Stories


نادانی سے جوانی کا سفر از بابا جی

نامکمل کہانی ہے

خرم کا تعلق وسطی پنجاب کے ایک غریب گھر سے تھا اس کی عمر بارہ سال تھی ،تب اس کا باپ اچانک بیمار ہوکر مر گیا اس وقت اسکی بڑی بہن جس نام کا زری ہے اسکی عمر پندرہ سال تھی
وہ دونوں بہن بھائی اپنی ماں جس کا نسیم تھا جو اس وقت تقریبا پینتس سال کی جوان عورت تھی گندمی رنگت کی تیکھے نین نقش والی اور لچکدار جسم کی مالک، اس کے ساتھ اپنے علاقے کے زمیندار چوہدری جمال کے رعایا کے طور پر ایک چھوٹے سے کچے دوکمروں کے مکان میں رہتے تھے،
نسیم چوہدری کے گھر کام کاج کرتی ہے اور اسکا شوہر بھی چوہدری کا ملازم تھا اس کے فوت ہونے پر چوہدری نے انکی کافی مدد کی سارے اخراجات خود کئے ،نسیم کے سسرال میں ایک سسر جو اب بزرگ ہوگیا تھا جو کہ بیٹے کے مرنے کے بعد اپنی شادی شدہ بیٹی کے پاس چلا گیا تھا رہنے کے لیے کبھی کبھار چکر لگا جاتا ،خرم اور زری سے مل کر چلا جاتا ،زری بھی ماں کی طرح تھی اس پر نئی جوانی آ رہی تھی اس کا جسم بھی بھر رہا تھا
نسیم سارا دن چوہدری کے گھر کام کاج میں مصروف رہتی تھی خرم سرکاری سکول میں پانچویں کلاس میں پڑھتا تھا ،زری کو نسیم نے پانچ تک پڑھانے کے بعد سکول سے ہٹا لیا تھا
چوہدری جمال ،علاقے کا اچھا خاصا زمیندار تھا اس کے گاؤں میں اس سے چھوٹے زمیندار تھے مگر اسکا رعب دبدبہ تھا وہ ایک سخت مزاج مگر غریبوں کا دھیان رکھنے والا شخص تھا، چوہدری کا ایک چھوٹا بھائی تھا جوکہ جوانی میں لاہور پڑھنے گیا تھا
وہاں ایک امیر اور کاروباری خاندان کی لڑکی سے عشق کر بیٹھا اور وہی کا ہوکر رہ گیا اس نے وہی شادی کر لی اور لاہور ہی شفٹ ہوگیا اسے لاہور میں رہتے ہوئے دس سال ہوگئے تھے وہ بس کبھی کبھار ملنے گاؤں آجاتا تھا
چوہدری جمال کی بیوی دو سال پہلے فوت ہوگئی تھی چوہدری کا ایک بیٹا تھا جس کا نام چوہدری کمال تھا وہ ایک سترہ سال کا لڑکا تھا
اور چوہدری کی دو بیٹیاں تھیں بڑی کا نام نیلم چوہدری تھا جو کہ بیس سال کی تھی دوسری کا نام حنا چوہدری تھا وہ انیس سال کی تھی دونوں بہنیں اور بھائی قریبی شہر میں پڑھنے جاتے تھے روزانہ ڈرائیور گاڑی میں لے جاتا اور لاتا تھا
انکے علاوہ چوہدری جمال کی ایک بہن تھی اسکا نام شبنم ہے اسکی شادی ہوئی تھی مگر شوہر سے بنی نہیں اور خاندانی جھگڑوں کی وجہ سے طلاق ہوگئی تھی اس کی عمر تقریبا اس وقت تیس کے قریب ہوگی وہ غصے کی بہت تیز تھی اور بھائی کے لاڈ پیار کی وجہ سے بہت بگڑی ہوئی تھی اس وقت گھر کے معاملات میں اسکی سرداری تھی بھابھی جب تک زندہ تھی تب وہ پھر بھی کنٹرول میں رہتی تھی کیونکہ وہ بھی چوہدرائن تھی لیکن اس کے مرنے کے بعد اسے پوچھنے والا کوئی نہیں تھا چوہدری جمال سارا دن ڈیرے پر حقہ پیتا اور علاقے کی پنچائت وغیرہ نپٹاتا یا پھر زمینوں پر چکر لگانے چلا جاتا وہ عموما شام کو ہی گھر واپس آتا تو گھر کے سارے معاملات اخراجات وہی دیکھتی تھی
شبنم سوائے خرم کی ماں نسیم کے ہر ملازم یا ملازمہ سے حقارت سے پیش آتی تھی بس نسیم سے نرمی سے پیش آتی تھی دو سال پہلے جب خرم کا باپ فرید زندہ تھا
ایک دن روزی ماں کے ساتھ چوہدری کی حویلی گئی اور ایک طرف فرش پر بیٹھ کر گولیاں کھیلنے لگ گئی اچانک اس کی۔ناف کے نیچے درد سا محسوس ہوا وہ اٹھی اور ماں کو ڈھونڈتے ہوئے حویلی کی پچھلی طرف آگئی جدھر چھوٹی چوہدرائن شبنم کی رہائش تھی وہ کمرے کی کھڑکی کے پاس سے گزری تو اندر سے عجیب آوازیں آ رہی تھیں زری کی نظر کھڑکی کے تھوڑے سے کھلے ہوئے پٹ سے اندر گئی تو وہ اندر کا منظر دیکھ کر اپنے درد کو بھول گئی اندر شبنم کا اوپری جسم ننگا اس کا گورا جسم بڑے بڑے ممے پتلی کمر دوہری ہوچکی تھی وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی اس کے اوپر اور کوئی نہیں زری کا باپ فرید تھا جو کہ ایک صاف رنگت کا نوجوان مرد تھا وہ بے دردی سے شبنم کے ممے چوس رہا تھا شبنم کے لذت سے آہیں نکل رہی تھیں وہ بھی بولی بس کرو فرید میری آگ بجھا دو بڑے دنوں بعد آئے ہو کدھر رہ جاتے ہو فرید پیچھے ہٹا اس نے شبنم کی شلوار پکڑ کر ایک جھٹکے میں اتار دی وہ بس بی بی جی چوہدری صاحب کے کاموں فرصت ملے تو ادھر آؤں شبنم بولی کتنی بار کہا ہے جب اکیلے ہو اس وقت مجھے بی بی جی نہ کہاکرو بس مجھے شبنم کہا کرو فرید بولا کیا کرو جی عادت پڑ گئی ہے شبنم بولی اچھا اب باتیں نا کرو جلدی سے اندر ڈالو جب تک یہ اندر نہیں جائے گا مجھے سکون نہیں آئے گا فرید نے اپنی دھوتی کا پلو سائیڈ پر کیا اپنا اکڑا ہوا تگڑا لن شبنم کی نرم و ملائم پھدی پر سیٹ کیا ایک جھٹکا مارا شبنم کی زور دار آہ نکل گئی
اسی وقت زری کے کندھے پر کسی نے پیچھے سے ہاتھ رکھا اس سے پہلے کہ ڈر کے مارے زری کے منہ سے چیخ نکلتی ایک ہاتھ زری کے منہ پر آگیا زری کی نکلتی ہوئی چیخ ہاتھ کے نیچے دب گئی
زری کے چیخ دب گئی تھی جس نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا ہواتھا اس نے اسے کھنچ کر کھڑکی کے پاس سے ہٹا لیا اور پیچھے کی طرف لے گیا جب زری نے مڑ کر دیکھا تو وہ اس کی ماں نسیم تھی اس نے اسے کمر پر تھپڑ مارا منحوس تو ادھر کیا کرنے آئی تھی
زری نے روتے ہوئے جواب دیا اماں میں تجھے ڈھونڈنے آئی تھی میرے پیٹ کے نیچے درد ہو رہا ہے نسیم پوچھا کہاں درد ہو رہا ہے تو زری نے ناف سے نیچے اور پیشاب والی جگہ سے تھوڑا اوپر ہاتھ رکھ کر بتایا تو نسیم اس کو علحیدہ سائیڈ پر لے گئی اور اس کی قمیض کا دامن اوپر کرکے لاسٹک والی شلوار نیچے کر کے اس کی چھوٹی سی اندام نہانی کی طرف دیکھا تو سرخ مادہ ہلکا سا لگا ہوا تھا نسیم نے شلوار اوپر کر دی اور بیٹی کا بازو پکڑ کےاسے لیکر کر حویلی کے اگلی طرف آگئی اور بڑی چوہدرائن یعنی چوہدری جمال کی بیوی مسرت بیگم اس وقت زندہ تھی ،کے پاس آگئی اور اسے کہا کہ زری کی طبیعت خراب ہے میں اسے گھر چھوڑ کر آتی ہوں مسرت بیگم نے پوچھا کیا ہوا ہے نسیم نے بتایا کہ بی بی جی زری جوان ہوگئ ہے مسرت بیگم سمجھ گئی اس نے کہا ٹھیک ہے جاؤ گھر چھوڑ آو ،
نسیم زری کو لیکر اپنے گھر آگئی اور اپنے کچے کمرے میں آگئی اس نے دروازہ بند کر دیا اور زری کو چارپائی پر لیٹا کر اس کی شلوار اتار دی اور اپنے ٹرنک سے دیسی ململ کا سفید کپڑا لیکر اس کی چھوٹی سی اندام نہانی پر لگا ہوا خون صاف کیا اس کی ٹانگوں پر لگا ہوا خون صاف کیا پھر اس نے ایک کپڑے کا پیس لیکر تہہ کرکے اندام نہانی کے اوپر سیٹ کرکے ٹرنک سے زری کے سائز کا انڈرویئر نکال کر پہنادیا اور اسے سمجھا دیا کہ اب کسی کے گھر نہیں جانا ،جب یہ ختم ہوجائے پھر جانا اور اسے ساری بات سمجھا کر واپس حویلی آگئی
نسیم کو اس بات کا پتا تھا کہ چھوٹی چوہدرائن شبنم اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے اس کے شوہر فرید کو استعمال کرتی ہے کیونکہ وہ ایک گبھرو جوان تھا اور شبنم شادی کے کچھ عرصے بعد طلاق لیکر کر گھر بیٹھ گئی تھی اسکے بڑے بھائی چوہدری جمال نے کئی بار اپنی بیوی مسرت بیگم کو کہا کہ شبنم سے پوچھو اگر مانتی ہے تو اس کی خاندان میں کوئی لڑکا دیکھ کر شادی کر دیتے ہیں وہ مان بھی گئی تھی مگر خاندان والے شبنم کی عادات اور تیزی طراری سے ڈرتے تھے لہذا خاندان میں اس کے لیے دوسری مرتبہ جوڑ نا بن سکا ،شبنم چونکہ ایک چھوٹے قد و قامت کی لڑکی تھی اس کا سینہ تقریبا 34سائز کا تھا مگر اس کے چوتڑ شادی شدہ ہونے کے بعد سےزیادہ بھاری ہوگئے تھے گورے رنگت کی لڑکی تھی جیسے مزاج کی گرم تھی ویسے
ہی سکیس کے حوالے سے بھی گرم مزاج تھی ،
نسیم سب کچھ جاننے کے باوجود چپ رہتی تھی کیونکہ اسے پتا تھا کہ چوہدری انکی ہر ضرورت پوری کرتے ہیں اور شبنم بھی گاہے بگاہے اپنے کپڑے اسے دیتی رہتی ہے اور اس کے ساتھ خوش مزاجی سے پیش آتی ہے یہ سب کچھ فرید سے تعلقات کا کرشمہ تھا مگر وہ بہت نک چڑھی تھی اگر وہ فرید کے اور شبنم کے تعلقات پر اعتراض کرتی تو شبنم اسکا اس کے بچوں کا جینا دوبھر کر دیتی
فرید اور نسیم کی شادی آپس میں پسند سے ہوئی تھی اس کے باوجود وہ صبر کرتی تھی اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا ،

حویلی کے اگلے حصے میں شبنم۔اسے ڈھونڈتی ہوئی آگئی نسیمی کدھر ہے تو نسیم نے کچن سے نکل کر کہا جی شبنم بی بی
شبنم نے پوچھا کیا کر رہی ہے تو نسیم نے جواب دیا کہ بڑی بی بی کے لیے چائے بنا رہی ہوں شبنم نے کہا اچھا چائے بنا کر میری بات سنو نسیم چائے بنا کر دے کر وہ شبنم کے کمرے میں آگئی شبنم بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی نسیم کو اس نے موڑھے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود اٹھ کر الماری کھول کر کھڑی ہو گئی اس میں سے ایک شاپر نکال کر نسیم کو دے دیا اس میں کچھ کپڑے ہیں زری کو سیٹ کرکے پہنا دینا وہ اور کچھ پیسے الماری سے اٹھا کر دیئے یہ لو اپنے اور خرم کے کپڑے بنا لینا اور یہ شاپر بڑی چوہدرائن اور باقی لوگوں سے چھپا کر لیکر جانا بلکہ جب جانا ہو پچھلے دروازے سے جانا نسیم نے کہا ٹھیک ہے جی پھر وہ شاپر وہی کمرے میں چھپا کر رکھ کر باہر چلی گئی ،
خرم باہر سے حویلی کے اندر تیز تیز آیا اور نسیم کے پاس آیا بولا اماں مجھے بھوک لگی ہے نسیم نے اسے برآمدے میں بٹھا کر کھانا دیا
اسی وقت چوہدری کی دونوں بیٹیاں سکول سے واپس آئیں انکا بھائی چوہدری کمال نہیں آیا تھا شاید ابھی تک باہر تھا اتنی دیر میں وہ بھی بیگ اٹھائے اندر آگیا خرم اسوقت تقریبا دس سال کا تھا مگر گاؤں کی آب و ہوا اور خوراک کی وجہ سے اپنی عمر سے تقریبا دو سال زیادہ لگتا تھا ،نیلم چوہدری کی عمر اس وقت اٹھارہ سال تھی وہ بلا کی خوبصورت اور جوانی جیسے اس پر ٹوٹ کر برسی تھی دراز قد لڑکی تھی سینہ اسکا ایک بھرپور جوان لڑکی کی اٹھان میں تھا سفید یونیفارم میں اس کے تنے ہوئے چھتیس سائز کے ممے چلتے ہوئے ہلتے کمال لگتے تھے
چھوٹی حنا چوہدری شکل و صورت میں اپنی پھوپھی کی طرح تھی مگر قد اس کا اپنی بہن کی طرح تھا ممے بھی بڑے تھے اور جسم اس کا فربہی مائل تھا مگر بے ڈھنگا نہیں تھا
دونوں اپنے کمروں میں چلی گئی تھیں اس نے کھانا ختم کر لیا نسیم نے آکر برتن اٹھا لیے اور خرم سے کہا کہ بجلی چلی گئی ہے اور کچن کی ٹینکی میں پانی نہیں ہے مجھے نلکے سے پانی لا دے بالٹی میں پھر کھلینے جانا ،حویلی میں پچھلی طرف ایک غسل خانہ اور ایک ٹوئلٹ بنا ہوا تھا سامنے ایک نلکا لگا ہوا تھا خرم ہاتھ میں بالٹی پکڑ کر پانی بھرنے کے لیے آہستہ آہستہ جا رہا تھا پیچھے سے کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا خرم نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو نیلم چوہدری تھی اس کے ہاتھ کپڑے میں تھے وہ شاید کپڑے بدلنے یا نہانے جا رہی تھی نیلم نے پوچھا کیسے ہو خرم ؟،،
خرم ٹھیک ہوں بی بی جی نیلم نے پوچھاکیا کرنے جا رہے ہو خرم نے بتایا کہ پانی بھرنے جا رہا ہوں ،،،نیلم نے اچھا کہا اور غسل خانے میں چلی گئی غسل خانہ اور ٹوئلٹ دونوں اونچے بنے ہوئے تھے دو سٹپ سیڑھیوں کے بنے ہوئے تھے تیسرے سٹپ میں غسل خانے کا فرش آجاتا ہے نلکا پہلے کا پرانا لگا ہوا تھا جو غسل خانے سے نیچے ہوگیا تھا غسل خانے اور ٹوئلٹ کا دروازہ نیچے سے تقریبا چھ انچ اونچا تھا
خرم نلکے پر آگیا جو بلکل غسل خانے کے سامنے تھا نلکے پر کھڑے ہو نے والے کا رخ غسل خانے کے دروازے کی طرف ہوتا ہے
خرم نلکے کۓ آگے بالٹی رکھ کر پانی بھرنا شروع کر دیتا ہے غسل خانے کا فرش اونچا ہونے کی وجہ سے اندر سے نیلم کے پاؤں اور ننگی پنڈلیاں صاف نظر آ رہی تھیں ،خرم گاؤں کا لڑکا تھا جہاں بچے جلدی ہی مرد عورت کا فرق سمجھنے لگ جاتے ہیں اور لڑکے آپس میں گندی باتیں اور حرکات کرکے جلدی شعور کی منزلیں طے کر جاتے ہیں خرم کی دلچسپی اب غسل خانے کی طرف بڑھ گئی تھی ،وہ نلکا کم چلا رہا تھا اور غسل خانے کی طرف زیادہ دیکھ رہا تھا نیلم نے پلاسٹک کی چوکی گھسیٹ کر ٹوٹنی کے آگے کی اور اس پر بیٹھ گئی جب نیچے بیٹھی تو خرم کو نیلم کی گورے چٹی اور گول مٹول چوتڑ نظر آ گئے وہ پہلی بار کسی لڑکی کی چوتڑ یوں ننگے دیکھ رہا تھا اسے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ کوئی دیکھ نہ لے کہ خرم کا دھیان کدھر ہے اور اسے مزہ بھی آ رہا تھا اندر نیلم نے بال کھول لیے وہ اس کے چتڑوں سے تھوڑا اوپر تک تھے اس نے جسم پر پانی ڈالنا شروع کردیا خرم کی بالٹی بھر گئی تھی مگر مزے کی وجہ سے اس کا وہاں سے ہٹنے کو دل۔نہیں کر رہا تھا اچانک نیلم نے رخ بدلا تو اس کی چیخ نکل گئی
خرم ڈر گیا اس نے جلدی سے بالٹی اٹھائی
خرم جلدی سے بالٹی اٹھا کر واپس آگیا وہ پسینے سے شرابور تھا سوچ رہا تھا کہ لگتا ہے نیلم چوہدری نے اسے تانک جھانک کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے اس نے پانی کی بالٹی کچن کے باہر رکھی اور ماں کو آواز لگائی کہ پانی رکھ دیا ہے اور میں باہر جا رہا ہوں ،پیچھے سے نسیم نے آواز دی کہ ایک اور بالٹی بھر کے دے جاؤ مگر وہ ان سنی کر کے باہر نکل گیا کیونکہ اسے ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں نیلم اس کی حرکت کے بارے میں کسی کو بتا نا دے تو اسے بہت مار پیٹے گی ،سیدھا کھیتوں میں باپ کے پاس پہنچ گیا وہاں ٹیوب ویل چل رہا تھا گاؤں کے کافی سارے بچے نہا رہے تھے اور عورتیں ٹیوب ویل کے پانی کے نکاس کے لیے بنے ہوئے پول کی دیواروں پر اور نیچے والے تھڑے پر بیٹھیں کپڑے دھو رہیں تھیں خرم بھی بچوں کے ساتھ وہاں نہانے لگ گیا مگر آج اس کی نظریں بدل چکی تھیں وہ چور نظروں سے کپڑے دھوتی لڑکیوں اور عورتوں کے جسموں کو گھور رہا تھا کپڑے دھونے اور بچوں کی شرارتوں کی وجہ سے پانی کے چھنٹوں سے تقریبا سب عورتیں کے بدن بھیگ چکے تھے ،
سب سے زیادہ وہ عذرا ماچھن کو دیکھ رہا تھا وہ ایک جوان الہڑ مٹیار تھی اس کی شادی ہوچکی تھی وہ تقریبا چوبیس پچیس سال کی گوری رنگت کی لڑکی تھی اس کا شوہر بالو لوگوں کی شادی بیاہوں پر کام کاج کرکے کماتا تھا وہ بھی شوہر کا ساتھ دیتی تھی اس کے علاوہ وہ گاؤں میں تندور پر روٹیاں لگا تی تھی، جس سے گھر کا نظام چلتا تھا اس کا شوہر اس سے عمر میں دس سال بڑا تھا ٹھگنا سا تھا بے جوڑ شادی تھی اکثر دیہاتوں میں ایسے بے جوڑ جوڑے دیکھنے میں آتے ہیں
تندور کے لیے جنگلات سے لکڑیاں لانا اور تندور جلا کر دینا اس کی ذمہ داری تھی
عذرا بہت خوبصورت عورت تھی گوری رنگت آگ پر کام کرنے کے باوجود چکمتی ہوئی رنگت تھی اس کی ،اونچا قد ،پتلی کمر موٹے موٹے کم از کم چالیس سائز کے ممے جیسے اس کے جسم پر الگ لگے ہوئے ہوں جب چلتی اس کے تنے ہوئے ممے ہلتے تھے گاؤں کے مردوں کی جان نکا ل دیتے تھے وہ کسی کو منہ نہیں لگاتی تھی بڑی منہ پھٹ قسم کی تھی ایک دو مردوں کی اس نے عزت افزائی کی تھی اس کے بعد مرد اسے دیکھ کر آہیں تو بھرتے تھے مگر اس کو کچھ کہنے سے ڈرتے تھے اس کے پیچھے سے باہر کو نکلے بھاری چوتڑ مگر کسے ہوئے تھے چلتی تو اوپر نیچے کی طرف حرکت کرتے اس کے سڈول پٹ جب روٹیاں لگانے گھٹنے پیچھے موڑ کر بیٹھتی ہے تو اس وقت اسکے پٹ اور چوتڑ مزید واضح ہوجاتے ہیں مگر اس کی کمر پتلی اور لچکیلی تھی جب اس کو پسینہ آتا تو اس کی قمیض اس کے پیٹ سے چمٹ جاتی تھی کافی نو عمر لڑکے جو ویسے تو کم چور تھے مگر روٹیاں لگوانے ضرور آتے صرف عذرا کے جسم کو دیکھنے اور آنکھیں سینکنے کو آتے تھے خرم کو ان باتوں کا پتا تھا اکثر وہ لڑکوں کے منہ سے اس کا ذکر سنتا تھا
آج خرم خود اس کے جسم کو گھور رہا تھا وہ کپڑے دھو رہی تھی اور ساتھ میں بیٹھی عورتوں سے باتیں بھی کر رہی تھی اس کا لباس بھیگ چکا تھا اس کی پتلی قمیض اس کے پیٹ سے چپکی ہوئی تھی جس سے اس کی گول ناف صاف نظر آ رہی تھی اس کے سینے پر دوپٹہ نہیں کیونکہ بچے نہا رہے تھے ان میں سب سے بڑا اس وقت خرم تھا مگر گاؤں کی عورتوں کے لئے وہ بھی بچہ ہی تھا
سینے پر دوپٹہ نا ہونے کی وجہ سے اس کے ممے سامنے سے نظر آ رہے تھے جو کہ کالے رنگ کے بریزیر میں قید تھے مگر اوپری سارا حصہ نظر آ رہا تھا اس نظارے سے خرم کی کنپٹیاں گرم ہو رہی تھی نیچے سے اس کی للی میں سنسناٹی پیدا ہو رہی تھی ، عذرا کپڑے دھو چکی تھی ساتھ بیٹھی ادھیڑ عمر عورت سے بولی ماسی میں نے کپڑے دھو لیے ہیں آپ کے کتنے رہتے ہیں اس ماسی کو لوگ ماسی برکت کہتے ہیں وہ بھی چوہدری صاحب کے گھر کام کرتی ہے اس کا خاوند مر چکا ہے اس کی عمر تقریبا چالیس سال کی وہ گندمی رنگت کی عورت ہے اور بڑی چپ رہنے والی عورت ہے
ماسی برکت بولی عذرا بس میرا بریزیر رہ گیا دھلنے والا وہ میں دھو لو چلتے ہیں خرم کے کان انکی طرف ہی تھے عذرا کہاں ماسی کپڑوں میں تو بریزیر نہیں تھا آپکے ماسی برکت بولی یہی جو پہنا ہوا ہے اسے اتار کر دھونا ہے تو بھی دھو لے
عذرا ہاں ماسی دھلنے والا تو مگر گھر جا کر نلکے پر دھو لونگی اب یہاں کیسے دھوؤں اتارنا مسلہ ہے بچے نا ہوتے تو اتار لیتی
ماسی بولی یہ کونسی بات ہے اس نے ٹیوب ویل والے کمرے کی طرف اشارہ کیا کہ وہاں جا کر اتار لے اور پھر قمیض پہن اور بریزیر دھو لے عذرا ہاں ماسی کہتی تو ٹھیک ہے چلو ایسا ہی کرتی ہوں خرم انکی ساری باتیں سن رہا تھااس نے انکی طرف کمر کی ہوئی تھی مگر کان انہی کی طرف تھے
عذرا چلو ماسی میں تو اتار کر آتی ہوں ماسی برکت بولی تو اتار کے آجا اتنے میں میری ایک چادر رہتی ہے میں وہ دھو لو عذرا کہتی ہے ٹھیک ہے ماسی وہ اٹھ کر کمرے کی طرف چل پڑی پیچھے سے
اس کے گیلے لباس میں اس کے چوتڑ ادھم مچا رہے تھے خرم بڑے غیر محسوس انداز میں ٹیوب ویل کے پول سے نکلا اور کمرے کے پیچھے بنے ہوئے گنے کےکھتیوں کی طرف چل پڑا اگر کوئی دیکھے تو یہی سمجھے کہ رفع حاجت کے لیے جا رہا ہے کھیت میں داخل ہو کر جلدی سے ٹیوب ویل والے کمرے کی پچھلی طرف آگیا اس طرف ایک کھڑکی تھی اس کھڑکی کے پٹوں میں ڈھیر سارے سوراخ تھے وہ جلدی سے نیچے بیٹھ کر سوراخ میں دیکھنے لگا کہ اگر عذرا پیچھے دیکھۓ بھی تو اسے نظر نا آئے
اندر کا منظر دیکھ کر خرم کے چودہ طبق روشن ہوگئے عذرا کی قمیض اتری ہوئی تھی اس کا رخ بھی کھڑکی کی طرف تھا اس کے گورے چٹے بدن پر کالے رنگ کا بریزیر تھا کیا کمال نظارہ پیش کر رہا تھا اس کی گول ناف کی موری اتنی بھلی لگ رہی تھی کہ خرم کا دل کر رہا تھا کہ اس کی ناف کو جا کر چومنے لگ جائے عذرا نے ہاتھ پیچھے کرکے بریزیر اتارا اس کے تنے ہوئے گورے ممے پوری اٹھان کے ساتھ تنے ہوئے تھے ایسا لگ رہا تھا کہ ابھی تک انہیں کسی مرد نے چھوا تک نہیں مگر ایسا نہیں اس کی شادی کو تین سال ہوچکے تھے بچہ ہوا نہیں ویسے کے ویسے ٹائٹ ممے تھےاس پر ہلکے براؤن نپل تھے اور نپلوں کے گرد ہلکے چھوٹے سے بال تھے جو کہ نظر آ رہے تھے عذرا نے بریزیر اتارنے کے بعد
اپنے مموں کو ایک بار اچھی طرح سے مالش کے انداز میں مسل کر پھر قمیض پہن لی اب خرم کے دیکھنے کو کچھ نہیں بچہ تھا مگر وہ وہاں سے ہٹا نہیں عذرا کمرے سے باہر نکل گئی خرم وہاں سے تھوڑی دیر بعد واپس آیا تاکہ سب یہی سمجھیں کہ رفع حاجت سے فارغ ہو کر آیا ہے پھر اس نے چلتے ہوئے پانی سے ہاتھ دھو ئے پھر ٹیوب ویل کے پول میں آگیا جہاں عذرا اور ماسی برکت کپڑے دھو رہی تھیں وہی نہانے لگ گیا
اس نے عذرا کی طرف دیکھا وہ بریزر دھو رہی تھی اس کے ننگے ممے پتلی اور گیلی قمیض سے صاف نظر آ رہے تھے اور وہ بریزر کو صابن لگا رہی تھی اس کا پورا جسم ہل تھا لیکن اس کے ممے اور چوتڑ باقی جسم سےزیادہ ہل رہے تھے خرم کا دل نہیں بھر رہا تھا اس نظارے سے تھوڑی دیر بعد عذرا نے اپنے دھلے ہوئے کپڑے اکٹھے کرنے شروع کیے تو خرم بھی پول سے باہر نکل آیا اور قمیض ڈھونڈ کر پہننے لگ گیا حالانکہ اور بھی لڑکیاں اور عورتیں وہاں کپڑے دھو رہی تھیں مگر وہ نکل آیا آہستہ آہستہ سے گھر کے راستے پر چل پڑا پیچھے سے اسے عذرا نے آواز دی خرم بات سن
وہ رک کر پیچھے دیکھنے لگ گیا اتنے میں عذرا اس کے پاس آگیا اس نے کہا کہ خرم مجھے گھر تو چھوڑ کپڑے ذیادہ ہیں مجھ سے اٹھائے نہیں جا رہے ورنہ مجھے دو چکر کرنے پڑیں گے خرم بولا کوئی بات نہیں ماسی لا کچھ سامان مجھے پکڑا دیں اس طرح عذرا نے تھوڑے کپڑے خرم کو بھی دے دیے ان میں اسکا بریزیر بھی تھا راستے میں عذرا اس باتیں کرتی ہوئی گھر پہنچ گئی اس نے کپڑے گھر لگی ہوئی الگنی پر ڈال دیے اور پھر خرم سے کپڑے پکڑ کر سب سے اوپر رکھا ہوا بریزر اٹھایا اور الگنی پرڈال دیا خرم یہ سب دیکھ رہا تھا
خرم نے کہا اچھا ماسی میں چلتا ہوں
عذرا بولی ٹھہر جا ٹھنڈی لسی پلاتی ہوں تجھے وہ پی کر جانا بڑی گرمی ہے خرم شاید نا رکتا مگر عذرا کا حلیہ اسے جانے سے روک رہا تھا خرم عذرا کے کچے کمرے میں چارپائی پر بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد عذرا ٹھنڈی لسی گلاس میں لیکر آئی اس نے دوپٹہ اتارا ہوا تھا اس کے تنے ممے اور نپل واضع نظر آ رہے تھے لسی پینے کے بعد وہ اپنے گھر آگیا وہاں اس کی بہن زری اکیلی سور ہی تھی اسکا دل نہیں لگا وہ باہر گلی کی نکڑ پر آگیا ساتھ والی گلی میں عذرا کا گھر اور تندور تھا دوپہر کے چار بج رہے تھے گرمی کا موسم تھا اس وقت گاؤں کے لوگ یا درختوں کے نیچے یا پھر کمرے میں لیٹے ہوئے تھے مگر خرم جیسے بے آرام بچے یا لڑکے کہیں نا کہیں کسی نا کسی کھیل کود میں مصروف تھے گلی کی نکڑ پر لڑکے گولیوں( بنٹے) کے ساتھ کھیل رہے تھے
خرم انکے ساتھ کھیلنےلگ گیا اسی وقت چوہدری کمال تیز قدم اٹھاتا ہوا انکے پاس سے گزرا اس نے خرم پر غور نہیں کیا وہ یہی سمجھا کہ دوسرے بچے کھیل رہے ہیں مگر خرم اس کو دوپہر کے وقت اور وہ بھی تیزی سے چلتے ہوئے گزرنے پر حیران ہوا کیونکہ یہ تو دوپہر کو باہر نکلتا نہیں تھا اسے اگر کوئی کام بھی ہو تو نوکر چاکر کرینگے یہ کدھر جا رہا ہے تپتی دوپہر میں چوہدری کمال عذرا کے گھر والی گلی میں مڑ گیا خرم بڑے غیر محسوس انداز میں خرم کے پیچھے چل پڑا ،چوہدری کمال اپنی دھن میں جا رہا خرم گلی میں اس کے پیچھے نہیں گیا عذرا کا گھر گاؤں کے آخری سائیڈ پر تھا آگے کھیت شروع ہوجاتے چوہدری جمال کے، خرم بھاگ کر اپنے گھر والی گلی میں آگیا ادھر سے کھیتوں میں سے گزر کر عذرا کے گھر کی گلی کی آخری سائیڈ پر آگیا بھاگ کر آنے کی وجہ سے خرم کا سانس پھول چکا تھا خرم نے گلی کی آخری نکڑ سے عذرا کے گھر بیرونی دیوار کے ساتھ لگ کر گلی کی اندر دیکھا تو چوہدری کمال گلی میں عذرا کے گھر سے چند قدم پیچھے تھا اس پوری گلی میں تقریبا دس گیارہ کے لگ بھگ گھر تھے
عذرا کا گھر آخری نکڑ پر تھا اسے پتا نہیں تھا کہ چوہدری کدھر جا رہا لیکن اب اسے یقین ہو گیا تھا کہ کمال عذرا کے گھر جا رہا عذرا کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے کمال نے گلی میں رک کر ادھر ادھر دیکھا کہ کوئی اسے دیکھ تو نہیں رہا پھر عذرا کے گھر داخل ہوگیا دروازہ کھلا ہوا تھا کمال اندر داخل ہوا اسکے بعد اس نے دروازہ بند کر دیا خرم دیوار کی اوٹ سے نکل آیا وہ عذرا کے گھر کے دروازے پر آیا وہ بند ہوچکا تھا اب اس کے اندر تجسس کی زوردار گھنٹی بج رہی تھی خرم سوچنے لگ گیا اب کیا کرے کیسے اندر جائے پھر وہ کھیتوں والی سائیڈ پر آگیا وہاں سے عذرا کے گھر کی دیوار چھوٹی تھی دیوار کچی تھی خرم دیوار پر چڑھ گیا اندر دیکھا تو صحن میں کوئی نہیں تھا وہ بڑے آرام سے صحن میں کود گیا عذرا کے گھر میں دو کمرے اور ایک جھونپڑی ٹائپ جگہ جہاں اس نے روٹیاں لگانے والا تندور لگا رکھا تھا اس کے ساتھ عذرا کاکمرہ تھا اور ایک کمرا وہ کچن اور سٹور کے لیے مشترکہ استعمال کرتی تھی ،خرم دبے پاؤں تندور کے ساتھ والے کمرے کے پاس آیا اسکی جالی والی کھڑکی تندور والی جھونپڑی کی طرف بنی ہوئی تھی خرم وہیں جھونپڑی میں کھڑکی کے پاس آگیا اندر سے باتوں کی آواز آ رہی تھی
عذرا بولی چوہدری صاحب آج خیر تو ہے کہ دن دیہاڑے اور وہ بھی میرے گھر آگئے ہیں کسی نے دیکھ لیا تو اچھا نہیں ہوگا میرے لیئے اور آپ کے لیے آپ مجھے کھوہ پر بلا لیتے

(کھوہ کہتے ہیں زمینوں کے مرکز کو جہاں پر سامان کے لیے کمرے یا ٹیوب ویل کے کمرے بنائے جاتے ہیں ،عام روٹین میں کنواں ہوا کرتا تھا اسی کو کھوہ کہتے تھے ،مگر اب زمینوں کے مرکز کو کہتے ہیں )
کمال کھوہ پر کیسے بلاتا ماسی برکت آج ائی نہیں گھر عذرا بولی ہاں وہ اور میں ٹیوب ویل پر کپڑے دھو رہی تھیں
خرم سمجھ گیا کہ کمال عذرا ،اور ماسی برکت کے درمیان کوئی کچھڑی پک رہی ہے
کمال بولا آج تو سکول میں ہاف ٹائم کے بعد فنکشن تھا ہماری ٹیچریں اور کلاس فیلو لڑکیاں سج دھج کر آئی ہوئی تھی مجھ سے تو رہا نہیں جا رہا تھا بڑی مشکل سے کنٹرول کیا ہے وہاں بھی تمہارے خیال آتے رہے ہیں
خرم گو ابھی جوان پوری طرح نہیں ہوا تھا مگر دیہاتی ماحول کا دس گیارہ سال کا لڑکا آج کل سب سمجھتا ہے اسے سمجھ لگ رہی تھی کہ کمال اور عذرا کے درمیان کچھ غلط ہے کمال نے آگے بڑھ کر عذرا کے گدرائے جسم کو اپنی باہوں میں لے لیا عذرا بولا ہائے چھوٹے چوہدری لگتا ہے بڑی آگ لگی ہوئی ہے کمال بولا آج تو بہت لگی ہوئی ہے عذرا بولی صبر کر لو کل کر لینا جو کرنا ہے میں کھوہ پر آجاؤ گی اور بالو بھی آنے والا ہے
کمال بولا مجھ ایک پل صبر نہیں ہو رہا اور تم کل کی بات کرتی ہو بالو آئے گا تو کہہ دینا کہ بڑی چوہدرائن نے بلوایا ہےضروری کام ہے اس لیے چوہدری خود آیا ہے
اس نے کھڑے کھڑے عذرا کی قمیض کا آگے کا دامن اٹھا لیا اور اس کے گورے چٹے موٹے ممے دبانے شروع کر دیے عذرا کا قد کمال سے ذرا زیادہ تھا کمال اسکے ممے دبا رہے تھا اور اس عذرا کے ممے چوسنے شروع کردیے اس وقت عذرا کے منہ زوردار آہ نکلی اس نے کمال کے سر کو اپنے ممے پر دبا لیا
خرم کی دل کی دھڑکن کے ساتھ کنپٹی کی رگیں بھی تیز تیز پھڑک رہیں تھیں خرم کی للی میں سنسناہٹ پیدا ہو رہی تھی وہ بڑے غور سے دیکھ رہا تھا کمال عذرا کے ممے چوستا چوستا نیچے بیٹھ کر اس کے چوتڑو پر ہاتھ رکھ کر دبا رہا تھا اور اسکے پیٹ پر بوسے لے رہا تھا عذرا کا شہوت کے مارے منہ کھلا ہوا تھا وہ مسلسل کمال کے سر پر ہاتھ پھیر رہی تھی اس کے سنورے ہوئے بالوں کو بگاڑ دیا تھا کمال عذرا کی ناف سے ہوتا اس کے شلوار کے سنگم پر آگیا اس نے عذرا کی شلوار کا نالا کھول دیا عذرا کی شلوار نیچے گر گئی کمال کا سر سائیڈ پر ہوا تو خرم کی نظر عذرا کی پھدی پر پڑ گئی اس کی پھدی کی شیپ بہت خوبصورت تھی اس پر ہلکے براؤن بال تھے کیونکہ وہ خود گوری چٹی تھی نا،، اس کی پھدی کی درمیانی لیکر لمبی تھی اور پھدی کے دونوں لب آپس میں نارمل انداز میں ملے ہوئے تھے خرم نے پہلی بار پھدی دیکھی، کمال نے اپنے لب اس کی پھدی کے لبوں پر رکھے تو عذرا کی ٹانگیں خود بخود کھل گئی اور اس کی آہیں کمرے میں گونجنے لگ گئی
اس نےکمال کےسر کو پکڑ کر اپنی کھلی ہوئی ٹانگوں میں دینےکی کوشش شروع کر دی اس کے منہ سسکیاں نکل رہیں تھیں خرم اٹھ کھڑا ہوا اس نے اسے چارپائی پر لیٹنے کو کہا مگر عذرا نے منع کر دیا اس نے چارپائی سے کھیس اٹھا کر زمین پر بچھایا اور اوپر گدا ڈال لیا عذرا نے کہا چارپائی تمہیں لگ جائے گی خود اس نے قمیض گلے تک کر لی اور نیچے لیٹ گئئ کمال نے اپنی شلوار اتار کر چارپائی پر رکھ دی قمیض کو اوپر کر لیا خرم کی اسکے لن پر نظر پڑی تو دنگ رہ گیا کمال کا لن پورے جوان مردوں کی طرح تھا مگر اس کا لن کی ٹوپی اوپر کی طرف مڑی ہوئی تھی
یعنی اس کے لن میں اوپر کی طرف خم تھا اس کے لن کی رنگت گلابی تھی وہ نیچے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اس نے عذرا کی لیس دار پانی سے چمکتی ہوئی لمبوتری پھدی پر لن سیٹ کیا اور ایک زور دار جھٹکے سے سارا لن اندر اتار دیا عذرا کی زوردار آہ نکلی اس نے کمال کی کمر میں ہاتھ ڈالا اور بولی کمال زور سے کر اب کمال نے زوردار جھٹکے شروع کر دیے نیچے عذرا بھی ہل ہل کر اس کا ساتھ دینے لگ گئی اس کی آہیں کمرے میں گونجنے لگ گئی پھر بولی زور سے کر کمال زور سے کمال نے کہا اور کتنا کرو پورا زور تو لگا رہا ہوں کمال تھک گیا اور سانسیں بحال کرنے لگ گیا عذرا بولی چوہدری تجھے پتا تو مجھے کیسی چدائی پسند ہے تم اب سانس لینے لگ گئے ہو کمال بول میں کیا کرو تم زور اتنا لگواتی ہو عذرا اچھا اب باتیں نا کرو جلدی کرو زور سے کرو کمال نے پھر سے جھٹکے مارنے شروع کر دیے عذرا نیچے سے پہلے سے بھی زیادہ زور شور سے ہل رہی تھی کمال بولا عذرا میرا ہونے والا ہے وہ بولی نہیں ابھی نہیں کنٹرول کرو مجھے آنے دو اسی دوران کمال جھٹکوں کے دوران ہی اس کی پھدی کے اندر ہی فارغ ہوگیا عذرا بولی چوہدری کہا بھی تھا رکو ابھی فارغ نہ ہونا کمال بولا آج مجھ سے کنٹرول ہی نہیں ہوا ،اب لن نا نکالنا مجھے فارغ ہونے دو عذرا بولی، کمال نے پھر سے ہولے ہولے سے جھٹکے لگانا شروع کیے نیچے سے عذرا زور سے اس کی کمر کو جکڑ کر جھٹکے لگا رہی تھی کچھ سیکنڈوں کے بعد عذرا کا جسم کانپنے لگ گیا اور پاؤں نیچے لگا کر اپنا نیچے کا جسم اوپر نیچے کرتے ہوئے فارغ ہوگئی تھی اور تیز تیز سانسیں لینے لگ گئی عذرا بولی چوہدری آج ایسا کیا ہوا کہ تم پہلے فارغ ہوئے ہو تم بہت جاندار تھے پورے گاؤں میں میں نے کسی کو گھاس نہیں ڈالی اور عذرا کا دل تیرے لئے مان گیا تمہیں پتا کہ بس بالو سے دنیاوی رشتہ نبھا رہی مگر وہ میرے قابل نہیں ہے آئندہ احتیاط کرنا مجھ سے پہلے فارغ نا ہونا ورنہ تمہیں چھوڑ دونگی
کمال بولا بس آج مستی بہت چڑھی ہوئی تھی شاید اسی وجہ سے ایسا ہوا آئندہ ایسا نہیں ہوگا میری جان اس کو چومنے لگ گیا عذرا اس کے انداز پرہنسی پڑی اور چل اب بس کر عاشقی کی اب اتر میرے اوپر سے مجھے نہانا ہے اور رات کے لیے تندور کی تیاری کرنی ہے خرم انکی بات سن کر عذرا کے گھر سے دبے پاؤں دیوار پھلانگ کر نکل آیا اور سوچ رہا تھا کہ اس مطلب ہے یہ چکر پہلے سے چل رہا ہے اس کا ایک دوست لنگوٹیااسے اچھو کہتے ہیں سب اسکو وہ گاؤں کی سب باتیں خرم کو بتاتا تھا وہ بڑا چالو لڑکا تھا خرم دل میں سوچ رہا تھا کہ وہ یہ بات اچھو کو بتائے گا وہ بڑا خوش ہوگا یہ بڑی خبر ہے یہی سوچتے ہوئے وہ اپنے گھر کے دروازے پر آیا آگے سے دروازہ بند تھا اس نے دروازے کے دونوں پٹؤں کے درمیان سے حسب عادت ہاتھ ڈالا اور اندر سے کنڈی کھول لی کیونکہ پہلے بھی اس کی ماں یا بہن دروازہ لگا کر سو جاتیں تو وہ ایسے دروازہ کھول لیتا تھا کیونکہ اس کا ہاتھ چھوٹا ہونے کی وجہ سے آسانی سے گزر جاتا اور دروازہ کھل جاتا تھا دروازہ کھول کر وہ سامنے کمرے کی طرف آیا وہ بے دھیانی میں اندر داخل ہوگیا
اندر کا منظر دیکھ کروہ جوں کا توں رہ گیا
اس کے قدم اس سے اٹھائے نہیں جا رہے تھے
سامنے اس کی ماں نسیم چارپائی کے کنارے پر مکمل ننگی الٹی ہوکر گھوڑی بنی ہوئی تھی اس کا باپ فرید اس کی ماں کے پیچھے کھڑا ہوا تھا وہ نسیم کے موٹے چوتڑو کے درمیان سے لن گزار کر اس کی پھدی میں ڈال کر زور زور سے جھٹکے مار رہا تھا
خرم کے لیے یہ منظر عجیب تھا اس کی ماں کا گندمی رنگت کا چمکدار بدن مکمل ننگا تھا اس کے باپ کا اوپری جسم ننگا تھا نیچے سے دھوتی باندھی ہوئی تھی فرید نے بس دھوتی لن کے آگے سے ہٹائی ہوئی تھی مگر ماں کا جسم دیکھ کر خرم کو عجیب سا لگا رہا تھا
نسیم بولی فرید زور سے کر اور جلدی کر زری نا اٹھ جائے ،
فرید بولا زور سے تو کر رہا ہوں اور کتنا زور لگاؤں
نسیم :اتنا زور لگاؤ جتنا چھوٹی چوہدرائن کے ساتھ لگاتے ہو
فرید : جتنا زور میں لگاتا ہوں اتنا ساتھ وہ خود دیتی ہے تو ایسا کرتی نہیں ہے
خرم ،ماں باپ کی باتیں سن کر گنگ رہ گیا ایک اندر کا منظر اوپر ماں باپ کی باتیں اس کے لیے یہ سب نیا تھا کیونکہ آج سے پہلے اس نے کبھی بھی ماں باپ کو ایسی حالت میں نہیں دیکھا تھا ،وہ دبے پاؤں ،واپس دروازے پر سے ہٹ گیا اس کے ماں باپ اپنے کام میں اتنے مشغول تھے کے انہیں اس کے آنے اور جانے کا پتا نہیں چلا وہ دوسرے کمرے میں آگیا جہاں پہلے زری سو رہی تھی دوسری چارپائی پر آکر لیٹ گیا ،
باہر جب وہ لڑکوں کے ساتھ کھیلتا تھا تو وہ آپس میں باتیں کرتے تھے کہ کسی نے اپنے ماں باپ کو چدائی کرتے دیکھا تو کسی نے اپنے بڑے بھائی اور بھابھی کو ننگا دیکھا کیوں کہ گاؤں میں
خاندان بڑے اور لوگوں کے کمرے کم پھر سب مل کر سوتے تھے اسی وجہ سے گاؤں کے لڑکے لڑکیاں جلدی مرد عورت کے تعلق کے بارے میں سب کچھ جان جاتے ہیں
آج خرم نے اپنے باپ اور ماں کی چدائی دیکھ لی تھی مگر اس نے سوچ لیا کہ اس بارے میں وہ اپنے کسی دوست سے بات نہیں کریگا جیسے دوسرے سب آپس میں کرتے ہیں
اور دوسرا چھوٹی چوہدرائن کا ذکر بیچ میں آیا اس کی اسے کچھ سمجھ آئی کچھ نہ آئی
انہی سوچوں میں اسے نیند آگئی ،شام ہورہی تھی جب خرم کی آنکھ کھلی وہ کمرے سے باہر نکل آیا صحن میں زری نے چارپائیاں ڈال رکھیں تھیں اور کچے فرش پر پانی سے چھڑکاؤ کر رہی تھی ،خرم نے زری سے ماں کا پوچھا اس نے بتایا کہ وہ حویلی چلی گئی ہے اور ابا کھیتوں میں گیا ہے چکر لگانے پھر بھینسوں کا دودھ نکال کر حویلی دے کر آئے گا کیونکہ چوہدری صاحب کا بھینسوں کا ملازم چھٹی گیا ہوا زری نے خرم کو ساری بات بتائی خرم نلکے پر آگیا منہ دھو کر باہر نکل آیا پیچھے سے زری نے آواز دی جلدی آجانا میں گھر میں اکیلی ہوں اماں تو پہلے دیر سے آتی ہے آج ابا بھی دیر سے آئے گا خرم نے چلتے ہوئے اچھا کہا اور گھر سے کچھ فاصلے پر سرکاری سکول ہے جس میں یہ پڑھتا وہی سکول کے میدان میں شام کو بچے کرکٹ گلی ڈنڈا وغیرہ کھیلتے ہیں خرم سکول کی طرف جا رہا تھا کافی سارے لڑکے بچے واپس گھروں کو جا رہے تھے اس نے ان لڑکوں سے پوچھا
اچھو کو دیکھا کہیں ان میں سے ایک لڑکے نے بتایا کہ وہ پیچھے آ رہا ہے خرم اس کی طرف چل پڑا سامنے اچھو ایک لڑکے سے باتیں کر رہا جو کہ تقریبا خرم کا ہم عمر تھا صحت میں خرم سے کچھ کم تھا خرم نے پاس آکر دیکھا تو وہ ماسی برکت کا چھوٹا بیٹا بلو تھا
اچھو اسے قریب آتے دیکھ کر چپ ہو گیا
خرم سے بولا آج کدھر رہ گیا تھا کھیلنے نہیں آیا ،
اچھو خرم سے تقریبا دو تین سال بڑا تھا یعنی 12،یا 13سال کا تھا مگر قد و قامت سے زیادہ لگتا تھا جیسے کے گاؤں کے لڑکے لگتے ہیں
وہ بہت تیز اور با خبر لڑکا تھا اور خرم کا یار تھا اچھو نے ماسی برکت کے بیٹے بلو کو کہا جو میں نے سمجھایا سمجھ گیا ہے بلو نے ہاں میں سر ہلایا تو اچھو نے اسے کہا کہ پھر ٹھیک تو جا کل ملیں گے بلو سر ہلا کر چلا گیا
اس کے جاتے ہی خرم بولا کیا فلم چلا رہا ہے تو میرے بغیر ،اچھو اس کے کندھے سے ہاتھ گزار کر گلے میں ڈال کر بولا اپنے یار کے بنا کچھ نہیں کرتا میں چل آ گھر چلیں
خرم پہلے بات بتا بلو سے کیا بات کر رہا تھا
اچھو وہی کھیت کی پگڈنڈی پر بیٹھ گیا اور خرم سے بولا نیچے بیٹھ بتاتا ہوں وہ بھی بیٹھ گیا،
اچھو بولا ماسی برکت کی بیٹی شادو میکے آئی ہوئی ہے مجھے دیکھ کر کل مسکرا رہی تھی اور اشارے کر رہی تھی کھیتوں سے چارا لاتے ہوئے ساتھ میں بلو بھی تھا میں نے آج اسے پکڑ لیا اسے وعدہ کیا ہے کہ تجھے سائیکل چلانا سیکھاؤ گا شادو کو میرا سلام کہنا اور کسی سے کچھ نہیں کہنا ورنہ تیری گانڈ مار دونگا اس نے وعدہ کیا ہے کہ سلام دے گا اور کسی کو کچھ بتائے گا بھی نہیں کیونکہ اسے سائیکل چلانے کا بہت شوق ہے
خرم پر سائیکل تو تیرا ابا لیکر جاتا ہے پھیری لگانے کے لیے ،اچھو ابا شام کو آجاتا ہے اور میں سائیکل اسے سکول والے میدان میں سکھا دونگا ا گر اس نے شادو کو پیغام دیکر اس کا جواب بھی دیا تو خرم بولا ٹھیک ہے
ماسی برکت خود چالیس سالہ بیوہ عورت تھی جو کہ چوہدری صاحب کے گھر میں کام کرتی ہے اور پیشہ ور دائی بھی تھی
اس کی ایک پچیس چھبیس سالہ جوان شادی شدہ بیٹی ہے ،دوسرا بیٹا کاشف ہے تقریبا بیس سال کا ہے اس کی شادی اپنی بہن کی نند نسرین سے ہوئی ہے وٹہ سٹہ رواج کے مطابق، اس کی بیوی اس کی بہن سے بھی بڑی ہے تقریبا اٹھائیس سال کی لڑکی ہے
اور شادو کا گھر والا تقریبا پینتس سالہ بندہ ہے جو کہ راج مستری ہے وہ اپنے سالے کاشف کو ساتھ لیکر شہر میں محنت مزدوری کرتے ہیں اور ماسی برکت کا چھوٹا بیٹا بلو اسکے پیٹ میں تھا جب ماسی برکت کا شوہر سانپ کے کاٹنے سے مر گیاتھا،
خرم بولا شادو نے کیا اشارہ تھا اچھو اس کے سر پر چارہ رکھا ہوا اس کی وجہ سے اس کے ممے زیادہ اچھل کر واضع ہو رہ تھے میری نظر اس کے مموں پر تھی تب شادو نے مجھے ممے تاڑتے ہوئے دیکھ لیا اور اشارے سے پوچھا کہ کیا۔دیکھ رہا اور ساتھ میں مسکراتی ہوئی گزر گئی میں نے کچھ دور تک اس کا پیچھا بھی کیا چلتے ہوئے کیا لگتی ہے اس کی لچکدار کمر نیچے سے اس کے ہلتے ہوئے چوتڑ بس مت پوچھ یار اس نے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا
خرم چلو دیکھتے ہیں کیا کرتی ہے و ہ سلام کا جواب دیتی ہے یا نہیں اچھو اس کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا اس کی ماں بھی جواب دے گی
خرم اس کے جواب کا کیا کرے گا یہ بات کہہ کر ہنسنے لگ گیا ،اچھو بولا باز آجا ،آ گھر چلیں خرم بولا ٹھہر ایک بات میں نے بھی بتانی ہے اچھو بولا ہاں بتا کیا بات ہے خرم
چوہدری کمال۔اور عذرا ماچھن کا سارا واقعہ سنا دیا اچھو کا منہ کھلا رہ گیا وہ بے ساختہ بولا اوہ تیری خرمی تو نے تو کمال کر دیا اب مزہ آئے گا ،اچھو بولا خرم عذرا پر نظر رکھنی ہے یہ۔تو بڑی چھپی رستم نکلی ،خرم بولا اب نظر میں بات اگئی ہے اب نہیں بچ سکتے
اچھو بولا آ گھر چلیں کل سکول میں بات کریں گے دونوں گھروں کی طرف چل پڑے خرم گھر آگیا ابھی تک اسکا باپ گھر نہیں آیا تھا اور ناہی اسکی ماں آئی تھی گھر میں صرف اس کی بہن زری تھی جو کہ چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی زری نے اسے دیکھا تو بولی خرم حویلی چلا جا اماں سے اپنی اور میری روٹی لے بہت بھوک لگی ہے آج ،اماں کو بھی دیر ہوگئی ہے شاید کوئی مہمان نا آگئے ہوں چوہدری صاحب کے ،خرم بولا اچھا میں جاتا ہوں وہ حویلی آگیا وہاں کافی گہما گہمی تھی قریب جا کر پتا چلا کہ چوہدری جمال کا چھوٹا بھائی چوہدری ریاست ملنے آیا ہوا ہے اپنی فیملی کے ساتھ ، چوہدری ریاست اپنے بڑے بھائی چوہدری جمال سے دس سال چھوٹا تھا چالیس سال کا خوبرو شخص تھا اس کی بیوی تقریبا پینتس سالہ خوب صورت اور انتہائی جاذب نظر خاتون تھی انکے کے دو بچے ایک بیٹی جو بارہ سال کی تھی ایک بیٹا جو کہ نو سال کا تھا ،
حویلی میں سب ایک جگہ بیٹھے ہوئے گپ شپ کر رہے تھے کھانا کھانے کے بعد چائے پی رہے تھے خرم کچن میں گیا جہاں اس کی ماں برتن سمیٹ رہی تھی اور چھوٹی چوہدرائن شبنم پاس کھڑی اسے کام سمجھا رہی تھی ،خرم کو دیکھ کر شبنم بولی نسیم خرم آگیا ہے

Posted on: 03:24:AM 26-Dec-2020


2 0 364 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 11 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 74 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com