Stories


فرار از پاجل 20

نامکمل کہانی ہے

امارت ایئرلائن کی فلائٹ  دبئی سے لاہور کے ایئرپورٹ پر تھوڑی دیر میں لینڈ کرنے والی تھی
فلائٹ  کے سارے مسافر جہاز کے اتارنے سے پہلے اپنی اپنی چیزوں  کو سمبالنے میں مصروف تھے
جب کے اسی فلائٹ  میں بٹھا ہوا  30 سالا محسن احمد  اپنی آنکھیں بند  کیے اپنی ہی سوچوں میں مگن تھا
مجھے گھر سے بھاگے ہوئے آج تقریباً 20 سال ہو گے ہیں ، اور گھر سے بھاگ جانے کے بَعْد ، میں نے  کبھی ایک دفعہ بھی اپنے ماں ، باپ اور اپنی چھوٹی بہن نور کی خبر نہیں لی ، اور نہ  پتہ کیا، کے وہ اِس عرصے میں کیسے اور کس حال میں رہ رہے ہیں " اپنی آنکھوں کو بند کیے  محسن  کے دماغ میں یہ خیال ایا
تو اس کی آنکھوں کے سامنے اس کے ابو کا چہرہ  آ گیا . جن کی مار کے ڈر کی وجہ سے وہ آج سے 20 سال پہلے اپنے گھر سے بھاگ کر پہلے وہ ایک قریبی شہرملتان اور پِھر وہاں سے ٹرین کے ذرے کراچی آ گیا تھا
محسن کا اصل تعلق ملتان کے قریب پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تھا. جو کے ملتان شہر سے تقریبن دو گھنٹے کی دوری پر واقع تھا
جب وہ تقریبن ١٠ سال کا تھا تو اس کے ابو نے  ایک دن محسن کو  ایک بہت ہی گندی حرکت کرتے رنگے ہاتھوں پار لیا تھا
جس کے بعد مار مار کے اس کے ابو نے محسن کی ہڈیاں ہی توڑ دی تھیں
اگر اس وقت محسن کی امی اسے بچانے  کے لیے درمیاں میں نا آتی . تومحسن  کے ابو تو اسے قتل بھی کرنے پر تل گے تھے
محسن کی امی نے  محسن کو  اس وقعت ابو کی مار سے وقتی طور پر بچا  تو لیا تھا . مگر محسن اپنے ابو کے غصے کو اچھی طرح جانتا تھا
محسن یہ معلوم تھا کے اس کی گندی حرکت کی وجہ سے اس کے  ابو کو اس پر  بہت زیادہ غصہ ہے
اور اِس وجہ سے ہو سکتا ہے کے رات کو سونے کے دوران اس کے ابو اسے قتل کر سکتے ہیں
یہ ہی وجہ تھی . کے جیسے ہی اس رات سب  گھر والے سونے کے لیے لیٹے . تو محسن چپکے سے اپنے  بستر سے اٹھا اور گھر سے فرار ہو گیا
گھر سے بھاگ جانے کے بَعْد محسن گاؤں سے ساری  رات پیدل ہی چلتا ہوا  ملتان اورپھر وہاں سے ٹرین میں سوار ہو کر سیدھا کراچی آن پھونچا
کراچی میں 8 سال ادھر ادھر سڑکوں پر دھکے کہنے اور محنت مزدوری کرنے کے بَعْد محسن ایک ایجنٹ کے ذرھے بوٹ میں  بیٹھ کر کراچی سے دبئی چلا گیا تھا . تو اس وقت  وہ 18 سال کا ہو چکا تھا  ‫
گھر سے بھاگ جانے کی وجہ سے چونکہ محسن بچپن  سے ہی محنت مزدوری میں لگ گیا تھا
اِس لیے جوان ہوتے ہوتے اس کا جسم بہت مضبوط ہو گیا اور اس کا قد کھاٹ بھی  کافی نکل ایا تھا
‫18 سال کی عمر میں ہی وہ ایک صحت مند جوان مرد بن چکا تھا جس کی وجہ سے
دبئی آنے کے بَعْد محسن کو جو پہلی جاب ملی . وہ دبئی کے ایک ارب شیخ کے گھر میں نوکر کی جاب تھی
اس گھر میں ویسے تو پہلے بھی تِین چار  انڈین اور پاکستانی نوکر موجود تھے
مگر وہ صاحب بڑی عمر کے مرد تھے
محسن کو اِس گھر میں کام کرتے ہوئے آبھی  دو دن ہی ہوئے تھے . کے گھر کی مالکان جو کے تقریباً 40 سال کی ایک بیوہ عرب عورت تھی . کی نظر محسن پر پڑ گئی
اتنی عمر کی بیوہ ہونے کے باوجود محسن کو دیکھتے ہی اس عربی عورت کی بیوہ چوت میں ایک اگ سی سلگ اٹھی
اور اگلی ہی شام اس عربی عورت نے محسن کو اپنے بیڈ روم میں بلا کر محسن سے اپنی پیاسی چوت کی آگ کو ٹھنڈی کروا لیا
ایک تو محسن جوان تھا اوپر سے اس کا لورا موٹا ، لمبا اور کافی سخت تھا
جس کی وجہ سے اس عربی عورت کو محسن کے ساتھ چدائی میں اتنا مزہ ملا کے اس نے  پہلی ہی رات کے بَعْد محیسن کو اپنے ساتھ شادی کی آفردے دی   
محسن  کوئی بوقوف انسان  نہیں تھا . جو گرم پھدی کے ساتھ ساتھ پیسے اور دبئی کا ریزی ڈنس پرمٹ ایک ساتھ مل جانے کی آفر سے فائدہ نہ اٹھاتا
اِس لیے محسن نئے فوراً ہاں کر دی  اور یوں محسن ایک ہی مہینے میں گھر کے نوکر کی بجائے اب اسی گھر کا ملک بن بٹھا   
محسن کی عربی بِیوِی کا جگرہیپاٹائٹس سی بیماری کی وجہ خراب ہو رہا تھا . اور علاج کے باوجود اس عرب  عورت کے بچنے کے چانس بہت ہی کام تھے
مگر اِس کے باوجود جب تاک وہ عورت زندہ رہی . اس نے  محسن کو اپنی گرم پھدی کے ساتھ ساتھ نا صرف اپنی  بھاری  گاند  کے مزے بھی دئیے           
بلکہ مرنے  سے پہلے وہ اپنی ساری  جائِداد بھی محسن کے نام لکھ گئی . جس کی وجہ سے محسن  راتوں رات امیر ہو گیا تھا
اپنی عربی بیوی کے مرنے کے بعد جب محسن اپنے اتنے بڑے گھر میں اکیلا رہ گیا. تو محسن کو ایک دن بیھٹے بیھٹے اپنے گھر والوں کی اِس شدت سے یاد ستائ کے محسن نے  اسی وقعت  پاکستان میں اپنے گھر واپس لوٹنے کا اِرادَہ کر لیا
جہاز میں بیٹھا محسن ابھی اپنی سوچوں میں ہی گم تھا . کے اتنے میں جہاز کے وییلس نے لاہور ائیرپورٹ کے رَن وے کو ٹچ کیا
 
 جہاز کے رَن وے پر لینڈ کرتے ہی اس میں بیھٹے محسن کا دِل زور زور سے  لگا اور اس کی آنکھوں میں آنسوں آ گے
 
 محسن چونکہ آج تقریباً 12 سال بَعْد یو اے ای سے پاکستان واپس لوٹا تھا
 
 اِس لیے اس کی آنکھوں میں آنے والے یہ آنسوں اصل میں خوشی کی آنسوں تھے . جو اتنے سالوں بَعْد اپنے ملک واپس لوٹنے کی وجہ سے اس کی آنکھوں میں آ گے تھے
 
 ویسے تو محسن کے پاس ایک چھوٹا سا بیگ پیک ہی تھا . جس میں اس کے دو تِین کپڑے تھے
 
 مگر اِس کے باوجود اسے ایئرپورٹ سے نکلتے نکلتے شام کے تقریبن 5 بج گے
 
 محسن کا گاؤں لاہور سے تقریباً 4 سے 5 گھینتے کی دوری پے تھا . اِس لیے ائیرپورٹ سے باہر نکل کر اُس نے پہلے تو ٹیکسی رینٹ کرنے کا سوچا
 
 مگر پِھر اُس نے ارادۃ بَدَل کر ٹرین میں سفر کرنے کا سوچا . اور پِھر ٹرین اسٹیشن سے ٹرین میں بیٹھ کر واپس اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہو گیا
 
 محسن کا ارادۃ تھا کے وہ اپنے گاوں کے قریب والے سٹی کے ٹرین اسٹیشن پر اُتَر جائے گا . اور وہاں سے گاؤں ٹیکسی یا بس پکڑ کر اپنے گھر چلا جاے گا
 
 یہ ارادہ کر کے محسن مطمین ہو گیا اور چلتی ٹرین کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا
 
 شام کا اندھیرا ہونے کی وجہ سے محسن کو کھڑکی سے کچھ نظر تو نہیں آ رہا تھا
 
 اِس لیے وہ اپنی انکھیاں بند کر کے سیٹ پر آرام کرنے لگا
 
 ٹرین مختلف اسٹیشنز پر رکتی ہوئی اپنی منزل کی طرف روا دواں تھی اور ابھی محسن کا مطلوبہ اسٹاپ آنے میں تقیربن ایک گھینتے کا سفر باقی تھا . کے اِس دوران سامنے سے آنے
 
 
 
 والی ایک اور ٹرین کو رستہ دینے کے لیے محسن کی ٹرین چیچاوتنی کے قریب ایک بہت چھوٹے سے اسٹیشن پر رکی
 
 ٹرین کو روکے ہوئے محسوس کر کے محسن نے اپنی آنکھیں کھولیں اور باہر کی طرف دیکھا . تو اسے ٹرین اسٹیشن کے آخری کونے پر چاے کا ایک چھوٹا سا کھوکھا نظر آئیا
 
 لگتا ہے ٹرین ابی کچھ دیر ادھر روکے گی ، تو کیوں نا میں جلدی سے ایک کپ چاے ہی پی لوں” ٹی سٹال نظر آتے ہی محسن نے سوچا اور ایک دم اپنا بیگ پیک لے کے باہر نکل آئیا
ابھی محسن چاے کے کھوکھے سے چند قدم دور تھا . تو اس نے چاے والے کو کھوکھا بند کرتے دیکھا
 
 "بھائی جی میں تو چاے لینا اترا تھا ، مگر آپ تو سٹال بند کر چکے ہیں ” ٹی سٹال والے کو تالا لگاتا دیکھ کر محسن مایوسی سے بولا
 
 "پا جی ابھی کچھ ہی دیر میں بارش کا طوفان آنے والا ہے ، اور بارش سے پہلے پہلے میں اپنے گھر پھونچنا چاہتا ہوں ” چاے والے کو اپنے گھر جانے کی جلدی تھی
 
 اِس لیے اس نے محسن کی بات کا جواب دیتے ہوئے کھوکھے کے پیچھے کھڑی اپنی موٹر سائیکل کو اسٹارٹ کیا . اور پھر موٹر سائیکل پر بیٹھ کر اگلے ہی لمحے “ یہ جا اور وہ جا
 
 “ اِس کی چاے شاید میرے نصیب میں نہیں تھی ، کوئی بات نہیں میں پیشاب کر کے ٹرین میں واپس چلتا ہوں ” چاے والے کو یوں جلدی میں جاتے دیکھ کر محسن نے سوچا
 
 اور پِھر چاے کے کھوکھے کے پیچھے لگی جھاریوں کے قریب جا کر پیشاب کرنے کے لیے اپنی پینٹ کی ذپ کھول دی
 
 محسن نے ابھی پیشاب کرنا اسٹارٹ کیا ہی تھا . کے پیچھے سے اس کی ٹرین نے سیٹی ماری اور چلنا شروع کر دیا
 
 “ ابھی تو میں نے ادھا پیشاب ہی کیا ہے اور پیچھے سے یہ بہن چود ٹرین بھی چل پری او ” ٹرین کی سیٹی کی آواز سن کر محسن نے بڑی مشکل سے اپنا پیشاب روکا . اور پِھر اپنے لورے کو ہاتھ سے پکڑ کر اپنی پینٹ میں دالتے ہوئے ٹرین کی طرف دور لگا ڈی
 
 محسن چونکہ اسٹیشن کے ایک آخری کونے میں پیشاب کر رہا تھا . اِس لیے جتنی دیر میں سیٹی کی آواز سن کر وہ ٹرین کے پیچھے دوڑا
 
 تو اتنی دیر میں ٹرین اس سے آگے نکل چکی تھی جس کی وجہ سے اپنی پوری رفتار میں دوڑنے کے باوجود وہ ٹرین پر نہیں چار سکا . اور ٹرین اسے اِس چھوٹے سے اسٹیشن پر ہی چھوڑ کر آگے نکل گئی
 
 اُوں شٹ یہ کیا ہو گیا ” ٹرین کے پیچھے بھاگتے محیسن نے جب ٹرین کو اپنی دسترس سے دور ہوتے دیکھا . تو وہ دوڑتے دوڑتے رک گیا اور اپنی بکھری سانسوں کو سمبھالتے ہوئے سوچنے لگا
 
 ابھی  محسن ٹرین مس ہو جانے والی پرشانی سے ہی نہیں نکل ایا تھا . کے اتنے میں بادل ایک بار پِھر زور سے گھرجے اور اِس کے ساتھ ہی موسلا دار بارش شروع ہو گئی
 
 بارش شروع ہوتے ہی محسن نے کسی محفوظ جگہ کو تلاش کرنے کے لیے ٹرین اسٹیشن کا باغور جائزہ لیا . تو اسے اندازہ ہُوا کے ایک نہایت ہی چھوٹا اسٹیشن ہونے کی وجہ سے اس ٹرین اسٹاپ پر کوئی چھت تک موجود نہیں تھی
 
 اِس لیے اپنے آپ کو بارش میں بھیگتے ہوئے محسوس کر کے محسن نے دِل ہی دِل میں کہا “ لوووووو جی میں تو لوگ گیا جائے لورے ”
 
 محسن اب ٹرین اسٹیشن پر بھیگتے ہوئے بے بسی سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا . کے اس کی نظر اسٹیشن کے دوسری کونے پر پری
 
 جہاں اسٹیشن سے ذرا ہٹ کر ایک چھوٹا سا کواٹر سا بنا ہُوا تھا . اور اس  کواٹر  کی کھڑکی میں سے ہلکی حالی روشی باہر کو آ رہی تھی
 
 “رات کے  11 بوگے ہیں ، اب رات کے اِس پہر اور اِس بارش میں میرے پاس اِس کے علاوہ کوئی ہل نہیں کے سامنے والے  کواٹر کے مکینوں سے رات بسر کرنے کی دورخواست کروں” برستی بارش میں بھیگے ہوئے محسن نے اپنی کلائی پر بندی ہوئی واچ پر ٹایم دیکھا . اور پِھر یہ بات سوچتے ہوئے سامنے والے گھر کی طرف چل پڑا
 
 گھر کے سامنے کھرے ہو کر محسن نے گھر کے ٹوٹے پھوتے دروازے پر دستک دی
مگر کچھ دیر گزر جانے کے باوجود کسی نے دروازہ نہیں کھولا . تو محسن نے پہلے سے تھوڑا زور سے دروزا کو دوبارہ پیٹ دیا
 
 دوسری دفعہ کی دستک کے کچھ دیر بَعْد محسن مایوس ہو کر ادھر سے واپس پلٹنے لگا . تو اتنے میں گھر کا دروازہ کھل گیا
 
 “اپ آ گے ہیں حسن” دروازہ کھلتے ہی اندار سے ایک عورت کی آواز ای
 
 رات کے اندھیرے میں یہ آواز سنتے ہی محسن نے دروازے کی طرف دیکھا
 
 تو اُس کی نظر بارش میں بیھگتی ہوی ایک عورت پر پری . جس کی عمر تقریباً 27 سال کی تھی
 
 اُس عورت کا نام جہاں ارا تھا . جہاں ارا کی اتنی بڑی بڑی نشیلی آنکھیں تھیں . کے جنے دیکھتے ہی ان میں کھو جانے کو دِل کرتا تھا
 
 اُس کے گلابی ہونٹ  تھے . جو دیکھنے میں اتنے جوسی نظر آتے تھے . کے دِل کرتا کے انسان اُس کے ان نرم ملائم ہونٹوں کا رس ہی پیتا رہے
 
 اُس کے بال کافی لمبے تھے . جو کے اُس کے گھٹنوں تک آ رہے تھے . اور سب سے قیامت خیز اُس کا بھرا ہُوا دِل کش جسم تھا
 
 بارش کے پانی میں بھیگنے کی وجہ سے اُس عورَت کی پتلی قمیض اُس کے جسم کے چپک چکی تھی
 
 
 
 اور گلے میں دوپٹہ نہ ہونے کی وجہ سے اُس کی جاداز اور بھری چاتھیاں اُس کی قمیض میں سے کافی نومایاں ہو رہی تھیں
 
 جب کے نیچے سے اُس کی پتلی شلوار بھی اُس کے بھری بھری رانوں سے چپکی ہونے کی وجہ سے اُس عورت کی چوڑے کولوں اور گوشت بھری رانوں کو محسن کی نظروں کے سامنے پوری تارا عیاں کر رہی تھی
 
 برساتی برش میں اُس جوان عورت کے بیھگے جسم کو دیکھ کر محسن پہلی ہی نظر میں اُس عورت پر فدا ہو گیا
 
 
 
 اور منه سے کچھ بولے بنا ہی ٹکٹکی باندے اس عورت کی طرف پاگلوں کی طرح دیکھنے لگا
 
 “اپ کون اور آپ کو کیا چاہے” دروازے پر کھڑی جہاں ارا نے جب محسن کو گھر کے سامنے اِس طرح خاموشی سے کھرے دیکھا تو اس نے سوال کیا
 
 اور اِس کے ساتھ ہی اپنے ہاتھوں کو اپنی چھاتی کے سامنے راکھ کر بارش کے پانی میں وازیا ہوتی اپنی گول گول چھاتوں کو اپنے ہاتھوں سے ڈانپنے کی ناکام کوشش کی
 
 “جی میں ایک پردیسی ہوں ، میری بےواقوفی کی وجہ سے میری ٹرین چھوٹ گئی ہے ، اب رات کے اندیھرے میں مجھے آپ کے گھر کی روشنی نظر ای ، تو میں بارش سے بچنے کے لیے ادھر چلا آئیا ہووں” اس عورت کا سوال سنتے ہی اس کے حسن کے سحر میں کھوے ہوئے محسن کو ایک دم ہوش آئیا اور اس نے جواب میں کہا
 
 “او یہ تو ٹھیک ہے مگر میرے شوہر حسن  گھر پر نہیں ہیں ، اِس لیے میں آپ کو اپنے گھر رکنے کی اِجازَت نہیں دے سکتی” محسن کی بات سن کر اس عورت نے جواب دیا
 
 " محترمہ میں آپ کی بات سمجھ سکتا ہوں ، مگر مجھے آپ کے گھر کے علاوہ ادھر قریب کوئی اور آبادی نظر نہیں آ رہی ، جہاں میں رات کے اِس وقعت  اِس زور دار بارش میں  جا  سکوں ، آپ کو جتنے پیسے چاہے میں دینے کو تیار ہوں ، بس ایک رات مجھے اپنے یہاں گزار لینے  دیں ، میں وعدہ کرتا ہوں کے صبح ہوتے ہی میں یہاں سے روانہ  ہو جاؤں  جا” جہاں ارا کے انکار کو سنتے ہی محسن نے اس سے التجا کی
 
 “بات پیسوں کی نہیں ، آپ میری بھی مجبوری کو سمجھیں ، کے گھر میں اکیلی ہونے کی وجہ سے میں آپ کو یہاں ٹھرنے کی دعوت نہیں دے سکتی” التجا بڑہے لہجے میں محسن کی بات سنتے ہی جہاں ارا نے کچھ دیر سوچ کر اسے جواب دیا
 
 “اپ یقین کریں میں ایک شریف انسان ہوں ، اور آپ کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پونچاوں گا” اس عورت کا جواب سنتے ہی محیسن نے اپنے ہاتھ جوڑ کر اس سے ایک بار پِھر زور دار قسِم کی التجا کی
 
 “اچھا آپ یہاں روکیں میں ابھی آتی ہوں” محسن کی اِس زور دار التجا کو سنتے ہی جہاں ارا کا دِل شاید موم ہو گیا
اور وہ محسن سے یہ بات کہتے ہوئے اندر چلی گئی
 
 
 
 اپنے گھر کے اندر جا کر جہاں ارا گھر میں بنے اپنے واحد بیڈ روم میں گئی . اور کمرے میں پری اپنی چارپائی کے تکیے کے نیچے سے اپنا موبائل فون اٹھا کر اپنے شوہر کو کال ملا دی
 
 “ادھی رات ہونے کو ہے اور آپ ابھی لاہور سے واپس گھر نہیں پونچے” فون کے دوسری طرف سے اپنے شوہر حسن کی آواز سنتے ہی جہاں ارا نے پوچھا
 
 ایک تو مجھے یہاں پونچنے میں دیر ہو گئی تھی ، دوسرا ہیڈ کواڑ میں جس کلرک کے پاس میری فائل ہے وہ آج دفتر نہیں آئیا ، اِس لیے مجبوراً مجھے آج ادھر ہی رکنا پر گیا ، اور آب میں کل صبح اپنے کام ختم کر کے ، کال شام تاک ہی واپس لوٹوں گا” جہاں ارا کے شوہر نے اپنی بِیوِی کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا
 
 “اچا ٹھیک ہے پِھر میں آپ کے اتیزار میں جاگنے کی بجائے ، اب فون بُند کر کر سو جاتی ہوں” اپنے شوہر سے فون پر بات کرنے کے بَعْد جہاں ارا نے فون بُند کیا . اور ایک لیمحے کے لیے سوچ میں پڑ گئی
 
 اصل میں جہاں ارا کا شوہر ایک 55 مرد حسن تھا . جو کے ریلوے کا ملازم ہونے کی وجہ سے اسی اسٹیشن پر کام کرتا تھا
 
 حسن اگلے مہینے ریلوے سے ریٹائرمنٹ لے رہا تھا . اور اپنی ریٹائرمنٹ کے سیسلے میں ہی وہ آج صبح ہی لاہور گیا تھا
 
 حسن اپنی جوان بِیوِی سے شام تک واپس آ جانے کا کہہ کر گیا تھا
 
 مگر اپنے وعدے کے برعکس اسے لوتنے میں دیر ہو گی تھی
 
 ویسے تو عام تور پر جہاں ارا اجنبی مردوں سے زیدہ فری نہیں ہوتی تھی
 
 مگر اِس نوجوان مرد میں نا جانے ایسی کیا خاص بات تھی . کے نا چاتے ہوئے بھی جی ہاں آراء باہر بارش میں بیگھتے اِس پردیسی آدمی کی مدد کرنا چا رہی تھی
 
 لیکن اِس کے ساتھ اسے ڈر بھی لگا ہُوا تھا . کے اگر رات کو اس کا شوہر گھر واپس لوٹا
 
 تو ایک جوان مرد کو اپنی جوان بِیوِی کے ساتھ گھر میں دیکھ کر حسن کو یقنین اچھا نہیں لگے گا
 
 لیکن اب اپنے شوہر سے فون پر بات کرنے کے بَعْد جب اسے یہ یقین ہو گیا . کے اس کا شوہر حسن کال شام تک گھر واپس نہیں لوٹے گا
 
 تو جہاں ارا نے دروازے پر کھڑے اِس پردیسی کو اپنے گھر میں رات گزارنے کی اِجازَت دینے کا اِرادَہ کر لیا
 
 یہ اِرادَہ کرتے ہی اس نے چارپای سے اپنے دوپٹہ اٹھا کر اپنی بھری چھاتیوں کو ڈانھکا  اور پِھر کمرے سے باہر نکل کر بارش میں بیگھتی ہوئی دروازے کی طرف گئی
 
 "میں آپ کو ایک شرط  پر یہاں رات رکنے کی اِجازَت دے سکتی ہوں ، کے صبح کی اَذان ہوتے ہی آپ کو میرے گھر سے جانا ہو گا  ، اگر آپ کو یہ شرط منظور ہے تو آپ اندار آجایے "
 
 دروازے پر پہنچ کر جی ہاں آراء نے دروازے کے باہر بارش میں بیھگتے ہوے محسن سے کہا
 
 “مجھے آپ کی ہر شرط منظور ہے بی بی” جہاں ارا کی بات سنتے ہی محیسن نے جواب دیا . اور اِس کے ساتھ ہی جلدی سے گھر میں داخل ہو گیا
 
 گھر کے چھوٹے سے صحن سے ہوتے ہوئے محسن اس گھر کی مالکن جہاں ارا کے پیچھے چلتے ہوئے اس مکان کے واحد کمرے میں پونچا . اور کمرے میں داخل ہو کر اس کمرے کا جائزہ لینے لگا
 
 
 
 اس کمرے کے ایک کونے میں دو چارپایاں پری تھیں
 
 جب کے کمرے کے دوسرے کونے میں دو کرسیاں اور ایک ٹیبل پڑا ہُوا تھا
 
 گھر کی دیوارون کی حالت بہت ہی خستہ تھی
 
 جب کے زور دار بارش کی وجہ سے کمرے کی چھت بھی ایک جگہ سے ٹپک راہ تھی . جس کے نیچے ایک بالٹی رکھی ہوئی تھی . تا کے چھت سے ٹپکتا پانی کمرے کے فرش کو گیلا نا کر سکے
 
 " اپ کے سارے کپڑے گیلے ہو گے ہیں ، اگر آپ کے بیگ میں دوسرے کپڑے ہیں ، تو باتھ روم میں جا کر اپنا لباس تبدیل کر لیں” کمرے کے دیرمیان میں کھرے ہو کر کمرے کا جائزہ لیتے ہوئے محسن سے جہاں ارا نے کہا . اور ساتھ ہی کمرے کے ساتھ ہی بنے ہوئے اٹیچڈ باتھ روم کی طرف اشارہ کر دیا
 
 “ اچھا میں ابھی چینج کر لیتا ہوں ، لیکن اگر آپ کو برا نہ  لگے تو کیا میں آپ کا نام جان سکتا ہوں محترمہ ا” جہاں ارا کی بات سن کر محسن بولا
 
 “جی میرا نام جہاں ارا ہے اور میرے شوہر کا نام حسن ہے اور وہ ریلوے کے ملازم ہیں ، اب آپ اپنا تعارف کروا دیں ، کے آپ کون ہیں ، اور آپ کیا کرتے ہیں” محسن کی بات کے جواب دیتے ہوئے جہاں ارا نے اپنا اور اپنے شوہر کا نام بتاتے ہوئے محسن سے بھی سوال کر دیا
 
 “جیی مجھے احمد کہتے ہیں ، اور میں دبئی میں ہوتا ہوں اور اپنے گھر والوں سے ملنے اپنے گاؤں جا رہا ہووں” دبئی میں رہنے کے دوران محسن چونکے زیادہ تر اپنا لاسٹ نام ہی یوز کرتا تھا
 
 اِس لیے جہاں ارا کی بات کا جواب دینے کے دوران بھی محسن نے اسے بھی اپنا آخری نام ہی بتایا اور اِس کے ساتھ ہی وہ باتھ روم کی طرف چلا گیا . اور اپنے بیگ سے شلوار قمیض نکل کر پہن لی
 
 اپنے کپڑے تبدیل کرنے کے بَعْد محسن نئے باتھ روم سے باہر نکل کر اپنی گیلی پینٹ شرٹ کو سوکنے کے لیے کمرے میں پری ایک چیئر پر ڈال دیا
اچھا آپ اب آرام کریں ، میں بھی کپڑے تبدیل کر کے سو جاتی ہوں” محسن کے باتھ روم سے باہر نکلتے ہی گھر کی ملکن جی جہاں آرا نے اسے کہا . اور پِھر اپنی الماری سے اپنے سوکھے کپڑے نکال کر خود بھی باتھ روم میں گھس گئی
 
 جہاں آرا کے باتھ روم جانے کے بَعْد محسن نے کمرے کا دوبارہ جائزہ لیا . تو اس نے دیکھا کے اس کے باتھ روم جاتے ساتھ ہی اس عورت نے ایک چارپای کو کھینچ کر کمرے کے دوسرے کونے میں رکھ دیا ہے . جس کی وجہ سے اب ان دونوں کی چارپایوں کے دیرمیان کافی فاصلہ ہو گیا تھا
 
 “چلو شکر ہے کے بارش سے بچنے کے لیے ناں صرف چھت نصیب ہُوا ہے ، بلکہ سونے کے لیے ایک چارپای بھی مل گئی ہے ، ورنہ اگر مجھے آج رات باہر بارش میں گزارنا پڑتی ، تو صبح تک تو میرا حشر ہو جانا تھا” کمرے کے دوسرے کونے میں چیئرس کے پاس پری چارپائی پر لیٹتے ہوئے محسن کو خیال آئیا . اور اس کے ساتھ ہی سونے کے لیے اس نے اپنی انکھیں بُند کر لیں
 
 محسن کے بستر پر لیٹنے کے تھوڑی دیر بَعْد ہی جہاں آرا باتھ روم سے اپنے کپڑے تبدیل کر کے باہر نکلی . اور پِھر وہ بھی آ کر کمرے کے دوسرے کونے میں بچھی ہوئی اپنی چارپائی پر سونے کے لیے لیٹ گئی
 
 سایانے کہتے ہیں کے تنئاہی ہمیشہ شیطان کا گھر ہوتا ہے
 
 اسی لیے کہنے کو تو وہ دونوں سونے کے ارادے سے اپنی اپنی چارپائی پر لیٹ چکے تھے
 
 مگر نا جانے کیوں نیند ان دونوں کی آنکھوں سے آج کوسوں دور بھاگ گئی تھی
 
 جس کی وجہ سے چارپائی پر لیٹنے کے بَعْد محسن اور اس گھر کی مالکن جہاں آرا دونوں اپنی اپنی آنکھیں بند کر کے اپنی اپنی سوچوں میں گم تھے
 
 محسن نے اپنی عربی بِیوِی کی وفات سے نا تو پہلے اور نا ہی اس کے بَعْد کسی اور عورت کے ساتھ کبھی چدائی نہیں کی تھی
 
 مگر آج رات کی تنئاہی میں اِس جوان عورت کے ساتھ ایک ہی کمرے میں ہونے کی وجہ سے اس کے دماغ پر آہستہ آہستہ شیطان غالب آنے لگا تھا . جس کی وجہ اس کے ذہن میں خیال آئیا “ دبئی میں رہتے ہوئے مختلف ملکوں کی کافی حَسِین عورتیں میری نظر سے گزری ہیں ، مگر دُنیا کی کسی عورت کے چیرے اور جسم میں وہ کشش نظر نہیں ای ، جو اِس عورت کے جسم میں ہے ، کاش کے میں اِس کا شوہر ہوتا ، تو میں دن رات اِس کی چوت کو چود چود کر اسے پاگل کر دیتا” چارپائی پر لیتے محیس کے دماغ میں جون ہی یہ سوچ ای . تو اس کے جوان جسم میں گرامی سی آنے لگی
 
 ادھر کمرے کے دوسری طرف لیتی ہوئی بیگم حسن بھی اپنی آنکھیں بُند کی اپنے ہی خیالوں میں گم تھی
 
 مسز حسن کے ماں باپ اس کی چوٹی عمر کے دوران ہی فوت ہو گے تھے . جس کے بَعْد اس کی پرورش اس کے ایک دور کے رشتے دار کے گھر میں ہوئی
 
 جب وہ  19‎ سال کی تھی . تو اس کے رشتے دار نے پیسے لے کر اس کی شادی اس سے کافی بڑی عمر کے مرد حسن سے کر دی . جو کے ریلوے میں ملازام تھا
 
 ماں باپ نا ہونے کی وجہ سے مجبوری کی حالت میں جہاں آرا نے حسن کو اپنا شوہر مان کر اس کے ساتھ بِیوِی کی حیثیت سے رہنا تو شروع کر دیا
 
 مگر بڑی عمر کا مرد ہونے کی وجہ سے حسن نا تو اسے جنسی سکون دے سکا . اور نا ہی آج تک اس کی کوکھ میں کوئی بچہ پیدا ہُوا تھا
 
 ریلوے کی جاب کی وجہ سے حسن کی ٹرانسفر مختلف جگہ پر ہوتی رہتی تھی
 
 جس کے دوران کئی باڑ ایسا موقع آئیا کے مختلف مردوں نے جہاں آرا کی جوانی اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اس کے ساتھ جنسی تالوقات بنانے کی کوشش کی
 مگر ہار بار “میں اپنے شوہر سے بے وفائی نہیں کر سکتی”کا سوچ کر جہاں آرا نے کسی دوسرے مرد کو لفٹ نہیں کارروائی تھی
 
 لیکن آج اپنے گھر میں رات ٹھرنے والے اِس اجنبی مرد میں جہاں آرا کو ناجانے اسی کیا کشش محسوس ہوہی تھی
 
 کے جہاں آرا کا نا صرف دِل اس کی طرف کینچا جانے لگا تھا . بلکہ آج اِس جوان مرد کے ساتھ رات کی تینحای میں ایک ہی میں لیٹے ہوئے جہاں آرا کے جسم کے ساتھ اس کی چوت میں بھی ایک عجیب سی آگ سلگنے لگی تھی کمرے
 
 “اس پردیسی نے تو ویسے بھی صبح یہاں سے چلے ہی جانا ہے ، اِس لیے اگر آج اِس پردیسی سے چودا کر میں اپنی کوکھ میں اِس کا بچہ بنا لوں ، تو ایک تو میرے اِس گنہاہ کا کسی اور کو پتہ نہیں چلے گا ، اور ساتھ ساتھ ہی ایک بچے کی ماں بننے کی میری دلی خواہش بھی پوری ہو جاے گی” اپنی چارپائی پر لیتی جہاں آرا اپنی ہوس کے ہاتھوں مجبور ہو کر ، کمرے کے دوسری طرف لیتے محسن کی طرف دیکھتے ہوئے اب یہ بات سوچنے لگی تھی
 
 یہ خیال دِل میں آتے ہی جہاں آرا ایک دم اتنی گرم ہوی کے اس کی پھدی نیچے سے اپنا پانی چھوڑنے لگی
 
 جس پر جی ہاں آرا نے ایک دم گبھراتے ہوئے اپنی آنکھیں کھول کر کمرے کی دوسری طرف نظر دورای . تو اس کی نظریں دوسری چایرپای پر آنکھیں کھول کر لیٹے محسن سے چار ہو گیں
 
 “لگتا ہے میری طرح آپ کو بھی نیند نہیں آ رہی ہے شاہید” محسن نے جب کمرے میں جلتے بلب کی روشنی میں جی ہاں آرا کو اپنی طرف دیکھتے پایا . تو اس نے فوراً سوال کیا
 
 “ووووو جیی اصل میں مجھے اپنے شوہر کے ساتھ ہی اِس کمرے میں سونے کی عادت ہے ، اِس لیے آج پہلی بار ایک پراے مرد کے ساتھ کمرے میں سونا مجھے عجیب سا لگ رہا ہے ، جس کی وجہ سے مجھے نیند نہیں آ رہی شاید ، مگر آپ کون جاگ رہے ہیں ابھی تک” جہاں آرا نے محسن کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی اس سے سوال بھی پوچھ ڈاَلا
 
 “جی ہو سکتا ہے کے آپ کو میری یہ بات بری لگے ، مگر سچ تو یہ ہے کے آپ کی جوانی اور آپ کے شاندار حسن نے میری تو نیند ہی اڑا کر رکھ دی” جہاں آرا کے سوال کے جواب میں محسن نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں دالتے ہوئے بے باقی سے جواب دیا
 
 تو ایک اجنبی مرد کے منه سے اپنی تعریف سن کر شرم کے مرے جہاں آرا کے گال سرخ ہونے لگے
 
 بے شک محسن نے آج تک اپنی عربی بِیوِی کے علاوہ کسی دوسری عورت کو نہیں چودا تھا
 
 مگر اِس کے باوجود عورتوں کے معاملے میں محسن ایک سمجدار مرد تھا
 
 اِس لیے اسے جہاں آرا کے چہرے کے تاصورات کو پرٹتے ہی اسے یہ سمجنے میں دیر نا لگی
 
 کے رات کی اِس تنئاہی میں اس عورت کو ایک مرد کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے
 
 “کیون نا اپنی چارپائی سے اٹھ کر اِس کے پاس جاؤں ، اور بارش کی اِس ٹھنڈی رات میں اسے چود کر خود بھی مزہ لوں ، اور ساتھ ہی ساتھ اِس پیاسی عورت کی گرامی بھی دور کروں” اپنی چارپائی پر لیٹے لیٹے محسن کے دِل میں خیال آئیا
 
 تو اس نے ایک بار پِھر کمرے کے دوسری طرف لیٹی جہاں آرا کے چیرے پر نگاہ ڈالی . تو اسے جہاں آرا کے چہرے پر ایک پِھر ایک عجیب سی بھوک نظر ای
 
 “شادی شدہ ہونے کے باوجود اِس کے چہرے سے یوں لگتا ہے ، کے جنسی طور پر یہ عورت جیسے صدیوں کی بھوکی ہو” جٰہاں آراء کے چہرے کا باگور جائزہ لیتے ہوئے محسن کے دِل میں یہ خیال تو آئیا
 
 مگر چاہنے کے باوجود محسن کی ہمت نا ہوئی . کے وہ اپنی چارپائی سے اتاہ کر جہاں آرا کی چارپائی کی طرف جاتا
 
 اِس لیے محسن نے اپنے دِل کو سمجاھتے ہوئے دوبارہ سے اپنی آنکھوں کو بُند کیا . تو دن بھر کے سفر کی وجہ سے تھکے مندا محسن چند ہی منٹس کے بَعْد نیند کی وادی میں اُتَر گیا
 
 دوسری طرف جہاں آرا  نے جب محسن کو یوں سکون سے سوتے دیکھا . تو اس نے بھی اپنے جنسی جذبات کو اپنے قابو میں کرتے ہوئے اپنی آنکھیں بُند کر لیں . اور تھوڑی ہی دیر میں اسے بھی نید نے اپنے گھیرے میں لے لیا
نیند کی وجہ سے جہاں آرا کی آنکھیں بے شک بند ہو گئی تھیں
 
 مگر اِس کے باوجود لن کی طلب نے نیند میں بھی اس کا دماغ کو جگاے رکھا
 
 جس کی وجہ سے وہ سوتے ہوئے بھی خواب میں اپنے شوہر کے ڈھیلے لن کے ساتھ کی گئی چدائی کا سپنے ہی دیکھتی رہی
 
 یہ ہی وجہ تھی . کے رات کے آخری پہر نیند کے دوران جی ہاں آراء کی ایک دم انکھ کھلی . اور اس کی نظر ایک باڑ پِھر کمرے کے دوسری طرف سوئے ہوئے پردیسی پر پری
 
 تو کمرے کی کام روشنی میں بھی سامنے کا نظارہ دیکھ کر جہاں آرا کی نا صرف نیند ہی اڑ گئی
 
 بلکہ اپنی آنکھوں کے سامنے نظر آنے والے منظر کی وجہ سے اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گیں
 
 اصل میں اس وقعت دوسری چارپائی پر محسن اپنی کمر كے بل گہری نیند میں سو رہا تھا
 
 چارپائی پر سونے کے دوران محسن کی ٹانگیں پھیلی ہوئی تھیں
 
 جب کے نیند کے دوران کروٹیں بدلنے کی وجہ سے محسن کی قمیض اس کے پیٹ سے بھی ہٹ گئی تھی . اور اِس وجہ سے محسن کا پیٹ والا حصہ ننگا ہو رہا تھا
 
 محسن کو اپنی نیند کے دوران ہی پیشاب کی طلب بھی ہو رہی تھی . اور پیشاب کی وجہ سے اس کے لن میں بھی تر آ گئی تھی
 
 جس کی وجہ سے محسن کا جوان لورا نہ صرف اس کی شلوار میں آکڑ کر کھڑا ہُوا تھا
 بلکہ نیند میں  ڈوبے ہونے کے باوجود محسن نے اِس وقعت شلوار کے اوپر سے اپنا ایک ہاتھ کو اپنے لورے پر رکھا ہُوا تھا
 
 اسی لیے جہاں آرا کی نظر جوں ہی محسن کی شلوار میں جھولتے ہوئے اس کے جوان لورے پر گئی
 
 تو محسن کے لورے کو اس کی شلوار میں چھپا ہونے کے باجوود جہاں آرا کو اندازہ ہو گیا . کے اِس اجنبی مرد کا لورا اس کے اپنے بھوڑے شوہر سے زیدہ موٹا اور لمبا ہے
 
 “ہاے ، ایسا لن اگر کسی عورت کی چوت میں جاے تو یہ تو اس عورت کی زندگی ہی بنا دے ، کاش میری چوت اتنی خوشنصیب ہوتی ، جسے اِس جیسے جوان مرد کا لن نصیب ہوتا ، تو اِس لن کو لے کر میری پھدی تو پاگل ہی ہو جاتی” محسن کے لمبے جوان لورے کو اس کی شلوار میں یوں کھرے دیکھ کر جہاں آرا کے زہن میں خیال آئیا . تو اِس کے ساتھ ہی نا صرف اوپر سے اس کا چہرہ اور جسم پسینہ چھورنے لگا . بلکہ ساتھ ہی ساتھ نیچے سے اس کی پھدی بھی گیلی ہونے لگی
 
 ابھی جہاں آرا اپنی چارپائی پر لیٹ کر محسن کے لورے کا جائزے لینے میں مصروف تھی . کے اسی دوران محسن کی طرح جہاں آرا کو بھی زور کا پیشاب آ گیا . اور وہ اپنی چارپائی سے اٹھ کر کمرے کے ساتھ بنے اٹیچھڈ باتھ روم میں جانے لگی
 
 باتھ روم جانے کے دوران جہاں آرا محسن کی چارپائی کے قریب سے گزری . تو اس کی نظر ایک بار پِھر چارپائی پر سوئے ہوئے محسن کی شلوار میں کھڑے ہوئے اس کے لورے پر گئی
 
 “افففف آج زندگی میں پہلی بار اپنے شوہر حسن کے علاوہ ، کسی دوسرے مرد کے لن کو اتنے نزدیک سے دیکھنے کے بَعْد ، دِل تو یہ ہی چاہتا ہے کے چارپائی پر چڑ کر اتنے لمبے اور موٹے لورے کو اپنی پھدی میں ڈال لوں ، مگر میری اِس خواہش کے باوجود ، میں خود آگے بھر کر یہ کام نہیں کر سکوں گی شایید” محسن کی چارپائی کے قریب کھرے ہو کر ، اس کی پتلی شلوار میں سے صاف نظر آتے جوان اور سخت لورے کو دیکھتے ہوئے جہاں آرا نے سوچا . تو اس کی نیچے سے اس پھدی پہلے سے زیادہ رس چھوڑ چھوڑ کر اب اس کی شلوار کو بھی گیلا کرنے لگی
 
 پِھر چند لیمحے محسن کا لورے کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بَعْد جہاں آرا اپنے جذبات کو ایک بار پِھر اپنے قابو میں کرتے ہوئے باتھ روم میں گھس گئی

باتھ روم میں پیشاب کرنے کے دوران جہاں آرا کو اندازہ ہُوا کے باہر بارش نا صرف ابھی تک برس رہی ہے . بلکہ اِس کی رفتار میں پہلے سے زیادہ تیزی آ چکی ہے
 
“ہاے کاش اِس طوفانی رات میں میرا شوہر میرے ساتھ ہوتا ، تو اس کے ڈہیلے لن سے ہی اپنی پھدی کی گرمی کو کسی نا کسی طرح ٹھنڈا کر ہی لیتی میں
باتھ روم کے کموڈ پر بیٹھ کر باتھ روم کی کھڑکی سے آتی بارش کی تیز آواز کو سنتے ہوئے جہاں آرا نے سوچا . اور اِس کے ساتھ ہی دِل پر پھتر راکھ کر کموڈ سے اٹھی اور اپنی شلوار کو کھینچ کر اوپر کر لیا
   
پیشاب کرنے کے بَعْد جہاں آرا باتھ روم سے باہر نکلی ہی تھی . کے اُس کی نظر باتْھ روم کے دروازے کے سامنے کھڑے محسن پر پری
 
   
اپ یہاں کیوں کھڑے ہیں اِس وقعت ، خریت تو ہے نا” جہاں آرا احمد کو رات کے اِس وقعت باتھ روم کے دروازے کے سامنے یوں کھڑے دیکھ کر ایک دم بوکھلا سی گئی اور اُس نے سوال کیا
   
“اپ کی طرح مجھے بھی باتھ روم جانا ہے ، اِس لیے یہاں کھڑا آپ کے باہر آنے کا انتظار کر رہا تھا” جہاں آرا کی بوکھلاہٹ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے محسن ہلکا سا مکرایا . اور اسے جواب دیکھتے ہوئے باتھ روم کی طرف بڑھنے لگا
   
باتھ روم جانے کے لیے محسن ابی باتھ روم کے دروازے کے سامنے کھڑی جہاں آرا کے آن سامنے پونچا ہی تھا . کے اتنے میں کمرے سے باہر اچانک ہی زور سے بجلی کڑکی
   
بجلی کڑکنے کی اِس زور دار گونج کو سنتے ہی ڈر کے مارے جہاں آرا کے منه سے ایک چیخ نکلی . اور اسی ڈر کے مارے گبھراتے ہوتے ہوئے وہ ایک دم سے سامنے آتے محسن کی چھاتی سے چپکتی چلی گئی
محسن سے اِس طرح اچانک چپکے کی وجہ ایک طرف سے جہاں آرا کی بھاری اور گداز چھاتیاں اوپر سے محسن کی جوان اور مضبوط چھاتی کے ساتھ زور سے ملتی چلی گی
تو دوسری طرف جہاں آرا کے موٹے بھری مموں کے جاداز لمس کو محسوس کرتے ہی پیشاب کی وجہ سے محسن کی شلوار میں پہلا سے ہڑا ہُوا لوڑا ، نیچے سے جہاں آرا کی ٹانگوں کے درمیاں میں رنیھگتا ہُوا جہاں آرا کی پیاسی چوت سے پہلی ملاقات کرنے لگا
  “افففففف ہاے” اپنے بوڑھے شوہر کے ڈھیلے لن کے برعکس آج ایک جوان مرد کے اکڑے ہوئے لورے کو یوں اپنی چوت کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے محسوس کرتے ہی جہاں آرا کے جسم میں ایک کرنٹ سا دوڑ گیا . جس کی وجہ سے نا چاہتے ہوئے بھی اُس کے منه سے ایک سسکی نکل گئی
جہاں آرا کی طرح محسن کے جسم میں بھی جنسی آگ تو پَہْلے سے ہی بھڑک رہی تھی
  اِس لیے جوں ہی جہاں آرا محسن کے جسم سے چیپکی . تو اُس کی گرم گرم سانسوں کو اپنی گردن پر محسوس کرتے ہی محسن کو جوش آئیا
  اور اُس نے اپنے منه کو ایک دم آگے بڑھاتے ہوئے جہاں آرا کے کان کو اپنے ہونٹوں سے ہلکا سا چوم لیا
محسن کے ہونٹوں کے لمس کو اپنے کان کی لوں پر محسوس کرتے ہی جہاں آرا کے بدن میں چیونٹیاں سی دوڑنے لگیں
جس کی وجہ سے اُس کی نبض کی رفتار تیز ہو گئی اور اُس کے ہونٹوں سے ایک باڑ پِھر سسکی نکال گئی . “اوہ ”  
 اسی لمحے جہاں آرا کو اپنی غلطی کا احساس ہُوا . تو اُس نے ایک دم محسن کے جسم سے علیحدہ ہو کر پیچھے ہٹنے کی کوشش کی  مگر مسز حسن کو شاید پیچھے ہٹنے میں بہَت دیر ہو چکی تھی
 کیوں کے اب محسن کا لوڑا ایک بھوکا شیر کی طرح اُس کی شلوار میں پوری طرح بیدار ہو کر کسی جوان شکار کی طلب کرنے لگا تھا    اسی لیے محسن کے جسم سے الگ ہو کر جہاں آرا جوں ہی ایک قدم پیچھے کی طرف ہوئی
تو جہاں آرا کی گردن کو اپنے دونوں ہاتھوں سے دبوچتے ہوئے محسن آگے بھہرا . اور اپنے گرم ہونٹوں کو ایک دم مسز حسن کے پیاسے ہونٹوں پر پوست کر دیا
     “امممممم نہی” اس رات جہاں آرا کے دِل میں محسن سے چودوانے کا خیال آئیا ضرور تھا    مگر اِس کے باوجود محسن کے اِس بے باکانہ اندازِ کو دیکھ کر وہ ایک دم کانپ سی گئی
اور اس نے اسی بوکھلاہٹ میں اپنی طرف سے مزاہمت کرنے کی کوشش بھی کی    لیکن جہاں آرا کی جوان پھدی کا نشہ اِس وقعت محسن کے دماغ میں اِس طرح چھڑ چکا تھا . کے اس نے جہاں آرا کو مزامحت کا موقع دیا بغیر ہی اس کے جاداز لبوں کو اپنے لبوں میں جکڑتے ہوئے اس کے لبوں کا رس پینا شروع کر دیا
   محسن نے جوں ہی جہاں آرا کے ہونٹوں کو وحشیانہ اناداز میں چومنا اور چٹانا شروع کیا    تو جہاں آرا کی پیاسی چوت میں پہلے سے لگی آگ کے شعلے بھی ایک دم اتنے بھڑکی. کے جہاں آرا کے انڈر کی پیاس اسے محسن کے آگے جھکنے اور سرنڈر کرنے پر مجبور کرنے لگی   
اور پِھر کچھ ہی لمحے بَعْد اپنی جنسی بھوک کے ہاتھوں مجبور ہو کر جہاں آرا نے اپنے ہوش ہوس کھوتے ہوئے اپنے منه کو بھی کھولا . اور اپنے لبوں پر پھرتی محسن کی گرم زُبان کو اپنے منه میں داخل ہونے کی اجازت دے ڈالی
   “اففففف کیا مزے دار ہونٹ ہیں آپ کے” جہاں آرا کا منه کھلتے ہی محسن نے اپنی
زُبان کو اس کے منه میں دالتے ہوئے کہا اور اِس کے ساتھ مسز حسن کے ہونٹوں کو چومنے اور چاٹنے کے دوران ہی محسن نے جہاں آرا کے جسم کے گرد اپنی بانہوں کا گہرا کس دیا
  جہاں آرا کے بھرے ہوئے جسم کو اپنی بانہوں میں مزید کستے ہوئے محسن اپنے ہاتھ کو اس کی کمر پر گھوماتے گھوماتے آہستہ آہستہ نیچے لایا . اور اپنے ایک ہاتھ کو مسز حسن کے چوتاروں سے کچھ اوپر رکھ دیا
 
 اور پِھر ساتھ ہی اپنے دوسرے ہاتھ کو جہاں آرا کے پیٹ پر پھیرتے ہوئے اوپر لے جا کر جہاں آرا کے ایک موٹے ممے کو اپنی گریفت میں قابو کر لیا
اپنے لبوں اور منه میں ایک اَجْنَبی مرد کے گرم ہونٹ اور لمبی زُبان اور اس کے ساتھ ہی ساتھ اپنے جاداز چوتروں اور بھری چھاتی پر اس جوان مرد کے مضبوط ہاتھوں کا لمس کو پہلی بار محسوس کرتے ہی جہاں آرا جنسی لذّت میں ڈوبتی چلی گئی اور اسی لذّت کے مارے اس کے منه سے ایک اور سسکی پھوٹی “او ہاے”   جہاں آرا کی سسکی سنتے ہی محسن سمجھ گیا کے اب یہ عورت پوری طرح اِس کے قابو میں آ چکی ہے    اِس لیے اس نے اب جہاں آرا کے جاداز ممے پر اپنے ہاتھ کا دباؤں بھڑہاتے ہوئے اپنی گرم زُبان سے اس کی گردن کو چومنا اور چاٹنا شروع کر دیا . تو محسن کے ہاتھ کی سختی اور زُبان کی گرمی سے بے حال ہو کر جہاں آرا مستی میں سسکنے لگی “ اففففففف ہاہے او”
 
 “اپ کے گھر مہمان ہونے کی وجہ سے میں آپ کے اعتبار کو ٹھیس تو نہیں پونچانا چاہتا تھا ، مگر آپ کی اِس خوبصورت جوانی کو دیکھ کر میں اپنے ہوش ہوس ہی کھو بہٹھا ہوں ، جس وجہ سے نا چاہتے ہوئے بھی میں یہ گناہ کرنے پر مجبور ہو گیا ہووں” جہاں آرا کے منه سے نیکلنے والی سیسکیوں کو سنتے ہوئے محسن بولا . اور اِس کے ساتھ ہی اس نے مسز حسن کے جسم کو اپنی بانہوں کے گہرے سے علہدہ کر دیا

جہاں آرا کے جسم سے الگ ہوتے ہی محسن نے مسز حسن کی قمیض کے گلے میں ہاتھ ڈاَلا
اور دوسرے ہی لمحے اس کی قمیض کے گلے کو اپنے ہاتھوں سے تار تار کیا
محسن کے ہاتھوں جہاں آرا کی قمیض کا گلا چاک ہوتے ہی جہاں آرا کے بریزر میں کسی
ہوئی اُس کی جوان اور جاداز موٹی چھاتیاں محسن کی بھوکی نگاہوں کے سامنے نیم عریاں ہو گیں
کمرے میں جھولتے ہوئے چھوٹے سے بلب کی روشنی میں جہاں آرا کی عریاں ننگی جوان چھاتیوں کو دیکھتے ہی محسن کو جوش آئیا اور اُس نے اپنے منه کو نیچے جھکاتے ہوئے اپنے گرم ہونٹوں کو مسز حسن کی جانداز چھاتیوں کے آن اوپر رکھتے ہوئے اپنے ہونٹوں اور زُبان سے جہاں آرا کی بریزیئر میں سے چھلکتے ہوئے اُس کے بھاری مموں کو چومنا اور چاٹنا شروع کر دی
بریزیئر میں کسی اپنی سفید چھاتیوں پر ایک اجنبی مرد کی گرم زُبان کے مزے سے بے حال ہوتے ہوئے جہاں آرا کے منه سے پہلے سے تیز سیسکیاں پھوٹنے لگیں “ہاہے افففففف”
تو اِس سسکیوں کو سنتے ہوئے محسن بھی مزید جوش سے اپنی گرم زُبان سے جہاں آرا کے مموں کو پیار کرنے لگا
جہاں آرا کی گوشت بھری چھاتیوں کے اوپر کچھ دیر یوں ہی اپنی گرم زُبان پھیرنے کے بَعْد محسن نے جہاں آرا کی پھٹی ہوئی قمیض کو اُس کے جسم سے علیدہ کیا
اور ساتھ ہی اس کے بریزیئر کو بھی اپنے ہاتھوں سے اُتَار کر جہاں آرا کے موٹے جوان مموں کو پورا طرح ننگا کر دیا

Posted on: 12:28:PM 05-Jan-2021


0 0 112 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 60 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com