Stories


انوکھا سفر از آر جے موڈی

نامکمل کہانی ہے

سلام دوستو کیسے ہیں آپ سب ۔۔۔ یہ میری پہلی کاوش ہے امید ہے آپ سب کو پسند آئے گی
 ۔۔۔۔۔ میری کہانی میں کچھ واقعات حقیقت ہیں اور کچھ کہانی کی ڈیمانڈ کے مطابق فرضی ہیں ۔۔۔۔
 میری اس کہانی میں سب نام اور کردار فرضی ہیں ۔۔۔۔ یہ کہانی ایک لڑکی کی ہے ۔۔۔۔
 تو چلئے جس کی کہانی ہے اسی کے منہ سے سنتے ہیں ۔۔۔۔۔
میرا نام نوشین ہے اور میرا تعلق ایک آسودہ حال خاندان سے ہے ۔۔۔۔
میری عمر 25 سال ہے ۔۔۔۔ ہم 2 بہنیں اور 1 بھائی ہیں
میری بڑی بہن کا نام ماہین ہے ۔۔۔
ان کی عمر 28 ہے اور بھائی ہم دونوں بہنوں سے چھوٹا ہے اس کی عمر ابھی 20 ہے ۔۔۔
ہوش سنبھالی تو گھر میں خوشحالی دیکھی کسی قسم کی کوئی تنگی نہیں تھی۔۔۔۔

ہمیں اپنے گھر میں ہر سہولت میسر تھی کبھی کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہوئی تھی وقت کے ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ چلتا رہا
 اور میں نے BA کا امتحان اچھے نمبروں کے ساتھ پاس کر لیا ۔۔۔
میں ابھی اور پڑھنا چاہتی تھی مگر ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی بیٹی جلد از جلد اپنے گھر کی ہو جائے ۔۔۔
میں شکل صورت میں خوبصورت تھی ۔۔۔ رنگ سانولا اور قد 5 فٹ 6 انچ ہے ۔ اور میرے بریست کا سائز 38 ہے۔
 میرے فگر کو دیکھ کر اکثر میری سہیلیاں مجھے چھیڑا کرتی تھی کہ نوشین تمھارا فگر تو بہت ہی سکسی ہے
میری کلاس فیلو سمرین ایک ٹھنڈی آہ بھر کے کہتی کہ کاش میں لڑکا ہوتی تو تجھے پھنسا لیتی۔۔
 اور میں ایسی باتوں پر ہنس دیا کرتی۔۔۔۔
جیسے جیسے میں جوان ہوتی گئی ویسے ویسے میرے خیالات اور جذبات بھی جوان ہوتے گئے۔۔۔
وقت کے ساتھ ساتھ میرے دل میں بھی خواہش پیدا ہوتی گئی چاہے جانے اور سراہے جانے کی ۔۔۔
 میرے خوابوں میں بھی دوسری لڑکیوں کی طرح ایک راجکمار آتا تھا۔۔
جو مجھے بے حد و بے حساب پیار کرتا تھا۔۔۔
مگر مجھے کبھی بھی سکس کی طلب نہیں ہوئی تھی۔۔۔
مجھے سکس کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہ تھا۔۔۔
میرے نزدیک پیار صرف شوہر کی باہوں میں سونے اور گلے لگنے کا نام تھا۔۔۔۔
دیکھتے دیکھتے ہم دونوں بہنیں جوان ہو گئی پھر ایک دن میری بڑی بہن کا رشتہ آیا جسے تھوڑی چھان بین کے بعد قبول کر لیا گیا۔۔۔
 لڑکا انگلینڈ کسی بڑی کمپنی میں جاب کرتا تھا اور شادی کے بعد اس نے یعنی میرے جیجا جی نے میری باجی کو بھی اپنے ساتھ لے جانا تھا۔۔۔۔
خیر رشتہ پکا ہوا اور باجی بیاہ کر اپنے سسرال چلی گئی۔۔۔
شادی بہت دھوم دھام سے ہوئی ۔۔۔
شادی کے بعد میں نے ایک چیز نوٹ کی کہ اب باجی کے ہونٹوں پر ایک دلفریب مسکان ہر وقت کھیلتی رہتی تھی۔۔۔
 میں نے ایک دن پوچھا کہ باجی آپ کی اس ہنسی کی کیا وجہ ہے تو وہ ہنستے ہوئے کہنے لگی ’’ پگلی یہ چاہے جانے کا خمار ہے‘‘
ان کی یہ بات میرے پلے نہی پڑی ۔۔
 میں نے پھر پوچھا کہ کیا مطلب ؟؟ وہ مذید گہری ہنسی ہونٹوں پر سجا کے کہنے لگی کہ جب تمھاری شادی ہوگی تو تم کو خود ہی پتا چل جائے گا۔۔۔۔
ایک دن جیجا جی ہمارے گھر آے ہوے تھے ۔۔۔۔ ہم نے رات کو ice cream کھانے کا پروگرام بنا لیا کیوں کہ کچھ ہی دن کے بعد جیجا جی کی فلایٹ تھی اور
باجی نے بھی ان کے ساتھ جانا تھا۔۔۔۔۔ اور ہم سب نے جیجا جی سے ٹریٹ لینی تھی ۔۔۔ ice cream کھا کے ہم گھر پہنچے تو سب تھک چکے تھے۔۔۔ تھوڑی دیر ہم
سب گھر والے ایک ساتھ بیٹھ کر T.V دیکھتے رہے اور ساتھ ساتھ باتیں بھی ہوتی رہی۔۔۔۔ رات کا 1 بج چکا تھا ۔۔۔ ابو نے کہا کہ چلو بچو اب سو جاو رات بہت ہو چکی ہے
مگر میرا سونے کا من نہیں ہو رہا تھا۔۔ میں اپنی باجی کے ساتھ بہت سی باتیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔ دل یہ سوچ کر اداس ہو رہا تھا کہ کچھ دن کے بعد
 باجی چلی جایں گی اور پھر
ایک سال کے بعد دوبارہ واپس آیں گی۔۔۔ میں نے باجی سے کہا کہ باجی آپ میرے ساتھ میرے کمرے میں سو جایں ۔۔ میں نے آپ سے بہت باتیں کرنی ہیں ۔۔۔
باجی نے کہا چلو ٹھیک ہے ۔۔ میں تمھارے کمرے میں آتی ہوں جب تم سو جاو گی تو میں تمھارے جیجا جی ک پاس چلی جاوں گی۔۔ مجھے اب ان کے بنا نیند نھی آتی۔۔
بس ٹھیک ہے باجی آپ تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی مگر میرے پاس آ جایں ۔۔۔ میں نے باجی سے کہا اور ان کو لے کر اپنے کمرے میں آ گی۔۔۔۔باتیں کرتے کرتے
مجھے نیند کی مہربان دیوی نے اپنی آغوش میں لے لیا اور میں بے خبر سو گیی۔۔۔
پھر پتا نہی کیا ہوا ۔۔۔ شاید کسی آہٹ سے یا ویسے ہی میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کی باجی جا چکی ہے۔۔۔ مجھے پیاس لگ رہی تھی ۔۔۔۔ ویسے تو میں سونے سے پہلے
پانی کی بوتل اور گلاس اپنے پاس رکھ کے سوتی ہوں مگر آج یاد نہ رہا۔۔ میں فرج سے پانی کی بوتل لے کر واپس آ رہی تھی کہ کچھ آوازوں نے مجھے رکنے پر مجبور کر دیا
میں شاید ان آوازوں کو نظر انداز کر کے چلی جاتی مگر جس آواز نے مجھے رکنے پر مجبور کیا وہ آواز باجی کی تھی۔۔۔
نہی جان آج میں بہت تک گیی ہوں آج نہی کرو۔۔۔ جان پلیز آج میرا بہت دل کر رہا ہے ۔۔ آج مت روکو۔۔۔ کر لینے دو ۔۔۔۔ جیجا کی آواز میں لجاجت تھی ۔۔۔
میں تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کے باجی والے کمرے کی کھڑکی کے پاس چلی گیی جہاں سے یہ باتوں کی آوازیں آ رہی تھی ۔۔۔۔
اچھا چلیں اگر اتنا ہی دل کر رہا ہے تو میں آپ کو کسی اور طریقے سے فارغ کر دیتی ہوں ۔۔۔
نہی جان کسی اور طریقے سے مجھے مزہ نہی آے گا۔۔۔ آج دل کر رہا ہے تم کو اپنی گود میں بٹھا کر تمھارا مزہ لوں۔۔۔  جیجا جی باجی کو کہہ رہے تھے۔۔
مجھے ان کی ان سب باتوں کی ٹھیک سے سمجھ نہیں آ رہی تھی کی یہ دونوں کیا بات کر رہے ہیں ۔۔۔ پھر اچانک جیجا جی کی آواز آیی ۔۔۔ جان دیکھو یہ کتنا بیچین ہو رہا ہے۔۔
اس کی بیچینی ختم کر دو نہ۔۔۔۔
میں حیران تھی کہ ان دونوں کے علاوہ کون تھا جو ان کے کمرے میں موجود تھا اور بے چین بھی تھا۔۔ اور باجی اس نا معلوم کی بے چینی کیسے دور کر سکتی ہیں۔۔۔۔
اپنے اس تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے کھڑکی کو ہلکا سا کھولا تو خوش قسمتی سے کھڑکی کھلتی چلی گیی۔۔۔ اور اپنے سامنے والا منظر دیکھ کر میرا سر چکرا کر رہ گیا۔۔۔۔۔
جیسے ہی میں نے کھڑکی کو ہلکا سا دھکا دیا تو کھڑکی اپنے آپ ہی کھلتی چلی گیی۔۔۔ اور سامنے والا منظر دیکھ کر میرے اوسان خطا ہو گیے۔۔۔
میں نے دیکھا کہ باجی میرے جیجا جی کے سینے پر سر رکھ کر لیٹی ہویی ہیں اور جیجا نے صرف انڈر وییر پہنا ہوا ہے اور جیجا جی کا ناگ نما آلہ ان کے انڈر وییر سے
باہر نکلا ہوا ھے اور باجی اس کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اسے ہلکے ہلکے سہلا رہی ہیں۔۔۔ یہ سب دیکھ کر مجھے عجیب بھی لگا اور تجسس میں مزید اضافہ ہو گیا کہ
یہ سب چل کیا رہا ہے۔۔۔ میں نے کھڑکی سے ہٹنے کا فیصلہ کیا ۔۔۔ مگر مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے میں اس کھڑکی سے پیچھے نہی ہٹ پاوں گی ۔۔۔۔
میں وہی کھڑی رہی
جان کچھ کرو نہ اب اپنے اس لاڈلے کا ۔۔۔۔ دیکھو نا کیسے تن کے کھڑا ہو چکا ہے ۔۔۔ جیجا جی نے باجی سے کہا۔۔۔۔
جان جی میں جانتی ہوں کہ یہ میرا لاڈلا میرے احترام میں کھڑا ہو رہا ہے ۔۔ میں ابھی اس کا کچھ کرتی ہوں ۔۔ اور ساتھ ہی باجی نے جیجا جی کے ہونٹوں پر ایک بھرپور
فرنچ کس کی ۔۔۔ کافی دیر تک باجی اور جیجا جی ایک دوسرے کے ہونٹوں کو چوستے رہے ۔۔۔۔ ساتھ ساتھ دونوں کی آوازیں بھی آ رہی تھی ۔۔ آآآہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔۔ اف ف ف ف ف۔۔
جان بہت مزے دار ہیں تمھارے ہونٹ ۔۔۔ آآآآہ ہ ۔۔۔ جان اپنی زبان مجھے چوسنے دو نا پلیززز۔۔۔ باجی نے بڑے پیار سے اور بہت سکسی آواز میں جیجا جی سے کہا۔۔
جیجا جی نے شاید اپنی زبان باجی کے منہ میں داخل کر دی تھی ۔۔۔ باجی بڑے مزے سے جیجا جی کی زبان کا ذایقہ چکھ رہی تھی ۔۔۔اور ساتھ ساتھ باجی نے اپنی قمیض
بھی اتار دی تھی ۔۔۔۔ باجی کے ممے کیا قیامت لگ رہے تھے ۔۔۔ جیجا جی نے باجی کا برا بھی نہیں ہٹایا تھا اور باجی کے مموں پر اپنا منہ رکھ دیا تھا ۔۔۔باجی کے منہ سے
ایک لذت بھری سسکاری نکلی ۔۔۔۔۔ سسسسس ۔۔۔ امممممم ۔۔۔۔ اففففف۔۔۔ جااااااااان ن ن ن ن۔۔۔۔ سارا دودھ پی لو میری جان ۔۔۔ خوب زور زور سے پیو ۔۔۔ یہ تمھارے ہی ہیں میری جاااان ن ن۔۔
جیجا جی پاگلوں کی طرح باجی کے دونوں نپل باری باری چوس رہے تھے ۔۔۔۔ ان کو دیوانہ وار ایسے دودھ پیتے دیکھ کر میرے جسم میں آگ بھڑک اٹھی تھی ۔۔۔
جان ۔۔۔۔۔ باجی نے بہت ہلکے سے جیجا جی کا سر اپنے مموں سے الگ کر کے کہا ۔۔۔ جان آج کیا ہو گیا ہے آپ کو ۔۔ کیوں اتنی آگ لگ رہی ہے ۔۔
جیجا جی نے پھر باجی کے مموں پر اپنا منہ رکھ لیا اور زیادہ زور سے چوسنے لگ گیے۔۔۔ باجی نے کہا جان میرے نپلز کو اپنے دانتوں سے کاٹو۔۔۔ آآآآہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔
اوی ماں۔۔۔ ہان جان ایسے ہی۔۔۔ اففففففف۔۔۔۔۔۔ بہت مزہ آ رہا ہے  ۔۔۔ ہاں اور زور سے کاٹو ۔۔۔ باجی مزے سے پاگل ہو رہی تھی اور جیجا جی کے سر کو زور سے اپنے مموںکے ساتھ دبا رہی تھی ۔۔۔۔۔ جیجا جی نے اب مموں کو چھوڑ کر باجی کے پورے جسم کو چومنا شروع کر دیا تھا ۔۔ اور کہیں کہیں اپنے دانتوں سے ہلکا ہلکا
کاٹ بھی رہے تھے ۔۔۔۔۔
باجی مزے سے سسکاریاں بھر رہی تھی ۔۔۔ جیجا جی نے باجی کی شلوار کو اتارا اور اور باجی کی ٹانگیں پھیلا کر ان کے درمیان بیٹھ گیے ۔۔۔۔
پہلے وہ باجی کی بھری بھری ٹانگوں کو چومتے رہے پھر انہوں نے بڑے آرام سے ان کی پھدی پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔۔۔ آآآآہ۔۔۔۔۔۔ جاااااااااان ۔۔۔۔
جیجا جی نے اپنی زبان نکال کر پہلے باجی کی پھدی کے ہونٹوں کو اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر کی طرف چاٹنا شروع کیا تو باجی نے مزے سے اپنی آنکھیں
بند کر لی۔۔۔۔ باجی نے اپنی ٹانگیں اوپر کی طرف فولڈ کر کے اپنی پھدی کا منہ اور کھول لیا ۔۔۔ اور جیجا جی نے اپنی زبان باجی کی پھدی میں اندر تک ڈال دی۔۔۔
 آآآآآآہ میری جان اور کتنا تڑپاو گے مجھے ۔۔۔۔ اب بس کرو اور ڈال دو اس میں اپنا ناگ ۔۔۔ آگ بھجا دو اس کی ۔۔۔۔
جیجا جی نے باجی کی ٹانگوں سے اپنا منہ اٹھایا اور باجی کو ہاتھ سے پکڑ کر اٹھایا اور اپنا کالا ناگ ان کے منہ کے سامنے کرتے ہویے بولے
 کہ جان یہ تمھارے پیار کا پیاسا ہو رہا ہے۔۔۔ باجی نے بنا کویی وقت ضایع کیے جلدی سے جیجا جی کا لن اپنے منہ میں لے کر اس کو چوسنا شروع کر دیا ۔۔
جیجا جی نے باجی کے سر کے پیچھے اپنے اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور ان کے منہ  کو اپنے ہاتھوں سے آگے پیچھے کرنے لگے۔۔۔ باجی بڑے مزے سے جیجا جی کا
ہتھیار چوس رہی تھی ۔۔ باجی کے منہ میں جیجا جی کا ہتھیار بہت مشکل سے جا رہا تھا ۔۔۔ باجی ن جیجا جی کا سارا ہتھیار اپنے تھوک سے چکنا کر دیا ہوا تھا۔۔۔۔
ساتھ ساتھ وہ جیجا جی کے انڈوں کو اپنے ایک ہاتھ سے سہلا رہی تھی ۔۔۔۔۔ جیجا جی آنکھیں بند کیے ہوے باجی کے بالوں میں اپنی انگلیاں پھنسایے ان کا منہ آگے پیچھے کر رہے تھے
اور ساتھ ساتھ کہہ رہے تھے ۔۔۔۔۔ ” ہاں میرے جان اسی طرح سے چوسو بہت مزہ آ رہا ہے۔۔۔ جیاجی اپنا ہتھیار پورے کا پورا باجی کے منہ میں داخل کرنے کی کوشش
کر رہے تھے۔۔۔ جو ظاہر ہے ایک مشکل کام تھا۔۔۔ باجی نے ہتھیار اپنے منہ سے باہر نکالا اور انڈے اپنے منہ میں لے کر بھرپور انداز سے چوسنے لگ گیی۔۔۔
باجی کے پورے منہ پر جیجا جی کا ہتھیار چھایا ہوا تھا ۔۔۔ وہ کبھی ایک انڈہ اپنے منہ میں لے کر چوستی اور کبھی دوسرے کے اوپر اپنی زبان پھیرتی ۔۔۔ باجی کی پھدی
پوری طرح گیلی ہو چکی تھی ۔۔۔ جیجا جی نے باجی کو اٹھایا اور کہا ” جان اب اس کو اجازت دے دو اپنی پیاس بجھانے کی ” جان اپ کی لاڈلی کی پیاس بہت بڑھ گیی ہے
اس کا بھی کچھ کر لیں اس کی آگ بجھا دیں بہت گرم ہو رہی ہے یہ اب ۔۔۔ جیجا جی نے یہ سن کے باجی کو بیڈ پر لٹا دیا اور ان کی ٹانگیں اٹھا کر اپنے کاندھوں سے لگا لی
ان کے ہتھیار کا ٹوپا باجی کے تھوک سے کافی گیلا ہو چکا تھا ۔۔۔ انہوں نے باجی کی پھدی کے منہ پر اپنے ناگ کا ٹوپا سیٹ کیا اور ایک زور کا دھکا مارا ۔۔ باجی کی ایک زور دار
قسم کی چیخ نکل گیی جو انہوں نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر روکی ۔۔۔۔ میں سمجھی کہ شاید پورا اندر چلا گیا ہے ۔۔ مگر جیجا کہہ رہے تھے ” جان ابھی تو صرف ٹوپا گیا ہے اندر”
اور تمھاری چیخ نکل گیی ہے ۔۔ ابھی پورا جانا باقی ہے ۔۔۔باجی کہنے لگی کہ آپ اس کو اور گیلا کر لیں ورنہ لگ رہا ہے جیسے یہ میری پھاڑ دے گا ۔۔۔ جیجا جی مسکراتے ہویے
کہنے لگے میری جان اس درد کا مزہ لو پوری طرح سے ۔۔۔ تم اسے اپنی پھدی کے پانی سے گیلا کرو ۔۔۔ جان جی اسے اندر کریں یہ خود ہی گیلا ہو جایے گا۔۔۔
اتنا کہہ کہ باجی نے اپنی ٹانگیں اور کھلی کر لیں ۔ ۔۔۔۔ جیجا جی نے باجی کی ٹانگیں کھینچ کر ان کو اپنے پاس کر لیا ۔۔۔۔ اور ایک جاندار جھٹکا مار کر باجی کے اندر
کرنے کی کوشش کی جو اس بار بھی ناکام ہو گیی ۔۔۔ ابھی بھی آدھا ہی اندر گیا تھا ۔۔ مگر باجی کے چہرے پر جو تکلیف کے آثار تھے اس کو دیکھ کر لگ رہا تھا
جیسے باجی کی سانس ہی رک گیی ہو ۔۔۔ جیجا جی نے یہ دیکھ کر اپنا باہر نکال لیا ۔۔۔ اور باجی نے اٹھ کر جیجا کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے لیے ۔۔۔ اور چوسنے لگ گیی
جیجا جی نے پھر باجی کو ہلکا سا دھکا دے کر بیڈ پر گرایا اور ان کی ٹانگیں دوبارہ سے اور اٹھا کر ان کی پھدی پر تھوک لگایا ۔۔۔ جان اب جتنا بھی درد ہو برداشت کر لینا
کیوں کہ میں اب پورا اندر ڈالنے لگا ہوں ۔۔ اس کے ساتھ ہی جیجا جی نے اپنی پوری طاقت سے ایک دھکا مارا اور ان کا ناگ باجی کی پھدی کی گہرایی میں اترتا چلا گیا
ادھر میرے نیچے آگ بھڑک رہی تھی ۔۔ میرا ہاتھ بلکل غیر محسوس طریقے سے میری پھدی کو سہلا رہا تھا۔۔۔ میری پھدی اپنے ہی پانی سے بہت گیلی ہو رہی تھی
مجھے بہت مزہ آ رہا تھا اپنی پھدی کو سہلانے کا۔۔۔
جیسے ہی جیجا جی  نے اپنا پورا زور کر باجی کو ایک جاندار جھٹکا مارا ان کا کالا ناگ باجی کی پھدی کی گہرایی میں اتر گیا ۔۔ باجی کی آنکھیں ابل کر باہر آ گیی
باجی نے اپنے ہونٹ سختی سے اپنے دانتوں میں دبا کھے تھے ۔۔۔ جیجا جی نے اندر رکھے رکھے باجی کے رسیلے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا۔۔۔
تھوری دیر کے بعد باجی کی حالت نارمل ہو گیی اور جیجا جی نے آہستہ آہستہ بڑے آرام کے ساتھ باجی کے اند باہر کرنا شروع کر دیا ۔۔۔ باجی کی پھدی فل گرم اور گیلی تھی
پھر باجی کو بھی مزہ آنے لگا اور انہوں نے جیجا جی کا ساتھ دینا شروع کر دیا ۔۔۔ جیسے ہی جیجا جی باجی کے اندر کرتے باجی اپنی ہپ تھوڑی سی اٹھا کر جیجا جی
کا پورا اپنے اندر لینے کی کوشش کرتی ۔۔۔ جیجا جی نے باجی کے دونوں ممے اپنے ہاتھوں میں پکڑ رکھے تھے ۔۔ اور ان کو دبا بھی رہے تھے ۔۔۔باجی کی سکسی سسکیاں
کمرے میں گونج رہی تھی ۔۔۔ پانچ منٹ تک جیجا جی نے ایسے ہی باجی کو مزہ دیا ۔۔۔ پھر انھوں نے باجی کے اندر سے باہر نکال لیا ۔۔۔ میں سمجھی کے اب کھیل ختم ۔۔
مگر کہاں جناب  ابھی تو کھیل باقی تھا ۔۔ جیجا جی نے باجی کو بیڈ پر سے اٹھا کر نیچے کھڑا کیا اور کہا جان ایک ٹانگ بیڈ کے سرے پر رکھو اور ایک ٹانگ بیڈ سے نیچے
اور باجی کو بیڈ پر جھکا دیا ۔۔ خود باجی کی بیک سایڈ پر آ کر کھڑے ہو گیے ایس کرنے سے باجی کی پھدی کھل گیی تھی اور جیجا جی نے باجی کے پیچھے کھڑے ہو کر
اپنا ناگ باجی کی پھدی کے دھانے پر فٹ کیا اور ایک ہلکا سا دھکا مارا ناگ بڑے آرام سے باجی کی گہرایی میں اتر گیا ۔۔۔ باجی نے ایک سسکاری بھری اور اپنا ایک ہاتھ
پیچھے کر کے جیجا جی کو اپنے ساتھ چپکا لیا ۔۔۔ جیجا جی کا ناگ جڑ تک باجی کی گہرایی میں جا رہا تھا ۔۔۔۔ جیجا جی نے پیچے کھڑے کھڑے باجی کے دونوں ممے
اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ رکھے تھے جب وہ باہر نکالتے تو مموں پر گرفت کم کر دیتے مگر جیسے ہی وہ اندر کرتے مموں کو زور سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچتے
چھ سات منٹ تک جیجا جی ایسے ہی کرتے رہے چانک باجی کی آواز آیی جان زور سے کرو اسے اندر باہر میں فارغ ہونے لگی ہوں ۔۔ یہ سن کر جیجا جی کی رفتار میں
تیزی آ گیی۔۔۔ انہوں نے تیز تیز دھکے مارنے شروع کر دیے ۔۔ باجی کا سارا جسم اکڑنے لگ گیا اور ان کے منہ سے عجیب عجیب آوازیں آنا شروع ہو گیی پھر اچانک ہی
باجی کے جسم کو جھٹکے لگنے لگ گیے ۔۔ باجی بیجان ہو کر بیڈ کے اوپر گر گیی ۔۔ جیجا جی بھی رک گیے تھے انہوں نے باجی کو کسنگ کرنا شروع کیا تھوڑی دیر کے بعد باجی
کی حالت نارمل ہو گیی تو جیجا جی نے باجی کو بیڈ پر ایک پہلو کے بل لٹا دیا اور خود ان کے پیچھے جا کر لیٹ گیے ۔ ۔ باجی نے اپنی ایک ٹانگ اٹھا کر جیجا جی کا ناگ
ہاتھ میں پکڑ کر اپنی پھدی میں ڈالا اور ساتھ ہی مزے کی لہر سے ان کا جسم کانپ گیا ۔۔۔جیجا جی نے ایک ہاتھ ان کی گردن کے نیچے سے کر کے ان کے ممے کو پکڑ
لیا اور دوسرے ہاتھ سے ان کی اوپر اٹھی ہویی ٹانگ کو پکڑ کے سہارا دیا اور اپنی کمر ہلکا کر باجی کے اند باہر کرنے لگ گیے ۔۔۔ باجی نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی
جیجا جی دھکے مارنے کے ساتھ ساتھ ان کی کمر کو پیچھے سے چوم چاٹ رہے تھے ۔۔میں نے دیکھا کہ باجی کی پھدی سے بہت سارا پانی نکلا ہوا تھا جس سے باجی
کی رانیں بھی گیلی ہو رہی تھی ۔۔۔جیجا جی کا ناگ بڑے آرام سے باجی کے اند باہر ہو رہا تھا ۔۔۔۔ دھپ دھپ کی آوازوں سے کمرہ گونج رہا تھا ۔۔۔ جیجا جی کی رفتار میں
کافی تیزی آ گیی تھی ۔۔۔ پانچ منٹ ایسے کرنے کے بعد باجی کے جسم میں پھر سے اکڑاو پیدا ہونا شروع ہو گیا تھا انہوں سے جیجا جی سے کہا آپ کی کتنی دیر ہے
میں دوبارہ دسچارج ہونے لگی ہوں میری جان بس تھوڑی دیر رک جاو میں بھی ڈسچارج ہونے لگا ہوں اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی سپیڈ تیز کر دی دس بارہ دھکوں
کے بعد جیجا جی نے ایک آہ بھری اور کہا لو میری جان ناگ اپنا پانی چھوڑنے لگا ہے ۔۔ ساتھ ہی انہوں سے ایک بھرپور دھکا مارا اور اپنا پورا باجی کے اندر داخل کر دیا
باجی نے لمبی سسکاری بھری اور ان کا جسم جھٹکے کھانے لگ گیا ۔۔۔ دونوں ڈسچارج ہو چکے تھے ۔۔ دونوں کی لمبی لمبی سانسوں کی آواز آ رہی تھی ۔۔ میرے نیچے
آگ بھڑک رہی تھی ۔۔۔ میں نے اپنی پھدی کے دانے کو زور زور سے مسلنا شروع کر دیا ۔۔ مجھے ایسا لگا جیسے میری جان ٹانگوں سے نکل رہی ہو ۔۔ ایک ہاتھ سے میں
نے اپنے منہ کو بند کر لیا اور تین چار جھٹکوں کے ساتھ میری پھدی سے پانی کا سیلاب نکل آیا ۔۔میرے جسم میں جیسے جان نہی رہی تھی ۔۔ میرے شلوار نیچے تھی
اور میرا ایک میرے مموں پر تھا اور دوسرا میری پھدی پر تھا ۔۔ اچانک ایک آواز میرے کانوں میں آیی جس نے میری جان ہی نکال دی کیا کر رہی ہو یہاں کھڑ ی ہو کر
یہ آواز امی کی تھی ۔۔ میری ٹانگوں میں جان نہیں رہی تھی کہ میں پیچھے مڑ کے دیکھتی ۔۔۔ وہ وہ وہ ۔۔۔۔ میں میں ۔۔ یہاں ۔۔۔ پا ۔۔ پپ پپ پانی ۔۔۔ کیا پانی پانی ؟؟؟ کیا کر رہی ہو  یہاں میں نے صرف اتنا پوچھا ہے ۔۔ اور تم تو ایسے گھبرا گیی ہو جیسے پانی نہیں کویی چوری کرنے آیی ہو ۔۔۔ اور فرج تو اس طرف ہے تم یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔  اس سے پہلے کہ میں کچھ کہہ پاتی امی نے کھڑکی سے اندر جھانک کر دیکھا  کمرے میں ابھی تک جیجا جی اور باجی ننگے لیٹے ہویے تھے۔۔۔۔امی نے قہر آلود آنکھوں سے مجھے دیکھا ۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ میں اپنی صفایی میں کچھ کہہ پاتی امی نے ایک زناٹے دار تھپڑ مجھے رسید کر دیا ۔۔۔بے غیرت ۔۔ بے حیا ۔۔۔ کیا دیکھ رہی تی یہاں کھڑے ہو کر۔۔۔۔۔امی وہ میں وہ ۔۔۔۔۔۔ دفع ہو جا یہاں سے کمینی  ۔۔ میں اپنے گال پر ہاتھ رکھے وہاں سے اپنے کمرے میں چلی آیی ۔۔۔۔امی نے باجی کے کمرے کا دروازہ بجایا باجی نے جلدی سے کپڑے پہنے اور دروازہ کھول دیا ۔۔۔ امی نے کہا کہ بیٹا آپ دونوں اندر ہو اور کڑکی کھلی ہویی ہے دھیان رکھا کرو  ۔۔۔ جی امی وہ گرمی کی وجہ سے کھڑکی کھللی رکھی تھی ۔۔ اور اس وقت  ویسے بھی ادھر کس نے آنا ہوتا ہے سب لوگ تو سو رہے ہیں ۔۔۔ پھر بھی بیٹا ۔۔۔ امی نے جھجھکتے ہویے باجی سے کہا کہ آپ رات کو سونے سے پہلے کھڑکی بند کر لیا کرو ایسے اچھا نہیں لگتا ۔۔۔ باجی اور جیجا جی یہ سمجھے شاید امی نے ان کو دیکھ لیا ہے ۔۔ باجی بھی امی کے سامنے شرمندہ سی ہو گیی ۔۔۔ ادھر میری ڈر اور خوف سے برا حال ہو رہا تھا پتا نہیں امی نے باجی سے کویی بات نہ کہہ دی ہو ۔۔ یا وہ ابو سے نا بول دیں ۔۔ طرح طرح کے خیالات ذہن میں آ رہے تھے۔۔۔۔ میں واش روم گیی ۔۔۔ شاور کے نیچے کافی دیر تک کھڑی رہی اور اپنے جسم کو بھگوتی رہی۔۔ مگر پتا نہیں کیا ہو گیا تھا میری آگ کسی طرح ٹھنڈی نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔ خیر میں نہا کے باہر نکلی اور اپنے بیڈ پر سونے کے لیے لیٹ گیی مگر نیند جیسے میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔۔ پتا نہیں رات کے کس پہر میری آنکھ لگی ۔۔۔۔   صبح میری آنکھ کھلی تو جسم درد کر رہا تھا  نیند نا پوری ہونے کی وجہ سے ۔۔۔۔ میں فریش ہو کے ڈرتی ڈرتی کچن میں آیی تو دیکھا امی ابھی تک ناشتے والے ٹیبل پر بیٹھی ہویی ہیں میں امی سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی ۔۔مارے شرمندگی کے میں کچن سے باہر جانے لگی تو امی نے آواز دے کر مجھے روک لیا ۔۔۔ میرے پیر جہاں تھے وہیں پر جم گیے ۔۔۔ادھر آو اور بیٹھو میرے پاس ۔۔۔ امی کی آواز میں نرمی تھی ۔۔۔ مگر میرا حلق خشک ہو گیا تھا خوف کے مارے ۔۔۔میں ٹیبل کے دورے کنارے پر بیٹھ گیی ۔۔۔ جی امی۔۔۔ مجھے لگا جیسے میرے آواز ہی نہیں نکل رہی ہے ۔۔۔دیکھو بیٹا تم اب بچی نہیں ہو ۔۔۔ اور تم اب عمر کے اس حصے میں ہو جہاں تم کو ہر چیز کی سمجھ ہونی چاہیے ۔۔ تمھاری باجی شادی شدہ ہے اور ایسے ہر کسی کے کمرے میں جھانکا نہیں کرتے ۔۔ ہر کسی کی اپنی پرایویسی ہوتی ہے ۔۔۔ برا لگتا ہے ایسے کسی کے کمرے میں جھانکنا ۔۔۔ اب تم بڑی ہو چکی ہو ۔۔ امی وہ دراصل میں رات کو ۔۔۔ چھوڑو رات کو ۔۔ جو ہوا سو ہوا ۔۔۔ اب آیندہ خیال رکھنا ۔۔۔ جی امی میں خیال رکھوں گی ۔۔ اینڈ آیی ایم ویری سوری  ۔۔۔ اتنا کہتے ہویے میری آنکھوں میں آنسو آ گیے ۔۔ امی نے اٹھ کر مجھے گلے سے لگایا اور میرے آنسو صاف کیے ۔۔ میں جانتی ہوں تمھرے ذہن میں سوالات اٹھ رہے ہوں گے ۔۔ اور میں اس وقت تمھاری امی نہیں تمھاری دوست ہوں ۔۔۔تمھارے ذہن میں جو بھی سوالات آ رہے ہیں تم بلا جھجھک مجھ سے پوچھ سکتی ہو ۔۔۔ میں ان سوالات کا جواب دینے کی پوری کوشش کروں گی ۔۔ امی کی ان باتوں سے میرے دل میں بیٹھا خوف اب کسی حد تک ختم ہو چکا تھا ۔۔۔۔ میرے ذہن میں سوالات ہی سوالات تھے مگر میں ابھی بھی جھجھک رہی تھی امی سے ۔۔۔ نہیں امی کویی سوال نہی ہے میرے ذہن میں ۔۔۔ امی میری اس جھجھک کو بھانپ گیی تھی ۔۔۔۔مسکراتے ہویے کہنے لگی کہ چلو ٹھیک ہے جب تمھارے ذہن میں کویی سوال آیے تو پوچھ لینا میں جانتی ہوں تم اس واقت جھجھک رہی ہو ۔۔۔ میں تمھاری ماں ہوں ۔۔۔ سب جانتی ہوں میری بیٹی کے ذہن میں اس وقت کیا چل رہا ہے ۔۔۔۔ میں نے وہاں سے اٹھنے میں ہی عافیت سمجھی ۔۔ ناشتہ کر کے میں کچن صاف کر رہی تھی کہ باجی آ گیی ۔۔ انہوں نے میرے ساتھ کام میں مدد کی اور چایے بنانے کا کہا  ۔۔ میں چایے بنا کے ان کے پاس ہی بیٹھ گیی تو باجی کہنے لگی  یار رات کو بہت کام خراب ہوا تھا ۔۔ میرے کان کھڑے ہو گیے ۔۔ کیا ہوا تھا باجی ۔۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔۔۔۔یار رات کو میں اور تمھارے جیجا جی کمرے میں لیٹے تھے اور ہمیں کھڑکی بند کرنا یاد نہیں رہا تھا ۔۔ امی نے گزرتے ہویے دیکھ لیا ہم دونوں کو ۔۔۔  میں بہت شرمندہ ہو رہی تھی ۔۔۔ ساری رات نیند نہی آیی۔۔ امی سے بھی میں اب نطریں نہی ملا پا رہی ۔۔۔ کیوں باجی ایسا کیا ہو گیا ہے کہ آپ امی سے نظریں نہی ملا پا رہی ۔۔ سب خیر تو ہے نا ؟؟۔۔۔ میں نے جان بوجھ کر انجان بنتے ہویے باجی سے پوچھا۔۔ حالانکہ مجے سب پتا تھا ۔۔ اور یہ بھی پتا تھا کہ کس نے دیکھا ہے اور کس نے نہی دیکھا ۔۔۔۔باجی نے مختصر رات والی بات مجھے بتا دی کہ رات کو ہوا کیا تھا ۔۔۔۔ میرے ذہن میں ایک دم سے شرارت آیی اور میں نے کہا باجی آپ بھلا مجھے کھڑا کر دیتی دروازے میں تاکہ میں دھیان رکھتی کسی کے آنے جانے کا۔۔۔۔ ہی ہی ہی ہی ہی ۔۔ میں کھلکھلا کے ہنس دی ۔۔ باجی نے ایک دھپ رسید کی میری کمر میں چل بے شرم ۔۔۔۔پھر باجی شام کو اپنے سسرال چلی گیی اور میں گھر میں اداس رہ گیی ۔۔ پھر ایک دن باجی انگلینڈ چلی گیی اپنے شوہر کے ساتھ ۔۔۔۔ باجی کے جانے کے تھوڑے دن بعد ہی ایک بہت اچھی فیملی سے میرے لیے رشتہ آ گیا ۔۔ لڑکا اپنا امپورٹ ایکسپورٹ کا کام کرتا تھا ۔۔۔ بظاہر اس رشتے میں کویی خامی نہ تھی سو یہ رشتہ منظور کر لیا گیا ۔۔۔ منگنی بڑی دھوم دھام سے ہویی ۔۔ اور منگنی کے ایک سال کے اندر اندر ہی میری شادی بھی ہو گیی اور میں بیاہ کر اپنے پیا گھر سدھار گیی ۔۔۔۔ رات دیر تک رسموں کا سلسلہ چلتا رہا ۔۔۔ شادی سے پہلے ہم دونوں میاں بیوی میں کافی کم بات چیت ہوتی تھی ۔۔۔ میں دلہن بنی سیج پر بیٹھی اپنے خاوند کا انتظار کر تے کرتے تھک چکی تھی ۔۔۔ دل میں خوشی اور خوف کے ملے جلے جذبات تھے ۔۔۔ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے ۔۔۔۔ پھر اچانک دروازہ کھلنے کی آواز آیی۔۔۔۔ میں سنبھل کر بیٹھ گیی ۔۔۔ قدموں کی آواز آ رہی تھی۔۔ پاس اور پاس۔۔۔ بہت پاس۔۔۔۔ ایسا لگا جیسے کویی میرے بیڈ کے بلکل پاس آ کر کھڑا ہو گیا ہے ۔۔۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔۔۔۔
  آنے والا کویی اور نہیں میرا شوہر تھا ۔۔۔ وہ کچھ دیر بیڈ کے پاس کھڑے رہے پھر میرے پاس بیٹھ گیے ۔۔۔ کچھ دیر خاموشی رہی پھر انہوں نے میرا گھونگھٹ اٹھایا۔۔۔ اور گھونگھٹ اٹھاتے ہی انہوں نے مجھے ماتھے پر کس کی ۔۔۔ میں شرم سے پانی ہو گیی ۔۔ پتا نہیں کہاں سے اتنی شرم آ رہی تھی مجھے ۔۔۔۔ میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔۔۔۔ منہ دکھایی اور قسموں وعدوں کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا  نوشی میری جان تم تھک گیی ہو گی ۔۔۔ چلو اٹھ کر کپڑے تبدیل کر لو ۔۔۔ میں ایسے ہی بیٹھی رہی ۔۔۔ انہوں نے مجھے ہاتھ سے پکڑ کر اٹھایا اور میرے ہاتھ میں کپڑے پکڑا دییے لو چلو چینج کر لو ۔۔۔ میں کپڑے پکڑ کر ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ کہاں چینج کروں یہی پر چینج کروں یا واش روم جا کر ۔۔۔ اتنی دیر میں میرے شوہر نے کپڑے تبدیل کر لییے تھے ۔۔۔ وہ سمجھ گیے۔۔ مجھ سے کہنے لگے دلہن بیگم اب شرماو نہیں یہی پر چینج کر لو ۔۔۔ میں نے کہا کہ مجھے شرم آ رہی ہے ۔۔۔وہ ہلکا سا قہقہہ لگا کر بولے ۔۔۔ ارے جان اب کیسا شرمانا ۔۔۔ چلو اگر تم کو اتنی ہی شرم آ رہی ہے تو میں اپنا منہ دوسری طرف کر لیتا ہوں تم جلدی سے چینج کر لو ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنا چہرہ دہسری طرف کر لیا۔۔ میں نے جلدی سے شلوار اتارکر دوسری پہن لی ۔۔۔ اور جب میں نے اپنی قمیض اتار کر دہسری پہننے کے لییے پکڑ تو انہوں نے جلدی سے اپنا منہ میری طرف کر لیا اور ایک دم سے میری قمیض میرے ہاتھ سے لے لی۔۔۔۔ کہنے لگے جان اب اس اتنے تکلف بھی اچھے نہیں ہیں ۔۔۔۔ میرا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔۔ میں بیڈ پر ان کے اوپر گر سی گیی ۔۔۔ انہوں نے مجھے اپنی باہوں میں لے لیا ۔۔ اور میرے گال کو چوم لیا ۔۔۔ ایک لہر سی میرے پورے جسم میں دوڑ گیی ۔۔۔ میرا نرم نازک سینہ ان کے چوڑے اور مظبوط سینے میں دبا ہوا تھا ۔۔۔ مجھے یہ احساس بہت اچھا لگ رہا تھا ۔۔۔ میں اپنے شوہر کی باہوں میں قید تھی ۔۔ اور اب کبھی بھی اس قید سے رہا نہیں ہونا چاہتی تھی ۔۔۔ میں نے بھی ان کو کس کے اپنی باہوں میں بھر لیا۔۔۔ وہ مجھے بے تحاشہ چوم رہے تھے۔۔۔ میں ان کے پیار کی گرمی سے قطرہ قطرہ پگھل رہی تھی ۔۔۔۔۔ابھی  میں خمار میں تھی کہ انہوں نے میرے ہونٹوں کو چوم لیا۔۔۔۔ ہونٹوں کا ہونٹوں سے ملنا تھا کہ میں مدہوش ہونے لگی ۔۔۔ وہ میرے ہونٹ چوس رہے تھے ۔۔۔۔ مجھے اب بہت زیادہ مزہ آ رہا تھا ۔۔۔ میں نے آنکھیں بند کر لی تھی ۔۔۔مجھے ان کے ہونٹوں کا ذایقہ بہت پسند آ یا تھا ۔۔۔ میں خوب مزے سے ان کے ہونٹ چوس رہی تھی ۔۔۔ پھر انہوں نے اپنی زبان میرے منہ کے اندر ڈال دی ۔۔۔ میں بھوکی تو تھی ہی فورا” میں نے ان نے زبان کو چوس لیا۔۔۔۔ جیسے ہی ان کی زبان میری زبان کے ساتھ ٹچ ہویی میں مزے کی ایک نیی دنیا میں پہنچ گیی ۔۔۔۔اففففف۔۔۔۔ کیا ذایقہ تھا میٹھا ۔۔۔ مزے سے بھرپور ۔۔۔۔ پھر انہوں نے کہا مجے بھی اپنی زبان کا ذایقہ چکھنے دو ۔۔۔ میں نے اپنی زبان ان کے منہ میں داخل کر دی ۔۔۔  افففففف۔۔۔ کیا ذایقہ تھا ان کی زبان کا میں مدہوش ہی تو ہو گیی ۔۔۔۔۔ میں ہواوں میں اڑ رہی تھی ۔۔۔ دل کر رہا تھا کہ ان کی زبان اب منہ سے باہر نا نکالوں ۔۔۔ میں ان کا سارا شہد چوسنا چاہتی تھی اور بڑے مزے سے چوس بھی رہی تھی ۔۔۔۔ انہوں نے زبان چوسنے کے ساتھ ساتھ  میرے مموں پر ہاتھ رکھ دیے اور ان کو ہلکا ہلکا دبانا شروع کر دیا ۔۔۔میرے منہ سے ہلکی سی کراہ نکل گیی ۔۔۔ آآآآہ ہ۔۔۔۔۔ سسسسسس۔۔۔ اففففففف۔۔۔ جااااااان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  ایک بات میں آپ کو بتانا بھول گیی ۔۔ میرے شوہر کا نام نبیل ہے ۔۔۔ نبیل نے جوش میں آ کر میرے ممے کو زور سے دبا دیا۔۔ میری چیخ نکل گیی ۔۔ اوی ماں۔۔۔ جان اتنی زور سے تو نا دباو مجھے درد ہو رہا ہے۔۔۔۔۔جان کیا کروں تمھارے ممے اتنے سکسی ہیں کہ میں خود کو روک نہی پا رہا ۔۔۔۔ نبیل میرے سینے کو بھنبھوڑ رہا تھے۔۔۔۔ مزے کی لہر میرے پورے جسم میں دوڑ رہی تھی ۔۔۔۔اور میں نیچے سے اچھی طرح سے گیلی ہو چکی تھی ۔۔۔۔ میری ٹانگوں کے درمیان نبیل کا ناگ اپنی جگہ بنا رہا تھا ۔۔۔ مجھے اپنی ٹانگوں کے درمیان نبیل کے ناگ کا لمس بہت مزہ دے رہا تھا ۔۔ نبیل نے میری شلوار اتار دی  اور میری بالوں سے پاک پھدی دیکھ کر پاگل ہو گیے ۔۔۔جو کافی گیلی ہو گیی تھی ۔۔۔ یہ دیکھ کر نبیل نے بھی اپنی شلوار اپنی ٹانگوں سے الگ کر دی ۔۔۔ اب مجھے بے انتہا شرم آ رہی تھی میں نے نبیل سے کہا نبیل آپ لایٹ آف کر دیں ۔۔۔ کیوں میری جان ۔۔۔ کیا ہوا؟؟ مجھے شرم آ رہی ہے نبیل ۔۔۔۔ میں نے اپنے ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لیے ۔۔۔۔ نبیل نے میرے ہاتھوں پر کس کیا اور بولے ۔۔۔ میری جان یہی تو مزہ ہے ۔۔ لایٹ آف نہی کرنی میں نےایسے ہی دیکھنا ہے میں نے اپنی جان کو ۔۔۔ بلکل ننگا کر کے ۔۔۔ ہایے نبیل کتنے بے شرم ہیں آپ ۔۔۔۔ہا ہاہاہاہاہا۔۔ نبیل نے نے قہقہہ لگایا ۔۔۔ اور مجھے اپنی باہوں میں کس کر ایک بھرپور کس کی میرے ہونٹوں پر ۔۔۔ جواب میں میں نے بھی ان کے ہونٹ چوس لیے ۔۔۔ نبیل میرے ہونٹوں کو چومتے ہوے میرے سینے کی طرف ہو لیے ۔۔۔ میرا سینا نبیل کے تھوک سے گیلا ہو گیا تھا ۔۔۔ سینے سے ہوتے ہوے وہ میرے پیٹ پر کس کرنے لگے ۔۔ میں سسک اٹھی ۔۔ اففففففففففف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آآآآآآہ۔۔۔ انہوں نے میری ٹانگیں کھول کر میری پھدی پر اپنا ھاتھ رکھ دیا۔۔۔۔ میں تھوڑا سا کسمسایی ۔۔۔۔ انہوں نے مزید میری ٹانگیں کھولی اور اپنے ہونٹ میری پھدی کے دھانے پر رکھ دیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نبیل میری جان پہلے اس کو صاف کر لیں۔۔۔ گیلی ہو رہی ہے ۔۔۔ار ے میرے جان اس کا رس ہی تو پینا ہے میں نے ۔۔ تم بس ٹانگیں کھولو ۔۔ مجھے پھدی کا رس پینے دو ۔۔۔ میں نے اپنی ٹانگیں مزید اوپن کر دی ۔۔۔  پہلے تو نبیل پھدی کے اوپر اوپر سے کس کرتے رہے ۔۔۔ پھر انہوں نے پھدی کے ہونٹ کھول کر  اپنی زبان میری گیلی پھدی کے اندر داخل کر دی۔۔۔۔۔ آآآآآآآہ ہ ہ ہہ ہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوی ی ۔۔۔۔۔ جااااااااااانووووووووو۔۔۔۔۔۔۔ایک آگ بھڑک اٹھی میری پھدی میں ۔۔۔ میں مستی میں آ چکی تھی ۔۔۔ میں اپنے سر کو سرھانے پر پتخ رہی تھی۔۔۔۔ نبیل کی زبان بہت لمبی تھی۔۔ وہ میری پھدی کے بہت اندر تک جا رھی تھی ۔۔۔ آآآآآآہ ہ ہ  نبییییییلللللل۔۔۔۔۔۔ جانو زور زور سے کرو۔۔۔ آآآآآآہ۔۔۔۔۔۔ افففففف۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے جسم میں اکڑن پیدا ہو رہی تھی ۔۔۔۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میری پھدی میں سیلاب آ گیا ہو ۔۔۔ میرے جسم نے دو تین جھٹکے لیے اور ممیری پھدی نے بہت سا پانی چھوڑ دیا۔۔۔ نبیل میں تو ڈسچارج ہو گیی ہوں ۔۔۔۔۔ نبیل نے پھدی کا سارا پانی چاٹ لیا ۔۔۔ نبیل کا سارا منہ میرے پانی سے بھر گیا تھا ۔۔۔ انہوں نے اٹھ کر مجھے ایک اور دار کس کی۔۔۔۔ میں جب نبیل کے ہونٹ چوس رہی تھی تو مجھے ان کے ہونٹ کچھ نمکین سے لگے ۔۔ جو یقینا” میری پھدی سے نکلے ہویے پانی کا ذایقہ تھا۔۔۔۔ نبیل نے اٹھ کر اپنا ناگ میری آنکھوں کے سامنے لہرایا ۔۔۔ جسے دیکھ کر میری تو سٹی ہی گم ہو گیی۔۔ ھایے نبیل یتنا بڑا۔۔۔۔۔۔۔ اور ساتھ ہی میں نے نبیل کے موٹے اور لامبے ناگ تو اپنے ہاتھوں میں لے لیا ۔۔۔ میں اسے سہلا رہی تھی ۔۔  جان اسے اپنے منہ میں لو نا۔۔۔ میں نے اس کے ٹوپے پر ایک ہلکی سی کس کی اور زبان نکال کے اس کو چکھا ۔۔ جیسے میں نے باجی کو دیکھا تھا جیجا جی کے ناگ کے ساتھ کرتے ہویے ۔۔۔ نبیل کے ٹوپے میں سے تھوڑا سا پانی نکلا ہوا تھا جسے میں نے چاٹ لیا ۔۔۔۔اس کا ذایقہ بہت ہی مزے دار تھا ۔۔۔ اس کے نیچے نبیل کے انڈے میں نے اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیے ۔۔۔ منہ کھول کر میں نے نبیل کے ناگ کو اپنے منہ میں لینے کی کوشش کی مگر نبیل کا ٹوپا ہی میرے منہ میں جا سکا ۔۔۔نبیل نے میرا سر پکڑ کر تھوڑا سا دبایا ۔۔۔ ٹوپا میرے منہ میں کافی دور تک گیا سیدھا حلق میں جا کر لگا۔۔ مجھے کھانسی ہو گیی ۔۔ نبیل یہ بہت موٹا ہے میرے منہ  میں نہی جایے گا ۔۔۔۔ میں نے کھانستے ہوے نبیل سے کہا ۔۔۔۔ جان کوشش کرو ۔۔ جتنا جاتا ہے منہ میں اتنا ہی لے لو ۔۔۔ تمھارے منہ کی گرمی سے یہ اور جوان ہو رہا ہے ۔۔۔ میں نے جوش سے چوپے لگانے شروع کر دیے ۔۔۔ میں منہ میں ناگ کا ٹوپا لیے اپنے منہ کو اوپر نیچے کر رہی تھی ۔۔۔۔ پانچ منٹ تک میں چوپے لگاتی رہی میں تھک  گیی تھی ۔۔۔ میں نے نبیل سے کہا جان میں تھک گیی ہوں ۔۔۔ نبیل نے مجھے بازو سے پکڑ کر اٹھایا اور بیڈ پر لٹا دیا ۔۔۔۔ میری دونوں ٹانگیں کھول کر وہ میری ٹانگوں کے درمیان پھدی کے منہ پر اپنے ناگ کا ٹوپا رکھ کر بولے ۔۔ جان تم کو ابے درد ہو گا۔۔۔ اسے برداشت کرنا ۔۔ تھوڑی دیر درد ہوگا پھر تم کو مزہ آنے لگے گا ۔۔۔ ہممم ۔۔ تھیک ہے جان ۔۔ ۔نبیل نے اپنے ناگ کا ٹوپا اپنے تھوک سے گیلا کیا اور تھوڑا سا تھوک میری پھدی پر بھی لگا دیا ۔۔ پھر انہوں نے ٹوپا میری پھدی کے اوپر رگڑنا شروع کیا ۔۔ میں مزے کی دنیا میں پہنچ چکی تھی ۔۔۔۔ میرے دونوں ہاتھ میرے مموں کو دبا ریے تھے ۔۔۔ دل کر رہا تھا ک نبیل اب اپنا ناگ میری پھدی میں ڈال دے ۔۔ مگر نبیل نے قسم کھایی ہویی تھی کے آج مجھے کو ٹرپا ٹرپا کے مارنا ہے ۔۔۔ وہ میرے ممے زور زور سے دبا رہے تھے اور ٹوپا پھدی کے اوپر ہی گھسا رہے تھے ۔۔ میں نے کہا نبیل میری جان اب اور بارداشت نہی ہو رہا ۔۔ اس کا کچھ کرو ۔۔۔۔ نبیل نے اتنا ہی سنا اور ایک ہلکا سا دھکا مارا اور میری آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا ۔۔۔۔ مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے میری پھدی میں گرم لوہے کی سلاخ ڈال دی ہو ۔۔۔ میری آنکھوں میں آنسو آ گیے ۔۔۔۔ نبیل رک گیے ۔۔۔۔مگر ان کا ناگ بدستور میری پھدی کے اندر ہی تھا ۔۔۔ درد کی ایک شدید لہر اٹھی  ۔۔۔ میں کراہ کے رہ گیی ۔۔۔۔نبیل مجھے کس کرنے لگ گیے ۔۔۔ تھری دیر کی کسنگ کے بعد میری پھدی میں جو درد کی لہر تھی وہ کم ہو گیی تھی ۔۔۔ اب مجھے درد کے ساتھ ساتھ مزہ بھی آ رہا تھا ۔۔۔۔ میں نبیل کے نیچے تھوڑا تھوڑا اوپر نیچی ہلنے لگی ۔۔۔ نبیل سمجھ گیے کہ میں اب انجویے کرنے لگی ہوں انہوں نے ٹوپا تھوڑا سا باھیر نکالا اور ایک اور پہلے سے سخت مگر ہلکا سا دھکا مارا ۔۔ ان کا ناگ آدھا میری پھدی کے اندر چلا گیا ۔۔۔ مگر مجھے ایسا لگا جیسے میرا سانس رک جاے گا ۔۔۔ میں نے اپنے ہونٹ سختی سے بھینچ لیے ۔۔۔۔انہوں نے پھر باہر نکالا اور ایک جاندار دھکا مارا ۔۔ اس بار پورے کا پورا ناگ میری پھدی کو پھاڑتے ہویے اندر تک اتر گیا ۔۔۔۔ میں نے نبیل کو سختی سے اپنے سات چپکا لیا ۔۔۔ کچھ دیر تک ایسے ہی رہے وہ میرے ساتھ چپکے ہویے ۔۔۔۔ نبیل نے مجھے پھر سے ایک فرنچ کس کی اور مجھے کہنے لگے جان اب تم کو مزہ آنے والا ہے ۔۔۔۔ پھر انہوں نے اہستہ اپنا ناگ میرے اندر باہر کرنا شروع کیا ۔۔۔۔ مجھے اب واقعی مزہ آ رہا تھا ۔۔۔۔ میں ان کا پورا ساتھ دے رہی تھی ۔۔۔۔ ساتھ میرے منہ سے آوازیں نکل رہی تھی ۔۔۔ جان ن ن ن ن ۔۔۔۔ آآآآآآ ہ۔۔۔ ھایےےےےےےے ۔۔  میں مر گیییییییی ۔۔۔۔ اور نبیل میری ان آوازوں کو سن کے اور زور سے دھکے مار رہے تھے ۔۔۔۔ میرے جسم نے ایک بار پھر سے اکڑنا شروع کر دیا ۔۔ اور میں نے نبیل سے کہا جان زور زور سے کرو ۔۔۔ میری جاااااااننننن ۔۔۔۔۔۔۔ افففففففففف ۔۔۔۔۔ جان میں گیی ۔۔۔ آآآآآآآآآآہہہہہہہہہ ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی میری پھدی نے ایک بار پھر سے ڈھیر سارا پانی چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔نبیل ایک مینٹ رکو میری جان مجھے سانس بحال کرنے دو اپنی ۔۔۔۔۔۔نبیل نے اپنا باہر نکال لیا ۔۔۔۔ اور میرے ساتھ آ کر لیٹ گیے ۔۔۔۔ مجھے اپنے ساتھ چپکا لیا اور مجھے بے تحاشہ چومنے چاٹنے لگے ۔۔۔۔ میں نے دیکھا کہ ان کے ناگ کے ٹوپے پر خون لگا ہوا تھا ۔۔ میں گھبرا گیی ۔۔ نبیل کہنے لگے جان یہ تمھاری سیل کھلنے کا خون ہے۔۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہی ہے ۔۔ تھہڑی دیر کی کسنگ کے بعد میں پھر سے گرم ہو گیی ۔۔۔ اب نبیل نے مجھے الٹا کر کے مجھے میرے گھٹنوں کے بل جھکا دیا ۔۔۔ ڈوگی سٹایل میں کر لیا مجھے ۔۔۔۔۔ میرے پیچے آ کر انہوں نے میری پھدی پر ایک بار پھر سے تھوک لگایا اور ناگ کا ٹوپا پھدی میں داخل کر دیا ۔۔۔ اس بار ایسا لگا جیسے یہ میری کمر کو پھاڑ کے باہر نکل آیے گا ۔۔۔۔ نبیل نے ہاتھ بڑھا کر میرے ممے پکڑ لیے ۔۔۔ اور زور زور سے میرے اندر اپنا ناگ  اندر باہر کرنے لگے ۔۔۔۔ دس منٹ کے بعد نبیل کہنے لگے جان میں ڈسچارج ہونے لگا ہوں ۔۔ میں نے کہا میری جان اپنا سارا پانی میری پیاسی پھدی میں نکال دو ۔۔۔۔ آج بھر دو اس پیاسی پھدی کو ۔۔۔ آآآآآآہہہ۔۔۔ جاااااااان ۔۔ یہ گیا۔۔ اااااااممممممم ۔۔۔۔۔ نبیل کا ناگ میری پھدی میں جھٹکے رہا تھا ۔۔۔۔ اور میری پھدی سے ایک بار پھر چکنے نمکین پانی کی بارش ہو گیی ۔۔۔۔ نبیل میرے اوپر ہی بے جان نڈھال ہو کر گر پڑے ۔۔۔ اور ہم دونوں لمبے لمبے سانس مینے لگے ۔۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد میں اٹھی اور کپڑے سے اپنی پھدی اور نبیل کا ناگ صاف کیا ۔۔۔۔۔ پھر ہم دونوں ایک دوسرے کو باہوں میں لے کر ننگے ہی سو گیے ۔۔۔۔ نبیل کا دل کر رہا تھا دوسرا راونڈ لگانے کا ۔۔ مگر مجھ میں ہمت نہی تھی اتنی ۔۔ نبیل کہنے لگے کہ چلو کویی بات نہی۔ جان ہم کال پھر کر لیں گے ۔۔۔۔  

Posted on: 01:14:AM 05-Jan-2021


1 1 295 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 59 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com