Stories


انوکھے رشتے از جواد جواد

نامکمل کہانی ہے

کسی بھی لڑکی کیلیے شادی اسکی زندگی کا بہت ہی خاص موقع ہوتا ہے۔ جس میں وہ اپنی ساری زندگی ایک نئے جیون ساتھی کے ساتھ گزارتی ہے۔ اگر شادی محبت کی نہ ہو اور شادی سے پہلے لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو نہ جانتے ہوں، تو دونوں کے دلوں میں تجسس اور خوشی کے ساتھ ساتھ کئی خدشات بھی ہوتے ہیں۔ کیسا ہوگا/ہوگی وہ۔ دیکھنے میں، روئے میں، بول چال میں، الغرض بہت سارے وسوسے ہوتے ہیں۔


میری بھی جب شادی ہوئی تو ایسی ہی تجسس، خوشی اور انجانے ڈر سے میرا دل بھرا ہوا تھا۔ شادی کی ساری رسموں میں میری ماں میرے ساتھ رہی، اور رخصتی کے وقت بھی وہ میرے ساتھ میرے نئے گھر گئی۔ ہمارے ہاں رواج ہے کہ دلہن کی ماں بھی دلہن کے ساتھ اس کے نئے گھر تک جاتی ہے۔ اور ازدواجی زندگی کی شروعات یعنی سہاگ رات سے پہلے وہ واپس چلی جاتی ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا، جب تک امی میرے ساتھ تھی مجھے ڈارس بندھی رہتی تھی۔ وہ مجھے سمجھاتی رہتی تھی۔

میری شادی ارینج میرج تھی۔ میرا شوہر جواد، میرے ابو کے بہت قریبی دوست سلطان کا چھوٹا بیٹا تھا۔ وہ اپنے ابو کے ساتھ اس کی فیکٹری کا کام سنبھالتا ہے۔ میرے سسر کی اپنی گارمنٹ کی فیکٹری تھی، اور جواد وہیں اس کے ساتھ کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مجھے اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں تھا پتہ۔ ہاں البتہ شادی کی رسموں کے دوران میں نے اسے دیکھ لیا۔ جواد بہت خوش شکل اور وجیہہ انسان ہیں۔ شادی کے دوران اسے دیکھتے ہی میں اس کے حسن پر فدا ہوگئی تھی۔ لیکیں میں کوئی بچی نہیں تھی، 22 سال کی عمر میں مجھے کافی چیزوں کا ادراک تھا۔ میں جانتی تھی کہ صرف شکل و صورت ہی سب کچھ نہیں بلکہ عادتیں بھی بہت اہم ہے۔ اس لیے اپنی مستقبل کے بارے میں سوچتے ہوے امید کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی ڈر بھی لگنے لگتا تھا۔

میرے ابو، وقار عزیز اور سلطان انکل دونوں ہی گارمنٹس کا کاروبار کرتے ہیں۔ ہم معاشی طور پر کافی خوسحال ہیں۔ گھر کا ماحول بھی کافی آزاد ہے۔ اگر میں چاہتی تو اپنی پسند کی شادی کر سکتی تھی، میرے گھر والوں کو کوئی اعتراض نہ ہوتا۔ لیکین میں نے اپنے ابو کی بات مانی، اور اس کی مرضی سے شادی کی۔ شادی کی رسموں کے دوران جب اپنے شوہر جواد کو دیکھا تو مجھے اپنا فیصلہ صحیح معلوم ہو رہا تھا۔اب صرف یہ دیکھنا تھا کہ وہ عادات میں کیسا ہے۔
آج ہماری سہاگ رات تھی، میری امی واپس جا چکی تھی، اور میں اکیلی اپنے شوہر کے بیڈروم میں، جو اب میرا بھی بیڈروم ہے، گھونگھٹ نکالے اس کے انتظار میں بیٹھی تھی۔ میرے دل میں طرح طرح کے وسوسے آ رہے تھے۔ کبھی کوئی لطیف خیال آتا تھا تو بے ساختہ مسکرا دیتی تھی، کوئی وسوسہ، کوئی بُرا خیال دل میں آتا ہے تو دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہونے لگتی تھیں۔ یہی سب سوچیں لے کر میں سیج پر سجی سجائی بیٹھی اپنے ہمسفر کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔

میرا دل اس وقت زور سے دھڑکا جب مجھے دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ میں نے کِن اکھیوں سے کھونگھٹ کے نیچے سے دروازے کی طرف دیکھا تو جواد اندر آ چکا تھا۔ اس نے اپنے پیچھے دروازہ بند کیا اور آہستہ آہستہ سیج کی طرف آیا۔ اس کے ہر قدم کے ساتھ میرا دل بے ترتیب ہو رہا تھا۔ وہ بیڈ کے پاس آکر آہستہ سے بیٹھا۔ کچھ دیر خاموشی رہی۔


پھر اس نے آہستہ سے سلام کیا۔ اس کی آواز میں لرزش تھی۔ میں تھوڑی سی مایوس ہوئی۔۔۔ مجھے لگا اس میں اعتماد کی کمی ہے شاید۔۔۔ وہی انجانے وسوسے۔۔۔ میں نے سر کی جنبش سے اس کے سلام کا جواب دیا۔۔۔۔ اور پھر وہی خاموشی۔۔۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد اس کی آواز سنائی دی۔۔۔۔

جواد: کیسی ہو آپ


میں نے جوب میں صرف سر ہلایا۔ پھر وہ آہستہ سے میری طرف بڑھا۔ میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے میری انگلی میں انگھوٹی پہنائی۔۔۔ میرے چہرے سے گھونگھٹ ہٹایا، اور ہٹا کر بیڈ کے ایک طرف رکھ دیا۔ تھوڑی دیر میری آنکھوں میں دیکھتے رہے۔۔۔ پھر مبارکباد دی

جواد: شادی مبارک ہو

میں نے بھی زیر لب جواب دیا۔ میرے ہونٹوں پر پتہ نہیں کیوں ہلکی سی مسکان آگئی۔ میرا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔


تمام آزاد خیالی کے باوجود میرا کبھی کسی مرد کے ساتھ جسمانی تعلق نہیں رہا تھا میرا۔ ہاں کچھ دوست ضرور رہے تھے۔ جن کے ساتھ بوس و کنار کر چکی تھی لیکین اس سے زیادہ نہیں۔ اس لیے یہ میرے لیے سب نیا تھا۔ البتہ میری کچھ لڑکیوں کے ساتھ بھی اس طرح کا تعلق رہا تھا، جس میں ہم کسنگ سے بہت آگے بڑھے تھے اور ایک دوسرے کے جنسی اعضا سے کھیلتے رہے تھے، یہی وجہ تھی کہ کسی مرد کے ساتھ سیکس نہ کرنے کے باوجود میں کنواری ہرگز نہیں تھی۔ اور کبھی کبھار جب جنسی جزبات بہت شدد اختیار کر لیتے تھے اور کوئی ایسی لڑکی بھی ساتھ نہیں ہوتی تھی تو میں اکیلے میں خود لزتی بھی کر لیتی تھی، اور اپنی پیاس خود ہی بجھا لیتی تھی۔ میں نے اپنی سہیلیوں سے جن کی شادی ہو چکی تھی سنا تھا کہ سہاگ رات کیسے ہوتی ہے، اور دلہا، دلہن کا گھونگھٹ اٹھانے کے بعد کیا کرتا ہے۔ میں اب سمجھ چکی تھی کہ اب آگے وہ کیا کرنے والا ہے۔ اور میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا۔

 

میں نے محسوس کیا کہ جواد کچھ کہنا چاہتے ہیں لیکین کہہ نہیں پا رہے۔ پتہ نہیں کیا بات تھی۔ پھر کچھ سوچتےہوے شاید اس نے اپنا ارادہ ترک کیا اور بات کرنے کے بجائے اس نے میرے شانے پر ہاتھ رکھا اور آہستہ سے پیچھے کی طرف دبایا۔ اس کا دباو بہت آہستہ تھا جیسے مجھے اشارہ دے رہا ہو کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ اور اس کا اشارہ سمجھتے ہوے میں آرام سے پیچھے جھک کر لیٹ گئی۔ وہ عجیب لمحہ تھا۔ میری عجیب کیفیت تھی۔ مجھے لِٹا کر جواد میرے اوپر لیٹنے لگا، تو میں نے شرماتے ہوئے نیچی آواز میں کہا

میں: پلیز لائیٹ آف کردیں

میری بات سن کر وہ پہلے رکے، پر مسکرا کر میرے کندھے سے ہاتھ ہٹا کر بیڈ کی سائیڈ میں دیوار کے ساتھ لگے بورڈ میں سے لائیٹ کا بٹن آف کیا۔ اب کمرے میں کافی تاریکی ہو چکی تھی۔ کھڑکی میں لگے پردوں سے تھوڑی سی روشنی باہر کے بلب کی آرہی تھی، مگر وہ اتنی نہیں تھی کہ کچھ واضع نظر آ سکے۔ جواد لائیٹ آف کر کے میرے پہلو میں میرے ساتھ لیٹ گیا۔ اس کے جسم سے اٹھتی مردانہ خوشبو میرے جزبات گرما رہی تھی اور میرے دل کی دھڑکن بے قابو ہو رہی تھی۔اس نے اپنی ایک ران میرے اوپر رکھ لی اور ایک ہاتھ میرے گالوں پررکھ لی۔ اس کے ہاتھوں کے لمس میں گرمی تھی۔ اس کی ٹانگ کی نرمی اور وزن میں اپنی ران پر محسوس کر رہی تھی۔اور وہ اپنی ٹانگ کو آہستہ آہستہ آگے پیچھے کر رہا تھا اور ہاتھ سے میرے گال سہلا رہا تھا۔ یہ سب کچھ خاموشی سے ہو رہا تھا۔ صرف ہم دونوں کی سانسوں کی آواز تھی۔ اس کا ہاتھ میرے کان کی بالی سے ٹکرایا، تو ہم دونوں کو احساس ہوا کہ میں نے زیور نہیں اتارا۔ اس نے میرے کان میں ہلکی سرگوشی کی۔۔

جواد: میمونہ، اپنی جیولری اتار کر رکھ لو، خراب ہو جائے گی۔

اور یہ کہنے کے ساتھ ہی اس نے اپنا ہاتھ اور ٹانگ میرے اوپر سے ہٹا دی۔ یہ اشارہ تھا کہ میں اٹھ کر جیولری سے جان چھڑاوں۔ میں اشارہ سمجھتے ہوئے اٹھی اور ایک ایک کر کے ساری جیولری نکالی۔ جواد نے مجھ سے جیولری لے کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی۔ میں نے دوبارہ لیٹنے کی کوشش کی تو جواد نے بڑے پیار سے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے ایسا کرنے سے روک دیا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ پر وہ میرے قریب سرک آیا اور مجھے اپنی بانہوں میں لے لیا۔ تاریکی میں اس کی گرم سانسیں میں اپنی گال پر محسوس کر سکتی تھی۔ اس نے مجھے اپنی طرف پیار سے کھینچا۔ میں نے مزاہمت نہیں کی۔ اس نے مجھے کھینچ کر اپنی گود میں بیھٹا لیا۔ میری ایک ران اس کی ران کے اوپر اور میری دوسری ران باہر تھی۔ اس کے ہاتھ میرے پیٹ کے گرد تھے۔ مجھے اپنی گود میں بٹھا کر اس نے ایک ہاتھ میری کمر پر رکھ لیا اور ہولے ہولے میری کمر سہلانے لگے اور دوسرا ہاتھ میری گال پر رکھ کر میرے چہرے کو اپنی طرف موڑ لیا۔ میں اس کی گود میں سائیڈ سے بیٹھی تھی۔ میرا چہرہ مڑا تو اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں کے سامنے آگئے۔ اس کی گرم سانسیں میرے ہونٹوں سے مس ہو رہی تھیں۔ پھر اس نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں کے ساتھ ملا دئے۔ اور پیار سے میرے ہونٹوں کو چوما۔ پھر دوبارہ چوما۔ میرے ہونٹ بند تھے ، میں نے اپنے ہونٹ ڈھیلے چھوڑ دئیے۔ اس نے میرا نیچلا ہونٹ اپنے ہونٹوں میں دبایا اور چوسنے لگے۔ اس نے میرے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئےاور اپنی گردن کے گرد رکھ دئے۔ میں نے اس کا مطلب سمجھتے ہوئے اپنی بانہں اس کی گردن کے گرد ڈال دیے۔ وہ میرے ہونٹوں کو کس کرتے رہے۔ میں تھوڑا رسپانس دینے لگی۔ اور اس کا اوپری ہونٹ کس کرنے لگی۔ ہم دونوں اب بھرپور مگر پیار سے ایک دوسرے کے ہونٹ چوم اور چوس رہے تھے۔ میں بتا چکی ہوں کہ یہ سب میں پہلے بھی کر چکی ہوں۔ اس لئے کسسنگ کرنا مجھے خوب آتا تھا۔

میری بانہیں جواد کی گردن کے گرد تھیں۔ جبکہ جواد نے ایک ہاتھ میری کمر پر رکھ کر مجھے اپنے ساتھ اپنی گود میں پکڑ رکھا تھا اور اس کا دوسرا ہاتھ میرے باہر نکلے ہوئے کولہے ہر تھا۔ وہ میرے چوتڑ کو مٹھی میں پیار سے ہولے ہولے دباتا اور سہلاتا۔ تھوڑئ دیر ہونٹوں کو چومنے چوسنے کے بعد، جواد نے اپنی زبان میرے منہ میں اندر داخل کر دی۔ اور اسے میرے منہ میں گھمانے لگا۔ اس کی زبان میری زبان سے ٹکرا رہی تھی۔ میں اس کی زبان کو ہونٹوں میں دبا کر چوسنے لگی۔ اور اس دوران وہ اپنی زبان کو میرے منہ کے اندر آگے پیچھے کرنے لگا، جیسے زبان سے میرے منہ کو چود رہا ہو۔ اس کے ہاتھ میں بھی تیزی آگئی تھی۔ وہ اب زیادہ تیز انداز میں میرے چوتڑ پر ہاتھ پھیر رہا تھا اور میرے چوتڑوں کو دبا رہا تھا۔ میرے جزبات بلندی پر تھے۔ پر اس نے اپنی زبان میرے منہ سے نکال کر میری زبان اپنے ہونٹوں میں دبا لی اور میری زبان چوسنے لگا۔ وہ بہت پیار لیکین جزبات سے میری زبان چوس رہا تھا۔ جواد نے شلوار قمیض پہن رکھی تھی، لیکین ابھی تک مجھے اپنی اس ران پر نیچے سے کچھ محسوس نہیں ہو رہا تھا جو ران میری اس کی گود میں تھی۔ حالانکہ جب پہلے میرے بوائے فرینڈ نے مجھے گود میں بٹھا کر کسنگ کی تھی تو اس کے لن کی سختی میں اپنے کولہوں اور کبھی ٹانگوں کے بیچ میں محسوس کرتی۔ لیکین جواد کے ساتھ ایسا نہیں تھا۔


جواد نے میری زبان چوستے ساتھ اسی حالت میں مجھے سائیڈ پر جھکایا اور خود بھی میرے اوپر جھکتے چلے گئے، اب اس نے مجھے بیڈ پر لٹا دیا تھا اور وہ مکمل میرے اوپر اس طرح سے لیٹا تھا کہ اس کا ایک ہاتھ میرے کولہوں کے نیچے تھا جس سے وہ میرے کولہے کو دبا رہا تھا۔ اور ساتھ ہی ساتھ میرے ہونٹ بھی چوم رہا تھا۔ پھر دوسرے ہاتھ سے اپنی قمیض کے بٹن کھولنے لگا۔ بٹن کھول کروہ میرے اوپر سے تھوڑا سا اٹھا اور قمیض نکال کر سائیڈ پر رکھ دی ۔ ساتھ میں اپنی شلوار کا ناڑا بھی کھول دیا۔ مجھے سب صاف نظر تو نہیں آ رہا تھا، مگر ہلکی ہلکی روشنی میں، میں محسوس کر سکتی تھی کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ پھر میری قمیض کا پلو پکڑ کر میرے سر کی طرف کھینچا۔ میں نے اپنا اوپری جسم تھوڑا اوپر اٹھایا اور اس نے میری قمیض اتار دی۔ میں دوبارہ لیٹ گئی۔ اب میں صرف برا اور شلوار میں تھی اور شلوار کے نیچے پینٹی پہن رکھی تھی۔ جواد جب پھر سے میرے اوپر لیٹا تو مجھے احساس ہوا کہ اس نے قمیض کے نیچے کچھ نہیں پہنا تھا۔ اب جواد کا ننگا اوپری بدن میرے ننگے پیٹ اور ادھ ننگے سینے سے مسل رہا تھا۔ وہ میرے سارے چہرے کو چومنے چاٹنے لگا۔ اس کے ہاتھ میرے جسم کے ننگے حصوں کا طواف کر رہے تھے۔ وہ میرے پیٹ پر میری ننگی کمر پر میرے شانوں پر ہاتھ پھیر رہا تھا اور ایک ہاتھ سے برا کے اوپر سے میرے ممے دبا رہا تھا۔ جس سے میری ہلکی ہلکی سسکیاں نکل رہی تھی، میرے ہاتھ اس کے ننگے شانوں پر تھے اور میں آہستہ آہستہ اسے مسل رہی تھی۔


جواد نے اپنے شانے کے اوپر میرے ایک ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے اپنے پیچھے لے گیا۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا کر رہا ہے۔ مجھے اس وقت تھوڑا س شاک لگا جب اس نے میرا ہاتھ اپنے پیچھے سے اپنی شلوار میں گھسایا اور اپنے چوتڑوں پر میرا ہاتھ رکھ کر اسے دبایا۔ اب کی بار میں اس کا مطلب بلکل نہیں سمجھی۔ اس نے میرا ہاتھ وہیں اپنے چوتڑوں کے اوپر چھوڑا اور اپنے ہاتھ سے دوبارہ میرے بدن کے ننگے حصوں کو مسلنے اور پیار سے دبانے لگا۔


اس کے انداز میں بہت نرمی تھی۔ میرا اس سے پہلے جتنے مردوں سے واسطہ پڑا تھا ان کا انداز لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ جارہانہ ہوتا تھا، لیکین جواد کا انداز ویسے ہی تھا جیسے لڑکیوں کا، مجھے اچھا لگ رہا تھا اس کا یہ انداز۔ لیکین جب اس نے میرا ہاتھ اپنی چوتڑوں پر رکھا تو میں اس کا مطلب نہیں سمجھ پائی۔ ایسا کسی مرد نے میرے ساتھ پہلے نہیں کیا تھا۔ ہاں ہم لڑکیاں ایک دوسرے کے چوتڑوں سے کھیلتی تھیں، مگر مرد کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ اس کی مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی۔


میں جواد کے ساتھ کسنگ کرنے کے ساتھ ساتھ یہی سب سوچ رہی تھی،اور میرا ہاتھ وہیں کا وہیں جواد کے چوتڑوں کے اوپر پڑا تھا۔ اس کی شلوار اس کے چوتڑوں سے نیچے کسک چکی تھی۔ جواد نے دوبارہ سے اپنا ہاتھ پیچھے کر کے میرے ہاتھ کو پکڑا اور دوبارہ سے اپنے چوتڑوں پر دبایا۔ میں سمجھی شائید وہ چاہتا ہے کہ میں اس کے کولہوں کو دباوں۔ میں نے اس کے کولہوں کو دبانا شروع کیااور مٹھی میں لینے لگی۔ میرے ایسا کرنے سے جواد کے ہاتھوں اور اس کی کسنگ کی رفتار میں شدت آنے لگی۔

تھوڑی دیر بعد اس نے دوبارہ اپنا ہاتھ پیچھے کیا اور میرے ہاتھ کو پکڑ کر اپنی دونوں کولہوں کے بیچ میں گھسا دیا۔ میرا ہاتھ اس کی گانڈ کے سوراخ سے ٹکرا رہا تھا۔ اس نے میرے ہاتھ کی درمیانی انگلی پکڑ لی اور اپنی گانڈ کے سوراخ کے اوپر دبا دی، جس سے میری انگلی اس کی گانڈ میں تھوڑی سی گھس گئی۔ جواد کی اس حرکت سے مجھے ایک اور جھٹکا لگا۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟ میں نے سوچا۔ میرا اب سارا دھیان جواد کی حرکتوں کی طرف ہو گیا۔ وہ کیا چاہتا ہے؟ میری پوری طرح سے سمجھ میں نہیں آرہا تھا، لیکین میں اتنا سمجھ گئی تھی کہ یہ نارمل نہیں ہے۔ میری کسی سہیلی نے مجھے نہیں بتایا تھا کہ شوہر ایسا بھی کرتے ہیں۔ لہٰزہ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ مجھے کیا کرنا چاہئے۔

اب صورتحال یہ تھی کہ جواد میرے اوپر لیٹا میرے ہونٹوں اور گالوں کو چوم رہا تھا، اور ایک ہاتھ اسکا میرے مموں پر تھا، اس نے میری برا کو اوپر اٹھا لیا تھا جس سے میرے ممے ننگے ہوگئے تھے اور وہ ہاتھ سے میرے مموں کو باری باری دبا رہا تھا۔ اس کا دوسرا ہاتھ میرے کولہوں پر تھا، جس سے اس نے میری شلوار کو نیچے کھینچا تو میرا لاسٹک کا ناڑا میری شلوار کو نہیں روک سکا، اور میری شلوار نیچے کسک گئی۔ اس کی شلوار پہلے سے نیچے تھی، میری شلوار نیچے ہونے سے اس کے لن کو میں نے پہلی بار اپنی رانوں پر اور اپنے پیٹ کے نیچلے حصے پر محسوس کیا۔ لیکین یہ کیا، ابھی تک اس میں وہ سختی نہیں تھی۔ وہ نیم بیدار حالت میں تھا۔ اس سے پہلے تو جب لڑکے میرے ساتھ کسنگ کرتے تو کسنگ کے دوران ہی اور کپڑوں کے اندر سے ان کے لن کی سختی مجھے محسوس ہوتی۔ لیکین جواد کے ساتھ ایسا نہیں تھا۔ میرے ذہن میں پھلنے والے وسوسے اور ابھرنے لگے، میں جواد کو ان دوسرے لڑکوں کے ساتھ کمپیر کرنے لگی جن سے میری دوستی رہی تھی۔ کیا جواد جنسی لحاظ سے کمزور ہیں؟ میرا دل دھڑک کر رہ گیا۔۔۔

میری انگلی اس کی گانڈ کے سوراخ پر تھی اور تھوڑی سی اندر دبی ہوئی تھی۔ جواد اپنے گانڈ کی سوراخ کو کھول اور بند کر رہا تھا، جس سے وہ میری انگلی کو دعوت دے رہا تھا کہ اسے میں اور اندر لے جاوں۔ میں نے نہ چاہتے ہوئے، اپنی انگلی اس کی گانڈ کے اندر تھوڑی اور گھسا دی، اس کے منہ سے ایک لمبی آہ ہ ہ ہ ہ نکلی۔ مجھے اندازہ ہوا کہ اسے ایسا کرنے سے مزہ آ رہا ہے، سو میں اپنی انگلی کو اور اندر دبانے لگی اور جہاں تک اپنی انگلی گھسا سکتی تھی میں نے اس کی گانڈ میں گھسا دی۔ وہ اپنی گانڈ کو اوپر نیچے کرنے لگا۔ جس سے میری انگلی اس کی گانڈ میں اندر باہر آنے جانے لگی، اور جواد کے جزبات میں مزید شدت آنے لگی۔ میں نے محسوس کیا کہ اب اس کے لن میں بھی سختی آنے لگی تھی، اور وہ میرے پیٹ اور چوت کے اوپر دباو ڈالنے لگا تھا۔ اب اس نے اپنا چہرہ میرے مموں کے اوپر کر لیا تھا اور میرے مموں کو چومنے چاٹنے لگا۔ وہ باری باری میرے مموں کو چومتا اور میرے نپل کو چوستا۔ جواد کی اس حرکت سے میرے جزبات بھی بھڑک رہے تھے۔ میرے منہ سے سسکاریاں نکل رہی تھیں اور میں نے بے اختیار اپنے دونوں ہاتھ اس کے سر پر رکھ کر اس کے سر کو اپنے مموں کے اوپر دبایا۔ ایسا کرنے سے میرا ہاتھ اور انگلی اس کی گانڈ سے نکل گئی۔


جواد تھوڑا سا رُکا، اس نے اپنا نچلا جسم کسکایا، اور اپنا لن میرے پیٹ کے اوپر لے آیا، اس کا سینا اب میرے سینے سے تھوڑا اُٹھ چکا تھا اور وہ جھک کرمیرے پستان چوم رہاتھا۔ جواد کے ایسے کرنے سے اس کے کولہے بھی میرے پیٹ پر آگیے تھے۔ اس نے میرا ہاتھ دوبارہ پکڑا اور اپنے پیچھے لے جا کر اپنی گانڈ پر رکھا۔ اس بار میں ہچکچائی، اور تھوڑی مزاہمت کی۔ میں سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ وہ ایسا کیوں کر رہا تھا۔ آج ہماری سہا گ رات تھی، اور میری سمجھ کے مطابق اسے چاہیے تھا کہ مجھے چودے، لیکین یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور لگ رہا تھا، جِسے میں سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔

میری ہچکچاہٹ اس نے بھی محسوس کی۔ اس نے اپنا چہرہ میری کان کے قریب کیا اور سرگوشی میں کہا

جواد: میمونہ جان، آج ہم دونوں کی سہاگ رات ہے اور ہم دونوں نے اسے انجوائے کرنا ہے۔ مجھے تمہاری انگلی سے مزہ آئے گا، اور میرے جزبات ابھریں گے، تو میں تمہیں بھی مزہ دے سکوں گا۔ لیکین اگر آپ کو بُرا لگ رہا ہے تو میں انسسٹ نہیں کروں گا۔


جواد کی بات سن کر مجھے عجیب سا لگا۔ ایسا تو میں نے پہلے نہیں سنا تھا۔ خیر میرے جزبات اس وقت بھڑکے تھے اور میں چاہتی تھی کہ وہ اپنا کام جاری رکھے، اس لئے میں نے بادل ناخواستہ، حامی بھری۔ اور اس بار میں نے اپنی مرضی سے اپنا ہاتھ اس کی گانڈ پر رکھ دیا۔ لیکین مجھے اس کی گانڈ تک پہنچنے میں مشکل ہو رہی تھی۔ اس کا قد مجھ سے زیادہ تھا۔ جس سے میرا ہاتھ اس کی گانڈ کے سوراخ تک بمشکل پہنچ رہا تھا۔ میں نے پہلے کی طرح انگلی اندر ڈال دی، لیکین زیادہ ہلا نہیں پا رہی تھی۔ وہ دوبارہ سے میرے سینے سے پیار کرنے لگا تھا اور میرے مموں کو ہاتھوں میں دبوچ کر نپل منہ میں لے کر چوسنے لگا۔ وہ بار بار اپنی گانڈ اوپر نیچے کر رہا تھا۔ شاید وہ چاہ رہا تھا کہ میں انگلی اس کی گانڈ کے اندر باہر کروں لیکین میرا ہاتھ صحیح طرح سے نہیں پہنچ رہا تھا۔ اس بات کو جواد نے بھی بھانپ لیا تھا۔


وہ میرے اوپر سے ہٹا۔ اپنی شلوار مکمل اتاری اور گھوم کر اپنا سر میرے پیروں کی طرف کر دیا اور اپنی ٹانگیں میرے سر کے اردگردھ رکھ لی۔ ہم اب 69 کی پوزیشن میں آگئے تھے۔ میں اپنی ساتھی لڑکیوں کے ساتھ ایسا کئی بار کرچکی تھی، جس میں ہم ایک دوسرے کی چوت کو چاٹتیں تھی۔ لیکین کبھی کسی مرد کے ساتھ ایسا نہیں کیا تھا۔

69 کی پوزیشن میں آنے کے بعد جواد، جواد نے میری شلوار مکمل اتاری، میری پینٹی بھی اتاری اور میری چوت پر جُھک گیا ۔ وہ میری چوت کو انگلیوں سے مسلنے لگا۔ ساتھ ہی ساتھ اس نے اپنی گانڈ نیچے کر کے میرے چہرے سے ٹچ کی۔ میں نیٹ پر ننگی فلموں میں دیک چکی تھی کہ اس پوزیشن میں پورن سٹارز اپنے مرد ساتھی کے لن کو منہ میں لے کر چوستی تھیں۔ لیکین میں نے کبھی کسی مرد کا لن منہ میں نہیں لیا تھا، ہاں کھبی کبھار ہم لڑکیاں ڈلڈو (نقلی لن) ایک دوسرے کے منہ میں گھساتی تھی۔ لیکین یہاں تو مسلہ ہی کچھ اور تھا۔ جواد اپنا لن میرے چہرے ہر نہیں مسل رہا تھا بلکہ اپنے چوتڑ مسل رہا تھا۔ میں نے سوچا کہ اگر جواد یہ چاہتا ہے کہ میں اس کی گانڈ چاٹوں تو یہ تو میں نہیں کروں گی، یہ سوچتے ہوئے میں نے اس کی گانڈ کے سوراخ پر انگلی رکھی اور اور اندر دبا دی۔ جواد بھی شاید یہی چاہتا تھا، تبھی اس نے اپنی گانڈ میرے چہرے سے اٹھا دی تاکہ میرا ہاتھ آرام سے پہنچ سکے۔ اور واقعی اب میں آرام سے اس کی گانڈ میں انگلی ڈال سکتی تھی اور میں نے ڈالی۔ میں انگلی کو اس کی گانڈ میں اندر باہر لے جانے لگی۔ میں انگلی سے اس کی گانڈ چود رہی تھی۔ یہ سوچ کر مجھے عجیب سا لگا۔


(مجھے اس سے پہلے گے، یعنی گانڈو مردوں کے بارے میں زیادہ نہیں پتہ تھا۔ صرف اتنا جانتی تھی کہ کچھ مرد بھی ایک دوسرے کے ساتھ سیکس کرتے ہیں، لیکین کیا کیا اور کیسے کرتے ہیں یہ نہیں پتہ تھا۔ اور پر میں مرد تو تھی نہیں تو یہ تو بلکل بھی نہیں پتہ تھا کہ ایسے لڑکوں سے ہم لڑکیاں کیا کر سکتی ہیں)۔


دوسری طرف، جواد نے بھی اب میری چوت کو منہ سے چومنا اور چاٹنا شروع کیا۔ میں اب پورے شوق میں آگئی تھی۔ میرے پورے بدن میں ایک سنسنی سی دوڑ رہی تھی۔ میرا پورا وجود لرز رہا تھا اور میرے منہ سے اااہ ہ ہ ہ اور سسکیوں کی آوازیں نکل رہی تھیں۔ میں اور شدت سے جواد کی گانڈ میں انگلی اندر باہر کرنے لگی۔ وہ بھی بھرپور مزے میں تھا، جس کا اندازہ اس بات سے ہو رہا تھا کہ اس کا لن مکمل ٹائیٹ ہو چکا تھا اور میرے چہرے سے ٹکرا رہا تھا۔ جواد اپنے لن کو میرے ہونٹوں سے رگڑنے لگا۔ میں نے اپنا منہ تھوڑا سا کھول دیا۔ اس نے اپنا لن میرے منہ میں گھسا دیا۔ لیکین میں نے اسے بہت اندر جانے نہیں دیا۔ میں زیادہ اندر نہیں لے سکتی تھی۔ اس کا لوڑا موٹا تھا اور کوئی 5 یا 6 انچ کے قریب تھا۔ لن بہت سخت تھا اور گرم بھی۔ وہ لن کو میرے منہ میں آگے پیچھے کرنے لگا۔


اب صورتحال یہ تھی کہ جواد میری چوت چاٹنے کے ساتھ ساتھ میرا منہ اپنے لوڑے سے چود رہا تھا اور میں اس کے لوڑے کو چوسنے کے ساتھ ساتھ اس کی گانڈ میں انگلی مار رہی تھی۔ ہم دونوں جزبات کی انتہاوں پر تھے جواد نے میری شلوار اور پینٹی اتار دی تھی ۔ میری برا میرے گلے میں پڑی تھی۔ میں نے خود ہی اسے الگ کر کے اتار دیا۔ اب ہم دونوں ننگے تھے، اور شہوت بھری سہاگ رات اپنے جوبن پر تھی۔


کچھ دیر اسی پوزیشن میں رہنے کے بعد۔ جواد اٹھا اور میری ٹانگوں کے بیچ میں بیٹھ گیا۔ میری ٹانگیں کھول کر اوپر اٹھائی اور اپنے کندھوں پر انہیں رکھ لیا۔ پر اپنا لوڑا ہاتھ میں لے کر میری چوت پر رکھ لیا۔ میری چوت مکمل گیلی تھی۔ اور لن کیلیے مکمل تیار تھی۔ لیکین کسی مرد کا لن پہلی بار میری چوت میں گھسنے والا تھا اس لیے ڈر رہی تھی۔ پتہ نہیں کیا ہوگا۔ اس نے آرام سے لن کو میری چوت میں دبایا تو لن کی ٹوپی میری چوت میں گھس گئی۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔ میری مزے سے ایک لمبی سسکی نکلی۔ جواد نے لن کو مزید اندر دبایا۔۔ اور پر اندر ہی کرتا گیا یہاں تک کہ اس کے ٹٹے میری چوت کے نیچلے حصے سے تچ کر گئے۔ اس نے پورا لن میری چوت میں گھسا دیا تھا۔ میری چوت پہلی بار کسی مرد کے لوڑے سے چود گئی تھی۔ یہ احساس اور سوچ میرے جزبات کو بھڑکا رہا تھا۔ تاریکی میں ہم دونوں اس وقت اپنی شہوانی جزبات کے عروج پر تھے۔ ہم دونوں کے جسموں پر ہلکا ہلکا پسینہ آرہا تھا۔ یہ سیکس کا پسینہ تھا اور اس کی خوشبو مسحور کن تھی۔ جواد میرے اوپر جھکا اور اپنے لن سے میری چوت میں جھٹکے مارنے لگا۔پہلے آہستہ آہستہ پھر اس کے جھٹکے تیز ہونے لگے۔ وہ بھرپور انداز میں میری چوت چود رہا تھا اور میرے لئے اپنی سسکیاں اور کراہیں روکنا مشکل ہو رہا تھا۔ جواد کے جھٹکوں سے میرا پورا بدن لرز رہا تھا، اس کا لوڑا میری چوت کے اندر رگڑ کھا کر جا رہاتھا۔ میری چوت میں لگنے والے ہر جھٹکے سے میرے جزبات اور ابھر رہے تھے۔


تھوڑی دیر بعد میں نے محسوس کیا کہ نہ صرف اس کے جھٹکوں کی رفتار سست پڑھ گئی بلکہ اس کا لن بھی میری چوت کے اندر ہی ڈھیلا پڑنے لگا تھا۔ میں نے سوچا کیا وہ میرے اندر ہی چوٹ گیا ہے؟ لیکین میں نے اپنے اندر کسی مائع کو محسوس نہیں کیا۔ پر جواد نے میرے کانوں  میں سرگوشی کی

جواد: میمونہ ڈارلنگ، میرے جزبات پھر سے ٹھنڈے پڑھ رہے ہیں۔ تم بھی انگلی کا استعمال کرو

اف خدایا یہ کیا مصیبت ہے۔۔۔ میں نے سوچا۔

یہ اب مجھے بار بار کیا اس کو ایسے ہی سٹارٹ کرنا پڑے گا۔۔ میں کوفت محسوس کرنے لگی تھی۔۔میرا دل کر رہا تھا کہ وہ نہ رکھے ۔۔ اور مسلسل مجھے چودتا رہے۔۔ لیکین وہ ٹھنڈا پڑھ رہا تھا۔ میں نے مشکل سے ہاتھ بڑھا کراس کی گانڈ میں انگلی ڈال دی۔ اور اسے اندر باہر کرنے لگی۔ انگلی پوری نہیں جا رہی تھی۔ جواد نے میری چوت سے لوڑا نکالا، آگے کسک کر میری پیٹ پر ایسے بیٹھ گیا کہ اس کی گانڈ اوپر اٹھی ہوئی تھی۔ اب میرا ہاتھ اس کی گانڈ میں صحیح پہنچ رہا تھا۔ میں نے اس کی گانڈ میں انگلی پوری ڈال دی اور اسکی گانڈ چودنے لگی۔ وہ اپنا ڈھیلا لن میرے مموں سے مسلنے لگا۔


جواد: اف میمونہ ڈارلنگ آہ ہ ہ ہ۔۔۔ ایسے ہی میری گانڈ مارتی رہو ۔۔ اففففففف بہت مزہ آرہا ہے۔۔۔


جواد کی باتیں سن کر مجھے غصہ آنے لگا تھا۔ کمبخت مجھے چودنے کی بجائے اپنی گانڈ مجھ سے مروا رہا تھا،، گانڈو کہیں کا۔۔۔میں نے سوچا۔ لیکن میں نے کچھ نہیں کہا اور
 جواد کی باتیں سن کر مجھے غصہ آنے لگا تھا۔ کمبخت مجھے چودنے کی بجائے اپنی گانڈ مجھ سے مروا رہا تھا،، گانڈو کہیں کا۔۔۔میں نے سوچا۔ لیکین میں نے کچھ نہیں کہا اور اس کی گانڈ انگلی سے چودتی رہی۔ اس کا لوڑا ایک بار پھر سخت ہونے لگا تھا۔ اس نے سائیڈ پر جھک کر اپنی قمیض اٹھائی اور اس کی جیب میں سے کچھ نکالا۔ میں نے تاریکی میں دیکھا کہ اس نے کنڈوم نکالا تھا۔ کنڈوم پیکٹ سے نکال کر اس نے اپنے لن پر چڑھایا، اس دوران میں اس کی گانڈ میں انگلی ہلاتی رہی۔

پھر وہ دوبارہ پیچھے کو کسکا۔ میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا۔ میری انگلی اس کی گانڈ سے نکل چکی تھی۔ میری ٹانگیں اٹھا کر اپنا لن کنڈوم کے ساتھ میری چوت میں گھسا دیا۔ ایک تو پہلے ہی میری چوت چُد چکی تھی۔ اوپر سے کنڈوم تھا۔ اس کا لوڑا اس بار ایک ہی جھٹکے میں پورا میری چوت میں اتر گیا۔ اور جواد دوبارہ سے مجھے چودنے لگا۔۔۔۔ لیکین اس کی رفتار سلو تھی۔۔ مجھے مزہ نہیں آرہا تھا۔ میں چاہتی تھی کہ وہ تیز تیز جھٹکوں سے مجھے چودے۔ لیکین میں کہنے سے ہچکچا رہی تھی۔ آخر مجھ سے رہا نہیں گیا تو میں نے کہہ ہی دیا۔۔۔

میں: آہ ہ ہ ہ پلیز تھوڑا تیز تیز۔۔۔۔۔


جواد میری بات سمجھ گیا۔ اور اپنی رفتار تیز کر دی۔ میری چوت کی گرمی دوبارہ سے بڑنے لگی۔ میری سسکیاں پر سے میرے قابو میں نہیں رہی۔ کمرے میں میری سسکیوں، جواد کے تیز تیز سانس لینے کی آوازوں کے ساتھ ساتھ میری چوت میں اس کے لوڑے کے گھسنے سے جوآوازیں پیدا ہو رہی تھیں ان سب آوازوں نے مل کر ماحول کو پوری طرح سے شہوت زدہ کر دیا تھا۔ تھوڑی دیر میں جواد کی رفتار بہت زیادہ تیز ہو گئی اور پھر چند جھٹکوں کے بعد وہ چھوٹ گیا۔ اور بے سُدھ میرے اوپر گر گیا۔


میں ابھی بھی گرم تھی اور چاہتی تھی کہ وہ نہ رکے لیکین میں جانتی تھی کہ اب یہ ممکن نہیں ہے۔ جواد تھوڑی دیر ایسے ہی میرے اوپر لیٹا رہا۔ اس کا لن میری چوت کے اندر تھا۔ لیکین اب وہ ڈھیلا ہوگیا تھا۔ پر وہ میرے اوپر سے اترا۔۔ اور سائیڈ پر لیٹ کر اپنے لن کو صاف کرنے لگا۔ اس نے سائیڈ ٹیبل سے ٹیشو پیپر اٹھا کر میری طرف بڑھایا، میں نے کچھ ٹیشو لے کر اپنی، چوت ، ٹانگیں ممے اور چہرے کو صاف کیا۔۔۔۔۔


مجھے جواد کے ساتھ یہ پہلی چدائی انوکھی اور عجیب لگی۔ مجھے چودنے کے بجائے زیادہ وقت تک میں جواد کی گانڈ مارتی رہی۔ مجھے یہ بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ میرا شوہر گانڈو ہے۔ میں سوچ رہی تھی کہ اس کا کیا اثر ہو گا ہماری آنے والی زندگی پر۔ اوپر سے میں پوری طرح ٹھنڈٰی بھی نہیں ہو سکی تھی۔ جس کی وجہ سے ایک عجیب سی جنجلاہٹ طاری ہو گئی مجھ پر۔ میرا سہاگ رات کا تجربہ کچھ میٹھا کچھ کھٹا سا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
صبح میری آنکھ دیر سے کھلی۔ کھڑکی پر لگے پردوں میں سے روشنی اندر آرہی تھی۔ میں نے سائیڈ پر کروٹ لی، تو دیکھا کہ جواد بے سُدھ سو رہا ہے۔ مجھے سہاگ رات کی ساری کاروائی یاد آگئی۔ اور میں اس بارے میں سوچنے لگی۔ میں کیا سوچ کر آئی تھی اور کیا دیکھنا پڑا۔ میں نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ میرا شوہر گے ہو گا۔ اب کیا کرنا چاہئے مجھے؟ میں یہی کچھ سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی۔

جواد ابھی تک سو رہا تھا۔ اس کا اوپری بدن ننگا تھا۔ البتہ کمر سے نیچے کی طرف کمبل تھا اس پراس لئے اس کا نیچے کا جسم نظر نہیں آ رہا تھا کہ اس نے نیچے کچھ پہنا ہے یا نہیں۔ میں بھی ننگی ہی تھی۔ اپنے ننگے پن کا احسان ہوتے ہی، میں اٹھی اور بیڈ کی سائید پر پڑے اپنے کپڑے اٹھائے، ایک ایک کر کے پہن لئے۔ میں  نے وارڈ روب سے اپنے کپڑے نکالے۔ (امی نے جانے سے پہلے میرا ضروری سامان بیگز سے نکال کر کمرے میں رکھوا دیا تھا اور میرے کپڑے الماری میں لگا دئے تھے)۔ پھر باتھ روم گئی۔ نہا دھو کر اور نئے کپڑے پہن کر واپس آئی، تو دیکھا کہ جواد بھی جاگ چکا تھا۔ مجھے دیکھ کر وہ مسکرایا

جواد: گُڈ مارننگ ڈارلنگ

میں: گُڈ مارننگ

میں نے شرماتے ہوئے مسلکراہٹ کے ساتھ اس کو جواب دیا۔ اور ڈریسنگ روم کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے بال سنوارنے لگی۔ میرے بال گیلے تھے اور تھوڑا تھوڑا پانی اس میں سے ٹپک رہا تھا۔ آئینے سے میں نے دیکھا کہ جواد سائید پر لیٹا میری طرف دیکھ رہا تھا، اس نے ایک ہاتھ اپنے سر کے نیچے رکھا تھا اور دوسرا اپنی رانوں پر، اور مجھے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔

بال بنانے کے بعد میں نے ہلکا پھلکا سا میک اپ کیا، پرفیوم لگایا، اور ٖکچھ ضروری جیولری پہنی۔ اسی اثنا میں بیڈ روم کے دروازے پر دستک ہوئی۔

جواد: کون ہے

میں ہوں جواد بیٹا۔۔۔۔۔

باہر سے جواد کی امی اور میری ساس، صفیہ بیگم کی آواز آئی۔ اس سے پہلے کہ میں دروازے کی طرف جاتی، جواد بیڈ سے اٹھا اور دروازے کی طرف گیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ پورا ننگا نہیں تھا، نیچے انڈر وئیر پہنا ہوا تھا، پر بھی مجھے اچھا نہیں لگا کہ وہ اس حالت میں اپنی امی کے سامنے جائے۔ میں نے تھوڑی سی شرم محسوس کی۔ لیکین جواد کو کوئی پروا نہیں تھی شاید، اور ویسے بھی اب کیا ہو سکتا تھا۔ وہ دروازہ کھول چکا تھا اور جواد کی امی صفیہ بیگم اندر آگئی تھی۔

صفیہ امی نے ایک شرارتی نظر اپنے بیٹے پر ڈالی اور اس کے ماتھے کو چوما۔ پھر وہ میری طرف آئی۔ مجھے گلے لگا کر میرا بھی ماتھا چوما، مجھے شانوں سے پکڑ کر میرا ایک طائیرانہ جائیزہ لیا۔ اور پھر یہ دیکھ کر اس کے چہرے پر اطمینان آیا کہ میں پوری طرح تیار ہو چکی تھی۔

صفیہ امی: رات کیسی گزری؟ جواد نے زیادہ تنگ تو نہیں کیا؟

صفیہ امی نے مجھے مخاطب کر کے شرارتی انداز میں پوچھا۔۔ تو میرے چہرے پر شرم اور مسکان ایک ساتھ آئی

میں: اچھی تھی بڑی امی۔۔

اب اسے کیا بتاتی کہ رات کو کیا ہوا۔ اسے کیا بتاتی کہ اس کا بیٹا تو گانڈو ہے۔ بس مسکرا کر اسے جواب دیا۔ صفیہ امی کی بات جواد نے بھی سن لی۔

جواد: امی آپ کو میں تنگ کرنے والا لگتا ہوں کیا،

جواد نے اپنی امی کو پیچھے سے گلے لگاتے ہوئے کہا۔ اس نے اپنی امی کو پیچھے سے کس کر کے پکڑا ہوا تھا۔ مجھے بڑا عجیب لگا، وہ ابھی بھی صرف انڈر وئیر میں تھا۔ لیکین نہ تو بظاہر جواد کو اس کی فکر تھی اور نہ ہی صفیہ امی کو۔ صفیہ امی کی موٹی گانڈ اس کے کپڑوں سے باہر نکل رہی تھی اور جواد اس کی گانڈ سے جُڑ کر کھڑا تھا، اور اس کے ہاتھ صفیہ امی کے مموں کے بلکل نیچے اس کے پیٹ پر تھے۔

صفیہ امی: چل شرارتی۔۔ کیا مجھے نہیں پتا کہ تم کتنے شرارتی ہو۔ اب ہٹو اور تم بھی جلدی سے تیار ہو جاو اور پر دونوں نیچے آ جاو۔ سب لوگ تم دونوں کا ڈائینگ ٹیبل پر انتظار کر رہے ہیں۔

جواد: جی اچھا امی۔ بس دس منٹ میں میں تیار ہوتا ہوں پر ہم آتے ہیں۔

یہ کہہ کر جواد نے اپنی امی کے گال پر کس کیا۔ اور اپنے کپڑے وارڈروب سے نکال کر باتھ روم میں چلا گیا۔

صفیہ امی: تم بھی بیٹا پر جواد کے ساتھ نیچے آ جانا۔ ماشااللہ کتنی اچھے لگ رہی ہو۔

صفیہ امی نے میری بلائیں لیتے ہوئے کہا۔ اور مڑہ کر واپس چلی گئی۔ کمرے کا دروازہ بند ہوا تو میں دوبارہ ڈریسنگ مِرر  کی طرف پلٹی اور اپنی تیاری کا جائیزہ لینے لگی۔

میں تب تک مکمل تیار ہو چکی تھی جب جواد باتھ روم سے نکلا۔ پھر وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہوا اور بال بنانے لگا۔ اب ہم دونوں بلکل تیار تھے۔

جواد اس وقت بہت حسین لگ رہا تھا۔ اس کی عمر 25 سال تھی۔ اس نے تازہ تازہ شیو کیا تھا جس سے اس کا چہرہ صاف شفاف اور تروتازہ لگ رہا تھا۔ خوبصورت بال، گورا رنگ، اس پر بہت جچ رہا تھا۔ جواد نے میری کمر میں ایک ہاتھ ڈال کر مجھے اپنے قریب کیا اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوے کہا

جواد: چلیں ڈارلنگ۔ سب ہمارا انتظار کر رہے ہونگے؟

میں: جی چلیں

جواد نے میرے گال پر ایک ہلکا بوسہ لیا اور مجھے لے کرکمرے سے باہر کی طرف چل دیا۔

ہمارا بیڈ روم گھر کی اوپری منزل پر تھا۔ ہم سیڑھیاں اتر کر نیچے آ ئے اور ڈائیننگ روم میں داخل ہوئے۔ میں نے دیکھا کہ گھر کے سارے افراد ڈائیننگ ٹیبل پر موجود تھے۔ ہم دونوں نے سب کو سلام کیا، اور خالی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔

جواد کے ابو سلطان فرید صاحب ٹیبل کی ایک سائیڈ پر بیٹھے تھے۔ اس کے ساتھ دائیں طرف صفیہ امی بیٹھی ہوئی تھی۔ اور سلطان صاحب کی دوسری طرف جواد کے بڑے بھائی فواد بیٹھے تھے۔ فواد کے ساتھ ایک کرسی خالی تھی اور اس کے بعد جواد کی بہن مایا بیٹھی تھی۔ جواد کی امی کے ساتھ والی کرسی پر جواد بیٹھا اور جواد کے ساتھ میں بیٹھ گئی۔ فواد کی بیوی اور اس گھر کی بڑی بہو، شہلا، نوکروں کے ساتھ مل کر کھانا لگا رہی تھی۔
 
سلطان، یعنی میرے سسر کی کافی رعوبدار پرسنیلیٹی تھی۔ ہلکی ہلکی مونچوں کے ساتھ گھنے بال اور مظبوط صحتمند جسم تھا اس کا۔ عمر میں وہ میرے ابو کے تقریباََ برابر ہی تھے، یعنی 50 سال۔

صفیہ امی کی عمر45 سال تھی لیکین کسی طرح سے بھی 38 سے زیادہ کی نظر نہیں آرہی تھی۔ ہلکا سا میک اپ کیا ہوا تھا اور پھولدار ساڑھی میں وہ بہت سیکسی لگ رہی تھی۔

فواد بھائی 28 سال کا ہینڈسم نوجوان تھا۔ کلین شیو کی ہوئی تھی اور تھری پیس سوٹ پہن رکھا تھا۔ وہ بھی اپنے والد کے ساتھ فیکٹری میں کام کرتا تھا۔

شہلا، فود کی بیوی، مجھ سے دو سال بڑی یعنی 24 سال کی تھی۔ اس وقت اس نے بائجامہ کے ساتھ کاٹن کا ہاف بازو والا کرتا پہن رکھا تھا۔ جس میں اس کے دودھیا بازو نظر آرہے تھے۔ درمیانے سائیز کے کولہے اور باہر کو نکلی چھاتیاں اسے بہت پر کشش اور سیکسی بنا رہی تھیں۔

مایا، اس گھرمیں سب سے چھوٹی تھی۔ اس کی عمر 20 سال تھی۔ اس وقت اس نے بلیو جینز اور ریڈ کلر کی پھولدار ٹی شرٹ پہن رکھی تھی۔ کھلے گلے اور ہاف بازو کےساتھ وہ بہت ہاٹ لگ رہی تھی۔ ممے اس کے بھی درمیانے سائیز کے تھا اور گول گول کولہے بہت خوبصورت نظر آرہے تھے۔

 پر جواد کے ابو نے بات شروع کی

سلطان ابو: بیٹا میمونہ، میں آپ کو آج اپنی فیملی میں باقاعدہ خوش آمدید کہتا ہوں۔ باقی سب سے آپ شادی میں مل ہی چکی ہیں۔

میں: شکریہ بڑے ابو

(گھر میں سب سلطان صاحب کو بڑے ابو کہہ کر بلاتے تھے)۔

سلطان ابو: بیٹا یہ اب آپ کا اپنا گھر ہے، کوئی ضرورت ہو یا کوئی مسلہ تو آپ ہم سب کے سااتھ شئیر کر سکتی ہو

میں: جی شکریہ بڑے ابو۔ میں جانتی ہوں

مایا: اچھا تو جناب، ویسے میرا تو خیال تھا آج ہم چھوٹی بھابھی کے ہاتھ سے پکا ہوا کچھ کھائیں گے۔

مایا نے شرارت سے کہا۔

شہلا: کیوں میرے ہاتھ کا کھانا پسند نہیں محترمہ کو؟

شہلا جو اب فواد کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ چکی تھی نے ناراضگی کی اداکاری کرتے ہوے کہا

مایا: ارے نہیں بھابھی آپ کے کھانے میں تو اتنا مزہ ہے کہ مت پوچھو۔ آپ کے کھانے کھا کھا کرتو فواد بھیا اتنے موٹے ہو گئے ہیں۔

فواد بھائی: میں موٹا کب سے ہو گیا۔ تم اپنا آپ دیکھو، ڈرم بنتی جا رہی ہو

مایا اور فواد بھائی کی نوک جھونک پر سب ہنس پڑے۔

صفیہ امی: ماشااللہ سے آج میمونہ کے آنے سے ہمارا گھر مکمل ہوا ہے۔ اور جہاں تک میمونہ کے ہاتھ کا کھانا کھانے کی بات ہے، تو رات کو ڈنر پر ہم نے میمونہ کے سارے گھر والوں کو مدعو کیا ہے، اسلئے ڈنر میں میمونہ اپنے ہاتھ کا جادو جگائے گی۔

میں: ضرور بڑی امی۔

میرے لیے یہ نئی خبر تھی کہ میرے گھر والے آج آ رہے ہیں، اسلئے صفیہ امی کی بات سن کر میں اندر ہی اندر بہت خوش ہوئی۔

جواد خاموشی سے سب کی باتیں سن رہا تھا۔ اور پر سب ناشتہ کرنے لگے۔ ناشتے کے بعد بڑے ابو اور فواد بھائی فیکٹری چلے گئے، اور مایا کالج کیلیے نکل گئے۔ جواد نے آج چٹھی کر لی تھی۔ تھوڑی دیر ڈرائینگ روم میں بڑی امی، شہلا اور جواد کے ساتھ بیٹھ کر گپ شپ کی۔ اور پر میں اپنے بیڈروم میں چلی آئی

Posted on: 06:24:AM 25-Dec-2020


1 0 1351 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 59 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com