Stories


وطن کا سپاہی از گڈ لک


رات کے 3 بج رہے تھے اور شاہ فیصل کالونی سے ایک 2006 ماڈل کی کرولا 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شمع شاپنگ سینٹر کے سامنےسے ہوتی ہوئی شاہراہِ فیصل فلائی اور کراس کرنے کے بعد شاہراہِ فیصل پر چلی گئی۔ شاہراہِ فیصل پر آتے ہی گاڑی کی سپیڈ میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا تھا۔ ڈرائیور شاید بہت جلدی میں تھا رات کے 3 بجے اگرچہ سڑک بالکل سنسان نہیں تھی، کسی حد تک ٹریفک موجود تھی شاہراہ پر مگر کالے رنگ کی یہ کرولا گاڑی اب 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی سپیڈ پر جا رہی تھی۔ ڈرائیور انتہائی مہارت کے ساتھ دوسری گاڑیوں سے بچاتا ہوا اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ راشد مہناس روڈ کو جانے والے ٹرن کے قریب ڈرائیور کو ٹرانسمیٹر پر ایک کال موصول ہوئی جسمیں اسے ایک ہنڈا اکارڈ گاڑی کے بارے میں اطلاع دی گئی جو کچھ ہی دیر پہلے اسی جگہ سے گزری تھی۔ ہنڈا اکارڈ کی سپیڈ 90 کلومیٹر فی گھنٹہ بتائی گئی اور اسکو اس جگہ سے گزرے کوئی 5 سے 10 منٹ ہو چکے تھے۔
یہ معلومات ملتے ہی ڈرائیور نے اپنی گاڑی کی سپیڈ اور بڑھا دی کیونکہ وہ جلد از جلد ہنڈا اکارڈ گاڑی کو ڈھونڈنا چاہتا تھا۔ نرسری فلائی اور کراس کرنے کے بعد گورا قبرستان کے قریب کرولا کے ڈرائیور کو دور سرخ لائٹ نظر آنا شروع ہوئی جو شاید کسی کار کی بیک لائٹس ہی تھیں۔ اسکو دیکھ کر کرولا کے ڈرائیور نے اپنی رفتا میں کمی کی اور اب 150 کی بجائے 100 کی رفتار کے ساتھ اس گاڑی کے پیچھے جانے لگا۔ کچھ ہی دیر میں یہ فاصلہ اور کم ہوگیا اور اب کرولا کا ڈرائیور اپنی رفتار کو 90 کلومیٹر فی گھنٹہ پر لے آیا۔ سامنے جانے والی کار ہنڈا اکارڈ ہی تھی جسکا پیچھا کرنا تھا۔ اور اس میں موجود شخص کے بارے میں معلومات حاصل کرنا تھیں۔ ہنڈا اکارڈ میں کوئی اور نہیں بلکہ انڈین آرمی کا کرنل اور بدنامِ زمانہ تنظیم راء کا خاص ایجینٹ کرنل وِشال سنگھ تھا جو اپنے خاص مشن پر پچھلے کافی دنوں سے کراچی میں موجود تھا۔

پاکستان کی خفیہ ایجینسی بھی کافی دنوں سے کرنل وشال کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے تھی مگر وہ ابھی تک یہ سمجھنے میں ناکام تھے کہ آخر کرنل وشال پاکستان میں کس مقصد سے آیا ہے اور آیا کہ وہ اب تک اپنے مشن میں کامیاب ہو سکا ہے یا نہیں اس بارے میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ابھی تک کچھ معلوم نہ کر سکی تھی۔ میجر دانش گو کہ ایک ہونہار جوان تھا جس نے پاکستان آرمی میں کم عمری میں ہی بہت نام بنایا تھا مگر اب وہ آئی ایس آئی کا بھی سپیشل ایجنٹ تھا۔ آئی ایس آئی اپنے خاص کاموں کے لیے اکثر میجر دانش کا ہی انتخاب کرتی تھی اور آج بھی رات کے 3 بجے میجر دانش کو خاص طور پر کرنل وِشال سنگھ کا پیچھا کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ میجر دانش اپنی تیز ڈرائیونگ کے لیے پہلے ہی مشہور تھا اور آج بھی اس نے طوفانی رفتار سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے بالاآخر ہنڈا اکارڈ کو ڈھونڈ نکالا تھا۔

اب میجر دانش اگلی کار سے مناسب فاصلہ رکھتے ہوئے مسلسل اسکے پیچھے جا رہا تھا۔ روڈ بالکل سیدھا تھا، ہنڈا اکاڑ شاہراہِ فیصل کو چھوڑ کر کلب روڈ سے ہوتی ہوئی اب مولوی تمیز الدین روڈ پر 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی سپیڈ سے جا رہی تھی۔ مولوی تمیز الدین روڈ سے بحریہ کمپلیکس اور پھر وہاں سے گاڑی نے اچانک ایک موڑ لیا اور سیدھی کراچی پورٹ کی طرف جانے لگی۔ یہ عام گزرگاہ نہیں تھی۔ یہاں پر پولیس اور رینجرز کی طرف سے خاص طور پر چیکنگ کی جاتی تھی۔ میجر دانش نے دیکھا کہ ہنڈا اکارڈ آگے آنے والی چیک پوسٹ پر کچھ دیر کے لیے رکی ہے۔ یہاں پر رینجرز ہر آنے والی گاڑی کو خصوصی طور پر چیک کرتے تھے۔ میجر دانش نے بھی گاڑی آہستہ رفتار سے چلنے دی۔ جب میجر دانش کی گاڑی آگے کھڑی ہنڈا اکارڑ کے بالکل قریب پہنچ گئی تو میجر دانش نے دیکھا رینجر اہلکار نے ہنڈا اکارڈ میں موجود پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے شخص کو سلیوٹ کیا اور ڈرائیور کو ایک کارڈ پکڑا دیا۔ اسکے ساتھ ہی ہنڈا اکارڈ آگے چلی گئی۔

میجر دانش کی گاڑی کو بھی رینجرز اہلکار نے چیکنگ کے لیے روکا تو میجر نے اپنا کارڈ رینجر اہلکار کو دکھایا۔ اہلکار نے وہ کارڈ ساتھ بیٹھے اپنے افسر کو دیا جس نے کارڈ کو خصوصی طور پر چیک کرنے کے بعد میجر دانش کو بھی آگے جانے کی اجازت دی اور اہلکار نے میجر دانش کو سلیوٹ مار کر کارڈ واپس کر دیا۔ میجر دانش نے سلیوٹ مارنے والے شخص سے پوچھا کہ اگلی گاڑی میں کون تھا تو اسنے بتایا کہ اگلی گاڑی میں لیفٹینینٹ کرنل ہارون موجود تھے جو کسی اہم کام سے بندر گاہ کی طرف جا رہے ہیں۔ یہ سنتے ہی میجر دانش کو فکر لاحق ہوگئی۔ کیونکہ اگلی گاڑی میں تو کرنل وشال موجود تھا۔ اور وہ انتہائی مہارت کے ساتھ رینجرز اہلکار کو دھوکا دیکر ایک پاکستانی لیفٹینینٹ کرنل کے حلیے میں کراچی پورٹ پہنچ چکا تھا اور رینجر اہلکار اسکو پہچاننے میں ناکام رہے تھے۔

یہ سنتے ہی میجر دانش نے اپنی گاڑی چلائی اور ہنڈا اکارڈ کو ڈھونڈنے لگا۔ کچھ ہی دور جا کر میجر دانش کو ہنڈا اکارڈ مل گئی۔ اسکی لائٹس بند ہو چکی تھیں۔ میجر دانش نے اپنی گاڑی دور کھڑی کی اور پیدل ہی ہنڈا اکارڈ کی طرف بڑھنے لگا۔ میجر دانش اس وقت اپنی یونیفارم کی بجائے شلوار قمیص میں ملبوس تھا۔ وہ بہت ہی احتیاط کے ساتھ ہنڈا اکارڈ کی طرف جا رہا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ کرنل وشال راء کا سب سے خطرناک ایجینٹ ہے اور اپن کام میں ماہر ہے۔ وہ آج تک اپنے کسی بھی مشن میں ناکام واپس نہیں لوٹا تھا۔ اور آئی ایس آئی جانتی تھی کہ اس بار بھی کرنل وشال ہو نہ ہو کسی خطرناک مشن پر ہی پاکستان میں موجود ہے۔ مگر اس پر ہاتھ ڈالنا اتنا آسان نہیں تھا۔ کچھ ہی دیر میں میجر دانش ہنڈا اکارڈ کے قریب پہنچ چکا تھا اسکو دور سے دیکھ کر ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ گاڑی میں کرنل موجود نہیں۔ وہ گاڑی کے قریب پہنچا تو اکارڈ کا ڈرائیور ابھی تک گاڑی میں موجود تھا اور ڈرائیونگ سیٹ پر چاک و چوبند بیٹھا تھا۔

میجر دانش نے ڈرائیور سے پوچھا کہ تم یہاں کیوں کھڑے ہو اور یہ کس کی گاڑی ہے؟ تو ڈرائیور نے بتایا کہ لیفٹینینٹ کرنل ہارون صاحب تشریف لائے ہیں انہیں یہاں کوئی کام ہے۔ یہ کہ کر ڈرائیور دوبارہ اپنی مستی میں گاڑی میں لگے گانے سننے لگا اور میجر دانش انتہائی احتیاط کے ساتھ مگر بہت ہی لا ابالی طریقے سے آگے بڑھنے لگا۔ 32 سالہ میجر دانش اپنے چاروں طرف کے حالات سے اچھی طرح باخبر تھا، اسکی چھٹی حس اسکو آنے والے خطرے کے بارے میں بھی بتا رہی تھی مگر وہ بظاہر نارمل انداز میں چلتا جا رہا تھا۔ کچھ دور اسکو پاکستانی یونیفارم میں ایک آرمی آفیس نظر آیا جو ایک ہی لمحے میں غائب ہوگیا۔ میجر دانش نے سوچا ہو نہ ہو یہ کرنل وشال سنگھ ہی ہوگا۔ جو اس وقت تمام سیکورٹی کو چکمہ دیکر پاکستانی لیفٹینینٹ کرنل کے حلیے میں انتہائی حساس علاقے میں موجود ہے۔

جس وہ شخص جاتا نظر آیا تھا اور ایک دم سے غائب ہوگیا تھا وہیں سے ایک گاڑی نکلی جو اب بندر گاہ سے ہوتی ہوئی کیماڑی کی طرف جا رہی تھی۔ میجر دانش نے بھی فورا واپسی اختیار کی اور بھاگتا ہوا اپنی گاڑی میں جا کر بیٹھا اور اسی طرف چل پڑا جہاں دوسری گاڑی جا رہی تھی۔ کیماڑی جیٹی پہنچ کر میجر دانش کو وہی گاڑی دوبارہ نظر آئی مگر اس وقت اس میں کوئی بھی شخص موجود نہیں تھا۔ میجر دانش فورا وہاں سے بھاگتا ہوا اس سائیڈ پر گیا جہاں پر بوٹس موجود ہوتی ہیں۔ وہاں سے میجر دانش کو پتا لگا کہ ہارون صاحب، جو کہ اصل میں کرنل وشال تھا، ایک بوٹ پر سوار ہوچکے ہیں جو ابھی منوڑا بیچ کی طرف جائے گی۔ میجر دانش بھی سیکورٹی اہلکار سے نظر بچا کر اس بڑی سی بوٹ میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد بوٹ دوسری سائیڈ پر پہنچ چکی تھی اور کرنل وشال اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ بوٹ سے اتر گیا۔ موقع دیکھ کر میجر دانش بھی بوٹ سے نیچے اترا۔ نیچے اتر کر میجر دانش نے دیکھا کہ کرنل وشال کے لیے ایک کالے رنگ کی پجارو کھڑی ہے۔ کرنل وشال اپنے 2 ساتھیوں کے ساتھ پجارو پر سوار ہوا اور کچھ ساتھی واپس اسی بوٹ کی طرف جانے لگے۔

میجر دانش سمجھ گیا تھا کہ اب انکا رخ منوڑا بیچ کی طرف ہی ہوگا جہاں سے بڑے بڑے جہاز سمندری راستے سے دنیا کے مختلف ملکوں کی طرف روانہ ہوتے تھے۔ عام طور پر سمندری جہاز کے ذریعے بڑے بڑے سمگلر سفر کرتے ہیں اور میجر دانش کے ذہن میں پہلا خیال یہی آیا کہ کرنل وشال کسی قیمتی چیز کی سمگلنگ میں انوالو ہے، مگر اگلے ہی لمحے میجر دانش نے اس خیال کو اپنے ذہن سے نکال دیا کہ سمگلنگ کے لیے راء جیسی ایجنسی کبھی بھی کام نہیں کرے گی۔ ایسا کام تو چھوٹے موٹے سمگلرز کے ذریعے کروایا جا سکتا ہے، کرنل وشال کا اس معاملے میں شامل ہونا کسی بڑے خطرے کی طرف اشارہ تھا۔ کالے رنگ کی پجارو یہاں سے جا چکی تھی، اور میجر دانش اب پیدل ہی منوڑا بیچ کی طرف جا رہا تھا۔ میجر دانش بھاگتا ہوا یہ سارا راستہ طے کر رہا تھا۔ پجارو سڑک کے راستے جا رہی تھی جبکہ میجر دانش شارٹ کٹ استعمال کرتا ہوا اپنی منزل کی طرف جا رہا تھا۔ صبح کی ہلکی ہلکی روشنی ہو رہی تھی اور اب بغیر لائٹس کے بھی کافی حد تک نگاہ کام کرنے لگی تھی۔

آدھا گھنٹہ مسلسل بھاگنے کے بعد میجر دانش کے پھیپھڑے جواب دینے لگے تھے۔ اسکا سانس دھوکنی کی طرح چل رہا تھا اب اس میں مزید بھاگنے کی ہمت باقی نہیں رہی تھی۔ مگر ایک انجانا خوف اسکو رکنے نہیں دے رہا تھا۔ کرنل وشال آخر پاکستان کا ایسا کونسا راز لے کر جا رہا تھا یہاں سے؟؟؟ وطنِ عزیز کو آنے والے خطرے کا سوچ سوچ کر میجر دانش کا حوصلہ اور بڑھ رہا تھا اور وہ بغیر رکے مسلسل بھاگتا جا رہا تھا۔ آخر کا ر میجر دانش کو دور ایک جہاز دکھائی دیا۔ جو روانگی کے لیے طیار تھا۔ لیکن یہاں سے ابھی بھی ایک کلومیٹر کا سفر طے کرنا باقی تھا جو میجر دانش نے تقریبا بھاگتے ہوئے ہی طے کیا۔ راستے مِں کچھ دیر کے لیے اپنے آپکو لوگوں کی نظروں میں آنے سے بچانے کے لیے میجر دانش کسی چیز کی اوٹ لے کر رک بھی جاتا تاکہ وہ کرنل وشال کو رنگے ہاتھوں پکڑ سکے۔ جب میجر دانش جہاز کے بالکل قریب پہنچ گیا تو وہاں سے جہاز تک جانا میجر دانش کے لیے نا ممکن ہوگیا تھا۔

میجر دانش نے ایک بار سوچا کہ وہ یہاں موجود تمام سیکورٹی اہلکارز کو بتا دے کہ یہ پاکستانی یونیفارم میں لیفٹینینٹ کرنل ہارون صاحب نہیں بلکہ راء کا ایجینٹ کرنل وشال ہے مگر پھر اس خیال کو بھی میجر دانش نے ترک کردیا، مبادا سیکورٹی اہلکار بھی بھیس بدل کر آئے ہوں اور حقیقت میں وہ بھی راء کے ہی ایجینٹ ہوں یا پھر راء نے انکو بھاری رقم کے عوض خرید لیا ہو۔ ایسی صورت میں میجر دانش خود خطرے میں پھنس سکتا تھا۔ جو راستہ جہاز کے ڈیک کی طرف جاتا تھا وہاں پر 10 کے قریب مسلح افراد موجود تھے اور ایسی صورت میں ان سے پنگا لینے کا مطلب تھا آبیل مجھے مار۔ اگر عام حالات میں 10 مسلح افراد سے لڑنا ہوتا تو میجر دانش ایک لمحے کو بھی نا سوچتا، مگر یہاں مسئلہ انسے لڑنے کا نہیں بلکہ کرنل وشال کو پکڑنے کا تھا۔ جو یقنیا پاکستان سے کوئی قیمتی راز چرا کر دشمن ملک جا رہا تھا۔ آخر کار میجر دانش نے دوسرا راستہ اختیار کیا، جہاز کے ڈیک کی جانب جانے کی بجائے میجر دانش نے خاموشی سے ایک سائیڈ پر پڑی لائف ٹیوب اٹھائی اور سمندر کے پانی میں اتر گیا۔ گو کہ میجر دانش بہت اچھا تیراک بھی تھا مگر وہ بغیر آواز پیدا کیے جہاز تک پہنچنا چاہتا تھا جسکے لیے لائف ٹیوب کا استعمال ہی بہترین طریقہ کار تھا۔ ٹیوب کی مدد سے میجر دانش سمندری پانی میں موجود بنائے گئے عارضی راستے کے نیچے ہو لیا۔

یہاں پانی کی گہرائی تو زیادہ نہیں ہوتی مگر ایک عام تیراک کے لیے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اس پانی میں اتر سکے۔ لکڑی کےپھٹوں کی مدد سے بنائے گئے راستے استعمال کیے جاتے ہیں اور میجر دانش انہی پھٹوں کے نیچے نیچے جہاز کی طرف جا رہا تھا۔ جہاز کے انتہائی قریب پہنچ کر میجر دانش بہت چوکنا ہوگیا کیونکہ اسکے عین اوپر مسلح افراد موجود تھے جو آپس میں کچھ باتیں کر رہے تھے۔ میجر دانش نے انکی باتیں سننے کی کوشش کی مگر صحیح طور پر سمجھ نہیں پایا۔ یہاں پر میجر دانش کی چھوٹی سی غلطی بھی پانی میں آواز پیدا کر کے اوپر کھڑے مسلح افراد کو چوکنا کر سکتی تھی اس لیے میجر دانش بہت ہی احتیات کے ساتھ جہاز کے بالکل قریب پہنچا۔ جہاز اب چلنے کے لیے بالکل تیار کھڑا تھا۔ اور اس پر سوار ہونا ناممکن تھا جبکہ میجر دانش واپس بھی نہیں جا سکتا تھا۔

میجر دانش نے فورا ہی اپنے اطراف کا جائزہ لیا تو اسے خوش قسمتی سے ایک چھوٹا پائپ پانی پر تیرتا ہوا مل گیا۔ سمندری حدود میں عموما بہت سا فضلہ اور گندا سامان موجود ہوتا ہے، پاکستان میں صفائی کا ناقص انتظام ہونے کی وجہ سے پانی نا صرف بہت زیادہ گدلا ہوتا ہے بلکہ اس میں بہت سا کٹھ کباڑ بھی موجود ہوتا ہے۔ یہی چیز آج میجر دانش کے کام آئی اور اسے ایک پائپ مل گیا۔ میجر دانش جہاز کے بالکل قریب تھا، جیسے ہی جہاز چلنے لگا اور اسکے حفاظتی بند توڑے گئے تو پانی میں بہت زیادہ شور پیدا ہوا جو کہ معمول کی بات تھی، اسی شور کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میجر دانش نے ایک ڈبکی لگائی اور پانی کے نیچے جا کر جہاز کے ساتھ ایک سپورٹ کو پکڑ کر کھڑا ہوگیا۔ میجر دانش نے اپنا سانس روک رکھا تھا ۔ سپیشل ٹریننگ کی وجہ سے میجر دانش کم سے کم 3 منٹ تک با آسانی پانی میں اپنا سانس روک سکتا تھا۔ اور ان 3 منٹوں میں جہاز ان مسلح افراد سے کافی دور پہنچ چکا تھا۔ جب میجر دانش کو مزید سانس روکنے میں دشواری کا سامنا ہونے لگا تو اس نے پائپ کا سہارا لیا۔ پائپ پانی کی سطح سے کچھ اوپر باہر نکال لیا اور نیچے سے اپنے منہ کو لگا لیا۔ جس سے میجر دانش کو اب سانس لینے میں آسانی ہو رہی تھی۔ مگر پانی میں جود کیمیکلز اور دوسرے گندے فضلے میجر دانش کے جسم پر بہت برا اثر ڈال رہے تھے۔ ایسے علاقوں میں اکثر جہازوں کا تیل بھی سمندری پانی میں ہی چھوڑ دیا جاتا ہے جو مچھلیوں کی زندگی کے لیے زہر کا کام کرتا ہے۔ میجر دانش کے لیے اس پانی میں اپنی آنکھیں کھولنا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ وہ محض پائپ کی مدد سے سانس لینے پر ہی گزارا کر رہا تھا اور اس انتظار میں تھا کہ جہاز بندرگاہ سے دور نکل جائے تاکہ وہ لوگوں کی نظروں میں آئے بغیر جہاز پر چھڑ سکے۔

مزید 10 منٹ گزرنے کے بعد میجر دانش کو احساس ہوا کہ شاید اب پانی کچھ صاف ہے کیونکہ اب اس میں چکناہٹ اور بدبو نہیں رہی تھی۔ میجر دانش نے آنکھیں کھولیں تو واقعی پانی قدرے صاف تھا جسکا مطلب تھا کہ اب جہاز بندرگاہ سے دور نکل آیا ہے۔ میجر دانش نے سپورٹ کی طرف دیکھ جس کو پکڑ کر وہ جہاز کے ساتھ ساتھ سفر کر رہا تھا ، وہاں ایسی بہت سی سپورٹ تھیں۔ یہ اصل میں لوہے کے راڈ سے سیڑھیاں بنائی گئی تھیں جنکی مدد سے کوئی بھی جہاز کی اوپر والی سطح تک پہنچ سکتا تھا۔ضرورت پڑنے پر سمندر کے درمیان انہی سیڑھیوں کا استعمال کرکے سمندری پانی میں اترا جاتا ہے اور جہاز کی بیرونی مرمت کی ضرورت ہو تو وہ کام بھی کیا جا سکتا ہے۔ انہی سیڑھیوں کی مدد سے میجر دانش نے پانی سے سر باہر نکالا اور فورا ہی پیچھے بندرگاہ کی طرف دیکھا جو اب خاصی دور رہ چکی تھی اور بالکل دھندلی نظر آرہی تھی۔ اب کم سے کم وہاں سے کوئی بھی میجر دانش کو نہیں دیکھ سکتا تھا۔ میجر دانش سیڑھیوں کا استعمال کرتے ہوئے جہاز کے اوپر چڑھ چکا تھا۔ حیرت انگیز طور پر یہاں سیکیورٹی کے لیے کوئی موجود نہیں تھا بالکہ ہر طرف خاموشی تھی۔

میجر دانش جھک کر چلتا ہوا اور اپنے آپ کو مختلف چیزوں کی اوٹ میں چھپاتا ہوا ایک کیبن تک پہنچ چکا تھا۔ یہاں سے جہاز کو کنٹرول کیا جاتا تھا۔ اندر پائلٹ بھی موجود تھا اور میجر دانش کو فورا ہی اندازہ ہوگیا کہ جہاز کا رخ مسقط اومان اور دوسرے عرب ممالک کی طرف تھا۔ یہ چیز میجر دانش کے لیے حیران کن تھی کیونکہ میجر دانش کے خیال کے مطابق کرنل وشال کو انڈیا جانا چہیا تھا مگر اس جہاز کا رخ دوسری طرف تھا۔ ابھی میجر دانش یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی رہا تھا کہ اسے دور سے ایک چھوٹا جہاز اسی طرف آتا نظر آیا۔ اور جس جہاز پر میجر دانش سوار تھا اسکی رفتار بھی سلو ہونے لگی۔ میجر دانش کی چھٹی حس نے کام کیا اور وہ فورا ہی دوبارہ انہی سیڑھیوں سے اتر کر پانی کے نیچے چلا گیا۔ وہ پائپ میجر نے اپنی شلوار کے نیفے میں پھنسا لیا تھا پانی کے نیچے جا کر میجر نے دوبارہ پائپ نکالا اور اسی کی مدد سے سانس لینے لگا۔ کچھ ہی دیر میں چھوٹا جہاز بڑے جہاز کی دوسری سائیڈ پر آکر رک گیا۔ میجر دانش نے پانی سے سر باہر نکالا تو اسے اطراف میں کچھ نظر نہ آیا، وہ پانی میں ہی جہاز کا سہارا لیکر دوسری طرف گیا تو اس نے دیکھا کہ کرنل وشال ایک سیڑھی کے ذریعے بڑے جہاز سے چھوٹے جہاز میں سوار ہو رہا تھا۔ میجر دانش ایک دفعہ پھر پانی کے نیچے گیا اور تیرتا ہوا چھوٹے جہاز کی دوسری سائیڈ پر پہنچ گیا اور وہاں بھی موجود پانی کے نیچے جہاز کے ساتھ لگی سیڑھیوں کا سہارا لیا۔ کچھ دیر کے بعد جہاز نے چلنا شروع کیا۔ اب کی بار اس جہاز کی رفتار پہلے جہاز سے بہت زیادہ تھی اور میجر دانش کو پانی کے نیچے رہنا مشکل ہوگیا تھا۔

وہ سیڑھیوں سے ہوتا ہوا اوپر جہاز پر چڑھ آیا اور ایک لوہے سے بنے ڈبے کی اوٹ میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ اس جہاز کا رخ پہلے جہاز کے الٹی طرف تھا۔ یعنی کہ یہ جہاز دشمن ملک ہندوستان کا تھا اور کرنل وشال پاکستان کی سیکورٹی ایجینسیز کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ہندوستان کی طرف جا رہا تھا۔ میجر دانش کے پاس یہ آخری موقع تھا کرنل وشال کو روکنے کے لیے۔ اس نے فورا ہی فیصلہ کیا کہ اسے اس جہاز پر قبضہ کرنا ہوگا اسے واپس پاکستان لیجانا ہوگا۔ گو کہ یہ ایک ناممکن کام تھا مگر میجر دانش کو اس وقت کچھ اور سجھائی نا دیا اور وہ فورا ہی چھپتا چھپاتا جہاز کے کنٹرول روم میں پہنچ گیا۔ شیشے کی کھڑکی سے اس نے اندر دیکھا تو جہاز کا پائلٹ سکھ تھا۔ ہلکی داڑھی اور سر پر سکھوں کے سٹائل کی پگڑی موجود تھی۔ یہ نشانی میجر دانش کے شک کو یقین مین بدلنے کے لیے کافی تھی۔ میجر دانش جسکے کپڑے بھیگے ہوئے تھے ایک ہی آن میں دروازے تک پہنچا اور بغیر آہٹ پیدا کیا پائلٹ کے سر پر پہنچ گیا۔

اس سے پہلے کے ڈرائیور کو کچھ سمجھ آتی میجر دانش کا وار اسکی گردن کے پچھلے حصے پر پڑا اور پائلٹ کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا اور پھر اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ میجر دانش کے ایک ہی وار نے پائلٹ کو بیہوش کر دیا تھا۔ جہاز میں موجود نقشے کی مدد نے میجر دانش نے اندازاہ لگایا کہ واپس پاکستان کی بندر گاہ پر پہننے کے لیے اسے جہاز کو بائے طرف گھمانا ہوگا اور میجر دانش نے ایسا ہی کیا۔ جہاز کی سپیڈ تیز ہونے کی وجہ سے جہاز نے تھوڑے ہچکولے لیے مگر میجر دانش نے فورا ہی اسکو قابو میں کر لیا اور جہاز کی سپیڈ بھی کم کر دی۔ جب جہاز صحیح ڈائریکشن میں جانے لگا تو میجر دانشے نے سپیڈ پھر سے بڑھا دیی۔

جہاز کے نیچے موجود وی آئی پی کمرے میں کرنل وشال نے فوری طور پر محسوس کیا کہ جہاز کو جو ہچکولے آئے ہیں یہ کسی انجان اور اناڑی پائلٹ کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔ کرنل وشال نے فوری طور پر اپنے ساتھ ایک کیپٹن کو لیا اور کنٹرول روم کی طرف بڑھنے لگا۔ کرنل وشال کی عمر 45 کے قریب تھی اور قد 6 فٹ 2 انچ تھا۔ دیو ہیکل جسامت کا حامل کرنل وشال 45 سال کا ہونے کے باوجود جسمانی طور پر فٹ اور بہت سے جوان افسروں پر بھاری تھا۔ اوپر سے اسکا دماغ بھی کسی کمپیوٹر کی طرح تیز چلتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جہاز کو ہلکے سے ہچکولوں نے اسے خطرے سے آگاہ کر دیا تھا۔

دوسری طرف میجر دانش اپنی دھن میں مگن جہاز کی رفتار میں مسلسل اضافہ کیے جا رہا تھا ۔ وہ جلد از جلد جہاز کو پاکستان کی سمندری حدود میں پہنچانا چاہتا تھا جہاں سے پاکستانی نیوی فوری اس جہاز کو گرفتار کر لیتی اور کرنل وشال بھی پکڑا جاتا۔ مگر اس سے پہلے کہ جہاز پاکستان کی سمندری حدود میں داخل ہوتا میجر دانش کو دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ میجر دانش کی چھٹی حس نے اسے خطرے سے آگاہ کیا اور وہ بغیر پیچھے دیکھے ایک قلابازی لگا کر اپنے دائیں طرف گھوم گیا۔ ایک سیکنڈ کی دیر میجر دانش کو اگلے جہاں پہنچا سکتی تھی۔ کرنل وشال کے ساتھ آنے والے کیپٹن نے ایک بھاری بھر کم لوہے کا راڈ میجر دانش کے سر پر مارنے کی کوشش کی تھی مگر میجر دانش اپنی پیشہ وارانہ تربیت کی وجہ سے اس وار سے بچ گیا۔ اس سے پہلے کہ کیپٹن اگلا وار کرتا میجر دانش ایک ہی جست میں اسکے سر پر پہنچ چکا تھا اور اپنے آہنی ہاتھوں سے کیپٹن کی گردن کو ایک ہی جھٹکے میں توڑ چکا تھا۔

کیپٹن میجر دانش کے وار سے زمین پر گر چکا تھا اور اسکی آخری سانسیں نکل چکی تھیں۔ میجر دانش نے بغیر وقت ضائع کیے اپنا اگلا وار کرنل وشال پر کیا مگر وہ حیرت انگیز طور پر پھرتیلا نکلا ۔ وہ نا صرف میجر دانش کے وار سے بچ نکلا بلکہ میجر دانش کے وار سے بچ کر اس نے اپنی لمبی ٹانگ ہوا میں گھمائی جو میجر دانش کی کمر پر لگی اور میجر دانش ہوا میں اچھلتا ہوا کنٹرول روم کی دیوار پر جا کر لگا۔ لیکن اگلے ہی لمحے میجر دانش نے دیوار کا سہارا لیتے ہوے واپس چھلانگ لگائی اور کرنل وشال کی گردن پر وار کیا، مگر اس بار بھی کرنل وشال کی پھرتی نے اسے بچا لیا، اس سے پہلے کہ میجر دانش کے ہاتھ کرنل وشال کی گردن پر پڑے کرنل وشال نے کمال مہارت سے میجر دانش کے بازو پر اپنا وار کیا اور میجر دانش کو اپنے بازو کی ہڈی دو حصوں میں تقسیم ہوتی محسوس ہوئی۔ اس سے پہلے کہ میجر دانش اگلا وار کرتا، کرنل وشال نے میجر دانش کا وار اسی پر آزمایا اور گردن پر حملہ کیا۔ کرنل وشال نے کراٹے کے مخصوص انداز میں اپنے ہاتھ کی ہڈی کو میجر دانش کی گردن کی ہڈی پر اسطرح مارا کہ میجر کو اپنا آپ ہوا میں اڑتا محسوس ہوا اور جسم ہلکا ہوتا ہوا محسوس ہوا۔

میجر دانش نے گھوم کر دوبارہ کرنل وشال پر حملہ کرنے کی کوشش کی جو اب کی بار بالکل پرسکون کھڑا تھا۔ اس سے پہلے کے میجر دانش کے ہاتھ کرنل کی گردن تک پہنچتے میجر کا دماغ اسکا ساتھ چھوڑ چکا تھا اور وہ اپنے وزن پر ہی نیچے گرتا چلا گیا۔ نیچے گرنے سے پہلے ہی میجر دانش کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا چکا تھا۔ اور جیسے ہی وہ نیچے گرا، کرن وشال دروازہ کھول کر باہر جا رہا تھا۔

 

میجر دانش کے حواس بحال ہوئے تو اسنے اپنے آپ کو زمین پر پڑا محسوس کیا۔ کچھ دیر میجر دانش آنکھیں کھولے بغیر زمین پر پڑا رہا اور اپنی اطراف کا جائزہ لینے کی کوشش کرنے لگا۔ جو آخری بات اسکو یاد آئی وہ کرنل وشال کا پرسکون چہرہ تھا۔ میجر دانش کے ہاتھ اسکی گردن کی طرف بڑھ رہے تھے مگر نجانے کیوں اسکی گردن تک پہنچنے سے پہلے ہی اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا تھا۔

اب میجر دانش محسوس کرنے لگا کہ اسکے آس پاس کوئی کھڑا ہے یا نہیں؟؟؟ مگر اسکو ایسا کچھ بھی محسوس نہ ہوا، نہ کسی کے قدموں کی آہٹ تھی اور نہ ہی کسی کی باتیں نہ ہی کسی کے سانس لینے کا احساس۔ اچانک ہی میجر دانش کو احساس ہوا کہ اسے جہاز کے چلنے کی آواز بھی نہیں آرہی اور نہی پانی پر جہاز کے ہچکولے محسوس ہو رہے ہیں بلکہ جس جگہ پر وہ لیٹا ہوا تھا
وہ بہت ہی پرسکون اور ساکت جگہ تھی۔ یہ جہاز تو ہرگز نہیں ہوسکتا تھا۔ میجر دانش نے آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھولیں تو اسنے اپنے آپ کو ایک بند کمرے میں پایا۔ اس نے اپنی گردن کو ادھر ادھر گھما کر دیکھا تو وہ ایک خالی کمر تھا جس میں میجر دانش کے علاوہ اور کوئی موجود نہیں تھا ۔ میجر دانش نے ایک جست میں اٹھنے کی کوشش کی مگر اسے بری طرح ناکامی ہوئی۔ اسکے ہاتھ اور ٹانگیں کسی بہت ہی مضبوط شے سے بندھے ہوئے تھے۔ یہ شاید نائلون کی رسی تھی۔

میجر دانش کو فوری طور پر احساس ہوگیا کہ وہ کرنل وشال کے سامنے بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ اور اس وقت یقینا اسی کی قید میں ہوگا۔ اگلا خیال جو اسکے ذہن میں آیا وہ یہ تھا کہ کرنل وشال اسے بے ہوشی کی حالت میں دشمن ملک ہندوستان ہی لے آیا ہوگا۔ اور اب میجر دانش دشمن ملک کی قید میں ہے۔ یہ احساس ہوتے ہی میجر دانش کے اوسان خطا ہونے لگے اور اسکی سوچنے سمجھنے کی صلاحتیں ختم ہونے لگیں۔ میجر دانش نے ہمیشہ یہ دعا مانگی تھی کہ دشمن کی قید میں جانے سے بہتر شہید ہونا ہے۔ مگر اسکے برعکس میجر دانش اس وقت دشمن کی قید میں تھا۔

اوسان بحال ہونے پر میجر دانش نے پھر سے اٹھنے کی کوشش کی اور تھوڑی سی کوشش کے بعد وہ اب اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔ گوکہ اسکی ٹانگیں اور ہاتھ اب بھی بندھے ہوئے تھے جنکو کسی بھی طور پر کھولنا ممکن نہ تھا۔ نائلون کی رسی اسکے ہاتھوں پر بہت مضبوطی سے بندھی ہوئی تھی جس پر اگر وہ زور آزمائی کی کوشش کرتا تو وہ رسیاں اسکی جلد کے اندر دھنس جاتیں۔ وہ جانتا تھا کہ زور آزمائی کے زریعے اس رسی سے اپنے آپ کو آزاد کرنا ممکن نہیں۔

اب وہ کمرے میں ساکت بیٹھا آس پاس کا جائزہ لے رہا تھا۔ یہ کمرہ مکمل طور پر خالی تھا۔ کمرے میں کوئی لائٹ نہیں تھی صرف ایک سائیڈ پر دیوار میں موجود روشندان سے ہلکی ہلکی روشنی اندر آرہی تھی۔ سامنے ایک بڑا سا لوہے کا مضبوط دروازہ تھا جو یقینا کسی محفوظ ترین کمرے میں ہی ہوسکتا ہے۔ عام گھروں میں یا دفاتر میں اس طرح کے دروازے موجود نہیں ہوتے۔ محض 2 منٹ کے جائزے میں ہی میجر دانش کو احساس ہوگیا کہ یہاں سے اسکا بچ کر نکلنا ممکن نہیں۔

وہ اب سر جھکائے بیتے ہوئے لمحوں کہ یاد کر رہا تھا۔ اسکا گھر سے نکل کر گاڑی میں ہنڈا اکارڈ کا پیچھا کرنا وہاں سے پھر بھاگتے ہوئے بندرگاہ تک پہنچ کر گندے پانی میں پائپ کے ذریعے سانس لینا پھر جہاز چینج کرنا اور وہاں سے کرن وشال سے آمنا سامنا ہونا۔ یہ سب چیزیں اسکے ذہن میں ایک فلم کی طرح چل رہی تھیں۔ اسی فلم میں اچانک ہی میجر دانش کو ایک اور چہرہ یاد آیا۔ یہ چہرہ کسی اور کا نہیں بلکہ اسکی اپنی نئی نویلی دلہن عفت کا چہرہ تھا۔ عفت کا خیال ذہن میں آتے ہی ایک جھماکا ہوا اور میجر دانش کو یاد آیا کہ ابھی ایک دن پہلے ہی تو اسکی شادی ہوئی تھی۔


میجر دانش میرون کلر کی شیروانی میں قیامت ڈھا رہا تھا۔ آج میجر دانش کی شادی کی پہلی رات تھی۔ اسکی بیوی عفت اپنے کمرے میں موجود دلہن بنی بیٹھی اپنے دلہا کا انتظار کر رہی تھی جبکہ باہر کمرے کے سامنے میجر دانش کی بہنیں اسکا راستہ روک کر کھڑی تھیں۔ فوزیہ جسکی عمر25 سال تھی اور پنکی جو ابھی 21 سال کی تھی دونوں ہی اپنے بھائی کا راستہ روک کر کھڑی تھیں۔ ساتھ میں کچھ کزنز اور بھی تھیں جو دولہے میں کو اپنی نئی نویلی دلہن کے پاس جانے سے روک رہی تھیں۔ میجر دانش نے جیب سے ہزار ہزار کے 10 نوٹ نکالے اور پنکی کی طرف بڑھائے وہ جانتا تھا کہ فوزیہ 10 ہزار میں نہیں مانے گی مگر پنکی چھوٹی ہے شاید وہ مان جائے گی۔ مگر اس سے پہلے کہ پنکی وہ پیسے پکڑتی اور دانش کو اندر جانے کا راستہ دیتی فوزیہ نے فورا ہی دانش کا ہاتھ جھٹک دیا اور بولی ہم تو اپنے پیارے بھائی سے سونے کا سیٹ لیں گی پھر اندر جانے کی اجازت ملے گی۔ یہ سن کر میجر دانش نے اپنی امی کی طرف دیکھا مگر وہ بھی آج اپنی بیٹیوں کا ساتھ دینے کا ارادہ رکھتی تھیں۔ انہوں نے بھی کہ دیا کہ تم بہن بھائیوں کا آپس کا معاملہ ہے میں اس معاملے میں کچھ نہیں بول سکتی۔

میجر دانش نے بہت کہا کہ سونے کا سیٹ تم عمیر سے لے لو میرے پاس یہی پیسے ہیں مگر نا تو فوزیہ مانی اور نہ ہی پنکی۔ بال آخر میجر دانش کو ہار ماننی پڑی اور اسنے بری میں بنائی گئی سونے کی چین جو اسکی بیوی عفت کے لیے بنائی گئی تھی وہ فوزیہ کو دی اور پنکی سے وعدہ کیا کہ اسکو بھی ایک اچھی سونے کی چین دلوائی جائے گی۔ اس وعدے کے بعد دونوں بہنوں نے دانش کی جان چھوڑی اور عمیر کی طرف بھاگیں۔ عمیر میجر دانش کا چھوٹا بھائی تھا جسکی عمر 27 سال تھی اور اسکی بھی آج ہی شادی ہوئی تھی۔ اب راستہ روکنے کی باری اسکی تھی اور دونوں بہنیں فوزیہ اور پنکی عمیر کرا راستہ روکے کھڑی تھیں۔ جسکا کمرہ میجر دانش کے کمرے کے ساتھ ہی تھا۔ لیکن دانش کے پاس اب اتنا صبر نہیں تھا کہ وہ دیکھتا عمیر سے بہنوں نے کیا لیا اسنے دروازہ کھولا اور اندر جا کر سکھ کا سانس لیا۔

سامنے بیڈ پر گلاب کے سرخ اور سفید پھولوں کی سیج بنی ہوئی تھی۔ بیڈ کے ایک طرف سرک پتیاں بکھری پڑی تھیں۔ پورا کمرہ گلاب کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ اور سامنے ہی سرخ عروسی جوڑے میں ملبوس 20 سالہ عفت سمٹی بیٹھی تھی۔ یوں تو میجر دانش اور عفت کی عمر میں 12 سال کا فرق تھا مگر دونوں ہی اس شادی سے بہت خوش تھے۔ عفت نے جب سے دانش کو دیکھا تھا وہ تو اسکی دیوانی ہوگئی تھی، اس دیوانگی نے عمر کا یہ بڑا فرق بھی مٹا دیا تھا اور وہ صرف دانش کی ہی ہوکر رہ گئی تھی۔ عفت نے اپنے نام کی لاج بھی رکھی تھی۔ وہ ہر طرح کی غیر اخلاقی چیزوں سے دور رہی اور اس نے اپنی عزت کی حفاظت بھی کی۔ اپنی جوانی پر اسنے کسی غیر مرد کا سایہ تک نہیں پڑنے دیا تھا۔ عفت ایک آزاد خیال اور ماڈرن لڑکی ضرور تھی مگر اسکے ساتھ ساتھ شرم و حیا اور پاکدامنی میں بھی اپنی مثال آپ تھی۔ اگرچہ وہ غیر مردوں سے پردہ نہیں کرتی تھی مگر کبھی کسی غیر مرد کو اسنے اپنے قریب بھی نہیں آنے دیا تھا۔ گوری رنگت اور بھرپور جوانی کے باوجود عفت نے اپنی عفت کو قائم رکھا تھا اور میجر دانش کو بھی عفت کی پاکدامنی اور حسنِ اخلاق نے متاثر کیا تھا۔

یہی وجہ تھی کہ میجر دانش عفت کو اپنی شریکِ حیات بنانے کے لیے خوشی خوشی راضی ہوگیا تھا۔ کمرے میں داخل ہوکر سب سے پہلے دانش نے اپنی شیروانی اتاری۔ مسلسل 4 گھنٹے سے دانش اس ہیوی شیروانی میں بڑی مشکل سے گزارہ کر رہا تھا۔ وہ اپنی شادی کے لیے پینٹ کوٹ سلوانا چاہتا تھا مگر عفت کی فرمائش پر اس نے شیروانی سلوائی۔ دانش اس طرح کے لباس کا بالکل عادی نہ تھا۔ مجض اپنی ہونے والی بیوی کے کہنے پر اس نے 4 گھنٹے سے شیروانی زیب تن کر رکھی تھی۔ شیروانی اتار کر ایک سائیڈ پر رکھنے کے بعد وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا سیج کے قریب پہنچا ، جہاں سمٹی ہوئی عفت شرم کے مارے اور بھی سمٹ گئی تھی۔ میجر دانش کرتے اور پاجامے میں ملبوس اپنی بیوی کے سامنے بیٹھ گیا تو عفت نے گھونگٹ میں سے ہی آنکھیں اٹھا کر دانش کا دیدار کیا۔ سرخ دوپٹے میں سے دانش کامدھم مگر مسکراتا ہوا چہرہ نظر آیا۔ دانش کے چہرے پر نظر پڑتے ہی عفت کے چہرے سرخی آگئی اور اسنے دوبارہ اپنی نظریں جھکا لیں۔ دانش نے بھی اپنی دلہن کا یہ انداز دیکھا تو بے اختیار اس پر پیار آگیا، دانش نے آہستگی کے ساتھ اپنے دونوں ہاتھوں سے عفت کا گھونگٹ اوپر اٹھایا۔ ۔ ۔ گھونگٹ اٹھاتے ہی بے اختیار دانش کے منہ سے اپنی بیوی کے حسن میں تعریفی کلمات نکلنا شروع ہوئے جنہیں سن کر عفت کے چہرے کا رنگ انار کے رس کی طرح سرخ ہونے لگا۔ شرم کے مارے وہ نا تو اپنی آنکھیں اوپر اٹھارہی تھی اور نہ ہی کچھ بول پا رہی تھی۔

دانش نے اپنی ایک انگلی سے عفت کا چہرہ اوپر اٹھایا تو بھی عفت کی آنکھیں جھکی رہیں۔ اس پر دانش نے بے اختیار کہا اب ہم اتنے بھی برے نہیں جو آپ ہماری طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کریں۔ یہ سنتے ہی بے اختیار عفت نے اپنی آنکھیں اٹھائیں اور دانش کو دیکھنے لگی۔ بڑی بڑی آنکھوں میں موجود خوشی واضح نظر آرہی تھی۔ اور انمیں چھپا دانش کے لیے پیار بھی اب واضح ہوگیا تھا۔ دانش بے اختیار آگے بڑھا اور ان حسین آنکھوں پر ایک بوسہ دے دیا۔ عفت نے دانش کو بالکل منع نہیں کیا محض اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ دانش نے اپنے ہونٹ کچھ دیر آنکھوں پر رکھنے کے بعد اٹھائے دوبارہ سے حسن کے اس پیکر کو دیکھنے لگا۔ عفت کا چہرہ اب بھی خوشی اور پیار کے ملے جلے تاثرات کی وجہ سے سرخ ہورہا تھا۔ اور اسکی تیز تیز سانسیں اسکے جزبات کی عکاسی کر رہی تھیں۔

اس سے پہلے کے میجر دانش دوبارہ حسن کے اس مجسمے کا بوسہ لیتا، عفت نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر اپنی خوبصورت اور نازک ہتھیلی دانش کے سامنے پھیلا دی۔ دانش نے حیران ہوکر عفت کے ہاتھ کو دیکھا اور پھر عفت کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ تھوڑے سے وقفے کے بعد عفت نے پہلی بار اپنے ہونٹ کھولے۔ عفت نے بہت ہی پیار بھری آواز میں دانش کو مخاطب کیا اور بولی ہر شوہر اپنی بیوی کا چہرہ پہلی بار دیکھنے کے بعد اسے منہ دکھائی میں کچھ دیتا ہے۔ آپ تو میرا بوسہ بھی لے چکے مگر منہ دکھائی میں کچھ نہیں دیا۔ یہ سن کر دانش کو بھی اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ شرمندہ ہو کر بولا کہ بس تمہاری خوبصورتی نے مجھے مدہوش کر دیا اور مجھے کچھ یاد ہی نہیں رہا۔ اپنے حسن کی تعریف میں یہ چند معمولی جملے عفت کے لیے بہت بڑا تحفہ تھے۔ انکو سن کر عفت کو لگا جیسے اسکی زندگی مکمل ہوگئی ہو اور اسے زندگی میں دانش کے ساتھ کے سوا اور کچھ نہیں چاہیے۔

اس سے پہلے کے عفت کچھ بولتی، دانش آگے جھکا ، اور بیڈ کے سائیڈ پر پڑے ٹیبل کا دراز کھول کر اس میں سے ایک چھوٹی سی ڈبیا نکالی جسمیں ایک سونے کی چین موجود تھی۔ اس چین میں ایک چھوٹا سا مگر بہت ہی خوبصورت لاکٹ بھی موجود تھا جو دل کی شکل کا تھا۔ میجر دانش نے وہ چین عفت کی طرف بڑھائی تو عفت نے اٹھلاتے ہوئے کہا خود پہنائیں گے تو تحفے کی قدر کا پتا چلے گا۔ یہ سن کر دانش مسکرایا اور اپنے چین کی ہک کھول کر ہاتھ عفت کی گردن کی طرف لیکر گیا۔ عفت نے دانش کو رکنے کا اشارہ کیا اور اپنا بڑا سا دوپٹہ کندھوں سے ہٹا کر اپنا بھاری بھر کم سونے کا سیٹ اپنے گلے سے اتارنے لگی۔ سیٹ اتارتے ہوئے دانش بڑے ہی غور کے ساتھ اپنی شریکِ حیات کو دیکھ رہا تھا، دانش کی نظر جب عفت کے سینے پر پڑی تو وہ اپنی آنکھیں جھپکانا ہی بھول گیا۔ عفت کی صراحی دار لمبی گردن اورگورا سینہ، نیچے سینے کے ابھار اور بیچ میں کلیویج لائن۔ عفت کے چہرے کے نین نقش تو پیارے تھے ہی مگر آج دانش اسکے سینے کے نشیب و فراز دیکھ کر سانس لینا ہی بھول گیا تھا۔

عفت جب اپنے گلے سے زیور اتار چکی تو اس نے دوپٹہ مزید پیچھے ہٹایا اور دانش کی طرف دیکھا جسکی نظریں عفت کے سینے پر گڑھی ہوئی تھیں۔ عفت نے بھی اس بات کو محسوس کر لیا اور اسکا سینا فخر سے اور پھولنے لگا۔ پھر اسنے دانش کے سامنے ایک چٹکی بجائی اور ایک ادا سے بولی کیا دیکھ رہے ہیں جناب؟؟ دانش کو ہوش آیا اور وہ اپنی چوری پکڑی جانے پر تھوڑا شرمندہ بھی ہوا مگر پھر بولا اپنی قسمت کو داد دے رہا ہوں، ایسی خوبصورت اور جوانی سے بھرپور بیوی کا ساتھ خوش نصیب لوگوں کو ہی ملتا ہے۔ یہ کہ کر وہ آگے بڑھا اور اپنے ہاتھ عفت کی گردن کے پیچھے لے گیا۔ اس نے پیچھے سے چین کی ہُک بند کی۔ اور پھر پیچھے ہٹ کر عفت کے گلے میں موجود منہ دکھائی میں دی گئی چین کو دیکھنے لگا۔ چین میں لٹکتا ہوا لاکٹ عفت کی کلیویج لائن سے کچھ اوپر تھا، دانش نے لاکٹ کو دیکھا اور آگے بڑھ کر اپنے ہونٹ لاکٹ والی جگہ پر رکھ کر ایک پیار بھرا بوسہ دیا۔ عفت کو دانش کے ہونٹ اپنے سینے پر محسوس ہوئے تو اسکی بھی ایک سسکی نکل گئی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی مرد کے ہونٹوں نے عفت کے سینے پر پیار بھرا بوسہ دیا تھا۔
دانش نے یہیں بس نہی کی بلکہ آگے بڑھ کر عفت کی کمر کے گرد اپنے بازو ڈال لیے، عفت بھی ادائے دلربا سے اٹھی اور اپنے شوہر کے قریب ہوگئی۔ عفت نے کبھی کسی مرد کو اپنے قریب نہیں آنے دیا تھا مگر وہ اپنے جیون ساتھی اپنے شوہر سے کسی بھی قسم کی شرم محسوس نہیں کر رہی تھی۔ صنفِ نازک کی ادا اور فطری شرم تو اسمیں موجود تھی ہی مگر بناوٹی شرم اور اپنے شوہر سے ہچکچانا یہ عفت کی فطرت میں شامل نہیں تھا۔ وہ جانتی تھی کہ جنسی تسکین نہ صرف اسکا حق ہے بلکہ اسکے شوہر کا بھی حق ہے۔ اور دونوں ایکدوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے تو مکمل تسکین حاصل کی جاسکتی ہے۔

عفت قریب ہوئی تو دانش نے اپنے ہونٹوں سے عفت کے نرم و نازک ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔ عفت کو 440 وولٹ کا جھٹکا لگا۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ جب کوئی مرد عورت کے ہونٹوں کو چومتا ہے تو کیسا محسوس ہوتا ہے۔ آج پہلی بار اسکے ہونٹوں پر دانش کے ہونٹ لگے تو وہ اس احساس سے آشنا ہوئی۔ عفت نے بھی جواب میں دانش کے ہونٹوں کو چوما اور پھر دونوں ایکدوسرے کے ہونٹ چوسنا شروع ہوگئے۔ عفت کے ہونٹ کسی گلاب کی پنکھڑی کی طرح نرم و نازک اور رسیلے تھے۔ دانش یہ رس اپنے ہونٹوں سے مسلسل چوس رہا تھا۔ اسی دوران عفت میں اپنے دوپٹے میں لگی سیفٹی پنز کو کھولنا شروع کیا اور کچھ ہی دیر میں بھاری دوپٹہ اسکے سر سے اتر چکا تھا۔ دوپٹہ اترتے ہی عفت کو اپنا آپ بہت ہلکا پھلکا محسوس ہونے لگا اور وہ اور بھی زیادہ شدت کے ساتھ دانش کی بانہوں میں اسکے ہونٹوں کو چوسنے لگی۔ دانش تھوڑی تھوڑی دیر بعد عفت کے اوپری ہونٹ کو اپنے منہ میں لیتا اور اسکو اچھی طرح چوستا اور پھر نیچے والے ہونٹ کو اپنے منہ میں لیکر چوستا۔ عفت کو یہ سب بہت اچھا لگ رہا تھا۔ اسکی زندگی میں یہ سب پہلی بار ہورہا تھا مگر وہ پوری طرح اسکی لزت سے لطف اندوز ہوری تھی۔

Posted on: 05:16:AM 15-Dec-2020


3 3 441 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 1 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 70 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com