Stories


امی کا خفیہ افیئر از گیٹ مامی

نامکمل کہانی ہے

میں کسی بھی ویب سائیٹ پر پہلی دفعہ لکھنے کی ٹرائی کر رہا ہوں۔ لہذا اگر کہانی کی میں کچھ عجیب سا محسوس ہو تو نیو کمر سمجھ کر معاف کر دینا۔
یہ کہانی مری امی کے بارے میں ہے۔۔
ہمارا خاندان کافی بڑا ہے۔ اور سب رشتے داروں کے آپس میں بہت اچھے تعلقات ہیں۔ ان اچھے تعلقات کی وجہ سے ہم سب کو ہر خوشی اور غمی میں ضرور شرکت کرنا پڑتی ہے۔ میرا ایک کزن جو باہر کے ملک پڑھنے گیا ہوا تھا جب وہ اپنی تعلیم مکمل کر کے پاکستان آیا تو اس کے والدین نے اسکی ایک کزن کے ساتھ اسکی شادی پکی کر دی۔ جیسے ہی شادی کی ڈیٹ فکس ہوئی اسکے والدین نے پورے خاندان میں منادی کرادی کے سب رشتے دار لازمی شرکت کریں۔
شادی میں شرکت کرنے کے لیے ہمیں دوسرے شہر جانا تھا۔ میں اور میری امی شادی والے گھر دو دن پہلے ہی چلے گئے تھے کیوںکہ میں میٹرک کے امتحانات سے ابھی ابھی فارغ ہوا تھا اور میری امی کی بڑی بہن کے بیٹے کے شادی تھی اس لیے ہمیں شادی والے گھر پہلے ہی جانا پڑا۔
شادی والے گھر کو ابھی سے ہی کافی سجادیا گیا تھا۔ اور کافی مہمان آ چکے تھے۔ میں اپنے کزنوں میں فوراً ہی گھل مل گیا اور خوب انجوائے کرنے لگا۔ میرے جس کزن کی شادی تھی اسکے کچھ فورن کلاس فیلو بھی دوسرے ملک سے شادی میں شرکت کے لیے اس کے گھر آئے ہوئے تھے۔ ہم سب چھوٹے کزن ان سب کے ساتھ ٹوٹی پھوٹی انگلش بول بول کے خوب انجوائے کر رہے تھے۔
میرے کزن کےتمام فورن دوست گھر کے اندر اور باہر بغیر کسی روک ٹوک اور جھجک کے آ اور جا رہے تھے۔ ہماری فیمیلی نا تو زیادہ سخت گیر مذہبی یا روایتی پردے والی تھی اور نا ہی ہم زیادہ لبرل یا آزاد قسم کے لو گ تھے۔ بس درمیانی سی سوچ اور رسم و رواج والے لوگ تھے۔ ہماری کچھ رستے دار خواتین جو شادی میں شرکت کے لیے آئی ہوئی تھیں ان میں سے کچھ تو ان انگریز مہمانوں سے پردہ کر رہی تھیں اور کچھ بغیر کسی جھجک کے ان انگریزوں سے بات چیت کبھی کبھی کر لیتی ۔ میری امی بھی دوسری قسم کی خواتین میں تھیں۔ میری امی تھوڑی شرمیلی تھیں پر زیادہ پردہ وغیرہ نہیں کرتی تھیں۔
ہمیں شادی والے گھر آئے ہوئے پورا ایک دن گزر چکا تھا۔ میں نے نوٹ کیا کہ سب انگریز مہمانوں میں سے ایک انگریز جس کا نام ڈیوڈ تھا وہ بہانے بہانے سے میری امی کے آس پاس آجا رہا تھا۔ پہلے تو میں نے سوچا شاید یہ میرا وہم ہو لیکن میں تھوڑا مزید غور کیا تو مجھے یقین ہوگیا کہ ڈیوڈ میری امی کے پاس زیادہ گھوم پھر رہا ہے۔ میری امی جان کی عمر تقریباً پینتالیس برس کے لگ بھگ تھی۔ لیکن دبلی اور پتلے جسم کی وجہ سے وہ اپنی حقیقی عمر سے کم دیکھائی دیتی تھی۔ میری امی کے سیاہ اور گھنے لمبے بال تھےجنہیں وہ پراندے میں باندھ کر ہمیشہ رکھتی تھی۔ میری امی نازیادہ موٹی تھی اور نا ہی زیادہ پتلی تھی۔ بس میری امی کے پورے جسم کی خدوخال بہت نمایاں اور سیکسی تھی۔ میں اپنی امی کو کبھی گندی نظر سے نہیں دیکھا تھا۔ لیکن یہ سب معلومات مجھے بعد میں پتہ چلی ۔
ڈیوڈ ایک بائیس سالہ دراز قد اور چوڑی چھاتی والا خوبصورت نوجوان تھا۔ شادی والے گھر بہت خوبصورت اور نوجوان لڑکیاں بھی موجود تھیں لیکن یہ ڈیوڈ کسی کی بھی طرف ویسے نہیں دیکھ رہا تھا جیسے وہ میری امی پر مسلسل اپنی نگاہیں گاڑے ہوا تھا۔ مجھے تھوڑی الجھن ہو رہی تھی کہ یہ انگریز کیوں میری امی میں دلچسپی لے رہا ہے۔ پیلے تو میں نے سوچا کہ اپنی امی کو کہوں کہ اس دور رہے اور کسی بھی قسم کی بات اس سے نا کرے۔ لیکن پھر میں نے سوچا کہ میری امی میرے بارے میں کیا سوچے گی کہ میں اس پرخدا نا خواستہ شک کر رہا ہوں۔
بحرحال میں نے سوچا کہ کونسا اس انگریز نے ہمشہ ادھر ہی رہنا ہے شادی ختم ہوتے ہی یہ واپس اپنی ملک چلا جائے گا۔ لہذا میں نے اپنے دماغ پر فضول بوجھ ڈالنے کے بجائے شادی کو انجوائے کرنا کا سوچااور اپنے کزنوں کے ساتھ ایک دفعہ پھر مصروف ہو گیا۔
مہندی کا فنکشن شروع ہونے والا تھا اور سب تیار ہو رہے تھے۔ میں نے اپنی امی کو دیکھا تو میں دیکھتا ہی رہ گیا۔ انہوں نے پیلے رنگ کا مہندی کے فنکشن کی مناسبت سے لباس پہنا ہوا تھا۔ اپنے سیاہ گھنے بالوں کو اپنی کمر پر کھولا چھوڑ رکھا تھا۔ نفیس میک اپ کی وجہ سے میری امی ایک نوجوان لڑکی لگ رہی تھی۔ میں نے اپنی امی کو مسکراتے ہوئے سب کے سامنے چھیڑا کہ یہ لڑکی کہاں سے آئی ہے۔۔۔۔۔ میری امی کا چہرہ حیا اور شرم سے لال ہو گیا اور سب ہنسنے لگ گئے میری امی بھی آہستہ سے مسکرا دی اور مجھے غصے گھورا۔
میں نے پھر امی کو تنگ کرتے ہوئے کہا کہ کاش آج ابو دبئی سے پاکستان آئے ہوتے تو انکی خیر نہیں تھیں۔ ابو کا سن کر میری امی تھوڑا اداس ہو گئی۔ انکی کاجل سے سجھی خوبصورت آنکھیں پانی سے بھر گئیں۔ میں ماحول کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے فوراً سے باتوں کا موضوع بدل دیا۔ اور امی سے کہا کہ میرے لیے اس شادی میں سے اپنی جیسی خوبصورت سی لڑکی تو ڈھونڈ دیں۔ میری امی ایک دفعہ پھر مسکر ا دی ۔ میں اپنی امی سے بہت پیار کرتا تھا اور انکی آنکھوں میں ایک آنسو کا قطرہ نہیں دیکھ سکتا تھا ۔
مہندی کا فنکشن بہت زبردست جا رہا تھا۔ ہم سب کزنوں نے خوب ادھم مچا رکھا تھا۔ جب جب میری نظر امی پڑتی تو ان کے آگے پیچھے یا دائیں بائیں مجھے ڈیوڈ ہی نظر آتا۔ مجھے تھوڑا غصہ آتا لیکن پھر جب اپنی امی کو مسکراتے اور ہنستے ہوئے اس انگریز کے ساتھ بات کرتے دیکھتا تو مییں تھوڑاخود کو تسلی دیتا کہ چلوکوئی بات نہیں۔ میری امی اس کے بات کر کہ شاید اچھا محسوس کر رہی ہے۔
میری امی میرے ابو کو بہت زیادہ مس کرتی تھی۔ میرا ابو کبھی دو اور کبھی تین تین سال بعد دبئی سے گھر واپس چکر لگاتا تھا۔ ۔ شادی کے شور شرابے اور ہنگامے میں میں اتنا زیادہ مصروف ہوا کہ ہماری روانگی کا وقت آن پہنچا۔ جب ہم پانے گھر کے لیے روانہ ہو رہے تھے تو تب بھی ڈیوڈ کی نظریں میری امی پر ہی تھیں۔لیکن میری امی اب اس سے تھوڑا جھجک رہی تھی اور اسکی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھ رہی تھی۔ حالانکہ شروع میں تومیری امی بہت مسکرا مسکرا اس باتیں کرتی رہی تھی۔
ڈیوڈ کی پر مجھے اب سچ میں غصہ آ رہا تھا لیکن میں خود پر کنڑول رکھا۔ کیونکہ میں جانتا تھا کہ اب ہم لوگ گھر واپس جا رہے ہیں۔ اب  غصے کا کوئی فائدہ نہیں ویسے بھی اب یہ کونساانگریز کا بچا کہاں نظر ائے گا۔
شادی سے گھر واپس آنے کے بعد کوئی تین مہینے بعد کی بات ہے کہ میری امی نے مجھے کہا کا انکا لیپ ٹاپ ٹھیک طرح سے کام نہیں کر رہا۔ پلیز اسے ایک بار دیکھ لو کیا مسلہ ہے۔ میں نے امی سے کہا کہ رات کو آرام سے چیک کروں گا۔ ابھی میں دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیلنے جا رہا ہوں۔
میں بھول گیا کہ میں نے امی کا لیپ ٹاپ ٹھیک کرنا تھا۔ تین دن بعد امی نے مجھے غصے سے کہا کہ اگر تم ٹھیک نہیں کرنا چاہتا تو بتا دو تاکہ میں باہر سے ٹھیک کرولیتی ہوں۔ میں نے امی کو سوری بولا اور لیپ ٹاپ لے کر اپنے کمرے آگیا۔ لیپ ٹاپ وائرس کی وجہ سے بوٹ نہیں ہو ریا تھا جسے میں کچھ دیر میں ہی ٹھیک کر لیا۔ لیپ ٹاپ کے اندر میں غیر ارادہً ہی ڈیٹا چیک کر رہا تھا کہ مجھے مائی ڈاکومنٹ میں ڈیوڈ کی ایک فوٹو پڑی ہوئی نظر آئی۔ مجھے فوٹو دیکھ کر حیرت ہوئی۔ میں امی کے لیپ ٹاپ کو اچھی طرح سے چیک کرنا شروع کر دیا۔
مجھے مزید کوئی فوٹو نا مل سکی۔ لیکن مجھے یہ یقین ہو گیا تھا۔ کہ میری امی یا پھر ڈیوڈ ایک دوسرے کے رابطے میں تھے۔ اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا کہ کیوں نا امی کی میل کو چیک کیا جائے۔ میں نے برائوزر میں ای میل کے لیے ویب سائیٹ کھولی تھی امی کا ای میل آٹو سائن ان ہوگیا۔ میری امی کا لیپ ٹاپ شاید جب بند ہوا تھا تب شاید ان کا ای میل سائن ان تھا۔ میں نے انکی میلز کو چیک کرنا شروع کر دیا۔ میں میلز کی فہرست کو دیکھا تو میرا دل زور زور سے ڈھڑکنا شروع ہو گیا۔ کیونکہ سات دن پہلے کی تاریخ کی ڈیوڈ کی طرف سے میل آئی ہوئی تھی اور امی نے اس میل کو پڑا ہوا تھا۔ میں نے تیز ڈھڑکتے دل کے ساتھ اس میل کو کھولا۔ میل کا مضمون کچھ اسطرح تھا۔۔۔۔۔ میری دیسی سیکس کوئین۔ کسی ہو؟ جو ویسٹرن ڈریسز تم کو بھیجں انہں پہن کر لائیو آئو۔ مس یو سو مچھ۔ تیرے سیکسی ننگے جسم کو بھی دیکھنا کا دل کر رہا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔
میرے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا کروں۔ ڈیوڈ میری امی کے ساتھ انتا فری کیسے ہو سکتے ہیں۔ یقیناً کچھ گڑبڑ ہے۔ لہذا میں نے امی کے ان بکس کو مزید کھنگالنا شروع کیا۔ اس کے بعد ان باکس جو جو کچھ مواد نکلا اس سے یہ کنفرم ہو گیا کہ ڈیوڈ اور میری امی کے درمیان شادی والے گھر سے ہی جسمانی تعلق قائم ہو چکا تھا اور مجھے اس کی خبر ہی نا ہوئی۔ میری امی ایک وفادار ، تمیز دار اور رکھ رکھائو رکھنے والی اچھی گھریلو بیوی تھی۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ اس یہ انتہائی قدم آٹھا لیا اور ایک غیر مرد کے ساتھ جسمانی تعلق قائم کر لیا۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہاتھا۔ دل کر رہا تھا کہ ڈیوڈ اور اپنی امی کو قتل کر دوں ۔ میں غصے سے کانپ رہا تھا۔
میں لیپ ٹاپ گھر رکھ کر باہر نکل آیا اور ادھر ادھر شام تک گھومتا رہا۔ میرا غصہ تھوڑا کم ہو چکا تھا۔ لیکن ختم نہیں ہوا تھا۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ یہ سب کب اور کیسے شروع ہوا؟ اس میں میری امی کا کتنا قصور تھا؟
میں خود کو ٹھوڑا حوصلہ دیا اور رات گھر واپس آ کر اپنے کمرے میں گھس گیا۔ میں اپنی امی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ خود کو تھوڑا ریلکس کرنے کے بعد میں نے دوبارہ سے ترتیپ کے ساتھ ڈیوڈ اور امی کی ای میل میں ہونے والی تمام خطوکتابت کو تفصیل سے پڑھا تو مجھے مندرجہ ذیل تفصیل کا پتہ چلا۔
ڈیوڈ کو انڈین اور پاکستانی میچور خواتین بہت زیادہ اٹریکٹ کرتی تھیں۔ پاکستانی خواتین کے لالچ میں ہی وہ اپنے کلاس فیلو کی شادی میں شرکت کے لیے پاکستان آیا تھا۔ لیکن جب وہ شادی والے گھر پہچا تو بہت مایوس ہوا کیونکہ یہاں نوجوان لڑکیاں زیادہ تھیں اور میچور خواتین موٹی اور فربہ قسم کی تھیں۔ لیکن ایک دن بعد جب اس نے میری امی کو دیکھا تو وہ بہت خوش ہوا۔ کیوںکہ جس قسم کی میچور پاکستانی عورت اسے پسند تھی وہ تمام خصوصیات میری امی میں اسے نظر آگئی تھیں۔ ڈیوڈ نے میری امی کو قابو کرنے کے لیے اس سے میل جول شروع کر دیا ۔ لیکن ساتھ ساتھ وہ ڈر بھی رہا تھا کہ کہیں کوئی گڑبڑ نا ہو جائے۔ کیونکہ اس نے سن رکھا تھا کہ پاکستانی مرد اپنی عورتوں کے معاملے میں بہت زیادہ حساس اور غیرت مند ہوتے ہیں۔  بحرحال ڈیوڈ نے بہت طریقے سے میری امی کو اپنی باتوں سے متاثر کر لیا۔ مہندی والے دن ڈیوڈ نے میری امی پر کھلم کھلا اپنے جھوٹے پیار کا باربار اظہار کرنا شروع کردیا۔ ردعمل کے طور پر میری امی اسے بار بار سمجھاتی رہی کہ وہ شادی شدہ عورت ہے جسکی ایک مکمل فیملی ہے شوہر ہے۔ لیکن ڈیوڈ ۔بازد رہا۔ جب سب گھر والے مہندی کی رات گانے کے مقابلے میں مصروف تھے رات کافی زیادہ ہو چکی تھی۔ میری امی جلدی سونے کی عادی تھی۔ امی ۔خاموشی اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف سونے کے لیے چلی گئی۔ تب ڈیوڈ نے موقع دیکھتے ہوئے ۔ امی کےپیچے انکے کمرے میں گھس گیا
مہندی والی رات میری امی بہت پیاری لگ رہی تھی اس لیے ڈیوڈ کا دل بہت زیادہ مچل رہا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ آج اس پاکستانی حسنیہ کو ہر حال میں چھو کر رہے گا۔ میری امی کمرے میں آتے ہی سیدھی واش روم میں چلی گئی تا کہ وہ اپنے کپڑے بدل سکے۔ لیکن جیسے ہی وہ واش روم داخل ہوئی پیچے سے ڈیوڈنے واش روم کا دروازہ بند کر لیا اور میری امی کو اپنی باہنوں میں لے لیا۔ میری امی کے ہوش ہی اڑ گیے۔ ڈیوڈ نے موقع ضائع کیا بغیر فوراً ہی اپنے ہونٹ امی کے ہونٹ پر رکھ دیے اور کسنگ شروع کر دی۔ میری امی مسلسل مزاحمت کر رہی تھی اور خود کو ڈیوڈ کی گرفت سے آزاد کروانے کے لیے اپنے ہاتھ پائوں زور زور سے چلا رہی تھی۔ لیکن کوئی فائدہ نہیں تھا۔ ڈیوڈ ایک دراز قد اور چوڑے سینے والا خوبرو نوجوان تھا اور اسکے مقابلے میں میری امی ایک چھوٹی سی گڑیا لگ رہی تھی۔ چونکہ میری امی جسمانی اور جسنی پیاسی تھی لہذا وہ زیادہ دیر ڈیوڈ کے آگے مزاحمت نا کر پائی اور اس نے اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیا۔ ڈیوڈ امی کے ہونٹوں کو اور اسکی زبان کو چوس رہا تھا۔ اورامی کو کو بھی اب سرور آنا شروع ہو گیا تھا۔ ڈیوڈ نے جب پندرہ منٹ کی زبردست کسنگ کے بعد میری امی کو آزاد کیا تو وہ پوری طرح گھوم چکی تھی۔ اس سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ مزا اور غصہ دونوں ایک ساتھ اس کے دماغ پر قابض تھے۔ اسے اپنے بچے اور شوہر اور اپنی بے وفائی کا سوچ کر رونا آرہا تھا۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہ ڈیوڈ نے امی کو اپنے بازوئوں میں آٹھایا اور بیڈ پر لا کر لیٹا دیا۔ ڈیوڈ نے کمرے کے دروازے کو اندر سے لاک کر دیا۔ اتنے میں امی فورا ً بیڈ سے اٹھی اور ڈیوڈ کو کہا کہ خبردار جو تم میری طرف آئے۔ پلیز میری زندگی طبہ ہو جائی گی اگر کسی نے ہم دونوں کو دیکھ لیا۔
ڈیوڈ نے امی کو تسلی دی کہ کچھ نہیں ہوگا۔ باہر سب لوگ شادی کے ہنگامے میں مگن ہیں۔ میں تم سے بہت زیادہ پیار کرتا ہوں پلیز مجھے یہ لمحے جی لینے دو۔ ڈیوڈ نے محبت بھری باتیں کر کے امی کے دل میں خود کے لیے نرمی پیدا کر لی۔ لیکن امی بہت زیادہ ڈری ہوئی تھی۔ اس کی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ ڈیوڈ نے بیڈ کی طرف آتے ہوئے فورا ً اپنے کپڑے اتار دیے۔ امی نے اپنا منہ دوسری طرف کر لیا اور ڈیوڈ سے کہا کہ پلیز اپنے کپڑے پہن لے اور کمرے سے باہر چلا جائے۔ لیکن ڈیوڈ امی کے شربتی ہونٹوں کے رس کو پی کر مدہوش ہو چکا تھا۔ اب اسکے لیے واپسی ناممکن تھی۔
ڈیوڈ نے امی زبردستی اٹھا کر بیڈ پر پٹھکا اور انکے کپڑے اتارنے شروع کر دیے۔ امی نے ایک دفعہ پھر مزاحمت شروع کر دی ۔ لیکن جیسے ڈیوڈ نے امی کو مکمل ننگا کر لیا تو ڈیوڈ امی پر جھک گیا اور انہیں پاگلوں کی طرح کس کرنا شروع کردیا۔ کسنگ کی وجہ سے امی نے پھر خود جسمانی اور جنسی لذت کی وجہ سے ڈھیلا چھوڑ دیا۔ ڈیوڈ نے کسنگ کے بعد امی کے دونوں مموں کو ایک ایک کر اپنے منہ میں لیکر چوسنا شروع کر دیا۔ امی کے منہ سے اب سسکیاں نکل رہی تھیں۔ ڈیوڈ نے امی کو سر سے پائوں تک خوب چومااور چوسا۔ ڈیوڈ کا لنڈ راکٹ کی طرح سیدھا کھڑا ہو چکا تھا۔ ڈیوڈ نے امی کی دونوں ٹانگوں کو کھولا اور اپنے راکٹ کو سیدھا امی کی پھدی کے اندر ایک جھٹکے سے پورا داخل کر دیا۔ امی جس کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے۔ بڑے لنڈ کے اندر جاتے ہی ان کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ امی کنوری لڑکی طرح سسکنے لگی۔ ڈیوڈ ایک ردھم کے ساتھ جھٹکے مار کر میری امی کو چود رہا تھا۔ امی کو بھی مزا انا شروع ہو گیا تھا۔ امی سب کچھ بھول کر ڈیوڈ کی چدائی کا مزا لے رہی تھی۔ اور مکمل بھول چکی تھی کہ وہ اس وقت کہاں ہے اور کیا کر رہی ہے۔
باہر سب لوگ برابر گانے کے مقابلے میں شورشرابہ کر رہے تھے۔ اور کسی کو بھی نہیں پتہ تھا کہ اسی گھر میں ایک کمرے میں ایک انگریز ایک شادی شدہ عورت کے ساتھ سہاگ رات منا رہا تھا۔
مہندی کا فنکشن رات چار بچے کے قریب ختم ہوا۔ تب تک ڈیوڈ میری امی کو تین بار تسلی کے ساتھ چود چکا تھا اور میری امی کو اپنی چودائی کے لیے قائل کر چکا تھا
 مہندی کی رات خوب چودائی کے بعد جب امی سو کر اٹھی تو اس کے احساسات باالکل ویسے تھے جیسے آج سے پچیس برس قبل سہاگ رات کے بعد پہلی صبح کوانہوں نے محسوس کیا تھا۔ امی کو ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے کل والی رات سے پہلے وہ کنواری تھی اور رات کی چودائی کے بعد انکاکنوارپن اسکے دلہے نے پیلی دفعہ ختم کیا ہو۔ امی کےچہرہ پر ئنی نویلی دلہن والے تاثرات تھے۔۔
کمرے کے باہر مکمل خاموشی تھی۔ امی نے باہر جا کر دیکھا تو سب لوگ ابھی تک سو رہے تھے۔ ویسے بھی مہندی اور بارات کے دن میں ایک دن کا وقفہ رکھا گیا تھا۔ تاکہ مہندی کے فنکشن کو رات گئے تک زیادہ انجوائے کیا جا سکے۔ لہذا سب گھر والے اطمینان سے سو رہے تھے۔ امی نے باتھ روم کا رخ کیا۔ تا کہ رات والی نشانیاں صاف کی جا سکیں۔ انہوں نے اپنے کپڑے اتارنے کے بعد جسم کا جائزہ لیا تو انہیں اپنے پیٹ، ٹانگوں اور مختلف حصوں پر ڈیوڈ کےسوکھے ہوئے مادہ منویہ کےنشانات نظر آئے۔ سفید دھبوں کو دیکھتے ہی ایک لطیف سا احساس اور خیال امی کے ذہن میں آگیا۔ امی کی آنکھوں کے سامنے رات والی چودائی کی ساری فلم چل پڑی۔ اسی دوران ان کے مموں کے نپل اکڑ گئے۔ اور چوت میں ہلکاہلکا سا گیلاپن محسوس ہونے لگا۔
کل رات تھوڑی دیر کے لیے امی کے ذہن میں گناہ اور شوہر سے بے وفائی کا خیال آیا تھا۔ لیکن ڈیوڈ نےچودائی والا ایسا جادو کیا کہ دوبار وہ خیال نا آیا۔  حالانکہ امی ہر حوالے سے ایک کامیاب اور اچھی زندگی گزار رہی تھی۔ میاں بھی بہت خیال رکھنے والا تھا۔ پیارے اور سلجھے ہوئے بچے بھی تھے۔ لیکن امی نے کل رات والی چودائی کے بعد ایسا محسوس کیا کہ جیسےان کی زندگی میں کوئی کمی سی تھی۔ جیسے  وہ صدیوں سے شہوانی وجنسی تسکین کے لیے تڑپ رہی تھی اور بہت پیاسی تھی۔ امی اب ڈیوڈ کی مکمل غلام بن چکی تھی۔
نہانے کے بعد امی نے ایک دفعہ پھر باہر کا رخ کیا ۔ صبح کے دس بج چکے تھے۔اور شاید سب مہمانوں اور میزبانوں کا دوپہر میں اٹھنے کا ارادہ تھا۔ امی کا دل چاہ رہا تھا کہ ڈیوڈ اٹھ جائے۔ تمام گورے مہمانوں کے لیے سونے کا انتظام پیلی منزل پر کیا گیاتھا۔ امی باربار صحن کے چکر لگا رہی تھی اور باربار اوپر پہلی منزل کی طرف نگاہ اٹھا کر  دیکھ رہی تھی۔ امی ڈیوڈکی قربت کے لیے مکمل پاگل ہو چکی تھی۔ جیسے پچھلی رات سے پہلے ڈیوڈ امی کے اردگرددم ہلاتا پھر رہا تھا ویسا ہی حال اب امی کا ہوگیا تھا۔ امی نے اپنی سہیلیوں سے سن رکھا تھا کہ کچھ مرد ایک ہی رات میں اپنی بیوی یا عورت کو اپنا غلام بنا لیتے ہیں۔ پر امی کو ان باتوں پر یقین نہیں آتا تھا۔ امی کا خیال تھا کہ عورت مرد کی توجہ اور اسکی طرف سے دی گئی محبت کی وجہ سے اسکی گرویدہ ہوتی ہے۔ لیکن ڈیوڈ نے تو امی کو اپنی شاندار چودائی کا گرویدہ بنا لیا۔ اسکا ثبوت یہ تھا کہ ایک مکمل گھریلوشریف عورت دوبارہ چدائی کے لیے ایک غیر مرد کا نتظار کر رہی تھی۔
امی کو ڈیوڈ کے کمرے کا پتہ تھا۔ وہ اپنے دوست کے ساتھ کمرہ شئیر کررہا تھا۔ امی نے ہمت اکٹھی کی اورڈیوڈ کی کمرے کی طرف چل پڑی۔ لیکن جیسے ہی سیڑیاں چڑ کر اوپر پہنچی تو امی کی مشرقی جھجک اور شرم واپس لوٹ آئی۔ امی جنسی لذت اور مشرقی شرم کے درمیان کچھ دیر کے لیے کنفیوز کھڑی سوچتی رہی ۔ لیکن اسے کچھ سوجھائی نہیں دے پا رہا تھا۔ آخر کار شہووانی جزبات ہربات پر غالب آگئے۔ امی نے تیز ڈھڑکتے دل کے ساتھ ڈیوڈ کے کمرے کی طرف بڑھتی رہی ۔ دروازے پر پہنچ کر امی نے لمبا سانس لیا۔ ایک دوبار ادھرادھر دیکھا اور تسلی کی کہ کوئی جاگ تو نہیں رہا۔ امی نےدروازے کو اندر کی طرف آہستہ سا دھکیلا۔ پر دروازہ اندر سے بند تھا۔ امی دروازے پر دستک دینا چاہتی تھی پر کوئی آواز سن کر اٹھ نا جائے لہذا چاہنے کے باوجود وہ ایسا نہ کر سکیں۔
مجبوراً امی کو واپس اپنے کمرے میں لوٹنا پڑا۔ امی بہت زیادہ بے چین تھی۔ انہیں کچھ سمجھ نا آرہا تھا۔ کہ ڈیوڈ کو کیسے اٹھائے۔ کوئی آدھے گھنٹے بعد آخرکار قدرت نے امی کی سن لی ۔ امی جیسے ہی اپنے کمرے سے باہر نکلی تو سامنے ہی جمائی لیتا ڈیوڈ کھڑا تھا۔ جیسے ہی امی کی آنکھیں ڈیوڈ کے سار چار ہوئیں۔ وہ شرم اور گھبراہٹ سے ادھر ادھر دیکھنا شروع کردیا۔ امی کا دل زور زور سے دھڑکا رہا تھا۔ اور وہ بول نہیں پا رہی تھیں۔ ڈیوڈ امی کی مشرقی شرم اور معصوم گھبراہٹ سے محظوظ ہو رہا تھا۔ ڈیوڈ نے اپنے چارو طرف گھوم کر دیکھا کہ کوئی جاگ تو نہیں رہا پھر امی کا ہاتھ پکڑا اور اسے کھینچتے ہوئے کچن میں لے گیا۔
کچن کی الماری اوردروازہ جالی دار تھے اور دونوں صحن کی طرف کھلتے تھے۔ دن کی روشنی جالی کے پار اندر کچھ نظر نہیں آتا تھا جبکہ اندر سے باہر کی روشنی صاف دیکھائی دیتا تھا۔ کچن میں آتے ہی ڈیوڈ نے امی کو اپنی باہنوں میں بھر لیا اور زبردست کسنگ شروع کردی۔ امی کی پیٹھ دروازے اور الماری کی طرف تھی جبکہ ڈیوڈ کو دروازے اور الماری کے باہر صاف دیکھائی دے رہا تھا۔ وہ امی کو کسنگ بھی کر رہا تھااور ساتھ میں باہر صحن میں نظر بھی رکھے ہوئے تھا۔ امی کی دل کی مراد پوری ہو چکی تھی۔ اور وہ کسنگ کا بھرپور ردعمل دے رہی تھی۔ کل رات سے پہلے امی نے کبھی بھی کسنگ کا مزہ نہیں چکھا تھا۔ ابو نے کبھی بھی امی کو کس نہیں کیا تھا۔ البتہ گالوں اور باقی جسم پر بوس و کنار زور کرتے تھے۔ ڈیوڈ پچھلے پندرہ منٹ سے کبھی امی کے نچلے ہونٹ کو اپنے منہ میں لے کر چوستا تو کبھی اوپر والے ہونٹ کو۔ کبھی اپنی پوری زبان امی کے منہ کے اندر ڈالتا۔ ردعمل کے طور پر امی ڈیوڈ کی زبان کو لولی پوپ کی طرح چوستی۔ کبھی امی اپنی زبان کو ڈیوڈ کے منہ میں داخل کر دیتی۔ امی ڈیوڈ کے ہر عمل کو بہت جلدی سیکھ رہی تھی۔
ڈیوڈ کے ناصرف ہونٹ اور زبان امی کی اچھی طرح چیک کررہے تھے بلکہ اسکے دونوں ہاتھ امی کے جسمانی خدوخال کی پیمائش کر رہے تھے۔ کبھی ڈیوڈ امی کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا کبھی امی کی گانڈ کو دباتا تو کبھی ایک ایک کر امی کے ممے قیمض کے اوپر سے ہی دباتا اور مسلتا۔ جب جب ڈیوڈ گانڈ اور مموں کو اپنا نشانہ بناتا۔ امی کے منہ سے سسکاری نکتی۔
کم از کم آدھے گھنٹے کی شاندار کسنگ کا اختتام باہر صحن سے آنے والی آواز سے ہوا۔ باہر کوئی جاگ گیا تھا۔آواز سن کا امی کا رنگ فق ہو گیا۔ وہ اسے ڈر رہی تھیں کہ جیسے کسی نے انہیں رنگے ہاتھوں چدواتے ہوئے پکڑ لیا ہو۔  امی نے ڈیوڈ سے الگ ہو کر فوراً ناشتہ بناباا شروع کر دیا تا کہ کسی کو شک نہ ہوسکے۔ ڈیوڈ کچن میں رکھی ہوئی ایک کرسی پر خاموشی سے بیٹھ گیا۔ 15 منٹ خاموشی سےٹوسٹوں کا ناشتہ تیارکرنےبعد ڈیوڈ اور امی نے غورسے باہر دیکھا کوئی ہے یا نہیں۔ باہر کوئی بھی نہیں تھا۔ جوبھی اٹھا تھا وہ سب کو سوئے ہوئے دیکھ کر دوبارہ پھر اپنے کمرے میں جا کر سو گیا۔ امی کا دیحان باہر صحن کی طرف تھا کہ اچانک پیچھے سے ڈیوڈ نے امی کو اٹھا کر اپنی گود میں بھٹا لیا۔ امی کے منہ سے چیخ نکلتے کلتے ہی رہ گئی۔
ڈیوڈ نے امی سے کہا کہ وہ اپنے ہونٹوں سے اسے ٹوسٹ کھلائے۔ امی کا ابھی بھی دیھان باہر کی طرف تھااور وہ مسلسل ڈر رہی تھیں کہ کوئی آنہ جائے۔ ڈیوڈ نے ٹوسٹ اٹھایا اور امی کو کھانے کے لیے کہا۔ امی نے ایک لقمہ لیا اور ٹوسٹ کھانا شروع کر دیا۔ ڈیوڈ نے اچانک اپنے ہونٹوکو امی کے ہونٹوپر رکھ دیا اور اپنی زبان کو امی کے منہ میں ڈال دیا۔ اور ٹوسٹ کے لقمے کو زبان کے ذریعے اپنے منہ میں کھینچ لایا۔ امی کو ڈیوڈ کا یہ رومنیٹک طریقہ  بہت پسند آیا۔ دونوں نے چار عدد ٹوسٹ اسی طرح کسنگ کرتے ہوئے ایک دوسرے کو کھلائے۔
ڈیوڈ نے امی کی قیمض کو نیچے سے اوپر اٹھایااور بلیک برا مین سے دونوں ممے باہر نکال لیے۔ میز پر پڑی ہوئی مکس فروٹ کے جیم کے جار کو اٹھایا اور اس میں سے اپنی انگلی سے جیم باہر نکال کر اسے امی کے دونوں مموں بشمول نپل پر پیسٹ کر دیا۔ امی کی سمجھ نہیں آیا کہ ڈیوڈ کیا کر رہا ہے۔ لیکن جیسے ہی ڈیوڈ دیوانا وار امی کے دونوں نپلوں اور مموں کو چوسنا شروع کیا تو امی سروراور جنسی لذت کی انہتا کو پہنچ گئی۔ ایسا سیکس امی نے نا کسی سے سنا تھا اور نا ہی دیکھا تھا۔ ڈیوڈ کے طریقے امی کو اسکا مزید گرویدہ بنا رہے تھے۔ ٹوسٹ اور میٹھے مموں اور نپلز کا ناشتے کرنے کے بعد ڈیوڈ نے ابھی امی کی شلوار پر اپنا ہاتھ رکھا ہی تھا کہ گیٹ کی بل زور سے بج اٹھی۔ وہ دونوں گھبرا کر اٹھے۔ امی نے فورا ً اپنے کپڑے درست کیے اور ڈیوڈ کو دوبارہ ملنے کا کہہ کر باہر نکل گئی۔ ڈیوڈ بھی اوپر اپنے کمرے کی طرف لپکا۔
 کچن میں ڈیوڈ کے ساتھ مست رومانس کرنے کے بعد شام تک دونوں کو دوبارہ اکیلے ملنے کا موقع نا مل سکا۔ امی کا ذہن شہوانی خیالات اور سرور میں مدہوش ہو چکا تھا اور وہ ڈیوڈ کی قربت کے لیے ایسی دیوانی ہو چکی تھی کہ اس نے آج رات ہرحال میں ڈیوڈ سے چودائی کروانے کا مکمل فیصلہ کر لیا تھا۔ امی کوشاید اپنی شادی کے اوائل دنوں میں بھی چدائی کا اتنا مزا اور لطف نہیں آیا تھا جتنا وہ اب محسوس کر رہی تھی۔ اس نے کہیں سے سن رکھا تھا کہ لڑکی کی چھڑتی جوانی اور عورت کی جاتی جوانی میں عورت کی حالت سیکس کے معاملے میں ایک جیسی ہوتی ہے یعنی دونوں حالتوں میں عورت بہت گرم ہوتی ہے اور ہر قسم کی چدائی کے لیے تیاررہتی ہے جب جب اسے موقع ملتا ہے۔ پہلے پہل تو امی اسی باتوں پر یقین نہیں رکھتی تھی لیکن اب جب کہ اسکی خود کی حالت ایسی ہو چکی تھی اور وہ ایک غیر مذہب، غیر قوم اور ایک غیر مرد سے بھی چدائی کے لیے تیار ہو گئی تھی ۔ اب بات اسکی سمجھ میں آگئی تھی۔
امی کی ایک دو قریبی سہلیوں جن کے میاں یا تو بیگمات کو اب وقت نہیں دیتے تھے یا جنسی جذبات یا طاقت کھو چکے تھے وہ چوری چھپے غیرمردوں سے وقتا فوقتا چدواتی رہتی تھیں۔ ان کے زیادہ تر شکار جوان کالج کے لڑکے تھے۔ امی اکثر انہیں سمجھاتی رہتی تھی کہ یہ سب بہت غلط ہے اور اگر کسی دن ان کے شوہروں یا گھر والوں کو تھوڑی سا بھی شک ہوگیا تو ان کی زندگیاں تباہ ہو جائیں گی۔ لیکن اب وہی سمجھدار اور نیک پاک عورت ایک انگریز لڑکے سے نا صرف اچھی طرح سے اپنی چودائی کروا چکی تھی بلکہ ابھی مزید چودائی کے لیے ترس رہی تھی۔
گھر دوپہر کے بعد سب لوگ جاگ چکے تھے اور گھر میں ہر طرف رش تھا ۔ مغرب کے بعد کچھ دیر کے لیے امی اور ڈیوڈ کو کچھ وقت اکیلے میسر ہوا تو دونوں نے تسلی بخش چودائی کے لیے رات گھر میں کہیں اکیلے میں ملنے کا پروگرام بنایا۔ دونوں کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کہاں ملا جائے۔ ڈیوڈ نے امی سے کہا کہ وہ پورے گھر کا جائزہ لے ۔ اور کوئی محفوظ جگہ تلاش کرے۔ امی نے تقریبا گھرکا ہر کونا کونا دیکھ ڈالا لیکن کوئی محفوظ جگہ نا مل سکی۔ امی جب صحن سے اپنے کمرے کی طرف جانے لگی تو ڈیوڈ نے گزرتے گزرتے امی سے جلدی میں کہا کہ وہ رات ٹھیک بارے بجے مکمل تسلی کے بعد سب سے اوپر والی چھت پر آجائے۔ امی سوچنے لگی کہ اوپر تو سوائے پانی والی ٹینکی کے کوئی بھی جگہ نہیں چھپنے کےلیے۔ بلکہ مکمل کھلی چھت تھی۔ بحرحال امی نے ڈیوڈ کی بات کو ذہن نشین کر لیا اور رات کی چودائی کے لیے تیاریاں شروع کردی۔ گھر والے سارے یہ سمجھ رہے تھے کہ امی کل کی برات کے لیے تیاریاں کر رہی ہے۔ لیکن کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ امی اس شادی والے گھر اپنی دوسری سہاگ رات منانے کے لیے تیاری کر رہی ہے۔ برات چونکہ علی صبح نکلنا تھا لہذا گھرمیں زیادہ تر مہمان  دس بجے کے قریب اپنے اپنے بستروں میں چلے گئے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ امی انہے سونے کے لیے کہہ رہی تھی لیکن کوئی بھی سونے کو تیار نہیں تھا۔ سب لڑکے اور لڑکیاں صحن میں بیٹھے انتاکشری کھیل رہے تھے۔ گھڑی نے جب بارہ بجائے تو امی کی تڑپ میں اضافہ ہو چکا گیا۔ امی فورا ڈیوڈ کے پاس چھت پر پہچنا چاہتی تھی لیکن بچے ابھی بھی گانے والی گیم مصروف تھے۔ امی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ ان سب سے آنکھ بچاتے ہوئے تیسری منزل کی چھت پر چڑھ آئی۔ ڈیوڈ پہلے ہی وہاں موجود تھا۔ امی کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ امی نے ڈیوڈ سے کہا کہ ابھی بھی گھر کے کافی افراد جاگ رہے ہیں اور کوئی بھی چھت پر کسی بھی وقت آسکتا ہے۔
ڈیوڈ نے امی سے کہا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں مجھے ایک بہترین اور محفوظ جگہ مل گئی ہے۔ امی فورا پوچھا کہ کونسی جگہ۔ ڈیوڈ نے سیھڑیوں کی چھت کے اوپر بنی ہوئی بڑی پانی کی ٹینکی طرف اشارہ کیا۔ امی نے حیران ہو کر ڈیوڈ کی طرف دیکھااور کہا تم شاید مذاق کر رہے ہو۔ ڈیوڈ نے کہا کہ قسم سے یہ اس گھر میں سب سے زیادہ محفوظ جگہ ہے۔ امی نے فورا کہا کہ پہلی بات یہ کہ ٹینکی کے اندر کیسے جائیں گے اور دوسری بات یہ کہ ٹینکی کے اندر اچھا خاصا پانی ہے۔ ڈیوڈ بولا: ہمارے ہاں لوگ تالاب میں سیکس کرنا بہت پسند کرتے ہیں اورمیرا یقین کرو تمہیں تالاب والا مزہ اس ٹینکی میں آئے گا۔ میں ٹینکی کا مکمل جائزہ لے چکا ہوں۔ اند جانے کے لیے کافی بڑا ڈھکن ہو جو کہ میں سائیڈ پر کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ ٹینکی کے اندر چار فٹ تک پانی ہے جس میں ہم خوب مستی کر سکتے ہیں۔ ٹینکی چونکہ اس گھر کی تیسری منزل پر ہے اور آس پاس کوئی بھی گھر اتنا اونچا نہیں ہے۔ تیسری منزل پر مکمل اندھیرا ہے لہذا ہم دونوں ایک ایک کر کے ٹینکی میں جائیں گے۔ اندھیرے کی وجہ سے کسی بھی نظر ہم پر نہیں پڑھے گے۔ ویسے پورا محلہ سو چکا ہے اور ہر طرف سناٹا ہی سناٹا ہے ما سوائے اپنے گھر کے ۔
امی نے مسکراتے ہوئے ڈیوڈ کی طرف دیکھا اور پوچھا۔ کہ چلو یہ سب تو میری سمجھ میں آگیا لیکن ٹینکی کے اوپر ہم کیسے چھڑیں گے۔ ڈیوڈنے امی کو دونوں کندھوں سے پکڑ کر دوسری طرف گھمایا اور ہاتھ کے اشارہ دیوار کے ساتھ پڑھی ہوئی چھوٹی سی لکڑی کی بنی ہوئی سیھڑی کی طرف کیا۔ امی ڈیوڈ کی طرف دیکھ کر مسکرا دی۔ امی کی آنکھیں اپنی کچھ لمحوں بعد ہونے والی شاندار چودائی کو ابھی سے دیکھ پا رہی تھیں۔
دونوں ادھر ادھر مکمل تسلی کے بعد ٹینکی کے اوپر چڑھ گئے۔ پہلے امی پھر ڈیوڈ اوپر آیا۔ ڈیوڈ نے سیڑھی کو بھی اوپر کھینچ لیااور ٹینکی کی چھت پر لیٹا دیا۔ امی نے ٹینکی کے چارسو نظر دوڑائی۔ سب گھروں کی چھتوں پر اندھیرا تھا۔ خیر امی نے جیسے ہی ٹینکی کے اندر اپنے پائوں لٹکائے تو ٹھنڈا پانی سے امی کو جھٹکا لگا۔ امی نے ڈیوڈ سے کہا کہ پانی میں گئے تو سارے کپڑے بھیگ جائیں گے۔ ڈیوڈ نے کہاکہ اپنے کپڑے یہیں اتار دو اور ٹینکی کی چھت پر رکھ دو۔ ٹینکی چونکہ کافی اونچی ہے اور نیچے چھت پر کھڑے ہوئے کسی کی نظر نہیں پڑتی کہ ٹینکی کی چھت پر کیا پڑا ہوا ہے۔ امی نے ڈیوڈ کی بات مانتے ہوئے اپنے کپڑے اتارے اور ٹھنڈے پانی میں اتر گئی۔ امی کو تھوڑی سی کپکپی سی ہوئی۔ گو کہ موسم ٹھنڈا نہیں تھا لیکن رات کو ٹینکی کا پانی تھوڑا ٹھنڈا محسوس ہو رہا تھا۔ ٹینکی کافی چوڑی تھی اور چھ فٹ کے قریب اونچی تھی۔ لہذا امی ٹینکی کے اندر پانی میں کھڑی ہوگئی۔ اندر کافی اندھیرا تھا۔ لیکن جیسے ہی ڈیوڈ اندر آیا تو اس کے ایک ہاتھ میں موبائل فون تھا جس کی ٹارچ اون تھی۔ ٹینکی کے اندر مکمل روشنی ہو گئی۔ اب ہر چیز نمایاں نظر آرہی تھی۔ امی کے ممے پانی کی سطح تک تھے یعنی پانی کے ارتعاش کی وجہ سے کبھی ممے پانی میں چلے چاتے تو کبھی پانی کے اوپر نظر آتے۔
ڈیوڈ نے اپنے موبائل کو ایک شاپر میں ڈال کر ٹینکی کے اندر آتے پائپ کے ساتھ باندھ دیا۔ امی یہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہی تھی کہ کیسے وہ ایک شادی والے گھر تیسری منزل پر موجود پانی والی ٹینکی میں الف ننگی ایک غیر مرد کے ساتھ کھڑی تھی۔ اور ابھی کچھ ہی دیر میں ٹینکی کے اندر اسکی شاندار چودائی شروع ہونے والی تھی۔ ۔ امی ابھی اپنے خیال میں گم تھی کہ ڈیوڈ نے امی کو اپنی باہنوں میں لے لیا اور امی کو فرنچ کسنگ شروع کر دی۔ ڈیوڈ کے دونوں ہاتھ پانی کے اندر موجود امی کے جسم کو ٹٹول رہے تھے جبکہ ڈیوڈ بہت سخت قسم کی فرنچ کسنگ امی کو کر رہا تھا۔ ڈیوڈ کچن والی کسنگ سے زیادہ ہارڈ قسم کی کسنگ کر رہا تھا۔ امی کی ہونٹوں کو اپنے دانتوں تلے لے کر کاٹ رہا تھا۔ امی کو تکلیف کے ساتھ ساتھ بہت سرور بھی آرہی تھا۔ اچانک ڈیوڈ نے امی کو تھوڑا اونچا کیا اور دونوں مموں کو چومنے اور چوسنے لگا۔ دونوں نپلوں کو منہ لے کر کاٹنے لگا۔ جیسے جیسے وہ نپل پر کاٹتا امی کے منہ سے زوردار سسکاری نکلتی۔ امی سمجھ چکی تھی کہ آج ان کی چوت کی خیر نہیں۔ امی نے پانی کے اندر اپنے ہاتھ ڈال کر ڈیوڈ کے لنڈ کو پکڑ لیا۔ پانی کے اندر وہ بالکل ایک مچھلی کی طرح لگ رہا تھا۔ تقریبا آدھے گھنٹے کی شدید قسم کی کسنگ اور مموں کی چوما چاٹی کے بعد ڈیوڈ نے امی کوکمرے سے پکڑکر اوپر اٹھایا۔ امی کا جسم پانی میں ہونے کی وجہ سے آرام سے اوپر کی طرف اٹھ گیا۔ ڈیوڈ نے امی کو مزید اوپر کیا کہ امی کا مموں تک جسم کا حصہ ٹینکی کے ڈھکن سے باہر نکل گیا۔ ڈیوڈ نے امی کی دونوں ٹانگوں کو کھول کرانہے اپنے کندھوں پر اس طرح رکھا کہ امی کی چوت ڈیوڈ کے ہونٹوں کے بالکل سامنے آگئی۔ ڈیوڈ نے فورا اپنی منہ کو چو ت میں گھسیڑا اورکسنگ کی طرح شدید قسم کی چوت کی لیکنگ شروع کر دی۔ امی کے منہ سے سسکاریاں نکلیں امی نے فورا اپنے منہ پر دونوں ہاتھ رکھ لیے تا کہ کوئی انکی آواز نا سن لے۔ ٹینکی کے اندر ڈیوڈ امی کی چوت کو چاٹ رہا تھا جبکہ امی کا سر سے لیکر مموں تک کا جسم کا حصہ ٹینکی کے مین ڈھیکن سے باہر نکلا ہوا تھا۔ تقریبا رات کا ایک بجنا والا تھا۔ نیچے سے ابھی بچوں کے گانے کی آوازیں آرہی تھیں۔ امی جنسی سرور میں مدہوش ہو کر محلہ میں موجود چھتوں کو دیکھ رہی تھی کہ کہیں کوئی اسے دیکھ تو نہیں رہا۔ ڈراور جنسی لذت کے حسین امتزاج کی وجہ سے امی ڈیوڈ کے منہ میں ہی ڈسچارج ہوگئی۔
 
ڈیوڈ نے امی کی چوت کو ایک ماہر کی طرح چاٹتے ہوئے ڈسچارج کروادیا۔ لذت اور سرور سے امی کے منہ سے سسکاریاں اور چیخ نکلتے نکلتے ہی رہ گئی امی نے اپنے منہ کو دونوں ہاتھوں سے سختی سے بند کر لیا تھا۔ امی کی چوت کو کسی بھی زبان نے پہلی دفعہ چودا تھا۔ اس لیے امی ایک عجیب پر بہت لطیف سے احساس میں گھری ہوئی تھی۔ پاکستانی مرد خواتین سے اپنے لنڈ کو چوپا تو لگوا لیتے ہیں۔ لیکن خواتین کی چوت کو چومنا اور چاٹنا پسند نہیں کرتے۔ پاکستانی خواتین اس حوالے سے تھوڑی بدقسمت ہیں۔ لیکن جب کبھی بھی پاکستانی روایتی عورت کو کسی غیر قوم یعنی یورپی یا مغربی مردوں سے ڈیٹ کا موقع ملتا ہے۔ تب پاکستانی عورت خوب مزے سے چدواتی ہے اور خوب جنسی لذت اور مزا سمیٹتی ہے۔ ڈیوڈ نے امی کی ٹانگوں کو اپنے کندھوں سے نیچے اتارااور انکے سر سے پکٹر کر ایک زوردار قسم کی فرنچ کس کی۔ امی نے ڈیوڈ کے منہ میں اپنی چوت کے پانی کی مہک کو محسوس کیا۔ ڈیوڈ نے امی سے کہا کہ اب وہ اس کے لنڈ کا زبردست سا چوپا لگائے۔ امی نے آج تک اپنے شوہر کے لنڈ کو چوپا نہیں لگایا تھا۔ لیکن امی ڈیوڈ کی مکمل جنسی غلام بن چکی تھی۔ جو بھی وہ کہتا امی فورا اس پر عمل پیرا ہو جاتی۔ اگر آسان الفاظ میں کہوں تو یہ کہ ڈیوڈ نے میری امی کو دو دن میں ہی مکمل سلٹ بنا دیا تھا۔ ڈیوڈ کا لنڈ پانی کے اندر تھاٹینکی کے اندر جو پانی تھا اسکی سطح ڈیوڈ کے پیٹ تک تھی۔ امی نے ڈیوڈ سے پوچھا کہ وہ اسکے لنڈ کو کس طرح چوسے۔ ڈیوڈ نے فورا کہا کہ پانی کے اندر ہی بیٹھ جائو اور وقفے وقفے سے میرے لنڈ کو چوپا لگائو۔ امی نے اسے کہا یہ تھوڑا مشکل ہے۔ کنونکہ پانی کے اندر زیادہ دیر سانس نہیں روکا جا سکتا تھا۔ لیکن ڈیوڈ بضد رہا اور امی کو ایک دفعہ پھر اپنے جنسی آقا کا حکم ماننا پڑا۔ امی کے لیے سیکس میں یہ سب کچھ نیا تھا۔ امی نے پانی کے اندر ڈپکی لگائی۔ پانی چونکہ بالکل صاف تھا اس لیے ٹارچ کی لائٹ سے ڈیوڈ کی ٹانگیں اور اسکا کھڑا ہوا لمبا اور موٹا لنڈ صاف دیکھائی دے رہا تھا۔ امی نے آگے بڑھ کر اسکے لنڈ کو دائیں ہاتھ سے پکڑا۔لنڈ کو ہاتھ کے ذریعے اوپر نیچے کر کے اسکے اکڑائو کو مزید بڑھایا۔ اتنے میں امی نے اپنے سانس کو جو روکا تھا وہ مزید نا روک سکیں اور فورا مزید سانس لینے کے لیے اپنے سر کو پانی سے باہر نکالا۔ ڈیوڈ نے امی کو شاباش دیتے ہوئے دوبارہ پھر سر سے پکڑ کر پانی کے اندر بھیج دیا۔اس بار امی نے پانی کے اندر آتے ہی فورا اپنا منہ کھولا اورڈیوڈ کے پانی میں تنے ہوئے لند کو اپنے منہ میں لے گئی۔ لنڈ کے ساتھ کچھ کچھ پانی بھی امی کے منہ کے اندر چلا گیا۔ امی کو ایک دو ہچکیاں اور غوطے آئے لیکن امی نے اپنے ہونٹوں کو ڈیوڈ کے لنڈ کی اوپری سطح پر اس طرح دبا کر کر فکس کر دیا کہ مزید پانی کا منہ کے اندر جانے کا امکان ختم ہو گیا۔امی نے لنڈ کو منہ کے اندر باہر کرتے ہوئے لولی پاپ کی طرح چوسنا شروع کردیا۔ امی اس حوالے سے باالکل ہی انجان تھی۔ لیکن ایک اچھے طالب علم کی طرح خوب کوشش کر کے ڈیوڈ کی داد وصول رہی تھی۔ ڈیوڈ کے ساتھ ساتھ امی بھی پانی کے اندر چوپے کو اب خوب انجوائے کر رہی تھی۔ امی کافی دیر سے ڈیوڈ کے لنڈ کا چوپا لگا رہی تھی۔ لیکن وہ چھوٹنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ امی مسلسل پانی کے اندر بار بار جا کر اسکے لنڈ کو چوس رہی تھی۔ اور بار بار سانس لینے کے لیے پانی سے باہر اپنا سر نکالتی۔ آدھی رات بھی بیتتی جا رہی تھی۔ امی ڈیوڈ کو ڈسچارج کروانے میں مکمل ناکام ہو چکی تھی۔ چنانچہ ڈیوڈ نے فیصلہ کیا کہ اپنے لنڈ کو امی کی پیاسی اور پانی میں بھیگی ہوئی چوت میں ڈال کر ڈسچارج کروانے کے لیے راضی کروں۔ لہذا امی کو پانی کے اندر ہی ڈیوڈ نے گھوڑی کی طرح کھڑا کیا اورپیچھے سے اپنے تنے ہوئے لنڈ کو پانی اندر ہی امی کی چوت کے اندر ایک جھٹکے سے داخل کر دیا۔ پانی کے اندر امی کو اپنی چوت میں تنے ہوئے لند کی سختی کچھ کم محسوس ہو رہی تھی۔ لیکن ڈیوڈ برق رفتاری کے ساتھ امی کو چود رہاتھا۔ امی کے کھلے ہوئے بالوں کو اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑا ہوا تھا اور بار بار ہر جھٹکے کے ساتھ پیچے کی طرف کھینچ رہا تھا۔ امی کو بالوں کے کھینچنے پر تکلیف محسوس ہو رہی تھی۔ لیکن ساتھ ساتھ سرور اور مدہوش بھی غالب آچکی تھی۔ ڈیوڈ کبھی کبھی ایک ہاتھ سے امی کے دونوں مموں کو بھی دبا لیتا اور کبھی مموں کے دونوں نپلوں ایک ایک کر کے ہاتھو ں کے ساتھ مسلتا۔ امی کی درد سے سکسیاں نکل رہی تھی۔ ڈیوڈ شاید کلائمیکس پر پہنچنے والا تھا کیوںکہ اب اس کے جھٹکوں میں بہت اضافہ ہو گیا تھا۔ڈیوڈ کے جھٹکوں کی وجہ سے ٹینکی کے پانی میں ابال سا پیدا ہو گیا تھا۔ کچھ ہی لمحوں بعد ڈیوڈ میری امی کی چوت میں ہی ڈسچارج ہو گیا۔ امی خی چوشی دیدنی تھی۔ وہ خود کو دنیا کی خوشقسمت عورت سمجھ رہی تھی۔ فارغ ہونے بعد ڈیوڈ اور امی نے ایک دفعہ پھر خوب کسنگ کی۔ دونوں کا دل ابھی بھی یہ چاہ رہا تھا کہ چودائی کی جائے لیکن ساری رات تقریبا بیت چکی تھی۔ صبح بارات تھی اور ابھی دونوں نے آرام بھی کرنا تھا

Posted on: 03:57:AM 05-Jan-2021


0 0 250 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 75 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 59 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com