Stories


میرا سسرال از علی خان لولائی

نامکمل کہانی ہے

میرا نام رضیہ ہے میری عمر 22 ہے  میں پنجاب کے ایک گاؤں میں رہتی ہوں مجھے قدرت نے حسن کی دولت سے خوب مالا مال کیا تھا میرا جسم دودھ مکھن کھا کر خوب پھل پھول گیا تھا۔میں گاؤں کی مٹیا ر  تھی ۔مجھ سے بڑی دو بہنیں ہیں میں نے میٹرک تک تعلیم گاؤں کے اسکول سے حاصل کی تھی
پر  گاؤں میں اسکول نا ہونے کی وجہ سے میں تعلیم جاری نا رکھ سکی۔میرا والد ایک غریب کسان تھا اسکی زیادہ تر زمین بینک کے پاس گروی پڑی تھی جو اس نے میری بڑی بہن کی شادی کے وقت گروی رکھی تھی پر شادی سال بھی نا چل پائی اور میری بہن طلاق لے کر گھر بیٹھ گئی۔
ایک دن میں اپنی سہیلی کے گھر سے واپس آئی تو گھر کے باہر گاڑیا ں کھڑی تھیں گھر میں مہمان آئے ہوئے تھے ۔میں نے دیکھا تو میرے پنڈ کا چودھری اندربیٹھا  ہواتھا ساتھ کچھ مہما ن اور بھی تھے،
چودھری :ویکھ امام دینا انج دا رشتہ فیر نہی اونا تیری دھی راج کرے گی راج   (دیکھو امام دین اس طرح کا رشتہ پھر نہیں آئے گا تیری بیٹی راج کرے گی راج)
میرا والد:چودھری صاب لوگ کی کین گے وڈیا ں دی جگہ دے چھوٹی دا ویا ہ کر دیتا وا (چودھری صاحب لوگ کیا کہیں گے بڑی بیٹیوں کی جگہ چھوٹی کی شادی کردی ہے)
چودھری:توں فکر نا کر تیری دونوں بیٹیاں دی شادی دا سارا خرچہ میں کراں گا تو ں ہاں کر دے ۔تیری زمین وی میں چھڑوا دیواں گا تیری دھی دے ناں 20 کلے زمین ناں کرا دے گا میرا ویر۔(تم فکر نا کرو تمہا ری دونوں بیٹیوں کی شادی کا خرچہ بھی میں کروں گا تم ہاں کر دو تمہا ری زمین بھی میں چھڑوا دوں گا اور تمہا ری بیٹی کے نام  میرا بھائی 20  کلے زمین بھی  کروا دے گا۔
میرے باپ نے سر جھکا دیا ۔مجھے امی نے چائے لے جانے کو کہا میں نے ٹرے پکڑ کر اندر داخل ہوئی تو سامنے ایک 60 سال کا کلف لگے کپڑوں میں ملبوس آدمی بیٹھا تھا جو شکل سے ہی کسی پنڈکا چودھری لگتا تھا۔ اس کے ساتھ دو آدمی اور تھے جو اس کے بیٹے تھے۔ان کے ساتھ ہمارے پنڈ کا چودھری عنایت  بھی بیٹھا تھا۔
میں نے ان کو سلا م کیا اور کمرے سے نکل آئی ان کے جانے کے بعد ابو نے مجھے بلایا اور بیٹھنے کو کہا میں بیٹھ گئی۔
ابو:ویکھ دھی رانی میں مجبور آں تیرا ویا ہ میں تیرے تو پُچھے بغیر رکھ دیتا واں ۔میرے حالا ت تیرے سامنے وا۔ (دیکھو بیٹی میں مجبور ہوں میں نے تیری شادی تجھ سے پوچھے بغیر رکھ دی ہے میرے حالات تیرے سامنے ہیں۔
میں دل میں حیرا ن تھی کہ میری شادی تو اچھی جگہ ہو رہی ہے اور وہ جہیز بھی نہیں مانگ رہے الٹا شادی کا سارا خرچہ بھی اٹھا رہے ہیں اور میری دوسری بہنوں کی شادی  بھی وہ لو گ کروایں گے ۔ابو کی زمین جو بینک کے پا  س گروی ہے اس کو بھی واپس لے کر دیں گے۔پھر بھی ابو اتنا پریشان کیوں ہیں۔
میں:ابو مینوں کوئی اعتراض نہیں وا۔(ابو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔)
ابو:دھی رانی تینوں کیویں دسان چودھری دے نال جیہڑا بندا آیا سی نا او چودھری دا دور دا رشتہ دار وا اس نے اپنے چھوٹے بیٹے واسطے تیرا ہتھ منگیا وا۔(بیٹی میں ےم کو کیسے بتاؤں چودھری عنایت کے ساتھ جو دوسرا بندا آیا تھا وہ چودھری کا دور کا رشتے دار ہے اس نے اپنے چھوٹے بیٹے کے لیئے تمہا را ہاتھ مانگا ہے)
میں:فیر (پھر)
ابو:اودا چھوٹا منڈا سائیں وا(اسکا چھوٹا بیٹا پاگل ہے)
مجھ پر جیسے بجلی ٹوٹ پڑی میں نے ابو سے کہا:ابو مرے نال انج دا ظلم نا کرو(ابو میرے ساتھ ا طرح کا ظلم نا کریں)
ابو نے اپنے صافے کو میرے پاؤں پر رکھ دیا اور روتے ہوئے کہا: پت میری عزت رکھ لا۔
میں نے مجبور  ہو کر ہا ں کر دی۔کچھ دنوں کے بعد میری شادی کا دن آ گیا اور میں شادی کر کے اپنے گاؤں سے دور دوسرے پنڈ میں آ گئی۔
میری سسرال کی حویلی بہت بڑی تھی۔میں دلہن بنی اپنی سیج پر بیٹھی تھی ۔حویلی کی عو رتوں نے نے رسموں سے فارغ ہو کر مجھے اکیلا چھوڑ دیا۔د  ل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔کچھ دیر کے بعد کمرے کا دروازہ کھلا اور کوئی چلتا ہوا میرے بیڈ کے پاس آکر بیٹھ گیا۔
اس نے میرا ڈوپٹا کھینچا میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو ایک معصوم سا  18 سال کا لڑکا مجھے گھو ر رہا تھا۔میں سمجھ گئی وہ میرا شوہر ہے۔اس نے مجھ سے کہا: توں میری وہٹی ہے ناں( تم میری بیوی ہو نا)
میں نے اثبات میں سر ہلا دیا
اس نے کہا: توں گونگی واں(تم گونگی ہو )
میں ہنس دی : نہیں میں گونگی نہیں ہیگی( میں گونگی نہیں ہوں)
اس نے کہا: توں میرے نال لُڈو کھیلیں گی۔
اس نے ساتھ والی ٹیبل سے لڈو نکالی اور میرے سامنے رکھ دی۔وہ واقعی زہنی طور پر بچہ تھا۔آج ہماری سہا گ رات تھی جس پر شادی شدہ جوڑے کچھ اور کھیلتے ہیں اور وہ بجائے میرے حسن سے کھیلنے کے لُڈو کھیلنے کو کہہ رہا تھا۔
ابھی ہم باتیں ہی کر رہے تھے کہ دروازہ کھٹکنے کی آواز آئی ۔میرے شوہر نے دروازہ کھولا تو میرا سسر اندر داخل ہوا میں نے جلدی سے دوبارہ گھونگھٹ نکال لیا ۔اس نے میرے شوہر سے کہا  سسر:پت تیری ووہٹی تھکی ہوئی واہ اونوں سون دے (بیٹا تمہا ری دولہن تھکی ہوئی ہے اسے آرام کرنے دو۔
شاداب :نہیں میں اس دے نال کھیڈنا واں(نہیں میں نے ا س کے ساتھ کھیلنا ہے۔
سسر: پت صبح کھیڈ لویں ہن رات ہو گئی وا جا شاباش سو جا(بیٹا صبح کھیل لینا ابھی رات ہو گئی ہے جاؤ شاباش جا کر سو جاؤ۔)
اس نے سر جھکایا اور بے دلی سے کمرے سے نکل گیا میرے سسر نے جا کر دروازے کو کنڈی لگا دی۔میرا ماتھا ٹھنکا کہ کنڈی لگانے کی سمجھ نہیں آئی۔سسر نے میرے پا س بیٹھ کر میرا گھونگھٹ اٹھا یا ۔میں گھبرا گئی تھی کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
میرے سسر نے کہا:میرا پت تیرے جسم دی ظرورتاں نوں پورا نہیں کر سکتا میں نہیں چاہندا توں کسے ہور دے نال ایہہ کم کرواویں ساڈی عزت نوں رولیں۔ایس لیئے میں تیری اگ مٹھی کراں گا۔(میرا بیٹا تمہارے جسم کی ظرورتوں کو پوارا نہیں کر سکتا میں نہیں چاہتا تم کسی اور کے ساتھ یہ کام کرو  اور میری عزت کو رول دو اس لئیے میں تمہا ری آگ بجھاؤں گا)
میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔سہاگ رات ہر لڑکی کی زندگی میں بہت اہم ہوتی ہے ۔پرمیرا60 سال کا  سسر میرےساتھ سہاگ رات منانے کی بات کر رہا تھا۔اس نے مجھے چھونا چا ہا تو میں جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر دروازے کی طرف چل دی ۔ابھی میں دروازے کے پاس ہی پہنچی تھی کہ اس نے پیچھے سے کہا: سوچ کر دروازہ کھولیں میں صبح تینوں پت کوں لوں طلاق دلوا دیواں گا اگےوی تیری بہن وی طلاق لے کہ  پیو دے بوہے تہ بیٹھی وا ہن سارا پنڈ گلاں کرے گا تیری تیجی بہن  نال کوئی ویا ہ نہیں کرے گا۔نالے تیرا پیو اگے قرضے وچ ڈبیا وا۔(سوچ کر دروازہ کھولنا میں صبح تم کو اپنے بیٹے سے طلاق دلوا دوں گا پہلے بھی تمہاری ایک بہن طلاق لے کر باپ کے دروازے پر بیٹھی ہے اب سارا گاؤں باتیں کرے گا تمہا ری تیسری بہن سے کوئی شادی نہیں کرے گا پہلے بھی تمہا را باپ قرضے میں ڈوبا ہوا ہے)
میرے رکتے قدم رک گئے میری آنکھوں کے سامنے میرے باپ میری ماں اور میری بہنوں کے چہرے گھوم گئے۔اس نے مجھے اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا میں بوجھل قدموں سے اس کی طرف چل دی۔
مجھے اس نے دبوچ کر بیڈ پر گرا دیا اور میرے اوپر لیٹ کر میرے لبوں کو چوسنا شروع کر دیا۔اس کی زبان میرے منھ کے اندر گھوم رہی تھی۔اس نے ایک ہاتھ سے میرے مموں کو قمیض کے اوپر سے دبا نا شروع کر دیا  تھا۔ کچھ دیر میرے ہونٹوں کو چوسنے کے بعد اس نے اب میری قمیض کو اوپر اٹھایا اور میر ے مموں کو گلابی بریزئیر سے آزاد کیا میرے گول موٹے تازے مموں کو اس نے چوسنا شروع کر دیا  کافی دیر تک وہ میرے مموں سے کھیلتا رہا ۔اب اس نے میری شلوار اتارنا شروع کی میں نے شرم کے مارے آنکھیں بند کر لیں تھیں میرا سسر میرے جسم کے ساتھ کھیل رہا تھا میں نے کبھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا۔
شلوار اتار کر اس نے میری چوت کا جائزہ لینا شروع کر دیا میری گلابی بالوں سے صاف چوت کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں چمک آ گئی تھی ۔اس نے اپنے منھ کو میری چوت پر رکھا اور مزے سے میری چوت کو چاٹنے لگا اس کےچاٹنے اور چوسنے سے اب مجھے بھی مزہ آنے لگ پڑا تھا میرے منھ سے اب سسکاریا ں نکل رہی تھیں میری چوت اب پانی چھوڑ رہی تھی جسکو وہ مزے سے پیتا جا رہا تھا۔کافی دیر کے بعد اس نے میری چوت کو چھوڑا اور اٹھ کر اپنے کپڑے اتارنے لگا اس نے شلوار اتاری تو اندر سے کوئی 8 انچ کا موٹا لنڈ باہر نکلا جو میری چوت میں جانے کے لئے بے قرار لگ رہا تھا۔اس نے مجھے لن کو منھ میں لینے کو کہا میں نے انکار کر دیا۔پر اس نے مجھے دوبارہ غصے ے کہا  تو میں نے دڑتے ہو ئے اس کے لن کی ٹوپی کو منھ میں لیا اس کی ٹوپی کے اوپر لیس دار پانی لگا ہوا تھا جس کا عجیب نمکین سا زائقہ محسو س ہوا اس نے مجھے سر سے پکڑ کر اپنے لن کو میرے منھ میں آگے پیچھے کرنا شروع کیا۔کچھ دیر لن چوسنے کے بعد اس نے مجھے لیٹنے کو کہا ۔میں سیدھی لیٹ گئی اس نے اب لن کو میری چوت پر رگڑنا شروع کر دیا اب ا س نے لن کی ٹوپی کو میری چوت میں ڈال دیا مجھے ہلکا سا درد ہوا کچھ لگا جیسے میری چوت میں کوئی چیز ہو جو لن کو آگے نہیں جانے دے رہی میں سمجھ گئی وہ میرا پردہ بکارت ہے ۔میری سہیلیوں نے بتایا تھا پہلی بار درد ہوتا ہے ابھی میں یہ سوچ ہی رہی تھی کہ اس نے ایک زوردار جھٹکا مارا اور اس کا لن میری چوت کو چیرتا ہوا اندر گہرائیوں میں اتر گیا۔میرے منھ سے زوردار چیخ نکلی جس کو اس نے اپنے ہاتھ کو میرے منھ پر دے کر روک دیا تھا۔میں بن پانی مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی۔میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے ۔ کچھ دیر کے بعد جب میری کچھ حالت سنبھلی تو اس نے اب میرے منھ سے ہاتھ اٹھا لیا۔ میں نے اکے سامنے ہاتھ جوڑدئے پر اس نے اب میری چو ت میں اپنے لن کو آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا درد تو اب بھی ہو رہی تھی پر اب ہر دھکے پر پھر بھی میں دھل سی جاتی تھی اس کا لن پھنس پھنس کر میری چھوٹی سی چوت میں جا رہا تھا۔
سسر: تیری پھدی بڑی ٹائٹ وا میرے لن وڈی مشکل نال اندر جا ریا وا۔(تیری چوت بہت ٹائیٹ ہے میرا لن بڑی مشکل سے اندر جا رہا ہے)
کوئی 15 منٹ میری چوت میں تباہی مچا نے کے بعد اس نے اپنے لن کو باہر نکالا اور میرے پیٹ پر اپنی منی کو گرا دیا اس کا جسم جھٹکے کھا رہا تھا ۔ساتھ ساتھ اسکا لن میرے پیٹ پر گرم گرم منی گراتا جا رہا تھا۔ فارغ ہونے کے بعد وہ سائیڈ پر گر گیا ۔اور لمبے لمبے سانس لینے لگا۔میرے  نے اٹھ کر دیکھا تو بستر پر کافی خون بھی لگا ہوا تھا جو میرے کنوارپن کے ختم ہو نے کی نشا نی تھا۔اس نے مجھے اپنی بانہوں میں لے کر اپنے اوپر گرا لیا ۔اور میرا منھ چوما۔کوئی ایک دو گھنٹے کے بعد اس نے دوبارا میرے ساتھ سیکس کیا جس میں اب درد بھی نہیں ہوا اور میں نے انجوائے بھی کیا اس کا دورانیہ کوئی 30 منٹ تھا۔اتنا چدنے کے بعد میں تھک کر چور ہو کر بے سدھ ہو کر سو گئی کپڑے پہننے کا بھی ہوش نہیں رہا ۔صبح اٹھ کر میں نے نہا دھو کر فریش ہوئی اور کمرے میں داخل ہوئی تو میری جیٹھانی نسرین میرے بستر پر پڑی چادر کو تبدیل کر رہیں تھیں مجھے عجیب سی شرمندگی ہوئی پر ہم دونوں نے کوئی بات نہیں کی اس نے چادر تبدیل کر کے میرے لئے ناشتہ لے آئی جو میں نے کمرے میں ہی کیا۔ دوپہر تک کمرے میں نا کوئی آیا اور نا کوئی گیا۔ دوپہر کو میں کمرے میں پڑی پڑی بور ہو گئی تھی میں کمرے سے نکلی اور کچن کی طرف چل دی تاکہ میں گھر کے کام کاج میں حصہ لے سکوں حویلی جیسے خالی سی تھی،مجھے کچن کا پتہ بھی نہیں تھا ایسے ہی گھومتے گھومتے میں ایک کمرے کے سامنے سے گزری تو کچھ آوازیں کان میں پڑیں میں نے نا چاہتے ہوئے بھی کمرے کی کھڑکی سے اپنی آنکھیں لگا دیں اندر کا منظر دیکھ کر میرے جیسے طوطے اڑ گئے تھے۔


جاری ہے

لکھاری نے کہانی یہاں تک لکھی ہے اگر کوئی اسے مکمل کرنا چاہے تو رابطہ کرے

Posted on: 09:24:AM 05-Jan-2021


0 0 117 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 11 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 74 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com