Stories


کرن کہانی از نورین خان 25

نامکمل کہانی ہے

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میری بیگم کی طبیعت بہت خراب تھی  مجھے کچھ دن قبل اپنی بیگم کو ہسپتال داخل کروانا پڑا خوش کرنے کے لئے میری بڑی سالی اور اس کی چھوٹی بیٹی کرن ہسپتال میں رہنے کے لیے ایں

میری سالی مجھ سے کافی بڑی ہے عورت کی بڑی بیٹی کرن  کی عمر بھی 18سال ہے جو کہ کالج میں پڑھتی ہے ہمارا آپس میں آنا جانا ہونے کی وجہ سے کرن  اور میرے درمیان کافی بے تکلفی تھی ۔ اس دن میری سالی اور کرن تقریبا دوپہر کے وقت ہسپتال میں آئین  ان دنوں تقریبا مارچ کا مہینہ تھا اور زیادہ گرمی نہ تھی شام کے وقت علی میری سالی گھر جانے لگی تو اس نے خودی کرن کو میرے پاس چھوڑ دیا تاکہ کسی وقت ضرورت  پڑھنے پر کوئی مسئلہ نہ ہو
میں نے ان سے کہا آپ کی رنگ ساتھ لے جائیں مگر وہ اس بات پر ضد کر رہی تھی اسکو ہسپتال میں ہی رکھ لو تاک ضرورت پڑنے پر کوئی مسلہ نا ہو  پھر میں نے بھی کرن کو  روک لیا اور میری سالی گھر واپس چلی گئی آمین اور کرن ہسپتال میں تھے اس کے بعد کرن میری بیوی کے پاس اندر وارڈ میں چلی گئی اور میں باہر بیٹھ گیا
کچھ دیر بعد کرن آئ اور مجھے ایک پرچی دی اور بولی یہ دوا لانی ہے اور اگر مجھے بھوکا نہیں مارنا تو کچھ کھانے کو بھی لے آئین
اور ہنسنے لگی میں نے اس سے عائشہ کا پوچھا وہ کسی ہے تو اس نے کہا وہ ٹھیک ہے ابھی ڈاکٹر نے کچھ نہیں بتایا میں نے کہا ٹھیک ہے اور میں دوا لینے ہسپتال سے باہر چلا گیا
واپس آکر میں نے کرن کو دوا دی اور کہا یہ دے کر آجاؤ باہر جا کر کچھ کھا کر آتے ہیں اس نے شاپر پکڑا اور اندر چلی گئی
تھوڑی دیر بعد کرن واپس آگئی اور بولی میں اپنا موبائل انٹی کو دے آئ ہوں پھر میں اور کرن ہسپتال سے باہر نکل گے اور ایک ہوٹل پر کھا نا کھانے لگے اس دوران ہم یہاں وہاں کی باتیں کرتے رہے کھانا کھانے کے بعد ہم ہسپتال واپس آگے اور وہ دوبارہ وارڈ میں چلی گئی شام کافی ہو چکی تھی بلکے کہ لیں کے رات ہو چکی تھی میں نے وارڈ سے کچھ دور ایک بینچ پر قبضہ کرلیا اور بیٹھ کر موبائل پر فلم دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
رات دس بجے کے قریب کرن کا میسج آیا کہاں ہیں میں نے کہا میں وارڈ سے کچھ دور بیٹھا ہوں اس نے کہا میں باہر آئ تھی آپ تھے نہیں میں واپس چلی گئی میں نے کہا تم کیوں باہر آئ تھی کیا کچھ چاہیے تھا اس نے کہا نہیں انٹی سو گئی ہیں میں بور ہو رہی تھی اسی لئے میں نے سوچا باہر جاتی ہوں میں نے کرن کو رپلائے کیا کے آجاؤ ۔۔۔
تھوڑی دیر بعد میں نے کرن کو دیکھا وہ وارڈ سے باہر نکل کر مجھے ڈھونڈ رہی تھی میں نے کرن کو کو اشارہ کیا اور وہ آ کر میرے ساتھ بینچ پر بیٹھ گئی اور ہم باتیں کرنے لگے کچھ دیر بعد کرن نے کہا کہ انکل میں تھک گئی ہوں یہاں ہی لیٹ جاتی ہوں اور میرا جواب کا انتظار کے بغیر ہی میری ٹانگوں پر سر رکھ کر لیٹ گئی ۔ میں نے پاس پڑی چادر اٹھائی اور کرن کو کہا یہ لے لو تھکاوٹ کی وجہ سے کرن جلدی ہی سو گئی اور میں پھر اپنے موبائل پر فلم دیکھنے لگا
اب میں آپ کو کرن کے مطلق بتاتا ہوں کرن جیسے کے میں بتا چکا ہوں میری بڑی سالی کی بیٹی ہے اور اس کی عمر اٹھارہ انیس سال ہے کرن کا جسم دبلا پتلا ہے اور رنگ گندمی ہے اس کا قد قریب پانچ فٹ سے ایک دو انچ اپر ہو گا اور وہ ایک کالج کی طالبہ ہے کرن بہنوں میں سب سے بڑی ہے کرن میں اور مجھ میں کافی فرانکنسس ہے اور ہم بلا جھجھک ایک دوسرے سے بات کرتے تھے مگر کبھی بھی میرا کرن کے جسم کی طرف دیہان نہیں گیا نا ہی کبھی اس کو دیکھ کر مجھے اسی کوئی خواہش ہوئی شائد اس کی وجہ میرا اسکا رشتہ تھا
اب کہانی کو آگے چلاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
کرن سو چکی تھی اور میں فلم دیکھ رہا تھا اس کا سر میری گود میں تھا اور جس جگہ ہم تھے وہاں لائٹ کم ہی آرہی تھی میں فلم میں کھویا ہوا تھا میں نے غیر ارادی طور پر اپنا ہاتھ کرن کے سینے پر رکھ دیا ۔مجھے اپنے ہاتھ کے نیچے کچھ نرم نرم سا محسوس ہوا میرا ہاتھ ٹھیک کرن کی چھاتی کے ابھار پر تھا ۔۔۔۔۔۔
میرے اندر بجلی سے کوند گئی میرا دیہان اچانک کرن کی طرف ہو گیا
میں کرن کو دیکھنے لگا کرن کا تعلق ایک درمیان درجہ کے گھر سے تھا مگر اس کے باوجود اس میں کافی کشش تھی کرن شائد گہری نیند میں تھی جس وجہ سے وہ مر ہاتھ کو محسوس نا کر سکی میں اپنے ہاتھ کو اس کی چھاتی پر رکھ دیا اور ہلکا ہلکا دبا نے لگا ۔مجھے اس وقت عجیب سا سرور مل رہا تھا میری حالت بری ہو رہی تھی میں نے ارد گرد کے ماحول پر نظر ڈالی تو میں نے دیکھا سب اپنے دیہان سو رہے ہیں میں اپنی انگلیوں سے بدستور کرن کی چھاتی کو دبا تا رہا ۔پھر میں نے اپنا ایک ہاتھ کرن کی چادر میں سے ڈال کر اس کی چھاتی کو پکڑا ۔ کرن نے نیچے برا پہنی تھی جس کی وجہ سے اس کی قمیض فٹنگ میں محسوس ہو رہی
تھی ۔میرا حوصلہ کافی بڑ چکا تھا ۔رات کآ دوسرا پہر شرو ع ہو چکا تھا میرے دماغ میں شیطان حاوی ہو چکا تھا ۔میں نے آہستہ سے کرن کے اپر سے چادر اتار دی اور پھر سے کرن کی چھاتی دبا نے لگا ۔اچانک کرن کا جسم تھوڑا سا ہلا میں نے اپنا ہاتھ وہیں روک دیا اور کرن کو دیکھنے لگا لیکن وہ نہیں اٹھی ۔
میں سمجھ گیا تھا کے وہ گہری نیند میں ہے پھر میں نے اپنا ہاتھ آہستہ سے کرن کی قمیض میں داخل کیا ۔ میرا ہاتھ کرن کی نرم سی چھاتی سے ٹکرا یا اور مجھے اس کی چھاتی کی نپل محسوس ہوئے جن کو میں اپنی انگلیوں سے مسلنے لگا۔ وہ مجھے بہت۔ ٹائٹ محسوس ہوئے میں جذبات کے آخری مقام تک پوھنچ رہا تھا میرا دل کر رہا تھا کے یہ رات کبھی ختم نا ہو ۔اندر ہی اندر کچھ ڈر بھی تھا کے کہیں کرن آٹھ نا جائے لیکن میں اب اپنے آپ کو کنٹرول کرنے پر فیل ہو رہا تھا ۔ کرن اس دوران کثی بار ہلی لیکن اٹھی نہیں اور میں میں سمجھ چکا تھا کے وہ نیند کی پکی ہے ۔۔۔
رات کے تیسرے پہر تک میں کرن کے گلے میں ہاتھ ڈالے اس کی جوان چھاتی کے مزے لوٹ تا رہا ۔اس کے بعد دن کا اجالا چھا نے لگا ۔میں نے اپنا ہاتھ کرن کی قمیض سے نکل لیا اور اس کے اپر پھر سے چادر دے دی تکے اس کو کسی قسم کا شک نا ہو ۔
نجانے کس وقت میں نیند کی وادی میں کھو گیا ۔۔۔۔۔۔
انکل اٹھو اچانک کرن کی آواز میرے کانوں سے ٹکرا آئ
میں بھی اس کے اچانک سے جاگا نے پر گھبرا گیا جب مجھے تھوڑا ہوش ملا تو میں نے دیکھا دن چڑ چکا ہے ۔میں نے کرن کو دیکھا تو وہ بہت خوشگوار موڈ میں تھی اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا اس نے وہ میری طرف بڑھا کر کہا
انکل اے دوائی لے آؤ امی وی آ رے نے
وہ اکثر پنجابی میں بار کرتی تھی
میں جلدی سے اٹھا اور باہر اسٹور پر چلا گیا واپسی پر میں نے دیکھا میری سالی آ چکی تھیں انہوں نے مجھے دیکھا اور بولی لگتا ہے تم ٹھیک سے سوے نہیں میں نے کہا ہسپتال میں نیند کہاں آتی ہے وہ مجھ سے کہنے لگی تم گھر چلے جاؤ اور کرن کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤ تھوڑا آرام مل جائے گا ۔
میں نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملا دی اور کرن کو لے کر باہر آگیا اور ہم ایک رکشہ میں بیٹھ کر گھر کی طرف چل پڑے ۔۔۔
راستے میں میری نظر رکشہ کے شیشہ میں پڑی تو میری نظر پھر کرن کی چھاتی کی طرف چلی گئی ۔میرا جسم پھر گرم ہونے لگا تھا میں بڑی مشکل سے اپنے آپ کو قابو میں کے بیٹھا تھا گھر اترنے کے بعد میں فورنا باتھ میں آگیا جہاں میں نہتے وقت کرن کو سوچ سوچ کر ہاتھ دے ہی جذبات کی تسکین کی ۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر ہو چکی تھی میں کھانا کھانا کھا کر واپس ہوسپٹل آگیا اب میری وائف کی طبیعت کافی بہتر تھی مگر ابھی بھی اس کو ڈسچارج کرنا مشکل نظر آرہا تھا میں نے اپنی سالی سے کہا کے اب وہ گھر چلی جایں اس نے مانا کر دیا میں ملاقات کے وقت اپنی وائف کے پاس آکر بیٹھ گیا ۔شام ہو چکی تھی سورج ڈوب چکا تھا اچانک میں نے اپنا موبائل دیکھا تو کرن کی تین کالز آئ ہوئی تھیں میں نے فورنا اسے کال کی لیکن اس نے میری کالز اتٹنڈ نہیں کی تقریبان 2 منٹ کے بعد ہی کرن اور اس کے ساتھ میری ایک اور سالی اور اس کی چھوٹی بہن ندا جس کی عمر 14 سال تھی وارڈ میں داخل ہوئیں میں ان کے ہاتھ میں کھانا تھا وہ سب بیٹھ کر میری بیگم سے باتیں کرنے لگی اور میں باہر آکر بیٹھ گیا ملاقات کا وقت ختم ہو چکا تھا اور ڈاکٹر کے آنے کا وقت تھا سب کو وارڈ سے باہر آنا پڑا میری میں نے انکو کہا کے آپ سب گھر چلی جایں میری کرن اور ندا باہر رکشا لینے چلی گیں اور میری بڑی سالی نے مجھ سے کہا کے میں کرن کو اپنے ساتھ رکھوں میں نے کہا نہیں باجی عائشہ اب بہتر ہے دل میں میں خوش ہو گیا لیکن یہ سب میں اپر سے ہی کہ رہا تھا لیکن میری سالی نے کرن کو روکنے پر زور دیا میں نے بھی نا نہیں کی کے کہیں انکا ارادہ تبدیل نا ہو جائے ۔۔۔۔
کرن اور ندا اندر آئین کرن کو میری سالی نے کہا کے تم آج رات اپنے انٹی کے پاس روک جاؤ میں نے کرن کو کہا کرن اگر آرام سے روک سکو تو رات کو بھی تم ٹھیک سے سو نہیں سکی کرن بولی
نہیں انکل تسی فکر نا کرو میں روک جانی اں وہ پنجابی میں بولی بلا شبہ اس پر پنجابی لہجہ بہت اچھا لگتا تھا ۔
سب چلے گے اور کرن اندر وارڈ میں چلی گئی کرن نے آج سبز کلر کی اونچی قمیض اور بڑی شلوار پہنی تھی جو اس پر بہت جچ رہی تھی
تھوڑی دیر بعد کرن آئ اور اس نے کہا ڈاکٹر نے کچھ ٹیسٹ لکھ کر دئے ہیں وہ جمع کرانے ہیں میں اس کے ساتھ لیباٹری چلا گیا وہاں بہت رش تھا میں نے کرن کو کہا تم پیسے جمع کرواؤ میں ٹیسٹ والی لائن میں لگ جاتا ہوں کرن میری دا یں جانب لین میں لگ گئی اور میں ٹیسٹ جمع کرنے لی اچانک میرے کانوں میں آواز آئ یار لڑکی چیک کر سبز سوٹ والی میں نے پیچھے دیکھا تو دو لڑکے کرن کو دیکھ کر باتیں کر رہے تھے ۔
مجھے ان پر تھوڑا غصہ آیا پر کرن واقی بہت اچھی لگ رہی تھی ۔۔۔
یاسر اس کی ہپ چیک کر کیسے باہر نکلی ہوئی ہے بندہ ایک ہی بار میں پورا ڈال دے
میری نظر بھی کرن کی ہپ پر چلی گی جو واقی ابھری ہوئی تھی پھر میری باری آگی اور میں جمع کروا کر باہر آگیا اور کوچھ دیر بعد کرن بھی آگئی ۔اور ہم کھانا کھانے باہر کینٹین میں چلے گے ۔۔
کھانا کھانے کے بعدکرن وارڈ میں چلی گئی اور میں پھر باہر بیٹھ گیا اور کل والی رات کے بارے میں سوچنے لگا میرا خیال تھا کے کرن آج نہیں اے گی رات کے گیارہ بج چکے تھے میں اسی بینچ پر بیٹھا تھا اچانک میں نے کرن کو اپنی جانب آتے دیکھا اور اٹھنے لگا کرن نے دور سے ہی ہاتھ کے اشارے سے مجھے بیٹھنے کے لئے کہا اور خود آکر میرے پاس بیٹھ گئی ۔
میں ۔کیا۔ ہوا سو نہیں
کرن ۔نیند نہیں آئ انٹی سو گے نے
میں ۔ پھر تم بھی سو جاتی
کرن ۔ انکل کل دی طرح میں سو جواں گی تسی فکر نا کرو اندر نیند نہیں آندی
میں۔ ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی اندر سے میں خوش ہو گیا تھا مگر اب اور اور مثلا تھا کرن کو سوچ سوچ کر میں اپنے جذبات میں آچکا تھا اور اگر کرن میری گود میں اپنا سر رکھتی تو اس کو فور ا اس بات کا احساس ہو جاتا ۔۔۔
میں نے بڑی ہوشیاری سے ایک چادر کو اپنی گود میں رکھ لیا اور کرن نے پھر میرے گود میں اپنا سر رکھ لیا اور ہم کوچھ دیر گھر کی باتیں کرتے رہے پھر وہ سو گئی ۔
میں نے کرن کو چادر دینے کے لئے ہلکی سی آواز دی مگر وہ نہیں بولی میں سمجھ گیا کے وہ سو چکی ہے ۔میں نے دوسری چادر سے اس کا کوچھ حصہ ڈھانپ دیا ۔آج میں نے چادر کے اندر ہی ہاتھ ڈال لیا اور پھر سے کرن کی چھاتی پر رکھ دیا اچانک مجھے ایک حیرت کا جھٹکا لگا ۔کرن نے آج برا نہیں پہنی تھی میں نے اس کی قمیض اپر سے ہی اس کے بوبس کو مسلنا شرو ع کر دیا اور اپنا ہاتھ قمیض کے اندر لے گیا ۔کرن کے چھوٹے چھوٹے نپلس میرے انگلیوں کو محسوس ہو رہے تھے میں اپنے جذبات کے عروج میں تھا میرے دماغ پر اس وقت بس ایک حوس طاری تھی جو مجھے مزید آگے جانے کو کہ رہی تھی ۔
میں اپنے ہاتھوں سے مجبور ہو چکا تھا میں نے کرن کے اپر سے چادر ہٹا دی اور اس کے پیٹ پر سے قمیض ہٹا دی ہسپتال کی مدھم لائٹ میں کرن کا پیٹ بہت سیکسی لگ رہا تھا ۔میں اس نے ننگے پیٹ پر ہاتھ پھرنے لگا کرن کے جسم میں تھوڑی سی حرکت ہوئی اور وہ پھر ویسے۔ ہی ہو گئی میں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر کرن کی شلوار کے اندر لے گیا ۔کرن نے شلوار میں لاسٹک ڈالا ہوا تھا اس وجہ سے میرا ہاتھ آرام سے ہی اس کی جوان جسم کی صاف پھدی پر پوھنچ گیا جو بلکل صاف تھی شائد آج ہی کرن نے صفائی کی تھی میں اپنی انگلی اس کی لکیر پر پھرنے لگا ۔
اب کرن بھی لمبے لمبے سانس لینے لگی شائد وہ بھی جذبات کے ہاتھوں مجبور ہو چکی تھی کرن نے اپنی ٹانگوں کو تھوڑا سا پھیلا دیا ۔جس سے مجھے اور آسانی پیدا ہو گئی ۔اور میں نے اپنی ایک انگلی اس کے اندر ڈال دی جو کے آدھی اندر چلی گئی اور میں اپنی انگلی کو اندر باہر کرنے لگا ۔کرن بھی لمبے لمبے سانس لینے لگی اچانک کرن تھوڑا سا اپر اٹھی ۔اور گرم سی چیز نے میرے ہاتھ کو بھر دیا کرن چھوٹ چکی تھی میرا ہاتھ اس کی منی سے بھر گیا تھا ۔
میں نے اپنے ہاتھ کو صاف کیا اور ایک بار پھر کرن کی شلوار میں ڈال دیا اس بار میں نے اس نے دانے کو بھی خوب مسلہ کرن پھر گرم ہو چکی تھی اس بار کرن نے اپنی ٹانگوں کو تھوڑا اور کھولا جس سے مجھے اور آسانی ہو گئی ۔۔۔
میں سمجھ گیا تھا کے کرن کے علم میں یہ بات آگئی ہے کے میں کیا کر رہا ہوں وہ بس جان بوجھ کر لا علم بنے کا ڈرامہ کر رہی ہے ۔
میں تھوڑی تیز کر دی ایک دم سے کرن پھر چھوٹ گئی اور اس کی منی نے پھر مرا ہاتھ نہلا دیا ۔میں خود بھی کرن کے ساتھ کھلتے چھوٹ چکا تھا نجانے کب میری آنکھ لگ گئی۔
انکل انکل
کرن کی دبی دبی آواز آئ
میں نے نیند میں پوچھا کیا ہوا کرن
کرن بولی انکل روشنی ہو رہی ہے ہاتھ کڈ لو
میں نے نیند میں ہی پوچھا کیا ہوا یار کرن پھر بولی
انکل میری شلوار چوں ہاتھ کڈو ۔
اچانک مجھے زور کا جھٹکا لگا میرا ہاتھ کرن کی شلوار میں ہی تھا میں نے کھینچ کر اپنا ہاتھ باہر نکل لیا مجھے بہت شرمندگی محسوس ہو رہی تھی کرن اٹھ کر وارڈ میں چلی گئی ۔۔۔۔۔
میں وہیں بینچ پر بیٹھ گیا اور پھر سے سونے کی کوشش کرنے لگا مگر اب مجھے نیند نہیں آ رہی تھی ۔میں نے اٹھ کر ہاتھ مو دھویا اور ان کے لئے ناشتہ کا انتظام کرنے چلا گیا ناشتہ لا کر میں نے کرن کو میسج کیا کے انٹی کو باہر لے آؤ تھوڑی دیر بعد وہ دونوں باہر آگیں ہم نے مل ناشتہ کیا اس دوران کوئی خاص بات نی ہوئی پھر وہ ناشتہ کر کے اندر چلی گئیں ۔
میں تھوڑا شرمندہ تھا تھوڑی دیر بعد کرن آئ اور بولی تھوڑی دیر میں انٹی کو چھٹی دے دیں گے اب وہ ٹھیک ہیں میرا توجہ اس خبر کی بجاے کرن کی طرف تھی اس کا لہجہ نارمل تھا میں نے ڈرتے ڈرتے کرن کو کہا ..
کرن آئ ام سوری
کرن۔ کس گل دی وہ اپنے مخصوص لہجہ میں بولی
میں ۔رات والی بات کی ۔
کرن ہلکا سا مسکرائی اور بولی
مینو تے پرسوں دا وی پتا اے پر میں کیا انکل نوں کڑی لابی اے تھوڑی موج کر لین
کرن کا جواب میرے لئے حیرت تھا ۔
وہ ہلکا سا مسکرائی اور اندر چلی گئی اب میں کافی ری لیکس تھا ۔
دوپہر تاک چھٹی کے کوئی اثر نظر نہیں آ رہے تھے ۔میں نے کرن کو بلا کر کہا تم گھر چلی جاؤ تکے کپڑے بد ل لو اور آرام بھی ہو جائے گا کرن نے مجھ سے کہا کے شائد شام تاک چھٹی ہو جائے تو ایک ہی بار گھر جایں گے ۔میں نے امی کو بھی مانا کر دیا ہے کے وہ ہسپتال نا ایں ۔میں سمجھ چکا تھا کرن خود ہی نہیں جانا چاہتی میں دل ہی دل میں خوش ہو گیا ۔
شام ہو چکی تھی مگر ایک رپورٹ کی وجہ سے ابھی تاک چھٹی ملنا مشکل تھی ہم کھانے سے فارغ ہو چکے تھے ۔آخر ڈاکٹر سے میں نے خود بات کی ڈاکٹر نے مجھ سے کہا آپ کی بیگم کو صبح چھٹی ملے گی اب وہ ٹھیک ہیں میں نے کہا ٹھیک ہے جیسے آپ کو بہتر لگے ۔میں باہر آکر بیٹھ گیا کرن کو میں نے بتا دیا کے آج کی رات اور روکنا پڑے گا ۔
رات ہو چکی تھی مگر اب ایک اور پریشانی کا سامنا ہو گیا تھا جس سے میری امید پر پانی پر گیا کس جگہ ہم دونوں بیٹھتے تھے وہاں پہلے سے ہی کوئی عورت لیٹ چکی تھی میں پاس میں ہی ایک پاتھ پر بیٹھ گیا اور دل ہی دل میں اپنی غلطی کو کوسنے لگا ۔تمام بینچ ملے جا چکے تھے اتنے میں کرن آئ اور میرے ساتھ آکر بیٹھ گئی اور تھوڑا ہنسی میں سمجھ گیا وہ کیوں ہنس رہی ہے کیوں کے ہمارا بینچ مالا جا چکا تھا ۔
میں نے کرن کو کہا تم اندر جا کر سو جاؤ میں بیٹھ کر رات گزر لوں گا وہ کہنے لگی مجھے اندر نیند نہیں آتی میں بھی باہر ہی بیٹھ جاتی ہوں ۔میں نے کہا چلو ایک کپ چاہے کا پی آتے ہیں اور ہم ہسپتال سے باہر ایک ہوٹل میں آگے جہاں میں نے دو کپ چاۓ کا آرڈر دیا ۔چاۓ پینے کے بعد ہم ہوٹل سے نکلے تو ایک لڑکا دوڑا دوڑا ہمارے پاس آیا اور بولا روم سر روم سر میں نے کہا نہیں چاہیے یار وہ کہنے لگا سر روم لے لیں سستا 50 پرسینٹ آف ہے اچانک میرے دماغ میں خیال آیا کیوں نا روم لے لیں میں کی کرن کو پوچھا کرن روم لے لیں ؟
کرن نے میری طرف دیکھا اور تھوڑا گھبرا کے بولی دیکھ لو انکل
میں نے کرن کا ہاتھ پکڑا اور ہم ہوٹل کی طرف چل پڑے ہوٹل پر جا کر اس لڑکے نے کہا صاحب کو روم چاہیے اور خود اس نے ہوٹل والے سے ٹپ لی اور چلا گیا ہوٹل والے نے میرے ساتھ کوئی اضافی سوال جواب نہیں کیا اور ضروری معلومات لینے کے بعد مجھے کہا پانچ سو روپے میں نے پانچ سو کا نوٹ نکال کر ڈیسک پر رکھ دیا اور اس نے ایک چابی مجھے دی جس پر 16 نمبر کا لوگو تھا اس نے مجھے کہا اپر چلے جایں تمام روم تقریبن خالی تھے ایک دو رومز میں لائٹ جل رہی تھی ہم 16 نمبر روم میں آگے۔
میں اور کرن روم میں آگے یہ ایک چھوٹا سا مگر صاف ستھرا روم تھا جس میں ایک سنگل بیڈ ساتھ میں ایک الماری اور ایک اٹیچ باتھ تھا ۔ میں بیڈ پر بیٹھ گیا اور کرن باتھ میں فریش ہونے چلی گئی میں اٹھا اور سامان اٹھا کر الماری میں رکھنے کے لئے الماری کھولی اندر کوچھ چیزیں پڑی تھیں جن میں ایک آئل کی شیشی 2 کنڈوم کے پیکٹ اور کچھ کاٹن کا بچا رول ۔ شائد ہم سے آنے سے پہلے والے یہاں ہنی مون مانا کر گے تھے ۔میں نے جلدی سے وہ سامان اٹھا کر سائیڈ پر رکھ دیا اور اپنا سامان الماری میں رکھ دیا ۔
اتنے میں کرن بھی باتھ سے نکل کر آگئی اور آکر میرے ساتھ بیٹھ گئی میں کمرے میں کچھ دیر خاموشی رہی پھر میں کی کرن کی گردن کے پیچھے سے اپنا ہاتھ ڈال کر اس کو اپنے قریب کیا اور کہا آج سر نہیں رکھنا کرن تھوڑی پرشان دکھائی دے رہی تھی ۔ کرن نے اپنا سر میری بازو پر رکھ لیا میں سمجھ گیا وہ اب تیار ہے
میں کرن کی توجہ ہٹانے کے لئے اس سے گھر کی باتیں کرنا شروح کر دیں اور ساتھ اپنا ہاتھ اس کے پیٹ پر پھرنے لگا کرن میری باتوں کا مختصر جواب دے رہی تھی کچھ منٹ میں اپنا ہاتھ کرن کے اور نیچے اس کی ٹانگوں میں لے گیا کرن کے کوئی حرکت نہیں کی اب میرے ایک ہاتھ کی انگلی رک کرن کے نیچے والے ہونٹوں پر اور دوسرے کی اپر والے ہونٹوں پر پھرنے لگا کرن کے دونوں جگہ کے لیپس بہت ہی سوفٹ تھے میں دونوں جاگا مساج کرنے لگا کرن بھی اب چپ کر گئی تھی اور میرے ہاتھوں سے لطف اندوز ہو رہی تھی ۔ میں مسلسل اس کے دونوں طرف اپنی انگلی سے مساج کرتا رہا کرن کا جسم گرم ہو چکا تھا اور وہ لمبے لمبے سانس لے رہی تھی اس کی آنکھیں جذبات سے سرخ ہو چکی تھیں میرا خود جذبات سے برا حال تھا مگر میں جلدبازی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ کرن اپنی زبان میری انگلی کو لگاتی اور واپس لے جاتی کرن کے ہونٹوں سے اس کا لعب نکل کر گل پر بہنے لگا اور نیچے سے اس کی ٹانگوں میں پانی آنے لگا ۔میں نے کرن کے کان میں ہلکا سا کہا کرن تھوڑی ٹانگیں کھولو کرن نے اپنی ٹانگوں کو تھوڑا پھیلا دیا میں نے اپنی ایک انگلی اس کے اندر ڈالی ساتھ کی کرن کی منہ سے سسس کی کی آواز نکلی اور اس نے اپنے ہاتھ میرا نیچے والا ہاتھ پکڑ لیا اور بولی
اہ انکل آرام نال تے کرو
میں نے اس کی کوچھ بات سنی ان سنی کی اور پوری انگلی اس کے اندر ڈال دی اور اندر باہر کرنے لگا میں نے پہلی بار کرن کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ کر اس کو چوما مجھے اس کے لعب کا ذائقہ بہت اچھا محسوس ہوا میں نے اپنے ہونٹ کرن کے ہونٹوں میں پیوست کر دئے اور نیچے سے انگلی بھی تھوڑی تیز کردی ۔
اچانک کرن نے خود ہی اپنی گھٹنوں تک اتار دی ایک دو سیکنڈ کے بعد کرن کی ٹانگوں کے بچ سے ایک ابھلتا ہوا لاوا میرے ہاتھ کو بھگو گیا ۔
وہ نڈھال سی ہو کر پھر بیڈ پر گر گئی میں نے جلدی سی کرن کی پوری شلوار اتار دی جس پر کرن نے کوئی مزاہمت نی کی میں نے شلوار اٹھا بیڈ کے سائیڈ میں رکھ دی۔ کرن کے لاوے کی خوشبو پورے کمرے میں پھیل چکی تھی میں نے کاٹن نکالی اور اس کی ٹانگوں کو صاف کیا اور کرن کی ٹانگوں کی طرف بیٹھ گیا ۔
کرن کی آنکھوں میں مستی چھائی تھی میں نے کرن کی ٹانگوں کو اور پھیلایا اور اس کی پیاری سی سیکس سے بھرپور پھدی کو چوما اور اس کی لین میں زبان پھیری میں مے ایسا کبھی اپنی بیوی کے ساتھ بھی نہیں تھا کیا ایسا کرنے سی کرن نے اپنے ہاتھوں سی میرے سر کو اپنی ٹانگوں کے درمیان سی ہٹانا چاہا لیکن میں جانتا تھا کے اب اس کو کنٹرول نا کیا تو کبھی قابو نہیں اے گی ۔میں نے چاٹنا شروع کیا تو کرن بولنے لگی۔
اہ انکل کی کر رے اؤ
نا کرو گندی اے
انج نا کرو پلیز نا چٹو
اہ انکل نا کرو نا
میں نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا اور اپنا کام جاری رکھا میں نے اپنے ہاتھوں سی اس کے ہاتھ پکڑ لئے جن میں بلکل زور نہیں تھا اور اپنے ہونٹ اس کی پھدی میں پیوست کر دئے ۔
میں خود بھی جنونی ہو چکا تھا میں اٹھا اور کرن کی قمیض بھی اتار دی اب کرن الف ننگی تھی ۔کرن کا ننگا جسم دیکھ کر میں اور بھی جوش میں آگیا میں نے اپنی پینٹ بھی اتار دی اور آئل والی شیشی سی کرن کی پھدی کو بھگو دیا کرن کسی قسم کی مزاہمت نہیں کر رہی تھی ۔
میں نے کرن کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لیں اور ایک تجربہ کار آدمی کی طرح اس کی نازک پھدی کے منہ پر پر لن رکھ دیا کرن بھی جان چکی تھی مگر اب کوئی گنجایش نہیں تھی آگ دونو ں طرف لگی تھی ۔
میں نے آرام سی کرن کے اندر ڈالنا شروح کیا لیکن مجھے زیادہ دشواری کا سامنا نہیں ہوا بلکے تیل اور پانی کی وجہ سی میرا لن پھسلتا ہوا کرن کے اندر جا رہا تھا ۔
کرن کے بیڈ کی چادر کو زور سی پکڑ رکھا تھا سر میں نے ایک بار باہر نکالا اور ایک دم ذرا زور لگا کر اندر ڈالا جس سی کرن کو تھوڑا درد ہوا
انکل آرام نال کرو
پا ڑ نی جے میری
سسہ کرو
باہر کڈ لو
انکل زور لاو
کرن اس پتا نہیں کیا کچھ کہے جا رہی تھی میں اس کی باتوں کا کوئی جواب نہیں دے رہا تھا مجھ پر اس وقت سکس کا نشہ سوار تھا ۔
کرن کی آہوں سی کمرہ گونج رہا تھا جھٹکوں سی بیڈ ہل رہا تھا
جو کچھ دن تک میرے لئے بچوں کی طرح تھی آج ایک عورت کی طرح میرے نیچے ننگی لیتی تھی ۔آخر میں بھی ڈسچارج ہو گیا اور کرن کے اپر نڈھال سا ہو کر گر گیا گرتے ہی نیند میں ایسا ڈوبا کے کوئی ہوش ہی نہیں
میری آنکھ کھلی تو ابھی رات کافی باقی تھی صبح کے پانچ بج رہے تھے میری نیند کھل چکی تھی پر کرن ابھی تک اسی طرح سو رہی تھی میں باتھ میں گیا اور فریش ہو کر واپس کرن کی ساتھ آکر لیٹ گیا اور کرن کی جسم پر ہاتھ پھیرنے لگا کرن گہری نیند میں تھی ۔آدھا گھنٹہ گزر گیا میں کی کرن کو اٹھایا.کرن بھی اٹھ گئی اور فرش ہو کر میرے ساتھ ہی ننگی لیٹ گئی ۔میں نے اس کو اپنے ساتھ لپٹا لیا
کرن ۔انکل اک گل پوچھا
میں نے کہا ہاں پوچھو
وہ تھوڑا شرماتے ہوئے بولی
پورا اندر گیا سی
میں نے کہا ہاں بلکے بہت آرام سے تم کو بھی لگتا ہے زیادہ درد نہیں ہوا پہلے کبھی کیا ہے کسی کے ساتھ
کرن گھبرا کر بولی
نئی انکل ایسی کوئی گل نہیں
میں نے کہا پھر کیا وجہ ہے انگلی کرتی ہو
وہ شرما گئی
میں نے کہا کوئی بات نہیں سب ہی کرتے ہیں ویسے بھی اب تم کنواری نہیں رہی ۔
کرن کپڑے پہنے لگی اور ساتھ بولی
انکل ایک گل ھور دسو
میں نے کہا کیا
وہ تھوڑی شرمندہ سی ہو گئی
میں نے کہا پوچھو نا تم تو شرما رہی ہو
تسی جدوں میری چٹی سی تا نو عجیب نہیں لگا ؟
میں نے کہا نہیں یہ سب ہوتا ہے سیکس میں ویسے بھی مجھے بہت اچھا لگا تم کو کیسا لگا ؟
سہی دساں تے مینو وی
پھر وہ مسکرا دی
صبح کے 6 بج چکے تھے ہم ہوٹل چھوڑ کر ہسپتال آگے میری بیگم ابھی تک سو رہی تھی ہم پھر باہر آگے اور ناشتہ کرنے لگے میں نے کرن کو اس کی مرضی کا ناشتہ کروایا پھر ہم نے سینڈوچ لئے اور ہسپتال آکر بیگم کو ناشتہ کروایا ۔اس کے بعد کرن وارڈ میں ہی رہی اور میں باہر آگیا تھوڑی دیر کے بعد کرن کا میسج آیا کے texi کا انتظام کریں انٹی کو چھٹی ہو گئی ہے۔
ہم گھر واپس آگے کرن بھی ہمارے ساتھ ہی تھی میں نے کرن کی والدہ کو فون کر کے بتا دیا کے ہم کرن کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے کر جا رہے ہیں ان ہوں نے خوشی سے اجازت دے دی میں نے کرن کو کہا تم دوسرے کمرے میں جا کر خوب سو لو کرن روم میں جا کر سو گئی ۔
شام کو کرن بھی اٹھ گئی اور ہم مل کر کھانا کھانے لگے میں نے جان بوجھ کر کرن کو تھوڑا اگنور کیا تا کہ بیگم کو کوئی شک نا ہو کرن بھی ایک سمجھ دار لڑکی تھی شائد اس بات کو سمجھتی تھی
اب رات ہو چکی تھی میری بیگم ٹی وی دیکھ رہی تھی اور کرن کچن میں کام کر رہی تھی میں کچن میں گیا تو کرن بولی
انکل ویسے ایک گل اے
میں نے کہا کیا
ہن معشوق دی کن نو پرواہ اے
میں کی کرن کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اس کو کس کیا اور کہا تھوڑا انتظار تو کر لو وہ مسکرا دی اور میں باہر آگیا ۔
رات ہو چکی تھی میں نے اپنی بیگم کو میڈ یسن دی جن میں نیند کی گولیاں بھی تھیں اس کے بعد میں پاس چیر پر بیٹھ گیا اور کرن میری بیگم کے ساتھ بیٹھ گئی اور ہم باتیں کرنے لگے
تھوڑی دیر کے بعد میری وائف نیند کی آغوش میں چلی گئی ہم تھوڑی دیر اور باتیں کرتے رہے جب میں نے دیکھا کے میری بیگم پوری طرح سو چکی ہے تو میں اپنے بیڈ سے اٹھا اور کرن کو بچوں کی طرح اپنی باہوں میں اٹھا لیا اور ساتھ والے بیڈ روم میں لے آیا ۔اور کرن کو بیڈ پر لٹا دیا ۔کرن بھی سمجھ چکی تھی کے کیا ہونے لگا گے میں نے سب سے پہلے کرن کا دوپٹہ اس کے گلے سے نکال کر فرش پر پھینک دیا کرن نے کوئی مزاحمت نہیں کی ۔پھر میں کرن کی قمیض اترنے لگا کرن نے کہا
انکل انٹی نا اٹھ جائے ؟
میں نے کرن کو کہا تمہاری انٹی کو نیند کی گولیاں دی ہیں صبح تک تو نہیں اٹھ سکتی ۔پھر میں نے کرن کے کپڑے اترنے شرو ع کر دئے کرن آرام سے اپنے کپڑے اتروا رہی تھی ۔کرن پوری ننگی ہو چکی تھی میں نے بھی اپنی شرٹ اتار دی اور کرن کے اپر لیٹ کر کرن کو کس کرنے لگا کرن بھی میرا ساتھ دے رہی تھی ہم دونوں اپنے ہونٹوں سے ایک دوسرے کے ہونٹ چوستے کرن بھی گرم ہو چکی تھی ۔اب میں تھوڑا نیچے ہوا اور کرن کی بریسٹ چوسنے لگا کرن کی شرم بھی اتر چکی تھی کرن میرے نیچے سے نکلی اور سائیڈ لیٹ گئی اور بچوں کی طرح میرا سر پکڑ کر اپنے بریسٹ پر دبانے لگی ۔
اہ انکل چوسو نا
پیو میرا دودھ
پیو لو نا انکل اپنی بھانجی دا دودھ
کرن مجھے پتا نہیں کیا کوچھ کہ رہی تھی مجھے بھی جوش آرہا تھا میں اور تیزی کے ساتھ کرن کے نپلس چوس رہا تھا اور وہ اپنا ہاتھ میرے سر میں پھر رہی تھی ۔مجھے اس کے جوان بوبس چوس کر بہت مزہ آرہا تھا
کرن میری جان کیا بوبس ہیں تمہارے بہت مزہ آرہا ہے میں نے کرن کو کہا
ہاں انکل چوسڈے رہو
زور لا کے چوسو
میرا کنوارہ دودھ پی لو
پھر اب میرے سے بھی رہا نہیں جا رہا تھا میں اٹھا
اور اپنا ٹراوسر دیا ۔اب میں بھی فل ننگا تھا ۔
کرن ۔انکل پھدی چٹو نا آج وی
میں۔ اچھا میری جان کو اچھا لگتا ہے ؟
کرن ۔ہاں انکل کل بہت مزہ آیا سی
میں ۔اچھا میری جان پر مجھے کیا ملے گا ۔
کرن۔ جو مرضی مانگ لو پر میری پھدی چٹو
کرن اپنی پھدی چٹوانے کے لئے بہت بیتاب ہو رہی تھی ۔
میں نیچے لیٹ گیا اور کرن کو اپنے اپر آنے کے لئے کہا
 کرن  میرے منہ پر آکر بیٹھ گئی اور اپنی پھدی کے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رگڑنے لگی ۔
آہ چٹو انکل
پلیز چٹو نا
آہ زور نال چٹو
میں اپنی زبان کرن کے اندر تک ڈال رہا تھا کرن کی پھدی کا نمکین پانی میری زبان کو محسوس ہو رہا تھا میں کرن کی پھدی کے دانے پر اپنی زبان رگڑتا جس سے کرن کو اور جوش آتا کرن پلنگ پر گھوڑی بنی تھی اور میرا منہ اس کی پھدی کے بلکل نیچے تھا میں ایک ہاتھ سے اپنا لن گرم کر رہا تھا ۔اچانک کرن اپنے اپر قابو نا رکھ پائی اپنا پانی چھوڑ دیا ۔میں اس کے نیچے سے نکلا اور اس کے پیچھے آگیا اور اپنا لن اس کی پھدی میں رکھا اور اندر ڈالنے لگا ۔کرن تھوڑا ٹھنڈی ہو چکی تھی پر ابھی بھی گرم تھی چھوٹنے کی وجہ سے کرن کی پھدی کا راستہ چکنا ہو چکا تھا ۔کرن اب میرے آگے گھوڑی بنی اور میں اس کے پیچھے تھا میں نے کرن کے بوبس دبانے لگا جس سے کرن اور گرم ہو گئی اور میرا لن آرام سے اس کے اندر جانے لگا اب جو جھٹکے لے لے کر میرا لن اندر ڈال رہی تھی ۔
کرن کھل کر سکس کر رہی تھی میں نے کرن کو کان میں کہا کرن کیسا لگ رہا ہے
کرن بولی انکل بہت مزہ آرہا ہے
کاش میں تا ڈی بیوی ہوندی
آج توں میں تا ڈی بیوی اں
جی ویں دل کرے مینو چودو میں کدی نا نی کرا ں گی ۔
میں نے کرن کو سیدھا لٹا دیا اور کرن کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لیں اور ایک ہی جھٹکے میں سارا کرن کے اندر اتار دیا
میں اپنے لن کو باہر نکلتا اور پھر اندر ڈال دیتا کرن کی پھدی پوری طرح سے کھل چکی تھی ۔
کرن بھی لمبے لمبے سانس لے رہی تھی میں نے ایک زور کا جھٹکا لگایا میں کرن کے اندر ہی چھوٹ گیا ۔اور کرن کے اوپر گر گیا
 کرن دو بار چھوٹ چکی تھی جس وجہ سے بہت تھک چکی تھی ۔میں کرن کے اپر سے اٹھا اور کرن کو اپنے اوپر لٹا لیا ۔اور کرن کے ہونٹ چومنے لگا کرن بے جان سی میرے اوپر گری ہوئی تھی اور کوئی حرکت نہیں کر رہی تھی ۔اور میں اس کے نرم ہونٹ چومتا جا رہا تھا کرن کے بال میرے چہرے پر تھے جن میں سی آتی خوشبو مجھے مدہوش کر رہی تھی ۔تھوڑی دیر بعد کرن کے ہونٹوں میں بھی حرکت پیدا ہوئی اور وہ بھی میرا ساتھ دینے لگی ۔میں کرن کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرنے لگا ۔کرن پھر گرم ہونے لگی کرن تھوڑا اور اوپر ہوئی اور اپنی بریسٹ میرے منہ میں ڈال ڈی میں نے اپنے بازوں سے کرن کی کمر کو دبا لیا اور زور زور سے کرن کی بریسٹ چوسنے لگا کرن کے نیپلز بہت ٹائٹ ہو چکے تھے میں بھی دوبارہ گرم ہو چکا تھا اب مزید میرے لئے برداشت کرنا مشکل تھا میں اٹھا اور کرن کو اپنے بیڈ کے کنارے پر لٹا دیا اور ایک ہی جھٹکے میں پورا کرن کے اندر ڈال دیا ۔کرن نے اپنی ٹانگیں میری کمر کے گرد لپٹا لیں اور مجھے زور سے پکڑ لیا جس وجہ سے میرا پورا سٹوک پوری طاقت سے کرن کو لگ رہا تھا اور اس کا پتلا جسم زور زور سے جھٹکے کھا رہا تھا ۔
آہ انکل
چودو
سہ چودو
انکل ھور زور نال
زور نال چودو
کرن جوش میں مجھے فل زور سے چودنے کا بولنے لگی اور میں بھی کرن کو زور زور سے چود رہا تھا ۔پھر میں سیدھا لیٹ گیا اور کرن کو کہا کرن اوپر آؤ کرن نے میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اپنی پھدی کے منہ پر رکھ کر اندر لینے لگی دو ہی جھٹکوں میں کرن پورا اندر لے گئی ۔ اب کرن خود ہی سٹوک لے رہی تھی ۔کرن کے ہونٹ میرے ہونٹوں میں چپک گے تھے اور میں دونوں ہاتھوں سے کرن کے بوبس دبا رہا تھا ۔میرا پورا لن کرن کے اندر تھا ۔
کرن سٹوک لگا لگا کر تھک چکی تھی کرن نے مجھے کہا بس انکل ھور نہیں ہوندا
بس کر دیو کرن کا جسم ٹھنڈا ہونے لگا تھا ۔
میں نے دوبارہ کرن کو نیچے لٹا لیا اور اس کی ٹانگیں کھول کر بیچ میں ڈال کر جوش سے چودنے لگا ۔کرن لمبے لمبے سانس لے رہی تھی اب میں بھی چھوٹنے والا تھا میں نے کرن کے اندر ہی فارغ کر دیا ۔جیسے ہی میں نے اپنا لن کرن کی پھدی سے باہر نکالا میری منی کرن کے سوراخ سے باہر نکال آئ ۔کرن اٹھی اور باتھ میں چلی گئی اندر سے مجھے نہانے کی آواز آئ ۔تھوڑی دیر بعد کرن شاور لے کر باہر نکلی ۔وہ بہت تھکی دکھائی دے رہی تھی اور کپڑے پہن نے لگی ۔میں نے کرن کو کہا کرن تم انٹی کے کمرے میں جا کر سو جاؤ تا کے اس کو کوئی شک نا ہو میں نے کرن کو ایک کس کیا اس کی آنکھوں میں نیند کی وجہ سے مدہوشی چھائی تھی میں جانتا تھا اب اس کو ایک لمبی نیند کی ضرورت ہے ۔
اس کے بعد میں نے بھی شاور لیا اور سو گیا ۔
صبح آٹھ بجے دودھ والے نے گھنٹی بجائی میں نے دودھ لیا اور اپنی بیگم کے کمرے میں آیا میری دونوں بیویاں بہت مزے سے سو رہی تھیں میں نے اپنی بیگم کو اٹھایا اور کہا میں ناشتہ لینے جا رہا ہوں تم فریش ہو جاؤ اس نے کرن کو اٹھانا چاہا میں نے مانا کر دیا اور بولا یار تین دن سے جاگ رہی ہے سونے دو ابھی اس نے بھی ہاں میں سر ہلایا اور آرام سے باہر آکر بیٹھ گئی اور میں ناشتہ لینے چلا گیا ۔
میں واپس آیا تو کرن بھی اٹھ چکی تھی اور بہت تھکی لگ رہی تھی کرن نے ناشتہ کرنے کے بعد مجھے کہا انکل مینو تسی گھر چاد آؤ
میں نے کہا ایک دن اور رہ جاؤ۔
کرن بولی نہیں انکل کالج دا بہت کم اے حور چھٹی نہیں کر سکدی
میں نے کہا ٹھیک ہے ۔
ناشتہ کرنے کے بعد میں نے کرن کو کہا میں گاڑی نکلتا ہوں تم آجاؤ اور میں باہر آگیا اور گاڑی نکال کر کرن کا ویٹ کرنے لگا ۔کرن آکر آگے والی سیٹ پر بیٹھ گئی اور میں نے گاڑی چلا دی ۔کرن کچھ چپ چپ تھی میں نے کرن کو کہا
کرن جان ناراض ہو
کرن ۔نہیں انکل
میں۔ پھر اتنی چپ کیوں ہو
کرن ۔انکل رات نوں جس طرح تسی مینو چودہ اے میری جاگا سوجھ گئی اے ۔
میں۔ پریشان نا ہو ٹھیک ہو جائے گی پہلی پہلی بار ایسا ہوتا ہے ۔
کرن ۔انکل دوسری گل رات نوں تسی میرے اندر ہی فارغ کی تا سی کوئی مسلہ نا ہو جائے ۔
میں نے گاڑی روکی اور دیش بوڈ سے ایک گولیوں کا پتا نکالا اور اس میں سے ایک گولی نکال کر کرن کو دی میں نے اس سے کہا کرن یہ کھا لو اس سے بچے والا مسلہ نہیں ہو گا ۔کرن نے پانی کے ساتھ وہ گولی کھا لی اب وہ پر سکوں دکھائی دے رہی تھی گھر سے تھوڑا فاصلے پر کرن نے کہا انکل گاڑی روکو ۔میں نے گاڑی روک دی کرن کے کہا اپنی بیوی نو کس نہیں کرنا ؟ میں نے کرن کو اپنے ساتھ لگا لیا اور زور سے کرن کے ہونٹوں پر کس کی ۔کرن پھر بولی بس انکل میں نے کہا اور تم بتاؤ کرن نے کہا سارے ہونٹاں تے ۔میں سمجھ گیا پھر اس نے سیٹ فل پیچھے کی اور اپنی شلوار تھوڑی نیچے کر دی میں آگے ہو کر اس کی پھدی کو زور سے چا تا جس سے کرن کی آ ہ نکال گئی کرن ٹھیک کہ رہی تھی اس کی پھدی سوجھی محسوس ہو رہی تھی ۔
مجھے اندر ہی اندر تھوڑی شرمندگی بھی ہو رہی تھی کے میں نے رات کرن کو بری طرح چودہ تھا ۔اس کے بعد میں کرن کو ڈراپ کر کے واپس آگیا ۔
اس کے بعد ہم کافی دن تک نہیں مل سکے لیکن موبائل پر چیٹ کرتے کرن ہر بات مجھے بتاتی رات کو کئی بار ہم فون پر سیکس کرتے وہ پورے جوش کے ساتھ انگلی کرتی ۔ایک دن کرن نے مجھے کالج بلایا میں میں رش کی وجہ سے تھوڑا لیٹ ہو گیا ۔ جب میں کالج پوھنچا تو کرن اور اس کی ایک دوست میرا انتظار کر رہی تھیں میں نے گاڑی تھوڑا پاس لا کر کھڑی کر دی کرن اگے بیٹھ گئی اور اس کی دوست پیچھے ۔کرن کہنے لگی انکل یہ میری دوست ثوبیہ ہے ۔میں نے کہا اچھا اب بتاؤ بلایا کیوں تھا کرن ہلکا سا مسکرائی اور بولی ویسے ہی انکل جی ہم آپ کو بلا نہیں سکتی پھر وہ ہنسنے لگیں ۔میں انکو لے کر آج جوس کارنر پر آگیا اور ملک شیک کا آرڈر دیا ۔ کرن نے اپنے بیگ میں سے ایک گفٹ نکالا اور مجھے دیا یہ ایک گرین کلر کے پیپر میں لپٹا ہوا تھا اور ایسا لگتا تھا پڑی جلدی میں پیک کیا ہے میں کھولنے لگا تو کرن نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا ۔
انکل آنی جلدی کی اے آرام نال بعد وچ کھول لینا ۔
میں نے وہ اسی طرح دیش بوڈ میں رکھ دیا اور انکو گھر اتار دیا ۔
شام کو میری بیگم کی دوست آگئی اور وہ اس کے ساتھ باہر لان میں بیٹھ گئی اچانک مجھے کرن کے گفٹ کا خیال آیا میں نے گاڑی میں سے وہ نکالا اور کمرے میں لے آیا اور اس کو کھولا اس میں ایک گلابی کلر کی پینٹی تھی جس پر بہت سارے داغ لگے تھے ۔میں نے اس کو سونگھا تو اس میں سے کرن کی جانی پہچانی سی خوشبو آئ ۔جس نے میرے جذبات کو بھڑکا دیا ۔میں نے کرن کو میسج کیا اور اس لولی گفٹ کا شکریہ ادا کیا
 کچھ عرصہ تک کوئی بھی موقع نہیں مل پایا ۔ہم بس فون پر ہی بات کرتے تھے ایک دن کرن نے مجھے ملنے کا کہا اگلے دن میں کرن کو ملنے اس کے کالج چلا گیا آج کرن اکیلی ہی آئ میں نے کرن کو گاڑی میں بٹھایا اور ایک پارک میں گاڑی روک دی دوپہر کے وقت یہ جگہ تھوڑی سنسان تھی گاڑی کھڑی کرنے کے بعد میں کرن کو اپنے قریب کیا اور اپنے ہونٹ کرن کے ہونٹوں سے لگا دئے کرن نے مجھے کس کرنے کا موقع دیا کس سے فارغ ہونے کے بعد کرن نے مجھے کہا
انکل آک کم سی تا ڈے نال
میں نے کرن کو کہا حکم کر میری جان ۔
کرن تھوڑا جھجھک رہی تھی میں نے کرن کو کہا کرن تم جھجھکو نہیں جو بات ہے کرو ۔
کرن بولی
انکل تسی نا نہیں کرنی
میں نے کہا اچھا بولو
کرن بولی
انکل اک لڑکا اے میرا دوست اے میں ملنا چا نی اں
میں ۔اچھا کون ہے
میری دوست دا کزن اے
اچھا تو اس میں میں کیا کر سکتا ہوں

Posted on: 10:48:AM 19-Dec-2020


0 0 274 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 75 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com