Stories


میری زندگی کے انسیسٹ واقعات وغیرہ ندیم 2011

نامکمل کہانی ہے


میں اس فورم کا پرانا قاری ہوں۔یہاں سب سے زیادہ بھیڑ انسیسٹ سے متعلقہ سٹوریز لے جاتیہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے ہاں لوگوں کو انسیسٹ میں بہت انٹرسٹ ہے۔انسیسٹ سٹوریزمیں لوگ بڑے آرام سے ماں بہن وغیرہ کو چود لیتے ہیں جو مجھے سچائی سے زیادہ فینٹسی معلومپڑتی ہے۔چلیں میں آپ کو اپنی زندگی کے اب تک کے انسیسٹ واقعات بتاتا ہوں۔
میں اُس وقت شاید سات آٹھ سال کا تھا۔سیکس کی رتی برابر بھی سمجھ نہیں تھی۔ایک دن گھرمیں میں اور پھوپھو اکیلے تھے کہ پھوپھو نے اکٹھے نہانے کا آئیڈیا پیش کیا جو میں نے فورا قبولکر لیا۔دونوں پورے کپڑے اتار کر فُل ننگے ہو کر نہائے۔پھوپھو نے مجھے کمر پہ صابن لگانے کا کہاتھا اور پھوپھو کی کمر و بُنڈ پہ لگا ہوا صابن کا امیج آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے۔اُس کےعلاوہ کیا ہوا مجھے یاد نہیں ہے۔پھر جلد ہی پھوپھو کی شادی ہو گئی جس پہ میں بےتحاشا رویا۔ہم کمبائنڈ فیملی سسٹم میں رہتے تھے۔دادا دادی دو چچا کی فیملی بھی ساتھ رہتی تھی۔کافیسالوں بعد کی بات ہے کہ پھوپھو میکے رہنے آئی ہوئی تھی۔اُس وقت میں سولہ سترہ سال کا تھا۔ہر مڈل کلاس ٹین ایجر کی طرح سیکس کی تلاش میں ہر وقت رہتا تھا۔پھوپھو نے بتایا کہ وہ کچھتھکاوٹ محسوس کر رہی ہیں تو میں نے ٹانگیں دبانے کی آفر کی جو اُنہوں نے فورا قبول کر لی۔وہسیدھی لیٹ گئیں۔میں نے ہاتھوں سے ٹانگیں دبانی شروع کر دیں۔ٹانگیں دباتے تک تو مجھے کچھناں ہوا لیکن جب تھائیز دبانی شروع کیں تو لن کھڑا ہونا شروع ہو گیا۔وہ آنکھیں بند کر کے لیٹیہوئی تھیں۔میں نے ہمت کر کے تھائیز کے اندر بھی دبانا شروع کر دیا۔کوشش یہ تھی کہ پھدی کوہاتھ لگایا جائے جو دو چار بار ٹچ بھی ہوا لیکن اس سے آگے بڑھنے کی ہمت ناں ہوئی۔پھوپھو نےکوئی ریسپانس ناں دیا اور بس آنکھیں بند کر کے پڑی رہیں۔
میری چھوٹی بہن مجھ سے دو سال چھوٹی ہے۔میں اُس وقت تقریبا اٹھارہ سال کا تھا۔بہن کے ممےبارہ تیرہ سال سے ہی اپنی عمر کی لڑکیوں سے بڑے تھے جو مجھے بھی بڑے اچھے لگتے تھےلیکن ظاہر ہے کچھ کر نہیں سکتا تھا۔گرمیوں کی شام تھی۔لائٹ چلی گئی۔سب اوپر چھت پہ آگئے۔یہ اُن دنوں کی بات ہے جب یو پی ایس و جنریٹر کا رواج ابھی عام نہیں ہوا تھا۔پھر شاید ایکگھنٹے بعد لائٹ آ گئی۔سب نیچے چلے گئے لیکن ہم دونوں نیچے ناں گئے اور ایک ہی چارپائی پہبیٹھے رہے۔ہورنی تو میں چوبیس گھنٹے کا تھا۔دل کیا کہ کچھ کروں اور پھر بڑی تیزی سے دھڑکتےہوئے دل کے ساتھ بغیر کچھ بولے کہے ڈرتے ڈرتے سیدھا بہن کی قمیض میں ہاتھ ڈال دیا۔کچھ دیرمما ٹٹولا۔پہلی دفعہ جوان ممے کو ہاتھ میں پکڑا اور پہلی دفعہ نرم سا مما ہاتھ میں پکڑنے کا کتنا وکیا لطف آتا ہے وہ سمجھ سکتا ہے جس نے پہلی دفعہ مما ہاتھ میں پکڑا ہو۔یہ عورت کے جسم کاکوئی کمال عضو ہے۔ایک دفعہ پکڑ لو اور جتنی دیر مرضی پکڑے رکھو دل نہیں بھرتا۔بڑا اچھا لگتاہے نرم نرم سا۔اوپر کوئی ناں آ جائے پکڑے جانے کا خوف یہ سب چیزوں نے مل کر سوچنےسمجھنے کی صلاحیت بہت کم کر دی تھی۔کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ مزید کیا کروں؟حالانکہمجھے سب سے زیادہ ڈر اس بات کا ہونا چاھیئے تھا کہ خود بہن نے کسی کو بتا دیا تو؟لیکن اُسوقت یہ ڈر ذہن میں نہیں آیا۔قمیض سے ہاتھ باہر نکالا اور اگلی بات یہ سوجھی کہ شلوار کا ناڑاکھولا اور لن باہر نکال لیا اور بہن کے سر پہ ہاتھ رکھ کر کہا اسے منہ میں لے کر چوسو اور اس نےمنہ میں لے بھی لیا۔فسٹ ٹائم لن کسی کے منہ میں گیا۔ہلکی سی گرماہٹ اور گیلا پن بڑا اچھامحسوس ہوا۔فسٹ ٹائم تھا تو ہلکی سی گدگدی بھی محسوس ہوئی۔زیادہ نہیں بس چند سیکنڈ ہیبہن نے چوسا تھا اور پھر دوبارہ مجھ پہ خوف طاری ہوا کہ کوئی آ جائے گا تو اُسے کہا بس کرو۔چھت پہ اندھیرا تھا۔لائٹ نہیں تھی لیکن پھر بھی ہم ایک دوسرے کے چہرے کے تاثرات پڑھ سکتےتھے۔وہ خاموش تھی۔کچھ بولی نہیں اور مجھے اُس کے تاثرات سمجھنے کی ہوش کہاں تھی۔بہرحال پکڑے جانے کا ڈر مجھ پہ اس قدر حاوی ہوا کہ میں نے اُسے کانپتے ہوئے جسم و لڑکھڑاتیہوئی آواز کے ساتھ نیچے جانے کا کہا اور وہ چُپ کر کے چلی گئی۔

ساری رات اپنی بُنڈ پھٹی رہی کہ بہن کسی کو بتا ناں دے۔اگر بتا دیتی تو ظاہر ہے فُل ٹائم دھماکاہونا تھا۔اگلے دن صبح مجھے صرف یہ سُجھا کہ بہن کل جو کچھ ہوا۔وہ میں نہیں کوئی اور تھا۔میرا ہمشکل تھا۔بس یہی بونگی اُس وقت میرے ذہن میں آئی تھی۔میں نے جواب سننے کی ہمت وکوشش ہی نہیں کی اور کمرے سے نکل گیا۔پھر مزید کچھ کرنے کی ہمت اگلے کئی دن نہیں ہوئی۔کچھ دنوں بعد میں نے نوٹ کیا کہ باتھ روم کے دروازے کے درمیان میں لکڑی تھوڑی بُھر رہی ہے۔ایکدن موقع ملنے پہ اسی جگہ پہ کچھ محنت کر کے چھوٹا سا سوراخ کر لیا۔پھر ایک دن جب بہننہانے گئی تو چاروں سائیڈز کا دھیان رکھ کر دروازے کے سوراخ پہ آنکھ لگا کر بیٹھ گیا۔اُس وقتدل لگ رہا تھا سینے میں نہیں دماغ میں ٹھک ٹھک بج رہا ہے۔ٹرپل ایکس فلمیں تو ظاہر ہے میں اُسوقت تک دیکھ چکا تھا لیکن ریئل لائف میں کسی بھی لڑکی کو ننگا دیکھنے کا پہلا موقع مل رہاتھا۔موقع مل رہا تھا کی بجائے یہ کہنا مناسب ہو گا کہ میں موقع بنا رہا تھا۔دن کا ٹائم تھا۔اس لئےباتھ روم میں اچھی خاصی روشنی تھی۔مجھے ٹرپل ایکس میں سب سے زیادہ مزہ اُس وقت آتا ہےجب کپڑے اتر رہے ہوتے ہیں۔جب کپڑے اتر جائیں تو میرا سسپنس ختم ہو جاتا ہے۔گرمیوں کے دنتھے۔بہن نے پہلے قمیض اتاری۔پھر شمیض اتاری۔نیچے برا میں بڑے بڑے ممے دیکھ کر دل کنپٹیسے حلق میں دھڑکنا شروع ہو گیا۔برا اتارنے سے پہلے برا کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اوپر کیا۔جس سے ممے پہلے اوپر گئے اور پھر نیچے آئے۔یہ والا اوپر نیچے ہونا کبھی نہیں بھولے گا۔پھر براکا ہک آگے کیا۔کھولا اور برا بھی اتر گئی۔سولہ سال کی لڑکی کے ممے تنے ہی ہوتے ہیں اور تنےہوئے گول گول خوبصورت سفید گورے چٹے لائٹ براؤن نپلز والے ممے دیکھ کر یوں لگا جیسے زندگیمیں کوئی بڑا کارنامہ سر انجام دے دیا ہے۔ایک ٹین ایجر کے لئے لڑکی کو پہلی دفعہ ننگا دیکھناکارنامہ ہی ہوتا ہے۔پھر شلوار اتارنے کی باری آئی۔جو فینٹسی سٹوریز کے برعکس جلدی سے اترگئی۔نیچے کوئی انڈرویئر نہیں تھا اور میرے حساب کے مطابق پاکستان میں زیادہ تر خواتینانڈرویئر صرف مینسز کے دنوں میں پہنتی ہیں۔بہن کا جسم بھرا بھرا سا ہے۔اس لئے تھائیز بھیبھری بھری سی ہیں اور مجھے بھری بھری ہیوی قسم کی تھائیز اچھی لگتی ہیں۔دل کرتا ہےتھائیز کی چمیاں لیتا رہوں۔پھدی کے اوپر ہلکے ہلکے سے بال تھے جس کا مطلب ہے کہ چند دنپہلے بال اتارے گئے تھے۔پھدی کی لکیر نظر آ رہی تھی۔کپڑے اتار کر شاور کی طرف گئی تو مموںو کولہوں کی ہلکی سی لرزش دیکھ کر اچھا لگا۔شاور جب سٹارٹ کیا تو بُنڈ میری طرف تھی جسسے نوجوان لڑکی کی بنڈ اصل میں کیسے دکھتی ہے پہلی دفعہ پتہ لگا۔بہن کوئی ماڈل یا موویسٹار تو تھی نہیں۔عام سے گھرانے کی عام سی لڑکی کی بنڈ بس تھوڑی سی گولائی باہر کی طرفنکلی ہوئی تھی۔شاور سے پانی گرا سارا جسم گیلا ہوا۔گیلا جسم دیکھ کر مجھے تو اور اچھا لگا۔اچھا متناسب جسم تھا۔ممے تھوڑے بڑے۔پیٹ مناسب حد اور تھائیز بھری بھری سی اور کولہےتھوڑے سے اُبھرے ہوئے۔یہاں پہ لوگ لڑکی کی فنگرنگ وغیرہ ضرور ایڈ کرتے ہیں لیکن بہن نےبہرحال اُس دن تو کوئی فنگرنگ نہیں کی۔پھر صابن لگایا پورے جسم پہ۔پھر  شاور کے نیچے کھڑےہو کر جسم سے صابن ختم کیا۔کچھ منٹ ممے میری طرف کر کے نہائی اور کچھ منٹ بُنڈ میریطرف کر کے نہائی۔جب وہ تولیہ لیکر جسم خشک کرنے لگی تو مجھے یہی بہتر لگا کہ اب مجھےیہاں سے ہٹ جانا چاھیئے اور میں کمرے میں چلا گیا۔
مجھے اپنی بہن سے کوئی پیار محبت عشق والی فیلنگ نہیں تھی۔بات صرف اتنی ہے کہ میں ہورنیتھا۔مجھے بس عورت چاھیئے تھی۔پھدی چاھیئے تھی۔عورت ننگی دیکھنے کی خواہش تھی اورچونکہ کوئی اور آپشن تھی نہیں تو پھر بہن کو ہی دیکھ لیتے ہیں۔مجھے اُس وقت کوئی اور عورتمل جاتی تو شاید ذہن بہن کی طرف جاتا ہی ناں۔میرے حساب سے پاکستان میں لڑکوں کی اپنیبہن وغیرہ میں جنسی رغبت محسوس کرنے کی وجہ سب سے بڑی یہی ہے کہ اُن کے پاس کوئی دوسری آپشن نہیں ہوتی۔
جاری ہے۔
کچھ  دن  مزید  گزرے۔ایک  دوپہر  بہن  سو  رہی  تھی  باقی  لوگ  اپنے  کاموں  میں  مصروف  تھے۔میں  اُس  کمرے  میں  گیا۔ہلکی  سی  چادر  اوڑھ  کر  سو  رہی  تھی۔دل  کیا  کچھ  کروں  مگر  کیا  کروں۔ خیال  آیا  اور  کچھ  نہیں  تو  سوئی  ہوئی  کے  جسم  پہ  ہاتھ  پھیروں۔پھر  وہی  دل  کی  دھڑکن  تیز  ہونا  شروع  ہو  گئی  اور  حلق  خشک  ہونا  شروع  ہو  گیا۔سب  سے  پہلے  بنڈ  پہ  ہاتھ  پھیرا۔نرم  ملائم  ریشمی  گانڈ  کا  مطلب  کیا  ہوتا  ہے  اُس  دن  سمجھ  آیا۔مگر  اس  طرح دل کہاں بھرتا ہے۔بائیں کروٹ لے کر لیٹی ہوئی تھی تو بڑی احتیاط سے بنڈ والی سائیڈ پہلیٹ گیا۔اب صرف لیٹنا تو نہیں تھا لیٹنے کے ساتھ ہی لن بنڈ کی لکیر پہ رکھ دیا اور دایاں ہاتھقمیض کے اندر ڈال دیا۔پہلے تو صرف پیٹ کی سموتھ سکن کا مزہ لیا۔پھر برا تک پہنچا اور اوپروالا دایاں مما برا سے نکال لیا۔اب صورتحال یہ تھی کہ لن بنڈ کی دراڑ پہ لگایا ہوا تھا اور دائیںہاتھ میں دایاں مما تھا۔ٹرپل ایکس فلموں میں اور سٹوریوں میں بتایا جاتا ہے کہ عورت بس سوتیرہتی ہے۔سفید جھوٹ ہے یہ عام غیر شادی شدہ جوان لڑکی کا جسم مرد کی اس طرح کی چھیڑچھاڑ کا عادی نہیں ہوتا۔ادھر آپ لڑکی کے جسم کے ساتھ تھوڑی سی چھیڑ خانی کریں تو آنکھکھل جاتی ہے۔شادی شدہ سوئی ہوئی عورت کے ساتھ بھی یوں ٹچنگ کرو تو اس کی آنکھ کھلجاتی ہے۔مجھے صاف پتہ چل رہا تھا کہ بہن جاگ رہی ہے مگر وہ ایسے ہی شو کر رہی تھیجیسے سو رہی ہو۔لن بنڈ کی لکیر کے ساتھ لگا ہوا اور مما ہاتھ میں اور میرا پورا اگلا جسم اس کےپشت کے ساتھ جُڑا ہوا تھا۔مجھے ایسے میں ہلکا ہلکا سرور آ رہا تھا۔بنڈ کی اور جسم کی ہلکیسی گرمی اچھی لگ رہی تھی۔اس سے زیادہ کچھ کروں۔سچی بات یہ ہے کہ مجھ میں اس سےزیادہ کچھ کرنے کی ہمت ہی نہیں تھی۔یونہی لیٹے چند لمحے ہی ہوئے تھے کہ قدموں کی چاپسنائی دی میں سپرنگ کی تیزی سے اچھلا۔چادر واپس بہن پہ ڈالی اور بیڈ کے ساتھ لگے کھڑکیکے پردے کو پکڑ لیا۔کمرے میں داخل ہونے والی شخصیت میری بڑی بہن تھی۔پوچھنے لگی یہاں کیاکر رہے ہو۔میں نے بتایا ادھر بِھڑ آ گئی ہے۔اسے پکڑ کر مارنے کی کوشش کر رہا ہوں۔بڑی بہن کےوہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ ایکچولی کیا کر رہا ہے۔اس لئے وہ میری وضاحت سے مطمئنہو گئی۔میں اس دن واقعی ڈر گیا تھا اور اُس کے بعد میں نے چھوٹی بہن پہ مزید کوئی ٹرائی نہیںکی۔ناں جانے لوگ اپنی سٹوریز میں بہن کتنی آسانی سے نیچے لٹا لیتے ہیں۔سچ یہی ہے کہ بہن کوچودنا اتنا آسان کام نہیں ہے۔
میں جیسے پہلے بتا چکا کہ ہم دادی دادی و دو چچا اکٹھے رہتے تھے۔بڑے چچا کی جب شادیہوئی تو میں تقریبا چھ سات کا تھا۔چچی میرے حساب سے ہمارے پورے خاندان کی سب سےخوبصورت انتہا کی گوری چٹی پڑھی لکھی سیکسی جسم کی مالک تھی۔ممے بڑے بڑے تھائیزبھاری بھاری اور بنڈ گول ملائم تھی۔چلتی تو کولہوں میں ہلکی ہلکی تھل تھل ہوتی تھی۔میںواقعات ٹائم لائن نہیں اپنی زندگی میں آئی خواتین کے حساب سے سنا رہا ہوں۔چچی کو بھی پتہتھا کہ وہ کیسی ہے تو وہ احساس برتری کا شکار تھی جیسے ہر خوبصورت عورت ہوتی ہے۔میںبھی چچی کے حسن کے رعب میں تھا۔ایک گھر میں رہتے تھے تو جب بھی مجھے فارغ ٹائم ملتا میںچچی کے کمرے میں چلا جاتا۔اُس کے چھوٹے موٹے کام کرتا۔بازار سے چیزیں لا دیتا۔مجھے یاد پڑتاہے چچا چچی کے درمیان ایک لڑائی اس بات پہ بھی ہوئی تھی کہ تم اتنا کھلا ڈیپ گلا کیوں پہنتیہو۔میں تو چچی کو دیکھتے دیکھتے بڑا ہوا تھا۔چچی کا شمار اُن عورتوں میں ہوتا تھا جنہیںاحساس ہوتا ہے کہ وہ بہت خوبصورت ہیں۔وہ چہرے کے علاوہ بھی اپنا جسم دکھانا غلط نہیںسمجھتیں۔مرد ظاہر ہے جب انہیں دیکھ کر اپنی آنکھیں سینچتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں ہوسبھری نظروں سے دیکھتے ہیں تو انہیں اچھا لگتا ہے۔مزہ آتا ہے۔پیار محبت مجھے چچی سے نہیںتھا بس مجھے سب سے زیادہ اُس کے ممے اور مموں کے درمیان بننے والی لکیر یا کلیویج سے کیاپراپر لفظ استعمال کروں۔یوں کہہ لیں کے مجھے چچی کی کلیویج سے عشق تھا۔لن تو بارہ تیرہسال کی عمر میں کھڑا ہونا شروع ہوا تھا لیکن میں مموں کی لکیر میں میں اُس سے پہلے کھو گیاتھا۔میں جتنا مرضی جس مرضی کام یا ہوم ورک میں مصروف ہوتا اس بات کا دھیان ضرور رکھتاکہ وہ آٹا کب گوندھنے کچن میں گئی ہے۔چچی چوکی پہ بیٹھ کر پرات زمین پہ رکھ کر آٹا گوندھتیتھی تو اُس وقت اُس کی کلیویج سب سے زیادہ واضح نظر آتی تھی۔میں اپنی طرف سے تو بڑاسیانا بنتا تھا کہ اُسے پتہ ناں چلے کہ میں اُس کے مموں کی لکیر دیکھ رہا ہوں لیکن ایسا کیسےممکن ہے کہ عورت کو پتہ ناں چلے کہ اُس کی قمیض مموں میں جھانکا جا رہا ہے۔کئی مرتبہ وہبٹنوں والی قمیض پہنتی تھی تو پہلا بٹن ثابت لیکن دوسرا بٹن ٹوٹا ہوتا تھا اور دوسرے بٹن کی جگہسیفٹی پن لگی ہوتی ہے۔اس سے یہ ہوتا تھا کہ کلیویج کا اوپر والا حصہ تو نہیں لیکن کلیویجدرمیان سے اور لکیر کے ساتھ مموں کا حصہ صاف نظر آتا تھا۔نپل ظاہر ہے مجھے کبھی نظر نہیںآئے کیونکہ نپلز برا کے اندر چھپے ہوتے ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ میرا چچا غریب تھا۔ایکچولی میرا چچاخاندان کے امیر لوگوں میں شمار ہوتا تھا۔چھ سات سال سے لیکر اٹھارہ انیس سال کی عمر تکمیں چچی کی قربت میں رہا۔میرے حساب سے میں نے آجتک جتنی بھی مٹھیں ماری ہیں اُن میںسب سے زیادہ مٹھیں چچی کو تصور میں لے کر لگائی ہیں۔میری بڑی خواہش تھی کہ چچی کےممے پکڑوں۔اس کی بنڈ پہ ہاتھ پھیروں لیکن صرف ایک دفعہ صرف اس کی تھائیز دبا سکا جب اُسنے بتایا کہ وہ تھکاوٹ محسوس کر رہی ہے۔صرف تھائیز دباتے دباتے لن کھڑا و حلق خشک ہو چکاتھا۔بس بات دبانے تک ہی محدود رہی۔کئی مرتبہ ہم دونوں تنہا ہوتے تھے لیکن مجھ میں چچی کےمموں پہ ہاتھ ڈالنے کی ہمت کبھی ناں ہوئی اور یہ تنہائی منٹوں کی نہیں کئی بار دو تین گھنٹوںتک بھی چلی جاتی تھی۔ایک دفعہ میں نے اس کے ساتھ اوپر چھت والے سٹور پہ کمبل وغیرہنکالنے گیا۔وہی بٹنوں والی قمیض تھی۔درمیان کا بٹن ٹوٹا ہوا تھا۔ممے آدھے سے زیادہ نظر آ رہےتھے۔بٹن کی جگہ سیفٹی پن لگی ہوئی تھی۔میں نے نوکروں کی طرح کام کیا۔کئی دفعہ قریب ہوالیکن ہاتھ ڈالنے کی ہمت ناں کر سکا۔ایسے وقت سب سے بڑی مصیبت لن کا کھڑا ہو جانا ہوتا تھا۔یہ کمبخت کھڑا ہو جاتا تھا۔کبھی میں اسے نیفے میں پھساتا کبھی آگے کو جھک کر چلتا کہشلوار قمیض پہ نکلا ہوا ابھار نظر ناں آئے۔
یہاں سے ریڈرز سٹوری زرا ڈارک ہو جاتی ہے۔اگر آپ ڈارک نہیں پڑھنا چاھتے تو سٹوری یہیں سےپڑھنا چھوڑ دیجیئے۔
جیسے کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ ہم اکٹھے رہتے تھے تو چچی کے بچے ہمارے کزنز بھی ہمارےساتھ پلے بڑھے۔سب سے بڑی لڑکی تھی۔یہ ہمارے ساتھ پلی بڑھی۔مٹھ میری چچی پہ بارہ تیرہکی عمر میں شروع ہو گئی تھی اور میں ورجن تھا۔تقریبا جب میں سولہ سترہ کا تھا تو چچی کیلڑکی آٹھ نو سال کی ہو چکی تھی۔میں اس لڑکی کے ساتھ بچپن سے کھیل رہا تھا کہ ایک دنکھیل کھیل میں یہ میری گود میں آ بیٹھی۔میں اس کی ماں پہ پہلے سے گرم ہوا بیٹھا تھا۔چھوٹیسی پیاری سی بنڈ جب میرے لن پہ بیٹھی تو بڑا عجیب سے مزہ آیا۔میں نے تھوڑی دیر مزید اُسےبیٹھنے دیا تو لن میں ایک بڑا ہلکا ہلکا سرور گرمائش سی محسوس ہوئی۔ویسا ہی سرور جب آپٹرپل ایکس دیکھتے ہوئے لن ہلکا ہلکا آگے پیچھے کر رہے ہوتے ہیں۔ایسے میں بندہ چھوٹتا تو نہیںبس لائٹ لائٹ سا لطف مزہ آتا رہتا ہے۔سچی مجھے اس بات کا بڑا مزہ آیا اور اُس کے بعد توروٹین بن گئی میں اُسے جب بھی موقع ملتا اُسے کبھی منہ اپنی طرف کر کے یا بنڈ اپنی طرف کرکے لن پہ گودی میں بٹھاتا۔معمولی سا لن پہ پریس کرتا۔کپڑوں کے اوپر سے جب بھی چھوٹی سیپھدی و لن کا ملاپ ہوتا مزے کی لہریں پورے جسم میں دوڑتیں۔مجھے تو کچھ عجیب نشے والےکیفیت محسوس ہوتی۔اگر آپ کو یہ سب بُرا لگ رہا ہے تو سٹوری پڑھنا چھوڑ دیجیئے۔یہ سب چلتارہا اور اس میں آھستہ آھستہ اضافہ یہ ہوا کہ میں اُسے اپنا لن پکڑا دیتا اور وہ پکڑ کر بیٹھیرہتی۔کبھی چھوڑ دیتی تو ہاتھ میں پکڑا کر اوپر اپنے  ہاتھ سے اُس کا ہاتھ دباتا۔یہ انتہائیخطرناک ایکٹویٹی تھی۔بچی کسی کو بھی بتا سکتی تھی لیکن میں اپنے لن کے ہاتھوں مجبور ہوچکا تھا۔ایک دن چھت پہ میں اور میرا کزن کرکٹ کھیل رہے تھے۔کزن مجھ سے دو سال بڑا تھا۔لڑکی کا نام ش رکھ لیتے ہیں۔ش بھی چھت پہ آ گئی۔میرے کزن نے کہا یہ ہمیں کھیلنے نہیں دے گیتو اسے میں نیچے چھوڑ آتا ہوں۔میں نے کہا اوکے۔چند لمحوں بعد مجھے احساس ہوا کہ کچھ گڑبڑہے۔چھت کے نچلے فلور پہ سٹور تھا جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔میں ادھر گیا تو دیکھا شکی شلوار اتری ہوئی تھی اور میرے آنے پہ کزن اپنا ٹراؤزر اوپر کر رہا تھا۔میں شاکڈ ہو گیا کیونکہمیرا خیال تھا کہ یہ حرکت میرے علاوہ کوئی اور نہیں کرتا تھا۔بہرحال ش کو میں نے نیچے بھیجدیا اور کزن کو بازو سے پکڑ کر واپس اوپر چھت پہ لے گیا اور پوچھنے لگا یہ کیا ہو رہا تھا اور کبسے ہو رہا ہے۔کہنے لگا یہی کوئی چھ مہینے سے ہو رہا ہے۔یہ جب بھی ہمارے گھر آتی ہے تو میںموقع محل دیکھ کر اس کی شلوار اتارتا ہوں۔پھر اپنی شلوار اتارتا ہوں۔اس کو گود میں بٹھا کر اپناننگا لن اس کی پھدی پہ رگڑتا ہوں اور فارغ ہو جاتا ہوں۔آجکل اسے منہ میں لینا سکھا رہا ہوں۔میںنے پوچھا اگر کسی کو پتہ لگ گیا تو۔کہنے لگا ابھی تک تو کسی کو پتہ نہیں لگا۔میرا بڑا بھائیبھی یہ کرتا ہے اور ابھی تک اس نے کسی کو بتایا تو نہیں۔مجھے اس ٹائم ایسا لگا جیسے میرےحق پہ کسی نے ڈاکہ مار دیا ہے۔خیر ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے چور تھے تو ہم دونوں نے ہی ایکدوسرے کا راز کسی کو نہیں بتایا۔بہرحال پھر جلد ہی میں نے بھی موقع ڈھونڈ کر اسے سکنگ کرنےکا کہا اور دس گیارہ سال میں ہی ش بہت اچھا چوپا لگاتی تھی۔پہلے ٹوپی اچھی طرح چوستیتھی پھر تھوک سے لن کو اچھی طرح لبیٹر دیتی تھی پھر پورا منہ میں لے کر گرم گرم سانسیں جبلن کی بیس پہ پڑتی تھیں تو مزے سے آنکھیں بند ہو جاتی تھیں۔آرام آرام سے اوپر نیچے منہ کرتیتھی اور ساتھ میں پوری قوت سے چوستی تھی۔ایسے کرتے وقت اُس کی گالیں اندر کو جاتی دیکھکر لن میں خوشی کے لڈو پھوٹتے تھے۔مجھے سب سے زیادہ مزہ اُس وقت ہی آتا تھا جب وہ پورامنہ میں لے لیتی اور اُس کے نتھنوں کی گرم ہوا لن کے بیس پہ پڑتی رہتی۔مجھے چھوٹنے سے زیادہیہ والا کام اچھا لگتا تھا۔میں اُسے یہی کہتا تھا کہ اوپر نیچے ہونے کی بجائے بس یہیں پڑی رہو۔ظاہر ہے پکڑے جانے کا ڈر ہمیشہ رہتا تھا تو وہ جسے تسلی سے چوپا لگوانا ہوتا ہے وہ چند بار ہیہوا۔میں نے اُس کے منہ میں چھٹنے کی کوشش کبھی نہیں کیونکہ میرا خیال تھا کہ یہ سب سےخطرناک لمحہ ہوتا ہے اور اس ٹائم چھاپہ پڑ جائے تو سنبھلنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔جتنا چوپا لگواپاتا لگوا لیتا۔جتنا لن پھدی و بنڈ پہ رگڑ سکتا رگڑ لیتا لیکن چھٹنے والے کام باتھ روم جا کر اکیلا ہیکرتا تھا کیونکہ یہ سب سے محفوظ جگہ تھی گھر میں۔نہیں میں نے ش کے اندر نہیں ڈالا۔مجھے ڈرتھا کہ میں اندر ڈالوں گا تو پکڑا جاؤں گا۔کزن نے بھی اندر نہیں ڈالا تھا۔ایک دفعہ شام کو ش کےماں باپ کسی کے گھر گئے تو ش سو رہی تھی۔اس کے ماں باپ نے کہا چونکہ یہ سو رہی ہے اورنیند خراب ہو گی تو تم اس کی لُک آفٹر کرو۔میں نے کیا لُک آفٹر کرنی تھی۔ادھر اُس کے والدین گھرسے نکلے اُدھر میں نے ش کی شلوار اُتاری۔پہلے سوچا اپنی شلوار بھی اتاروں مگر پھر ناں جانےکس خیال کے تحت شلوار نہیں اتاری۔ش کے اوپر لیٹا لیکن وزن نہیں ڈالا۔لن کو پھدی کے اوپر رکھکر تھوڑی دیر ہی گھسیٹا کہ پُھر پُھر کر کے چوہدری صاحب نے اُلٹی کر دی۔شکر ہے میں نےشلوار پہنی ہوئی تھی ورنہ ساری منی ش کی پھدی و بیڈ پہ گرتی۔منی گاڑھی ہوتی ہے۔نشانچھوڑتی ہے۔گیلے کپڑے سے صاف کرتا تب بھی نشان رہ سکتے تھے یا ہو سکتا ہے اُن کے آنے تکبیڈ شیٹ گیلی ہی رہ جاتی۔بہرحال اُس دن اگر میں نے شلوار اتاری ہوتی تو یقینا پکڑا جانا تھا۔بہرحال ش کو لن پہ بٹھانا ہلکا ہلکا سرور لینا کبھی کبھار چوپا لگوانا جاری رہا اور جب ش بارہتیرہ سال کی ہوئی تو اس کے والدین ملک سے باہر شفٹ ہو گئے۔اُس کے بعد کبھی بھی اکیلے میںملاقات نہیں ہوئی۔آج وہ شادی شدہ ہے۔تین بچے اور بیرون ملک ہی رہتی ہے۔اب جا کر میں سوچتاہوں تو مجھے لگتا ہے مجھے چھوٹی لڑکی کے ساتھ ایسا نہیں کرنا چاھیئے تھا لیکن اُس وقت کوئیجوان عورت ہاتھ ہی نہیں لگتی تو ہم لوگ ایسا کرنے پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔جیسے میرے علاوہ میرےکزنز بھی یہی کچھ کر رہے تھے بلکہ وہ تو میرے سے بھی چار ہاتھ آگے تھے۔
ش کے چلے جانے کے بعد مجھے جوان عورتوں کی پھدی ملنی شروع ہو گئی تھی لیکن اس کی تفصیل بعد میں شروع کروں گا پہلے یہ والا تسلسل مکمل کر لوں۔تقریبا اپنی اُنیس بیس سال کی عمر میں اسی ایج گروپ کی ایک اور لڑکی سے پالا پڑا۔وہ اپنے ہمسائے میں رہتی تھی۔اُن دنوں اُن کے گھر وائٹ واش وغیرہ ہو رہی تھی۔مجھے بس مزدوروں پہ نظر رکھنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔اس لڑکی کا نام م فرض کر لیتے ہیں۔م ایک دن مجھے کمرے میں اکیلی مل گئی۔گود میں اپنی طرف منہ کر کے بٹھایا۔پھدی لن پہ رکھی۔وہی آگے پیچھے کیا لیکن مزہ نہیں آیا کیونکہ یہ لڑکی ش جتنی خوبصورت نہیں تھی۔ش تو بڑی خوبصورت و سیکسی ماں کی بڑی پریٹی بیٹی تھی۔بہرحال چند لمحوں بعد میں نے م کو چھوڑ دیا۔گود سے اُتار دیا۔یہاں م اور میرے درمیان جو گفتگو ہوئی وہ انٹرسٹنگ ہے۔پوچھنے لگی ہو گیا؟
میں نے حیرانی سے پوچھا مطلب کیا ہو گیا۔کیا پوچھ رہی ہو
اُس نے میرے لن پہ ہاتھ رکھ کر کہا یہ ہوا نہیں۔
میں نے مزید حیرانی سے کہا میں سمجھا نہیں۔
اس کا پانی نہیں نکلا۔
تمہیں کیسے پتہ یہاں سے پانی نکلتا ہے؟
مجھے پتہ ہے کہ کیونکہ پاپا کا بھی نکلتا ہے۔
مطلب پاپا یہ تمارے ساتھ لگاتے ہیں کرتے ہیں تو پاپا کا پانی نکل آتا ہے
کہتی ہے ہاں۔
اچھا تو ممی کے سامنے کرتے ہو؟
ارے نہیں نہیں۔ممی کے سامنے نہیں کرتے۔یہ ہم اکیلے میں کرتے ہیں۔میں بڑا حیران ہوا جان کر پاپا و بیٹی بھی یہ کرتے ہیں۔
پھر میری عمر جب بائیس تیئس سال تھی۔ایک دوست کے گھر گیا۔کافی آنا جانا تھا۔ڈرائنگ روم میں بیٹھا تو اُس کی امی نے کہا مجھے ماموں کے گھر بس چھوڑ آؤ۔دوست کہنے لگا بس یار توادھر ہی بیٹھ کر ٹی وی دیکھ۔میں پندرہ بیس منٹ میں آ جاؤں گا۔اُس کے گھر سے نکلنے کی دیرتھی کہ اِسی ایج گروپ کی اُس کی بہن ڈرائنگ روم میں آ گئی۔میری پہلے سے سلام دعا تھی۔آ کر میرے ساتھ ہینڈ شیک گلے ملی اور خود ہی ایک ٹانگ دائیں اور ایک ٹانگ بائیں کر کے منہ میری طرف کر کے میری رانوں پہ بیٹھ گئی۔مجھے حیرانی ہوئی۔پھر میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگی۔میرے پاس حیرت کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔پھر خود ہی آگے ہوئی اور اپنی پھدی میرےلن پہ رکھ کر ہلکا ہلکا پریس کرنے لگی اور جپھی ڈال لی۔میں نے اپنے سے علیحدہ کرنا چاہا لیکنآواز آئی اُوں ہوں۔چہرہ میرے سینے میں پیوست تھا۔اب کوئی خود چل کر آئے تو کون کافر انکارکرے۔ویلکم جی ویلکم۔ظاہر ہے مجھے اچھا لگا۔مزہ آیا۔پھر اُس نے خود ہی میرے ہاتھ پکڑ کر اپنی کمر و بنڈ کے اوپری حصے تک لے گئی اور جپھی میں شدت آنے لگی۔میں پیچھے ہٹ کر اپنی شلوارکا ناڑہ کھولنے لگا تو کہنے لگی نہیں ابھی باجی آ جائے گی۔چند منٹ اسی طرح ہم لگے رہے تو اس کی باجی کی آوازیں آنے لگ پڑیں۔اُس نے جوابا آواز لگائی میں ادھر ہوں۔جواب آیا اچھا اچھا۔پھراُس کی باجی ڈرائنگ روم میں آئی تو ہم اچھے بچوں کی طرح علیحدہ علیحدہ بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہے تھے۔باجی سلام دعا لے کر چلی گئی۔یہ بھی اُٹھ کر جانے لگی تو میں نے بازو پکڑ کر پوچھا یہ تم کسی اور کے ساتھ بھی کرتی ہو۔
مسکرا کر کہنے لگی ہاں۔یہ مسکراہٹ بڑی گہری تھی۔
کس کے ساتھ؟ کون ہے؟
اس بار اس نے جواب کوئی نہیں لیکن مسکراہٹ عجیب پرسرار سی ہو گئی۔
نام بتا دو۔کسی کو نہیں بتاؤں گا۔
کہنے لگی مجھے پتہ ہے آپ کسی کو نہیں بتاؤ گے۔بھائی کے ساتھ کرتی ہوں۔
میرا تو حیرانی سے منہ کھلے کا کھلا رہ گیا اور وہ میری حالت پہ مزید مسکراتے ہوئے چلی گئی۔مجھے اُس کی وہ والی مسکراتی آنکھیں آج تک نہیں بھولیں۔
پہلی جوان پھدی جب میں نے لی تب میری عمر انیس بیس کے قریب تھی۔کچھ نئے دوست بنے۔باتوںباتوں میں پتہ چلا کہ جواد پیشہ ور عورتوں کے پاس جاتا ہے۔میں نے کہا یار مجھے بھی لے چلو۔کہتا ہے کل ہی چلو لیکن ایک شرط ہے واپسی کھانا کھلانا پڑے گا۔میں نے کہا منظور ہے۔پہلی پھدی جس عورت کی لی اُس کا کوئی خاص مزہ نہیں آیا لیکن دوسری عورت جس کی لی اُس کا اورگیزم ابھی تک نہیں بھولا۔ پٹھانی تھی کوئی انیس بیس سال کی۔ پٹھانیوں والے لباس میں ہی تھی۔ہم دونوں کو ایک دوسرے کی زبان نہیں آتی تھی۔گلے ملے تو اُس نے میرے گالوں کو منہ میں رکھ کر چوسنا شروع کیا اور ساتھ میں میرے لن کو پکڑ کر اپنی ران کے ساتھ ملنا شروع کیا۔مجھے بڑامزہ آیا اس چیز کا۔ کپڑے اتارے۔جسم اُس کا بڑا شاندار تھا۔پٹھانی تھی تو چٹی گوری تو تھی ہی۔ممے بڑے کسے ہوئے تنے ہوئے۔قد بڑا اچھا تھا۔پیٹ باہر نکلا ہوا نہیں تھا۔ویکس کی ہوئی تھی جس سے گورا جسم چمک دمک رہا تھا۔میں تھوڑی دیر مبہوت ہو کر بس اُس کا جسم ہی دیکھتا رہا۔اُس نے میرے نپلز ہی چوسنے شروع کر دیئے۔پھر لن کے اوپر مثانے والی جگہ پہ زبان کی نوک لگاتی جس سے بڑا میٹھا میٹھا مزہ آتا۔تھائی اور پیٹ کے درمیانی جگہ جسے گروئن کہتے ہیں پہ زبان کی نوک لگاتی اور ہلکا ہلکا سا چوستی تھی۔بڑا مزہ آتا ہے بھئی اس چیز کا۔لن کا چوپا بھی اچھا لگایا۔ٹٹے بھی چوسے اور اینڈ پہ جناب اس نے میری بنڈ کے سوراخ کو چاٹنا شروع کر دیا۔یہ اپنے لئے نئی چیز تھی۔پہلی دفعہ پتہ لگا اس سے تو کمال مزہ آتا ہے۔جب پٹھانی کے اندر ڈالا تو تھوڑا اڑ کر گیا۔میرے تجربے کے مطابق اگر تھوڑا اڑ کر جائے تو پھدی ٹائیٹ ہوتی ہے۔بہرحال آگے پیچھے ہونا شروع کیا وہ میرے کولہوں پہ ہاتھ رکھ کر مجھے اپنے اندر کھینچتی۔بہرحال جب میں چھٹنے لگا تو اُس نے کمال حرکت کی۔اپنی ٹانگیں میری کمر کے نچلے حصے اور بازؤں سے میری کمر کااوپر والا حصہ جکڑ لیا۔بہت زور سے جکڑا اور اسی مضبوط پکڑ اور جکڑ کے درمیان میں چھوٹ گیا۔مجھے اُس دن ایسے لگا کہ جیسے میرا پورا جسم اُس کی پھدی میں چھوٹ رہا ہے۔میں نے اُس کے بعد اور ابھی تک پھدی لے رہا ہوں لیکن وہ شدت والا اورگیزم مجھے آج تک نہیں آیا۔مجھے نہیں پتہ کہ وہ میرے ساتھ چُھٹی تھی یا اُس نے پروفیشنل ازم کا مظاہرہ کیا تھا؟بہرحال جو بھی تھا میں آج بھی اُس شدت والے اورگیزم کو ڈھونڈ رہا ہوں۔میں زیادہ سے زیادہ اُس کی مالی مدد ہی کرسکتا تھا۔اس لئے بھرپور ٹپ دی۔جس سے اُس کا چہرہ خوشی سے کھل اُٹھا۔میں نے دلے کو کہا کہ وہ پٹھانی دوبارہ بلا ملوا دے۔میں ڈبل پیسے دے دوں گا۔جواب یہ ملا کہ میری بیوی کی سہیلی کی آگے سہیلی تھی۔ادھر دو دن کے لئے کسی کام آئی تھی۔ہوٹل کا خرچہ بچانے کے لئے ہمارے پاس رہ لی۔جب آ ہی گئی تھی تو کام کر لینے میں کوئی حرج نہیں تھا۔آپ آ گئے تو ملاقات ہو گئی۔اب واپس اپنے صوبے جا چکی ہے۔کبھی واپس آئی تو آپ کی قسمت۔یہ اُن دنوں کی بات ہے جب موبائل فون نہیں ہوتے تھے۔
واقعات تو بہت سارے ہیں لیکن ہر واقعہ سنانا بوریت ہے کیونکہ کافی سارے واقعات میں مماثلت ہے۔اس لئے صرف وہ واقعات سناؤں گا جن میں کوئی خاص بات ہو گی۔اُس وقت میری عمر کوئی تئیس چوبیس سال تھی۔ایک ایسے ادارے میں کام کر رہا تھا جہاں خواتین کی بھی کثیر تعداد کام کرتی تھی۔ایک نئی خاتون نے کام کرنا شروع کیا۔فُل ٹائم پردہ۔چہرہ تو چھپایا ہی ہوا تھا ساتھ میں ہاتھوں پہ دستانے بھی پہنتی تھی۔۔عمر اکیس بائیس سال۔اپن کا کام تو ہر عورت پہ ٹرائی مارنا تھا۔سو خاتون کے پاس بیٹھنا شروع کیا تو اُنہوں نے مجھ پہ بھی  شروع کر دی۔میں نے دل میں کہا کرتی جاؤ۔اپنا مقصد تو تھوڑی فرینکس پیدا کرنا ہے۔لو جی بی بی نے ٹکا کر مجھ پہ  کی اوراس طرح ہمارے درمیان تھوڑی بہت بے تکلفی پیدا ہو گئی۔ہمارا ادارہ بڑا تھا اور ہمارے فلور پہ ایک کچن بھی بنا ہوا تھا۔ایک دن بی بی وہاں چائے بنانے گئی تو میں بھی پیچھے پیچھے لپک لیا۔ایک دوست کو کہہ دیا بھائی دھیان رکھنا کسی کو اب کچن کی طرف ناں آنے دینا۔آج یا تو دفتر سے ذلیل ہو کر نکالا جاؤں گا یا؟خیر کچن میں پہنچا محترمہ چائے ہی بنا رہی تھیں۔میں نے آؤ دیکھا ناں تاؤ جا کر پیچھے سے جپھی ڈال لی۔میں جواب میں تھپڑ ایکسپیکٹ کر رہا تھا لیکن آواز آئی۔اوں ہوں۔میں تو مزید شیر ہو گیا۔جپھی مزید سخت کر دی اور گردن پہ اپنا چہرہ رکھ دیا اور کپڑے کے اوپر سے گردن کو چومنا چوسنا شروع کر دیا۔ میری طرف پلٹی۔آنکھوں میں مجھے تو مسکراہٹ ہی محسوس ہوئی۔میں نے آگے بڑھ کر نقاب اتار دیا اور سیدھا اُس کے منہ میں زبان ڈال دی۔محترمہ نے میرے سر کے پیچھے ہاتھ رکھ کر میری زبان کو چوسنا شروع کر دیا۔مجھے اس چوسے جانے کا بہت مزہ آیا۔کچن میں ایک چھوٹا صوفہ بھی پڑا تھا۔بی بی نے میری پینٹ کی بیلٹ کو پکڑا اور الٹا چلتی ہوئی جا کر صوفے پہ بیٹھ گئی۔اب مجھے سمجھ ناں آئے کہ آگے کیا کروں؟آفس ہے اور آفس کا کچن ہے۔دوست کو کہہ کر تو آیا ہوں لیکن پھر بھی کوئی آ گیا تو؟انہی سوچوں میں گم تھا کہ بی بی نے میری بیلٹ کھولی۔زپ کھولی۔پینٹ نیچے کی۔انڈرویئر و پینٹ گھٹنوں تک کی۔لن جو پہلے ہی کھڑا سلامی دے رہا تھا۔منہ میں ڈال لیا۔میں حیران پریشان کہ میں تو صرف کسنگ کا سوچ کر آیا تھا اور یہ تو۔کمال لڑکی ہے ۔اب اتنے زور زور سے اور مہارت سے لن چوس رہی ہے۔کبھی صرف ٹوپی کو چوستی اور کبھی پورا منہ میں ڈال لیتی اور پورا منہ میں ڈال کر آگے پیچھے ہونے کی بجائے وہیں رُک کر بس چوسی جاتی اور بڑے زور سے چوستی۔میں نے اُسے بتایا کہ میرا ہونے والا ہے تو اُس نے بجائے منہ سے نکالنے کے آدھا لن منہ میں رکھا اور رُک کر بس سکشن کی پاور میں اضافہ کر دیا۔زندگی میں پہلی دفعہ میں کسی لڑکی کے منہ میں چُھٹا۔یہ کسی بھی مرد کے لئے بڑی قیمتی فیلنگ ہوتی ہے۔چوپا تو اب عام پاکستانی لڑکی عام لگا لیتی ہے لیکن منہ میں چھٹنا بہت کم ہوتا ہے۔میرا خیال تھاکہ ٹرپل ایکس فلموں کی طرح وہ منی باہر فرش پہ پھینک دے گی۔نہیں جناب بلکل نہیں شیر کی بچی نے ایک قطرہ اپنے ہونٹوں پہ بھی آنے نہیں دیا۔سب کا سب پی گئی۔جب مجھے لگا کہ آخری قطرہ بھی نکل گیا ہے تو میں نے اُس کے منہ سے لن باہر نکال لیا۔یہ تو آپ کو پتہ ہی ہے ایسے میں ایک دو قطرے پھر بھی نکل آتے ہیں تو اُس نے منہ سے نکال کر لن اپنے ہاتھ میں پکڑا اور جیسے ہی وہ ایک دو قطرے نکلے چاٹ گئی جی۔صرف کسنگ کا سوچ کر آیا تھا اور مجھے ایسے لگا جیسے میری عزت لوٹ لی گئی ہو۔ھاھاھاھاھاھا۔پھر کہنے لگی ابھی جاؤ اپنے ڈیسک پہ بیٹھو۔فورا باتھ روم  پیشاپ کرنے مت جانا۔کچھ لوگ بڑے تیز ہوتے ہیں۔اُڑتی چڑیا کے پر گن لیتے ہیں اور اب مجھ سے آفس میں فری نہیں ہونا۔میں نے جب بات کرنی ہو گی تمہارے والے انٹرکام پہ مختصر بات کرلیا کروں گی۔خیر اس طرح اس  صاحبہ سے کچھ عرصہ چکر چلا۔کمال ایکسپرٹ تھی سیکس اور سکنگ میں۔زندگی میں پہلی عورت دیکھی جو بغل کے حصے کو بھی منہ میں لے کرچوستی تھی۔پیٹ کے نچلے حصے کو لن کے اردگرد کے حصے کو منہ میں لے کر بڑے زور سے چوستی تھی۔مزے کے ساتھ ہلکی ہلکی سی کرنٹ ٹائپ لہریں بدن میں دوڑتی تھیں۔میں ہر ملاقات سے پہلے سوچتا کہ اُس سے پوچھوں گا تم نے پہلی دفعہ کس سے سیکس کیا۔اُس سے سیکس سٹوریز سنوں گا مگرجب وہ کمرے میں آ جاتی تو سب کچھ بھول جاتا۔آتے ساتھ ہی شروع ہو جاتی۔ٹائم تھوڑا ہوتا تھا کیونکہ ہم آفس کے ٹائم سے ہی نکل کر علیحدہ علیحدہ ہوٹل جاتے تھے اور اُسے آفس کا ٹائم ختم ہونے کے بعد گھر اپنی روٹین کے ٹائم کے مطابق پہنچنا ہوتا تھا۔گھرانہ شدید مذھبی تھا اور اسے بڑی مشکل سے جاب کرنے کی اجازت ملی تھی۔مجھے سسپنس ہی رہ گیا کہ میں اس سے پوچھوں کہ اتنے سخت ماحول کے باوجود وہ اتنی ایکسپرٹ کیسے بن گئی؟منگنی اُس کی اپنے کزن سے ہوچکی تھی اور مجھے اُس نے شروع میں ہی منگنی کا بتا دیا تھا۔شادی کے بعد ایک دفعہ میکڈونلڈمیں ملی تو گود میں ایک بچہ تھا۔پردہ وغیرہ ختم ہو گیا تھا۔ہنس کر بتانے لگی شوہر کو میں نے قابو کر رکھا ہے اس لئے اب پردہ ختم ہو گیا ہے۔
جانے کے بعد میں  میری زندگی کا احمقانہ دور تھا۔کیسے؟بتاتا ہوں۔
مہندی کا فنکشن تھا۔لڑکی تھی تو اٹھارہ اُنیس کی لیکن دکھنے میں چھوٹی لگتی تھی چھوٹے فریم کی وجہ سے۔پاکستانی اداکارہ سجل علی اگر نہیں دیکھی تو گوگل کر لیں اُسی طرح کی چھوٹے قد و چھوٹے فریم کی تھی لیکن میرے حساب سے سجل علی سے زیادہ خوبصورت تھی۔مجھے لگا کہ مجھے لائن دے رہی ہے تو پھر ہلکی پھلکی بات چیت کی۔جیسا کہ ہمارے ہاں  شادی کے فنکشنز میں سب لیٹ سوتے ہیں تو رات کافی ہو گئی لیکن سب شغل میلے ڈھولک ڈانس وغیرہ میں لگے ہوئے تھے اور کسی کا سونے کا موڈ نہیں تھا۔سجل نے اپنی بہن کو کہا کہ بھئی میں تو کل رات بھی ٹھیک سے نہیں سوئی تو مجھے نیند آ رہی ہے۔سونے جا رہی ہوں اور چلی گئی۔تھوڑی دیر بعد سگریٹ پینے میں بھی گھر سے باہر نکلا اور سگریٹ پیتے پیتے خیال آیا کہ سجل علی کو ذرا سوتے ہی دیکھ لیتے ہیں۔پچھلے دروازے سے گھر میں داخل ہوا۔پتہ تھا کونسے کمرے میں ہے۔قسمت آزماتے ہیں۔دروازہ اندر سے لاک ہوا تو واپس چلے جائیں گے۔بہرحال دروازہ اندر سےلاک نہیں تھا۔کمرے میں زیرو کا بلب چل رہا تھا اور اچھی خاصی روشنی تھی۔سجل کمرے میں اکیلی تھی اور بلکل سیدھی لیٹی سو رہی تھی۔بڑی پیاری لگ رہی تھی۔ارادہ یہی تھا کہ بس تھوڑی دیر دیکھ کر چلا جاؤں گا مگر دل و لن کہاں مانتے ہیں؟قریب گیا۔پیٹ سے قمیض اُٹھائی اور پیٹ پہ ہاتھ پھیرا اور کچھ لمحے پھیرتا رہا۔بڑی ملائم سکن تھی۔پھر برا تک پہنچا۔برا سے درمیانی جسامت کے ممے نکالے اور مموں کی سافٹنیس اچھی طرح چیک کی۔مزہ آیا اور سجل صاحبہ نےاپنے سونے کی ایکٹنگ برقرار رکھی۔ہمت بڑھی شلوار الاسٹک والی تھی۔سیدھا اندر ہاتھ ڈالا۔پھدی ہلکی ہلکی سی گیلی تھی۔دل کیا کہ پھدی کا نظارہ بھی کیا جائے۔الاسٹک کافی کوآپریٹو تھا اورسجل کی شلوار پہلے ہی کافی نیچے تھی تو پھدی کا نظارہ بھی ہو گیا۔کلین شیو چمکتی دمکتی پھدی اور پھدی کی لائن نظر آ رہی تھی۔اب اتنی چمکتی دمکتی پھدی کو سلامی تو بنتی ہے لیکن میں نے سلامی کی بجائے چمی کرنا مناسب سمجھا۔پھر ایک چمی سے دل نہیں بھرا تو کافی ساری چمیاں کر لیں۔پھر دل کیا کہ ذرا زبان کی نوک لکیر کے اوپر پھیر لی جائے تو وہ بھی پھیر لی۔ساتھ ساتھ یہ دھڑکا بھی لگا ہوا تھا کہ کوئی کمرے میں آ گیا تو۔ تو بنڈ پھٹ کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جانی ہے۔پھر میں نے پھدی کی لکیر پہ انگلی پھیرنی شروع کر دی۔پھدی کافی گیلی تھی تو انگلی پھدی کے اندر بھی داخل کر دی اور یہاں مجھے شاک لگا کیونکہ انگلی آرام سے اندر چلی گئی اوراندر باہر ہوتی رہی مطلب ورجن نہیں تھی۔اب یہاں اصولا مجھے چاھیئے تھا کہ انگلی کی جگہ لن استعمال کرتا مگر نہیں کیا۔دو وجوہات تھیں ایک تو کوئی اوپر سے آ ناں ھاں جی اُس زمانے میں میں ایک شدید قسم کا الو کا پٹھا بن گیا تھا۔بہرحال تھوڑی دیر بعد انگلی پھدی سے نکالی۔سجل کے پیٹ و قمیض سے صاف کی اور کمرے سے نکل کر پھر گیدرنگ میں جا بیٹھا۔اگلے دن سجل مجھے اکیلا دیکھ کر میرے پاس آئی اور صرف ایک جملہ بولی”کھلوناسمجھ رکھا ہے کیا؟” اور کہہ کر چلی گئی ہے۔

Posted on: 02:47:AM 25-Dec-2020


2 0 2397 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 11 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 74 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com