Stories


میرا ٹرین کا سفر از بابا بٹ جی

میں نے ایک سے ذیادہ دفعہ چلتی ٹرین کے ٹوائلٹ میں سیکس کیا اتفاق سے جتنی دفعہ بھی ایسا موقع ملا رات کا سفر تھا آخری دفعہ جب ٹرین میں سیکس کیا میں اور میری وائف ھم رات کو لاسٹ ٹرین جو لاھور سے راولپنڈی جاتی ھے تقریبآ بارہ بجے ۔ اس دن اکٹھی دو چھٹیاں تھی پہلی چھٹی کو رات ھم لاھور سے نکلے کہ اگلا چھٹی کا دن اسلام آباد ایک رشتہ دار کہ ہاں گزاریں گے اگلے دن صبح ناشتے کے بعد ھم نے کسی سرکاری کام سے اسلام آباد ایک دفتر میں صبح نو بجے پہنچنا تھا ھمارا اچانک پروگرام بنا تھا نومبر کے مہینے میں موسم بھی اچھا تھا اس لیے بکنگ کے بغیر اکانومی کلاس میں ٹکٹ لے کہ بیٹھے تو خوشگوار حیرت ھوئی کہ پوری بوگی میں ھم دو ھی تھے نان اسٹاپ ٹرین میں کسی اور کے آنے کا امکان بہت کم تھا گوجرانولہ سے پہلے ٹکٹ چیکر چکر لگا گیا تو ھم لاڈیاں کرتے فل مستی میں آ گئے تو وہیں اکانومی کلاس کے ڈبے میں ھی بھرپور سیکس کیا ھوسکتا ھے کوئی دوست کہے کہ ڈبہ خالی ھونا نا ممکن ھے تو بھائی یہ نویں دسویں کی مکمل چھٹیاں تھی شاید اس لیے لوگ سفر میں ناں تھے۔یہ ٹرین میں کیا آخری سیکس تھا اور شاید چھے سال ھو گئے ھیں چھے سال پہلے نویں دسویں نومبر میں ھی آتی تھی
ٹرین میں ھی ایک دفعہ بہت بڑا رسک لے کہ سیکس کیا تھا رسک یہ کہ میں اکیلا سفر کر رہا تھا ورنہ اکثر ایک دوست ساتھ ھوتا تھا تو ایک دوسرے کا پہرہ دیتے تھے یہ شاید 1987 کا واقعہ ھے خیبر میل اور عوامی دونوں لاھور سے تقریبآ 24 گھنٹے لگا دیتی تھی اس دن خیبر میل لیٹ تھی تو لاھور سے رات گیارہ بجے کراچی کے لیے نکلی اس میں ایک کراچی کی فیملی تھی میری خالی ایک سیٹ تھی اور اس کمپارٹمنٹ میں باقی برتھ و سیٹیں اس فیملی کی تھیں ہمارا سفر اگلے دن رات تک تھا
اس فیملی کے پاس 7 سیٹیں تھیں جن میں سے 2 کے ساتھ اوپر برتھیں تھیں آٹھویں سیٹ میری تھی۔
فیملی میں ایک بوڑھی خاتون اس کا بیٹا، بہو، سولہ سال کا ایک پوتا دوسرا کوئی تیرہ سال کا اور پوتی اس سے چھوٹی تھی جو دبلی پتلی ہونے کی وجہ سے بچی ہی لگتی تھی  ان کے علاوہ اماں کی ایک نواسی تھی باقی تو سارے فیملی ممبرز دبلے پتلے اور سانولے تھے مگر نواسی ان سے مختلف گوری چٹی اور تھوڑی صحت مند (موٹی نہیں بھرے جسم والی) پہلے تو میں سمجھا وہ کوئی بیس بائیس سال کی ہے مگر کافی باتونی اماں سے جب باتیں شروع ھوئی تو انہوں نے پورے خاندان کا ڈیٹا کھول کہ رکھ دیا (شاید ان کی کوئی سنتا نہیں تھا جب میں نے ان کی باتوں میں دلچسپی دکھائی تو پوری ہسٹری سمجھ لی) پہلے تو میری نظر اماں کی 35 یا 37 سالہ بہو پر تھی کہ وہ مجھے آسان ہدف لگا تھا مگر جب ہسٹری سامنے آئی تو میری توجہ "نواسی جی"  پر ھو گئی باقی لوگوں کا ذکر اب فضول ھے۔
نواسی کا فرضی نام "گڑیا" سمجھیں عمر 14 سال اور قد پونے 5 فٹ سے بھی شاید کم تھا جس وجہ سے صحت مند جسم بھی موٹا لگتا تھا جسم چادر میں لپٹا ھوا اور چہرہ انتہائی معصوم مگر بہت اداس اور آنکھیں شاید رونے سے سرخ تھیں۔
میں نے اب وقفے وقفے سے گڑیا کو پیار سے اور مسکرا کے دیکھنا شروع کر دیا جس پر وہ نظر کو چرا لیتی مگر میں نے محسوس کیا کہ جب میری نظر ہٹتی ھے تو وہ میری طرف دیکھتی ھے اس کی اداسی کی وجہ میں جان چکا تھا کہ اس کا باپ اس کی شادی کافی پکی عمر کے ایک مالدار تین بچوں کے باپ رنڈوے سے کرنا چاہتا تھا تو اس کی ماں نےاسے بہانے سے ماموں، نانی کے ساتھ کراچی بھیج دیا تھا۔
کوئی ایک ڈیڑھ گھنٹے کے سفر کے بعد گڑیا اور اس ممانی اوپر برتھوں پر چلی گئیں جس سیٹ پر میں تھا ممانی اس طرف اوپر اور گڑیا دوسری طرف میرے سامنے لیٹی تھی پہلے تو کوئی حوصلہ افزا ریسپانس ناں ملا مگر تھوڑی دیر بعد شاید ممانی دوسری طرف منہ کر کے سو گئی تھی اب گڑیا نے میری مسکراہٹوں کا جواب مسکراہٹ سے دینا شروع کر دیا۔
میں نے بھی اب ادھر ادھر دیکھ کہ "فلائنگ کس" دی جس کے جواب میں اس نے پہلے تو گھور کہ منہ بنایا پھر مسکرا کہ میرے اصرار پر جوابی کس کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔۔۔

انہی اشارہ بازیوں میں کافی رات گزر چکی تھی گرمی کے موسم میں کھڑکیاں کھلی ھونے کی وجہ سے ٹرین اور ہوا کا شور بہت تھا مگر ہوا میں خنکی ہونے سے مسافر سکون سے سو رھے تھے ھماری سیٹوں کے درمیان چھت پر لگے بلب کو بند کرنے کا بہانہ سوچ کہ میں دونوں نچلی سیٹوں پر دائیں بائیں پاؤں رکھ کر کھڑا ھو گیا ایک لمحے میں گرد وپیش کا جائزہ لیا اور گڑیا کو اس کے گال (رخسار) پر چوم لیا اور اس کو کہا آپ بہت پیاری ھو تمھاری آنکھوں جیسی خوبصورت آنکھیں میں نے آج تک نہیں دیکھیں اور اس کے رخسار و پیشانی کو پیار سے سہلانے لگا یہ سب چند سیکنڈز میں ھوا کسی چیتے کی طرح میری آنکھیں اطراف کا اور نیچے سیٹوں کا جائزہ لے رہی تھیں صرف ایک بوسہ لینے سے میری سانس تیز اور گڑیا کا رنگ سرخ سیب جیسا ھو چکا تھا۔
گڑیا کی خاموشی اور شرم دیکھ کہ میرا ہاتھ اس کے کندھے پر آگیا اور کندھے کو سہلاتے میں نے ایک دو بوسے اور لیے اور ایک ہاتھ سے اوپر چھوٹی سی آہنی باسکٹ میں لگا بلب اتار دیا ایک پہلے ھی شاید خراب تھا اب دوسرا اترنے سے اس ایریے میں قدرے اندھیرا ھو گیا۔
اب میری گستاخیاں بڑھنے لگیں مگر بہت محتاط رھ کر کہ کہیں لڑکی بدک ناں جائے۔
اس کچی عمر میں اور ذھنی پریشانی میں جب میں اس کے حسن کی تعریف کر رہا تھا اور ساتھ اس کا کندھا، سر سہلاتے چوم رہا تھا تو گڑیا بھی میلٹ (برف پگھلنے لگی) ھونے لگی میں اس کے رخساروں، آنکھوں کو چومتا ھوا اور آگے بڑھا اس کا چہرہ تھوڑا اٹھا کہ ھونٹوں کو نرمی سے چوما۔
پیار و بوسوں کے ساتھ میں مسلسل اس کے حسن کی تعریف کرتا رہا اور آہستہ آہستہ اس کے گلاب کی پتیوں جیسے ھونٹوں کو چوسنے پر آ گیا۔
اب میرے تجربے سے لڑکی کافی حد تک میرے کنٹرول میں تھی تو میں نے اس کو ان الفاظ میں کہ اگر ابھی میں نے تمہیں اپنے گلے سے نہیں لگایا تو ساری زندگی پچھتاوا رہے گا جب میں نے جپھی ڈالنے کی خواہش کی تو اس نے نیچے اور ارد گرد کا اشارہ کیا میں نے یہ کہا کہ دو منٹس کے لیے پیشاب کے بہانے نیچے آؤ میں بھی چلتا ھوں کوئی جاگ گیا تو میں خود کہوں گا کہ یہ واش روم جانے سے ڈر رہی تھی تو میں ساتھ گیا تھا۔
پہلے تو وہ دوسروں کے اٹھ جانے سے ڈرتی رھی پھر ہمت کر کے تیار ھو گئی اور اپنی چادر لینے لگی تو میں نے اشارے سے خالی دوپٹے کا کہا۔
اب وہ محتاط ھو کہ نیچے اتری تو میں نے آگے جانے کا اشارہ کیا اور خود بھی اٹھ گیا۔ ۔ ۔ ۔
 ٹرین پوری رفتار سے شور مچاتی اپنی منزل کراچی کی طرف دوڑ رہی تھی ٹرین اپنے وقت سے کافی لیٹ ھونے کی وجہ سے سیٹوں کی مکمل بکنگ ھونے کے باوجود اضافی مسافر نا ہونے کے برابر تھے اس وجہ سے درمیانی فرش،  دروازوں و ٹوائلٹ کے پاس کوئی مسافر ناں تھے وگرنہ اکثر ان جگہوں پر بھی کافی مسافر کپڑے بچھا کر سو رہے ھوتے ھیں۔
میری عمر اس وقت تقریبآ 27 سال تھی اور پچھلے کئی سالوں سے شکر خور (پھدی مار) تھا اور شکر مجھے ملتی رھتی تھی کشمیری بٹ پانچ فٹ گیارہ انچ قد کے ساتھ فطرتاً دلیر بھی تھا اور سیکس لورز جانتے ھیں کہ منی جب دماغ کو چڑھی ھو تو خطروں کی پرواہ نہیں رھتی۔
خیر ٹوائلٹ کے باہر ھی میں نے گڑیا کو گلے سے لگایا قد میں مجھ سے کافی چھوٹی تھی گلے لگائے اس کی ٹھوڑی سے پکڑ کہ چہرہ اوپر کیا اور اس کی آنکھوں کو چوما، پھر ناک کو چوم کہ تھوڑا چوس لیا ساتھ کہا ****اتنی پیاری ناک ھے اگر تمھیں درد کا خیال نہیں ھوتا کاٹ کھاتا اور پھر آہستگی اور نرمی سے ھونٹ چوسنے لگا۔
ابھی تک میں نے اس کے سینے یا گانڈ پر ہاتھ نہیں لگایا تھا کہ کہیں بدک ناں جائے میرے ہاتھ اسکی کمر اور پیٹھ کو سہلا رھے تھے گڑیا کا جسم گرمی میں آ رہا تھا اور وہ ہلکا ہلکا کانپ رہی تھی میرے ہونٹوں سے ہونٹ ہٹا کر تیز سانسوں میں بمشکل کہنے لگی کوئی آ ناں جائے اس نے اپنا آپ چھڑانے کی کوشش نہیں کی تھی میرا لن ("لوڑا" میرا پسندیدہ لفظ ھے مگر جتنا میرا تقریباً 5" ھے اس حساب سے "لن" ھی جچتا ھے) گڑیا کے پیٹ میں لگا تھا ناں میں دبا رہا تھا اور ناں ھی گڑیا کا دھیان لن کی طرف تھا خیر میرے حساب سے تھوڑی محنت مجھے اور کرنا تھی تو میں نے منت بھرے لہجے میں اس سے کہا جان سے پیاری گڑیا بس دو منٹ اور ! یہ کہہ کہ میں نے اس کے منہ کھولنے سے پہلے کہاکہ تم ٹوائلٹ میں جاؤ میں ماموں لوگوں کو دیکھ کر آتا ھوں اور اس کو خود ٹوائلٹ کی طرف پش کیا (دبایا) اور سیکنڈز میں سب جائزہ لے کر واپس آ گیا ابھی گڑیا اندر کھڑی ھی ھوئی تھی کہ بھی ٹوائلٹ میں گھس گیا دروازہ لاک کر کہ اس کو گلے لگایا اور دیوانہ وار چومنے لگا گڑیا بے شک نوخیز کلی تھی مگر چودہ سال کی "جوان" اٹھتی جوانی تھی اب تنہائی کے احساس کے ساتھ میرے پیار اور چومنے کا جواب بھی دے رھی تھی میں نے اب نیچے جھک کے اس کے بازوؤں کہ نیچے سے بازو ڈال کہ اسے گلے سے لگایا تھا اور میرے ہاتھ گستاخیاں کرتے اس کی گانڈ کی گولائیاں دیکھ رھے تھے اتنی عمر کی کمسن کنواری ان چھوئی کلی سےاس حد تک پہلی دفعہ جا رہا تھا کسنگ، اور ممے، گانڈ تو پڑوسی لڑکیوں کے کئی دفعہ دبائے تھے مگر اتنی نرم مکھن و ملائی جیسی گانڈ شلوار کے اوپر سے دبا کہ میں بے قابو ھو رہا تھا مگر بہت احتیاط سے آگے بڑھنا ضروری تھا۔
اوپر اب میں اس کی زبان چوس رہا تھا گڑیا کی آنکھیں بند اور رنگ مزید سرخ ھو چکا تھا  اب میں نے ایک ہاتھ اس کی قمیض اٹھاتے اس کی شلوار میں ڈال دیا خوش قسمتی سے اس کی شلوار میں الاسٹک تھی (اس زمانے میں لڑکیوں کی اکثریت پینٹی صرف پیریڈز کے دوران پہنتی تھیں) گڑیا کی آنکھیں بدستور بند تھیں تو میرے دوسرے ہاتھ نے بھی سرکشی کی ٹھانی اور اس کی قمیص کے اندر سے اس کی کمر سہلانے لگا گڑیا کا جسم ملائم، گداز اور بہت گرم ھو رہا تھا۔۔ ۔ ۔ ۔
 بہت سے رائٹر سیکس کے دوران ہر بات کی ٹائمنگ لکھتے ھیں جیسے 20 منٹس کسنگ کی 35 منٹس پھدی چاٹی 30 منٹس hose pipe سوری لنڈ چوسا۔ لیکن سوری بھائی 44 سالہ سیکس لائف میں کبھی ٹائم دیکھا ناں کبھی اندازہ ھوا)
خیر ایسے پیار کرتے گڑیا کے جسم کے نشیب و فراز ٹٹولتے میری نظر اس کے سرخ تپتے چہرے اور بند آنکھوں پر تھی تھوڑی دیر بعد میں نے پہلا ہاتھ اس کی شلوار سے نکالا اور  آہستہ آہستہ بدن کا مساج کرتے اس کی قمیض کو اوپر اٹھانا شروع کیا اور چند لمحوں میں اپنے جسم کو تھوڑا پیچھے کر کے سینے تک اٹھا دی اور پتلی بریزئیر کے اوپر سے بریسٹ کو سہلانے لگا (مموں کا لفظ ایسی بریسٹ / چھاتی پر جچتا نہیں)
میں گڑیا کے ھونٹ و زبان اس کے چہرے پر نظر رکھے مسلسل چوس رہا تھا میں ایک ہاتھ سے چھاتی اور دوسرے سے اس کی کمر سہلا رہا تھا جب میں نے آہستگی سے اپنا ہاتھ نیچے سے بریزئیر کے اندر ڈالا تو گڑیا کے جسم کو خفیف سا جھٹکا لگا تھوڑی کانپ سی گئی اور اپنی نشیلی سرخ آنکھیں تھوڑی کھولیں میں نے اس کا چہرہ چومتے ہوئے کان میں سرگوشی کی "جان" بس تھوڑا سا پیار کر لینے دو اور کان کی لو کو ہلکا سا چوس لیا پھر جب چومتے چومتے چہرہ دیکھا تو نشیلی آنکھیں پھر بند ھو چکیں تھیں اب میں نے حوصلہ کرتے جسم تھوڑا پیچھے کر کے دونوں ہاتھوں سے بریزئیر اوپر کر دی اور اوپر اٹھی ہوئی قمیض کے دامن کو ا چھی طرح گریبان میں پھنسا دیا اور تازہ مکھن کے پیڑوں کی گولائیاں محسوس کرنے لگا۔
(ٹوائلٹ میں ہوا سے ذیادہ ٹرین کے پہیوں اور پٹری کا ٹھکا ٹھک ٹھکا ٹھک بے انتہا شور تھا)
اب میں آہستگی سے پیچھے ہٹتے ہوئے نیچے جھکا۔ ۔ ۔ ۔ اف ہلکی سی ناکافی روشنی میں بھی کیا نظارہ تھا بھرے بھرے نرم و ملائم ملائی جیسے جسم کو دیکھ کر میں اپنا کنٹرول کھو رہا تھا میں نے آہستگی اور نرمی سے سوفٹ و دلکش چھاتیوں کو چومتے چومتے منہ میں بھر لیا اور زبان کے مساج کے ساتھ چوسنا شروع کیا گڑیا کی مزے و لطف سے تیز سسکاریاں ٹرین کے شور کے ساتھ عجیب طلسماتی ماحول بنا رہی تھیں میں پوزیشن بہتر کرتے ہوئے دروازے سے ٹیک لگا کر نیچے بیٹھ گیا اور گڑیا کے گھٹنے اپنے گھٹنوں پر ٹکا کہ اس کے سینے پر منہ رکھ دیا اور پاگلوں کی طرح باری باری دونوں چھاتیاں چوسنے لگا گڑیا نے اپنے دونوں ہاتھوں سے جیسے میرے سر کو زور سے جپھی ڈال کر اپنے سینے میں دبا  رکھا تھا۔
مجھے وقت اور جگہ کا بھی احساس تھا ورنہ شاید پوری رات ناکافی ھوتی۔
میں نے کمر سے پکڑ کر آہستہ آہستہ اسے اوپر کیا اور اس کے گداز و نرم پیٹ کو چومنے اور چاٹنے لگا میں نے جب اپنی زبان سے اس کی ناف میں گدگدایا تو پھر اس کے جسم کو جھٹکا سا لگا۔ ۔ ۔
 ناف ❤️ میں زبان سے گدگداتے اور پیٹ پر چومتے دونوں ہاتھوں سے گڑیا کی کمر کا مساج کرتے پیچھے سے دونوں ہاتھ اس کی شلوار میں ڈال دیے اور مکھن و ملائی جیسی گولائیوں کو سہلانے لگا اور ہاتھوں سے تھوڑا اٹھا کر شلوار کے اوپر سے زیر ناف (ناف سے نیچے جہاں بال اگتے ھیں) جگہ کو چومنے لگا اسی دوران میں سر اٹھا کہ گڑیا کا جذبات کی شدت سے سرخ لال بھبوکا چہرہ دیکھنا نا بھولا تھا اس کی آنکھیں ادھ کھلی یا شاید بند تھیں منہ تھوڑا کھلا ہوا ہونٹ بالکل خشک نظر آئے ویسے تو لطف و انسباط میں ڈوبی تیز سسکاریاں ھی مجھے مطمئن کرنے کے لیے کافی تھیں اور جو مزے اور سرور کی لہریں میرے جسم میں اسوقت دوڑ رہی تھیں میرے حواس گنوا دینے کے لیے کافی تھا مگر مقابل کی نو خیز و کمسن جوانی کو دیکھتے ہوئے میرا ہوش میں رھنا اور پیار و محبت سے اپنے ساتھ اس کی نیا (کشتی) کو اس طوفان سے نکال کہ پار لگانا ضروری تھا گڑیا کے ہاتھ میرے سر پہ تھے اور وہ مٹھیاں بھینچ کر جیسے میرے بال کھینچ رھی تھی کبھی میرا چہرہ اپنے جسم میں دباتی تو کبھی لگتا کہ میرے منہ کو اپنے وجود سے رگڑ رھی ھے میں نے اپنے چومنے کا دائرہ بڑھا دیا تھا اب میں زیر ناف جگہ کے اطراف تھائیز کو بھی چومتا چند لمحوں میں ایسے پیار کرتے چومتے میں تھوڑا اور نیچے سرکا (کھسکا) اور ۔ ۔ ۔
 میں نے آھستگی سے شلوار کے اوپر سے گڑیا کی کافی "نم" چوت کو چوما تو مجھے کنواری، ان چھوئی چوت کی مہک، نمی اور گرمی محسوس ھوئی چوت چومتے چومتے میں نے تھوڑی نظر اٹھا کہ دیکھا تو گڑیا کی نشیلی آنکھیں بدستور بند اور ھونٹ کھلے نظر آئے تیڑ سسکاریوں کے ساتھ میرے سر سے پکڑے میرا منہ اپنی نم و معطر چوت میں دبا رھی تھی ۔
وقت کی کمی و نزاکت کے پیش نظر میں نے اپنے ہاتھ جو پیچھے گڑیا کی شلوار میں تھے۔
نرم و ملائم قدرے ابھری ھوئی گانڈ کو دباتے و مساج کرتے دونوں ہاتھوں کو سائیڈوں پر لایا اور کچھ انگلیاں باھر نکال کہ آہستہ آہستہ شلوار نیچے کھسکانی شروع کی۔ اف جیسے جیسے شلوار اتر رھی تھی مجھے اپنے چہرے اور کانوں سے آگ نکلتی محسوس ھو رھی تھی چوت کا اوپری حصہ ننگا ھوتے میری آنکھیں "خیرہ" ھو گئیں شاید آج گھر سے نکلنے سے پہلے گڑیا نے "صفائی" بھی کی تھی میں نے اپنے تپتے ھونٹ جب چوت کے اوپری حصے پر رکھے تو گڑیا کی سسکیوں کی آواز تیز ھو گئی میں نے شلوار مزید تھوڑی نیچے کی اور گڑیا کی گانڈ کو دونوں ہاتھوں سے تھوڑا اٹھاتے ھوئے چوت کا جائزہ لیا اور اپنے تپتے ہوئے ھونٹ "ان ھونٹوں" پر رکھ دیے۔
ایک پرانی مثال مشہور ھے جس چوت پر تھوڑا گوشت ناں ھو اس کو چومنے، چاٹنے، چودنے کا کیا مزہ۔
ھمارے اردو سپیکنگ بھائی کہتے ھیں : بہن چود لاکھوں روپے شادی پہ خرچ ھو گئے اور پاؤ بھر گوشت نہیں چوت پر۔
خیر ایک دو سوفٹ سی چمیاں لے کہ اپنی زبان کی نوک چوت کے بند ھونٹوں جن پر شبنم کے قطروں کی مانند لیسدار رطوبت چمک رہی تھی ان ھونٹوں پر نیچے سے اوپر بند سیپ میں چھپے سرخ موتی تک زبان پھیری اسی طرح زبان پھیرتا اور چومتا ھوا "رس بھری" کے نچلے حصے سے زبان کی نوک تھوڑی اندر کی اور ر ر ر ر چند مرتبہ نیچے سے اوپر گداز و چکنے ھونٹوں میں پھیرتا سرخ موتی پر آیا اور اسے کھجانا شروع کیا۔
گڑیا تو جیسے ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہی تھی۔
یقین کریں اگر میں کسی صحیح جگہ پر ھوتا تو شاید کئی ساعتیں ایسی کومل و چکنی "رس بھری" چوت کو چومتا، چوستا مگر مجھے یہ خطرہ تھا کہ کہیں اندر ڈالنے سے پہلے ھی اسے پاور فل آرگیزم "فارغ" نا ھو جائے کیونکہ میرا تجربہ ھے کہ فارغ ھونے کے بعد وقتی طور پر سیکس سے دلچسپی ختم ھو جاتی ھے جیسے بے زاری کی سی کیفیت چھا جاتی ھے۔
میں نے بھی اس پھولی ھوئی چوت کے ھونٹوں میں چھپے "تلکنے" و پھولے ہوئے چھوٹے سے انمول موتی کو تھوڑا سا چوما، چوسا اور گڑیا جو مجھ پہ گرنے کی حد تک جھکی ھوئی تھی اس کو سیدھا کرتے شلوار اس کے پاؤں سے نکال دی شلوار نکالتے اس نے تھوڑی جھجھک دکھائی تو میں نے کہا کہ جان بعد میں پہن لینا ابھی ٹوائلٹ کے فرش پر گیلی ھو جائے گی شلوار لپیٹتے ھوئے وہاں موجود واش بیسن پر رکھی اور گڑیا کے پیٹ پر بوسے لیتا ھوا کھڑا ھو گیا.
اس نوخیز جوانی کہ ہر انگ، نشیب و فراز پر بوسے لینا چومنا و چاٹنا وقت کی نزاکت کے باعث بادل ناخواستہ مؤخر کیا گڑیا کی خوبصورت دلکش بھری بھری ٹانگیں جن سے نظر ہٹانے کو دل نہیں چاہ رہا تھا فقط تھوڑے ہاتھ پھیرنے پر اکتفا کیا اور کھڑے ھو کہ اپنی قمیض اور بنیان اٹھا کر اپنے گریبان میں ٹھونسے اور گڑیا کو اپنے برہنہ سینے سے لگا لیا کنوارے ان چھوئے ننگے جسم سے جب ننگا جسم لگا تو وہ میرے ساتھ ایسے چپکی جیسے جسم و جاں ایک ھو گئے میں نے ٹھوڑی سے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا اور اس کے خشک جزبات سے لرزتے ھونٹوں پر اپنی زبان پھیری اور چوسنے لگا اس سارے چوت چاٹنے سے کھڑے ھو کہ ھونٹ چوسنے تک کے عمل میں شاید چند منٹس لگے ھوں گے گڑیا کی آنکھیں بند اور اپنی پوری طاقت و جان سے میرے ساتھ چپکی ھوئی تھی ھونٹ چوستے ھوئے میں نے آہستگی سے ہاتھ نیچے لے جا کر اپنا ناڑہ کھولا اور گڑیا کو  سنبھالے ھونٹ چوستے ہوئے شلوار اپنے پیروں سے نکال کہ بیسن پر رکھ دی اب سینے سے نیچے پاؤں تک ھم دونوں بالکل ننگے تھے میرا لن اتنا سخت ھو رہا تھا اور رگیں ایسے پھولیں ہوئی تھی جیسے ابھی پھٹ جائے گا میں نے اپنے بائیں ہاتھ سے گڑیا کا ہاتھ پکڑا اور نیچے لے جا کر لن پر رکھ دیا اف ف ف آج سے پہلے درجنوں لڑکیوں و عورتوں نے میرا لن پکڑا۔ پیار کیا اور چوسا چوپا بھی تھا مگر اس لڑکی کہ ہاتھ کے لمس میں کیا گداز پن تھا اوہ ہ ہ میں نے گڑیا کا ہاتھ پکڑ کہ لن پر رکھا تھا اپنا منہ ھونٹوں سے ہٹا کہ گڑیا کو چومتے ھوئے پیار سے کہا جان اس کو پکڑو ناں ذرا دباؤ اور محسوس کرو بتاؤ تمھیں کیسا لگا ھے پہلے تو گڑیا تھوڑا جھجھکی پھر لن کو پکڑ کہ جو میرے پیٹ سے لگا تھا تھوڑا ہاتھ اوپر نیچے کیا میرے کہنے پر دبایا اور شرماتے، جھجھکتے ہلکی سی آواز سے کہا !!!!! کتنا موٹا سخت اور گرم ھے میرے اصرار پر اثبات میں سر ہلا کہ بتایا کہ بہت پیارا و اچھا لگا ھے میں نے گڑیا کا منہ چومتے ہوئے کہا کہ تم بہت پیاری ھو دل چاھتا ھے تمہارے وجود کو بس چومتا رھوں اور بڑے لاڈ سے کہا جیسے میں نے تمہاری اس خوبصورت و ملائم چوت کو چوما اور پیار کیا ھے پلیز "اس" کو بھی تھوڑا اوپر رگڑ کہ پیار کرنے دو دیکھو جیسے تمھاری چوت کی آنکھ میں آنسو ہیں اس کی آنکھ میں بھی آ نسو ہیں یہ کہتے ھوئے میں گھٹنے فولڈ کر کہ نیچے ھوا گڑیا کو پاؤں پھیلانے کو کہا اور لن ہاتھ سے پکڑ کہ چوت کے گیلے ھونٹوں میں پھیرنے لگا۔ ۔ ۔ ۔
اس وقت گڑیا کے ساتھ میں بھی شدت جذبات سے بےقابو ھو رہا تھا گڑیا لطف و انسباط اور مدہوشی کی کیفیت میں بند آنکھوں سے میرے پیار کے جواب میں مجھ سے لپٹی اپنے برہنہ وجود کو میرے جسم سے رگڑتی تیز سسکیاں لے رہی تھی اس کا جسم جیسے تیز بخار میں تپ رہا تھا اس کے ھونٹ اور زبان بار بار خشک ھوتی اور میں اپنے لعاب سے اس کی زبان و ھونٹوں سے جذبات کی آگ سمیٹتا انہیں تر رکھنے کی کوشش کر رہا تھا میری اپنی کنپٹیوں میں جیسے تھرتھراہٹ کے ساتھ آگ نکل رھی تھی۔
میرے لیے اپنے حواسِ قابو میں رکھنا بہت ضروری تھا میں اپنے گھٹنے تھوڑے دہرے (فولڈ) کر کہ دائیں ہاتھ سے اپنے لن کا منہ (ٹوپا) گڑیا کی آنسوؤں سے بھری کنواری و مخملی چوت کے بند ھونٹوں میں نیچے سے اوپر پھیرتا اوپر دانے پر تھوڑا زیادہ رگڑ کہ پھر اوپر نیچے پھیرتا
میرا بایاں ہاتھ گڑیا کے چوتڑوں کے پیچھے تھا میرے ایسا کرنا سے اب گڑیا کی زبان سے بے ربط جملے نکل رھے تھے،،،،،،،،،،،،
سی سی ہائے ہائے اف جان، ،
بس کرو ، ، ، ہائے مجھے کچھ ھو رہا ھے ہائے مجھے پکڑو ، ، ، ہاں ایسے ایسے اور اور تیزززز ، ، زور سے کرو "اس دوران میں نے لن رگڑتے رگڑتے رس بھری چوت میں تھوڑا دبانا شروع کیا اب وقت آ گیا تھا کہ شبنم سے پوری طرح بھیگی کلی کو اپنے پیار کے تھوڑے دباؤ سے پھول بنا دیا جائے۔
لن کو چوت کے بھیگے کنوارے چھوٹے سے سوراخ پر تھوڑا اور دبایا تو میری جان گڑیا ایک دم سسکی لے کر اف بس اتنا ھی بہت ھے یہ بہت موٹا ھے مجھے بہت درد ھو گی میں نے تھوڑا اور صبر کیا لن کو چوت کے ھونٹوں میں چھوڑا اور ہاتھ سے گڑیا کے سوفٹ و ملائم بریسٹ دبائے اور جھک کے باری باری تھوڑا چوسا گھٹنے فولڈ کرنے سے میں تھک بھی چکا تھا ذھن میں ایک اور خیال آیا تو سیدھے ھو کہ گڑیا کی آنکھوں کو چوما تھوڑا پیار کر کہ کہا میری جان میں کیسے تمہیں "درد" دے سکتا ھوں میرا مقصد تو آپ کو پیار کرنا اور لطف و مزا دینا ھے گلے سے لگائے تھوڑا رخ بدلا گڑیا کی پشت دروازے کے ساتھ لگائی اور یہ کہتے ھوئے کہ میں جھک کے تھک گیا ھوں میری گود میں آ جاؤ جواب سنے بغیر اس کے بازو اپنے کندھوں پر رکھے اور کہا میری گردن کو اچھے سے پکڑ لو اور خود جھک کہ اپنے دونوں ہاتھ اس کے چوتڑوں کے نیچے سے رکھ کہ اسے اٹھا لیا اب پوزیشن یہ تھی کہ گڑیا نے اوپر بازوؤں سے میری گردن میں "جپھی" ڈال رکھی تھی اور اپنی ریشمی و مخملی ٹانگیں میرے پہلوؤں میں اٹھا رکھی تھی میرے دونوں ہاتھ اس نوخیز کلی کے فوم کے کشن جیسے چوتڑوں کے نیچے تھے گڑیا کی کمر کو میں نےٹوائلٹ کے دروازے سے لگاتے تھوڑا اور اٹھایا اور چہرے پر بوسے لینا شروع کیا ادھر جب پوزیشن تھوڑی بہتر ھوئی تو نیچے سے میں نے زاویہ درست کرتے اپنے لن کو جو پہلے ھی میری ناف سے لگا دہائیاں دے رہا تھا لن کو چوت کے ھونٹوں (جو اس پوزیشن میں تھوڑے کھل گئے تھے) میں رکھ کہ اپنے ہاتھوں سے گڑیا کو ہلاتے ھوئے لن کو مزید کنوارے سوراخ پر ایڈجسٹ کیا اور گڑیا کے منہ کو اپنے منہ میں لے کے چوسنے لگا اس وقت گڑیا ٹانگیں کھولے میری گردن کو پکڑے بالکل مطمئن تھی اور اس نے اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ رکھا تھا لن کو لیسدار آنسوؤں لبریز چوت کے منہ پر ٹکائے اس کے ھونٹ اپنے ھونٹوں میں دبائے دونوں ہاتھوں کو ایکدم سے ایسے ڈھیلا چھوڑا جیسے ہاتھ پھسل گئے ھوں اور اسی لمحے تھوڑے سے گھٹنے فولڈ کرتے لن کو ہلکا سا اوپر جھٹکا مارا جتنی مذی لن کی آنکھ سے بہہ رھی تھی اور لیسدار رطوبت سے چوت میں پھسلن تھی کسی تھوک یا تیل کی ضروت نا تھی اس ہلکے سے تجربے دار جھٹکے سے میرا "یک چشم دیو" ٹوپے سے کچھ ذیادہ چوت میں پھسل کہ پھنس چکا تھا میں نے فوراً گڑیا کو سنبھالتے ہوئے اوہ سوری جان کہا ادھر گڑیا کی چیخ میرے ھونٹوں میں رھ گئی تھی اور ایک دم جیسے جسم اکڑ گیا سانس اس کہ گلے میں اٹک گئی تھی تکلیف کے احساس سے اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے میں نے سب سے پہلے پیار کرتے گڑیا کی آنکھوں کو چوما اور اس کے نمکین آنسوؤں کا ذائقہ محسوس کیا پھر پورے چہرے پر بوسے لینے لگا اور "جان" ہاتھ پھسل گئے تھے کہہ کہ سوری کیا تھوڑی دیر بوسے لینے کے بعد گڑیا بھی میرا ساتھ دینے لگی اور اس کا جسم دوبارہ گرم ھونے لگا جب اس نے جسم تھوڑا ڈھیلا چھوڑا تو میں نے آہستہ آہستہ لن کو ادھر ہی ہلانا شروع کیا چند لمحوں بعد جب میں نے پوچھا کہ اب درد تو نہیں ھو رہی تو گڑیا نے نفی میں سر ہلایا مین نے اس پر وھیں رکھے تھوڑا اندر باہر کرنا شروع کیا گڑیا کو بھی شاید اب مزا آنے لگا تھا میں نے مزید وقت ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اندر باہر کرتے جب گڑیا نے چوت ڈھیلی چھوڑ کہ مزے و لطف سے سسکیاں لینی شروع کی تو میں نے نیچے سے ایک اور دھکا دیا جو پہلے کی نسبت زیادہ زور کا تھا چوت پھسلن زدہ اور ریلکس ھونے کی وجہ سے تقریبآ سارا لن اندر جا چکا تھا گڑیا نے ایک دفعہ پھر جسم اکڑا لیا تھا مگر مجھے پتہ تھا کہ اب درد پہلے سے کم ھے کیونکہ پہلے دھکے کے بعد میرے فوطوں (ٹٹوں) سے نیچے ہلکا سا بہنے والا کچھ اور نہیں اس کے پردہ بکارت (کنوار پن) کا خون تھا۔
اس دفعہ لن اندر گھس چکا تھا میں نے تھوڑا چومتے و پیار کرتے کہا بس میری جان ھو گیا اب درد نہیں ھو گی بس مزہ ھی مزہ اور بہت لطف آئے گا۔
تھوڑا چومنے، چاٹنے اور پیار بھری سرگوشیوں سے گڑیا نے اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ دیا اور میں نے ہلکی رفتار سے اسی پوزیشن میں گود میں اٹھائے چودائی شروع کر دی تھوڑی دیر میں گڑیا نے بھی چدائی سے لطف اندوز ھو ا شروع کر دیا۔
باقاعدہ دونوں طرف سے لذت بھری سسکاریاں نکلنے لگیں مجھے اندازہ تھا کہ ھم دونوں جلدی اپنی منزلوں پر پہنچ جائیں گے بلکہ گڑیا پہلے سواری کا بھرپور لطف اٹھاتے اپنی منزل پر پہنچے میں نے اپنا ذھن کنٹرول (خیالات کو کسی اور جگہ لے جا کہ ایسا کیا جا سکتا ھے) ذھن کنٹرول کیا گڑیا کو پیار سے چومتا اور چودتا رہا میری سپیڈ اب کافی تیز تھی جب گڑیا نے اپنے بازوؤں اور ٹانگوں سے مجھے بھینچا اور سختی سے لپٹ گئی اس کی چوت کی نمی بڑھ گئی تھی اور اس کے جسم کو ہلکے ہلکے جھٹکے لگ رھے تھے اور آہ ہ ہ کی تیز آوازوں کے ساتھ اس کا وجود ڈھیلا پڑنے لگا اسی اثنا میں نے بھی چند ٹکا کہ اور کس کہ لمبے جھٹکے لگائے میرے لن کہ چند مگر ٹھوس جھٹکوں سے گڑیا میرے لن پہ چند دفعہ ایسے اچھلی جیسے گھڑ سوار گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر ! چند جھٹکوں سے میں بھی اپنی منزل تک جا پہنچا اس کیفیت میں اکثر کنٹرول نہیں رھتا مگر میں نے گڑیا کو ایک ہاتھ سے سنبھالتے ھوئے نیچے اتارا اور دوسرے ہاتھ سے لن پکڑ کہ دبایا اور تھوڑا رخ تبدیل کرتے اپنے "جواھر خاص" کی پچکاریاں دیوار پر اچھال دیں۔
میرا اپنا اختتام شاندار تھا ادھر گڑیا میرے نرم پڑتے "خونخوار" لن کو دیکھ کہ اپنی چوت کا جائزہ لینے لگی اس کی ٹانگیں تو صاف تھیں مگر چوت اور اردگرد خون کے نشان تھے پہلے تو تھوڑا گھبرا گئی مگر میرے تسلی دینے پر پیشاب و استنجا کر کہ شلوار پہننے لگی میں نے بھی اپنی ٹانگیں دھوئیں اور شلوار پہن کہ گڑیا کا اور اپنا حلیہ چیک کیا اور واپس سیٹوں پر آ گئے۔
یہ واقعہ اختتام کو پہنچا۔
نوٹ: زندگی کی گاڑی جب چلتی ھے مختلف واقعات اس سفر میں پیش آتے رھتے ھیں پھر جب "ایک عمر" میں جا کر ماضی کے اوراق پر نظر دوڑائیں تو بہت عجیب یادداشتیں سامنے آتی ھیں ایسی ھی یادداشتیں کبھی کبھار (فرصت نکال کر) آپ سے شیئر کرتا رھوں گا۔
اگر آپ میری تحریروں میں سیکس اور صرف چدائی ھی چدائی دیکھنا چاہیں گے تو شاید میں آپ کے معیار پر پورا ناں اتروں کیونکہ میں نے وہی کچھ آپ کے گوش گزار کرنا ھے جو مجھ پر بیت چکی ھے۔
اب کتنے فی صد ریڈرز میرا انداز تحریر پسند کرتے ھیں یہ کمنٹس کرنے سے ھی پتہ چل سکے گا۔
(چند سنسنی خیز و خوفزدہ کرنے والے لمحات جب ٹرین اس دوران چند ایک دفعہ رکی
میں نے بوریت سے بچنے کے لیے سکپ کر دیے)

ختم شد

Posted on: 12:46:PM 27-Dec-2020


0 0 151 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com