Stories


میری سلطنت میرا حق از شیزی

نامکمل کہانی ہے

ہر طرف موت کا سما ساری ریاعا اس بات سے پریشان تھی بشمول بادشاہ نیام بھی خوف میں مبطلاع تھا کے کب کون سا تیر کب کون سی تلوار اس کی جان  لے  جائے بادشاہ نیام رازداری سے باگنے کے بارے میں اپنی خواب گاہ میں چھپا  سوچ ہی رہا تھا کہ بنا اجازت شاہی دائی کسمو دائی سرپٹ داخل ہوئی حضور ملکہ صاحبہ کا وقت قریب ہی ہیں وہ اگر جان بچانےکے لیے سفرپر نکلتی ہیں خود تو جان سے جائے گی بلکہ بچہ کو بھی خطرہ ہیں جو ان کے پیٹ میں ہے کیونکہ پدائش کا وقت قریب قریب ہیں بادشاہ نیام جو بزدل کی طرح باگنے کی ترقیب بنا رہا تھا یہ سن کے سختےسے سن پرگیا جب ہوش بحال ہوئے تو کسمو دائی کو کہا شمسار سے کہو کےوزیر کو کہے کہ بادشاہ سلامت کا حکم ہیں کے ساری صورتحال کا جائزہ لے کے جلد بادشاہ سلامت کو اطلاع دی جائے کسمو دائی حکم پا کے جلدی سے مڑی اور باہر آکے شمسار کو بادشاہ نیام پیغام کا شمسار کے سپرد کر کے وزیر کی طرف روانہ کر دیا اور خود زنانا خانے کے طرف چل دی ۔شمسار بادشاہ کا خاص محافظ تھا وہ چھے فٹ لمبا 27 برس کا گبروجوان تھا ۔بادشاہ کے ویسے تو سکینڑوں محافظ تھے لیکن خاص صرف دو محافظ تھے جو ہر وقت بادشاہ کی حفاظت کرتے ایک تو شمسار دوسرا عمر تھا عمر بھی 25 برس کا چھے فٹ لمبا کالی آنکھوں والا گورا چٹا جوان تھا عمر کو دیکھ کے کنیزیں لونڈیاں حتکہ شاہی خواتین کی پھدویوں میں بھی کھجلی شروع ہوجاتی تھی برحال شمسار پیغام لیے روانہ ہو گیا ادھر بادشاہ کھڑا ہوا اپنی تلوار میان میں سے نکالی اور ملکہ روشاہ کی طرف چل دیا محافظ عمر بھی پیچھے پیچھے چل دیا بادشاہ نیام ملکہ روشاہ کی خواب گا کے اندر چلا گیا جب کہ عمر دروازے کے باہر پہرہ دینے لگ گیا بادشاہ نیام نے  تلوار سیدھی ریشم سے بنے ہوے پلنگ پے رکھی اور ملکہ روشاہ گلے لگ کے رونے لگ گیا ملکہ روشا نے بادشاہ کو سینے سے ھٹاکے اپنے ہاتھوں میں بادشاہ چہرا پکڑا اور کہنے لگی آلی جا مجھے اپنی جان کی فکر قطے نہیں ہے آپ بس ہمارے بچے کو بچا لے بادشاہ۔۔ میں تم دونوں کچھ نہیں ہونے دو گا فکر نہ کرو اس سے پہلے بادشاہ کچھ کہتا روشاہ نے درد کے مارے تیز چیخ ماری کسمو داٸی ملکہ کی طرف لپکی اور کہنے لگی آلیجاہ پدائش کا وقت آگیا ہے بادشاہ نے ملکہ کو لیٹاتے ہوٸے ملکہ روشاہ کے ہاتھوں میں ہاتھ لے بیٹھ گیا کسمو داٸی نے ملکہ کا آزادبند کھولا اور ملکہ کی پوشاک کا گاگرا اتار دیا اور ملکہ کی دونوں ٹانگوں کو مخالف سمت میں کھول کے پھدی کے اوپر ہاتھ رکھ کے اپنا داٸی ُپنا کی مہرات دیکھنے لگ گٸی ملکہ کی چخیں تیز سے تیز ہوتی گٸ اچنک بچے رونے کی آواز پا کر ملکہ اور بادشاہ کے چہرے پے مسکرہٹ آگٸی یہ خوشی صرف اک پل کے لیے تھی کیونکہ اگلے ہی لمحے عمر اندر دخل ہو ملکہ کے بدن کو نگے پا دوسری طرف منہ کرلیا گستاخی معاف آلیجاہ لیکن خبر پہچانی آپ ک ضروری تھی بادشاہ۔۔ ہاں کہو کیا خبر ہے جس وجہ سے تم نے تمیز کا دایرہ عبور کیا ۔آلیجا جاسوس نے خبر دی ہیں کہ غردار کوٸی اور نہیں بلکہ آپ کا ویزر بانش  ہے جس نے یومانیوں سے مل کر اپ سے بغاوت کی ہیں یہ سن بادشاہ نیام کا چہرہ سرج ہوگیا بادشاہ ۔۔ اس کی اتنی جرات  عمر۔۔ گستاخی معاف حضور جاسوس نے بتایا ہے کہ آپکی ساری سینا ماری جاچکی ہیں جو بچٸے ہیں جان بچا کے چھپ گیے ہیں یومانی سرحروں کو کب کے عبور کر چکے ہیں وزیر بانش اور یومانیوں کی ایک ُٹکری محل کی جانب روا ہے ۔
بادشاہ بےسکات ہو ہو پلنگ پے بیٹھ گیا تھوری دیر باد اوٹھا اور کہنے لگا کسمو داٸی ****نے ہمیں کس سے نوزا ہیں کسمو داٸی حضور شہزدہ دیا ہے ****نے بادشاہ شہزاے کو گود میں اوٹھیا اور ملکہ روشاہ کے پاس بیٹھ کے میری روشاہ بتاو کیا نام دیا جایے ملکہ روشاہ آلیجاہ آپ بہتر جانتے ہیں بادشاہ۔۔۔ نہیں یہ فیصلہ آپکا ہو گا ملکہ روشاہ شہزدہ حیظان بادشاہ۔۔ نہیں صرف حیظان کیونکہ یہ شہزدہ نہیں خد کے بلبوطے پے اک دن بادشاہ بنے گا یہ کہہ کے بادشاہ شہزدے کی گالوں چومتے ہوٸے کہنے لگا مجھے معاف کرنا بیٹا میں تمہں شہزدوں والے سکھ نہیں دے پاوں گا اور ہاں یہ تو کبھی نہیں سنے گا کے بادشاہ بزدلوں کی طرح باگتا ہوا مارا گے تو ہمیشہ یہی سنے گا کہ بادشاہ نیام بہادری سے لڑتا ہو مرا لڑتا ہوا مرا گیا یہ کہہ بادشاہ رونے لگ گیا اور زور سے چلایا عمممر             عمر۔۔ جی حضور                        بادشاہ۔۔۔ شہزدے کو پکڑ اور ملکہ کو لے کے محل کے خفیا سرنگ سے نکل جا شہزدے اور ملکہ کو پوری عمر آنچ بھی نہ آیے  کسمو داٸی تو بھی ساتھ میں جا                                          عمر۔۔۔ جیسا حکم آلیجاہ
یہاں پے آپو بتا دو کسمو داٸی صرف نام کی داٸی تھی نہیں بلکہ 23 سال کی خوبصورت لڑکی تھی سوا پانچ فٹ قد گھورا رنگ پتلی کمر سخت تنے ہوٸے ممے جب کوٸی دیکھتا تو رشک کھاتا اور اپنی بے پنا ذہانت کی وجہ سے شاہی داٸی کے ُاھدے تک       کامیابی حاصل کی تھیبادشاہ کا حکم پا کے کسمو داٸی اور عمر دونوں ملکہ کی طرف لپکے ملکہ درد سے نحال کڑاتی ہوٸی بیھٹی شہزدے حیظان کو بانہوں میں بھر کے پیار کرنے لگی آلیجاہ میں آپ کو چھوڈ کے کیسے جا سکتی ہوں کسمو عمر شہزدے کو محفوظ جگہ لے جاٸے گے۔                               بادشاہ۔۔۔۔ روشاہ میری بات مانوں اور کسمو اور عمر کے ساتھ جاوں آلیجاہ میں آپکو چھوڈ کے کیسے جا سکتی اگر مرنا ہی ہیے تو آپکی بانہوں پرسکون موت آٸے گی۔                                               بادشاہ۔۔۔ روشاہ یہ میرا حکم ہے جاو اور اگر میں مر گیا تو میرے بیٹے کی پرویش ایسے کرنا کہ وہ جوان ہو کہ اپنے باپ کی سلطنت واپس لے سکے یہ کہہ کہ اپنے ناف سے اک حسین خنجر نکلا روشاہ کو تھما دیا یہ ہمارا آبوجداد کا خاندانی خنجر ہے جب ہمارا بیٹا جوان ہو گا تو اس سمبھالنا اور اسکا مقصد بھی مجھ جاٸے گا اب جلدی جاوں وہ غردار اور یومانی فوج آتے ہی ہو گے۔                           ملکہ نے بادشاہ کو سینے سے لگایا اور لڑکھرتے ہوٸے قدموں سے عمر کے ساتھ چلنے لگی شہزدا حیظان کو عمر نے گلے سے لگا کے چلنے لگ گیا وہ لوگ چلتے چلتے اک کمرے میں پہنھچ گیے کمرے میں اک الماری نما دروزہ تھا عمر نے شہزدے کو کسمو کے حوالے کیا اور خود الماری نما دروازے کو سرکانے لگ گیا تھوری ہی مشکت کے بعد سرنگ نمادار ہو گٸی وہ سب باری باری اندر داخل ہونے لگ گیے سرنگ کی چوراٸی ہی اتنی تھی کے اک اک کر کے جایا جاسکتا تھا پہلے عمر اسکے پیچھے کسمو اور شہزدہ آخر میں ملکہ روشاہ وہ ابھی سرنگ کو آدھا ہی عبور کیے تھے پیچھے سے شور سناٸی دینے لگ گیا تلوار اور تیروں گونج سناٸی دینے لگ گٸی وہ شور دیھرے دیھرے انکی اور برھنے لگ گیا اچانک ملکہ کی چیخ نکلتے ہی زمین پے الٹی گڑپری کسمو نے مڑ کر دیکھا تو کسمو پوری کاپنے لگ گٸی کیونکہ ملکہ کی کمر پر تیر لگا ہوا تھا کسمو جھٹ سے پلٹی ملکہ کو اٹھانے کی نکام کوشش کرتی رہی تبہی ملکہ نے ہاتھ پکڑا اور کہنے لگی کسمو میں اب بچ نہیں پاو گی یہ  خنجر پکڑو اور تمیں معلوم تو جو بادشاہ نے کہا تھا کسموجی ملکہ صاحبہ معلوم ہے ملکہ کبھی کسی کو پتا نہ چلے کے یہ میرا یہ شہزدہ ہے جب تک شہزدہ  اس خنجر کا راز نہ جان لے تم اسے اپنا بیٹا بنا کے پلانا  اور یہاں سے کہی دور چلے جاوں تم لوگ اور جلدی کرو وہ پیچھے آرہے ہیں میں انہیں روکنے کی کوشش کرتی ہوں ۔  جلدی باگو کسمو جلدی ۔
    عمر اور کسمو شہزدے کو لے کے سرنگ کی دوسری جانب نکلے سرنگ کی دوسری اک بہت مضبوط کھولا دروزہ تھا عمر نے باہر آیا اور جب کسمو بھی سرنگ سے باہر آگی تو عمر نے دروازہ بند کرکے لکڑ کا ٹکرہ اڈا دیا تاکے دروازہ جلدی نہ کھل پاٸے کسمو اورعمر دونوں سرنگ سے نکلتے ہی جنگل میں گھس گیے اور چلتے چلتے جنگل میں بہت دور نکل گیے رات کا اندھرہ چھانا شروع ہوگیا کسمو اور عمر دونوں تھک کے نڈھال ہو چکے تھے اک اک قدم پہار نظر آرہا تھا دونوں آرام کرنے ذہن بنایا اور محفوظ جگہ تلاش کرنے لگ گیے اچانک ان نظر اک بہت بڑا پیڑ پری جسکا تنا اک طرف سے کھلا تھا جب ان لوگوں قریب جا دیکھا تو تنا اندر سے بلکل کھوکھلا تھا جس کے اندر وہ لوگ آرام سے سو سکتے تھے وہ دونوں تنے کے اندر چھپ گے جب دونوں آرام سے بیٹھ گیے جسے ہی کسمو کی نظر شہزدے پر پری تو وہ بلکل نڈھل پرا تھا کسمو نے گبرہ گی کان شہزدے کی چھتی سے لگا کے درکن سننے لگ گی عمر عمر عمر ہاں کیا ہوا عمر نے کہا کسمو ۔۔۔ شہزدہ بھوک سے بے ہوش پرا ہے اگر جلد اسے دوھود یا کچھ طاقتور مشروب نہ دیا گیا تو یہ مر جاٸے گا۔
                                                                                                                                             ادھربادشاہ ھاتھ میں نگی تلورا لیے محل کے  دربار میں جو تخت پے بیٹھا تھا جسکا روکھ سیھدا محل دخلی دروازے کی جانب تھا کہ یقدھم دروازہ کھلا اور ویزر بانش اپنے سیکنڑوں یومانیوں کے ہمرا کھڑا تھا بادشاہ اس سے پہلے کچھ کہتا بادشاہ نیام کی نظر سیھدی بانش کے ہاتھوں میں پڑی جس کے ایک ہاتھ میں خون سے لتھڑی تلوار تھی دوسرے ہاتھ میں محافظ شمسار کا سر تھا جو اس شمسار کے بالوں سے پکڑ کر نچیے لمکایا ہوا تھا۔
 ہو ہو ہو ہا ہا ہا نیام نیام نیام دیکھوں میرے مترو بادشاہ کہاں ہے مجھے تو صرف مجبور نیام دیکھٸی دے رہا ہے بیچارہ مجبور نیام ہو ہو ہا ہا ہا اوٸے خاموش چپ چپ کہی بادشاہ اسے گستاخی نہ سمجھ لے ہا ہا ہا ہا ہا لیکن بادشاہ ہے کہاں یہ تو بڑی گانڈ اور چھوٹی آنکھوں والا نیام اوھھھھ معافی آلیجاہ ہمیں کر دے گستاخی ہو گٸی آہندہ بھی ہم گستاخی ہی کرے گے میرے متر زوار وہ ملکہ کہاں ہے دیکھی نہیں دے رہی زرہ ڈھونڈ کے لاو اسکے پیٹ میں بچا ہونے باوجود اسے چودنے مزہ بڑا آٸے گایہ کہہ کر ویزر بانش نے شمسار کا سر بادشاہ کی طرف اچھال دیا جو بادشاہ کے قدموں جا گرا ۔                               بادشاہ گٹنوں کے بل انچے بیٹھ کر شمسار کا سر ہاتھ میں لے دھیرے سے بھربھرانے لگ گیا میرے بہادر تمہاری موت رایٸگا نہیں گی تم نے اپنے شہزدے کو بچا لیأ اگر یہ خبیث بانش تمیارے ساتھ عیاری کر کے تمیہں مارنے میں مصروف نہ ہوتا تو اس خبیث نے محل جلدی پہنچ جانا تھا تمہاری ملکہ اور تمہارے شہزدے کو بھی جان سے مار دینا تھا اتنے میں بانش چلایا ہمیں بھی بتا دے کہ مرنے والا حرامی مرے ہوٸے حرامی سے کیا گفتگو کر رہا ہے ہا ہا ہا بتاو کیا رہے تھے تم اپنے اس مردہ سپاہی سے بتاو سپاہیوں پکرو اس حرامی کو تین سپاہی نے آگے بڑھ کر بادشاہ کابو کر لیا بادشاہ کابو نہ آنے کی ناکام کوشش کی بانش پھر چلایا بتاو  اس سے پہلے کہ بادشاہ نیام کچھ کہتا زوار اک لاش کو گھسیٹتا ہوا آیا اور کہنےلگا حضور یہ کہی ملکہ تو نہیں بانش نے جب نظر گھما کے دیکھا تو بولا یہ تم نے کیا کیا زوار میں نے اسے پہلے چودنا تھا پھر مارنا تھا تم نے پہلے ہی مار دیا زوار: نہیں حضور میں چند شپاہوں کے ساتھ اسے محل میں ڈھونڈ رہا تھا کہ اک کمرے میں داخل ہوا جس میں اک الماری نما خفیا دروازہ تھا ہم نے جب اندر و جھانکا تو تین چار بندوں کے باگتے ہوٸے قدموں آواز سناٸی دی سرنگ اندر سے کافی تنگ تھی اک اک کر ہی جا سکتے تھے جب ہم اندر داخل ہوٸے تو دھیرے دھیرے قدموں کی آواز قریب سے سناٸی دینے لگ گی ہم انہیں پکرنے کے قریب ہی تھے ہیمں سرنگ کے دوسری طرف روشنی دیکھٸی دینے لگ گٸی میں نے سوچا اگر یہ سرنگ سے نکل گیے تو پکرنا مشکل ہو جاٸے یا پھر یہ ہاتھ سے نکل جاٸے گے اسلے میں نے سپاہیوں سے تیر چلنے کا کہا سرنگ تنگ ہونے کی وجہ سے صرف آگے والا ہی تیر چلا سکتا ورنہ اگر پیچے والے تیر چلاتے تو ہمارے سپاہی ہی زخمی ہونے اسلیے ہمارے اک سپاہی نے کٸی تیر چلاٸے اور ہم آگے بڑھنے لگ گے تھورا آگے گے تھے یہ ہمیں زمین پے پری ملی ہمارا سپاہی اس کے اوپر سے گزر دوسرے بندوں کے پیچے باگنے لگا تو اس نے اس کا پاوں کو پکر کے اپنی گرفت میں لے اس آگے بڑھنے نہں دے رہی تھی  سپاہی نے اسکے پیٹ ٹانگے بھی ماری لیکن اس نے اسکا پاوں نہ چھوڈا حتکہ یہ مر گٸی لیکن سپاہی کو آگے نہیں بڑھنے دیا جب یہ مر گی تو ہم پھر سرنگ کی دوسری جانب لپکے لیکن اب روشنی آنی بند ہو گٸی یم نے قریب جا کہ دیکھا تو باہر سے کسی نے سرنگ کا دروازہ بند کر دیا تھا کھولنے کی بہت کوشش کی لیکن نہیں کھولا تو ہم اسے اوٹھا کے آپکے پاس لے آٸےیہ سنتے ہی بادشاہ تیش میں آگیا بادشاہ کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو گٸی بادشاہ نے پورے زور سے جسم کو جٹکا دیا سپاہیوں کی گرفت سے آزار ہو گیا اگلے ہی لمحے زمین سے اپنی تلوار اوٹھٸی اپنے پیچھے والے سپاہی کے پیٹ کے آر پار ہو گٸی پھر اسی لمحے نیچیے جک کے اپنے دایں والے سپاہی کے سینے سے لے پیٹ وار کیا اور پھر جٹکے سے گوما اپنی بایں والی سپاہی کی اک ہی وار میں گردن اوڈا دی بانش کی آنکھیں کھولی کی کھولی رہ گٸی اس سے پہلے وزیرر بانش کچھ سمجھتا بادشاہ اس کی طرف باگا وار کرنے شروع کر دے بانش پہلا وار روکنے میں تو کامیاب ہو گیا لیکن دوسرا وار روکا نہ گیا پتا تب ہی چلا جب اسکی تلوار والا بازو زمین پے پڑا ہیں بادشاہ نے آگے بڑھ کے اس کی گردن کا نشانا لیا لیکن وار ہوا میں ہی رہ گیا کیونکہ پیچھے سے زوار نے بادشاہ کے سینے سے تلوار آرپار کر دی بادشاہ آنکھں موندے زمین پر گر گیا بانش درد سے چلاتے ہوٸے سیتاناس ہو تمہارا زوار تمہں اتنی جلدی کیوں تھی ابھی اس حرامی سے شاہی خنجر کے بارے اور اس خنجر کے راز کے بارے میں اگلوانا تھا  زورا:حضور اگر میں اسے نہ مارتا تو اسنے آپکو مار دینا تھاادھر حیظان کو بے ہوش دیکھ دونوں کے ہوش ُاڑ گیے۔عمر:کسمو تم ادھر ٹھرو میں کچھ دیکھ کے لاتا ہوں تھوری دیر بعد واپس آیا ہاتھوں خشک گھاس لیے۔کسمو:شہزدہ جانور نہیں ہے جو گھاس کھا ہے گا عمر مسکرتے ہوٸے نہیں کسمو میں تو یہ اسلیے لایا تاکہ تم اسیے نیچے بچھا لو تاکہ تم دونوں کو سکون میسر ہو یہ کہہ کہ عمر پھر واپس نکل آیا اور واپس محل کے بجاٸے دوسری جانب چل دیا کافی سفر طے کرنے کے بعد عمر کو اک تنوں تنہا جھوپڑی دیکھٸی دی عمر  جھوپڑی کی طرف چل دیا باہر کھڑے ہو کے آواز دی کوٸی ہے آواز آٸی ہممممم بتاو جوان بڑھیا سے کیا کام آن پڑا اس کالی رات میں عمر :ماٸی پردیسی ہو میرے بچے کو بھوک لگی ہے دوھود گرز سے آیا ہوں ۔ماٸی: جوان اندر آجاو۔عمر نے جھوپڑی کے اندر آیا تو سامنے ایک کافی عمر دراز ماٸی بیٹھی تھی ۔ماٸی: بیٹھ جا جوان عمر نیچے ہی بیٹھ گیا ماٸی عمر کی پیشانی کے طرف دیکھتے ہوے اچھا تو نیلے چراغ کی حفاظت کر رہیے ہو اچھا ہے کرتے رہو ۔عمر بھکلا کے ماٸی کیا؟ماٸی : مطلب کے نیلا چراغ جسیے سینے سے لگا کہ نکلے تھے۔عمر : ماٸی مجھے نہیں پتا آپ کس نیلے پیلے چراغ کی بات کر رہی ہو ۔ماٸی : وہی نیام کا بیٹا حیظان جو آج ہی پیدا ہوا ہے ۔عمر : گھبرہ کے ماٸی تمہیں کیسے پتا کہ بادشاہ نیام کا بیٹا شہزدہ حیظان میرے پاس ہے۔ماٸی : پہلی بات تو یہ بادشاہ تمہرے لیے تھا میرے صرف نیام جو ابھی دیر پہلے دل چیرے جانے دے مارہ گیا اور دوسری یہ کہ شہزدہ تمہارے لیے میرے لیے صرف حیظان جو ابھی زندہ رہیے گا اب دوسرا کوٸی سوال پوچھ لو یا پھر دوھود لو مرضی تمہاری میں جواب دینے کو بھی تیار ہوں اور دوھود بھی ۔عمراس سے پہلے کوٸی سوال پوچھتا کہ اسکے ذہن میں حیظان کا بے ہوش چہرہ سامنے آنے لگ گیا جھٹ سے بولا ماٸی دوھود ۔ماٸی :سمجھدار  وہ سامنے صراحی أٹھو اور چلتے بنو اور حیظان کی بھوک مٹاو۔عمر نے صراحی أٹھیی بنا پیچھے دیکھے مقام کی طرف چل دیا پیڑ کے پاس پہنچھ کے جاٸزہ لینے لگا کہ کوٸی تاکب میں تو نہیں اطمینان کر کے اندر داخل ہوا عمر کے ہاتھ صراحی دیکھ کے کسمو بولی : یہ صراحی کہاں سے لے آٸے عمر نے من گنت کہانی سنا کہ کسمو کو ٹال دیاکسمو نے حیظان کو ہاتھ کے چولوں سے قطرہ قطرہ کر کے دوھود پلایا جیسے حیظان کو ہوش آیا رونا شروع ہو گیا کسمو : عمر کوٸی آگ جلنے کا بندوبست کرو تاکہ شہزدے کی صحت بھال ہو لگتا ٹھنڈ کے مارے رو رہا ہے عمر : ٹھیک ہے وہ خنجر دو تاکہ لکڑیوں چھوٹے ٹکرے کر سکو ۔ کسمو نے خنجر پکرا دیا عمر نے میان سے خنجر کو نکالتے ہی بولا : یہ کیا بکواس ہے کسمو کیا ہوا ؟عمر : اس میں تو دھار ہی نہیں بلکل بے کار ہے اسکی خوبصرتی کی وجہ سے کیا ہم اسے ساتھ لیے پھرتے تھے کسمو: نہیں یہ بادشاہ اور ملکہ نے سمبھال کے رکھنے کوکہا تھا جب تک شہزدہ اسے سمبھالنے کے قابل نہیں ہو جاتا تم جاو لکڑیاں لاو میں شہزدے کو چپ کرانے کی کوشش کرتی ہوں ۔ عمر باہر آیا کچھ لکڑیاں لے کے واپس گیا تا آگے کا منظر دیکھا منہ کھلا کا کھلا رہھ گیا۔ کیونکہ کسمو نے اپنا اک ممہ شہزدے کے منہ میں دیا شہزدہ اسے چوسے جا رہا ہے۔ کسمو کے درمیانی ساٸز کے گھول تنے ہوے ممے جو چٹے سفید جن کے اوپر گلابی رنگ کے چھوٹے چھوٹے نپلز تھے جو ایک شہزدہ منہ میں لیے آنکھیں موند چوسے جا رہا ہے۔عمر:اگر تمہیں دوھود آتا تھا مجھے فضول میں خوار کیا ۔کسمو : گبرہ کے چولی کو آگے کرتے ہوٸے یہ روٸے جا رہا تھا میں نے سوچا شاٸد چپ کر جاٸے دوھود سے پہلے پیٹ بھر گیا اسے چوستے چوستے سو رہا ہیے

عمرنے ٹھیک ہے کہہ کے پتھروں آگ جلانی شروع کر دی محنت رنگ لاٸی آگ جل پری تب تک شہزدہ بھی سو گیا تھا عمر : ادھر آگ کے پاس آجاو آگ سیک لو۔ کسمو نے شہزدے کو خشک گھاس پے لٹایا اور چولی ٹھیک کرتے ہوے عمر کے پاس بیٹھ گٸی ۔
عمرمسراتےہوٸے : اب تو میں نے سب کچھ دیکھ لیا ہے کیوں چھپا رہی ہو۔
کسمو : دہھمں لہجے میں ابھی سب نے دیکھا
عمر :تو دیکھا دو سب
کسمو :زیادہ مت بنو ۔ عمر ہسنے لگ گیا دونوں بیٹھ کے باتیں کرنے لگ گے باتوں باتوں عمر نے کسمو کی ران پے ہاتھ رکھ کہ سہلانے لگ گیا کسمو نے آگے سے کوٸی سخت رویہ ظاہر نہ کیا عمر نے سہلاتے سہلاتے ہاتھ رانوں سے پھدی کی طرف شروع کر دیا جیسے ہی کسمو کی پھدی سے ہاتھ ٹکریا کسمو کو جٹکا لگا وہ اچھل کے کھڑی ہوٸی۔
کسمو : یہ آپ کیا کر رہیے ہے
عمر : کچھ نہیں سب دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
کسمو : شہزدہ جاگ جاے گا عمر : میں کون سا شور مچا رہا ہوں بیٹھ جاو کمسو جیجکتے ہوٸے بیٹھ گٸی عمر نے پھر سے ہاتھ سے کسمو کی پتلی کمر کو سہلانے لگ گیا کسمو مدہوش ہونے لگ گٸی عمر نے ہمت کرتے ہوۓ ہاتھ سے کسمو چہرہ پکڑا اور گلابی پتیوں کے مایند ہونٹ پے ہونٹ رکھ دیے کبھی اوپر والا ہونٹ چوستا کبھی نیچے والا ہونٹ چوستا کسمو مزے کی وادیوں میں اڑنے لگ گٸی عمر نے ہونٹ جدا کیے  کسمو خشک گھاس پے لیٹا دیا اور بیٹھ کے کسمو کی مصومیت کو دیکھنے لگ گیا کسمو نے لیٹے ہوۓ اپنی باہیں عمر کی طرف  کھول کے مدہوش نگا سے عمر کو دیکھنے لگ گٸی عمر پرجوش اس پے ٹوٹ پڑا کبھی ہونٹ کبھی گردن پے بوسے لینے لگ گیا اسی دروان اپنا آزاربند کھول کے نیچے والا در نگا کر لیا اور اپنے چولے کی اک طرف ڈوری کھینچ کے مکمکل نگا ہو گیا اسی عالم میں کسمو نے اپنی پیٹھ عمر کی طرف کی عمر نے اسکی چولی کی ڈوریاں کھولنی شروع کر دی چولی اوتار کے گاگرا کا آزاد بند کھول کے کسمو کو بھی پورا نگا کر دیا کسمو جھٹ سے عمر کے گلے سے لپٹ کر عمر چھاتی منہ اور گردن پے چومنے شروع ہو گٸی جیسے کوٸی جن اس میں  آگیا ہو عمر کی کیافیت بھی اس کم نہ تھی جب دونوں کچھ سمبھلے تو کسمو نے کہا مجھے کبھی کسی مرد نے چھوا تک نہیں زرہ دھیان سے )کونکہ کسمو داٸی اسلیے اس سب پتہ تھا پہلی بار کیا ہوتا ہے) عمر نے کسمو پھر لیٹایا اس کی ٹانگوں کو اٹھا دورمیان میں بیٹھ گیا کسمو نظر جب عمر کے 7انچ لمبے لن پے پری بےاختار چونک کے اتنا بڑا نہ بابا نہ یہ مجھ سے برداشت نہیں ہو گا عمر نے اسے تسلی دیتے ہوے کہا آرام سے کریں گے اتنا کہہ کہ چکنی پھدی پے لن سیٹ کر کے تھوک لگا دھکا دیا کسمو کی اک درد ناک چینخ نکلی عمر نے تھوری دیر ٹھر کہ جب کسمو سکون میں ہو گی پھر اک زور دار جٹکا لگایا پورا لن پھدی میں گھسا دیا اب کی بار کسمو کے ہونٹوں اپنے ہونٹ ہونے وجہ سے چینخ منہ میں دب گی لیکن کسمو کی آنھوں سے آنسو بہنے لگ گے عمر نے اب آہسہ آہستہ لن آگے پیچھے کرنا شروع کردیا کسمو درد سے تلملا رہی تھی  تھوری دیر بعد میں لن باآسانی رواں ہوگیا اور عمر کے جھٹکوں میں تیزی آگٸی اب درد کے ساتھ مزہ بھی آرہا تھا جو اسکی ُامممممممم ُامممممممم سیسکاں بتا رہی تھی کسمو مزے سے نڈھال ہونے لگ گٸی اچانک عمر کی کمر کے گرد ٹانگیں بیھر کے پھدی کو اوپر اٹھایا اور جڑ گٸی عمر کو بھی اب کسمو کی پھدی گرمی برداشت سے باہر نظر آنے لگ گی وہ بھی کسمو کی پھدی کی گہرایوں میں چھوٹ گیا  عمر تھوری اسی طرح اسکے اپر لیٹا رہا اٹھا اور اپنے کپڑے پہننے شروع کردیے کسمو بھی اٹھی اور کپرے پہننے لگ گیی نظر سیدھی گھاس پر جو نیچے تھا اسکے  خون سے لال ہوا پڑا تھا
کسمو: عمر تم نے میری پھار دی
عمر: افتاح ہوا ہے ابھی تو اور ہسنے لگ گیا۔
دونوں سو گے صبح ہوٸی تو

جاری ہے

لکھاری نے کہانی یہاں تک لکھی ہے اگر کوئی اسے مکمل کرنا چاہے تو لکھ کر سینڈ کر دے

Posted on: 07:03:AM 27-Dec-2020


2 0 143 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 11 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 74 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com