Stories


نگینہ از ملکو ملکو

بالکل نامکمل کہانی ہے

یہ کسی بھی اس طرح کے فورم کے لیے میری پہلی تحریر ہے اسی لیے میں امید کرتا ہوں کہ غلطی کوتاہی وغیرہ آپ لوگ نظرانداز کردیں گے ۔میں یہاں صرف وہی کہانیاں لکھوں گا جو حرف بحرف سچی ہوں گی لیکن ظاہر ہے کرداروں کے نام اور جگہوں کے نام تبدیل ہوں گے اور میری کوشش ہوگی کہ ہر دوسرے دن ان کو اپڈیٹ کرتا رہوں ۔ سچی بات ہے کہ ابھی مجھے فورم کے رولز وغیرہ کا علم نہیں ہے لیکن گمان یہی ہے کہ ایڈمن صاحب ایک نئے بندے پر آسان رہیں گے ۔
میرا نام نبیل ملک ہے اور سب مجھے بچپن سے ملکو کے نام سے ہی بلاتے ہیں ۔ میرا تعلق لاہور سے ہے ۔ میرا تعلق ایک اچھے کھاتے پیتے گھر سے ہے یعنی بچپن سے ہی کبھی کسی چیز کی گھر میں تنگی یا کمی نہیں دیکھی ۔ والد صاحب آرمی میں بریگیڈئیر ہیں اور ابھی ریٹائیرڈ نہیں ہوئے،والدہ چند سال پہلے وفات پاگئی ہیں اور میری شادی ابھی تک نہیں ہوئی ۔ خود میں آرمی میں میجر ہوں ۔اس سے اپنے بارے میں بتانا مناسب نہیں ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے ۔ آج جو کہانی میں آپ سے شئیر کرنے جارہا ہوں یہ 2007 کی بات ہے ۔میں تب نیا نیا کیپٹن پروموٹ ہوا تھا اور ٹین کور صدر راولپنڈی میں ٹرانسفر ہوا تھا۔والدین میرے ساتھ نہیں رہتے تھے اور لاہور ہی ان کی مستقل رہائش تھی۔راولپنڈی صدر مال روڈ پر پی سی ہوٹل کے پیچھے آرمی سی ایس ڈی ہے اور سی ایس ڈی میرا اکثر چکر لگتا رہتا تھا ۔ سی ایس ڈی میں ایک سہ پہر کو میں گیا وہاں میرا ایک اور کورس میٹ کیپٹن فرید میرا انتظار کررہا تھا۔اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور اس کو اپنے گھر کے لیے کچھ فرنیچر خریدنا تھا۔آرمی میں اس لیول پر تب تنخواہیں قریب ساٹھ ہزار روپے کے آس پاس ہوتی تھیں اور اگر آپ کا بیک گراؤنڈ یعنی گھریلو حالات زیادہ اچھے نہیں تو اس تنخواہ میں بمشکل گزارہ ہی ہوسکتا تھا۔
میں نے اپنی گاڑی سی ایس ڈی میں کھڑی کی اور فرید کو فون کیا وہ فرنیچر والے سیکشن میں تھا میں وہاں چلا گیا اور سلام دعا کے بعد اس کے ساتھ مطلوبہ اشیاء کو دیکھنے لگے۔سی ایس ڈی سے چیزیں آسان ماہانہ اقساط پر مل جاتی ہیں اسی لیے کیپٹن فرید یہاں آیا تھا۔ہمیں کافی دیر ہوچکی تھی لیکن فرید کو ابھی مزید وقت لگنے والا تھا کیونکہ اس کو کچھ پسند نہیں آرہا تھا۔اتنے میں ایک مُناسب قد و قامت کی اور بھرے بھرے گداز جسم کی لڑکی جس کے نیم پلیٹ پر نگینہ لکھا تھا ہمارے پاس آگئی اور کہنے لگی کہ کیا میں آپ کی مدد کروں؟ میں نے سوالیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا تو وہ بولی میں یہاں پر مینیجر ہوں آپ کو کافی دیر سے دیکھ رہی ہوں تو سوچا آپ کی مدد کا پوچھ لوں۔
میں نے اب اس کی طرف غور سے دیکھا۔نگینہ کا رنگ گورا تھا ، بریسٹ سائز چونتیس رہا ہوگا، عام لڑکیوں کی نسبت مناسب قد اور کسا ہوا جسم اور سب سے خاص بات اس کی شاندار ابھری ہوئی راؤنڈ شیپ ہپس تھیں۔ اس کے چلنے کا انداز بھی نہایت شاندار اور سیکسی تھا۔مجھے محسوس ہوا کہ میں خواہ مخواہ ایک لڑکی کو گھورے جارہا ہوں جب کہ میں یونیفارم میں ہی تھا کیونکہ دفتر سے نکل کر سیدھا یہاں آگیا تھا۔فرید اب ایک سیلزگرل سے باتیں کررہا تھا تو میں نے نگینہ کو تلاش کیا کہ کہاں چلی گئی۔نگینہ بھی شاید فرید کو سیلز گرل کی مدد دے کر اندر دفتر میں چلی گئی تھی۔میں نے ایک لڑکی سے مینجر سے ملنے کا کہا تو اس نے کہا کہ میں آپ کو پوچھ کر بتاتی ہوں۔تھوڑی دیر میں وہی لڑکی آئی اور بولی سر میڈم نگینہ نے کہا ہے کہ آپ آفس آجائیں۔میں آفس کی طرف گیا۔اندر اے سی چل رہا تھا اور نگینہ اپنا دوپٹہ گلے میں لٹکائے اپنی کرسی پر تقریباً نیم دراز تھی۔مجھے دروازے پر دیکھ کر سیدھی ہوئی اور مسکرا کر اندر آنے کو کہا میں جاکر سامنے پڑی کرسی پر بیٹھ گیا۔نگینہ بولی آپ کُچھ لیں گے ، چائے یا ٹھنڈا ؟ میں نے کہا ایک گلاس ٹھنڈا پانی منگوا دیں ،اس نے سرہلایا اور انٹرکام پر کسی کو پانی لانے کے لیے کہا اور انٹر کام رکھ دیا۔
میں اس دوران خود کو روکتے روکتے بھی اس کی چست یونیفارم سے باہر مچلنے کو بے قرار بریسٹ پر نظریں جمائے بیٹھا تھا اور اس کو بھی پتہ تھا کہ میں اس کو دیکھ رہا ہوں اور نظریں بھی ٹھیک نہیں۔اس نے اپنا دوپٹہ اپنے سینے پر پھیلا لیا اور میں اس پرلطف نظارے سے محروم ہوگیا۔اسی اثنا میں ایک شخص پانی لے کر آیا اور میز پر رکھ دیا اور چلا گیا میں نے پانی کا گلاس اٹھایا اور پینے لگا ۔نگینہ اب میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی جیسے پوچھ رہی ہو کہ فرمائیے کیا کہنا تھا آپ کو ۔
ایسا نہیں تھا کہ میں نے کبھی لڑکی سے اس سے پہلے سیکس نہیں کیا تھا یالڑکی میرے لئے کوئی نئی شے تھی لیکن یہ نگینہ کوئی کمال ہی شے تھی۔شکل سے وہ ایسی تھی جیسے سوناکشی سہنا اور قد بھی عام لڑکیوں کینسبت اچھا تھا بہرحال میں نے ہلکا سے آگے ٹیبل کی طرف جکھتے ہوئےکہا “ چاہئیے تو بہت کچھ تھا اب پتہ نہیں آپ دے پائیں گی یا نہیں؟” وہمیری نظروں کی طرف دیکھنے لگی جو اس کے مموں پر فوکس تھیں لیکنسنجیدگی سے کہنے لگی آپ کو کیا چاہئیے؟
میں نے بھی اسی سنجیدگی سے کہا ویسے تو میں اپنے دوست فرید کے لئے فرنیچر دیکھنے آیا ہوں لیکن اب آگیا ہوں تو سوچرہا ہوں کچھ لے کر ہی جاؤں۔نگینہ میری بات سن کر کہنے لگی آپ شوروم جائیں جو چاہئیے ہو وہ دستیاب ہے ورنہکیٹلاگ لسٹ میں دیکھ کر آرڈر کر دیں اور مجھے اجازت دیں میں ذرا سا کام دیکھ لوں۔یہ صاف صاف اشارہ تھا کہ میاںاب نکلو میری جان چھوڑو۔میں بہرحال اٹھتے ہوئے پھر ملنے کا کہہ کر جانے لگا دروازے پر پہنچ کر میں نے واپس پلٹکر کہا نگینہ آپ شادی شدہ ہیں؟نگینہ نے نظریں میری طرف پھیریں اور کہا یہ کافی ذاتی سا سوال ہے کپتان صاحب اورمیں ذاتی سوالات کے جوابات نہیں دیتی آپ سے معذرت خواہ ہوں۔

جاری ہے

لکھاری نے کہانی یہاں تک لکھی ہے اگر کوئی اسے مکمل کرنا چاہے تو لکھ کر سینڈ کر دے

Posted on: 02:56:AM 28-Dec-2020


0 0 103 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 75 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 59 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com