Stories


جوہر پور کا گائوں از دی ڈریم رائٹر

نامکمل کہانی ہے

پاکستان بننے سے کئی سال پہلے کی بات ہے جب موجودہ چکوال کے قریب گاؤں میں مراد  نام کا ایک شخص اپنی بیوی فوزیہ بیگم ، بیٹے عامر اور بیٹی فریحہ کے ساتھ رہا کرتا تھا ۔ اس چھوٹے سے گاؤں کا شمار انگریز دور کی چھاؤنیوں میں ہوا کرتا تھا جہاں کبھی کبھار مہینوں میں ایک دفعہ گورے کرنل صاحب اپنی پلٹون کے ساتھ شکار وغیرہ کھیلنے آیا کرتے تھے۔ جوہر پور نامی یہ گاؤں نسبتاً ایک پر امن گاؤں تھا جہاں مراد سکون کے ساتھ اپنی گندم کی کھیتی باڑی کیا کرتا تھا اور بہار کے مہینے میں کٹائی وغیرہ کر کے گاؤں کے مکھیا منیم جی کے ہاتھوں چکوال شہر کی منڈی بھیجوا دیا کرتا تھا ۔ زندگی بہت اچھے طریقے سے چل رہی تھی ، مراد کا بیٹا عامر جو اب اپنی عمر کے تیرھویں سال میں لگ چکا تھا کھیتی باڑی میں باپ کا ہاتھ بٹانے صبح اس کے ساتھ کھیتوں میں چلا جایا کرتا اور شام کو اپنے دوست چندو کے ساتھ گاؤں کے کھیتوں میں آوارہ گردی کرنے باہر نکل جاتا۔
عامر اور چندو کی جوڑی بھی بڑی عجیب جوڑی تھی ، اگرچہ قد و کاٹھ کے حوالے سے عامر اپنے ہم عمر لڑکوں کے برابر ہی تھا لیکن کھیتوں میں کام کرنے کی وجہ سے وہ گاؤں کے دہقان مردوں کی طرح جسمانی  طور پر مضبوط ہو چکا تھا  ، کئی کئی منٹ تک درخت کی شاخوں سے لٹکے رہنے کی سکت ، گندم کی بڑی بڑی بوریاں کمر پہ لاد کر چلنے نے اس کے جسم کو کافی تندرست  کر دیا تھا لیکن تعلیم کے حوالے سے وہ صفر تھا۔ اس کی بڑی بہن فریحہ نے اسے پڑھانے کے لیے ماں باپ کی منت سماجت کر کے اسے سکول بھیجنے کی کوشش تو کی لیکن پڑھائی میں تو جیسے اس کا دل لگتا ہی نہ تھا ۔ اس کا دل اگر لگتا تو وہ شام کو چندو کے ساتھ آوارہ گردی میں لگتا، جہاں وہ سہ پہر میں گاؤں کے پرانے اخروٹ کے درخت کی شاخ سے لٹک لٹک کر کرتب کرتا اور زمین پرلیٹے چندو کے ساتھ گھنٹوں گپیں مارتا۔
چندو ، عامر کے تقریباً برعکس تھا ، اگرچہ دونوں ہم عمر تھے لیکن جہاں عامر پڑھائی میں صفر تھا وہیں گاؤں کے مکھیا منیم جی کا بیٹا چندو لکھنا پڑھنا جانتا تھا، جہاں عامر مزاج کا تیز اور باتوں سے زیادہ عمل کرنے میں آگے ہوتا وہیں چندو کسی کام کے بارے میں دیر دیر تک سوچنے کا عادی تھا ، جہاں عامر لڑائی اور گالم گلوچ بھی کر لیتا وہاں چندو دھیمے طریقے سے معاملہ کودیکھ لیتا، شاید اس عادت کے پیچھے گھر کا ماحول تھا ، عامر کے گھر کا ماحول کم پڑھا لکھا ہونے  یا پھر کسان گھرانہ  ہونے کی وجہ سے سخت مزاج تھا ، اور چندو کا گھرانہ گاؤں کا مکھیا اور نسبتاً پڑھا لکھا ہونے کی وجہ سے عامر کے گھرانے کے برعکس تھا لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ دونوں کی دوستی شروع ہی سے بڑی پکی رہی تھی، اور گاؤں کی واحد دائی ہونے کے ناطے گاؤں کی دوسری عورتوں کی طرح فوزیہ بیگم کے بھی دونوں بچوں کی ولادت بھی چندو کی ماں درگا دیوی کے ہی ہاتھوں ہوئی تھی۔
پاکستان بننے سے ڈھائی تین سال قبل انگریزوں کی آمدو رفت گاؤں میں پہلے کی نسبت زیادہ ہو چکی تھی ، لوگ کہتے تھے کہ وہ تقسیم سے پہلے ہر اراضی کا جائزہ لیتے ہیں ، کون جانے حقیقی معاملہ کیا تھا لیکن عامر کو انگریز سے جیسے نفرت سی محسوس ہوتی تھی ، اور اکثر شام کو جب عامر اور چندو اپنے معمول کے مطابق اخروٹ کے درخت کے نیچے لیٹے گپیں ہانک رہے ہوتے تو عامر کے مونہہ سے بکثرت انگریز سرکار کے لیے گالیاں نکلتی رہتیں ۔ایسی ہی ایک جولائی کی سہ پہر تھی جب عامر اور چندو اپنی معمول کی جگہ پر لیٹے ہوئے اخروٹ توڑ توڑ کر کھا رہے تھے۔
‘‘بہن چود جا رہے ہیں  سالے’’ عامر جو کہ درخت کی موٹی سی شاخ پر لیٹا ہوا تھا ، یکدم بیٹھتے ہوئے کہا اور چندو کو بھی دور سے گھوڑوں کے بھاگنے کی آواز آئی۔
‘‘تو تجھے کیا ہے جا رہے ہیں ، جا رہے ہیں تو جانے دے’’ چندو  جو کہ زمین پر لیٹا ہوا تھا ، اٹھ کر بیٹھتے ہوئے کہا۔
‘‘واہ واہ ! آنے دے ، جانے دے ۔۔۔ جیسے ان کے باپ کا گھر ہے نہ ، جب دل چاہا مونہہ اٹھا کہ آ جائیں گے ، پچھلی دفعہ بھی جب وہ بڈھا کرنل ڈائر آیا تھا تو ہمارے گھر کے پاس منڈلاتا رہا ، سالے نے بیس دفعہ تو پانی منگوا کہ پیا ’’ عامر چندو کی طرف پھنکارتے ہوئے بولا۔
‘‘تو پینے دے یار ، گرمی بھی تو دیکھ کس قدر ہے ’’ چندو نے آنکھیں اوپر کی طرف چڑھاتے ہوئے کہا۔
‘‘اچھا ؟ چل اگلی دفعہ میں اس بڈھے انگریز کرنل کو کہوں گا کہ تیرے گھر کی پیمائش لے ، جب تجھے بھی بیس دفعہ پانی پلانا پڑے گا نہ تب تجھے نانی یاد آئے گی’’ عامر نے چندو کی طرف دیکھ کہ تقریباً غراتے ہوئے کہا۔
‘‘یار ایک تو تو غصہ بہت کرتا ہے ’’ چندو نے کہا ‘‘ اچھا چل یہ بتا کہ تیرا باپو کیسا ہے ’’ چندو نے بات کا رخ پھیرنے کی امید سے کہا۔
‘‘باپو تو بس ۔۔۔ پتہ ہی ہے تجھے کہ اس پہ کوئی آسمانی حملہ ہوا ہے، حکیم چاچے کو بھی دکھایا ، پتہ نہیں کیا بک بک کر رہا تھا  ۔۔۔ فلج ۔۔ فلوج ۔۔ کچھ بول رہا تھا ’’ عامر نے دوبارہ سے درخت کی شاخ پر دراز ہوتے ہوئے بتایا۔‘‘لیکن ماں کا ماننا ہے کہ باپو پہ کسی نے ٹونہ کروایا ہے ’’۔
‘‘فالج ؟ ۔۔۔ ’’ چندو نے پوچھا ‘‘ہاں ، میرا باپو بھی یہی کہتا ہے لیکن تیری ماں کو کیوں لگتا ہے کہ کسی نے ٹونہ کروایا ہے ؟ ’’ چندو نے تعجب سے پوچھا۔
‘‘مجھے کیا پتہ کیوں لگتا ہے ، وہ تو ہٹا کٹا ، تندرست تھا یار ، تجھے پتہ ہی ہے کہ پچھلے ہفتے اچانک کھیتوں میں کام کرتے کرتے زمین پہ گر گیا اور پھر ابھی تک اس کا جبڑا سیدھا نہیں ہوا، بول بھی نہیں سکتا ، بس غوں غوں کر کے آوازیں نکالتا ہے ، کام  بھی نہیں کر پا رہا اسی لیے تو میں اب سارا دن کھیت ہی میں ہوتا ہوں ’’ عامر نے کچھ یاد کرنے کے سے انداز میں جواب دیا۔ ‘‘شاید اسی لیے ماں کو لگتا ہے کہ اسے کسی ہوائی چیز نے چھو لیا ہے’’۔
‘‘ہاں یار ، واقعی ۔۔ یاد ہے تجھے جب ہم تیرے باپو کو اٹھا کہ حکیم جی کے لے کر گئے تھے’’ چندو نے بھی سیدھے ہوکر بیٹھتے ہوئے کہا۔
‘‘کیسے بھول سکتا ہوں یار ،مجھے تو لگا شاید باپو آج نہیں بچے گا اور پھر  وہاں حکیم کے بھی ہاں ۔۔۔ تجھے یاد ہے اس دن وہاں اور کون آئی ہوئی تھی؟’’ عامر نے یکدم درخت کی شاخ پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
‘‘ہاں ۔۔۔ یاد ہے ۔۔۔ کیسے بھول سکتا ہوں ۔۔۔ پوجا دیوی’’ چندو نے دھیرے دھیرے سوچنے کے سے انداز میں کہا۔
‘‘بعد میں کچھ پتہ چلا کہ اس کو کیا ہوا تھا ؟’’ عامر نے چندو کی طرف استفسار سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
‘‘نہیں ۔۔۔ کچھ پتہ نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہوا یا اب وہ کہاں ہے لیکن ۔۔۔ ’’ چندو سے حسب معمول اپنے سوچنے کے انداز میں بولا۔
‘‘لیکن کیا؟ ’’ عامر نے درخت کی شاخ سے نیچے چھلانگ لگاتے ہوئے پوچھا۔ ‘‘اب آگے بھی بول’’۔
‘‘پوجا دیوی کو حکیم کے پاس بھیجنے والی میری ماں ہی تھی، اور بعد میں ماں اور باپو  کو باتیں کرتے تھوڑا تھوڑا سن لیا تھا میں نے لیکن ۔۔۔’’ اور ایک دفعہ پھر چندو کسی سوچ میں ڈوب گیا۔
‘‘ ایک تو نہ ۔۔۔ یہ تیری بڑی ہی گندی عادت ہے۔’’ عامر نے کسی قدر جھلاتے ہوئےہاتھ میں موجود اخروٹ کے چھلکے پھینکتے ہوئے کہا۔ ‘‘سالے پتہ نہیں کیا سوچنے لگ جاتا ہے، پوری بات کیا کر۔’’
‘‘یار ایک تو تجھ میں صبر بالکل نہیں ہے ’’ چندو نے تیزی کے ساتھ جواب دیا۔ ‘‘ایک تو مجھے ماں کی آواز صاف سے سنائی نہیں دے رہی تھی اور دوسرا جو وہ بول رہی تھی اس میں سے مجھے آدھا سمجھ آ رہا تھا اور آدھا نہیں ۔لیکن پھر بھی مجھے جو بھی سمجھ آیا وہ میری سمجھ سے تو باہر تھا۔’’
‘‘کیوں ایسا کیا تھا؟’’ عامر نے اب نسبتاً متوجہ ہو  کر دھیمے انداز میں پوچھا۔
‘‘یار ۔۔۔ عجیب سی باتیں کہہ رہی تھی ماں کہ ایک رات پوجا دیوی کی ساس بہت دیر سے ہمارے گھر آئی اور ماں کو جلدی چلنے کا کہا ، مجھے یاد ہے کہ اس وقت ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی کیوں کہ ماں نے مجھے چھاتا لانے کا کہا ۔۔۔ اور جب میں چھاتا لے کہ ماں کے پاس گیا تو اس وقت پوجا کی ساس میری ماں کے ساتھ ہی کھڑی کچھ تیز تیز بول رہی تھی اور ۔۔۔’’ اتنا کہہ کر چندو پھر سے خاموش ہو گیا۔
‘‘اور ؟ ۔۔۔ چندو میں اب تیرے سر میں اخروٹ مار دوں گا اب آگے بھی بک ۔’’ عامر کے مونہہ سے تقریباً چلاتی آواز میں نکلا۔
‘‘یار مجھے خود صحیح سے سمجھ نہیں آئی تھی کہ پوجا کی ساس نے کیا کہا تھا ، مجھے بس یہ سنائی دیا کہ اس نے پوجا کو ہنومان جی کے ساتھ دیکھ لیا ہے’’۔ چندو نے کسی انتہائی گہری سوچ کے انداز میں جواب دیا۔
‘‘کیا مطلب ہے اس کا ؟’’ عامر نے سرگوشی سے پوچھا۔
‘‘مجھے بھی نہیں پتا یار ۔۔۔ بس اس کے بعد پھر میں نے وہی سنا جو ماں نے باپو کو بتایا کہ جب وہ پوجا دیوی کے گھر گئی تو پوجا نے خود کو رسوئی  میں بند کیا ہوا تھا اور پھر میں نے یہ تو نہیں سنا کہ انہوں نے رسوئی والا کمرہ کیسے کھولا لیکن ماں بار بار ایک بات دہرا رہی تھی ۔’’
‘‘کیا بات ؟’’ عامر جو کہ اب تقریباً مبہوت ہوئے یہ بات سن رہا تھا ، دھیمے سے بولا۔
‘‘بندر پوجا کو لے جانے نہیں دے رہا تھا۔’’ چندو نے بھی آہستہ سے کہا۔
‘‘کیوں؟’’ عامر نے حیرت کے انداز میں پوچھا ۔
‘‘کون جانے کیوں ’’ چندو نے چڑ کر جواب دیا۔‘‘تجھے کہا تو ہے کہ آدھی بات تو مجھے سنائی بھی نہیں دے رہی تھی، بہت سرگوشیوں میں بول رہی تھی ماں باپو کے ساتھ۔بس اتنا پتہ ہے کہ ماں نے پوجا کے گھر والوں کو بتایا کہ یہ میرے بس کا کام نہیں ہے اسے حکیم جی کےہاں  لے کہ جاؤ اور پھر اس کے آگے کی بات تو اب یا ماں جانتی ہے یا پوجا کے گھر والے۔’’ چندو دوبارہ زمین پہ دراز ہوتے ہوئےایک لمبی سانس لے کر بولا۔
‘‘یا پھر حکیم جی ۔۔۔ ’’ عامر نے آہستہ  آواز میں کہا اور دور کھیتوں میں دیکھتے ہوئے سوچوں میں غرق ہو گیا ۔‘‘تجھے کیا لگتا ہے ؟ ۔۔۔ پوجا اور ۔۔۔ بندر۔۔۔دونوں میں کچھ تعلق ۔۔۔؟ ’’
‘‘کون جانے یار ۔۔۔ ’’ چندو نے جواب دیا۔‘‘تجھے تو پتہ ہی ہے کہ پوجا کا پتی شادی کے ایک ہفتے بعد ہی جنگل میں درخت سے گر کہ مر گیا تھا اور جانوروں نے اس کی لاش کو بھی نوچ کھسوٹ ڈالا تھا۔ہے بھگوان! سالے کی شکل بھی نہیں پہچانی جا رہی تھی’’ چندو نے دھیمی سی آواز میں کھیتوں سے پرے جنگل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔‘‘اب تو خود ہی سوچ لے ، اکیلی دلہن ، شوہر کا مر جانا ، گھر میں پوجا اور پوجا کی اکیلی ساس ۔۔۔ اور پھر سارا دن تو ان کی چھت پر جنگل سے بندر آ کہ پرساد کھاتے رہتے ہیں۔کیا معلوم کہ بن مرد کے گھر میں کیا کیا کچھ ہوتا رہتا ہے۔’’
‘‘لیکن  پوجا اور بندر۔۔ ؟ تیرا دماغ چل گیا ہے چندو۔’’ عامر نے ہنستے ہوئے چندو کی طرف دیکھ کر کہا لیکن چندو نے اس کی ہنسی کا کوئی جواب نہ دیا بلکہ ابھی بھی جنگل کے درختوں ہی کی طرف دیکھتا رہا۔
‘‘یار اس میں مذاق کیسا ؟  سبھی مرد اور عورت ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں ۔ تو نے کبھی کچھ نہیں دیکھا ؟’’ چندو نے سنجیدہ لہجے میں عامر سے پوچھا۔
‘‘پتہ نہیں یار ، بس ایک دفعہ ماں اور باپو کو دیکھا تھا بہت پہلے کی بات ہے ، جب باپو ٹھیک تھا ، رات کو پتہ نہیں ایک دوسرے کے ساتھ کیا کر رہے تھے ۔ مجھے تو بس ماں اور باپو کا سایہ ہی نظر آ رہا تھا اندھیرے میں ، چارپائی پر ۔۔۔ باپو اوپر تھا اور ماں نیچے ۔۔۔ ’’۔ عامر نے شرماتے ہوئے جواب دیا۔
‘‘بس ایک دفعہ ۔۔۔ ؟’’ چندو نے حیرت سے پوچھا۔ ‘‘ میں نے تو کئی دفعہ دیکھا ہے ، بلکہ انہیں باتیں کرتے بھی سنا ہے ۔ ماں تو پتا جی کو اتنی گندی گندی گالیاں بھی دے رہی تھی، کہہ رہی تھی تو بڈھا ہو گیا ہے منیم ، اور تجھے نظر بھی نہیں آتا ، اور پتہ نہیں کیا کیا۔’’ چندو نے ہنستے ہوئے کہا۔
پھر ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں اور سورج ڈھلنے سے کچھ دیر پہلے عامر اور چندو دونوں اٹھ کر کھیتوں میں موجود پگڈنڈی پر چلتے چلتے ادھر ادھر کی باتیں کرتے اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے ۔
 عامر کا گھر ایک عام سا گھر تھا جیسے گاؤں کے باقی گھر ہوتے ہیں ۔ گھر کے دروازے سے داخل ہوتے ہی سیدھے ہاتھ پر چھپر سے بنا غسل خانہ جسے بیچ میں ایک پرانا سا ٹاٹ ڈال کر بیت الخلاء اور نہانے کی جگہ کو علیحدہ کیا گیا تھا، پھر ایک بڑا سا صحن اور صحن کے بیچوں بیچ لگا ایک درخت نما پودا۔ گاؤں کے رواج کی طرح گھر کے رہائشی کمرے غسل خانے سے دور بنائے گئے تھے ۔ دو  کمروں اور ایک رسوئی کا گھر جس میں سے ایک کمرے میں فوزیہ بیگم اور فریحہ سویا کرتے تھے اور دوسرے کمرے میں عامر اور اب  عامر کا فالج زدہ باپ مراد جو دن کا زیادہ تر حصہ سویا رہا کرتا تھا۔ گھر میں زیادہ جانور تو نہیں تھے لیکن گاؤں کے معمول کے مطابق کچھ مرغیاں فوزیہ بیگم نے پال رکھیں تھیں جو سارا دن کٹ کٹ کرتی صحن میں پھرتی رہتیں تھیں ۔
البتہ آج شام صحن میں دو کرسیاں اور درمیان میں ایک تپائی پڑی ہوئی تھی جن میں سے ایک کرسی پر فوزیہ بیگم چادر لپیٹ کر بیٹھی تھی اور دوسری کرسی پر چندو کا باپ منیم جی ہاتھ میں ایک رجسٹر پکڑے اپنی موٹی سی سٹیل کے فریم والی چمکدار سی عینک سے دیکھتا ہوا لکھ رہا تھا۔
‘‘میری بات دھیان سے سن لے فوزیہ، مراد کا کھاتہ منڈی میں بڑا خراب ہو رہا ہے ، ابھی تک تو میں بچانے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن ساون سے پہلے پہلے ساری گندم منڈی میں پہنچانی پڑے گی’’ منیم جی نے اپنی غیر معمولی طور پرچمکدار سٹیل کی عینک کو اپنے دامن سے صاف کرتے اورپھر لگا کر رجسٹر میں سے کچھ پڑھتے ہوئے کہا۔
‘‘منیم جی ! آپ کو جیسا ٹھیک لگتا ہے آپ ویسا کرو ، مجھے آپ پر اعتبار ہے لیکن بس دھیان رہے کہ بچوں کے کھانے کے لیے گھر میں دانہ رہے ’’ فوزیہ نے آہستہ آواز میں کہا۔اگرچہ فوزیہ بیگم نے چہرہ پردے میں چھپارکھا تھا لیکن منیم جی کے ساتھ بات کرتے ہوئے اس کا انداز عاجزانہ اور اداس تھا۔
فوزیہ بیگم ایک اڑتیس سالہ جواں  اور خوبرو خاتون تھی ،کشمیرسے ہجرت کر کے پوٹھوہار آنے کے بعد  گاؤں کے رسم و رواج کے مطابق کم عمری ہی میں شادی ہو گئی لیکن شادی کےبعد  کئی سال تک اولاد سے محروم رہی اور پھر مزاروں اور مندروں میں دیئے جلانے ،منتیں ماننے کے بعد بیٹی فریحہ پیدا ہوئی لیکن مرادکی خواہش گاؤں کے باقی مردوں کی طرح بیٹے کی تھی ۔ گاؤں کے مکھیا منیم جی ہی نے ساتھ والے گاؤں چندولی میں رہنے والے ایک تانترک کے بارے میں بتایا جس کے آستانے پر چڑھاوا اور نذرانہ دینے سے بیٹا پیدا ہوتا ہے ۔ عامر کی پیدائش سے پہلے مراد اور فوزیہ بیگم پالکی میں بیٹھ کر چندولی والے تانترک کے ہاں گئے تھے جو اس زمانے میں پورا ایک دن کا سفر تھا۔ اس تانترک کی عملیات میں ضرور کوئی طاقتور اثر رہا ہو گا کیوں کہ فوزیہ بیگم کو لگتا تھا کہ اگرچہ عامر کی پیدائش بہت تکلیف دہ تھی لیکن اس کے بعد فوزیہ بیگم کا جسم کبھی بیمار نہیں ہوااور اس کی شکل و صورت پہلے کے مقابلے میں زیادہ خوبصورت ہو گئی تھی جس سے فوزیہ بیگم کا یقین تانترک اور جادو ٹونہ پہ کہیں زیادہ ہو چلا تھا۔پتہ نہیں یہ عامر کی پیدائش کی وجہ سے تھا یا تانترک کے ٹونہ کی وجہ سے کہ عامر کی پیدائش کے بعد  اس کا شوہر اسکی طرف پہلے کی نسبت کہیں زیادہ راغب ہوتا تھالیکن شومئی قسمت کہ اب وہ اندر بے جان ، فالج کا شکار ہوئے بستر پر لیٹا تھا۔
‘‘ہاں ، یہ ہوئی نہ بات ۔۔ چل میں ریڑھیوں کا بندوبست کرتا ہوں اور تو اپنے لڑکے عامر کو کہہ دینا کہ ضرورت کی بوریاں گھر میں رکھ کر باقی ریڑھیوں پر لدوا دے ، کل میں مزدور بھیجوا دوں ریڑھیوں کے ساتھ’’۔منیم جی نے رجسٹر کو اپنی آنکھوں کے قریب کر کہ اس پر کچھ نشان لگاتے ہوئے کہا۔
‘‘ایک تو سسری آنکھیں  بھی اس عمر میں کام کرنا چھوڑ گئیں ہیں’’ منیم جی نے رجسٹر کو اپنی آنکھوں کے اتنا قریب کر لیا کہ اب رجسٹر اس کے ناک سے چھونے ہی والا تھا کہ فوزیہ  بیگم نے اپنی اداسی سے بھری آواز میں کہا ‘‘رکیے منیم جی ، کیوں اتنا کشٹ کر رہے ہیں میں چراغ منگواتی ہوں۔۔۔ ارے فریحہ!آئیو ذرا، چراغ لے کہ آئیو’’ فوزیہ بیگم نے رسوئی کی طرف دیکھ کر آواز لگائی۔
اور عامر جو اب باہر سے آنے کے بعد پانی پینے کے لیے رسوئی میں داخل ہونے ہی والا تھا ، نے اپنی بڑی بہن فریحہ کو دیکھا جو بظاہر اب سے کچھ لمحے پہلے تک کھڑکی سے چھپ کر اپنی ماں اور منیم جی کو دیکھ رہی تھی لیکن اب ماں کی آواز آتے ہی چراغ  میں تیل ڈال کر اسے جلانے لگی۔
‘‘جی آئی اماں۔۔۔’’ فریحہ نے رسوئی سے آواز لگائی اور چراغ جلا کر صحن میں بیٹھی فوزیہ بیگم اور منیم جی کی طرف چل پڑی۔ فریحہ ، جو اپنی عمر کے سولہویں سال میں داخل ہو چکی تھی اور عامر سے تین سال بڑی بھی تھی شکل صورت میں اپنی ماں فوزیہ بیگم جیسی ہی تھی ۔ صاف ستھرا رنگ ، گھنے لمبے بال اور اپنی ماں  ہی کی طرح بھرا ہوا جسم۔اگرچہ فریحہ اور عامر بہن بھائی تھے لیکن دونوں کی فطرتوں میں فرق بھی بہت تھا  ، عامر کے برخلاف فریحہ خاموش طبیعت اور شرمیلی تھی ۔ اس کی وجہ شاید ماں باپ کی طرف سے ملنے والی محبت عامر کے مقابلے میں فریحہ کو کم ہی ملی تھی ۔ گاؤں کے ماحول میں اکثر لڑکوں ہی کو گھرانوں اور خاندانوں کا حقیقی چشم و چراغ مانا جاتا ہے۔ نتیجتاً فریحہ کو نہ ہی کوئی خاص توجہ دی گئی اور گاؤں کے واحد سکول تک بھیجنا تو فریحہ کے گھر والوں کے لیے کبھی نہ ہونے والی  بات تھی۔ فریحہ نے کوشش تو کی تھی کہ اگر وہ نہ پڑھ سکی تو کم سے کم اپنے بھائی عامر کو تو پڑھوا دے تاکہ گھر کے باقی افراد کی طرح کہیں عامر بھی لکھنے پڑھنے سے عاری نہ ہو لیکن فریحہ کی یہ خواہش عامر کی پڑھائی سے بھاگنے والی فطرت کی وجہ سے پوری نہ ہو سکی۔ البتہ اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ اپنے بھائی سے جی جان سے محبت کرتی تھی۔
‘‘ارے بیٹی ! اس کی ضرورت نہیں ، بس میں تو نکل ہی رہا تھا ، اور ویسے بھی اگر آج یہ لکھت پڑھت نہ ہوتی تو اس وقت تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا تیری ماں کو پریشان کرنے کا ، اس وقت تو ہم رات کا بھوجن  کھا رہے ہوتے ہیں’’ منیم جی نے کھسیانی سی ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔
فریحہ نے چراغ کو تپائی پر رکھا اور ادب سے پیچھے ہٹ کر ماں کی کرسی کے ساتھ کھڑی ہو گئی لیکن عامر نے رسوئی سے دیکھا کہ اگرچہ منیم جی دیکھ رجسٹر پر رہا تھا لیکن اس کی آنکھیں بار بار فوزیہ بیگم کی کرسی  کے ساتھ کھڑی فریحہ کے پیروں پر پڑ رہی تھی۔
‘‘شاید منیم کی نظر واقعی بہت کمزور تھی ، چندو نے ابھی شام ہی کو تو بتایا تھا کہ اسے اپنی بیوی سے کتنی گالیاں پڑتی ہیں، کچھ نظر نہ آنے پر’’ عامر نے اپنے آپ سے سوچا ۔ ‘‘ہو سکتا ہے بڈھا منیم جسے زمین پر پڑا کچھ اور سمجھ رہا ہو وہ عامر کی بہن فریحہ  کی جوتیاں ہوں۔ ’’ یہ سوچ کہ عامر کو کسی قدر ہنسی بھی آ گئی۔
اسی دوران فوزیہ بیگم نےفریحہ سے مخاطب ہو نسبتاً جھڑک کر کہا ‘‘تو نے سنا نہیں منیم جی اس وقت کھانا کھا رہے ہوتے ہیں ۔۔تو جا کر کھانے کے لیے تنور میں روٹی لگا منیم جی کے لیے’’۔
‘‘ارے نہیں نہیں بھاگن ۔۔۔ کیسی بات کرتی ہے’’ منیم جی نے یکدم فریحہ کے پیروں سے نظریں جھٹک کر ایک دفعہ پھر کھسیانے کے سے انداز میں کہا ‘‘ ہاں مگر ۔۔۔ اس سندری کے ہاتھوں کی بنی ہوئی روٹی کو کون نہ کہہ سکتا ہے ، چل تو ایسا کر ۔۔۔ جب ساری گندم شہر چلی جائے گی تب شگون کے طور پر میں تیرے گھر ہی رات کا بھوجن کروں گا۔لیکن شرط یہ ہے کہ روٹی فریحہ ہی بنائے گی اور وہ بھی میٹھی ۔۔۔ ٹھیک ہے بیٹی؟’’
‘‘جی منیم جی ۔۔۔ جیسے آپ کہیں’’ فریحہ نے اتنی ہلکی آواز میں کہا کہ اگر منیم جی کا مکمل دھیان اس کی طرف نہ ہوتا تو شاید اسے پتہ بھی نہ چلتا کہ فریحہ نے کوئی جواب دیا بھی ہے۔
‘‘ہاں ۔۔ چل اچھا ہے ۔۔۔ اب میں چلتا ہوں۔۔۔ مراد کو میرا سلام دینا’’ منیم جی نے بڑی بے دلی کے ساتھ اٹھتے ہوئے کہا اور عامر کو مکمل یقین ہوا کہ اٹھتے ہوئے ایک دفعہ پھر سے منیم جی کی نظریں فریحہ کی جوتیوں یا پھر۔۔۔ اگر عامر غلط نہیں تھا تو پھر منیم کی نظریں فریحہ کے صاف ستھرے دودھیا پیروں  کی طرف ہی اٹھیں تھیں
 کسی زمانے میں گاؤں میں جب گھڑیاں نہیں ہوتی تھیں تو رات کے اوقات کا اندازہ گیدڑ کے بولنے سے لگایا جاتا تھا۔ عامر کے  گاؤں میں بھی اس دور کے باقی گاؤں کی طرح گیدڑ کی پہلی آواز سے کہیں پہلے رات کا کھانا چکتے تھے ۔ لیکن گرمیوں کے دن ختم ہونے کو تھے اور مون سون کا موسم کچھ ہی دن تک شروع ہونے والا تھا جب کئی کئی دن تک جوہر پور اوراس کے پاس کے علاقوں میں بارش کی لڑی لگی رہا کرتی تھی۔ البتہ گاؤں کے لوگ اکثر بارش کے بادل آنے سے پہلے ہی محسوس کر لیتے ہیں کہ شاید آج برکھا برسے گی اور آج کی رات کچھ ایسی ہی محسوس پڑتی تھی۔اسی اندازے کے پیش نظر منیم جی کے جانے کے بعد فوزیہ بیگم کے کہنے پرفریحہ نے مرغیوں کو ان کے ڈربوں میں بند کر کے اس پر ٹاٹ ڈال دیا ، صحن میں پڑا ہوا جو بھی سامان بارش سے بچانے والا تھا اسے سمیٹ لیا۔ کرسیاں ، تپائی اور چراغ بھی اٹھا لیےاور رسوئی میں جا کر رات کا کھانا بنانے میں ماں کی مدد کرنے لگی۔
رات کا کھانا فوزیہ بیگم اور عامر رسوئی ہی میں بیٹھ کر کھاتے تھے  جب کہ مراد جو کہ اپنے فالج کی وجہ سے رسوئی تک نہیں آ سکتا تھا، اسے اس کی بیٹی فریحہ ہی اپنے ہاتھ سے اس کے کمرے میں جا کر کھلایا کرتی تھی۔ حسب معمول کھانے کے بعد عامر اپنے کمرے میں چلا گیا جہاں فریحہ اسے گندم کے دلیہ کے آخری چمچ کھلا کر کپڑے سے اس کا مونہہ صاف کر رہی تھی۔
‘‘سلام باپو!’’ عامر نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔
‘‘غوں۔۔غوں’’ مراد کی نا سمجھ آنے والی آواز آئی اور اس نے ہاتھوں کو ہلا کر بھی کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن  روز کی طرح وہ عامر کی سمجھ میں نہ آئی۔
‘‘باپو ! بہت تھکا ہوا ہوں ۔۔۔ چل فریحہ جا رسوئی میں ماں بلا رہی ہےاور باپو کے سامنے ڈوپٹہ کر کے بیٹھا کر’’ غصے سے یہ بات کہہ کر عامر بستر پر لیٹ گیا۔
فریحہ نے عامر کی ڈانٹ سننے کے بعد  دلیہ والا پیالہ اٹھایا اور اپنا ڈوپٹہ جسم پر ٹھیک کیا اورکمرے سے باہر چل دی۔ فریحہ کو ابھی کھانے کے بیچ ہی میں بھگا دینا عامر کی روز کی عادت نہیں تھی لیکن آج کی رات عامر کے ذہن میں سوچنے کے لیے بہت کچھ لے کر آئی تھی۔
‘‘تجھے کیا لگتا ہے ؟ پوجا ۔۔ اور بندر؟’’ والے جملے عامر کے ذہن میں گونج رہے تھے۔ کیا واقعی ایسا ممکن تھا ؟ کیا بندر کسی انسان عورت کے ساتھ وہ کر سکتا تھا جو چندو کا باپ چندو کی ماں کے ساتھ کرتا تھا؟ وہی کچھ جو ایک دفعہ عامر نے خود بھی اپنے باپ مراد کو اپنی ماں فوزیہ بیگم کے ساتھ کرتے دیکھا تھا۔ وہ رات عامر کے لیے بھولنا اتنا آسان نہیں تھا۔ عامر کا باپ مراد فالج سے پہلے ایک ہٹا کٹا مرد تھا۔ عامر کی آنکھ کسی کی سسکیوں سے کھلی تھی ، اسے لگا شاید اس کی ماں رو رہی ہے لیکن اندھیرے میں نظر آنے والے سایوں کو دیکھ کر کچھ اور ہی نظر آ رہا تھا ۔ فوزیہ بیگم کی تندرست ٹانگیں ہوا میں مراد کے کندھوں پر ٹکی ہوئی تھیں ۔ اس کے پاؤں مراد کے چہرے پر مسل رہے تھےاور مراد آگے پیچھے ہل رہا تھا۔ اور ایک دفعہ تو فوزیہ بیگم کے پیروں کے انگوٹھے کو مراد نے اپنے مونہہ میں بھی لیا تھا کیوں کہ عامر کے اس وقت باپ کے مونہہ سے ماں کا انگوٹھا چوسے جانے کی آواز بھی آئی تھی۔ پچکاریوں کی ہلکی ہلکی سی آواز چھوٹے سے کمرے میں کافی نمایاں تھی ، عامر کی ماں فوزیہ بیگم نے کپڑے تو پہن رکھے تھے لیکن ٹانگیں ہوا میں اٹھے ہونے کی باعث اس کے پائینچے گھٹنوں تک سرکے ہوئے تھے۔عامر کی ماں کی دودھیا سی ٹانگیں ، ملائم سفید پاؤں اور ان پیروں پر لگی سرخ مہندی کے پھول اندھیرے میں بھی  اس کی صاف ٹانگوں پر نظر آ رہے تھے۔ اور عامر کو اچھی طرح سے اندازہ ہو رہا تھا کہ اس کی ماں نے اپنی شلوار ناڑے والی جگہ سے بھی نیچے سرکائی ہوئی ہے ۔ اور یہی وہ جگہ تھی جہاں عامر کا باپ مراد اپنے پیشاب کرنے والی جگہ کو رکھ کر اسے آگے پیچھے ہلا رہا تھا ۔ لیکن ۔۔۔ یہ سب باتیں ، حیرت انگیز طور پر عامر کی اپنی پیشاب والی چیز کو بھی سخت کر رہی تھیں۔ایک عجیب سی سختی ، لذت بھری ۔۔۔
باہر ہلکی ہلکی بارش شروع ہو چکی تھی ، بارش کی بوندوں کی آواز اور ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا کھڑکی سے اندر آیا۔ عامر نے اپنی رضائی کو اوڑھ لیااور دوبارہ سے اس رات کی یاد میں محو ہو گیا۔ عامر کو یہ بھی یاد تھا کہ اس کی ماں نے مراد کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر اسے رکنے کا کہا اور پھر ایک ہاتھ نیچے لے جا کر مراد کی پیشاب والی جگہ کو ہاتھ سے سہلانا شروع کیا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ۔۔۔ مراد کی پیشاب والی جگہ فوزیہ بیگم کی پیشاب والی جگہ کے اندر ڈلی ہوئی تھی اور فوزیہ بیگم ایسی ہی حالت میں اسے سہلا رہی ہو ، جیسے ۔۔۔ جیسے کوئی گائے کا دودھ نکال رہا ہوتا ہے۔ لیکن ۔۔۔ لیکن کیا فوزیہ بیگم مراد کی پیشاب والی جگہ سے کچھ نکال کر اپنی شرمگاہ میں ڈالنا چاہ رہی تھی؟ اس سوال کا جواب عامر کے پاس نہیں تھا لیکن اسے پتہ تھا کہ یہ باتیں وہ چندو سے نہیں پوچھ سکتا تھا۔ آخر کیسے پوچھتا۔۔۔ کہ اس کے باپ نے اپنی پیشاب والی گندی جگہ اس کی ماں کی شرمگاہ میں کیوں ڈالی ہوئی تھی؟ ۔۔۔
‘‘سس’’ ایک سسکاری عامر کے مونہہ سے نکلی اور اسے احساس ہوا کہ ان ساری سوچوں کے دوران اس کی اپنی پیشاب والی جگہ بہت سخت ہو چکی تھی اور عامر کا اپنا ہاتھ انجانے ہی میں شلوار کے اوپر سے اسے ویسے ہی سہلا رہا تھا جیسے اس نے اپنی ماں کو سہلاتے دیکھا تھا۔
‘‘یہ صحیح نہیں ہے۔’’ عامر نے خود کو بتایا ۔‘‘لیکن اب ہاتھ نہیں رکنا چاہ رہا ۔’’ بدستور عامر کے ذہن میں اس رات والے مناظر چلتے رہے۔ کیسے اس کے باپ نے اس کی ماں کی رانوں پہ ہاتھ رکھے ہوئے تھے، کیسے وہ اپنی پیشاب گاہ اس کی ماں کی پیشاب گاہ سے رگڑ رہا تھا ، ویسے ہی عامر خود بھی اپنی پیشاب والی جگہ کو سہلا رہا تھا ۔ کیسے عامر کی ماں نے اس کے باپ کو روک کر اپنے ہاتھوں سے اس کے عضو کو سہلانا اور بیل کے عضو کی طرح دوہنا شروع کیا تھا ویسے ہی عامر نے بھی اپنے عضو کو دوہنا شروع کیا لیکن جونہی عامر کے عضو کا سر اس کی رضائی کے کپڑے سے رگڑا۔۔۔ بہت مشکل سے عامر نے اپنی آواز پر قابو پایا لیکن ایسی لذت ۔۔۔ یہ سب کچھ عامر کے لیے بالکل نیا تھا۔ وہ اپنے جسم کے نئے حصوں اور نئے احساسات سے واقف ہو رہا تھا۔ اور اوپر سے اپنی ماں کی وہ دلکش ٹانگوں کی یاد جو اس کے ذہن میں نقش ہوئی پڑی تھی، ماں کے ہلکی ہلکی چربی والے پیٹ پر سے اس کی قمیض کا ہٹے ہونا، ماں کے پاؤں کا باپ کے چہرے پر رگڑنا۔۔۔ یوں لگ رہا تھا جیسے ان مناظر کو یاد کرنا عامر کی لذت کو دوبالا کر رہا تھا۔ اور پھر ۔۔۔ رضائی کے کپڑے کے ساتھ اس کی پیشاب گاہ کے سر کا رگڑے جانا عامر کو لذت کی نئی وادیوں میں جکڑے جا رہا تھا، اس کے ذہن میں اپنی ماں کی شرمگاہ پر اس کے باپ کے عضو کے بجائے اپنے عضو کا خیال ہاوی آنے لگا ، جیسے عامر کی ماں اپنے شوہر کے عضو کو نہیں بلکہ عامر کے عضو ہی کو اپنے ہاتھوں سے دوہ رہی تھی ، شاید یہ سب کچھ سوچنا غلط تھا لیکن سوچنے کو اور کچھ تھا بھی نہیں ، اب بہت دیر ہو چکی تھی، اپنی ماں کی ننگی ٹانگیں عامر کے ذہن میں بس چکی تھیں اور پھر عامر کو یوں لگا کہ جیسے اس کی پیشاب والی جگہ میں سے کچھ نکلنے والا ہے۔۔۔
‘‘شاید ہاتھ سے دوہنے کی وجہ سے وہی کچھ نکلنے والا ہے جو اس وقت ماں نے باپو کے پیشاب والی جگہ سے نکالا تھا۔’’ عامر نے سوچا ۔۔۔ ‘‘اگر پیشاب نکل گیا تو سب گندہ ہو جائےگا۔۔ لیکن ۔۔۔ باہر بارش ہو رہی ہے۔’’
یہ لمحات کش مکش کے نہیں ہوتے۔ عامر بستر سے نکلا اور بیت الخلاء جانے کے لیے کمرے کا دروازہ کھولا۔ باہر ہوا چل رہی تھی اور ہلکی ہلکی بارش بھی ہو رہی تھی۔ صحن میں کچھ ٹھیک طرح سے نظر نہیں آ رہا تھا ۔ اس نے رسوئی میں جا کر چراغ جلانے کے لیے دیا سلائی جلائی لیکن فریحہ نے نجانے کرسیاں ، تپائی اور چراغ اٹھا کر کہا رکھ دیئے تھے۔ چراغ ڈھونڈنے کے عمل میں عامر کا ہاتھ لگنے سے برتنوں کا شور بھی ہونے لگا۔
‘‘سب جاگ جائیں گے، سالی نے پتہ نہیں کہاں رکھ دیا چراغ اسے تو کل دیکھوں گا۔’’ عامر نے چڑ کر خود سے بڑبڑاتے ہوئے کہا اور بنا چراغ ڈھونڈے دیا سلائی جلائی اور بیت الخلاء کی طرف چل دیا۔ صحن میں ہوا تیز تھی اور دیا سلائی زیادہ دیر تک جلتی نہ رہ سکی۔ اس نے دوسری دیا سلائی جلائی اور اس اچانک جل اٹھنے والے تیز شعلے میں عامر کو بیت الخلاء سے کوئی بہت چمکدار سی شئے  بیت الخلاء کے پردے کے باہر موجود دکھائی دی۔
‘‘یہ کیا ہے؟’’ عامر چونک اٹھا لیکن تب تک ہوا دیا سلائی کو بھجا چکی تھی اور ایک دفعہ پھر سے صحن میں گھپ اندھیرا تھا۔ اور اس کے اوپر ہلکی بارش کی بوندیں اور تیز ہوا میں صاف نظر آنا ممکن بھی نہیں تھا۔
‘‘بھاڑ میں گئی دیا سلائی۔’’ جھنجھلا  کر عامر نے دیا سلائی کی ڈبیا جیب میں ڈالی اور حمام والے کمرے کے بیت الخلاء میں جا کر پیشاب کرنے کے انداز میں بیٹھ گیا۔ اور آنکھیں بند کر کے اپنےپیشاب والے عضو کو سہلانے لگا لیکن اس دفعہ کچھ مختلف تھا ۔عامر کو وہ لذت نہیں مل رہی تھی جو بستر میں سہلانے پر مل رہی تھی۔ شاید ۔۔۔ بستر میں رضائی کے ساتھ پیشاب گاہ کے سر کو رگڑنے کی وجہ سے ؟ شاید ماں کی ٹانگوں کے تصور کی وجہ سے ؟  ۔۔۔ عامر نے کھڑے ہو کر ادھر ادھر دیکھا اور ۔۔۔
‘‘ٹاٹ ۔۔۔۔ بیت الخلاء اور غسلخانہ کو تقسیم کرنے والا ٹاٹ بھی رضائی کے کپڑے کے ساتھ رگڑنے جیسا احساس دے سکتا ہے ۔’’ عامر کا ذہن اس وقت لذت کے حصول کے لیے گھوڑے کی سی تیزی سے بھاگ رہا تھا۔ اس نے ٹاٹ کے ایک چھوٹے سے سوراخ میں انگلی ڈال کر اسے نیچے کی طرف پھاڑنے کی کوشش کرتے ہوئے گھسیٹا۔ بوسیدہ اور پرانا ہونے کی وجہ سے ٹاٹ میں سوراخ کرنے میں کوئی مشکل نہیں ہوئی۔ اور پھر ۔۔۔ فطرت نے اپنا کردار ادا کرنا شروع کیا۔
عجیب بات ہے کہ فطرت اپنا راستہ ڈھونڈ لیتی ہے۔ اور عامر نے بھی اس رات ویسے ہی کیا۔ فطرت نے اسے راستہ دکھایا کہ اسے جس چیز کی ضرور ت ہے وہ ایک سوراخ ہے ۔ ایک سوراخ جس میں وہ اپنا پیشاب والا عضو ڈال سکے ، ویسے ہی جیسے اس کے باپ نے اس رات عامر کی ماں کی رانوں کے درمیان اس کی شرمگاہ والی جگہ میں ڈال رکھا تھا۔ اسے ویسے ہی سہلا سکے یا دوہے جیسے اس کی ماں اس کے باپ کے عضو کو بیل کے عضو کی طرح اپنے ہاتھ سے سہلا رہی تھی اسے دوہ رہی تھی۔ اور اب اپنی لذت کو مکمل کرنے کے لیے عامر کو صرف ایک چیز کی ضرورت تھی ۔۔۔ ایک تصور ۔۔۔ اوراپنی جواں سالہ ، گورے چٹے ، ملائم جسم والی ماں کی ننگی ٹانگوں کو تصور کرنے سے زیادہ لذت بھری یاد عامر کےپاس نہیں تھی۔
 عامر نے ٹاٹ میں کیے ہوئے سوراخ میں اپنا سخت ہوا پیشاب والا عضو ڈالا۔۔۔ اس کےسر کے  گرد اپنی ہتھیلی کو لپیٹا ۔۔۔ اپنی ماں کی ننگی ٹانگوں اور اس کی رانوں کو ذہن میں رکھا اور اپنے ہاتھ کو آگے پیچھے کرنے لگا۔ بند آنکھوں سے تصور زیادہ واضح ہو جاتا ہے، اور اب عامر کے تصور میں اپنے باپ مراد کی جگہ عامر اپنی سگی ماں کی رانوں کے درمیان اس کی شرمگاہ کے ساتھ اپنا عضو رگڑ رہا تھا، اب اپنے باپ کی جگہ عامر خود اپنی سگی ماں کی ہوا میں اٹھی ٹانگوں کی رانوں پر ہاتھ رکھ کر اس کے سفید موٹے موٹے پیروں کی انگلیوں کو چوس رہا تھا اور چند لمحوں ہی میں وہ بہنا شروع ہو گیا جو یقیناً فوزیہ بیگم نکالنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اس کا بہنا ۔۔۔ ایک زور دار پچکاری کے ساتھ جو ٹاٹ میں ہوئے سوراخ سے نکل کر نہانے والی طرف بہنا اور گرنا شروع ہوا ۔۔۔ یہ عجیب سا مادہ ۔۔۔ شروع میں کچھ پچکاریوں کی طرح نکلا لیکن پھر ۔۔ انتہائی گاڑھے شہد کی طرح بہا ۔۔۔ ایک بات حیرت کے لائق تھی۔ فرش پر گرنے والے قطروں کی آواز ، کپڑے پر گرنے والی آواز کے قطروں سے بہت مختلف ہوتی ہے  اگرچہ اس وقت عامر کے لیے کوئی اور بات معنی نہیں رکھتی تھی لیکن اسے ایک بہت واضح احساس ہو رہا تھا کہ ٹاٹ کے دوسری طرف نہانے والی جگہ  خالی نہیں بلکہ کوئی کپڑے پہنے ۔۔۔ کھڑا ہوا ہے۔
آگے آنے والے دو دن بہت مصروفیت میں گزرے۔ صبح سے لے کر شام تک عامر گندم کی بوریوں کو مزدوروں کے کندھوں پر لدوا کر ریڑھیوں پر رکھواتا اور شہر بھجوا دیتا۔ لکھنا پڑھنا تو وہ شروع سے جانتا ہی نہیں تھا لہٰذا دونوں دن ، دن کے دوسرے پہر منیم جی آجاتے اور بوریوں کی گنتی کر کے شام کو چائے پی کر ہی جاتے۔
‘‘تو نے فریحہ کے رشتے کے بارے میں کچھ سوچا بھاگن؟’’ دوسرے دن منیم جی نے فوزیہ بیگم سے رازدارانہ انداز میں پوچھا۔‘‘چندولی میں میرا جاننے والا ایک اچھا مسلمان گھرانہ رہتا ہے، اگر تو کہے تو میں ان سے بات کروں؟’’ منیم جی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔
‘‘نہیں منیم جی!’’ فوزیہ بیگم نے اپنی اس مخصوص اداس انداز میں جواب دیاجو منیم جی کے لیے خاص تھا۔‘‘جب تک ان کے ابا ٹھیک نہیں ہو جاتے ہم اتنی دور جانے کا نہیں سوچ سکتے۔’’
‘‘اگر تو کہےتو میں تیرے ساتھ چلوں ؟’’ منیم جی نے اپنی کرسی پر سے آگے ہو کر فوزیہ بیگم کی طرف جھکتے ہوئے پوچھا۔ ‘‘عامر اب بڑا ہو رہا ہے منیم جی!’’ فوزیہ بیگم نے گندم کی بوریاں ریڑھیوں پر رکھواتے عامر کی طرف دیکھ کراداسی سے کہا۔‘‘اب شاید وہ بھی چلنے کا کہے۔’’
فریحہ رسوئی سے اپنی ماں اور منیم جی کو دیکھ رہی تھی۔ اسے اندازہ ہو رہا تھا کہ شاید اسی ہی کے بارے میں بات ہو رہی ہے لیکن کبھی کبھی اسے ایک طاقتور احساس ہوتا تھا کہ منیم جی اور اس کی ماں کے درمیان فریحہ ، فریحہ کے باپ مراد اور اس کے کاروبار سے زیادہ بھی کسی بارے میں بات ہوتی ہے۔ ایک تو منیم جی کا گھر آنا جانا مراد کی بیماری کے بعد کچھ زیادہ ہو گیا تھا۔دوسرا منیم جی اور فوزیہ بیگم کے درمیان کچھ عجیب سا کھچاؤ تھالیکن اس سے بڑھ کر یہ کہ اپنے موٹے اور چمکدار فریم والے چشموں میں سے بھی منیم کی نظریں فریحہ کو اکثر اپنے جسم کی طرف گھومتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں۔
فریحہ نے ایک نظر اپنے بدن  پر ڈالی۔ سولہ سال کی عمر تک پہنچنے پر اس کے جسم میں کافی تبدیلیاں رونما ہوئی تھیں۔ اس کا جسم کافی بھر چکا تھا بالکل اپنی ماں کی طرح ۔ سینہ باہر کو نکل رہا تھا اور پرانے کپڑے چھوٹے چھوٹے سے محسوس ہونے لگے تھے۔بالخصوص کمر کے نیچے سے ، بالخصوص سینہ کے ابھاروں پر سے ۔ ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے کہ وہ اپنی دوست پوجا کی ماں سے اپنے کپڑے سلوانے گئی تھی۔ وہی پوجا جس کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں پتہ چلا ۔ ہاں ایک دفعہ فریحہ نے منیم جی کو اپنے مخصوص رازدارانہ انداز میں اپنی ماں فوزیہ بیگم کو بتاتے سنا تھا۔
‘‘چندولی والے تانترک نے اسے اپنی داسی بنا لیا ہے، تو دیکھنا اب وہ ٹھیک ہو کہ ہی جوہر پور آئے گی۔’’ منیم جی نے فوزیہ بیگم کو بتایا تھا۔‘‘وہی تانترک جس نے تجھے تعویذ بنا کر دیا تھا۔’’
لیکن آخر پوجا کے ساتھ ہوا کیا تھا یہ ایک مکمل راز تھا ۔ ایک گہرے یقین والی ہندو لڑکی ، ہنومان جی کی ٹھیٹھ پجارن ، ہر جمعرات کو پوجا اور فریحہ اکٹھی جایا کرتیں تھیں ، پوجا ہنومان جی کے مندر میں بندروں کے لیے پرساد رکھ کہ آتی اور فریحہ پہاڑی والے بابا کے مزار پر زردے کی نیاز رکھ کہ آتی۔ سارا دن جنگل کے بندر پوجا کے گھر کی چھت پر بھاگتے رہتے تھے اور پوجا بھی انہیں ہنومان جی کا پرتو مانتے ہوئے ان کے ساتھ بہت محبت کرتی تھی اور خاص طور پر اس ایک بڑے بندر کے ساتھ جو کھانے کو ہاتھ بھی نہیں لگاتا تھا بس چھت کے کنارے بیٹھا گھر کے صحن کو دیکھتا رہتا تھا۔ جن دنوں بارش ہوتی تھی اور باقی بندر نہیں آتے تھے ، اس دن بھی وہ بندر جنگل سے ضرور آتا ۔۔۔ اور کبھی کبھار تو فریحہ پوجا کو چھیڑتے ہوئے کہتی بھی تھی کہ کمینی مجھے تو لگتا ہے کہ یہ تجھ ہی سے ملنے آتا ہے۔
لیکن آخر پوجا اور فریحہ آپس میں گہری دوست تھیں اور دونوں میں صرف تین ہی سال کا تو فرق تھا۔ پوجا نے بہت سی باتیں فریحہ کو بتا رکھیں تھیں۔جیسا کہ اس کی ماں نے اس کے لیے پجاری جی کے بیٹے کا رشتہ قبول کر لیا ۔ وہ لڑکا تو تھا بھی خوبصورت اور طاقتور۔ گھوڑے پہ بیٹھ کر جنگل میں شکار کے لیے جاتا تھا۔ لکڑیوں کے بڑے بڑے گٹھے کاٹ کر اکیلے ہی اٹھا لاتا لیکن اس کی موت بھی بڑی ہی عجیب ہوئی تھی۔ بس یہی پتہ تھا کہ شادی کے ایک ہی ہفتے بعدایک دن اس کی لاش جنگل میں پڑی ملی ۔ اور اسے جانوروں نے چیر پھاڑ رکھا تھا اور چہرہ تو پہچانا ہی نہیں جا رہا تھا۔ شاید اس کی موت ہی کا پوجا نے بہت اثر لے لیا تھا لیکن ۔۔۔ پوجا کو دیکھ کہ لگتا نہیں تھا کہ وہ اپنے شوہر کی موت سے رنجیدہ ہے بلکہ اس کا چہرہ تو جیسے مزید دمکنے لگا تھا۔
‘‘ہنومان جی برداشت نہیں کریں گے۔ہنومان جی کچھ اور چاہتے ہیں۔’’ یہ دونوں جملے فریحہ نے پوجا کے مونہہ سے اکثر سنے تھے۔
‘‘نہیں ۔۔۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔’’ فریحہ نے یکدم اپنے آپ میں آتے ہوئے سوچا۔ منیم جی اٹھ کہ جا چکے تھے اور فوزیہ بیگم صحن میں اپنی مرغیوں کے پاس بیٹھی عامر کو گندم کے بچے ہوئے دانے سمیٹتے دیکھ کر بیٹے  سے باتیں کر رہی تھی۔
‘‘بندر اور عورت؟ ۔۔۔ کیا یہ ممکن ہے ؟ جانور اور انسان تو محبت کرتےہیں لیکن کیا جانور اور انسان ۔۔۔ ؟ ’’ اس سے آگے کے مناسب الفاظ فریحہ کے ذہن میں نہیں آپا رہے تھے ۔ فریحہ اور پوجا اکثر پوجا کے گھر کی چھت پر کھیلتے بندروں کو دیکھتے بھی تھے اور چند ایک دفعہ تو دونوں پر ہنسی کا دورہ پڑا رہا جب انہوں نے دیکھا کہ بندر اپنی مادہ بندریا کو چھت کی زمین پر لٹا کر اس کے ساتھ زور زور سے کھیل رہا تھا اور فریحہ پوجا کو چڑاتی تھی کہ پجاری جی کا بیٹا بھی تیرے ساتھ ایسے ہی کھیلے گا ۔۔۔ لیکن ۔۔۔ کیا یہ مذاق سچ ہو گیا تھا ؟ منیم جی کو تو ماں کو یہی بتاتے سنا تھا کہ پوجا کی ساس نے اسے ہنومان جی کے ساتھ دیکھا لیا تھا ۔۔۔ بند کمرے میں ۔۔۔ کیا وہ دونوں وہی کھیل کھیل رہے تھے ؟ ۔۔۔ بندر اور بندریا والا کھیل؟ ۔۔۔ کیا وہی کھیل ایک بندر ۔۔۔ ایک انسانی عورت کے ساتھ بھی کھیل سکتا تھا؟

 

Posted on: 01:14:AM 18-Dec-2020


1 0 317 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 74 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com