Stories


ایٹتھ سیمسٹر/ارمان ایک طویل داستان از حیدر رضا

نامکمل کہانی ہے

اس سٹوری کو رومن اردو سے ترجمہ کیا گیا ہے ہے جس کا نام ہے

8th semester

اس کا ترجمہ مکمل نہیں کیا گیا اگر آپ مکمل پڑھنا چاہیں تو رومن اردو میں پڑھ سکتے ہیں۔


کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
"عاشق بن کر اپنی زندگی برباد مت کرنا . . . . . . "

لیکن وقت  كے ساتھ ساتھ بربادی تو طے ہے ، جو میں نے خود اپنے لئے چنی . . . .

میں نے وہ سب کچھ کیا ،
جس کے ذریعے میں خود کو برباد کر سکتا تھا ،
اور رہی سہی کسر میرے غرور نے پوری کر دی تھی . . .

اپنی زندگی كے سب سے اہم چار سال برباد کرنے كے بَعْد میں آج اِس مقام پر تھا کہ اب کوئی بھی مقام حاصل نہیں کیا جا سکتا ،

بابا چاھتے تھے کہ میں بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بن جاوں . . .

لیکن میں نے اپنی زندگی كے ان اہم عرصے میں جب میں کچھ کر سکتا تھا ،
میں نے یوں ہی برباد کر دیا ،
گھر والے ناراض ہوئے ،
تو میں نے سوچا کی تھوڑے دن ناراض رہیں گیں بَعْد میں سب ٹھیک ہو جائیگا . . . .

لیکن کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوا ،
سب کے تانے دن بہ دن بڑھنے لگے . . .

برباد ،
ناکارہ کہہ کر بلاتے تھے سب مجھے گھر میں . . .

اور ایک دن تنگ آکر میں گھر سے نکل گیا اور کراچی آ گیا اپنے ایک دوست كے پاس ،

کراچی آنے سے پہلے سننے میں آیا تھا کی میرا بڑا بھائی سرور امریکہ جانے والا ہے ،
اور اس کے ساتھ شاید امی اور بابا بھی جائے . . . .

لیکن مجھے کسی نے نہیں پوچھا . . .

شاید وہ مجھے یہی چھوڑ کر جانے كے پروگرام میں تھے . . .

خیر مجھے خود فرق نہیں پڑتا اِس بات سے ، اور آج مجھے کراچی آئے ہوئے تقریباً دو مہینے سے اوپر ہو چکے ہے ،

میرا بھائی امریکہ گیا کہ نہیں ،
میرے بابا اور امی امریکہ گئے کہ نہیں ،
مجھے کچھ نہیں پتہ اور نہ ہی میں نے ان دو مہینوں میں کبھی جاننے کی کوشش کی اور جہاں تک میرا اندازہ تھا وہ لوگ مجھے ناکارہ سمجھ کر شاید ہمیشہ كے لیے میرے بڑے بھائی كے ساتھ امریکہ چلے گئے ہوںگے . . . .

  کوئی مجھ سے پوچھے کہ دُنیا کا سب سے بیکار ،
سب سے بڑا بے وقوف ،
اور سب سے بڑا چوتیا کون ہے ،

تو میں بنا ایک پل گنوائیں اپنا ہاتھ اوپر کھڑا کر دوں گا اور بولوں گا
" میں ہوں "

کسی کو اپنی زندگی کی جڑے خود برباد کرنی ہو تو وہ بے شک میرے پاس آ سکتا تھا ،
اور بے شک میں اس کی مدد بھی کرتا . . . . .


کراچی آئے ہوئے مجھے دو ماہ سے اوپر ہو گیا تھا ،
جہاں میں رہتا تھا ،
وہاں سے تقریباً بیس کلو میٹر کے فاصلے پڑ پورٹ قاسم تھا
وہاں ایک نئی نئی سٹیل انڈسٹری شروع ہوئی تھی . . .

کافی بھاگ دور  کے بعد کسی بھی طرح
میں نے وہاں اپنی نوکری پکّی کر لی ،
بہت ہی بدذات قسم کی نوکری تھی ،

بارہ گھنٹے تک اپنے جسم کو آگ میں سیکنے  كے بَعْد بس گزارا ہو جائے اتنا ہی پیسہ ملتا تھا . . . .

خیر مجھے کوئی شکایت بھی نہیں
تھی . . . .

جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا ،
میں اس فیکٹری کی آگ میں جل رہا تھا ، جینے كے سارے ارمان ختم ہو رہے تھے ،
اور جب کبھی آسمان کو دیکھتا تو صرف دو فقرے میرے منہ سے نکل پڑتے . . .


آسمانوں كے فلک پر کچھ رنگ آج بھی باقی ہے . . . . . . . . . ! ! !
جانے ایسا کیوں لگتا ہے کی زندگی میں کچھ ارمان آج بھی باقی ہے . . . . . . . . . ! ! !

 

اور میری سب سے بڑی  بدقسمتی یہ تھی کہ میرا نام بھی ارمان تھا ،
جس کے ارمان پورے نہیں ہوئے ،
یا پھر یوں کہے کہ میرے ارمان پورے ہونے كے لیے کبھی بنے ہی نہیں تھے . . . . .

" ارمان  . . .
ارمان . . .
اٹھ ،
ورنہ لیٹ ہو جائیگا . . . "
کاشف نہ جانے کب سے مجھے اٹھانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا ،
اور جب میں نے بستر نہیں چھوڑا تو ہمیشہ کی طرح آج بھی اس نے پانی کی ایک بوتل اٹھائی اور سیدھے میرے چہرے پر ڈال  دی . . . .

" ٹائم کتنا ہوا ہے . . . "
آنکھیں ملتے ہوئے میں اُٹھ کر بیٹھ گیا ،
اور گھڑی پر نظر گھمائی ،
صبح كے آٹھ بج رہے تھے . . . .

بوجھل دل سے میں نے بستر چھوڑا اور باتھ روم میں گھس گیا . . . .

کاشف میرے بچپن کا دوست تھا اور اسی کی وجہ سے میں کراچی میں تھا ،
جہاں ہم رہتے تھے ،
وہ ایک پوش علاقہ تھا ،
جس کا نام گلشن حدید تھا
جو کہ اندرون شہر سے دور بنا ہوا تھا  ، . . .

اِس علاقے میں بہت بڑے بڑے امیر لوگ بھی رہتے تھے ،
تو کچھ میری طرح گھٹ گھٹ کر زندگی گزرانے والوں میں سے بھی تھے . . . .


میرے ساتھ کیا ہوا ،
میں نے ایسا کیا کیا ،
جس سے سب مجھ سے دور ہو گئے ،

یہ سب کاشف نے کئی بار جاننے کی کوشش کی . . .
لیکن میں نے ہر بار بات ٹال دی . . .

کاشف  پریس میں کام کرتا تھا ،
اس کی حالت اور اس کے شوق دیکھ کر اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اس کی تنخواہ کتنی ھوگی اور  مجھے کبھی کسی چیز کی ضرورت ہوتی تو وہ بنا کچھ بولے مجھ پر پیسے اڑا دیتا ،
یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں اس کے پیسے کبھی واپس نہیں کروں گا . . . . .


" اب ناشتہ کیا خاک کرے گا ،
ٹائم نہیں بچا ہے . . . . "
میں باتھ روم سے نکلا ہی تھا کہ اس نے مجھے ٹوکا . . . "

اور پی رات بھر شراب،
کمینے خود کو دیکھ ،
کیا حالت بنا رکھی ہے . . . "

" اب تو صبح صبح تقریر نہ کر . . . "
میں نے شرٹ پہنتے ہوئے کہا . . . .


" اکڑ دیکھو اِس انسان کی ، . . . "
کاشف بولتے بولتے روک گیا ،
جیسے اسے کچھ یاد آ گیا ہو . . . .

وہ تھوڑی دیر روک کر بولا . . .

" وہ تیری بچی آئی تھی ، صبح صبح . . . . "

" کون . . . "
میں جانتا تھا کہ  وہ کس کی بات کر رہا ہے ، لیکن پھر بھی میں نے انجان بننے کی کوشش کی . . .

" سعدیہ . . . "

" سعدیہ . . . . "
میں نے اپنا موبائل فون اٹھایا ،
تو دیکھا کہ سعدیہ کی بہت ساری مس کال آئی ہوئی تھی . . . .

" کیا بول رہی تھی وہ . . . "

" مجھے تو بس اتنا ہی بول كر گئی کہ ،
ارمان جب اٹھ جائے تو مجھے کال کرے  . . . "

" اوکے . . . . "

سعدیہ ہمارے ہی کالونی میں رہتی تھی ،
وہ ان عیاش لڑکیوں میں سے تھی ،
جن کے ماں باپ كے پاس بے شمار دولت ہوتی ہے ،
جسے وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے بھی لٹائے تو بھی ان کا بینک بیلنس پر کوئی فرق نہ  پڑے . . . . .

سعدیہ سے میری پہلے ملاقات علاقے کے پارک میں ہی ہوئی تھی ،
اور جلد ہی ہماری یہ پہلی ملاقات بستر پر جا کر ختم ہوئی ، . . .

سعدیہ ان لڑکیوں میں سے تھی ،
جن کے ہر گلی ،
ہر محلے میں مجھ جیسا ایک بوائے فریںڈ ہوتا ہے ،
جسے وہ اپنی ہوس مٹانے كے لیے استعمال کرتی ہے . . .
اِس علاقے میں
میں سعدیہ کا بوائے فریںڈ تھا ،
یا پھر یوں کہے کہ میں اس کا ایک طرح سے غلام تھا . . . . .

وہ جب بھی ،
جیسے بھی چاھے میرا استعمال کرکے اپنے جسم كے بھوک کو پورا کرتی تھی . . .

دِل میں کئی بار آیا کہ اسے چھوڑ دوں ،
اسے بات کرنا بند کر دوں ،
لیکن میں نے کبھی ایسا کچھ بھی نہیں کیا . . . .

کیوںکہ سعدیہ كے ساتھ بستر پر گزرا ہوا ہر ایک پل مجھے اپنی بےکار زندگی سے بہت دور لے جاتا تھا ،
جہاں میں کچھ وقت كے لیے سب کچھ بھول سا جاتا تھا . . . .

" چل ٹھیک ہے ،
ملتے ہے بارہ گھنٹے كے بَعْد . . ."
کاشف نے مذاقیا اندازِ میں کہا . . . .


ہر روز کی طرح میں آج بھی اس اسٹیل پلانٹ میں اپنا خون جلانے كے لیے نکل پڑا ، . . .

میں ابھی کواٹر سے نکلا ہی تھا کہ سعدیہ کی  کال پھر آنے لگی . . .

" ہیلو . . . "
میں نے کال ریسیو کی . . .

" گڈ مارننگ شہزادے . . .
اٹھ گئے آپ . . . "

" اتنی تمیز سے کوئی مجھ سے بات کرے ،
اس کی عادت نہیں مجھے . . .
کال کیوں کی . . . "

" اوہ ہو . . .
تیور تو ایسے جیسے سچ میں شہزادے ہو . . . آج ممی پاپا رات میں کسی پارٹی كے لیے جا رہے ہے . . . . .
گھر بلکل خالی ہے . . . . "

" ٹھیک ہے ،
رات کو كھانا کھانے كے بَعْد میں آ جاؤںگا . . . "

کچھ دیر تک سعدیہ کی طرف سے کوئی آواز نہیں آئی اور جب میں کال بند کرنے والا تھا تبھی وہ بولی . . .

" كھانا ،
میرے ساتھ ہی کھا لینا . . . "

" ٹھیک ہے ،
میں آ جاؤںگا . . . "

سعدیہ نے مجھے آج رات اپنے گھر پر بلایا تھا ، جس کا صاف مطلب تھا کہ  آج مجھے اس کے ساتھ اسی كے بستر پر سونا ہے

سعدیہ سے بات کرنے كے بَعْد میں اسٹیل پلانٹ کی طرف چل پڑا ،
جہاں مجھے بارہ گھنٹے تک اپنا خون جلانا تھا ، . . .

میں ہر رات اِس آس میں سوتا ہوں کہ ،
صبح ہوتے ہی میرا کوئی بھی خاص دوست میرے گانڈ پر لات مار کر اٹھائے اور پھر گلے لگا کر بولے کہ
" ریلکس بھڑوے ،
جو کچھ بھی ہوا ،
وہ سب ایک خواب تھا . . .
اب جلدی سے چل ،
فرسٹ پیریڈ سحرش میڈم کا ہے ،
اگر لیٹ ہوئے تو لوڑا پکڑ کر پورے پیریڈ باہر کھڑا رہنا پڑیگا . . . . "

لیکن حقیقت کبھی سپنے یا خواب میں تبدیل نہیں ہوتی . . .
میں نے اپنے ساتھ بہت برا کیا تھا . . .
یہ بھی ایک حقیقت تھی . . . .
جس اسٹیل پلانٹ میں
میں کام کرتا تھا ،
وہاں میری کسی سے کوئی جان پہچان نہیں تھی اور نہ ہی کبھی میں نے کسی سے ملنے جلنے کی کوشش کی . . . .

جب کبھی کسی کی مدد کی ضرورت پڑتی تو " ہیلو . . . اوئے . . . گرین شرٹ . . .
بلو شرٹ . . . "
ان سب ناموں سے پکار کر اپنا کام چلا لیتا . . . .

اس دن میں رات کو نو بجے اپنے کواٹر میں
آیا . . .
کاشف مجھ سے پہلے آ چکا تھا . . . .

" چل ،
ہاتھ منہ دھو لے . . .
شراب پیتے ہے . . . "
ایک ٹیبل کی طرف کاشف نے اشارہ کیا ،
جہاں شراب کی بوتل رکھی ہوئی تھی . . .

" میں آج سعدیہ كے گھر جا رہا ہوں . . . "

" ارے واہ. . .
مطلب آج پوری رات ،
لیو میچ ہونے والا ہے . . . "

" لیو میچ تو ھوگا ،
لیکن تماشائی صرف ہم دونوں ہوںگے . . . "

" کمینے ،
مجھے ابھی تک یہ سمجھ نہیں آیا کہ سعدیہ جیسے ہائی پروفائل کلاس والی لڑکی ،
تجھ سے کیسے سیٹ ہو گئی . . . .
میں مر گیا تھا کیا . . "
شراب کی بوتل کو کھولتے ہوئے کاشف  نے کہا

" ارمان ،
ایک کام کر . . .
تو سعدیہ سے شادی کر لے . . .
لائف سیٹ ہو جائے گی . . . . "

" مشورہ اچھا ہے ،
لیکن مجھے پسند نہیں . . . "

" تو پھر ایک اور سریا اٹھا كر گانڈ میں ڈال لینا ،
زندگی اور بھی اچھی گزرے گی . . . "
کاشف غصے میں بولا . . . .

" میں چلتا ہوں . . . "
یہ بول کر میں کواٹر سے باہر آگیا . . .


سعدیہ کی طرح میں بھی چاہتا تھا کہ وہ ہر رات میری ساتھ ہی گزارے ،
یہی وجہ تھا کہ میں نے اسے ابھی
تک چھوڑا نہیں تھا . . .
اور ایک مضبوط جوان انسان سے چودائی کرنے کی خوائش نے اسے بھی مجھ سے باندھ رکھا
تھا . . . .

وہ ہمیشہ جب بھی مجھ سے ملتی تو یہی کہتی کہ ،
تمھارے ساتھ بہت مزا آتا ہے اور اس کے ایسا
کہنے كے بَعْد میں ایک بناوٹی مسکراہٹ اس پر پھینک كے مرتا ہوں ،
جس کا نشانہ ہر بار ٹھیک لگتا تھا . . . . . .

" آ جاؤ . . . "
سعدیہ نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا ،
اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے جلدی سے اندر کھینچ لیا . . . .

" صبر کرو تھوڑی دیر . . . . "
میں نے اندر ہی اندر ہزار گالیاں سعدیہ کو دی
اندر آ کر ہم دونوں ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ گئے ،

وہ میرے سامنے والی کرسی پر بیٹھی مجھے شرارت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی ،
میں نے بھی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی اور اشارہ کیا کہ میں تیار ہوں . . .

میرا اشارہ پہ کر وہ ایکدم سے اٹھی اور کھانے کی پلیٹ کو ڈائیننگ ٹیبل پر رکھا کر سیدھے میرے اوپر بیٹھ گئی

" تم ڈاکٹر ہو . . . "
اپنے گہرے لال رنگ كی شرٹ کی بٹن کو کھولتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا . . . .

" نہیں ،
میں پاکستان کا وزیراعظم  ہوں . . .
کچھ کام تھا کیا . . . "
میں نے بھی اپنی کھانے کی پلیٹ ڈائیننگ ٹیبل پر رکھی اور اس کے جینس کا لوک کھولتے ہوئے بولا . . .

اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے سَر کو پکڑا اور پیار سے سہلانے لگی . . . .


" ارمان ،
تم جانتے ہو مجھے سب سے زیادہ کیا پسند ہے . . . "

" چدائی . . . "
میں نے دل ہی دل میں سوچا اور سعدیہ کی طرف دیکھ کر نہ میں سَر ہلایا ،

اب میری نظر سعدیہ كے چہرے سے ہوتے ہوئے اس کے سینے پر جا اٹکی ،
جہاں اسکی چھاتی كے دونوں پُھول باہر کھلنے كے لیے تڑپ رہے تھے . . . .

سعدیہ کی کومل گوری کمر کو سہلاتے ہوئے میں نے اس کی کمر کو پکڑا اور اسے اوپر اٹھا کر اس کی جینس کو اس کے گھٹنوں سے بھی نیچے کر دیا ،
اب وہ میرے سامنے صرف ریڈ براہ اور پینٹی میں تھی ،

اس کے خالص گورے جسم پر یہ رنگ قیامت ڈھا رہا تھا . . .

میرے سینے کو سہلاتے ہوئے سعدیہ نے میری شرٹ کو اتار کر پھینک دیا
اور بے تحاشہ میرے سینے کو چومنے لگی ،

اِس وقت میرے ہاتھ اس کی  چھاتیوں  پر اٹکے  ہوئے تھے ،
میں نے سعدیہ كے سینے كے ان دونوں ابھاروں
کو کس کر پکڑا اور دبا دیا . . . .

" آہ ہ ہ ہ  . . . .
دھتھ . . . "
وہ مصنوئی غصے كے ساتھ بولی . . .

" نائس براہ ،
کافی اچھا لگ رہا ہے ،
تم پر . . . . "
اس کے براہ کو اس کے جسم سے الگ کرتے ہوئے میں نے کہا . . .

" ارمان یہ براہ ،
میرے جسم پر اتنا ہی اچھا لگ رہا تھا تو پھر اسے اتارا کیوں . . . . "

" کیوںکہ اِس براہ  كے پیچھے جو چیز ہے وہ اسے بھی زیادہ خوبصورت ہے "

اس کی چھاتیاں اب میرے سامنے ننگی تھی ، اور میں اس کے ابھاروں کو جب چاہے جیسے چاہے دبا سکتا تھا ،

ویسے تو میں خود کو اس کا غلام مانتا تھا تھا ،
لیکن چودائی کرتے وقت وہ میری غلام ہو جاتی
تھی . . .

سعدیہ كے سینے كے ایک ابھار کو میں نے پیار سے اپنے منہ میں بھر لیا اور دوسرے کو ہاتھ  سے مسلنے لگا . . .

" منع کیا نہ . . .
آہ ہ ہ  اوں "
سعدیہ میرا ہاتھ ہٹھاتے ہوئے بولی
" کتنی بار منع کیا ہے ، زیادہ زور سے
مت دبایا کرو . . . "

میں اِس وقت سعدیہ سے بحث نہیں کرنا چاہتا تھا ،
اس لئے میں نے اس کی بات مان لی اور اپنے ایک  ہاتھ کو اس کے چھاتی پر سے ہٹا لیا اور اپنے ہاتھوں سے سعدیہ کی ننگی پیٹ کو سہلاتے ہوئے اس کی چوت پر اپنا ایک ہاتھ رکھ دیا اور اس کو مسلنے لگا . . .

میرے ایسا کرنے پر وہ کسی مچھلی کی طرح اُچھل پڑی اور سیسکاریاں لینی لگی ، . . .

میرے پینٹ میں بنے ہوئے تامبو کا اسے احساس ہو گیا تھا ،
وہ دھیمی سی آواز میں بولی . . .

" جلدی . . . . .
پلیز . . .
میں زیادہ انتظار نہیں کر سکتی’  . . . . . "
میرے لنڈ کو پینٹ كے باہر سے ہی سہلاتے ہوئے سعدیہ نے کہا . . . .

اس کی آواز کانپ رہی تھی . . .
جو مجھے مدھوش کر رہی تھی . . .

میں نے سعدیہ کو اوپر اٹھایا اور میں خود وہاں کھڑا ہو گیا ،
کرسی کو پیچھے کرنے كے بَعْد وہ میرے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھی اور میری طرف دیکھتے ہوئے میرے لنڈ پر اپنا ہاتھ پھیر رہی تھی ،

اس کے بَعْد اس نے میرے لنڈ کو پینٹ سے باہر نکالا اور اپنے ہاتھوں میں تھام کر آگے پیچھے کرنے لگی . . . . .

" تم جانتے ہو ،
تم میں سب سے خاص چیز کیا ہے . . . . " میرے لنڈ کو اپنے ہاتھوں سے سہلاتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا . . . .

" لنڈ . . . . "
" بلکل سہی جواب اور آپ کو ملتی ہے ایک عدد  چوت  ،
جسے آپ آج پوری رات چود سکتے ہے . . . . "

سعدیہ کی ان چند جملوں نے مجھے اور بھی زیادہ پاگل اور مدھوش کر دیا اور ایک یہی وقت تھا ،
جب مجھے اس کی چدائی کرنے كے علاوہ اور کچھ بھی یاد نہیں رہتا ،
انہی چند لمحوں كے لیے میں آج بھی
سعدیہ كے ساتھ تھا . . . .

" میرے انعام کو پردے میں کیوں رکھا ہے . . . " یہ کہتے ہوئے میں نے اسی وقت سعدیہ کو پکڑ کر زمین پر لٹا دیا ،
اور اس کی  رس بھری گلابی چوت کو پردے سے باہر کیا . . .
یہ سب کچھ میں نے اتنی جلدی کیا کہ
سعدیہ حیران رہ گئی . . .

اور پھر مسکراتے ہوئے بولی . . .
" بہت جلدی ہو رہی ہے تم کو . . "

" تم چیز ہی ایسی ہو قسم سے  . . . "
میرا ایسا کہتے ہی وہ خوشی سے مچل اٹھی ،

سعدیہ کو زمین پر لیٹا کر میں نے ایک بار پھر  اس کی چھاتیوں کو مسلنا شروع کیا . . .

" آہ ہ ہ ہ . . . .
وووہ ہ ہ ہ. . . . . "
سعدیہ کی پیار بھری مستی پھدک رہی تھی اور وہ مزے كے سمندر کی انتہا پر جا کر دستک دے رہی تھی ،
وہ اِس وقت اتنی مدھوش ہوگئی تھی کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے سینے كے ابھاروں  کو مسلنے لگی اور مجھے اشارہ کیا کہ ،
میں وہ سب کچھ کروں ،
جس کے لیے آج رات میں یہاں تھا . . . .

میں نے سعدیہ کی گوری چکنی کمر کو پکڑا اور اسے  اپنے لنڈ كے بلکل اوپر بیٹھا لیا ،
اس کی چوت اِس وقت میرے لنڈ كے ملن كے لیے تڑپ رہی تھی . . .

میں نے اس کی تڑپ کم کرنے كے لیے اپنے ہاتھوں سے اس کے چوت  کو تھوڑا پھیلایا اور سیدھا اپنا لنڈ ایک تیز ڈھکے كے ساتھ اندر داخل کر دیا . . . .

" آہ ہ ہ ہ ہ ہ  . . . . . . .
اوئی ی ی ی ی   "
اپنی انگلی کو دانتوں میں دباتے ہوئے وہ بولی ،
اس كا چہرہ اِس وقت لال پیلا ہو رہا تھا ، . . .

میں زمین پر لیٹا ہوا تھا اور سعدیہ میرے اوپر بیٹھی ہوئی اپنی گانڈ ہلا کر مزے لوٹ رہی تھی . . .

اِس طرح اس کا درد بھی کچھ کم ہو گیا تھا ، اور اب وہ مستی بھری سیسکاریاں لے رہی تھی . . .

میں نے ایک بار پھر سے اپنے سب سے پیاری جگہ کو پکڑا اور زور  زور سے دبانے لگا اور تیزی سے اپنا لنڈ اس کی پھدی كے
اندر باہر کرنے لگا ، . . .

کبھی سعدیہ میرے ہاتھوں کو پکڑ لیتی تو کبھی اپنی چکنی گانڈ کو مٹکاتے ہوئے
آگے پیچھی کرتی . . . .

میرے تیز ڈھکوں كے ساتھ اس کی سسکاریاں  بھی بڑھتی جا رہی تھی ،
اسی دوران میں نے اس کے مموں کو کئی بار  بہت زور سے مسئلہ ،
اتنا زور سے کہ اس کی مستی بھری  سسکاریوں  میں اب درد جھلک رہا تھا ،
لیکن یہ درد وہ اپنی بھاری گانڈ کو آگے پیچھے کرکے برداشت کر رہی تھی ،
ہم دونوں اِس حالات میں بہت دیر تک چودائی کرتے رہے ،

اس کے بَعْد میں نے سعدیہ کو الگ کیا اور ٹانگیں پیچھے کی طرف موڑ کر بیٹھ گیا اور اس کی گانڈ کے سوراخ کو سہلاتے ہوئے اسے بھی اپنے اوپر بیٹھا لیا . . . .

" ش ش ش ش  . . .
یہ کیا کر رہے ہو . . . "
سعدیہ بولی . . .

" کچھ نہیں ،
بس اپنا کام کر رہا ہوں . . . "

اس کے ننگے بدن کو چومتے ہوئے میں نے بولا اور پھر اپنے لنڈ کو اس کی چوت سے لگایا اور ایک زور دھکہ مارا اِس پوزیشن میں
میں پہلی بار سعدیہ کو چود رہا تھا ،

اس لئے وہ تیار نہ تھی ،
اور جیسے ہی میرا لنڈ پورا اندر گیا وہ درد كے مارے زور سے چیخی ،
وہ درد سے تڑپ اٹھی اور مجھ سے خود کو چھوڑوانے کی کوشش کرنے لگی ،
لیکن میں نے اس کی کمر کو کس کر پکڑا اور اسکی چوت میں لنڈ اندر باہر کرنے لگا . . . .

سعدیہ نے اپنے ہاتھوں سے میرے لنڈ کو
نکلنے کی بھی کوشش کی ،
لیکن اس کے ہاتھ میرا کام بیگاریں اسے پہلے ہی میں نے اس کے دونوں ہاتھوں کو
پکڑ کر پیچھے جکڑ لیا ،

اب اس کے پاس اسی طرح چودنے كے علاوہ  اور کوئی رستہ نہیں تھا ، . . .

سعدیہ کی سیسکاریاں اِس دوران مسلسل نکل رہی تھی ،
جو مجھے اور مزید جوشیلا کر  تھی ،
سعدیہ کی سیسکاریوں میں درد صاف جھلک رہا تھا . . . .

میں نے سعدیہ کو زمین پر وآپس لٹایا اور اس کی ٹانگوں کو پکڑ کر اس کو اپنی طرف کھینچا ،
اس کے بَعْد میں نے اس کی دونوں ٹانگوں کو اوپر اُٹھا کر اس کی طرف موڑ دیا ،
جس سے اس کی چوت میرے سامنے کی طرف آ گئی اور بنا ایک پل گنواے میں نے اپنا لنڈ اندر
ڈال دیا ،
سعدیہ کی چیخ ایک بار پھر پورے گھر میں گونجی ،
اس کا گورا جسم ،
درد اور مستی سے لال پیلا
ہو رہا تھا

" میں . . .
اب . . .
آہ ہ ہ ہ  . . . .
ارمان . . .
آئی لوو یو . . . .
س  س س س س  . . . .
یس س س س . . . . .  "
سعدیہ فارغ ہوگئی اور اس کی گلابی چوت سے پانی باہر رسنے لگا ،

اب میں نے اس کے گالوں  کو زور  سے سہلایا  اور بری طرح سے سعدیہ سے لپٹ کر اور بھی زور سے اپنا لنڈ داخل کرنے لگا . . .

وہ مجھے روکنے کی کوشش کرنے
لگی ،
لیکن میں نہیں روکا اور لگاتار اپنا لنڈ اس کی پھدی میں اندر باہر کرتا رہا ،
اور کچھ دیر كے بَعْد میں بھی فارغ ہوگیا . . . .

میں اور سعدیہ اب بھی ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے تھے . . .
ہم دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں
ڈال کر نہ جانے کیا دیکھ رہے تھے . . . .

پھر اس نے ایسا کچھ کہا ،
جس کی میں نے کبھی توقع تک نہیں کی
تھی . . . . . . . . . . .

 

" دل والوں كے گھر تو کب كے اجڑ چکے . . . .
دِل كے آشیانے تو کب كے جل چکے . . . . . "
سعدیہ سے میں نے صرف اتنا ہی کہا ،
جب اس نے مجھ سے شادی کرنے كے
لیے کہا . . .

سعدیہ ،
مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے ،
یہ سن کر میں کچھ دیر كے لیے جیسے گھوم گیا تھا ،

میں اب بھی زمین پر سعدیہ كے اوپر لیٹا ہوا تھا اور میرا لنڈ اب بھی اس کی چوت میں اندر
تک دھنسا تھا . . . .

میرے اس دو مصرے کے شعر کو سن کر وہ پل بھر كے لیے مسکرائی اور پھر میرے سَر پر ہاتھ پھیرتے ہوئی بولی
" تم نے ابھی جو کہا ،
اس کا مطلب کیا ہوا . . . "

" میں تم سے شادی نہیں کر سکتا . . . "
جب میں نے اسے ایسا کہا تو میں نے سوچا کہ شاید اس کے چہرے پر ناراضگی كے اثرات آئیں گے ،
لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ،
وہ میرا سَر سہلاتی رہی . . . . .

" میں مذاق کر رہی تھی . . . "
وہ بولی

" اصل میں ،
بابا نے میری شادی کہی اور فکس کر دی ہے اور اگلے ہفتے شاید لڑکے والے مجھے دیکھنے بھی آ رہے ہے . . . . "

" گڈ ،
لیکن پھر مجھ سے کیوں پوچھا کہ میں تم سے شادی کروں گا یا نہیں . . . "
میرے ہاتھ دھیرے دھیرے اس کے پورے جسم کو سہلا رہے تھے . . . .

" میں جاننا چاہتی تھی کہ ،
تُم مجھ سے پیار کرنے لگے ہو یا نہیں . . . " میرے ہاتھ کی حرکتوں سے تنگ آ کر
اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ،
اور ہستی ہوئی بولی . . .

" اور میں تم سے پیار کرتا ہوں یا نہیں ،
یہ تُم کیوں جاننا چاہتی تھی . . "
میں نے اس کے ہاتھ کو دور کیا اور پھر سے اپنا کام شروع کر دیا ،
اس کی آنکھوں میں جنسی پیاس پھر سے اترنے لگی . . .

" میں نے یہ اس لئے پوچھا کیوںکہ ،
میرے جتنے بھی بوائے فریںڈ ہے ،
جب میں نے انہیں کہا کہ اب میں ان کے ساتھ تعلقات نہیں رکھ سکتی ،
تو وہ بہت اُداس ہوئے ،
کئی تو بچوں کی طرح رونے لگے اور بولنے لگے کہ ، . . . .
سعدیہ پلیز مت جاؤ ،
میں تم سے پیار کرنے لگا ہوں ،
تو بس میں یہی جاننا چاہتی تھی کہ ،
کہی اوروں کی طرح تمہیں بھی مجھ سے پیار تو نہیں ہوا ہے ،
ورنہ آج کی رات كے بَعْد تُم بھی ان لڑکوں کی طرح رونا دھونا شروع کرتے . . . . "


" بے فکر رہو ،
میں ایسا کچھ بھی نہیں کروںگا . . . . "
میں نے سعدیہ كے دونوں ہاتھوں کو کس کر پکڑا اور اپنا لنڈ جو اسکی چوت میں پہلے سے ہی گھسہ ہوا تھا ،
میں اسے پھر سے اندر باہر کرنے لگا . . . .

میری اِس حرکت پہ وہ ایک بار پھر مسکرا اٹھی  . . . .


تمہیں ،
اک بات بتاؤں . . .
آہ ہ ہ ہ . . . "

" ہاں بولو . . . "

" ان لڑکوں نے کال کر کر كے مجھے اِتنا پریشان کر دیا کے مجھے اپنا نمبر تک تبدیل کرنا
پڑا . . . .
تھوڑا آرام سے ڈالو ،
ابھی ابھی فارغ  ہوئی ہوں تو تھوڑا درد ہو رہا ہے . . . "

"  اِس کام میں درد نہ ہو تو پھر مزا کیسے آئیگا ، . . . "
میں نے اور بھی زور سے اپنا لنڈ اس کی چوت كے اندر باہر کرنے لگا ،
سعدیہ سسکی لیتے ہوئے حانپ بھی رہی تھی ، اور اپنے ہونٹوں کو دانتوں سے کاٹنے لگی . . . .

" پلیز اسٹاپ . . . . "

" اِس گاڑی کا بریک فیل ہو گیا ہے . . . "

" اِس گاڑی کو ابھی روکو ،
رات بہت لمبی ہے اور سفر بھی بہت لمبا ہے . . . . "
اس نے میرے کمر کو کس کر جکڑ لیا اور بولی
" تمہیں کیا ،
تم تو میرے اوپر لیٹے ہوئے ہو ،
یہاں زمین پر نیچے تو میں لیٹی ہوئی
ہوں . . .
اٹھو ابھی . . . "

دِل تو نہیں چاہتا تھا کہ میں اسے چھوڑوں ،
لیکن اس کا احساس مجھے ہو گیا تھا کہ وہ زمین پر نیچے لیٹ کر بہت دیر تک مجھ سے چودائی نہیں کر سکتی ،
اس لئے میں نے اپنا لنڈ نکالا اور کھڑا ہوا ،

اس کے بَعْد میں نے سہارا دے کر اسے بھی اْٹھایا . . . .

" اب باقی کام بستر پر کرتے ہے . . . "
وہ ایک بار پھر مسکرائی ،
اور اپنے کپڑے اُٹھا کر اپنے بیڈروم
كے طرف بڑھی . . . .

دِل کیا کہ سعدیہ کو پیچھے سے پکڑ کر وہی لیٹا کر چود دوں،
لیکن پھر سوچا کہ جب رات لمبی ہے تو پوری رات سو کر اسے چھوٹی کیوں بنائی جائے . . . . . . .

جیسے کہ اکثر امیروں كے گھر میں کسی کونے میں شراب کی کچھ بوتلیں رکھی ہوتی ہے ، ویسا ہی ایک چھوٹا سا شراب خانہ سعدیہ كے گھر میں بھی تھا . . .

جہاں ایک سے بڑھ کر ایک برانڈڈ شراب رکھی ہوئی تھی ، . . .

میں اس چھوٹے سے شراب خانے کی طرف بڑھا اور وہاں موجود کرسی پر بیٹھ کر اپنا پیک بنانے لگا ،
دو  تِین پیک پی کر میں نے اپنے کپڑے پہنے اور سعدیہ كے پورے گھر کو دیکھا ،
سعدیہ کا گھر باہر سے جتنا بڑا نظر آتا تھا ،
وہ اندر سے اور بھی بڑا اور عالیشان تھا ،
ہر ایک چھوٹی سے چھوٹی چیز سے لے کر بڑی سے بڑی چیز برانڈڈ تھی ، . . .

شراب پینے كے بَعْد میں کیا سوچنے لگتا ہوں یہ میں خود آج تک نہیں سمجھ پایا ،
شراب پینے كے بَعْد میرے پورے دماغ میں دنیا بھر کی باتیں آتی ہے ،
کبھی کبھی کسی سیاست دان کی باتیں تو کبھی کبھی کسی دوست كے پوزیشن ،
کبھی کوئی فیلم اسٹار اداکارہ تو کبھی کوئی سوشل ورکر . . . . .

لیکن اِس وَقت ابھی جو میرے خیال میں آ رہا تھا ،
وہ سعدیہ کے بارے میں تھا ، . . .
شراب اور سعدیہ دونوں نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا تھا . . . . .

سعدیہ میں ایک عجیب سی کشش تھی ،
جو کسی بھی مرد کو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے ،
پھر چاھے وہ سعدیہ كے آزادانہ راویے سے متاثر ہو یا اس کی عجیب سی شکل میں ڈھلی ہوئی چھاتیوں سے یا اس کی گداز جسم سے . . . .

میں سعدیہ سے اس کی چھاتیوں کی وجہ سے متاثر ہوا تھا ،
اور یہی وجہ تھی کہ میں اکثر اس کے ساتھ سیکس کرتے وقت اس کے سینے كے ابھاروں  کو پکڑ کر مسلنے لگتا تھا ، . . .


" ارمان ،
ذرا اوپر تو آنا . . . . "

" کون . . . "
آواز سن کر میں بھوکلایا ،
لیکن پھر ایسے لگا جیسے کے مجھے سعدیہ نے آواز دی ہو ، . . .

" اسی نے بلایا ھوگا . . . "
میں نے خود سے کہا اور  اُٹھ کر سیڑھیوں سے اوپر جانے لگا ،
مجھے سعدیہ کا بیڈروم معلوم تھا ،
اس لئے میں سیدھے وہی پہنچھا . . . .

" سعدیہ. . . . "

" میں اندر ہوں باتھ روم میں . . . "

سعدیہ کی آواز نے میرا دھیان باتھ روم کی طرف کھینچا،

" اِس وقت باتھ روم میں ،
کیا کر رہی ہو . . . "

" چوت صاف کر رہی ہو ،
دلچسپی ہے تو آ کر صاف کر دو . . . "

" ہاں ،
جیسے دُنیا کی سارے دلچسپ کام ختم ہوگئے ہے ،
جو میں اندر آ کر تمہاری چوت صاف کروں . . ."

" پھر میرا ٹاول بستر پر پڑا ہے ،
وہ دو . . . . "

میں نے بستر پر نظر ڈالی ،
وہاں ٹاول كے ساتھ ساتھ بلیک کلر کی براہ اور پینٹی بھی رکھی ہوئی تھی ،

میں نے ٹاول اٹھایا اور سعدیہ کو آواز دی . . .

" دو . . . "
باتھ روم کا دروازہ پورا کھول کر سعدیہ نے میری طرف اپنا ہاتھ بڑھایا ،
وہ پوری کی پوری پانی میں بھیگی ہوئی ننگی کھڑی تھی ،
جسے دیکھ کر میرے لنڈ نے ایک بار   پھر سلامی دینا شروع کر دی  پینٹ كے اندر . . . .

" ارے دو نا . . . "
مجھے اپنی طرف اِس طرح سے دیکھتا ہوا دیکھ کر وہ بولی "

اتنے غور سے تو تم نے مجھے اُس
وقت بھی نہیں دیکھا تھا ،
جب میں تمھارے ساتھ پہلی بار ہم بستر ہوئی تھی . . . "

میں نے کچھ نہیں کہا اور اس کے پورے ننگے گورے جسم کو آنکھوں سے چودتے ہوئے اسے ٹاول دے دیا ،
اور بستر پر آکر لیٹ گیا . . .

ایک بات جو میں اکثر سوچتا تھا کہ دُنیا بھر کی لڑکیاں باتھ روم میں جاتے وقت ٹاول باہر کیوں بھول جاتی ہے . . . .

" براہ بھی دینا . . . . "
ایک بار  پھر باتھ روم سے آواز آئی اور باتھ روم کا دروازہ کھلا ،

" یہ لو . . . "
براہ اور پینٹی دونوں اس کے ہاتھ میں پکڑاتے  ہوئے میں نے کہا اور میری نظر سیدھے اس کے مموں پر جا ٹکی . . . . .

" سائز معلوم ہے ،
ان کا . . . "
وہ دروازے کو پکڑ کر مستی میں بولی اور جب میں نے کچھ نہیں کہا تو وہ
باتھ روم کا دروازہ بند کرنے لگی . . . .

" سعدیہ . . .
روکو . . . "

" بولئے جناب . . . "

" جلدی سے باہر آؤ ،
تمھارے بنا چین نہیں ہے . . . "
میں اپنی اِس حرکت پر خود شرما گیا . . . . .

کچھ دیر كے بَعْد سعدیہ باہر آئی ،
اور میرے بغل میں لیٹ کر میری طرح وہ بھی چھت کو دیکھنے لگی . . .

" تم سچ میں شادی کرنے والی ہو . . . "
سعدیہ کا ایک ہاتھ پکڑ کر میں بولا . . .

وہ ابھی ابھی نہا كے آئی تھی ،
جس کی وجہ سے اس کے پورے  جسم سے خوشبو آ رہی تھی . . . .
میرے سوال کو سن کر وہ تھوڑا حیران ہوئی اور میری طرف اپنا چہرہ کرکے بولی
" یہ تم کیوں پُوچھ رہے ہو ، "

" بس ایسے ہی . . . "

" ہاں یار ،
سچ میں شادی کر رہی ہے اور آج کی رات ہم دونوں کی آخری رات ھوگی . . . "

" آخری رات . . . "
میں نے دھورایا. . .

" آخر تمھارے دل میں ہے کیا . . . "
وہ حیران تھی کہ میں اب کیوں اسے اس کی شادی كے بارے میں پُوچھ رہا ہوں ،
جب کے پہلی بار ہی اسے میں نے صاف منع کر دیا تھا ،
خیر حیران تو میں خود بھی تھا . . . .

" تم ایک عجیب قسم کے انسان ہو. . .
لیکن آج کچھ زیادہ ہی عجیب حرکتیں کر رہے ہو . . . "
میں نے اس کا ہاتھ  جس ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا وہ اسے سہلاتے ہوئی بولی ،
اس کا چہرہ اب بھی میری طرف تھا . . . .

سعدیہ کو اکثر ایسا لگتا کہ دُنیا بھر کا سارا  سسپنس میرے اندر ہی بھرا پڑا ہے . . . .

" نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ،
میں تو بس ایسے ہی پُوچھ رہا تھا . . . "

کوئی تو بات تھی جو میرے اندر کھٹک
رہی تھی ،
یہ میں جانتا تھا . . . .

" اب ساری رات ایسے ہی بور کروگے یا پھر کچھ اور . . . . . . . . "

وہ آگے کچھ اور کہتی اس سے پہلے ہی میں نے اس کی چوت كے اوپر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اسے پینٹی کے اوپر سے ہی سہلانے لگا . . . .

" ڈائریکٹ پوائنٹ پر ہاں . . . "
وہ ایک بار پھر مسکراتے ہوئے بولی . . .

" پوائنٹ تو اب آیا ہے . . . "
میں نے اس کے پینٹی كے اندر ہاتھ ڈال کر اس کی چوت کو سہلاتے ہوئے بولا اور اپنی ایک انگلی چوت كے اندر ڈال دی . . .

کچھ دیر پہلے كے واقعے سے ابھی بھی اس کی پھدی گیلی تھی . . .

ہم دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ،
آج پہلی بار وہ مجھے بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی ،
دِل کر رہا تھا کہ اسے چوم لوں ،
لیکن سعدیہ کو کس پسند نہیں تھا . . .

" تم کیا سوچ رہے ہو . . . "
وہ کانپتی ہوئی آواز میں میری طرف دیکھ کر بولی . . .

جواب میں میں نے اپنے دوسرے ہاتھ کی انگلیوں کو اپنے ہونٹوں پر رکھا کر اشارہ کیا کہ میں تمہارے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں
بھرنا چاہتا ہوں . . . .

میرے اشارے سے سعدیہ تھوڑی بے چینی محسوس کرنے لگی اور مجھ میں کچھ دیر تک نہ جانے کیا دیکھتی رہی . . . . .

" واقعے تم میرے ہونٹ پر کس کرنا چاہتے ہو . . . ؟ ؟ ؟ "
اپنے ہونٹ پر عجیب سی حرکت لاتے ہوئے اس نے مجھ سے پوچھا ،
میری ایک انگلی اب بھی اس کی چوت كے اندر باہر ہو رہی تھی . . . . .

" ہاں  . . .
میں چاہتا ہوں کے تمہارے ہونٹوں پر کس کروں . . . "

میں نے بس اتنا کہا اور وہ میرے ہونٹوں كے قریب آئی ،
ہم دونوں ایک دوسرے کی سانسیں کی گرمائش محسوس کر رہے تھے ،
جو کہ ہم دونوں کو اور بھی گرم کر رہی تھی . . . .

آج پہلی بار سعدیہ كے لیے میرے دِل میں کچھ
فیلنگس آئی تھی اور وہ فیلنگس اس لئے تھی کیوںکہ سعدیہ آج مجھ سے دور جا رہی تھی ،

آج کی رات ہماری آخری رات تھی ،
شاید اس لیے وہ مان بھی گئی . . . . .

" تم سچ میں بہت عجیب ہو . . . "
میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے ٹچ کرکے وہ بولی "
لیکن مجھے اچھے لگتے ہو . . . "

اور اس کے بَعْد میں نے وقت نہ گواتے ہوئے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا . . . .
اور اس کے اوپر آ گیا . . . .
اسی دوران میں نے اس کو ایک بار چھوڑا تو وہ میرے ہونٹوں کو چوسنے کی وجہ سے  حانپ رہی تھی اس کے سینے كے ابھار بہت تیزی سے  اوپر نیچے ہو رہے تھے . . . .

" ایک بات بتاؤ "
میں نے بولا

" جب تمہیں معلوم تھا کہ میں کچھ دیر بَعْد تمہاری براہ اور پینٹی کو اتار دوںگا تو تم نے پہنا ہی کیوں . . . . "

میرے ایسا کہنے کی دیر تھی کی وہ کھلکھلا كے ہنس پڑی ،
اور میرے سَر پر اپنا ہاتھ پھیرنے لگی . . . . .

" تم سچ میں بہت عجیب ہو . . . "

" وہ تو میں ہوں . . . "

میں نے دوبارہ اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چپکا لیا اور پھر چُوسنے لگا . . . .

میں اس کے ہونٹوں کو اتنا زور سے چوس رہا تھا کہ اس کے ہونٹوں پر خون اترنے لگا ،
اور ہونٹ كے کنارے پر مجھے خون کی کچھ بوندے بھی دکھی . . .
لیکن میں روکا نہیں اور اسے پی گیا . . . . . .


" بہت ٹیسٹی ہے . . . "

" کیا . . . "

" تمھارے ہونٹ . . .

لیکن ذرا آرام سے ،
درد ہوتا ہے . . . "
سعدیہ بولی .

سعدیہ كے بولنے کا لہجہ سیدھے میرے دِل پر لگا ،
میں یہ تو جانتا تھا کہ سعدیہ كے لیے میں صرف اس کے جسم کی بھوک مٹانے كے لئے ہوں ،
لیکن آج وہ کچھ بدلی بدلی سی لگ رہی تھی . . .

اس وقت جب اس نے کہا کہ
" آرام سے کرو  ،
درد ہوتا ہے . . . . "
تو میں جیسے اس وقت اس کا مرید ہو گیا ، دِل چاہتا تھا کہ میں بس ایسے ہی اس کے اوپر
لیٹا اسے پیار کروں اور یہ رات کبھی ختم نہ ہو ،
دِل چاہتا تھا کہ کل کی صبح ہی نہ ہو ،
لیکن یہ ممکن نہیں تھا . . . .

میرے دِل میں سعدیہ كے لیے آج کچھ اور جذبات تھے ،
اک بار تو میرے دل میں خیال بھی آیا کہ کہی میں سعدیہ سے . . . . . . . . . . .


نہیں یہ ہرگز نہیں ہو سکتا ،
جن راستوں پر میں نے چلنا چھوڑ دیا ہے تو پھر ان راستوں سے گزرنے والی
منزلیں مجھے کیسے مل سکتی ہے . . . . . .

" یار اب اِس حسین پل میں کہاں کھو گئے ،
کرو نہ. . . "

" اتنی جلدی بھی کیا ہے سعدیہ . . . "
میں نے بہت ہی پیار سے کہا ،
اتنے پیار سے میں نے آج سے پہلے کبھی کسی سے بات کی تھی ،
یہ مجھے یاد نہیں . . . . .

" جلدی تو مجھے بھی نہیں ہے ،
لیکن اس کا کیا کرے ،
کمینی چین سے ایک پل جینے بھی نہیں دیتی . . . . "
سعدیہ کا اشارہ اس کی گرم ہوتی چوت کی طرف تھا ،
جو میرے لنڈ کی راہ تک رہی تھی کہ میں کب سعدیہ کو چودنا شروع کروں . . .


لیکن میں سعدیہ كے اوپر سے ہٹ کر اس کے بغل میں لیٹ گیا اور اس میں جو چیز مجھے سب سے زیادہ پسند تھی اسے سہلاتے ہوئے میں نے کہا . . . .
" کچھ دیر بات کر لیتے ہے ،
تب تک تم نارمل ہو جاؤ گی  اور تمہیں درد بھی کم ھوگا . . . "

آج سعدیہ کو میں نے ایک سے بڑھ کر ایک جھٹکے دیئے تھے اور مجھے پورا یقین تھا کہ اسے اب بھی جھٹکا لگا ھوگا ،
میرا اندازہ سہی نکلا وہ مجھے حیران ہوکر دیکھ رہی تھی . . . . .

" ارمان . . .
آخر بات کیا ہے ،
سب کچھ ٹھیک تو ہے نہ . . . "
میرے چہرے کو سہلاتے ہوئے سعدیہ نے مجھ سے کہا . . .

" ہاں ،
سب ٹھیک ہے . . . "

میں سعدیہ  کی طرف دیکھتے ہوئے بولا لیکن میرے دِل میں کچھ اور ہی تھا ،
میں کچھ الگ ہی خواب سجا رہا تھا . . . . .


بقول شاعر
" آج پھر دِل کرتا ہے کی کسی كے سینے سے لپٹ جاؤں . . . .
اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سارے غم پی جاؤں . . . .
ہم دونوں رہے ساتھ ہمیشہ اس لئے . . .
دِل کرتا ہے کی اس کی تقدیر کو اپنی تقدیر سے  جوڑ دوں . . . .

 


میں کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا سعدیہ سے لیکن اس نے مجھے آگے بولنے کا موقع ہی نہیں دیا اور درمیان میں بول پڑی . . . .

" پھر کیا بات ہے . . .
جلدی کرو صبح ہونے والی ہے اور پھر ہم کبھی ایک ساتھ نہیں رہینگے . . . "

سانسیں روک گئی تھی ،
جب اس نے چھوڑ جانے كے لیے کہا . . . . .

دِل نہ ٹوٹے میرا اس لئے . . .
دِل کرتا ہے کی اپنے دِل کو اس کے دِل سے جوڑ دوں  . . . . .

" چلو یار ارمان . . .
کیا سوچ رہے ہو ،
وہ بھی اب "
وہ مجھے بستر پر سوچ میں پڑا دیکھ کر جینجلا اٹھی ،
تب مجھے احساس ہوا کہ سعدیہ كے لیے میں اب بھی سوائے ایک جسم کی بھوک مٹانے والے كے سوا کچھ نہیں ہوں اور اس کی طرف سے کہی گئی باتوں کا میں 101 % غلط مطلب نکال لیا تھا . . .

مجھے برا تو لگا لیکن ساتھ ہی ساتھ
اپنی غلطی کا بھی احساس ہوا اور اپنی غلطی  کا ازالہ کرنے كے لیے میں وآپس سعدیہ كے اوپر آ گیا. . . . .

" یس اب آئے نہ لائن پڑ ،
اپنی انگلی میرے منہ میں ڈالوں اور شروع ہو جاؤ  . . . "
وہ بولی اور میں نے ویسا ہی کیا ،

میں نے اپنی انگلیاں اس کے منہ میں ڈالی اور اس کی زبان سے ٹچ کرنے لگا اور پھر کچھ دیر بَعْد اپنی انگلیاں نکل کر اس کو سَر سے پکڑا اور اسے اپنی طرف کھینچا . . . . . .

بقول شاعر:
" میرے دور جانے سے اے دوست خوشی ملتی ہے تجھے تو بتا دے مجھے . . . . . .

تیری اِس خوشی كے لیے میں تجھے تو کیا اِس دُنیا کو چھوڑ كے چلا جاؤں . . . . .
سعدیہ كے منہ سے اپنی انگلیاں نکالی اور اسے  پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ،
جس سے اس کا چہرہ میرے قریب آ گیا ،
میں اس کی ہوس سے بھری آنکھوں میں آخری بار اپنے لیے محبّت  ڈھونڈ رہا تھا ،
لیکن ہوا وہی ،
میرے ارمانوں کا حقیقت سے نہ تو پہلے کوئی واسطہ تھا اور نہ ہی اب تھا اور جب مجھے
یقین ہوگیا کہ وہ وہی پرانی سعدیہ ہے جس نے محبّت کو ہمیشہ ہوس کی پیاس سے نیچے سمجھا ہے ،
تو میں اس کو ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بری طرح جکڑ لیا . . . .

" جانور بن گئے ہو کیا . . . "
مجھے دکھا دے کر وہ بولی اور اپنے ہونٹ ہاتھ
سے سہلانے لگی . . . .

" سوری . . . "
میں وآپس اس کے قریب گیا اور اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کی براہ کو اس کے سینے سے الگ کیا اور ایک بار  پھر اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں بری طرح جکڑ لیا . . .

سعدیہ نے اِس بار بھی پوری کوشش کی مجھے دور کرنے کی ،
لیکن وہ اِس بار  ناکام رہی . . .

لیکن کچھ دیر كے بَعْد مجھے اس کی
پرواہ ہونے لگی ،
اس کا درد میرا درد بن گیا ،
اور میں نے اس کے گلابی ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے الگ کر دیا اور اس کی گانڈ کو پکڑ لیا اور اس کی گانڈ پر ہاتھوں سے دباؤ ڈالا . . . . .

" گندے بچے . . . . "
میرے طرف جھک کر میرے کانوں كے پاس آ کر وہ بولی .

میں نے سعدیہ  سے کچھ نہیں کہا اور اسے پکڑ کر اُلٹا گھوما دیا ،
اب اس کی پیٹھ میرے سینے سے اور اس کے
کولہے میرے لنڈ سے ٹچ ہو رہے تھے ، . .

سعدیہ شاید جان چکی تھی کی اب میں کیا اور کیسے کرنے والا ہوں

Posted on: 08:44:AM 02-Apr-2021


1 0 198 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 60 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com