Stories


ہنی مون از کیو طاہرہ

نامکمل کہانی ہے

میرا نام روبینہ ہے. میری عمر پچیس سال ہے. حال ہی میں شادی ہوئی ہے اور میں اپنے خاوند کے ہمراہ ہنی مون پر ہوں. میرا تعلق نسبتاً امیر گھرانے سے ہے اور جہاں میری شادی ہوئی ہے وہ ہم سے بھی زیادہ امیر ہیں. میں بچپن سے اچھے تعلیمی اداروں سے پڑھی ہوں. ہمارے گھر کا ماحول بھی کافی آزادانہ ہے. اس سے میری مراد یہ ہے کہ خیالات اور رہن سہن ایسا ہے جیسا ایلیٹ کلاس کے گھرانوں کا ہوا کرتا ہے. اتنے ماڈرن ہونے کے باوجود شادی کے بعد مجھے اپنی زندگی کا سب سے بڑا سرپرائز ملا. میں لباس میں ہمیشہ جینس اور شرٹ پسند کرتی تھی. کالج اور یونیورسٹی میں بھی میرا لباس یہ ہی تھا. لڑکوں سے دوستی بھی تھی لیکن ایک حد تک. میں نے کبھی کسی کو حد کراس نہیں کرنے دی. ایسا اس لئے کے مجھے معلوم تھا کہ اگر میں نے کوئی ایسا قدم اٹھا لیا تو پھر واپسی ممکن نہیں ہو گی. پارٹیوں میں جانا میرا معمول تھا. ویکینڈز پر ایسی پارٹیاں بھی ہوتی تھیں جہاں شراب نوشی اور دیگر نشہ اور چیزیں عام چلتی تھیں. میں نے بھی کی مرتبہ شراب پی تھی لیکن ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا تھا کہ نشے میں آوٹ نا ہو جاؤں. سگریٹ نوشی بھی دوستوں کے ہمراہ چلتی رہتی تھی. یہ تمہید باندھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ آپ سب کو اچھی طرح سے اندازہ ہو جائے کہ میرا لائف سٹائل کیسا تھا. ایسے بیک گراؤنڈ کی وجہ سے میں یہ سمجھتی تھی کہ مجھ سے زیادہ ماڈرن شاید ہی کوئی ہو اس ملک میں.
میری شادی بھی انتہائی ماڈرن سیٹنگ میں ہوئی تھی اور میں نے اپنے شوہر کے ہمراہ اسٹیج پر ڈانس بھی کیا تھا. مجھے اس بات کی بے حد خوشی تھی کہ میرا شوہر بھی میری طرح آزادانہ خیالات کا ملک ہے اور وہ مجھ پر کسی قسم کی پابندیاں لگانے سے گریز کرے گا. ویسے تو میں رتی برابر پریشان نہیں تھی کیوں کہ مجھے اپنی طبیعت کا بھی پتہ تھا. اگر شوہر مجھ پر پابندیاں لگاتا تو میں نے برداشت ہی نہیں کرنی تھیں. میں ان عورتوں میں سے تو تھی نہیں کہ اپنا گھر بچانے کی خاطر میں سری زندگی شوہر کی فرمانبردار بن کر رہتی. خیر، شادی خوب دھوم دھڑکے سے ہوئی. سب رسمیں ہوئیں. سہاگ رات بھی منا لی. اگلے دن معلوم ہوا کہ میرے شوہر شہریار نے ہنی مون کے لئے جرمنی کی ٹکٹس پہلے ہی خرید رکھی ہیں. میں پاکستان سے باہر کی مرتبہ سفر کر چکی تھی لیکن جرمنی کبھی نہیں گیی تھی. شائد شہریار کو بھی اس بات کا پتہ تھا تب ہی اس نے جرمنی کا انتخاب کیا تھا. میرا ویزہ لگنے میں ایک ہفتہ لگا اور ہم ویزہ لگتے ہی جرمنی روانہ ہو گئے. کراچی سے برلن کا سفر سات گھنٹے سے زیادہ وقت میں طے ہوا. وقت کے فرق کی وجہ سے جب ہم وہاں پہنچے تو صبح صادق کا وقت تھا. برلن کے مغربی حصّے میں ہمارا ہوٹل تھا. شائد میں ان تفصیلی باتوں سے آپ سب کو بور کر رہی ہوں لیکن معذرت چاہتی ہوں کہ میرے لکھنے کا انداز ہی کچھ ایسا ہے. جب تک باریک سے باریک باتیں بیان نہ کر دن مجھے لگتا ہے کہ میری تحریر معیاری نہیں ہے. امید ہے آپ لوگ غصہ نہیں کریں گے.
ائیرپورٹ سے ٹیکسی لے کر ہم ہوٹل پہنچے اور کمرے میں پہنچ کر بیڈ پر گر گئے. تھکاوٹ کے باوجود ایک دوسرے سے لپٹنے پر شہوت بھڑک اٹھی اور ہم نے سیکس کیا. ویسے یہ بتاتی چلوں کہ میرا تجربہ ہے کہ سیکس کا اصل مزہ صبح کے وقت آتا ہے جب آپ سو کر اٹھیں. یہ بات نہیں کہ رات کو مزہ نہیں آتا، آتا ہے لیکن اگر صبح کو دس گنا زیادہ مزہ آتا ہے. پتہ نہیں وجہ کیا ہے. ہم دونوں سیکس کر کے ایک دوسرے سے لپٹ کر سو گئے. آنکھ کھلی تو لنچ کا وقت تھا. ہم نے اکٹھے غسل کیا اور اور ہوٹلکی لابی میں لنچ کر کے روانہ ہو گئے. اس وقت مجھے بھی معلوم نہیں تھا کہ ہماری اگلی منزل کہاں ہے. شہریار سے پوچھا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں لیکن اس نے بھی بس یہ ہی کہا کہ تھوڑا صبر کرو. مجھے بے چینی تو تھی لیکن یہ بے چینی جلد ہی شدید حیرانی میں بدل گی جب ہم اپنی منزل پر پہنچے. ہماری منزل سٹرانڈ بینڈ  وانسی جھیل تھی. ابھی ہم جھیل کے ساحل تک پہنچے نہیں تھے کیوں کہ ٹیکسی نے ہمیں سرک پر اتارا تھا اور یہاں سے آدھ کلومیٹر پیدل واک تھی. جھیل کے ساحل پر لوگ دھندلے سے نظر آ رہے تھے. یہ گرمیوں کا موسم تھا. شہر یار نے پنٹس کی بجے شارٹس پہنے تھے اور ٹی شرٹ پہنی تھی. میں نے بھی بغیر بازوں والی ٹی شرٹ پہنی تھی لیکن جینز پہنی تھیں جو کے ٹخنوں سے کچھ اپر تک تھی. جیسے جیسے ہم ساحل کے قریب ہوتے گئے ویسے ویسے ہر چیز واضح ہوتی گی. یہ گروبر جھیل کا مشرقی کنارہ تھا. شائد اپ سوچ رہے ہوں کہ جھیل میں ایسی کیا خاص بات ہو سکتی ہے لیکن خاص بات تو تھی اس جھیل میں. میں کراچی کا سمندر ہزاروں بار گھوم چکی تھی اور منوڑا، ہاکس بے، کلفٹن، سی ویو سب جگہیں میری دیکھی بھالی تھیں. وانسی جھیل ان سب جگہوں سے مختلف اور بہتر تھی. جھیل کے کنارے کیبن بنے ہوے تھے. اسی ترتیب میں آگے شاور لگے تھے. ایک سائیڈ پر واشرومز بنے ہوے تھے. کیبن اور واشروم تو ٹھیک لیکن میں کھلے میں شاور دیکھ کر حیران ہوئی لیکن میری اس حیرانگی کی جگہ ایک اور حیرانگی نے لے لی لوں کہ جو نظارہ میری آنکھیں دیکھ رہی تھیں مجھے اس پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا. جھیل کے کنارے بے شمار لوگ تھے. تا حد نگاہ لوگ ہی لوگ تھے. ننگے لوگ. بچے، بوڑھے، جوان، مرد، خواتین. سب کے سب ننگے. میں جو اپنے آپ کو اتنی ماڈرن سمجھتی تھی، شرم کے مارے نظریں جھکا کر شہریار سے کہنے لگی کہ واپس چلیں یہ آپ مجھے کہاں لے آے ہیں.
کوئی مانے یا نہ مانے، مشرقی لڑکی جتنی بھی ماڈرن ہو جائے، مغربی لڑکی سے مقابلہ نہیں کر سکتی. مشرقی سے میری مراد پاکستانی، بھارتی، بنگلادیشی لڑکیاں ہیں. میں اپنے آپ کو اتنی ماڈرن سمجھتی تھی. سکن ٹائٹ جینز پہن کر مالز میں گھومنا، اور لڑکوں سے کھلم کھلا ہر قسم کی بات چیت کر کے میں سمجھتی تھی کہ میں نے موڈرنزم کی ہر حد پار کر دی ہے اور لڑکے مجھے دیکھ کر آہیں بھرتے ہیں لیکن شہریار کے ساتھ اس جھیل کے کنارے پہنچ کر میں یہ سوچ رہی تھی کہ جہاں میرا موڈرنزم ختم ہوتا ہیں، ان مغربی خواتین کا موڈرنزم تو اس کے بھی بعد کہیں شروع ہوتا ہے.
شہریار میرے اسرار کے باوجود واپس جانے کی بجاے مجھے سمجھنے لگا کہ وہ پہلے سے ہی یہاں ایک کیبن بک کروا چکا ہے. میری نیی نیی شادی ہوئی تھی اور میں شادی کے شروع کے دنوں میں ہی اپنے شوہر سے لڑائی تو مول نہیں لینا چاہتی تھی. شہریار نے مجھے بتایا کہ یہ لوگ اپنی مرضی سے کپڑے اتار کر نہاتے ہیں اور حکومت کی طرف سے انہیں ایسا کرنے کی اجازت ہے. میں حیرانی سے ان لوگوں کو دیکھ رہی تھی تو شہریار نے مجھے ٹوکا کہ ایسے نہ دکھوں کیوں کہ ایسے گھورنے سے ہو سکتا ہے کوئی برا مان جائے. پاکستان میں تو مجھے ذاتی تجربہ تھا مردوں کی نگاہوں کا مرکز بننے کا اور سچی بات ہے کہ بہت برا لگتا تھا. شہریار کی زبانی مجھے معلوم ہوا کہ یہ ضروری نہیں کہ یہاں ہر ایک کو ننگا ہونا پڑے. یہ ہر ایک کی اپنی مرضی پر منحصر ہے. میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ ایسا کرنے کا. شہریار اور میں کیبن میں آ گئے. میں کسی حد تک اپنے آپ کو سنبھال چکی تھی اور اب حیرت کم ہو گئی تھی کیوں کہ حیرت کی جگہ تجسس نے لے لی تھی. میں شہریار سے سوال کیے جا رہی تھی اور وہ میرے سوالات کا جواب دے جا رہا تھا. ایک بات میں نے محسوس کی تھی کہ وہاں کپڑوں میں صرف میں ہی تھی. باقی سب کے سب یا تو ننگے تھے یا پھر چند مردوں اور خواتین نے انڈر ویر پہن رکھے تھے. شہریار نے مجھ سے کہا کہ اگر ہم یہاں یں اور بغیر نہاے واپس جایئں تو اس سے بڑی بدقسمتی نہیں ہو سکتی. میں نے پہلے تو صاف انکار کر دیا کہ میں ان ننگے لوگوں کے ساتھ کیسے نہ سکتی ہوں. بیشک میں نے کپڑے پہنے ہیں لیکن وہ سب تو ننگے ہیں نہ. میں خود تو نہانے پر تیار نہ ہوئی لیکن شہریار کو نہانے سے روکنا بھی غلط محسوس ہو رہا تھا
میں کسی حد تک پریشان تو تھی لیکن شہریار کے حوصلہ دینے اور پھر اپنے آپ کو لوگوں کی نگاہوں کا مرکز نہ پا کر پریشانی کافی حد تک کم ہو گیی تھی. ایسا نہیں کہ کسی نے میری طرف دیکھا ہی نہیں. بہت سے لوگوں نے مجھے دیکھا بلکہ اکثر نے حیرانی سے دیکھا تھا. کراچی میں تو میں جان بوجھ کر ایسی ڈریسنگ کیا کرتی تھی کہ ہر مرد کی نظر مجھ پر پڑے تو دوسری نگاہ ڈالنے پر مجبور ہو جائے. ایسا کرنے کا مجھے تو بہت مزہ آتا تھا. یہاں بھی اپنی طرف سے تو میں نے کافی بولڈ ڈریسنگ کی تھی لیکن مجھے کیا خبر تھی کہ جہاں شہریار لے کے جا رہا ہے وہاں ڈریسنگ کا نام و نشان بھی نہیں ہو گا. ہم نے اپنا سامان کیبن میں رکھا اور ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر باہر آ گئے. شہریار نے اپنی شرٹ اتار دی اور سمندر کی لہروں میں نہانے لگا. وہ تو اپنے شارٹس بھی اتارنا چاہتا تھا لیکن میں نے اس بات کی اجازت نہیں دی کیوں کہ ماڈرن ہونے کے باوجود مجھ میں کچھ شرم باقی تھی اور میں نہیں چاہتی تھی کہ مرے شوہر کے پرائویٹ حصّوں کو اجنبی لوگ دیکھیں. میں ساحل پر کھڑی دیکھتی رہی اور شہریار نہاتے رہے. اس دن اس کے علاوہ ہم نے کچھ نہیں کیا. شہریار کے نہانے کے بعد ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوے اور ایک اچھے سے ریسٹورنٹ میں ڈنر کر کے اپنے ہوٹل میں آ گئے.
شہریار نے مجھے بتایا کہ وہ ایک طویل عرصے سے اس عادت میں مبتلا ہے کہ اسے کپڑے پہننا اچھا نہیں لگتا. میں نے کہا کہ گھر میں نہ پہنا کریں. شہریار کہنے لگا کہ یہ بات نہیں ہے بلکہ اب اسے کپڑوں سے چڑ ہو گیی ہے اور کپڑے پہننے پر اسے اپنے بدن پر خارش اور عجیب سا احساس ہوتا ہے. اس نے مجھے مزید بتایا کہ وہ اب تنہائی میں ہمیشہ ننگا ہی رہنا پسند کرتا ہے اور میرے سامنے بھی ایسے ہی رہا کرے گا. مجھے شہریار کے ننگا رہنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا بلکہ جب انہوں نے مجھے بھی ننگی رہنے کا کہا تو میں اس پر بھی مان گیی. ظاہر ہے کہ میں بیوی میں تو کوئی پردہ نہیں ہوتا نہ. بہرحال، باتوں باتوں میں مجھے معلوم ہوا کہ شہریار صرف تنہائی میں ہی ننگا نہیں رہتا بلکہ اس نے اپنے حلقہ احباب میں ایسے لوگ شامل کر رکھے ہیں جو اس کے ہم مزاج ہیں یعنی ننگا رہنا پسند کرتے ہیں. مجھے یہ بات بہت عجیب لگی. میں نے پوچھا کہ آپکو شرم نہیں آتی کیا؟ سب کے سامنے ننگا ہونے میں. شہریار نے جواب میں مجھے پورا لیکچر دے ڈالا. مختصراً یہ کہ اس کے نزدیک شرم ورم صرف انسانوں کی تخلیق کردہ چیزیں ہیں اور جسم کو چھپانا اس بات کی نشانی ہے کہ ہم اپنے جسم یا اس کے کچھ حصّوں پر شرمندہ ہیں حالانکہ اس میں شرمندہ ہونے والی کوئی بات نہیں. یہ اعضاء ہر انسان کے ساتھ لگے ہوتے ہیں اور ان کا بھی ایک مخصوص مقصد ہے بلکل اسی طرح جیسے باقی اعضاء کا مقصد ہوتا ہے. ناک سے سانس لیتے ہیں، منہ سے ہم کھانے پینے کے ساتھ ساتھ باتیں بھی کرتے ہیں اور دیگر کام بھی کرتے ہیں، ہاتھ پاؤں، کان، گردن، دماغ وغیرہ سب کے مقصد طے شدہ ہیں. اگر ہم ان اعضاء کے فنکشنز پر شرمندہ نہیں ہیں تو پھر چند اعضاء مخصوصہ کے فنکشنز پر کیوں شرمندہ ہیں. کیوں ہم ان اعضاء کے متعلق بات کرنے سے بھی گھبراتے ہیں. لنڈ کو لنڈ نہیں کہتے، پھدی کو پھدی نہیں کہتے. آخر کیوں؟
میرے پاس اسکی باتوں کا کوئی جواب نہیں تھا. ہم اپنے کمرے میں چلے گئے اور مجھے پتہ بھی نہ چلا کہ شہریار کب سو گیا. میں اس کے پہلو میں لیٹی اسکی باتوں پر غور کرتی رہی. کچھ ایسا غلط بھی نہیں کہا تھا شہریار نے. شائد بہ حیثیت معاشرہ ہمارے یہاں سب کی تربیت ہی ایسی ہوتی تھی کہ بچپن سے یہ ہماری گھٹی میں بیٹھا دیا جاتا ہے کہ ننگا پن ایک بری چیز ہے. بچپن میں کسی کے جسم کا ذرا سا حصّہ دیکھنے پر شیم شیم کے نعرے میرے ذہن میں گونجنے لگے
مجھے وہ وقت بھی یاد تھا جب پہلی بار مجھے ماہواری آنی شروع ہوئی تھی. تب بھی میں نے اپنی امی سے یہ کہا تھا کہ امی میری اس جگہ سے خون نکل رہا ہے. امی کے پوچھنے پر بھی کہ کس جگہ سے میں بس یہ ہی کہ پائی تھی کہ جہاں سے سوسو نکلتا ہے. شہریار کے پہلو میں لیٹے ہوے اب میں یہ سوچ رہی تھی کہ آخر ان چیزوں کے نام لینے میں کیا برائی ہے. یہ سب تو قدرتی چیزیں ہیں. میرے پاس اپنے ذہن میں آنے والے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا. انہی سوچوں میں گم نہ جانے کب میری آنکھ لگ گیی.
اگلے دن شہریار کے کسی دوست کے ہاں ہماری دعوت تھی. سارا دن ہم نے تفریح کی اور رات کو ان کے گھر پہنچ گئے. مجھے شہریار نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ اس کے دوست کی فیملی عملی طور پر نیو ڈسٹ ہیں اور کافی عرصے سے یہ تض زندگی اختیار کے ہوے ہیں. انہوں نے اپنے بچوں کی تربیت بھی اسی طرز پر کی ہے. ساری رات کی سوچ بچار اور شہریار سے کھل کر اس موضوع پر بات چیت سے اب میرا ذہن اس طرز زندگی کی لاجک سے آشنا ہو چکا تھا. اگرچہ میں اب بھی اس بات کے لئے ہر گز تیار نہیں تھی کہ کوئی بھی مجھے مکمل برہنگی کی حالت میں دیکھے لیکن دوسرے لوگوں کو برہنگی کی حالت میں دیکھنا اب اتنا ناگوار محسوس نہیں ہو رہا تھا. دراصل میرے ذہن میں برہنگی کا ایک ہی مقصد تھا یعنی سیکس. آج تک جب بھی برہنہ لوگوں کو دیکھا تھا، انہیں پورن فلموں میں مباشرت کرتے ہی دیکھا تھا. لہٰذہ قدرتی طور پر میرے ذہن کا ننگے پن کو مباشرت سے منسوب کرنا لازمی امر تھا. شہریار نے میری باتوں کو تحمل سے سنا تھا اور سچ تو یہ ہے کہ جب اس نے پہلی بار مجھے یہ بات بتائی کہ ننگے ہونے کا مقصد صرف سیکس ہی نہیں ہوتا تو میں خوب ہنسی تھی اور اسکا مذاق بنایا تھا. شہریار کا تحمل ہی تھا کہ اس نے میری مضحکہ خیز باتوں کو برداشت کیا.
بہرحال، رات کو جب ہم شہریار کے دوست مارٹن کے گھر پہنچے تو ڈور بیل دینے پر انجیلا نے دروازہ کھولا. انجیلا مارٹن کی بیوی تھی. انجیلا مکمل ننگی تھی اور اس نے گود میں اپنی بیٹی کو اٹھا رکھا تھا جس کی عمر تقریباً ڈیڑھ سال کے قریب لگتی تھی. وہ بھی مکمل ننگی تھی. اس نے نہایت گرم جوشی سے ہمارا استقبال کیا. جرمن لوگوں کا ملنے کا طریقہ ہمارے یہاں سے مختلف ہے. پاکستان میں تو خواتین صرف خواتین سے ہی ہاتھ ملتی ہیں لیکن جرمنی میں خواتین اور مردوں کی تمیز کے بغیر سب ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہیں. اگر ملنے والے لوگوں کا درمیان بےتکلفی ہو تو ایک دوسرے کے گال پر بوسہ بھی دیتے ہیں. انجیلا نے البتہ صرف ہینڈ شیک پر ہی اکتفا کیا. ہاتھ ملانے کے بعد اس نے مارٹن کو آواز دی. مارٹن بھی ایسے ہی ننگ دھڑنگ ڈرائنگ روم سے باہر آ کر ہم سے ملا. میری نظریں خود بہ خود نیچے کی طرف تھیں. ہاتھ ملاتے وقت تو میں نے انجیلا اور مارٹن کی آنکھوں میں دیکھا تھا لیکن اس کے بعد سے میری نظریں مسلسل زمین میں گڑی تھیں. انہوں نے ہمیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا جہاں انکا بڑا بیٹا جوزف ٹیلی ویژن پر کارٹون دیکھ رہا تھا. جوزف کی عمر چار سال تھی. جوزف اور انجیلا ایکصوفے پر بیٹھ گئے جبکہ میں اور شہریار دوسرے صوفے پر. شہریار کو تو وہ لوگ پہلے سے جانتے تھے اسلئے کافی حد تک بے تکلفی سے باتیں ہونے لگیں. میری جھکی نظروں کو البتہ زیادہ دیر تک وہ لوگ نظر انداز نہ کر سکے. شہریار نے میرا طرف کرواتے ہوے انہیں بتا دیا تھا کہ میں سری عمر پاکستان میں ہی رہتی آیی ہوں اس لئے میرے روئے سے اگر انہیں نا گوری کا احساس ہو تو برا نہ مانیں. ننگے تو وہ دونوں تھے لیکن شرم مجھے آ رہی تھی. پہل انجیلا نے کی. اس نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ روبینہ شائد آپ ہمیں دیکھتے ہوے شرما رہی ہیں. میرے پاس جواب میں کہنے کو کچھ نہیں تھا کیوں کہ سچ تو یہی تھا کہ میں شرما رہی تھی لیکن کب تک. ایسے کسی کے گھر جا کر نظریں جھکا کر بیٹھنا ویسے بھی مروجہ آداب کے خلاف ہے. مجھے بلا آخر اپنی نظریں اٹھا کر ان کی طرف دیکھنا ہی پڑا. میں نے انہیں بتایا کہ میرا تعلق جس جگہ سے ہے وہاں پر لوگ برہنہ پن کو غلط کاموں سے منسوب کرتے ہیں اسلئے میری شرم فطری ہے اور اس پر برا نہ منایا جائے. میں نے اگرچہ انجیلا کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کی تھی لیکن نظریں ایک ہی جگہ مرکوز رکھنا مشکل تھا اور نہ چاہتے ہوے بھی میری نظریں ہر اس جگہ پر گئیں جہاں دیکھنے سے میں احتراز برت رہی تھی. جی ہاں، آپ درست سمجھے. انجیلا اور مارٹن دونوں ہی بہت ملنسار لوگ تھے. بجے برا ماننے کے وہ لوگ تو اس وجہ سے فکر مند تھے کہ کہیں ان کے مہمان کو کسی وجہ سے تکلیف نہ پہنچے. میں متاثر ہوے بغیر نا رہ سکی. مارٹن نے بات کو آگے بڑھتے ہوے کہا کہ میری بات درست ہے اور واقعی آغاز میں ننگے پن سے مانوس ہونا ذرا مشکل معلوم ہوتا ہے. مارٹن کی بات کو سپورٹ کرتے ہوے انجیلا نے تجویز پیش کی کہ اگر میں چاہوں تو وہ دونوں کپڑے پہننے کے لئے تیار ہیں. اب میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا. یہ لوگ تو مہمان نوازی کی ہر حد کراس کرتے جا رہے تھے. انجیلا نے یہ تجویز اس لئے پیش کی تھی کہ وہ سمجھ رہی تھی کہ میزبانوں اور مہمانوں کے درمیان یہ تناؤ اسلئے بھی ہے کہ میزبانوں نے کچھ بھی نہیں پہنا جبکہ مہمان مکمل لباس میں ملبوس بیٹھے ہیں اور اس تناؤ کو دور کرنے کے لئے یا تو میزبانوں کو کپڑے پہن لینے چاہئیں یا پھر مہمان بھی کپڑے اتار کر ننگے ہو جایئں. اس سے چونکہ دونوں پارٹیاں ایک ہی حالت میں آ جایئں گی تو تناؤ اور شرم قدرتی طور پر ہی اپنے آپ ختم ہو جائے گا. اب ظاہر ہے کہ مہمانوں کو کپڑے اتارنے کی تجویز دینا تو غیر مناسب تھا، خاص طور پر ایسی صورتحال میں کہ مہمان پہلے ہی ننگے پن سے شرم محسوس کر رہی ہو. بہرحال، اسکی تجویز پر میں دل میں بہت شرمندہ ہوئی. یہ سوچ بھی میرے ذہن میں بار بار آ رہی تھی کہ شہریار کو بھی میری وجہ سے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. ان سب سوچوں کے جنجھٹ سے چھٹکارا پانے کے لئے میں نے وہ فیصلہ کیا کہ جسکی توقع مجھے اپنے آپ سے بھی کبھی نہیں تھی. میں نے انجیلا کی بات کے جواب میں اسے کہا کہ انہیں کپڑے پہننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ کسی مہمان  کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کے گھر جا کر ان کا رہن سہن کا طریقہ تبدیل کرے بلکہ مناسب یہ ہے کہ مہمانوں کو میزبانوں کے رنگ میں ڈھال جانا چاہئے کم از کم جب تک وہ مہمان ہیں تب تک لہٰذہ شہریار اور میں بھی اپنے کپڑے اتار دیتے ہیں تاکہ ہم ایک دوسرے سے کھل کر بات چیت کر سکیں کسی رکاوٹ کے بغیر. میری تجویز پر نہ صرف مارٹن اور انجیلا خوش ہوے بلکہ شہریار کے چہرے کے تاثرات بھی دیدنی تھے. اس نے میری طرف پیار سے دیکھا اور میں نے اس کی نظروں سے بھانپ لیا کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے. ایسا لگتا تھا جیسے وہ آنکھوں سے کہ رہا ہو کہ روبینہ! مجھے تم پر فخر ہے
.کسی کے سامنے ننگا ہونا بذات خود ایک مشکل عمل ہے لہٰذہ ننگے ہو کر بے تکلفی سے ایک دوسرے سے باتیں کرنا کسی ایسے شخص کے لئے جو ساری زندگی پاکستان جیسے ملک میں رہی ہو جہاں بازو ننگے کرنے پر بھی فساد کھڑا ہو سکتا ہے، کافی مشکل بلکہ تقریباً نا ممکن کام ہے. اس کے باوجود میں ننگی ہو گئی. سب کے سامنے ننگی ہونے کا حوصلہ نہ تھا مجھ میں. انجیلا کے ساتھ علیحدہ کمرے میں جا کر اپنے متوازن جسم کو کپڑوں کی قید سے آزاد کروایا. دل ہی دل میں یہ بھی شکر ادا کیا کہ میرے پیریڈز نہیں چل رہے تھے. میرا جسم اگرچہ انجیلا کے گورے چٹے جسم جیسا نہ سہی لیکن خدو خال کے لحاظ سے اس کے جسم سے کہیں بہتر تھا. میں نے ہمیشہ اپنی خوراک پر توجہ دی تھی تاکہ وزن زیادہ نہ بڑھے. یونیورسٹی لائف میں بھی میں روزانہ ورزش کیا کرتی تھی. انجیلا کے منہ سے اپنے جسم کی تعریف سن کر میرا حوصلہ بڑھا تھا. کپڑوں میں جب میں گھر سے بھر نکلا کرتی تھی تو ہمیشہ مردوں کی نظروں کا مرکز ہوا کرتی تھی. شائد اسکی وجہ میرا چست لباس بھی ہوا کرتا تھا. کوئی مانے یا نہ مانے یہ سچ ہے کہ ایک لڑکی یا خاتون کو اگر کوئی مرد گھورے تو اسے پتا چل جاتا ہے. آپکو میری یہ بات شائد سچ نہ لگے لیکن میں نے خود بار ہا محسوس کیا تھا کہ مردوں کے ٹکٹکی باندھ کر گھورنے پر میرے جسم میں ایک ایسا احساس ہوتا تھا جس کو میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی. یہاں موجود خواتین میری بات سے اتفاق کریں گی. کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ اگر کوئی مجھے ہوس ناک نظروں سے گھورے یا ویسے ہی نگاہ ڈالے، مجھے معلوم ہو جاتا تھا. کپڑوں میں ملبوس ہونے کے باوجود نوے فیصد لوگوں کی نظروں میں ہوس ہی ہوتی تھی. کپڑے اتار کر جب شہریار اور مارٹن کے سامنے آی تو قدرتی طور پر ان دونوں کی نظریں میرے ننگے بدن پر پڑیں. اپنے شوہر کا تو مجھے اندازہ تھا اور اسکی نظریں مجھے ہمیشہ اچھی معلوم ہوتی تھیں لیکن مارٹن کا میرے جسم کو دیکھنا ایک نیا ہی احساس تھا. اس کی نظروں میں ہوس نہیں تھی یا کم از کم مجھے تو بلکل بھی محسوس نہ ہوئی. اگر ہوس ہوتی تو کچھ اس کا اثر اس کے لنڈ پر بھی تو پڑتا نا. لنڈ تو اسکا ویسے ہی لٹکا رہا تھا. پہلی بار کسی اجنبی مرد کی نظریں میرے مکمل ننگے بدن پر پڑی تھیں اور میں یہی توقع کر رہی تھی کہ مارٹن بھی انسان ہی ہے اور انسان ہونے کے ناطے میرے سیکسی بدن کو دیکھ کر اس میں جنسی جذبات مشتعل تو ہوں گے ہی. سچی بات ہے کہ مجھے اپنے جسم کے پرفیکٹ ہونے پر اتنا یقین تھا کہ مارٹن کا لٹکا لنڈ اور اس کی ہوس سے خالی نظریں دیکھ کر مجھے کسی قدر مایوسی بھی ہوئی تھی. مارٹن کی نظریں بس ایسی تھیں کہ جیسے وہ میرے جسم کی خوبصورتی پر حیران تو ہے لیکن اس حیرانی کا تعلق میرے جنسی اعضاء سے نہیں بلکے اوور آل جسم سے ہے. میں شہریار کے پہلو میں صوفے پر بیٹھ گئی. صوفے پر اکٹھے بیٹھنے سے ہمارے بازو اور ٹانگیں بھی ایک دوسرے سے مس ہو رہی تھیں. مارٹن نے میرے صوفے پر بیٹھتے ہی انجیلا والے کلمات دہراۓ یعنی تعریف کی. مجھے اس کے منہ سے اپنے جسم کی تعریف سن کر خوشی ہوئی. کمرے سے نکلتے وقت میں کسی حد تک کنفیوز تھی لیکن جب مارٹن کا رویہ دیکھا تو کنفیوزن کافی کم ہو گئی تھی
یہ حقیقت تھی کہ اگر مارٹن اور انجیلا کا رویہ اتنا دوستانہ نہ ہوتا تو شائد میں کبھی بھی ننگی ہونے پر راضی نہ ہوتی کجا یہ کہ خود ننگی ہونے کی پیشکش کی. یہ ان کی مہمان نوازی ہی تو تھی جس کی وجہ سے کچھ ہی دیر میں میں یہ بھول ہی گئی کہ یہاں سب ننگے بیٹھے ہیں. دراصل ان کے بات کرنے کا طریقہ ہی ایسا تھا کہ مخاطب کو مسحور کر کے رکھ دیتے تھے. حتی کہ حساس موضوعات پر بات چیت بھی ایسے انداز میں کی جاتی تھی کہ باتوں میں جنسی عنصر ناپید تھا. میں چونکہ بہت متجسس تھی اور یہاں کھل کے سب باتیں ہو رہی تھیں تو مجھ سے بھی رہا نہ گیا اور میں نے اپنے ذہن میں آنے والے سوالات ان کے سامنے رکھ دیے. اگرچہ شہریار سے میں پہلے ہی ان سوالات کے جوابات لے چکی تھی اور کسی حد تک ان سے مطمئن بھی تھی لیکن پھر بھی میں خود کو روک نہ سکی.
سب سے بڑا سوال تو یہ تھا کہ ننگے پن کو سیکس سے علیحدہ کیسے کیا جائے کیوں کہ ہمارے جنسی اعضاء کے مقصد میں سیکس بھی شامل ہے اور یہ قدرتی بات ہے کہ مخالف جنس کے ننگے بدن کو دیکھ کر انسان کے جنسی جذبات بیدار ہوتے ہیں لہٰذہ ان جذبات کو کیسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے.
میرے سوال پر انجیلا اور مارٹن دونوں ہی مسکرا اٹھے. دراصل میری توجہ سامنے بیٹھے میزبانوں کی طرف تھی اور مجھے اس بات کا احساس ہی نہ ہوا تھا کہ شہریار کا بدن میرے بدن سے مس ہو رہا ہے اور اس وجہ سے شائد اس کے جذبات بھڑک اٹھے تھے. اسکا تنا ہوا لنڈ اس بات کا سب سے بڑا گواہ تھا. شہریار تب ہی اپنے ہاتھ لنڈ کے سامنے رکھ کر بیٹھا ہوا تھا تاکہ لنڈ کی سختی کو چھپا سکے. مارٹن اور انجیلا چونکہ بلکل سامنے بیٹھے تھے اسلئے چھپانے کے باوجود شہریار کا لنڈ ان کی نظروں سے مکمل پوشیدہ نہیں تھا. مارٹن نے مزاقاً کہا کہ شائد میں نے یہ سوال پوچھا ہی اس لئے ہے کہ میرے اپنے شوہر کے لئے ہی خود پر قابو پانا مشکل ہو رہا ہے. شہریار بیچارہ اس مزاق پر ہنسا تو تھا لیکن دل ہی دل میں شرمندہ بھی تھا. میں اس کے جذبات اچھی طرح سے بھانپ سکتی تھی. بیشک شادی کو کچھ ہی دن ہوے تھے لیکن واقفیت اس سے پہلے کی تھی. میں یہ بھی سوچ رہی تھی کہ شہریار نے تو مجھے بتایا تھا کہ وہ لمبے عرصے سے ننگے پن کو اپناے ہوے ہے لیکن اگر یہ سچ ہوتا تو کیا وہ اتنی سے دیر میں اپنے لنڈ پر قابو کھو بیٹھتا؟ یا پھر شائد میری موجودگی سے نروس ہو رہا ہے. دوسری وجہ زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی تھی. اس لئے کہ مجھے ننگی دیکھ کر شہریار کا لنڈ بہت جلدی تن جاتا تھا. یہ بات میں علیحدگی میں کئی مرتبہ محسوس کر چکی تھی.
بہرحال، مارٹن نے میرے سوال کا جواب دینے سے پہلے مجھے سمجھایا کہ میں نے سوال میں ایک غلطی کر دی ہے. غلطی یہ تھی کہ میں نے کہا تھا کہ مخالف جنس کے ننگے بدن کو دیکھنے سے جنسی جذبات مشتعل ہوتے ہیں جبکہ حقیقت یہ نہیں تھی. حقیقت تو یہ تھی کہ کئی افراد مخالف جنس کی بجاے اپنی ہی جنس کو دیکھ کر زیادہ جوش محسوس کرتے ہیں. مجھے یہ بات معلوم تو تھی لیکن میں نے ہمیشہ یہی سمجھا تھا کہ یہ کام نیچرل نہیں ہے بلکہ خود ساختہ ہے. اب جب مارٹن نے وضاحت کی تو مجھے معلوم ہوا کہ کئی افراد قدرتی طور پر ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں مخالف جنس میں کوئی کشش محسوس ہی نہیں ہوتی خواہ مخالف جنس ننگی ہی کیوں نہ ہو. اس نے مجھے اپنے دوستوں کی مثالیں دیں جو کہ ہم جنس پرست تھے اور کئی مرتبہ شراب خانوں میں خوبصورت خواتین نے انہیں لائن مارنے کی کوشش کی لیکن ان پر اسکا اثر بالکل نہیں ہوتا تھا. اس کے برعکس کسی خوبصورت مرد کو دیکھ کر ان کے لنڈ بےچین ہو جاتے تھے. اسی طرح خواتین کے ساتھ بھی ہوتا ہے.
میرے لئے یہ معلومات نئی تھیں اس لئے میں کافی دلچسپی سے سن رہی تھی. شہریار بھی خوش تھا کہ توجہ میری طرف تھی سب کی کیوں کہ ننگا طرز زندگی اپنانے والوں میں لنڈ کا تناؤ اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا. مارٹن نے اپنی بات جاری رکھتے ہوے یہ بھی بتایا کہ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کو دونوں جنسوں سے کشش محسوس کرتے ہیں، انہیں بائی سیکچول کہا جاتا ہے. مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے بات کاٹ کر پوچھ لیا: میں آپ کی باتیں سمجھ گئی ہوں لیکن اس بات کی اب تک سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ لوگوں کو اپنے جسم پر اتنا کنٹرول کیسے ہے؟ کیا آپ کے جذبات خواتین کو ننگی دیکھ کر جوش میں نہیں آتے؟ اگر آتے ہیں تو لنڈ کیوں کھڑا نہیں ہوتا؟ اور اگر نہیں آتے تو کیوں نہیں آتے؟ کیا آپ بس اپنی بیوی کی جانب ہی کشش محسوس کرتے ہیں؟ ایسا کیوں ہے؟
میں نے تو سوالات کی بوچھاڑ ہی کر دی تھی لیکن ان دونوں کہ چہروں پر اب بھی سواے مسکراہٹ کے اور کچھ نہ تھا. ایسی مسکراہٹ جو کسی طالب علم کے بے وقوفانہ سوالات پر استاد کے چہرے پر آ جاتی ہے. شہرہے بیچارے کے ساتھ اچھی نہیں ہی. اس سے پہلے کی گفتگو کے دوران اسکا لنڈ سو گیا تھا لیکن جب میں نے اتنے بولڈ سوالات پوچھے تو شائد وہ اپنی بیوی کے منہ سے ایسی گفتگو سن کر پھر سے گرم ہو گیا. لیکن کسی کی بھی توجہ اس پر یا اس کے لنڈ پر نہیں تھی. انجیلا نے بتایا کہ کھانا تیار ہے باقی باتیں خانے کی میز پر کر لیتے ہیں. بچوں کو اس نے پہلے ہی کھانا کھلا کر اور دودھ پلا کر سلا دیا تھا. ہم سب خانے کی میز پر جا بیٹھے.
پتہ نہیں یہ مارٹن کی عادت تھی کہ ہر سوال کے جواب میں تقریر جھاڑ دیتا تھا یا پھر میری وجہ سے ایسا کر رہا تھا لیکن میں نے چپ چاپ اسکی باتیں سننے کو ہی ترجیح دی کیوں کہ میرے لئے ان میں سے نوے فیصد باتیں نئی تھیں. خاص طور پر ہم جنس پرست لوگوں کے بارے میں جو معلومات مارٹن کی زبانی معلوم ہوئیں انکی وجہ سے مجھے اپنی گزشتہ زندگی کے کی واقعات یاد آ گئے. ہو سکتا ہے یہ میرا شبہ ہی ہو لیکن میں نے یونیورسٹی میں یہ بات محسوس کی تھی کہ کئی لڑکیاں اپنی سہیلیوں سے حد سے زیادہ بے تکلف ہیں. سہیلیاں تو میری بھی تھیں اور ہمارے درمیان بھی ہر قسم کے مذاق کا سلسلہ چلتا رہتا تھا لیکن ایک دوسرے کو چھونا بس اس حد تک ہی تھا کہ سلام کے لئے ہاتھ ملانا یا پھر کبھی کبھار گلے ملنا. اب میرے ذہن میں یہ سرے واقعات گھومنے لگے کہ کچھ لڑکیاں واقعی ایسی تھیں جو ایک دوسرے میں اتنی گم تھیں کہ واشروم بھی ایک ساتھ جاتی تھیں. ایک لڑکی نادیہ خاص طور پر مجھے یاد تھی جس کی سہیلی کی شادی ہو گئی تھی تو نادیہ نے رو رو کر اپنا برا حال کر لیا تھا. تب تو میں یہی سمجھی تھی کہ پکی دوستی کی وجہ سے اپنی سہیلی کی جدائی برداشت نہیں کر پا رہی لیکن اب میں اچھی طرح سے سمجھ گئی تھی کہ وہ معاملہ کیا تھا. یقیناً آپ لوگ بھی سمجھ گئے ہوں گے.
کھانے میں انجیلا نے جرمنی کی ایک خاص دش بنائی تھی جسے سپٹزل کہتے ہیں. اس میں پاستا سویاں اور انڈے استعمال کئے گئے تھے. کافی لذیذ تھی. اس کے علاوہ ہمارے پاکستانی ہونے کی وجہ سے اس نے بریانی بھی بنا رکھی تھی. اس کے ہاتھ میں کافی ذائقہ تھا. سچی بات ہے میں یہ توقع نہیں ر رہی تھی کہ انجیلا کی بریانی اتنی لذیذ بھی ہو سکتی ہے لیکن میری توقعات غلط ثابت ہوئیں لیکن صرف ایک یہی توقع غلط ثابت نہیں ہوئی تھی. میں نے تو ننگی ہوتے وقت بھی یہ ہی سوچا تھا کہ آج کی رات کافی مشکل ہو گی اور سارا وقت انتہائی اکورڈ انداز میں گزرے گا لیکن مارٹن اور انجیلا کی مہمان نوازی اور دوستانہ روئے نے سب کچھ تبدیل کر کے رکھ دیا تھا اور میری کنفیوزن اب کانفیڈنس میں تبدیل ہو گئی تھی. میری سوچوں کا تانتا مارٹن کی آواز سے ہی ٹوٹا. اسکی مخاطب میں ہی تھی. بچپن سے اب تک میں ایسے اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں پڑھتی آئ تھی جہاں لڑکیاں اور لڑکے اکٹھے پڑھتے تھے اور ایک دوسرے سے باتیں اور دوستی عام تھی. یہ ہی وجہ تھی کہ میں کبھی کسی مرد سے بات کرتے ہوے نہیں گھبراتی تھی بلکہ مرد مجھ سے بات کرتے ہوے گھبراہٹ کا شکار ہو جاتے تھے. میں چونکہ جرنلزم کی طالبہ تھی اس لئے معلومات کی بھی میرے پاس کوئی کمی نہیں تھی. آج پہلا موقع تھا کہ میں خاموشی سے سن رہی تھی اور ایک مرد اپنی معلومات سے مجھے متاثر کئے جا رہا تھا. میں یہ ماننے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی کہ مجھے اس موقع پر شدت سے احساس کمتری ہو رہا تھا. اچھی یا بری، میری یہ خواہش تھی کہ ہمیشہ گفتگو میں میرا پلا بھاری رہے. بہرحال اب کیا کیا جا سکتا تھا. ظاہر ہے کسی موضوع پر معلومات نہ ہوں تو ایسا ہی ہوتا ہے.
مارٹن نے مجھے سمجھانا شروع کیا تو انجیلا نے میری طرف دیکھ کر ایسے مسکراہٹ دی جیسے وہ اس ساری صورتحال کو انجواے کر رہی ہو. شہریار بھی کھانا کھاتے ہوے مسکراے جا رہا تھا. اس وقت تو مجھے ان کی مسکراہٹ کی وجہ سمجھ نہ آئ لیکن بعد میں مجھے شہریار نے بتایا کہ مارٹن کی عادت ہے کہ ہمیشہ بلا ضرورت بولتا چلا جاتا ہے اور دوسروں کو بور کرتا ہے. ہو سکتا ہے شہریار اور انجیلا بور ہو رہے ہوں کیوں کہ ان کے لئے یہ باتیں نئی نہیں تھیں لیکن میں مارٹن کی باتوں سے لطف اندوز ہو رہی تھی. مارٹن نے جو باتیں کیں میں انہیں لفظ بہ لفظ تو یہاں بیان نہیں کر سکتی مختصر طور پر ہی بتا سکتی ہوں. اس نے مجھے بتایا کہ انسان اپنی تاریخ کے آغاز میں ننگے ہی رہتے تھے اور ایسے رہنے سے ہر گز شرمندہ نہیں ہوتے تھے. جیسے جیسے انسان ترقی کرتا گیا اس کے رہن سہن کے طریقوں میں تبدیلیاں رونما ہونی ہونی شروع ہو گئیں. ان ہی تبدیلیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان نے اپنا جسم ڈھانپنا شروع کر دیا اور اپنے جسم دیکھنے پر شرمندگی محسوس کرنے لگا. صدیوں سے جسم ڈھانپنے کی وجہ سے اب انسان ننگے پن کو ایک غیر قدرتی چیز  تصور کرنے لگا ہے اور اس جسم ڈھانپنے کا دوسرا اثر یہ بھی ہوا کہ ننگے پن کو سیکس سے منسوب کر دیا گیا جو کہ سراسر غلط ہے. اب اگر انسان ننگے پن کو اپناتے ہیں تو انہیں ایسے مسائل درپیش ہوتے ہیں جو بلکل قدرتی ہیں مثلا مردوں کے لئے سب سے بڑا مسلہ یہ ہے کہ ان کا لنڈ کھڑا ہو جاتا ہے اور وہ اپنے لنڈ کو قابو نہیں کر پاتے. لنڈ کھڑا ہونے کی وجہ سے اگر کوئی یہ کہے کہ ننگا پن ہی ترک کر دینا چاہیے تو میں تو اسکو بے وقوف ہی کہوں گا کیوں کہ کسی بھی کام میں اگر کوئی مسلہ درپیش ہو تو مسلے کو حل کیا جاتا ہے نہ کہ کام کو ہی ترک کر دیا جائے.
میں مارٹن کے لیکچر سے کسی حد تک بور ہونے لگی تھی. کھانا بھی کھا چکی تھی لیکن وہ مسلسل بولے چلے جا رہا تھا. انجیلا میرے جذبات بھانپ گئی اسی لئے اس نے مارٹن کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا: ڈارلنگ، کیوں نہ اب اپنے مہمانوں کو گھر کا ٹور کروایں.
اب تو واقعی میں بھی تنگ آ گئی تھی مارٹن کی باتوں سے. وہ واقعی ہر بات کے جواب میں اتنی غیر ضروری تفصیل بتاتا تھا کہ سننے والا تنگ ہی آ جائے.
پھر ہم نے ان کے ساتھ گھر کا ٹور کیا. انہوں نے ہمیں گھر کے کمرے دیکھیے. بیڈروم تو میں پہلے ہی دیکھ چکی تھی. بچوں کے سونے کا کمرہ بھی دیکھا جہاں دونوں ننھے بچے خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے. ننگے سوتے ہوے اتنے پیارے لگ رہے تھے کہ دل کیا ایک ایک بوسہ دونوں کو دوں. ویسے بچے تو ہر حال میں ہی پیارے لگتے ہیں خواہ ننگے ہوں یا نہ ہوں. ہم نے ان کا لان بھی دیکھا جہاں ایک بیڈمنٹن نیٹ لگا ہوا تھا. انجیلا نے کھیلنے کی دعوت دی لیکن میں نے معذرت کر لی. پتہ نہیں کیوں میرا دل اب واپس جانے کا کر رہا تھا. شہریار میری بیزاری سمجھ گیا اور ان سے اجازت لے کر ہم اپنے ہوٹل واپس آ گئے. واپسی سے پہلے مارٹن اور انجیلا نے ہمیں اپنے ساتھ ساحل سمندر پر جانے کی دعوت دے ڈالی جس پر میں نے انکار تو نہیں کیا لیکن حامی بھی نہیں بھری. کپڑے پہن کر ہم واپس ہوٹل آ گئے. کھانا کھایا اور اپنے کمرے میں آ گئے جہاں شہریار مجھے چودنے کی تیاری کئے بیٹھا تھا
.  شہریار نے مجھے کمرے میں داخل ہوتے ہی پکڑ لیا تھا اور وحشیوں کی طرح چمیاں کرنے لگا تھا. اب جا کر اس کا جھاکا کھلا تھا. اپنی پسند کی شادی ہو یا والدین کی پسند کی شادی ہو، شادی سے پہلے لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں، اگر شادی کی پہلی رات دونوں کا سیکس کا پہلا تجربہ ہے تو یہ بات یقینی ہے کہ شرم حیا ضرور آڑے آتی ہے. اگر لڑکا اور لڑکی دونوں پہلے ہی ایک دوسرے کے ساتھ سیکس کر چکے ہیں تو پھر تو یقیناً سہاگ رات میں بھی کھل کر سیکس کریں گے لیکن میرا اور شہریار کا معاملہ یہ نہیں تھا. میں حد سے زیادہ بولڈ ہونے کے باوجود شادی کی رات تک کنواری تھی اور شہریار نے بھی اپنی ورجنٹی یعنی کنوار پنے کو میرے لئے سنبھال کر رکھا تھا. ویسے مجھے شہریار پر اب فخر محسوس ہو رہا تھا کیوں کہ اب یہ جو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ ننگا طرز زندگی اپنا چکا ہے. ظاہر ہے، لوگوں کی موجودگی میں ننگا ہونے پر کسی بھی لڑکی کو دیکھ کر دل تو للچا ہی سکتا ہے. اور ویسے بھی انگریزوں کا کیا اعتبار. یہ لوگ تو شادی سے پہلے بھی سیکس کے قائل ہیں. ایسے میں شہریار کا سیکس سے بچے رہنا واقعی ہمت کا کام تھا. اگرچہ میری اپنی زندگی میں کئی مواقع ایسے آے تھے جب میں تقریباً بہک ہی گئی تھی لیکن پتہ نہیں کیسے سیکس سے خود کو محفوظ رکھ پائی.
یہ بتانے کا مقصد صرف یہ ہے کہ سہاگ رات پر شہریار اور میں جتنے شرمیلے تھے اور جھجھک جھجھکک کر سیکس کر رہے تھے، اب ہم دونوں اس کے بلکل متضاد تھے اور اپنی پیاس کو بجھانے کے لئے ہر حد تک جانے کو تیار تھے. دراصل سہاگ رات ہر لڑکی کے لئے یادگار ہوتی ہے. لڑکوں کے لئے بھی ہوتی ہو گی لیکن لڑکی ہونے کے ناطے یہ میں یہ وثوق سے کہ سکتی ہوں کہ کنواری لڑکیوں کے لئے یہ رات سری زندگی بھولنا نہ ممکن ہوتا ہے. میری سہاگ رات کچھ اسلئے ہی زیادہ رومانٹک تھی کہ شہریار اور میں نے ساری رات باتیں کیں اور مارے شرم کے شہریار کچھ کر ہی نہیں پا رہا تھا. میں تو دل ہی دل میں یہ سوچ چکی تھی کہ کچھ نہیں ہونے والا لیکن نہ جانے شہریار میں اتنی ہمّت کہاں سے آ گئی کہ اس نے میرا بوسہ لے لیا ہونٹوں پر. میں نے شرم سے آنکھیں بند کر لی تھیں. اس کے بعد ہم نے سیکس کیا جو اپنی جگہ خود ایک مزاحیہ قصّہ ہے. مختصر یہ کہ شہریار نے میری شلوار اتاری لیکن پوری نہیں. گھٹنوں تک اتاری اور جب اپنا لند ڈالنے لگا تو لند کھڑا ہی نہ ہو. بیچارہ اتنا پریشان ہوا تھا. کمرے میں ہلکی روشنی والا بلب جل رہا تھا جس سے مجھے اس کے چہرے کے تاثرات صاف نظر آ رہے تھے. بری مشکل سے اس نے لند کھڑا کیا اور اندر ڈالا. مجھے اتنی تکلیف ہوئی کہ برداشت کرنے کے باوجود منہ سے آہ نکل گئی. آہ نکالنی تھی کہ وہ بیچارہ بھی ڈسچارج ہو گیا. اور ہم دونوں پھر سے لیٹ گئے. یہ رات کے آخری پہر ہوا تھا. نا تو میں سہاگ رات میں اس کا لنڈ دیکھ پائی نہ ہی وہ میرے ممے یا چوت دیکھ پایا. میں شادی سے پہلے یہ ہی سوچتی تھی کہ سہاگ رات پر نہ جانے کیسا سیکس ہو گا. پورن فلموں میں جو کچھ دیکھا تھا، میرا خیال تھا کہ وہی سب کچھ ہو گا کیوں کہ شہریار یورپ کا تعلیم یافتہ لڑکا اور میں بھی اچھی خاصی ماڈرن لڑکی، بھلا ہم دونوں میں کیا چیز آڑے آ سکتی ہے

Posted on: 03:40:AM 28-Dec-2020


0 0 265 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 65 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 47 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Hello friends, hi mein xyz ka regular.....


0 0 64 1 0
Posted on: 04:18:AM 10-Jun-2021

Jani so rah hai . raat der.....


0 1 51 1 0
Posted on: 03:52:AM 09-Jun-2021

Hello my desi friends im sania from.....


0 0 70 1 0
Posted on: 03:47:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com