Stories


گھٹن زدہ گھریلو ماحول میں جنسی قلابازیاں از سیما ناز

 

میرا نام زینت  ہے  میں  زندگی کی  ستائیس  بہاریں  دیکھ چکی  ہوں  میری  شادی  عتیق

کے ساتھ  ٥ سال پہلے  ہوئی  تھی .  ہم دونوں میں  پہلی رات ہی اچھی انڈرسٹینڈنگ  ہو گئی تھی

عتیق   میرا بہت خیال رکھتے .  میری ہر فرمائش اور خواہیش وہ پوری  کرتے . وہ  کسی فارن کمپنی

میں جاب  کرتے تھے  . ا سال   پہلے  کمپنی  نے انہیں  ٢ سال کے لئےڈیپوٹیشن پر   بیرون ملک
 
بھیج دیا  . شروع  میں تو بہت پریشان ہوئی کیونکہ انکی عادت  تھی مجھے . دن تو گزر جاتا

مگر رات کی تنہائیاں  ڈسنے کو  آتیں اور نہ جانے کتنی ہی راتیں میں نے رو کر گزاریں . پھر آہستہ
 
آہستہ جدائی برداشت کرنے کا سلیقہ آتا گیا  . اور کبھی میکے اور زیادہ تر سسرال  میں  میرا

ٹائم گزرنے لگا . سسرال میں  میری ساس اور سسر تھے  . ایک نند ( عمیر کی چھوٹی بہن )

جس کا نام فرزانہ ہے وہ بیاہی  ہوئی ہے  اور ہر دوسرے تیسرے  ماہ  اپنے میکے والدین سے ملنے

آتی اور  دو چار  ہفتے رہ  کر واپس  اپنے سسرال چلی جاتی ہے . میری سسرال ان  چند ہی

افراد پر  مشتمل ہے  میری اپنی   نند فرزانہ سے  بہت  بنتی ہے  وہ  بہت اچھی طبیعت رکھنے

والی   صاف دل خاتون  میری نند سے زیادہ سہیلی ہے . ہم عمر ہونے کے ساتھ ساتھ  ہم دونو کے

فگر  بھی تقریبا  ایک جیسے  ہیں .
   
پچھلے دنوں  فرزانہ  کو اسکا دیور ہمارے ہاں چھوڑ  گیا اور ٢ ہفتے  بعد لے جانے  کا  کہہ کر

واپس  چلا گیا .  فرزانہ کا خاوند بسلسلہ  روزگار  دور رہتا اور اور دو تین ہفتے بعد  دو تین دنوں

کے لئے گھر اتا ہے . فرزانہ کے ساتھ وقت گزرتے  پتا ہی نہ چلا  اور ایک  شام  اسکا دیور سمیر   

اسے لینے  کے لئے  آ گیا   . تو میری ساس نے اسے کہا کہ کل نہیں پرسوں  چلے جانا تو سمیر
 
نے کہا ٹھیک ہے . پرسوں چلے جایئنگے .  سمیر ٢٠ سال کا جوان  کالج  کا سٹوڈنٹ  ہے

اور بہت اچھے اخلاق و آداب کی  بدولت سب میں رشتہ داروں  میں  ایک اچھی شہرت رکھتا ہے  .

دوسرے دن  فرزانہ  اپنی امی کے ساتھ  دوسرے رشتہ داروں سے  ملنے  کے لئے ان کے ہاں گئی .

مجھے بھی ان کے  ساتھ جانا تھا  مگر میں نے  ٢ دن پہلے  ہی سے کپڑے دھونے کا پروگرام  بنا رکھا تھا .

  ١١ بجے کا وقت تھا  میں کپڑے  دھو  رہی تھی. اور    کپڑے دھوتے ہوئے میں خود بھی اور
 
میری قمیض اور شلوار بھی گیلی ہو چکی تھی . مگر  میں  بے پرواہ ہو کر کپڑے دھوتی رہی
 
میں چاہتی  تھی کہ جلد سے جلد  کپڑے  دھو کر  دوپہر  کا  کھانا پکا لوں تاکہ فرزانہ اور
 
میری ساس جب آئیں تو ان کو انتظار نہ کرنا پڑے . چونکہ  میں نے  برا  بریزیر  پینٹی  وغیرہ

دھونے کے لئے اتار رکھے تھے    .  اس لئے قمیض کے بھیگنے  سے مموں کی گولایاں

اور نپلز  نظر آ رہے تھے .  اور میری رانوں پر گیلی شلوار چپک گئی تھی  جس سے رانوں کی  گولایاں
 
بھی عیاں تھیں    کیونکہ گھر میں  اکیلی تھی اس لئے  مجھے کسی کے دیکھ لینے کا کوئی  خطرہ نہ  تھا

کہ اچانک سمیر  سامنے  آگیا . وہ اوپر  والے گیسٹ  روم  میں سویا ہوا تھا .میں بھول ہی گئی تھی کہ

سمیر  بھی  آیا ہوا ہے . میں نے پوچھا"  اٹھ گئے  سمیر " اور اسکی طرف سے   کوئی جواب نہ پا کر

اسے  دیکھا تو  اسکی نظروں کو اپنے جسم پر مرکوز پا کر میں دہل سی گئی . اسکی نظروں میں

ہوس صاف  نظر آ رہی تھی وہ کبھی میرے مموں کو تاڑتا تو کبھی میری بل کھاتی  کمر کو دیکھتا .

میں کپڑا  نچوڑتے ہوئے  نیچے جھکی تو سمیر نے مجھے پیچھے سے دبوچ لیا

مجھے  ایسی حرکت کا اندازہ نہ تھا  کہ سمیر  ایسا بھی کر سکتا ہے . میں نے   غصہ اور حیرت
 
سے اسے کہا کہ یہ کیا کر رہے ہو تم سمیر  اور اس کے نیچے سے  نکلنے کی کوشش کرنے  لگی

  مگرسمیر   مجھے اچھی طرح قابو  کر چکا تھا .  میں اپنے آپ کو  بےبس  سمجھ کر  اسے ڈرانے دبکانے

 لگی  اور پھر اونچی آواز سے شور  مچانے لگی تو اس نے ایک ہاتھ  میرے منہ پر رکھ  دیا  .

میں  نے بڑی کوشش کی کہ میری آواز نکل سکے تاکہ اسے بتا سکوں  کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے

اسے اسکا خمیازہ  بھگتنا ہوگا .  مگر اس نے  میرے منہ پر  بڑی مضبوطی سے اپنا ہاتھ جما رکھا تھا .

میری کوشش تھی کہ کسی طرح میں  اس کی گرفت سے نکل سکوں مگر وہ ٢٠  سال کا جوان اور

توانا کسرتی جسم کا  مرد  اور میں ٢٧ سال کی  ایک کمزور عورت  اسکا مقابلہ  کرنے سے قاصر تھی  .

پھر میں اس کے بازوں میں  مچل  رہی تھی تاکہ  کسی طرح اسکے نیچے سے نکل کر اسے وہ

پھینٹی  لگاؤں کہ وہ ہمیشہ  یاد رکھے اور کسی اور  کی عزت  پر حملہ کرنے سے پہلے سو بار سوچے .

مگر سمیر نے میری ایک نہ چلنے  دی . میں گھوڑی بنی اس کے  نیچے  تھی اور  وہ مجھ پر چھایا ہوا تھا .   

اسکا ایک ہاتھ  میری کمر پر  اور دوسرا میرے منہ  پر تھا  کچھ  دیر  اسی طرح رہنے کے بعد اسکا

ہاتھ  میری کمر سے آگے کو سرکنے لگا  اور جلد  ہی اس نے میرا  ایک مما جکڑ لیا  میں زور سے  تڑپی   

میرے منہ سے گندی گندی گالیاں نکلنے لگیں جنہیں وہ سننے سے  قاصر تھا کیونکہ میرے منہ پر اسکا

ہاتھ جما ہوا تھا . مجھے اپنی بے عزتی  بری طرح محسوس ہونے لگی  اور دعا ئیں مانگنے لگی

کہ کوئی  آ جائے تاکہ اس  عفریت  سے میں بچ جاؤں . اسکا ہاتھ  کبھی میرا ایک مما  مسلتا کبھی دوسرا دباتا

 میری قمیض تو پہلے ہی گیلی تھی اور میں بنا کسی  برا اور بلاوز کے تھی  اور اس کے لئے میرے

ننگے مموں کو مسلنا ٹٹولنا اور دبانا برا سان ہو گیا تھا . اتنے میں  میں نے اسکا  راڈ  اپنے چوتڑوں

پر محسوس کیا  تو مجھے اپنی ذلت کا احساس اور شدت سے ہونے لگا . اسکے دونوں  ہاتھ چونکہ

مجھے جکڑے ہوئےتھے  اس لئے  وہ اپنے راڈ کو   اندازے سے میرے چوتڑوں کے  درمیاں
 
رگڑنے  کی کوشش کرنے لگا اسکا  منہ زور شیطانی راڈ  میری گیلی شلوار کے اوپر سے ٹانگوں کے

 درمیاں   مچل  رہا تھا  .وہ میرے منہ پر  رکھے ہاتھ   کی کہنی سے میری گردن پر دباؤ  دے کر
 
اپنے دوسرے ہاتھ  سے میرا ازار بند کھولنے لگا مگر  کافی کوشش کے بعد  بھی آزار بند نہ  کھل سکا

کیونکہ   اسکی  گانٹھ  میں نے اپنی عادت  کے مطابق الٹی لگائی ہوئی تھی اور  وہ  گیلی  ہو کر سخت ہو

چکی تھی  . وہ اسے کھولنے میں ناکام ہو کر میری شلوار کو میرے چوتڑوں  سے نیچے  کھینچنے لگا

مگر میری کمر  پتلی اور کولہے قدرے بھاری تھے  جس کی وجہ  سے شلوار  نیچے نہ ہو سکی تو وہ

 مشتعل ہو کر  میری ٹانگوں میں دھکے لگانے لگا . میں نے اشارے سے کہا کہ  میرے منہ سے  ہاتھ

ہٹا لے تاکہ میں اسے بتا سکوں کہ میری ساس اور فرزانہ کسی وقت بھی  آ سکتی ہیں .مگر اس نے  مجھے

بولنے کی اجازت نہ دی  اور میرے چوتڑوں پر    ہاتھ  پھیرنے لگا .  اچانک اس کو انگلی جتنا سوراخ

شلوار میں محسوس ہوا تو اس نے اس میں  انگلی ڈال دی اور اسے  ادھر ادھر گھمایا اور پھر اسنے

انگوٹھا  ڈال کر انگلی کی مدد سے اس سوراخ  کو   بڑا کر لیا   اور   جلدی سے اپنا راڈ جیسا سخت

لن گھسا دیا   . اور اس کو میری ٹانگوں کے سنگم پر اپنے ٹارگٹ کو ڈھونڈنے  کے لئے  ادھر ادھر

مسلنے لگا . مگر میں اپنے چوتڑوں کو ادھر ادھر ہلا کر اسکی کوشش کو ناکام بنانے لگی .

اس نے میرے کولہے کو اپنے بازو میں جکڑ لیا اور اسکے لن نے اپنے  ٹارگٹ  میری چوت کے

منہ پر  تلکنا شروع کر دیا . میں نے نادائستہ اپنی ٹانگیں تھوڑی سی کھولیں تو اسے  ایک زبردست

چوٹ   لگانے کا موقع ملا تو اسکا تکڑا سا لوڑہ  چوت کو چیرتا  اسکی اتھاہ  گہرائی میں جا لگا .

میں درد سے ٹرپ کر نیچے لیٹ گئی اور اسے اشارے سے  ہٹنے کو کہا .مگر اس نے ہٹنے  کے لئے

تو اندر نہیں کیا تھا . پھر میں نے اسے منہ سے ہاتھ ہٹانے  کے لئے کہا . مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی

ایک تو میرے پیٹھ کی طرف تھا  اور اب تک میں اسے دیکھ نہ پائی  تھی نہ ہی اس سے نظریں  چار
 
ہوئیں تھیں کہ کچھ سمجھا سکتی . میں اب نیچے پیٹ کے بل لیٹی ہوئی اور اسکا لن دور میرے اندر
 
تھا کچھ در بعد حرامی نے اسے ہلانا شروع کیا . اسکی رگڑ مجھے تکلیف دے رہی تھی . مگر اسے

اسکا کچھ احساس نہ تھا . پھر جب اس نے زور زور سے دھکے  لگانے شروع کئے تو میں

تکلیف سے بچنے کے لئے اسکے دھکے کے جواب میں  اپنے کولہے اوپر کرتی تو مجھے تکلیف

کا احساس نہ ہوتا تھوڑی در بعد میں رونے لگی اور میرے آنسو بہ کر میری گالوں کو بھگونے لگے.
 
مجھے رونا اپنی بے بسی پر آیا  جس کے  لئے میں خود سے شرمندگی محسوس کرتے ہوئے رونے لگی .

 . اس کا سٹیمنا کافی تھا  کافی دیر( مجھے وہ وقفہ  گھنٹوں  پر محیط  لگا ) بعد   اسکے دھکوں کی
 
تیز رفتاری سے میں نے  محسوس کیا  کہ وہ  آنے والا  ہے  اور پھر چند ایک مزید زوردار جھٹکوں

 کے ساتھ   فوارے مارتا  میرے اوپر  ہی گر گیا . اس نے سارا مواد  میرے اندر ہی ڈالا  اور پھر

 اچانک اٹھا اور   بھاگ کر سیڑھیاں  پھلانگتا  اوپر گیسٹ  روم میں چلا گیا .

میں یوں ہی کچھ دیر لیٹی رہی  .  میں ہکا بکا  حیرت سے یہی سوچتی رہی کہ میرے ساتھ ہوا

کیا اور اب مجھے کیا کرنا چاہئیے . کیا  اپنی ساس کو بتاؤں یا اپنی نند فرزانہ  سے  شکایت

کروں  سمیر جس کا دیور ہے یعنی  اسکے خاوند کا چھوٹا بھائی ہے . میں کوئی فیصلہ نہ کر پائی

کہ کیا کروں کیا نہ کروں .گر ذکر یا شکایت کرتی ہوں تو  بھی بات تو نکلنی ہے   . بدنامی  تو میرے
 
ہی حصہ میں آئے گی . اس حرامی سمیر کو زیادہ سے زیادہ  یہاں آنے سے روک دیا جایئگا . میرے

خاوند تک بات پہنچے گی تو انکا رد عمل   کیا ہوگا . میری پوری زندگی نشانے پر آ گئی تھی

ایسی حالت میں کسی فیصلے پر پہنچنا ویسے بھی مشکل تھا . میں سر جھکے یونہی بیٹھی تھی  کہ

اتنے میں میری ساس اور نند بھی آ  گئیں  . انہوں نے میری حالت دیکھ کر پوچھا کہ کیا ہوا تو
 
میری طبیعت ٹھیک نہیں  ہے کہ کر ٹال  گئی  .  میری ساس کہنے لگی  تم اپنے کمرے میں جاؤ
 
باقی کپڑے فرزانہ دھو دے گی اور میں کھانا بنا لیتی ہوں . یوں میں اٹھ کر اپنے کمرے میں

ا گئی اور باتھ روم میں جا کر میں نے قمیض اور شلوار اتاری اور خود کو دیکھنے لگی  ظالم

نے مجھے بیدردی سے  رگیدا تھا . نیچے ٹانگوں کے بیچ ہاتھ لگایا تو  اوئی سی نکل گئی  کافی

سوجی ہوئی تھی . ہاتھ سے جو اسے رگڑا تو لیسدار مادہ  پورے  ہاتھ  پر لگ گیا . کتے نے

کتنا کچھ لٹایا  تھا کافی  دیر تو اسکے فوارے میری چوت کی گہرائی سے ٹکراتے رہے تھے
 
اور دیواروں سے چپک گیے تھے جب اس نے لن باھر کھینچا تھا  تو یوں لگا جیسے پورا

ایک لوٹا  رس کا   باہر  نکلا ہو . میں نے نادانستہ اپنے ہاتھ کو سونگھا  تو عجیب سی بو تھی

مگر  نا خوشگوار نہ تھی . میں نے اپنی زبان کی  نوک اپنے ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھی تو ٹینگی

سا  ذائقہ  لگا .  میں نے غسل کیا  اور کپڑے تبدیل کرکے  لیٹ گئی . کافی دیر بعد  فرزانہ

نے آ کر  بتایا کہ کھانا تیار ہے  تو میں نے اسے کہا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں اس لئے

نہ کھا سکونگی  تو وہ بولی . ٹھیک ہے تم  آرام کرو جب من چاہے کھا لینا تو میں  نے
 
کہا ٹھیک ہے . اور سونے کی کوشش کرنے لگی , ایسی حالت میں نیند کا آنا نہ ممکن ہوتا

ہے مگر مجھے تھوڑی ہی دیر بعد نیند ا گئی  اور اسوقت میری آنکھ کھلی جب  شام کے
 
کھانے کے لئے فرزانہ کہنے ائی . میں نے اسے کہا مجھے  کھانا یہیں دے جائے . اور

پنڈے میں دردوں کی ٹیبلٹس بھی لے آئے .  میں نہیں چاہتی تھی  کہ   میں ان کے ساتھ کھانا کھاؤں

کیونکہ وہاں  اس شیطان نے بھی ہونا تھا اور اسکا سامنا کرنا  میرے لئےبہت  مشکل تھا
. میری ریکویسٹ  پر فرزانہ میرے لئے اور اپنے لئے کھانا وہیں لے آئی اور ہم نے  مل کر
 
ڈنر کیا . تھوڑی دیر بعد میری ساس بھی  میرا حال پوچھنے آئی  اور کچھ دیر بعد  مجھے آرام

 کرنے کا کہہ  کر دونوں ماں بیٹی  اٹھ کر ساتھ والے کمرے میں چلی گئیں جہاں وہ سوتی  ہیں .
 
ان کے جانے کے بعد میں تنہا رہ گئی . اور دن کا واقعہ  ایک ڈراؤنا خواب بن کر مجھے
 
ڈرانے لگا .

میں ایک کتاب  لے کر پڑھنے لگی

دراصل میں نے  مختلف خیالات کی یلغار سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے کتاب

کا سہارا  لیا . مگر جو کچھ ہوا تھا اتنی آسانی سے تو  میں اس کے متعلق سوچنے سے باز

نہ رہ سکتی تھی . میں کتاب پڑھ رہی تھی  مگر اس کی ایک لائن بھی میں سمجھنے سے قاصر

تھی . میرے ذہن میں کچھ عجیب سی گڈ مڈ سی ہونے لگی   .پڑھتی کچھ اور  سمجھتی کچھ اور.

آخر میں نے کتاب بند کی اور لائٹ آف کرنے کے بعد بیڈ پر دراز ہو گئی .  مگر اندھیرے  میں

بھی  خیالات  نے مجھے پریشان کرنا نہ چھوڑا  . مجھے حیرت  سمیر کی حرکت  پر تھی  کہ

ایک نہیات ہی سلجھا  ہوا اچھے ادب و آداب رکھنے والا  ایک شریف النفس خیال  کے  جانے والے

سے ایسی حرکت کیوں سرذد ہوئی   ...... اور اسکو اس کی  ہمت ہی کیسے ہوئی . وہ مجھے باجی زینت

کہہ کر  پکارتا  اور مجھے نہیں یاد پڑتا کہ میں اسے کبھی اپنی جانب غلط   نگاہوں    سے دیکھتے

ہوئے پایا  ہو .  ہوتا ہے جوان آدمی  کسی عورت کو دیکھ کر چوری چوری ہی سہی مگر شہوت

کی نظر سے  دیکھ  لیتے ہیں . نہیں سمیر کو  کبھی ایسی حرکت  کرتے میں  نے نہیں دیکھا تھا .

مگر اچانک  اسے  کیا ہوا کہ وہ پاگلوں کی طرح مجھ پر جھپٹ  پڑا . کیا میرے بدن پر چپکے  ہوئے

گیلے  کپڑے جن میں میرا سب کچھ نظر آ رہا تھا   حتی  کہ میرے نیپلز  اور مموں  کے ابھار بھی

عیاں تھے  ممکن ہے  میری رانوں  کی گولایئوں نے اسکے جنسی جذبات  کو برانگیختہ  کیاہو  .

کیا نادانستگی میں , میں خود ہی  اسکے لئے دعوت  گناہ  کا پیغام بن  گئی  تھی .  .جب اسنے

مجھے اپنے شکنجے میں جکڑا تھا  تو خوفزدہ ہونے کے ساتھ ساتھ میرے  دل میں اس کے لئے

نفرت  کی لہر دوڑ گئی تھی . اور  مجھے اپنی بےعزتی کا شدید احساس  ہوا  تھا

مجھ پر غصہ کی ایسی کیفیت طاری  ہوئی  کہ گر میرا اس وقت  بس چلتا تو میں اسکا قتل بھی کر

سکتی تھی . مگر اسکی مضبوط گرفت  سے نکلنا  میرے بس کی بات نہ تھی ورنہ میں نے

اپنی پوری کوشش کی تھی کہ کسی طرح اس سے دور ہو سکوں .  میری بیچارگی  کی انتہاء تھی

جب اس نے میری شلوار  میں اس جگه سوراخ  ڈھونڈھ نکالا جہاں  میرا اپنا سوراخ سامنے تھا

اور اس کے لئے اپنا ہتھیارمیرے  سوراخ میں ڈالنا آسان ہوگیا . میں اپنے گھٹنوں اور دونوں ہاتھوں

کو زمین پر ٹیکے اس کی گرفت میں  گھوڑی  بنی ہوئی تھی کہ اس نے ایک زوردار  دھکے سے

اپنا لن میری پھدی میں   گھسا دیا  مجھے  ایسا دھکا لگا  کہ  میں آگے  ہو کےگر  گئی اور سینہ زمین  پر جا لگا

سمیر  نے اپنے وحشیانہ دھکے مارنے جاری رکھے تو  اس کی  رگڑ سے مجھے درد ہوتا

میں درد سے بچنے کے لئے اپنے کولہے تھوڑا  اوپراٹھانے لگی    جس  سے درد میں کمی

محسوس ہونے لگی . پھر جیسے ہی وہ دھکا لگانے  لگتا  میں  نیچے سے  کولہے  اوپر اٹھا دیتی .

کچھ دیر بعد مجھے اس کے دھکے اچھے  بھی لگنے لگے تھے . مگر میں اس کو اپنا وہم ہی سمجھتی ہوں .

اس میں کوئی شک نہیں  کہ میرے ہسبنڈ کو بیرون  ملک  گئے ہوئے  ایک سال ہو چکا تھا   

اور میں  اسکی کمی بری  طرح محسوس کرتی ہوں .      مگر  ایسا بھی   خوار نہ تھی .

یہ تسلیم کرنے کو تیار ہوں کہ اسکے دھکے مثالی تھے .اور کسی بھی عورت کا ان کے سامنے

سپر  نہ ڈالنا ناممکنات میں سے تھا . مگر میں جو کچھ اسکے دھکے سے محسوس کر رہی تھی

اور خاموشی سے کولہے اوپر کرتی  رہی اسے لذت تسلیم کرنے  میں  سبکی محسوس کر رہی ہوں .

اس لئے اسے وہم کہنے میں کیا حرج ہے . یہ سوچتے ہوئے   مجھے  پیاس محسوس ہوئی تو میں نے

ساتھ پڑی ہوئی تپائی  پر   ہاتھ بڑھا کر پانی کا گلاس  اٹھایا تو مجھے ہاتھ شلوار سے نکالنا پڑا.

جس پر  پر لیسدار چکناہٹ تھی . تو کیا میرا ہاتھ  میری ٹانگوں میں  کھجاتا رہا  اور  مجھے احساس

تک  نہ ہوا . میں نے ہاتھ کو سونگھا تو مجھے دوپہر کو جو  سمل  آئی  تھی اس سے  ملتی جلتی سمل آئی .

میں نے پانی پیا  اور پھر لیٹ گئی . مگر اس بار  میں نے دانستہ ہاتھ سے  کھجانا  شروع   کر دیا .

میرا دوسرا ہاتھ خود باخود میرے مموں پر  پر جا کے ان سے کھیلنے لگا . مجھے  یاد آ گیا جب سمیر

نے   ان کو زور سے دبایا تھا تو میرے منہ سے آہ  نکلی تھی میرا  منہ اسکے ہاتھ  کی زد میں تھا

تو آواز دب کر رہ گئی تھی . میں شاید اپنی آہ خود بھی نہ سن پائی ہوں .   مُنی  کے لبوں پر ہاتھ لگا

تو میرے منہ سے سی نکل گئی اسکے ظالمانہ جھٹکوں نے مُنی کے لبوں کو مسل کر رکھ دیا تھا .

اور اب ہاتھ سے  چُھونے سے میٹھا  میٹھا  درد ہوتا  تو میرا  سمیرکے  مونسٹر کی جانب  خیال جاتا

سات انچ سے زیادہ  نہیں تو کم نہیں ہوگا  اس حرامی کا ٹوپا  چوت کے لبوں کو رگڑ  کے اندر جاتا

تو اندر ایک کھلبلی مچ جاتی . حرام کے پلے کا سٹروکنگ  انداز بڑا  ہی جارحانہ تھا  . لگتا  تھا  کہ

پیشہ ور  رپیسٹ   ہو .  اسکے سٹروک جو یاد آئے تو مجھے کچھ کچھ ہونے لگا .وہ منجھا ہوا کھلاڑی

کاش زبردستی  کرنے کے مجھے ویسے  کسی طرح  ورغلاتا  اور یہی کروائی صلح جوئی سے ہوتی

تو کتنا مزہ آتا. میں اسے  وہ لذت دیتی جو پانچ  ماہ  سے  میں بچا کے رکھی ہوئی ہے .مگر اس نے

اچانک  باز کی طرح جھپٹ کر میرا اعتماد مجروح  کیا  . جس کا مجھے افسوس بھی ہے اور اس پر غصہ

بھی .  مگر اس کے خلاف کوئی کاروائی  کرنے کے قابل تو میں نہ تھی اور نہ ہی اپنی نند  کی دشمنی  مول
 
لے سکتی تھی .  انہی سوچوں میں میری انگلی دانے کو چھیڑتی اور چوت  کے لبوں کو چھوتی مجھے خوار

کرنے لگی . اسکے لن کے  خیال اور اسکے سٹروکس کھیلنے کے انداز نے شہوت کی لہر میرے بدن  دوڑا دی

مجھے  لن کی شدید  ضرورت محسوس ہونے  لگی  مگر میرے خاوند  تو دور ہیں تو کیا کیا  جاتا سکتا ہے

کہ  ایک خیال کی لہر سی میرے دماغ  میں داخل ہوئی .   میں بنا کچھ سوچے اچانک  اٹھی اور اپنے آپ کو

بے لباس  کرنے لگی . میں برہنہ کچھ دیر  اپنے سراپا کو دیکھتی اور سراہتی رہی اور پھر اپنے  ننگے بدن

کو  ایک  چادر میں  لپیٹ کر کمرے کے دروازے سے باھر جھانکا . باہر ایک ہو کا عالم تھا .

پہلی راتوں  کا چاند  کب کا  ڈوب  گیا تھا .   ساتھ والے کمرے  کی لائٹ  آف تھی اور دروازہ  بھی بند تھا  .

میں کیا  کرنے اور کہاں جا رہی تھی  میرا یہ خود کو بھی بتانے کا کوئی ارادہ نہ تھا . میں خود سے
 
کسی  سوال جواب کے لئے تیار نہ تھی .  میں  کمرے سے  باہر  نکلی  اور  دبے  پاؤں  سیڑھیوں سے

اوپر   دوسرے فلور  پر   گیسٹ روم  کے سامنے جا کھڑی ہوئی  . جہاں مجھے ریپ  کرنے والے

سمیر   کے خراٹوں کی آواز  سنائی دے رہی تھی . میں نے دروازے کو دھکیلا تو وہ کھلتا چلا گیا  .

میں جلدی سے اندر  داخل  ہوئی اور   آہستگی سے دروازے کی چٹخنی لگا دی  اور آس پاس  کا جایئزہ لیا .   

لائٹ آف ہونے کی بدولت کمرے میں   اندھیرے کی  حکمرانی تھی ہر چیز دھندھلی دھندلی  نظرآ رہی تھی .

سمیر سیدھا لیٹے سویا ہوا تھا اور اسکے خراٹوں سے کمرہ گونج رہا تھا . کھڑکیوں کی درزوں سے تھوڑی

بہت روشنی آتے دیکھ کر  میں نے دروازے اور کھڑکیوں کے پردے  اچھی طرح کھینچے

تو کمرہ  گھپ اندھیرے کی لپیٹ میں آ گیا  . اب ہاتھ کو ہاتھ  سجھائی نہ دیتا تھا . میں نے ہولے ہولے

سمیر  کے خراٹوں  کی جانب بڑھتے ہوئے  اسکے بیڈ کے قریب جا کر اوپر لی ہوئی چادرکو  نیچے

گرایا اور بیڈ پر  اسکےپہلو میں  لیٹ گئی . تھوڑی دیر  بعد جب میرے سانس بحال ہوئے  تو  میں

نے اپنے ہاتھ سے اسکی چھاتی کے بالوں کو کھجانا شروع کر دیا . اسنے بنیان یا قمیض نہیں پہنی

ہوئی تھی . میرے ہاتھوں کی لمس سے اسکی آنکھ کھل گئی  اور اس نے مجھے اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے کہا .

"بھابھی فرزانہ  تم یہاں اس وقت کسی کو معلوم ہوا تو ؟"      اس نے مجھے فرزانہ سمجھتے ہوئے لپٹا لیا .

یہ سنتے ہی میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا  تو فرزانہ اپنے دیور سمیر کے ساتھ

اس سے آگے میں  کچھ نہ سوچ سکی    .میں ننگی تھی تو سمیر کے سینہ سے لگ کر مجھے

بہت اچھا لگ رہا تھا . میں نے خاموش رہنا بہتر سمجھا اگر سمیر مجھے اپنی بھابھی سمجھ رہا ہے

تو اسے سمجھنے دو . مجھے تو اسکا مونسٹر چاہیے تھا جو کہ  میری رانوں سے ٹکرا رہا تھا .

وہ پھر بولا " بھابھی آج تو تیار ہو کر آئی ہو وہاں تو مجھے تم ترسا ترسا کراور منتیں کروا کے دیتی

تھیں . کیوں جانو ان دو ہفتوں میں مجھے مس کیا یا نہیں . مس نہ کیا ہوتا یوں رات کے وقت ننگے

بدن میرے ساتھ تھوڑا لیٹی ہوتی ." سمیر نے بڑے پیار سے کہا تو   میں نے اسکے ہونٹوں  پر انگلی

رکھ دی اور اسے خاموش رہنے کا اشارہ  کیا .  میں نے خاموش رہنے کا ارادہ  کر لیا تھا .

اس نے پھر بولنا شروع  کر دیا . " بھابھی میں نے بھی بہت مس کیا تمھیں  دیکھو تو سہی  کتنا  بیچین

ہو رہا  ہے میرا  لن  اوہ  نہیں  تمہارا لن تم اسے اپنا کہتی ہو ناں جانو اسے ٹچ کرو نہ   یہ کہتے  ہوئے

اس نے میرا  ہاتھ پکڑا اور اپنے  لن پر رکھ دیا . اس نے نیکر  پہن رکھی تھی . میں نے تھوڑا اسے دبایا
 
وہ  پہلے سے ہی تیار تھا  . میں نے ہاتھ نیکر کے اندر کر کے اسے پکڑا تو مجھے یاد آ گیا

آج دن کے  وقت یہ میرے اندر زبردستی گھسا تھا   یہ سوچتے ہی میرے ہاتھ کا دباؤ بہت بڑھا تو

سمیر نے  ہاتھ سے میرے ہاتھ کو ہٹا لیا . اور بولا  " بھابھی لگتا ہے آج تو اس کو کچا ہی کھا جاؤگی."

میں نے  ہش  کر کے اسے خاموش رہنے کا  کہا اور اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ  رکھ دیے . اف

اسکے  گرم لبوں  کے  نرم لمس نے میرے پورے بدن میں شہوت کی لہر دوڑا دی . وہ میرے

ہونٹوں  کو بیدردی سے چوسنے لگا  . ہاتھوں سے مموں سے کھیلنے لگا . شکر ہے  میری اور فرزانہ

کی فگر  تقریباً ایک جیسی ہے .  اس لئے اسے محسوس نہ ہوسکا . اسکا ہاتھ سرکتے ہوئے  نیچے

گیا اور چوت  کو چھوتے ہی  بولا " اف  بھابھی تم تو پہلے سے گیلی ہو آج تو بہت ہی مزہ آئیگا .

اتنا گرم تو میں نے پہلے کبھی  نہیں دیکھا . "  میں نے اس کے ہونٹوں پر پھر انگلی رکھی تو وہ

جھٹ  سے اپنے ہونٹوں میں  لے کر اسے چوسنے لگا  . مجھے بہت مزہ آنے لگا تھا  .

" بھابھی  آج میں بہت خوش ہوں  آج کی رات یادگار رات ہے کہ   تم نے خود پہل کی ہے ورنہ  مجھ سے

ہی منت  کرواتی  ہو . اتنے نخرے اٹھانے پڑتے ہیں  تمہاری لینے کے لئے . خود ہی تو بولا تھا کہ یہاں

کچھ نہیں کرنا .  میرے آتے ہی بتا دیتی کہ تمہارا چدوانے کا من  ہے تو میں آج  کوئی اور حرکت نہ کرتا

( وہ  شاید میرے ساتھ  کرنے کا  ذکر کر رہا تھا .) وہ مجھے اپنی بھابھی فرزانہ سمجھ کر باتیں کر رہا تھا

اور میں فرزانہ بن کر  اسکو جواب نہ دے سکتی تھی اس لئے میں اس کے ہونٹوں پر  انگلی رکھ دیتی  .

میں اس کے لن کو مٹھا رہی تھی  تو سمیر بولا  "بھابھی جس طرح تم اسے مٹھا رہی ہو ایسا نہ ہو

یہ  اپنا  مال مواد گرا ہی نہ بیٹھے"  . یہ سنتے ہی میں نے اسکا لن ہاتھ سے چھوڑ دیا  میں نہیں چاہتی تھی

چوت   میں لئے بنا ہی اسے فارغ  کر بیٹھوں . " ارے بھابھی  تم تو جانتی ہی ہو اتنا جلدی تھوڑا ہی

جھڑتا ہے  یہ . میں  نے تو ویسے ہی کہا کہ جس شوق  اور  جسس انداز سے تم اسے آج مٹھا رہی  ہو

کہیں رہ ہی نہ جاے . آج تو تم بدلی بدلی سی لگ  رہی ہو ."  میں  نے پھر انگلی  اسکے  ہونٹوں پر

رکھ کر اسے خاموش رہنے کو کہا . اور اسکی ناف پر بوسہ دیتے ہوئے  میں نے اس کے اکڑ کر کھڑے

لن کے ٹوپے پر پیار دیا   اور اسے چومنے لگی .  سمیر بہکتے ہوئے کہنے لگا " اف بھابھی  اتنی

مہربان تم پہلے تو نہ تھی جب تک تو  مجھ سے چٹوا نہ لیتی لن کو منہ  میں ہی نہ لیتی  تھی
.
یہ سنتے ہی میں نے اپنی ٹانگیں اسکے  سر کی جانب سرکا دیں اور اس نے اپنے لب میری چوت

پر رکھ دیئے اور اپنی زبان سے اسے چاٹنے لگا . وہ  چوت چاٹنا  جانتا تھا اور جس طرح  سے

وہ اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر دانے تک چاٹتا اور پھر دانے پر زبان کی نوک سے کھجاتا

دانے کو ہونٹوں کے درمیان  لے کر دباتا  تو میری جان  نکلنے لگتی  اور میں دُہری  دُہری ہو جاتی  .

اور میری کمر کو قابو میں رکھنے کے  لئے اسے کوشش کرنی پڑتی . وہ پھر بولنے لگا تو میں
پلٹ کر اسکے سر کی طرف گئی اور اسکے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر اپنی  چوت کا لگا رس

چوسنے الگی . اندھیرے کی بدولت کچھ دیکھنے کے قابل نہ تھی ورنہ میں اسکے تاثرات  دیکھ

پاتی . میں اس پر ہی بیٹھ گئی اور اسکے گیلے لن کو ہاتھ میں کر مسلنے لگی . میری  چوت  اب

پھدک پھدک  کر لن مانگنے لگی تھی . میں نے اسکے لن پر چوت  ٹکا  کر دباؤ ڈالا تو وہ چیرتا

ہوا اخیر تک پہنچ گیا . میں تھوڑی دیر وہیں بیٹھی رہی . اور پھر اسکی چھاتی پر ہاتھ  رکھ کر

اس پر اوپر نیچے ہونے لگی . میں اپنی مرضی سے آگے پیچھے ہلتی اور اوپر نیچے ہوتی ہوئی

نئی لذتوں سے لطف اندوز ہوتی اپنے آپ کو جھرنے سے نہ روک پائی . سمیر نے سرگوشی کی

" بھابھی تمہاری چوت  اتنی تو ٹائٹ  تھی نہ مزیدار  سچ بولنا یہاں کسی سے ایسی چودائی سیکھ

تو نہیں بیٹھی ہو تو میں نے غصہ سے ایک د و ہتھڑ اسکے سینہ پر مارا اور نیچے ہو کے اسکے

پہلو  میں لیٹ گئی . سچی بات تو یہ کہ میرا کام ہو گیا تھا مگر ابھی سمیر رہتا تھا  میں نے اسے اپنے

اوپر کھینچا . وہ شاید یہی سوچ رہا  فورا  ہی میری ٹانگوں میں بیٹھ کر اس نے اپنا ٹوپا  میری چوت پر

مسلہ تو میں نے  تڑپ  کے اپنی ٹانگیں  اسکی کمر  کے گرد  جکڑ لیں  اور اس نے پیچھے ہٹ کر

اک  زبردست دھکا لگایا اور  اسکے موٹے سر والا  لن چوت کے لبوں کو مسلتا اور چوت کی دیواروں

کو رگڑتا اپنی منزل جا لگا . آج دن کے وقت اسکی انٹری کا انداز یہی تھا مگر صورت حال  بدل

جانے کی بدولت  اس وقت وہ مجھے خوشی  سے نہال کر گیا . اسنے اپنے سٹروکس  کو جاری رکھتے

ہوئے  میرے  ہونٹ اور گردن کو چومنا شروع کر دیا .جس سے میں مست ہوتی گئی . میں اسکے

طاقتور سٹروکس  کا جواب  دیتی رہی . سمیر  نے  سرگوشی کی  " بھابھی  اتنے شوق  سے

تو تم نے کبھی نہیں چودوایا . کہیں آج مچھلی تو نہیں کھا لی  تو نے ".  میں نے اسکے  ہونٹوں

کو چوم لیا  وہ نادانستگی میں میری تعریف کر رہا تھا . اسکے سٹروکس میں تیزی آتی گئی  ادھر

میرا مزا پھر اٹھنے گا اور چوت کے اندر رس رسنے لگا تو سلیپری  سی بن گئی  جس سے  اسکی

سپیڈ میں اور اضافہ ہوا  میں لذت سے  مغلوب   ہو کر سر پٹخنے لگی  میرے ہاتھ اسکی کمر کھرچنے

لگے . سمیر کی سانسوں کی آواز سارے کمرے میں سنائی دینے لگی اسکے پسینہ کی بو نے مجھے مدہوش

کر دیا .سمیر آخری سٹروکس کھیلتے هوئے ڈکراتا ہوا  مجھ پر ہی گر گیا  اور میں بے خودی میں اسے

چومنے لگی . اس نے مجھے بھر دیا تھا  گرم گرم لاوے  نے مجھے سکوں کی وادی میں پہنچا دیا .

میں کچھ دیر کے لئے غنودگی میں چلی گئی اتنے میں  سمیر میرے پہلو میں  آ لیٹا . اور مجھے  سینہ

کے ساتھ بھینچ  لیا .  میری کمر کے پیچھے ہاتھ پھیرتے ہوئے  سرگوشی کرتے ہوئے بولا .

"  بھابھی ان پندرہ دنوں میں ایسی  چدائی تم نے کہاں سے سیکھی  , اتنا مزہ تو کبھی نہیں آیا

اب روز لیا کرونگا تمہاری  گھر میں جا کر "  سمیر نے کہا تو میں نے اس کے ہونٹوں پر بوسہ دیا

اور اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ کے  بیڈ  سے نیچے اتری اور ٹٹول کر اپنی چادر  ڈھونڈھ  کر

اپنے اوپر  لے کر دروازے کی چٹخنی کھولنے لگی  تو سمیر نے لائٹ  آن کر دی   مجھے حیرانگی

سے دیکھتے ہوئے اس کے منہ سے   "  زینت باجی  آپ  "  نکلا     میں چٹخنی  اتار چکی تھی   

وہ میرے  نزدیک تھا .  میں نے قہر آلود  نظروں سے اسے دیکھا اور زناٹے دار تھپڑ اسکے

گال پر جڑ  دیا .  اور تھپڑ کی گونج میں اسے   ہکا بکا چھوڑ کر دروازہ  کھول کے باھر  آ گئی .

اور ہولے ہولے بڑے آرام سے چلتے اپنے  کمرے میں آئی .
دروازہ بند کر کے میں نے چادر اتار پھینکی
اور  برہنہ ہی  بیڈ  پر گر گئی .
سمیر کے چہرے  پر رسید  کئے   ہوئے  اپنے ہی تھپڑ کی آواز ابھی  تک میرے  کانوں میں گونج رہی تھی  .

میں مسکرا دی اور   نیند کی آسودہ  آغوش میں ڈوبتی چلی گئی .

ختم شد

Posted on: 06:37:AM 03-Jan-2021


0 0 416 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com