Stories


سلطان ایک کہانی از سلطان خان

نامکمل کہانی ہے

رات کے بارہ بج رہے تھے اور مجھے نیند نہیں  آ رہی تھی تو میں نے کمپیوٹر آن کر لیا کہ اتنے میں باہر سے آوازیں آنے لگی،  میں چونک گیا کہ رات کہ بارہ بجے کیا ہو رہا ہے میں تیزی سے کمرے سے باہر نکلا تو پتہ چلا کہ گھر کا مین گیٹ زور سے پیٹ  رہا تھا کوئی،،  ابو  امی اور دوسرے گھر والے بھی اچانک سے باہر نکل آئے اور ابو نے آواز دی کون ہے باہر
     تو باہر سے کسی نے گالی نکالتے ہوئے کہا دروازہ کھول کسی گشتی کے بچے


میں آواز سنتے ہی پہچان گیا یہ آواز تو چچا جان کی تھی، وہ ہمارے گھر سے تھوڑی دور رہتے تھے لیکن کبھی اس سے پہلے انہوں نے بدتمیزی نہیں کی اور نہ وہ  اتنی رات کو ہمارے گھر آتے تھے تو پھر اچانک سے ایسا کیا ہو گیا کہ وہ رات کے بارہ بجے ہمارا دروازہ نہ صرف بری طرح کھٹکھٹا رہے تھے بلکہ ساتھ میں گالیاں بھی بک رہے تھے
ابو تیزی سے آگے بڑھے اور دروازہ کھول دیا
اور دروازہ کھلتے ہی چچا جان جیسے بجلی کی تیزی سے اندر داخل ہوئے اور اندر آتے ہی انہوں نے میرے ابو کے منہ پر زور سے تھپڑ مار دیا  وہ  ساتھ میں غصے میں چیخ رہے تھے،  ابو خاموش کھڑے تھے اتنے میں امی آگے بڑھیں اور انہوں نے چچا کو دھکا دے کر پیچھے کیا اور بولیں
بھائی جان آپ کی جرات کیسے ہوئی،، یوں میرے شوہر پر ہاتھ اٹھانے کی،،
ان  کے اس طرح دھکا دینے پر چچا جان جیسے پھٹ پڑے اور اور بولے
کنجری کی بچی پہلے اپنے شوہر کے کارنامے سن،، جب سن لے گی تو پتہ چلا گیا کہ کس کمینے سے تمہاری شادی ہوئی ہے،،، امی حیرانگی سے ان کو دیکھ رہی تھی کیونکہ اس سے پہلے انہوں نے اتنی گری ہوئے  انداز میں ان سے بات نہیں کی تھی وہ ان سے بہت عزت سے بات کر تے تھے پہلے،،۔
لیکن آج نہ جانے ایسا کیا ہو گیا کہ وہ ہوش کھو بیٹھے ہیں،
امی بھی غصے سے بولی، کیا بک رہے ہو اصغر اپنی حد مت بھولو جانتے ہو کس سے بات کر رہے ہو کوئی رشتوں کا لحاظ ہے تمہیں
چچا بھی اتنی ہی تیزی سے بولے
رشتوں کی بات تو تم لوگ نہ ہی کرو رشتوں کی آڑ میں تو تمہارے اس شوہر نے ہمیں برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ بات کرتے ہی چچا اصغر وہیں زمین پر بیٹھ گئے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ہم سب بہن بھائی اور امی بت بنے ان کو دیکھنے لگے اور ابو کا چہرہ جھکا ہو ا تھا اور ایک مجرمانہ خاموشی تھی ان کے چہرے پر،،
امی آگے بڑھیں  اور چچا کے سامنے زمین پر بیٹھ گئی اور ان کا ہاتھ پکڑ کر بولیں
کچھ بتائیے تو سہی آخر ہوا کیا ہے،،۔  چچا نے روتے ہوئے اپنا سر اٹھایا اور بولے بھابھی کچھ بچا میں برباد ہو گیا،۔ ان کی آواز میں اتنا درد تھا کہ ہم سب کا دل بھی پسیج گیا  امی نے ان کا ہاتھ پکڑا اور کھینچ کر بولی،۔ چلیئے اندر بیٹھ کر بات کرتے ہیں بہت رات ہو گئی اور محلے والے جاگ سکتے ہیں شور سن کر۔
اور ابو بھی آگے بڑھے اور بولے کہ چلیئے بھائی صاحب اندر چلیئے اندر بیٹھ کر بات کرتے
ان کا بولنا تھا کہ چچا جان کو غصہ اور بڑھ گیا اور بولے کمینے مجھے برباد کر دیا تو نے تو۔
وہ اسی طرح اول فول بکتے رہے کچھ دیر تو لیکن امی کسی نہ کسی طرح ان کو اندر لے آئی اور صوفے پر بٹھا کر ان کو پانی پلایا جب وہ کچھ نارمل ہو گئے تو امی بولیں  اب پوری بات بتائیے ہوا کیا ہے؟
چچا نے سر اٹھا کر انہیں دیکھا اور پھر ہم سب کو اور ایک نفرت بھر ی نظر ابو پر بھی ڈالی اور بولے پہلے بچوں کویہا ں سے بھیج دیں تو امی نے ہم سب کو کہا کہ آپ لوگ اپنے اپنے کمروں میں جائیں تو نہ چاہتے ہوئے بھی سب کو وہاں سے جانا پڑا وہاں اب صرف پھوپھی، امی اور ابو  تھے جو چچا کی باتیں سن رہے تھے، میں کچھ دیر  تو کمرے میں رہا لیکن تجسس نے مجھے میرے کمرے میں رہنے نہ دیا اور میں اپنے کمرے سے نکل ڈرائنگ روم کے اندرونی دروازے تک آ گیا یہا ں سے میں چھپ کر اندر کی باتیں سن سکتا تھا وہاں چچا جان بول رہے تھے
فائزہ (میری امی کا نام فائزہ ہے) بات ایسی کہ کہتے ہوئے بھی شرم آرہی ہے لیکن  کیا کروں ا ب پانی سر سے اٹھ چکا ہے اور سانس رک رہی ہے اب بتائے بغیر رہ نہیں سکتا،
امی بولیں آپ  بے فکر ہو کر پوری بات بتاؤ میں سن رہی ہوں
ابو اس دوران خاموشی سے بیٹھے تھے گھر میں امی کی ہی چلتی تھی لیکن آج یہ خاموشی کچھ دوسرا رنگ ہی دکھا رہی تھی،، چچا بولے،،
جیسا کہ تم جانتی ہو فائزہ میں بڑا ہوں تمہارے شوہر سے اور غریب بھی ہوں اسی لیئے اپنے چھوٹے بھائی جاوید (ابو) کو بچپن سے ہی اس کو بہت لاڈ سے رکھا میں نے جب وہ امیر  ہوا اچھا کمانے لگا اور اس نے کبھی میری اور میرے خاندان کی خبر نہ لی لیکن پھر بھی  میں نے اس سے اپنے پیا ر کو کم نہ ہونے دیا،  آج سے کچھ مہینے پہلے سے یہ ہمارے گھر آنے لگا مجھے اچھا لگا کہ میرا بھائی میرے گھر  آتا ہے اور میں نے زبیدہ کو بھی کو کہا کہ جاوید جب بھی ہمارے گھر آئے تو اس کی خاطر داری میں کوئی کمی نہیں آنے چائیے،، اور زبیدہ بھی اس کا بہت خیا ل رکھتی لیکن ایک دن جب میں دکان سے جلدی گھر آیا تو میں نے باہر جاوید کی گاڑی دیکھی تو بہت خوش ہوا لیکن جب چپکے سے گھر میں داخل ہوا تو ڈرائنگ روم میں کوئی نہیں تھا اور میرے اور زبیدہ کے کمرے سے آوازیں آرہی تھیں میں جب قریب جا کر دیکھا  تو اندر سے سیکس کی آوازیں رہی تھیں، میں نے زور سے لات مار کر دروازہ کھولا اور میں نے دیکھا بھابھی،،،،،۔ یہ کہ کر چچا جان زور سے رو پڑے اور سسکیاں لینے لگے اور امی ان کے قریب آکر بیٹھ گئیں سمجھ تو وہ گئی تھیں کہ بات کہا کو جا رہی ہے لیکن انہوں نے پھر چچا جان سے کہا کہ، بتائیے پوری بات
چچا جان سسکیوں کے درمیاں سے بولے کہ میں جاوید کو زبیدہ کے اوپر سوار ہوتے دیکھا تھا دونوں کی شلواریں اتری ہوئی تھی دونوں ننگی حالت میں تھے،،۔

مزید پڑھنے کے لیے کارڈ ریچاج کروانا پڑے گا یہ اسے ایک خواب سمجھ کر بھول جائیں۔ یا پھر پہلے آپ کی بہت ساری واہ واہ کی جائے۔
اگر واہ واہ کرنی ھے تو ابھی کر دیتے ہیں۔
واہ جناب کیا شاندار آغاز ھے ۔ کہانی نے شروع ہوتے ہی دھمال مچا دیا۔
امید ھے کہ اس کے لکھاری کیساتھ آپ کے تعلقات ، کہانی کے اختتام تک احسن رہیں گے


یہ سنتے ہی امی جیسے شاک ہو گئیں اور پھوپھی کی صورت بھی دیکھنے والی تھی اور ابو اپنی روائتی خاموشی کے ساتھ بیٹھے تھے
امی نے پھوپھی زوبیہ، جو ہمارے گھر میں رہتی تھیں تیس سال کی تھیں اور ابھی تک شادی نہیں ہوئی تھی ان کو کہ زوبیہ تم بھی اپنے کمرے میں جاؤ اور پھوپھی زوبیہ بھی نہ چاہتے ہوئے اٹھیں او ر اس دروازے کی طرف بڑھ گئیں جس کے پیچھے میں چھپ کر اندر کی باتیں سن رہا تھا  ، جب پھوپھی زوبیہ آرہی تھی تو میرا دل دھک دھک کرنے لگا کیونکہ وہ مجھے دیکھ لیتی تو غصے ہوتی ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ وہ اندر داخل ہوئی گیلری میں مجھے اس طرح کھڑا دیکھ ایک لمحے کے لیئے حیران ہوئیں لیکن پھر فورا ہی سنبھل گئی اور شرارتی لہجے میں بولیں تو تم اندر کی باتیں سن رہے ہوٹھہرو میں بھابھی کو بتاتی ہوں
میں ڈر کے مارے بولا پلیز زوبو پھوپھی
پھوپھی بولیں، اچھا ڈرو نہیں دونوں یہاں کھڑے ہو کر باتیں سنتے ہیں اوکے
میں بھی خوش ہو گیا اور بولا او کے پھوپھی آپ کتنی اچھی ہو اور زور سے ان کو جپھی ڈال لی وہ ہنستے ہوئے بولیں کہ گدھے مجھے چھوڑو اور ان کی باتیں سنتے ہیں اور میں نے بھی ان کو چھوڑا اور دروازے کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور میرے پیچھے پھوپھی بھی مجھ سے جڑ کر کھڑی ہو گئیں
اندر سے آوازیں آرہی تھی چچا کہ رہے تھے
کہ انہوں نے جاوید اور زبیدہ کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا کاش وہ اسی دن جاوید  کو گھر سے بھگا دیتے لیکن بھائی کی محبت میں میں نے بیوی کی بے وفائی بھی برداشت کر لی لیکن اور جاوید کے معافی مانگنے پر میں نے بات کو وہیں پر دفن کر دیا لیکن بھابھی فائزہ اب بات بہت بڑھ چکی ہے اور آ ج جب میں کام سے گھر آیا تو میں نے اپنی بڑی بیٹی رخسانہ کو الٹیاں کرتے دیکھا تو اس کو لے کر ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا تو ڈاکٹر نے اس کو چیک کرتے ہی کہا کہ مبارک ہو آپ نانا بننے والے ہو تو میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی اور میں نے گھر آ کر جب اس کو مارا اور سچ جاننے کی کوشش کی تو مجھے پتہ چلا کہ اس بیس سال کی بچی کو ماں بنانے والا اور کوئی نہیں میرا بھائی اور تمہارا شوہر جاوید ہے فائزہ۔۔
یہ سنتے ہی ہم سب شاک میں آ گئے پھوپھی جو میرے پیچھے جھک کر کھڑی تھی اور ان کے ہاتھ میرے کندھوں پر اور مضبوط ہو گئے اور باہر امی کی حالت دیکھنے والی تھی وہ بالکل چپ بیٹھی تھی ابو تو پہلے خاموش تھے اور چچا روئے جا رہے تھے اور کہ رہے تھے کہ اب کیا ہو گا
اتنے میں امی چیختے ہوئے اٹھیں اور ابو پر پل پڑیں اور ان پر تھپڑوں کی بارش کر دی اور بولیں
کنجر کی اولاد اتنی گرمی چڑھی تھی تو میں کس لیئے تھی اگر مجھ سے بھی دل نہیں بھرا تو زبیدہ  بھابھی پر منہ مار لیتے کسی بازاری کنجری کے ساتھ منہ کالا کر لیتے اپنی بیٹی جیسی رخسانہ کے ساتھ کر لیا تم نے، ہوس کے درندے میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی ۔ وہ ساتھ ساتھ بول رہی تھیں اور ساتھ ساتھ ابو کی دھلائی بھی کر رہی تھیں، لیکن ابو کچھ نہیں بول رہے تھے شاید انہیں اپنے گناہ کا احساس ہو گیا تھا، امی جب ان کو مارتے مارتے تھک گئیں تو نیچے گر گئی اور ہانپنے لگی،، پھر کچھ دیر بعد اٹھیں اور چچا کے قدموں میں بیٹھ کر بولیں
۔۔ اصغر بھائی کوئی شک نہیں کہ آپ کی زندگی برباد ہو گئی ہے اور کی بھی آپ کے اپنے بھائی نے ہے لیکن اب کیا کریں اور اس بدنامی کے داغ سے کیسے چھٹکارا پائیں،،،
امی پنتالیس سال کی ایک سمجھدار خاتون تھیں اس لیئے وہ شاک سے جلدی ہی باہر نکل آئی تھیں اور اب سوچ رہی تھی اب گھر کی عزت کیسے بچائیں کیونکہ چچا جتنے دکھی تھے اور غصے میں تھے وہ ان کی سوسائٹی میں عزت کو نیلام کر دیتے
چچا جان امی کو دیکھ کر کچھ سوچتے رہے اور بولے اس بدنامی سے بچنے کا تو ایک ہی حل ہے کہ رخسانہ کی شادی جلد سے جلد کر دی جائے بچہ ابھی دو مہینے کا ہے پیٹ نہیں نکلا ہوا لیکن اس سے دیر ہوئی تو بہت مسئلہ ہو جائے گا
امی بولیں
لیکن کیسے کر دیں شادی اتنے مختصر وقت میں  کیسے کوئی لڑکا ڈھونڈیں،،
چچا بولے،  بات تو سوچنے کی ہے لیکن اگر بدنامی سے نکلنا ہے تو ایسا تو کرنا ہی پڑے گا، اور ہاں لڑکا ہے میری نظر میں،،امی تیزی سے بولیں،، کون ہے ہے بھائی صاحب جلدی بتائیں پھر تو مسئلہ ہی حل ہو گیا،۔ چچا بولے
تمہارا بیٹا سلطان،۔
ان کا اتنا کہنا تھا کہ امی بھڑک کر پیچھے ہٹی اور بولیں، شرم کریں بھائی صاحب وہ ابھی صرف تیرہ سال کا ہے، اس کی شادی کی عمر کہاں سے آگئی،
چچا بولے،، میرے پاس تو یہ حل تھا گیند اب تمہارے پاس ہے تم چاہو تو اپنی بھی عزت بچا سکتی ہو اور ہماری  عزت تو تار تار ہو ہی چکی ہے، اور اس حفاظت کر کے کریں گے بھی کیا
چچا جان ایسے بول رہے تھے جیسے وہ ساری کشتیاں جلا چکے ہوں اور وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہوں
یہ کہ کر چچا تیزی سے اٹھے اور باہر کی طرف نکل پڑے امی پیچھے سے آوازیں دیتی رہیں لیکن انہوں نے ایک نہ سنی۔۔
امی غصے سے واپس پلٹی اور ابو پر ایک بار پھر پل پڑی اور بولیں تمہاری وجہ آج ہمارا منہ تو کالا ہو ہی گیالیکن اب میرا معصوم بیٹا بلی کا بکرا بننے جا رہا ہے اور یہ کہتے ہی ان غش پڑ گیا اور وہ گر گئی پھوپھی یہ دیکھتے ہی تیزی سے میرے پیچھے سے ہٹ گئی اور بھاگتے بھاگتے امی کے پاس پہنچی اور امی کو سہارا دے کر اٹھا رہی تھی اور ابو نے جب آگے بڑھ کر مدد کرنا چاہی تو پھوپھی نے غصے سے ان کا ہاتھ جھٹک دیا اور امی کو ان کے کمرے میں لے گئیں
اور میں شکستہ قدموں سے سوچوں میں گم اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا مجھے ان سب باتوں میں بہت کم باتیں سمجھ میں آئی تھیں میری عمر بھی ان باتوں کو سمجھنے کی نہ تھی  لیکن ایک بات مجھے پریشان کر ہی تھی کہ کہانی میں سب مسئلوں کا حل سلطان کیسے تھا اور یہ بات مجھے ضرور سوچنی پڑ رہی تھی ، کیونکہ میرانام ہی سلطان ہے
میں انہی سوچوں میں گم اپنے بستر پر لیٹ کر کروٹیں بدل رہا تھا نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی میں چچا کے کہے ہوئے ہر الفاظ پر دھیان دے رہا تھا ابو کے چاچی زبیدہ کے ساتھ تعلقات وہ دونوں ننگے تھے کمرے میں، ننگا تو کوئی بھی ہو سکتا ہے میں بھی تو باتھ روم میں ننگا ہی نہاتا ہوں تو اس میں اتنا شور مچانے کی ضرورت ہے، شاید بری بات یہ ہو کہ ابو زبیدہ چچی پر سوار تھے، ہاں یہ ضرور بری بات تھی یقینا وہ آپس میں لڑ رہے ہوں گے کیونکہ ابو چچا فیملی کو پسند نہیں کرتے تھے وہ غریب جو تھے اور ہم بہت امیر تھے اس لیئے شاید لیکن رخسانہ باجی الٹیاں کیوں کر رہی تھیں اور وہ ماں بننے والی تھی، تو اس میں کیا بری بات ہے ماں بننا کون سی بری بات ہے اور اس میں ابو کا کیا قصور تھا۔۔
یہ سب سوچتے سوچتے میں کب سو گیا مجھے پتہ نہیں چلا اورابھی نیند پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ میری آنکھ پھر شور کی وجہ سے کھل گئی، میں بستر سے اٹھا اور دروازہ کھول کر باہر نکلا تو گیلری میں میری بڑی بہن سحرش اس دروازے کے ساتھ چھپ کر کھڑی تھی جس سے میں رات کو کھڑا تھا اور چھپ کر ڈرائنگ روم کی باتیں سن رہا تھا۔
میں تیزی سے ادھر گیا اور سحرش کے پاس کھڑا ہو گیا اور سحرش کے ساتھ جڑ کر اندر جھانکنے کی کوشش کی تو سحرش اچا نک بدک کر آگے ہوئی اور میری طرف گھومی ایک لمحے کو پریشان ہوئی اور مجھے دیکھتے ہی نارمل ہو گئی اور بولی، تم یہاں کیا کر رہے ہو،۔ میں بولا، یہ بات میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں آپ یہاں چھپ کر کیا کر رہی ہو،تو وہ بولی
چپ کرو اندر ممی ڈیڈی باتیں کر رہے ہیں ان کی باتیں سننے دو مجھے
میں نے بھی کہا ٹھیک ہے مجھے بھی سننے دو  اور ساتھ ہی ان کو پیچھے سے دھکا دے دروازے کے اور قریب ہو گیا اور سحرش کے پیچھے چپک کر دروازے کے قریب ہو گیا اور موقع ہوتا تو ایسا نہ ہوتا لیکن اندر کیا چل رہا ہے یہ سسپنس ہی بہت زیادہ تھا
اندر ابو اور امی کے ساتھ پھوپھی بھی تھیں اور پھوپھی بول رہی تھیں
وہ ابھی بچہ ہے اس کے دودھ کے دانت بھی ابھی نہیں ٹوٹے کیسے اس کی شادی ایک ایسی لڑکی کے ساتھ کر سکتے ہیں جس کے اندر اتنی گرمی ہے کہ وہ اپنے ہی چچا کے ساتھ گلچھرے اڑانے کو تیار ہو گئی اور اس کی نشانی بھی پیٹ میں لیئے گھوم رہی ہے
ان کی بات سن کر ابو غصے سے بولے۔ کتنی بار کہ چکا ہوں کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے وہ بہت نازک وقت تھا جب میں یہ سب کر بیٹھا،،،۔ یہ بات سنتے امی اپنی جگہ سے اٹھی اور زور سے ابو کے منہ پر ایک چماٹ مار دی اور بولیں
کمینے کیا نازک وقت تھا مجھے تو ہفتے میں ایک بار بڑی مشکل سے چود پاتا ہے اور وہ بھی تڑپتا چھوڑ دیتا ہے اور وہاں تیر ی اتنی برداشت بھی نہیں ٹھہری کہ یہ دیکھ لو کہ وہ تیری بیٹی جیسی ہے، شرم کر کمینے
ان کی بات سن کر ابو ایک بار پھر شرم سے سر جھکا لیا  اور ساتھ کھڑی زوبو پھوپھی بھی شرم سے پانی پانی ہو رہی تھیں اور میں باہر سحرش باجی کے پیچھے چپکا ہوا ان سے پوچھ رہا تھا، کہ امی کیسی باتیں کر رہی ہیں اور سحرش باجی نے مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا اور بولی تو ابھی چھوٹا ہے تجھے سمجھ نہیں آئے گی،۔
ابھی وہ بول رہی تھی کہ امی کی آواز پھر سے آنے لگی،
مانتی ہوں تجھ سے غلطی ہو گئی ہے لیکن اب غلطی کا حل کیا کریں کیونکہ تمہارا بھائی کہ رہا ہے کہ ہم رخسانہ کی شادی سلطان سے کر دیتے ہیں اس طرح یہ بات دب جائے گی۔ لیکن کیسے جاوید ہم اپنے معصوم بیٹے کو عز ت کی خاطر قربان کردیں،
پھوپھی نے کہا بھابھی بات تو آپ کی ٹھیک ہے لیکن اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے اصغر بھائی بہت غصے میں ہیں اور اندر سے بالکل ٹوٹ چکے ہیں رشتوں کی محبت کی ایسی مارپڑی ہے انہیں کہ وہ اب شاید ساری زندگی اس تکلیف سے باہر نہ آپائیں گے  اور اگر انہوں نے کچھ الٹا سیدھا کر دیا اگر انہوں نے سوسائٹی میں یہ بات بتا دی تو ہم تو کسی کو منہ دکھا نے کے قابل نہیں رہیں گے
خیر یہ ساری گفتگو کوئی اگلے دو گھنٹوں تک چلتی رہی اور میں اور باجی سحرش جو باہر جھک ان کی باتیں سن رہے تھے ہم دونوں کی کمریں اکڑ چکی تھیں،۔ گفتگو کے بعد اندر بڑا پارٹی ا س نتیجے پر پہنچی کہ سلطان کی شادی رخسانہ سے کر دیتے ہیں اور جیسے ہی بچہ پیدا ہو گااور بات پرانی ہو جائے گی تورخسانہ کو طلاق دے دی جائے گی کوئی بہانہ بنا کر،۔ سب کی عزت بھی بچ جائے گی اور آخر میں جب یہ بات طے ہو گئی تو باجی سحرش بولی چل اب ہٹ پیچھے،تیری اب شادی طے ہو گئی ہے دولہے راجہ۔۔ ان کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ تھی میں بولا
میری شادی وہ بھی رخسانہ باجی سے۔ باجی سنتے ہی زور سے ہنس پڑی اوربو لی گدھے اس کو باجی نہ بلا وہ اب تیری ہونے والی بیوی ہے، یہ کہ کر باجی سحرش اپنے کمرے کی طرف چل پڑی اور میں وہیں کھڑا تھا کہ دروازہ سے پھوپھی اندر داخل ہوئی اور مجھے دیکھ کر چونک پڑی اوربولی۔۔ تم یہاں کیا کر رہے ہو سلطان، میں بولا۔ باتیں سن رہا تھازوبو پھوپھی جیسے آپ اور میں رات کو سن رہے تھے،، پھوپھی میری معصومیت پر مسکرا دیں اور بولیں۔  تو تم نے ساری باتیں سن لیں ہاں۔ چلو اس پر بات کرتے ہیں پہلے بتاؤ ناشتہ کیا ہے یا نہیں، میں نے کہا۔
نہیں کیا اور نہ ہی میری نیند پوری ہوئی ہے تو پھوپھی بولی چلو کمرے میں جاؤ اور منہ ہاتھ دھو لو میں ناشتہ لے کر آتی ہوں اور اس کے بعد سو جانا جب تک تمہارا دل چاہے۔
میں نے بھی سر ہلا دیا اور کمرے کی طرف چل پڑا۔جلدی جلدی فریش ہوا اور پھوپھی کا انتظار کرنے لگا تھوڑی دیر بعد وہ ناشتہ لے کر آگئیں اور اپنی گود میں ناشتہ کی ٹرے رکھ کر چائے کا کپ مجھے پکڑایا اور کہا میں اپنے پیارے سلطان کو آج خود ناشتہ کرواتی ہوں،
پھوپھی مجھ سے بہت پیار کرتی تھی اور ہم بھی ان سے پیار کرتے تھے ان کی عمرتیس سال تھی ان کی شادی بیس سال کی عمر میں ہو گئی تھی لیکن ان کے شوہر کی دو سال بعد ایکسیڈنٹ میں موت ہو گئی جس کی وجہ سے یہی ہمارے پاس رہتی تھی بہت ہی خوش اخلاق، گوری چٹی اور بھرے بھرے جسم کی خوبصورت سی لڑکی تھیں وہ اور گھر میں سب سے زیادہ لاڈ مجھ سے کرتی تھیں کیونکہ میں گھر کا اکلوتا بیٹا تھا چچا اصغر کا بھی کوئی بیٹا نہیں تھا مطلب خاندان کا واحد لڑکا میں ہی تھا، شاید اسی وجہ سے پھوپھی بھی اوروں کی طرح مجھ سے بہت پیار کرتی تھیں لیکن کبھی انہوں نے مجھے اپنے ہاتھوں سے کھانا نہیں کھلایا تھا تو میں نے حیرانگی سے ان کی طرف دیکھا اور پوچھا، زوبو پھوپھو  آپ مجھے کیوں کھلا رہی ہو میں خود کھاؤں گا میں کوئی بچہ تھوڑی ہوں،،تو وہ ہنس دیں لیکن میں نے محسوس کیا کہ ان کی ہنسی میں بھی درد تھا وہ کچھ پریشان سی تھیں میں نے جب اس پر غور کیا تو مجھے لگا شاید جو کچھ گھر میں کل رات سے ہو رہا ہے اس کی وجہ سے وہ پریشان ہوں
تو میں نے ان سے کہا زوبو پھوپھی گھر میں کیا ہو رہا ہے کل چچا کیا کہ کر گئے تھے اور گھر والے میری شادی رخسانہ باجی سے کیوں کرنا چاہتے ہیں،
تو تم سب سن چکے ہو پہلے ناشتہ کر لو پھر بات کرتے ہیں
میں نے ان کی بات سنی تو جلدی سے ٹرے ان کے ہاتھ سے لی اور بیڈ پر ہی جلدی جلدی ناشتہ ختم کیا اور فارغ ہو کر ان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا وہ بھی میری طرف ہی دیکھ رہی تھیں ابھی وہ بات کرنے ہی والی تھیں کہ باہر سے امی کی آوازآئی زوبیہ کہا ہو
تو پھوپھی نے جلدی سے مجھے کہا ابھی تم آرام کرو اپنی نیند پوری کرو اتنی دیر میں میں گھر کے کام ختم کرتی ہوں اور پھر تمہاری پیاری پھوپھی اپنے پیارے بھتیجے کو سب بتائے گی
تو میں نے بھی ہاں میں سر ہلا دیا کیونکہ مجھے بہت زوروں کی نیند آئی ہوئی تھی اور پھوپھی میرے سر پر پیار سے ہاتھ پھیر کمرے سے نکل گئی اور پیٹ بھرنے کی وجہ مجھے بھی گہری نیند نے گھیر لیا میری آنکھ کسی کے جھنجھوڑنے سے کھلی تو دیکھا پھوپھی مجھے جگا رہی تھیں، پھوپھی بولی تم صبح سے سو رہے ہو چلو اٹھو اور نیچے آؤ کھانا کھا لو۔۔ یہ بول کر وہ تیزی سے نکل گئی اور میں بھی تیزی سے ان کے پیچھے نیچے گیا تو سب لوگ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے میرا ہی انتظار کر رہے تھے امی مجھے دیکھتے ہی بولی۔ اٹھ گیا میرا بیٹا  چل آ میرے پاس بیٹھ، میں ان کے پاس بیٹھ گیا تو دیکھا سب مجھے ہی دیکھ رہے ہیں سب کی نظریں ایسی لگ رہی تھیں جیسے مجھے پہلی دفعہ دیکھ رہے ہوں کسی کی آنکھ میں شرارت تھی تو کسی کی آنکھ میں غم،، بہرحال کسی نے زیادہ بات نہ کی اور کھانا کھا کر سب اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے سونے کے لیئے اور میں بھی اپنے کمرے کی طرف چل پڑا نیند کا اثر ابھی تک میری آنکھوں سے گیا نہیں تھا
گھر میں سب دن کے وقت سوتے تھے لیکن میں صبح سے ہی سو رہا تھا تو مجھے نیند نہیں آ رہی تھی میں نے اپنا کمپیوٹر آن کر لیا اور گیم کھیلنے لگ گیا تھوڑی دیر بعد کمرے پر آہٹ کی آواز آئی تو میں نے دروازے کی طرف دیکھا پھوپھی کھڑی مجھے ہی دیکھ رہی تھیں میں نے جلدی سے ہیڈ فون وغیرہ اتارے اور بولا پھوپھو آؤ ناں وہاں کیوں کھڑی ہو، تو پھوپھی سر ہلاتے ہوئے آئیں اور میرے کمپیوٹر کے سائیڈ چیئر پر بیٹھ گئیں اور کمپیوٹر پر چلتی گیم کو دیکھنے لگی
اور پھر میری طرف دیکھ کر دکھی لہجے میں بولی سلطان یہ زندگی بھی کتنی اچھی رہتی ہے جب تک یہ بھی ایک گیم نہیں بنتی اور ہمیں جینے کی خواہش سے زیادہ اس میں ہارنے کا ڈر دکھائی دینے لگتا ہے۔
میں کچھ نہ سمجھتے ہوئے بولا، پھوپھو کیا کہ رہی ہو آپ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی
تو وہ بولی، تمہارے ابو کی ایک غلطی کی وجہ سے تمہاری پوری زندگی عذاب میں جانے والی ہے  سلطان
میں بولا، وہ کیسے
وہ بولی۔  تم سب سن چکے ہو تمہارے ابو نے تمہاری چچا زاد رخسانہ کے ساتھ منہ کا لا کیا ہے اور وہ ان کے بچے کی ماں بننے والی ہے اگر کوئی لڑکی بغیر شادی کیئے ماں بنتی ہے تو ہمارا معاشرہ اسے جینے نہیں دیتا اور یہ بہت بڑی بدنامی کی بات ہے اس لیئے سب نے فیصلہ کیا کہ اس کی شادی تم سے کر دی جائے، اس طرح خاندان کی عزت بھی بچ جائے گی اور ایسے بچے کے باپ بن جاؤ گے جو تمہارا ہو گا ہی نہیں
میں نے نہ سمجھتے ہوئے کہا آپ کیا کہ رہی ہیں مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی اور بھلا شادی کرنے سے یہ سب کیسے ہو گا
تو پھوپھی میری طرف غور سے دیکھتے ہوئے بولی، پہلے یہ بتاؤ تم شادی کے بارے میں کا جانتے ہو مطلب لوگ شادی کیوں کرتے ہیں،
میں ان کی بات پر سوچتے ہوئے بولا، سب کو پتہ ہے کہ شادی کے بعد لڑکی گھر کے سارے کام کرتی ہیں جیسے امی کرتی ہیں کھانا پکاتی ہیں اور اور،،
میں اتنا کہ کر سوچ ہی رہا تھا کہ پھوپھی بول اٹھی،بتاؤ نہ اورکیا ہوتا ہے شادی کے بعد
میں بولا،، وہ آپس میں غلط کام کرتے ہیں۔ پھوپھی چونک کر میری طرف دیکھنے لگتی ہے
غلط کام؟
میری زبان تو اسی وقت بند ہو گئی میری عمر اس وقت تیرہ سال کی تھی اور میں آٹھویں میں پڑھتا تھا ہماری کلاس میں اکثر لڑکے غلط کام کے بارے میں بات کرتے تھے وہ خالی پیریڈز میں اپنے چھوٹی چھوٹی للیوں کو پینٹ سے باہر نکال لیتے اور ہاتھ سے ہلا لیتے تھے۔ اور ہم میں کسی کی للی بڑی یہ مقابلے بھی ہوتے تھے اور عام طور میری للی سب سے بڑی ہوتی تھی کیونکہ میں ایک کھاتے پیتے گھر کا لڑکا تھا اور میرا جسم بھی بہت صحت مند تھا  اور یہ بات بھی عام کہی جاتی تھی کہ شادی کے بعد اس للی کے ساتھ لڑکا اور لڑکی غلط کام کرتے ہیں جس سے بچے پیدا ہوتے ہیں،،،،،میں نے یہ سب سوچتے سوچتے ہی پھوپھی کو،غلط کام، کا جواب دے دیا تھا لیکن اب میں ڈر رہا تھا کیونکہ یہ کوئی تصدیق شدہ بات نہیں تھی  کہ واقعی شادی کے بعد غلط کام کیا جاتا ہو یہ سکول کے لڑکوں کا مذاق بھی ہو سکتا تھا
پھوپھی ابھی تک میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھیں، اور پھر بولی بتاؤ ناں مجھے بھی غلط کام کیا ہوتا ہے اور شادی کے بعد کیوں کرتے ہیں
میں کچھ دیر چپ رہا اور ڈربھی رہا تھا کہ پھوپھی سے ایسی باتیں کرنا کیا ٹھیک ہو گا تو پھوپھی نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا سلطان میں کچھ پوچھ رہی ہوں
میں نے کہا، پھوپھی آپ غصہ تونہیں ہو گی
پھوپھی نے مسکراتے ہوئے کہا، نہیں میری جان میں کیوں غصہ ہوں گی اور تمہاری شادی ہونے والی ہے میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ تمہیں پتہ ہے کہ نہیں
تو مجھے بھی حوصلہ ہوا اور میں نے بھی پھوپھی کو وہی بتایا جو مجھے پتہ تھا
میں نے انہیں بتایا، کہ شادی کے بعد لڑکا اور لڑکی آپس میں غلط کام کرتے ہیں جس لڑکے کی للی استعمال ہوتی ہے جس سے بچے پیدا ہوتے ہیں مجھے اس سے زیادہ کچھ نہیں پتہ
پھوپھی میری بات سن کر ہنسنے لگی اور بولی واقعی تمہیں تو کچھ نہیں پتہ
کچھ دیر بعد بولی سلطان تمہاری شادی ہونے والی ہے اور جس سے ہونے والی ہے اس کے ساتھ غلط کام تمہارے ابو پہلے ہی کر چکے ہیں اور وہ بچہ بھی پیدا کرنے والی ہے لیکن تمہیں پتہ تو ہونا چائیے نان سب کچھ
یہ بول کر پھوپھو کچھ دیر کے لیئے چپ ہو گئی اور میں ان کو دیکھ رہا تھا وہ کچھ سو چ رہی تھی شاید یہ کہ وہ مجھے کچھ بتائے یا نہیں
؎تو میں بولا کہ پھوپھو بتاؤ ناں کیا بات کرنا چاہتی ہو
تو پھوپھی بولی، میں تمہیں سب بتا تو دیتی ہوں لیکن تم بھی ایک وعدہ کرو کہ کسی کو نہیں بتاؤ گے کہ میں نے تمہیں سب بتایا ہے، اورتم سوچ رہے ہو گے کہ میں تمہیں یہ سب کیوں بتانا چاہتی ہوں تو میں چاہتی ہوں کہ تمہیں یہ سب پتہ ہو کیوں کہ ایک نئی لڑکی تمہاری زندگی میں آنے والی ہے تم بھلے ہی چھوٹے ہو کہ وہ بھی تو زندہ لڑکی ہو گی اس کے بھی کچھ ارمان ہوں گے وہ بھلے ہی بھائی جان کی ہوس کا نشانہ بن گئی ہو لیکن میں ایک لڑکی ہونے کی وجہ سے اس کا درد سمجھ سکتی ہوں
میں پھوپھی کی بات کچھ سمجھ رہا تھا اور کچھ نہیں لیکن ہاں میں سر ہلا رہا تھا جیسے میں ہی دنیا کا آخری ارسطو ہوں
پھوپھی بولے جا رہی تھی
میں چاہتی ہوں کہ بھلے ہی تم عمر میں چھوٹے ہو لیکن عام طور پر لڑکے اور لڑکیاں اس عمر میں بھی سیکس مطلب جیسے تم نے کہا غلط کام کر سکتے ہیں بس انہیں پتہ ہونا چائیے کہ غلط کام کیسے کرتے ہیں
میں ان کی بات سن کر بولا
پھوپھو میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا پلیز بتاؤ ناں مجھے اگر یہ کوئی ضروری بات ہے تو مجھے پتہ ہونا چائیے
پھوپھی مجھے دیکھتے ہوئے کچھ دیر سوچتی رہی اور پھر بولی تو ٹھیک ہے میں تمہیں سب کچھ بتاؤں گی لیکن ابھی مجھے نیند آ رہی ہے اور مجھے یہ بھی سوچنا ہے کہ ایک پھوپھی ہونے کی حیثیت سے میں تمہیں کس حد تک بتا سکتی ہوں تو پلیز ابھی مجھے جانے دو رات کو کھانے کے بعد دونوں کمپیوٹر پر گیم بھی کھیلیں گے اور باتیں بھی او کے
ابھی نہیں بتا سکتی پھوپھو، میں نے افسردہ سا چہرہ بناتے ہوئے کہا
پھوپھی ہنستے ہوئے بولی، ایسی بھی کیا جلدی ہے تجھے میں آج ہی تمہیں سب کچھ بتاؤں گی اور شام کو بھائی اصغر کے گھر والے بھی آئیں گے تمہارے ساتھ رشتہ پکا کرنے مجھے کچھ دیر آرام کرنے دو نہیں تو رات کو کچھ بھی نہیں بتا پاؤں گی
یہ سن کر میں نے انہیں جانے دیا اور رات ہونے کا بے صبری سے انتظار کرنے لگا
شام کو چچی زبیدہ اور چچا اصغر آئے وہ ڈرائنگ روم میں ہی بیٹھے رہے امی اور ابو کے ساتھ میں چاہ کر بھی ان کی باتیں نہیں سن پایا کیونکہ پھوپھی اور باجی سحرش بار بار اس دروازے سے گزر رہی تھیں کبھی چائے تو کبھی مٹھائی لیکر۔۔ اس لیئے میں اپنے کمرے میں بیٹھا رہا اور سوچ رہا تھا کہ پھوپھی سے ہی پوچھ لوں گا کہ یہ سب کیوں آئے تھے اور کیا باتیں ہوئی تھیں
کچھ ہی دیر گزری کہ باجی سحرش کمرے میں داخل ہوئیں ان کے ہاتھ میں چھوٹی پلیٹ تھی جس میں کچھ مٹھائی موجود تھی اور وہ مسکراتی ہوئی میری طرف آئی اور مٹھائی کی پلیٹ میری طرف کر کے کہا
منہ  میٹھا کر لو سلطان تمہاری شادی طے ہو گئی ہے اگلے دو دنوں میں ٹھہرو میں خود تمہارا منہ میٹھا کرواتی ہوں
یہ کہ انہوں نے مٹھائی ایک پیس لے کر میرے منہ میں ڈالا اور میں جو اپنی اٹھارہ سال کی پیاری سی بہن کو نہ سمجھنے والے نظروں سے دیکھ رہا تھا اس کا ہاتھ جھٹک دیا اور بولا مجھے نہیں کھانی کوئی مٹھائی۔ سب لوگ نہ جانے کیا کر رہے ہیں گھر میں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا
میں نے محسوس کیا کہ میری آواز بہت اونچی تھی اور اس میں غصہ بھی تھا کیونکہ میں نے محسوس کیا کہ کوئی باہر سے تیزی سے کمرے کی طرف آ رہا ہے اور میرا اندازہ ٹھیک نکلا وہ امی جان اور پھوپھی تھیں
امی جلدی سے میرے پاس آئی اور میرے پاس آ کر بولی کیا بات ہے بیٹا کیوں غصے میں ہو
تو میں بولا امی کل رات سے گھر میں کچھ چل رہا ہے اور کوئی مجھے کچھ نہیں بتا رہا اور اوپر سے مٹھائی بھی کھلائی جا رہی ہے
امی بولی
بیٹا تمہارے باپ نے ہمیں بہت ہی عجیب دوراہے پر کھڑا کر دیا ہے میں خود بہت دکھی ہوں میرا ایک ہی بیٹا ہے اور اسے کن گناہوں کی سزا مل رہی ہے
امی یہ کہ رونے لگ پڑیں اتنے میں پھوپھی ان کے قریب آ کر بول پڑیں۔ پریشان نہ ہوں بھابھی یہ کون سی اصلی شادی ہو گی صرف نو مہینوں کی ہی تو بات ہے اس کے بعد اس کو گھر سے نکال دیں گے شادی ختم اور سلطان اپنی زندگی جیئے گا اور بڑا ہونے کے بعد اپنی مرضی سے شادی کرے گا۔
میں حیرانگی سے دیکھ رہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے اصلی شادی نہیں ہے نو مہینے
میں بولا
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی ہے آپ کیا کہ رہی ہیں تو پھوپھی نے مجھے آنکھ سے اشارہ کیا جیسے کہ رہی ہوں کہ میں نے تمہیں بتایا جو تھا کہ میں تمہیں سمجھاؤں کی سب کچھ
ان کی بات میں فورا سمجھ گیا اور بولا
امی آپ نہ روئیے ویسے بھی آپ میرے ساتھ ہیں تو مجھے کسی چیز کی فکر نہیں ہے
امی روتے ہوئے میرے قریب ہوئیں اور مجھے گلے سے لگا لیا اور بولیں
بیٹا میں تیری خوشیوں کے لیئے جو بن پڑا میں کروں گی اور یہ مٹھا ئی کھا لو۔ شادی نقلی صحیح لیکن لوگوں کے سامنے تو اصلی ہے مٹھائی کھا لے بیٹا
تو میں نے سحرش کو دیکھا جو پلیٹ اٹھائے شرارتی نظروں سے مجھے دیکھ رہی ہے اس کی آنکھوں میں خاص چمک تھی اس وقت۔ وہ میرا اشارہ سمجھ گئی اس نے مٹھائی کا پیس کھلایا اور باہر چلی گئی امی اور پھوپھی کچھ دیر میرے پاس بیٹھی رہی پھر وہ بھی باہر چلی گئی
کچھ دیر بعد رات کا کھانا کھا یا سب کے ساتھ اس کے بعد کمرے میں آ گیا اور اپنی روٹین کے مطابق کمپوٹر پر گیم کھیلنے لگ گیا
کوئی تین گھنٹے کھیلنے کے بعد جب رات کے گیارہ بج رہے تھے اور میں بھو ل ہی چکا تھا کہ پھوپھو نے مجھ سے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ آئیں گی میں نے کمپیوٹر آف کرنے لگا تھا تو دروازہ ہلکا سا کھلا اور پھوپھی زوبو اندر داخل ہوئیں انہوں نے شرٹ اور ٹراؤزر پہن رکھی تھی جو وہ رات کو اکثر پہن کر لان میں چہل قدمی اور ورزش وغیرہ کرتی تھی
ان کو دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ پھوپھی نے مجھ سے دن کو وعدہ کیا تھا کہ وہ رات کو مجھے جو کچھ ہو رہا ہے اور جو کچھ ہونا ہے اس کے بارے میں بتائیں گی وہ اندر آتے ہی بولی
میں سمجھی تھی تم سو گئے ہو گے میں لان میں چہل قدمی کر رہی تھی
میں بولا
نہیں پھوپھو میں رات کو اس وقت تو جاگتا ہوں سکول میں چھٹیاں چل رہی ہیں تو خوب عیاشی چل رہی ہے اپنا وقت ہے
پھوپھو میری بات سن کر ہنس دی اور بولی
کتنی چھوٹی سی دنیا ہے ناں تمہاری اپنے کمرے اور کمپوٹر کو تم ایک عیاشی والی زندگی کہتے ہو
میں بولا جی پھو پھو
آپ آؤ ناں بیٹھو۔ میں نے اپنی سائیڈ چیئر کی طرف اشارہ کیا تو وہ بولی
نہیں سلطان میں بہت تھک گئی میں تو بستر پر لیٹو ں گی تم میرے پاس بیٹھ جاؤ
میں نے کہا ٹھیک ہے پھوپھو اور اس کے ساتھ کمپیوٹر آف کر دیا اور پھوپھو کی طرف بڑھ گیا جو میرے بستر پر آڑھی ترچھی لیٹی ہوئی تھی اور سرخ رنگ کی ٹی شرٹ ان کے لیٹنے کی وجہ تھوڑی سی اوپر اٹھی ہوئی تھی اور ان کا گورا چٹا پیٹ تھوڑا تھوڑا نظر آ رہا تھا
میں بستر پر چڑھ کر ان کے قریب بیٹھ گیا اور بولا
کیا بات ہے پھوپھو آج آپ بہت تھکی تھکی لگ رہی ہیں
وہ بولی، سچ میں آج بہت کام تھا تمہاری امی کی تو سارا دن طبیعت ہی ٹھیک نہیں تھی مجھے ہی سارا دن گھر کا کام کرنا پڑا تمہاری بہن مدد تو کرتی ہے لیکن بچوں کی طرح اسے ہر چیز بتانا پڑتی ہے۔ چلو چھوڑو تم سنا ؤ
میں بولا
بس پھوپھو سارا دن آپ کے سامنے تھا اور سوچتا رہا کہ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے
پھوپھو بولی۔ تم فکر کیوں کرتے ہو ابھی تمہاری امی اور میں زندہ ہیں اور جب تک ہم ہیں تم پر کوئی آنچ بھی نہیں آئے گی بس تم سے جو کہوں وہ کرتے جاؤ باقی سب ہم دیکھ لیں گے
میں بولا
آپ سے باتیں کرکے حوصلہ ملتا ہے پھوپھواور آج آپ بہت پیاری بھی لگ رہی ہیں یہ سرخ شرٹ کب لی آپ نے مجھے بھی ایسی لینی ہے
پھوپھو ہنس کر بولی۔  تو تم رکھ لو یہ شرٹ ویسے بھی مجھے چھوٹی ہے تمہیں تو فٹ آجائے گی
میں بولا۔ اوکے پھر مجھے یہ دے دیجیئے گا مجھے یہ بہت اچھی لگی ہے اچھا بتائیے شام کو چچا لوگ آئے تھے وہ کیا کہ رہے تھے؟
پھوپھو بولی۔ ان کو فون پر بات کر کے بلایا گیا تھا اور انہیں کہا گیا کہ ہم شادی کے لیئے تیار ہیں اور اس کے ساتھ دو دن کے اندر سادگی کے ساتھ یہ شادی کر بھی دی جائے گی۔ کیونکہ رخسانہ کے پیٹ میں پلنے والے بچے کو دو مہینے تو ہو چکے ہیں اگر ہم شادی اس سے زیادہ لیٹ کرتے ہیں تو وقت سے بہت پہلے ڈیلیوری ہو جائے گی تو لوگ پھر سے باتیں بنائیں گے
میں بولا
پھوپھو دو مہینے کا بچہ اس کا کیا مطلب ہے اور ڈیلیوری؟
پھوپھو بولی۔ میں تمہیں پوری بات بتاتی ہوں لیکن تمہیں اپنا وعدہ یاد ہے ناں کہ تم کبھی کسی کو کچھ نہیں بتاؤ گے کہ میں نے تمہیں کچھ بتایا ہے اس بارے میں
میں نے ہاں میں سر ہلا دیا تو پھوپھو نے اپنی بات جاری رکھی
دیکھو بیٹا، میں نے شروع سے سب کچھ بتاتی ہوں تاکہ تمہیں سب کچھ سمجھ آ جائے جب ایک لڑکا اور لڑکی بڑے ہوتے ہیں تو ان کی شادی کر دی جاتی ہے اور وہ شادی کے بعد سیکس کرتے ہیں اور یہ سیکس وہی چیز ہے جس کو تم غلط کام بو ل رہے تھے اس کو بڑے لوگ سیکس کہ کر پکارتے ہیں اردو میں اس کو چدائی بھی کہتے ہیں۔ پھوپھی نے ابھی اتنا ہی بولا تھا کہ میں نے کہا
آپ تو گالیاں دے رہی ہیں پھوپھی تو پھوپھی بولی یہ گالیاں نہیں ابھی تمہیں سے ایسے لفظ بتاؤں گی جو تم نے گالیوں میں سن رکھے ہوں گے لیں ان لفظوں کے بغیر سیکس کا عمل مکمل نہیں ہو سکتا
میں نے ہاں میں سر ہلا دیا اور ویسے بھی مجھے پھوپھی کے منہ سے گالیاں سن کر اچھا لگا تھا کیوں کہ ہم لڑکے ہی باہر ایک دوسرے کو گالیاں دیتے تیری ماں میری ماں کرتے رہتے تھے تو آج گھر میں ہی مجھے پتہ چل رہاتھا کہ وہ چیزیں سچ میں کوئی ایسا عمل ہوتی ہیں جو لوگ کرتے ہیں
پھوپھی نے اپنی بات جاری رکھی
لڑکا اور لڑکی آپس میں جب سیکس کرتے ہیں تو دونوں ہی کے جسم پانی چھوڑتے ہیں جو کہ لڑکی کے پیٹ میں خاص جگہ جمع ہوتا ہے اور اگر سب کچھ ٹھیک رہے تو وہ پانی ایک بچہ بن جاتا ہے اور یہ سب سات سے نو مہینے میں مکمل ہوتا ہے اور نو مہینے بعد وہ بچہ عورت کے جسم سے باہر آ جاتا ہے۔ تمہارے ابو اور رخسانہ نے بھی سیکس کیا تھا اور یہی وجہ ہے رخسانہ کے پیٹ میں بچہ بن گیا ہے اور وہ دو مہینے کا ہے اور ٹھیک سات مہینے بعد وہ بچہ باہر آ جائے گا
میں نے پھوپھی کی بات کو درمیان سے کاٹا اور بولا
پھوپھو لیکن وہ پانی جب عورت اور مرد دونوں چھوڑتے ہیں تو وہ عورت کے پیٹ میں کیسے جاتا ہے
پھوپھی بولی۔ اس کو سیکس کہتے ہیں اس میں مرد کا خاص حصہ جس کو تم للی کہ کر پکا ر رہے وہ عورت کے خاص سوراخ میں ڈالتے ہیں جس کو کافی دیر اندر باہر ہلاتے ہیں تو وہ پانی چھوڑتا ہے اور عورت کا پانی بھی سوراخ کے اندر ہی ہوتا ہے۔ کوئی اور سوال
پھوپھی نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
میں بولا۔
لیکن پھوپھو للی کو کیسے اس سوراخ میں ڈالتے ہیں یہ توچھو ٹی سی لٹکی ہوئی ہوتی ہے اور کون سے سوراخ میں کیا اس میں؟ پھوپھی اس میرے سامنے ایک ٹانگ بینڈ کر کے لیٹی ہوئی تھی اور میں ان کے پیروں کی طرف بیٹھا ہوا تھا اور میں نے ایک ہاتھ ان کی بنڈ پر رکھ کر ان سے یہ بات پوچھی تھی
پھوپھی ہنستی ہوئی بولی
نہیں بھئی یہ سوراخ نہیں ہے اس میں ڈالتے ضرور ہیں لیکن صرف مزہ لینے کے لیئے اور بچہ پیدا کرنے کے لیئے لڑکیوں کا سوراخ آگے کی طرف ہوتا جس جگہ تمہاری للی لگی ہوئی ہے ناں ٹھیک اس جگہ پر ہم لڑکیوں کی ہوتی ہے اور اس کو انگلش میں اووری اور ہماری زبان میں پھدی کہتی ہیں
یہ بولتے ہوئے پھوپھو خود تھوڑا شرما گئی
میں بولا
او ہ تو اس کو پھدی کہتے ہیں جس کو ہم عام طور پر گالیوں میں استعمال کرتے ہیں۔ لیکن پھوپھو کیا یہ سوراخ بڑا ہوتا ہے جس میں کسی بھی طرح ڈال سکتے ہیں
پھوپھو بولی
نہیں سلطان یہ بہت تنگ ہوتا لیکن وقت کے ساتھ تھوڑا کھل جاتا ہے اور تم جب بڑے ہو گے ناں توتمہاری للی بڑی اور سخت ہو گی تو وہ آسانی سے اس سوراخ میں چلی جائے گی
پھوپھو کی بات سن کر میں بغیر سوچے سمجھےبول اٹھا

لیکن پھوپھو میری للی تو کلاس کے سب لڑکوں سے بڑی ہے


اور اس کے ساتھ ہی مجھے احساس ہوا
شاید میں نے چول مار دی ہے

جاری ہے

لکھاری نے کہانی یہاں تک لکھی ہے اگر مکمل کرنا چاہے تو رابطہ کرے

Posted on: 01:01:AM 05-Jan-2021


0 0 114 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 75 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com