Stories


صائمہ میری پڑوسن از تنویر 99

نامکمل کہانی ہے

دوستو آج میں آپ سے ایک بالکل سچی کہانی شیئر کرنے جا رہا ہوں۔ یہ کہانی میری آپ بیتی ہے۔ صرف میں نے کرداروں کے نام تبدیل کیے ہیں تاکہ راز رہ سکے۔ سب سے پہلے میں آپ کو اپنا تعارف کروا دیتا ہوں۔
میرا نام حامد اور عمر 27سال ہے۔ ایک اچھے کھاتےپیتے گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں اور ایک اچھی یونیورسٹی میں پڑھا رہا ہوں۔ میرے والدصاحب پراپرٹی کا بزنس کرتے ہیں۔ اور اکثر دوسرے شہروں میں کاروبار کے سلسلے میں سفر پر رہتے ہیں۔ میں اپنی والدہ اور ایک بہن کے ساتھ رہتا ہوں۔ میری بہن مجھ سے بڑی ہے اور اُس کے خاوند کا انتقال ہو چکا ہے اور وہ ہمارے ساتھ ہی رہتی ہے۔  ہمارا گھر ایک بڑے شہر کے پوش علاقے میں ہے۔جہاں زیادہ تر امیر اور اپر مڈل کلاس کے لوگ رہتے ہیں۔
تو دوستو قصہ کچھ یوں ہے کہ ایک دن میں اپنے معمول کے مطابق یونیورسٹی سے گھر آیا۔ گیٹ پر آ کر میں نے ہارن دیا چوکیدار نے گیٹ کھولا اور میں اپنی گاڑی پورچ میں لے گیا۔ پورچ میں گاڑی لاک کرنے لگا تھا کہ میں نے اندر سے ایک خاتون کو نکلتے دیکھا ۔ اس خاتون کو اس سے پہلے میں نے نہیں دیکھا تھا۔ بلکہ یوں کہنا بہتر ہوگا کہ اس قسم کی خوبصورت اور سیکسی عورت کو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میں سچ کہ رہا ہوں کیونکہ میں ایک بڑی یونیورسٹی میں پڑھا رہا ہوں اور وہاں ایک سے ایک خوبصورت لڑکی سے میرا واسطہ رہا ہے لیکن اس خاتون کی خوبصورتی اور سیکسی کشش کا ملاپ ہی کچھ ایسا تھا کہ میں کچھ دیر کے لیے اپنی جگہ پہ کھڑا ہی رہ گیا۔وہ دروازے سے نکلی اور پورچ میں میرے پاس آ کر لمحہ بھر کو   رُکی اور مجھے سلام کیااور مین گیٹ کی طرف چل پڑی۔ میں اُس کے سراپے میں اتنا کھویا ہوا تھا کہ مجھے سلام کا جواب دینا تک یاد نہ رہا ۔
اُس نے کالے رنگ کی سادہ سی شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔ جس میں اُسکا سُرخ و سفید چہرہ قیامت ڈھا رہا تھا۔ سر پر اُس نے سفید دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا۔ کسی قسم کا میک اپ نہیں تھا صرف ہونٹوں پر ہلکے کلر کی لپ سٹک تھی جو اُس کے سیکسی ہونٹوں کو اور قیامت خیز بنا رہی تھی۔اُس جیسا سراپا میں نے آج تک نہیں دیکھا تھا۔اُس کےبالکل ٹائیٹ لباس  میں اُسکے سینے کے گول اور عام سائیز سے کافی بڑے اُبھار بہت  خوبصورت لگ رہے تھے۔ پیٹ بلکل ساتھ لگا ہوا۔ اور پچھلی سائیڈ بلکل گول اور تھوڑا سا باہر کو نکلی ہوئی اور اُس پر اُس کی قیامت خیز چال دیکھ کر میں اپنے حواس میں نہیں رہا تھا۔ اور ایک جگہ کھڑا بس اُس کو دیکھے جا رہا تھاجو کب کی گیٹ کراس کر کے جا چکی تھی۔ میں ہوش میں تب آیا جب میرے کانوں میں گیٹ کے بند ہونے کی آواز آئی۔ حواس میں آنے کے بعد میں نے محسوس کیا مجھے اپنی پینٹ تنگ محسوس ہو رہی تھی۔ جب غور کیا تو پتا چلا کہ میرا ہتھیار فل تیار ہو چکا تھا اور انڈروئیر پھاڑ کے باہر آنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔مجھے زندگی میں پہلی بارایسا محسوس ہواتھا کہ میرا ہتھیار صرف دیکھنے کی وجہ سے تیار ہو گیا ہو۔اُس کا جسم ہی کچھ ایسا تھا کہ صرف ایک نظر دیکھنےسے ہی میرا حال بُرا ہو رہا تھا۔
خیر میں دوبارہ گاڑی میں بیٹھ گیا تاکہ میرا پینٹ کا اُبھار کچھ نارمل ہو جائے تو میں اندر جاوں ۔ کچھ دیر نارمل ہونے کے بعد میں اندر گیا۔ سٹنگ روم میں بہن چائے پرمیرا  انتظار کر رہی تھی ۔ میں اُس کے پاس بیٹھ گیا اور چائے پیتے ہوئے میں نے اُس سے پوچھا کہ میرے اندر آتے ہوئےایک عورت باہر جا رہی تھی ۔ وہ کون ہے؟میں نے  آج سے پہلے اُسے کبھی نہیں دیکھا؟اُس نے بتایا کہ یہ ہمارے محلے میں نئی آئی ہے۔ کافی غریب ہے ۔اس کا نام صائمہ {فرضی نام}ہے۔     آپ کے دوست سلیم کی والدہ نے ان لوگوں کو رہنے کے لیے اپنا سرونٹ کوارٹر دیا ہوا ہے۔ اس کا میاں ایک دوائیوں والی فیکٹری میں ڈرائیور ہے۔ دو بچے ہیں اور یہ لوگوں کے گھروں میں بیوٹی پارلر کا کام کرتی ہے۔ سلیم کی والدہ نے مجھے کہا تھا کہ اگر بیوٹی پارلر کا کوئی کام کروانا ہو تو اس کو بلا لیا کروں ایک تو کام کی ماہر ہے اور دوسرا اس غریب کی کچھ مدد ہو جائے گی۔ میں نے کہا کہ یہ تو کافی ینگ ہے لگتا نہیں کہ دو بچوں کی ماں ہے۔ بہن نے کہا کہ ہاں اسکی عمر 30 سال ہے مگر اس نے خود کو کافی سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ بچوں کو پڑھانے کے خاطر شہر میں شفٹ ہوئے ہیں۔ اور اُن کو خود پڑھاتی ہےاور سکول سے کبھی چٹھی نہیں کرنےدیتی۔ کافی اچھی اور اخلاقی عورت ہے۔ میری تو اس سے دوستی ہو گئی ہے۔یہ سُن کے مجھے اچھا لگا کہ چلو اس بہانے آئندا بھی اُس کو دیکھنے کا موقعہ ملتا رہےگا۔
اس کے بعد صائمہ کا ہمارے گھر کافی آنا جانا شروع ہو گیا۔وہ اکژ اُس وقت آتی جب میں یونیورسٹی گیا ہوا ہوتا۔مگر کبھی کبھی شام کو بھی آ جاتی مگر تمام وقت وہ میری بہن کے ساتھ ہوتی اور مجھے اکیلے میں بات کرنے کا موقعہ نہیں ملتاتھا۔وہ جب بھی آتی میں جان بوجھ کر کسی بہانے سے اُس کےسامنے آتا مگر وہ صرف مجھے سلام کرتی اور میں جواب دے دیتا۔بہن کی موجودگی میں اُس سے کوئی بات نہیں کر سکتا تھا۔پھر ایک دن میں شام کو جم جا رہا تھا کہ راستے میں مجھے صائمہ نظر آئی وہ اپنے بچوں کے ساتھ گھر آ رہی تھی۔میں نے موقعہ غنیمت جان کر اُس کو سلام کیا اور پوچھا کہ وہ کہاں سے آ رہے ہیں؟ اُس نے کہاکہ بچوں نے نئے سکول بیگ کی فرمائش کی تھی وہ لینے گئےتھے۔مگر سکول بیگ تو کافی مہنگے ہیں میں ان کو کہ رہی تھی کہ یکم کو ان کے بابا کو تنخواہ ملے گی تو لے دیں گے۔ میں نے بچوں کو پیار کیا اور کہا ماشااللہ بھابی آپ کے بچے بہت پیارے ہیں۔ اُس نے شکریہ ادا کیا اور آگے بڑھ گئی۔
میں جم کی طرف نکل پڑا۔ راستے میں مجھے ایک خیال آیا اور میں نے اپنارُخ کتابوں والی دکان کی طرف موڑ دیا۔ اچھی قسم اور نئے سٹال کے دو سکول بیگ خریدے اور گھر کی جانب واپس آ گیا۔بہن کو سارا واقعہ سنایا اور کہا کہ وہ یہ بیگ صائمہ کے حوالے کر دے۔وہ بہت خوش ہوئی اور اُس نے فون کر کے صائمہ کو اپنے گھر آنے کو کہا۔ وہ تھوڑی دیر بعد ہمارے گھر آ گئی ۔بہن نے دونوں بیگ اس کے حوالے کیے۔وہ اتنے شاندار بیگ دیکھ کے حیران ہو گئی اور خاموشی سے سوچنے لگی۔پھر اُس نے شکریہ کے انداز سے مجھے دیکھا اور کہا حامد صاحب آپ نے یہ تکلیف کیوں کی۔میرا دل اندر سے بہت خوش ہوا کہ اُس نے بھائی کہنے کی بجائے مجھے حامد صاحب کہا۔میں نے کہا کہ بھابی تکلیف کی کوئی بات نہیں وہ بہت پیارے بچے ہیں یہ بیگ دیکھ کر وہ بہت خوش ہوں گے۔ ہمارے گھر میں کوئی بچہ نہیں ہے۔ آپ اُن کو ہمارے گھر بھی لائیے گا۔اُن کو کسی بھی قسم کی کوئی ضرورت ہومجھے بتایا کریں مجھے خوشی ہوگی۔اور خاص نظروں سے اُس کی طرف دیکھ کر کہا کہ آپ ہمیں اجنبی نہ سمجھیں ہم آپ کے اپنے ہیں۔اپنی ہر ضرورت مجھے بتائیں مجھے آپ کے کام آ کر خوشی ہو گی۔اُس نے ایک مرتبہ پھر شکرگزار نظروں سے مجھے دیکھا اور کہا بچوں کے بابا آنے والے ہوں گے میں چلتی ہو ں اور حامد صاحب ایک دفعہ پھر آپ کا شکریہ۔میں نے کہ بھابی آپ کیوں مجھے شرمندہ کرتی ہیں۔ پلیز۔۔۔۔اور وہ چلی گئی۔
اُس دن کے بعد پندرہ بیس دن وہ مجھے نظر نہیں آئی۔میں بہت پریشان تھا دل اُس کو دیکھنے کے لیے ترس گیا تھا۔ ہر وقت خیالوں میں وہ چھائی ہوئی تھی۔مگر میں کچھ کر نہیں سکتا تھا۔مگر اچانک خدا کو مجھ پر رحم آ ہی گیااوروہ رات آ گئی کہ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پوری رات مجھے صائمہ کے ساتھ گزارنی پڑے گی اور وہ بھی ایسی رات کہ جس میں وہ سب کچھ ہو گیاجس کو میں صرف اپنے خوابوں اور خیالوں میں دیکھا کرتا تھا۔۔۔
دوستو ۔۔ ہوا کچھ یوں کہ اُس شام میں جم سے واپس گھر آتے ہوئے یہی سوچ رہا تھا کہ کاش وہ آج پھر راستے میں مجھے مل جائے تو دل کو کچھ سکون میسر ہو مگر وہ راستے میں کہیں نظر نہ آئی ۔ اُس کی سوچوں میں گم اپنے گھر میں داخل ہو ا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی یہ دیکھ کر کہ وہ سٹنگ روم میں میری بہن کے پاس بیٹھی تھی میں نے سلام کیا وہ کھڑی ہو گئی اور سلام کا جواب دیا۔ وہ سادے سے انتہائی ٹائیٹ سفید سوٹ میں ملبوس ایک سیکس بم لگ رہی تھی مگر تھوڑی سی پریشانی اس کے سرخ و سفید چہرے پر نظرآ رہی تھی۔ اُس کا سراپا دیکھ کر مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ پھر سے میرا ہتھیار تیار نہ ہو جائے کیونکہ میں نے ٹی شرٹ اور ٹراوزر پہنا ہوا تھا اگر وہ کھڑا ہو جاتا تو کافی شرمندگی ہو سکتی تھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ ہتھیار نے انگڑائی لی اور میں نے وہاں سے بھاگنے میں غنیمت جانی۔اُن کو کہا کہ میں زرا شاور لے کر آتا ہوں اور کمرے کی طرف چل پڑا۔مگر دل وہاں سے آنے کو نہیں چاہ رہا تھا ۔ اِس دوران میرالن فل کھڑا ہو چکا تھا۔میں آدھی سیڑھیاں چڑھ کر رُک گیا۔ وہاں سے صائمہ مجھے صاف نظر آ رہی تھی ۔یہاں سے میں ان دونوں کو دیکھ سکتا تھا مگر وہ مجھے نہیں دیکھ سکتی تھیں۔کیونکہ درمیان میں کلرڈ شیشہ تھا۔میرا لن فل تنا ہوا تھا اور میرا ٹراوزر ایک ٹینٹ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ میں نے وہاں کھڑے ہو کر ٹراوزر میں ہاتھ ڈالا اور صائمہ کو دیکھتے ہوئے لن کو سہلانا شروع کر دیا۔یہ میری زندگی کا پہلا موقعہ تھا کہ کسی عورت کو دیکھ کر میں یہ کام کر رہا تھا۔کیونکہ وہ تھی ہی ایسی کہ اُس کے فل تنے ہوئے گول گول ایکسٹرا لارج ممے مجھے صاف نظر آ رہے تھے اور مجھ سے کنٹرول نہیں ہو رہا تھا۔اس دوران میں نےیہ محسوس کیا کہ اُن دونوں کے درمیان کسی بات پر کافی بحث چل رہی ہے۔پھر میں نے دیکھا کہ میری بہن نے اُس کو کسی بات پر راضی کر لیا اور اُٹھ کر میری طرف آنے لگی۔ میں بھاگ کر سیڑھیاں چڑھااور اپنے کمرے کے باتھ روم میں گھُس گیا۔کچھ دیر بعد مجھے اپنے کمرے سے بہن کی آواز آئی کہ بھائی شاور لے کر جلدی نیچے آ جاو میں نے ضروری بات کرنی ہے۔میں نے کہا کہ اوکےآتا ہوں۔میں  شاور لے کر اورکپڑے پہن کر نیچے آ گیا۔ صائمہ ابھی بھی بیٹھی ہوئی تھی۔بہن نے بات شروع کی کہ بھائی صائمہ کو ایک مسئلہ درپیش ہے آپ نے اسکی مدد کرنی ہے۔میں نے کہا کہ بتائیں ضرور کریں گے۔بہن نے کہا کہ صائمہ تم خود بتاو میں چائے بنا کر لاتی ہوں۔
بہن کے جانے کے بعد میں نے کہا کہ بھابی آپ کھل کر بتائیں  کیا مسئلہ ہے؟
صائمہ نے کہاکہ پچھلے دنوں بچوں کو سکول سے چھٹیاں تھیں تو میرے شوہرامجدنے بھی ایک ہفتہ کی چھٹی لی اور ہم لاہور اپنی امی کے پاس رہنے کے لیے چلے گئے۔ ہفتہ بعد جب واپسی کا پلان بنا تو بچوں کے کہا کہ ہماری ایک ہفتہ اور چھٹی ہے ہم یہیں رہ  جاتے ہیں۔توامجدنے کہا کہ ٹھیک ہے ہم جاتے ہیں بچوں کو میں اگلے ہفتے آ کر لے جاوں گا۔ ہم دونو ں واپس آ گئے۔آج امجد نے اُن کو لینے جانا تھا مگر اُس کی کمپنی سے کال آ گئی کہ کراچی کسی ڈیوٹی پر جانا ہے۔ وہ پندرہ دن کے لیے کراچی جا رہا ہے  اور بچوں کے سکول پیر سے کھل رہے ہیں۔ بچوں کو اگر نہ لایا تو اُن کی پڑھائی کا بہت نقصان ہو گا۔ میں نے کہا کہ مجھے بتاو کہ میں اس سلسلے میں کیا کر سکتا ہوں؟
تو صائمہ تھوڑا خاموش ہو گئی۔ میری بہن جو چائے لیکر آ چکی تھی وہ بولی کہ بھائی  صائمہ آپ کوتکلیف دینا نہیں چاہتی یہ نہیں مان رہی تھی میں نے اس کو راضی کیا ہے۔ تو بھائی آپ پلیز لاہورسےاس کے بچوں کواپنی گاڑی پر واپس لے آئیں۔
میں نے کہا کہ جانا کب ہے۔ اُس نے کہا کہ کل صبح آپ جائیں اور شام تک واپس آ سکتے ہیں۔ میں نےکہا کہ کل تو میں نے کچھ سٹوڈنٹس کو ٹائم دے رکھا ہےہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ابھی رات کو میں نکل جاوں اور صبح تک بچوں کو لے کر آ جاوں۔میری بہن نے کہا کہ ٹھیک ہے کیوں صائمہ تم کیا کہتی ہو؟ صائمہ نے کہا جیسے آپ کی لوگوں کی مرضی۔۔۔
اس پر میں نے موقعہ غنیمت جاناکہ اس طرح میں صائمہ کا فون نمبر لے سکتاہوں اور کہا کہ صائمہ بھابی آپ مجھے اپنی امی کا لاہور کا ایڈریس ،       اُن کا فون نمبر اور احتیاط کے طور پر اپنا موبائل نمبر دے دیں اور اپنی امی کو فون کر دیں کہ وہ بچوں کو میرے ساتھ بھیج دیں۔
پھر میں نے اپنی بہن سے کہا یہاں سے لاہور کا سفر 5 گھنٹے کا ہے بابا آج کل گھر میں ہیں اگر میں بابا کی لینڈکروزر لے جاوں تو یہ سفر 4 گھنٹے میں طے ہو سکتا ہےلیکن وہ اپنی گاڑی دینے پر راضی ہو جائیں تو زبردست ہو جائے میں رات کو ہی بچوں کو لے آوں گا۔اور صبح واپس آ سکتا ہوں۔ یہ سُن کر میری بہن نے کہا اُن کو راضی کرنا میری ذمہ داری ہے۔ آپ تیاری کریں۔
صائمہ کچھ پریشان نظر آ رہی تھی۔ میں نے پوچھا کہ اب کیوں پریشان ہیں۔بچے صبح آپ کے پاس ہوں گے۔ اُس نے کہا یہ بات نہیں۔میں سوچ رہی ہوں کہ میری امی کا گھر اندرون لاہور میں ہے جہاں بہت تنگ گلیاں ہیں۔ وہاں گاڑی نہیں جاسکتی۔اوروہ بیمار بھی ہیں ہو سکتاہے وہ رات کے اُس پہر فون نہ اٹھا سکیں پھر آپ کیا کریں گے۔اور میں یہاں سے آپ کو گلیوں کا راستہ بھی نہیں سمجھا سکوں گی۔یہ سُن کر ہم سب چپ ہو گئے۔ میری بہن نے خاموشی توڑی اور کہا اس کا بہت آسان حل ہے ۔ہم دونوں ایک ساتھ بولے کہ وہ کیا؟ جس سے ہم دونوں کی ہنسی بھی نکل گئی۔ صائمہ ہنستے ہوئے بہت
خوبصورت لگ رہی تھی۔
میری بہن نے میرے دل کی بات بول دی۔ اس نے کہا کہ صائمہ آپ خود بھائی کے ساتھ چلی جاو اور بچوں کو لےآو۔
صائمہ ایک دم چونک سی گئی۔ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ "میں اکیلی"۔تو بہن نے کہا کہ تم اکیلی کہاں ہو بھائی ہے نا تمہارے ساتھ۔صائمہ نے کہا "لیکن" اور چپ ہو گئی۔ میری بہن نے کہا لیکن ویکن کچھ نہیں۔ بس تم جا رہی ہو بھائی کے ساتھ۔ بھائی تمہیں کھا تو نہیں جائے گا۔میں بابا سے اُن کی گاڑی کی چابی لینے جا رہی ہوں تم دونوں تیاری کرو۔بہن کے جانے کے بعد میں نے صائمہ سے پوچھا کہ کہ میری بہن نے فیصلہ تو سُنا دیا مگر یہ بتائیں کہ امجد بھائی کو برُا تو نہیں لگےگا کہ آپ اکیلی میرے ساتھ جا رہی ہیں۔اس بات سے میں نے محسوس کیا صائمہ کے چہرے پر غصہ کے آثارتھے مگر اُس نے کنٹرول کر لیا اورعجیب سی بات کہی کہ وہ بُرا ماننے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔فیصلہ میرا ہی ہوتا ہےمیں آپ کے ساتھ جاوں گی۔ یہ کہ کر وہ کھڑی ہو گئی ۔ میں نے کہا پھر بھی اُن سے پوچھ لیں۔اُس کے چہرے پر پھر غصہ نمودار ہوا اوراُس نے کہا کہ اُن کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔ میں تیار ہو کر آتی ہوں ہاں اگر آپ کو میری بات پر شک ہے تو واپسی پر امجد کو ساتھ لے آتی ہوں آپ خود اُس سے پوچھ لیجیے گا۔مجھے کچھ حیرت ہوئی اور محسوس ہوا کہ اُن کی ازدواجی زندگی کچھ بہتر نہیں ہے۔ بہرحال میرا دل اندر سے خوشی سے پاگل ہوا جا رہا تھا۔
اتنے میں میری بہن لینڈکروزر کی چابی لیکر آ گئی اور کہا کہ بابا کہ رہے ہیں کہ موٹروے سے جائے اور گاڑی احتیاط سے چلائے۔اور میں کہ رہی ہوں کہ میری سہیلی کا خیال رکھنا۔میں ہنس پڑا اور کہا۔فکر نہ کریں میں اُس کوبلکل بھی نہیں کھاوں گا۔اور ہم دونوں ہنس پڑے۔
اتنے میں دروازے سے صائمہ نمودار ہوئی اور اُس کے پیچھے امجد بھی تھا۔ امجد کو دیکھ کر مجھے حیرت کا جھٹکا لگا۔ صائمہ جتنی خوبصورت تھی امجد اُتنا ہی عجیب سی شکل وصورت کا آدمی تھا۔بلکل دبلاپتلا کمزور جسم بہت چھوٹاسا قداور کالے رنگ کا مالک تھا۔ عمر میں بھی وہ صائمہ سے بہت بڑا لگ رہا تھا۔وہ دونوں صوفے پر بیٹھ گئے۔ صائمہ نے اس سے ہمارا اور ہم سے اُسکا تعارف کروایا۔ وہ اپنے گھر سے اُس کو تمام بات بتا کر لائی تھی۔ لہذا سب سے پہلے امجد بولا کہ حامدبھائی میری ایمرجنسی میں ڈیوٹی لگ گئی ہے میں نے تو اس کو کہا ہے میں 15 دن بعد آ جاوں گا اور بچوں کو لے آوں گا مگر یہ کہتی ہے بچوں کے پڑھائی کا بہت نقصان ہو گا۔آپ کو خواہ مخواہ تکلیف دے رہی ہے۔میں نے کہا کہ امجدصاحب تکلیف کی کیا بات ہے۔ اور پڑھائی تو ضروری ہے اگر اس عمر میں بچوں کو چھٹی کی عادت پڑ گئی تو ساری عمر نہیں پڑھ سکیں گے۔ آپ میری فکر نہ کریں ۔میں تو اکیلا جا رہا تھا مگر صائمہ بھابی نے کہا مجھے انکی امی کا گھر ڈھونڈنے میں مشکل پیش آئے گی۔میں اتنا کہ کر چپ ہو گیا۔اس پر امجد بولاجی بلکل ٹھیک کہ رہی ہے وہ گھر جس جگہ ہے دن کی روشنی میں بھی ملنا مشکل ہے اور آپ تو رات کو جا رہے ہیں یہ ساتھ ہو گی تو آپ مشکل سے بچ جائیں گے۔ اس پر صائمہ بولی کہ 9 بج رہے ہیں ابھی ہمیں نکلنا چاہیے۔میں نے کہا کہ آپ لوگ 5منٹ دیں میں کپڑے تبدل کر لوں پھر چلتے ہیں ۔ اس پر صائمہ نے کہا کپڑے تو میں نے بھی تبدیل کرنے ہیں میں بھی گھر سے ہو کر ابھی آتی ہوں۔امجد نے کہا کہ میں چلتا ہوں فیکٹری جا رہا تھا کہ صائمہ آپ کے پاس لے آئی۔ میں نے پوچھا کہ آپ کونسی فیکٹری میں کام کرتے ہیں اُس نے جو نام اور ایڈریس بتایا وہ ہمارے راستے میں پڑتا تھا تو میں نے کہا آپ ویٹ کریں ہم جاتے ہوئے آپ کو ڈراپ کر دیں گے۔اس نے اوکے کہا اور بیٹھ گیا۔ میں اپنے کمرے میں چلا گیا۔
ایک اچھاسا ڈریس پہنا۔ اپنا فیورٹ پرفیوم کا سپرے کیا۔موبائل اور چابی اُٹھائی اپنے پرس کو چیک کیا اچھی خاصی رقم موجود تھی مگر احتیاط کے طور پر اُس سے ڈبل رقم اپنی دوسری جیب میں رکھی۔نکلنے لگا تھا کہ مجھے ایک چیز یا د آئی میں نے اپنا سیکرٹ دراز کھولا اور اپنے دوست کا دیا ہو تحفہ باہر نکالا جوکافی عرصہ پہلے مجھے فارن ملک سے آئے ہوئے ایک دوست نے دیا تھا۔یہ خاص کنڈوم کاپیکٹ تھا جس کی مجھے کبھی ضرورت نہیں پڑی تھی  اُس نے مجھے یہ دیتے ہوئے یہ کہا تھا کہ یہ خاص قسم کا کنڈوم ہے اس کو اُس وقت پہننا ہے جب تمہارا لن فل تنا ہوا ہو۔ یہ 5 منٹ کے اندر اندر تمہارے لن کی  جلد کو سُن کر دے گا۔ 5 منٹ کے بعد تم نے اندر ڈالنا ہے جب جلد سُن ہو گی تو رگڑ نہیں محسوس ہو گی اور تم فارغ نہیں ہو گے۔ یہ کنڈوم تمہیں کم از کم 30 منٹ تک فارغ نہیں ہونے دے گا۔اُس کے بعد اس کا اثر ختم ہو جائے گا اور تمہارا اپنا ٹائم شروع ہو گا۔اور اُس کے بعد جب تک تمہاری طاقت ہو۔
میں نے کنڈوم کا پیکٹ بھی جیب میں رکھ لیا کہ ہو سکتا ہے صائمہ جی کو مجھ پر رحم آ ہی جائے۔
خیر میں تیار ہو کر نیچے آیا تو اُسی وقت صائمہ بھی اندر داخل ہوئی۔ خوبصورت تو وہ ہمیشہ سے تھی مگر آج قیامت ڈھا رہی تھی۔ اُس نے پیلے رنگ کی انتہائی ٹائیٹ قمیض پہنی تھی جس پر کالے دائرے بنے ہوئے تھے اور شلوار کالے رنگ کی تھی۔ مجھے لگ رہا تھا کہ اُس نے برا بھی انتہائی پتلی اور ٹائیٹ پہنی تھی کیونکہ اس کے گول نپلز کے ابھار بھی واضع نظر آ رہے تھے۔ میں نے اُس  کو دیکھتے ہی کہاکہ اب بیٹھنا نہیں ہے چلیں کا فی دیر ہو چکی ہے۔ تو وہ میری بہن کے ساتھ ہمارے آگے آگے پورچ کی طرف چل پڑی ۔ صائمہ کو پیچھے سے دیکھ کر کنٹرول کرنا انتہائی مشکل ہو رہا تھا کیونکہ اُس کی قمیض کی لمبائی چھوٹی رکھی گئی تھی۔ جس کی وجہ سے اُس کی گول گول گانڈ آج کچھ زیادہ ہی باہر کو نکلی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔مجھے لگ رہا تھا کہ وہ خود ذہنی طور پر مجھ سے چدوانے کے لیے تیار ہو کر آئی ہے ۔ بہرحال   یہ میرا وہم بھی ہو سکتا تھا۔میں نے لینڈکروزر کے دروازے کھولے اور امجد میرے ساتھ والی سیٹ پر اور صائمہ پیچھے والی سیٹ پر بیٹھ گئی۔ میں نے گاڑی سٹارٹ کی اور ہم نکل پڑے۔
میں نے  اپنا بیک ویو مرر ایسا سیٹ کیا کہ مجھے صائمہ کا پورا چہرہ دکھائی  دیتا رہے۔مجھے محسوس ہوا کہ اُس کے چہرے پر غصہ کے تاثرات تھے۔ مجھے ایسا لگا کہ شائد اُس کو میرا امجد کو ساتھ لانا بُرا لگاہے۔خیر میں نے اےسی بھی سٹارٹ کیا اور بہن جو ابھی تک پورچ میں کھڑی تھی اس کو خداحافظ کہ کر گاڑی روڈ پر لے آیا۔ اور امجد سے ہلکی پلکی گپ شپ لگانے لگا۔میں نے محسوس کیا کہ امجد کے ہاتھ ہلکے ہلکے کانپتے ہیں۔ وہ شخص مجھے جسمانی طور پر کافی کمزور اور لاغر لگ رہا تھا۔ اور ساتھ ہی مجھے صائمہ پر ترس بھی آ رہا تھا کہ وہ اتنی خوبصورت ہونے کے باوجود  اس جیسے انسان کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی۔جو شاید اُس کی جسمانی ضرورت پوری کرنے کےبھی قابل نہیں تھا۔میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ امجد نے کہا کہ اگلے چوک کے پاس مجھے اُتار دیجیے گا وہاں سے اُس کی فیکٹری قریب ہی ہے۔ اب تک صائمہ نے غصے میں بالکل خاموشی سے سفر کیا تھا اور ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا۔
اگلے چوک پر پہنچ کرمیں نے گاڑی روکی اور امجد نیچے اُتر گیا۔اُترتے ہوئے وہ صائمہ کی طرف دیکھ کر بولا امی کو میرا سلام کہنا اور بچوں کا خیال رکھنا میں دو ہفتے تک آ جاوں گا۔ جس پر صائمہ نے بدستور غصے میں جواب دیا کہ تمہیں زیادہ فکر کی ضرورت نہیں میں تم سے ذیادہ خیال رکھ لو ں گی۔اس پر امجد نےمسکرا کر میری طرف دیکھا اور بولا ابھی تک غصہ میں ہے۔ اور گاڑی کا دروازہ بند کر دیا۔ میں نے گاڑی اگے بڑھا دی۔اب میں گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا اور صائمہ پیچھے بیٹھی باہر دیکھ رہی تھی۔کبھی کبھی وہ آگے دیکھ لیتی جہاں شیشے میں اُسکی اور میری نظر ٹکرا جاتی اوروہ پھر سے باہر دیکھنا شروع کر دیتی۔ اُس کے چہرے پر ابھی بھی ہلکے ہلکے غصے کے تاثرات باقی تھے۔
میں سوچ رہا تھا کہ موٹروے پر جانے سے پہلے مجھے گاڑی میں فیول فل کروا لینا چاہیے۔ اور دوسری سوچ یہ تھی کہ کس طرح سے میں صائمہ کو اپنے ساتھ فرنٹ سیٹ پر آنے کے لیے کہوں۔ کہیں وہ مزید غصہ ہی نہ کرے۔ پھر سوچا کہ میں اُس کے کام سے ہی جا رہا ہوں میرا کوئی ذاتی کام تو نہیں تھا اُس کو میرے اوپر غصہ تو نہیں کر نا چاہیے۔ یہ سوچ کر میں نے گاڑی ایک بڑے پیٹرول پمپ پر روکی ۔ لڑکے کو ٹینک فل کرنے کا کہا اور خود ساتھ بنی ٹک شاپ سے کچھ کولڈڈرنک اور کھانے کی چیزیں لے آیا ۔ پچھلا دروازہ کھول کر چیزیں صائمہ کے ساتھ رکھیں اور کولڈڈرنک اپنی سیٹ کے ساتھ فریزر میں رکھ دیں۔ ٹینک فل ہو چکاتھا۔فیول کی پیمنٹ کی اور گاڑی سٹارٹ کر کے آگے بڑھا دی۔
موٹر وے ٹول پلازہ سےکچھ پہلے میں نے ہمت کرکے اُس کو مخاطب کیا اور کہا کہ صائمہ بھابی ایک بات کہوں آپ مائنڈ تو نہیں کریں گی۔ اُس نے شیشے سے میری طرف دیکھا اور کہا نہیں کہیے۔میں نے کہا کہ اس طرح ہم دونوں چپ رہے تو یہ چار گھنٹے کا سفر کیسے گزرے گا۔آپ مائنڈ نہ کریں تو اگلی سیٹ پر آ جائیں کچھ گپ شپ کریں گے تو سفر اچھا گزرے گا۔
اس پر تھوڑی دیر تو کچھ جواب نہ آیا پھر اُس نے تھوڑا مسکرا کر کہا۔ کہ شکر ہے حامد صاحب آپ کو بھابی کا بھی خیال آیا۔مجھے اُس کی بات سُن کے حیرت کا ایک جھٹکا لگا۔اور میں نے گاڑی سڑک کے ایک سائیڈ پر روک لی۔ اور پیچھے کی طرف مڑ کر پوچھا۔بھابی اس بات سے آپ کا کیا مطلب ہے؟  اُس نے
کہاکہ میں دیکھ رہی تھی جناب آج اُس کالے گٹھے{امجد}کو زیادہ ہی پرٹوکول دے رہے تھے ۔آپ کو کیا ضرورت تھی اُس کو ساتھ لانے کی؟اور اُس کو اپنے ساتھ بٹھا لیا اور مجھے پچھلی سیٹ پر پھینک دیا۔اُس کا چہرہ ایک بار پھر غصے سے سرخ ہو رہا تھا۔میں حیرت سے اُس کو دیکھ رہا تھاکہ ایک بیوی جس کی شادی کو دس سال ہو چکے ہوں اور دو بچے بھی ہوں اپنے شوہر کے بارے میں ایسا سوچ رہی تھی۔ میں تھوڑی دیر تو سوچتا رہا کہ میں کیا کہوں۔ میں نے کہا کہ بھابی آپ یہ کیا کہ رہی ہیں۔ امجد آپ کا شوہر ہے۔ آپ کو اُس کے بارے میں ایسی بات کرنا زیب نہیں دیتا۔ اس پر اُس نے بدستور غصے میں کہا کہ نفرت ہے مجھے ایسے شوہر سے جس نے میری زندگی کو برباد کر کے رکھ دیاہو۔ میرے بچے نہ ہوتے تو میں اس کوکبھی کا چھوڑ کر جا چکی ہوتی۔مگرجاتی بھی کہاں میرا تو کوئی بھی نہیں ہے ایک ماں ہے وہ بھی بیمار پڑی ہے۔ میں کہاں جاوں کس کو اپنا دکھڑا سناوں۔
یہ کہ کر وہ رو پڑی موٹے موٹے آنسو اُس کے خوبصورت گالوں پر بہہ نکلے۔ میں پریشان ہو گیا۔اور سوچنے لگا کہ اس بات کو کیسے سنبھالوں۔ پھر کچھ سوچ کر میں نے ٹشو پیپر کاڈبہ اپنے ڈیش بورڈ سے نکالا اور نیچے اُتر کے پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا اور اُ س کے ساتھ بیٹھ گیا۔وہ ہاتھوں سے اپنے آنسو صاف کر رہی تھی ۔ میں نے اُس کو ٹشو پکڑایا اور اُس کے مزید قریب ہو گیا۔ میں نے کہا بھابی اب رونا تو بند کریں اس طرح میں بھی پریشان ہو گیا ہوں۔ میں آپ کو روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔اور نہ اس حالت میں آپ کو لاہور تک لے کے جا سکتا ہوں۔
اُس نے چونک کر مجھے دیکھا اور کہا نہیں لاہور تو ضرور جانا ہے بچوں کی پڑھائی کا بہت نقصان ہوگا۔ میں نے کہا تو پھر آپ آنسو صاف کریں اور اپنا موڈ ٹھیک کریں۔پھر چلتے ہیں۔ ساتھ ہی میں نے تھوڑا سا آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور آہستہ سے اُس کے نرم ہاتھ کو پکڑااور بولا۔ جہاں تک بات ہے کہ آپ کا کوئی نہیں تو یہ بات آج کے بعد آپ نہ بولیے گا۔ آپ مجھ پر اعتماد کریں یا نہ کریں میں اپنی طرف سے آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں ہر اچھے یا بُرے حالات میں آپ کے ساتھ ہوں۔ اب حیران ہونے کی اُس کی باری تھی وہ مجھے حیرانگی سے دیکھے جا رہی تھی۔تھوڑا سا خاموش رہنے کے بعد وہ مجھ سے بولی کیا واقعی آپ سچ کہ رہے ہیں۔
آپ میرے دوست بنیں گے۔
ہاں ضرور بنوں گا۔
میرا ساتھ دیں گے۔
ہر حالت میں دوں گا۔۔۔
کیامیں آپ سے اپنی ہر بات شیئر کر سکتی ہوں۔۔۔۔
جی بلکل ۔۔۔۔
میرے راز کو راز رکھ سکیں گے۔ ۔۔۔
اپنی جان سے زیادہ آپ کے راز کی حفاظت کروں گا۔۔۔۔۔۔
تو پھر میری اور آپ کی دوستی پکی ۔۔۔۔
جی بلکل موٹروے کی طرح پکی۔۔۔اوروہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
ٹھیک   ہے پھر ملاو ہاتھ۔۔
آپ کا ہاتھ تو پہلے ہی پکڑا ہوا ہے اور کیسے ہاتھ ملاوں۔۔ وہ پھر سے ہنس پڑی اور کہا کہ ایسے۔۔
اور میرے ہاتھ کو سیدھا کیا اور ہم دونو ں نے ایک دوسرے سے مصافحہ کرنے کے انداز میں ہاتھ ملایا۔اورمیں نے کہا بھابی جی پہلے ہی آپ کے رونے دھونے کے چکر میں کافی لیٹ ہو چکے ہیں۔ اب مہربانی کر کے آگے آ جائیں تاکہ سفر شروع کیا جا سکے۔ تو اُس نے انکار کر دیا۔میں نے اپنے
سرپر ہاتھ مارا اور کہا اب کیا ہو گیا۔ اُس نے کہا کہ جب ہم دوست بن چکے ہیں تو بھابی کیوں کہ رہے ہو صرف میرا نام لو گے تو آوں گی۔میں نے کہا اوکے۔۔اور میں اپنے دروازے سے نیچے اُترا اور دوسری طرف سے گھوم کر اُسکا دروازہ کھولا اور بولا۔۔۔ صائمہ جلدی سے نیچے اترو اور اگلی سیٹ پر بیٹھوورنہ میں خود تمہیں اُٹھا کر اگلی سیٹ پر پھینک دوں گا۔ وہ دوبارہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑی ۔اور بولی اوکے نہیں اُترتی خود اُٹھا کر اگلی سیٹ پر پھینک دو۔۔۔میں اُس کی اس اچانک بے تکلفی پر حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور اُس کو اُٹھانے کے لیے آگے بڑھا۔تو وہ ایک دم گبھرا گئی اور بولی اوکے اوکے آتی ہوں راستہ تو دو۔۔ میں پیچھے ہٹ گیا۔ وہ اتری اور واقعی اُچھل کر اگلی سیٹ پر بیٹھ گئی۔میں اپنی سیٹ پر آیا اور گاڑی  سٹارٹ کی اور ہم چل پڑے۔ بابا کی گاڑی ہمیشہ سے میری فیورٹ رہی تھی بہت پاورفل انداز میں موٹروے پر تیرتی ہو جا رہی تھی۔ کافی دیر تک ہمارے درمیان خاموشی رہی۔پھر آخرکار اُس نے خود خاموشی کو توڑا اور کہا کہ
کیا سوچ رہے ہو؟
جوسوچ رہا ہوں اگر بتا دوں تو تم پھر رونا شروع ہو جاو گی۔۔۔ وہ مسکراپڑی اور کہا کہ نہیں رووں گی بتاو۔۔۔
وعدہ۔۔۔
پکا وعدہ۔۔۔
امجد سے اتنی نفرت کی وجہ کیا ہے شکل وصورت تو خدا نے بنائی ہےتمہیں خوبصورت بنا دیا اور اُس کو بدصورت اس میں اُس کا کیا قصور ہے۔۔
میں نے کب کہا کہ میں بدصورتی کی وجہ سے اُس سے نفرت کرتی ہوں۔۔۔
پھر کس وجہ سے کرتی ہو؟
اور بھی بہت سی وجہیں ہوتی ہیں۔۔۔
تو بتاونا کیا وجہ ہےکیا مجھ پر ابھی اعتماد نہیں کیا تم نے۔۔۔
نہیں یہ بات نہیں ہے۔ ۔۔
تو پھر بتاو جب ہم دوست ہیں تو پھر شرماناکیسا؟
تمہاری شادی نہیں ہوئی اس لیے تم نہیں سمجھ سکتے۔۔۔۔
تو سمجھاو نا۔۔۔۔
یارشکل وصورت کے علاوہ میاں بیوی کی کچھ ضرورتیں ہوتی ہیں جب وہ درست طریقے سے پوری نہ ہو سکتی ہوں تو نفرتیں ہی جنم لیتی ہیں۔۔۔۔
کون سی ضرورت اُس نے پوری نہیں کی اُس نے ؟
یار تم نہیں سمجھ سکتے کوئی اور بات کرو۔۔۔۔
میں نے اُ س کی طرف دیکھا اور بولا۔ صائمہ جی میری عمر لگ پھگ 27 سال ہے اور میں یونیورسٹی میں لیکچرار ہوں۔میری یونیورسٹی میں 18 سے 58 سال عمر تک کے سٹودنٹس ہیں۔ اور میں کونسلنگ ٹیم کا ممبر بھی ہوں۔ یہ الگ بات ہے میری شادی کسی وجہ سے نہیں ہوئی لیکن میں ازدواجی تعلقات میں ایک شادی شدہ انسان سے زیادہ معلومات رکھتا ہوں۔ میں صرف تمہارے منہ سے سننا چاہ رہا تھا ورنہ مجھے امجد صاحب کو دیکھتے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ آپ لوگوں کی سیکس لائف ٹھیک نہیں ہے۔ اور اُس کہ وجہ امجد صاحب ہیں اور باقی تمہارے اُن کے ساتھ رویے نے میرا اندازہ یقین میں بدل دیا۔امجد صاحب اس وقت تمہاری سیکس ڈیمانڈ کو پورا نہیں کر پا رہے۔جس کی وجہ سے تم میں زیادہ غصہ پایا جاتاہے۔ اور تمہیں ان کو دیکھتے ہی غصہ آ جاتا ہے۔کیا میں ٹھیک کہ رہا ہوں میڈم؟۔۔۔وہ حیرانی سے میرے منہ کی طرف تک رہی تھی۔ اور پھر اُس نے خاموشی سے سر ہلا دیا اور کہا کہ تم درست کہ رہے ہو۔ آج میرے خیال کے مطابق 3 مہینے ہو چکے ہیں ہمیں سیکس کیے ہوئے۔اب وہ کھل کر بات کر رہی تھی اور میں یہی چاہتا تھاکہ وہ اپنی دل کی بھڑاس نکال دے۔۔۔
وہ کہ رہی تھی کہ۔ 3 مہینے پہلے بھی جو سیکس ہوا تھا وہ 6 مہینے بعد ہوا تھا اور ہوا بھی کیسے کہ امجد کے دوست کے بیٹے کی شادی تھی وہ اُس دن شراب پی کر آیا تھا۔ بچے سوئے ہوئے تھے ۔ شراب کے نشے میں اُس نے مجھے پکڑ لیا۔ اپنے بیڈ پر لے گیا۔میری قمیض اُتار کر کافی دیر میرے مموں پر منہ مارتا رہا اور دانتوں سے کاٹتا رہا۔ میں فل گرم ہو چکی تھی مگر اُس کا لن کھڑا نہیں ہو رہا تھا۔اُس نے کافی کوشش کی مگر بیکار۔۔ میں چونکہ فل گرم ہو چکی تھی اور مجھے لن چاہیے تھا میں نے اُسکا لن ہاتھ میں لے کر کافی مالش کی مگر وہ کھڑا نہیں ہوا۔ میں نے تنگ آ کر اُس کا لن اپنے منہ میں لے لیا اور چوپے لگانے لگی۔یہ کام میں پہلی دفعہ اُس  کے ساتھ کر رہی تھی اس لیے مجھے اُس کےلن میں حرکت محسوس ہوئی اور وہ تھوڑا سا کھڑا ہوا۔ میں نے کہا اس سے پہلے کہ وہ پھر سے بیٹھ جائے میں لیٹ گئی اور اُس کو اندر ڈالنے کو کہا۔اُس بے غیرت نے اندر ڈالا۔ابھی ٹھیک سے اندر گیا بھی نہیں تھا کہ وہ اُسی وقت فارغ ہو گیا۔
میں غصے میں پاگل ہو گئی اور اُس کو ایک ایسا دھکا دیا کہ بیڈ سے نیچے جا گرا اور اُس کو موٹی موٹی گالیاں بھی دیں۔ وہ میر ی منتیں کرنے لگا۔کہ مجھے معاف کردو تم جو کہو گی میں کروں گا۔ اب آپ ہی بتاو کہ جس انسان کی ایسی سیکس لائف ہو وہ کیسے خوش رہ سکتا ہے۔ اُس کو غصہ نہ آئے تو کیا کرے۔۔۔۔۔
یہ سب بیان کرتے ہوئے اُس کا چہرہ شرم سے سرخ ہو رہا تھا۔وہ میرے ساتھ آنکھ بھی نہیں ملا رہی تھی۔میں نے پوچھا کہ تمہاری سیکس لائف کب سے ایسے چل رہی ہےاُس نے کہا کہ چھوٹی بیٹی کی پیدائش کے بعد سے یہی حالت ہے۔ کبھی 6 مہینے بعد کبھی سال بعد اور وہ  بھی اسی طرح کا ادھورا۔۔۔۔۔
اس کے بعد مجھے اُس سے کوئی سوال کرنے کی ہمت نہ ہوئی اور کافی دیر تک ہم میں خاموشی رہی پھر مجھے اچانک سوچ آئی کہ رات تو گزر رہی ہے ۔یہ رات گزر گئی تو مجھے ایسا موقعہ دوبارہ ملے نہ ملے۔ابھی لوہا گرم ہے تھوڑی سی چوٹ مارنے سے میرا کام نکل سکتاہے۔ لہذا میں نے کہا صائمہ آج مجھے پتہ چلا کہ تم صرف اوپر سے ہی نہیں بلکہ اندر سے بھی بہت خوبصورت ہے ۔میں تو یہ کہوں گا کہ تم ایک عظیم عورت ہو۔ اُس نے حیرانی سے مجھ سے پوچھا کہ کیا ہوا اتنی تعریف کس لیے ؟
یہ تعریف نہیں یہ سچ ہے۔ تم جتنی خوبصورت ہو کوئی بھی شخص تم کو اپنی گھر کی رانی بنا کر رکھ سکتا ہے۔ تمہاری جگہ کوئی اور ہوتی تو کب کی خلع لے کے جا چکی ہوتی۔ اور ایک تم ہو کہ بچوں کےلیے تم ایک ایسے شخص کے ساتھ دس سال سے گزارہ کر رہی ہو۔تم واقعی عظیم ہو۔۔۔میرا دل کر رہا ہے کہ میں تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میں نے جان بوجھ کر جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔
اُس نے کہا کہ کیامیں تمہیں آگے بولو۔۔۔
میں کہا کہ رہنے دو ۔۔ کچھ کھاو گی؟
نہیں بات نہ بدلو پہلے جملہ مکمل کرو کہ میں تمہیں۔۔۔ کیا۔۔۔
چھوڑو نا یار ویسے منہ سے نکل گیاتھا۔۔
نہیں بتاو۔۔۔
یار تمہارے غصہ سے ڈر لگتاہے۔۔
نہیں کروں کی غصہ بولو۔۔
وعدہ ۔۔۔
ہاں وعدہ۔۔۔
میں کہنے لگا تھا کہ میرا دل کررہا ہے کہ میں تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں ہاں بولو۔۔۔۔
یار دیکھ لو۔۔
بولو یار وعدہ کیا ہے نہیں کروں گی غصہ۔۔۔
میں تمہیں ایک اچھی سی کسِ کروں۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کہ کر میں نے اپنا منہ دوسری کر لیا۔۔۔
اور تھوڑی دیر بعد بولا اگر ابھی تک تھپڑ نہیں آیا تو میں منہ سیدھا کر لوں۔۔۔۔
وہ ہنس کر بولی بہت بے شرم ہو تم۔۔۔سیدھے دیکھو اور گاڑی چلاو ۔گاڑی چلاتے ہوئے کیسے کس کرو گے؟
میں نے فوراً کہا کہ اچھا اس کا مطلب ہے  گاڑی روک کر کس کر سکتا ہوں۔۔۔۔
میں نے کہا سیدھی طرح گاڑی چلاو کیا اول فول بکے جا رہے ہو۔ہر طرف سے گاڑیاں آ رہی ہیں کوئی دیکھے گا تو کیا کہے گا۔۔۔۔
کوئی نہیں دیکھے گا میں سائیڈ پر اندھیرے میں گاڑی روک لوں گا پھر کس کروں گا۔۔۔۔
کیا خیال ہے پلیز۔۔۔۔
یار کیا کہ رہے ہو۔۔ سڑک پر گاڑیوں کی اتنی لائٹس ہیں اندھیرا کہا ں سے آئے گا۔۔۔۔
اچھا یہ وعدہ کرو کہ اگر کہیں اندھیرا مل گیا تو کرنے دو گی۔۔۔۔
یار کیسی کیسی فرمائش کر رہے ہو۔۔۔
یار مان جاو نا پلیز پلیز۔۔۔۔
اچھا اندھیرا آنے دو پھر دیکھیں گے۔۔۔۔
دیکھیں گے نہیں آپ کہو کرنے دوں گی۔۔۔ پلیز ۔۔۔۔
اچھا فل اندھیرا آیا کوئی لائٹ نہ ہوئی پھرکر لینا۔۔۔۔۔
اوکے منظور۔۔۔۔۔

اورپھر میں نے سائن بورڈ دیکھا کہ اگلا سروس ایریا 2 کلومیٹر کے بعد آ رہا تھا۔میں نے سوچا کہ سروس ایریا کی پارکنگ میں کسی کونے میں اندھیرے والی جگہ مل سکتی ہے۔میں بولا۔ سروس ایریا آنے والا ہےایک ایک کپ اچھی سی کافی کا پیتے ہیں۔ کیاخیال ہے؟۔۔۔ اُس نے کہا جیسے تمہاری مرضی۔۔
تھوڑی دیر بعدمیں گاڑی کو پارکنگ میں لگا رہا تھا۔میں نے جان بوجھ کر جگہ ایسی چنی تھی جہاں لائیٹ بہت کم تھی اور آس پاس کوئی گاڑی بھی نہیں تھی۔ ویسے بھی تقریباً رات دس بجے کا ٹائم تھا اِکا دُکا گاڑیاں تھیں اور وہ بھی دور دور۔۔۔۔
ہم نے گاڑی لاک کی اور ایک ایک کپ کافی کا آرڈر دیا۔بہت کم لوگ تھے مگر جس نے بھی ایک دفعہ صائمہ کو دیکھا وہ دوبارہ ضرور دیکھتا تھا وہ چیز ہی ایسی تھی۔خیر ہم نے گرما گرم کافی پی اور اپنی گاڑی میں آ گئے۔ میں نے گاڑی سٹارٹ کرنے سے پہلےکہا۔ میڈم کیا خیال ہے؟
 اُس نے کہا۔ کس بارے میں؟
میں بھی یہی کہ رہاہوں "کس کے بارے میں" ۔۔۔۔ وہ ہنس پڑی اور کہا تم بہت شرارتی اور ضدی انسان ہو۔ ۔۔۔
تم نے وعدہ کیا تھا۔۔۔
میں نے کہا تھا جہاں لائٹ بالکل نہیں ہوگی یہاں تو تھوڑی لائیٹ ہے۔۔۔۔
میں نے کہا صائمہ پلیز قریب قریب کوئی گاڑی نہیں ہے اور دوسری بات کہ گاڑی کے تمام شیشے کالے ہیں ۔کوئی بندہ ہمیں نہیں دیکھ سکتاپلیز۔۔۔۔
اُس نےکہا اچھا بابا۔۔ اور اپنے گال کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگی کہ جلدی سے یہاں کر لو اور چلو۔۔۔۔
میں نے کہا نہیں میں تمہارے ہونٹوں پر کروں گا۔۔۔۔۔  اچھا بابا جلدی کرو۔۔

میں نے کہا جلدی نہیں آرام سے انجوائے کرو اور اُس کا جواب سننے سے پہلے ہی میں نے اپنا بایاں بازو اُس نے سر کے پیچھے رکھا اور اُ س کو اپنی طرف سرکا لیا اور اپنے دائیں ہاتھ سے اُس کے گال کو سہلانے لگا۔میرا ہاتھ کبھی اُس کے گال پہ ہوتا۔کبھی میں اُسکے کان کی لو پر انگلیوں سے مساج کرتا۔۔ اور پھر گردن پر۔۔۔۔ وہ کافی دنوں سے سیکس کی بھوکی تھی میرے اس تھوڑے سے مساج نے اُس کی اندر کی چنگاری کو مزید سلگا دیا تھا۔ اُس کا جسم گرم ہو رہا تھا۔اُ س نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں اور اُس کے ہونٹ سسکیاں لینے والے انداز میں کھلے تھے لیکن وہ اپنی سسکیوں کی آواز پر قابو رکھے ہوئے تھی۔تھوڑی دیر میں نے یہ کھیل جاری رکھا تاکہ اُس کی آگ کو مزید بھڑکا سکوں۔اب وہ خود اپنے آپ کو میرے قریب کر رہی تھی۔اور اس کا سر میری بغل کے پاس آ چکا تھا اوروہ اپنے منہ کہ اوپر اُٹھا رہی تھی جیسے کہ رہی ہو کہ جلدی سے میرے ہونٹوں کا رس چوس لو ۔۔۔ میں اُس کا اشارہ سمجھ رہا تھا لہذا میں نے اپنے دائیں ہاتھ سے اُس کی ٹھوڑی کو پکڑا اُس کا  منہ اُوپر کی جانب اُٹھایا اور اُس کے گرم گرم ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر چوسنا شروع کر دیا۔وہ اب بھی اپنے اوپر ضبط کیے ہوئے تھی اُس کا منہ بند تھا اور صرف میں باری باری اُس کے اوپر اور نیچے والے ہونٹ کو چوس رہا تھا۔ میں نے اُس کی آگ کو مزید بھڑکانے کا سوچا اور اپنا ہاتھ جو اس وقت اس کی گردن پر تھا اس کو آہستہ سے نیچے کرنا شروع کیا۔اور اس کی چھاتی پر آ گیا۔ واہ کیسے ممے تھے اُس کے۔بالکل گول ، تنے ہوئے اور ایکسٹر لارج سائیزکے۔۔ اور پھر جیسے ہی میں نے اُسکے بائیں ممے کو ہاتھ سے ہلکا سا دبایا۔ اُس کا منہ کھل گیا اور ایک سسکی کی آواز سے اُس نے کہا حامد پلیز۔۔۔۔۔اور ساتھ ہی اُس نے بھوکی بلی کی طرح میرے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا۔اب وہ اور میں باری باری ایک دوسرے کے ہونٹوں کو چوس رہے تھے۔اور میرادایاں ہاتھ مسلسل اُس کے دونوں مموں کا مساج کرنے میں لگا ہو تھا۔۔۔پھر میرے شرارتی ہاتھ نے مزید آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔ اور صائمہ کے پیٹ سے رینگتا ہوا اُس کی ٹانگوں کے درمیان جا پہنچا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Posted on: 03:18:AM 19-Dec-2020


0 0 251 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 75 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 59 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com