Stories


گھر بیتی ایک آپ بیتی از ایس فائلز

نامکمل کہانی ہے


ہیلو دوستو میرا نام علی ہے امید ہے آپ سب خیریت سے ہوں گے ۔ اس گروپ کو کچھ مہینے پہلے جواہن کیا ہے اور فروا جی کا اصلی فین ہوں ۔ان کے لکھی کہانیوں سے متاثر ہو کر ہمت کر رہا ہوں کہ آپ لوگوں سے اپنی سچی داستان شئر کروں ۔یہ سن 2004 کی بات ہے جب میری عمر 19 برس تھی ۔میں اپنے بارے میں کچھ بتاتا دیتا ہوں جس سے اسٹوری کو سمجھنے میں مدد ملے گی ۔میں بچپن سے ہی خلیجی ملک عمان میں رہتا تھا اور وہیں پر اپنی تعلیم شروع کی بارہویں جماعت تک ۔ کالج نہ ہونے کہ وجہ سے اکثر بچوں کو ہائیر ایجوکیشن کے لیے پاکستان آنا پڑتا ہے ، میری تو ہائیر ایجوکیشن کے ساتھ سیکس ایجوکیشن بھی شروع ہونے والی تھی وہ بھی اپنے گھر سے ۔ گھر کس کا اپنی خالہ کا ، وہ بھی اپنا ہی گھر ہوتا یے  ۔
چلو اسٹوری پر اتے ہیں ، 2004 میں پہلی بار پاکستان آیا تو اتنا پرجوش تھا کہ میں بتا نہیں سکتا ، اپنے ملک کو دیکھنا  کی خواہش اور پھر کزنوں سے ملنے کی تمنا۔ میری رہائش کا انتظام میری بڑی خالہ کے گھر میں کیا گیا جہاں ان کے دو بیٹے اور دو خوبصورت جوان مٹکٹی گانڈ والی بہوں ہوتی رہتی تھی  گھر میں دولت کی فراوانی تھی نوکری پیشہ لوگ تھے مگر بڑی سرکاری ملازمت تھی اور اپنے علاقے کے شرفاء میں شمار ہوتے تھے ۔ میں ایک ہفتہ تو مختلف جگوں پر گھومتا رہا سیکس طلب سے بے نیاز۔ میری زندگی میں سیکس صرف مٹھ مارنے کو کہتے تھے اس وقت۔ عمان میں رہتے ہوے کسی لڑکی یا عورت سے کچھ تعلق نہ تھا صرف پڑھی کرتا اور سوچوں میں کسی کو چودتے ہوے مٹھ مارنا بس
پاکستان اکر آزادی کا احساس ہوا اس وقت مشرف جانی کی حکومت تھی اور ہر انٹرنیٹ کیفے میں مجرے اور سیکس ویڈیوز کی بھر مار تھی
میں کبھی کبھار جا کر ہوس پوری کر آتا
ایک دن کیفے گیا اور وہاں ایک انگریزی اسٹوری والی پوری سیکس فیلم دیکھی جس میں بڑی عمر کی عورت کم عمر لڑکوں سے سیکس کرتی ہے ۔ وہ فلم میری ذہن سازی کا بحث بن گئ اس کے بعد میں وہ نہ رہا جو پہلے تھا اب مجھے خالہ کی بہوں میں دلچسپی بڑھنے لگی میں ان سے بات کرتا اور کبھی کبھار راے وغیرہ بھی لیتا ۔میری خالہ کا گھر صبح 8 بجے کے بعد کوئئ مرد گھر نہ ہوتا اور خالہ بھی اکثر پڑوس میں اپنی دوسری بہن کے گھر چلی جاتی پھر میں اور ان کی جوان مٹکٹی گانڈ والی بہویں۔شروع شروع میں دونوں سے بات کرتا اور ان کے سینوں پر بیٹھے خوبصورت کبوتروں کا نظارہ کرتا مگر کچھ دن بعد احساس ہوا ایک بڑی مغرور ہے اور وہ زیادہ لفٹ نہیں دینے والی ۔ دوسری بہو جو نمبر میں پہلی تھی وہ مجھ سے کافی گپ شپ کرنے بیٹھ جاتی اور اتفاق سے میرے کمرے کی صاف صفائی بھی اسی کی ذمہ داری تھی اس لیے وہ اکثر میرے کمرے میں آتی جاتی رہتی ۔ دوپٹے سے بے نیاز ہو کر وہ کبھی بھی ا ٹپکتی اور بعض اوقات ایسا بھی ہوتا جیسے میں ابھی ابھی شلوار یا ٹراؤزر پہن رہا ہوتا اور وہ دروزے پر ا جاتی کسی کام کے بہانے ۔ اس کا کمرا میرے کمرے کے بلکل قریب تھا اور میرے آنے سے پہلے وہ کمرہ ان کے استعمال میں ہوتا تھا اور اب بھی ان کا سامان رکھا ہوتا تھا شاید اس لیے آنا جانا لگا رہتا
میں انتظار میں رہتا کب مرد کام ہر روانہ ہوں اور میں اپنی مردانگی شروع کروں
یہ بتاتا چلوں میں نے کمرس کالج میں داخلہ لے رکھا تھا اور اکثر چھٹی کرتا تھا کیونکہ میں نے بی کام میں جو سبجیکٹ پڑھنے تھے وہ پہلے ہی پڑھ کر آیا تھا تو مجھے کورس کا ڈر نہیں ہوتا تھا اور شام کو ٹیوشن بھی ہوتی تھی
۔۔خیر تو مرد جاتے اور میں تیار ہو جاتا کہ آج کیا نظارہ ملتا ہے دیکھنے کو ۔ میری معشوق کا نما سمیرہ ہے (جس کے ارد گرد یہ کہانی ہے) میں سمیرہ کو دیکھتا رہتا وہ کبھی ناشتہ لے کر ا رہی ہے کبھی کوئی سامان اٹھانا پہنچ جاتی ۔ کچھ مجھ سے پوچھ لیا عمان کے بارے میں کبھی میں نے کچھ ان کے بارے میں پوچھ لیا، وہ جان تو گئ تھی کہ میں اس میں دلچسپی لیتا ہوں مگر کبھی نا اس نے کہا اس وقت نا میں نے کچھ اشارہ دیا۔ لیکن یہ کب تک چلتا ایک دن یہ ہونا تھا جب مجھے کچھ ایسا کرنا تھا جو مجھے وہ منزل دلا دے جس پر اکثر لوگ پھسل جاتے ہیں ۔ مجھے اس کی مست گاںڈ کو چھونے کا اتنا دل کرتا تھا کہ لن کنٹرول سے باہر ہو جاتا۔ اللہ اللہ کر کے ہمت کرنے کا ٹھان لیا ۔
میں نے فیصلہ کیا کہ اس کو اپنی خواری سے متعارف کروایا جاے تاکہ اس کو پتہ چلے یہ بیچارہ لن کتنا ٹرپتا ہے اس کی یاد میں اور مٹھ مار مار کر بے زار ہو گیا یے ۔
میں نے فیصلہ کر لیا تھا اب یہ گیم ایسے نہیں چلانی اب ہمت کر کے سمیرہ کو بتانا ہے کہ میں کتنا خوار ہوں اس پر اور میرا لن اس کی یاد میں تھوک تھوک کر تھک گیا ہے ۔
سمیرہ کا تعارف اس حصے میں کے لیے رکھا تھا تاکہ کہانی میں کردار باقی یا تو نہ ہوں یا انتہائی کم حوالہ ہو ۔
سمیرہ مجھ سے تقریباً 15 سال بڑی تھی اور تین بچوں کی خوبصورت اور مست جسم رکھنے والی ماں تھی ۔ chubby جسم تھا اور قد چھوٹا تھا ۔اس وجہ سے گاںڈ کافی نمایاں تھی اور جسم بلکل ٹایٹ ، جب چلتی تو گانڈ سپرنگ کی طرح ہلتی اور چاہے جو بھی پہنا ہو گانڈ ہر حال میں پورے جسم سے الگ نظر آتا ۔ بہت مشکل ہوتی اس سے نظر ہٹانا اس لیے میں کوشش کرتا جب باقی گھر والے موجود ہوں تو اس کی طرف نہ دیکھوں تاکہ کسی کو شک نہ ہو اور بنتی گیم بگڑ جاے۔ سمیرہ کی گانڈ کا ساخت ناقابل بیان ہے ، اوپر کی طرف اٹھان ، انتہائی گورا رنگ اور لچک دار ۔ میں حلفاً کہ سکتا ہوں ایسی گانڈ ابھی تک کسی اور کی نہیں دیکھی۔ لیکن ایک بات اور بتاتا چلوں اکثر پاکستانی خواتین اپنی گانڈ کی ویلیو سے ناواقف ہوتی ہیں ۔ ایسی قیمتی چیز کو اتنا کم رتبہ دینا انتہائی افسوس کی بات یے ۔ خیر تذکرہ ہو رہا تھا اس کی گاںڈ کا۔ تو دوستو اس کی اس گانڈ نے مجھے اپنے چنگل میں پھنسا رکھا تھا اور میں خوشی سے یہ قید کاٹ رہا تھا ۔
فیصلہ تو ہو چکا تھا اب آگے بڑھنا ہے اور موقع بہت ملتا تھا تو سوچا سمیرہ کو ازمایا جاے یہ کتنے پانی میں ہے ۔
روازنہ کی روٹین کی طرح صبح ہوتے ہی مرد اور بچے چلے جاتے ، میں کیونکہ صبح دیر سے اٹھتا تھا تو میرے جاگنے سے پہلے ہی میدان خالی ملتا ۔ لیکن اس دن میں بیڈ پر لیٹا رہا تاکہ سمیرہ کو چیک کیا جاے ۔ میں نے بیڈ میں پڑا رہنا کا ڈرامہ سوچا تھا اور غیر ارادی طور پر اپنا لن شارٹ سے نکال رکھا تھا اور کمبل لن کے اوپر ۔ کمبل کو اس طرح اوپر رکھا تھا کہ لن کا نظارہ نظر اے سمیرہ کو جب وہ میرا پتہ کرنے اے اور اگر کچھ دیر کھڑی رہی تو می۔ لن کو مزید واضح دیکھنے کی ترکیب رکھی تھی ۔ مجھے اس کے آنے اور کہاں کتنی دیر کھڑی ہوتی ہے سب اندازہ تھا ۔ اگر گیم خراب ہوئی تب بھی میرے پاس عذر تھا کہ بچہ سو رہا تھا لن کہاں سے باہر نکل آیا کہاں پتہ چلتا ہے اور تھا بھی اپنے ہی روم میں جو کچھ بھی کرتا میری مرضی ۔
لیکن اس دن یہ گیم کھیلتے ہوے اور اس کا نتظار کرتے ہوے دل بہت زور زور سے ڈھڑک رہا تھا ، خوف سے زیادہ شہوت غالب تھی ایک عجیب سے سرور جسم میں ہو رہا تھا ، ایسے ہی خیالوں میں گم تھا اور اچانک مجھے سمیرہ کی قدموں کی آواز آئی لیکن اس آواز کے ساتھ کسی اور کی بھی آواز آئی جیسے کوئی ساتھ ہو ، میں نے کمبل کو صیح کیا تاکہ شک نہ ہو اور سونے کے اندازے میں بیڈ پر لیٹا رہا لیکن آنکھیں کھیلی ہی تھیں ۔
سمیرہ کمرے میں آئی اور کچھ چیز اٹھا کر چل دی اس کے ساتھ پڑوسن کی بیٹی تھی جو سامان کے لیے آئی تھی شاید کچھ برتن وغیرہ ۔ جاتے ہوے اس نے میری طرف دیکھا اور پوچھا خیریت تو ہے آج زیادہ دیر تک سو رہے ہو ، میں نے کہا سب خیریت ہے بس آج موسم ذرا ٹھنڈا ہے اور دل کہ رہا ہے بیڈ ٹی مل جاے ۔ یہ سن کر وہ مسکرا کر چلئ گئ چاے لانے ، اب مجھے یقین تھا اب جب وہ اے گئ تو اکیلے ہو گئ ، میں نے وہی گیم دوبارہ شروع کیا کہ اپنے لن کا درشن آج کروا کر اس کو بھیجنا ہے ، اتنے کام کرتی ہے ٹپ دینا بھی ضروری ہے ۔
میں انیگل بنا کر لیٹا رہا اور وہ موقع بھی ا گیا ، مٹکٹی گانڈ والی سمیرہ کمرے میں آئی اور سائد ٹیبل پر چائے رکھ دیا ، جو میری دائیں طرف ہوتا تھا ٹیبل کے ساتھ ایک کرسی رکھی ہوتی تھی جہاں سمیرہ ا کر مجھ سے باتیں کرتی تھی ، میں نے لن تو ٹرواز سے باہر ہی نکال کر رکھا تھا لیکن کمبل کے اندر تھا اب مجھے گیم اسٹارٹ کرنی تھی اور اس کے لیے بہترین وقت تھا ۔
سمیرہ چائے رکھ کر جانے لگی تو میں ںے کچھ بات چھیڑ دی کہ خالہ کہاں یے اور کچھ گھریلو باتیں ۔ مقصد اس کو کرسی پر بیٹھانا تھا ، اور وہ جاتے ہوے روک کر بیٹھ گئ ، باتیں چل رہی تھی اچانک اس کی نظر لن صاحب پر پڑی ، وہ لمحہ آج بھی یاد ہے جیسے سمیرہ کا حلق خشک ہو گیا ہو اور آنکھیں کبھی مجھ پر اور کبھی نیچے لن پر ہوتی ۔ میں سمجھ گیا کہ بے خیالی میں لن پر کمبل زیادہ ہی اٹھ گیا یے ، خیر جو ہونا تھا وہ اب ہو گیا تھا ۔ سمیرہ بیٹھی رہی اور مختلف موضوع پر مختصر باتیں ہوتی رہیں ۔ اس وقت ایک خیال ایسا آیا کہ میں ذرا پوزیشن بدل لوں تاکہ وہ کچھ ریلکس ہو لیکن ارادہ ملتوی کر دیا میں چاہتا تھا وہ آج جی بھر کر دیکھ لے اور میں جب ہلاؤں اس کو اندر کمبل میں تو وہ بھی دیکھے کیسے ہے یہ جھلے لال۔
میری توقع کے بر عکس سمیرہ بیٹھی رہی اور سیریس میری سے باتیں کرتی رہی ، لیکن بیچ میں مسکرا بھی دیتی بات کے حساب سے ۔ وہ بلکل بھی اشارہ نہیں دے رہی تھی کہ وہ کچھ پریشان ہے یا میری حرکت سے ناراض ۔ یہ میرے لیے بڑے حوصلے کی بات تھی ۔ وہ پانچ دس منٹ کے بعد چلئ گئ ۔ میں نے اپنی کامیابی پر دل ہی دل میں جشن منایا اور چائے پینے لگا ۔ اور اپنے لن پر ناز کر رہا تھا
میں بھی ہر مرد کی طرح اپنے لن کو سب بڑا لن سمجھتا ہوں ، میں 19 سال کا نوجوان منڈا پھر بلکل کو سلیم باڈی اور اس پر 5.8 کا لن ، موٹائی میرے لن کی تین انچ ہے اور یہ باقاعدہ چیک کیا تھا میں نے ، میرے لن کی ٹوپی کافی موٹی تھی اس کو بیان نہیں کر سکتا یہ بات آگے کسی اور کہانی میں ضرور بتاؤں گا ۔
تو سمیرہ کو لن درشن ہونے کے بعد میں نے اور بھی زیادہ فریڈلی پایا۔ مجھے اب وہ ایسی باتیں بھی شئر کرنے شروع کر دیں جو میں سمجھتا ہوں ایک عورت اپنا راز سمجھتی ہے جیسے پریڈ ہیں اس لیے آج تھکی ہوئی ہوں وغیرہ ۔ اب وہ دوست بںتی جا رہی تھی اور یہ سب کچھ دنوں میں ہوا جب لن درشن کر چکی تھی ۔ اس سب کے باوجود مجھے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا سمیرہ سے جیسے اس نے میرا لن دیکھ لو تھا یا میں نے کوئی غلط حرکت کی ۔ وہ بس فری ہوتی جا رہی تھی لیکن وہ بھی اس وقت اس لمحے جب کوئی اور نہ ہوتا اس پاس ۔ کافی میچور تھی اور انتہا کی رعب والی گھر میں ۔ تو ایک خوبصورت اور رعب والی سے دوستی کا مزہ کچھ الگ ہی ہوتا ہے جس پر میں کافی خوش تھا
 
سمیرہ کے ساتھ ایک خفیہ تعلق شروع ہو چکا تھا لیکن وہ کھل کر اب بھی کوئی اشارہ نہیں دے رہی تھی کہ گیم آگے بڑھائی جاے یا انتظار کیا جاے۔ میں خود کوئئ موڈ میں نہیں تھا جلد بازی کرنے میں۔ لن درشن کے کچھ دن بعد یہ دوستی کا سلسلہ شروع ہوا تھا لیکن وہ موڈی بھی بہت تھی تین بچوں کو سنبھالنے اور گھر کا کام کرنے کے بعد یہ اس کے موڈ پر ہوتا کہ کیا ریکیٹ کرتی ہے ۔ اس کی شخصیت بلکل غیر متوقع تھی ، آپ اس کی روٹین کا تو اندازہ لگا سکتے تھے مگر موڈ کیسا ہے یہ بلکل ناممکن تھا ۔
میں نے محسوس کیا وہ مجھ سے کچھ دور دور رہ رہی ہے ، وجہ کیا تھی پتہ نہیں ، بچے ، شوہر ، سسرال یا میں کچھ معلوم نہیں لیکن دوری صاف محسوس کر رہا تھا۔ میں نے خاص جاننے کی کوشش نہیں کی اور ریلکس رہا ، اگر ہر چیز میں پوچھ گچھ شروع کر دی تو زندگی عذاب بن جاے گئ ،دوسروں کی پریشانیاں سن کر ۔
لن درشن ہو چکے تھے لیکن مجھے یہ بھی تجسس تھا کہ اس پر وہ کیا رسپانس دیتی ہے کیا معاملہ آگے بڑھے گا یا نہیں، مجھے یقین تھا وہ دل میں یہ بات دبا کر بیٹھی ہے اور کچھ نا کچھ ضرور بولے گی ، زیادہ نہیں تو اتنی ضرور بولتی ۔ بیٹے ذرا لن سنبھال کر اٹھا کرو صبح۔ ابھی تک صرف خاموشی تھی اور اس کا موڈ کچھ دونوں کے بعد تبدیل ہونا اور دور دور رہنا ۔
مگر یہ سلسلہ بھی زیادہ دیر نہ چھپ سکا وہ کیوں ناراض ہے ایک دن اس نے مجھے صاف پوچھ لیا ۔
روز مرہ کی طرح جب وہ بچوں اور شوہر کو روانہ کر چکی تھی تو میرے کمرے میں آئی کسی کام کے بہانے ، میں نے ہمت کی اور پوچھ لیا ۔۔خیریت ہے اجکل خاموش رہتی ہو اور مجھ سے بات بھی نہیں کرتی زیادہ ۔ ۔۔اس نے پہلے نارمل سے ریکشن دیا کہ ہاں سب خیریت ہے اور سوالیہ انداز میں پوچھا میں پہلے آپ سے کب رات بھر بات کرتی تھی ؟ میں سمجھ گیا وہ مجھے میری اواقات یاد دلا رہی ہے کہ جب چاہے بات کرے جب چاہے نا ۔ میں یہ بھی برداشت کر گیا ، اور مسکراتے ہوے کہا ۔ بلکل آپ صیح کہ رہی ہو ۔ لیکن آپ کا رویہ کچھ بدل سا گیا یے میرے لیے ۔ سمیرہ نے پھر کہا اچھا تو یہ آپ کو لگتا ہے ؟ کبھی سوچا ایسا کیوں ہے ؟
میں لاجواب ہو گیا ، کیونکہ میں بلکل نہیں جانتا تھا وہ کس طرف اشارہ کر رہی ہے ۔ لن درشن والی بات کو تو کئی دن ہو گے تھے اگر وہ معاملہ تھا تو فوراً یا ایک دن بعد ریکشن ہوتا۔۔میں نے اس خیال کو نکال دیا کہ وہ لن والی بات سے ناراض ہے اور یہ کچھ اور معاملہ ہے ۔ یہ میری سوچ تھی لیکن پھر سمیرہ نے مزید بات واضح کی ۔
علی تم میرے بارے میں کیا سوچتے ہو ؟ میں دنگ رہ گیا یہ کیسا سوال ہے ۔ میں نے کہا آپ میری بھابھی ہو . کہتی ہے لیکن میں تو تمھیں اپنا بھائی سمجھتی تھی لیکن تم نے میرا اعتماد ختم کیا ہے ۔ میں پریشان ہو گیا وہ کس بات کی وجہ سے کہ رہی ہے ، میں نے پھر کہا اگر آپ مجھے اپنا چھوٹا بھائی سمجھتی ہو تو پلیز بتا بھی دو ہوا کیا ہے ، سمیرہ نے نفی میں سر ہلایا اور باہر چلی گئ ۔
اب یہ تو مکمل یقین ہو چکا تھا کہ وہ مجھ سے خفا ہے اور بات لن درشن والی ہے یا کچھ اور وہ اب بھی یقین نہیں تھا ۔
سمیرہ کا شوہر کام کے سلسلے میں عمان آیے تھے تو اس وقت ہمارے گھر رہے اور کافی ہم نے ان کی خدمت کی تھی ، اس وجہ سے سمیرہ اور ہمارا ایک تعلق تھا جس وجہ سے وہ مجھے چھوٹا بھائی سمجھتی تھی سب گھر والوں کے سامنے اور دور کی کزن بھی تھی ۔ خیر
اب میرے لیے یہ مصیبت ناقابل برداشت تھی کہ جس کی گاںڈ مارنا چاہتا ہوں اور اس کو دیکھ کر خوش ہوتا ہوں وہ تو تعلق کو بہن بھائیوں والا بنا رہی ہے اور کس بات سے ناراض ہے وہ بھی کلیر نہیں
مجھے زیادہ دیر نہیں کرنی پڑی اور اسی دن دوپہر میں جب اکثر گھر والے کھانا کھا کر اپنے اپنے کمروں میں آرام کر رہے ہوتے ہیں اسی وقت وہ میرے پاس آئی اور مجھے صاف کہنے لگی ، پلیز میرا بھروسہ مت توڑنا میں تم سے چھوٹے بھائیوں والے پیار کرتی ہوں اور میرا ہاتھ پکڑ لیا اور اس کو چوم لیا ، میں نے واپس ان کا ہاتھ چوم لیا اور کہا آپ جو کہو گئ میں ویسے ہی کروں گا ۔۔ اس نے میرے سر پر شفقت والا ہاتھ پھیرا ۔۔۔
میں سمجھ گیا معاملہ یہ تھا کہ اس کو لگا کہ میں خوار ہوں اور لن درشن کروانے کے بعد وہ کچھ دن بعد جب اپنے سوچوں میں بیٹھی تو اس کو احساس ہوا لڑکا شاید سیریس ہو رہا ہے اور معاملہ کچھ بگڑ نا جاے ۔
میرے لیے کچھ پریشانی کی بات نہیں تھی کیونکہ میں اتنا جانتا تھا جس دور میں سگے بہن بھائی ، ماں بیٹے آپس میں چود رہے ہوں وہاں منہ بولی بہن کا رشتہ کوئئ فرق نہیں ڈالے گا ، بس مجھے اس کی چہرے کی رونق اور میرے ساتھ گپ شپ بحال ہونا ترجیح تھی ۔
اب تعلق مزید مضبوط ہو رہا تھا وہ ناشتہ لاتی ، چاے لاتی ،میں پیار سے ان کا ہاتھ چومتا اور وہ بھی واپس کبھی چومتی کبھی میں فورس کرتا ۔ اور یہ سلسلہ اتنا ہو گیا کہ ہر موقع تنہائی میں میں اس کا ہاتھ چومتا وہ میرا ۔ منہ سے بھائی بنا چکی تھی مگر قریب وہ اور بھی ہو گئ معشوق کی طرح ۔ میں نے اس کو وعدہ کیا تھا کہ کچھ نہیں کروں گا جس سے وہ ناراض ہو ، اس کا مطلب یہ تھا آپ نے کچھ نہیں کرنا ، جو ہو گا ان کی طرف سے ہو گا۔
اس نے ہاتھ چومنا شروع کیا میں نے فالو کیا ، اب وہ ہنسی مذاق میں مجھے اپنے ہاتھوں سے ہٹ کرتی جیسے پیٹ پر یا میرا ہاتھ پکڑ کر تھوڑا دبایا ۔ میں نے اس کو بھی فالو بیک کیا میں بھی اس کو جسم کے کسی حصے پر ہٹ کرتا لیکن ایسی جگہوں جہاں پر اعتراض نہ ہو ۔۔۔
یہ معمول تھا وہ کمرے میں آتی ، بیٹھتی ، کچھ مذاق وغیرہ چلتا اور چلی جاتی ، روٹین کی طرح وہ ایک صبح 9 یا 9 کے بعد روم میں آئی اور کہتی ہے تمھارے سونے کے کپڑے( ٹرازر وغیرہ) تو بڑے آرام دہ ہیں  . میں نے کہا آپ کو کیسے پتہ ۔۔کہتی ہے رات کو اس نے پہنے تھے اور بڑے مزے سے نیند آئی ، میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا یہ گانڈ اس چھوٹی ٹراؤزر میں کیسے ائئئ ؟ جیسے ہی میں نے یہ کہا اس نے ہنسنا شروع کیا اور ایک تھپڑ مجھے منہ پر لگا دیا پیار سے ، میں نے ہاتھ واپس پکڑا تو وہ بھاگنے لگی ، میں نے بھاگتی سمیرہ کی گانڈ پر ایک پیار سے واپس تھپڑ مارا  وہ دو قدم دوڑی اور روم کے ڈور کے پاس کھڑی ہو کر منہ بنا کر باہر نکل گئ ۔ یہ ایک نئی ابتدا تھی۔۔۔۔۔منہ بولے بہن بھائیوں کا ، بہن جو almost بھائی کے عمر سے ڈبل ہے ۔ میں کچھ نہیں کر رہا تھا وہ راستہ بناتی میں فالو کرتا بس ۔۔۔وعدہ جو دیا تھا کبھی ناراض نہیں کروں گا ۔۔۔
سمیرہ کے جانے کے بعد میں کمرے میں کافی دیر خیالوں میں رہا اور اپنی کامیابی پر جشن مناتا رہا۔ سمیرہ کی گانڈ تک رسائی مل چکی تھی وہ بھی بغیر کسی خاص محنت سے ۔ سمیرہ کی گانڈ جتنی دیکھنے میں گول مٹول اور سپرنگز کی طرح اچھلتی تھی چھونے سے اور احساس ہوا کتنی ٹایٹ ہے۔  کھینچا ہوا بلکل ۔ روز صبح شوہر کے ساتھ واک پر جاتی تھی۔
مجھے اس کے موڈ کا پتہ تھا اور وہی ہوا ۔۔۔ناراض والا موڈ۔
میں کمرے سے باہر نکلا اور نہانا چلا گیا۔
سمیرہ کا گھر کافی بڑا تھا ، دو بھائیوں کے الگ حصے تھے ، تین بیڈ روم کے درمیان ایک بڑا ہال تھا اور کچن اور ایک اسٹور ۔ یہ سب گراؤنڈ فلور پر تھا اور صرف چھت بس ۔ جہاں میں رہتا تھا وہ ہال کے  دروازے کے پاس والا کمرا تھا ۔ سمیرہ کا اپنا بیڈروم کے ساتھ واش روم اٹاچ تھا جہاں کبھی میں نہ گیا اور نہ جانے کا موڈ تھا ۔ باقی سب گھر والے باہر بنے واش روم کو استعمال کرتے تھے۔  یہی سیٹ اپ دوسرے بھائی کا تھا اور خالہ کیونکہ ضعیف اور جوڑوں کے درد کا شکار تھی تو دونوں بھائیوں نے ان کی سہولت کے لیے ایک الگ کمرہ اور واش روم کا انتظام کر رکھا تھا ۔اور ایک الگ مہان خانہ  یہ سب دو کنال میں تھا کافی بڑا گھر تھا اور جدید اور قدیم اسٹال کا مکسچر تھا
جب میں روم سے نکلا نہانے کے لیے تو سمیرہ کچن کے ڈور پر کھڑی تھی اور اس کی نظر ہال روم میں لگے ٹی وی اسکرین پر تھا  فیصل قریشی کی مارنگ شو دیکھ رہی تھی ، مجھے دیکھ کر نظروں سے خفا ہونے کا اشارہ کیا ، میں نے فوراً ہاتھ سے فون کا اشارہ کیا جو اس نے نفی میں سر ہلا کر انکار کیا لیکن میں نے مسکرا کر واپس فون کا ٔ کیا۔
میں نہا کر بیک نکالی اور نیٹ کیفے چلا گیا ، آدھا گھنٹہ ایمیل اور یاہو گروپ میں وقت ضائع کرتا رہا اور سمیرہ کو فون کرنے کے لیے کرایانہ اسٹور چلا گیا ، ایک گولڈ لیف سگریٹ لی اور ساتھ بنے پی سی او میں گھس گیا ، فون لمبی ہونے کی توقع تھی اور اشارہ سے دکان والے کو بتا دیا کہ لمبی بات ہو گی ، خیر اس کو لن مطلب تھا لیکن اکثر لوگ آتے اور وہ بوتھ کو تکتے رہتے اس لیے پہلا بتا دیا کہ انتظار مت کیجئے گا
فون لگایا اور سمیرہ نے فون اٹھایا، میں نے پہلی بات سوری بول کر شروع کی ۔ اس نے جواب دیا یہ تم نے غلط کیا ہے ۔۔میں نے پھر کہا سوری یار بس اچانک ہو گیا ۔ کچھ خاموشی ہو گئ پھر بولی بتاو کیوں فون پر بات کر رہے ہو (یہ پہلی بار تھا ) میں نے کہا مجھے پتہ تھا سامنے تم آؤ گی نہیں دن بھر اس لیے فون پر سوری کرنے کے لیے فون کیا ، اور تمھاری ناراضگی مجھے برداشت نہیں ہوتی ۔ سمیرہ نے یک دم کہا اگر میری فکر ہوتی تو کچھ ایسی حرکت نہ کرتے ، بھائی ہو میرے ۔ میں نے کہا کیا بھائی بہن غلطی کے بعد رشتہ ختم کر دیتے ہیں ؟ وہ پھر خاموش ہو گئ اور پھر کہتی ہے اب مجھے ڈر لگتا ہے تمھارے پاس آنے سے  اب یہ سزا ہے تمھاری ۔ میں نے بچوں کی طرح پھر منتیں کی اور کہا اب ایسا نہیں کروں گا ۔۔کیا کروں تم ایسی ہو کہ پیار ا گیا ۔
سمیرہ کی آواز میں اب تھوڑی پرجوش ہوئی اور کہا ایک بات پوچھوں ۔۔۔میں نے کہا پوچھیں
کہتی ہے ! کیا میں موٹی ہوں ؟ میں نے تھوڑا حوصلہ کیا کہ بات پھر بن رہی ہے ، میں نے کہا ہاں تھوڑی موٹی تو ہو اس لیے تو کہا تھا یہ گانڈ کیسے میرے ٹرواز میں گھسئ ۔ سمیرہ نے پھر کہا دیکھا تم بعض نہیں ا رہے ، میں نے پھر اس کو رام کرنے کے لیے کہا اچھا بتاؤ گانڈ کو کیا بولوں مجھے اور نام نہیں آتا ۔۔۔ہنسنے لگی اور کیا بہت کمینے بھائی ہو جو بہن کے سامنے کھلے عام اس کا نام لے رہے ہو ۔ میں نے کہا ہاں وہ تو میں ہوں لیکن یہ کمینگی اپنی بیسٹ فرینڈ اور سسٹر کے ساتھ کر رہا ہوں ۔۔۔کیا میں باہر یہ حرکتیں کروں ؟ فوراً بولی جان سے مار دوں گی اگر سنا تو تم باہر ایسا کیا تو ۔ میں نے پھر حوصلہ کیا اور کہا اس لیے تو تم سے فری ہوں ، میں کسی کو جانتا نہیں اور میرے کون ہے یہاں تمھارے سوا ۔ عورت ذات بڑی نازک ہوتی ہے ، پیار محبت سے سب مان جاتی ہے ۔ پھر ایسے باتیں چلتی رہیں تو میں نے کہا ایک بات اب میں پوچھوں ؟ اس نے کہا پوچھو ۔ میں نے کہا مجھے تمھیں ٹروزار میں دیکھنا ہے ۔۔ فورا کہا کمینے ہو پورے اور انکار کر دیا ۔ میں نے فرمائش دہرائی اس نے پھر انکار کیا اور کہا ایکسرے والی آنکھیں تو پہلی ہیں تمھاری کیا کرو گے مجھے دیکھ کر ۔ میں نے کہا پلیز یار ایک بار دیکھنے ہے اور میں نے کب کہا مجھے گانڈ دیکھنی ہے میں تو صرف تمھیں اس لباس میں دیکھنے چاہتا ہوں ۔
کہتی ہے وعدہ نہیں لیکن کبھی پہنوں گی تو تمھیں پتہ کیسے لگے گا میں تو رات کو پہنوں گی جب دنیا سو رہی ہو گی ۔ میں نے کہا میں اس دن جاگ لوں گا ۔ کہتی اچھا اگر دیکھ لیا تو کیا کرو گے پھر ؟ میں نے کہا بس اچھا لگے گا اور کیا ۔ کہتی ہے پکا؟ میں نے بلکل پکا۔  فون پر بات لمبی کو رہی تھی تو کہتی ہے اب میں رکھتی ہوں ۔ میں نے کب میری فرمائش پوری ہو گئ ؟ جواب صرف اتنا دیا جب میں چاہوں گی چلو گھر ا جاؤ ۔
میں فورا گھر نہیں گیا بلکہ کچھ دیر کے لیے ابو کے جاننے والے ایجنسی میں چلا گیا ۔ اخبار پڑھتا کبھی وہاں جا کر ۔ اور پھر اتنی لمبی بات کے بعد دل کسی اور چیز کا کر نہیں رہا تھا۔ سمیرہ گھر تھی اور مجھے پتہ تھا گھر گیا تو پھر مزید اسی طرح کی باتیں ہوتی اور دوپہر میں اس کے بچے اسکول سے اتے اور کبھی کبھی شوہر صاحب بھی کھانا کھانے کے لیے روک جاتے ۔ میں یہ گمان دینا نہیں چاہتا تھا کہ لونڈا ہر وقت گھر میں پڑا رہتا ہے ، اور مرد ہوتے ہی شکی مزاج ہیں۔
میں تقریباً شام تک خالے کے گھر گیا جہاں سب لوگ چاے پینے صحن میں بیٹھے تھے ( سمیرہ کے گھر کے حصے سے باہر ) اسد بھائی ( سمیرہ کے شوہر) اور خالہ بھی تھیں۔ سمیرہ اپنے شہر کے پیچھے بیٹھی تھیں اور نظروں سے خفتگی کا اظہار کر رہیں تھی جو دن میں بات ہوئی اور گانڈ پر تھپڑ مارا۔ یہ صرف ایک بہن کا پیار والی ناراضگی تھی جو اس کے اور میرے درمیاں تھی ۔ بات ہو رہی تھی محفل میں کہ گھر کو پینٹ کرنا ہے اور علی کی موجودگی کا فایدہ اٹھایا جاے یہ کارگریوں کے ساتھ رہے گا یہ ایڈیا سمیرہ کا تھا ۔ میں اس کے مقاصد سے بے نیاز تھا اور میں نے منہ بنا لیا مجھے تو پنجابی تک نہیں آتی اور یہ سب کاریگر پنجابی میں بات کرتے ہیں ۔ سمیرہ نے کہا تم اردو بول لینا اور سامان وغیرہ وہ خود لسٹ بنا دیں گے ، گھر کی پینٹنگ ضروری ہے کیونکہ کافی سال ہو گے اور گھر میں کوئی مرد ہوتا نہیں اور کالج تم نے ابھی ریگولر جانا نہیں ہوتا ۔ تو میں چپ کر کے مان گیا ۔
اگلے دن کا پلان تھا اور اس کام میں پورے مہینے کی خورای تھی کارگریوں نے ڈیلی وج پر کام کرنا تھا۔ خیر میری بلا سے دو مہینے لگتے مجھے صرف چوکیدار بن کر ان کے ساتھ ہونا تھا اور کسی پانی چاے کے لیے میسنجر ۔
پلان یہ تھا پہلے گھر کے اندر سے شروع کریں گے اور ایک ہفتے میں ایک حصہ مکمل کریں گے ۔ میرے لیے یہاں کا کام حساب بلکل نیا تجربی تھا ۔ عمان میں دو تین دن لگتے تھے یہاں بات مہینے کی ہو رہی تھی ۔ اسد بھائی نے کہا یہاں بڑے رولر نہیں ہوتے ۔ خیر
اگلے دن پہلے کارگریوں نے سامان کو باہر نکلا کمرے سے اور بیڈ کو بیچ میں رکھ دیا ، سمریہ احمد بھائی (اسد بھائی کے چھوٹے بھائی) کے گھر ہوتیں اور خالہ کبھی ان کے پاس کبھی اپنے روم کبھی پڑوس میں دوسری خالہ کے پاس جاتیں ۔ بڑی مشکل سے ہفتہ مکمل کیا اور اندر کا حصہ مکمل ۔ اس دوران سب لوگ باہر سوتے  میں بھی ۔ باہر سونے کا مزہ یہ تھا کہ سمیرہ کو بے سدھ پڑے سویا دیکھ لیتا جب رات کو حجت ہوتی یا پانی پینے کے لیے اٹھتا لیکن وہ صرف ایک جھلک ہوتی اس کی خوبصورتی کی اصل مال تو کھلنا باقی تھا ۔ ایک بار رات کو تو کمر سے قمیض اٹھی ہوئی تھی اور گول گانڈ اپنی پوری شباب پر تھا ۔ میں اسد بھائی کہ قسمت پر رشک کرتا کاش یہ میری ہوتی تو کیا مزہ لیتا ۔
اندر کے پورشن کا کام ختم ہوا تو باہر کے حصے کا کام شروع ہوا ، اب جو مواقع ملے وہ ناقابل فراموش تھے ، باہر کام ہو رہا ہوتا ۔ حویلی میں کوئئ خاتون نکل نہیں سکتی تھی اور جو لوگ اکثر آتے جاتے تھے پڑوس سے ان کا انا بند کو گیا ۔ یہ موقع غنیمت صرف سمیرہ کی وجہ سے تھی کہ اس نے گھر کو پینٹ کروانا ہے ہر حال میں ۔ میں اس وقت یہ بات سمجھ نہ سکا کیوں اس کو یہ جلدی یے ۔ اب راز افشا ہو رہے تھے ۔ باہر کام ہوتا ، بچے اسکول اور شوہر دفتر اور 9 سے بارہ میں اور سمیرہ اندر ۔ خالہ ایک دو دن رہی ساتھ لیکن اس کو مجھے پر بھروسہ تھا اور پھر تھا بھی لاڈلا تو سمیرہ کی ذمہ داری مجھ پر تھی ، خالہ اب نہ آتی اس حصے میں کام کے دوران۔ کارگر کبھی کبھی آواز دے کر بلاتے ورنہ میں اب اندر ہوتا ۔
سمیرہ نے پھر موڈ سے ناراضگی والا سسٹم شروع کر رکھا تھا کہ کیسی فرمائش کرتے ہو بہن سے ۔( میں تو بھول چکا تھا ، لیکن اس کو مجھے گانڈ دیکھانی تھی تو واپس یاد کروا دیا )
میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور چوم لیا اور کہا پلیز یار ایک بار ۔ سمیرہ نے کہا کمینے ہو تم ، میں نے کہا چلو مان لو کمینہ ہوں اب مان جاؤ پلیز ۔ سمیرہ کچھ خوف میں ا گئ کہتی ہے اگر کسی نے دیکھ لیا تو ؟ میں نے کہا میں پہرہ دیتا ہوں ، کچن کے ساتھ اسٹور ہے تم جاؤ میں باہر دیکھ رہا ہوں ۔ اس نے کہا آج نہیں ۔۔میں نے ضد نہیں چھوڑی اور کہا پلیز ابھی ۔ سمیرہ ڈرتے سہمتے اسٹور چلی گئ اور میں ہال روم والے درازے پر کھڑا رہا۔ سمیرہ اسٹور کے درازے پر پہنچ کے دیکھتی رہی اور کہا یہ غلط ہو رہا ہے میں نے کہا کچھ غلط نہیں ۔ اس نے بے رخی انداز میں دروازہ بند کیا اور کچھ دیر میں واپس کھولا ۔ ٹروز پہنا تھا لیکن اوپر قمیض تھی میں نے کہا شرٹ بھی ۔ اس نے پھر منع کیا میں نے پھر اسرار کیا اور وہ مان گئی ، اب اس نے اپنا جلوہ دیکھایا تو میں بے قابو ہونے لگا لن نے ایک دم انگاڑی لی ، سمیرہ نے میرے چہرے کو بھانپ لیا اور شیاطنی آنکھوں سے مسکرا کر اندر چلی گی ، میں نے روکے۔ اس نے درازہ پر کھڑے ہو کر کہا اشارہ سے اب کیا ؟ میں کہا پیچھے مڑو اس نے کہا پاگل ہو تم اور مڑ گئ ۔۔اس کی گانڈ پوری طرح نمایاں تھی اور کہا اب آنکھیں ٹھنڈی کر لی ۔۔کمینے  (کمینہ سے زیادہ کبھی کچھ نہیں کہا ، اور یہ سچ تھا میں کمینہ ہی تھا اس کے ساتھ) سمیرہ نے کپڑے بدلے اور مجھے کہا باہر دفع ہو جاؤ کمینے اور میرے بازو کو زور سے چٹکی دی اور میں نے واپس اس کی گانڈ پر ہاتھ مارا ۔ پیار میں ۔
میں نیم مدہوشی اور شہوت سے بھر پور نشے میں تھا اور باہر نکل گیا ، سمیرہ میں آنے گانڈ کے جلوے دیکھا دیے ، سمیرہ سب کر رہی تھی جو وہ چاہتی تھی ورنہ بھولی ہوئی فرمائش کیوں یاد دلاتی ؟ بس وہ لیبل میرا لگوانا چاہتی تھی ، یہی ادا تو مجھے اس کی پسند تھی ، اس کی گانڈ میرے ذہن میں نقش ہو گی ، پیٹھ سے باہر نکلی گول گانڈ اور خوبصورت چہرہ ، گورا رنگ کچھ بھی کمی نہیں تھی سمیرہ میں ۔۔۔ہاے رے اسد بھائی آپ نے لوٹری جیت لی تھی ۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد آیا اور میں نے سمیرہ کا شکریہ ادا کیا کہ میری بات مان لی ، اس نے کہا کیسے نا مانتی میرے بھائی کی بات ۔۔۔لیکن اتنی کمینہ بھائی ہو تو فرمائس بھی ویسی ، اب اس چہرے سے کھلی ہوئی تھی جیسے اس نے منزل پا لیا ہو ،جیسے اس نے اپنی خواہش پوری کر لی ہو جیسے ادھرے ارمان مکمل ہونے والے ہوں ۔۔۔۔میں اس کی موجودگی میں انتہائی خوش تھا ۔۔۔اگلے مرحلے کے لیے ۔۔۔۔کافی وقت تھا کوئی جلد بازی نہیں کرنی میں نے ۔۔۔۔۔۔
شام کو میں ٹیوشن کے لیے روانہ ہو گیا اور اپنی کامیابی پر جشن منا رہا تھا۔ دل پڑھی میں کب لگنا تھا ایسے حالات میں لیکن گھر سے باہر نکلنا ضروری تھا تاکہ کچھ دماغ ہٹے اور مشکوک نہ لگوں۔
چار بجے کمپیوٹر سنٹر جاتا جہاں ایکسل ورک شٹ وغیرہ کے کمانڈ سیکھتا جو کمپیوٹر کے سبجیکٹ میں کام آنے تھے پھر وہاں سے اکاؤنٹنگ کی ٹیوشن۔ واپسی اکثر سات اور آٹھ کے درمیان ہوتی اور اکثر کھانا کوئئ فاسٹ فوڈ کھا لیتا لیکن یہ روز کا معمول نہیں تھا کیونکہ خالہ نے منع کر رکھا تھا ۔ گھر آیا تو خالہ اور اسد بھائی اور احمد بھائی باہر بیٹھے باتیں کر رہے تھے میں سلام کر کے بیٹھ گیا، کل جمعرات تھا اور مزدوروں نے حساب وغیرہ بھی کرنا تھا اسد بھائی سمجھا رہے تھے اگر مزدور دیر سے آئے تو حساب کر لینا اور پیسے سمیرہ کے پاس رکھے ہوتے ہیں۔ میں ںے فرمابرداری سے جی کہا اور کھانا کے لیے خالہ کو بتایا ، ساتھ پڑے چارپائی پر بیٹھ گیا۔ اسد بھائی نے سونے کے لیے باہر کا کہا کیونکہ کمرے میں پینٹ کی بو زیادہ تھی جو خطرناک ہو سکتی ہے ، میں نے ان سے اتفاق کیا اور سب لوگوں کے لیے چارپائی باہر رکھے تھے میں جہاں بیٹھا کھانا کھا رہا تھا وہ سب سے آخر میں تھا اور اس کے ساتھ اسد بھائی کی بستر کا انتظام ہونا تھا ۔سمیرہ سب سے پہلے والی چارپائی گانڈ الٹی کر کے سونے والی تھی اور بیچ میں بچے ۔
جب سونا کا وقت آیا تو سمیرہ نے کہا پانی کا کولر یہاں ساتھ دیوار کے ساتھ ہے اور گلاس بھی اوپر رکھ دیتی ہوں ۔ یہ دیوار سمیرہ کے بستر کے ساتھ تھی کچھ فاصلے پر ۔ سمیرہ کی رویے سے کچھ بھی ایسا لگ رہا تھا کہ کچھ شرارت وغیرہ کی سوچ ہے اور رویہ بدلنے میں وہ بڑی مہر تھی اس وقت بھی یہی حال تھا اور میرا دل و دماغ سے بھی وہ صبح والی بات نکل چکی تھی کہ کیا ہوا تھا کیا دیکھا تھا ۔ میں بھی بلکل بے خبر و نیاز سونے کے لیے تیار ہو گیا۔
یہ ایک نیا تجربہ تھا باہر سونے کا ۔ گلی سے باہر موٹر سائیکل کی آوازیں پھر خاموشی پھر کسی کتے کی بھونکنے کی آوازیں۔ ان سب کے درمیان کب نیند آئی کچھ پتہ نہیں چلا ۔ رات کے آخری پہر نیند سے بیدار ہوا اور پانی کے لیے کولر کی طرف گیا ۔ کافی اندھیرا تھا اور ہو کا عالم تھا سب لوگ سو رہے تھے میں نے کولر سے پانی پیا اور سمیرہ کا بستر سامنا تھا جہاں میری شہزادی گانڈ سائڈ پر کیے سو رہی تھی کمر میری طرف تھی اور اندھیرے میں کچھ خاص نظر نہیں آیا ۔ میں بھی واپس جا کر سو گیا ۔ صبح سورج کی روشنی اور ٹریفک کے شور سے آنکھ کھل گئی لیکن جسم میں درد بڑا تھا ، چارپائی پر سونے کا تجربہ نیا تھا اور پھر تین گھنٹے پہلے نیند سے بیداری بھی وجہ تھی ۔ آج کا دن بہت مصروف ہونا تھا اور کام بھی بہت کروانے تھے ، سمیرہ میری طرف دیکھے بغیر جلدی جلدی بچوں کو تیار کر رہی اسد بھائی فون پر لگے تھے کسی دفتری کام کے لیے اور خالہ اور میں بیچ میں بیٹھے باتیں کرتے رہے ۔ کچھ دیر بعد کاریگر ا گے اور اسد بھائی موجود تھے اس لیے حساب کتاب خود کرنے لگے ، میں بھی وہیں ان کے ساتھ تھا ۔ مزدورں نے اج باہر کے حصے کو مکل کرنا تھا اور اس کے لیے ایک سامان کی لسٹ بھی تھما دی ، اسد بھائی نے کہا اندر سے پیسے لاو ۔ اندر سمیرہ کو بولا پیسے دینے کا سمیرہ نے کہا اندر اس کے بیڈ روم میں ہیں لاتی ہوں اس کے پیچھے میں چل پڑا ۔ سمیرہ نے پیسے بیڈ کے اوپر بنے ایک الماری نما جگہ میں رکھے تھے اور اس کو کھولنے کے لیے نیچے جھکی ، وہ جھکی اور میں نے زور سے تھپڑ مارا ، سمیرہ نے کچھ ریکٹ نہیں کیا جیسے نارمل بات ہو جو کہ اب ہو چکی تھی ، پیسے اٹھا کر میری طرف مسکرا کر دیکھا اور پھر وہی ایک بات کمینہ کہ دیا ۔
میں پیسے لے کر باہر گیا اور اسد بھائی کو دیے اسد بھائی نے مجھے بایک نکالنے کو کہا اور ایک مزدور کو ساتھ بھیج کر سامان لانے کو کہا اور بتایا یہ سامان خود خرید کر پیسے باقی اندر دے دینا اور یہ مزدور کو سواری کے لیے پیسے دینا جو وہ بعد میں رکشہ یا گدھا ریڑھی پر لے گا ، میں جی سی نیو کیمپس والی روڈ پر گیا جہاں سے سامان لینا تھا (نیو کیمپس پہلے تھا یا نہیں لیکن اب یہ روڈ اسی نام سے مشہور ہے فیصل آباد میں )
واپس آیا تو  اسد بھائی گھر سے کار نکال کر نکل رہے تھے میں نے اشارہ سلام کیا اور گھر کے اندر چلا گیا وقت کوئی آٹھ اور نو کے درمیان تھا ۔ خاتون خانہ اندر جا چکی تھیں اور میں باہر کچھ دیر کھڑا رہا اور پھر اندر گیا ۔ اندر گیا تو سمیرہ کے ساتھ میری چھوٹی خالہ کھڑی تھی ۔ یہ سب سے چھوٹی خالہ تھی اور عمر تقریباً 39 یا چالیس کی ہوں گی ، خالہ کو سلام کیا جو بہت کم یہاں آتی ، بڑی خالہ تو سمیرہ کی ساس تھی وہ بھی موجود تھیں ۔ چھوٹی خالہ کا نام عزرا ہے اور وہ بہت ہی سخت لہجے میں۔ بات کرتی ہیں میں حد درجہ کوشش کرتا کہ ان سے کم سے کم آمنا سامنا ہو ، وہ میری امی سے کافی کلوز تھی اور ہر بار ملنے پر پڑھی کا پوچھتی ، کالج کیوں نہیں جا رہے سب سے پہلا سوال ۔ میں ان سے کچھ چھپا نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ خود کمرس گیریجوٹ ہیں اور بغیر لگی لپٹی سنا دیتی تھی ۔ میں نے وہی عذر پیش کیا کہ ابھی ابھی کلاسسز اسٹارٹ ہوئی ہیں بس کچھ دن بعد جانا شروع کر دوں گا ۔
سمیرہ ہمارا مقالمہ سنتی رہیں اور چہرے پر پریشانی کے تاثر نمایاں تھے ۔ صبح کا آغاز بڑا منحوس ہو رہا تھا اور میں بلکل لن سے لولی بن چکا تھا ۔ بڑی خالہ نے چھوٹی خالہ کو بلایا تھا کہ سمیرہ کی مدد کرے کیونکہ اندر پینٹ ہو چکا تھا ،اسٹور بھی کیونکہ پینٹ ہوا تھا تو ہال روم میں جو سامان تھا وہ شفٹ ہونا تھا اور پھر باقی روم ۔ چھوٹی خالہ بولتی کم اور حکم زیادہ دیتی اور جھٹ سے بولا باہر جا کر دیکھو مزدوروں کو دیکھو اور ان پر چوکیدار بنو ۔ میں نے فرمابرداری سے جی اوکے کہ کر باہر نکل گیا ۔ سمیرہ نے نشتے کا پوچھا ، میں نے دل میں سوچا اپنا لن کھا کر پیٹ فول ہے ۔ میں باہر چارپائی پر بیٹھے مزدوروں کے ساتھ رہا اور تھوڑی دیر بعد بڑی خالہ باہر نکل آئیں اور ساتھ میں سر پر ہاتھ پھیرا کہ چھوٹی خالہ کی ڈانٹ کو برا مت منانا وہ تمہاری ماں کی طرح ہے ۔ بات تو صیح تھی وہ میری ماں ہی کی طرح شکل و صورت رکھتی تھی اور بات وہ صیح کہ رہی تھی ۔ میں بنڈ درشن کے چکروں میں انتہائی وقت برباد کر رہا تھا ۔ پہلا نشہ تھا اور پہلی بار کسی عورت کے چکروں۔ میں پڑا تھا تو تعلیم کی ہرج ہو رہی تھی ۔
 مزدوروں نے کام روک کر چاہ (چاے) کی ریکوسٹ کی ۔ میں بے دلی میں اندر گیا جہاں سمیرہ اور خالہ کچھ کام کر رہے تھے اسٹور کے درازے سے پہلے دونوں ایک ساتھ کھڑے تھے ، میں نے چاے کا کہا تو سمیرہ نے ایک دم ناگواری کا اظہار کیا کہ یہ لوگ چاے کو پانی سمجھتے ہیں کیا، میں نے کچھ جواب نہیں دیا ، دونوں کھڑی رہیں کچھ دیر اس دوران میں نے خالہ کی طرف تھوڑا دیکھا وہ بلکل بھی موٹی نہیں تھی اور چالیس کے قریب ہونے کے باوجود بلکل بھی بوڑھی نہیں لگ رہی تھیں ۔ سمیرہ نے مجھے ذرا دیکھا اور آنکھیں دیکھائیں ۔ میں تو خالہ سے ڈرتا تھا کبھی دیکھنے کی کوشش بھی نہ کرتا لیکن سمیرہ ساتھ تھیں تو نظر پڑ گئ ۔ خالہ اور سمیرہ دونوں بغیرہ ڈوپٹے کے نننگے سر تھے ۔ خالہ کی ممے بڑے واضح تھے سایز وغیرہ میرا کام نہیں تھا لیکن سمیرہ سے کافی اچھے شپ میں تھے ۔ سمیرہ کچن کی طرف روانہ ہوئی اور مجھے کہا اب اندر بیٹھ جاؤ چاے لے کر ہی جانا ۔ خالہ اسٹور کے اندر چلی گئ اور سمیرہ چولہے پر چاے رکھ کر دروازے پر ا کر کھڑی ہو گئ ۔ اشاروں سے ایک kiss کیا اور کہا خالہ کی باتوں کو برا مت منانا ۔ میں نے سر ہلا کر ہاں کہا ۔ خالہ اسٹور سے باہر ائئئ اور جھاڑو سے کچرا نکال لائئ ۔ مجھ سے پھر مخاطب ہوئی اور کہا اکنامکس میں کیسے ہو ، میں نے پھر دل ہی دل میں ان کو جی بھر کر برا بہلا کہا کہ یہ تو پیچھے ہی پڑ گئ ۔ مجھے صرف یہ جواب ہوا ہاں اچھا ہوں ۔ خالہ نے کہا آگے تم نے QUA کے لیے اپلائی کرنا ہے اس لیے جی بھر کر پڑھائی پر توجہ دو۔ میرا چہرہ اتارا ہوا تھا لیکن ان کو لن فکر تھی صبح سے ایک ہی بات ۔ میں نے چاے پکڑی اور باہر جانے لگا تو خالہ نے کہا اپنی چاے اندر ا کر پینا ۔ میں نا چاہتے ہوے بھی ہاں کر گیا ۔ واپس آیا چاے پی اور خالہ نے کہا اب ہمارے ساتھ تھوڑی ہیلپ کرو سامان سیٹ کرنے میں ۔ یہ بات سن کر میری خوشی کی قابل دید تھی کیونکہ ٹاپک چینج ہو گیا اور ساتھ میں سمیرہ کی گانڈ درشن بھی ہوں گے ۔ خالہ نے کہا اسٹور میں او ، اور سمجھا کہ یہ لوہے کے پیٹیوں پر چڑھ کر ہم سامان دیں گے اور تم نے اوپر رکھتے جانا ہے ۔

Posted on: 12:21:PM 22-Dec-2020


2 0 639 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 75 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com