں۔ دونوں نے اپس میں جپی ڈالی اور دوبارہ سے کسنگ کرنے لگی۔ لیکین اس بار ننگی ہو کر۔ دونوں کے ننگے بدن ایک دوسرے سے رگڑ کھا رہے تھے۔ اور ایک دوسرے کے بدن کا لمس اُن دونوں کو اور گرما رہا تھا۔ وہ دونوں کسنگ کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے بدن پر ہاتھ بھی پھیر رہیں تھیں۔ کمر پر، چوتڑوں پر، مموں پر رانوں پر اور گالوں پر۔۔۔ ہر جگہ۔۔۔ بغیر کسی روک ٹوک۔۔۔۔ کھلی اور مکمل آزادی سے دو برہنہ ہوا کی بیٹیاں ایک دوسری کے جوان بدن کے لمس سے محظوظ ہو رہی تھیں۔ اور کچھ یہں حال اندر کمرے میں رُباب اور نازیہ کا تھا (اُن کا حال آپ پہلے ہی کہانی میں پڑھ چکے ہیں) پر افشاں نے نایلہ کو صوفے پر سیدھا لیٹا لیا اور خود اُس کے اُوپر لیٹ گئی۔ افشاں کے بھاری مموں کے نیچے نایلہ کے جوان ممے دبے ہوئے تھے اور افشاں کی ایک ٹانگ نایلہ کی دونوں رانوں کے بیچ میں اُس کی چوت کے ستھ لگی ہوئی تھی۔ افشاں اور نایلہ دوبارہ کسنگ کرنے لگی اور ساتھ ہی افشاں نے اپنی ران سے نایلہ کی چوت کو بھی مسلنا شروع کیا۔ اس پوزیشن میں افشاں کی چوت نایلہ کی ران کے اوپر خود بخود آ ہی گئی تھی۔ اور جب افشاں اپنی ران نایلہ کی چوت سے رگڑتی تو نایلہ کی ران سے اُس کی چوت بھی رگڑ جاتی۔ یوں دونوں مزے لے رہیں تھیں۔ نایلہ نے افشاں کو اپنی پانہوں میں بھر لیا اور اُسے زور لگا کر پلٹا۔ یوں کہ اب نایلہ افشاں کے اوپر آ گئی۔ اور پر نایلہ افشاں کی چوت کی طرف مُڑی اور اپنا مُنہ افشاں کی چوت پر رکھ کر اپنی ٹانگیں افشاں کے منہ کے اوپر سایڈز پر پھیلا دی۔ یوں دونوں اب 69 کی پوزیشن میں آ گئی تھی۔ اور پر دونوں ایک دوسرے کی چوت کو چومنے چاٹنے لگیں۔ کافی دیر بعد دونوں ٹھنڈی پڑ گئیں۔ اور پر ایک دوسری کو بانہوں میں لے کر کچھ دیر وہیں صوفے پر پڑی رہیں۔ اس دوران اندر سے بھی آوازیں آنا بند ہو گئی تھیں۔ افشاں اور نایلہ کچھ دیر بعد اُٹھی اور اندر اُسی کمرے کی طرف چل دیں جہاں رباب اور نازیہ تھیں۔ اندر رباب اور نازیہ ایک دوسری کی بانہوں میں لیٹی تھیں۔ نایلہ اور افشاں بھی ننگی اُن کے ساتھ چمٹ کر لیٹ گئیں۔ افشاں رُباب کے پیچھے اور نایلہ نازیہ کے پیچھبے لیٹیں تھی۔ تھوڑی دیر بعد افشاں نے رباب کے کولہوں پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔ افشاں: امممم آج تو پہت مزہ آیا۔ اب آگے کا کیا پلان ہے؟ رُباب: میں تو اپنی جان کو بانہوں میں لے کر رات تک پڑی رہوں گی۔۔۔ یہ کہتے ہوے اُس نے نازیہ کو اپنی بانہوں میں زور سے کس لیا۔۔ جس سے نازیہ کی ہائے نکل گئی۔ اور نازیہ کی درد بھری ہائے سن کر رباب نے اپنے ہاتھوں کا گھیرا تھوڑا ڈھیلا کر دیا اور پیار سے نازیہ کے ہونٹوں کا بوسہ لے کر سوری کہا۔ نازیہ: رُباب کی بچی کیا اپنی جان کی جان لو گی۔ قسم سے کسی مرد کی طرح دباتی ہو تم تو۔ ۔۔۔۔۔۔ نازیہ کی بات پر چاروں لڑکیاں ہنس دیں۔۔ رباب: ہائے میری جان کتنی بار بتا چکی ہوں تجھے دیکھ کر پتہ نہیں میرے اندر کہاں سے ایک مرد گھس آتا ہے۔۔۔۔ یہ کہتے ہوے رباب نے دوبارہ سے نازیہ کو اپنی بانہوں میں کس لیا۔ مگر اس بار پیار سے۔۔ جسے نازیہ نے بھی محسوس کیا۔ نازیہ: روکو تم۔۔ تمہاری دوستی بھیا سے ہونے دو پر وہ تجھے بتائیں گے اصل مرد کسے کہتے ہیں۔۔۔۔ نازیہ کی آواز میں لاڈ بھی تھا اور شوخی بھی۔ رباب: اُف کاش وہ دن جلدی آ جائے۔۔ میں اُس دن کے لئے مری جا رہی ہوں۔۔۔ رباب کی بات پر پھر سے سب ہنسنے لگیں۔ نایلہ: مری جا نہیں رہی ہو بلکہ مری آگئی ہو۔۔۔۔۔ نایلہ نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ افشاں: اچھا بابا اگر تم دونوں لیلہ مجنوں کی باتیں ختم ہو گئی ہوں تو یہ بھی بتا دو کہ آگے کیا پلان ہے۔ ہم یہاں صرف آپس میں سیکس کے لیے تو نہیں آئیں۔ وہ تو اسلام آباد میں بھی ہو سکتا تھا۔ کوئی پروگرام بناو انجوائے کریں یار۔۔ رباب: ضرور کریں گے انجوائے۔۔ آج شام کو مال روڈ پر جائیں گے۔۔ خوب مستی کریں کے وہاں۔۔۔ نایلہ: ہائے دعا کرو کوئی گبرو جوان آج شام مل جائے قسم سے کئی دنوں سے لوڑے کو دیکھنے کیلیے ترس رہی ہوں۔۔۔ اُس کی بات پر سب ہنسنے لگیں۔ رُباب: بے فکر رہو میری جان۔۔۔ آج بہت لوڑے ملیں گے جتنے چاہو لے لو۔۔۔ رُباب کی بات پر سب لڑکیاں اپنی اپنی سوچوں میں گھوم ہو گئیں اور۔ شام کا انتظار ایک ساتھ کرنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شام ہوتے ہی ساری سہیلیاں گھومنے اور مستی کرنے باہر چلی گئیں۔ سب لڑکیوں نے ٹائیٹ کپڑے پہن رکھے تھے جن میں اُن کے حسین اور جوان بدن اپنی پوری آب و تاب سے اپنے جلوے دکھا رہے تھے۔ وہ تینوں رات دیر تک گھومتی رہیں۔ کئی لڑکوں نے کوشش کی اُن کی توجہ حاصل کرنے کی لیکین اُن تینوں نے کسی کو لفٹ نہیں کرائی۔ مری کی مال روڈ پر وہ تینوں رش میں پھنس گئی۔ اور اس دوران کئی مردانہ بدن اُن کے آگے پیچھے اُن سے ٹکراتے رہے۔ کئی ہاتھوں نے اُن کے جسموں کی گولائیوں اور گہرائیوں کو ناپنے کی کوشش کی۔ کسی نے باہر باہر سے تو کسی نے پینٹ اور شرٹ کے اندر ہاتھ ڈال کر۔۔ جب تک معاملہ مزے کی حد میں رہتا تو وہ تینوں اس چھیڑ چھاڑ کو انجوائے کرتی اور جب بھی کوئی ایسی حرکت کرتا کہ اُن کو تکلیف ہوتی تو وہ اُس کو جھٹک کر آگے بڑھ جاتی۔ اور پر کسی اور مرد کے لمس سے مزے لینے لگتیں۔ جب چاروں سہیلیاں گھوم پھر کر تھک گئیں تو ایک ریسٹورنٹ سے کھانا کھایا۔۔ کچھ دیر مری کی رات کی خنکی کے مزے لئے اور پھر اپنے ہوٹل کی طرف چل دیں۔ ہوٹل پہنچ کر سب فریش ہو کر لاونج میں آکر بیٹھ گئیں۔ ٹی وی آن کر کے میوزک کا چینل لگا لیا، بہت زبردست گانا چل رہا تھا۔ گانے کی لے پر سب لڑکیاں بیھٹۓ بیھٹۓ تھرکنے لگیں۔ پھر رباب اٹھی اور ڈانس کرنے لگی۔ رباب کسی ماہر ڈانسر کی طرح اپنے کولہوں، اور سینے کو مٹکا رہی تھی۔ اس کا انداز بہت بے باکانہ اور ہجان انگیز تھا۔ رباب کے جوان بدن کو مٹکتا دیکھ کر نازیہ سے رہا نہ گیا، اور اٹھ کر وہ بھی رباب کے ساتھ ڈانس کرنے لگی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ اپنے جسم ٹچ کر کے ناچ رہی تھیں۔ ایک دوسرے کے بدن پر ہاتھ بھیر رہی تھیں اور ایک دوسری کو بانہوں میں بھر رہی تھی۔ ان کے ڈانس کا انداز بہت سیکسی تھا۔ افشاں اور نایلہ پہلے تو ان دو پریمیوں کے ہیجان خیز ڈانس کو دیکھ کر انجوائے کرتی رہی۔ لیکین جلد ہی ان کا دل بھی مچھلنے لگا، اور پھر وہ دونوں بھی اٹھ کر رباب اور نازیہ کے ساتھ مل گئیں اور اب چاروں مل کر ڈانس کر رہی تھیں۔ چاروں لڑکیاں ایک دوسری کے بدن کو ہاتھوں اور جسموں سے مسل رہی تھیں۔ ڈانس کے دوران افشاں نے نایلہ کو بانہوں میں بھر لیا، اور پھر وہ دونوں کسنگ کرنے لگی، وہ دونوں ایک دوسرے کے ہونٹوں کو چوم چوس رہی تھیں۔ ان کو دیکھ کر نازیہ اور رباب بھی مستی میں آگئیں۔ رباب نے نایلہ کو پیچھے سے اپنی بانہوں میں لے لیا اور نازیہ نے افشاں کو پیچھے سے اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ اب صورتحال یہ تھی کہ افشاں اور نایلہ ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈالے ایک دوسرے کو چوم رہی تھیں اور باقی دونوں نے ان کو پیچھے سے جھپی ڈالی ہوئی تھی اور وہ ان دونوں کو پیچھے سے ان کی گردن اور گالوں پر بوسے دے رہی تھیں۔ ان چاروں کے جسم بھی ساتھ ساتھ ہل رہے تھے اور وہ گانے کی لے پر ہولے ہولے ناچ رہی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد وہ چاروں تھک کر صوفوں پر ڈھیر ہوگئی۔۔ کمرے میں لمبی لمبی سانسوں کی آوازیں کونج رہی تھیں۔ اور جوان جسموں کی مہک ہر طرف پھیلی تھی۔ رباب اٹھ کر سائیڈ پر موجود ہوٹل کے انٹرکام کے پاس گئی اور سروس کاونٹر کا نمبر ملایا۔ دو گھنٹیاں بجنے کے بعد آواز سنائی دی روم سروس رباب: کسی کو بھیج دیجئے بیڈ شیٹ تبدیل کرنے کیلیے۔ روم سروس: جی بہتر میڈم اور پر رباب نے ریسور رکھ دیا۔ اور واپس آ کرنازیہ کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی۔ نازیہ نے رباب کو اپنی بانہوں میں بھر لیا، اور اس کے گال کا بوسہ لے کر پوچھا۔ نازیہ: جان بیڈ شیٹ تبدیل کرنے کا یہ کون سا وقت ہے، صبح تبدیل کروا لیتی۔ رباب: جان تم نے شاید توجہ نہیں دی، بیڈ شیٹ ساری خراب ہو گئی تھی۔ میں وہ بدلوانا چاہتی ہوں رات کیلیے، تاکہ رات کو ہم دونوں مل کر ایک نئی بیڈ شیٹ خراب کر سکیں رباب کی بات سن کر ساری لڑکیاں ہنس پڑی۔ تھوڑی دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ رباب: یس کم اِن دروازہ کھلا اور ایک نوجوان سفید شرٹ، کالی پینٹ اور کالی ٹائی پہنے اند آیا۔ اس کے ہاتھ میں بیڈ شیٹس تھیں۔ نوجوان: اسلام اعلیکم۔ میں روم سروس کی طرف سے آیا ہوں، آپ نے بلایا تھا؟ چاروں لڑکیاں اسے گھور کر دیکھ رہیں تھی۔ آنے والا نوجوان نہایت شاندار تھا۔ کلین شیو، صاف شفاف چہرہ، عمر کوئی 24، 25 کے قریب لگتی تھی۔ مضبوط کسرتی بدن، لڑکیاں تو جیسے اس کی مردانہ وجاہت میں کھو سی گئیں، ان چاروں کو اپنی طرف گھورتے دیکھ کر وہ تھوڑا سا مسکرایا اور کھنکار کر کہا نوجوان: مس، کس روم میں بیڈ شیٹ چینج کرنی ہے؟ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کس کو مخاطب کرے۔ اس کی بات سن کر سب چونکی اور سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔ رباب: میرے ساتھ آو یہ کہہ کر رباب اٹھی اور جان بوجھ کر کولہے مٹھکاتی ہوئی اپنے روم کی طرف چل دی۔ وہ نوجوان رباب کے پیچھے چل دیا۔ اس کی نظریں رباب کی مٹھکتی گانڈ پر تھی، جِسے دیکھ کر اس کے پینٹ میں ہل چل ہونے لگی تھی۔ اُف کیا ظالم گانڈ ہے، کیا نظارہ ہے، نجانے میری قسمت میں ایسا مال کب آئے گا۔۔۔۔ وہ نوجوان رباب کی گانڈ دیکھ کر سوچ رہا تھا۔ باقی لڑکیوں نے بھی اسے رباب کی گانڈ کو گھورتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور سب ایک دوسری کو دیکھ کر شرارتی انداز میں مسکرانے لگیں۔ رباب اس نوجوان کو لے کر اپنے روم میں چلی گئی۔ نوجوان بھی رباب کے پیچھے پیچھے کمرے میں داخل ہوا۔ رباب نے بیڈ کی طرف اشارہ کیا رباب: یہ بیڈشیٹ چینج کرنی ہے۔ نوجوان: جی بہتر یہ کہہ کر نوجوان بیڈ کی طرف بڑھا، بیڈ پر پڑنے والے گیلے نشان فوراََ اسے نظر آ گئے۔ رباب نے اسے نشانات کو گھورتے دیکھ لیا تھا۔ وہ نوجوان کے قریب آئی اور بلکل اس کے پیچھے کھڑی ہو گئی رباب: وہ دراصل میں اور میری گرل فرینڈ "کھیل" رہی تھیں، تو بیڈ شیٹ تھوڑی سی خراب ہو گئی۔ آئی ہوپ یو ویل ناٹ مائیڈ رباب نے لوچدار آواز میں کہا۔ نوجوان: نو پرابلم مس۔۔ یہ کہتے ہوئے نوجوان پیچھے کو مڑا، تو رباب اس کے بلکل ساتھ کھڑی تھی۔ وہ تھوڑا سا گھبرا گیا رباب کو اپنے اتنے قریب دیکھ کر۔ لیکین رباب اس پر بس کرنے والی کہاں تھی۔ اس نے تو اس نوجوان کو دیکھتے ہی پورا منصوبہ بنا لیا تھا۔ رباب نے ایک قدم اور آگے بڑھایا، اور اسکے اتنا قریب چلی گئی کہ رباب کی چوچیاں (نپل) اس نوجوان کے سینے سے ہلکی ہلکی ٹچ کرنے لگی۔ رباب اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔ رباب: ہائے آپ کتنے اچھے ہیں۔ تھینک یو رباب کے انداز میں بے انتہا لوچ اور شہوت تھی۔ نوجوان کے جزبات مچلنے لگے تھے۔ لیکین وہ ابھی خود سے کچھ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس کا تجربہ ہو چکا تھا کہ کئی لڑکیاں صرف فلرٹ کر رہی ہوتی ہیں۔ لیکین رباب تو رباب تھی۔ وہ کہاں فلرٹ تک رکھنے والی تھی۔ اس نے نوجوان کے سینے پر ہاتھ رکھا اور سینے کو پیار سے مسلتے ہوے کہا رباب: اے ہینڈسم، تمارا نام کیا ہے؟ نوجوان: جی، ساحر۔۔۔ میرا نام ساحر ہے مس رباب: اُف اللہ ساحر جی۔ کیا جادو ہے آپ کی آنکھوں میں۔ اور یہ کہتے ہوئے رباب نے اپنے ہاتھ اس کی گردن کے گرد حمائل کر کے اپنے ہونٹ ساحر کے ہونٹوں سے ملائے اور بڑے بیباکانہ انداز میں کس کیا۔ ساحر بھی سمجھ گیا تھا کہ معاملہ صرف فلرٹ کا نہیں ہے۔ وہ تو چاہتا ہی یہی تھا۔ اس کی تو جیسے لاٹری نکل آئی تھی۔ اس نے رباب کو کمر سے پکڑا اور اپنی بانہوں میں کس لیا۔ اور بھرپور انداز میں رباب کے ساتھ کسنگ کرنے لگا۔ وہ دونوں پورے جوش سے ایک دوسرے کے ہونٹوں کو چوم چوس رہے تھے۔ ساحر کے ہاتھ رباب کے بدن کا طواف کرنے لگے۔ پہلے اس کی کمر کو سہلاتا رہا۔ اور پھر اس کے ہاتھوں نے نیچے کا سفر شروع کیا۔ جن کولہوں نے ساحر کی توجہ حاصل کی تھی، وہ انہیں چھونا چاہتا تھا۔ اور پر اس کے دونوں ہاتھ رباب کے کولہوں تک پہنچ گئے۔ ساحر نے پہلے رباب کے دونوں کولہوں پر پیار سے ہاتھ پھیرا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ رباب کا ری ایکشن کیا ہوتا ہے۔ لیکین رباب تو خود ہی یہی چاہتی تھی۔ یہ دیکھ کر کہ رباب کو کوئی اعتراض نہیں ہے، ساحر نے رباب کے دونوں چوتڑوں کو اپنی مٹھیوں میں دبوچ لیا اور انہیں دبانے لگا۔ رباب کو ساحر کی اس حرکت سے بہت مزہ آنے لگا۔ وہ اور شدت سے اس کے ساتھ کسنگ کرنے لگی۔ پر اس نے ساحر کی ٹائی دھیلی کی اور شرٹ کے بٹن کھولنے لگی۔ ساحر نے اس کے ہونٹوں سے ہونٹ ہٹائے اور کہا ساحر: مس، آپ کی دوست باہر موجود ہیں۔

Posted on: 08:10:AM 14-Dec-2020


1 0 195 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com