Stories


نامرد از کیو طاہرہ

نامکمل کہانی ہے


ارم دل میں ہزاروں ارمان سجاے دلہن بنی تھی. گھر والوں نے خوب دھوم دھام سے شادی کی تھی. ارم نے خود بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی. شادی گھر والوں کی مرضی سے ہوئی تھی. اس کی اپنی مرضی بھی شامل تھی لیکن لڑکے سے کوئی واقفیت نہیں تھی. شادی کا فنکشن اچھی طرح سے سر انجام پانے کے بعد اب وہ حجلہ عروسی میں بیٹھی اپنے شوہر کا انتظار کر رہی تھی کہ اس کے سرتاج آئیں اور اس سے محبت کی چند باتوں کے بعد اسکی کنوارگی اور دوشیزگی کا پردہ چاک کر کے اسے لذت کے نیے جہانوں سے آشنا کریں. ارم کے جذبات کچھ اس لئے بھی بہت زیادہ بھڑک گئے تھے کہ اس کی جن سہیلیوں کی شادی ہو چکی تھی انہوں نے سیکس سے متعلق ایسی ایسی باتیں کی تھیں کہ سن کر ہی ارم کے کان لال ہو جاتے تھے. کئی باتوں پر تو اسے یقین ہی نہیں آتا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے لیکن سب باتیں سن کر وہ بس یہی سوچا کرتی تھی کہ بہت جلد اسے اپنے تمام سوالوں کے جوابات مل جایئں گے اور وہ وقت اب آن پہنچا تھا.
ایک ایک لمحہ اسے صدی معلوم ہو رہا تھا. بلا آخر انتظار کی گھڑیاں ختم ہوئیں اور دروازہ کھلا. ارم نظریں جھکائے گھونگھٹ کی آڑ کیے بیٹھی تھی اسلئے اسے نہیں پتہ تھا کہ کون کمرے میں داخل ہوا لیکن جب دولہا نے قریب آ کر سلام کیا تو نہ صرف اسے پتہ چل گیا بلکہ اسکی دھڑکنیں ایک دم تیز ہو گئیں. دولہا نے منہ دکھائی کا تحفه دیا. وہ بیچارہ خود بھی بہت نروس معلوم ہوتا تھا لیکن جلد ہی اس نے اپنے آپ پر قابو پا لیا اور ارم کا گھونگھٹ اٹھا کر اس سے باتیں کرنے لگا. ارم بس ہوں ہاں میں جواب دیتی رہی. اس سے زیادہ وہ کہہ بھی کیا سکتی تھی کیوں کہ دولہا کی تمام باتیں وہی روایتی باتیں تھیں جو اسکی سہیلیوں نے پہلے ہی اسے بتا رکھی تھیں. باتوں کا سلسلہ ختم ہونے پر ارم نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ جان چھوٹی. دولہا کے کہنے پر ہی اس نے اٹیچڈ باتھ روم میں جا کر عروسی لباس اتار کر سادہ کپڑے پہنے. کپڑے پہننے سے پہلے اس نے ایک نظر اپنی کنواری چوت پر بھی ڈالی. شادی سے مہینہ پہلے سے اس نے اپی چوت کی دیکھ بال شروع کر رکھی تھی. نہاتے وقت رگڑ رگڑ کر صاف کرنا، مختلف کریموں کا مساج کرنا اور پیشاب کے بعد اچھی طرح سے دھونا کہ چوت میں سے پیشاب کی بو نہ آے. یہ چند ایک عمل تھے جو وہ باقائدگی سے کرتی آ رہی تھی. اسکی چند ایک سہیلیوں نے بتایا تھا کہ آجکل اورل سیکس کا زمانہ ہے اور بہت سے لڑکے اس میں بہت لذت محسوس کرتے ہیں اسلئے چوت صاف نہ ہو تو لڑکے وہاں منہ لگانے سے جھجھکتے ہیں. ارم نے اسی لئے خصوصی طور پر اس بات کا دیہان رکھا تھا اور اپنے آپ کو بھی ذہنی طور پر تیار کر لیا تھا کہ اگر اسے دولہا کا لنڈ چوسنا پڑا تو وہ بلکل نہیں ہچکچاے گی
ارینج میرج میں سہاگ رات اکورڈ ہی گزرتی ہے اگر دولہا دلہن کی تھوڑی سی بھی واقفیت نہ ہو تو. کچھ ایسا ہی ارم کے ساتھ بھی ہو رہا تھا. کپڑے بدل کر وہ کمرے میں داخل ہی تو دولہا میں بھی کپڑے تبدیل کر چکے تھے. ارم چپ چاپ بیڈ کی ایک سائیڈ پر بیٹھ گئی. دولہا نے کمرے کی لائٹ بند کر کے ہلکی پاور کا بلب جلا دیا جس سے کمرے میں سرخ رنگ کی روشنی پھیل گئی. دونوں بیڈ پر ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے لیٹ گئے. یہ وقت کافی رومانٹک گزر سکتا تھا اگر دولہا اتنا شرمیلا نہ ہوتا. ارم نے دل میں سوچا. اسے تو بس اب بے چینی ہو رہی تھی کہ دولہا کچھ کرے. آنکھیں بند کر کے لیٹے لیٹے نہ جانے کتنا وقت گزرا ہو گا کہ اسے اپنے چہرے پر کسی کے ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا. جھٹ سے اس کی آنکھیں کھل گئیں. دولہا کا چہرہ اس کے چہرہ کے بلکل قریب تھا. ارم نے آنکھیں بند کر لیں. دولہا نے ارم کے ہونٹوں کا بوسہ لیا اور اپنا ایک ہاتھ ارم کی گردن کے نیچے سے گزار کر اسے اپنے قریب کھینچ لیا. ارم کو اب دولہا کی سانسیں بہت قریب سے محسوس ہو رہی تھیں. اگلے بوسے پر دولہا تو شائد صرف چومنے پر ہی اکتفا کرتا مگر ارم سے صبر نہ ہوا. اس نے اپنی زبان دولہا کے منہ میں داخل کر دی اور ہونٹوں کو چوسنے لگی. دولہا بھی شرمیلا ہونے کے باوجود اب سہاگ رات کے رنگ میں ڈھلنے لگا تھا. اس نے ارم کو خوب زور سے بھینچ لیا اور فرنچ کس میں ارم کا ساتھ دینے لگا. ایک طرف تو کس چل رہی تھی، اور دوسری طرف ارم آنے والے لمحات کا تصور کر کے مدہوش ہے جا رہی تھی. کس میں خوب مزہ آ رہا تھا لیکن جب ایک کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری کس شروع ہی تو ارم کا ماتھا ٹھنکا. کیا ساری رات بس چمیاں ہی کرنی ہیں؟ اس نے سوچا لیکن کچھ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا. خود کو دولہا کے رحم و کرم پر چھوڑنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا.
دولہا کا حال بھی ملاحظه فرمائیں. اس بیچارے کا بھی یہ پہلا تجربہ تھا. بیچارے نے بڑی ہمت کر کے ارم کو چومنے کی جسارت کی تھی. یہ سچ ہے کہ ارم کے ری ایکشن نے اس کا حوصلہ بڑھایا تھا لیکن باوجود ارم کے اتنی سیکسی لڑکی ہونے کے وہ اپنا لنڈ کھڑا نہیں کر پا رہا تھا. ایک ہاتھ ارم کی گردن پر لپیٹ کر دوسرے ہاتھ سے وہ اپنا لنڈ ہی سہلا رہا تھا. لنڈ کھڑا نہ ہونے کی وجہ سے ہی اسے اتنی لمبی لمبی کس کرنی پر رہی تھیں. اس بات کا بھی اسے اچھی طرح اندازہ تھا کہ پہلی ہی رات اگر وہ لنڈ کھڑا نہ کر پایا تو ساری زندگی کے لئے بیوی کی نظروں میں گرا رہے گا. بیشک بیوی تانے نہ دے لیکن سوچ تو آتی ہے نہ. بلا آخر دس منٹ تک ارم کو ایسے ہی چمیوں میں الجھا کر اسے لگا کہ لنڈ کھڑا ہو گیا ہے. اس نے ارم کو آرام سے پیچھے کیا اور لگا اس کی شلوار اتارنے. ارم نے اس کی مدد کی اور شلوار اتار دی. ارم سوچ رہی تھی کہ اب قمیض کی باری ہے لیکن دولہا نے اسے سیدھا لٹا دیا منہ اوپر کر کے. پھر اپنی شلوار اتاری اور لنڈ کو ارم کی چوت میں ڈالنے کی ناکام کوشش کرنے لگا. ارم کو کسی قصر غصہ بھی آنے لگا تھا. آخر کو شادی کی تھی کوئی غیر اخلاقی کام تو نہیں کر رہے تھے کہ اتنی شرم آے. ارم گھریلو لڑکی ضرور تھی لیکن برداشت اس میں کم ہی تھی. اب بھی بڑی مشکل سے خود کو قابو میں رکھ پا رہی تھی. جب چار پانچ بار کوشش کے باوجود لنڈ چوت میں نا جا پایا تو ارم نے ہاتھ بڑھا کر لنڈ کو پکڑ لیا. پکڑا تو اس نے اس ارادے سے تھا کہ لنڈ کی پوزیشن ٹھیک کر کے چوت میں داخلے میں مدد کرے گی لیکن لنڈ پکڑنے پر اسے اندازہ ہوا کہ مسلہ ہے کیا آخر. مسلہ یہ تھا کہ لنڈ نرم تھا اور چوت میں ڈالنے پر ادھر ادھر مڑ جاتا تھا
ارم کو اس بات اندازہ تو ہو گیا تھا کہ اس کی سہاگ رات برباد ہو چکی ہے. دولہا بھی شرمندگی کے مارے زمین میں گڑا جا رہا تھا. ارم نے ہاتھ سے مسل کر اس کا لنڈ کھڑا کرنے کی کوشش کی اور کسی حد تک کامیابی بھی ہوئی اسے لیکن جب وہ لنڈ چھوڑ کر سیدھی لیٹتی تاکہ دولہا اس کی چوت میں دخول کرے تو اتنی دیر میں لنڈ پھر سے نرم پڑ چکا ہوتا تھا. مسلسل یہ عمل دہرا کر ارم کو فرسٹریشن ہونے لگی تھی. اسکے دل میں غصہ بھی تھا، مایوسی بھی اور ناراضگی بھی لیکن شکوہ کس سے کرتی. شائد اس کی قسمت میں ہی یہ لکھا تھا. دل کے جذبات زبان پر تو نا آ سکے مگر اس کے عمل سے اس کے اندرونی جذبات کا اظہار ہونے لگا تھا. غصے میں اس نے اپنی شلوار اوپر کی اور منہ پھیر کر رضائی اوڑھ کر لیٹ گئی. سونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا. جو کچھ ہوا تھا اس نے ارم کے تمام ارمانوں پر اوس ڈال دی تھی. اتنی مایوسی تو اسے اپنی زندگی میں کبھی بھی نہیں ہوئی تھی. دولہا بھی مارے شرمندگی کے ایک لفظ منہ سے نہ نکال سکا. ایک تو وہ پہلے ہی اتنا شرمیلا تھا اور اوپر سے صورتحال ہی ایسی بن گئی کہ اس کی شرم میں کئی گنا اضافہ ہو گیا. ارم کے لٹنے کے بعد وہ بھی لیٹ گیا لیکن ارم کی طرف منہ کر کے. دراصل اسکا قصور نہیں تھا. اپنے ہم عمر لڑکوں کی طرح تیز طرار نہ سہی لیکن انٹرنیٹ کی رسائی تو اس کے پاس بھی تھی تو ایسے میں جب باقی لڑکے مختلف مشغلوں میں مشغول ہوتے تو یہ دولہا میں اپنے موبائل میں لگے رہتے تھے. ایسے میں پورن سے واقفیت ہو گئی اور یہ واقفیت اڈکشن میں بدل گئی. ننگی فلمیں دیکھ دیکھ کر مٹھ مارتے وقت انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ شادی کے بعد اس کے نقصانات بھی ہو سکتے ہیں. احساس تو شادی سے پہلے ہو گیا تھا کہ وہ ایک بھیانک غلطی کر بیٹھے ہیں کیوں کہ اب مٹھ مارنے کا دورانیہ بہت کم ہو گیا تھا. انہیں سہاگ رات میں بھی اسی بات کا ڈر تھا کہ وہ بہت جلدی ڈسچارج ہو جایئں گے لیکن ڈسچارج تو تب ہوتے جب لنڈ اندر ڈالتے. ان کا تو لنڈ ہی کھڑا نہیں ہو سکا تھا. دونوں ہی سوچوں میں گم تھے. جہاں ارم کی سوچ مایوسانہ تھی اور آنکھوں سے آنسو بھی جاری تھے وہیں دولہا اپنی شادی بچانے کے لئے کوئی ترکیب سوچ رہے تھے
ایسے ہی روتے روتے ارم کی نہ جانے کب آنکھ لگ گئی. دولہا میاں البتہ نہ سو سکے. انہیں اپنی ازدواجی زندگی آغاز سے پہلے ہی اختتام پذیر ہوتی نظر آ رہی تھی. دل میں پچھتا رہے تھے کہ کاش جوانی میں انٹرنیٹ پر ننگی فلمیں دیکھ کر مٹھ نہ ماری ہوتی. بہرحال، یہ وقت ماضی پر پچھتانے کا نہیں تھا بلکہ مستقبل سنوارنے کا تھا. انہیں نہیں پتہ تھا کہ انہیں کیا کرنا چاہئے لیکن انہوں نے دل میں یہ تہیہ ضرور کر لیا کہ ارم سے ازدواجی تعلق پر آنچ نہیں آنے دیں گے. دراصل ان کے سامنے دو آپشن تھے. ایک تو یہ کہ اپنا علاج کرواتے تاکہ وجہ معلوم ہو سکے کہ لند کھڑا نہ ہونے کی کیا وجہ ہے. دوسری آپشن یہ تھی کہ جب تک علاج ہوتا، ارم کو مطمئن کرنے کے لئے کوئی سیکس ٹواۓ استعمال کرتے. دونوں آپشنز کا انحصار ارم کی رضامندی پر ہی تھا. صبح کے چھ بج چکے تھے. وقت کم تھا. انہوں نے ارم کو آہستہ سے چھو کر نیند سے بیدار کیا اور شرما شرما کر اس سے درخوست کی کہ وہ گزشتہ رات کے واقعات کسی کو نہ بتاۓ.
سونے سے ارم کے دل کا بوجھ کسی حد تک ہلکا ہو گیا تھا. اس نے سوچا کہ بیشک اس کا شوہر سہاگ رات میں اسے چودنے میں ناکام رہا ہے لیکن اسے کوئی بھی فیصلہ کرنے میں جلدبازی نہیں کرنی چاہئے. ہو سکتا ہے کہ اسکا لنڈ کھڑا ہو ہی جائے یا پھر اگر وہ اسے نہ چود پایا تو کم از کم اس طرح اسے احساس تو رہے گا کہ وہ بیوی کے حقوق پورے نہیں کر پا رہا لہذا بیوی سے دب کر رہے گا. باقی رہی سیکس کی طلب تو وہ کوشش کرے گی کہ اورل سیکس سے پوری ہو جائے. ارم نے اپنے دل کی بات زبان پر نہ آنے دی اور بس اثبات میں سر ہلا دیا. دولہا خوش ہو گیا کہ ابھی اس کے پاس موقع ہے.
ولیمے کا فنکشن اٹینڈ کرنے کے بعد رات کو پھر سے دونوں کو وہی مرحلہ درپیش تھا لیکن اب دونوں کی جھجھک بہت کم ہو گئی تھی. ظاہر ہے کم تو ہونی ہی تھی کیونکہ سہاگ رات میں چدائی کی جگہ باتیں جو ہوئی تھیں. ارم نے دولہا کی جانب سے کسی بھی ایکشن کا انتظار نہیں کیا اور خود سے ہی اپنے کپڑے اتار دئے اور فلل ننگی ہو کر بیڈ پر بیٹھ گئی. دولہا نے بھی ارم کو کپڑے اتارتے دیکھ کر اپنے کپڑے اتارنے شروع کر دئے تھے. جلد ہی دونوں ایک دوسرے کے سامنے ننگے بیٹھے تھے. ارم بھانپ چکی تھی کہ اسکی سیکس لائف کا دارومدار اب اس پر ہی ہے اور شرم حیا ایک سائیڈ پر رکھ کر اسے ہی لیڈ رول ادا کرنا ہو گا کیونکہ اگر وہ دولہا کی جانب سے کسی بھی کام کا انتظار کرتی رہی تو پھر سہی سے انجوے نہیں ہو سکے گا. ارم کے بوبز یعنی پستان یعنی ممے زیادہ بڑے نہیں تھے. بتیس سائز تھا. اسکا بدن البتہ گورا تھا. پھدی کے بال بھی نفاست سے تراشیدہ تھے. اتنی سیکسی لڑکی کو دیکھ کر بھی دولہا کا لنڈ ڈھلکا ہوا تھا. ارم نے آگے بڑھ کر دولہا کو گلے لگا لیا. ممے دولہا کے سینے سے چھونے پر ارم کے اندر لگی آگ بڑھ گئی تھی. ایسے ہی وہ اپنا بدن دولہا کے بدن سے رگڑنے لگی. دولہا بھی خوب مزے لے رہا تھا. اسکا اندازہ اس بات سے ہوا کہ وہ ارم کا ساتھ دے رہا تھا. ارم نے ایسے ہی رگڑتے رگڑتے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دئے. دونوں کس کرنے لگے. فرنچ کس. ایک دوسرے کے منہ میں اپنی زبان داخل کر کے، ایک دوسرے کے ہونٹ چوس کر خوب مزے لئے. ارم کی پھدی گیلی ہو چکی تھی اور اب اس کا دل کر رہا تھا کہ کوئی نہ کوئی چیز اندر ڈال لے
ارم کے جذبات عروج پر تھے۔ اس کی سانسوں کی گرمی عدنان کو اپنے چہرے پر بخوبی محسوس ہو رہی تھی لیکن اسے یہ بھی پتہ تھا کہ لنڈ اس کا اب بھی سو ہی رہا ہے۔ عدنان کیلئے یہ سب سمجھ سے باہر تھا کیونکہ پورن فلمیں دیکھتے ہوئے ایک سیکنڈ میں اس کا لنڈ لوہے کے راڈ کی طرح سخت ہو جاتا تھا۔ یہ بات تو وہ بھی مانتا تھا کہ اس کی مٹھ کا دورانیہ بہت کم ہو گیا تھا لیکن لنڈ نہ کھڑے ہونے والی بات اس کی سمجھ سے بالاتر تھی۔ جب اس نے مٹھ مارنا شروع کیا تھا تب وہ سکول میں ہوتا تھا اور بعض اوقات دس دس منٹ تک مٹھ مارتا رہتا تھا جبکہ اب بمشکل تیس سیکنڈ ہی مٹھ مار پاتا تھا کہ منی نکل جاتی تھی۔ جو بھی تھا لیکن لنڈ کھڑا نہ ہونا یہ بات انتہائی قابل تشویش تھی۔ خود عدنان بھی وجہ نہ جان پایا تھا ابھی تک۔ ایسے میں ارم کی مایوسی قدرتی تھی۔ وہ تو فل موڈ میں تھی۔ سہاگ رات کی مایوسی کے بعد بھی یہ اس کی ہی ہمت تھی کہ پھر سے دل میں امید سجائے عدنان سے ننگی لپٹ کر اس کے ہونٹ، گال اور گردن پر بوسے دئیے جا رہی تھی۔ خود تو اس نے پہلے ہی لباس سے بے نیازی اختیار کر لی تھی لیکن عدنان کے کپڑے بدستور اس کے جسم پر تھے۔ جذبات کی حدت ذرا اور تیز ہوئی تو ارم نے دوران بوس و کنار ہی اس کی شرٹ کے بٹن کھولنے شروع کر دئیے۔ شرٹ اتاری، پھر پتلون اتاری اور پھر انڈر وئیر اتارا۔ ارم کی صاف شفاف گوری چٹی چکنی پھدی اگرچہ مکمل تر تھی لیکن گیلی ہونے کے باوجود اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے پھدی میں آگ لگی ہو۔ بلاآخر عدنان کا انڈر وئیر اترتے ہی ارم کے ارمانوں پر ایک مرتبہ پھر سے اوس پڑ گئی کیونکہ لنڈ کی حالت ایسی تھی جیسے کوئی مردہ کیچوا۔ ارم نے بڑی چاہت سے انڈروئیر اترتے ہی ہاتھ نیچے کر کے عدنان کا لنڈ پکڑا تھا اس امید پر کہ آج یہ لنڈ اس کی چوت میں لگی آگ ٹھنڈی کرے گا لیکن لٹکا ہوا چھوٹا سا لنڈ پکڑ کر اسے اس حد تک مایوسی ہوئی کہ یکدم عدنان سے دور ہو گئی۔ ایک نظر اس کے لنڈ پر ڈالی اور بیڈ پر عدنان سے منہ پھیر کی لیٹ گئی۔ مایوسی تو عدنان کو بھی ہوئی تھی اور اس نے ہاتھ بڑھا کر ارم کا ہاتھ تھامے رکھنے کی کوشش بھی کی تھی لیکن ارم نے غصے سے اس کا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔ عدنان بیچارہ ننگا کھڑا اپنی بیوی کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کو کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ ارم کی گانڈ پر نظریں گاڑ کر ایک ہاتھ سے لنڈ سہلانے لگا لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ عدنان نے دل میں سوچا کہ اب اسے یہ اعتراف کر لینا چاہیے کہ وہ نا مرد ہے تاکہ موجودہ صورتحال کا کوئی حل نکالا جا سکے۔ یہی کچھ سوچتے ہوئے وہ ارم کے پاس بیٹھا اور نہایت آہستگی سے ارم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی جانب متوجہ کیا۔ ارم نے منہ پھیر کر عدنان کی جانب دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور بھیگی ہوئی حسین آنکھیں اس قدر خوبصورت اور پرکشش لگ رہی تھیں کہ عدنان کو یقین تھا کہ اس کی جگہ کوئی اور ہوتا تو اتنی خوبصورت ننگی لڑکی کو بھیگی آنکھوں کے ساتھ دیکھ کر یقیناً اس کا لنڈ کھڑا ہو جاتا اور لمحات خوشگوار ہو جاتے۔ بے اختیار ایک سرد آہ عدنان کے منہ سے خارج ہوئی اور اس نے ارم کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر رومانوی انداز میں ہلکے ہلکے دبانا شروع کر دیا۔ عدنان کیلئے ارم کے سامنے اپنی نا مردی کا اعتراف نہایت مشکل کام تھا۔ اسی لئے جب وہ ارم کو بتا رہا تھا کہ وہ اس کے ازدواجی حقوق پورے کرنے کے قابل نہیں ہے تو اس کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔ عدنان نے ارم کو کھلے لفظوں میں بتا دیا کہ اگر وہ علیحدگی چاہتی ہے تو اسے کوئی اعتراض نہیں اور اگر کسی اور طرح سے عدنان اس کی کوئی خواہش پوری کر سکے تو عدنان اس کے لئے بھی تیار ہے۔ ارم نے بھیگی آنکھوں اور بھاری دل کے ساتھ عدنان کی باتیں سنیں۔ فیصلہ تو اسے ہی کرنا تھا۔ عدنان سے علیحدگی اختیار کر لیتی تو اسے بہت سے دیگر خدشات لاحق ہونے کا اندیشہ تھا۔ ظاہر ہے علیحدگی کیلئے طلاق ضروری تھی اور طلاق یافتہ عورت کی دوسری شادی نہ صرف مشکل ہے بلکہ اگر ہو بھی جائے تو رشتے شادی شدہ افراد کے ملتے ہیں یا پھر رنڈوے مردوں کے۔ اور پھر ہر کسی کو اس بات پر یقین بھی نہیں آئے گا کہ وہ شادی کے باوجود کنواری ہے۔ ارم نے طلاق کا خیال فوراً دل سے نکال دیا۔ جو بھی تھا اسے عدنان کے ساتھ ہی رہنا تھا اور مسلے کا حل تلاش کرنا تھا۔ بے شک عدنان کے بقول وہ نا مرد تھا اور ہر ممکن کوشش کے باوجود اپنا لنڈ کھڑا کرنے میں ناکام رہا تھا لیکن اس کے باوجود ارم پر امید تھی کہ وہ ضرور کوئی نہ کوئی علاج ڈھونڈ نکالے گی۔ عدنان کے ہاتھوں میں اپنا ہاتھ دئیے اس نے بھرپور اپنائیت سے اسے جواب دیا تھا کہ وہ ہر گز عدنان سے علیحدگی اختیار نہیں کرے گی اور اس کا جینا مرنا عدنان کے ساتھ ہے۔ یوں جنسی تعلق نہ ہونے کے باوجود عدنان اور ارم کے درمیان محبت کا رشتہ استوار ہو گیا۔ اگلا پورا مہینہ وہ دونوں مل کر عدنان کے لنڈ کو کھڑا کرنے کے مختلف طریقے تلاش کرتے اور انہیں آزماتے رہے۔ ارم نے عدنان کے لنڈ کی روز سانڈے کے تیل سے مالش کرنے کو معمول بنا لیا لیکن اس سے پہلے وہ بنیادی طریقہ اختیار کرنا نہ بھولی تھی یعنی بلو جاب۔ لنڈ کو منہ میں لے کر ایسے چوستی کہ جیسے لنڈ نہ ہو بلکہ لالی پاپ ہو۔ اتنے والہانہ انداز میں لنڈ چوسنے کا عدنان کے لنڈ پر تو کوئی اثر نہ ہوا لیکن ارم کو لنڈ چوسنے میں بے انتہا مہارت حاصل ہو گئی۔ یہ بات البتہ ضرور تھی کہ یہ مہارت محض سوئے ہوئے لنڈ تک ہی محدود تھی۔ سب طریقے آزمانے کے بعد بھی سوائے مایوسی کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ اس دوران عدنان نے ارم کو بارہا آفر کی ارم چاہے تو وہ اسکی پھدی میں لنڈ کی بجائے کوئی اور چیز ڈال کر اس کی پیاس بجھا سکتا ہے لیکن ارم کی خواہش تھی کہ اس کا کنواراپن لنڈ سے ہی ختم ہو۔ اسی خواہش کو پورا کرنے کیلئے اس نے اتنا صبر کیا تھا ورنہ اگر کسی مصنوعی چیز سے ہی اپنی سیل توڑنی ہوتی تو وہ شادی کا انتظار ہی کیوں کرتی۔ یہ کام تو وہ شادی سے پہلے بھی کر سکتی تھی۔ اس کی اپنی سہیلیاں کالج میں بڑے فخر سے بتاتی تھی کہ آج انہوں نے اپنی پھدی میں کیا لیا۔ زیادہ تر لڑکیاں لمبی سبزیوں سے ہی پھدی کی آگ ٹھنڈی کرتی تھیں۔ جو ذیادہ امیر لڑکیاں تھیں وہ اس بات پر غرور کرتی تھیں کہ ان کے پاس ربڑ اور سیلیکون کے لنڈ تھے جو وائبریٹ بھی ہوتے تھے۔ ارم کو بھی اس کی سہیلیوں نے بارہا اکسایا تھا کہ وہ اپنی پھدی میں کوئی نہ کوئی چیز ڈال کر اپنی سیل توڑے اور مزے لے لیکن یہ ارم کی مضبوط قوت خود ارادی تھی جس نے ارم کو اپنے فیصلے پر قائم رکھا تھا۔ شادی سے پہلے کبھی کبھار نہاتے ہوئے وہ صابن پھدی پر رگڑتی تو دل کرتا کہ درمیانی انگلی پھدی کے اندر ڈال کر دیکھے تو سہی کہ آخر کتنا مزہ آتا ہے لیکن پھر اسے خیال آتا کہ جب سہاگ رات پر اس کا خاوند اپنے لنڈ سے اس کی نازک کلی جیسی پھدی کی سیل توڑے گا تو جو مزہ آئے گا وہ مزہ سب مزوں پر بھاری ہو گا۔ آہ۔ کتنے ارمان تھے ارم کے جو آنسؤوں میں بہہ گئے۔
ایک ماہ کی مسلسل محنت کے باوجود کوئی کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ عدنان بدستور نا مرد تھا اور ارم بدستور کنواری۔ سب طریقوں سے مایوسی کے بعد اب ارم نا امید ہو چلی تھی۔ عدنان کو بھی اچھی طرح سے معلوم تھا کہ اب اس کی ازدواجی زندگی کا بچنا تقریباً نا ممکن ہے۔ اسے تو ایسا لگتا تھا کہ شاید ہی اس کا لنڈ اب کھڑا ہو کیونکہ اس نے شادی کے بعد ارم سے چھپ کر پورن فلم دیکھی لیکن سیکسی جنسی اداکاراؤں کو ننگی کیمرے کے سامنے چدتے دیکھ کر بھی اس کے لنڈ پر کوئی اثر نہ ہوا تھا۔ عدنان کو اس بات کا بھی اندازہ تھا کہ ایسی باتیں چھپی نہیں رہ سکتیں۔ اگر ارم نے طلاق لی تو یقیناً وہ کسی نہ کسی کو تو وجہ بتائے گی ہی اور اس طرح یہ بات پھیل جائے گی۔ بدنامی تو جو ہو گی سو ہو گی، عدنان کا شادی کا راستہ بھی مکمل بند ہو جائے گا۔ ان سب چیزوں کے باوجود عدنان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ کچھ کر ہی نہیں سکتا تھا۔ ذہنی طور پر اس نے خود جو تیار کر لیا تھا کہ ہو نہ ہو اب ارم اس سے طلاق کا مطالبہ کرے گی۔ ان سب خیالات کی گردش میں عدنان نے سوچا کہ اس مختصر شادی میں جس سے کوئی خوشگوار یاد وابستہ نہیں، کیوں نہ کوئی ایس کام کریا جائے جس سے ارم مستقبل میں اس شادی کو اچھے الفاظ میں یاد کرے۔ یہی سوچ کر اس نے فیصلہ کیا کہ ارم کو شمالی علاقہ جات کی سیر کروا دی جائے۔ اس نے ارم کو بتائے بغیر دفتر سے دو ہفتے کی چھٹی اور ایڈوانس تنخواہ لے لی اور ارادہ کیا کہ گھر جا کر ارم کو سرپرائز دے گا۔
گھر پر ارم بھی اپنا ذہن بنا چکی تھی کہ آج وہ عدنان سے علیحدگی کا مطالبہ کرے گی۔ آخر ایسے کب تک گزارا ہو گا۔ طلاق کے بعد جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ شام کو عدنان گھر آیا تو اچھے موڈ میں تھا۔ ارم کے بات کرنے سے پہلے ہی عدنان نے اسے پیکنگ کرنے کا کہا۔ ارم کو جب معلوم ہوا کہ وہ سیر پر جا رہی ہے تو اس نے طلاق والی بات کو موخر کر دیا اور تیاری کرنے لگی۔ گھر والوں کو بتا کر وہ دونوں بس میں بیٹھ کر روانہ ہو گئے۔

ارم اور عدنان بذریعہ بس مانسہرہ پہنچے اور وہاں سے ایک پرائیویٹ ٹیکسی کروا کر ناران کیلئے روانہ ہوئے۔ راستے میں سر سبز و شاداب پہاڑی علاقے اور ٹھنڈا موسم تھا لیکن اس خوشگوار موسم کا ارم پر الٹا ہی اثر ہوا۔ اس کی اداسی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اگرچہ عدنان نے بہت کوشش کی کہ ارم کا موڈ ٹھیک ہو جائے اور وہ انجوائے کر سکے لیکن جب اندر سے ہی انسان پریشان ہو تو پھر باہر چاہے کیسا ہی موسم ہو، خوشی نہیں ہوتی اور ارم کی پریشانی تو انتہائی حساس نوعیت کی تھی۔ ایک مہینے سے ذیادہ ہو گیا تھا شادی کو اور بیچاری ابھی تک کنواری تھی۔ اس کے دکھ کا انداذہ اس کے چہرے سے ہی ہو جاتا تھا۔ شادی کے چند روز بعد جب وہ اپنے گھر گئی تھی تو اس کی ماں اس کا چہرہ دیکھتے ہی بھانپ گئی تھی کہ یقیناً دال میں کچھ کالا ہے۔ تب ارم نے بہت کوشش کی تھی کہ وہ اپنا دکھ اپنے تک ہی رکھے لیکن ماں کا اصرار اور پریشانی دیکھ کر اسے سچ بتانا ہی پڑا تھا۔ بتانے کے باوجود اس کی ماں نے یہی مشورہ دیا تھا کہ بجائے طلاق یا علیحدگی کے عدنان کا علاج کروانا چاہئے۔ عدنان کے ساتھ ناران کے سفر میں ارم سارا رستہ سوچوں میں ہی مگن رہی تھی اور اب بھی ٹیکسی میں عدنان بار بار اس کی توجہ قدرت کے حسین مناظر کی طرف مبذول کرواتا لیکن ارم بس ایک نظر دیکھ کر پھر کسی سوچ میں گم ہو جاتی۔ ٹیکسی ڈرائیور بھی پچھلی سیٹ پر بیٹھے عدنان اور ارم کی حرکات و سکنات دیکھ کر حیران تھا۔ ڈرائیور کا نام گل خان تھا لیکن سب لوگ اسے پیار سے فولاد خان کہتے تھے۔ اس کی وجہ اس کا فولادی جسم تھا۔ وہ محنت کرنے سے کبھی نہیں چوکتا تھا اور روزانہ صبح سویرے ورزش اس کا معمول تھا۔ چالیس سال کی عمر میں بھی تیس سے کم کا نوجوان معلوم ہوتا تھا۔ تقریباً بیس سال سے یہی کام کر رہا تھا۔ اس نے سینکڑوں مرتبہ نو بیاہتا جوڑوں کو شمالی علاقہ جات کی سیر کروائی تھی۔ وہ حیران بھی اسی لئے تھا کہ عمومی طور پر ہنی مون پر آئے جوڑوں کا رویہ جیسا ہوتا تھا، ارم اور عدنان کا رویہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ عموماً ایسے جوڑے ایک دوسرے سے چپک کر باہر کے نظاروں کا لطف لیتے ہیں اور ایک دوسرے کو چومنے سے بھی نہیں چوکتے۔ نظر بچا کر فولاد خان بھی بیک ویو مرر میں ایسے لمحات کو دیکھ لیا کرتا تھا اور سچی بات تو یہ تھی کہ فولاد خان کو اس کام میں یہی چیز کھینچتی تھی ورنہ اس سے زیادہ منافع بخش کام کا موقع بھی دستیاب تھا۔ فولاد خان کرایہ تو لیتا ہی تھا ہر سواری سے لیکن جب سواریاں ایک نو بیاہتا جوڑا ہو جو ٹیکسی میں ایک دوسرے سے اٹھکیلیاں کرنے سے بھی نہ باز آئیں تو فولاد خان ایسے مناظر کو اپنے لئے بونس سمجھتا تھا۔ آج بھی جب اس نے ارم اور عدنان کو اپنی ٹیکسی میں بٹھایا تو اس کا خیال تھا کہ سفر بہت اچھا گزرے گا کیونکہ ارم کی خوبصورتی کا اندازہ اسے صرف چہرے سے ہی ہو گیا تھا۔ باقی جسم ارم نے ایک بڑی چادر سے ڈھانپ رکھا تھا۔ فولاد خان نے کئی جوڑے دیکھے تھے جو ٹیکسی میں بیٹھتے وقت اتنے شریف النفس معلوم ہوتے تھے کہ جیسے ان سے شریف کوئی ہو ہی نہ لیکن جیسے جیسے سفر طے ہوتا تھا ویسے ویسے ان کی شرافت کا لبادہ اترتا جاتا تھا۔ کئی برقعے والیوں کو فولاد خان نے سفر کے اختتام پر جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس دیکھا تھا۔ دوپٹہ کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ فولاد خان کو ایسے جوڑے خصوصاً پسند تھے۔ یہ بات نہیں کہ فولاد خان کوئی برا آدمی تھا۔ وہ اپنے دوستوں اور رشتے داروں میں انتہائی شریف مشہور تھا۔ اس کی دو عدد بیویاں تھیں جن سے کل آٹھ بچے تھے۔ بات دراصل یہ تھی کہ فولاد خان جب نو بیاہتا جوڑوں کو دیکھتا تھا تو اس کی جنسی حس میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا تھا۔ جب پیچھے کوئی نو بیاہتا جوڑا آپس میں ہلکی ہلکی سرگوشیاں کر رہے ہوں، ہنس رہے ہوں اور موقع دیکھ کر بوس و کنار بھی کریں، تو ایسے میں فولاد خان کا ایک ہاتھ بے اختیار اپنے فولادی لنڈ پر چلا جاتا تھا۔ اکثر وہ پیشاب کے بہانے ٹیکسی روک کر مٹھ مارا کرتا تھا تاکہ خود کو قابو میں کر سکے۔ سفر کے آغاز پر اسے امید تھی کہ چار گھنٹے کے سفر میں اسے دو بار مٹھ مارنی پڑے گی کیونکہ ارم کا حسن اسے بہت بھایا تھا لیکن اب اسے انتہائی مایوسی ہو رہی تھی کیونکہ ارم کا رویہ ایسا تھا کہ جیسے اسے کسی چیز میں کوئی دلچسپی نہیں۔
قصور تو اس میں ارم کا بھی نہیں تھا۔ اس بیچاری کے ساتھ جو کچھ ہوا تھا اور ہو رہا تھا، اس کے بعد ایسا موڈ قدرتی تھا۔ عدنان مسلسل کوشش کر رہا تھا کہ اس کا موڈ ٹھیک ہو جائے لیکن وہ بس ہوں ہاں میں ہی اس کی باتوں کا جواب دے رہی تھی۔ اسے گاڑی کے باہر حسین قدرتی مناظر میں بھی کوئی خاص دلچسپی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ کبھی وہ اپنے سامنے والی خالی سیٹ کی پشت کو گھورنا شروع کر دیتی تو کبھی ٹکٹکی باندھے ٹیکسی کے ڈیش بورڈ کو گھورنے لگتی۔ عدنان ڈرائیور کے عین پیچھے بیٹھا تھا جبکہ ارم ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ کے پیچھے بیٹھی تھی۔ عدنان کو تو سہاگ رات سے ہی یہ احساس تھا کہ اس ساری صورتحال کا ذمہ دار وہ خود ہی ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ بار بار ارم کو متوجہ کر کے باتیں کر رہا تھا۔ ارم کو اسی وجہ سے بار بار اپنی نظریں عدنان کی جانب کرنی پڑ رہی تھیں۔ ایسے میں اچانک ارم کی نظر ٹیکسی میں لگے بیک ویو مرر پر پڑی تو اس کی نظریں فولاد خان کی نظروں سے ٹکرا گئیں جو نہ جانے کب سے بار بار ارم کی جانب دیکھے جا رہا تھا۔ ارم سے نظریں ملتے ہی فولاد خان نے اپنی نظریں ہٹا لیں۔ شاید ارم اسے محض ایک اتفاق ہی سمجھتی لیکن فولاد خان کے ردعمل نے اسے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ اس کا ردعمل ایسا تھا جیسے وہ کوئی غلط کام کرتے پکڑا گیا ہو۔ ارم سوچنے لگی کہ کہیں یہ ڈرائیور کوئی جرائم پیشہ آدمی نہ ہو۔ اب ارم عدنان کی باتوں کا جواب دیتے ہوئے خود بھی وقفے وقفے سے بیک ویو مرر میں دیکھ رہی تھی اور اس نے کئی بار فولاد خان کو اسے گھورتے ہوئے پکڑا لیکن اسے اپنا جرائم پیشہ والا خیال خود ہی رد کرنا پڑا کیونکہ فولاد خان کا رویہ ان دونوں سے انتہائی دوستانہ تھا۔ ہو سکتا ہے فولاد خان ارم کے حسن کی تاب نہ لا کر بے قابو ہو گیا ہو اور بے اختیار اس کی نظریں ارم کی جانب اٹھتی ہوں۔ ارم یہ سوچ کر بے اختیار شرما سی گئی۔ اس بات کا تو اسے پہلے ہی یقین تھا کہ عدنان کی نا مردی کا اس کی خوبصورتی سے کوئی تعلق نہیں لیکن پھر بھی شادی کے بعد سے اب تک اپنے ذہن کے کسی نہاں خانے میں وہ خود کو بھی اس بات کا ذمہ دار سمجھتی آئی تھی کہ اس کے شوہر کا لنڈ کھڑا نہ ہو سکا تھا۔ اس کی ڈپریشن کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔ ظاہر ہے جب ایسی صورتحال ہو اور وجہ بھی نا معلوم ہو تو انسان ہر ممکن وجہ کو زیر غور لاتا ہے اور ارم نے بھی یہی کیا تھا لیکن آج فولاد خان کے گھورنے سے یہ بات تو ارم کو واضح ہو گئی تھی کہ اس کی خوبصورتی میں کوئی نقص نہیں۔ اگر عدنان کی نا مردی کا کوئی قصوروار تھا تو وہ خود تھا۔ یہ سوچ ارم کیلئے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی کیونکہ جو خود اعتمادی اپنے شوہر کی نا مردی سے کم ہو گئی تھی وہ کسی حد تک بحال ہونا شروع ہوئی تھی۔ اس کا ثبوت وہ مسکراہٹ تھی جو ارم کے فولاد خان کو بیک ویو مرر میں دیکھنے پر اس کے ہونٹوں پر آ گئی تھی۔ فولاد خان بیچارہ سیدھا سادھا پٹھان تھا جو صرف جوڑوں کو چوری چھپے دیکھ کر مٹھ مارا کرتا تھا۔ جب ارم نے اسے دیکھتے ہوئے پکڑ لیا تو ایک دفعہ تو وہ گڑبڑا کر ہی رہ گیا تھا لیکن ارم کا ردعمل اس کیلئے حوصلہ افزا تھا۔ خصوصاً ارم نے جب فولاد خان کو دیکھ کر مسکراہٹ پاس کی تو فولاد خان کا لنڈ ایک دم تن گیا۔ نہ جانے ایسا کیا تھا ارم میں۔ عدنان نے بھی ارم کی مسکراہٹ دیکھی تھی اور وہ یہ سمجھا تھا کہ ارم اس کی باتیں سن کر پگھل رہی ہے۔ عدنان کو یہ امید ہو چلی تھی کہ وہ ارم کا موڈ سیکس کے بغیر بھی ٹھیک کرنے میں کامیاب کو جائے گا۔ انہیں سفر کرتے ہوئے تقریباً آدھا گھنٹہ ہو چلا تھا اور راستے میں کوئی بھی آبادی نہیں آئی تھی۔ بس اکا دکا گاڑیاں ہی سڑک پر نظر آ جاتی تھیں۔ ارم نے سفر کے آغاز میں بیت الخلا جانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی لیکن اب وہ اپنے اس فیصلے پر پچھتا رہی تھی۔ راستے میں پانی پینے کی وجہ سے اسے اب پیشاب کی حاجت محسوس ہونے لگی تھی۔ پہلے پہل اس نے برداشت کیا لیکن جب بے چینی بڑھنے لگی تو وہ کبھی دائیاں ٹانگ بائیاں ٹانگ کے اوپر رکھتی اور کبھی بائیاں دائیں کے اوپر۔ نہ صرف عدنان بلکہ فولاد خان بھی ارم کے بار بار پہلو بدلنے سے بھانپ گیا تھا کہ ارم کو حاجت محسوس ہو رہی ہے۔ ارم نے مارے شرم کے کچھ نہ کہا لیکن جب عدنان نے سرگوشی میں ارم سے پوچھا کہ کوئی مسلہ ہے کیا؟ تو ارم کو بتانا ہی پڑا کہ پیشاب بہت تیز آ رہا ہے۔

جاری ہے

لکھاری نے کہانی یہاں تک لکھی ہے اگر اسے مکمل کرنا چاہے یا کوئی اور اسے مکمل کرنا چاہے تو لکھ کر سینڈ کر دے

Posted on: 02:06:AM 25-Dec-2020


2 0 173 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 60 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com