Stories


گروپ 8،میری سیکس لائف از وردہ خان

نامکمل کہانی ہے


کراچی، ایک پہیلی،ایک خواب ہے۔
یہاں پاکستان کے ھر حصے سے لوگ بستے ہیں، روز کئی نئے لوگ بوریا بسترا لے کر سہراب گوٹھ پنھچتے ہیں،اور پھر روزی کی تلاش میں پھیل جاتے ھیں۔یہاں کا کلچر صرف ایک ھے: پیسہ۔
یہاں ایک طرف کورنگی کا متوسط طبقہ ہے،لیاری کی غربت ھے،اور کلفٹن یا ڈیفینس کا امیر الٹرا ماڈرن کلچر، میں نے ڈیفینس جیسے پوش علاقے کے ایک امیر خاندان میں آنکھ کھولی،مجھ سے بڑا ایک بھائی تھا اور میں،ابو لیدھر ایکسپورٹ کے ایک مانے ھوئے کھلاڑی تھے،سارا دن، ہفتے کا چھ دن مصروف رھتےتھے، مگر جون اور جولائی ھمارا اکثر یورپ میں گزرتا تھا،2003 تک جب میں صرف دس سال کی تھی تو میں نے انگلینڈ، رومانیہ، ترکی،چیک ریپبلک،آسٹریا، جرمنی وغیرہ دیکھ لئے تھے۔ ڈیفینس کی ھر شام نہیں تو ہر دوسری شام پارٹی ھوتی تھی، جھاں پہ وائننگ اور ڈاننگ معمول ھتا تھا۔
ہاں میں اپنا تعرف کرانا بھول گئی، میرا نام وردہ انور ھے، میرے والد کا نام انور خان ھے، اور والدہ کا نام عظمت بیگم ھے، میرا بھائی عون، مجھ سے عمر میں چار سال بڑا ھے۔
میرے والد کا تعلق ھزارا سے ھے اور امی کا کراچی میں سیٹلڈ ایک پٹھان فیملی سے۔
ابو کی شکل سب ھزاروال کی طرح کچھ کچھ چائینیز سے ملتی ھے۔جس کی وجہ سے میری شکل بھی ذرہ سی چائینیز سی ھو گئی ھے پر زیادہ نہیں، ایسے سمجھ لیں جیسے ہم ٹی وی کی اداکارہ صنم جونگ تقریبن اسی فیصد مجھ جیسی دکھتی ھے، میرا قد شاید ایک انچ بڑا ھو اس سے، جو کہ پانچ فٹ سات انچ ھے اور میں کچھ زیادہ گوری ھوں اور میرے بال ھلکے بلونڈ ھیں اور آنکھیں  بھورے رنگ کی۔
اسکول میں سب لڑکیاں مجھے "انگریزن" کھ کے چڑاتی تھی۔
2006 میں میری عمر 13 سال ھوئی تو میں 17 کی لگتی تھی، اور اسکول کے باھر جب میں گاڑی میں بیٹھتی تو پڑوس کے کافی لڑکے مجھے گھور گھور کے دیکھتے تھے، مجھے حیرت ھوتی تھی کہ وھی لڑکے روز روز کیوں آتے تھے؟ اور مجھے کیوں تکتے تھے۔
میں تیرہ سال کی حوگئی تھی، اور میرے جسم میں تبدیلیاں ھو رھی تھیں، میرے بغلوں میں نازک سے بھورے بال اگنے شروع ھگئے تھے، اور اسی قسم کے بال میری چوت کے اوپر اور ارد گرد اگ آئے تھے۔ میرے ممے بڑے ھو رھے تھے اور نپلز کے اندر چھوتے بٹن جیسے "گلٹ" بن گئے تھے۔ ایک روز میں سو رھی تھی کہ مجھے اپنا ٹراؤزر گیلا سا لگا۔
نھیں یار میں نے اس عمر میں بستر پہ پیشاب کردیا؟
میں نے غصے سے سوچا، مگر یہ جلن کیسی تھی چوت کے ارد گرد، میں نے اٹھ کر دیکھا تو میری آنکھیں حیرت اور خوف سے پھیل گئیں، میری چوت کی جگہ سے ٹراؤزر پہ لال سا دھبہ تھا، میں فورن باتھ روم کی طرف بھاگی۔ اور ٹراؤزر اتار کے ٹوائلٹ سیٹ پہ بیٹھ گئی۔ ڈر ڈر کے نیچے دیکھا تو میری چوت کے اندر سے ھلکا ھلکا خون ابھی بھی رس رھا تھا، اور چوت کے اندرونی حصے میں جلن سی ھو رھی تھی، میرا ایک با ھاتھ جل گیا تھا کافی سال پھلے مگر یہ جلن عجیب سی تھی
میری جھانگوں میں سے میرے ریڑہ کی ھڈی تک ایسا سرور محسوس ھو رھا تھا کہ دل چاہ رھا تھا کہ ھوتا رھے، میں کنفیوزن میں ٹراؤزر پھن کر باھر نکلی۔ اور رات کے تین بجے موبائل سے امی کو کال کرنے لگی، امی نے نھیں اٹھایا مگر دوسری بار کال کی تو میرے کمرے کا دروازہ بجا۔
میں نے ڈر ڈر کے دروازہ کھولا تو امی کھڑی تھیں۔
کیا ھوا ھے تمھیں، ٹائم دیکھا ھے کیا ھوا ھے؟ امی نے غصے سے کھا۔
میں نے کچھ نھیں کھا اور امی سے لپٹ کے رونے لگی۔
کیا ہو گڑیا؟
میں روتی رہی، آخر امی نے میرا ٹراؤزر دیکھ لیا۔
ارے کچھ نھیں پاگل۔ امی نے مسکرا کر کھا۔
میں مر رھی ھوں امی؟ میں نے ھچکیاں لیتے ھوئے پوچھا۔
ارے نہیں بیٹا تم بڑی ھو رھی ھو۔ امی نے جواب دیا۔
میں حیرت سے انھیں دیکھتی رھی۔
امی اپنے کمرے سے کچھ پیڈز اٹھا کے لائیں۔ اور میری چوت کے ارد گرد کس کے باندہ دۓ۔
اور مجھے اگلے دن اسکول سے چھٹی کرنے کا کھا۔
اگلے دن امی نے میرے کمرے میں پیڈز کا ڈبہ رکھوا دیا۔ اور مجھے پھننے کا طریقہ بھی سمجھا دیا۔
میں کا فی ریلیکس ھو گئی تھی، انٹرنیٹ پہ میں نے پیرڈ کے بارے میں کا فی احتیاط بھی پڑھ لی تھیں۔ چار دن تک پیرڈ چلا اور میں نے سکول سے چھٹی بھی کی۔
چوتھے دن میری سب سے اچھی دوست، عمارہ کا فون آیا اس نے خیریت اور سکول نہ آنے کی وجہ پوچھی، میں نے سب بتا دیا۔
وہ بھت ھنسی۔
میں کھسیانی سی ھوگئی، مجھے سیکس کے بارے میں پتہ تھا، ھم لڑکیاں آپس میں باتیں بھی کرتی تھیں کہ لڑکے کے ساتھ ھوتا ھے وغیرہ وغیرہ ۔
مگر اب پتہ چل رھا تھا کہ سب اتنا آسان نھیں تھا۔
ھنسو کمینی ھنسو، جیسے تمھارا بھی ھو چکا ھے، میں نے چڑ کر کہا۔
چار مھینے پھلے۔ عمارہ نے بتایا۔
جھوٹی۔
قسم سے۔
مجھے نہیں بتایا۔
تم استنبول میں تھیں۔
مجھے یاد آیا، چھٹیاں تھیں۔
ھمممم
تو اب کیسا لگ رھا ھے؟
ختم ھوگیا، پر مجھے عجیب سا لگ رھا ھے ، مزہ سا آرھا ھے۔
چوت کے آسپاس نہ؟
ھاں
ھوتا ھے۔
ھوتا تو ھے پر اب کیا کروں؟
صبر۔
کمینی۔
اچھا سنو۔ کمرہ لاک کر کے فنگرز کے ساتھ اپنی چوت کے اندر پیشاب والے سوراخ کے ارد گرد رب کرو۔
اس سے کیا ھوگا؟
کرو تو سھی؟ مگر انگلی اندر مت ڈالنا، سیل ٹوٹ جائے گی۔
سیل؟
ھاں، تمھارے بواۓ فرینڈ کا گفٹ۔ وہ پھر سے ھنسنے لگی۔
میرا کوئی بواۓ فرینڈ نھیں۔
ہاے پتہ نھیں کون لکی باسٹرڈ ھوگا، کاش میں لڑکا ھوتی۔
ذلیل ھو تم پتہ ھے ناں؟
میں جو بھی ھوں تم کمرہ لاک کر کے جو کھا ھے وہ کرو اور مجھے کال کرو بعد میں۔
شوئر؟
ہاں بابا شوئر۔
میں نے فون ڈسکنیکٹ کیا اور کمرے کو لاک کر دیا۔
ٹراؤزر اتار کے میں نے بستر پہ بیٹھ کے اپنی ٹانگیں کھول دیں، میری چوت لال ھو رھی تھی۔ میں نے ڈر ڈر کے دو انگلیوں سے اپنی چوت کے لپس کو ذرہ سا کھولا، اور دوسرے ھاتھ کی انگلی سے اپنے پیشاب کرے والے سوراخ کو ھلکے ھلکے سے مسلنے لگی۔ اچانک میرے جسم کو جھٹکا ؒگا، اس دن جو مزہ میں نے ھلکا سا محسوس کیا تھا، وہ جوالا مکھی بن کر میری چوت سے نکلا دو میٹ کی رغڑ سے میری چوت کی اندر سے مزے کا طوفان نکلا۔
انننگگگگگگگ یممممممممممممممممممممم " میرے منہ سے خود بخود آواز نکلی، میرا پورا جسم اکڑ گیا، میں انگلی سے تیز تیز اپنی چوت کو رگڑنے لگی۔
آننننننن ھھھھھھھھھھاااااااا  آآآآآآآآآآآآآآ۔
میری چوت سے کرم پانی نکلا اور پورے جسم میں مزہ اور سرور پھیل گیا۔
میری چوت سے تین ھلکے پھوارے نکلے اور ھر بار اتنا شدید جھٹکا لگا کہ میری ٹانگیں بیڈ سے اوپر اچھلیں۔
میں بیڈ پہ سیدھی بے سدہ لیٹ گئی۔
میری سانسیں تیز تیز چل رھی تھیں
اااھھھھھھھھھھگگگگگگگگگگگ اااااھھھھھھھھھھ'
اس بار میں نے چوت کو چھوا بھی نھیں ایک اور زور کا پھوار میری چوت سے نکلا اور مزہ مجھے اپنی چوت کے عین وسط سے لے کر کانوں کی کنپٹیوں تک محسوس ھوا۔
میں کافی دیر تک ننگی بیڈ پہ لیٹی سانسیں لیتی رھی۔
جب ھوش آیا تو میں نے عمارہ کو فون کیا۔
کیسا رھا؟
آسم یار، یہ کیا تھا ؟
مزہ بےبی مزہ۔
میں تو روز کرنے والی ھوں یہ بار بار۔
نووووووووووووو پاگل ایک بار رات کو بس۔
ھم کا فی دیر باتیں کرتے رھے۔
اگلے کئی روز تک میں دن کو رات کو مسٹربیٹ کرتی رھی۔
ایک دن عمارہ رات کو میرے پاس رک گئی۔
تمھیں کچھ دکھاؤں؟ عمارہ نے کھا۔
کمپیوٹر آن کرو۔
کیوں؟
کرو تو۔۔
اچھا بابا۔
میں نے کمپییوٹر آن کیا۔
عمارہ نے ایک پورن ویب سائیٹ کھول لی۔
ایک گورا ، میم کے ساتھ لگا ھوا تھا۔
کمینی ھو تم۔ میں نے کہا۔
ھممممم
وہ گورا اس میم کو کس کر رھا تھا فیل مجھے اپنے لپس پہ ھو رھا تھا۔
وہ میم کو چاٹتا رھا، اس کے ممے چوستا رھا، مجھے اپنی چوت کے اندر مزہ فیل ھونے لگا۔
عمارہ تو شلوار اتار کے رگڑنا شروع ھوگئی۔
کتنی بے شرم ھو تم۔ میں نے کھا۔
شٹ اپ۔
میں نے عمارہ کی چھوٹی سی چوت کو دیکھا، میری اور عمارہ کی چوت میں ذرہ فرق تھا، اس کی چوت کے لپس چاکلیٹ کلر کے تھے اور میرے پنک، اس کی چوت کا اپر ھڈ ھلکا سا کھلا تھا اور میرا بلکل بند،
گورے نے اپنا لنڈ میم کے منہ میں ڈال دیا۔
یاخخخخخخخ گندے کمینے۔ مجھے الٹی سی آنے لگی۔
سیکھ لو کام اۓ گا۔
میں نے ھلکی سی چپت مار دی عمارہ کو۔
اس کا لنڈ کتنا بڑا ھے۔ عمارہ نے کھا۔
اس کی چوت میں فٹ آئے گا؟
چوت بھی تو بڑی ھے میم کی۔
میں نے اپنی چوت کو دیکھا، عمارہ نے مسکرا کے دیکھا۔
وھاں تو چوھے کا بھی پھنس پھنس کے جاۓ گا۔
ھم دونوں کھلکھلا کے  ھسن دی۔
گورے نے میم کی چوت میں لنڈ ڈال دیا جو آرام سے چلا گیا، میم کے منہ سے ھلکی سسکی نکلی۔
بے چاری کو درد ھو رھا ھے ناں۔
مزہ آ رھا ھے کمینی کو۔
ھمممممم
میں نے اور عمارہ نے اس رات چار بار وڈیوز دیکھ کے مسٹربیٹ کیا۔
'''''''''''
اگلے کچھ دنوں میں سکول میں بھو سی تبدیلیاں ھوئیں ، اگلی کلاس میں کو ایجوکیشن سسٹم ھو گیا لڑکوں اور لڑکیوں کی سیٹس الگ تھیں مگر کلاس ایک ھی تھی۔
میری کئی دوست تھی مگر عمارہ جتنی کلوز کوئی نھیں تھی، میں اور عمارہ بریک ٹایم میں اکثر ساتھ رھتی تھیں، کلاس کا سب سے ھیںڈسم لڑکا نھال تھا، سب لڑکیاں اسے دیکھ کے ٹھنڈی آہیں بھرتی تھیں مگر میں نھیں، شاید میں مسٹربیشن میں زیادہ خوش تھی۔
نھال کو شاید میں اس لئے بھی پسند نھیں کرتی تھی کہ اس کے والد ایک لسانی تنطیم ایم کیوایم کے اھم رھنما تھے، گو کہ ایم کیوایم  شھر کی سب سے بڑی جماعت تھی مگر ڈفینس میں گنے چنے افراد ھی اس جماعت سے وابستہ تھے، ابو نے مجھے صرف اتنا بتایا تھا کہ اس جماعت کے ھاتھوں کئی بے گناہ لوگ مارے گۓ تھے۔
میں نے کئی بار محسوس کیا وہ مجھ سے بات کرنا چاھتا ھے، مگر میرا چھرہ دیکھ کے ھی وہ سمجھ جاتا تھا کہ میں انٹریسٹد نہیں ھوں۔
جس طرح میں اور عمارہ ھمیشہ ساتھ رھتے تھے، نھال کا بھی ایک گروپ تھا، جس میں چار لڑکے تھے، جواد، منیب، عماد اور خود نہال۔
وہ چاروں، بریک میں جتنا ھو سکتا میرے اور عمارہ کے قریب رھتے تھے۔ ھم جگہ تبدیل کرتے تو وہ پیچھے پیچھے آجاتے۔
کیا نھال مجھے چودے گا۔ ایک دن عمارہ نے اچانک پوچھ لیا۔
اس سے اچھا ھے گدھے سے چدوا لو۔ میں نے جواب دیا۔
ٹرین کرنا پڑے گا گدھے کو بنے بناۓ مل رھے ھیں۔
میں ھنس دی۔
نھال نھیں یار ۔۔۔
کیوں؟
وہ ایم کیو ایم ایشو یو نو۔
اس میں اس بے چارے کا کیا قصور۔
جو بھی ھو، میں اس بارے میں بات نھیں کرنا چاھتی۔
تو تم ابھی سیکس کے لۓ تیار نھیں۔
تیار؟ مر رھی ھوں میں ۔۔ 14 سال کی ھو گئی ھوں اٹس رائٹ ٹائم، مگر نھال نھیں۔
کوئی اور ھے تمھاری نظر میں؟
ھممم ھاں ایک ھے۔ عمارہ نے کھا۔
کون؟
نام پتہ نھیں؟
کون سی کلاس میں ھے؟
کلاس میں نھیں ھے، کینٹین میں ھے؟
ھیں؟
وہ نیا ویٹر لڑکا نھیں؟
کینٹین میں ایک نیا لڑکا آیا تھا، پٹھان تھا، شاید۔
نھیں نھیں۔ میں نے ریجیکٹ کردیا۔
اچھا تو ھے، سولہ سترہ سال کا ھے۔ عمارہ نے لقمہ دیا۔
یار کچھ تو اسٹینڈرڈ رکھو۔
تمھاری مرضی، میں تو لائیک کرتی ھوں اس کو۔
شٹ اپ۔ یار۔
میں نے تو بات بھی کرلی ھے، کل جا رھی ھوں اس کے ساتھ بریک کے وقت رکشے میں۔
کھاں؟
اس کے گھر، نیلم کالونی، ایک دوست کے ساتھ رھتا ھے، کل اس کا دوست گھر پہ نہیں ھوگا۔
تم پاگل ھوگئی ھو۔ کچھ ویٹ نہیں کر سکتی؟
نھیں نھیں نھیں۔
میں نے کافی سمجھایا مگر وہ نہ مانی، مجھے لگ رھا تھا وہ مذاق کر رھی تھی، مگر دوسرے دن وہ چپکے سے بریک کے دوران سکول کے گیٹ سے باھر نکل گئی، اس کے پیچھے وہ کینٹین والا لڑکا جس کا نام عید خان تھا وہ بھی چلا گیا۔
میں نے بے یقینی میں سر ھلا دیا۔
وہ واپس سکول نھیں آئی، چھٹی کے بعد میں ڈرائیور کے ساتھ گھر آ گئی۔
رات کو میں نے عمارہ کو کال کرنے کی کوشش کی مگر اس نے کا اٹینڈ نہ کی۔
،،،،،،،،،
دوسرے دن ھماری ملاقات کلاس میں ھوئی، وہ کھل رھی تھی، اور کینٹین میں عید خان کسی پرندے کی طرح چھک رھا تھا، بھاگ بھاک کے ٹیبل صاف کر رھا تھا، میں کھڑکی سے اسے دیکھ رھی تھی۔ عمارہ میرے ساتھ والی سیٹ پہ بیٹھی تھی، میں نے اسے دیکھا تو اس نے مسکرا کے آنکھ مار دی۔
میں زیرلب مسکرا دی۔
تو عید خان کی عید سے پھلے عیدی کروا دی تم نے۔ بریک کے دوران میں نے عمارہ کو چڑایا۔
یار کیا مزہ آیا ، اصل چیز اصل ھے۔
میں ھنس دی۔
ھوا کیا؟
سیکس اور کیا؟
کمینی اکیلے اکیلے مزہ لے آئی۔
تجھے تو بولا تھا چل۔
نھیں یار، عجیب لگتا ھے۔
عجیب کیا ھے اس میں؟
مطلب جان نہ پھچان۔
تم نے کون سی شادی کرنی ھے اس سے۔
پھر بھی۔
پورے ایک ھزار دۓ اس کو، بزنیس تھا۔ بس۔
عید خان مسکراتا ھوا ھمارے پاس آیا۔
چاۓ ، بوتل، چپس میڈم جی؟ وہ دانت نکال کر بولا۔
لنڈ ملے گا؟ میں نے پوچھا
عمارہ کھلکھلا کے ھنس دی۔
عید کنفیوز سا ھوکے تھوڑا سا مسکرایا۔
چل دو کوک لے آ، میں نے زیادہ تنگ نہیں کیا۔
وہ مسکراتا ھوا چلا گیا۔
پٹھان ھے سالا دو تین مرتبہ اس نے لنڈ گانڈ پہ رگڑا تھا۔
نھیں یار۔
اور کیا ایک تھپڑ مارنا پڑا، پھر سیدھا ھوا۔
مزہ کس چیز میں زیادہ آیا؟
لکنگ کرواٰئی اس میں۔
نھیں یار۔
ھمممممم
درد ھوا؟
شروع میں جان جا رھی تھی، مگر پھر ایک منٹ بعد بھت مزہ آیا۔
بلیڈنگ؟
نھیں یار لگتا ھے میں نے کھیں مسٹربیشن میں اپنی سیل ھلا دی تھی۔
ھممممم
عید دو کولڈ ڈرنکس لے کے آیا۔
اور کچھ میڈم جی۔
نھیں بس۔ میں نے کھا۔
وہ وہ۔۔ عید شرما کے کچھ کھنا چاھ رھا تھا۔
کیا وہ وہ؟
آپ بھی کبھی خدمت کا موقع ۔۔۔۔۔
میں جان بوجھ کے اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی، مجھے پتہ تھا میری ڈائریکٹ گیز بھت سیکسی ھے۔
کیا کر سکتے ھو میرے لۓ۔
سب کچھ۔
گانڈ مارو گے میری؟
عمارۃ کھل کھلا کے ھنس دی۔
عید ھکا بکا رہ گیا۔
موڈ ھوگا تو خود بتا دوں گی۔ آئیندہ مت کھنا۔
جی جی میڈم جی۔
ابھی ھم باتیں کر رھے تھے، کہ نھال اور فواد  ھماری طرف آۓ۔
اھھھھممممممم، بات ھوسکتی ھے؟ نھال نے اعتماد سے پوچھا۔
نھیں۔ میں نے اتنے ھی اعتماد سے جواب دیا۔
کیوں؟
ھماری مرضی۔
آئی لو یر کانفیڈنس یو نو دیٹ؟
اینڈ آئی ھیٹ یررس۔
میرے پاپا کی سیاست وجہ ھے؟
ھاں۔
میرا کیا قصور اس میں؟
سنو نھال پھر کبھی بات کریں گے۔ عمارہ نے کھا۔
نہیں عمارہ، بات آج ھی ھو جاۓ، بنتی ھے تو ٹھیک ھے ورنہ آئندہ میں بھی کوشش نھیں کروں گا۔
کوئی فائدہ ھے نھیں۔ میں نے کھا۔
اصل میں ھے، فایدہ یہ ھے کہ آپ کو ثابت کرنا ھے کہ آپ میرے پاپا کی طرح تؑصب پرست نھیں۔
تو آپ اپنے پاپا پہ نھیں گۓ؟
ویری فنی بٹ نھیں۔ میرا ان کے کاموں سے کچھ لینا دینا نھیں، میرا دوست پنجابی ھے، اور ایک اور دوست پٹھان، ایسی بات ھوتی تو یہ کیوں میرے ساتھ ھوتے۔
میں پنجابی ھوں مس۔ فواد نے ھاتھ اٹھا کے کہا۔
اوکے آئی ایم امپریسڈ، چاھتے کیا ھو۔
دوستی۔ عمر بھر کے لۓ۔
نکاح کرنا ھوگا؟
نھیں نھیں نکاح والا جو بھی ھوگا آپ کو مبارک، ھم صرف دوستی کرنا چاھتے ھیں۔
ھم سوچ کے جواب دیں گے۔ عمارہ نے کھا۔
میں نے غصے سے عمارہ کو دیکھا۔
سوچیں مت کل کارلٹن یونائیٹد میں لنچ بھی کرتے ھیں اور بات چیت بھی۔ اگر دوستی پہ مان جاتے ھیں تو ٹرمس اینڈ کنڈیشن بھی سیٹ کرلیں گے۔
ٹرمس اینڈ کنڈیشن؟ عمارہ ھنس دی۔
ٹھیک ھے کل بریک میں ملتے ھیں سب سکول بنک کریں گے ۔ میں نے اچانک کہا تو عمارہ حیرت سے دیکھنے لگی۔
آئی اگری۔ نھال مسکرا دیا۔
اگلے روز ھم سب نے سکول بنک کیا، اور الگ الگ رکشاز میں ہوٹل کارلٹن یونائیٹڈ پہنچے، نہال نے پھلے سے ایک کارنر بک کروالیا تھا، دوپھر کا وقت تھا اس لئے اتنا زیادہ رش نہیں تھا۔
بہت دھیمی سی آواز میں سیلیون ڈیان کا سانگ " آئی ڈرئو آل نائیٹ" سنائی دے رہا تھا، جو اچھا محسوس ہو رہا تھا۔
کارنر میں اتنی پرائیویسی تھی کہ ہم لوگ کھل کے بات کر سکتے تھے، میں اور عمارہ ٹیبل کے کے ایک طرف بیٹھے تھے اور چاروں لڑکے جواد، نہال،منیب اورعماد ٹیبل کے دوسری طرف۔
اچھی جگہ ہے- فواد نے بات چیت شروع کی۔
ھمممممم۔ میں نے اسی پہ اکتفا کیا۔
پھلے آئی ہو کبھی  یہاں وردہ، نہال نے پوچھا۔
ہاں ایک دو بار۔
ویسے میرے پاپا آپ کے ابو کے بہت اچھے دوست ہیں، منیب عمارہ سے مخاطب ہوا۔
کیا نام ہے آپ کے ابو کا؟ عمارہ نے پوچھا۔
ڈاکٹر ریحان محسن، منیب نے جواب دیا۔
ھرٹ اسپیشلسٹ؟ عمارہ نے پوچھا۔
ہاں۔
ارے وہ تو کئی بار آ چکے ہیں ہمارے گھر۔ عمارہ بولی۔
آپ کے ابو بھی آتے رہتے ہیں۔
عمارہ مسکرا دی۔
چلو ان دونوں کی دوستی تو ہو گئی۔ عماد نے لقمہ دیا۔
جی نہیں ! پہلے ہمیں کنونس کرو کہ ہم کیوں دوستی کریں۔ میں نے اعتماد سے کہا۔
اچھا، تم کوئی وجہ بتاؤ کہ ہمیں دوستی نہیں کرنی چاہئے، نہال نے پوچھا۔
ویل ایک وجہ تو یہ ہے کہ لڑکے کمینے ہوتے ہیں، لڑکیوں سے دوستی کے بعد سو لوگوں کے مجمعے میں بدنام کرتے ہیں کہ انہوں نے قلعہ فتح کرلیا ہے، میں نے الٹی سیدھی ایکسکیوز دے ہی دی۔ مگر عمارہ نے ایسے ناک چرہائی جیسے کہہ رہی ہو کہ وزن نہیں بات میں۔
لسن وردہ ایسا ہوا ہے کیا؟ جواد بولا۔
نہیں مگر مجھے یقین ہے کہ کل ایسا ہی ہوگا۔
تمہیں یقین کیوں ہے، ہوا ہے تمہارے ساتھ اور اگر ہوا ہے تو ہم نے تو نہیں کیا- نہال نے کہا۔
میرے ساتھ یہ کرنے کی کسی کی ہمت ہی نہیں ھو سکتی۔ میں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
یار وردہ تم ایک ایسی بات کر رہی ہو جو ہوئی ہے نہ ھوگی، ایسی بات کرنا زیادتی ہے یار- فواد نے کہا۔
اور ھم کو کون سے ڈالرس ملیں گے سو لوگوں میں قلعہ فتح کرنے کی بات کرنے کے- منیب بولا۔
بات یہ ہے کہ ہم لڑکیاں ہیں، کل اگر تم یہ بات عام کر دو گے تو ہمارے لئے مسئلہ ہوگا۔ عمارہ بولی۔
لسن یار قسم لے لو اور کیا کر سکتے ہیں، اینڈ وی ریسپیکٹ یو گرلز۔ جواد نے کہا۔
لیکن ہم دونوں کیوں سکول میں اور بھی لڑکیاں ہیں- میں نے سوال اٹھایا۔
اپنی تعریف سننا چاہتی ہو؟ کم آن یار تم کو بھی پتہ ہے کہ ہمارے سکول کیا پورے ڈفینس کے سکولز کی تم سب سے زیادہ خوبصورت لڑکیاں ھو۔
تعریف سن کے میں ذرہ سی جھینپ گئی، اور گالوں پہ گرمی سی محسوس ہونے لگی۔
ویٹر آیا میں نے سینڈوچ اور کولڈ ڈرنک منگوائی، جواد کے علاوہ سب نے میرے جیسا آرڈر کیا، جواد نے برگر کا بولا۔
کم آن یار! اب اسمپشنز پہ دوستی نہیں کرنی تو یہ زیادتی ھے کل ایسا ھوگا پرسوں ویسا ہوگا، شروع تو کرو۔ نہال نے ایک اور وجہ دی۔
اچھا مان بھی لو کہ ہم نے ہاں کردی، تو یہ دوستی کس قسم کیس ہوگی؟ میں نے پوچھا۔
کیا مطلب؟ نہال نے واپس سوال پوچھا۔
آئی مین تم چار ہو اور ھم دو؟ میں نے کہا۔
تو کیا ہوا، ہم شادی تھوڑی کر رہے ہیں؟ نہال نے جواب دیا۔
نہیں آئی مین ، ہماری ممممم میرا مطلب۔ میں خاص تعلق کا پوچھتے ہوئے جھجھک سی گئی۔
کھل کے بات کرو وردہ۔ جواد بولا۔
اچھا اس دوستی میں سیکس انوالو ہوگا؟ میں نے پوچھ ہی ڈالا۔
آف کورس ہوگا، تم کو اعتراض ہے اس پہ۔ نہال بولا۔
مگر تم لوگ تو چار ہو، ہم دو، میں نے معصومیت سے پوچھا۔
یار وی آل لائیک یو، اور ایا نہیں کہ صرف سیکس کے لئے دوستی کر رہے ہیں جب آپ کا موڈ ھو آپ کی چوایس پہ ہے جس سے چاہو کرلو۔ نہال نے کہا۔
میں ہچکچانے لگی۔
سنو وردہ تم اور ھم سب چودہ پندرہ سال کے ہو گۓ ھیں، تم کو سیکس کی ضرورت ہے یا نہیں مگر میں نے جلد سیکس نہیں کیا تو میں ھاتھ سے رگڑ رگڑ کے مر جاؤں گا۔ منیب بولا۔
تم لوگوں نے پہلے سیکس کیا ہے، میں نے پوچھا۔
جواد نے کیا ہے ایک بار، وہ بھی اپنی کزن سے۔ منیب ہنس کے بولا۔
شٹ اپ یار، جواد جھلا کے بولا۔
دیکھا وہی ہوا ناں جو میں نے کہا تھا، تم سب کو کیسے پتہ چلا جواد نے اپنی کزن کو چودا ہے، میں نے پوچھا، میں نے پہلی بار "چودا" لفظ بولا تو لڑکے ھنس پڑے۔
آینسٹائن کی امی جب یہ چود رہا تھا، ھم سب باہر پھرا دے رہے تھے، عماد بولا۔
کہاں کیا تھا؟ عمارہ نے پوچھا۔
دو دریا پہ۔ جواد بولا۔
تم دونوں میں سے کسی نے کیا؟ نہال نے پوچھا۔
نن۔۔۔ ابھی میں نہیں بولنے والی تھی کہ عمارہ نے سچ بول دیا۔
میں نے کیا ہے،
ریئلی کس کے ساتھ؟ منیب نے پوچھا
عمممم چھوڑو بتانا ضروری ہے کیا، میں نے کہا۔
نہیں نہیں۔ نہال نے مسکرا کر کہا۔
ھم ابھی باتیں کر ہی رہے تھے کہ ویٹر آ گیا اور آرڈر سرو کر کے چلا گیا۔
تو تم نے کیا سوچا وردہ؟ نہال نے سینڈوچ کھاتے ہوئے پوچھا۔
ہم آج آپس میں مشورہ کرکے کل بتائیں گی۔ میں نے جواب دیا۔
اس میں مشورے کی کیا بات ہے یار،تم کو سیکس کیس ضرورت نہیں محسوس ہوتی؟ میں نے تو نیٹ پہ پڑھا تھا کی لڑکیوں کو مزہ بھی سات گنا زیادہ آتا ہے اور سیکس کی ضرورت بھی لرکوں سے کہیں زیادہ ہے۔ جواد نے لیکچر دے ڈالا، میں اور عمارہ ایک دوسرے کو ہکا بکا دیکھتی رہ گئیں۔
کم آن یار- نہال نے لقمہ دیا۔
بیس منٹ بات چیت کے بعد میرے پاس کوئی وجہ نہ رہی کہ انکار کردوں۔
اوکے ٹھیک ہے، ہمیں منظور ہے۔میں نے ہار مان لی۔
لڑکے بے یقینی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور ایک دم سے کھڑے ھوکے ایک دوسرے سے ھاۓ فائیو کیا اور گلے ملے۔
ٹھینکس یار۔ اٹس بیسٹ تھنگ ائور- منیب کچھ زیادہ ہی ایکسائیٹڈ تھا۔
اچھا، وردہ آن سیرئس نوٹ، تمہارا پہلا ٹائم، شاید ذرہ پین فل ھو" نہال بولا۔
زیادہ درد ہوتا ہے، میں نے عمارہ سے پوچھا۔
عمارہ نے بری سی شکل بنا کر ہاں میں سر ہلایا۔
ڈیم یار، میں بھی گھبرا گئی۔
کون کر سکتا ہے اتنی احتیاط سے کے کم سے کم درد ٰہو، نہال نے سب لڑکوں سے پوچھا۔
سب کنفیوز تھے۔
یار میں نے گالیاں نہیں کھانی وردہ کی ھو سکتا ہے ہرٹ کردوں۔ منیب میسنی شکل بنا کے بولا۔
یار ، تم مولی یا کھیرے سے اپنی سیل توڑ دو۔ عماد بولا تو میری ھنسی نکل گئی۔
جواد تم نے تو ایک بار کیا ہے؟ نہال نے پوچھا۔
اس کا سیل کیس نہیں تھا یار۔
ڈیم۔ نہال بولا۔
کچھ دیر وہ سب اس مسئلے پہ ہی بات کرتے رہے۔
ایک آئڈیا ہے یار، جواد بولا۔
کیا۔ نہال نے پوچھا۔
جس نے عمارہ کی سیل توڑی اسی سے وردہ کی تڑواتے ہیں، جواد بولا۔
میں نے مری سی شکل بنا کے عمارہ کو دیکھا۔
نہیں وہ نہیں، میں نے صاف جواب دیا۔
چھوڑو یار، میں کرلوں گا۔ آخر  منیب نے حوصلہ دکھایا۔
یو شوئر؟ میں نے گھبرا کے منیب کو دیکھا۔
ہاں یار کچھ تم ھمت کرلو کچھ میں حوصلہ کرلوں گا، منیب نے کہا۔
تم کو پتہ ہے کرنا کیا ہے؟ نہال بولا۔
میں نے ایکس موویز دیکھی ہیں بہت- منیب ایتماد سے بولا۔
کرنا کب ہے، عمارہ نے پوچھا۔
آج، نہال نے جواب دیا۔
آج کیوں یار، کوئی اور دن رکھ لو، ابھی چھٹی ھونے والی ہے کچھ دیر میں ڈرائیور آجاۓ گا سکول، میں نے کہا۔
تم دونوں اپنے اپنے گھر فون کرو کے کسی سہیلی کے ساتھ اس کے گھر جا رہی ہو برتھ ڈے وغیرہ کا جھوٹ بول دو۔ نہال نے آئیڈیا جھاڑا۔
میں نے امی کو جھوٹ بولا کہ اپنی سہیلی ثنا کے گھر

میں کمرے کی طرف جا ہی رہی تھی کی شاہو نے پیچھے سے آواز دی۔
بےبی ساب۔۔۔
میں نے پیچھے مڑ کے دیکھا۔
ام باہر بیٹھا ھے، تم لوگ آرام سے کام وام کرکے آجاؤ، شاہو نے دانت نکال کے کہا۔
سنو شاٰہو، تمہارا موبائیل نمبر کیا ہے- میں نے پوچھا۔
او، نہیں اے امارے پاس، غریب آدمی اے بےبی ساب، روٹی موٹی  مل جاوے تو بہت اے۔ شاہو نے جواب دیا۔
تمہارے پاس پین ہے؟
آں بےبی، کاپی بھی ھے۔
لے آؤ۔
وہ جلدی سے ایک پرانی کاپی اور پین لے آیا۔ میں نے ایک پیج پہ اپنا فون نمبر لکھ دیا۔
اپنے سکول یونیفارم کے جیب سے میں نے 3 ھزار روپے لۓ اور شاہو کی طرف بڑھا دۓ۔
ارے نئیں بابا- وہ پیچھے ھٹا۔
فون خریدنے کے لۓ دے رہی ہوں، ایک فون اور سم لو، اور مجھے اس نمبر پہ کال کرنا، میں نے مسکرا کر کہا تو شاہو نے دانت نکالتے ہوۓ پیسے لے لۓ۔
میں اس کمرے کی طرف چلدی جہاں لڑکے عمارہ کو چود رہے تھے۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی میں نے جو دیکھا میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔
عمارہ گھٹنوں کے بل منیب کا لنڈ چوس رہٰی تھی اور عماد اس کے ساتھ بیٹھا اس کی نپل چوس رہا تھا، جبکہ جواد اور نہال ایک سائیڈ میں ننگے کھڑے لمبی لمبی سانسیں لے رہے تھے۔ شائد وہ عمارہ کو چود چکے تھے۔
کیا یار انگریزی پروگرام؟ میں نے ہنس کے کہا۔
سب مجھے دیکھنے لگے،
آ گئیں ڈیبیوٹنٹ، نہال مسکرا کے میری طرف بڑھا اور ہم دونوں نے ہاۓ فائو کی تالی ملائی۔
کیسا رہا، نہال نے پوچھا۔
عمارہ،منیب اور عماد نے بھی اپنا کام روکا اور میرے پاس آکے مجھ کو
کیا ۔ greet
کیسا رہا۔ عمارہ نے پومسکراتے ہوۓ پوچھا۔
اچھا رہا مگر یہ تو نے چوسنا بھی شروع کردیا۔ میں نے آنکھیں پھاڑ کے اس سے پوچھا۔
عماد نے ضد کی میں نے کہا چلو نیا ایکسپیرینس ہو جاۓ۔ وہ کھسیانی سی ہو گئی۔
درد تو نہیں ہوا؟ نہال نے پوچھا۔
مت پوچھو۔ بعد میں بتاؤن گی۔ تم لوگ کام پورا کرو۔ میں نے عماد اور منیب کو آنکھ مار کے کہا۔
عمارہ سر ھلاتے ھوۓ واپس گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی منیب اس کے سامنے کھڑا ھوگیا۔
اس کا لنڈ زیادہ بڑا نہیں تھا، توریبن 5 انچ ھوگا لیکن صاف اور موٹا تھا، عمارہ نے بالوں کی پونی بنائی، عماد سائیڈ میں کھڑا لنڈ کو ھاتھ سے مسل رھا تھا۔
میں، جواد اور نھال ایک پرانی ٹوٹی ھوئی بینچ پر بیٹھ گۓ۔
ہرٹ تو نہیں کیا کمینے نے؟ جواد نے پوچھا۔
بہت زیادہ یار پر شاید ضروری تھا، تم لوگ کبھی نی کر پاتے، تھوڑا ظالم ہونا پڑتا ہے لڑکی کے ساتھ پہلی بار، ویسے بعد مین آسم مزہ آیا۔
میں نے کھل کھلا کے بتایا تو دونوں ھنس پڑے۔
عمارہ گھٹنوں کے بل بیٹھ کے مزے سے منیب کا لنڈ چوسے جا رہی تھی اور عماد پیچھے سے اس کی پیٹھ پہ لنڈ گھس رہا تھا۔
یہ عماد کیا کر رھا ھے، عماد نے پوچھا۔
چھوڑو پٹھان کا اپا طریقہ ھوتا ھے، نہال نے جواب دیا اور ھم بے اختیار ہنس پڑے۔
تم لوگوں نے کرلیا۔؟ میں نے پوچھا۔
عماد چود چکا ہے ، میں تمیارا ویٹ کر رھا تھا،
اوہ-میرے منہ سے بس اتنا ہی نکل سکا۔
تھوڑا ریسٹ کرلوں یار- میں نے پوچھا،
ھاں ھان ٹیک یور ٹایم تب تک ان کا مزی دیکھتے ہیں۔ نہال بولا۔
عمارہ نے کافی دیر تک دونوں کا لنڈ چوسا پھر عماد نے اس کو اوپر کھڑا کیا اور دیوار کی طرف چلنے کا کہا۔
عمارہ آہستہ آہستہ دیوار کے ساتھ جا کر کھڑی ھو گئی۔
ھاتھ دیوار پر اور جھکو ذرہ- عماد نے کہا،
یار میں نے گانڈ میں نہیں لیا پہلے کبھی- عمارہ ڈر گئی۔
ارے نہیں پاگل چوت میں ہی کروں گا- عماد مسکرایا،
عمارہ نے دیوار پہ ھاتھ رکھ دۓ اور گھتنے بینڈ کر کے جھک گئی، اس کی گانڈ کا کریک ذرہ سا کھلا۔
عمار نے اپنے گھٹنے بھی ذرہ بینٹ کرکے اپنے لنڈ کو عمارہ کی گانڈ کے کریک میں ڈآلا اور چوت کے ھونٹوں تک لے جانے کی کوشش کرنے لگا۔
گانڈ کو ذرہ اوپر کرو عمارہ- منی نے کھا اور عمارۃ نے غھٹنے ذرہ اٹھا کے گانڈ کو اوپر کیا۔
عماد نے عماری کی کمر کو دونوں ھاتھوں سے تھام لیا اور لنڈ کی ٹوپی کو آرام سے اندر گھسیڑ دیا، عمارہ نے ناک چڑھا کے سسکی سسسسسسسسسسسسسسس لی جس سے لگا اس کو درد ھوا۔
پھلے اس نے آھستہ آھستہ اپنا پورا 6 انچ کا پرزا عمارہ کی چوت میں ڈالا اور پھر آرام آرام لنڈ کو اندر باھر کرکے مزہ لینے لگا۔
منیب سائڈ میں کھڑ اپنی باری کا انتطار کر رھا تھا۔
دو منٹ تک عماد آھستہ چودتا رھا، پھر اسپیڈ پکڑ لی،
کچھ ہی دیر میں کمرے میں تھپا ککککککککک تھپاککککککک اور عمارہ کے مزے لے کر اونھھھھھھھھھھھ اونھھھھھھھھھھھھھھھھھ کی آواز آنے لگی۔
ھم چپ سادھے دیکھ رھے تھے میری چوت گرم ھو رہی تھی پھر سے۔
تم ریڈی ھو وردہ، نھال نے پوچھا۔
اومممم ھھ ھاں ھاں، مجھے جیسے کسی نے نیند میں سے اٹھا لیا ھونھال اٹھا
 اور اپنی شرٹ اتار دی۔ میں بھی کھڑی ھوگئی اور قمیض اتار دی۔
نہال نے جواد کی طرف دیکھا۔
پہلے تم کرو گے؟
نہیں کرلو، میں نے ابھی عمارہ کو چودہ ہے ذرہ سافٹ ہوں- جواد نے جواب دیا۔
میں نے یونیفارم کی شلوار بھی اتار دی۔ میری چوت پہ ابھی بھی ھلکہ سا خون لگا تھا۔
نہال میری طرف بڑھا اور ھم دونوں نے سینے ملا لۓ وہ اپنے سینے کی سکن کو میرے مموں کو مسلنے لگا اور میرا چہرہ ھاتھ میں تھام کر اپنے ھونٹ میرے ھونٹوں پر رکھ دۓ۔
امممممممممممم وہ میرا نچلہ ہونٹ چوسنے لگا۔
وھاں عمار کی آھھھھھھھھھھھ کی آواز سنائی دی۔ وہ اپنا لنڈ عمارہ کی چوت سے نکال کے اس کی گانڈ پر ڈسچارج ہو رہا تھا۔
میں نے بھی نھال کا اوپر والا ھوٹ چوسنا شروع کر دیا، اس کے ھاتھ میری گانڈ کے کے گولوں کو سہلانے لگے۔
وہ ذرہ ھونٹ میرے ھونٹوں سے ھٹا کے بولا۔
اپنی زبان میرے منہ میں ڈال دو، میں نے سر ھلایا۔
اس نے جیسے ھی اپنے ھونٹ میرے ھونتوں پر رکھے میں نے اپنی زبان اس کے منہ میں ڈال دی اور وہ سوفٹلی میری زبان کو چوسنے لگا۔
ھم دونوں کی آنکھیں ملیں ھوئی تھی اس کی آنکیں شرارت سے مسکرا رہی تھیں اور مزے سے میری زبان چوستا رھا۔
دو منٹ زبان موسنے کے بعد اس نے اپنا منہ ھٹا لیا۔
نیچے بیٹھ جاؤ، نہال نے بے پروائی سے کھا۔
نیچے کیوں؟ میں نے حیرت سے پوچھا۔
سکنگ کروانی ھے یار اور کیا۔ وہ بولا۔
کھھیییییی وہ میں نہیں کورں گی نو وے۔ میں نے بری سی شکل بنائی۔
کم آن یار اب مزہ خراب مت کرو، نہال نے منت کی،
نن ننوووووووو۔
یار سکنگ کے بغیر چودنے کا مزہ کیا، عمارہ نے بھی تو کی ھے- جواد نے ٹوکا۔
وہاں سے تم لوگ پشاب کرتے ھو نو۔ میں نے ھاتھ اٹھا کے کہا۔
ابھی تو نہیں کر رھا پیشاب میں کلین ھوں یار روز تین بار نیاتا ھوں۔ نہال بولا۔
میں انکار کرتی رہی مگر جلد ہی دونوں لڑکوں کیس ضد ماننی پڑی۔
نیال کا لنڈ سب لڑکوں سے برا تھا، اراؤنڈ 8 انچ۔
میں بے دلی سے نہال کے سامنے گھتنوں پہ بیٹھ گئی۔
اس نے میرے بالوں کی پونی ٹیل بنا کے سیدھے ھاتھ میں کس کے پکڑ لی اور اپنے لنڈ کی ٹوپی میرے ھونٹوں پہ گھمانے لگا۔
منہ کھولو۔ وہ بولا۔
میں نے منہ ذرہ سا کھولا اس نے آھستہ سے اپنا لنڈ میرے منہ میں آدھا ڈال دیا جو میرے ھونٹون سے ھوتا ھوا میرے منہ میں چلا گیا۔
مین نے جاں بوجھ کے زبان نیچے کرلی اور جبڑا گرا دیا جیسے اس کا لنڈ میری زبان کو نہ لگے۔
نھال نے جلد ہی یہ بات نوٹس کرلی۔
یار پلیز وردہ سک تو کرو زبان سے۔۔۔
امممممم اممممممممم۔ میں نے نہ میں سر ھلایا اور اس نے پھر منت سماجت شروع کردی ، میں نے پھر ھار مان لی اور جبڑا تنگ کرکے زبان اوپر کرکے سلولی اس کا لنڈ لولی پاپ کی طرح چوسنے لگی-نمکین سا تھا۔
اھھھھھھھھھھھ ۔ نھال نے سو اوپر اٹھا لیا اور اس کے گال کانپنے لگے، اسے مزہ آرھا تھا۔
دوسری طرف منیب کے لنڈ نے عمارہ کی چوت کو بری طرح چیرا ھوا تھا۔
عمارہ دیوارپہ ھاتھ رکھ کے اس کے جھٹکے برداشت کر رھی تھی۔
نہال نے میرے منہ کو چوت کی طرح چودنا شروع کردیا۔
اس کا لنڈ میرے منہ میں اندر باھر جا رھا تھا، بیچ میں وہ رکتا تو میں چوسنا شروع کردیتی۔
کافی دیر تک وہ مجھے فیس فک کرتا رھا پھر اپنا لنڈ میرے منہ سے نکال دیا۔
میں نے ھاتھوں سے اپنا منہ صاف کیا اور کھڑی ھو گئی،
نھال نے بینچ کی طرف دیکھا ۔
اس پہ لیٹ سکوگی؟
لیٹ تو جاؤں گی مگر چھوٹی ھے، تم پورا مزہ نہ لے سکو شاید، میں نے راۓ دی۔
ھممم تو،
عمارہ والی پوزیشن لوں دیوار پر؟ میں نے مشورہ دیا۔
نہیں میں چودتے ھوۓ تمہارا چھرا دیکھنا چاھتا ھوں۔
میں ھلکا سا شرما گئی۔
میں آتھالوں اسے، تم چود لو۔ جواد نے کہا۔
امممممم یہ ٹھیک ھے، اٹھالو گے ؟ نہال نے پوچھا۔
ارے چالیس کلو کی بھی نہیں ھوگی پچاس تو میں روز جم میں اٹھاتا ھوں۔ جواد مسکرایا اور میرے پاس آیا۔
میں نے ایک بازو جواد کے گلے میں ڈالا اس نے مجھے رانوں کے نیچے سے پکڑ کے اوپر اٹھا لیا۔
اھھھمممممممممم 30 سے 35 کلو۔۔ وہ بولا اور میں ھنس دی۔
اس نے ااپنے ھاتھ میری رانون کے نیچے رکھ کے میری ٹانگیں کھول دیں۔
میری چوت کے ھونٹ ٹانگیں کھلنے کی وجہ سے خودبخود کھل گۓ۔
امیں نے کونے میں دیکھا تو منیب عمارہ کو زمیں پہ سیدھا لٹا کے اس کے اوپر آکے چود رھا تھا۔
نھال اپنے لنڈ پر کنڈ وم چڑھا چکا تھا۔ اس نے ھاتھ پہ تھوڑی سی تھوک لگا کر میری موت کو  گیلا کیا۔ اور اپنا لنڈ میری چوت کے ھونٹوں پہ رکھ دیا۔
بے خوف کرو ، میں کھل چکی ھوں- میں نے کھا تو دونوں ؒڑکے ایک دوسرے کو دیکھ کے معنی خیز انداز میں مسکراۓ۔
سسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسسس اھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھ ۔  نھال نے برے برے انداز میں پورا لنڈ ایک جھٹکے میں اندر ڈال دیا، میری چوت کے اندرونی اکں میں درد کی لھر پھٰل گئی۔۔۔
سسسسسسسسسسس کیا ابھی تو بھت بھادر بن رھی تھی- نھال شرارت سے ھنس رھا تھا۔
اھھھھھ شٹ اپ۔
وہ ھنس کے لنڈ میری چوت میں اندر باھر کرنے لگا اس کی اسپیڈ درمیانی تھی۔
میں نے کس کے ایک بازو جواد کے گلے میں ڈالا ھو تھا، جواد بھی میری گردن پہ ھلکے سے کسز کر رھا تھا۔
کچھ دیر میں نھال نے اسپیڈ بڑھا دی۔
اس کا لنڈ میں اپنی چوت میں اندر باھر جاتے ھوۓ دیکھ سکتی تھی- جیسے ہی لنڈ باھر نکلتا چوت کے ھونٹ بند ھو جاتے اور جیسے ھی واپس اندر جاتا تو کھل جاتے۔
اھھھھھھھھھھ اھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھھ ممممممممممممممم۔ میری آواز کمرے میں سنائی دے رھی تھی۔
مجھے مزہ آنے لگا تھا۔
دوسری جانب منیب ڈسچارج ھو چکا تھا اس نے کنڈوم اتار کے ایک سائیڈ میں پھینک دیا۔ عمارہ کپڑے پہن رھی تھی۔
نھال کا لنڈ اب میری چوت میں کسی مشین کی طرح اندر باھر جا رھا تھا۔
میں جواد کی بانہوں میں بری طرح ھل رھی تھی ، وہ بھت طاقتور تھا جو اس نے مجھے سنبھالا ھو تھا۔
منیب اور عمارہ کپڑے پھن کے آگۓ اور بینچ پر بیٹھ گۓ۔
اھھھھھھھھھھھ ھھھھھننننننننن انننننننن--- منیب کی آنکھٰیں گھوم گئیں، اور اس نے چودنا بند کیا اور لنڈ کو کچھ دیر میری چوت کے اندر رکھ کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگا۔۔
ایک دم سے پھر اس نے اپنا لنڈ اندر باھر کرنا شروع کردیا، میں ڈسچارج ھوگئی، آرگزم اتنا شدید تھا کہ میری آواز نہ نکال سکی صرد منہ کھلا کا کھلا رہ گیا اور آنکھیں اوپر چڑھ گئیں۔
دو منٹ بعد میں دوبارا ڈسچارج ھوئیَ
نھال نے ایک زور کا جھٹکا دیا۔ میری چوت سے پچک کی آوز آئی۔ اس کا کنڈو جھتکے سے اندر ُھٹ گیا تھا، اس نے ھوشیاری سے لنڈ جلدی سے بھر نکالا اس کے لنڈ سے باھر نکلتے ھی سفید پانی کی پھوار چار بار نکلی۔
آآحححححححہہہہہہہہہہہہہہححححححححححح-یمممممممممم- اس مے منی سے عجیب آواز نکلی اور اس کے جسم کو جھٹکا سا لگا اور پانچویں پھوار بھی نکلی۔
جواد نے مجھے نیچے اتارا میں جھک کے نیچے اپنی چوت کو دیکھنے لگی۔ عمارہ نے مجھے ٹشو پیپر دیا جس سے میں نے اپنی چوت کو صاف کیا۔
اھھھ وردہ۔۔۔ جواد نے مجھے بلایا۔ میں نے سو اٹھا کے اسے دیکھا۔
ھمممممممم؟
دیوار کی طرف۔ وہ بولا۔
اوہ اوکے،، میں بھول گئی تھی وہ باقی ھے۔
میں دیوار کی طرف گئی اور دیوار پہ ھاتھ رکھ کے گھٹنوں کو ذرہ جھکا لیا۔ اور گانڈ اوپر کیا۔
جواد نے میرے کمر کو پکڑا اور اس کا لنڈ آرام سے سارے کا سارا 6 انچ ایک جھٹکے میں میری چوت کو چیرتا ھوا، اندر چلا گیا۔
اس نے شروع سے اسپیڈ تیز رکھی دو چدائیوں کے بود میری چوت نرم اور کھل چکی تھی ، مجھے بلکل درد نھین ھوا اور 5 منٹ میں دو بار ڈسچارج ھوئی ، دس منت بعد جواد نے لنڈ باھر نکال لیا، تو میں نے ایک ھاتھ اپنی کمر پہ فیل کیا۔
اٹھنا مت ایم منٹ۔ ین منیب تھا۔
ابھی تو تم نے عمارہ ہ ہ ہ اھھھھھھھھھھھھھھھھھھ
میرا جملہ ادھورا تھا کی اس نے لنڈ سے میری چوت کو چیر دیا اور مزے سے میڈیم سپیڈ میں چودنے لگا۔
آٹھ د س منٹ میں وہ ڈسچارج ھوا، تو عماد نے اس کی جگہ لے لی اور مجھے چودنے لگا۔
وہ بھی ؐاتنی ہی دیر میں ڈسچارج ھوا۔ تو میں کمر پکر کے سیدھی ھو گئی ، میری کمر میں درد ھو رھا تھا اتنی دیر جھکے رھنے کی وجہ سے۔
میں نے کپڑے پہن لۓ۔
اب نہال صاحب نے رولا پا دیا کہ اس نے عمارہ کو نھیں چودا۔
آخر عمارہ نے سرف شلوار اتاری اور دیوار والی پوزیشں میں آگئی، نھال نے پیچھے سے آکے کمال بے پرواھی سے اس کی چوت کو اپنے لنڈ سے چیرا اور 15 منٹ تک چیرتا رھا۔
آخر وہ ڈسچارج ھوا۔
بھر سورج ڈوبنے والا تھا۔ عمارہ نے شلوار پھن لی اور نھال نے پینٹ۔
چلو دیر ھو رھی ھے۔ میں نے کھا۔ ھم سب باھر آۓ تو ایک اور مصیبت انتظار کر رھی تھی، شاھو نھال کو ایک کونے میں لے گیا اور دو منٹ تک وہ بحث کرتے رھے، پھر نھال رونی سی صورت بنا کر ھماری طرف آیا۔
یار عمارہ جاؤ اس کے ساتھ۔ وہ بولا۔
عمارہ نے ایسی شکل بنائی جیسے نمک کھالیا ھو مگر وہ جانتی تھی کی کوئی اور راستہ نہیں، شاھو سے آئندہ بھی کام پڑ سکتا تھا۔ وہ شاھو کے ساتھ اندر چلی گئی۔
ھم باہر انتظار کرنے لگے۔
10 منٹ بعد عمارہ کی ایسی چیخ کی آواز آئی کہ ھم سب گھبرا گۓ، لیکں فورن اس کی چیخ دب گئی میں سمجھ گئی شاھو نے اس کے منہ پہ ھاتھ رکھ دیا ھوگا۔
یار، عمارہ تو اوپن ھے پھر چلائی کیوں؟ عماد نے پوچھا۔
پتہ نھیں ۔ نھال نے کندھے اچکاۓ۔
بیس منٹ بعد شاھو باھر آیا اس کے پیچھے عمارہ ژلوار ٹھیک کرتی ھوئی آئی –اس کے چھرے پہ غصہ تھا۔
کیا ھوا، میں نے پوچھا۔
کچھ نھیں گھر چلو۔ وہ اسی غصے سے بولی۔
ٹھوریس دیر میں ھم گاڑی میں تھے اور منیب ڈرائیو کرتا ہوا گاری کو، ائرپورٹ روڈ پہ لے آیا۔
عمارہ ابھی بھی غصے میں تھی۔
کیا ھوا عمارہ- میں نے پوچھا۔-

Posted on: 08:11:AM 02-Jan-2021


0 0 396 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 13 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 74 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com