Stories


مغلیہ سلطنت کے شب و روز از ساگر دل

نامکمل کہانی ہے

یہ سال 1620 تھا۔ مغل سلطنت اپنے نقطہِ عروج پر تھی۔   شہنشاہ جہانگیر اپنے سرکاری کام نبٹا کر اپنے محل سرا کی طرف جارہا تھا۔  محل میں داخل ہو کروہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا کہ ایک دم اسے ایک کمرے سے کسی کے کراہنے کی آواز آئی۔ پہلے اس نے نظر انداز کرنےکا سوچا،  پھر نہ جانےکیا سوچ کر وہ آواز کا تعاقب کرنے لگا۔ فوراََ ہی وہ سمجھ گیا کہ یہ آواز کہا ں سے آرہی ہے ۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ آواز اس کے بیٹےخرم کے کمرے سے آرہی ہے۔ وہ کمرے کی طرف بڑھا تو  کراہنے کی آواز مزید واضح ہوگئی۔ اسے یہ جاننے میں زیادہ دیر نہ لگی کہ یہ آواز کس کی تھی، یہ آواز اس کی کنیز دلربا کی تھی۔  جہانگیر نے کمرے کا دروازہ دیکھا تو وہ اندر سے بند تھا،  قریب تھا کہ وہ مایوس ہو کر واپس چل دیتا یا دروازہ کھٹکٹاتا، اسے خیال آیا کہ اس کےبیٹے خرم کے کمرے کی ایک کھڑکی باغ میں کھلتی تھی۔ باغ کا خیا ل آتے ہی وہ محل کی عمارت سے باہر گیا اور باغ کی طرف بڑھنے لگا۔ مغل بادشاہوں کے دور میں باغات بہت زبردست ہوا کرتے تھے۔ہر باغ میں انواع و اقسام کے پھول ہوا کرتے، اعلیٰ قسم کی گھاس لگائی جاتی، جس پر شہنشاہ  اور شاہی خاندان کے باقی افراد صبح و شام سیر کرتے۔ جہانگیر ایسے ہی ایک باغ سے گزر کر خرم کے کمرے کی طرف بڑھنے لگا۔ جب وہ کھڑکی کے سامنے آیا تو ایک دل دہلا دینے والا منظر اس کا منتظر تھا، لیکن وہ ذہنی طور پر اس کے لئے تیار تھا۔ اس نے دیکھا کہ اس کی کنیز دلربا ننگی بستر پر لیٹی ہوئی ہے، اور اس کا بیٹا خرم پوری آب و تاب سے کنیز کی چدائی کر رہا تھا۔  خرم کا لن ایک تواتر سے دلربا کی پھدی کے اندر باہر ہورہا تھا، اور یہ عمل ان دونوں کے لئے انتہائی راحت بخش تھا۔ دلربا چدواتے ہوئے آہستہ آہستہ کراہ رہی تھی جیسے اسے چدائی کا بھرپور مزہ آرہا ہو۔ پھر خرم نے اپنا لن دلربا کی پھدی سے نکالا اور بستر پر سیدھا لیٹ گیا۔ دلربا    اس کے اوپر آگئی اور اس نے اپنے خوبصورت ممے خرم کے منہ کے سامنے کر دئیے، جنہیں خرم مزے لے لے کر چوسنے لگا۔ ساتھ ساتھ وہ دلربا کی پھدی پر بھی ہاتھ پھیر رہا تھا۔
یہ منظر دیکھ کر جہانگیر کو ذرہ برابر حیرت نہ ہوئی کیونکہ مغل شہزادوں کا اپنی کنیزوں کو جنسی تسکین کے لئے استعمال کرنا معمول کا امر تھا۔ اسے وہ دور یاد آگیا جب وہ اپنی من پسند کنیز افشاں سے اپنا دل بہلایا کرتا تھا۔ آج اپنے بیٹے کو وہی کام کرتے دیکھ کر جہانگیر کے لن نے انگڑائی لی۔ گو کہ  اب اس میں جوان آدمیوں والا دم خم نہ رہا تھا لیکن عورت کو مطمئن کرنا  اسے آتا تھا۔ اس نے سوچا کہ ابھی تو  سونے میں کافی وقت پڑا ہے تو کیوں نہ آج دو جوان اجسام کا ملاپ دیکھ کر اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا اور جسم کو گرم کیا جائے۔  اب خرم نے دلربا کو بستر پر لٹایا اور خود اس کے سینے پر چڑھ گیا، اس نے دلربا کے دونوں مموں کو دبایا اور اپنا لن ان کے درمیان رکھ کراس کے ممے چودنے لگا۔ دلربا نے اپنے ممے سائیڈ وں سے زور سے دبائے تاکہ خرم کے لن کو زیادہ سے زیادہ مز ہ آئے۔ کچھ دیر تک دلربا کے ممے چودنے کے بعد خرم نے اپنا لن اس کے منہ میں ڈال دیا، جسے دلربا مزے لے لے کر چوسنے لگی۔ کافی دیر تک چوپے لگانے کے بعد دلربا نے خرم کا لن منہ سے نکالا اور کہنے لگی، "شہزادہِ عالی مقام، اب اور برداشت نہیں ہورہا، آپ اپنا یہ خوبصورت اور طاقتور ہتھیار میری تازہ چوت میں ڈال کر اس  کا حشر نشر کردیں۔" اپنے لن کی تعریف سن کر خرم مسکرایا اور اس نے  تھوڑا سا پیچھے ہٹ کر دلربا کی ٹانگٰیں اپنے کندھوں پر رکھیں، اور اپنا لن اس کی چوت میں داخل کردیا۔ دلربا  نے ہلکی سی چیخ ماری،  جسے سن کر باغ میں کھڑے جہانگیر کا لن مزے کے ساتویں آسمان پر پہنچ گیا۔ خرم نے آہستہ آہستہ اپنے دھکوں کی رفتار بڑھانا شروع کردی، اور اب وہ ٹھیک ٹھاک رفتار سے دلربا کو چود رہا تھا۔  ایک دم سے دلربا کا جسم تھوڑا سا اکڑ گیا اور اس کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا، لیکن خرم نے اس کی پھدی مارنا نہ چھوڑی۔ پانچ سات مزید تیز رفتار دھکوں کے بعد خرم کے ہتھیار نے بھی پانی چھوڑ دیا۔ خرم کےہتھیار کے  لیس دار مواد نے دلربا کی چوت کو سیراب کر دیا تھا۔ اور اب وہ تھک کر دلربا کے اوپر ہی گر گیا تھا۔
باغ میں کھڑے جہانگیر کا برا حال تھا، اس سارے منظر کو دیکھنے کے دوران اس نے اپنا لن پاجامہ سے باہر نکال لیا تھا اور اسے اپنے ہاتھوں سے سہلا رہا تھا۔ اس کا جی چاہا  کہ وہ جا کر دلربا کی پھدی میں اپنا ہتھیار داخل کردے، لیکن پھر کچھ سوچ کر اس نے ایسا کرنے کا ارادہ ترک کیا اور محل کی عمارت کے داخلی دروازہ کی جانب بڑھنے لگا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
صبح  صبح کا وقت تھا۔ ملکہِ عالیہ نور جہاں  اپنی خوابگاہ میں آرام فرما تھی۔ خوابگاہ کا دروازہ کھلا اور کنیز ِ خاص اندر داخل ہوئی۔ اس نے آکر نہایت ہی ادب و احترام اور احتیاط سے ملکہ کو بیدار کیا اور ملکہ کے پاؤں عرقِ گلاب سے دھوئے۔ پھر اس نے ملکہ کو شہد اور تازہ پھلوں کا رس پیش کیا، تاکہ ملکہ کی خوبصورتی برقرا ر رہ سکے۔ ملکہ تھی بھی انتہائی خوبصورت۔ لمبا قد، چاند جیسا خوبصورت چہرہ، چھوٹی چھوٹی کالی آنکھیں، ستواں ناک، گلابی ہونٹ، کولہوں کو چھوتے لمبے سیاہ بال،    موٹے موٹے تنے ہوئے سڈول ممے، گداز پیٹ ، مضبوط چوڑی رانیں، اور باہر کو نکلی ہوئی زبردست گانڈ۔ ملکہ نور جہاں حسن کا بے مثال نمونہ تھی، اور یہی وجہ تھی کہ عمر میں کچھ زیادہ ہونے کے باوجود بھی وہ شہنشاہ کو بہت محبوب تھی ، گو کہ پچھلے کچھ دنوں سے نور جہاں کسی وجہ سے جہانگیر سے لاتعلق  تھی۔ کافی دنوں سے دونوں نے اپنے بستر علیحدہ کر رکھے تھے۔   
پھلوں کا رس اور شہد پی کر ملکہ نے شاہی باغ کی سیر کرنے کا ارادہ کیا۔ کنیزِ خاص ملکہ کے ہمرا ہ تھی۔ محل سے باہر نکلتے وقت ملکہ خرم کے کمرے کے سامنے سے گزری، اس بات سے بے خبر کہ کل رات اسی کمرے میں اس کے بیٹے خرم نے اپنی کنیز کی چوت کا  کچومر نکالا تھا۔ شاہی باغ میں داخل ہونے پہلے ملکہ نے اپنا پاپوش اتار دیا اور نرم گھاس پر اپنے دودھیا پیر رکھے۔ اسے نرم گھاس پر ننگے پاوں چلنا بہت اچھا لگتا تھا۔ کنیزِ خاص اب بھی اس کے ہمراہ تھی۔ کچھ دیر بعد خدمت گار شاہی باغ کے باہر آ کھڑا  ہوا اور اندر آنے کی اجازت مانگنے لگا۔ ملکہ نے کنیز ِ خاص کو کہا کہ خدمتگار جو بھی پیغام لے کر آیا ہے، وہ اس سے پوچھ کر  آؤ۔ کنیز نے آکر بتایا کہ خدمت گار کہہ رہا ہے کہ آج کی شاہی دعوت کے لئے کھانا بالکل تیار ہے، اور شاہی باورچی عرض گزار ہے کہ ملکہ عالیہ ایک مرتبہ تشریف لا کر کھانے کا معائنہ کرلیں ۔
یہ پیغام سن کر ملکہ طیش میں آگئی، اور چیختے ہوئے کہنے لگی، "اس کمینے ، نمک حرام باورچی کی ہمت کیسے ہوئے کہ وہ ملکہِ ہندوستان کو اپنے پاس بلائے؟  یہ بات کہنے سے پہلے اسے موت کیوں نہ آگئی؟ اسے کہو کہ اگر اپنی جان کی سلامتی چاہتا ہے تو  خود ہماری خدمت میں حاضر ہوکر اپنا مدعا پیش کرے۔ تخلیہ!!!!"
ملکہ نے یہ جملے اتنے غصے میں کہے کہ کنیزِ خاص اور خدمت گار پر خوف طاری ہوگیا۔ خدمت گار کپکپاتا ہوا واپس چلا گیا اور کنیز وہیں دم سادھے کھڑی رہی۔ ملکہ کے رعب و دبدبے سے صرف محل کے ملازمین ہی نہیں، بلکہ پورا ہندوستان کانپتا تھا۔ ملکہ کے اختیار کا یہ عالم تھا کہ وہ اکثر بادشاہ کے احکامات کو بھی خاطر میں نہ لاتی تھی۔
"کنیزِ خاص" ملکہ ایک بار پھر دھاڑی۔
"ج ج ج ج جی ملکہِ عالیہ"۔ کنیزِ خاص نے کپکپاتے ہوئے کہا۔
"آج ہماری شہزادی کو دیکھنے کے لئے راجہِِ برما اپنے رااجکمار کے ساتھ آرہے ہیں، جن کے اعزاز میں شاہی دعوت کا انتظام ہے۔ ہم آج غسلِ خاص کرنا چاہتے ہیں۔ انتظا م کیا جائے"  ملکہ کے لہجے میں بلا کا اعتماد تھا۔
"جی ملکہِ عالیہ، جو حکم آپ کا۔ "
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
خدمت گار نے جا کر باورچی تلسی داس کو ملکہ کا پیغام حرف بہ حرف پہنچادیا۔ ملکہ کا جواب سن کر تلسی داس سیخ پا ہوگیا۔
تلسی: ملکہ نے  مجھے گالی د ے ڈالی؟؟؟؟ میری عمر بھر کی وفا کا بھی پاس نہ رکھا؟؟ یہ صلہ دیا میرے خدمتوں کا؟؟؟؟؟
خدمت گار: یار چھوڑ ناں اس بات کو! کیوں  مفت میں  اپنا دل جلاتا ہے۔ جانے دے۔ یہ بادشاہ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ نوازنے پر آئیں تو نسلیں سنوار دیں،ا ور اجاڑنے پر آئیں تو کنگال کر چھوڑیں۔ اچھا اب تو غصہ چھوڑ اور ملکہ کے حضور کھانا پیش کر  تاکہ تیرا کام تو ختم ہو۔
یہ کہہ کر خدمت گار چل دیا۔ لیکن تلسی داس کا غصہ  ختم ہونا تھا  نہ ہوا۔ اس نے دل میں ٹھان لی تھی کہ وہ ملکہ سے بہت زبردست انتقام لے گا، چاہے اس کسی حد تک ہی کیوں نہ جانا پڑے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ملکہ غسلِ خاص کے لئے گئی تو بادشاہ اپنی خوابگاہ سے نکل کر زنانے کی طرف گیا۔ وہاں جا کر اس نے دیکھا کہ اس کی کنیز  مہ پارہ تازہ پھولوں کا ہار تیار کررہی ہے۔ اس نے مہ پارہ کو اپنی خوابگاہ میں طلب کیا اور خود اپنی خوابگاہ میں واپس آگیا۔ وہ ابھی بستر پر لیٹا ہی تھا کہ مہ پارہ نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔ اجازت ملنے پر وہ اندر آئی اور کورنش بجا لائی۔ بادشاہ اس وقت شاہی لباس میں ملبوس نہ تھا بلکہ اس نے شب بسری کا لباس زیبِ تن کررکھا تھا۔ اس نے کنیز کو  کہا کہ وہ اس کی ٹانگوں پر روغنِ بادام سے مالش کرے۔ کنیز نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے  بستر کے قریب  دیوان پر پڑے روغنِ بادام سے بادشاہ کی ٹانگوں کی مالش شروع کی۔ اس نے پہلے نہایت احتیاط سے بادشاہ کا پاجامہ تھوڑا سا اوپر اٹھا یا  اور پھر مالش شروع کردی۔
مہ پارہ محل کی خوبصورت ترین کنیزوں میں سے ایک تھی۔ اس کی عمر اٹھارہ سال کے لگ بھگ تھی اور اس کی جوانی میں عجب اٹھان تھی۔ اس کا چہرہ انتہائی شاداب، ممے نہایت ہی مخروطی، اور گانڈ نہایت ہی شاندار تھی۔ اس کے سیاہ لمبے بال کولہوں  سے نیچے ٹانگوں تک جاتے اور اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں انتہائی دلکش تھیں۔ وہ جب محل میں چلتئ تو اس کے تھرکتے قدم ایک قیامت برپا کردیتے۔  وہ شہزادہ خسر و کی خاص کنیز تھی اور کئی مرتبہ ا س کے لن کو ٹھنڈ ک پہنچا چکی تھی، لیکن جب جہانگیر نے بغاوت کر جرم میں اپنے بیٹے کو قتل کروا دیا تو مہ پارہ جہانگیر کے پاس آگئی۔
جیسے ہی مہ پارہ کے ہاتھوں کا لمس بادشاہ کو محسوس ہوا، اس  کے لن نے ایک طاقتور انگڑائی لی ۔ وہ صبح ہی صبح چدائی کرنا نہ چاہتا تھا ، لیکن کل رات دیکھے ہوئے منظر اور  ایک جوان حسینہ کے ہاتھوں کے  لمس نے اس کو پوری طرح سے گرم کردیا تھا۔ اس نے کنیز کا ہاتھ پکڑا اور اپنے تنے ہوئے لن پر رکھ کر کہنے لگا، "یہاں بہت درد ہے، یہاں اچھے  طریقے مالش کرو۔"   مہ پارہ کوئی بچی تو نہ تھی  جو شہنشاہ کا مطلب نہ سمجھتی۔ وہ سمجھ گئی کہ آج صبح ہی صبح اسے شہنشاہ کو راضی کرنا ہے۔ وہ ایک ادا سے اٹھی اور بولی، "عالی جاہ ، اگر آپ کہیں تو  یہاں شہد اور مکھن کی مالش کردوں؟"
"کیوں نہیں، ضرور کرو۔ شہد اور مکھن کا استعمال تو لطف دوبالا کردے گا۔"
مہ پارہ نے پاس پڑے دیوان سے شہد اور مکھن اٹھا یا اور لے کر بستر پر چڑھ گئی۔ ماحول کو مزید گرم کر نے کے لئے اس نے اپنے کرتے پر لگی ڈوری کھول دی، جو اس کے سینے کے سامنے بندھی تھی۔ ڈوری کا کھلنا تھا کہ اس کے خوبصورت ممے جن پر چھوٹے چھوٹے گلابی نپل تھے،  ننگے ہو گئے،   جنہیں دیکھ کر شہنشاہ نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری۔   
مہ پارہ نے شہنشاہ کا پاجامہ اتارا اور اس کے لن پر شہد کی مالش شروع کردی۔ وہ اوپر ٹوپی سے لے کر لن کی جڑ تک اور پھر ٹٹوں تک شہد کو اچھی طرح مل رہی تھی۔ پھر اس نے مکھن کا پیالہ اٹھایا اور اس کو بھی اسی انداز سے لن پر مل دیا۔ پھر وہ لن کو آہستہ آہستہ سہلانے لگی، جس سے بادشاہ کراہنے لگا اور کہنے لگا، "مہ پارہ، تھوڑا سا شہد اور مکھن تم بھی تو کھاؤ ناں۔"
یہ بات سن کر  مہ پارہ بادشاہ کے لن پر جھک گئی اور لن کی ٹوپی کو منہ میں لے لیا۔  پھر وہ آہستہ آہستہ زیادہ لن اپنے منہ میں لے جانے لگی اور پھر ایک وقت آیا کہ اس نے اپنے منہ میں پورا لن ڈال لیا۔ چوپے لگانے میں اسے کمال حاصل تھا۔ بادشاہ نے مہ پارہ کو بالوں سے پکڑ لیا اور  وہ اس کا سر زیادہ تیزی سے لن پر اوپر نیچے کرنے لگا۔
کافی دیر چوپے لگانے کے بعد بادشاہ نے مہ پارہ کو کہا کہ وہ اپنے اور اس کے کپڑے اتار دے۔ مہ پارہ نےپہلے اپنے جسم  کو کپڑوں سے آزاد کیا اور پھر بادشاہ کے تن کو کپڑوں سے بے نیاز کردیا۔ بادشاہ نے مہ پارہ کو بستر پر لٹایا اور خود اس کے اوپر چڑھ کر اس کے ہونٹوں کو چوسنے لگا۔ جواباََ مہ پارہ نے بھی بادشاہ کے منہ میں اپنی زبان دے دی، جسے بادشاہ نے خوب چوسا۔ پھر جہانگیر اس کے مموں کی طرف متوجہ اور اس کے مموں کو چاٹنے لگا۔ اس نے پہلے دائیں ممے کے نپل کو منہ میں لے کر چوسا اور پھر اسے  زبان سے چاٹ چاٹ کر گیلا کردیا۔ یہی عمل اس نے بائیں ممے کے ساتھ کیا۔ پھر وہ مہ پارہ کی تازہ چوت کی طرف متوجہ ہوا اور اس نے اس کی گانڈ کے نیچے ایک تکیہ رکھ دیا۔ اس نے پہلے دو انگلیوں کو پھدی پر پھیرا، اور پھر اس میں اپنی زبان داخل کردی۔ وہ بڑے مزے لے لے کر مہ پارہ کی پھدی کو چاٹ رہا تھا۔ اپنی پھدی پر زبان محسوس کر کے مہ پارہ کی حالت غیر ہوگئی اور وہ بستر پر کسمسانے لگی۔ اس کی حالت دیکھ کر بادشاہ نے اس کی ٹانگیں کھولیں اور  شہد  ، مکھن، اور مہ پارہ کے تھوک میں لتھڑا ہواپنا لن اس کی پھدی میں داخل کردیا۔ پھدی بہت نازک تھی، اس لئے بادشاہ کو لن اندر کرنے میں مشکل ہوئی۔ اس نے ایک اور جھٹکا  دیا تو لن کا کچھ حصہ اندر گیا، جس کو اندر لے کر مہ پارہ نے ایک چیخ ماری، لیکن آواز اتنی کم تھی کہ خوابگاہ سے باہر نہ گئی۔ بادشاہ نے دھکے لگانے جاری رکھے، اور وہ اپنے  مکھنی لن سے مہ پارہ کی چوت کا ستیاناس کرتا رہا۔ اچانک بادشاہ  کو اپنے لن میں گدگدی محسوس ہوئی ، اور نہ چاہتے ہوئے  بھی اس نے اپنے لن کا پانی مہ پارہ کی چوت میں انڈیل دیا۔ وہ دراصل ابھی مزید مزے لینا چاہتا تھا، لیکن آخرکار وہ تھک کر مہ پارہ کے اوپر ہی گر گیا، اور اس کے ممے چوس کر اس کو مطمئن کرنے لگا، اس نے اپنا لن مہ پارہ کی پھدی سے باہر نہ نکالا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اس کا لن خود ہی پھدی سے باہر آگیا، جسے مہ پارہ نے اپنے کومل ہاتھوں میں پکڑ کر ہلانا شروع کردیا ۔ دیکھتے ہی دیکھنے بادشاہ کا لن دوبارہ کھڑا ہوگیا، اور اس نے دوبارہ سے  لن اپنی پھدی میں لے لیا۔ بادشاہ زور زور سے جھٹکے لگاتا رہا اور پھر آخرکار دونوں ایک ساتھ فارغ ہوئے۔ فارغ ہونے کے بعد بادشاہ نے مہ پارہ کے چہرے پر بوسوں کی بارش کردی اور پھر وہ نڈھال ہو کر اس کے پہلو میں لیٹ گیا۔ کچھ دیر بعدمہ پارہ اٹھی او ر اس نے ادب کے طور پر بادشاہ کے سوئے ہوئے لن کو چوما اور پھر بادشاہ کو دوبارہ کپڑے پہنائے۔ اس کے بعد وہ ننگی ہی کمرے سے باہر نکلی اور محل سرا کی طرف بڑھی،  تاکہ باقی کنیزیں بھی یہ بات جان لیں کہ آج بادشاہ کے نیچے لیٹنے کا قرعہِ فال کس کے نام نکلا ہے، کیونکہ محل کے رواج کے مطابق جو کنیزبھی پہلی بار بادشاہ کا لن لیتی ، وہ اگر چاہے تو ایک دن کے لئے محل میں ننگی رہ سکتی تھی ۔
غسلِ خاص کے لئے کنیزِ خاص نے  ملکہ کے مخصوص حوض میں عرقِ گلاب بہت زیادہ مقدار میں شامل کروایا اور پھر حوض کے کنارے کچھ خصوصی سامانِ غسل رکھوادیا۔ پھر وہ  اپنے کپڑوں سمیت حوض میں داخل ہوگئی۔ اس کے بعد دو کنیزوں مہ جبین  اور ناظمہ نے ملکہ کو اپنے بازووں میں اٹھا کر حوض  کے اندر اتار دیا۔ حوض میں پانی کی سطح کا یہ عالم تھا کہ پانی ملکہ کی ناف کے کافی اوپر اور مموں سے کچھ نیچے تک آتا تھا۔  جب ملکہ اندر آگئی تو اس نے ان 2 کنیزوں کو وہاں سے چلے جانے کا حکم دیا اور کنیزِ خاص سے کہا کہ غسل شروع کیا جائے۔  کنیزِ خاص نے پہلے تو ملکہ کے بالوں کا جوڑا کھولا اور پھر اس کے شاہی لباس کا اوپری حصہ اتار دیا، جس سے ملکہ کے ممے تن کر سامنے آگئے۔ اتنے دودھیا، موٹے، تنے ہوئے گلابی ممے دیکھ کر کنیزِ خاص کا جی چاہا کہ وہ ان مموں کو اپنے منہ میں لے لے، لیکن اس نے اپنے اوپر قابو پایا۔ پھر اس نے ملکہ کے لباس کا نچلا حصہ بھی اتار دیا۔ اب ملکہ تالاب کے اندر بالکل ننگی تھی، لیکن باہر کھڑے شخص کو صرف ملکہ کے جسم کا اوپری حصہ ہی نظر آسکتا تھا۔ کنیز نے  طلائی کٹورے کی مدد سے ملکہ کے پورے جسم خصوصا چہرے کو اچھی طرح دھویا۔ پھراس نے حوض کے کنارے پڑی ایک بوتل اٹھائی اور اس میں سے تھوڑا ساشہد اپنی ہتھیلی پر انڈیلا  اور اپنے ہاتھوں پر مل لیا۔ پھر اس نے انہی ہاتھوں سے ملکہ کے مموں کا مساج شروع کردیا۔ ملکہ نے اپنی آنکھیں بند کرکے گردن ایک طرف کو کر لی۔ کنیز نے شہد اچھی طرح سے ملکہ کے مموں پر مل دیا اور پھر اس نے  ان مموں کو بڑے نازک انداز سے دبانا شروع کیا۔ گو کہ ایسا کرتے ہوئے کنیزِ خاص پر شہوت طاری ہورہی تھی، مگر اس  نے ملکہ پر ایسا ظاہر نہ ہونے دیا  اور اس کے ممے مسلتی رہی۔ پھر اس نےمموں کو اچھی طرح دھودیا۔ پھر  اس نے حوض کنارے پڑی ایک اور شیشی اٹھائی اور اس میں سے کچھ رطوب اپنی ہتھیلی پر انڈیلا۔ اس نے یہ رطوب اپنے ہاتھوں پر ملا، اور   ملکہ کو کہا کہ وہ  پانی سے باہر نکل کر حوض کنارے سیدھی لیٹ جائے، تاکہ اس کی پھدی اور گانڈ کی صفائی ہوسکے۔ ملکہ حوض کے کنارے پر ہی بالکل سیدھا لیٹ گئی۔ اس کے ممے آسمان کی طرف تنے ہوئی تھے اور پھدی بالوں سے بالکل پاک تھی۔ پیٹ بالکل نہ ہونے کر برابر اور انتہائی گداز تھا۔ ملکہ کے شاندار ممے اورخوبصورت  پھدی دیکھ کر کنیزِ خاص کی چوت گیلی ہونے لگ گئی، لیکن وہ اپنے کام میں جتی رہی۔ اس نے ملکہ کی پھدی پر اپنے ہاتھوں سے مساج کیا  اور ملکہ کی پھدی کو آہستہ آہستہ مسلنے لگی ۔ اپنی پھدی پر کنیزِ خاص کی انگلیاں محسوس کر کے ملکہ نے فرطِ جذبات میں آکر اپنی آنکھیں بند کرلیں۔   پھر کنیزِ خاص نے یہی عمل ملکہ کی گانڈ کے ساتھ کیا۔ اس نے ملکہ کی ٹانگیں تھوڑی سی اٹھائیں، اور گانڈ کے سوراخ پر بھی وہ رطوب ملا۔ پھر اس نے ملکہ کو کہا کہ وہ پیٹ کے بل لیٹ جائے۔ جب ملکہ الٹی لیٹ گئی تو اس کی شاندار گانڈ اب کنیزِخاص کے سامنے تھی۔ بڑے بڑے چوتڑ جو کسی بھی لن کو کھڑا کرنے کے لئے کافی تھے، اس وقت کنیزِ خاص کے سامنے تھے۔ کنیزِ خاص کا جی چاہ رہا تھا کہ اگر اسے لن لگا ہوتا تو وہ بغیر دیر کئے اپنا لن ملکہ کی گانڈ میں گھسا دیتی۔ لیکن کنیز نے ایک بار پھر اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے ملکہ کی شاندار گانڈ پر رطوب ملا اور گانڈ کا بھرپور مساج کیا۔  اس کے بعد کنیز ملکہ کو پھر سے حوض میں لے گئی اور اس کے پورے جسم کو ایک بارپھر اچھی طرح سے دھویا۔ اپنی شہوت کے زیرِ اثر  کنیز گاہے گاہے ملکہ کے مموں کو دبا دیتی، یا اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیرتی، لیکن اس طرح کے ملکہ کو  محسوس نہ ہو کہ کنیز ایسا شہوانی جذبات کی وجہ سے کر رہی ہے۔  نہانے کا عمل پورا ہوا تو  کنیزِ خاص نے  ملکہ کو حوض سے باہر کنارے پر بٹھا دیا ۔ وہ آواز دے کر مہ جبین اور ناظمہ کو بلانے والی تھی تاکہ وہ ملکہ کے لئے لباس پیش کریں، لیکن ملکہ نے اسے منع کردیا  اور ملکہ ننگی ہی اپنے حرم سرا کی طرف چل دی۔ اس کے چلنے سے نہ صرف اس کے ممے انتہائی شہوانی انداز میں ہل رہے تھے، بلکہ اس کی گانڈ بھی کمال منظر پیش کر رہی تھی۔ ملکہ اپنی گانڈ مٹکاتی اور ممے ہلاتی  حرم سرا کی طرف بڑھ رہی تھی، مگر وہ شاید اس بات سے بے خبرنہ  تھی کہ  باورچی تلسی داس ملکہ کو حوض پر نہاتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
قسط سوم
  دوپہر کو ملکہ اپنے کمرے میں موجود تھی  اور اپنی ا یک خادمہ سے اپنے پاوں دبوا رہی تھی۔ یکایک ملکہ کو  تلسی داس کا خیال آیا۔ اس نے خادمہ سے کہا کہ تلسی داس کو فوراََ حاضر کیا جائے۔  خادمہ نے  کمرے کے باہر بیٹھی کنیز سے کہا کہ وہ تلسی داس کو بلا بھیجے۔ کنیز نے حرم سرا کے داروغہ کو ملکہ کا پیغام دیا، جس نے فوراََ ہی تلسی داس کو بلا بھیجا۔ تلسی داس  کو جب ملکہ کا پیغام ملا، تو ملکہ کا ننگا جسم ان کے ذہن میں تازہ  ہوگیا۔ اس کا جی چاہا کہ ملکہ اس کے سامنے ہو اور وہ اس کےمموں پر بوسوں  کی بارش کردے ، اس کی شاندار پھدی میں اپنا لن داخل کردے، اس کی گانڈ کو چاٹ چاٹ کر لال کردے۔ لیکن وہ ایک کمزور انسان تھا۔ اس کے پاس اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ ملکہ نور جہاں جیسی طاقتور عورت سے جنسی تعلقات قائم  کرتا۔لیکن یہ فیصلہ اس نے کر رکھا تھا کہ وہ ملکہ سے اپنی بے عزتی کا بدلہ ضرور لے گا ۔
تلسی داس ایک غیر شادی شدہ کڑیل جوان آدمی تھا۔ اس کا جسم انتہائی گھٹیلا تھا۔ وہ ورزش کرنے کا عادی تھا، جس کی وجہ سے اس کا سینہ نہایت کشادہ ہوگیا تھا۔ اس کے ڈولے انتہائی ہیبت ناک قسم کے تھے اور رانیں انتہائی مضبو ط تھیں۔ اس کے جسم کا ایک بہت ہی خاص حصہ اس کا لن تھا۔ ہندو ہونے کی وجہ سے اسکے باپ  نے  اس کے لن کے ختنے نہیں کروائے تھے،  لیکن جب تلسی داس کو  کسی نے یہ بتایا کہ ختنے کروانے سے لن صحتمند ہوجاتا ہے تو اس نے اپنے ختنے کروالئے۔ اس کا لن انتہائی لمبا، تگڑا، اور موٹا تھا۔ اکثر مٹھ مارتے ہوئے اس کا لن اس کی ہتھیلی میں قابو نہ آتا تھا۔ لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ اتنا مضبوط لن ہونے کے باوجود اس نے آج تک کسی عورت کو اپنے نیچے نہیں لٹایا تھا۔ محل کی اکثر کنیزیں اس پر فدا تھیں اور گاہے گاہے اس سے تعلقات قائم کرنے کی کوششیں کرتی رہتی تھیں، لیکن اس نے کسی کو کبھی منہ نہیں لگایا تھا۔ اس کی اگر کسی سے سلام دعا تھی تو وہ صرف ناظمہ اور مہ جبین سے، اور اس کی بھی ایک خاص وجہ تھی ، اور وہ یہ کہ کافی عرصہ قبل تلسی داس نے ا یک مرتبہ مہ جبین کے بھائی  کو دریا میں ڈوبنے سے بچایا تھا، اور ناظمہ کے باپ کو سانپ کے  کاٹنے سے بچایا تھا ۔ یہ وہ دو احسانات تھے  جو تلسی داس نے ان دونوں کنیزوں پر کئے تھے۔
صبح ہی صبح جب اسے ملکہ کا توہین آمیز پیام ملا تھا تو اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ  ملکہ سے بدلے لینے کے لئے مہ جبین اور ناظمہ سے مدد لے گا۔ اس نے جب اس بات کا ذکر  ان دونوں کنیزوں سے کیا تو ان دونوں نے اول تو صاف انکار کردیا، لیکن جب اس نے ان کو اپنے احسانا ت یاد دلائے تو وہ مان گئیں ۔ تلسی داس نے انہیں کہا کہ انہیں بس ملکہ کی نقل و حرکت کی خبر اس تک پہنچانی ہوگی۔یہ کام مہ جبین اور ناظمہ نے بہت اچھے طریقے سے کیا۔ ادھر ملکہ اپنے کمرے سے غسل کے لئے نکلی، ادھر مہ جبین نے تلسی داس کو ناظمہ کے ہاتھوں پیغام بھیج دیا۔  وہ فوراََ سب کا م چھوڑ کر حوض کے قریب پہنچ گیا، اور وہاں چھپنے کے لئے کوئی جگہ ڈھونڈنے لگا۔ بالآخر اسے حوض کے قریب ہی ایک گھنا پودا نظر آیا، جس کی اوٹ  لے کر تلسی داس بیٹھ گیا۔ جب ملکہ حوض کے اندر داخل ہوئی تو تلسی نے اپنی تما م تر توجہ ملکہ پر مرکوز کردی۔  جب کنیز نے ملکہ کو کپڑوں سے آزاد کیا تھا، اس وقت ملکہ کی پشت تلسی داس کی طرف تھی، اس لئے وہ ملکہ کے ممے نہ دیکھ سکا۔ لیکن  جب ملکہ پھدی اور گانڈ صاف کروانے کے لئے حوض کے کنارے لیٹی، تو تلسی داس کی باچھیں کھل گئیں۔ اس نے پہلے بھی بہت مرتبہ ملکہ کو دیکھا تھا لیکن ملکہ کو اس حالت میں آج پہلی بار ہی دیکھ رہا تھا ۔ اسے آج احساس ہورہا تھا کہ ملکہ  کتنے کمال جسم کی مالک تھی۔ ملکہ کے ممے، پھدی، اور گانڈ کا نظارہ کر کے تلسی داس کا لن ایک دم اکڑ گیا، اور وہ اپنے لن کو پاجامہ کے اوپر سے ہی سہلانے لگا۔ لیکن جب کنیز نے ملکہ کو الٹا لٹایا تو تلسی داس اپنا ہوش کھو بیٹھا۔ اس نے دیکھا کہ ملکہ کے ممے اتنے بڑے بڑے تھے کہ اس کے لئے الٹا لیٹنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ وہ اپنا سینہ آگے سے تھوڑا سا اٹھائے ہوئے تھی تاکہ اس کے ممے زمین سے مس نہ ہوں۔ ملکہ کی اوپر اٹھی ہوئی شاندار گانڈ بھی تلسی داس کو گرم کرنے کے لئے کافی تھی۔    اس نے اپنا لن پاجامہ سے باہر نکال لیا اور  زور زور سے اس کی مٹھ مارنے لگا۔ اسے اپنے اوپر قابو پانا مشکل لگ رہا تھا۔ اتنی دیر میں ملکہ دوبارہ حوض میں داخل ہوگئی۔ چونکہ اب تلسی داس کو ملکہ کے چوڑے کندھوں اور کمر کے کچھ حصے کےعلاوہ  کچھ نظر نہ آرہا تھا، اس لئے اس نے مٹھ لگانے کی رفتار کم کردی۔ پھر جب ملکہ حوض کنارے بیٹھی تو تلسی داس کے لن نے ایک زبردست انگڑائی لی۔ اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس نے دیکھا کہ ملکہ ننگی حالت میں ہی حرم سرا کی طرف جارہی تھی۔ ملکہ کے ممے ایک خاص  ترتیب میں ہل رہے تھے، جب کہ اس کی چوڑی چکلی رانیں اس کے نسوانی حسن میں زبردست اضافہ کر رہی تھیں۔ ملکہ کی گانڈ اس کے جسم  کے نمایاں ترین حصوں میں سے ایک تھی، جسے دیکھ کر تلسی داس کے  مضبوط لن نے بھی ہار مان لی، اور منی کی ایک زبردست دھار چھوڑی جو زمین میں جذب ہونا شروع ہوگئی۔ مٹھ مارتے ہوئے تلسی داس بر ی طرح ہانپ رہا تھا۔ اس نے کبھی کسی عورت کو ننگا نہ دیکھا تھا، لیکن آج جو اس نے دیکھ لیا تھا، وہ اس کے حواس تباہ کرنے  کے لئے کافی تھا۔  جب اس کے لن نے سارا پانی باہر انڈیل دیا تو وہ ہانپتا ہوا وہیں بیٹھ گیا، اور تب تک  ملکہ بھی اس کی نظروں سے اوجھل ہوچکی تھی۔  وہ کچھ دیر بعد اٹھا اور احتیاط سے باورچی خانے کی طرف چل پڑا۔
اب جب اتنا گرم نظارہ دیکھنے کے بعد ملکہ نے  تلسی داس کو بلا بھیجا تھا تو  وہ سوچنے لگا کہ وہ  ملکہ کے سامنے  جا کر اس سے نظریں کیسے ملا پائے گا۔ یہی بات سوچتے سوچتے وہ ملکہ کے حرم سرا کے باہر قائم ملازموں کے لئے مختص جگہ کی طرف عازمِ سفر ہوا۔
کنیز مہ پارہ جب جہانگیر کے لن کو سکون پہنچانے کے بعد جب حرم سرا میں داخل ہوئی تو سب سبے پہلے اس کی ملاقات دلربا سے ہوئی۔ اسے  ننگی حالت میں دیکھ کر دلربا فوراََِ  سارا معاملہ سمجھ گئی۔  اس نے خوشی سے آگے بڑھ کر مہ پارہ کو گلے لگایا اور اس کی گانڈ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا:
" تو آج میری شہزادی نے شہنشاہ کی خوب خدمت کی ہے ناں؟" یہ کہہ کر دلربا مہ پارہ سے الگ ہوئی اور نیچے فرش پر بیٹھ گئی۔ ننگی مہ پارہ بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔
"ہاں  دلربا، میں نے شہنشاہ کی سیوا میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، روغنِ بادام، شہد، مکھن، سب کچھ استعما ل کیا۔ زندگی کا لطف آگیا۔ " مہ پارہ نے جواب دیا۔
"تجھے پتہ ہے مہ پارہ، تجھے یہ اعزاز دلانے میں میرا بھی کچھ حصہ ہے؟" دلربا نے کہا۔
"وہ کیسے؟ کیا تو نے شہشناہ کے لن کی سواری کرتے ہوئے ان کی توجہ میری جانب دلائی تھی؟" مہ پارہ نے پوچھا۔ وہ جانتی تھی  کہ دلربا بھی کئی مرتبہ جہانگیر کا لن اپنی پھدی میں لے چکی ہے۔
"ارے نہیں پگلی، ہوا کچھ یوں کہ کل رات میں شہزادہ خرم کے ساتھ ان کے کمرے میں تھی۔ جب  شہزادہ اپنے لن سے میرے ممے چود رہا تھا تو میں نےشاہی باغ کی طرف کھلنے والی کھڑکی کی طرف دیکھا۔ گو کہ اندھیرا چھا چکا تھا، لیکن باغ میں لگے قمقموں کی روشنی میں میں نے دیکھ لیا کہ شہنشاہِ معظم مجھے  اپنے ممے چدواتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔  اب  یہ تو تمہیں بھی پتہ ہے کہ ملکہ کافی دن سے بادشاہ سے لاتعلق ہے، تو اب شہنشاہ نے اپنی گرمی کسی پر تو نکالنی تھی، سو آج تیری باری آگئی۔ " دلربا نے تفصیلاََ بتایا۔
"اچھا جی، تو یہ اصل بات ہے، ویسے ایک بات تو بتا، تو ایک عرصے سے شہزادہ اور شہنشاہ کے لن کی سواری کر رہی ہے، تجھے زیادہ مزہ کس نے دیا؟"ورطہِ حیرت میں ڈوبی مہ پارہ نے سوال کیا۔
"یار سچ پوچھ تو شہنشاہ کا چدائی کا تجربہ بہت زیادہ ہے۔ وہ عورت کی چوت کی گہرائیوں تک سے واقف ہے۔اس لئے 50 برس سے زیادہ ہونے کے باوجود شہنشاہ کے لن میں  بہت طاقت ہے، لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو شہزادہ خرم بھی کسی سے کم نہیں۔ جوانی کی اٹھان کا مزہ ہی اپنا ہے۔ خرم کے پاس بھلے شہنشاہ جتنا تجربہ نہیں، لیکن اس کے لن کی مضبوطی کے میں صدقے جاوں۔ میرا تو جی چاہتا ہے کہ ہر وقت میری پھدی میں خرم کا لن گھسا رہے۔ خرم نہ صرف پھدی چودنے میں یدِ طولیٰ رکھتا ہے، بلکہ باقی کاموں مثلاََََ ممے چودنا، گانڈ چاٹنا میں بھی انتہائی مشاق ہے۔" دلربا  نے ایک بار پھر تفصیلاََ جواب دیا۔
" او ہاں سہیلی، یہ تو بتا کہ ممے کیسے چودے جاتے ہیں؟" مہ پارہ نے پوچھا۔
"تجھے نہیں پتہ؟" دلربا نے حیرت سے پوچھا۔
" نہیں  سہیلی، میں نہیں جانتی۔ پہلے مجھے شہزادہ خسرو چودا کرتے تھے، اور آج شہنشاہ نے چودا، اور دونوں نے کبھی ایسا کچھ نہیں کیا۔ میں نے تیرے منہ سے ہی اس کا ذکر سنا ہے۔ " مہ پارہ نے جواب دیا۔
"ٹھہر ، میں ابھی تجھے کرکے دکھاتی ہوں، تیرے ننگے جسم کا کچھ فائدہ میں بھی تو اٹھاؤں۔ "  دلربا نے کہا۔ مہ پارہ جواباََ مسکرا دی۔
دلربا اپنی جگہ سے اٹھی اور کمرے سے باہر چلی گئی۔ کچھ لمحات بعد وہ واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی رسی اور ایک لکڑی کا  ٹکڑا تھا، جو  تقریباََ ایک انچ موٹا اور چھ انچ لمبا تھا۔
"یہ کیا لے آئی ہے تو؟" مہ پارہ نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔
"ابھی دیکھ میری جان"  دلربا نے کہا۔
اس نے  لکڑی کے ٹکڑے کو رسی سے اس طرح باندھا کہ ٹکڑے کے دونوں طرف  تقریباََ برابر لمائی میں رسی موجود تھی۔ پھر دلربا نے یہ رسی اپنی  پھدی کے اوپر اس  طرح باندھ لی کہ لکڑی کا ٹکڑ ا دلربا کی پھدی کے عین سامنے آگیا۔ یو ں ایسا لگنے لگا جیسے دلربا کو ایک لن لگا ہوا ہے۔ یہ سب دیکھ کر مہ پارہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ وہ کہنے لگی
"دلربا یہ کیا؟ تو نے یہ سب کہاں سے سیکھا؟"
"دیکھ لے میری جان۔ دلربا کسی عام چیز کا نام تو نہیں ہے ناں، نہ جانے آج تک کتنے لن لے چکی ہوں، کتنی پھدیاں چاٹ چکی ہوں، تب کہیں جا کر یہ سب سیکھا ہے۔"  دلربا نے جواب دیا۔
"وہ تو سب ٹھیک ہے  مگر یہ  تجھے سکھایا کس نے؟" مہ پارہ نے اضطراب کی حالت میں استسفار کیا۔
" تجھے پتہ ہے ناں کہ شہزادہ خرم نے گجرات کے علاقہ میں انگریزوں کو کاروبار کرنے کی اجازت دے رکھی ہے ۔ میں جب شہزاد ے کے پاس وہا ں رہا کرتی تھی تو ایک دن شہزادہ نے مجھے ایک انگریز کے گھر ایک ہفتے کے لئے بھیجا۔ اب کس کام کے لئے بھیجا، یہ بتانے کی ضرورت تو ہے نہیں، لیکن مزے کی بات یہ کہ اس انگریز افسر کی بیوی بھی ایک نمبر کی رنڈی تھی۔ میں نے کئی مرتبہ  دیکھا کہ انگریز کے چلے جانے کے بعد اس کے کمرے میں اس کے شوہر کے دوست آکر بھرپور غل غپاڑہ کرتے۔ وہ عورت اتنی بڑی رانڈ تھی کہ ایک دن اس گشتی عورت نے مجھ سے اپنی پھدی چٹوائی، حالانکہ اس دن میرا ایسا کرنے کا بالکل من نہ تھا۔ پھر اگلے دن اس عورت نے پھر مجھے اپنے کمرے میں بلایا اور اس مرتبہ پھدی چٹوانے کی بجائے اس نے مجھے ننگا کیا اور میر ے ممے چوسنے شروع کردئیے۔ پھر وہ میری پھدی پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ میری حالت اتنی بری ہوئی کہ میں نے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ اس عورت نے میرے ڈوپٹےسے میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی ، اور پھر دوبارہ پھدی چاٹنے لگ گئی۔ یکا یک وہ رک گئی ، جس سے میں حیران ہوئی۔ میں نے دیکھنا چاہا لیکن مجھے کچھ نظر آیا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کرتی، میری پھدی میں کسی نے کوئی بہت موٹی چیز گھسا دی۔ ایک لمحے کے لئے مجھے لگا کہ شاید میرا انگریز مالک کمرے میں آگھسا ہے اور اس نے اپنا لن میری پھدی میں گھسا یا ہے ۔ دوسرا خیا ل یہ آیا کہ شاید اس گشتی انگریز عورت نے  اپنے کسی یار کو میری پھدی مارنے کا کہا ہے۔ لیکن جب اس انگریز عورت نے میری آنکھوں نے پٹی کھینچی، تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ وہ انگریز عورت میرے اوپر چڑھی ہوئی تھی اور گھسے پہ گھسہ مار رہی تھی۔ میں نے نیچے دیکھنے کی کوشش کی، لیکن چونکہ اس عورت نے اپنے ہاتھ میرے کندھوں پر رکھے ہوئے تھے، میں ٹھیک طرح سے دیکھ نہ سکی۔ جب میر ی پھدی نے پانی چھوڑ دیا تو وہ گشتی میرے اوپر سے اتری اور تب میں نے دیکھا کہ اس نے اسی لکڑی کے ٹکڑے جیسا ایک ٹکڑا  ایک رسی کی مدد سے اپنے جسم کے ساتھ باندھا ہوا تھا، اور اسی ٹکڑے کی مدد سے وہ مجھے چود رہی تھی۔ یہ دیکھ کر میں بہت حیران ہوئی۔ پھر اس عورت نے وہ رسی میرے جسم کے ساتھ باندھی اور پھر میں نے اس رنڈی کی ٹھیک ٹھاک چدائی کی۔ جب میں وہاں سے واپس شہزادہ کی طرف آنے لگی تو اس عورت نے مجھے اس طرح کے تین چار ٹکڑے دئیے، جو آج تک میرے پاس ہیں، اور آج اسی ٹکڑے کی مدد سے میں تیرے ممے چودوں گی۔" دلربا نے پوری کہانی سنا ڈالی۔یہ سب کچھ سنتے ہوئے  مہ پارہ اپنی پھدی پر ہاتھ پھیرتی رہی ، اور اب اس کی چوت اچھی خاصی گیلی ہوچکی تھی۔
"تو پھردیر کس بات کی ہے میر ی جان؟" مہ پارہ نے کراہتے ہوئے کہا۔
یہ سن کر دلربا نے مہ پارہ کو سیدھا لٹا دیا، اور سب سے پہلے اس کی گیلی پھدی پر ایک بوسہ لیا اور کہا،
"یہ ہے وہ حسین چوت جس میں آج شہنشاہ کا لن داخل ہوا۔" مہ پارہ کے سینے میں خوشی کی لہریں دوڑ گئیں۔
پھر دلربا مہ پارہ کے پیٹ پر بیٹھ گئی اور اس کے دونوں مخروطی مموں کو اطراف سے اندر کی طرف اکٹھا کیا، تاکہ ممے ایک دوسرے کے حتیٰ الامکان  قریب آ جائیں۔  پھر اس نے مہ پارہ سے کہا کہ وہ اپنے مموں کو سائیڈوں سے پکڑ کر رکھے تاکہ وہ دوبارہ اطراف کو ڈھلک نہ جائیں۔ مہ پارہ نے ایسا ہی کیا۔ پھر دلربا نے اپنا لکڑی کا لن مہ پارہ کے مموں کےدرمیان داخل کردیا اور اسے آگے پیچھے کرنے لگی۔
" اسے کہتے ہیں مموں کو چودنا۔ مزہ آرہا ہے نا میری جان؟ " دلربا نے کہا۔
"ہاں دلربا ،  اس کام کا تو مزہ ہی نرالا ہے۔   " مہ پارہ نے جوا ب دیا ۔
مہ پارہ پہلی مرتبہ ممے چدوا رہی تھی، اس لئے اس کے اندر مزے کی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ اسے اتنا مزہ آیا کہ اس کا جسم ایک دم اکڑ گیا اور اس کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا۔ یہ دیکھ کر دلربا نیچے اتر گئی اور مہ پارہ کی چوت چاٹنے لگ گئی۔ مہ پارہ اب تک ہانپ رہی تھی جب کہ دلربا کی حالت بھی کچھ ٹھیک نہ تھی۔
جب دونوں کے جسم کچھ پرسکون ہوئے تو مہ پارہ  نے دلربا سے پوچھا،  "کیا آج رات بھی تم شہزادہ خرم کے پاس جاؤ گی؟"
"رات  تو پھررات، شہزادے کا لن اگر دن میں بھی کھڑا ہوگیا تو وہ مٹھ مارنے کی بجائے  مجھے یاد کرلے گا۔ آخر میں ان کی محبوب کنیز جو ہوئی۔"  دلربا نے اٹھلاتے ہوئے کہا ۔
"اچھا بات سنو۔ اگر تم آج رات وہاں اپنی جگہ مجھے بھیج دو تو کیسا رہے گا؟ میں بھی تو دیکھوں کہ جوان لن سے چدوانے میں کتنا مزہ آتا ہے ۔ " مہ پارہ دل کی بات زبان پر لے آئی۔
" ارے پگلی، تو فکر کیوں کرتی ہے۔ میں جب شہزادہ کے پاس جاؤں گی، تو اس سے تیری بات بھی کروں گی۔ دراصل تو ابھی پرسوں ہی آئی ہے دوسری ریاست سے، اس لئے شہزادہ خرم کو تجھے چودنے کا وقت نہیں ملا،ورنہ وہ تجھے خود ہی بلا لیتا۔ " دلربا نے جواب دیا۔
"ہاں یہ بھی ہے۔ چلو تم شہزادے کو یاد کروادینا کہ ایک جوان چوت اس کے مضبوط لن کا انتظار کر رہی ہے۔  " مہ پارہ نے اپنی گیلی پھدی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ اور پھر دونوں کنیزوں نے اپنے ہونٹ ایک دوسر ے سے ملا دئیے ۔ مہ پارہ نے اپنی زبان دلربا کے منہ میں دے دی، جسی دلربا مزے لے کر چوسنے لگ گئی۔
وہ دونوں اسی کام میں مصروف تھیں کہ داروغہ نےدلربا کو آواز دی۔ شاید محل میں ہونے والی دعوت کے انتظام کے لئے اسے کسی کام کے سلسلہ میں دلربا سے کوئی بات کر نی تھی۔ اپنی آواز سن کر دلربا الگ ہوئی اور مہ پارہ کے ممے  کے نپل پر ایک چٹکی کاٹ کر کمرے سے باہر چلی گئی۔ مہ پارہ نے اب بھی کپڑے پہننے کا تکلف نہ کیا، اور وہ ننگی ہی اپنے کمرے کی جانب چل دی۔

جاری ہے

لکھاری نے کہانی یہاں تک لکھی ہے اگر مکمل کرنا چاہے یا کوئی اوراسے مکمل کرنا چاہے تو لکھ کر سینڈ کر دے

Posted on: 03:38:AM 28-Dec-2020


0 0 144 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 11 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 74 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com