Stories


میں اور میری آوارگی از الطیر

نامکمل کہانی ہے

آغازپہلی بار اس محفل میں شرکت کرنے کی جسارت کر رہا ہوں امید ہے آپ لوگ مجھ جیسے نا تجربہ کار اور کم
سن لکھاری کی غلطیوں کو در گزر رکھیں گے ، کہانی شروع کرنے سے پہلے تھوڑا بہت تعارف تو بنتا ہے ، میری عمر تقریبا ۱۹ سال ہے اور  میں ہنود ایک طالب علم ہوں ،  نام میں کیا رکھا ہے خیر مجھے  آپ ساغر کہ سکتے ہیں ،  یہ حالات و واقعات جو میں آپ کے ساتھ شیئر کرنے جا رہا ہوں یہ مکمل طور پر میری زندگی کہ جو پچھلے  سال گزرے انکی داستان ہے ، وقت ضایع کیے بغیر شروعات کرتے ہیں ۔۔ گزشتہ برس میں نے میٹرک کے امتحان کے بعد کالج میں داخلہ لیا اور یہ کالج شہر کے آپ کہ لیں کہ ایلیٹ کلاس قسم کے لوگوں کے لیے ہے ، اگر چہ میرا تعلق مڈل کلاس فیملی سے ہے مگر تعلیمی کارگردی مناسب ہونے کی بناہ پر داخلہ مل ہی جاتا ہے ۔ ساری عمر ہم نے لڑکوں کے سکول میں ہی پڑھا تھا اور یہاں تھی کو ایجوکیشن ، تو میرے جیسا پرلے درجے کا جنسیت زدہ ٹین ایجر تو سمجھ لیں جنت میں آ گیا تھا ۔ یہ مت سمجھیں کہ میں کوئی اوباش اور بیباک قسم کا ہوں ، ظاہری طور پر حلقہ احباب میں میرے سے شریف شائد ہی کوئی ہو مگر عالم تخیلات میں کیا کچھ چلتا ہے ، وہ آ پ بخوبی جانتے ہیں  ۔ کالج میں پہلا مہینہ تو ہنگامہ ٓرائیوں میں ہی گزر گیا مطلب ویلکم پارٹی ، اور نئی جگہ ایڈجسٹ ہونے والا حساب کتاب ، اس کے بعد میں نے باریک بینی سے گردو نواح کا جائزہ لینا شروع کیا ۔ یہاں حسن بیباک تھا اور وافر بھی ، ہر قسم کے پری چہرے ، زاویے اور خوبصورتی کے شاہکار یہاں میسر تھے ، مگر ایک مہ جبیں صورت ایسی تھی جس کا میں خوامخواہ اسیر ہو نے لگا تھا
اس کا نام ونیزہ تھا ، اگرچہ شائید اس سے خوبصورت اور لڑکیاں رہی ہوں گی لیکن میرے جانچنے کے معیار کچھ الگ اور انوکھے ہیں ، وہ کلاس کی تمام لڑکیوں میں سے بولڈ اور انجھک قسم کی تھی ، اوردوسری بات اس میں خاص قسم کی سیکسی اٹریکشن تھی ، مجھے وہ پہلی نظر میں ہی بھا گئی تھی اور وہ کلاس کی واحد لڑکی تھی جس کے ساتھ میں گفتکو کرتے ہوئے ججھکتا نہیں تھا ، دن گزرتے رہے اور میں رفتہ رفتہ اس سے کافی فرینک ہو گیا ، گفتکو روٹین کی ہی چلتی تھی پڑھائی وغیرہ ، لیکن اس کے تھوڑا قریب ہوتے ہی مجھے سنسناہٹ محسوس ہونے لگ  جاتی تھی ، انسانی ذہن بھی عجیب ہے ، کلاس میں لیکچر چل رہا ہواور میں غلطی سے اس کے ساتھ بیٹھ جائوں ، حرام ہے جو ایک لفظ سمجھ آئے ، اسی کی طرف دھیان لگا رہتا تھا۔ ایک دن میں اس کے ساتھ روم میں بیٹھ کر اسائیمنٹ بنا رہا تھا اسکی اور اپنی جو کہ اگلے روز لازمی دینی تھی ، آخری کلاس جاری تھی کالج میں اور اس میں چند لوگ ہی تھے ، زیادہ تر کالج خالی ہو چکا تھا ، ونیزہ نے اچانک مجھ سے کہا : ساغر یار میرا بیگ اوپر کلاس  میں رہ گیا ہے اٹھا لاؤ  ۔۔۔اتفاقی طور پر میں بھی اپنا بیگ وہی رکھ آیا تھا ، میں نے اسے کہا مل کے لے آتے ہیں ، اوپر والا فلور مکمل خالی تھا اور اس وقت کمروں کو تالے لگنا شروع ہو جاتے تھے ، اوپر کی طرف جو سیڑھیاں جاتی تھیں اوپر چڑھتے ہی ایک طرف کاریڈور اور کلاسس تھیں جبکہ دوسری جانب ایک چھوٹا سا سٹور روم سا تھا جو کہ اس دن سے قبل میں نے کبھی توجہ نہ دی تھی، ہم دونوں اپنی دھن میں گپ لگاتے اوپر گئے ، اسنے کہا کہ بیگ لےآؤ جا کہ میں یہاں کھڑی ہوں ، میں بیگ لے کر آیا ، نیچے اترنے ہی لگے تھے کہ سٹور روم میں کھٹ پٹ کی آواز آئی ۔۔ ایک دفہ تو ہم چونک گئے پھر سوچا کہ ملازم کوئی صفائی وغیرہ کر رہا ہوگا ، اچانک کسی لڑکی کی کراہنے کی سی آواز وہی سے آئی ، ۔۔ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ، بلکل دبےپاوں چل کر ہم دروازے کے قریب گئے اور کان لگا کر سننے لگے ، اندر سے قسم قسم کی سسکاریاں ابھر رہی تھی جو کہ صرف اتنا قریب جا کر ہی سنا جا سکتا تھا ، بچے تو ہم تھے نہیں ، ونیزہ نے مجھے اشارہ کیا اور ہم ساتھ بنے کلاس روم میں چھپ گئے ، اس کے اور میرے چہرہ پر مسکراہٹ دوڑ رہی تھی اگرچہ اس سے قبل ہم میں کوئی ایسی ویسی گفتکو نہیں ہوئی تھی، میں نے دانستہ طور پر کرسیاں زور سے آگے پیچھے کیں ، اور توقع کے عین مطابق چند لمحوں بعدہی سٹور کا دروازہ کھلا ، اور اندر سے ہانپتے ہوئے ایک لڑکا برامد ہوا جو کوئی اور نہیں بلکہ میرا ہی دوست ولید تھا ، میرا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔ اسنے پہلے ادھر اُدھر دیکھا ، اطمنان کرنے کے بعد سٹور کی طرف جا کر دروازہ کھول کر جیسے اندر موجود کسی سے کچھ کہا ، اور خود نیچے کی طرف روانہ ہو گیا ، ونیزہ بولی : اندر چل کے  دیکھتے ہیں اندر ہو کیا رہا تھا ۔۔۔ میں نے کہا : کیا مطلب تمہیں نہی پتہ اندر کیا ہورہا تھا ؟ ، وہ بلا وجہ انجان بن گئی ، ۔۔۔پتہ نہیں کسے مار پڑ رہی تھی ۔۔۔۔ میں نے کہا : یہ مار کٹائی لگ رہی تھی تمہیں ؟ ۔۔اس نے ہلکا سا قہقہ لگایا ، اسی دوران سٹور روم میں سے دوسرے مفعول کی آمد ہوئی ۔۔۔۔یہ شیزہ تھی ، ۔۔۔۔اوئے یہ؟؟؟؟؟؟ ونیزہ بولی ۔۔۔یہ تو بالکل بھولی سی بیوقوف ہے ۔۔۔۔ اور قبل اس کے کہ میں کچھ کہتا ، اسنے مجھے رکنے کا اشارہ کیا اور خود اس کے سامنے وارد ہو گئی ۔۔۔میں کان لگا کر سننے لگا ۔۔۔ونیزہ نے تقریبا چیختے ہوئے کہا : یہ اندر کیاچل رہا تھا ؟؟؟؟۔۔۔۔۔شیزہ سپاٹ ہو گئی ۔۔۔ کک۔۔۔کچھ بھی نہیں میں ویسے ہی۔۔وہ ۔۔۔وہ کلر لینے تھے ْْْاچھا ا ا ا۔۔۔۔کلر ؟؟؟ ولید کے کلر ؟ ۔۔۔ ونیزہ نے کہا،  شیزہ رونے ہی لگ گئی ۔۔۔پلیز کسی کو مت بتانا پلیز ، میری کوئی عزت نہیں رہے گی ۔۔ اچانک ونیزہ نے اپنی غصے والی شکل درست کی ۔۔اور اب اس کے چہرے پر مسکراہٹ ناچ رہی تھی ۔۔ اے پاگل ہے ۔۔ خیر تو ہے میں نے کیوں بتانا کسی کو ۔۔میں نے کچھ نہیں دیکھا ، میں بلکہ یہاں ہوں ہی نہیں ۔۔۔ شیزہ جسکی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں اسکی جان میں جان آئی ۔۔۔ ۔’’پاگل لڑکی یہ کوئی جگہ ہے لیلی مجنوں بننے کی ؟ چلو بھاگو اب‘‘  ۔۔۔شیزہ اسے شکر گزار نظروں سے دیکھتے ہوئی سچی میں بھاگنے لگی ۔۔۔ میں مطلع صاف دیکھ کر باہر نکل آیا ۔۔ ’’ اچھا بھلا سکینڈل بن رہا تھا تم نے خوامخواہ فرار کروا دیا ملزمان کو ‘‘ میں نے اسے کوسا ۔۔۔ ’’ نیچے چلو اس سے قبل ہمارا کوئی سکینڈل بنائے ‘‘ ۔۔۔آ ج سے قبل ہم نے کبھی پیار محبت وغیرہ پر بات نہیں کی تھی لیکن اچانک حادثے نے زاویہ ہی بدل دیا تھا ۔۔ مجھے ابھی تک حیرانی تھی کہ وہ ابھی تک ان دونوں کو لے کر پرنسپل آفس میں کیوں نہیں تھی کیوں کہ جہاں تک میں اسے جانتا تھا وہ دوسروں کی ہر بات کو خوب مرچ مصالحہ لگا کر بیان کرتی تھی۔۔ ’’ یار سمجھا کرو تم بچے ہی رہنا ۔۔۔ کبھی اپنا سین بھی ہو سکتا ایسا ‘‘ ۔۔ میرا دماغ بھک سے اڑ گیا ۔۔ ’’کک کیا مطلب ؟؟؟ ‘‘ ونیزہ کے چہرے پر عجیب سی سرخی امڈ آئی ۔۔’’ بن لو معصوم ۔۔۔فلم نہ ہو تو ۔۔ ساتھ ہی اسنے مجھے آگے کی جانب دکھیلا ، خیر اس وقت آخری کلاسس بھی ختم ہو رہی تھیں ، اور چھٹی کا ٹائیم ہو گیا ، وہ اپنی دوسری دوستوں کے ساتھ چلی گئی اور میں بھی گھر آ گیا ، لیکن آج کا واقعہ سارے روز میرے ذہن پر سوار رہا ، کئی بار سوچا  سعید اور حسن ، جو کہ میرے جگری دوست سے ان سے ذکر کروں پھر ونیزہ کی بات یاد آ جاتی ۔۔۔ وہ یقینی طور پر میرے ساتھ فلرٹ کر رہی تھی اور میں اس زمانے میں سدا کا کورا تھا ان معاملات میں ۔۔۔اگلی صبح میں نے معمول کے مطابق کلاسس لیں اور بریک کے دوران سوچا کہ ونیزہ سے رکل کے واقعے پر ڈسکس کروں لیکن حسن مجھے زبردستی کرکٹ کھیلنے لے گیا ، کلاسس کے دوران گفتگو کہ مواقع کم ہی ملتے تھے ۔۔۔ میں جان بوجھ کر جلدی آؤٹ ہو کر کینٹن کی جانب چل دیا جہاں ونیزہ بیٹھی ہوئی تھی ، میں نے غیر محسوس انداز میں ہی اس کے سامنے والے بینچ پہ قبضہ جمایا ، اسنے فورا اسائمنٹ کا ذکر چھیڑ دیا ۔۔ایک عجیب سی ٹینشن بنی ہوئی تھی ہمارے درمیان کل کی بات کو ڈسکس کرنا چاہ بھی رہے تھے اور جان کر کر بھی نہیں رہے تھے ۔۔میں نے آخر کہ ہی دیا ۔۔ شیزہ کی سناؤ ۔۔ وہ جیسے اسی کے انتظار میں تھی ۔۔۔
یار انکا تو ہر دوسرے دن کا شغل ہے وہاں کا میں نے کل اکیڈمی میں اسے گھیر کر بہت سی باتیں نکلوائی ہیں ۔۔۔ '' جیسے کے ؟" میں نے پوچھا ''۔۔۔ نہیں اب ہر بات تو میں نے تھوڑی بتانی ہے تمہیں ۔۔ ذاتی معاملات ہیں انسکے ۔۔۔ وہ شیطانیت بھری شکل بنا کر بولی ۔’’ مطلب میں پرنسپل کو بتا دوں کہ اپنے کالج کی خبر لیں ؟؟ ‘‘ میں نے دھمکی دی ۔۔ ’’ ارے غلط باتیں ہیں میں نہیں بتانے لگی تمہیں شرم کرو ‘‘ ْ۔۔۔ میں پکا ہو گیا ’۔۔’’میں جا رہا ہوں پھر آفس میں ‘‘ ْ۔۔۔ اسنے زبردستی بٹھایا مجھے  ’’ بہت کمینے ہو گئے ہو ۔۔ بات یہ ہے کے وہ دونوں لو برڈز بہت ہارنی (گرم) ہوئے رہتے ہیں ، اور اس لیے بس تھوڑی کسنگ وغیرہ کر لیتے ہیں موقع دیکھ کر ۔۔ بس ۔۔۔ ‘‘ اسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا آہستہ آہستہ ۔۔’’ ویسے تھوڑی تو نہیں لگ رہی تھی کل کافی ہیوی سین بنا ہوا تھا ‘‘ ۔۔۔ میں نے چوٹ کی ۔۔ونیزہ نے غور سے مجھے دیکھا ۔۔’’ تم چھوڑ دو جان انکی بات ختم کرو ایسے کسی کی باتیں ڈسکس نہیں کرتے ۔۔۔ ‘‘  ۔۔’’ اچھا تو کل جو تم نے اسے فیور دینے کی بھونڈی وجہ بتائی تھی اسکے بارے میں کیا خیالات ہیں ؟ ارادے نیک نہیں لگ رہے تمہارے تم باز آ جاؤ ۔۔۔‘‘ میں نے بھر چھیڑا اسے ۔۔ وہ یکدم سیرس ہو گئی۔۔’’ساغر ایک بات بتاؤ ۔۔ تمہیں میں کیسی لگتی ہوں ؟ ‘‘ میرا دل ایسے لگا جیسے باہر آنے ولا ہے ۔۔۔ اسکا چہرہ بالکل گلاب کی مانند سرخ تھا ۔۔ ’’ بب۔۔۔بہت پیاری ہو ۔۔۔سب سے اچھی ہو ۔۔۔ آئی لائک یو ۔۔۔آ لوٹ ۔۔۔ ‘‘ میرے منہ میں جو اول فول آیا میں نے بک دیا ۔۔۔ اچانک اسنے زوردار قہقہ لگایا ۔۔میں ہونق شکل بنا کر دیکھنے لگا ۔۔۔ ’’ شکل دیکھنے والی ہو گئی ہے تمہاری ۔۔۔اف اتنے ڈائیلاگ ۔۔۔‘‘ ۔۔۔ بہت لعنتی ہو ۔۔۔ ‘‘ میں دھیرے سےمسکرایا ۔۔۔ کلاس کا ٹائیم ہو رہا  تھا ۔ وہ اٹھی ، اور جاتے ہوئے میرے کان میں کہ گئی ’’ آئی لائک یو ٹو ۔۔۔ ‘‘ ْ۔۔۔ میں چونک کھڑا ہوا ۔۔۔ آگ اسے لگ چکی تھی ۔۔۔ممکن ہی نہیں تھا کہ ہمارے ہم عمر دوست آپس میں  چسکے لے رہے ہوں آپ کے سامنے اور آپ کا تن بدن سلگ نہ اٹھے ۔۔۔ کلاس کے دوران میرے ذہن میں کل سنی ہوئی سسکاریاں آنے لگیں ۔۔۔ میں سوچنے لگا اگر وہاں ونیزہ اور میں ہوتے ۔۔۔ میرا لن آ ہستہ آہستہ حرکت میں آنے لگا ، انڈر وئیر نہ پہنا ہوتا تو کسی نا کسی نے ضرور غور کر لینا تھا ۔۔۔ جیسے تیسے کر کہ کلاس گزاری اور گھر آتےہی پورن سائٹس کھول کر مٹھ مارنے کی سعی کی ۔ ۔۔ کم از کم دن تو آرام سے گزر جائے ایسے۔اگلے روز میں منصوبہ بندی میں تھا کہ کسی جگہ ونیزہ سے تنہائی میں ملاقات ہو ۔۔۔ اور وہ جگہ کالج میں تھی ضرور لیکن رسک فیکٹر بھی کافی تھا ، ویسے بھی کل وہ ادھوری بات چھوڑ کر فرار ہو گئی تھی ۔۔۔ میں اس دن جلدی پہنچ گیا ،، صبح پہلی کلاس سے ۱۵ منٹ پہلے تک بھی بہت کم سٹوڈنٹسز آتے اور ونیزہ ان میں سے ایک تھی ، میں حالانکہ کہ لیٹ ہی جاتا تھا ، میری توقع کے عین مطابق وہ ہینڈ فری کان میں لگائے سیڑھیوں پر بیٹھی تھی اور اکا دکا سٹوڈنٹز ہی آئے ہوئے تھے ۔۔ میں خاموشی سے اسکے پاس جا کر بیٹھ گیا ’’ کیا سن رہی ہو ؟ ‘‘ ۔۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں ۔۔میں نے اسے دیکھا ،، اسکی آنکھیں ایسے تھیں جیسے ساری رات سو نہ سکی ہو ۔۔۔ ’’تم ٹھیک نہیں لگ رہی ‘‘ ۔۔۔ ’’نیند نہیں آتی رات کو آجکل ۔۔ پتا نہیں کیا ہے ۔۔۔ ‘‘ اسنے بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا ۔۔۔ میں نے کہا ’’ مجھے بلا لینا تھا میں لوری  دے لیتا بیبی کو ‘‘ ۔۔۔ اسنے مجھے ہلکی سی چپت لگائی ’’ شٹ اپ ساغر آئی ایم سیریس ۔۔۔ ‘‘ ۔۔۔ ’’ اچھا بتاؤ تو سہی بات کیا ہے ؟ٗٗ
’’ یار ۔۔۔ وہ بس۔۔ اس دن جو ہوا تھا۔۔۔میں ڈسٹرب ہو گئی ہوں اس سے۔۔۔ پہلے میں نے سوچا مذاق میں اڑا دوں گی بات لیکن آئی کانٹ سٹاپ تھنکنگ اباؤٹ ہر مونز ۔۔۔یہ کہتے ہوئے وہ تقریبا کانپ گئی تھی ۔۔۔ ’’ دفع کرو اوئے کیوں ٹینشن لے رہی ہو لگے رہنے دو انکو ہمارا کیا اس سے ؟؟؟ ‘‘ میں نے جان بوجھ کر کہانی کرائی اسے ۔۔۔ اسکے آنسو چھلک پڑے ۔۔۔ ’’ ساغر سمجھتے کیوں نہیں ہو ۔۔۔میں جل رہی ہوں ( اسنے ویسے انگلش میں زیادہ تر گفتگو کی لیکن یہاں اردو ہی لکھ رہا ہوں ) ۔۔۔ ہم بھی انسان ہیں ۔۔۔میں اپنے جذبات نہیں سنبھال سک رہی میں کچھ کر بیٹھوں گی ۔۔۔ ٗٗٗ‘ میں حیران تھا کہ اس طرح کی باتیں مجھ جیسے کم عقل اور کمزور دل انسان کو کرنی چاہیے جبکہ ونیزہ مجھے اپنی دلی کیفیت تک بتا رہی تھی ۔۔۔ ’’ تو کر لو جو دل چاہتا ہے اسمیں پریشان ہونے والی کیا بات ہے ؟ ‘‘۔۔۔’’پر ۔۔۔یہ غلط نہیں ہے ؟ ؟؟۔۔۔یہ گناہ وغیرہ کے چکر ۔۔۔سوسائٹی کا پریشیر ۔۔ اتنے تنگ نظر تو لوگ ہیں ۔۔ کچھ ایسا ویسا ہو جائے تو ؟؟‘‘ ۔۔۔ ’’ کچھ نہیں ہونا میں ساتھ ہوں تمہارے ۔۔ عیاشی کرو ۔۔ اور میں پرنسپل کو بتا رہا ہوں کہ کالج میں عجیب وارداتیں دیکھ کر عوام ڈپریس ہو رہی ہے ۔۔۔‘‘ وہ جھٹ بولی ’’ جاہل ہی رہنا تم الو ‘‘۔۔۔اور ساتھ ہماری کلاس کا وقت ہو گیا ۔۔۔ بات سیدھی تھی ۔۔ لڑکی راتوں کو گرم ہو رہی تھی اور اسکی تشنگی مٹانے والا کوئی تھا نہیں ، مجھے اسنے اشاروں کنایوں میں جیسے کھلی دعوت دی تھی اور اب پہل کرنے کی باری میری تھی ۔۔۔ دل میرا بلیوں اچھل رہا تھا کہ پہلی دفعہ سیکس کی لذت سے آشنائی ملے گی ۔۔


جاری ہے

Posted on: 01:52:AM 28-Dec-2020


2 0 279 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 11 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 74 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com