Stories


چاہت میں کیا دنیاداری از فروا عباسی

نامکمل کہانی ہے


زندگی بہت سکون سے گزر رہی تھی صرف ایک ہی کمی تھی کہ شادی کے سولہ سال گزرنے کے بعد بھی اولاد جیسی نعمت سے محروم تھی ۔ کچھ کہانیاں دیواروں کے پیچھے ہوتی ہیں جہاں وقت اور حالات کی مجبوریاں انسان سے بہت کچھ کروا دیتی ہے ۔ ہر مرد یا ہر عورت بدکردار نہیں ہوتے کبھی کبھی وقت اور حالات بھی انسان سے گناہ کروا دیتے ہیں بیشک اس میں قصور وار انسان ہی ہوتا ہے ایسی ہی ایک کہانی ہے اور اس سے ملتی جلتی ہزاروں کہانیاں ابھی پردے کے پیچھے ہیں ۔ میرا تعلق ایک متوسط گھرانے سے ہے ہم پانچ بہنیں اور ایک بھائی ہیں میرے والد ایک سرکاری ملازم ہیں میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہوں اور مزاج کی بھی بہت تیز ہوں ۔ میری شادی کم عمری میں ہی جب میری عمر انیس سال تھی ابو کے ایک دوست کے بھائی سے ہو گئی میرا نام مہوش ہے اور میرے شوہر کا نام سعد ہے وہ بہت اچھے اور نفیس انسان ہیں مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں ۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد ہم اپنا شہر چھوڑ کر لاہور منتقل ہو گئے جہاں سعد ملازمت کرتے تھے اور میں کیونکہ گھر میں اکیلی ہوتی تھی تو میں نے بھی ایک پرائیویٹ سکول مین پڑھانا شروع کر دیا ۔ کچھ عرصہ ہم اکیلے رہے پھر سعد کے بڑے بھائی کا ایک بیٹا جس کی عمر کو دس سال کے قریب تھی ہم نے گود لے لیا اور اس کی پرورش کرنے لگے کیونکہ سعد کے بڑے بھائی کے زرائع آمدن خاص نا تھے۔ زندگی بہت پرسکون تھی کہ سعد کی اور میری تنخواہ میں بہت اچھا گزارا ہو رہا تھا ہم نے ایک مکان کرائے پہ لیا ہوا تھا جس کے دو کمرے کچن اور باتھ تھا ۔ کچھ وقت اور گزرا تو میرے چھوٹے بھائی کا ایڈمیشن بھی لاہور ہو گیا یہ تب کی بات ہے جب میری عمر پینتیس کے لگ بھگ تھی ۔ ابو نے لاہور ایډمیشن کروانے کے بعد جب بھائی کو ہاسٹل میں داخل کرانے کی بات کی تو میرے میاں کو اس پہ بہت غصہ آیا کہ گھر کے ہوتے ہوئے بھائی ہاسٹل کیوں رہے اور اس طرح بھائی بھی ہمارے گھر رہنے لگ گیا۔ میرا بھائی ایک کمزور سا لړ‎کا تھا اور وہ زیادہ تر چپ ہی رہتا تھا اس کے پہلے بھی کوئی خاص دوست نہیں تھے ۔ بھائی کے آنے سے ہمیں کافی سہولت بھی ہو گئی تھی کہ نومی سعد کا بھتیجا ابھی گیارہ بارہ سال کے قریب ہی تھا اور بھائی کی عمر اٹھارہ کے قریب تھی کچھ ہی دنوں میں دونوں کی اچھی دوستی ہو گئی اور وہ بیٹھ کر پڑھ بھی لیتے تو میری پریشانی بھی خاصی کم ہو گئی تھی ۔
گرمیوں کے دن تھے ایک دن سکول سےواپس آ کر میں نے کچھ دن آرام کیا اور پھر اپنی ایک سہیلی کے گھر جانے کا خیال آ گیا میں اٹھی اور تیار ہو کر بھائی اور نومی کو بتایا کہ میں زرا حنا کے گھر سے ہو کر آتی ہوں ۔ بھائی نے مجھے حنا کے گھر تک چھوڑنے کی آفر کی مگر اس کا گھر قریب ہی تھا اس لیے میں نے ان میں سے کسی کو ساتھ لینا مناسب نا سمجھا۔ میں ان کو میں دروازہ بند کرنے کی تاکید کرتے ہوئے گھر سے نکلی اور حنا کے گھر کی طرف چل پڑی جب میں حنا کے گھر پہنچی تو اس کے گھر دروازے پہ تالا لگا ہوا تھا۔ میں نے اپنے آپ کو کوسنے دئیے اور خود کو لعنت ملامت کرتی ہوئی گھر کی طرف پلٹی کہ ایک میسج یا کال کر کہ ہی پوچھ لیتی خواہ مخواہ کا چکر لگا ہے اپنی ان سوچوں میں گم میں گھر کے دروازے پہ پہنچی تو دروازہ لاک تھا۔ میں نے ان کو خود ہی کہا ہوا تھا کہ دروازہ بند کرنا کیونکہ تالے کی ایک چابی میرے موبائل کے کور میں رہتی تھی میں نے اس سے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گئی میرے زہن میں یہی تھا کہ بچے گیم کھیل رہے ہوں گے ان کو کیا ڈسٹرب کیا جائے ۔ میں دروازہ بند کر کے ابھی اندر کی طرف پلٹی ہی تھی کہ دروازے کے پاس ہی زرا آگے کھڑکی سے  مجھے نومی کی آواز آئی اففف ہائے ۔۔ جیسے اس نے کسی درد کو برداشت کیا ہو۔۔ ایک لمحے کے لیے میرا دل دھک سے رہ گیا کہ یہ کیا ہوا ہے ابھی میں اس بات پہ کوئی ردعمل یا آواز دیتی کہ اندر سے دوسری آواز ابھری جو کہ میرے بھائی کی تھی “ بس مہوش آپی پوراچلا گیا ہے “ کیا چلا گیا ہے بھائی یہ کیا کہہ رہا ہے میں ایک دم الجھ سی گئی ۔۔ میں وہیں رک گئی اور ایک تجسس نے مجھے گھیر لیا ۔۔ یار بھائی آپ چاچی کا نام لیکر بہت ظلم کرتے ہو ان کی بنڈ اتنی موٹی ہے میری تو اتنی نہیں ہے آپ یہ پورا ڈنڈے جیسا مجھ میں گھساتے ہو نومی کے اگلے جملے سے مجھے پسینہ سا آ گیا ایک لمحے میں ساری بات میری سمجھ میں آ گئی کہ اندر کیا گھناونا کھیل کھیلا جا رہا ہے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور ٹانگیں کانپنے لگیں ۔۔ میں ایک ہی بات میں سمجھ گئی کہ بچے تنہائی ملنے کا ناجائز فائدہ اٹھا چکے ہیں ۔ میں نے خود کو گرنے سے بچانے کے لیے دیوار کا سہارا لیا اور سہارالینے کے دوران میری نظر کھڑکی پہ پڑی جس کا اندر سے زرا سا پردہ ہٹا ہوا تھا وہاں سامنے دو ننگے جسم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے لمحوں کے اس کھیل میں ساری بات میری سمجھ میں آ چکی تھی ۔ گرتے ٹوٹتے وجود کو سنبھالتے میرے زہن میں ایک ہی الجھن تھی کہ اس صورتحال سے کیسے نمٹوں؟؟
میں نے اندر کی طرف نظر   ڈالی اور دیوار کا سہارا لیا  سوشل میڈیا پہ ہم جنس پرستی کے بارے میں بہت کچھ سن رکھا تھا مگر اس سے نمٹنا کیسے ہے اس بارہ میں میرے پاس کوئی معلومات نا تھیں ۔ میں نے اندر دیکھا تو صوفے کے بازو پہ نومی کو جھکا ہوا پایا کہ اس نے بازو آگے کر کہ صوفے کے کشن پہ رکھے تھے اور اس کے پاوں ہوا میں تھے اور وہ پیچھے مڑ کر بھائی کو دیکھ رہا تھا ۔ بھائی کا لن نومی کی گول مٹول سی گانڈ میں اترا ہوا تھا اور لن کا زرا سا حصہ گانڈ کے باہر تھا اس کے دونوں ہاتھ نومی کی کمر پہ تھے اور بھائی کی آنکھیں بند تھیں وہ کسی نشے کے اثر میں ڈوبا ہوا لگ رہا تھا ۔ نومی کے چہرے پہ ہلکے درد کے تاثرات تھے ، ایک لمحے کے لیے میں نے  سوچا کہ اندر گھس کر ان دونوں کی پٹائی کروں مگر اگلے لمحے سوچا پھر سعد کا ردعمل کیا ہو گا پھر اپنی جیٹھانی کا ردعمل اور والدین کا سوچا تو میرا غصہ ایک ہی لمحے میں کم ہو گیا اور پھر اسی عجیب سوچ نے مجھے پکڑ لیا ۔ میری نظر پھر بھائی کے چہرے پہ گئی جس کی آنکھیں بند تھیں مگر جسم کا نچلا حصہ ہلکا سا آگے پیچھے ہو  رہا تھا  ۔ اس کے منہ سے ہلکی سی سسکیاں نکل رہی تھیں  افف مہوش آپی ۔۔ کیا نرم جسم ہے آپ کا  بھائی نے لن کو نومی کی گانڈ میں آگے پیچھے کرتے ہوئے سسکی لی  اور باہر دیوار کے ساتھ جڑ کر کھڑے میرے جسم میں کپکی طاری ہو گئی کہ میراہی سگا بھائی میرے جسم کے بارے میں کیا سوچتے ہوئے یہ کیا کر رہا ہے ۔۔ میں صدقے اپنے بھائی کے ۔۔ بھائی کا لن اپنی گانڈ میں لیے ہوئے نومی نے میرے انداز میں کہا اور اپنی گانڈ اور اوپر اٹھائی اور صوفے کے کشن پہ پڑھی میری چادر اپنے سر پہ رکھ لی اور مڑ کر بھائی کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا ، بھائی اپنی بہن کی کومل سی گانڈ کو آرام سے چودنا مت درد کر دو  نومی نے میری آواز کی نقل کرتے ہوئے کہا ۔ جی مہوش باجی بہت آرام سے آپ کی پھدی کے اندر اتاروں گا آپ کی رسیلی چوت بہت مزے سے ماروں گا آپ کو زرا بھی درد نہیں ہو گا بھائی ے اسی طرح آنکھیں بند رکھتے ہوئے نومی میں جھٹکے جاری رکھے ۔ میں سمجھ گئی کہ نومی اس وقت میرا کردار ادا کر رہا ہے اور بھائی نومی کے بجائے مجھے خیال میں رکھ کر چود رہا ہے ۔ میرا تو یہ حال تھا جیسے کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔۔ چپ چاپ دیوار کے ساتھ لگی اس صورتحال کو ہضم کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔ ویسے یار بھائی اگر سچ میں چاچی مل جائیں چودنے کے لیے تو؟؟ نومی نے بھائی اے پوچھا ابھی اس کی بات منہ میں ہی تھی کہ بھائی نے ایک زوردار تھپڑ نومی کی گانڈ پہ مارا اور بولا ماں چود گشتی کے بچے تیری ماں کے منہ میں ماروں میری اتنی نازک سی بہن چودنے کے لیے ہے کیا بہن چود؟؟ افف ہائی ۔۔ نومی کے منہ سے ایک سسکی نکلی نہیں بھائی میں تو آپ کو مزہ دینے کے لیے پوچھ رہا تھا نا۔۔ بھائی  کی آنکھیں اور سختی سے بند ہوئی اور اس نے  نومی کی بنڈ میں لن گھساتے ہوئے سسکاری بھری اور کہا بہن کی چوت ۔۔ مہوش آپ کا کومل بدن بس چومنے لائق ہے سر سے پاوں تک صرف چومنے لائق ۔۔ پاوں کی انگلیوں سے سر تک صرف پیار کرنے لائق ۔۔ کیا آپ چاچی کو ساری رات چومتے رہیں گے نومی نے حیرت سے بھائی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔ ہاں تو اس میں کیا ہے میں ان کے رسیلے بدن کو رات بھر چوم سکتا ہوں ۔۔ یہ بات کرتے ہوئے بھائی کے تاثرات بہت اور سے ہو گئے تھے
اندر کے منظر اور گفتگو نے میرے وجود کو ہلا کر رکھ دیا تھا مگر میں کچھ بھی کرنے سے قاصر تھی مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس معاملے سے کیسے نمٹا جائے تمام تر غصے کے باوجود مجھے یہ علم تھا کہ اس معاملے کو اچھال کر سوائے زلت کے اور کچھ حاصل نہیں ہو گا ۔ اب بھائی کے جھٹکوں اور نومی کی سسکیوں میں تیزی آ چکی تھی بھائی کے منہ سے افف مہوش آپی ہائے مہوش آپی بار بار نکل رہا تھا اس کی بند آنکھوں کے سامنے یقینی طور پہ میرا سراپا تھا اس کا لن نومی کی گانڈ کو کھول رہا تھا اور نومی بھی میرا کردار ادا کرنے کی پوری کوشش کر رہا تھا میں جس انداز میں گفتگو کرتی تھی نومی اسی انداز میں بھائی سے باتیں کر رہا تھا ۔ کچھ دیر کی مسلسل چدائی کے بعد بھائی نے لن کو ایک جگہ روک دیا اور اپنی سانس بحال کرنے لگا تو نومی نے پیچھے مڑ کر بھائی سے پوچھا کیا ہوا بھائی اپنی آپی کی چدائی کرتے رک کیوں گئے ہو ۔۔ بھائی نے اس کی کمر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کیا کروں مہوش آپی ۔۔ آپ کا بدن ہی اتنا مزے کا ہے میں چھوٹنے ہی لگا تھا ۔۔ یار چھوٹ جاتے نا اب نومی نے پہلے بھائی کو دیکھتے ہوئے یہ کہا مگر اس نے جیسے دیکھا کہ بھائی کے چہرے پہ غصہ ہے تو وہ فورا بولا بھائی پھر مانتے ہو نا کہ میں سیکسی لگتی ہوں اور پھر چادر کو انگلی پہ لپیٹتے ہوئے سر جھکایا جیسا میں اکثر سعد کے ساتھ کرتی تھی ۔۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ بچوں کے سامنے احتیاط سے رہنا کیوں ضروری ہے ۔۔ ابھی اسی سوچ میں تھی کہ بھائی نے اپنا لن نومی کی گانڈ سے باہر نکال لیا تو مانو میری تو آنکھیں ہی پھٹ سی گئیں ۔۔ میں تو سعد کے لن کو ہی بہت بڑا سمجھتی تھی کہ میں نے ایک وہی لن دیکھ رکھا تھا جو میری انگلی سے زرا سا بڑا اور لمبا تھا مگر ادھر اپنے چھوٹے سے بھائی کے لن پہ جب میری نظر پڑی تو میری جیسے سانس رک گئی کم از کم چھ انچ لمبا اور کوئی انچ سے بھی زیادہ موٹا ڈنڈے کی طرح اکڑا ہوا لن جس نے باہر نکلتے ہی سر آسمان کی طرف بلند کر لیا تھا ۔۔ لن اتنا بڑا بھی ہوتا ہے میرے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا ۔۔ میں تو اسی لن کو بڑا سمجھ رہی تھی مگر اب پتہ چلا تھا کہ لن کسے کہتے ہیں بھائی نے لوہے کی طرح اکڑے ہوئے لن کو نومی کی نرم بنڈ پہ مارا تو اس کی بنڈ میں لرزش پیدا ہوئی اور تھپ تھپ کی آواز گونجنے لگی ۔ بھائی نے لن کو کچھ بار نومی کی گانڈ پہ مارا اور پھر کہا چلو مہوش آپی تیار ہو جاو میں اس کو پھر تمہاری نرم رسیلی پھدی میں اتارنے لگا ہوں  ۔۔ جلدی کرو بھائی چاچی آ گئیں تو اسے موڑ کر آپ میں ہی گھسائیں گی نومی نے ہنستے ہوئے اپنا گانڈ اوپر اٹھائی اور بھائی کو دیکھا ۔۔ بہن چود سو بار کہا ہے جب تمہیں چود رہا ہوں تو مجھے مہوش آپ والی فیلنگنز دیا کرو بھائی نے غصے سے نومی کو ڈانٹا اور اپنا لن گھسیڑنے والے انداز میں نومی میں گھسایا نومی کے منہ سے ایک چیخ نکلی اور اسی کمرے میں گونج کر رہ گئی اور وہ میرے انداز میں بولا آپی کی جان آپ کی گانڈ پہ اتنا ظلم نا کرو نا یہ گانڈ چومنے لائق ہے نا ۔۔۔بھائی  گرنے کے سے انداز میں نومی پہ گرا اور جوش میں بولا میری جان میری مہوش آپی تیری گانڈ پھدی دونوں چوسنے چاٹنے لائق ہیں میری اپی تیری پھدی کو منہ میں لے کر چوسوں تیری گانڈ کے سوراخ میں زبان ماروں میری گوری چٹی سی مہوش آپی اور نومی میں زوردار دھکے لگانے لگ گیا ۔ بھائی کے بڑے سے لن کو نومی کی گانڈ میں اترتے اور اپنا نام لیتے وقت دیکھ کر میری جو حالت ہوئی میرے وہم میں بھی نا تھی ۔۔ بجائے غصہ ہونے کے یہ سب کچھ  سن کر میری رانی رونے لگ گئی تھی
اپنی ران پہ اپنی ہی رانی کے آنسو محسوس کر کھ کانپ اٹھی کہ یہ کیا ہو رہا ہے وجود ابھی اگلے حادثے سے نہیں سنبھلا تھا تو یہ کیا ہو رہا ہے میں نے اپنی رانی کو اپنی ہی رانوں کو دبوچ کر قابو کرنے کی کوشش کی اور اندر دیکھا جدھر بھائی کے جھٹکے اور اس کے منہ سے مہوش آپی مہوش آپی کی تکرار میں شدت آ چکی تھی وہ بلاشک و شبہ خیال میں مجھے چود رہا تھا اپنے شریف اور معصوم بھائی کا یہ روپ دیکھ کر میں حیران و پشیمان تھی ۔۔ اور شائد اس کا لن دیکھ کر زیادہ حیران تھی کہ سولہ سال کس للی کو میں لن سمجھتی رہی ۔۔ اچانک اندر بھائی کے منہ سے میرے نام کی تکرار بہت تیز اور اونچی ہوتی ہوئی اور اس کے دھکے تیز ہوتے محسوس ہوئے میں سمجھ گئی کہ بھائی نومی کی گانڈ میں فارغ ہونے والا ہے اور پھر یہی ہوا بھائی میرا نام لیتے ہوئے نومی کی گانڈ میں چھوٹتا گیا میں ہکا بکا وہاں کھڑی وہ سب دیکھ رہی تھی نیچے سے نومی نے میرے لہجے میں پوچھا بھائی کیسا لگا آپی کی بنڈ مار کر؟؟ بھائی نے نومی کی گردن پہ پیار کرتے ہوئے کہا یار آپی بہت مزہ آیا بہت زیادہ ۔۔ اگر آپی خود ہوتی تو افففف مزے سے مر ہی جاتا ۔۔ یہ کہتے ہوئے بھائی نے لن کو نومی کی گانڈ سے باہر نکالا تو وہ یقینی طور پہ سعد کی للی سے پھر بھی بڑا تھا اس کا لن فارغ ہو کر بھی نیم اکڑی حالت میں تھا ۔ بھائی نے کہا مہوش آپی ایک بار پھر کر لوں؟؟ نومی نے خود کو نیچے سے ہٹاتے ہوئے کہا بہن چود اب اپنی بہن کی موٹی گانڈ اور پھدی میں ڈالنا مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے اور ہنسنے لگا ۔میں نے بھی خود کو سنبھالا اور چپکے سے مین گیٹ بند کرتے ہوئے باہر نکل گئی اور دو چار منٹ باہر رہ کر خود کو نارمل کیا اور جب مجھے اندازہ ہوا کہ اب ان کا کھیل ختم ہو گیا ہو گا تو میں نے دو چار گہرے سانس لیے اور گھنٹی بجا دی
تھوڑی دیر گزری تو نومی نے دروازہ کھولا اور مجھے دیکھ کر ایک لمحے کے لیے پریشان ہوا مگر پھر نارمل ہو کہ مجھ سے پوچھا چھوٹی مما جلدی کیسے آ گئی ہیں؟؟ وہ مجھے چھوٹی مما ہی کہا کرتا تھا کبھی اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ چاچی بھی کہہ دیتا تھا، میں نے ایک گہری نگاہ اس پہ ڈالی اور پھر اسے بتایا کہ حنا گھر نہیں تھی تو میں جلدی آگئی اور وہ پھر اندر بھاگ گیا ۔میں سیدھی باتھ میں گئی اور اپنے آپ کو دیکھا تو میری پھدی کافی گیلی ہو چکی تھی میں نے خود پہ لعنت ملامت کرتے اسے دھویا مگر میری خود کو لعنت ملامت کرنے کے دوران بھی مجھے بھائی کا لن آنکھوں کے سامنے اور پھر نومی کی گانڈ میں اترتا محسوس ہوتا رہا۔ خیر دن گزرتے گئے میں نے اب ان پہ زیادہ نظر رکھنی شروع کر دی تھی اور غیر محسوس طریقے سے ان کو الگ الگ کر دیا تھا رات کو بھی دیر تک نومی کو پڑھانے بیٹھا لیتی اور پھر اسے اپنے ہی کمرے میں سلا دیتی ۔۔ سعد نے ایک دو بار اعتراض بھی کیا مگر میں نے کہا کہ اگر بچے کے نمبر کم آئے تو اس کی ماں کی باتیں کون سنے گا ۔۔ اس بات پہ وہ بھی چپ ہو گئے ۔۔ کچھ دن بعد بھائی کو چھٹیاں ہوئیں اور وہ گھر چلا گیا تو نومی کو پھر الگ کمرے میں سلا دیا ۔۔ اسی طرح ایک رات جب سعد کا سیکس کا موڈ ہوا اور انہوں نے مجھے زرا سا چوم کر جب میری ٹانگیں اٹھائیں اور لن میری پھدی پہ مسئلہ تو میرے دماغ میں بھائی کے ڈائیلاگ گونجنے لگے ۔۔ مہوش آپی کو تو ساری رات چوما جائے پھر بھی کم ہے ، اس ڈائیلاگ کے زہن میں آتے ہی میری آنکھوں کے سامنے ایک دم بھائی کی شکل آ گئی  کہ جب وہ نومی کو چودتے ہوئے مجھے بول رہا تھا  ادھر سعد کی لکی میری پھدی میں اتری تو ادھر ہی میری آنکھوں کے سامنے بھائی کا لن آ گیا اور سولہ سال میں پہلی بار مجھے یہ للی چھوٹی محسوس ہوئی ۔ سعد مجھے اپنی طرف سے بھرپور چود رہے تھے مگر مجھے پہلی بار ایک کمی سی ایک تشنگی سی محسوس ہو رہی تھی میں بار بار سوچ کو جھٹک رہی تھی کہ یہ کیا فضول سوچ میرے زہن میں آ رہی ہے سعد میری حالت سے بے خبر مجھے چود رہے تھے لیکن اندر ہی اندر کوئئ مجھے یہ بتا رئا تھا اور مجھے قائل کر رہا تھا کہ مہوش اس چھوٹی سی للی کا ہی قصور ہے جو تمہیں آج تک ماں نہیں بنا پائی تم میں کوئی کمی نہیں ہے ۔۔ بھلا مردوں کی للی ایسی ہوتی ہے کیا؟؟ لن تو یہ ہوتا ہے اور اس سوچ کے ساتھ بھائی کا اکڑا ہوا لن نومی کی گانڈ میں اترتا ہوا سامنے آ جاتا ۔ کچھ دیر کی مسلسل چدائی کے بعد سعد میرے اندر فارغ ہوئے اور لیٹ گئے لیکن مجھ میں ایک پیاس جگا گئے تھے ۔میں من ہی من میں خود سے لڑ رہی تھی کہ یہ کیا بکواس سوچ سوچنے لگی ہوں مگر پھر وہ ساری طعنے مجھے ایک ایک کر کے یاد آنے لگے جو مجھے بے اولاد ہونے پہ ملتے تھے ۔ ہماری رپورٹس بالکل ٹھیک تھیں اور ڈاکٹرز نے ہمیں بالکل نارمل قرار دیا ہواتھا مگر اب بھائی کا لن دیکھنے کے بعد مجھے لگ رہا تھا کہ کچھ بھی نارمل نہیں ہے کہیں کوئی کمی ہے اور مجھے وہ کمی محسوس ہو رہی تھی ۔ دن گزرتے گئے ایک بار پھر موسم بدل گیا وہی روٹین کے دن چل رہے تھے ایک رات پھر سعد نے میری چودائی کی اور میری پھر وہی والی حالت ہو گئی مجھے پھر بھائی کا لن آنکھوں کے سامنے دکھائی دینے لگا ۔۔ سعد نے مجھے چودا اور فارغ ہو کر سائیڈ میں لیٹ گئے مگر میرے اندر کچھ عجیب سی لڑائی چھیڑ گئے مجھے وہی سب کچھ سوچتے بہت دیر ہو گئی کافی دیر بعد  میں اٹھ کر بیٹھی اور ساتھ سوئے ہوئے سعد کی طرف دیکھا تو ان کی لکی کہیں ان کے ٹراوزر کے اندر تھی ۔ میں اٹھ کر باہر نکلی تو سوچا کچن سے پانی پی لوں شائد میری تشنگی کم ہو جائے میں نے جیسے ہی قدم آگے بڑھائے سامنے کمرے میں لیٹے بھائی پہ نظر پڑی تو وہیں کی ہو کر رہ گئی وہ ایک ٹراوزر اور شرٹ پہن کر سو رہا تھا اور اس کا لن پوری طرح اکڑا ہوا اس کے ٹراوزر کے درمیان ٹینٹ بنائے کھڑا تھا، میں ایک قدم پیچھے ہوئے اور اپنے جمرے میں سوئے ہوئے سعد کی ٹانگوں کے درمیان نظر ڈالی اور پھر سامنے بھائی کی طرف دیکھا ۔۔ اپنے ہی گھر میں مجھے اپنا آپ چور سا لگا اور میں دھڑکتے دل کے ساتھ دونوں کا موازنہ کرنے لگی ۔۔ موازنہ کرتے ہی میرے دل میں خیال آیا ۔یار یہ کیا سوچ رہی ہے ان دو کا کیا مقابلہ ہے بھلا؟؟ ایک طرف اتنا موٹا اور لمبا اور دوسری طرف ایک انگلی سی ۔۔ یہ سوچتے ہی میری وہیں ہنسی نکل گئی اور میں تھوڑا سا دبے پاوں اور بھائی کے کمرے کی طرف بڑھی کہ اس کے ہتھیار کو قریب سے دیکھ سکوں
میں نے دروزے کے قریب جا کر اندر بھائی کی طرف دیکھا تو وہ سیدھا لیٹا سو رہا تھا مگر اس کا لن بالکل تیار  کھڑا تھا جیسے ابھی وہ کسی پھدی میں گھسنے کے لیے تیار ہو ۔ میرے اندر کی آگ مجھے اور بے چین کر رہی تھی اور نا چاہتے ہوئے بھی میرے ہاتھ اپنی رانوں کے درمیان اپنی پھدی کو مسلنے لگے ۔ میں دبے پاوں پیچھے ہوئے اور کمرے میں سوئے ہوئے سعد کو دیکھا اس چند لمحے کے کھیل میں میرا سارا وجود پسینے سے بھر گیا اور دل تیزی سے دھک دھک کرنے لگا میں نے خود کو ڈانٹا مہوش کمینی عورت یہ کیا کر رہی ہو اپنے بھائی کا لن لیکر انگلی کرو گی اب ،؟؟ تو کیا فرق پڑتا ہے انگلی ہی کروں گی نا میں نے خود کو تسلی دینا چاہی مگر اندر کی آواز نے میری اس حسرت کو سختی سے کچل دیا اور میں ہارے ہوئے جواری کی طرح بھائی کے کمرے اور دروازے کو دیکھتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی اپنے کمرے میں جاتے ہی میں بیڈ پہ لیٹی تو حسرتیں آنسو بن کر میری آنکھ سے بہنے لگیں اور مجھے لگا کہ شائد اس للی سے میں کبھی بھی ماں نہیں بن سکوں گی ۔ میری مطمئن زندگی میں ایک تبدیلی آ چکی تھی اور میں جو خود اپنے مقدر پہ ناز کرتی تھی اب چھوٹی للی کا ماتم کرنے لگی اور مجھ سے چھوٹی بہنیں جو کہ ماں بن چکی تھیں ان کے بارے میں سوچنے لگی کہ جانے کیسے کیسے لن ان کو نصیب ہوئے ہوں گے ، ایک چھوٹے سے واقعہ نے میری زندگی کو پوری طرح بدل دیا تھا لیکن میں خود سے لڑتی اپنے آپ کو سمجھاتی رہی اور میری پھدی جو کبھی بار موٹے لن کی طلب کی دہائی دیتی تھی اسے ڈانٹ کر سلا دیتی تھی ۔
پھر ایک دن مجھے حنا نے ایک بابے کا بتایا جو بے اولادی کا علاج کرتا تھا اور وہ مجھے اس بابے کے پاس لیکر جانے کے لیے تیار تھی اس کی کسی جاننے والی کو اس بابے کے پاس جانے سے اولاد ملی تھی ۔ میں خود تو ان خرافات کی زرا بھی عادی نہیں تھی مگر حنا کے بار بار کہنے پہ میں نے سوچا چلو آزمانے میں کیا حرج ہے ایک بار کوشش کر دیکھتی ہوں اور پھر ایک اتوار کے دن میں اور حنا اس بابے کے ڈیرے پہ پہنچ گئیں وہاں بہت رش تھی ہم بھی بیٹھ کر انتظار کرنے لگیں کچھ دیر بعد ہمارا بھی نمبر آ گیا اور ہم بابے کے سامنے جا بیٹھیں ۔۔ بابا کیا تھا برسوں کے بے ترتیب الجھے ہوئے کچھڑی نما بال اور کال رنگ ۔۔۔ گلے میں مختلف مالائیں ڈالے ہوئے وہ ایک عجیب حلیہ کا شحض تھا ۔۔ ہم جا کر بیٹھیں مگر بابے نے سر اوپر نا اٹھایا اور سر جھکائے ہی کچھ بڑبڑاتا رہا ۔۔ پھر اس نے چہرے کا رخ حنا کی طرف کیا اور بولا ۔۔ یہ تو ادھر آنے کو تیار نہیں تھی تم اسے زبردستی لے آئی ہو اسے تو طلب ہی نہیں ہے ۔۔ میں نے کہا بابا ایسا کیسے ہو سکتا ہے مجھے طلب نا ہو ۔۔۔۔ بابے نے آنکھیں اٹھا کر میری طرف دیکھا تو افف وہ سرخ ڈراونی سی آنکھیں ۔۔میں تو جیسے پتھر کی ہو گئی ۔۔ بابے نے میری طرف دیکھا اور پھر حنا کی طرف مڑ گیا اور بولا ۔۔ مورکھ اس کی قسمت میں اس کی طلب پوری ہونا نہیں لکھی گئی  ۔۔ بابا میری طرف دیکھ ہی نہیں رہا تھا میرے کچھ بولنے سے پہلے حنا نے کہا بابا جی کچھ کریں پلیز یہ بیچاری بہت پریشان ہے ۔۔ بابے نے اپنے سر کو ہلایا اور کہا پریشان کرنے والے پریشان رہتے ہیں کسی میں اپنی طلب جگانے والے کسی اور چیز کی طالب رہتے ہیں یہ من کی دنیا ہے یہاں کھوٹا کھرا سب چلتا ہے مورکھ ۔۔ بابے نے یہ بات کرنے کے بعد حنا کو اٹھ جانے کا اشارہ کیا میں بھی اس کے ساتھ اٹھنے لگی تو بابے نے ڈانٹنے کے انداز میں مجھے بیٹھنے کا کہا ۔۔ جیسے ہی حنا دروازے سے باہر نکلی بابا مجھ سے لاتعلق سا ہو گیا مین بھی چپ چاپ بیٹھ گئی تھوڑی دیر بعد بابے نے پھر سکوت کو توڑا اور مجھے دیکھے بنا بولا ۔۔ کرموں جلی ۔۔ تیرا مقدر بڑا اوکھا ہے چاہے تو سدھار لے چاہے تو رہنے دے ایک مشورہ تجھے دیتا ہوں مگر اپنے تک ہی رکھنا اور اس سہیلی کو بھی نا بتانا ۔۔ میں دم سادھے بابے کی باتیں سن رہی تھی کہ بابا جانے کیا طریقہ بتانے لگا ہے
 
بابے نے مجھے دیکھے بغیر کہا میں جو کہنے لگا ہوں وہ بالکل بھی مناسب نہیں ہے مگر تُو چل کر میرے پاس آئی ہے اور جس کی سفارش سے آئی ہے اس کی وجہ سے بتا رہا ہوں لیکن بات ایسی ہے کہ اس کے سامنے نہیں بتا رہا۔۔ بابے نے سسپنس بڑھا دیا تھا اور میں سوچ رہی تھی کہ جانے اب بابا کیا کہے گا۔۔ بابے نے اسی طرح سر جھکائے کہا کھڑکی سے اندر دیکھا ہوا سین یاد ہے نا؟؟ میں ایک دم سوچ میں پڑ گئی کہ کونسا سین ؟؟؟ میں نے سوچا مگر کچھ سمجھ نا آیا تو بابے نے اسے لہجے میں کہا ۔۔ وہی سین جب تو نے اپنے بھائی کو اپنا نام لیتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔۔  بابے کے الفاظ تھے کہ جیسے کسی نے پگھلا ہوا سیسہ میرے کان میں انڈیل دیا ہو، میں بوکھلا کر اٹھی تو بابے کے چہرے پہ عجیب سے تاثرات تھے ۔۔ بابے نے مجھے پھر گرجدار آواز میں بیٹھنے کو کہا ۔۔ میری زبان لڑکھڑا گئی مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کیا بات کروں ۔۔ بابے نے اپنے ہاتھ سے زمین کو تھپڑ مارنے شروع کر دئیے اور اپنا سر ایک ردھم کے ساتھ دائیں بائیں ہلاتے ہوئے بولا ۔۔ وقت کم ہے کرموں جلی ۔۔ جلدی سے بات سن اور پھر دفع ہو جا پلٹ کر میری طرف مت آنا ۔۔ تجھے اگر اولاد کا سکھ مل سکتا ہے تو اسی سے مل سکتا ہے جو دن رات تجھ کو دیکھنے کے لیے تجھے چھونے کے لیے ترستا ہے باقی سارے محلے کے لوڑے لیکر دیکھ لے تجھے اولاد نہیں ملے گی ۔۔ اس لیے وہ تو۔ لے نہیں سکتی اس لیے تجھے صاف بات بتا دی ہے کہ تیرے مقدر میں اولاد نہیں ہے ۔۔ بابے کی بات نے میرا وجود جھنجھور کر رکھ دیا تھا میں نے پرس سے ہزار روپے کا نوٹ نکالا اور بابے کے سامنے رکھ دیا کہ چلو اس کی بکواس کی فیس دے کر جان چھڑاوں۔۔ بابے نے نوٹ کی طرف دیکھا اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولا ۔۔ اپنے یہ پیسے اٹھا کر پاس رکھو مجھے ان کی کوئی ضرورت نہیں اور پھر منہ میں کچھ بڑ بڑا کہ زمیں پہ ہاتھ مارا اور  اسی ہاتھ کو ہوا میں ہلایا تو بابے کے ہاتھ میں ہزار روپے کے نوٹ کی دو گڈیاں تھیں ۔۔ بابے نے شان بے نیازی سے وہ میرے سامنے پھینک دیں اور کہا یہ بھی لے جا میں یہاں پیسے کمانے کے لیے نہیں بیٹھا ہوں تو بہت غلط سوچ کر آئی ہے ۔مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا  بابے نے اسی طرح سر ہلانا جاری رکھا اور پھر بولا ۔۔ انسان بہت ہی عجیب مخلوق ہے اپنا یہ گورا بدن لیکر کسی اور کے پاس اولاد کے لیے نا جانا ورنہ بھاری قیمت دیکر واپس آو گی ۔۔ کوئی بابا کوئی پیر کسی کو اولاد نہیں دے سکتا ۔۔ راستہ بھی بتانا نہیں تھا لیکن مجھے پتہ ہے تم اس راہ پہ نہیں چلو گے گی تو بتا دیا ہے کہ اپنی قسمت سے واقف ہو جاو ۔۔ میں ہاتھ میں پکڑے دو لاکھ روپے کو دیکھتی اور پھر بابے کی طرف ۔۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔۔ بابے نے پھر میری طرف دیکھا اور پوچھا؟؟ کیوں کرموں جلی پیسے کم ہیں تو اور دوں؟؟ مم میں ان کا کیا کروں گی مجھے نہیں چاہیے ہیں آپ یہ رکھ لیں میں نے پیسے واپس بابے کی طرف بڑھائے ۔۔ بابے نے ہنس کر مجھے دیکھا اور کہا چل پگلی ۔۔ تو خود معصوم ہے اس لیے ساری دنیا کو معصوم سمجھتی ہے سارے راز بتانے لائق نہیں ہوتے لیکن میں بندے کے اندر تک جھانک لیتا ہوں تیری ساری زندگی میرے سامنے ایک کھلی کتاب ہے ۔۔ مجھے اتنا سمجھ آ گئی تھی کہ یہ بابا کسی طرح میرے ماضی میں جھانک سکتا ہے اور میں یہی بات سوچ بھی رہی تھی کہ بابے نے ہنسنا شروع کر دیا ۔۔ میں نے کچھ نا سمجھنے والے انداز میں بابے کی طرف دیکھا تو بابے نے کہا تم کس لیے ڈر رہی ہو تمہارے ماضی میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جس سے تم کو شرمندگی ہو ۔۔ بابے کی بات سن کر مجھے تھوڑا سا ندامت ہوئی اور میں نے کہا معافی چاہتی ہوں مگر ۔۔بابے نے ہاتھ اٹھا کر مجھے اور بولنے سے روک دیا اور کہا بات بتانے کی ہے نہیں مگر جس کے ساتھ آئی ہے یہ اپنے بھائی کو اپنے جسم کے ساتھ کھلاتی رہی ہے تو عورت ہے اور عورت کے ہزار چلتر ہیں مرد ایک کا جواب بھی نہیں دے سکتا ۔۔جتنا بتا دیا ہے اس پہ غور کر اور اپنی زندگی چاہے تو آسان کر چاہے مشکل اس کے ساتھ ہی بابے نے مجھے جانے کا اشارہ کیا اور کہا اٹھ اور اب نکل ۔۔ یہ پیسے اپنے پاس رکھ لے واپس لینے کے لیے نہیں دئیے تھے اور میری طرف ہاتھ سے اشارہ کیا ۔۔ میرا سارا جسم جیسے ہلکا سا کانپا اور میں نے وہ پیسے نا چاہتے ہوئے بیگ میں رکھے اور کسی نادیدہ حصار میں باہر نکلی۔۔ کمرے کے دروازے سے باہر نکلتے ہی مجھے کچھ ایسا لگا جیسے میں ابھی نیند سے جاگی ہوں ۔ حنا نے مجھے دیکھا تو فوری طور پہ میری طرف لپکی اور مجھ سےپوچھنے لگی کہ بابے نے کیا بتایا ۔۔ میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا کہ بابے نے بتایا ہے میرے نصیب میں اولاد نہیں ہے اور باقی باتیں اس کو نا  بتائیں ۔ میں گھر تو واپس آ گئی تھی مگر میری الجھن بڑھ گئی تھی بابے کی باتوں کو کبھی بکواس سمجھتی تو کبھی اس نے جو کچھ بتایا تھا وہ سوچتی ۔۔اور پھر حنا کے بارے میں بابے نے جو اشارہ دیا اس کا مقصد کیا تھا ۔۔ کیا حنا بھی ایسی ہے ؟؟
زندگی گزر رہی تھی میں اتنی مایوس تو نہیں تھی بس کبھی کبھار اس بابے کی باتیں زہن میں گونجنے لگتی تھیں اسی طرح بہت سے دن گزر گئے اےک دن میں دوپہر کے وقت ہی گھر آرام کر رہی تھی کہ باہر سے گھنٹی بجنے کی آواز آئی نومی نے دروازہ کھولا تو میں نے دیکھا کہ میری ساس دروازے سے اندر آ رہی ہیں  مجھے ان کی بے وقت آمد تھوڑی عجیب تو لگی عام طور پہ وہ بتا کر اور سعد کے ساتھ آتی ہوتی ہیں ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ وہ اچانک بنا کسی کو بتائے پہنچ آئی ہوں ۔خیر میں نے ان کو پانی وغیرہ پلایا تو کچھ دیر بعد وہ میرے پاس ہی بیٹھے ہوئے بولیں ۔۔ ان کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ کچھ نروس ہیں خیر ان کے انداز کی تفصیل میں جائے بغیر بتاتی ہوں کہ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ ان کو سعد کے پوتے کھلانے کا ارمان ہے اس لیے وہ سعد کی دوسری شادی کرنا چاہتی ہیں ۔ یہ خبر مجھے بہت ہلا دینے والی تھی میں اس سے بہت پریشان ہوئی اور میں نے ان سے سوچنے کے لیے دو ماہ کا وقت  مانگا کہ مجھے دو ماہ دے دیں میں سوچ کر بتاتی ہوں ۔۔ ہماری اس گفتگو میں بہت جذباتی پہلو بھی آئے لیکن ان کو ڈسکس کرنا کہانی کی طوالت کا باعث ہے تو قصہ مختصر کہ ہم ساس بہو میں اتفاق رائے ہو گیا کہ اس موضوع پہ پورے دو ماہ بعد بات ہو گی ۔ میری ساس کچھ دن رہ کر چلی گئیں اور یہ بات ہمارے ہی درمیان رہی لیکن جتنے دن وہ رہی میں زہنی طور پہ بہت پریشان رہی وہ جیسے ہی سعد کے ساتھ گھر واہس جانے کے لیے نکلیں میں نے فوری طور پہ حنا سے رابطہ کیا اور اس بابے کے پاس جانے کی خواہش کا اظہار کیا اور ہم پھر دوسرے دن بابے کے پاس جانے کے لیے تیار ہوئیں ۔بابے کے ڈیرے پہ ہم پہنچیں تو جب ہمارا نمبر آیا تو بابے کے گارڈ یا دربان جو بھی کہہ لیں اس نے بتایا کہ بابا جی نے بتایا ہے آپ اکیلی آئیں گی دوسری بعد میں آئے ، میں نے حنا کی طرف دیکھا تو اس نے مجھے کہا کہ تم چلی جاو میرا تو ویسے بھی کوئی کام نہیں ہے ۔ میں اندر چلی گئی تو وہ بابا اسی طرح اپنی دنیا میں مست بیٹھا تھا میں جا کر بابے کے سامنے بیٹھی تو بابے نے مجھے کوئی لفٹ نا کروائی اور اپنی ہی سوچ میں گم رہا ۔ میں نے کچھ منٹ بعد کھنکھار کر اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہا تو بابے نے ایک ہاتھ اوپر اٹھا کر مجھے جیسے بات کرنے سے روک دیا ۔ میں چپ ہو کر بیٹھی رہی ۔۔ کچھ دیر کے سکوت کے بعد بابے نے کہا ۔۔ کرمو جلی ۔۔ تیری ساس نے جو طے کر لیا ہے وہ کر کہ رہے گی اسے روکا بھی جا سکتا ہے مگر اس میں اس کی جان چلی جائے گی ۔۔ بابے نے کڑک دار سی آواز میں کہا ۔ ساس کی جان جانے کا سن کر تو مجھے جیسے سکتہ سا ہو گیا میں اب یہ خواہش تو کبھی نہیں کر سکتی تھی ۔۔ میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو بابے نےپھر اسی لہجے میں کہا ۔۔ میں سب جانتا ہوں مورکھ ۔۔ تجھے کہہ بھی دیا تھا یہ راستے تیرے نہیں ہیں تو کچھ نہیں کر سکے گی تبھی تجھے منع بھی کیا تھا کہ میرے پاس دوبارہ نا آنا۔میں نے کہا بابا جی اگر ان کی دوسری شادی ہو جاتی ہے اس سے اولاد بھی ہو جائے گی تو آپ جانتے ہیں پھر میرا کیا ہو گا ۔۔ بابے نے کہا تیرے پاس کوئی حل نہیں ہے لڑکی ۔۔ جو حل ہے تو اسے کرنے سے قاصر ہے ۔۔ تجھ سے وہ کچھ ہو گا نہیں اور جو  ہو گا اسے برداشت نہیں کر سکے گی ۔۔ بابا جی کوئی تو حل ہو گا میں اب کیسے اس کی خواہش پوری کر سکتی ہوں آپ جانتے کہ اس بندے کی خواہش میں پوری نہیں کر سکتی ۔۔ اپنی کھلی آنکھوں کے ساتھ اس کے ساتھ ایسا کوئی کام نہیں کر سکتی ۔۔ میں نام لیے بغیر بات کر رہی تھی اور بابے نے بھی صرف اشارے ہی دئیے تھے لیکن پچھلی گفتگو میں جو بات ہوئی تھی اس کے تسلسل میں ہی ہماری گفتگو جاری تھی ۔ بابے نے پھر چپ ہو کر کچھ سوچنا شروع کر دیا ۔ تھوڑی دیر کے سوچنے کے بعد بابے نے کہا ایک اور طریقہ ہے مگر وہ سارا کچھ تمہیں کرنا ہو گا اس میں یہ فائدہ ہو گا کہ اسے پتہ نہیں ہو گا اور تمہارا کام بھی ہو جائے گا ۔ میں نے بے تابی سے کہا مجھے بتائیں میں کر لوں گی اگر ایسا کچھ ہو ۔۔ بابے نے کہا لڑکی ۔۔۔ اولاد تجھے بھائی کے لن سے ہی ملے گی اب وہ لن لینا کیسے ہے یہ تجھ تک ہے ۔۔ دوسری صورت یہ ہے کہ سوتن آنےدے اور بہتری کا انتظار کر ۔۔ بابے کی یہ کھلی بات سن کر میرا بدن جیسے پسینے میں بھیگ سا گیا
 
زندگی گزر رہی تھی میں اتنی مایوس تو نہیں تھی بس کبھی کبھار اس بابے کی باتیں زہن میں گونجنے لگتی تھیں اسی طرح بہت سے دن گزر گئے اےک دن میں دوپہر کے وقت ہی گھر آرام کر رہی تھی کہ باہر سے گھنٹی بجنے کی آواز آئی نومی نے دروازہ کھولا تو میں نے دیکھا کہ میری ساس دروازے سے اندر آ رہی ہیں  مجھے ان کی بے وقت آمد تھوڑی عجیب تو لگی عام طور پہ وہ بتا کر اور سعد کے ساتھ آتی ہوتی ہیں ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ وہ اچانک بنا کسی کو بتائے پہنچ آئی ہوں ۔خیر میں نے ان کو پانی وغیرہ پلایا تو کچھ دیر بعد وہ میرے پاس ہی بیٹھے ہوئے بولیں ۔۔ ان کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ کچھ نروس ہیں خیر ان کے انداز کی تفصیل میں جائے بغیر بتاتی ہوں کہ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ ان کو سعد کے پوتے کھلانے کا ارمان ہے اس لیے وہ سعد کی دوسری شادی کرنا چاہتی ہیں ۔ یہ خبر مجھے بہت ہلا دینے والی تھی میں اس سے بہت پریشان ہوئی اور میں نے ان سے سوچنے کے لیے دو ماہ کا وقت  مانگا کہ مجھے دو ماہ دے دیں میں سوچ کر بتاتی ہوں ۔۔ ہماری اس گفتگو میں بہت جذباتی پہلو بھی آئے لیکن ان کو ڈسکس کرنا کہانی کی طوالت کا باعث ہے تو قصہ مختصر کہ ہم ساس بہو میں اتفاق رائے ہو گیا کہ اس موضوع پہ پورے دو ماہ بعد بات ہو گی ۔ میری ساس کچھ دن رہ کر چلی گئیں اور یہ بات ہمارے ہی درمیان رہی لیکن جتنے دن وہ رہی میں زہنی طور پہ بہت پریشان رہی وہ جیسے ہی سعد کے ساتھ گھر واہس جانے کے لیے نکلیں میں نے فوری طور پہ حنا سے رابطہ کیا اور اس بابے کے پاس جانے کی خواہش کا اظہار کیا اور ہم پھر دوسرے دن بابے کے پاس جانے کے لیے تیار ہوئیں ۔بابے کے ڈیرے پہ ہم پہنچیں تو جب ہمارا نمبر آیا تو بابے کے گارڈ یا دربان جو بھی کہہ لیں اس نے بتایا کہ بابا جی نے بتایا ہے آپ اکیلی آئیں گی دوسری بعد میں آئے ، میں نے حنا کی طرف دیکھا تو اس نے مجھے کہا کہ تم چلی جاو میرا تو ویسے بھی کوئی کام نہیں ہے ۔ میں اندر چلی گئی تو وہ بابا اسی طرح اپنی دنیا میں مست بیٹھا تھا میں جا کر بابے کے سامنے بیٹھی تو بابے نے مجھے کوئی لفٹ نا کروائی اور اپنی ہی سوچ میں گم رہا ۔ میں نے کچھ منٹ بعد کھنکھار کر اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہا تو بابے نے ایک ہاتھ اوپر اٹھا کر مجھے جیسے بات کرنے سے روک دیا ۔ میں چپ ہو کر بیٹھی رہی ۔۔ کچھ دیر کے سکوت کے بعد بابے نے کہا ۔۔ کرمو جلی ۔۔ تیری ساس نے جو طے کر لیا ہے وہ کر کہ رہے گی اسے روکا بھی جا سکتا ہے مگر اس میں اس کی جان چلی جائے گی ۔۔ بابے نے کڑک دار سی آواز میں کہا ۔ ساس کی جان جانے کا سن کر تو مجھے جیسے سکتہ سا ہو گیا میں اب یہ خواہش تو کبھی نہیں کر سکتی تھی ۔۔ میں نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو بابے نےپھر اسی لہجے میں کہا ۔۔ میں سب جانتا ہوں مورکھ ۔۔ تجھے کہہ بھی دیا تھا یہ راستے تیرے نہیں ہیں تو کچھ نہیں کر سکے گی تبھی تجھے منع بھی کیا تھا کہ میرے پاس دوبارہ نا آنا۔میں نے کہا بابا جی اگر ان کی دوسری شادی ہو جاتی ہے اس سے اولاد بھی ہو جائے گی تو آپ جانتے ہیں پھر میرا کیا ہو گا ۔۔ بابے نے کہا تیرے پاس کوئی حل نہیں ہے لڑکی ۔۔ جو حل ہے تو اسے کرنے سے قاصر ہے ۔۔ تجھ سے وہ کچھ ہو گا نہیں اور جو  ہو گا اسے برداشت نہیں کر سکے گی ۔۔ بابا جی کوئی تو حل ہو گا میں اب کیسے اس کی خواہش پوری کر سکتی ہوں آپ جانتے کہ اس بندے کی خواہش میں پوری نہیں کر سکتی ۔۔ اپنی کھلی آنکھوں کے ساتھ اس کے ساتھ ایسا کوئی کام نہیں کر سکتی ۔۔ میں نام لیے بغیر بات کر رہی تھی اور بابے نے بھی صرف اشارے ہی دئیے تھے لیکن پچھلی گفتگو میں جو بات ہوئی تھی اس کے تسلسل میں ہی ہماری گفتگو جاری تھی ۔ بابے نے پھر چپ ہو کر کچھ سوچنا شروع کر دیا ۔ تھوڑی دیر کے سوچنے کے بعد بابے نے کہا ایک اور طریقہ ہے مگر وہ سارا کچھ تمہیں کرنا ہو گا اس میں یہ فائدہ ہو گا کہ اسے پتہ نہیں ہو گا اور تمہارا کام بھی ہو جائے گا ۔ میں نے بے تابی سے کہا مجھے بتائیں میں کر لوں گی اگر ایسا کچھ ہو ۔۔ بابے نے کہا لڑکی ۔۔۔ اولاد تجھے بھائی کے لن سے ہی ملے گی اب وہ لن لینا کیسے ہے یہ تجھ تک ہے ۔۔ دوسری صورت یہ ہے کہ سوتن آنےدے اور بہتری کا انتظار کر ۔۔ بابے کی یہ کھلی بات سن کر میرا بدن جیسے پسینے میں بھیگ سا گیا

 

Posted on: 08:16:AM 18-Dec-2020


1 0 392 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 11 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 74 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com