Stories


سکول اور ٹیوشن کی باجیاں

نامکمل کہانی ہے


یہ ایک بلکل سچہ واقعہ ہے کوئی من گھڑت قصہ
نہیں.. میرا تعلق پاکستان کے ایک چھوٹے سے قصبے کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے. 4 چوتھی کلاس میں پڑھتا تھا وہاں صرف فیمیل ٹیچرز ہی پڑھاتی ٹھیں اور وہ جس میڈم کا سکول تھا انکے ساتھ ہمارا اچھا تعلق تھا اسلیے سکول میں باقی ٹیچرز بھی کچھ نہیں کہتی تھی‍ بلکے اکثر مجھے وہ گود میں بٹھا کے رکھتی تھی‍ں اور میری پپیاں بھی لیتی تھیں لیکن تب میں نہیں جانتا تھا کہ جس گود میں بیٹھا ہوں وہ گود نہیں بلکے گرم تندور ہے اور میری چومیاں اس لیے نہیں لی جاتی تھیں کہ میں کیوٹ تھا بلکہ حوس کی چومیاں ہوتی تھی‍ں. پرنسپل کا نام نائلہ تھا اور اسکی دو اور بہنیں انیلہ اور مصباح وہ بھی اسی سکول میں پڑھاتی تھیں. میں سکول سے چھٹی کے بعد پچھلے ٹائم انکے گھر ٹیوشن بھی پڑھتا تھا اور سپارے کا سبق بھی لیتا تھا.. تینوں بہنوں پر فل جوانی تھی.. اور بے حد خوبصورت بھی تھی‍‍ں اور گھر می‍ انکی امی حلیمہ بھی ہوتی تھیں بڑی سیکسی آنٹی تھیں وہ اسوقت بڑی چھاتی اور وزنی گانڈ گورا رنگ. آنٹی کی خوبصورتی کی وجہ تھی کہ بچیا‍ بھی اتنی خوبصورت تھیں. انکے پاپا فوج میں تھے اور کبھی کبھار آتے اور ایک انکا بھائی تھا.. سب میرا بہت خیال رکھتے تھے اور میں ان میں بہت گھلا ملا ہوا تھا.
یہ واقعہ گرمیوں کی چھٹیوں کا ہے تب میں پچھلے ٹائم کی بجائے صبح کے وقت جاتا تھا 9 بجے.. اور دو گھنٹے پڑھتا تھا.. میرے علاوہ اور کوئی بچہ انکے گھر ٹیوشن نہیں پڑھتا تھا.. گھر میں میری سب سے زیادہ میڈم مصباح اور اسکے بعد میڈم انیلہ کے ساتھ بنتی تھی.. تب بڑی میڈم نایلہ کی شادی ہوگئی اب سکول میڈم مصباح چلا رہی تھیں.. ایک دن سارے بڑی میڈم کے گھر چلے گئے اور میڈم مصباح صرف گھر رہ گئیں. معمول کے مطابق میں گیا اور ادر بیٹھ کے پڑھنے لگ گیا میڈم نے کہا تم پڑھو میں نہا لوں میں نے کہا ٹھیک ہے. تھوڑی دیر بعد میڈم کی آواز آئی اندر سے حسنین میں نے کہا جی باجی تو انہوں نے کہا میں تولیہ بھول ہوں باہر زرا پکڑانا. میں نے تولیہ لے کے دروازہ کھٹکٹایا. میں نے دروازہ کھولا اور تولیہ پکڑ لیا. میں واپس جا کے بیٹھ گیا پھر باجی نے آواز دی حسنین ادر آؤ.. میں نے جی باجی.. باجی نے کہا کوئی آیا تو نہیں باجی کی آواز تھرتھرا رہی تھی آواز میں معمولی سا خوف تھا. میں نے نہیں باجی آج کون آئے گا تو باجی نے کہا اوہ شٹ میں نے پوچھا کیا ہوگیا باجی کوئی کام ہے تو مجھے بتائیں. باجی نے کہا میرا کمر پے ہاتھ نہیں پوہنچتا تمہاری باجی یا امی ہوتی تو وہ لگا دیتی کیا تم لگا دوگے.. تب میں معصوم تھا باجی کی حرکتوں کی مجھے کچھ سمجھ نہیں تھی میں نے جانتا تھا کہ باجی کی تندور میں آگ لگ ہے. باجی کو صابن کی نہیں کیڑے کی ضرورت ہے. میں نے کہا باجی میں لگا دیتا ہوں یہ کونسا مشکل کام ہے. باجی نے دروازہ کھولا اور جلدی جلدی مجھے اندر کر لیا تا کہ کوئی دیکھ نہ لے. اندر داخل ہوتے ہی دیکھا باجی بلکل ننگی تھی‍ں جسم پے ایک بھی کپڑا نہیں تھا اور باجی کے بھیگے ہوئے بال کندھوں سے آگے نیچے آکے باجی کے مموں کے ساتھ لپٹے ہوئے تھا.. مین نے ہنستے ہوئے کہا باجی شیم فار یو.. باجی نیچے بیٹھ گئیں اور صابن مجھے دیا کہ میری کمر پر لگاؤ. لگانے لگا تو باجی فورا اٹھی اور کہا حسنین تمہارے کپڑے تو خراب ہو جائیں گے اتار دو یہ پھر پہن لینا. میں نے کہا اتار دیں باجی. باجی نے نجھے ننگا کر دیا جب میری پینٹ اتاری تب باجی کی نظریں میری چھوٹی سی سوکھی ہوئ للی پر تھیں باجی مسلسل اسے دیکھی جارہی تھیں
جہاں میری چھوٹی سی للی تھی وہا‍ باجی کے سیاہ گھنے کالے بال تھے اور باجی کی چھاتی بھی بہت پھولی ہوئ اور ابھری ہوئ تھی جیسے گوندھے ہوئے آٹے کے دو پیڑے رکھے ہو‍…. لیکن ایک بات مجھے مختلف لگی کیونکہ میں امی کے ساتھ بھی نہاتا تھا جہاں باجی کے سیاہ گھنے بال تھے وہاں امی کے جسم پے بال نہیں ہوتے تھے. اسکے علاوہ باجی کا جسم پیچھے سے میری طرح ہی تھا صرف سائز کا فرق تھا لیکن وہ کوئی معمولی فرق نہیں بلکے ایسے لگتا تھا جیسے دمبے کی لاٹھ ہوتی ہی اور جب وہ چلتا ہے تو ایک بار ایک سائڈ کو گرتی ہے اور دوسری بار دوسری طرف گرتی ہے…. باجی نے شرارتا للی کو پکڑ کر کہا حسنین یہ کیا ہے… میں نے کہا باجی نونو… تو وہ ہنسنے لگیں.. میں نے بھی ہاتھ برھا کے انکے تھنوں پر رکھا اور پوچھا باجی یہ کیا ہیں..، باجی نے کہا یہ غبارے ہیں… میں شرارتا دبانے لگا انتہائی نرم و ملائم جیسے مکھن مجھے مزہ آنے لگا دبانے میں… کھیلنے لگ گیا انکے ساتھ باجی نے کچھ نہ کہا بلکے باجی نیچے واشروم کے فروش پر لیٹ گییں انکی آنکھیں بند اور منہ سے ہلکی ہلکی سسکیاں نکل رہی تھی جبکہ میں بس کھیل رہا تھا کبھی ایک ممے کو دونوں ہاتھوں سے قابو کرنے کی کوشش کرتا لیکن وہ کافی بڑا تھا کہیں نہ کہیں سے پھسل کے باہر آجاتا تھا…. پھر میں نے پھدی پے ہاتھ لگا کر پوچھا باجی یہ کیا ہے تو باجی نے کہا بیٹا یہ جنگل ہے…. میں نے کہا امی کے تو اس جگہ پے بال نہیں ہیں وہ حیران ہوئی اور پوچھنے لگی کیا تم نے دیکھا ہے انہیں میں نے کہا ہاں میں انکے ساتھ نہاتا رہتا تھا اور امی کی کمر پے صابن بھی لگاتا تھا.. باجی کو میری اس بات سے بہت مستی چڑھی باجی نے میری للی پکڑ لی اور سہلانے لگیں میں چپ چاپ کھڑا دیکھ رہا تھا…. مجھے بس گد گدی ہورہی تھی میں نے پوچھا بھی باجی یہ کیا کر رہی ہیں باجی نے کہا گد گدی کر رہی ہوں.. پھر باجی نے میری نونو کو منہ میں ڈال لیا باجی حوس کی آگ میں پاگل ہو چکی تھی‍ں…. باجی ایک ہاتھ کے ساتھ میری نونو پکڑ کے چوس رہی تھیں اور دوسرے ہواتھ سے اپنے موٹے تھن دباتی تو کبھی پھدی مسلتیں… گد گدی ہونے کے وجہ سے میری نونو میں سختی آنی شروع ہو گئی تھی میری نونو ایک دم سیدھی ہوگئی تھی اور باجی چوسے جارہی تھیں باجی کے منہ کی تھوک کی وجہ سے میری نونو بلکل چکنی ہوگی ہوئ تھی پھر باجی نے مجھے کہا لیٹ جاؤ سیدھے مجھے حیرت انگیز مزہ آیا تھا.
باجی کی نو چوسنے کی وجہ سے…. پھر میں لیٹ گیا اور باجی میرے اوپر چڑھ گئیں اور میری نونو والی جگہ پر بیٹھ کر اپنی دمبے جیسی لاٹھ رگڑنے لگئ باجی کی پھدی سے کچھ گاڑھا مدہ نکل رہا تھا جس سے میری نونو اور گیلی اور چکنی ہو چکی تھی.. پھر ایک دم باجی اتری اور ایک کونے میں ہوکے ایک بازو زمین پے رکھ کے دونو ٹانگیں کھول کر بیٹھ گئیں اور دوسرے ہاتھ سے پھدی رگڑنے لگیں بہت تیز تیز رگڑ رہی تھیں اور باجی ہوش بھی نہیں تھی میں نے دو تین بار بلایا لیکن باجی اتنی مست تھیں کہ سنائی نہیں دیا انہیں پھر ایک دم باجی کی پھدی سے پانی کا فوارہ نکلا میں سامنے بیٹھا تھا کچھ میرے اوپر گرا میرے منہ پر سینے پر اور کچھ میرے اوپر سے ہو کر دیوار پر لگا….. گرم پانی تھا میں نہیں جانتا تھا کہ یہ کیا ہے ورنہ سارا پی جاتا بلکہ میں نے باجی کی شیم کی کہ انکی سوسو نکل گئی ہے…. باجی نے مجھے تھوڑا سا نہلایا اور کپرے پہنا کر باہر بھیج دیا اور خود بھی نہا کر تھوڑی دیر بعد باہر نکل آئیں اور مجھے چیز کیلئے پیسے دیے اور کہا کہ کسی کو بھی یہ بات نہ بتانا کے باجی نے مجھے کہا ہے کہ میری کمر پر صابن لگاؤ
… .. میری تینوں ٹیچرز کا تو آپکو پتا چل ہی گیا ہے نائلہ مصباح اور انیلہ… تینوں سگی بہنیں… اب انکا بھائی بھی باہر کے ملک چلا گیا اور گھر اور سکول کا سارا نظام زیادہ تر میڈم مصباح اور انیلہ کے ہاتھ میں تھا….باجی انیلہ باجی مصباح سے بھی زیادہ خوبصورت تھیں اسوقت ایک لڑکا زولقرنین انکے گھر آتا رہتا تھا وہ انکا کچھ لگتا بھی تھا کوئی قریبی رشتہ تو نہیں لیکن انکے ساتھ انکے تعلقات کافی اچھے تھے اکثر وہ بازار سے چیزیں وغیرہ بھی لا کر دیتا تھا انہیں… وہ عمر میں باجی انیلہ سے تھوڑا چھوٹا تھا.. باجی کے گھر والے یعنی انکل اور آنٹی حلیمہ اسکی بہت تعریف کیا کرتے تھے کےمہ کتنا اچھا لڑکا بغیر کسی لالچ کے ہمارے کتنا کام آتا ہے لیکن وہ اس بات سے بےخبر تھے کہ دنیا مطلب دی اے اسے اور کوئی لالچ نہیں تھا واقعی سواۓ جوان اور کنواری گوری چٹی پھدی کے…. تب مجھے بھی کچھ علم نہیں تھا میں اسے نینی نینی کہہ کے بلاتا تھا… کچھ دن گزرے آنٹی انکل بڑی باجی نائلہ کے گھر گئے اور باجی مصباح اس دن لیٹ تک سکول میں کام کرتی رہیں جب میں ٹیوشن پڑھنے گیا تو تب گھر صرف باجی انیلہ ہی تھیں…میں بیٹھ کے پہلے سپارہ پڑھنے لگا کیونکہ سپارے کا سبق باجی انیلہ ہی دیتی تھیں وہ ویسے بھی بہت تلاوت اور نمازی تھیں پانچ وقتی اس لیے سپارے کا سبق وہی دیتی تھیں.. تھوڑی دیر گزری نینی بھائی آگے ایک چارپائی پر میں اور باجی بیتھے تھے اور دوسری پر وہ…. میں سپارہ پڑھتے پڑھتے غور کیا وہ بار بار باجی کو اشارہ کررہا تھا… شاید یہی کے اسے بھیجو کہیں.. باجی اٹیں اندر گئیں اور پیسے لے کر آئیں عام حالات میں وہ مجھے سبزی وغیرہ لینے کے لیے نہیں بھیجتی تھیں لیکن باجی نے مجھے پیسے دیے اور کہا حسنین جاؤ نینی بھائی کے پکوڑے یا بسکٹ وغیرہ لے آو.. میں بچہ تھا خوش ہوگیا چلو کچھ دیر جان چھوٹی.. فوراً نکل گیا…پکوڑوں والی دکان کافی دور تھی اور پیدل جانا تھا کافی دیر لگ گئی جب واپس آیا تو وہ دونوں صحن میں نہیں تھے میں نے دروازہ کھول کر لاؤنج والا دیکھا وہاں بھی نہیں تھے… ساتھ ہی باجی کا کمرہ تھا میں نے کہا چلو ادھر سے بھی چیک کر لوں دروازہ لاک نہیں تھا صرف بند تھا میں نے دروازہ کھولا تو باجی اور نینی بھائی دونوں اندر ہی موجود تھے… بیڈ کے پاس میری نظر پڑی تو باجی کی قمیض پڑی تھی اور ساتھ میں باجی کا بلوز تھا.
تھوڑا اور آگے باجی کی شلوار اور اوپر باجی کی پینٹی تھی ایسے ہی نینی بھائی کے کپڑے پڑے تھے… انکی حالت یہ تھی کہ نینی بھائی بیڈ پر لیٹے ہوئے تھے اور باجی انکے پیٹ پے بیٹھی تھیں تقریباً… میرے دروازہ کھوتے ہی باجی رک گئیں اور انکے چہرے پر تھوڑا سا خوف تھا…. باجی نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور مجھے کہا حسنین باہر بیٹھو میں نینی بھائی کی ٹانگ پر چوٹ لگی ہے مالش اور پٹی کر کے آتی ہوں تم وہ یاد کرو باجی کو وہ آیت زبانی یاد تھی باجی نے وہیں پڑھ کر سنائی میں باہر آگیا
میں زہن میں آیا یہ کونسا طریقہ ہے پٹی کرنے کا لیکن بچے کو کیا پتا ہوتا ہے تھوڑی دیر میں کپڑے پہن کے باہر نکل آئے دونوں بہت خوش لگ رہے تھے لیکن باجی کے چہرے پر خوشی کے ساتھ ساتھ ہلکی ہلکی پریشانی کے منظر بھی تھے…. نینی بھائی جانے لگے تو میں نے کہا بھائی یہ پکوڑے تو کھا لو اتنی دور سے لایا ہوں تو اس نے ہنس کر ایک پکوڑا لیا اور باہر نکل گیا…باجی نے میرے ہاتھ سے سپارہ پکڑا اور پڑھانے لگ گئیں تب مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اگر ایسے پٹی کی جاۓ تو نہا کر پاک ہونا پڑتا ہے اور نہانے سے پہلے قرآن کو ہاتھ لگانا جائز نہیں ہے… باجی کی ہونٹوں کی سخی خراب ہو گئی تھی شاید چوپے لگانے یا چمیاں کرنے کی وجہ سے.. مجھے سبق دینے کے بعد باجی کام کاج کرنے لگ گئیں اور اتنی دیر میں باجی مصباح بھی آگیں…. پھر میں سکول کا کام کرنے لگ گیا.. باجی انیلہ ان دنوں اپنی خالہ کے گھر سلائ کا کام سیکھ رہی تھیں باجی مصباح آئیں تو انہوں نے کہا کہ میں خالہ کی طرف جارہی ہوں…. باجی مصباح کام کی وجہ سے بہت تھکی ہوئی تھیں لیٹ گئیں اور ساتھ پڑھانے لگ گئی.. پھر اٹھی اور کہتی ہیں کہ تم پڑھو میں کپڑے تبدیل کر لوں باجی اندر چلی گئیں… باجی کی آواز آئی اندر ہی آجاؤ میں بہت تھکی ہوں میں اندر چلا گیا باجی کپڑے تبدیل کرکے بیڈ پے لیٹی ہوئی تھیں…. باجی نے کہا امی کو دباتے ہو کیا میں نے کہا جی باجی جب وہ تھکی ہوتی ہیں تو انکی ٹانگوں اور بازو دباتا ہوں.. تو باجی نے کہا میں بھی بہت تھکی ہوں دبا دو نا… باجی الٹی ہوکر لیٹی ہوئ تھیں میں نے باجی سیدھی ہوں نا تو باجی نے کہا ایسے ہی دباؤ میں پاؤں سے دبانے لگ گیا اور آہستہ آہستہ اوپر آنے لگ گیا.. پنڈلیوں سے ہوتا ہوا رانوں تک پہنچا.. پنڈلیوں تک انکی ٹانگ میرے ہاتھ میں کچھ نہ کچھ آتی رہی لیکن رانیں اتنی بڑی تھیں کہ دونوں ہاتھوں میں بھی نہیں آسکتی تھیں اوپر سے انکے پٹوں یا کوہلوں کا ماس (گوشت) اتنا نرم تھا کہ دبانے کا پتا ہی نہیں چلتا تھا باجی نے کہا تھوڑا اور اوپر دباؤ حسنین اصل درد اس جگہ ہے باجی نے اپنا ہاتھ گانڈ کی ہپس پر لگا کر بتایا…. دمبے کی لاٹھ کی طرح بڑھی ہوئی باجی کی گانڈ میرے قابو میں نہیں آرہی تھی…. باجی کی گانڈ ایسے تھی جیسے دو بڑے سے غباروں میں ہوا بھری ہو تو انہیں جہاں سے دباؤ تو وہ ہوا دوسری طرف چلی جاتی ہے….
میں ادر سے دباتا تو گوشت پھسل کر دوسری طرف چلا جاتا.. باجی کو بڑا سکون آرہا تھا.. باجی نے پینٹی بھی نہیں پہنی ہوئ تھی باریک سی شلوار میں سے باجی کی گانڈ ہلکی ہلکی نظر آرہی تھی.. پھر باجی نے تھوڑی ٹانگیں پھیلا دیں اور دوبارہ ہاتھ لگا کر بتایا یہاں سے دباؤ… باجی کی شہادت والی انگلی سیدھی گانڈ کی موری پر تھی باجی نے کہا یہاں سے ٹانگوں کی اندر والی سائڈ سے دباؤ حسنین میں نے ہاتھ رکھا تو یہ جگہ بہت گرم تھی باقی جسم بھی باجی کا گرم تھا لیکن یہ حصہ تو ایسے گرم تھا جیسے کسی نے گرم استری رکھ دی ہو اور جگہ بھی باقی سب جگہوں سے نرم و نازک تھی…. میں گانڈ کی موری والی جگہ سے دبانے لگ گیا باجی نے کہا تھوڑا اور اندر حسنین باجی کی آواز کپکپا رہی تھی اور باجی اپنے ممے دبا رہی تھیں… اب میرا ہاتھ باجی کی کی شرمگاہ پر لگا لیکن آج اس پر بال نہیں تھے اور یہ جگہ گرمترین اور نازک ترین تھی… ہاتھ لگا تو مجھے نمی محسوس ہوئ لیکن میں نے دھیان نہیں دیا اور دباتا رہا باجی کے منہ سے آہ آہ نکل رہا تھا…. تھوڑی دیر میں وہ نمی صحیح گیلی شلوار میں تبدیل ہوگئی.. اب باجی مستی کے عالم میں تقریباً بےہوش پڑی تھیں باجی نے قمیض میں ہاتھ ڈال کر اپنا مما دبانا شروع کر دیا باجی کا پیٹ ننگا ہوگیا اور اوپر جاکر دوسرا مما تھوڑا سا باہر نکل آیا باجی نے برا بھی جو نہیں پہنی تھی منے کا صرف منہ یعنی تھن کی نپل نظر آرہی تھی… میں دباتا رہا اور باجی پانی چھوڑتی رہیں میرا ہاتھ بھی گیلا ہوگیا باجی نے تھوڑا اوپر ہو کر شلوار بھی نیچے کردی اور باجی نے اپنی شرمگاہ میں دو انگلیاں ڈالیں اور تیزی سے اندر باہر کرنے لگیں میں چپ چاپ بیٹھا دیکھ رہا تھا انگلیاں اندر جاتے ہی ایک گھاڑے مادے کے ساتھ گیلی ہو گئیں اور جب بھی شرمگاہ سے باہر آتیں روشنی پڑنے کی وجہ سے چمکتی تھیں.. باجی کی سپیڈ آہستہ آہستہ تیز ہوتی گئی اب انگلیوں کے ساتھ ہر بار پانی کے ایک دو قطرے باہر نکل کر بیڈ شیٹ پر گر رہے تھے… ایک دم ڈھیر سارا پانی نکلا اور باجی کی چینک بھی نکل گئی آہ باجی اونچا اونچا آہ آہ آہ کرتے کرتے چپ ہوگئیں اور ایک دم انکے جسم کی حرکت رک گئی باجی تقریباً نیم بیہوشی کی حالت میں تھیں اور انکی شرمگاہ سے پانی ابھی بھی بیڈ کے اوپر بہہ رہا تھا جیسے کوئی نور بہہ رہا ہو باجی نے اپنی پینٹی پکڑی اور شرمگاہ پونجھ کر پینٹی رکھ دی.
باجی نے شلوار قمیض ٹھیک کی اور باہر صحن میں آگۓ… کاش میں اسوقت یہ سب کچھ جانتا ہوتا کہ پٹی کیوں باندھی جاتی ہے اور تھکاوٹ کیسے نکلتی ہے.. آج پھر باجی نے پیسے دیے اور کہا کسی کو بتانا نہیں لیکن یاد رہے باجی انیلہ نے نہ بتانے کیلئے کچھ نہیں دیا تھا
…اگلے دن معمول کے مطابق میں ٹیوشن پڑھنے گیا دونوں باجیاں ہی موجود تھیں گھر انکل آنٹی نے دو تین دن بعد آنا تھا کیونکہ بڑی میڈم نائلہ کے گھر بیٹا پیدا ہوا تھا…. سپارے کا سبق یاد کر رہا تھا باجی انیلہ پڑھا رہی تھیں جبکہ باجی مصباح سامنے بیٹھ کر سبزی کاٹ رہی تھیں… باجی مصباح ویسے تھوڑی اوپن مائینڈڈ تھیں پردے کے لحاظ سے اسوقت بھی انکا دوپٹہ کہیں اندر پڑا ہوا تھا اور وہ سبزی کاٹ رہی تھیں اور گرمی کی وجہ سے انہوں نے برا بھی نہیں پہنی تھی… کھلے گلے والی قمیض سے انکی چھاتی کی درمیانی لکیر (دو بچھڑتے ممے جدا ہوتے دکھ رہے تھےاور چارپائی کے اوپر ایک گھٹنا کھڑا کرکے بیٹھنے کی وجہ سے انکا دایاں مما دبا ہوا تھا اور دب کر وہ قمیض کے گلے سے آدھا باہر نکلا ہوا تھا… پیلے رنگ کی قمیض میں پسینے کی وجہ سے انکے دایاں ممے کا نپل ہلکا ہلکا محسوس ہو رہا تھا اور سونے پر سہاگہ لائٹ بند ہوتے ہی گرمی کی شدت کی وجہ سے باجی کو پسینہ زیادہ آنے لگ گیا تھا جو صراحی جیسی گردن سے ہوتا ہوا دونوں مموں کے درمیان سے گزر رہا تھا باجی کے دودھیہ گورے بدن پر پسینہ کی بوندیں افف اگر کوئی جوان دیکھ لیتا تو اسکے پسینے سردی میں بھی چھوٹ جاتے…. پسینہ وہاں دونوں پہاڑوں کے درمیان سے گزر کر پیٹ کے اوپر قمیض کو گیلا کر رہا تھا…. اور باجی اس بات سے بلکل بے خبر تھیں دوسری جانب اگر باجی انیلہ کو دیکھیں تو دوپٹے کو حجاب کی شکل میں اوڑھی ہوئی بیٹھی تھیں…. تب چھوٹا بچہ تھا کچھ بھی سمجھ نہیں آتی تھی…. اب سوچتا ہوں کہ باجی مصباح اوپن مائینڈڈ ہونے کے باوجود اور بڑا ہونے کے باوجود اور حوس شدید ہونے کے باوجود زنا سے مبرہ تھیں وہ الگ بات ہے کہ شدید شہوت میں ہاتھ ڈال کر چولہے کی آگ بھجا دیتی تھیں لیکن باجی انیلہ افف نمازی پرہیزی پردہ کرنے والی پسماندہ زہن کی مالک اپنے نفس کی خواہش پوری کرنے کے لئے ایک مرد کے نیچے لیٹ چکی تھیں اور وہ بھی شاید کئی بار …یہ باتیں اب زہن میں آتی ہیں کہ جو کام باجی مصباح کو کرنا چاہیے تھا وہ کام باجی انیلہ نے پہلے کردیا….
گھنٹی بجی نینی بھائی نے آواز دی حسنین دروازہ کھولنا… میں دروازہ کھولنے اٹھا باجی مصباح بھی اٹھ کر اندر گئیں اور دوپٹہ لے آئیں… ایک دم میرے خیال میں آیا بھائی سے تیمارداری ہی کر لوں… بھائی کل جو چوٹ لگی تھی اب کیسی ہے.. شاید اسے یاد بھی نہیں تھا کہ کل باجی نے کیا بہانا کیا تھا کہنے لگا کونسی چوٹ…. وہی جس پر باجی انیلہ کل اپنے کمرے میں پٹی کر رہی تھیں باجی انیلہ مجھے چپ کراتے کراتے رہ گئیں اور باجی مصباح حیران ہو رہی تھیں انہوں نے فوراً پوچھا نین کیا ہوا ہے اب باجی انیلہ کا منہ نیچے جھکا ہوا تھا جیسے بظاہر انہوں نے ہماری بات سنی ہی نہ ہو… نین کہنے لگا باجی ادر کمر میں درد تھا تو انیلہ سے مالش کروائ تھی اسکی بات کر رہا ہے ایک دم سب کو لگا بات ختم ہو گئی باجی انیلہ نے شکر کا کلمہ پڑھا کے نین کا دماغ ٹھیک کام کر گیا ہے… بچپن سے میرا زہن تو حرامی تھا ہی نہ.. دو تین منٹ بعد ایک دم میں بولا باجی مصباح یہ جھوٹ بول رہا ہے اسکے پیٹ میں درد تھی کیونکہ باجی انیلہ کپڑے اتار کر اس کے پیٹ پر بیٹھ کر مالش کر رہی تھیں…. بس اتنا کہنے کی دیر تھی باجی مصباح آگ بگولہ ہوگئیں وہ ساری بات سمجھ گئیں تھیں کہ ہوا کیا ہے شکر ہے آنٹی انکل نہیں تھے گھر پر نہیں تو دونوں کی خیر نہیں تھی…. باجی بے بڑے غصے سے کہا دفعہ ہوجاؤ نین… وہ ترلے منتیں کرنے لگا باجی ایک دفعہ کسی کو نہیں بتایے گا آئندہ میں آپکے گھر بھی آؤں گا… باجی انیلہ کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو کوئی….میں چپ چاپ بیٹھا سب سن دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا آخر پیٹ میں درد کی وجہ سے اتنا غصہ کیوں….باجی انیلہ اٹھ کر اندر چلی گئیں اور باجی مصباح کا لہجہ ایک دم نرم ہو گیا فوراً مجھے پاس بلا کر آرام سے پوچھنے لگیں میں نے پھر پکوڑوں سے شروع ہو کر گرے ہوئے کپڑوں باجی کی آہوں اور باجی کا نینی کے پیٹ کے اوپر بیٹھا ہونا سب کچھ واضح واضح بتا دیا… جیسا کہ پہلے بتا چکا ہوں کہ باجی مصباح شدید شہوت اکثر مبتلا ہو جاتی ہیں وہی ہوا اپنی بہن انیلہ کی زنا کاری سن کر باجی شدید شہوت کا شکار ہوگئیں انکی پیشاب گاہ سے اب شہوت نمودار ہو رہی تھی…. اور یہ سب خلاف توقع ہو رہا تھا… دراصل 25 سال کی جوان لڑکی جسنے ابھی تک مرد کا خاص عضو تناسل ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں ہو لن پھدی کی جلوہ گریاں سن کر گرم ہی ہونا تھا
جاری ہے

لکھاری نے کہانی یہاں تک لکھ ہے اگر کوئی مکمل کرنا چاہے تو لکھ کر بھیج دے

Posted on: 03:56:AM 28-Dec-2020


5 0 889 2


Total Comments: 2

Hassan: next part kab ho ga.


:



Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 11 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 74 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com