Stories


پرانی یادیں از ایان علی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں نویں کلاس میں تھا۔ سب سے پھلے اپنا تعارف کروا دو۔ میرا نام ایان ھے اور جو کھانی لکھ رھا ھو اس میں 80 فیصد سچای پر مبنی ہے۔
اس وقت انٹرنیٹ کیفے کا دور تھا اور میں گاوں سے شہر پڑھنے آتا تھا۔کلاس فیلو بلیو فلموں کی باتیں کرتے تھے تو اس وجہ سے مجھے بھی بلیوں فلمیں دیکھنے کا شوق پیدا ھوا میں نے بہت ٹرای کی نیٹ پہ جا کے دیکھنے کی لیکن دیکھ نہ سکا اور دوستوں سے پوچھتے شرم آتی تھی۔ بس شب و روز ایسے ہی گزر رھے تھے۔ بس دوستوں سے فلموں کی کہانی سن سن کے دماغ میں ھر وقت سیکس اور لڑکی رھتی۔ قسمت ایسی کے کسی لڑکی سے سیکس تو
دور کی بات دوستی تک نہیں تھی۔ سکول ٹویش اور سکول چل رہا تھا۔ سنڈے کا دن تھا میں گراونڈ سے کرکٹ کھیل کے واپس گھر آیا
امی سے ڈانٹ سنی
اور روم میں چلا گیا۔ اتنے میں دروازے پہ بیل ھوی امی نے آواز دی دیکھو کون ہے میں نے جا کے دروازا کھولا سامنے ہمسای تھی اس نے کہا برف لینی ہے میں سامنے سے ھٹ گیا وہ اندر ا گی اور امی کے روم کی طرف چلی گی۔اتنے میں امی نے آواز دی کے بیٹا برف نکال دو میں کچن کی طرف گیا تو وہ پیچھے آگی۔ اس کا نام بتاتا چلوں اس کا،نام عالیہ تھا میں برف نکالنے لگا تو مجھ سے نکالی نہیں جا رھی تھی مجھے کہتی پرے ھو بڑے اے کرکٹرمیں نے کرکٹ کی کٹ پہینی ھوی تھی۔مجھے اس پہ بڑا غصہ ایا چپ کر گیا ایک تو وہ مجھ سے ایک سال بڑی تھی دوسرا میرا کوی مزاق بہی نہیں تھا۔اس نے برف شاپر میں ڈالی اور چلی گی۔ میں واپس روم میں آ گیاروم میں ایآ  تو،دماغ میں پھر سیکس کی طرف زھن چلا گیا۔ ایسے سوچتے سوچتے اچانک زہن عالیہ کی طرف چلا گیاپھر سوچا اس کے بارے میں سوچنا تو نہ ممکنات میں سے یے۔ایسے ہی نیند ا گی۔ دن گزرتے گے ایک دن میں گھر میں تھا تو عالیہ کسی کام سے ای میں اسے غور سے دیکھنے لگا وہ دبلی پتلی سی قبول صورت لرکی تھی اس کی انکھیں لمبی لمبی تھی۔اور جوانی ابھی پھوٹ رہی تھی۔  میں اب اس سے دوستی کے طریقے سوچنے لگ گیا۔لیکن کوی خاص طریقہ دماغ میں نہیں ا رہا تھا۔دن گزرتے گے ایک دن میں چھت پہ تھا وہ کپڑے لٹکا ری تھی میرے دماغ میں اچانک خیال ایا اور میں نیچے ا گیا ایک پیج پہ لکھا میں تم سے دوستی کرنا چاہتا ہوں اور چھت پہ اگیا پیج کو ایک روڑے پہ لپیٹا اور ان کے گھر کی طرف پیھنک دیا جیسے ہی وہ کاغذ اٹھانے کیلیے جھکی میں نیچے ا گیا اور ڈر کے مارے گھر سے نکل گیا
میں شام تک آوارہ گردی کرتا رہا اور دھیان گھر کی طرف تھا کہ اب اس نے امی کو بتا دیا ھو گا اب بتا دیا  ہو گا۔جب شام کو ڈرتے ڈرتے گھر داخل ھوا تو امی کہتی کدھر تھا میں نے کہا دوست کے گھر تھا امی نے دو چار باتیں سنائیں اور کچن میں مصروف ہو گیی میں نے شکر ادا کیا کے ابھی تک میری شکائت نہیں پہنچی ۔ شب وروز گزرتے گیے نہ ہی اس کی طرف سے کوی جواب آیا اور نہ ہی کوی کسی قسم کا ریکشن ۔چھٹی کے دن میں گھر تھا امی کہتی میں چاچو لوگوں کے گھر جا رہی ھو ان کا گھر ھمارے گھر سے 6،7 گھر چھوڑ کے گھر تھا۔ چھوٹا بھای اور بہنا ٹیوشن پڑھنے  گیے ھوے تھے۔ ۔میں نے ٹائم گزارنے کے لیے کمپیوٹر پہ گیم کھیلنی سٹارٹ کر دی۔ کچھ دیر بعد دروازہ کھلنے اور بند ھونے کی آواز ائ میں نے سوچا امی واپس ا گی ھو گیی میں نے ادھربیٹھے بیٹھے چلانا سٹارٹ کر دیا کہ امی بھوک لگی ھے۔ اگے سے کوی جواب نہ ایا تو  میں باھر نکلا تو سامنے امی نہیں تھی بلکہ عالیہ تھی۔اس کے ہاتھ میں پلیٹ تھی مجھے دیکھ کے کہتی کہ یہ لو چاول بناے تھے امی نے بیجھے ہیں۔ میں پلیٹ پکڑ کے کچن میں آگیا میرے پیچھے وہ بھی آگی۔ میرا دل بہت گبھرا رھا تھا پتہ نہیں کیوں؟
اتنے میں مجھے کہتی اس دن تو بٹرے دوستی کی باتیں کر رہے تھے اب چپ ہو میں نے کھا تم نے کون سا کوی جواب دیا۔ وہ بولی تم کونسا جواب لینے آے ہو۔ میں نے پلیٹ واپسی کے لیے پکڑای تو پکٹراتے ہوے اس ک ھاتھ کو ٹچ کیا۔ میرے دماغ میں ابھی بس سیکس سوار ھو گیا میرا شیر کھٹرا ھونا سٹارٹ ھوگیا ۔مجھے کوی idea نہیں تھا سیکس کا بس دوستوں کی باتیں سن کے یہی پتہ تھا کے لڑکی کے ساتھ سیکس ھوتا ہے۔خیر جب میں نے پلیٹ پکڑای تو ہاتھ ٹچ کرتے ھے میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے خا سانس نیچے مطلب میں بہت گبھرایا تھا۔ میں نے اسے کہا کہ اجاو ردم میں امی چاچو لگوگوں کے گھر گی ھے وہ کہتئ نہیں میں چلتی ھو میں نے کہا کچھ دیر بعد چلے جانا وہ میرے ساتھ روم میں آ گی میں نے اسے کہا چارپای پہ بیٹھ جاو وہ بیٹھ گیی ساتھ میں بھی بیٹھ گیا میں نے اسے کہا کے تم نےجواب نہیں دیا دوستی کی بات کا تو وہ کہتی دوستی کرنے ہی تو آی ھو۔ مجھ پہ تو اشاری چڑھی ھوی تھی میں سوچ رہا تھا کہ کب اسے لٹاوں اور سیکس کرو۔ خیر میں نے اس کا ھاتھ پکڑ لیا اور اسے آرام سے مسلنے لگا۔ ساتھ ہی اپنا لیفٹ ہاتھ اس کی گردن کے اوپر سے لے جا کے دوسرے کندھے پہ رکھ دیا۔ اور اپر سے ہی اس کی چیسٹ کو ٹچ کیا تو اس نے میرا ہاتھ جھٹک دیا۔ میں نے ایسے ہی گردن پہ  ھاتھ رکھے ھوے پیچھے کو زور لگایااور اسے چارپئ پہ لٹا دیا۔ اب اسے ک پاوں نیچے تھے اور کمر سے اوپر وہ چارپئ پہ تھی۔ میں بھی ساتھ لیٹ گیا اور اس  کے چہرے پہ کسنگ سٹارٹ کر دی۔ مجھے فرنچ کس کا پتہ نہیں تھا۔ مجھے اب اس کے بوبس دیکھنے کا دل کر رہا تھا میں نے اس کی قیمیض اوپر کرنے لگا تو اس نے زور ازمای شروع کر دی اور کہنے لگی کہ باجی ا جاے گئ وہ میری امی کو باجی کہتی تھی۔ میں نے اسے کہا کہ چارپئ پ ھو جاو وہ فورن چارپی پہ ہو گی اب میں اس کی ٹانگوں کی طرف اگیا۔  میرے سر پہ سیکس سوار تھا۔ اور مجھے بلکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ سٹارٹ کیسے کرنا ھے۔ میں جیسے ہی ٹانگوں کی طرف آیا تو زور لگا کہ اس ک شلوار نیچے کر دی اسے اندازہ نہیں تھا کہ میں اس کی شلوار اتار دو گا۔ خیر جیسے ہی میں نے اس کی شلوار اتاری تو اس کا بلیک کلر کا انڈرویر نظر آیا اس نے اس کے اوپر جلدی سے ہاتھ رکھ لیا اور مجھے کہنے لگی کہ نہ کرو کوی ا جاے گا مجھے مینسز بھی آے ہویں ہے اب میری بلا جانے مینسز کیا ہوتے ھیں ۔ مجھے کہتی پرے ھٹو مجھے گرمی لگ رہی ہے۔ میرا دم گھٹ رہا ہے۔ میں سایڈ پہ ہوا تو اس نے اپنی شلوار جلدی سے اوپر کی اور کھڑی ھو گی۔ میں نے کہا بیٹھ تو جاو۔ میں سوچ رہا تھا کہ وہ بیٹھے گی نہیں بلکہ چلی جاے گی لیکن وہ چارپای پہ بیٹھ گیی۔اب پھر کام زیرو سے سٹارٹ میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور مسلنے لگا۔ ساتھ ہی منہ پہ کسنگ کرنے لگ گیا۔ اتنے میں دروازہ کھلنے کی اواز ائ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارے اوسان خطا ہو گے۔عالیہ بھی ڈر گی اس نے اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑوایا اور کھڑی ھو گئ۔میں نے کہا تم روکو میں دیکھتا ھوں اگر امی ھوی تو کہہ دینا کے چاول دینے آی تھی۔ میں باہر نکلا اور دیکھا دروازہ کھلا ھوا تھا لیکن کوی نظر نہیں آ رہا تھا۔ اتنے میں فقیر کی صدا آی میں سمجھ ھیا کہ فقیر نے ہی دروازہ کھولا ھو گا ھلکا سا۔ میں دل میں فقیر کو کوسنے لگ گیا۔ اور عالیہ کو آواز دی کہ کوی نہیں ہے وہ بھی باہر آ گی اور کہتی کہ میں چلتی ھوں کہ اس سے پہلے کہ کوی اور آ جاے۔ میں نے کہا ک تھوڑی دیر رکو لیکن وہ نہ روکی اور چلتی بنی میں فقیر کو کوستا رہا۔ اور پورہ دن عالیہ کو چودنے کے خیالی پلاو بناتا رہا۔ خیر اگلے دن سکول گیا تو میرے سر پہ سیکس سوار تھا میں نے حوصلہ کر کے ایک دوست کو کہا کہ مجھے کیفے پہ لے جا کے سیکسی مووی دیکھاو۔ وہ کہتا یہ کونسی بات ہے ہم بریک ٹائم ٹلی مار جایں گے۔ بریک ھوی تو ہم کیفے پہ آگے جو کہ سکول سے زیادہ دور نہیں تھا وہاں پہ رش تھا ہمیں تھوڑی دیر انتظار کرنا پڑا پھر ایک کیبن خالی ھو گیا۔ ہم اس میں بیٹھ گیے۔ میں بہت گھبریا ھوا تھا۔ دوست نے جیسے ہی مووی چلای ایک گوری کچن کی صفائ کر رہی تھی اس نے پینٹی پہنی ہوئ تھی۔میرا شیر تو اسے دیکھ کہ ہی پینٹ سے باہر آنے کو بیتاب ہو رہا تھا۔ایک مرد آتا ہے اور اس کے پیچھے سے ہاتھ لگاتا ہے اور رومینس (جس کا مجھے بعد میں پتہ چلا کہ اسے رومینس کہتے ہیں) سٹارٹ کر دیا اور سیکس کیا میں زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی کو اس طرح ننگا دیکھ رہا تھا اور سیکس میں اس طرح کھویا ھا کہ جیسے میں ہی سیکس کر رہا تھا۔میں بٹرے غور سے نوٹ کر رھا تھا۔25 منٹ گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا اور ہمارہ بریک ٹائم بھی ختم ہو چکا تھا وہاں سے ہم کلاس میں آگے اور میں کلاس میں آنے کے باوجود نیٹ کیفے کی مووی میں ہی کھویا ہوا تھا۔ چھٹی ہو گی اور میں گھر آگیا ۔ دن گزرتے ریے اور میں روزانہ سوچتا کہ کیفے جاو گا دوبارہ لیکن ٹاہم ہی نہخں ملا۔ اسی طرح ایک دن میں گھر میں تھا کہ مجھے امی کہتی کہ پنکھا نہیں چل رہا اسے ٹھیک کر دو میں نے امی کو کہا کے ٹیسٹر اور پلاس کدھر ہے پنکھے کا سوئچ خراب تھا۔ امی کہتی وہ تو عالیہ لوگ لے کہ گیے ہیں ان کے گھر سے لے آو۔ میں نے کہا کہ رہنے دو وہ خود دے جایں گے اصل میں اب مجھے ان کے گھر جانے پہ کوفت ہوتی تھی کیونکہ عالیہ کی امی پڑھائ کا پوچھ کے نصحیت کرنے لگ جاتی تھی۔ امی کہتی نہیں ابھی جاو اور پنکھا ٹھیک کرو۔میں نا چاہتے ہوے بھی ان کے گھر چلا گیا اور گھر کے دروازہ پہ جا کے بیل دی ۔ تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا تو سامنے عالیہ ہی تھی مجھے کہتی کہ تم کب سے شرمانے لگ گے اور سیدھا اندر کیوں نہیں آے اور یہ کہتی ہوی مجھے اندر آنے کے لے رستہ دیتے ہو ے سائیڈ پہ ہو گی۔ میں نے کہا کہ پلاس وغیرہ لینا ھے وہ کہتی ٹھیک ہے اور بولی امی نے رکھا ہوگا میں دیکھتی ہو امی گھر میں نہیں ہے۔ میں نے کہا ھاں دیکھ لو پھر بولی گھر میں کوی نہیں ہے اور مجھے ملنا بھی نہیں ہے  اب میں اس کا اشارہ سمجھ رہا تھا لیکن مجھ میں آگے بڑھنے کا حوصلہ نیہں ہو رہا تھا۔ اتنے میں وہ پلاس لے آی اور مجھے پکڑا دیا۔ میں پلاس لے کے دروازے کی طرف چل دیا وہ میرے پھچیے دروازہ بند کرنے آ رہی تھی اور بھولی مجھے تو اکیلے ڈر بھی لگتا ہے میں کچھ نہیں بولا اور گھر آ گیا۔ تھوڑی دیر گزری مجھے سے رہا نہیں جا رہا تھا میں دوبارہ ان کے گھر چلا گیا اور دروازے کو زور دیا دروازہ بند تھا۔ بیل دی عالیہ نے دروازہ کھالا اور مسکرای پھر پوچھا اب کیا ھے میں نے کہا کچھ نہیں تم کہ رہی تھی کہ ڈر لگ رہا ہے اس لیے آیا ھوں۔ وہ کہتی اچھا۔ میں نے پوچھا گھر والے کدھر گے ھیں میں تسلی کر لینا چاہتا تھا تا کہ اس حساب سے آگے بڑھوں وہ کیتی وہ فوتگی پہ گے ہیں اور شام کو جنازہ ہے میں نے اندازہ لگایا کہ 3 گھنٹے ہیں آج زبردستی بھی کرنی پڑی تو کروں گا۔ میں نے کہا اب بیٹھاوں گی نہیں وہ کھتی بیٹھ جاو لیکن اگر کوئ آگیا۔ میں نے کہا اگر تم کہتی ہو تو چلا جاتا ہوں میں کسی قسم کے شک میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا وہ کہتی نہیں نہیں تم ردکو میں دروازہ لاک لگاتی ہو۔ وہ لاک لگا کے آ گی اور ہم ٹی وی دیکھنے لگ گے۔ ٹی وی پہ کچھ خاص نہیں تھا۔ میں نے کہا ٹی وی بور کر رہا ہے او باتیں کرتے ہے۔ وہ کہتی کرو باتیں میں سن رہئ ہو۔ مجھے بہت غصہ آیا کہ سالی لفٹ بھی کروا رہی ھے اور نخرے بھی۔  میں اٹھ کے اس کے پاس چلا گیا اور ادھر ادھر کی بونگھی مارنی شروع کر دی ۔ باتیں کرتے کرتے میں نے اس ک ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔اور اس سے باتیں کرتا رہا ۔ پھر پتہ نہیں مجھ میں کہاں سے ہمت آی میں نہ اچانک اس کے ہونٹوں پہ کس کی میں نے مووی میں دیکھا تھا۔ اس نے کوی ریکشن نہیں دیا میں شیر ہو گیا اب دوبارہ سے ایک ھاتھ اس ک گردن پہ رکھا اور ھونٹوں کو لگاتار کس کر رھا تھا ۔ عالیہ تھوڑی دیر تو ویسے بیٹھی رہی پھر اس نے میرے ھونٹوں کو چوسنا سٹارٹ کر دیا۔ مجھے بہت اچھا لگ رھا تھا۔ میں مزے کے ساتویں آسمان پہ پہنچا ہوا تھا میں نے کس کرتے کرتے اسے صوفے پہ لٹا لیا۔ پھر میں نے اس کی گردن پہ کس سٹارٹ کی ۔میں اس کے اوپر تھا اور میرا لن کبھی اس کی چوت کے ساتھ ٹچ ہو رہا تھا کبھی پیٹ کے ساتھ۔ میں گردن سے کس کرتا ھوا قمیض کے اپر سے ہی اس کے بوبس پہ آیا چھوٹے چھوٹے اور روئی کی طرح نرم و ملائم  پستان  کی تو کیا ہئلی بات تھی۔ مجھ سے رھا نہیں ج رہا تھا۔ میں نے اس ک قمیض اوپر کی اور دودھ کی طرح سفید پیٹ میں تو دیکھ کہ پاگل ہو گیا اور اسے چومنا اور چاٹنا شروع کر دیا۔
میں پاگلوں کی طرح پیٹ کو پیار اور کس اور سک کر رہا تھا۔ عالیہ کبھی میرا سر پکڑ کے مجھے روکتی کبھی خود پنا سر ادھر ادھر مارتی۔ میں نے اب ایک ھاتھ سے اس کی قیمیض کو اوپر کرنا سٹارٹ کر دیا اب کی دفعہ عالیہ نے مجھے نہیں روکا۔ اب میں نے تھوڑی سی قیمیض اور اوپر کی تو عالیہ نے اپنی کمر کو اوپر کر کے قیمیض اتارنے کا اشارہ کر دیا۔ میں نے جلدی سے اس کی قیمض اتار دی۔ عالیہ نے بلیک رنگ کا براہ پہنا ہوا تھا۔ اس میں اس کے بوبس باہر آنے کو تڑپ رہے تھے۔ میں نے ایک جھٹکے سے عالیہ کا بریزیر اوپر کیا اور دونوں ہاتھوں سے دونوں بوبس کو دبانے لگا۔ اف اتنے نرم میں  زور زور سے دبا رھا تھا عالیہ کہتی کہ آرام سے بابا ۔ پھر میں نے دائیں پستان کو اپنے منہ میں لے لیا اور بائیں کو ہاتھ سے دبا رہا تھا۔ اب عالیہ آہستہ آستہ آواز نکال رہی تھی جو سمجھ نہیں آرہی تھی۔میں کبھی دائیں پستان کو منہ میں لیتا کبھی بائیں کو 10 منٹ تک میں عالیہ کے پستان کو سک کرتا رہا ۔پھر  اس ک پستان کو سک کرتا ھوا میں عالیہ کے منہ کی طرف گیا اور اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا۔ عالیہ کسنگ کا فل رسپانس دے رہی تھی کبھی انی زبان میرے منہ میں داخل کرتی اور کبھی میری زبان کو سک کرتی۔ میں اپنا ایک ھاتھ عالیہ کے پیٹ پہ پھرتا ھوا نیچے کی طرف لے آیا۔جب میرا ھاتھ پھدی کے اوپر آیا تو وہ جگہ گیلی تھی  مجھے لگا کہ عالیہ کا پیشاب نکل گیا ہے  وہ تو مجھے بعد میں پتہ چلا کہ عورت بھی مرد کی طرح فارغ ہوتی ہے۔ اب میں عالیہ کی ٹانگوں میں بیٹھا ھوا تھا میں نے جیسے عالیہ کے ٹراوزر میں ھاتھ ڈال کے نیچے کرنے لگا تو عالیہ نے میرا ھاتھ پکڑ لیااور کہتی نہ کرو ٹراوزر نہ اتارو۔ اور مجھے بازو سے پکڑ کے اپنے اوپر کر لیا۔ اور میری شرٹ کے بٹن کھولنے لگ گی۔ میں نے شرٹ اتارنے میں اس کی مدد کی  اور پھر عالیہ کے اوپر لیٹ کے گردن پہ کسنگ کرنے لگ گیا ۔ میں نے عالیہ کو الٹا لیٹنے کو کہا وہ الٹا لیٹنے لگی پھر کہتی بیڈ پہ لیٹتی ہو۔ ادھر جگہ کم ہے۔وہ بیڈ پہ الٹا لیٹ گیی۔اب میں نے اس کی گردن پہ کسنگ سٹارٹ کر دی۔اور کسنگ کرتا ہوا کمر پہ اگیا اور اسی طرح کسنگ کرتا ہوا نیچے اتا گیا۔پھر میں نے منہ سے ہی عالیہ کا ٹراوزر نیچے کیا تو اس نے کوئی منع نہیں کیا بلکہ ٹھوڑا سے اوپر ہو کے سامنے سے بھی ٹراوزر نیچے کر دیا۔اب میں نے اس کی بٹک پہ کسنگ سٹارٹ کردی اور کبھی زبان اس کی لائن میں پھیرتا۔ عالیہ مزے سے تلملا رہی تھی۔ میں اب اس ک پھدی دیکھنے کے لیے بیتاب ہو
رہا تھا۔ میں نے عالیہ کو سیدھا کیا ۔ لیکن وہ جیسے ہی سیدھا ہوئی اس نے ٹانگون کو جوڑ لیا۔ میں نے اس کی ٹانگون کو کھولا تو وہ شرما رہی تھی میں نے ایک ہاتھ سے اپنا ٹراوزر نیچے کیا اور پاوں کی مدد سے اتار دیا اب میں بلکل ننگا تھا اور میرا لن پھدی میں جانے کے لیے تڑپ رہا تھا۔ اب میں نے عالیہ کی شلوار اتار دی وہ بلکک ننگی میرے سامنے لیٹی ھوی تھی۔عالیہ کی چوت گیلی تھی میں نے ایک ھاتھ سے اپنا لن کو پھدی پہ سیٹ کیا اور  پش کیا پھدی گیلی تھی جس کی وجہ سے لن آسانی سے اندر گیا جسے  لن اندر گیا تو عالیہ نے ہلکی سی آوز نکالی میں نے اپنا منہ عالیہ کے منہ پہ رکھ دیا تاکہ عالیہ کخ آواز نہ نکلے۔ پھر ایک اور جھٹکا مارا اور پورا لن اندر چلا گیا۔ اب میں نے زور زور سے جھٹکے مارنے شروع کر دیے اب میرے جھٹکوں کا عالیہ بھی جواب دے رہی تھی۔پھر اچانک عالیہ نے میرے لن کو زور سے بھینچا اور 3 سیکنڈ بعد چھوڑ دیا۔ میں لگاتار جھٹکے مارتا رہا پھر میں جب فارغ ہونے پہ آیا تو میرا دل کیا کے اپنے ٹتوں کو بھی اندر گھسا دو۔ میں عالیہ کے اندر ہی فارغ ہو گیا اور بے سدھ ہو کے عالیہ کے اوپر ڈھے گیا۔
میں عالیہ کے اوپر ہی لیٹا تھا ایسے لگ رہاتھا جیسے بندہ کوئی کام کر کے ھٹا ھو۔اور تھکاوٹ کے بعد اب سانس لے رہا ہو۔ پھر میرا لن آہستہ آہستہ سکٹر کے باہر نکل آیا۔میں اس کے اوپر سے ہٹ کے ایک طرف ہو گیا۔ عالیہ مجھے کہتی چپ کیوں کر گیے۔میں نے کہا چپ تو نہیں کیا ۔ میں نے اب لیٹے لیٹے ایک ٹانگ عالیہ کے اوپر رکھی اور اس کے بوبس سے کھیلنے لگ گیا۔ دودھیا رنگ کے ممے مجھے بہت پیارے لگ رہے تھے ان کا سائز بھی یہی کوئی 30 32 ہو گا۔ میں نے بوبس کو مسلنا شروع کر دیا اور ادھر سے میرا لن دوبارہ کھڑا ھو گیا۔ عالیہ مجھے کہتی واہ جی شیر تو پھر تیار ہو گیا ہے میں نے کہا تم ہو ہی اتنی پیاری اس میں شیر کا کوئی قصور نہیں۔ میں نے اس کے مموں کو منہ میں لے کے سکنگ شروع کر دی عالیہ دوبارہ گرم ہو گیی۔میں عالیہ کے اوپر لیٹ کے مموں کو منہ میں لے رہا تھا اور پورا مما منہ میں ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا جس میں کسی نہ کسی حد تک کامیاب بھی ہو رہا تھا۔ عالیہ نے میرے سر پہ ہاتھ رکھ کے نیچے کودبا رہی تھی۔ اور نیچے سے اوپر ہو کے اپنی پھودی کو لن کے ساتھ مسل کے اندر لینے کی کوشس کر رہی تھی۔ میں جان بوجھ کے اندر نہیں کر رہا تھا اور اسے تٹرپا رہا تھا۔ پھر عالیہ مجھے کہتی سائیڈ پہ ہو میں نے کہا اسے پتہ نہیں کیا ھوا۔ مجھے سائیڈ پہ کر کے عالیہ میرے اوپر آ گیی۔ اب پوزیشن یہ تھی کے عالیہ میرے لن کے اوپربیٹھی تھی۔اور اس نے میرے سینے پہ کسنگ سٹارٹ کر دی۔ میرے سینے پہ ابھی اتنے بال نہیں تھے۔ عالیہ تھوڑا سا اوپر ہوئی اور لن کو سیدھا کر کے اوپر بیٹھ گیئ۔ لن کڑچ کر کے اندر گیا اور اس کے منہ سے ہلکا سا اوئی نکلا اوپر عالیہ اوپر نیچے ہونا شروع ہوگیی۔ میں دونوں ہاتھوں سے اس کے ممے دبا رہا تھا۔ اچانک عالیہ نے اپنی سپیڈ تیز کی اور پھر روک گیی مجھے ایسا لگا کہ اس کے اندر سے کو چیز نکل کہ بہہ رہی ہو۔ میں نے عالیہ کو سائیڈ پہ کیا اور اس ک ٹانگوں کے درمیان آگیا۔ اس کی ٹانگیں اوپر اٹھای اور لن کو پھودی پہ رکھ کے پش کر دیا۔ میں 10 منٹ تک چدائی کرتا رہا عالیہ اتنے میں دو بار فارغ ہو چکی تھی میں فارغ ہی نہیں ہو رہا تھا ۔ پھر مجھےایسا لگا کہ مجھ میں بہت  سا جوش آگیا۔ میں نے اور زور سے بھٹکے شروع کردیا۔ میں پھر فارغ ہونے لگا تو لن کو باہر نکالنے لگا عالیہ کہتی کہ اندر ہی فارغ ہو جاو۔  میں اس کے اندر ہی فارغ ہو گیا۔ پھر اٹھا کپٹرے پہنے اور گھر آگیا ۔

میں گھر میں آ کے شاور لیا اور سو گیا کافی دیر تک سویا رہا۔اگلے دن سکول  گیا  میں اب اپنے آپ کو بڑا بڑا محسوس کر رھا تھا۔سکول سکول  سے ٹیوشن اور ٹیوشن سے گھر دن گزر رہے تھے اور دماغ پہ  بھی   پھودی کا نشہ سوار تھا یہ نشہ  بھی عجیب نشہ ہے۔ جب پھودی سر پہ زیارہ سوار ہوتی تو مٹھ مار لیتا۔ ابھی کافی دن ھو گے تھے عالیہ ہاتھ نہیں آ رہی تھی۔ کچھ دنوں بعد میرے ابو کے کزن کی شادی تھی۔ ایک تو یہ کے خاندان میں میرے ابو سب سے بڑے تھے اور دوسرا ان کی شادی تھوڑی لیٹ ہو رہی تھی اس لیے میں 15 سال کی عمر ہونے کے باوجود اپنے ابو کے کزن کی ہی شادی اٹینڈ کر رہا تھا۔ان کا گھر ھمارے گاوں میں ہی تھا میں پلیننگ کررہا تھا کے امی لوگ مایوں مہندی میں جائیں گی اور میں اپنی دلربا کو بلا کر چودوں گا۔  مہندی والے دن امی لوگ دوپہر کو ہی چلے گے اور مجھے کہتے کے شام کو کھانا کھانے آ جانا۔ اور گھر کا دھیان بھی رکھنا۔ میں نے عالیہ کے گھر کی طرف دو تین چکر لگاے اس سے سامنا تو ھوا لیکن بات نہیں ہو سکی۔ یاد رہے یہ اس وقت کی بات ہے جب موبائل نہیں آے تھے موبائل دو تین سال بعد عام ہوے تھے۔ میں شام تک انتظار کرتا رہا لیکن کچھ نہیں ہوا ۔ رات 9 بجے میں نے گھر میں ہی کچھ کھایا اور لیٹ گیا نیند آ نہیں رہی تھی میں نے سوچا چلو ارھر چلتے ہیں کھسرے آے ہو گے ان کا ڈانس دیکھتے ہیں۔ادھر آیا تو پتہ چلا کے کھسروں کا پروگرام لیٹ ہے۔ میں مہندی والے گھر جانے کا سوچا لیکن دروازہ بند  پوچھنے پہ پتہ  چلا کے اندر لیڈز کا فنکشن  ھے اس لیے مرد حضرات باہر نکال دے۔ ان کے گھر کے ساتھ ہی دوسرا گھر بھی ابو کے چچا کا ہی تھا میں ادھر گیا وہ خالی تھا۔ سارے ساتھ والے گھر شادی میں تھے۔  میں نے سوچا کیوں نہ چھت پہ سے ادھر جایا جاے۔  چھت پہ گیا بچے پہلے ہی چھپ کے بہٹھے دیکھ رہے تھے۔ سب رشتہ داروں  کی نظر میں میں بھی بچہ ہی تھا۔  میں بھی بیٹھ گیا اور دیکھنے لگ گیا۔ لڈی چل رہی تھی  پھر کچھ دیر بعد امی چاچیں سبھی ایک لڑکی کو ڈانس کا  کہ رہی تھی وہ نخرے کر رہی تھی کہ بعد میں لوگ باتیں بناتے ہیں سبھی نے یقیں دلایا کہ کوئی نہیں بتاے گا۔  اس نے ناگن ڈانس لگانے کا کہا اور اس پہ ڈانس سٹارٹ ا
کیا۔  شروع  میں تو آرام سے کر رہی تھی آہستہ آہستہ جوش میں آ رہی تھی۔  اس نے اپنے دوپٹہ کو رایٹ کندے پہ ڈال کے  اپنے بریسٹ کے درمیان سے لا کےاور دوسری سائیڈ بیک سے لا کے لیفٹ کمر پہ گانٹھ دی۔  ریڈ کلر کا سوٹ پہنا ہوا تھا  وہ بہت کمال کی لگ رہی تھی۔ اگر یہ کہا جاے کے اس وقت مجود سب سے زیادہ حسین تھی تو غلط  نہیں ھو گا۔ لمبا قد بھرا ہوا جسم اور جب اس نے ناگن کا مخصوص سٹیپ کیا ھاتھ اوپر کر کے تو اس کے پستان چھلک رہے تھے  اور  میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے وہ جس  طرح ڈانس کر رہی تھی وہ سچ کہی رہی تھی کے لوگوں نے بعد میں باتیں کرنی ہے۔ وہ بلکل پروفیشنل لگ رہی تھی۔ جب اس نے  منہ موڑا اور اس کی بیک ھپ بھی ایسے ہی ہل رہی تھی جیسے پہلے پستان۔ اور ادھر نیچے سے میرا لن فل اکڑ چکا تھا اور مجھے لگ رھا تھا کے میں اس دیوار میں ہی سوراخ کر دو گا۔ حالانکہ یہ خام خیالی ہی ہے۔ میں اتنا محو تھا کہ مجھے یہ بھی نہیں پتہ کے آس پاس کیا ہو رہا ہے۔ اتنے میں میرے کندھے پہ کسی نے ہاتھ رکھا تو میں چونکا اور دیکھا وہ کوئ لڑکی تھی اندھیرے کی وجہ سے پہچان نہیں سکا غور کیا تو وہ باجی صائمہ تھی جو کے ھماری رشتہ دار ہی تھی ۔ میں نے کہا آپ کدھر میں سمجھا وہ اوپر چیک کرنے آئی ہے کسی نے بیھجا ہو گا۔ وہ کہتی میں کام سے گھر گئی تھی واپس آئی تو دروازہ نہیں کھولا تو میں بھی ادھر آگئی ۔ کہتی ہاے اس بیچاری کو نہیں پتہ ادھر تو پورا گاوں ہی دیکھ رہا ہے اسے۔ میں نے دیکھا کافی رش تھا چھت پہ۔ تھوڑی دیر بعد صائمہ کہتی میرے ساتھ نیچے چلو میں نے کیچن سے پانی پینا ھے اور گھر میں کوئی نہیں ھے مجھے ڈر لگتا ہے۔ میں نے کہا آپ اتنی بڑی ہو کے ڈر رہی ہے۔ اصل میں میں نیچے اس لیے نہیں جا رہا تھا کے میرا لن کھڑا تھا اور  تمبو بنا ہوا تھا۔
میرا لن اس کا گانڈ ہلا کے ڈانس کرنے کی وجہ سے کھڑا ہوا تھا۔ اور صائمہ بار بار اصرار کر رہی تھی کے نیچے چلو۔ خیر میں نے اس کی ضد کے سامنے ہار مان  ہ لی اور اسے کہا تم چلو میں آتا ہوں ۔ وہ کہتی نہیں ساتھ ہی چلو۔ میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے بابا چلتا ہوں تم تو ڈانس بھی دیکھنے نہیں دے رہی ہو۔ میں کھڑا ہوا اور اسے کہا چلو آگے لگو وہ چلنے لگی میں نے بڑی احتیاط سے لن کو شلوار کے نیپھے میں پھنسا دیا تاکہ صائمہ کو کچھ فیل نہ ہو۔  نیچے گھر میں کوئی نہیں تھا سبھی دوسری طرف شادی پہ تھے اور ڈھول بجنے کی آواز بھی آرہی تھی شائد کھسرے بھی پہنچ گئے ہو گے۔ ہم نے برامدے کا دروازہ کھولا اور کیچن میں چلے گے۔ صائمہ نے خود بھی پانی پیا اور مجھے بھی پلایا۔ ھم نکلنے لگے تو صائمہ کہتی وہ شیلف پہ مٹھائی کا ڈبہ پڑا ھے۔ میں نے کہا چلو اتار کے کھاتے ہیں شیلف اونچی تھی اور میں چھلانگ نہیں لگا رھا تھا کہ کہیں میرا لن نیپھے میں سے نکل نہ جاے اور خامخواہ کی بے عزتی ہے۔ صائمہ کہتی دیکھ کیا رہے ہو چھلانگ مار کے اتارو۔ میں نے چھلانگ مار کے ڈبہ تو نیچے گرا لیا اب وہہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ صائمہ کا دھیان میری طرف نہیں تھا میں نے جلی سے لن کو دوبارہ ایڈجسٹ کرنے لگا لیکن نہیں ہوا لیکن مجھے ایسا لگا کہ جیسے صائمہ کن انکھیوں سے میری ہی طرف دیکھ رہی تھی۔صائمہ نے منہ دوسری طرف کر کے مٹھائی کھانا سٹارٹ کی پھر کہتی چلو چلیں میں نے اسے رستہ دیا اور دل ہی دل میں شرمندہ ہو رہا تھا کہ یہ پتہ نہیں اب کیا سوچے گی میرے بارے میں  سھڑیوں پہ آکے صائمہ کہتی دیکھو پہلے کون چڑھتا ہے میں نے بھی جلدی جلدی چڑھنا شروع کیا اچانک صائمہ رکی اس کے رکنے کی وجہ سے میں صائمہ سے ٹکڑایا اور  میرالن صائمہ کی گانڈ کے سا تھ لگ گیا۔ اس کی گانڈ بڑی ہی نرم و گداز  تھی۔ لیکن میں صائمہ کے بارے میں ایسا ویسا کچھ سوچ بھی نہیں سکتا تھا ایک تو وہ عمر میں مجھ سے بڑھی تھی ۔میں جلدی سے کھڑا ہوا اور اسے کہا کھڑی ہو جاو چوٹ تو نہیں لگی۔ اس نے میری طرف دیکھ کے مسکرایا اور دوبارہ چل پڑھی۔ ہم چھت پہ ہہنچ گئے اور نیچے ڈانس دیکھنے لگ گئے۔ اب میرا سارہ دھیان اسی سین کی طرف تھا۔صائمہ بلکل میرے ساتھ جھڑ  کے بیٹھی ہوئی تھی۔ میں نے صائمہ کی طرف غور سے دیکھا تو   میں حیران تھا کہ اتنی خوبصورت لڑکی میرے پہلو میں بیٹھی ہوئی ھے اور میں ادھر ادھر جگ مار رہا ھوں اس نے ھلکی سی لپ سٹک لگائی ہوئی تھی اور ھلکا سا میک اپ کیا ہوا تھا۔ رات کے اندھیر ے میں اپسرا لگ رہی تھی یا میرے دماغ پہ شہوت سوار تھی۔ میں نے ھلکا سا اپنی ٹانگ کو ھٹایا تو اس نے دوبارہ ٹانگ ساتھ جوڑ لی۔ اب میں سمجھ گیا کہ یہ اب چسکے لے رہی ھے لیکن اب پہل کون کرے گا۔

اس وقت زرد (پیلے) رنگ کی سلک کی قمیض شلوار پہنے ہوئے تھی جبکہ دوپٹہ سفید رنگ کا کر رکھا تھا۔ گلے میں  ہار موجود تھا ۔ کانوں میں  سونے کے کانٹے، ناک میں چمکتی ہوئی سونے کی لونگ، ماتھے پر ٹکا، ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی۔۔۔ بازووں  میں تین تین سونے کی چوڑیاں
باجی کو کسی سہاگن سے کم لگنے نہیں دے رہا تھا۔۔
صائمہ باجی بولی کیا دیکھ رہے ہو غور سے نظر لگانی ہے۔ میں نے کہا آ پ پیاری ہی اتنی لگ رہی ھیں کےآج نظر تو لگنی ہی ھے پہلے ہم بیٹھ کےپردوں کی جالی سے نیچے دیکھ رہے تھے اب تھک گئے تھے بیٹھ کہ تو کھٹرے ہو   
گئے۔۔   میں نے جان بوجھ کے اپنا ھاتھ صائمہ کے ھاتھ پہ رکھا اس نے کوئی ریکشن نہیں دکھایا۔ ایسے کھڑے کھڑے کافی ٹائم گزر گیا صائمہ نے جب میری طرف سے پہل نہ دیکھی تو اپنی ٹانگ کو میری ٹانگ کے بیک پہ لے آئی اور معمولی سا Rub کیا پھر ٹانگ ہٹا لی۔ میں تھوڑا سا ٹیڑ ھا ہوا تو جہا ں پہ میری ٹانگ تھی دیوار کے ساتھ وہاں اس نے اپنی ٹانگ رکھ لی۔ میں اس کا مطلب سمجھ گیا اور بہت حوصلے کے ساتھ ڈرتے ڈرتے اپنی ٹانگ اس کی ٹانگ پہ رکھی وہ تھوڑا سا اور میرے طرف کھسکی جیسے وہ میرے سامنے انا چاہتی ہو۔ اب میرا لن اس کی ٹانگ کے ساتھ ٹچ ہو ریا تھا۔ اور میں مزے کی فل لہر میں تھا۔ صائمہ کہتی نیچے چلیں پانی پیںنے میں نے کہا چلو  جیسے ہی ہم نیچے پہنچے میں نے برامدے کی کنڈی لگا دی حالانکہ کسی کے آنے کا ڈر نہیں تھا پھر بھی احتیاط کے طور پہ۔ صائمہ کہتی کنڈی کیوں لگا رہے ہو۔ میں مسکرا دیا اور اس کے جسم کی طرف دیکھ رہا تھا اس کا جسم بہت سمارٹ تھا۔ پرفیکٹ جسم۔ ابھی اٹھارہ سال عمر ہوئی تھی اس کی۔ اور اس عمر میں کوئی بھی لڑکی اپنی خوبصورتی کے سب سے سنہرے دور سے گزر رہی ہوتی ہے

میں نے اسے دھکا دے کے بیڈ پہ گرایا۔اور اس کے اوپر بیٹھ گیا۔ اور کسنگ سٹارٹ کر دی۔میں مزے کی دنیا میں ڈوبتا جا رہا تھا میں نے ایک ہاتھ  اس کی گردن کے نیچے رکھا جبکہ دوسرا ہاتھ اس کی قمیض کے اندر ڈال کر صائمہ کے مموں اور نپلز کو سہلانا شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر ایسے ہی مزے کرنے کے بعد میں نے صائمہ کو پیچھے ہٹایا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے صائمہ کی قمیض پکڑ کر اتار دی۔ واہ کیا شاندار ممے میری آنکھوں کے سامنے تھے۔
لیکن بلیک کلر کے برا میں چھپے ہوئے تھے۔
وہ پوری اپسرا لگ رہی تھی۔ دودھیا رنگ کے ممے بلیک کلر میں چھپے ہوئے تھے۔ ایسے جیسے کوئلہ کی کان میں ہیرا۔ میں نے زور سے اس کا برا اتارہ اور مموں پہ ٹوٹ پڑا۔وہ اتنے زیادہ بڑے نہیں تھےمیں پورے کا پورا مما منہ میں لینے کی کوشش کر رہا تھا۔ اور صائمہ لک رہی تھی کہ بس کرو  میں مر گئی اور دونوں ہاتھوں سے میرے سر کو بھی ہٹانے نہیں دے رہی تھی۔ صائمہ کا جسم دودھ جیسا سفید تھا۔ میں نے ایک ھاتھ نیچے کر کے اس کی شلوار بھی اتار دی اور بلکل سفید اور ہلکے ہلکے براون رنگ کے بال تھے۔ میں نے اس کی پھودی کو مسلنا شروع کر دیا۔
اف بہت تنگ پھودی تھی۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا اور لوشن نظر آیا میں نے وہ اس کی پھودی پہ مسلہ اور اس کے دانے کو مسلنے لگا۔ میں نے اپنی شلوار نیچے کی  جب اس نے میرا لن دیکھا تو آنکھیں بند کر لی جیسے شرما گئی ہو۔  میں نے لن اس کی پھودی پہ رکھا اور لیٹ کے رب کرنے لگ گیا۔ اور ساتھ ساتھ کبھی کسنگ اور کبھی اس ک مموں کو مسل رھا تھا۔ صائمہ نیچے مچل رہی تھی اور لن کو اندر لینے کی کوشش کر رہی تھی۔ میں اوپر سے اٹھا اور لن کو اس کی پھودی پہ سیٹ کیا اور پش کیا لن اندر نہیں جا رھا تھا۔ میں نے لوشن اپنے لن پہ لگا اور لن کو سیٹ کر کے پش کیا تو صائمہ کی چیخ نکلی میں ڈر گیا میں نے کہا پتہ نہیں کیا ہوا۔ میں رک گیا  صائمہ کی آنکھ سے پانی نکل رہا تھا  دماغ پہ پھودی سوار تھی کبھی دل کرتا لن نکال لوں لیکن پھر دل کہتا کچھ نہیں ہوتا بیس تیس سیکنڈ بعد تھوڑا سا لن کو پش کیا اور اپنا منہ صائمہ کے منہ پہ رکھ لیا۔ کیا غضب کی پھودی تھی۔  اس طرح لگ رہا تھا جیسے اندر آگ جل رہی ہو۔ میں نے تھوڑا ھلنا شروع کیا اگر زور سے ھلتا تو صائمہ مجھے بازو سے پکڑ کر اپنے اوپر لٹا لیتی۔  تھوڑی دیر بعد مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے صائمہ میرے لن کو اندر بھینچ رہی ہو۔ اور پھر وہ ریلکس ھو گی۔ تھوڑی دیر بعد میں بھی ڈسچارچ ہو گیا۔ اور اس ک پہلو میں لیٹ گیا۔ صائمہ میری طرف دیکھ کہ کہتی تم تو بہت چھپے رستم نکلے۔ میں نے اسے جپھی ڈالی اور ،ور سے کھینچا۔ صائمہ  کہتی اٹھو چلے کو ئی ا جاے گا میں نے کہا نہیں تھوڑی دیر رکو  میرا دل ایک بار اور سیکس کرنے کا تھا لیکن وہ نہیں مانی اور ہم نے ایک دوسرے کی صفائی کی اور کپڑے پہن کے اوپر آگئے۔
میں پھر گھر آگیا اور سو گیا۔اگلے دن بارات تھی ہم چاچی لینے گئے اور شام کو واپس آے پورا دن میں لڑکیوں کو تاکتا رہا۔ شادی گزر گئی اور اسی طرح دن گزرتے گئے۔روزانہ رات کو سوتے ہوئے کبھی کسی کو خیالوں میں چودتا اور کبھی کسی کو۔ میں نے کئی بار صائمہ کے گھر بھی چکر لگاے لیکن ایک دوسرے کو کس کرنے سے زیادہ کچھ نہیں کر سکا۔

لکھاری نے کہانی یہاں ختم کر دی ہے اگر آگے لکھنا چاہے تو رابطہ کرے

Posted on: 12:44:PM 05-Jan-2021


0 0 182 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 59 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com