Stories


ممنوع محبت از عثمان 2078 خان

نامکمل کہانی ہے


شام کے ساتھ بج رہے تھے یہ سردیوں کی ایک سرد شام تھی ہلکی بارش اس شام کو اور زیادہ سرد بنا رہی تھی 16 سالہ حسن ٹویشن سے چھٹی کر کے واپس اپنے گھر کی طرف بھاگا جا رہا تھا گھر پہ اس کی بوڑھی ماں نام شکیلہ اس کے انتظار میں نظریں دروازے پہ جمائی بیٹھی تھی اور بار بار حسن کہ ابو کو کہہ رہی  تھی کہ وہ جا کہ اسے لے آئے اتنی سردی میں پتا نہیں کہاں ہو گا لیٹ کیوں ہو گیا حسن کا باپ جو کہ ایک مل میں مزدور تھا تھوڑی دیر پہلے ہی کام سے تھکا ہارا واپس آیا تھا اور حسن کی ماں کو سمجھاۓ جا رہا تھا کہ اس کا بیٹا ابھی آنے والا ہو گا دوسری طرف حسن کی بڑی بہن زینب عمر 21 سال کمرے کے دروازے سے لگی اپنے چھوٹے بھائی کی خیریت سے گھر پہنچنے کی دعا کر رہی تھی حسن اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے تو اس کی ماں کو سکون ملتا ہے اس کے آنے پہ بہن اسے کمبل لا کے دیتی ہے اور ماں چوم کہ دعائیں
 یہ ایک غریب گھرانا تھا جس میں رہنے والے حسن اس کی بیمار ماں بوڑھا باپ اور اس کی ایک بڑی بہن یہی لوگ تھے گھر کے نام پہ دو کمرے تھے اور ایک چھوٹا سا صحن  کمروں میں ایک کمرا اس کی ماں باپ اور اس کی بہن کا تھا اور دوسرا کمرا حسن کو چھوٹا اور پڑھائی کرنے والا ہونے کہ وجہ سے حسن کو ایک علیحدہ کمرا دیا گیا تھا تاکہ اس کی پڑھائی میں کوئی کمی نہ آۓاور اس امید پہ کہ وہ پڑھ لکھ کہ اپنے ماں باپ اور اپنی آنے والی زندگی کو بہتر بنا سکے گا اور اس بات میں بھی کوئی شک نا تھا کہ وہ پڑھنے میں اچھا لڑکا تھا
 گھر میں کچن کے نام پہ ایک چھوٹا سا ڈربا تھا
 زینب جوکہ حسن کی بڑی بہن اور اس کی ایک اچھی دوست بھی تھی پڑھائی کہ اخراجات زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ مشکل سے 5 جماعتیں ہی پڑھ پائی اور اس کے بعد اسے گھر بیٹھا دیا گیا زینب ایک سمجھدار اور سلجھی ہوئی لڑکی تھی پڑھائی زیادہ نہ ہونے کہ باوجود بھی اس میں ایک سمجھداری تھی گھر کو سمبھالنا اب اسی کہ ذمہ تھا زینب سارا دن گھر کہ کاموں اور ماں کی خدمت میں لگی رہتی ہے اور پھر شام کو ماں کے ساتھ ساتھ بھائی اور باپ کی بھی اس کی زندگی بس اسی چار دیواری میں گزر رہی تھی وہ ایک سادہ سی مگر خوبصورت لڑکی تھی 21 سال کی ہو جانے کی وجہ سے اس کے جسمانی خدوخال بھی اچھے تھے بھرا ہوا سینا پتلی کمر اور پھری ہوئی بیک سائیڈ مگر دیکھنے میں سب پرفیکٹ تھا بس کمی تھی تو اس کے پاس کپڑوں کی اس کے پاس گن چن کہ کوئی 4 جوڑے ہی تھے جو سادے اور پرانے تھے اس کی کوئی زیادہ خواہشات بھی نہ تھی کہتے ہیں نا کہ انساں کہ بس میں جو چیز نہ ہو وہ اسے پھر دوسروں میں ڈھونڈتا ہے اور زینب بھی ایسی ہی تھی وہ خود تو پڑھ نہ پائی اور نہ اپنی زندگی کو سنوارنے کہ لیے کچھ کر سکی مگر اس کو اپنے بھائی سے بہت امیدیں تھی اور وہ اسی کو ہی واحد سہارا سمجھتی تھی کہ جو اسے یا پھر کم از کم خود کو اس غریبی سے نکالے گا
 حسن اپنے کمرے میں جاتا ہے اور بستہ رکھ کہ کپڑے چینج کرنے لگتا ہے اور اس کی بہن زینب اس کے لیے کھانا لانے چل پڑتی ہے زینب ہمیشہ کھانا اپنے بھائی کہ ساتھ ہی کھاتی ہے حسن کپڑے چینج کر کے بیٹھا زینب کا انتظار کر رہا ہوتا کہ کہ زینب کھانا لاتی ہے اور وہ دونو کھانے لگتے ہیں اور روز کہ جیسے زینب اس سے دن کہ حالات پوچھنے لگتی ہے
 زینب: بھائی کیسا رہا تمھارا دن آج تو بہت سردی لگ گئی ہو گی
 حسن:باجی اچھا رہا مگر شام کو ٹویشن سے آتے ہوۓ بہت سردی لگی
 زینب اور اس کے بھائی کہ بیچ معمول کی گفتگو جاری ہو جاتی ہے گھر میں دونو ہم عمر ہو نے کی وجہ سے زیادہ ایک دوسرے کہ قریب تھے اور دونو ایک دوسرے سے باتیں کر کہ ہی اپنا ٹائم گزارتے کیوں کہ زینب گھر اکیلے رہ کر بہت اداس ہو جاتی تو حسن سے باتیں کر کہ اس کا دل بہل جاتا
 اب تک سب کچھ نارمل چل رہا تھا مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ ان کی اس دکھوں سے بھری زندگی میں اور زیادہ دکھ آنے والے ہیں
 حسن اور زینب کھانا کھا کے فارغ ہوتے ہیں اور وہیں بیٹھ کہ کئی گھنٹے باتیں کرتے رہتے ہیں زینب کہ لیے یہ وقت بہت اچھا ہوتا ہے جب وہ دن بھر اکیلی کام کاج کرنے سے تھک ہار کر شام کو حسن کے ساتھ باتیں کر کے اپنے اکیلے پن کو دور کرتی تھی ماں بیمار اور باپ مزدور شام ہوتے ہی سو جاتے تو زینب کہ لیے اکلوتا اس کا بھائی حسن ہی تھا جسسے وہ اپنے دکھ سکھ بانٹ لیا کرتی تھی  رات اب زیادہ ہونے لگی تھی زینب کا بس چلتا تو وہ ساری رات بھائی کے سکول کی باتیں اور اسے اپنی باتیں سناتی بیٹھی رہتی مگر وہ جانتی تھی کہ صبح حسن نے سکول جانا ہے اور اسے بھی صبح جلدی اٹھ کے باپ کو کام پہ بھی بھیجنا ہے اور یہی سوچ کہ وہ حسن کو سونے کا کہہ کہ کھانے کے برتن اٹھاتی ہے جو کب کہ وہیں پڑے تھے اور کمرے سے نکل جاتی ہے حسن بھی اپنے بستر پر سو جاتا ہے
 صبح ہمیشہ کہ جیسے زینب سب سے پہلے اٹھتی ہے اور ناشتا بنانے لگتی ہے اس کا باپ بھی ابھی اٹھنے والا تھا کہ وہ صبح جلد کام پہ جاتا اور شام کو آتا تھا زینب اپنے باپ کو ناشتا کرواتی ہے اور وہ اپنے کام پہ نکل جاتا ہے اور اب وہ اپنے بھائی کہ کمرے کی طرف چل پڑتی ہے تاکہ اسے جگاۓ یہ اس کی نارمل روٹین تھی حسن جو ابھی سو رہا ہوتا ہے اپنی بڑی بہن زینب کے ہلانے بھی آنکھیں کھولتا ہے تو اس کے سامنے اس کی بہن چھک کے اس کا بازو ہلا رہی ہوتی ہے اور اسے اٹھنے کا بول رہی ہوتی ہے حسن اٹھتا ہے روز کہ جیسے ناشتہ کرتا ہے اور سکول کے لیے نکل جاتا ہے دوسری طرف اب زینب نے اپنی بیمار ماں کو ناشتہ کروانا تھا اور پھر گھر کے دوسرے کاموں میں لگ جانا تھا
 آج کا دن نارمل لگ رہا تھا سب اپنے نارمل کاموں میں تھے مگر حسن اس بات سے ناواقف تھا کہ اس کی زندگی کا ایک نیا سبق اسے سیکھنے کو ملے گا
 حسن پڑھائی میں اچھا ہونے کہ وجہ سے ہمیشہ اپنے استادوں کا پسندیدہ رہا وہ ایک گورنمنٹ سکول میں پڑھتا تھا تو آوارہ بچوں کی بھرمار ہونے کہ باوجود بھی وہ ان سے دور رہتا
 سیکس نام کی چیز سے حسن واقف تو تھا مگر ایک بہت ہی قلیل حد تک یا جسے نہ ہونے کہ برابر کہنا غلط نہ ہو گا
 اس دن بریک ٹائم وہ اپنی گلاس میں بیٹھا تھا اوراپنے گھر سے کے کہ آۓ کھانا کھانے میں مصروف ہوتا ہےجو کہ وہ اکثر کرتا تھا کہ اسے اپنے پیچھے سے کسی کی باتیں کرتے ہوۓ آوازیں آئی اس نے جب مڑ کے دیکھا تو اس کی کلاس کے کچھ آوارہ لڑکے آپس میں کچھ باتیں کرنے میں مصروف تھے وہ باتیں بھی کرتے اور ہنستے بھی حسن کو ان کا یہ انداز بہت عجیب لگا اور سوچنے لگا آخر ایسی کون سی باتیں یہ کر رہے جو اتنا ہنس رہے ہیں وہ اٹھا اور ان کے پاس جا کہ ان کی محفل میں بیٹھنے لگا کہ وہ سب اسے دیکھ کہ ایک دم چپ ہو گۓ وہ بیٹھتے ہی ان کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا کہ آخر کو لوگ چپ کیوں ہو گے اتنے میں ایک لڑکا مزاکیا انداز میں بولا اوۓ حسن ادھر کدھر یہ سن کہ حسن نہ کہا یار تم لوگ باتیں کر رہے تھے اور اتنا ہنس رہے تھے تو مینے سوچا تم لوگوں کہ پاس آ کر بیٹھو اور میں بھی یہ باتیں سنو اتنے میں ایک لڑکا روز سے ہنستے ہوئے بولا "بچے یہ تمھارے سننے کی باتیں نہیں ہیں اور حسن کو وہاں سے جانے کا کہا" حسن بہت شرمندہ ہو رہا تھا مگر اس سے زیادہ وہ اس سوچ میں گم تھا کہ آخر وہ ایسی کیا باتیں کر رہے تھے جو اس کے بس کی نہیں تھی
 تھوڑی دیر بعد بریک ٹائم ختم ہوتا ہے اور سب پھر پڑھنے لگتے ہیں حسن اس بات کو اپنے دل و دماغ سے نکال چکا ہوتا ہے چھٹی ہوتی ہے اور حسن اپنے سکول سے پیدل ٹیوشن سنٹر کی جانب چل پڑھتا ہے کہ اسے اپنے پیچھے سے آواز آتی ہے کوئی اس کا نام لے کہ پکار رہا ہوتا ہے وہ رک کہ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اسے کاشف نظر آتا ہے جو دوڑتا ہوا اس کی طرف پڑھ رہا ہوتا ہے اور اسے آوازیں بھی دے رہا ہوتا ہے کاشف حسن کا کلاس فیلو تھا اور ان لڑکوں کہ گروپ میں بھی شامل تھا جو آپ کچھ باتیں کر رہے تھے جسے حسن کو سنے سے منع کیا تھا
 کاشف حسن کہ پاس پونچتا ہے اور اسے اکھٹے ٹیوشن سنٹر جانے کا کہتا ہے اور وہ دونو اکھٹے چل پڑھتے ہیں ابھی حسن کچھ بولتا اس سے پہلے کاشف بولا سوری حسن بھائی آج لڑکوں نے تمھیں اپنے ساتھ بیٹھنے نہ دیا حسن جو کہ اس بات کو بھول چکا تھا اسے اچانک یاد آگئی اور اب اسے جستجو ہونے لگی کہ آخر وہ ایسی کیا باتیں کر رہے تھے حسن کاشف سے یہی سوال پوچتا ہے جس کے جواب میں کاشف اسے اتنا ہی بولتا ہے کہ حسن بھائی آپ ان سب میں نہ پڑھو مگر اب حسن کی جستجو اور پڑھنے لگی اور وہ بار بار کاشف سے ایک ہی سوال پوچھنے لگا کاشف ایک نالائق لڑکا تھا اور وہ ایک پورے پلین کہ ساتھ حسن کہ پاس آیا تھا کہ وہ حسن کو سب بات بتاۓ گا اور اس کہ بدلے وہ اس سے اپنے ٹیسٹ میں کبھی کبھی زیادہ نمبر لگوا لیا کرے گا حسن چونکہ لائق تھا تو کبھی کبھی ٹیچر اس کو بچوں کا ہوم ورک یا ٹیسٹ چیک کرنے کا کہ دیتے تھے
 کاشف نے اپنے دل کی بات حسن کو بتا دی کہ اگر کبھی وہ اس کا ٹیسٹ یا ہوم ورک چیک کرے گا تو وہ اسے مار کھانے سے بچا لیا کرے گا حسن نے کبھی ایسا نا کیا تھا اور ڈرتا بھی بہت تھا مگر اس بات کو جاننے کی جستجو میں وہ کاشف کی بات ماننے کے لیے رازی ہو گیا
 اب کاشف نے اپنی بات شروع کی اور حسن سے سوال کر ڈالا کہ کیا وہ سیکس کے بارے جانتا ہے حسن اس کے ایسے سوال سے تھوڑا حیران ہوا کہ یہ کیسا سوال ہے کہ اتنے میں کاشف نے دوبارہ اپنا سوال دھراتے ہوئے کہا کہ بتاؤ اگر تمہیں وہ باتیں جاننی ہیں تو حسن جو کہ ہمیشہ ان چیزوں اور لڑکوں سے دور رہتا تھا آج اسے یہ سب جاننے کی جستجو تھی تو وہ بولنے لگا کہ لڑکے اور لڑکی کہ بیچ کندے کام۔۔۔۔۔ اتنا بول کہ وہ چپ ہو گیا حسن کی سیکس کے بارے معلومات بہت کم تھی وہ بس اتنا ہی جانتا تھا کاشف اس کی اس بات کو سن کے بولا کے کبھی دیکھا بھی ہے کاشف کہ ایسے سوال حسن کو حیران کر رہے تھے
حسن نہ کہا کہ اس نے نہیں دیکھا تب کاشف نے اسے بتایا کہ ہمارے کلاس کا لڑکا احمد جو اس گروپ کا ممبر تھا اس کے پاس وہ تمام وڈیو ہیں اور وہ سب کبھی کبھی جب احمد کے گھر والے نہ ہو تو دیکھتے ہیں اب کاشف بنا رکے بولنے لگا تھا اور حسن اسے سنتے جا رہا تھا کاشف نے اسے یہ بھی بتایا کہ وہ اور اس کے گروپ کے لڑکے سکول سے چھٹی کر کے لڑکیوں کہ سکول کے سامنے جاتے ہیں لڑکیاں دیکھنے اس بات کا حسن کو پہلے سے علم تھا کاشف نے کہا کہ وہ لوگ انہی چیزوں کہ بارے باتیں کر رہے تھے اور چپ ہو گیا حسن کو کچھ باتیں بہت عجیب لگی جیسی ان وڈیو کا سننا تب کاشف دوبارہ بولا حسن تم نے کبھی مٹھ لگائی ہے حسن جو کہ پہلے بھی کسی سے اس کے بارے سن چکا تھا مگر صحیح نہیں جانتا تھا کہ کیا ہوتا ہے تو اس نے کاشف سے کہا کہ میں نہیں جانتا کیا ہوتا ہے کاشف حسن کی طرف آنکھیں بھاڑ کے دیکھتے ہوۓ بولا تم مٹھ کے بارے نہیں جانتے تو تم جی کیسے رہے ہو حسن نے کہا یار اب بتا بھی دو اب وہ دونو اپنے ٹویشن سنٹر کے سامنے کھڑے تھے مگر ابھی حسن اور جستجو میں تھا کاشف نے اسے کہا کہ روز ٹویشن جاتے ہو آج چھٹی کرو حسن چھٹی کبھی نہیں کرتا تھا مگر اب اسے کاشف کی باتیں مزے دار اور سسپینس سے بھری لگ رہی تھی جس کی وجہ سے وہ مان گیا اور وہ دونو قریب بنے ایک میدان میں جا کے بیٹھ گئے اب کاشف دوبارہ اسے وہ باتیں بتانے لگا اور حسن کو مٹھ کا بتایا کہ اگر لن کو اپنی مٹھی میں لے کہ مسلو تو بہت مزہ آتا ہے اور پھر لن میں سے ایک گھاڑا پانی نکلتا ہے حسن کاشف کی باتوں کو بڑی غور سے سن رہا تھا حسن جوان تھا اور کچھ بار اسے نیند میں احتلام بھی ہو چکا تھا مگر وہ اس مٹھ مارنے اور اس کی سچائی سے آج روشناس ہوا تھا کاشف نے اسے ہوم ورک کی طرح یہ بھی کہ دیا کہ اب جب گھر جانا تو اپنے لن سے کھیلنا اور ایسے ہی کرنا اور باقی میں تمھیں کل بتاؤ گا اور وہ دونو پارک میں ٹائم گزارنے لگے جب ان کی ٹویسن سے چھٹی کا ٹائم ہوا تو دونو دوست اپنے اپنے گھر کی طرف چل پڑے حسن کے گھر جانے کا اب ٹائم ہو چکا تھا اور وہ انہی باتوں کو سوچتے گھر کی طرف بڑھنے لگا وہ سب باتیں اس کے لیے ایک نئی دنیا کہ جیسے تھی وہ انہیں باتوں میں الجھا گھر پونچا جہاں اس کا باپ ابھی ابھی کام سے واپس آیا تھا اور اس کی بہن زینب اپنے باپ کو چائے دے رہی تھی زینب حسن کو دیکھ کر مسکرتی ہے اور سلام کے بعد حسن سیدھا کمرے میں چلا جاتا ہے زینب حسن کے گھر آنے پہ سب سے زیادہ خوش ہوتی تھی کیونکہ نہ تو اس کی کوئی سہیلی تھی نا کوئی ایسا جو اس سے باتیں کرتا حسن کمرے میں جا کے کپڑے چینج کرتا ہے اور زینب اس کے لیے کھانا لے آتی ہے وہ دونو کھانا کھاتے ہوۓ باتیں کرتے ہیں آج حسن چپ چپ سا ہے اور اس بات کو زینب نے نوٹ کر کے حسن سے پوچھ لیا کیا ہوا حسن آج چپ چپ سے ہو حسن جو کاشف کی باتوں کو سوچتے انہیں میں گم تھا ایک دم چونکا اور بولا نہیں باجی ایسی کوئی بات نہیں زینب اپنے بھائی کو اچھی طرح جانتی تھی وہ سمجھ گئی کے کوئی بات ہے تو بولی حسن کہیں آج پھر کسی ٹیسٹ میں نمبر تو کم نہیں آۓ حسن نے کہا نہیں باجی ایسی کوئی بات نہیں بس تھک گیا ہوں زینب کا بہت دل تھا کہ وہ پہلے کہ جیسے حسن سے بیٹھ کے باتیں کرے مگر آج حسن چپ تھا تو وہ بولی چلو لیٹ جاؤ میں دبا دیتی ہوں جس کے جواب میں حسن نے تھوڑا چڑچڑا  کہ کہا نہیں باجی مجھے نیند آئی ہے آپ جاؤ زینب کہ لیے یہ پہلی بار تھا کہ اس کا چھوٹا بھائی جو اس کا اچھا دوست بھی تھا جس نے اج تک کوئی بات اس نے نہ چھپائی آج اس سے ایسے کیوں بات کر رہا ہے زینب نے کہا چلو کوئی بات نہیں حسن تم سو جاؤ اور کمرے سے نکل گئی زینب اپنے کمرے میں ماں کہ ساتھ والی چارپائی پہ لیٹ جاتی ہے اور سوچوں میں گم ہو جاتی ہے کہ آخر کیا بات ہے جو حسن پریشان ہے دوسری طرف حسن اپنے بستر پر لیٹا کاشف کی باتوں کو سوچ رہا تھا کہ اسے کاشف کی وہ بات یاد آگئی کہ رات کو اپنے لن سے کھیلنا اور اسے مسلنا تمھیں مزہ آۓ گا حسن اس کو اب پریٹیکل کر کے دیکھنا چاہتا تھا کہ آخر ایسا کیا ہوتا ہے اور اپنے ایک ہاتھ سے اپنے لن کو پکڑ لیا اور اسے آہستگی سے مسلنے لگا پہلے تو اسے ایسا کچھ محسوس نہ ہوا مگر کچھ ہی دیر بعد اسے ہلکا ہلکا میٹھا سا مزا آنے لگا تھا اور وہ اس مزے میں ڈوبنے لگا تھوڑی ہی دیر بعد اس کا لن تن کے پورا گھڑا ہو گیا جو پہلے بھی ہوتا تھا مگر حسن یہ نہیں جانتا تھا کہ اسے جب چاہو کھڑا کرنے کا یہ طریقہ تھا اب وہ اپنے لن کو اپنی مٹھ میں لیے کاشف کے بتاۓ ہوۓ طریقہ پہ عمل کرتے ہوۓ لن کو آگے پیچھے کرنے لگا مزہ تھا کہ بڑھتا ہی جا رہا تھا اور اسے ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ہواؤں میں اڑتا ہوا کسی اور دنیا میں پہنچ چکا ہے جیسے جیسے مزہ پڑھتا کیا اس کا ہاتھ بھی خودبخود تیز ہوتا گیا اب اس نے اپنی شلوار کی اندر ہاتھ ڈال کے اپنے لن کو تیزی سے ہلا رہا تھا اور اس نئی دنیا کہ مزے میں گم تھا اسے ایسے لگ ریا تھا کہ جیسے وہ اس دنیا میں نہیں ہے اب حسن فارغ ہونے لگا تھا اور اس کا لن ایک گاڑھا پانی چھوڑنے لگا اس کہ لن نے اتنا پانی چھوڑا کہ اس کا ہاتھ جو شلوار میں اپنے لن کو مسل رہا تھا پھر سا گیا جو وہ فارغ ہوا تو اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ جنت سے واپس زمیں پہ آگیا ہو اس نے اپنا ہاتھ باہر نکالا تو اس پہ لن کا پانی بھی لگا ہوا تھا اور اس کی شلوار اس سے بھر چکی تھی اس نے انجانے میں اپنا ہاتھ اسی شلوار سے صاف کیا اور بستر پر سدھ لیٹے سوچنے لگا کہ کاشف اسے پہلے کیوں نہ ملا وہ تو جانتا بھی نہ تھا کہ اتنا مزہ رکھا ہوا ہے وہ بھی اسی کہ لن میں اب وہ سیکس کی دنیا کا ایک سبق پڑھ چکا تھا پہلی مٹھ مار کے حسن تھکا محسوس کر رہا تھا اور نا جانے کب وہ ایسے ہی سو گیا
 ہر صبح کے جیسے آج بھی جب اس کی آنکھ کسی کہ ہلانے سے کھلی تو انکھ کھلتے ہی اس کی بڑی بہن زینب اس کی سامنے جھکی اسے اٹھا رہی تھی وہ اٹھ کر بستر پر بیٹھ گیا زینب اپنے بھائی کو جگا کہ کمرے سے جا چکی تھی حسن بھی اٹھا اور اپنا یونیفارم اٹھاۓ باتھ روم چلا گیا صحن میں ایک چھوٹا سا باتھروم تھا جس کی چھت نہیں تھی کپڑے حسن نے وہیں باتھروم میں لٹکاۓ اور جلدی سے ناشتہ کر کے سکول چل پڑا کیونکہ اسے اب کاشف سے ملنا تھا اسے وہ رات کا سب بتانا بھی تھا اور اس لذت اور مزے سے بھری نئی زندگی کا اگلا سبق بھی لینا تھا سکول پہنچ کہ وہ کاشف سے ملا مگر کلاس شروع ہونے کہ وجہ سے وہ کوئی بات نہ کر پاۓ اور وہ بریک کا انتظار کرنے لگا
 دوسری طرف زینب گھر میں اپنے معمول کے کاموں میں مصروف تھی اپنی ماں کو ناشتہ کروانے کہ بعد اب وہ کپڑے دھونے لگی اپنے باپ کے کپڑے دھو لینے کہ بعد وہ حسن کہ کپڑے دھونے کہ لیے اس نے اٹھاۓ جو وہ باتھروم سے لے کے آئی تھی اس کی عادت تھی وہ کپڑوں کو دھونے سے پہلے اچھی طرح چیک کرتی کہ جیب میں حسن یا اس کے باپ کی کوئی کاغذ یا پیسے نہ رہ جائیی اور وہ غلطی سے دھو دے
 حسن کی قمیض کو چیک کرنے کہ بعد وہ اس کو بالٹی میں ڈالنے ہی لگی تھی کہ اس کی نظر حسن کی شلوار پر پڑی جس پر حسن کی منی کا ایک بہت بڑا دھبہ صاف دیکھائی دے رھا تھا اور شلوار کی وہ جگہ سخت ہوئی پڑی تھی اس نے شلوار کو اٹھایا اور کچھ دیر دیکھنے کہ بعد اسے بھی بالٹی میں ڈال دیا زینب سمجھ گئی تھی کہ یہ کیا تھا کیوں کہ جب پہلی بار حسن کو احتلام ہوا تھا تب بھی کپڑے دھوتے اس نے دیکھا اور تب اسے معلوم نہ تھا تو ماں کو جا کے دیکھایا کہ اماں یہ دیکھو پتا نہیں حسن کی شلوار پہ یہ کیا لگا ہوا ہے تب اس کی ماں نے اسے بتایا تھا کہ لڑکوں کا ایسا ہوتا ہے اور اب تو وہ خود بھی جوان تھی اور کئی بار اس کی پھدی بھی ایسے رات کو سوتے ہوئے پانی چھوڑ چکی تھی سیکس کے بارے اگر دیکھا جاۓ تو زینب حسن کی نسبت زیادہ جانکاری رکھتی تھی اور اس کی وجہ بچپن سے اپنے ماں باپ کہ کمرے میں سونا تھا جس سے وہ رات کو ماں باپ کی آپس میں چدائی دیکھتی تھی شروع میں اسے بھی یہ سب عجیب لگا مگر اب اس عمر میں وہ سب جان چکی تھی کہ عورت اور مرد سیکس کیسے کرتے ہیں اور وہ بہت بار مزے لے کہ اپنے ماں باپ کا سیکس دیکھتی تھی اور اب خود بھی شادی کہ لیے اس کا دل کرتا کہ کاش اس کا بھی کوئی شوہر ہوتا مگر اب وہ سیکس کم ہو چکا تھا کیونکہ اس کی ماں اب بیمار اور باپ بھی بوڑھا ہو چکا تھا اور مہنہ میں ایک دو بار یہ مزہ اسے مل جاتا تھا زینب بھائی کی گندی شلوار دیکھے تھوڑی ہنسی اور پھر کپڑے دھونے لگی
 بریک کا ٹائم ہوچکا تھا بریک ہوتے ہی حسن بھاکتے ہوۓ کاشف کو پکڑتا ہے اور اسے لے کہ سکول کہ لمبے چوڑے گراؤنڈ کی ایک طرف بیٹھ جاتے ہیں کاشف اس سے کچھ بات کرتا اس سے پہلے ہی حسن اپنے چہرے یہ ایک فاتحانہ مسکراہٹ لیے بولا کاشف میں نے رات کو مٹھ ماری مجھے بہت مزہ آیا یہ سن کہ کاشف بھی ہنس پڑا اور بولا سناؤ پھر مزہ آیا اس کی اس بات پہ حسن نہ آنکھیں بند کے کہ بہت کو لمبا کر کے کہا بہت زیادہ مزہ آیا دونو ہنتے ایک دوسرے کو اپنی اپنی مٹھ کے قصے سنانے لگے کاشف نے اب اس سے پوچھا کہ تم کس لڑکی کو سوچ سے مٹھ مارتے ہو حسن کہ لیے یہ سوال عجیب تھا کہ کیا مٹھ مارنا اور کسی لڑکی کو سوچنا۔۔۔۔ اسے کچھ سمجھ نہ آیا تو کاشف سمجھ گیا اور بولا یار جب لن کی مٹھ مارتے ہو تو سوچتے ہو کہ کسں لڑکی کو بیوی بنا کے چودھ رہا ہوں حسن نہ ایسا نہ کیا تھا مگر اب اسے کاشف سے ایک اور سبق ملا تھا کاشف نے اسے کہا کہ چھٹی کے ٹائم وہ اس کے ساتھ ٹیوشن سنٹر جاۓ جس پہ حسن نے اسے ہاں کہاں اور بریک ٹائم ختم ہوا اور اب وہ چھٹی ہونے کہ بعد اکھٹے سکول کہ گیٹ سے نکلے کاشف سکول کی دوسری طرف چل پڑا جسے حسن نے دیکھ کہ کہا بھائی ادھر کدھر ٹویشن سنٹر اس طرف ہے
 
کاشف نے اسے ہاتھ سے پکڑا ہو کہا چلو تو سہی میرے ساتھ حسن اس کے ساتھ چل پڑا اور یہی سوچنے لگا کہ اخر وہ جا کہاں رہا ہے کچھ دور جانے کہ بعد کاشف نے اسے رکنے کا کہا حسن یہ کہاں لے آۓ کو کچھ بتاؤ گہ بھی کاشف نے حسن کی بات کا جواب ہنتے ہوۓ کچھ یوں دیا کہ پیچھے دیکھو جب حسن نے دیکھا تو روڈ کی دوسری طرف لڑکیوں کہ سکول کی چھٹی ہونے سے لڑکیاں نکلنے لگی حسن سمجھ گیا کہ کاشف اسے یہا کیوں لایا ہے کاشف نے ہنستے ہوۓ حسن کو کہا کہ بھائی پسند کرو کوئی لڑکی اور رات کو اسی کو سوچ کے مٹھ لگانا حسن بھی کاشف کے ساتھ کھڑا لڑکیوں کو غور غور سے دیکھنے لگا اس سے پہلے بھی وہ لڑکیاں تو دیکھتا رہا تھا مگر آج ایک الگ مزہ ا رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر اپنے محلے کی ایک لڑکی پہ پڑی وہ لڑکی عائشہ تھی جو اس کے گھر سے 4 5 گھر دور رہتی تھی حسن پہلے بھی اس کو بہت بار دیکھ چکا تھا مگر آج وہ اسی بہت اچھی لگ رہی تھی  اس نے جلدی سے کاشف کو بتایا کاشف بھی اس لڑکی کو جانتا تھا کیونکہ کاشف بھی اسی محلے کا تھا کاشف اس کی پسند کو دیکھ کہ اسے سرہانے لگا اور بولا واہ میرے دوست کیا لڑکی ڈھونڈی ہے کیا ہی مس بوبس ہیں اور گانڈ افففف کمال۔۔۔
حسن کاشف کی اس بات سے تھوڑا شرمایا وہ ان سب کانڈ اور مموں کے بارے تو جانتا تھا مگر کبھی کسی کو خاص اس نظر سے نہ دیکھا تھا اس نے اور اب بھی کاشف کی ایسی باتوں سے اس کا دھیان عائشہ کی گانڈ اور مموں پر گیا جس سے اسے ایک عجیب سی کیفیت نے گھیر لیا عائشہ جو کہ عمر میں 19 سال  کی گوری چٹی مڈل کلاس گھر کی لڑکی تھی عمر کے حساب سے اس کے بھی ممے اور گانڈ کا ابھار خاصا خوبصورت تھا اور تھوڑے بھرے جسم کی صحت مند لڑکی تھی وہ سکول کے باہر گھڑی اپنے ابو کا انتظار کر رہی تھی جو اسے اپنے بائیک پر سکول سے لینے آتے اور چھوڑنے بھی آتے تھے حسن کی نظر ابھی تک عائشہ پہ جمی ہوئی تھی کاشف نے اسے اب ایک نیا سبق سکھایا اور لڑکیوں کی گانڈ اور مموں کو دیکھنے کا عادی بنایا تھا وہ اس کے ممے ہی گھورے جا رہا تھا جب اس کا ابو آیا اور وہ بائیک پر بیٹھنے لگی تو حسن کی نظر اس کی گانڈ پہ گئی حسن اس مزے کو کھونا نہیں چاہتا تھا مگر اس کے بس میں نہ تھا اور عائشہ اپنے باپ کہ ساتھ بیٹھ کہ چلی گئی اب وہ دونو ٹویسن سنٹر کی طرف چل پڑے راستے میں اسے کاشف نے اپنی ایک لڑکی دوست ک بھی بتایا جو انہی کہ محلے کی تھی جس کا حسن سن کہ حیران بھی ہوا اور پوچھنے لگا کہ اس کی دوستی کیسے ہوئی وہ دونو اپنی مزل پہ پہچ چکے تھے ایک پھر وہ چھٹی نہیں کرنا چاہتے تھے تو طے یہ پایا کہ آج حسن عائشہ کو سوچ کے مٹھ مارے گا اور کل کاشف اسے اپنی دوستی کے بارے بتاۓ گا
ٹویشن کے بعد حسن سیدھا گھر ایا روز کہ جیسے اس نے بہن کے ساتھ گھانا کھایا حسن کہ دماغ میں اب چوبیس گھنٹے بس کاشف کی باتیں اور مٹھ کی لزت گھومتی رہتی تھی آج پھر زینب حسن سے باتیں کیے جا رہی تھی اور حسن سوچوں میں ڈوبا اس کی باتوں یہ ہاں ناں کیے جا رہا تھا زینب حسن کو سوچوں میں ڈوبا دیکھ کہ کل والا سوال دوبارہ پوچھ بیٹھی جس کا جواب کل سے بھی برا تھا اور کاشف نے غصے میں کہاں باجی کچھ بھی نہیں کیا آپ ایک ہی بات روز پوچھتی ہیں آپ جاؤ مجھے پڑھنا ہے زینب اپنے چھوٹی بھائی کہ اس رویہ سے پریشان ہوئی اور اپنے کمرے میں آ کے بستر پہ لیٹی سوچنے لگی کہ آخر آیسا کیا ہوا کہ اس کا چھوٹا بھائی اس سے بات تک نہیں کر رہا زینب کہ لیے ایک حسن ہی تو تھا جس سے وہ روز باتیں کر کے اپنی بوریت ختم کرتی تھی اور آج دوسرا دن تھا اس کا بھائی اس سے باتیں نہیں کر رہا تھا زینب کو اپنے بھائی کی عادت سی پڑھ چکی تھی اور کہتے ہیں نہ کہ عادت چھوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے
دوسری طرف حسن اپنے کمرے میں لیٹا اب مٹھ مارنے کی تیاری میں تھا اور کاشف کے بتاۓ ہو طریقہ کے مطابق وہ عائشہ کے بارے سوچنے لگا اس کے ممے اور گانڈ کو سوچتے ہی اسے محسوس ہوا کے اس کا لن اب اکھڑ رہا ہے نا جانے کب اس کا ہاتھ اپنے کام میں لگ چکا تھا اور وہ اپنے لن کو شلوار میں پکڑے سہلاتے سہلاتے ہلانے لگا اور عائشہ کو اپنی بیوی سمجھ کے مٹھ مارنے لگا عائشہ کو سوچ کہ مٹھ مارنے سے اسے کل سے بھی زیادہ مزہ انے لگا اور آج بھی اس کے لن کا پانی اس کی شلوار میں نکل گیا اور وہ مٹھ کے مزے سے نکل کر نید کی آغوش میں چلا گیا
صبح بہن کے جگانے پہ اٹھا یونیفارم تبدیل کیا اور ناشتہ کر کے سکول چلا گیا زینب بھی اپنی ماں کو ناشتہ کروا کے گھر کے باقی کاموں میں لگ گئی زینب ہمیشہ اپنے بھائی حسن کہ کپڑے جو وہ صبح باتھ روم میں اتار کہ وہیں ٹانگ کہ چلا جاتا ہے اسے اٹھا کہ وہ کمرے میں جا کے رکھتی تھی آج بھی وہ حسن کے کپڑے اٹھا کہ اس کے روم میں رکھنے گئی روم میں پہنچ کہ جب اس نے کپڑوں کو۔ رکھا تو آج پھر اسے اپنے بھائی کی شلوار پہ منی کا ایک بڑا سا دھبہ نظر آیا وہ تھوڑی حیران سی ہوئی کیونکہ پہلے ایسا کبھی نہ ہوا تھا کہ وہ ایک بار حسن کا منی والا کپڑا دیکھے خیر وہ آج بھی یہی سمجھی کہ حسن کو احتلام ہوا ہے اور وہ پنسنے لگی اور کپڑوں کو اٹھا کہ دوبارہ باتھروم لے گئی دھونے کے لیے قمیض کو بالٹی میں ڈالنے کہ بعد جب وہ شلوار کو ڈالنے لگی تو پتا نہیں اسے ایسا کیا ہوا کہ وہ پھر بھائی کی منی کہ لگے اس دھبے کو دوبارہ دیکھنے لگی دیکھتے دیکھتے اس نے اس جگہ کو اپنے ناک کہ قریب کر کہ اس کو سونگا ایک عجیب سی خوشبو سی لگی اسے ایسے کرتے اسے محسوس ہوا جیسے وہ بے چین سی ہو رہی ہے وہ خود بھی نہیں جانتی تھی وہ کیا اور کیوں کر رہی ہے وہ دوبارہ اپنے بھائی کے منی لگے داغ کو سونگتی ہے اور کچھ زیادہ دیر ہی سونگتی رہتی ہے پھر اچانک اسے خیال آتا ہے اور خود کو کوستی ہوئی کہ وہ یہ کیا کر رہی ہے شلوار کو بالٹی میں ڈال دیتی ہے زینب ایسا شاید اس لیے کر رہی تھی کیونکہ وہ ایک مرد کو جاننا چاہتی تھی اور شاید اس کے دل کہ ایک کونے میں چھپی شادی کی خواہش اسے ایسا کرنے پہ مجبور کر رہی تھی اب وہ کپڑے دھونے میں مشغول ہو چکی تھی
دوسری طرف حسن کلاس میں بیٹھا بریک کا انتظار کر رہا ہے تاکہ وہ کاشف سے اس کی سہیلی کے بارے پوچھ سکے بریک ہوتے ہی حسن کاشف کی طرف لپکا اور وہ دونو گراؤنڈ کے ایک کونے میں جا کے بیٹھ گئے وہ کون لڑکی ہے ور تم نے اس سے دوستی کیسے کی بیٹھتے ہی حسن نے کاشف پر سوالوں کے تیر چلا دیے کاشف اس کی بے چینی سمجھ چکا تھا اس لیے وہ بھی اسے بتانے کا حسن وہ لڑکی ہمارے ساتھ والے محلے کی ہے اسی سکول میں پڑھتی ہے جہاں عائشہ پڑھتی ہے اس کا نام کشمالہ ہے کاشف ابھی بولنے کہ لیے تھوڑا چپ ہی ہو کہ حسن نے دوبارہ سوال کیا کہ تمھاری دوستی کیسے ہوئی کاشف نے اسے بتایا کہ وہ ایسے ہی اسے روز سکول سے آتے جاتے اس کا پیچھا کرتا اور ایک دن وہ بھی اسے ہنس کے دیکھنے لگی اور پھر ہم نے اپس میں بات کی تو ہو گئی حسن اس کی ان باتوں پر یقین نہیں کر پا رہا تھا وہ کوئی اور سوال پوچھتا کاشف بولا کے آج سکول کے باہر رکے گے تم عائشہ کو دیکھنا اور جب وہ اپنے باپ کے ساتھ بائیک پہ چلی جاۓ تب میری دوست زینب کہ پیچھے جائیں گہ وہ پیدل گھر جاتی ہے اکیلی سکول سے دو گلی چھوڑ کے اس کا گھر ہے اس بات پہ میں رازی ہوا اور سکول سے چھٹی کے بعد ہم دونو لڑکیوں کے سکول کے سامنے کھڑے چھٹی ہونے کا بے صبری سے انتظار کرنے لگا اور کچھ ہی دیر بعد سکول کی چھٹی ہوئی اور لڑکیاں باہر نکلنے لگی میری نظریں عائشہ کو ڈھونڈ رہی تھی جو تھوڑی دیر بعد مجھے نظر آ گئی اور میں اسے دیکھنے لگا پہلے میں عائشہ کو جب بھی دیکھتا تھا اس کے چہرے کو دیکھتا تھا مگر اب میری پہلی نظر اس کے اکڑے ہوۓ مموں پہ جاتی ہے میں نظریں جمائے اس کے ممے دیکھے جا رہا تھا کہ میرا لن بھی اکر گیا مگر یہ مزہ زیادہ دیر نہ چل سکا اور اس کا باپ اسے بیٹھا کہ لے گیا اتنے میں کاشف نے مجھے کہا کہ چلو اور ہم کشمالہ کہ پیچھے چل پڑے ابھی میں نے کشمالہ کو نہین دیکھا ہوا تھا بس اتنا پتا تھا سامنے جاتی لڑکی کشمالہ ہے وہ بھی جانتی تھی کہ پیچھے کاشف آ رہا ہے وہ گلی مڑ گئی جب ہم گلی مڑے تو وہ ایک دروازے کے سامنے رکی کھڑی تھی وہ تنگ سی گلی تھی کاشف کے بتانے پہ پتا چلا کہ وہ یہیں ملتے ہیں میں نے اس کو دیکھا وہ ایک خوبصورت لڑکی تھی شاید 17 یا 18 سال کی ہو گی مگر اس کے جسم کے ابھار زیادہ نمایا نہ تھے دیکھنے میں کچھ خاص نظر نہ آتا حسن کی نظر اب گندی ہو چکی تھی وہ اب بس ہر لڑکی میں ممے اور گانڈ ہی دیکھتا کاشف کشمالہ سے جا کے ملا فرضی سلام کے بعد اس نے کشمالہ سے حسن کا تعارف کروایا اور اس چھوٹی سی ملاقات کا اینڈ ہوا اور ہم واپس چل پڑے میں کاشف یہ حیران تھا کہ اس نے لڑکی کیسے پھنسا لی کاشف سے حسن نے پوچھا کہ وہ ایسے ہی ملتے ہیں تو کاشف نے اسے بتایا کہ ہاں وہ بس کچھ ہی ٹائم تھوڑی باتیں کرتے اور بس کیونکہ گلی میں کسی سے پکڑے جانے کا ڈر بھی ہوتا ہے وہ دونو اپنے ٹویشن سنٹر کی جانب جا رہے تھے چلتے چلتے کاشف   نے حسن کو بتایا کہ وہ دو بار کشمالہ کو چمی بھی کر چکا ہے اور اس کی گانڈ اور ممے بھی اپنے ہاتھ میں لے چکا ہے یہ سن کہ حسن کی تو مانو آنکھیں باہر نکل ائی ہوں اور اس کا لن ایک بار پھر تن گیا
کیا یہ کیا کہہ رہے ہو حسن نے حیران ہوتے ہوۓ کاشف سے پوچھا کاشف ہنستے ہوئے بھائی تمھیں کیا پتا کہ لڑکی کو چھونے کا کیا مزہ ہے تم کو پاگل ہو جاؤ اب حسن کہ دماغ میں ایک نئی چیز آ چکی تھی کہ اب کسی لڑکی کو چھونا ہے
روز کہ جیسے آج بھی وہ کھانا کھاتے ہوۓ اپنی بہن زینب سے کچھ خاص بات نہیں کر رہا تھا اور زینب حسن کہ اس بدلے رویہ سے پریشان تھی مگر کچھ بولنا نہیں چاہتی تھی کھانا کھا کہ زینب اپنے کمرے میں چلی گئی اور حسن اپنے بستر پر لیٹا آج پھر مٹھ مارنے کو تیار تھا

حسن اپنے لن کو اپنے ہاتھ میں لیے اس سے کھیل رہا تھا اور اسی سوچ میں گم تھا کہ وہ کس طرح کسی لڑکی کہ جسم کو چھو سکے اور مزہ لے اس کے دماغ میں عائشہ ہی تھی اور اج پھر وہ اپنے خیالوں میں عائشہ کے ساتھ مزے کرتے کرتگ اپنے لن کا پانی نکال کہ سو گیا حسن کا کوئی بڑا بھائی یا رشتے دار نہ تھا جو اسے ان غلط چیزوں سے روکتا اور اسے یہ بھی سمجھاتا کہ ایسے شلوار کہ اندر اپنی منی نہیں نکالتے مگر وہ تو بس اپنی مستی میں مست تھا
اگلا دن بھی معمول کے جیسے تھا حسن سکول جا چکا تھا اور اس کی بڑی بہن زینب اس کے کپڑے باتھروم سے اٹھا کہ اس کہ کمرے میں رکھ آئی جیسے ہی وہ صحن میں پونچی اسے کچھ خیال آیا اور وہ بھائی کہ کمرے میں دوبارہ پلیٹ گئی زینب یہ جاننا چاہتی تھی کہ کہیں اج بھی تو بھائی کہ شلوار منی سے گندی تو نہیں جب اس نے شلوار اٹھا کے دیکھی تو وہی ہوا سامنے منی کا ایک بڑا دھبا لگا ہو تھا زینب حسن کے کپڑے اٹھائے واش روم میں آ بیٹھتی ہے آج پھر اس کا دل اس منی کہ دھبے کو دیکھ کہ خراب ہو رہا تھا وہ اج پھر اس کو اپنی ناک پہ لگاۓ سونگنے لگی اور اسے ایک عجیب سی لزت ملنے لگی اس کے دماغ میں ایک عجیب کشمکش تھی کہ وہ ایسا کیوں کر رہی مگر ایسا کرنے سے خود کو روک بھی نہیں پا رہی تھی بہت دیر اس منی کو سونگنے کے بعد اب زینب کو اپنی پھدی میں کھجلی ہونے لگی تھی اور وہ انجانے میں ایک ہاتھ اپنی پھدی پہ رکھے اسے مسلنے لگی نادیہ نہ پھدی کو مسلنے اور اپنی آگ بجھانے والا کام آج سے ایک سال پہلے تب کیا جب رات کو اس نے اپنے باپ کو اپنی ماں کو چودھتے دیکھا تب اس کا ہاتھ بستر میں ہی اپنی پھدی تک خود بخود پہنچ گیا اور وہ اسے مسلتے فارغ ہوئی اس دن کہ بعد نادیہ بہت بار ایسا کر چکی تھی مگر ایسا کرنے کے لیے اسے موقع کم ملتا تھا کیونکہ رات کو ماں کہ کمرے میں سونے کی وجہ سے اسے ڈر ہوتا تھا کہ بیمار ماں جاگ نہ رہی ہو یا باپ اور دن میں کام میں مصروف ہونے کی وجہ سے مگر پھر بھی کبھی اس کی پھدی کی خارش جب برداشت سے باہر ہو جاتی تو وہ ایسے ہی باتھروم میں اپنی پھدی مسل کے پانی نکال لیتی تھی زینب پہ اب مستی سوار ہوتی جا رہی تھی اور وہ اپنے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو رہی تھی اس کی سوچوں میں ہرگز اس کے بھائی کے لیے ایسا ویسا کچھ نہ تھا بس وہ اس منی کو دیکھ کہ گرم ہو چکی تھی اس نے باتھروم کا دروازہ بند گیا اقر اپنے کپڑے اتار کہ اپنی بھائی کہ شلوار کو سونگھتے ہوۓ اپنی پھدی کو مسلنے لگی وہ باتھروم کے فرش پر دیوار سے ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی اس کے منہ پہ شلور تھی اپنے بھائی کی اور اس منی کی خوشبو اسے پاکل کر رہی تھی ایک ہاتھ سے وہ اپنی پھدی کو زور زور سے مسلے جا رہی تھی اور اپنے ایک ہاتھ سے اپنے ممے مسل رہی تھی وہ اس بات سے بے خبر تھی کہ وہ منی کسی اور کہ نہیں اس کے سکے چھوٹے بھائی حسن کی ہے وہ مزے کی ایسی وادیوں میں تھی جہاں سے پانی نکالے بنا لوٹ پانا ناممکن تھا وہ لمبی لمبی سانسیں لے لے کے اس منی کی خوشبو کو اپنیے اندر اترتی گئی اور ساتھ ہی اس کے ہاتھ کی رفتار تیز ہوتی گئی آج وہ الگ ہی مزے میں تھی اسے منی کی خوشبو بہت اچھی لگی اور آخر کار اس کی سسکیاں نکلی اور اس کے ساتھ ہی اس کی چھدی نے اپنا گھاڑا پانی چھوڑ دیا اس کی سانسیں پھولی ہوئی تھی وہ کچھ دیر ایسے ہی بیٹھی رہی اب وہ بہت ریلیکس محسوس کر رہی تھی جب وہ ہوش میں آئی اور اپنے منہ سے اپنے بھائی کی منی سے بھری شلوار اٹھائی تو ایک دم چونک گئی یہ کیا کر دیا میں نے یہ کیا ہو گا یہ تو میرے بھائی حسن۔۔۔ جب اسے یہ سوچ آئی کہ وہ اپنے ہی بھائی کہ منی کو سونگتے ہوۓ اپنی پھدی کا پانی نکال چکی ہے تو اب اسے شرم اور خود پہ غصہ آنے لگا کہ اس سے یہ کیا غلطی ہو گئی  مگر اپ بچتانے سے گزرا وقت واپس نہیں آ سکتا تھا وہ اسی سوچ کے ساتھ کپڑے دھونے بیٹھ گئی
سکول میں کاشف اور حسن روز کہ جیسے بریک میں اپنی جگہ پہ پہنچے باتیں کرنے لگتے ہیں اب حسن اور کاشف گہرے دوست بن چکے تھے اس سے پہلے وہ دونو صرف ایک کلاس فیلو تھے اور حسن ہمیشہ کاشف اور اس کے گروپ کے آوارہ لڑکوں سے دور رہتا تھا مگر اب وہ بھی تقریباً ان جیسا بن چکا تھا حسن اور کاشف روز کے جیسے اپنی موٹھ اور لڑکیوں کی باتوں میں مشغول تھے کہ کاشف نے حسن سے پوچھا کہ وہ مٹھ مارتے ہوۓ عائشہ کو کیسے چودتے ہوۓ سوچتا ہے حسن جن نے آج تک چدائی نہ دیکھی تھی بولنے لگا کہ وہ عائشہ کو اس کے گالوں پہ چومتے ہوۓ اور وہ یہ جانتا تھا کہ لن کو پھدی کہ اندر ڈالا جاتا ہے اور اس نے یہ بھی بتا دیا مگر اس نے کبھی ریئل میں کرتے کسی کو نہ دیکھا تھا کہ کیسے کرتے ہیں اور اپنی یہ بات بھی کاشف کو بتائی کاشف اس کی یہ بات سن کہ ہنسنے لگا اور بولا بھائی اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے کرنے کو ہنستے ہنستے کاشف کو کچھ یاد آیا اور وہ بولا آج تو بدھ ہے حسن اس کی یہ بات سن کے بولا ہاں بدھ ہے تو کیا ہوا کاشف اچانک سوچ میں پڑ گیا حسن اسے سوچوں میں ڈوبا دیکھ کہ اس سے پوچھنے لگا مگر کاشف اسے بتانے سے کترا رہا تھا اور پھر حسن کہ بےتحاشہ اصرار پر بولا کہ یار میں نے تمھیں بتایا تھا نا کہ ہم کبھی کبھی احمد کے گھر جا کہ بلیو فلم یعنی چدائی کی ننگی ویڈیو دیکھتے ہیں آج بدھ ہے اور احمد نے پرسوں ہم سب دوستوں کو بتایا تھا کہ بدھ والے دن اس کی امی اور ابو کسی شادی میں جا رہے ہیں میں ان کے ساتھ نا جانے کا کہا ہے تاکہ ہم دوست مل کے گندی فلم دیکھ سکیں اور آج چھٹی کے بعد مجھے ادھر جانا ہے تمھیں بھی کے جاتا پر میرے دوست نہیں مانے گے کیوں کہ ہم دوست اپنے گروپ کے سوا اس طرح کسی کو نہیں لے کے جاتے کاشف کی یہ بات سن کہ حسن کا لن ابھی سے تن گیا اور وہ جستجو میں آ کے کاشف کی منتیں کرنے لگا کہ وہ اسے بھی ساتھ لے کے جاۓ کاشف نے حسن کو کہا کہ چھٹی کے وقت وہ احمد اور باقی گروپ کے دوستوں سے بات کرے گا حسن کو اب بے صبری سے چھٹی کا انتظار تھا وہ بھی دیکھنا چاہتا تھا کہ آخر اس گندی فلم میں کیا ہو گا اور کیسے ہو گا
آخر چھٹی کا وقت ہو تو حسن اور کاشف سکول کے باہر دوسرے دوستوں کا انتظار کرنے لگے جب سب آ گئے اور انہوں نے حسن کو دیکھا تو ایک دوسرے کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے اتنے میں کاشف بولا کہ احمد بھائی حسن کو بھی ساتھ آنے دو اس نے بھی وہ سب دیکھنا ہے حسن جو ان سب میں سے عمر میں بڑا تھا کاشف کی یہ بات سن کہ ہنسنے لگا اور بولا ہم تو تمھیں بھی ساتھ نہیں لے کے جا رہے تم ساتھ اس کو بھی لے آۓ کاشف کے پوچھنے پر کہ وہ اسے کیوں نہیں لے کے جا رہے احمد نے بتایا کہ تم اب اسی کے دوست ہو ہمارے گروپ سے نکل گۓ ہو یہ سن کہ کاشف احمد کی منتیں کرنے لگا اب حسن بھی اس کا ساتھ دے رہا تھا آخر احمد مان گیا اور وہ سب احمد حسن کاشف اور ان کے دو دوست اور احمد  کہ گھر کی طرف چل پڑے راستے میں احمد نے حسن کو کونی مارتے ہوۓ مزاکیہ انداز میں پوچھا پہلی بار دیکھو گے کیا اس سے پہلے سے حسن کوئی جواب دیتا کاشف بولا کہ بھائی اسے سب پتا ہے بس آج پہلیبار سب ہوتا دیکھے گا تو اسے بھی سمجھ آ جاۓ گا ہم سب احمد کہ گھر سے تھوڑا دور کھڑے ہو کہ انتظار کرنے لگے کہ احمد گھر جاۓ اور اس کے امی ابو شادی کے لیے نکل جاۓ احمد گھر چلا گیا کچھ دیر بعد ہم نے گاڑی پہ اس کی ماں اور باپ کو جاتے دیکھا ہم اس کے گھر سے تھوڑا دور کھڑے تھے اتنے میں احمد نے بھی اشارے سے بلایا اور ہم سب اس کے گھر چلے گئے احمد کا گھر بہت بڑا اور عالیشان تھا اس کے ابو ایک ٹھیکیدار تھے اور ان کا احمد اکلوتا بیٹا تھا وہ ننگی فلمیں اس کے ابو کی تھی جو وہ بھی ایسے کبھی کبھی چلا کہ دیکھتا خیر سب دوست ٹی وی کے سامنے بیٹھ گۓ اور احمد نے ڈسک لگا کر فلم چلا دی حسن کا یہ پہلی بار تھا وہ بہت جستجو میں تھا فلم چلی تو ایک گنجا لڑکا کسی خوبصورت سی لڑکی کو بیٹھاۓ کہیں جا رہا تھا باتیں انگلش میں تھی جو کسی کو سمجھ میں نہیں آ رہی تھی حسن کو ابھی تک یہ سب نارمل لگ رہا تھا کہ یہ تو کسی فلم جیسی کوئی فلم ہے مگر وہ شوق سے دیکھ رہا تھا کیوں کہ اسے ویسے بھی ٹی وی کم دیکھنے کو ملتا تھا نہ اس کے گھر تھا تھوڑی دیر بعد وہ گنجا انگریز لڑکی کو کسی گھر میں لے جاتا ہے دونو کمرے میں اکیلے ہوتے ہیں اور اب گنجا انگریز لڑکی کو کپڑوں کے اوپر سے چھونے لگتا ہے اور اس کے مموں کو مسلنے لگتا ہے یہ دیکھ کہ حسن کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی وہ یہ سب دیکھتے ہوۓ سوچ رہا تھا کہ آخر یہ گنجا کون ہے جو بڑے مزے سے لڑکی کے ممے دباۓ جا رہا اگلے ہی لمحے وہ دونو ایک دوسرے کے ہونٹ چومتے ہوۓ ایک دوسرے کی شرٹ اتار دیتے ہیں لڑکی کہ ننگے ممے دیکھ کہ حسن کی آنکھیں ایسی پھٹ رہیں تھیں جیسے ابھی اندر گھس جاۓ گا پورن فلم کہ ایک ایک سین مو حسن ایسے دیکھتا رہا جیسے وہ یقین نا کر پا رہا ہو اس کا لن تن چکا تھا اس کے باقی دوست اپنا اپنا لن نکال کے کب کا مٹھ مارنے پہ لگے ہوۓ تھے حسن کا بھی یہی دل کر رہا تھا مگر وہ شرما رہا تھا مگر اپنے لن کے ہاتھوں مجبور ہو کہ وہ بھی اسے پینٹ کے اوپر سے ہی پکڑ کے مسلنے لگا آج پہلی بار وہ کسی لڑکی کو ننگا دیکھ رہا تھا اس کی گاند پھدی سب اور اب مٹھ مارتے سب دوست اپنے ارد گرد سے بے خبر تھے اس 20 منٹ کی وڈیو میں وہ سب کیا گیا جو آج تک حسن کہ خوابوں خیالوں میں بھی نہ تھا پورن فلم ختم ہوتے گئی دوست اپنا پانی چھوڑ چکے تھے اور کچھ ابھی چھوٹ رہے تھے جب سب اپنا اپنا پانی نکال چکے تو سب ایک ایک کر کے اپنے گھر کو چل دیے حسن اور کاشف بھی اپنے گھر کو چل پڑے کاشف راستے پہ حسن سے پوچھتا ہے کہ اسے کیی لگی یہ موی اور حسن بولا یار یہ کیا تھا الگ ہی دنیا ہے یار مزے ہیں اس گنجے انگریز کے کیسے اس لڑکی کے ساتھ مزے کر رہا تھا کاشف بھی بولا ہاں یار کاش اس کی جگہ

 

Posted on: 02:09:AM 18-Dec-2020


1 0 475 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 75 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com