Stories


ملک آباد کا عالی از علی استعمال

نامکمل کہانی ہے

 

کمرے میں گونجنے والی دھپ دھپ اور آہوں اور سسکیوں کی آوازیں باہر تک سنائی دے رہی تھیں،، راہداری کے نیم تاریک اور خاموش ماحول میں شہوت ہچکولے کھاتی پھرتی تھی،، اس کے لئے یہ سب کچھ نیا نہیں تھا وہ عادی ہو چکا تھا،،، وہ جانتا تھا کہ رات کے اس پہر حویلی کے اس حصے کی جانب کوئی بھی آنے کی جرات نہیں کرتا، منشی کرم جیسا خاص اور طاقتور آدمی بھی یہاں اپنے طور پر نہیں آ سکتا تھا.. یہ وہ آسمان تھا جہاں صرف اس کی ہی پرواز تھی،، باقی سب کے پر یہاں جلتے تھے،
 اسے سختی سے حکم تھا کہ رات کو جب ملک صاحب اپنے اس خاص کمرے میں پدھاریں تو حویلی کے کسی بھی فرد کو یہاں تک نہ آنے دیا جائے،، وہ کمرے تک لے جانے والی اس لمبی چوڑی راہداری کے اس حصے پر بیٹتھا تھا جو حویلی کے مردانے سے متصل تھا.. راہداری کو بھاری  چوبی دروازے کی مدد سے مردانے سے جدا کیا گیا تھا....وہ اسی دروازے کے پاس کرسی پر بیٹتھا تھا.. اگر کبھی کوئی بہت ہی بڑی آفت آن پڑتی تو... وہ بھاری دروازے پر لگی ہوئی چھوٹی سی کھڑکی سے پیغام وصولتا تھا... اور ملک صاحب تک پہنچاتا تھا... یہ لمبی چوڑی راہداری حویلی کے اندرونی یا زنانہ حصے کی جانب جاتی تھی.... اس جانب بھی جہاں زنان خانہ اور راہداری ملتے تھے ایک ہلکا سا دروازہ حد بندی کے لئے نصب تھا.... مگر وہاں کوئی چوکیداری کے لئے نہیں بیٹتھا تھا،، راہداری میں فقط تین ہی کمرے تھے جس میں  سب سے آخری کمرہ ملک جی کا تھا...وہ کمرہ سب سے زیادہ آباد رہتا تھا.... باقی دونوں کمرے وقتاً فوقتاً کھلتے رہتے اور ملک جی کے طرح طرح کے مہمانوں کا مسکن بنتے رہتے تھے
وہ آٹھ برس کی عمر سے اسی علاقے کا گویا داروغہ تھا وہ ایسی شہوت انگیز  آوازیں اس وقت سے سنتا چلا آرہا تھا جب اس کے اندر یہ آوازیں کوئی طوفان تو کیا ہلکی سی گدگدی بھی پیدا نہ کر پاتی تھیں..اب وہ تیرہ برس کا لڑکا تھا.. اب تو گویا طوفان اٹھتے تھے،،، پوری جسم کی رگیں تنی رہتی تھیں اس کا عضو تناسل سختی میں لوہے کو بھی مات دیتا معلوم ہوتا تھا شہوانی جذبات خون کے دورانیہ کو بڑھاتے گھٹاتے رہتے تھے عقل جذبات کے تابع ہو رہی تھی وہ چاہتا اپنی اس مخصوص اہمیت کا فائدہ اٹھا سکتا تھا مگر وہ اپنی حد جانتا تھا اسے بڑے اچھے اسلوب سے اطاعت کرنا سکھایا گیا تھا،، جبھی لڑکپن کی اس عمر میں کہ جب باغیانہ خیالات دماغ کو گھیرے رہتے ہیں اس کا دماغ اور دل اطاعت اور عقیدت کے جذبوں سے شرابور تھا
،،اس کی ماں نے اسے سمجھایا تھا کہ غریبوں کے پلے صرف اطاعت ہوتی ہے اطاعت... اب چاہے اسے اپنے دل و دماغ کا روگ بنا لو چاہے طاقت... اور اگر اسی اطاعت میں عقیدت کا جذبہ بھی  شامل کر لو تو  دو دھاری تلوار... اپنی خوبصورت ماں کو تو وہ دیوی کی طرح پوجتا تھا..... سیرت سے تو ہر ماں ہی دیوی ہوتی ہے اس کی ماں تو صورت کی دیوی تھی... یونان کی حسن کی دیوی زہرہ کی جدید صورت.....اس کے بالے جسم کے اندر کا مرد اپنی جبلی مردانہ حس شامہ سے سونگھ کر اسے بتا چکا تھا کہ اس کی ماں کسی بھی مرد کی خرد اور عقیدت کا محور بننے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس کے اندر کے مرد نے بچپن سے ہی اسے اپنے ماں کے آگے سجدہ ریز ہونے کی تلقین کر دی تھی.... ماں کی ممتا کا تو ہر بیٹا ہی عقیدت مند ہوتا ہے وہ تو اپنی ماں کی نسوانیت کا پجاری تھا اس وقت سے!! کہ جب اسے گاؤں کی عورتوں کے ابھرے ہوئے اور آگے کی جانب تنے ہوئے سینوں کا صرف ایک ہی مصرف سمجھ میں آتا تھا... روتے بلکتے سوکھی چمڑیوں والے بچوں کو تسکین پہنچانے  کا مصرف.... وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ بھرے ہوئے... کمزور کپڑوں کو پھاڑتے ہوئے سینے..... جانے کیسے کیسے استعمال میں لائے جاتے ہیں اور بچوں کو تسکین پہنچانا تو گویا اضافی ذمہ داری ہے در حقیقت تو یہ بالغوں کی تسکیں کا ذریعہ ہوتے ہیں... بچوں کے ننھے منے ہاتھ تو وقت گزاری ہے اصل منزل تو کھیتوں میں گندم کی بیجائی کرنے والے کھردرے مردانہ ہاتھ ہیں... اس کا اپنی متناسب جسم والی ماں سے محبت اور عقیدت کا رشتہ بہت گہرا تھا... وہ ہمہ وقت اپنی ماں کے جسم سے اٹھنے والی سوندھی مہک کے حصار میں رہتا تھا وہ کیسے اپنی ماں کی نصیحت فراموش کر سکتا تھا اس کی ماں نے اس ملک صاحب کی وفاداری کرتے رہنے کی تلقین کی تھی کسی بھی حد تک.... ملک صاحب کا ان کے کتوں سے بھی زیادہ ان کا   وفادار رہنے کی تلقین  اور حقیقی وفاداری تو وہ ہے جو پیٹھ پیچھے کی جائے ورنہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کے مصداق وفادار تو بہت مل جائیں
وہ کیسے حد پھلانگ سکتا تھا اپنی تنی ہوئی رگوں اور اپنی شلوار میں انگڑائی لیتے نئے نئے جوان ہوتے لوڑے کو سنبھالنا گو کہ بہت مشکل تھا لیکن ملک صاحب سے عقیدت اور محبت کا رشتہ اور دیوی جیسی ماں کی تلقین ہمیشہ اس کے آڑے آتی اس کے منہ زور جذبات روز اس کے کان میں کچھ کرنے کچھ دیکھنے کی سرگوشی کرتے بارہا اس نے چاہا کہ وہ جائے اور کسی درز کسی سوراخ سے ملک صاحب کے کمرے مہں جھانکے اور ان آوازوں کا منبع تلاش کرے جو اس کے جوان خون میں ابال پیدا کرتی ہیں  مگر وہ حد  پھلانگنا جانتا ہی نہیں تھا یہی وجہ تھی کہ آج وہ ملک صاحب کے خاص پنجرے کا پکھیرو تھا
...اس دن بھی وہ ذہن میں آنے والے عجیب عجیب خیالات اور بشیرے مالی کی سب سے بڑی بیٹی صغراں ( جو کہ ابھی بچپنے اور لڑکپن کے دوراپے پر کھڑی تھی...) کے سینے پر ابھر آنے والی ان ڈودے نما گھنڈیوں کا تصور کر کے اپنی شلوار میں اکڑے ہوے اپنے نازک سے لوڑے کی گلابی چمڑی پر خارش کر رہا تھا (اسے ہمیشہ اپنے لن پر خارش کر کے تسکین ملتی تھی اور پچھلے کچھ عرصے سے کہ جب وہ بلوغت کی جانب بڑھنا شروع ہوا تو یہ اس کا معمول بنا ہوا تھا) کہ راہداری کے چوبی دروازے پر ڈری ڈری دھیمی دستک ہوئی.....یہ خلاف معمول تھا.. اس نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا اور اپنی قمیص کا دامن درست کرتے ہوئے دروازے میں لگی کھڑکی کا پٹ کھول دیا... باہر بڑی بڑی مونچھوں اور پتلے سے منہ والا منشی کرم کھڑا تھا.... جو اسے کبھی بھی پسند نہیں رہا تھا.... کیا ہوا لالہ جی اس نے منشی کو دیکھتے ہوئے ناگواری سے پوچھا... اس حویلی کے ملازمین میں بڑے سے بڑا پھنے خان بھی منشی سے اس لہجے میں بات نہیں کر سکتا تھا... حتی کے حویلی کے مالکان بھی منشی سے بات کرتے ہوئے نسبتاً احتیاط برتتے تھے کجا کہ کوئی اس جیسا بچہ اس لہجے میں بات کرے مگر اس کو یہ اختیار حاصل تھا... وہ کوئی عام نوکر یا کمی نہیں تھا وہ ملک صاحب کا خاص پرندہ تھا... اور اس وقت تو منشی ویسے بھی اس کی راجدھانی میں کھڑا تھا...
اس کے طرز تخاطب سے منشی کو مانو آگ لگ گئی  جس کے شعلے منشی کی آنکھوں میں لپیٹے کھانے لگےحالانکہ منشی اور اس کی عمر میں زمین و آسمان کا فرق تھا مگر جانے کیوں پوری حویلی میں منشی کو یہ لڑکا ہی اپنی راہ کا کانٹا لگتا تھا
'' او ملک صاحب کو بتا چھوکرے بشیرا مالی پولیس لے آ یا ہے.... وہ دربان کو چکمہ دے کر نکل گیا تھا حویلی سے.
لیکن ہوا کیا ہے منشی جی اس کے چہرے پر حیرت تھی صبح تک تو بشیرا ٹھیک ٹھاک تھا اب کیا ہو گیا ایک دم کہ اسے پولیس کے پاس جانے کی ضرورت پڑ گئی
او یہ تو تو ملک صاحب سے پوچھنا... پینو کے پتر.. منشی کے ہونٹوں پر زہریلی مسکراہٹ... اور لہجے میں کاٹ دینے والا طنز اتر آیا.. پینو اس کی ماں کا نام تھا... نام تو پروین تھا مگر پینو مشہور ہو گیا تھا.... پینو کے نام پر ایسا طنز آمیز تاثر اس کو لئے نیا نہیں تھا...
تو خود معاملہ سنبھال لو، تم کس مرض کی دوا ہو اس نے جوابی وار کیا... جس نے یقیناً منشی کے تن بدن میں لگی آگ کو مزید ہوا دی
اوئے عالی ٹیم کھوٹا نہیں کر..اگر ڈرتا ہے تو. دروازہ کھول میں خود جا کر بتا دیتا ہوں ....منشی کا کھردرا لہجہ مزید سخت ہو گیا..
اس نے ایک لمحے کو منشی کی آنکھوں میں دیکھا اور دروازے کی زنجیر ہٹا کر دونوں پٹ کھول دئے...
جاؤ لالہ خود بتا دو... اس نے سرد لہجے میں کہا اور ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا...
منشی نے خود راہداری میں قدم رکھنے کا کہہ کر اس کی انا کو للکارا تھا ..... یہی تو اس کا غرور تھا کہ ملک صاحب کے نہایت نجی معاملات کی کی کنجی اس کے پاس تھی... یہ راہداری اور ان کمروں کا اختیار ہی اسے دوسرے نوکروں سے ممتاز بناتا تھا وہ چاہتا تھا کہ منشی اور باقی پھنے خانوں کے ذہن میں یہ بات مضبوطی سے بیٹھا دی جاوے کہ اس سے اس کا یہ امتیاز نہیں چھینا جا سکتا... اسے جانے منشی سے کیا ضد تھی اگر اس کی جگہ پر کوئی اور ملازم یہ پیغام لاتا تو وہ ہرگز یوں تماشا نہ کرتا مگر منشی کی انا کو کچوکے لگانا تو اس کا دلپسند  مشغلہ تھا..
منشی بھی جانتا تھا کہ یہ لڑکا جس کا نام عالی الدین ہے، آسان خوراک نہیں کہ آسانی سے ہضم کر لی جائے... اور ڈکار بھی نہ مارا جائے....
عالی نے دروازہ کھول کر جو پینترا کھیلا تھا وہ منشی کو چاروں خانے چت کر گیا .. منشی جانتا تھا کہ وہ اگر قیامت آنے کی خبر بھی ملک صاحب کے اس خلوت خانہ میں خود لیکر جائے گا تو اپنی منشی گیری کی پگڑی تو کجا شاید اپنا سر بھی نہ بچا سکے... وہ جانتا تھا کہ وہ عالی کا محتاج ہے
اس نے ٹھنڈی سانس بھر کے اپنے لہجے کے کھردرے پن کو کم کرنے کی کوشش کی..
کوئی نیا افسر آیا ہے ملک آباد کے تھانے میں ملک صاحب جانتے ہیں وہ ہمارے بس کا نہیں ورنہ میں خود دیکھ لیتا  ملک صاحب کو بتا دربان اتنی دیر تک پولیس کو الجھا کر نہیں رکھ سکتے..اگر اس انسپکٹر نے اسلحہ نکال لیا تو یہ مادر چود فیر (فائر) کھول دیں گے ..میں جا کر صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کرتا ہوں... منشی عالی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے سے گریز کرتا ہوا بولا...
ٹھیک ہے لالہ بتاتا ہوں، تم جا کر سنبھالو ان مادر چودون کو... عالی کے ہونٹوں پر ابھر آنے والی فتحمندی کی مسکراہٹ شاید منشی برداشت نہیں کر پایا اور جلدی سے پلٹ گیا....
عالی نے دروازہ بند کیا اور ملک کے کمرے کی جانب چل دیا وہ جانتا تھا... کہ ملک صاحب کے کمرے کا دروازہ اندر سے لاک نہیں ہوتا ہے...کمرے کے پاس پہنچتے ہی... اندر کی ہیجانی آوازیں مزید واضح ہو گئیں..... اندر کی آوازوں سے اندازہ ہوتا تھا کہ ملک کے ساتھ اس وقت کم از کم دو نسوانی وجود.... وصل کا لطف کشید کر رہے ہیں...
اس نے دستک دینے سے پہلے کان لگا کر سنا... اندر شاید کریم بی بی تھی بشیرے مالی کی بیوی..... وہ چونکہ اکثر ملک صاحب کو مالش کرنے آتی رہتی تھی اس لئے  عالی اس کی آواز پہنچاتا تھا..... اور ویسے بھی وہ جب بھی عالی کو ملتی اس کا سر اپنے بھاری بھرکم مموں کے درمیان پھنسا کر اسے پیار ضرور کرتی..وہ تو شاید عالی اور اپنی عمر کے تفاوت کی وجہ سے اسے گلے لگاتی تھی مگر عالی اس معانقے سےاپنی جوانی کی امنگوں کی تسکین کرتا تھا.. یہی وجہ تھا عالی اس کی آواز پہچانتا تھا
کریم بی بی غالباً کسی ناگفتہ بے حالت میں تھی
بس پتر سکون کر... ہلسیں تے ہور درد تھیسی آ (بیٹا آرام کرو ہلو گی تو اور درد ہو گا) کریم بی بی کی آواز جذبات سے بوجھل تھی
اماں مینڈا ہاں گھٹدا پیا اے (اماں میرا دل بند ہو رہا ہے) عالی یہ آواز بھی  پہچانتا تھا یہ بشیرے کی بڑی بیٹی صغراں کی آواز تھی...جس کی پھولتی ہوئی گھنڈیاں کئی دن سے عالی کے سکون کی دشمن بنی ہوئی تھیں...
بس مینڈی پتری ہنڑے تنڈا ہاں کھل ویسی    (بس میری بچی ابھی تیرا دل پھول کی مانند کھل جائے گا)   ٹنگاں کھول دے پوریاں (ٹانگیں پوری کھول دو) جنس میں ڈوبی ہوئی یہ آواز ملک صاحب کی تھی..
عالی اب کڑی سے کڑی ملاتے ہوئے  بشیرے کی اس حرکت کا مطلب کچھ کچھ سمجھ رہا تھا... بشیرے مالی جو ایک عرصے سے اپنی بیوی کے بڑی ملکانی کی مالش کے بہانے ملک صاحب کی خوابگاہ میں راتیں گزارنے پر صبر کئے ہوئے تھا... آج شاید اپنی کمسن بیٹی کو بھی ماں کے ساتھ تیل کی شیشی پکڑے حویلی کی جانب جاتے دیکھ کر صبر نہ کر سکا اور راتوں رات حویلی سے نکل کر ملک آباد کے پولیس اسٹیشن جا پہنچا....  اب پولیس کے ساتھ حویلی کے دروازے پر کھڑا اپنی بیٹی کی اد کھلی جوانی کا حساب مانگ رہا تھا....
پولیس کا خیال آتے ہی عالی نے آوازوں پر سے کان ہٹائے اور خوابگاہ کے دروازے پر  دھیمی آواز میں مخصوص دستک دی..
اندر کھٹر پٹر کی اوازیں پیدا ہوئیں... صغراں کی ہلکی سی چیخ بھی سنائی دی... پھر خاموشی ہو گئی..
کی اے عالی بھین یکا،،، کیوں ماں یدانا پیا ایں (کیا ہے عالی بہن چود کیوں ماں چدوا رہے ہو) اندر آ ونج بوہا کھلا ای (اندر آ جا دروازہ کھلا ہے) ملک کی مخصوص آواز گونجی
ایسا نہیں تھا کہ عالی نے زندگی میں کبھی ملک صاحب کی خوابگاہ کے جنسی مناظر دیکھے نہیں تھے پہلے بھی دو ایک بار وہ ایسے بے وقتے پیغامات لا چکا تھا... مگر ملک صاحب ہمیشہ دروازہ پر آ کر.. اس کی بات سنتے تھے.... اور وہ دروازے کی اوٹ سے کسی نا کسی جذبات انگیز منظر کی جھلک دیکھ لیتا تھا... مگر یہ پہلا موقع تھا.... کہ ملک صاحب اسے خوابگاہ کے اندر بلا رہے تھے...
یہ تصور کرتے ہی کہ اندر کم از کم دو عورتیں......اپنی تما تر نسوانیت عیاں کیے موجود ہیں... اس کے جسم میں سنسنی کی ایک شدید لہر دوڑ گئی اور ایک ایک رونگٹا کھڑا ہو گیا... اس نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھولا اور شاید جذبات کی شدت سے اس نے کچھ زیادہ ہی زور لگا دیا......دروازہ ایک دھماکے سے چوپٹ کھل گیا..... سامنے جہازی سائز کی مسہری پر لیٹی ہوئی ننھی منی صغراں کو بغل میں دبائے ملک صاحب کا لمبا چوڑا خوبصورت بے لباس مردانہ بدن گویا ریفلیکس ایکشن کے تحت اچھلا....اور ہاتھ دیوار پر آویزاں کلہاڑی کی جانب بڑھا مگر دروازے پر تنہا عالی کو دیکھ کر واپس مسہری پر ڈھے گیا.... صغراں بھی شاید دروازے کے دھماکے سے ڈر گئی تھی کیوں کہ وہ کسی سہمی ہوئی چڑیا کی طرح اپنا منہ ملک کے سینے میں گھسانے کی کوشش کر رہی تھی ملک نے اپنا مضبوط بازو صغراں کے ننگے کمسن بدن کے گرد زور سے کسا اور اس کی چھوٹی سی بنڈ کے داہنے پٹ  کو اپنے لمبے چوڑے ہاتھ میں تھام کر ہلکے ہلک بھینچنے لگا......
اوئے آرام نال بھین یکا.. کی اگ لگی ہوئی ہے تواں (اوئے آرام سے بہن چود... کیا آگ لگی ہوئی ہے تجھے) ملک صاحب کی بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں میں غصہ اور جھنجھلاہٹ دیکھ کر عالی گھبرا سا گیا....
مگر اچھی بات یہ ہوئی کہ ملک  ایک لحظہ اسے گھورنے کے بعد دوبارہ صغراں کی جانب متوجہ ہو گیا تھا.... جو خوف کی وجہ سے ابھی بھی گھگیا رہی تھی اور ملک ایک ہاتھ سے اس کی نرم و نازک بنڈ کو بھینچ رہا تھا اور دوسر ہاتھ سے اس کی چمکدار سنہری کمر کو سہلا رہا تھا.....
نہ ڈر مینڈی دھی ای تے اپنڑا عالی اے چل سدھی تھی ونج ماں گل کرن دے(ڈر نہیں میری بیٹی یہ تو اپنا عالی ہے سیدھی ہو جا اور مجھے بات کرنے دے) ملک صاحب نے یہ  کہتے ہوئے اس کو ہلکا سا زور دے کر مسہری پر سیدھا لیٹا دیا.... وہ ابھی تک رو رہی تھی.... وہ سیدھی ہوئی تو گویا ایک اور ویسی ہی سنسنی کی لہر عالی کے جسم میں دوڑ گئی.. عالی کو سیدھی پڑی صغراں کوئی جنت کی حور معلوم ہو رہی تھی.... سنہرا نرم و نازک چھوٹا سا بدن.... تھوک سے چمکتی ہوئی چھوٹی چھوٹی گھنڈی نما چھاتیاں.،،سختی کے ساتھ تنے ہوئے مٹیالے رنگ کے نپلز.... لمبی لمبی اور پتلی ہرن نما ٹانگوں کے درمیان... لال سوجی ہوئی چھوٹی سی چوت جس پر لگا خون گواہی دے رہا تھا کہ بشیرے کی ادھ کھلی کلی وقت سے پہلے ہی پھول بن گئی ہے... وہ چھاتیاں جو قمیص سے نیزے کی نوک کی مانند باہر کی جانب تنی ہوتی تھیں.. اور ہر آنے جانے والی نظر سے خراج عقیدت مانگتی تھیں ....آج  ننگی دیکھ کر عالی کا نیا جوان ہوتا لن فورا تن گیا....
ادھر ملک بہت پیار سے صغراں کی غزالی آنکھوں کو چومتے ہوئے اس کی چھاتی کے نپلز کو اپنی انگلی اور انگوٹھے کے درمیان مثل رہا تھا... شاید وہ اسے نارمل کرنے کو کوشش کر رہا تھا عالی نے غورسے دیکھا تو اسے صغراں کے مخملیں ہونٹ بھی کچھ پھولے ہوئے لگے گویا... ملک صاحب کافی دیر انہیں اپنے منہ میں رکھ کر چوستے رہے ہوں..... ملک صاحب چونکہ صغراں کے اوپر جھکے ہوئے تھے تو ان کا سفیدی مائل بڑا سا لنڈ نیم مرجھائی حالت میں صغراں کی چمکدار ٹانگوں پر رگڑ کھا رہا تھا....
صغراں سے فراغت ملی تو عالی کی نظر کریم بی بی پر پڑی... جو مسہری کے ساتھ ہی لگ کر نیچے اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھی ہوئی تھی شاید عالی کی اس منظر نامے میں مداخلت سے پہلے وہ نیچے بیٹھی اپنی ننگی  بیٹی کے سر کو  پیار سے سہلا  کر اس کی ہمت بڑھا رہی ہو گی  اور مسہری کے اوپر ملک صاحب کسی مضبوط باز کی طرح نوخیز چڑیا نما صغراں کو عورت ہونے کا احساس دلوا رہے ہوں گے... کریم کا اوپری  دھڑ عریاں تھا.... عالی کے آنے پر اس نے جو چھوٹا سا کپڑا اپنی بڑی بڑی چھاتیوں کو چھپانے کے لئے اپنے اوپر اوڑھا تھا وہ اس کام کے لئے ناکافی تھا..... پیٹ مغمولی سا باہر کی جانب نکلا ہوا تھا اور نیچے ایک چھوٹا سا جانگیہ تھا جو محض اس کی پھدی کو چھپا رہا تھا ننگی ٹانگیں کیلے کے تنے کی طرح مضبوط اور ٹھوس معلوم ہوتی تھیں... موٹی موٹی قدرے ڈھلکی ہوئی چھاتیوں کے موٹے  موٹے نپلز ظاہر کر رہے تھے کے ان کو بہت استعمال کیا گیا ہے... جو کپڑا کریم بی بی نے چھاتیوں کو ڈھکنے کے لئے پکڑا تھا اس پر لگا خون بتا رہا تھا کہ یہ اس کی کمسن بیٹی کی جوان پھدی سے نکلنے والے خون کو صاف کرنے کے کام بھی آیا ہے....کریم کا ایک ہاتھ اب بھی بیٹی کے سر میں گردش کر رہا تھا..... نظریں عالی کی جانب تھیں جن میں شرمندگی اور تاسف کا تاثر واضح تھا.... شاید وہ اپنی بیٹی سے بھی کچھ چھوٹی عمر کے لڑکے کہ جس کو اس نے ہمیشہ بیٹا سمجھا کے سامنے یوں عریاں اور عیاں ہونے پر شرمندہ تھی....
اسںاں ویکھ کریم (اسے دیکھو کریم بی بی) ملک کی آواز نے کریم بی بی کا سکتہ توڑا..... اور وہ جلدی سے اپنی بیٹی کی جانب متوجہ ہو گئی جس کا رونا اب قدرے کم پڑ گیا تھا اور وہ بھی پھٹی پھٹی آنکھوں سے عالی کو ہی دیکھ رہی تھی... ملک صاحب یوں ہی ننگی حالت میں مسہری پر سے کھسک کر پائنتی کا جانب بیٹھ گئے... اور کریم بی بی اپنی جگہ سے اٹھ کر اوپر مسہری پر ملک کہ جگہ آ گئی اور اپنی ننگی بیٹی کو اپنی ننگی چھاتی سے چپکا کر اس کے سر میں پھر سے ہاتھ پھیرنے لگی...
او چادر ماں نپا عالی (وہ چادر مجھے پکڑاؤ عالی) اوراں آآ (ادھر آؤ) ملک صاحب نے کمرے کے ایک کونے میں کھونٹی سے لٹکی چادر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے عالی کو حکم دیا اور عالی کی نظریں جو کہ اب بھی ماں بیٹی کے ننگے جسموں میں الجھ الجھ جاتی تھیں وہاں سے ہٹیں اور ملک صاحب کی نظروں کا پیچھا کرتے ہوئے کھونٹی تک جا پہنچی... اس نے جلدی سے چادر اتار کر ننگے بیٹھے ملک صاحب کو دی... ملک کا انداز بالکل نارمل تھا جیسے وہ مکمل لباس کے ساتھ اپنے دارے میں بیٹھا ہو.... ملک صاحب نے عالی کے ہاتھ سے چادر لیکر اپنے اوپر ایسے اوڑھی جیسے عموماً کپڑوں کے اوپر اوڑھی جاتی ہے....
ملک کا سفیدی مائل سانولے اور گھٹے ہوا جسم کالی چادر
 میں بھی پوری طرح عیاں تھا... گھٹے ہوے  بازو، مضبوط کندھے، چوڑا بالوں سے بھرا سینہ اور نیچے مضبوط ٹانگوں کا درمیان لٹکتا ہوا لن جو کہ ملک اور صغراں دونوں کی رطوبتوں میں بھیگا ہوا تھا.... وہ کسی بھی عورت کی خواہشات اور ارمانوں کا مرکز ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتا نظر آتا تھا
کی ہویا ای اتھرے داند ار وڑی آنا ایں (کیا ہوا ہے پاگل جانور کی طرح گھستے چلے آ رہے ہو) ملک نے عالی کا بازو پکڑتے ہوئے پوچھا...
ملک صاحب منشی پیغام لایا ہے.... اس کا ابا باہر پولیس لایا ہے.. کوئی نیا انسپکٹر ہے جومنشی سے قابو نہیں  آ رہا ... عالی نے مسہری پر لیٹی ہوئی صغراں کی جانب ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے  جلدی سے خلاصہ بیان کیا ... آپ کو باہر بلا رہا تھا... کہتا ہے معاملہ بگڑ گیا تو گولی بھی چل سکتی ہے...
ملک نے گھوم کر پیچھے بیٹھی ماں بیٹی کی جانب گھور کر دیکھا..
. ہاں بھئی کریم یہ کیا گند کر دیا تیرے بندے نے.... کوئی پروگرام بنا کر تونہیں آئی تھی تو رانڈ.....عالی تو ابھی لڑکا تھا مگر اس نے دیکھا تھا کہ ملک صاحب جب  اپنی غصیلی اور بھاری بھرکم آواز  میں دھاڑتے تھے تو مد مقابل  کا پیشاب خطا ہو جاتا تھا خود عالی نے بڑے پھنے خانوں کی ملک صاحب کے آگے سٹی گم ہوتی دیکھی تھی ......ملک کی دھاڑ سن کر صغراں پھر سے ہڑکنے لگی اور کریم کے ہونٹ سفید ہو گئے... وہ اپنی جگہ چھوڑ کر فوراً مسہری سے نیچے اتر آئی اور ملک کے پیروں کی جانب بڑھی
نا ملک جی نا.... میں تے بشیرے آں دسیا ای نہیں کجھ... میں تے اساں آکھا صغراں وی اج وڈی بیگم اوراں نے مالش کریسی
(میں نے تو بشیرے کو کچھ نہیں بتایا...صغراں کو بھی بڑی بیگم کی مالش کے بہانے لیکر آئی تھی).   ... پنج سال تو تہاونوں اپنی پھدی دیئی کھلی آں کدی چوں وے نئیں کیتی... میں تے صغراں جوان ای تساڈے واسطے کیتی اے.... (5 سال سے آپ کو اپنی پھدی دے رہی ہوں کبھی چوں بھی نہیں کی میں نے تو اپنی بیٹی صغراں جوان ہی آپ کے لئے کی ہے).... میں کیوں اپنی بنی بنائی جنت تے لت مریساں... بشیرا ہلکا تھی گیا ہے... اساں سو مل گئی ہوسی کے میں صغراں آں یداون کھڑینی پئی آں... ملک جی مینڈا تے مینڈی جاتکی دا کوئی قصور کین نئیں.... میں تے اپنی چھوٹی جاتکی آمنہ وی تساڈے بستر لئی تیار کرینی پئیں آں ...... ( میں کیوں اپنی بنی بنائی جنت پر لات ماروں گی.... بشیرا پاگل ہو گیا ہے اس کو سراغ مل گیا ہو گا کہ میں صغراں کو چدوانے لے جا رہی ہوں میرا اور میری بیٹی کا کوئی قصور نہیں ہے میں تو اپنی چھوٹی بیٹی آمنہ بھی آپ کے بستر کی زینت بنانے کے لئے تیار ہوں)... کریم بی بی ملک صاحب کے پیر پکڑ کے بھیگے لہجے میں بولی
ہمم... ملک صاحب نے زور کا ہنکارا بھرا... وت پولس اگے بیان دیونا پوسی آ (پھر تمہیں پولیس کے آگے بیان دینا پڑے گا)
ضرور دیساں مائی باپ ضرور دیساں (ضرور دوں گی مائی باپ ضرور دوں گی) کریم بھرائی آواز میں بولی
چل ہٹ ونج (پیچھے ہٹو) ملک کریم کو پیچھے ہٹاتے ہوے کھڑا ہو گیا اور  عالی کی جانب  دیکھا   ... عالی میں باہر جاتا ہوں تو دونوں ماں بیٹی کو کپڑے پہنا کر چھوٹی بیٹھک مین لے آ اور پھر دوبارہ کریم کی طرف دیکھ کر گونج دار آواز مین بولا    کوئی بھین یکی نہ کریں متاں ای سمجھیں کے پولس تواں بچا گھیسی.. ماچھی انسپکٹر دی وردی وی پا گھنے تا کوئی پکا آسرا نئین بنڈدا.... . (کوئی بہن یکی نہین ہونی چاہیے .. کہیں یہ نا سمجھو کہ پولیس تمہیں میرے عتاب سے بچا لے گی.. ماچھی اگر انسپکٹر بھی بن جائے تو کوئی بہت مضبوط سہارا نہین بنتا)..
ملک کی آواز میں کسی بھی قسم کی بے چینی یا پریشانی نہ تھی جیسے وہ ہمیشہ سے  ایسے موقع کے لئے تیار ہو..
عالی اپنا حلیہ بھی ٹھیک کر ... اور اندر زنانے کے راستے سے آنا میں جاتے ہوئے سب کو ہٹا دوں گا.. ملک صاحب  کپڑے پہنتے ہوئے بولے.... اور پھر دوبارہ کریم کی طرف دیکھا سمجھ گئی ہے نا پولیس کو یہی بتانا ہے کہ تو اپنی مرضی سے یہاں ملازمت کرتی ہے اور آج اپنی بیٹی کے ساتھ بڑی بیگم کی مالش کرنے آئے تھی..
جی مالک... کریم بی بی گھگیائی....
میں چلتا ہوں.. ملک بولا
ابھی وہ کمرے سے نکلنے ہی لگا تھا کہ کچھ سوچ کر رکا اور صغراں کے کانپتے ہوئے مہین وجود کی جانب غور سے دیکھنے لگا..
اس کو یوں اس حالت میں لیجانا ٹھیک نہیں ہوگا... ملک بڑبڑایا... وہ انسپکٹر بڑا حرامی ہے... بچی کو اس کے سامنے نہیں جانا چاہیے... معاملہ بگڑ بھی سکتا ہے....
عالی... ملک نے شاید دل ہی دل میں کوئی فیصلہ کر لیا..تو فی الحال ادھر اسی کمرے میں رک.. صغراں کو سنبھال.... میں کریم کو لیجاتا ہوں اگر  ضرورت پڑ گئی تو بلوا بھیجوں گا تم دونوں کو.. کریم کے ہاتھوں.. ملک نے  عالی سے بات کرنے کے بعد پیچھے مڑ کر کریم کی جانب دیکھا جو ابھی بھی ننگی چھاتی لئیے فرش پر اسی جگہ بیٹھی ہوئی تھی.. جہاں کچھ دیر قبل ملک صاحب کے پاؤں تھے..
کیا خیال ہے کریم تو سنبھال لے گی نا... اپنے بندے کو یا ہمیں خود سنبھالنا پڑے گا... ملک کے لہجے کی سردی عالی کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی
جی جی مالک میں سانبھر گھیساں (جی مالک سنبھال لوں گی میں)
وت اٹھ کپڑے پا (پھر چل اٹھ اور کپڑے پہن) جلدی کر
تو سمجھ گیا نا عالی ملک دوبارہ عالی کی جانب پلٹا
جی ملک صاحب...عالی منمنایا
کریم بی بی اپنی جگہ سے اٹھ کر کمرے میں پھیلے اپنے اور اپنی بیٹی کے رنگ برنگے کپڑوں میں سے اپنے کپڑے الگ کرنے لگی اور ملک پیشانی پر شکن ڈالے کمرے میں ٹہلنے لگا..کمرے کی گھمبیر خاموشی میں اور ملک کے کھسے کی چوں چوں اور کریم کے کنگنوں کی کھن کھن میں.. مسہری پر گول مول ہوئی  ننگ دھڑنگ ننگی صغراں کی ننھی ننھی گھبرائی ہوئی سانسیں عجیب تاثر پیش کر رہی تھیں
. کریم شاید اپنے بندے کی سلامتی کے لئے کوئی دعا منہ ہی منہ میں بڑبڑا رہی تھی کیوں کو وہ جانتی تھی کے ایک پولیس کا انسپکٹر ملک کی اس مضبوط حویلی کی ایک اینٹ بھی نہیں اکھاڑ سکتا...جہاں اس سے کئی بڑے بڑے افسر روزانہ حاضریاں لگاتے تھے.. اور ملک شاید کمرے میں چکر لگاتے ہوئے اپنے خاندان کے بے داغ سفید شملے پر متوقع طور پر لگنے والے اس داغ کا تدارک سوچ رہا تھا...
کمرے میں موجود  عالی ہی وہ واحد متنفس تھا کہ جو صرف اور صرف صغراں کے بارے میں سوچ رہا تھا...جو مسہری پر اپنی ٹانگوں میں سر دیے ہولے ہولے ہڑکے کھا رہی تھی اس کے لمبے ریشمی بال اس کی ننگی ٹانگوں کی کچھ حد تک پردہ پوشی کر رہے تھے... عالی کو صغراں کی جھکے سر کے نیچے سے اس کی گردن اور اس کے نیچے سنہری کمر بالکل عریاں دکھائی دے رہی تھی..... گردن کے عین نیچے ریڑھ کی ہڈی کے ابھار کمرے کے وسط میں لگے بھاری بھرکم فانوس کی تیز روشنی میں چمک رہے تھے.. عالی کے دماغ میں عجیب سرخی سی غالب آتی جا رہی تھیں اسے اپنی آنکھوں کے پیوٹے بھاری ہوتے محسوس ہو رہے تھے...ابھی کچھ دیر بعد وہ ننگی صغراں کے ساتھ ملک صاحب کی اس عالیشان خوابگاہ میں اکیلا رہ جائے گا... اسے صغراں کو تیار کرنا ہے... شاید وہ صغراں کے دمکتے بدن کو ہاتھ بھی لگائے گا.... وہ کیسے صغراں کی جانب بڑھے گا.... کیسے اسے مخاطب کرے گا... وہ دونوں کب تک اس کمرے میں اکیلے بند رہیں گے؟ شاید کے جب تک ملک صاحب اس سارے معاملے کو نپٹا کر واپس نہیں آ جاتے.. اپنا ادھورا کام مکمل کرنے کے لئے! یا شاید جب تک کریم بی بی ان دونوں کو لینے نہیں آ جاتی پولیس کے سامنے پیش کرنے کے لئے... ان دونوں کے سوا تو کوئی اس کمرے تو کیا راہداری میں آنے کا بھی سوچ نہیں سکتا تو کیا اگر ملک اور کریم دونوں ہی رات بھر تک واپس نہ آ سکے تو وہ رات بھر نوخیز صغراں کے ساتھ اس کمرے میں بند رہے گا اور اگر ملک صاحب اور کریم بی بی کبھی واپس نہ آئیں.؟؟؟ .. آوارہ سوچیں اس کے دماغ کو ہلکے کاغذ کی طرح اڑائے پھر رہی تھیں اور وہ ٹکٹکی باندھے ہچکولے کھاتی صغراں کی جانب دیکھ رہا تھا..
عالی.... ملک کی پاٹ دار آواز گونجی... اس نے چونک کر ملک کی جانب دیکھا جو اپنے سر پر ملکوں کا مخصوص پگڑ درست کر رہا تھا... ساتھ ہی کریم بی بی بھی لمبی سی سفید چادر میں لپٹی کھڑی تھی....
صغراں کو تیار کر کے رکھنا... اور سب سمجھا دینا.... شاید اس کے بیان کی ضرورت بھی پڑے... جانتا تو ہے نا بیان کیا ہونا چاہیے....
بیان.... عالی نے غائب دماغی کی سی کیفیت میں کہا... کیسا بیان ملک جی..
ارے حرامی ابھی تو بتایا ہے کہاں کھویا ہوا تھا.... پولیس پوچھے تو تم دونوں نے بتانا ہے کہ بڑی بیگم کے لئے پیچھے باغ میں سے بیر توڑنے گئے تھے... سمجھے
بیر مگر ملک جی رات کے اس پہر بیر کون کھاتا ہے.. عالی نے حیرانی سے پوچھا تو ملک زیر لب مسکرا اٹھا..
دیکھ کریم.. عالی کی ذہانت... ملک کے لہجے میں ستائش تھی.. اور واقعی ہی افراتفری کی اس صورتحال میں اتنے کم عمر لڑکے کا یوں چھوٹے سے نکتے کو پکڑ لینا ذہانت کی نشانی تھی
جی مالک.. کریم غالباً جلد ازجلد اپنے بندے کے پاس پہنچ کر اسے کسی اور بیوقوفی سے روکنا چاہتی تھی اس کے لئے یہ باتیں ثانوی حیثیت کی حامل تھیں
ملک کریم بی بی کے سنجیدہ تاثر دیکھ کر خود بھی جلدی سے سنجیدہ ہو گیا...
پتر ہم ملک ہیں... سارے علاقے پر حکمرانی کرتے ہیں.. ہم جس وقت چاہیں جس چیز کی چاہیں خواہش ظاہر کر سکتے ہیں.. تمہارا کام ہے حکم ماننا... ملک کا لہجہ سمجھانے والا تھا... شاید وہ سچوئشن ان دونوں کے ذہنوں میں بٹھانے کی کوشش کر رہا تھا..
سمجھ گیا ملک صاحب... عالی تو ملک کی رگ رگ کا واقف تھا اس کے لئے اشارہ ہی کافی تھا ... ہم نوکر ہیں... ہمیں تو بس اتنا پتا ہے کہ بڑی بیگم نے کریم کے ذریعے ہم دونوں کو باہر باغ سے بیر لانے کا کہا تھا... اس مستعدی سے جواب دیا...
شاباش... ملک نے بھاری بھرکم ہاتھ عالی کے نازک کندھے پر مارا... اور ویسے بھی باغ حویلی کی چار دیواری کے اندر ہی ہے... دسترس میں ہے... انسپکٹر کو اتنا اچنبھا نہ ہو گا.. ملک نے اگلا جملہ شاید خود سے کہا تھا.... وہ اپنی کہانی کے پلاٹ سے مطمئن دکھائی دیتا تھا...
چل بھائی کریم ... ملک نے کریم کا ہاتھ پکڑا اور وہ دونوں کمرے سے نکلتے چلے گئے....
کہتے ہیں انسان اپنی زندگی کہ ہر آنے والے نئے لمحے میں کچھ نیا تجربہ حاصل کرتا ہے. اکثر تجربے اتنے معمولی ہوتے ہیں کہ انسان کی طرز زندگی پر کچھ خاص اثر ڈال پانے میں کامیاب نہیں ہوتے مگر.. بعض تجربے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو ایک لحظے میں انسان کی زندگی کا رخ بدل دیتے ہیں..یہ تجربے انسان کی اپنی پلاننگ کو تباہ کر کے اسے تقدیر کے ایسے ان دیکھے رستے پر لا کھڑا کرتے ہیں کہ جہاں انسان کا سہارا صرف اور صرف اس کا اپنا وجدان ہوتا ہے..اس راستے کہ سرے پر کوئی حسین، نشاط انگیز جنت بھی ہو سکتی ہے اور ناکامیوں اور کج رویوں کی جہنم بھی..
شاید عالی کی زندگی بھی رخ بدلنے والی تھی، شاید تقدیر نے اسے بھی کسی ان دیکھے راستے پر لا کھڑا کیا تھا.. اس کا سارا وجود جذبات کی آندھیوں میں ہچکولے کھا رہا تھا..ملک اور کریم بی بی اسے اور کمسن صغراں کو کمرے میں چھوڑ کر جا چکے تھے. جاتے ہوئے ملک نے کمرے کا دروازہ بھیڑ دیا تھا اس نے عالی کو اندر سے چٹخنی لگا کر دروازہ لاک کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے تاکید کی تھی کہ جب تک میں یا کریم بی بی دروازہ کھولنے کو نہ کہیں وہ کسی اور کے لئے دروازہ ہرگز نہ کھولے.
دروازہ بند ہونے کے کچھ دیر تک عالی اپنی جگہ پر ساکت کھڑا رہا وہ شاید کچھ دیر کے لئے قوت فیصلہ سے محروم ہو گیا تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ سب سے پہلے اسے کیا کرنا چاہیے صغراں مسہری پر اسی پوز میں بیٹھی تھی دونوں ٹانگیں اٹھا کر سینے سے لگی ہوئیں اور دونوں بازو ٹانگوں کے گرد لپٹے ہوئے ہاں مگر اس نے ٹانگوں کے درمیان اپنا جھکا ہوا سر اٹھا لیا تھا شاید ملک نے جاتے ہوئے جب کمرے کا دروازہ بند کیا تھا تو اس کی آواز سن کر اس نے سر اٹھایا تھا. سر اٹھانے کی وجہ سے لمبے ریشمی بال اس کی ٹانگوں کے آگے سے ہٹ گئے تھے... ہاں مگر ٹانگیں اس نے کچھ اس انداز سے کس کر اپنے آگے کھڑی کی تھیں کہ عالی کو اس کی اندام نہانی نظر نہیں آئی تھی .. بڑی بڑی ارغوانی آنکھیں جو کہ آنسووں سے بھیگی ہوئی تھیں، خدشات اور وسوسوں کی تصویر بنی ہوئی تھیں اس نے اس ذرا سے وقت میں اتنے آنسو بہائے تھے کہ اس کا پورا منہ بھیگ چکا تھا..جانے یہ لڑکیاں اتنے آنسو لاتی کہاں سے ہیں کنپٹیوں کے ساتھ ساتھ بالوں کی نسبتاً چھوٹی لٹیں بھیگ کر گالوں سے چپک گئی تھیں.. ایک لٹ قدرے سوجے ہوئے لال لال ہونٹوں پر سایہ فگن تھی...ننگی سنہری ٹانگیں، خوبصورت بازو.. مخروطی گردن کا کچھ حصہ عالی کی آنکھوں کو چندھیا رہا تھا...
کچھ دیر صغراں کو دیکھنے کے بعد عالی متحرک ہوا.. وہ سب سے پہلے دروازے کی جانب بڑھا... اور چٹخنی چڑھا کر دروازہ بند کر دیا...وہ پلٹا اب اسے صغراں کے پاس جانا تھا.. اس سے بات کرنی تھی. اسے اپنا حلق خشک ہوتا ہوا محسوس ہوا اور ٹانگوں میں واضح لرزش....
عالی تو عام بندہ نہیں ہے.. اس نے اپنے دل میں سوچا.. تو ملک کا خاص آدمی ہے منشی کرم جیسا حرامی آدمی بھی تجھ سے بات کرتے ہوئے محتاط رہتا ہے.. تجھے اس کمزور سی لڑکی کے سامنے یوں اعتماد نہیں کھونا چاہئیے ملک صاحب کو دیکھا ہے اتنی خطرناک حالت میں بھی ان کے قدموں میں کوئی لرزش نہ ہوئی نہ ہی ان کی اواز بیٹھی.. تجھے بھی خود پر قابو پانا چاہیے.. ایک لمحے میں سارے خیالات آئے اور لرزیدہ عالی کو مضبوط کر گئے... گھبراہٹ تو اب بھی تھی.. مگر بہت کم..
اس نے ملک صاحب کے انداز کا تصور کیا اور نپے تلے قدم اٹھا کر مسہری کی جانب بڑھا.. صغراں اس کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر خود میں مزید سمٹ گئی.. شاید اسے احساس ہو گیا تھا کہ اتنی دیر سے وہ اپنی جگہ پر ننگی بیٹھی ہے... جب اس کی ماں کپڑے پہن رہی تھی اس کو بھی اٹھ کر کپڑے پہن لینے چاہیے تھے مگر وہ اٹھتی کیسے اس کی تو ٹانگوں میں جان ہی نہیں رہی تھی... مائے کو چاہیے تھا کہ وہ میرے کپڑے مسہری پر ہی مجھے پکڑا دیتی.. مگر اس  کو شاید ابے کی فکر تھی.اور گھبراہٹ میں وہ بھی کوئی سہی فیصلہ نہیں کر سکی اس نے سوچا... باپ کا خیال آتے ہی.. اس پر پھر سے گھبراہٹ طاری ہونے لگی وہ بچپن سے سنتی آ رہی تھی کہ ملک اپنے نافرمانوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انہیں کتوں کے آگے ڈال دیتے ہیں... اس نے وہ کتے دیکھے بھی تھے حویلی کے پائیں باغ کے ساتھ ہی ان کتوں کے پنجرے تھے.. یہ بڑے بڑے منہ والے.. گدھے کے سائز کے وہ کتے اکثر شام کو باغ میں چہل قدمی کرتے نظر آ جاتے تھے... حویلی کے بچوں میں ایک واحد عالی تھا جو ان کتوں کے پاس چلا جایا کرتا تھا وگر نہ بچے کیا بڑے بھی ان کتوں سے کتراتے تھے کتوں کو سنبھالنے کے لئے رکھے گئے دونوں رکھوالے بھی.. حویلی کے باقی ملازمین میں کم ہی گھلتے ملتے تھے...
پہلی ماہواری آنے پر جب اس کی مائے نے اس سے کہا تھا کہ اگلی دو ماہواریوں کے بعد اسے ملک کے نیچے لیٹنا ہو گا تو وہ بہت چیخی چلائی تھی.. وہ کسی بھی صورت ملک صاحب کے سامنے کپڑے اتارنے کو تیار نہ تھی
یہ تو جب اس کی ماں نے اسے بتایا کہ ملک کی بات نہ ماننے والوں کو وہ دونوں رکھوالے پکڑ کر کتوں کے آگے ڈال دیتے ہیں تو اس کی سرکشی کسی قدر تھمی تھی... پھر اس کی ماں اگلے دو مہینے اسے اس کام سے حاصل ہونے والے لطف کے بارے بتاتی رہی تو اس کے اندر ایک تجسس آمیز دلچسپی نے جنم لیا اسی لئے آج شام جب اس کی ماں نے اسے اچھی طرح نہانے کو کہا تھا تو  وہ خوشی سے اپنے جسم کو رگڑ رگڑ کر نہائی تھی...
مگر اسے کیا پتا تھا کہ اس کا باپ یوں کرے گا... تو کیا اب ابے کو کتوں کو آگے ڈال دیا جائے گا.... اس نے سوچا اور اپنے باپ کے چھیتڑے ہوتے جسم کا تصور کر کے وہ ایک بار پھر سے ہڑکنے لگی..
صغراں کو یکدم پھر سے روتا دیکھ کر عالی پریشان ہو گیا اس نے سوچا شاید وہ مجھ سے خوف کھا کر رونے لگی ہے... ویسے بھی حویلی کے سب بچے عالی سے دور دور ہی رہتے تھے... شاید ڈرتے تھے یا احترام کرتے تھے...
وہ ایک دم سے آگے بڑھا اور مسہری پر صغراں کے پیروں کے پاس جا کر بیٹھ گیا...
صغراں صغراں.. چپ کر ونج.. (صغراں چپ کر جاؤ) اس نے صغراں کو آوازیں لگائیں مگر گویا صغراں نے سنا ہی نہیں وہ اسی رفتار سے ہڑکے جا رہی تھی...صغراں.. عالی نے پھر آواز لگائی اور اس بار اس کے داہنے ہاتھ جو کہ اس کے بائیں بازو کو پکڑے ہوا تھا پر اپنا ہاتھ بھی رکھا... عالی کو پورے جسم میں جھرجھری سی محسوس ہوئی اور شاید ایسی ہی جھر جھری صغراں نے بھی اپنے کمسن وجود میں محسوس کی اسی لئے اس کا رونا بتدریج کم ہونے لگا...
اس نے سر اٹھا کر عالی کی جانب دیکھا اور اسے اپنے اتنے نزدیک پا کر گھبرا سی گئی...
رو کیوں رہی ہو عالی نے بدستور اس کا ہاتھ تھامے ہوا پوچھا....صغراں نے کوئی جواب نہ دیا وہ بس عالی کو دیکھے جا رہی تھی..
مجھ سے ڈر لگ رہا ہے؟ عالی کے ہاتھ کی گرفت میں گرمجوشی بڑھنے لگی...
صغراں نے نفی میں سر ہلایا...
وت کیوں (پھر کیوں) عالی نے استفسار کیا...
مینڈا ابا (میرا باپ) ملک اساں مار گھتیسی (ملک اس کو مار دے گا.. صغراں کی آواز میں نمی در آئی..
عالی کو صغراں کے جسم میں ہونے والی لرزش صاف محسوس ہوئی.. اسے اس کمزور سے ذرا ذرا سی بات پر رو دینی والی لڑکی پر بے انتہا پیار آیا... اس کا دل چاہا کہ وہ اسے اپنے اندر چھپا لے..
صغراں... عالی کی آواز میں عجیب سی ملاحت در آئی.. تڈے پیو آں کجھ وی نہ ہوسی (تیرے باپ کو کچھ بھی نہ ہوگا) اس نے کہتے ہوئے صغراں کے ہاتھ کو چھوڑ کر اس کا نرم و ملائم بازو پکڑ لیا...
صغراں کو عالی کی نرم اور گرم گرفت سے انجان سا سہارا معلوم ہوا اسے عالی کے ملاحت زدہ لہجے پر یقین کرنے کا دل چاہا... اس نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں اٹھا کر عالی کی جانب دیکھا... اور وہ معصوم سا بھوری آنکھوں والا گورا چٹا لڑکا نجانے کیوں بہت بھلا معلوم ہوا.... اس کے ہونٹ کانپے وہ کچھ کہنا چاہتی تھی مگر... عالی کی گرفت نے اس کا ذہن کورے سلیٹ کی مانند خالی کر دیا... وہ غیر ارادی طور پر عالی کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی

 

Posted on: 12:41:PM 17-Dec-2020


0 0 488 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 59 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com