Stories


فیصل از کیو طاہرہ

نامکمل کہانی ہے

فیصل حسب معمول اپنے موبائل فون پر پورن فلمیں دیکھ رہا تھا جب اس کی توجہ ایک ویڈیو نے اپنی طرف مبذول کروا لی۔ ویڈیو کا ٹائٹل تھا "نیوڈسٹ بیچ"۔ فیصل نے ویڈیو چلائی تو معلوم ہوا کہ یہ ویڈیو چھپ کر فلمائی گئی ہے خفیہ کیمروں کے ذریعے اور اس میں نارمل پورن فلموں والی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ آدھے گھنٹے کی اس ویڈیو میں اسے نہ تو کسی مرد کا لنڈ کھڑا نظر آیا تھا اور نہ ہی کوئی عورت کسی مرد کا لنڈ منہ میں لئے لالی پاپ کی طرح چوستی نظر آئی تھی۔ اگر کچھ تھا تو صرف ننگا پن۔ اگرچہ ننگا پن بھی فیصل کے لنڈ کو کھڑا کرنے کیلئے کافی تھا لیکن وقتی طور پر ہی بس۔ فیصل نے تو اس امید پر ویڈیو چلائی تھی کہ یقیناً اس میں ساحل سمندر پر لوگوں کی موجودگی میں چند لوگ سیکس کریں گے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ ساحل سمندر پر لوگ تو کافی سارے تھے لیکن پوری ویڈیو میں انہوں نے کوئی ایسا عمل نہیں دہرایا جو کہ کپڑوں میں ملبوس لوگ کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ اگر ان میں اور باقی لوگوں میں کوئی فرق تھا تو صرف کپڑوں کا۔ باقی تمام کام ان کے عام لوگوں جیسے ہی تھے۔ سمندر کی لہروں سے اٹھکھیلیاں کرتے بچے، ریت پر دھوپ سینکتے افراد اور فیملیز پکنک مناتے ہوئے۔ فیصل نے اس امید پر پوری ویڈیو دیکھ ڈالی کہ شاید آخر میں ہی کوئی سیکس سین ہو لیکن مایوسی ہی اس کا مقدر بنی۔ لیکن اس ویڈیو نے فیصل کے دماغ میں تجسس کی نئی جہتیں پیدا کر دی تھیں۔ اس کیلئے نہ صرف یہ نئی بات تھی بلکہ ایسا سوچنا بھی محال تھا کہ اتنے لوگ ننگے ایک ساتھ پھر رہے ہوں اور کوئی سیکس تو دور کی بات، کوئی کسی کو چھیڑ بھی نہیں رہا تھا۔ دوسری بات یہ کہ مردوں کے لنڈ بھی لٹکے ہوئے تھے۔ اپنا تو اسے پتہ تھا کہ برقع پوش لڑکیوں اور خواتین کو دیکھ کر بھی اسے اپنے لنڈ کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا تھا تو اگر کسی لڑکی یا عورت کو ننگی دیکھ لیتا تو شاید وہ بے قابو ہی ہو جاتا۔ نہ جانے یہ تجسس تھا یا پھر ٹھرک تھی جس نے فیصل کو مجبور کیا کہ وہ گوگل پر نیوڈزم لکھ کر سرچ کرے۔ وجہ جو بھی رہی ہو، فیصل کو تجسس کے ساتھ ساتھ مزہ بھی آ رہا تھا۔ پہلے پہل اس نے نیوڈسٹ ویب سائٹس پر تصاویر دیکھنے پر اکتفا کیا۔ ایک ہاتھ سے لند تھامے جب اس نے ننگی تصاویر دیکھنا شروع کیں تو اسے ذیادہ وقت نہیں لگا ڈسچارج ہونے میں۔
ڈسچارج ہونے پر ٹھرک تو ہوا ہو گئی لیکن تجسس برقرار رہا۔ یکے بعد دیگرے کئی ویب سائٹس کو دیکھنے کے بعد فیصل کو ایسا لگنے لگا جیسے اس نے کوئی نئی دنیا دریافت کر لی ہو۔ وہ دسویں جماعت کا طالب علم تھا اور اپنی بیوہ ماں کے ہمراہ دہلی میں رہتا تھا۔ اس عمر میں نئی نئی بلوغت کی وجہ سے انسان خصوصاً لڑکوں میں ٹھرک پن بے انتہا ہوتا ہے۔ فیصل کا بھی یہی حال تھا لیکن جب فیصل نے برہنہ طرز زندگی کو ایکسپلور کیا تو اسے اندازہ ہوا کہ اس کا تعلق سیکس سے نہیں ہے اور فیصل کے اس طرز زندگی کو اپنانے کے پیچھے بھی ٹھرک پن سے زیادہ تجسس کا جذبہ کار فرما تھا۔
گھر میں جب بھی موقع ملتا، فیصل کپڑے اتار دیتا۔ اس کا گھر اتنا بڑا نہیں تھا لیکن فیصل کا اپنا کمرہ تھا جس میں وہ آزادانہ ننگا رہ کر سکول کا کام کرتا، ویڈیو گیمز کھیلتا اور جب ٹھرک بہت بے چین کرتی تو کسی نیوڈسٹ لڑکی کا تصور کر کے مٹھ مار لیتا۔ شروع شروع میں تو فیصل کا لنڈ کھڑا ہی رہتا جب تک وہ کپڑے نہ پہنتا لیکن بتدریج اسے ننگا رہنے کی عادت ہونے لگی۔ اپنے کمرے میں تو وہ ننگا رہ لیتا تھا لیکن اب اس کا دل کرتا تھا کہ کچھ نیا کیا جائے۔ کچھ انوکھا۔ کچھ سپیشل۔ اگرچہ معاشرتی اور مذہبی اصولوں کی وجہ سے وہ یہ بات اپنی والدہ سے نہیں کر سکتا تھا لیکن بچپن میں والد کے انتقال کے بعد سے اپنی والدہ سے انتہائی قریبی تعلق کی وجہ سے فیصل کا دل چاہا تھا کہ یہ بات سب سے پہلے اپنی والدہ سے ڈسکس کرے۔ شاید اسکی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کی والدہ فرحانہ نے نہ صرف فیصل کو کبھی باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دی تھی بلکہ فیصل کی تربیت ایسے انداز میں کی تھی کہ فیصل اپنی والدہ سے کوئی بات پوشیدہ نہ رکھتا تھا سوائے اپنی پورن فلمیں دیکھنے کی عادت کے۔
بہرحال، دل اور دماغ کی اس جنگ میں فتح دماغ کی ہوئی جس نے فیصل کو اپنی والدہ سے یہ بات کرنے سے روکا تھا۔ کیونکہ فیصل کو یہ ڈر بھی تھا کہ ہو سکتا ہے فیصل کی والدہ یہ نتیجہ اخذ کریں کہ فیصل جنسی طور پر اپنی ہی والدہ میں دلچسپی لے رہا ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ فیصل نے ہمیشہ والدہ کو مقدس رشتہ جانا تھا اور ان کے بارے میں ایسی سوچ بھی رکھنا اس کیلئے تکلیف دہ تھا۔ غیر متوقع نتائج کے ڈر سے فیصل نے والدہ کی بجائے اپنے سکول کے دوست سے یہ بات کرنے کا فیصلہ کیا جس کا نام شنکر تھا۔ شنکر اس کا بچپن کا دوست تھا جس کا فیصل کے گھر بھی آنا جانا تھا۔
فیصل نے جب یہ بات شنکر کو بتائی تو اس کا ردعمل بھی فیصل سے کچھ مختلف نہ تھا۔ حیرت اور ٹھرک پن۔ اب حالت یہ تھی کہ دونوں اپنے اپنے گھروں میں موقع ملنے پر ننگے رہا کرتے اور سکول میں اپنے اپنے تجربات ایک دوسرے سے ڈسکس کرتے لیکن جلد ہی وہ دونوں کچھ مزید کرنے کیلئے بے چین ہو گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک دن شنکر کے فیصل کے گھر آنے پر دونوں نے اکٹھے ننگا ہونے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ فرحانہ گھر پر ہی تھیں لیکن وہ عموماً فیصل اور شنکر کے درمیان مداخلت نہیں کرتی تھیں کیونکہ وہ دونوں اکثر ویڈیو گیمز ہی کھیلا کرتے تھے۔ انہیں کیا خبر تھی کہ ان کا سپوت اب ویڈیو گیمز سے نکل کر بالغ گیمز کی حدود میں قدم رکھ چکا ہے۔ شنکر اور فیصل کے پہلی بار ایک دوسرے کے سامنے ننگے ہونے پر تقریباً ایک جیسے ہی جذبات تھے۔ اگرچہ دونوں ہی لڑکیوں کی جانب رغبت رکھتے تھے اور ان کی پورن دیکھنے کی عادت بھی لڑکی اور لڑکے کے درمیان جنسی تعلق تک ہی محدود تھی لیکن ایسے ایک دوسرے کو ننگا دیکھنے پر دونوں کے لنڈ ایک دم تن گئے تھے۔ باوجود تناؤ کے، لنڈ چھپانے کی کوشش نہ فیصل نے کی نہ ہی شنکر نے۔ دونوں کی عمر برابر تھی اور قد و قامت بھی ایک جیسا تھا لیکن شنکر کا لنڈ فیصل کے لنڈ سے قدرے بڑا تھا۔ شاید اسکی وجہ یہ ہو کہ فیصل کے لنڈ کی کھال بچپن میں ہی ختنوں کی وجہ سے کاٹ دی گئی تھی جبکہ شنکر کا لنڈ مکمل قدرتی حالت میں بڑھ کر اس حالت کو پہنچا تھا۔
فیصل نے لیپ ٹاپ اٹھایا اور دونوں بیڈ پر ٹیک لگا کر انٹرنیٹ پر نیوڈزم یعنی ننگے طرز زندگی کے اصولوں پر تحقیق کرنے لگے۔
دونوں کو ہی اندازہ نہیں تھا کہ یہ تحقیق انہیں اس قدر گرم کر دے گی کہ لنڈ پکڑنا ناگزیر ہو جائے گا لیکن ہوا یہی۔ نیوڈزم پر تحقیق تصاویر کے بغیر ادھوری ہے اور تصاویر دیکھنے پر کسی بھی نئے نیوڈسٹ مرد کا لنڈ اکڑنا قدرتی بات ہے۔ دونوں نے ایک ہاتھ میں اپنا اپنا لنڈ پکڑ رکھا تھا اور نظریں کمپیوٹر سکرین پر تھیں۔ جیسے جیسے ننگی تصاویر سکرین پر نظر آتی جاتی تھیں، ویسے ویسے ان کا جذبہ بھی عروج پر پہنچ رہا تھا۔ فیصل کو ڈسچارج ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ ایک جھٹکے سے اس کے لنڈ سے منی اور منہ سے آہ نکل گئی۔ شنکر فیصل کے مقابلے میں زیادہ مضبوط معلوم ہوتا تھا کیونکہ وہ اب بھی ڈسچارج نہیں ہوا تھا۔ فیصل کی ٹھرک منی نکلتے ساتھ ہی ٹھنڈی پڑ گئی اور وہ غسل خانے میں لنڈ اور باقی جسم دھونے چلا گیا۔ شنکر بدستور کمپیوٹر سکرین پر نظریں گاڑے تحقیق میں مشغول تھا۔ اس کی تحقیق کا فوکس فیملی نیوڈزم تھا۔ شنکر ایک یتیم بچہ تھا اور حکومت کے قائم کردہ یتیم خانے میں رہا کرتا تھا۔ شاید اسی لئے اس کا فوکس فیملی پر زیادہ تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ کاش اس کے بھی والدین ہوتے جن کے ساتھ مل کر وہ یہ طرز زندگی اپنا سکتا۔
فیصل غسل خانے سے واپس آ کر بیڈ پر نڈھال ہو گیا۔ اس کا لنڈ اب للی میں تبدیل ہو گیا تھا۔ ویسے تو کھڑے ہونے پر بھی اس کے لنڈ کی لمبائی شنکر کے لنڈ سے واضح طور پر کم تھی لیکن اب تو بالکل ہی چھوٹا سا ہو گیا تھا۔ فیصل کو خود بھی اندازہ تھا کہ شنکر کا سائز کافی بڑا ہے۔ اگرچہ نیوڈزم میں لنڈ کی لمبائی چوڑائی یا جسم کے کسی بھی خدوخال کی وجہ سے احساس برتری یا کمتری کی گنجائش نہیں ہوتی لیکن چونکہ انسانی ذہن معاشرتی رویوں کی وجہ سے اس طرز پر ڈھل چکا ہے کہ ایسی باتیں نظر انداز کرنا تقریباً ناممکن ہی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ فیصل کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ وہ شنکر سے کمتر ہے۔ شنکر کے دل میں بھی احساس برتری تو تھا لیکن وہ فیصل کا گہرا دوست تھا اس لیے اس نے ہر ممکن کوشش کی کہ اس کا اندازہ چہرے کے تاثرات یا اس کی باڈی لینگویج سے نہ ہونے پائے۔ فیصل جب بیڈ ہر لیٹا تو شنکر نے اس کے چہرے کے تاثرات سے ہی بھانپ لیا تھا کہ وہ اداس ہے۔
فیصل آنکھیں بند کئے لیٹا تھا اور سوچ رہا تھا کہ کاش اس کا لنڈ بھی بڑا ہوتا۔ کم از کم شنکر جتنا تو ہوتا تاکہ شرمندگی نہ ہوتی۔ شنکر نے جب فیصل کو دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا۔ وہ فوراً اٹھ کر فیصل کے قریب آیا اور فیصل کا ہاتھ تھام لیا۔ فیصل نے فوراً آنکھیں کھول دیں۔ شنکر نے پیار بھرے لہجے میں پوچھا کہ دوست کیا بات ہے؟ کیوں پریشان ہو؟
فیصل تو پہلے ہی اداس تھا، اب شنکر کے اتنے پیار سے پوچھنے پر بے اختیار اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ شنکر کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اپنے دوست کو کیسے دلاسا دے۔ اس نے پہلے تو فیصل کا ہاتھ تھام کر اسے زبانی دلاسے دئے کہ وہ چپ ہو جائے لیکن فیصل کی حالت دیکھ کر اسے فیصل کو گلے لگانا پڑا۔ دونوں کے ننگے بدن ایک دوسرے سے ٹکرائے۔ پہلے بھی دونوں کئی بار گلے مل چکے تھے لیکن بنا لباس کے پہلی بار گلے ملنے پر ایک عجیب سا احساس دونوں کے دلوں میں پیدا ہو گیا۔ اس احساس کو نہ تو ٹھرک کہا جا سکتا ہے نہ کچھ اور۔ بس ایک بے نام سا جذبہ۔ اسی جذبے کا اثر تھا کہ فیصل رونا بھول گیا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس کے سوئے لنڈ میں دوبارہ سے زندگی کے آثار نمودار ہو رہے ہیں۔ دونوں کے لنڈ آپس میں چھو رہے تھے۔ شنکر کو بھی ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ فیصل کا لنڈ اکڑتا جا رہا ہے۔ اگرچہ فیصل اب رو نہیں رہا تھا لیکن دونوں بدستور گلے لگے ہوئے تھے۔ وہی عجیب سا بے نام جذبہ تھا جو ان دونوں نوجوان لڑکوں کو مجبور کر رہا تھا کہ وہ ایسے ہی گلے لگے رہیں۔ پہل شنکر نے کی۔ اس نے فیصل کا منہ تھوڑا پیچھے کیا اور محبت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ گاڑ دئیے۔ اف۔ دونوں ہی ہواؤں میں اڑ رہے تھے۔ ایسے ہی چومتے ہوئے فیصل نے ایک ہاتھ بڑھا کر شنکر کا لنڈ تھام لیا۔ بظاہر تو یہ معمولی بات تھی حالات کے تناظر میں لیکن اس کا اثر دو آتشہ تھا۔ لنڈ تھامنے کی دیر تھی کہ شنکر کے لنڈ سے منی کا فوارہ نکلا اور فیصل کے لنڈ ٹٹوں اور جانگوں کو سفید کریم سے تر کر گیا۔ فیصل کا لنڈ بھی مکمل تنا ہوا تھا۔ ابھی شنکر کے لنڈ سے منی کا سلسلہ ختم بھی نہ ہوا تھا کہ فیصل کے لنڈ نے بھی منی نکال دی لیکن فیصل کے لنڈ سے منی نکلنے کے عمل کو فوارہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ شنکر کے مقابلے میں نہ صرف منی کم تھی بلکہ جھٹکے بھی بہت کم پاور فل تھے۔ اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا تھا کہ فیصل کے لنڈ سے جو منی نکلی وہ شنکر کے اتنے قریب ہونے کے باوجود فیصل کی اپنی ہی ٹانگوں پر لگی۔ جھٹکے تو اسے محسوس ہوئے تھے لیکن ان جھٹکوں میں وہ طاقت نہیں تھی کہ منی کو اچھال کر دور پھینک سکتے۔
یہ دن ان دونوں کی زندگی میں سنگ میل ثابت ہوا کیونکہ اس دن کے بعد سے ان دونوں کی دوستی محبت میں تبدیل ہو گئی۔ خصوصاً فیصل کیلئے۔ اس کی تابعدار قسم کی طبیعت کی وجہ سے اب اسے شنکر سے والہانہ محبت تھی۔ ٹھرک سے بھی بڑھ کر۔
فیصل کی دلچسپی اس دن کے بعد سے لڑکیوں میں کافی
کم ہو گئی تھی۔ اسے اب لڑکیوں کو دیکھ کر کچھ ذیادہ خوشی نہیں ہوتی تھی جبکہ شنکر میں اس کی دلچسپی اتنی بڑھ گئی تھی کہ سکول میں ہاتھ ملانے پر بھی فیصل کا لنڈ ایک دم تن جاتا تھا۔ اس کا اپنے لنڈ پر اتنا کنٹرول بھی نہیں تھا جتنا شنکر کو تھا۔ دوسری جانب شنکر پر اس دن کے واقعے کا اثر تو ہوا تھا لیکن اس سے اس کی لڑکیوں میں دلچسپی کم نہ ہوئی تھی بلکہ اور بڑھ گئی تھی۔ اس سب کے باوجود شنکر اپنے دل سے فیملی نہ ہونے کا احساس زائل نہ کر پایا تھا۔ اب وہ روز فیصل کے گھر جایا کرتا تھا جہاں دونوں ننگے ہو کر ایک ساتھ پڑھتے، گیمز کھیلتے اور جب ذیادہ ہارنی ہوتے تو ایک دوسرے کی مٹھ مارتے۔ ایسے میں فیصل کے جذبات حد سے بڑھتے جا رہے تھے۔ وہ شنکر کے لنڈ سے بہت متاثر تھا۔ شنکر کے کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے بھینچ لیتا اور اس کے کپڑے اتار کر اس کے جسم پر والہانہ انداز میں بوسے ثبت کرنے لگتا۔ یہ بوسے تمام جسم بشمول لنڈ پر ہوتے لیکن لنڈ پر بوسہ دیتے وقت فیصل لنڈ منہ میں لے کر چوسنے لگتا۔ شنکر بھی خوب مزے لیتا تھا۔ اب روز کا معمول یہ تھا کہ سکول کے بعد شنکر اور فیصل اکٹھے فیصل کے گھر آتے۔ فیصل کی والدہ کھانا تیار رکھتی تھیں۔ تینوں اکٹھے کھانا کھاتے۔ شنکر اگرچہ ہندو تھا لیکن فیصل اور اس کی والدہ نے کبھی اسے اس بات کا احساس نہ ہونے دیا تھا بلکہ فیصل کی والدہ تو شنکر کو فیصل سے بھی بڑھ کر پیار کیا کرتی تھیں۔ شنکر کو بھی فیصل کی والدہ کی شکل میں ایک ماں نصیب ہو گئی تھی۔ کھانے کے بعد دونوں فیصل کے کمرے میں جاتے جہاں فیصل فوراً شنکر کو اور خود کو لباس سے بے نیاز کر دیتا اور شنکر کا لنڈ چوس کر اس کی اور اپنی منی نکالتا۔ فیصل کی تو یہ حالت تھی کہ شنکر کا لنڈ منہ میں لے کر چوس رہا ہوتا تھا اور شنکر سے بھی پہلے ڈسچارج ہو جاتا تھا۔ فیصل کی شنکر سے محبت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا تھا کہ وہ شنکر کے لنڈ سے نکلنے والی منی کو ضائع نہیں کرتا تھا بلکہ پی جاتا تھا۔ منی نکالنے کے بعد دونوں ایک دوسرے سے چپک کر ننگے سو جاتے۔ شام سے ذرا پہلے اٹھ کر سکول کا کام کرتے، پھر کمپیوٹر پر ویڈیو گیمز کھیلتے یا انٹرنیٹ پر مختلف چیزیں دیکھتے۔ مغرب کے وقت شنکر کپڑے پہن کر فیصل کے گھر سے رخصت ہو جاتا تھا۔
آہستہ آہستہ فیصل کی دلچسپی لڑکیوں میں بالکل ہی ختم ہو گئی۔ اب تو وہ کسی لڑکی کو ننگا بھی دیکھ لیتا تو اس کے لنڈ میں ذرا بھی ہلچل نہ ہوتی۔ شنکر کو بھی اس بات کا اندازہ تھا کہ فیصل اب گے بن چکا ہے۔ حقیقت تو یہ تھی کہ شنکر فیصل کے رویے سے کسی قدر پریشان بھی تھا کیونکہ فیصل کا رویہ بعض اوقات حد سے بڑھ جاتا تھا۔ شنکر فیصل کو محض ایک دوست سمجھتا تھا لیکن فیصل کا یہ تقاضا تھا کہ شنکر بھی اس سے اتنی ہی والہانہ محبت کرے جیسے فیصل شنکر سے کرتا تھا۔ شنکر کیلئے یہ نا ممکن تھا کیونکہ وہ فیصل کی طرح گے نہیں تھا۔ فیصل سے لنڈ چسوانے کا مزہ اپنی جگہ لیکن وہ اب بھی لڑکیوں میں ہی انٹرسٹڈ تھا۔ فیصل کا رویہ بتدریج مزید انتہا کی طرف جا رہا تھا جس نے شنکر کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اسے کچھ نہ کچھ کرنا ہی پڑے گا ورنہ کہیں فیصل کوئی انتہائی اقدام نہ اٹھا لے۔
شنکر نے بہت سوچا اور بلاآخر اس فیصلے پر پہنچا کہ فیصل کی والدہ کو اعتماد میں لیا جائے۔ اسی مقصد پر عمل کرنے کیلئے اس نے فیصل کو بتایا کہ وہ کل چھٹی پر ہو گا۔ اگلے دن جب فیصل سکول میں تھا اور شنکر کے بغیر اداسی سے کلاسیں پڑھ رہا تھا تو شنکر فیصل کے گھر جا پہنچا۔
دستک دینے پر فیصل کی والدہ نے دروازہ کھولا جو شنکر کو دروازے پر دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ شنکر نے انہیں بتایا کہ وہ ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہے۔ فیصل کی والدہ نے شنکر کو اندر بلا تو لیا لیکن شنکر ان کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر دل ہی دل میں حیران ضرور ہوا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی اور کا انتظار کر رہی ہوں۔ بہرحال، شنکر کو فیصل کی والدہ نے ڈرائنگ روم میں صوفے پر بٹھایا اور خود اس کے سامنے بیٹھ گئیں۔ شنکر نے انہیں بتانا شروع کیا کہ کس طرح اس نے اور فیصل نے انٹرنیٹ پر ایک ایسا معاشرہ دیکھا جس میں لوگ لباس کے بغیر رہتے ہیں۔ شنکر نے جان بوجھ کر انہیں یہ بات نہیں بتائی کہ فیصل اور وہ ایک دوسرے کی مٹھ بھی مارتے ہیں اور ننگے ہو کر اکٹھے سوتے بھی ہیں۔ فیصل کی والدہ شنکر کے منہ سے یہ سب باتیں سن کر حیران تو تھیں لیکن وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ یہ اکیسویں صدی ہے اور لوگ نئی نئی چیزیں اپنا رہے ہیں۔ انہوں نے شنکر کی تمام روداد تحمل سے سنی۔ وی ویسے بھی بہت شفیق خاتون تھیں اور انہیں غصہ بہت کم آتا تھا۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ نہ تو وہ بہت بوڑھی خاتون تھیں اور نہ ہی ان پڑھ۔ ان کی عمر قریب کوئی انتالیس برس رہی ہو گی اور وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نہ ہونے کے باوجود اتنی تعلیم یافتہ ضرور تھیں کہ ان کا اخلاق اپنی عمر کی خواتین سے لاکھ گنا بہتر تھا۔
شنکر کی تمام روداد کا جواب دینے کیلئے انہوں نے منہ کھولا ہی تھا کہ دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔ اول تو فیصل کی والدہ پہلے ہی شنکر کو دیکھ کر گھبرا گئی تھیں اور دوران گفتگو بھی دروازے کی جانب ان کی نظریں بار بار اٹھ رہی تھیں لیکن  جب گھنٹی بجی تو ان کے چہرے کا رنگ یکدم فق ہو گیا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ چوری کرتے رنگے ہاتھوں پکڑی گئی ہوں۔ گھنٹی بجانے والے میں بھی صبر نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ وہ بھی بیل پر بیل دئیے جا رہا تھا۔ فیصل کی والدہ صوفے سے اٹھیں اور مردہ قدموں کے ساتھ دروازے کی جانب بڑھیں۔ شنکر تو یہ سوچ کر آیا تھا کہ فیصل کی والدہ غصے ہونگی اور اسے انہیں منانے کیلئے نہ جانے کتنے دلائل دینے پڑیں گے اور ہو سکتا ہے توبہ ہی کرنی پڑے اس سب گورکھ دھندے سے لیکن یہاں تو صورتحال بالکل ہی مختلف تھی۔
شنکر جس جگہ بیٹھا تھا وہاں سے دروازہ بخوبی نظر آ رہا تھا اور اس کی نظریں بھی دروازے کی جانب جاتی فیصل کی والدہ پر ہی گڑی تھیں۔ دروازہ کھولنے کی دیر تھی، آنے والے نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، جھٹ سے اندر داخل ہو گیا جیسے یہ اس کا اپنا گھر ہو۔ شنکر نے فیصل کے گھر میں آنے والے اس شخص کو ایک نظر میں ہی پہچان لیا تھا۔ یہ منشی رام چند تھے۔ علاقے کے معزز آدمی تھے اور غریبوں کی مدد کے حوالے سے خاصے مشہور تھے۔ شنکر نے انہیں نمستے کہا۔ فیصل کی والدہ کو کچھ کہنے کا موقع ہی نہ ملا تھا کیونکہ سب کچھ اس تیزی سے ہوا تھا۔ فیصل کی والدہ بھی دروازہ بند کر کے واپس چلی آئیں۔ شنکر ایک ذہین لڑکا تھا۔ اس نے ساری صورتحال کا اندازہ لگا لیا تھا۔ یقیناً فیصل کی والدہ نے منشی رام چند سے قرض لیا ہو گا اور اب وہ قرض اقساط میں واپس کر رہی ہیں۔ یہاں تک تو اس کا اندازہ سو فیصد درست تھا لیکن یہ بات اس کیلئے حیرانی کا باعث تھی کہ فیصل کی والدہ قرض واپس کیسے کر رہی ہیں کیونکہ ان کا ذریعہ معاش تو محض وہ رقم تھی جو غربت الاؤنس کی مد میں حکومت انہیں فراہم کرتی تھی۔ شنکر نے وہاں سے نکل جانے میں ہی عافیت جانی۔ اس نے فیصل کی والدہ کو سلام کیا اور اجازت چاہی۔ فیصل کی والدہ گم سم کھڑی تھیں۔ انہوں نے محض سر ہلا کر اسے سلام کا جواب دیا اور شنکر گھر سے رخصت ہو گیا۔
شنکر کے جاتے ہی منشی رام چند صوفے سے اٹھ کھڑے ہوئے اور فیصل کی والدہ کے قریب آ کر انہیں ہوس بھرے انداز میں دبوچ لیا۔ منشی رام چند فیصل کی والدہ کے بدن پر ہاتھ پھیرتے جاتے تھے اور ساتھ ہی ان کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ ثبت کر کے چوستے جاتے تھے۔ فیصل کی والدہ کسمسائ سی معلوم ہوتی تھیں جیسے وہ اس سب کو برا سمجھتی ہوں لیکن کرنے پر مجبور ہوں۔ بدقت انہوں نے منشی رام چند کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ چھڑائے اور کہنے لگیں کہ منشی صاحب دروازہ تو بند کر لینے دیجئے۔ کوئی آ گیا تو خوامخواہ تماشا بن جائے گا۔
منشی صاحب نے بھی انہیں بس اتنا ہی موقع دیا تھا کہ وہ دروازہ بند کر کے واپس آ سکیں کیونکہ ان کی واپسی تک منشی صاحب اپنے بدن کو کپڑوں سے بے نیاز کر چکے تھے۔ اول تو ان کے بدن پر کپڑے تھے ہی کتنے۔ ایک دھوتی اور ایک چولہ۔ کپڑوں کی قید سے آزاد ہو کر ان کا آٹھ انچ لمبا لنڈ ہوا میں ایسے لہرا رہا تھا جیسے فیصل کی والدہ کو سلامی دے رہا ہو۔ منشی رام چند شاید وقت ضائع کرنے کے بالکل قائل نہیں تھے کیونکہ انہوں نے ایک منٹ کے اندر اندر فیصل کی والدہ کو بھی کپڑوں سے بے نیاز کر دیا تھا۔ فیصل کی والدہ کا جسم انتہائی خوبصورت تھا۔ اس عمر میں بھی ان کے جسم میں ایسی کشش تھی کہ دیکھ کر معلوم نہیں ہوتا تھا کہ انکی عمر چالیس کے قریب ہے۔ منشی ان کے بدن پر ندیدوں کی طرح ٹوٹ پڑے۔ پستان منہ میں لے کر چوسنے لگے۔ ایک ہاتھ فیصل کی والدہ کی چوت پر رکھ کر اسے مسلنے لگے لیکن منشی صاحب میں اتنی برداشت نہیں تھی اور شاید وہ جلدی میں بھی تھے کیونکہ انہوں نے ایک آدھ منٹ ہی چومنے چاٹنے میں لگایا ہو گا۔ انہوں نے وہیں صوفے پر فیصل کی والدہ کو جھکا دیا اور پیچھے سے اپنا کالا سیاہ لنڈ فیصل کی والدہ کی چوت میں داخل کر دیا۔ جتنا منشی کا رنگ سیاہ تھا، فیصل کی والدہ کا رنگ اس کا بالکل متضاد تھا۔ منشی صاحب کا لنڈ اندر جاتے ہی فیصل کی والدہ کے منہ سے چیخ نکل گئی کیونکہ منشی صاحب میں ذرا رحم نہیں تھا۔ ایک ہی جھٹکے میں پورا لنڈ اندر تک گھسا دیا تھا اور اب جھٹکے پر جھٹکا مار رہے تھے۔ ہر جھٹکے کے ساتھ فیصل کی والدہ کے منہ سے آہ نکلتی تھی۔ منشی صاحب نے فیصل کی والدہ کے گھنے بال پیچھے سے تھام رکھے تھے اور جب وہ زور سے جھٹکا لگاتے تو بال پیچھے کی جانب کھنچتے تھے۔ ایک طرف منشی صاحب کے لمبے لنڈ کے جھٹکوں سے ہونے والی تکلیف تو دوسری طرف بالوں کے کھینچنے سے درد۔ فیصل کی والدہ بہت تکلیف میں تھیں اور منشی صاحب کو اس کا کوئی احساس نہ تھا۔ انہیں اگر کسی بات کا احساس تھا تو وہ صرف اپنے مزے پورے کرنے کا تھا۔ منشی صاحب کی نظریں فیصل کی والدہ کے سڈول چوتڑوں پر گڑی تھیں۔ ہر جھٹکے کے ساتھ چوت میں اندر باہر ہوتے لنڈ کو دیکھتے ہوئے منشی صاحب کو زیادہ وقت نہ لگا۔ محض پانچ منٹ میں ہی انہوں نے اپنی منی فیصل کی والدہ کی چوت میں خارج کر دی۔ منی نکال کر انہوں نے لنڈ باہر نکالا اور دھوتی اور چولہ پہن کر ایسے چلتے بنے جیسے یہ سب کام ان کی روزمرہ کارروائی کا حصہ ہو۔ انہوں نے فیصل کی والدہ سے ںہ تو کوئی بات کی تھی اور نہ ہی منی نکلنے کے بعد ان پر نظر ڈالی تھی۔ فیصل کی والدہ نڈھال ہو کر صوفے ہر ڈھیر ہو گئی تھیں جبکہ منشی صاحب کب کے باہر کی راہ پدھار چکے تھے۔ فیصل کی والدہ نے اپنی ساری ہمت جمع کی اور کچھ دیر ایسے ہی پڑے رہنے کے بعد اٹھ کر دروازے کی کنڈی لگائی۔ پھر غسل خانے میں جا کر رگڑ رگڑ کر اپنے بدن کی صفائی کی۔ خصوصاً چوت کو اندر تک دھویا کہ کہیں منشی رام چند کی منی کا کوئی قطرہ اندر نہ رہ جائے۔ دوپہر ہونے تک فیصل کی والدہ نے کھانا بھی تیار کر لیا تھا اور جب فیصل گھر آیا تو اس نے اپنی والدہ کے چہرے پر وہی معصومیت اور نرمی دیکھی جو وہ روزانہ دیکھتا تھا۔ اس بے چارے کو کیا معلوم تھا کہ اس کی والدہ اس کی خاطر کیا کیا برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔ فیصل کے ساتھ شنکر نہیں آیا تھا۔ فیصل کی والدہ نے فیصل سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ شنکر آج سکول بھی نہیں آیا تھا۔ فیصل کی والدہ فیصل سے اس بارے میں بات تو کرنا چاہتی تھیں جو کچھ شنکر نے انہیں بتایا تھا لیکن وہ چاہتی تھیں کہ یہ سب بات شنکر کی موجودگی میں ہی ہونی چاہیے۔ اسی لئے انہوں نے کوئی بات نہ چھیڑی اور حسب معمول اپنا رویہ بالکل نارمل رکھا۔


جاری ہے

Posted on: 02:17:AM 25-Dec-2020


1 0 158 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 75 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 59 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com