Stories


دیوالی کا جوا از رابعہ رابعہ 338

دوستوں امید کرتی ہ کی آپ کی دیوالی ہمیشہ کی طرح اچھی گئی ہوگی، اور دیوالی کا نام آتے ہی کچھ خاص علامت کے دماغ میں ایک اور چیز آتی ہے ... جوا ... جسے دیوالی کے ٹائم کھیلنا شبھ سمجھا جاتا ہے. اور اسی موضوع کو لے کر میرے دماغ میں ایک کہانی کا پلاٹ آیا ہے، جسے میں نے آپ سب کے ساتھ شیئر کر رہی ہ، امید کرتی ہ کی یہ چھوٹی سی کہانی آپ کو پسند آئے گی. "آئے لالہ .... کہاں مر گیا سالے ... جلدی آ باہر .." گلی میں کھڑا ہوا سرفراز اپنے دوست باب عرف لالہ کے گھر کے باہر کھڑا ہوا چللا رہا تھا .. باب گھر کی چھت سے باہر کی طرف جھانکتے ہوئے بولا: "ابے کیوں چللا رہا ہے بے تےري بہن حصہ گئی کیا اپنے یار کے ساتھ .." سرفراز: "سالے ... نیچے آ، پھر بتاتا ہ کس کی بہن بھاگی ہے اپنے یار کے ساتھ" باب نیچے آیا، اس نے ابھی تک داریوں والا پائجامہ اور بنیان پہنی ہوئی تھی، مطلب اب وہ نہایا بھی نہیں تھا .. باب: "اب بول ... کیا بول رہا تھا .." سرفراز (اپنی آنکھیں گول -2 گھماتے ہوئے): "پتہ ہے آج محلے میں کون آیا ہے ؟؟" باب: "کون ؟؟ کون آیا ہے ... بول نہ بھےن چود ... کیوں پہیلیاں بنائی رہا ہے" سرفراز: "ابے مت آیا ہے ... اور ساتھ میں بھابھی بھی ہے ..." امت اور اس کی بیوی کا نام سنتے ہی باب کے تن بدن میں آگ سی لگ جاتی ہے ... دراصل امت ان ہی گروپ کا بندہ تھا .. گروپ بولے تو باب عرف لالہ، سرفراز عرف ملا، امت عرف چیکنا اور جین عرف جوکر، جوکر اس لئے کیونکہ ہمارے گروپ میں وہ ہی ایک ایسا بندہ تھا جو ہمیشہ مسكھرےپن میں رہتا تھا، ہم سب کی عمر تقریبا پچیس کے آس پاس، ممبئی میں ایک ہی محلے میں پڑے -لكھے اور بڑے ہوئے ... دنیا کا کوئی بھی ایسا برا کام نہیں تھا جسے ہم نے نہیں کیا تھا ... سگریٹ، شراب، رڈيباجي، جوا، سٹہ. سب کچھ ور اس میں تمام ایک دوسرے سے بڑھ چڑكر مزے بھی لیتے تھے. اور گزشتہ ماہ ہی ہمارے دوست امت کی شادی ہو گی، ہم سب گئے تھے اس کی شادی میں ناسک، سب کچھ ٹھیک تھا، خوب مزے ریٹویٹ، دارو پارٹی کری ور شادی کے وقت جب ہم نے بھابھی کو دیکھا تو ہماری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ... انیتا نام تھا اس کا، عمر تھی تقریبا 22، رنگ گورا چٹا، لمبی، جیسے کوئی فلم کی هرون ہو، ہم تو امت کی قسمت کو گاليا دے رہے تھے کی سالے کی قسمت میں ایسی لڑکی آخر آ کہاں سے گئی ، آخر لڑکی نے یا اس کے گھر والو نے امت میں دیکھا کیا تھا، کام دھام تو کچھ کرتا نہیں تھا، باپ کی كريانے کی دوکان تھی، بس یہی بول کر کی لڑکا بھی ساتھ میں بیٹھتا ہے، اس کی شادی کروا دی گھر والو نے، دراصل امت کی ماں کی طبیعت کافی خراب رہتی تھی، اسی کے مایکے والو نے یہ رشتہ بتایا تھا ناسک میں، دو ماہ کے اندر ہی سب طے ہو گیا اور شادی بھی کروا دی. ہم تمام نے امت کی لینی کر دی تھی، ہر وقت اس کو چھےڑتے رہتے تھے کی بھابھی کا خیال رکھنا اگر کوئی پرابلم ہو تو بتا دینا، آخر کو کس دن کام آئیں گے ... اس وقت تو امت کچھ نہیں بولتا تھا، بلکہ ہمارے مذاق کے ساتھ -2 وہ بھی شروع ہو جاتا تھا کی جیسے ہماری دوستی چل رہی ہے، ویسے ہی چلے گی! آج تک ہم نے ہر چیز بانٹ کر کھائیں ہے (اس کا مطلب رڈيو سے ہوتا تھا) ویسے ہی اس کو بھی بانٹ کر کھائیں گے ... پر جب ہم نے انیتا کو دیکھا تو ہمیں وہ سب باتیں یاد آنے لگی تھی، سالی کیا مال تھی، امت کے تو مزے ہو گئے یار ... اور ہمارے مسكھرے جوکر نے آخر ان کے سامنے بول ہی دیا: "امت بھائی، اپنا وايےدا یاد ہے نہ ..." امت: "وايےدا ... !!! کون سا ؟؟" جین: "ارے وہی ... مل بانٹ کر کھانے والا .... ہا ہا ہا ..." اس کی بات سن کر امت بری طرح كلس گیا، اور ہم تینو کو قہقہ مار مار کر ہنسنے لگے ... اور وہ بیچاری انیتا بیچارا سا منہ بنا کر سوچ رہی تھی کی آخر بات کیا ہے .. کھیر، شادی ختم ہوئی، میں نے یعنی باب نے امت سے پچھا: "اور بتا، کیا پروگرام ہے آگے کا هنيمون کے لئے کہاں جا رہا ہے" وہ بولنے ہی لگا تھا کی درمیان میں ملا جی بول پڑے: "جی ہاں یار، بتا دے نہ، ہم بھی اپنی ٹکٹ کٹی لیں گے وہاں کی ... ہی ہی" اس نے تو وہ بات مذاق میں ہی بولی تھی، پر پہلے جین کی اور اب سرفراز کی بات سن کر اس کی جھاٹے بری طرح سلگ گئی تھی، وو چلا پڑا: "ابے بھوتنكے، پہلے کبھی لڑکی نہیں دےكھ کیا، جو سالے کل سے اپنی تھوک ٹپكاے گھوم رہے ہو یہاں، مجھے جہاں جانا ہوگا چلا جاؤں گا، ابھی تم لوگ جاؤ واپس سمجھے. " ہم تمام کو اس کے اس طرح کے برتاؤ کی توقع نہیں تھی، پر اس کا گھر تھا، اس کی شادی تھی، اس لئے ہم کچھ نہ بولے اور اپنا سامان اٹھا کر واپس ممبئی چل دئے .. راستے بھر میں سب کو سمجھاتا رہا کی ہمیں ایسا مذاق نہیں کرنا چاہیے تھا ... پر وہ لوگ سمجھ رہے تھے کی لگور کو حور مل گئی ہے، اس لئے اچھل رہا ہے. پورے ایک ماہ بعد آج وہ ممبئی آیا ہے، اپنا ہنیمون مناكر اور سب کام نپٹا کر پر جو سلوک اس نے کیا تھا اس کے بعد اس کے گھر جانا بڑا ہی عجیب لگ رہا تھا ..پر دوست تھا ہمارا ... پر دل کے ایک کونے میں اس کی خوبصورت بی بی بھی گھوم رہی تھی سكو بھی تو دیکھنا تھا نہ ... میں نے جلدی سے جین کو فون ملایا اور اسے سب بتایا، پہلے تو اس نے بھی آنا كاني کری پر بعد میں وہ مان گیا .. شام کو ہم تینو گھر پر بیٹھ کر پلان بنانے لگے، اگلے دن دیوالی تھی، اور ہر دیوالی کو ہم سب کو اور دنوں سے زیادہ دارو پیتے تھے اور پوری -2 رات جوا بھی کھیلتے تھے ... بس یہی پروگرام بنا کی کل امت کے گھر پر دیوالی کی مبارکباد دینے کے بہانے جائیں گے .. اگلے دن صبح ہم تینو اس کے گھر پر پہنچ گئے، مٹھائی لے کر .. ہمیں دیکھتے ہی وہ جذباتی سا ہو گیا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، اور وہ دوڑ کر ہمارے گلے سے لگ گیا ... امت: "یار ... مجھے معاف کر دو مےنے تم سب کے ساتھ اتنا برا سلوک کیا، میں تو سوچ رہا تھا کی تمہارے سامنے کس طرح اپنا یہ چہرہ لے کر آؤں گا ..." ہم سب کی ٹیںشن تو اس نے اپنے آپ ختم کر دی تھی ... ہم سب تو شرم لوگ تھے ور سوچ رہے تھے کی امت اب ہم سے بات بھی کرنا پسند کرے گا یا نہیں ... پر ہوا اس کا الٹا ..پر جو بھی ہوا، تمام خوش ہو گئے .. اور وہ مسكھرا جین بول پڑا: "چل بلا بھابھی جان کو اور ملوا ہمیں دوبارہ ان سے .." بے چارہ امت كھسياني بلی کی طرح رہ گیا اور اس نے بڑے ہی پیار سے اپنی بیوی کو آواز دی: "انو ... ذرا باہر آنا .." ہم تمام دم سادھے "بھابھی" کا انتجار کرنے لگے ... تھوڑی دیر میں ہی پائل کی سوریکی کے پیچھے -2 وہ باہر آئی .. پیلے رنگ کی ساڈی پہنی ہوئی تھی اس نے، گوری چٹٹي، بھرے ہوئے چھاتی، چہرہ کھلا ہوا، اور پیٹ پر اس نے ایک چین باندھی ہوئی تھی، جو بڑی ہی سیکسی لگ رہی تھی ... ہم سب کی نظر اس کی چین پر چپک کر رہ گی .. اس نے آ کر سب کو ہیلو کیا اور ہم سب کے لئے کولڈ ڈرنک لے کر آئی اور سب کو "جھک کر" کولڈ ڈرنک دی ... اور ہم تمام ٹھرکی کو اس کے پلو کے گرنے کا ویٹ کرتے رہے جو گرا نہیں .. میں نے امت سے بات شروع کی: "تو کیا پلان ہے آج دیوالی کا ..." امت: "تو بول لالہ ... کیا کرنا ہے .." میں: "ہم تو وہی کرنے والے ہے جو ہمیشہ کرتے ہے ... دارو اور تاش کی باجيا ... تو بول .." امت: "بالکل یار ... یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے ... اور یہ دارو میری طرف سے ہوگی ... میری شادی کی تقریب ہے تم سب کے لئے یہ ... تم سب رات کو یہی آ جانا .. پوری رات جوا چلے گا آج .. " اس کی بات سن کر تمام خوش ہو گئے ... ایک تو مفت کی دارو اور اوپر سے امت کے گھر پر بیٹھ کر اس کی بی بی کے جلوو کو دیکھنے کا موقع بھی ملے گا .. رات کو ملنے کا ٹائم فکس ہوا ... تمام نے کہا کی وہ رات دس بجے تک پہنچ جائیں گے .. اب تو بس رات کا انتظار تھا میں نے امت سے بات شروع کی: "تو کیا پلان ہے آج دیوالی کا ..." امت: "تو بول لالہ ... کیا کرنا ہے .." میں: "ہم تو وہی کرنے والے ہے جو ہمیشہ کرتے ہے ... دارو اور تاش کی باجيا ... تو بول .." امت: "بالکل یار ... یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے ... اور یہ دارو میری طرف سے ہوگی ... میری شادی کی تقریب ہے تم سب کے لئے یہ ... تم سب رات کو یہی آ جانا .. پوری رات جوا چلے گا آج .. " اس کی بات سن کر تمام خوش ہو گئے ... ایک تو مفت کی دارو اور اوپر سے امت کے گھر پر بیٹھ کر اس کی بی بی کے جلوو کو دیکھنے کا موقع بھی ملے گا .. رات کو ملنے کا ٹائم فکس ہوا ... تمام نے کہا کی وہ رات دس بجے تک پہنچ جائیں گے .. اب تو بس رات کا انتظار تھا ... ****** اب آگے ****** ہم تینو رات کو اپنے -2 گھروں میں عبادت کرنے کے بعد ایک ساتھ اکٹھا ہو کر امت کے گھر پہنچ گئے. امت اپنی نئی نویلی بی بی کے ساتھ مل کر گھر کے باہر پٹاخے چھڑا رہا تھا. ہم تمام کو دیکھ کر وہ خوش ہو گیا اور سب سے گلے ملنے کے بعد وہ ہمیں اندر لے آیا. اندر ٹیبل پہلے سے سجی ہوئی تھی، مٹھائی نمكين ... ہم تمام سوفی اور چیئر پر بیٹھ گئے اور محفل جمع لی. انیتا بھابھی ٹرے میں گلاس اور آئس كيوب لے کر آئی. ان کے چہرے سے پتہ نہیں چل پا رہا تھا کی وہ ہمارے آنے سے خوش ہے یا ناراض كھےر ہمیں کیا لینا دینا .. امت نے اندر سے 100 پايپر کی بوتل نکالی، جسے دیکھ کر ہماری آنکھیں پھٹی رہ گئی، آخر جوکر بول ہی پڑا جوکر: ابے سالے .... آج کیا بات ہے. اسکاچ پلا رہا ہے ... لگتا ہے بڑا مال تال ملا ہے سسرال سے ... ہا ہا ... امت: ارے نہیں یار ... ایسا نہیں ہے ... یہ تو بس ... کہا تھا نہ شادی کی تقریب ہے ... تو اتنا تو بنتا ہے. اور پھر اس نے انیتا کو آواز دی: ارے انیتا ... تم ... وہ روسٹےڈ کاجو بھی لیتی آنا اندر سے ذرا ... اس کی دریادلی دیکھ کر ہم سب خوش ہو رہے تھے .. انیتا بھابھی اندر سے ایک پلیٹ میں کاجو لے کر آئی. امت: بس یہی رکھ دو .... اور جب مٹن بن جائے تو سب کے لئے كٹوريو میں لیتی آنا ذرا ... وہ سر جھکا کر پھر سے اندر چلی گئی ... اندر والے کمرے سے ٹی وی کے چلنے کی آواز آ رہی تھی. وہ وہی جا کر بیٹھ گئی. میں نے پےگ بنائے اور ہم سب نے واہ کرکے پینا شروع کر دیا. ملا: اب بتاؤ ... کیا کھیلنا ہے .. سبھی نے متفق سے پھلےش کھیلنے کو کہا. امت: اور بوٹ 100 روپے کا ہوگا ... ہم تمام کی تو پھٹ گئی ... آج سے پہلے ہمیشہ ہم نے 10، 20 یا 50 کا بوٹ کھیلا تھا ... سچ میں، ایسا لگ رہا تھا کی سالے کو شادی میں کافی مال تال ملا ہے ... سب نے مان لیا اور کھیل شروع ہوا. تمام کو 3-3 پتے بانٹ دیے گئے .اؤر سب نے اپنی طرف سے 100 - 100 روپے نکال کر بیچ میں رکھ دئے، بوٹ والے. امت: یہ آئی میری 100 کی بلايڈ .. ملا: میری بھی .. میں: میری بھی 100 کی بلايڈ. جوکر نے پتے اٹھا کر دیکھے ور برا سا منہ بنا کر گڈی میں رکھ دیئے: میں تو پےك .. امت نے تھوڑا سوچا اور پھر 100 کا نوٹ اٹھا کر بيچے میں پھینکا: میری ایک اور بلايڈ .. اب ملا بھی گھبرا رہا تھا ... اس نے پتے اٹھائے ور تھوڈا سوچنے کے بعد اس نے بھی ان کے پتیوں گڈی میں پھینک دئے، مطلب وہ بھی پےك ہو گیا. اب مارکیٹ میں صرف میں اور امت ہی بچے تھے .. میں نے بھی 100 کی پتی درمیان میں پھینکی اور کہا: میری بھی بلايڈ ... امت نے 200 روپے درمیان میں ڈالے: میری 200 کی بلايڈ .. یہ امت ہمیشہ ایسا ہی کرتا تھا ... زیادہ تر کھیل وہ بلايڈ میں ڈال کر ہی جیت تھا .. میں نے اپنے پتے اٹھا ہی لئے ... میرے پاس غلام، بیگم اور ستتي تھی ... دھتت تیرے کی ... ایک پتی مس ہو گیا بس .. پر یہ بھی کم نہیں تھے .. میں نے پےك کرنے سے اچھا شو مانگنا مناسب سمجھا .. میں نے 500 کا نوٹ درمیان میں رکھا اور 100 اٹھا لئے اور امت سے شو مانگا ... اس نے ایک -2 کرکے اپنے پتے کھولنے شروع کیے پہلا غلام ... دوسری بیگم ........ اس کا چہرہ خوشی سے پھولا نہیں سماں رہا تھا .... اور میرا دھك سے بیٹھا جا رہا تھا .. اور تیسرا ... تیسری پجي نکلی .... ہا ہا ..... میں تیز ہنسی ہنسا اور ان کے پتیوں اس کے سامنے پھینک کر درمیان پڑے ہوئے سارے روپے اٹھا لئے .... وہ بے چارہ دیکھتا رہ گیا کی کتنا قریبی معاملہ تھا آج .. کھیر. ہم نے پھر سے چھوڑ دیتا بانٹنے شروع کئے. تبھی انیتا بھابھی اندر سے سب کے لئے كٹوريو میں میٹ لے کر آئی ... اس کی مہک ہی کمرہ خوشبودار ہوئے جا رہا تھا ... انہوں نے جیسے ہی كٹوريا نیچے رکھی ... ان کا پلو نیچے گر گیا ... اور ہم کتوں کی خشک نجرے سیدھا ان ابھاروں پر جا جمی ... باس .... کیا چیز تھے ےك دم گورے - چٹٹے ... بلاس بھی ڈیپ گلے والا تھا لگبھگ نصف کے ارد گرد کے مممے صاف دکھائی دے رہے تھے ... اور میری پےني نجرو نے تو اس کے اوپر لگا ہوا سرخ نشا بھی دیکھ لیا ... جسے شاید امت نے ہی بنایا ہوگا ... اس کتے کی ہمیشہ سے عادت رہی ہے ... ہمیشہ کسی رنڈی کو بھی چودتے ہوئے اس کے مممے کے اوپر کاٹ کر اپنی نشانی چھوڑ دیتا تھا ... اور یہی نشان اس نے اپنی بیوی کے سینے پر بھی بنا ڈالا تھا .. بھابھی نے جلدی سے اپنا پلو سنبھالا اور جانے لگی ... تبھی امت نے اسے روکا اور پتے اٹھا کر ان کی کمر سے چھوا دیے اور واپس، بغیر دیکھے، نیچے رکھ دیے ... سالا اپنی بیوی سے چھوا کر ٹوٹكا کر سوچ رہا تھا کی پتی اچھے ہو جائیں گے ... انیتا بھابھی نے اپنی آںکھے دکھائی اور گھورتے ہوئے اندر چلی گی .. سبھی نے بوٹ کے 100-100 روپے درمیان میں رکھے .. اور اس بار سبھی نے 100 کی بلايڈ بھی چلی ... جوکر نے بھی .. اور جوکر کے چلتے ہی ملا جی نے اپنے پتے اٹھائے ... اور پھر سے گڈی میں پھینک کر بولے: سالے پتے ہی نہیں آ رہے آج تو میں نے بھی ایک اور 100 کا پتی پھینکا: میری 100 کی بلايڈ. امت نے بھی بلايڈ چلی .. اب جوکر نے پتے اٹھائے ور بولا: میری 200 کی چال .. لگتا تھا سالے کے پاس چھوڑ دیتا آ گئے تھے ... میں نے اپنے پتے اٹھائے ... دھتت تیرے کی ... بکواس پتے تھے ... 7،10،2 میں نے بھی اپنے پتے پٹک دیئے درمیان میں .. اب امت کی باری تھی ... اس نے بلايڈ کھیلی اس بار بھی ... جوکر: میری 200 کی چال اور .. امت: بلايڈ .. جوکر: 200 کی چال .. امت اب گھبرا رہا تھا ... اس نے اپنے پتے اٹھائے ... اور پتے اٹھا کر وہ سوچنے لگا ... اور آخر اس نے 400 کی شو مانگ لی .. جوکر کے پاس دو بادشاہ تھے .. یہ دیکھتے ہی امت نے فورا اپنے پتے پھینکے ... اس کے دو اکے تھے .. امت: ہا ہا ... سالا چتيا ... دو پتے لے کر بھی چال چل رہا تھا ... جوکر مایوس ہو کر رہ گیا ... امت نے پھر سے چھوڑ دیتا بانٹنے شروع ریٹویٹ ور میں نے پےگ اگلا بنایا، امت نے انیتا کو آواز لگائی ... مجھے پتہ تھا کی وہ کس لئے بلا رہا ہے ... وہ ٹھمكتي ہوئی آئی اور امت نے پتے اٹھا کر پھر سے اس کی کمر سے چھوا دیے ... اب وو بول ہی پڑی: یہ کیا کر رہے ہو ... اور تھوڑا غصہ دکھاتے ہوئے وہ اندر چلی گئی .. اس کا برتاؤ دیکھ کر ہم سب آپ کی كھيسے نپورنے لگے ... اور امت پھر سے كلس کر رہ گیا .. سب نے پیسے پھینکے درمیان میں ... اور پھر سے بلايڈ کا کھیل شروع ہوا .. اس بار سب نے 2-2 بار بلايڈ چلی .. پر اس بار سب سے پہلے پتے اٹھا کر دیکھنے والو میں سے امت تھا .. اور پتے دیکھتے ہی جھللاتے ہوئے اس نے پتے گڈی میں پھینک دئے اور بولا: پےك ... اور ایک ہی بار میں گلاس خالی کرکے اٹھا اور اندر چل دیا ... ہم سبھی نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہنسنے لگے .. جوکر بولا: اب تو بھابھيجي کی کھیر نہیں ہے ... ہا ہا .. اندر سے ان جھگڑنے کی آوازیں آنے لگی تھی ... دو پےگ کا نشہ بھی بول رہا تھا امت کے سر پر .. میں نے اپنے پتے اٹھا کر دیکھے ... او تیری ... اب کی بار میرے پاس چڑي کا کلر آیا تھا بادشاہ، ستتي اور پجي مےنے بغیر کوئی ایکسپریشن دیے ... سر كھجلاتے ہوئے ... 200 کی چال چلی. دسرو کو گمراہ کرنے کے لئے. جوکر نے بھی پتے اٹھائے ور خوشی سے اس کا چہرہ بھی کھل اٹھا سنے بھی 200 کی چال چلی ... ملا جی 100 کی بلايڈ چلتے رہے .. دو چل کے بعد ملا نے بھی پتے دیکھے ... اور سر پیٹتے ہوئے پےك کر دیا. اب بچے تھے ... میں اور جوکر .. ہم نے اگلی 7 باجيا چال چلنے میں لگا دی ... اب تک امت بھی واپس آ چکا تھا ... اور اس کے پیچھے -2 انیتا بھابھی بھی تھی سر جھکائے ہوئے ... اور وہ جا کر سوفی کے بازو والے حصے پر جا کر ، امت کے ساتھ بیٹھ گئی ... انیتا کا گداج پیٹ مجھے صاف دکھائی دے رہا تھا ... اس نے نجرے اٹھا کر مجھے دیکھا اور میں مسکرا دیا ... اس نے اپنی نجرے دوبارہ جھکا لی .. اسے دیکھتے ہی میرے جوش میں سپھرتي سی آ گئی ... میں نے 500 کی انسداد چال چلی .... اب وو یا تو 1000 کی چال چلتا یا پےك کر لیتا ... پر اس نے بھی ہمت دکھائی اور 1000 کی شو مانگ لی مجھ ... تمام کی توجہ ٹیبل کی طرف تھا .. میں نے اپنے پتے پھینک دئے ... انیتا کی طرف دیکھتے ہوئے ... جنہیں دیکھ کر جوکر کی سٹٹي - پٹٹي غم ہو گئی .... اس نے اپنے پتے دکھائے ... اس کے پاس بھی کلر تھا ... اینٹ کا ... پر سب سے بڑا پتی اس کے پاس 10 کا تھا ... اور میرے پاس بادشاہ تھا ... اس لئے میں جیت گیا ... ویسے پتے اس بھی برے نہیں تھے ... اتنی دور آنا تو اس کا بھی بنتا تھا .. میں نے میز پر پڑے ہوئے روپے سمیٹ لئے لگبھگ 6 ہزار آئے تھے میرے پاس اس بازی میں ... میرے پاس اتنے پیسے آنے سے اور بھابھی کے آ جانے سے ماحول گرم ہو چلا تھا ... میں نے پتے بانٹے اس بار ... اور امت نے پےگ بنائے ... میں نے پتے کے اوپر ہاتھ رکھ کر کہا ...: بھابھی مٹن کھا کر مزہ آ گیا ... بہت اچھے بنایا ہے آپ نے .. وہ اپنی تعریف سكر خوش ہو گی .. امت نے پتے اٹھائے ور اپنی بیوی کے ننگے پیٹ پر پھیر دیے .... اس نے ایک دم سے غصے بھری نجرو سے اسے دیکھا ... پر پھر پرسکون ہو کر بیٹھ گئی ... میری نجرے تو بس بھابھی کو ناپنے میں لگی ہوئی تھی ... سبھی نے بوٹ ڈالا ... ملا نے سب سے پہلے پتے اٹھا کر دیکھے ... اور گڈی میں پٹک دئے. اس کا پےك ہو چکا تھا .. جوکر نے بھی اپنے پتے دیکھے ... وہ اب کافی بڑی رقم ہار چکا تھا ... اس لئے کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا ... اور پتے دیکھ کر اس نے بھی پےك کر دیا ... اب میں اور امت باقی ... ہم نے 5 باجيا بلايڈ کھیلی ... اور پھر 200 والی 3 باجيا دوبارہ بلايڈ ... اب مجھے فکر ہونے لگی تھی ... میں نے پتے اٹھائے ... میرے پاس ڈبل آیا تھا .. ياني 2 پجييا مےنے رسک لیا اور 400 کی چال چلی ... امت نے پتے اٹھائے اور دیکھے ... اور اپنا ایک ہاتھ انیتا کی ران کے اوپر رکھ کر دبا دیا ... گویا تھےكس کہہ رہا ہو ور 400 کی چال چل دی ... مجھے پتہ چل گیا کی سالے کے پاس چھوڑ دیتا آ گئے ہے ... میں نے پچھلی بازی میں کافی مال جیتا تھا سلے میں تھوڑا رسک لے سکتا تھا ... میں نے بھی 400 کی چال چلی .. اور امت نے 500 کی چال چلی ... اب مجھے كھٹكا ... میں نے 1000 کا نوٹ اٹھایا اور نیچے پٹكا ... اور شو مانگا ... اس نے ےٹھتے ہوئے اپنے پتے نیچے پھینکنے شروع کر دیے .. پہلی دگگي دوسري چوككي .... اور تیسری تككي ... اوہ تیری کی ... سالے کے پاس سكےس آیا تھا .... میں نے اپنے پتے الٹے کرکے گڈی میں پھینک دئے .... اور وہ راون والی ہنسی ہنستا ہوا درمیان میں پڑے ہوئے پےسو کو بٹورنے لگا ... اپنے شوہر کی جیت دیکھ کر انیتا بھی خوش نظر آ رہی تھی .... اور اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آ گئی تھی .. میں نے دل میں سوچا ...: انیتا ڈارلنگ ... تیری خوشی پر یہ گیم قربان ... انیتا کا بھی دل لگنے لگا تھا اب ... گیمز میں اس نے ےٹھتے ہوئے اپنے پتے نیچے پھینکنے شروع کر دیے .. پہلی دگگي دوسري چوككي .... اور تیسری تككي ... اوہ تیری کی ... سالے کے پاس سكےس آیا تھا .... میں نے اپنے پتے الٹے کرکے گڈی میں پھینک دئے .... اور وہ راون والی ہنسی ہنستا ہوا درمیان میں پڑے ہوئے پےسو کو بٹورنے لگا ... اپنے شوہر کی جیت دیکھ کر انیتا بھی خوش نظر آ رہی تھی .... اور اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آ گئی تھی .. میں نے دل میں سوچا ...: انیتا ڈارلنگ ... تیری خوشی پر یہ گیم قربان ... انیتا کا بھی دل لگنے لگا تھا اب ... گیمز میں .. ****** اب آگے ****** اگلی بار جب پتے بانٹے گئے تو امت نے ہر بار کی طرح اپنے پتے اٹھا کر انیتا کی کمر سے چھوا دیے ... اور اس بار انیتا بھابھی نے کوئی مخالفت نہیں کی بلك ان کے چہرے پر ایک عجیب سا اگو والا بھاو تھا کی میرے چھونے بھر سے میرے شوہر کے پتے جیت جاتے ہیں .. کھیر، بلايڈ کھیلنا شروع ہوا، دو بار پیسے پھینک کے بعد میں نے اپنے پتے اٹھا کر دیکھ ہی لئے ور اگلے ہی پل میں نے سیدھا 200 کی چال چلی، کافی ٹائم کے بعد میں نے چال چلی تھی سلے ملا نے جلدی سے اپنے پتے اٹھائے اور دیکھا اور کچھ سوچنے کے بعد اس نے بھی چال چل دی مت نے اپنے پتے اٹھائے بغیر ہی پیسے پھینک دئے گویا اس کو اپنی بیوی سے چھئے ہوئے پتتو پر پورا بھروسہ تھا، اور جوکر نے بھی پتے اٹھا کر دیکھے ..پر اس کے پتے بیکار تھے، اس لئے اس نے پھینک دئے. میں نے پھر سے چل چلی، ملا نے بھی چال چلی، امت نے اس بار پتے اٹھا ہی لئے ... اس کا ایک ہاتھ اپنی بیوی کی کمر سے ہوتا ہوا اپنے پتتو کو پکڑنے میں مصروف تھا بھابھي کا گداج پیٹ امت کے پكڈے جانے سے سمٹ کر رہ گیا تھا اس کے پتے انیتا بھابھی کے مممو کو چھ رہے تھے ... میرا تو لںڈ کھڑا ہونے لگا وہ سب دیکھ کر مت نے کچھ دیر تک پتے دیکھے، خوشی کے احساس آئے اور پھر انیتا کی طرف دیکھا .. اور اپنے آگے پڑے پےسو میں سے 500 روپے اٹھائے اور چال چل دی .. میرے ساتھ -2 ملا اور جوکر بھی هےران رہ گئے، پر کچھ بولا نہیں مےنے بھی 500 کی پتی پھینکی درمیان میں مللا نے جب دیکھا کی بات 500 پر آ گئی ہے تو اس نے پےك کر دیا ..اب مجھے اور امت کے درمیان کی بات رہ گئی .. اگلی 5 باجيا ہم نے 500 کے نوٹ پھینک کر کھیلی ور پھر میں نے ایک دم سے 1000 روپے درمیان میں ڈال دیئے ..اب امت بھی تھوڑا جھجھک رہا تھا سنے انیتا کی طرف دیکھا گویا اس سے پوچھ رہا ہو کی کیا کرنا چاہئے .. اور اس مورھ نے بغیر کچھ سوچے سمجھے 2000 روپے درمیان میں ڈال دیئے مت تو بھوچككا رہ گیا مےنے بھی ہمت کرتے ہوئے، رسک لیتے ہوئے، 3000 روپے درمیان میں ڈال دیئے .. ماحول گرم ہوتا جا رہا تھا .. میرے پاس اب صرف 10 ہزار کے آس پاس بچے تھے ور امت کے پاس 5000 تھے، اگلی دو بازی تک اس کے پیسے بھی ختم ہو گئے سنے ملا سے 1000 روپے ادھار لئے اور درمیان میں ڈالے ..اب اس کے پیسے ختم ہو چکے تھے سنے پھر انیتا کے کان میں کچھ کہا اور وہ اٹھ کر اندر گئی، اور تھوڑی دیر میں ہی اپنا پرس لے کر واپس آئی، اس نے سارے پیسے نکال کر گنے تو 3200 نکلے، اس نے سارے پیسے درمیان میں پھینکے پر شو پھر بھی نہیں مانگا ، لگتا تھا کی اس کو اپنے پتتو پر پورا بھروسہ تھا ... میں نے بھی اپنی چال چل دی، اب اس کی باری تھی، پر چلنے کے لئے اس کے پاس کچھ نہیں تھا .. امت نے ملا سے پیسے مانگے پر اس کے پاس بھی ختم ہو چکے تھے، جوکر کے پاس بھی صرف 1000 بچے تھے، سو اس نے بھی ہاتھ اٹھا دیے بيچ میں تقریبا 30 ہزار روپے پڑے تھے ..پر وہ اسی کے ہونے والے تھے جس کے پتے بڑے ہوں گے .. امت اپنا سر كھجلانے لگا .. میں نے کہا: امت، اگر کچھ نہیں ہے تیرے پاس چلنے کو تو پیک کر دے .. امت: ارے ایسے کیسے پےك کر دو، یہ بازی تو میری ہی ہے يار میرے پاس چلنے کو کچھ نہیں ہے پر میری جیت پکی ہے ... بول کیا کرو میں کی اگلی چال چل پاو .. میرے شےتاني دماغ میں مختلف -2 خیال آنے لگے ... اور سب انیتا بھابھی سے رلےٹڈ ہی تھے ..پر اس طرح تو میں انل سے کچھ کہہ نہیں سکتا تھا نہ ... میں نے آخر رسک لینے کا پھےسلا کر ہی لیا .. میں: ایک کام ہو سکتا ہے ... اگر تو برا نہ مانے تو .. امت: کیا .... بول ... جلدی بول. میں: تو چال چل دے، اور انیتا بھابھی کی ایک کس داؤ پر لگا دے .. پورے کمرے میں سناٹا چھا گیا ... کوئی کچھ نہ بولا مت بھی نہیں .. پر تبھی انیتا چیخ پڑی ..: یہ کیا بکواس ہے ... مجھے سمجھا کیا ہے تم نے دےكھ رہے ہیں آپ ... کیا کہہ رہا ہے آپ کا یہ دوست تني ہمت بڑھ گئی ہے اس کی ... آپ کچھ بولتے کیوں نہیں جی ... سن رہے ہے آپ .. اس نے اپنی شوہر کو جھجھوڑ ڈالا ... پر وہ ایکٹک مجھے ہی گھورے جا رہا تھا گسسے میں یا اپنی سوچ میں .. اور پھر وہ بولا: ٹھیک ہے ..میری ایک چال آئی .. انیتا اواك سی رہ گئی مےنے ہنستے ہوئے اپنی چال چلی .. امت: میری ایک اور چال آئی .. انیتا کے رسیلے ہوںٹھو کا رس چوسنے کو میں تڑپ رہا تھا وےسے تو ایک ہی کس بہت تھی پر اس نے دوسری بھی دے ڈالی ... میرے پاس اب 2500 روپے ہی بچے تھے ... میں نے جوکر سے 1000 روپے ادھار لئے اور آخری چال چلتے ہوئے میں نے شو مانگا ... اس نے مسکراتے ہوئے، اپنے پتے ایک ایک کر کے نیچے پھینکے ... تین بیگم تھی ... یعنی بیگم کی ٹریل تھی اس کے پاس .. ایسے پتتو کے لئے تو کوئی بھی اپنا سب کچھ داؤ پر لگا سکتا تھا .. پر ابھی میری باری تھی .. میں نے اپنے پتے پھینکے .. میرے پاس بھی ٹریل تھی ... اور وہ بھی بادشاہ کی ... تمام میرے پتتو کو دیکھ کر اواك رہ گئے ... امت کا مکمل نشہ اتر چکا تھا مےنے درمیان میں پڑے ہوئے سارے نوٹ اٹھائے اور اپنی طرف کھسکا لئے ... سارے پیسے جیت چکا تھا میں نے .. اور اوپر سے انیتا بھابھی کے ہوںٹھو کی دو كسسےس بھی .. امت نے ایک پےگ بنایا اور نيٹ ہی پی گیا ایک ہی نگلنا میں .. اسے شاید وشواس ہی نہیں ہو رہا تھا کی وہ سارے پیسے ہار چکا ہے، اور اس نے اوور کانفیڈنس میں اپنی بی بی کی عزت بھی داؤ پر لگا دی تھی .. میں نے انیتا کو اشارے سے اپنی طرف بلایا نيتا نے اپنی شوہر کی طرف دیکھا، اس نے کوئی ردعمل نہیں دیا ... اور وہ غصے میں اٹھ کر ایک دم سے میرے پاس آ گئی ور جس طرح سے وہ اپنی شوہر کے ساتھ بیٹھی تھی ، میرے سوفی پر آکر بیٹھ گئی، میں نے کوئی تاخیر نہیں کی، اس کی کمر میں ہاتھ ڈالا، اس کے سر کو پکڑ کر اپنی طرف جھکایا اور اسکے ہوںٹھو کو چوسنے لگا
 واو .... کیا رسیلے ہوںٹھ تھے اس کے ... ایک دم نرم اور ملائم ... گویا مكھن کے اوپر مشري ڈال رکھی ہو ... وہ سانس لینے کے لئے پیچھے ہوئی، اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھی .. میں نے چاروں طرف دیکھا، امت اپنا سر جھکائے بیٹھا تھا ور وہ دونوں حرامی اپنا منہ پھاڑے مجھے انیتا بھابھی کو چوستے ہوئے دیکھ رہے تھے مےنے بغیر وقت گنوائے اپنا دوسرا چما بھی جڑ دیا ان ہوںٹھو پر ... اور یہ والا اور بھی زور دار تھا ..میرے ہاتھو میں ان کا گداج پیٹ تھا مےنے اپنے ہاتھ اوپر سركانے چاہے پر اس نے میرے ہاتھ جھٹک دیئے ور غصے میں اٹھ کر اندر چلی گئی ... وہ گرم تو ہو چکی تھی پر میری غلطی سے اسے غصہ بھی آ گیا تھا، اس لیے وہ چلی گئی .. اب تو کسی اور کے پاس پیسے باقی بھی نہیں تھے ..میرے پاس پیسے بھی آ گئے تھے اور انیتا کو کس کرنے کا موقع بھی مل گیا تھا، ملا اور جوکر میری قسمت اور ہمت سے جل رہے تھے .. میں نے پیسے سمیٹے اور اٹھنے لگا، تبھی امت بولا: ایک اور بازی کھیلتے ہے .. میں هےران تھا کی آخر اب امت کے پاس کیا بچا ہے جو وہ لگائے گا .. اس نے میری پریشانی بھانپ لی اور بولا: چال پر رہے گی، میری بی بی کی کس، ہر 1000 کے بدلے ایک کس بولو منظور ہے .. میں: جی ہاں ..پر کس کہاں کرنی ہے، وہ میں نے ڈيسايڈ کروں گا .. وہ میری بات کا مطلب سمجھ گیا ... اور اس نے ہاں میں سر ہلایا .. مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کی آج امت کو ہو کیا گیا ہے اكھر وہ کیوں اپنی نئی نویلی بیوی کو ایسے اپنے دوستوں کے سامنے داؤ پر لگا کر جوا کھیل رہا ہے .. اور دیکھا جائے تو میرا کوئی نمسان نہیں تھا ..میں تو جیت میں تھا اور جیتا ہوا ہمیشہ بادشاہ کی طرح سوچتا ہے .. میں: پر بھابھی تو ناراض ہو کر اندر چلی گئی ہے، پہلے ان کو تو منع کر لے آ، پھر کھیل شروع کریں گے .. وہ اٹھ کر اندر چلا گیا. اس کے جاتے ہی ملا اور جوکر مجھ ٹوٹ پڑے: سالے حرامی، .... تو نے تو کمال کر دیا ... سارے پیسے بھی جیت لئے تو نے اور ... اور ... بھابھی پر بھی ہاتھ صاف کر دیا ... یار ہمیں بھی تو مزے دلا نہ .... پليس .... ہم کچھ بھی کرنے کو تیار ہے .... پليس یار ... آپ کی دوستی کی كھاتير .... وہ دونوں ہاتھ جوڑ کر میرے سامنے گدگڑا رہے تھے ... میں نے کہہ: ٹھیک ہے ... پر تم دونوں ٹھیک ویسا ہی کرنا جیسا میں کہتا ... اور اگر کرتے رہے تو آج کی رات تمام یہیں پر اس کی بی بی کے ساتھ سہاگرات منائیں گے ... میری بات سن کر دونوں خوشی سے جھوم اٹھے ... اور پھر میں نے ان کو سمجھانا شروع کیا ... اندر سے انیتا اور امت کی چلانے کی آواجے آ رہی تھی .. امت: تم نے ہی تو بتایا تھا کی شادی سے پہلے تمہارا بوائے فرینڈ تھا جس کے ساتھ تم نے چوما چاٹی کی ہے ... اب کیوں شرما رہی ہے ... انیتا: وہ میں نے تمہیں اس لئے بتایا تھا کی ہمارے درمیان کوئی پردہ نہ رہے ... اس لئے نہیں کی تم اس بات کا پھايےدا اٹھا کر مجھے اپنے دوستوں کے درمیان تقسیم کرتے پھرو ... میں کوئی باجارو چیز نہیں ہ، جسے تم اپنے دوستوں کے ساتھ مزے لینے کے لئے لاتے تھے، شادی سے پہلے ... اوههه .... اب سمجھا ... ان دونوں نے ایک دوسرے کو شادی سے پہلے کی اپنی -2 کہانیا سنا دی ہوں گی ... جس کو لے کر یہ اب ایک دوسرے کو باتیں سنا رہے ہیں ... جو بھی تھا، ہم سب کو تو مجا آ رہا تھا امت نے سمجھایا: دیکھو ... تم یہی سوچ لو کی شادی سے پہلے جو مزے تم نے لئے ہے، وہی تم اب بھی لے رہی ہو ... اور صرف کس کرنے سے کچھ نہیں ہوتا ... اور پتہ ہے تمہاری کس کی قیمت کیا ہے ... ایک ہزار روپے ... چلو جلدی سے اب ... مجھے پکا یقین ہے کی اب میں ہارنے والا نہیں ہ ... میرے سارے پیسے ختم ہو چکے ہیں ... والد صاحب نے کل ہی مجھے 10 ہزار دیے تھے، ایک پارٹی کو دینے کے لئے ... وہ بھی ہار گیا ہ میں ... وہ جب تک نہیں جیت لوں گا، مجھے چین نہیں آنے والا ... اب کی بار انیتا کی کوئی آواز نہیں آئی ... لگتا ہے وہ مان گئی تھی ... کچھ دیر بعد امت باہر آیا ... اور اس کے پیچھے -2 انیتا بھابھی بھی .. اور آکر وہ امت کے ساتھ بیٹھ گئی .. جوکر نے پےگ بنائے اور میں نے پتے بانٹے .. کھیل پھر سے شروع ہو گیا تھا .. میرے اور امت کے درمیان۔ میں نے ایک ہزار کی بلايڈ چلی، وو اس لئے کی اب انیتا بھابھی کی ایک کس کی قیمت ایک ہزار تھی، اور امت تو صرف ان کی کس کے بدلے چال چل سکتا تھا ... اور امت کے پاس تو پیسے تھے ہی نہیں، اس کے مطابق تو ہر چال یا بلايڈ مطلب میری طرف سے ایک ہزار روپے ... امت نے بھی ایک کس کی بلايڈ چلی ... میں نے بھی ایک ہزار روپے درمیان میں پھینکے اور بلايڈ چلی. اور اگلی بار بلايڈ چلنے سے پہلے میں نے اپنے پتے اٹھا لیے .. بکواس پتے آئے تھے .. میں نے پےك کر دیا .. درمیان میں پڑے ہوئے 2 ہزار روپے امت نے خوشی سے اٹھا لئے اور آپ کی بی بی کے ہاتھ میں دے دیے ... آخر اس کی ہی کمائی تھی وہ. وہ بھی خوش ہو گئی. پھر سے چھوڑ دیتا بانٹے گئے كمرے میں تمام دم سادھے صرف پتتو کو دیکھ رہے تھے .. میں نے اپنا گلاس خالی کیا دو کاجو اٹھا کر منہ میں ڈالے ور انیتا کی طرف دیکھ کر ایک ہزار کی بلايڈ ماری. امت نے ایک ہزار روپے (جیتے ہوئے) درمیان میں ڈالے اور بلايڈ ماری. میں نے دو بار اور بلايڈ چلی. اب امت کے پیسے پھر سے ختم تھے سنے ان کے پتیوں اٹھائے اور کچھ سوچنے کے بعد 2 ہزار (ياني 2 كسسےس) کی شو مانگی ... میں نے بغیر دیکھے اپنے پتے اس کے سامنے پھینک دئے .. میرے پاس ایک اکا تھا، ایک ستتي اور ایک پجي .. اس کے پاس صرف ایک بادشاہ تھا (جس کے اوپر اس نے شو مانگی تھی) باقی دونوں پتے چھوٹے تھے ... وہ ہار چکا تھا بيچ میں پڑے ہوئے 2 ہزار روپے بھی اور انیتا کی دو كسسےس بھی .. میں نے انیتا کی طرف دیکھا وو شرم سے گاڑی جا رہی تھی .... پر میرے پاس آنے میں قطرہ رہی تھی .. امت نے دھیرے سے اس سے کہا: جا سالی ... ڈرامہ مت کر دوبارہ .. وہ غصے سے تلملا اٹھی ... پر اس کے پاس کوئی چارہ بھی نہیں تھا ... امت نشے میں بھی تھا ... اور جوئے میں ہار بھی چکا تھا سلے اس کو غصہ بھی آ رہا تھا ... وہ میری طرف آنے لگی تو میں نے جوکر کی طرف دیکھا اور بولا: ارے یار ... میں نے تجھ ابھی ایک ہزار روپے لئے تھے نہ ... چل تو میری طرف سے بھابھی کی ایک پپی لے لے ... اور تیرا میرا حساب برابر .. امت: یہ کیا ہے ... بات تیری ہوئی تھی ... اس کو کیوں دلوا رہا ہے ... میں: ابے سالے ... مجھے مت سکھا کی میں کیا کرو ... بھول گیا همنے آج سے پہلے جب بھی مل کر رنڈی چودي ہے تو سب مل کر ہی پیسے دیتے تھے نہ اس کو ... اب اگر میں كهو کی میری جیت میں جوکر کے ایک ہزار روپے کا بھی تعاون ہے تو اس کا بھی تو حق بنتا ہے نہ اپنا حصہ لینے کا ... بس وہی دے رہا ہ .. میں نے یہ بات تھوڑے سخت الفاظ میں کہی تھی ... تاکہ آگے ہمیں زیادہ پریشانی نہ ہو جب بات اس سے بھی آگے بڑھ جائے تو .. میرا غصے والا طور دیکھ کر اور آپ کی بی بی کے سامنے میرے منہ سے رنڈی والی بات سن کر وہ چپ سا ہو گیا ... اور غصے سے بھڑک رہی اس کی بی بی امت کو گھور کر دیکھے جا رہی تھی سكو آج ثبوت بھی مل گیا تھا اس کی ايياشي کو ثابت کرنے کا .. میں نے انیتا کی طرف دیکھا اور کہا: بھابھی .... آپ جلدی آو نہ ... آگے بھی تو کھیل کھیلنا ہے ... وہ اٹھی اور جوکر کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی ... اس کے تو وارے نيارے ہو گئے جیسے ... وہ انیتا بھابھی کے کان تک آ رہا تھا ... اس نے اچك کر انیتا کے چہرے کو اپنے ہاتھو میں جکڑا اور اسے اپنی طرف کھینچ کر اسکے ہوںٹھو کو چوسنے لگا .... وہ کسمسا کر رہ گئی ... پر کچھ نہ بولی .. ایک منٹ کے بعد جب جوکر نے اس کا مکمل رس پی لیا تو وہ هاپھتي ہوئی پیچھے ہٹی .... اور اپنے ہوںٹھو کو سہلاتے ہئے بولی .... جنگلی .. ہم سب کے ہوںٹھو سے ہنسی چھوٹ گئی ... بس امت ہی تھا جو اپنا سر جھکائے بیٹھا تھا اب دوسری کس کی باری تھی ... جسے میں نے لینا تھا ... وہ میرے پاس آئی ... میں سوفی پر بیٹھا رہا وو میرے اوپر جھکی ... اور اپنا چہرہ میری طرف بڈھایا ... آنکھیں بند تھی اس کی ... ساںسے تیز چل رہی تھی ... پر میں نے کچھ نہیں کیا ... اس نے اپنی آنکھیں کھولی ... اور هےرت بھرے لہجے سے بولی: کرو اب ... میں: اب تمہارے ہوںٹھو پر نہیں چاہئے مجھے كسسس يها چاہئے .... اور یہ کہتے ہوئے میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے جھول رہے موٹے مممو کو پکڑ کر ہول سے دبا دیا .... وہ چهك اٹھی ... اور غصے سے بپھر کر زور سے بولی: پاگل ہو گئے ہو کیا لالہ ... تم نے مجھے سمجھ کیا رکھا ہے .... میں: بھابھی .... زیادہ غصہ نہ کرو ... میری اور امت کی یہی بات ہوئی تھی ... کی آپ کی ایک كسس کی قیمت ایک ہزار ہوگی ... پر وہ كسس کہا لینی ہے وو میں طے کروں گا .. . انیتا امت کی طرف پلٹی: دیکھ رہے ہیں اس کے دوست کی بدتميجي ... کیا بول رہا ہے یہ ... وہ سالا کیا بولتا، اس کا چہرہ تو جھکا ہوا تھا ... اپنے شوہر کی طرف غصے میں دیکھتی ہوئی وہ جورو سے چللا اٹھی .... تم جیسے نامرد ہی ہوتے ہے جو اپنی بيبيو کی عزت سرعام نیلام کر دیتے ہیں ... آج میں کس اور ایک دللے میں فرق ہی کیا رہ گیا ہے .. .. پر اس کی باتوں کا امت پر کوئی فرق ہی نہیں پڑ رہا تھا .. امت کی طرف سے کوئی ردعمل نہ آتا دیکھ کر انیتا غصے میں بھر اٹھی اور اس نے اپنی ساڈی کے پلو کو ایک ہی جھٹکے میں اپنی چھاتی سے نوچكر نیچے گرا دیا .... انیتا: لے کر لے تو بھی اپنی من مانی ... جب میرے شوہر کو ہی کوئی شرم نہیں ہے تو میں کیا کر سکتی ہ ... واو .... کیا سین تھا ... ایک دم تنے ہوئے مممے ... برا کی شیپ بھی صاف دکھائی دے رہی تھی ..... غصے سے اس کا سینہ اوپر نیچے ہوتا ہوا غضب ڈھا رہا تھا ... میں اٹھ گیا اور اپنے ہاتھ آگے بڈھايے ... اسکے بلاس کے ہک کھولنے کے لئے .... پر ایک دم سے اس نے اپنی چھاتی کے اوپر اپنے ہاتھ رکھ لئے .... اور میرے سامنے ہاتھ جوڑ دیے .....: بھیا .... مجھے ایسا جليل نہ کرو .... پليس ..... اسے شاید يكي تھا کی میں شاید اس کے ساتھ ایسا نہ کر پاو ..پر میں تو ایک بڑی تعداد کا حرامی تھا .. میں: ارے بھابھی ... آپ کیوں پریشان ہوتی ہے ... میں نے امت کو پہلے ہی بولا تھا یہ سب ہوگا ... اب ہارنے کے بعد اگر آپ ایسا کریں گی تو کیسے چلے گا ... جب جیتے ہوئے پیسے ہاتھ میں آئے تھے تو خوش بھی تو ہو رہی تھی نہ آپ ... وہ جھینپ گئی میری بات سن کر ... پر اپنی عزت پر ہاتھ بڑھتا دیکھ کر اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے .... میں نے اس کے ہاتھو کو پیچھے کرنا چاہا پر اس نے ہاتھ نہیں هٹايے ..... میں نے امت کو دیکھا ... وہ بت بنا بیٹھا تھا ... اور پھر میں نے ملا کو اشارہ کیا .... وہ ایک دم سے اٹھا اور پیچھے سے جا کر انیتا کے دونوں ہاتھو کو پیچھے کی طرف موڑ کر کھڑا ہو گیا .... انیتا بے بس سی ہو کر رونے لگی .... اس کے سینے میری طرف تن کر کھڑی تھی .... میں نے اپنے ہاتھ اس کی طرف بڈايے .... اور ہول سے اپنے دونوں پنجے اس کے سینے کے اوپر جمع دیے .... اوههههه پھكككك .... کیا چیز تھے وہ .... میرے انگوٹھے اس كليوےج کو چھ رہے تھے ... بالکل ٹھنڈا گوشت تھا اس کا .... اور اتنا ہی ملائم .... میں نے ایک ہی جھٹکے سے اسکے بلاس کو پکڑا اور ہک کھولنے کے بدلے جھٹکا دے کر توڑ ڈالا .... اور ہک کے ٹوٹتے ہی اسکے بلاس کے پلے سائیڈ میں کر دئے .... اب میرے سامنے تھی بے بسی سے چھتتپٹاتي ہوئی انیتا بھابھی کی پںک برا میں قید بریسٹ .... میں نے ان کی طرف محبت سے دیکھا ... اور ایک ہی جھٹکے میں میں نے اس کی برا کو درمیان سے پکڑ کر کھینچ دیا اور وہ بیچ میں سے پھٹ کر الگ ہو گئی اور وہ بھی دونوں طرف لٹک گئی ... انیتا: سالے ..... کتے .... میرا بلاس اور برا کیوں پھاڑي .... آپ کی بی بی کی آواز سن کر امت نے اوپر دیکھا ... میں نے نجرے اس کی طرف گھما دی ... اور آنکھوں ہی آنکھوں میں میں نے اس کو ہارنے کا احساس دوبارہ دلایا اور اس نے اپنی نجرے دوبارہ جھکا لی ... ملا نے بڑی مشکل سے انیتا بھابھی کو پکڑ کر رکھا ہوا تھا .... اور سامنے سے ننگی ہو جانے کی وجہ سے وہ انیتا کے کندھے سے اپنے سر لگا کر آگے لٹک رہے مممو کو دیکھنے کی کوشش بھی کر رہا تھا ... اور یہ وجہ اس کا لمبا لنڈ انیتا کی گاںڈ میں چبھ رہا تھا ... اور سامنے کی طرف بیٹھا ہوا جوکر شاید یہ سوچ رہا تھا کی اس نے کیوں نہیں سوچا انیتا بھابھی کو ایسے کس کرنے کے لئے ... پر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا. .. میں نے بغیر کوئی تاخیر ریٹویٹ اپنے ہاتھ اس کے موٹے اور نرم مممو پر رکھے اور انہیں دبا دیا ... اور دبانے سے اس کے نپل اور بھی زیادہ ابھر باہر کی طرف نکل آئے اور میں نے اپنا پورا منہ کھول کر اس کی دائیں بریسٹ کو اپنے منہ میں گھسےڈ لیا ... اور زیادہ سے زیادہ اندر لے کر اس کو پا کرنے لگا .... یعنی کس کرنے لگا ..... اهههههههه .......... اس کے منہ سے بس اتنا ہی نکل سکا ..... آنسو نکل کر اب بھی میرے سر کے اوپر گر رہے تھے .... انیتا کا آدھے سے زیادہ ممم میرے منہ میں تھا ... میں نے مکمل طور پر چوسنے کے بعد اس کو چھوڑ دیا ... ملا نے بھی ان کے ہاتھ چھوڑ دیئے ... اور وہ پھپھكتي ہوئی ... اپنے ہاتھو سے اپنی ننگی چھاتی کو ڈھكتي ہوئی امت کے ساتھ ہی سوپھے پر بیٹھ کر رونے لگی .. ملا اور جوکر نے شاید سوچا تھا کی اب آگے کھیل نہیں ہو گا ... پر مجھے مالم تھا کی ہارا ہوا جواری اپنے پےسو کو واپس حاصل کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے ... اور اب تو اسے اپنی بی بی ملی ہوئی تھی .. جها ایک بار کر لیا، دوبارہ کرنے میں کوئی پرابلم نہیں ہونی چاہئے اب تو ... یہی سوچ کر اس نے تاش اٹھائی اور پتے بانٹنے لگا .... اپنے شوہر کو دوبارہ پتے باٹتے ہوئے دیکھ کر وہ هےراني سے امت کو دیکھنے لگی ..: شرم تو نہیں آتی آپ کو ... اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی آپ اور کھیلنے میں مصروف ہیں ... میری عزت کو مکمل طور پر نیلام کروانا چاہتے ہو کیا .... امت کچھ نہ بولا اور میری طرف دیکھ کر کہا: میری ایک بلايڈ آئی ... مطلب اس کو اپنی بیوی کے بولنے کا کوئی اثر نہیں پڑ رہا تھا .... میں نے بھی ایک ہزار کا نوٹ درمیان میں ڈال دیا .. 3 بلايڈ چلنے کے بعد میں نے اپنے پتے اٹھا کر دیکھے ... میرے پاس 2 اٹھی آئی تھی ... میں نے 2 ہزار کی چال چلی ... اس نے بھی چھوڑ دیتا اٹھائے اور دیکھنے کے بعد 2 ہزار کی چال بولی ... میں نے پھر سے 2 ہزار کی چال چلی ..

Posted on: 08:13:AM 14-Dec-2020


1 0 151 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 1 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 70 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com