Stories


مامی شمیم میری استانی از کس چاٹا

نامکمل کہانی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔اور اندر ڈالو گھماو زبان کو- جانی تیری زبان کتنی لمبی ھے اندرباھر کر تیز تیز ۔ مامی شمیم مزے میں سسکارتی دھیمی دھیمی ٓاواز میں مجھے سمجھا رھی تھی۔ لیکن اب مجھے اس کی رہنمای کی کچھ خاص ضرورت نہیں تھی اب یہ کام میں خود بُہت اچھے سے کر سکتا تھا۔ابھی تک مامی شمیم ھی وہ واحد عورت تھی جس کی ُچوت میں چاٹتا تھا بلکہ اُسی نے مجھے اس کام پہ لگایا تھا۔ میں کبھی ُاس کی چُوت کے اندر باہر زبان پھیرتا کبھی اُس کے دانے کو چُوستا کبھی ہونٹوں سے مسلتا کبھی دانتوں سے کاٹتا اور مامی شمیم مزے میں میرے بالوں میں ہاتھ پھنسا کر مُجھے اُور چُوت کی طرف دھکیلتی۔ میں نے رفتار بڑھای میرا منہ تو غارکے اندر تھا پر مجھے اُسکی تیز تیز سسکاریاں سُنای دے رہی تھی۔اُم۔اُم۔اُم۔اُم۔اُم۔اُم۔اُم۔اُم آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہ آہا ہا ہاہاہاہاہاہاہاہاہاہا اسی کے ساتھ اُس نے اپنی ٹانگوں کا شکنجا بنا کر میرے سر کو بھینچ لیا اُور چُوت کا سارا پانی میرے منہ پہ چھوڑ دیا کیا مزے کا رس تھا کیا خُشبو تھی واہ مزہ آگیا اسی کے لئے تو میں پچھلے ۲۰منٹ سے محنت کر رہا تھا اُور مُجھے محنت کا پھل یا یوں کہیں جُوس مل گیا۔ اُس نےابھی تک اپنی کانپتی ٹانگوں کا شکنجا کسا ہواتھا میرا دم بھی گُھٹ رہا تھا لیکن اُس سے اپنے آپ کو ٓازاد کروانےکا دل نہیں چاہ رہا تھا مامی شمیم تو چھوٹ چکی تھی پر مجھے تو اُس کے چُوت رس سے ہی نشہ ہو گیا تھا لیکن میرا جی نہیں بھرا تھا میں نے تھکاوٹ سے مدہوش مامی شمیم کی دونوں ٹانگوں کو اُپر کیا اُور اُن کی چُوت کو پُوزیشن میں لا کر پھر چاٹنا اُور چُوسنا شروع کردیا میں تو سارا جوس پینے کے موڈ میں تھا کہ اچانک میری نظر کھڑکی کے ادھ کھلے کواڑ پر پڑی ۔۔۔ مامی شمیم کی رس سے بھری چُوت ھوا میں معلق تھی میں نے اُن کے چوتڑوں کے نیچے ہاتھ رکھے ہوے تھے اسی حالت میں مجھے کھڑکی پہ کھڑی میری آپی نوشی دیکھ رہی تھی میری نظر جیسے ہی اُن پر پڑی میری تو جیسے جان ہی نکل گٗئ سب نشہ وشہ اُتر گیا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا مجھے کُچھ سمجھ نہیں آرہا تھا جیسے میں کوئ پتھر کا انسان ہوں۔ کچھ حواس بحال ہوے تو مُجھے مامی شمیم کا خیال آیا پر وہ تو مدہوش سو رہی تھی۔میں نے کھڑکی کی طرف دیکھا تو آپی نوشی جا چُکی تھی۔ مامی شمیم کو ہلایا تو وہ اُں آں کرتی اپنا کمبل لے کر بے فکر لیٹ گٗئ ۔ٹھیک کیا اُس نے پھٹی تو میری تھی۔ کھڑکی پر جاکر دیکھا تو صحن میں کوئ نہیں تھا یہ ٓاج کیا ہوگیا رات کے ڈیڑھ بجے آپی کیا کر رہی تھی اگر ممی کو بتا دے گی تو طرح طرح کی باتیں سوچ رہا تھا منہ پے ہاتھ پھیرا تو مامی کی چُوت کا رس آبھی تک لگا ہوا تھا تھوڑی دیر پہلے امرت لگنے والا رس اب تیزاب لگنے لگا۔ خیر میں چھت پہ اپنے کمرے میں چلا گیاکافی دیر یہی سوچتے سوچتے کہ کس مُنہ سے آپی کا سامنا کروں گا جب صبح اُسے کالج چھوڑنے جاوں گا مجھے نیند آ گئ۔
صبح مجھے کوئ بُری طرح جنجھوڑ رہا تھا یہ کوئ اور نہیں میری آپی تھی وہ زور زور سے چلا رہی تھی اُٹھو مُجھے کالج سے دیر ہو رہی ھے۔میں جھٹپٹاکر اُٹھا اُسے دیکھا توپچھلی رات کے منظر آنکھوں میں پھر سے گھوم گئے۔  جلدی سے نہا کر نیچے آ جاو اگر مُجھے کالج سے دیر ہو گئی تو آج تمھاری خیر نہیں نوشی آپی کے مُنہ سے یہ سنا تو میرے جسم میں پُھرتی آ گئی اور میں جلدی سے نہانے چلا گیا۔
نہا کر نیچے پہنچا توسب لوگ ناشتہ کر رہے تھے امی بولی جلدی ناشتہ کرو اُور نوشی کو کالج چھوڑ آو پھر آپنی مامی کو بھی مُلاقات پہ لے کر جانا ہے۔ میری مُمانی میری امی کی کزن اور میرے اکلوتے ماموں لیاقت کی بیوی ہے لکی ماموں آج کل جیل میں ہے۔ جی ہاں ایک قتل کے مقدمے میں اُسے عمرقید کی سزا ہوی ہے اسلیے پچھلے ایک سال سے ممانی ہمارے ساتھ رہ رہی ہے ۔ لکی ماموں شُروع سے ہی خراب صحبت کی وجہ سے برے کاموں جیسے رنڈی بازی، نشہ، لڑای جھگڑا وغیرہ میں مشہور تھا۔ خیرماموں کی کہانی آگے چل کے بتاوں گا پہلے نوشی آپی کو کالج توچھوڑ دیں۔
ویسے تو یہ روز کا معمول تھا مگر آج کچھ الگ سی کیفیت تھی آپی کا کالج ہمارے گھر سے بیس منٹ کے فاصلے پر ہے یہ ایک گورمنٹ کالج ہے جہاں آپی اہم اے انگلش کی سیکنڈ ایر کی سٹوڈنٹ ہے۔ میں خاموشی سے بایک چلاتا رہا آپی نے بھی کوئی بات نہیں کی اتنے میں آپی کا کا لج آ گیا میں نے  بایک روکی تو وہ جلدی سے اُتر کر تیزی سے کالج کے دروازے کی طرف بڑھی جیسے کالج کا چوکیداربند کر رہا تھامیری نظر کالج کے گیٹ پر تھی کہ اچانک نوشی  آپی کے چوتڑوں پر پڑی جو تیز تیز چلنے کی وجہ سے اُچھل رہے تھے میں نادانستہ اُنہیں گھورنے لگا اُور کسی ٹھرکی شاعر کا شعر ذٰیہن میں چل سا گیا۔
میہبوت سے کھڑے رہے سب بس کی لین میں
کہولھے  اُچھالتی   ھوئی  بجلی  گُزر    گئی
آپی تو اندر جا چکی تھی لیکن میرے ذیہن میں ابھی تک کہولھے  اُچھل رہے تھے میں ایسی اُچھل کود میں بایک چلا رہا تھا یعنی کھڈے کیا اور سپیڈ بریکر کیا میں تو خود ہی اُچھلتا جا رہا تھا۔ گھر پہنچا تو مامی شمیم بھی تیار بیٹھی تھی آج لکی ماموں سے ملنے جو جانا تھا اس لیے ٹیپ ٹاپ ہو کر ٹایٹ شلوار قمیض پہن کر کیا چیز لگ رہی تھی متوازن فِگرگول مٹول ممے سانولا رنگ تیکھے نین نقش۔ میں آپی کی بڑی موٹی گانڈ کو جو کُچھ دیر پیہلے تک میرے دماغ میں اُچھل رہی تھی بھول چُکا تھا۔ میں للچائی ہوئی نظروں سے اُسے دیکھ رہا تھا وہ شرارت سے مجھے اپنی قمیض اُٹھا اُٹھا کر اپنی چوت کی طرف انکھوں سے اشارے کر رہی تھی جیسے کہہ رہی ھو ۔ جانی آج تیار تو میں تیرے ماموں کیلیے ھوئی ھوں لیکن چُدوں گئی تم سے میں بھی اپنے لن پہ ہاتھ پھیر رہا تھا اور زبان نکال کے اُسے دیکھا رہا تھا :tt2: کہ امی کی آواذ  آئی میں رفعت(ہماری ہمسائی)  کیساتھ کام جا رہی ھوں تو اپنی مامی کو مُلاقات پہ لے جا اور لکی کو میرا سلام کیہنا ۔ تھو ڑی دیر بعد دروازہ بند ہونے کی آواز آئی بس پھر کیا تھا میں نے جا کر مامی کوپِیچھے سے پکڑ لیااُس کی گردن اُور کانوں کو چُومنے لگا اور اُسسے کل رات کا شکوہ کرنے لگا۔
چھیمودیکھ یہ اچھی بات نہیں اپنا کام ھو گیا اُور تو مُنہ پھیر کے سو گئی کل۔ میرا پانی کون نکالے گا یہ سننا تھا کہ اُس نے مُنہ میری طرف پھیر لیا ۔جانی تو میری جان ہے اتنا خیال رکھتا ہے میرا جب سے تیرے ماموں جیل میں ہیں تو نے میرا اکیلا پن دُور کیا ہے آج اُن سے مل کر آیں بعد میں میں تیرے سارے گلے دُور کر دوں گئی ؛ بعد میں نہیں ابھی ۔میں نے اُس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر کہا ۔ ابھی کیسے ؛ وہ یہ کہہ کر قریب پڑی کُرسی پر بیٹھ گئی ؛ تم بھی نا جاو با ہر کا دروازہ دیکھ کر آو۔ دروازہ بند ہے یہ کہہ کر میں نے پینٹ کی زپ کھولی اور اپنا کالا لن جو پوری طرح اکڑا نہیں تھا پر گرم ھو چُکا تھا اُس کے منہ کے اگے کر دیا اُس نے لن ہاتھ میں پکڑا اور بولی واقعی بُہت تڑپ رہا ھے ابھی اس کو ٹھنڈا کر دیتی ھوں یہ کہہ کر اُس نے لن مُنہ میں لے لیادو تیں ظالم چوپوں کے بعد ہی لن بھرپُور طریقے سے کھڑا ھو چُکا تھا وہ مسلسل میری طرف دیکھ رہی تھی میں اُسکے لپ سٹک والے ہیونٹوں کو اپنے کالے لن کے اوپر ٹایٹ ھوتے محسوس کر رہا تھا مامی شمیم ایک چوپا ایکسپرٹ تھی کبھی ٹوپے کو دانتوں میں دبا کر اُس پر زبان پھیرتی کبھی اچانک لن کو مُنہ میں لے لیتی کبھی آہستہ کبھی تیز اُس نے اپنا کمال جاری رکھا میں انکھیں بند کر کے مزے لے رہا تھا تھوڑی دیر بعد اُسے اپنےلن کو چُوستے ھوے دیکھتا پھر انکھیں بند کر لیتا وہ یہ سارا منظر دیکھ کر اور تیز ھو جاتی مُجھے لگ رہا تھا کہ اب بس میں چھوٹنے والا ھوں میں نے اُس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اُس کے مُنہ کو چودنا شروع کر دیا میں انکھیں بند کر کے مسلسل اس کے مُنہ کو چود رہا تھا کہ اچانک میرے ذیہن میں نوشی آپی کے اُچھلتے ھوے چوتڑ لہرانے لگے میں اور پاگل ھو گیا اور زور زور سے اس کے منہ کو چودنے لگا مُجھے اس پاگل پن میں یہ بھی خیال نہ رہا کہ میں اس کی گُنجایش سے زیادہ لن اس کے منہ میں ڈال رھا ھوں جس کی وجہ سے وہ کچھ زیادہ اچھا محسوس نہیں کررہی اتنے میں میرے لن سے منی کے فوارے چھوٹنے لگے ۔ منی تو مامی شمیم کے منہ میں نکل رہی تھی پر جو میں سوچ رہا تھا ویسا خیال میرے زہین میں پیہلے کبھی نہیں آیا جیسے میں نے ساری منی نوشی آپی کی یونیفورم پر اُن کی گانڈ کے اُپر نکا ل دی ہے  اتنے میں مامی  منی سے بھرا مُنہ لے کر باتھ روم کیطرف بھاگ گئی ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ میں نے یہ کیا کیا ہے باتھ روم سے آوازایں آنے لگیں ۔آآ تھو غڑ غڑ تھو تھو تھو تھو ۔
میں نے لن کیطرف دیکھا تو کالے لن پہ منی چپکی ھوئی تھی  نلکہ بند ھوا تو میں بھی باتھ روم کی طرف بڑھا کہ جا کر لن صاف کریں مامی باتھ سے نکلی تو غصے سے میری طرف دیکھ رہی تھی کہ اچانک اس نے کچھ کہا جو میرے دماغ کی دیواروں سے ٹکرانے لگا۔
بہن چود ! میرے کپڑے خراب ھو جاتے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اپنے لن کو صاف کر رہا تھا اور مامی کے کہے الفاظ پر غور کرنے لگا کیا واقعی میں اتنا سوچنے سے بہن چود بن گیا ہوں نہیں یہ ایسا نہیں ہے  خیر میں نے لن کو صاف کیا ور باہر آ گیا ور اسے مسکرا کر کہا؛ چلیں مامی وہ کچھ خوش نظر نہیں آ رہی تھی خیر ہم نے گھر کو لاک کیا ور چابی ساتھ والے گھر میں دے کر چل پڑے میں مامی سے پوچھا وہ غصہ تو نہیں ہیں مامی بولیں ؛ نہیں لیکن آج تمہیں کیا ہو گیا تھا اتنی درنندگی کہاں سے آ گئی مجھے پتا ہے تم کسی اور کے بارے میں سوچ رہے تھے بتاو کس کے بارے میں سوچ رہے تھے ' میں چونک گیا نہیں مامی ایسا نہیں میں نے بات گول کرنے کی کوشش کی لیکن وہ  بھی ایک چودہکر عورت تھی وہ  سارے راستے مجھ سے نام اگلووانے کی کوشش کرتی رہی لیکن میں اسے کیسے بتا سکتا تھا کے میں اپنی ہی بہن کے بارے میں سوچ رہا تھا مامی کو چودنا ور بات ہے ور اپنی بہن کے بارے میں ایسے خیال  ر کھنا تو واقعی میں درنندگی ہے'
لکی ماموں سے ملنے پہنچے تو معمول کی طرح میں حال چال اور ادھر ادھر کی باتیں کر کے سائیڈ پر ہو گیا وو دونوں کافی دیر اکیلے میں باتیں کرتے رہے پھر ہم وہاں سے نکلے تو واپسی پر مامی نے پھر وہی سوال کیا میں جتنا اس سے بچ رہا تھا جب گھر پہنچے تو اس وقت تک امی بھی واپس نہیں آئی تھی میں نے ساتھ والے گھر سے چابی لی اور دروازہ کھولا مامی اندر  کپڑے بدلنے چلی گئی میں بھی اس کے پیچھے آ گیا اسنے میرے سامنے  ہی قمیض اتا ر دی وہ صرف برا اور شلوار میں میرے سامنے کھڑی تھی پھر اس نے شلوار بھی اتار دی میں دروازے میں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا اسنے وہ شلوار میری طرف اچھال دی میں نے  اسےپکڑ لیا اور اسے سونگھنے لگا اس میں سے کچھ جانی پہچانی مہک آ رہی تھی یہ وہی چوت رس تھا جو میں اکثر انجوے کرتا تھا لیکن آج تو مامی کی چو ت پہلے سے گیلی تھی؛ یہ کیا مامی آج تو ابھی سے مزے میں... بکواس نہ کر حرامی چودتااپنی مامی کو ہے اور سوچتا کسی اور کے بارے میں ہے تم سارے مرد ایک جیسے ہوتے ہو تمھارے ماموں بھی مجھے اپنی رنڈی سمجھ کر چودتے تھے '
لیکن یہ بھی سچ ہے وہ جب مجھے رنڈی بنا کر چودتے تھے تو جنگلی ہو جاتے تھے اور آج جب تم میرے منہ میں فارغ ہوے تو مجھے تمھارے ماموں کی درندگی یاد آ گئی وہ جب اپنی بیوی کو ایک بازاری کتیا بنا کر چودتا تھا تو میرا برا حال کر دیتا تھا ؛ یہ کہ کر وہ بستر پر گھوڑی بن گئی ؛آ جا چود لےاپنے خوابوں کی رانی کو میں تو تیرے لیے بس پانی نکلنے کی مشین ہوں ؛ یہ کیا کہ رہی ہو مامی میں ایسا نہیں سوچتا ؛ بہن چود ٹائم ضائع نہ کر ابھی باجی(میری امی ) آ جائے گی؛
 ' بہن چود! بہن چود میں جتنا اس لفظ سے بچ رہا تھامامی اتنا ہی مجھے یاد دلا رہی تھی میرا لن یہ سن کر اکرنے لگا سامنے ایک عورت گھوڑی بنی ہوئی تھی اس کی گاند میری آپی کی جیسے  سفید اور موٹی تو نہیں تھی پر تھی تو ایک ترسی ہوئی عورت' میں اس کے قریب گیا اور اس کی  گیلی چوت میں انگلی ڈال کر ہلانے لگا ؛ پہلے تو کبھی نہیں بتایا کہ رنڈی بن کر چدنے میں  مزہ آتا ہے؛ میں نے ایک کی جگہ دو انگلی اندر ڈال دی اور زور سے آگے پیچھے کرنے لگا ایک ہاتھ سے زپ کھولی  اور پینٹ تھوڑی سی نیچے کی تو تنا ہوا لن ایک دم سے اچھال کر باہر نکل آیا وہ  لہراتا ہوا لن میں نے اس کےمنہ کے پاس کر دے اس نے مزے سے  بغیر ہاتھ لگا ے  اسے منہ میں لے لیا وہ میرا لن چوستی رہی اور میں اس کی چوت میں انگلی  کرتا رہا دو کی جگہ جب میں نے تیسری انگلی اس  کےاندر کی تو اسکی تو جیسے آنکھیں ہی کھل گئی ہوں ؛ آرام سے وہ  لن منہ سے باہر نکل کر بولی ؛ ابھی توکہ رہی تھی کہ رنڈی بنا کر چودو اب کیا ہوا' میں اپنی جگہ سے پیچھے ہٹا اور اس کی چوت کو چاٹنے لگا ' وہ بھی مزے میں تھی لیکن آج میرا چاٹنے کہ نہیں چودنے کا موڈ  تھا میں نے  لن اس کی چوت پر رکھا اور ایک ہی جھٹکے میں اندر کر دیا وہ اس سے چونکی تو ضرو مگر بولی کچھ نہیں میں اسے دبا کے چودنے لگا ساتھ ہی اس کی گاند کے سوراخ پرانگلی بھی پھیرنا شروع کر دی اس پر وہ چونک گئی ' ؛ یہ کیا کر رہے ہو ؛ کچھ نہیں میں اپنے جھٹکے تیز کرتے ہوے بولا ؛ کچھ نہیں ؛ اس کے بارے میں سوچنا بھی مت مامی ایکدم سے بولی ؛ کیوں جی میں تو اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا ؛ وہ نہیں نہیں کرتی رہی لیکن میں نے بھی ایک انگلی اسکی گاند میں ڈال دی وہ  تڑپ اٹھی اس نے پھروھی گالی دی  بہن چود؛میں اپنے لن کو اور تیز تیز اندر باہر کرنے لگا میری انگلی کی رگر بھی مجھے اپنے لن پے محسوس ہو رہی تھی وہ درد سے تڑپ رہی تھی لیکن میں زور زور سے اسکی  چوت اور گاند کو چود رہا تھا کے اچانک دروازے پی دستک کی آواز ای میں گھبرا کر پیچھے ہوا میرا لن تو اس کی چوت سےنکل لیا   لیکن انگلی کو تھوڑا جلدی میں نکالا تو وہ درد کے مارے چلا اٹھی پر اس وقت مجھے اپنی گاند پھٹتی ہوئی نظر آ رہی تھی میں نے جلدی سے لن کو سیدھا پینٹ کے اندر کیا اور اسے یہ کہ کر اپر چلا گیا کہ سنبھالو
میں کچھ آدھ گھنٹے کے بعد نیچے آیا تو مامی شمیم اور امی بیٹھ کر کچھ باتیں کر رہے تھے امی نے کچھ سامان لانے کو کہا اور تاکید کی کہ نوشی آپی کو بھی کالج سے لے آؤں میں نے مامی کی طرف دیکھا تووہ اسی کرسی پربیٹھی ہوئی تھی جہاں میں نے اس سےچوپا لگوایا تھا میں اسی منظر کو یاد کرتا گھر سے نکل پڑا. میں دل ہی دل میں اپنے آج کے کارناموں کو یاد کر رہا تھا آپی کے ہاتھوں پکڑے جانے. امی  کے ہاتھوں بچ جانے کے بارے میں سوچتا ہوا جا رہا تھا کہ کہیں یہ میری خوش قسمتی ہے یا پھر کمبختی کا ٹائم آ گیا ہے لیکن نہیں آ بھی تو مرے  دماغ پر منی سوار تھی ابھی تو مجھے اپنی پیاری مامی کی گاند مارنا تھی یہ سب میری اپپی کے مست چوتروں کا اثر تھا.
آپی کے کالج کا ٹائم بھی ہو چکا تھا میں اسے لینے کے لیے نکلا تو سوچا آج کچھ مستی اپنی آپی سے بھی ہو جائے میں کالج تک جاتے جاتے یہ طے کر چکا تھا کہ مجھے کیا کرنا ہے کالج سے نکلنے والی اتنی لڑکیوں میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں تھی میری نظریں تومیری پیاری آپی کو ڈھونڈ رہی تھی . وہ رہی گول مٹول موٹی بونڈ اور موٹے مموں والی میری نوشی آپی لیکن یہ کیا وہ تو چپ چاپ نہ  سلام  نہ کلام آ کر بائیک پہ بیٹھ گئی؛ میں نے بس اتناکہا ... نوشی آپی ؛ مت کہ اپنے گندے منہ سے مجھے آپی ،،،،،، آپی ؛ منہ بند رکھ اور چل یہاں سے ......(٠_٠ ) میں ہکا بکا رہ گیا یہ تو بہت غصے میں ہے میں آپی کو لے کر چپ چاپ وہاں سے نکل پڑا اور سوچنے لگا یہ کہیں امی کو نہ بتا دے اپنے چھوٹے بھی کے کرتوت ، کرتوت تو ٹھیک ہیں پر چوت ور وہ بھی کھاتے ہوے ... نہیں یہ نہیں ہونا چاہئیے مرے دماغ پتا نہیں کیا کیا سوچ رہا تھا کچھ دور جا کر میں نے پھر ہمت کی؛  آپی میری بات تو سن لو .... وہ کچھ نہیں بولی ..لیکن مجھے تو کہنا تھا..؛ میں آپ کو سب کچھ سچ سچ بتا دوں گا پلیز امی کو نہ بتانا ....
مرے ترلے منت کرنے پر آپی نے چپ توڑی  پھر جو مکالمہ ہواوہ  سنیے....
پلیز  آپی ...
آپی ..؛ الو کے پٹھے ایسا گندا کام کرتے تمہیں ذرا شرم نہیں آئی.
میں.. ؛ وہ میں نہیں کرتا تھا پر مامی شمیم  مجھ سےکرواتی تھی.
آپی ..؛ مت لے اس گندی عورت کا نام مرے سامنے . ہم نے اسے گھر میں رہنے کو جگہ دی اور وہ مرے ہی چھوٹے بھائی  کو ...توبہ توبہ اب تو میں اسے ایک منٹ کے لیے بھی اپنے گھر میں نہیں رہنے دوں گی آج میں امی سے اسکی تو بات کروں گی  .
( ہیں یہ تو میری اکلوتی انٹر ٹینمنٹ کے پیچھے پر گئی ہے. کچھ کر اس کو روک جانئ..) :oops:
 میں.. ؛ آپی چھوڑیں اسے وہ بچاری ایک مجبور عورت ہے ..آپی ..؛
 آپی ..؛ تو بھائی تو بھی  نکلے گا اس کے ساتھ ..
 میں.. ؛ نہیں آپی  ایسے تو نہ  کہو اسکی مجبوری بھی تو سمجھو نہ...
  آپی ..؛مجبوری ، کیا مجبوری ہے اسکی ؟
( میں فل بے شرموں کی طرح آپی کو سمجھانے لگا ) :yes:
  میں.. ؛ ایک شادی شدہ عورت جسکا شوہر اتنے عرصے سے جیل میں ہے اسنے بھی تو کسی طرح گزارا کرنا ہے نہ ....
آپی ..؛  اسے گزارے کے لیے میرا بھائی ہی ملا تھا اسے گزارے کے لیے میرا بھائی ہی ملا تھا اسے گزارے کے لیے میرا بھائی ہی ملا تھا اسے گزارے کے لیے میرا بھائی ہی ملا تھا اپنی بکواس بند رکھو اور چپ چاپ بائیک چلاؤ...
آپی ..؛
آپی ..؛میں.. ؛ میں.. ؛ آپی عورت ہو کر ایک عورت کے جذبات  نہیں سمجھتی ..
آپی ..؛ میں نے کہا نہ مجھے کسی کے جذبات نہیں سمجھنے تم چپ چاپ بائیک چلاؤچپ چاپ بائیک چلاؤ بس ..
میں.. ؛ آپی غصہ نہ کرو دیکھو باہر منہ مارتی تو کتنی بدنامی ہوتی ہمارے خاندان کی ''کیا ہوا اگر مامی گھر میں ہی اپنا کام چلا رہی ہے ؟
آپی ..؛ جانئ ، تم بہت بےغیرت ہو اتنی گندی حرکت کی تم یہ صفائی دے رہے ہو ..
میں.. ؛ اچھا آپی کچھ نہیں کہتامگر پلیز امی سے کچھ نہ کہنا ...
آپی ..؛ کیا کہوں گی کہ آپ کا لاڈلا بیٹا آپ کے لاڈلے بھائی کی بیوی  کی چوت ....

آپی کے منہ سے چوت کا لفظ نکلا  تو  آ س پاس کے اتنے شور کے باوجود ایک سناٹا سا چھا گیا اسے بھی لگا کے اس نے کچھ زیادہ ہی بول دیا ہے اس کے بعد وو کچھ نہیں بولی لیکن مرے کان تو جیسے سن ہوچکے تھے بس چوت؛ چوت ؛چوت؛  ہی گونج رہا تھا . ہم گھر پہنچے تو اپپی عی کو سلام کر کے سیدھا اپنے کمرے میں  چلی گئی ' میں پریشان تو تھا پر دکھانا نہیں چاہتا تھا اس لیے میں بھی اپر اپنے کمرے میں چلا گیا ...
میں چینج کر کے لیٹ گیا تھوڑی دیر بعد مرے دروازے پی کوئی دستک دے رہا تھا ''' بھائی آ کر کھانا کھا لو
میں کھانا کھانے کے لیے نیچے اترا تو آپی مرے آگے آگے سیڑھیاں اتر رہی تھی ..اف خدایا میری آپی کو اتنی زبردست گاند کیوں دی ہے جس پھل کو میں شجر ممنوع سمجھتا تھا اب تو میرا دل بس اسی پھل کو کھانا چاہتا تھا لیکن یہ ممکن نہیں میں خود کو سمجھاتے ہوے نیچے اتر آیااور سب کے ساتھ کھانا کھانے لگا . کھانے کے دوران کبھی میں اپنی مامی کو دیکھتا کبھی اپنی آپی کو.. مقابلاتن تو میری مامی زیادہ حسین اور سیکسی تھی پر میری آپی کا سامان بہت شاندار تھا آپی کا ایک مما ہی میری مامی کے منہ سے بڑاتھا اور آپی کی گانڈ کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا .. لیکن پریشانی تو یہ تھی کہ مامی کو کیسے بتاؤں کہ آپی کو سب پتا چل چکا ہے ہمارے  خفیہ تعلق کے بارے میں.. میں جلدی سے کھانا کھا کر اوپر چلا گیا آگے کی سچوے شن کو کیسے ہنڈل کرنا ہے یہ سوچتے سوچتے میں سو گیا.
شام کے پانچ بجے  تو میری آنکھ کھلی میں نیچے آیا تو مامی گھر کے کام کر رہی تھی . میں نے مامی سے پوچھا کے امی اور آپی کہاں ہیں تو اس نے بتایا کہ وہ تو ساتھ والوں کے گھر گئے ہیں . مامی آپ سے کچھ بات کرنی ہے آپی کو سب پتا چل چکا ہے ہمارے بارے میں .. ؛ مامی کو  تو جیسے کسی نے گولی مار دی ہو . کیا کہ رہے ہو.. مامی تو جیسے یقین ہی نہیں کرنا چاہ رہی تھی..کب ؛کیسے ...کچھ بوکھلا ے ہوے سوال جن کا جواب تو سیدھا تھا پر اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا . کل رات جب میں آپ کی چوت کھا رہا تھا تب کی بات ہے ... جانی اب کیا ہو گا میری تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا اب کیا کریں .
ہم اب کچھ نہیں کر سکتے اب تو جو کرنا ہے آپی کرے گی اسے ہی کسی طرح روکنا پڑے گا . جلدی سے کچھ سوچو کہیں دیر ہو گئی تو دونو کام سے جائیں گے پھر سچ مچ کی رنڈی بن کر چدوانا لوگوں سے اور مجھے دلالی کے لیے رکھ لینا .
بکواس مت کرو اور کچھ سوچو ورنہ ذلیل ہو جائیں گے دونوں ... اتنے میں دروازے پے دستک ہوئی امی  اور آپی ساتھ والی آنٹی کے گھر سے واپس آ چکی تھی ..میں مامی کو تاکید کی کے رات تک کوئی حل نکال کے رکھے اب رات کو ہی بات ہو گی ' یہ کہ کر میں واپس اپر چھت پر چلا گیا اور سگریٹ لگا کر ٹہلنے لگا میں اپنی سوچوں میں گم سگریٹ پی رہا تھا کے اچانک آپی کی آواز ای ..، جانی یہ کیا تم  پھر سگریٹ پی رہے ہو .... میں نے سگریٹ بجھا دی .
تم پھر سگریٹ پی رہے ہو تم نے وعدہ کیا تھا نہ..ابّ تو تمہاری  شکایت کرنی پڑے گی تم نہیں سدھرو گے.. آپی نے غصے سے میری طرف دیکھا تو میں بھی بول پڑا... کیا آپی آپ کو میرا دوست ہونا چاہئیے لیکن اپ توجب دیکھو مجھے استانی کی طرح جھاڑتی رہتی ہو . آپ سے اچھی تو مامی شمیم ہے اس کے ساتھ تو میں ہر بات شیرکر لیتا ہوں وہ میراکتنا خیال  رکھتی ہے مجھے کچھ تو سمجھتی ہے.
اچھا تو اب تجھے وہ گندی عورت اپنی بہن سے زیادہ عزیز ہو گئی ٹھیک ہے بچو اب تو مجھے امی کو بتانا ہی پڑے گا تم دونوں کی کرتوتوں کے بارے میں ..؛یہ کہ کر وہ نیچے جانے لگی تو میں نے بھاگ کر اسے ہاتھ سے پکڑ کر روک لیا.. آپی نے گھور کر مجھے دیکھا تو میں نے آپی کا ہاتھ چھوڑ دیا ،، آپی پلیز یہ ظلم نہ کرنا،، نہیں تو ... نہیں تو کیا آپی ابھی بھی غصے میں تلملا رہی تھی.. نہیں تو آج پھر میں اسی گندی عورت کی چوت بھی چاٹوں گا اور آج اس نے مجھ سے گاندمروانے کا وعدہ بھی کیا ہے .... چھی ، چھی اتنا گندا ہے تو یہ باتیں اپنی بہن سے کیسے کر سکتا ہے .. وہ توبہ توبہ کرتی نیچے چلی گئی میں بھی اب یہ سوچ سوچ کے پک چکا تھا؛ بہن ہے تو کیوں مرے لن کی بار بار سواری کرنے آ جاتی ہے بتاتی ہے تو بتا دے دیکھا جائے گا جو ہو گا . میں تنگ آ کر ایک دوست کی طرف چلا گیا .آج ویک اینڈ تھا اس لیے .... آصف میرا جگری دوست تھا اس سے میں ساری باتیں شیر کرتا تھا لیکن یہ ایسی بات تھی کہ میں کسی کو نہیں بتا سکتا دونوں  عورتیں مرے اپنے گھر کی ،، خیر ہم تھوڑی دیر ایسے ہی بیٹھے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے  آصف نے کچھ پینے کا انتظام کر رکھا تھا وہ اٹھا اور  جا کر ایک کواٹر لے آیا .. بہنچود ساری باتوں کی ..یہ دیکھ ہر غم کا علاج ..ہم بیٹھ کر پیتے رہے ..ابھی نئی نئی لت لگی تھی اس کی بھی .. رات کافی ہو گئی تھی اب میں سرور  میں تھا .. میں نے آصف سے اجازت لی اور وہاں سے چل پڑا.. نشہ تو تھا پر مرے گندے دماغ میں بہت سی گندی فلمیں چل رہی تھیں. ابّ اگر آپی نے مجھ سے کوئی ایسی ویسی بات کی تو بونڈ پھاڑدوں گا سالی کی . گھر قریب تھا میں اپنے آپ کو چوکس کیا .
دروازے پر پہنچ کرڈرتے ہوے دستک دی  تو مامی شمیم نے دروازہ کھولا .. میں مامی کو دیکھ کر چونکا تو نہیں لیکن وہ جیسے میرا ہی انتظار کر رہی تھی .. تم کہاں تھے بتا کر نہیں جا سکتے تھے اکیلے  گھر میں ہمیں ڈر لگ رہا تھا ..
 کیوں گھر پے کوئی اور نہیں ہے کیا ؟ تمہاری  امی ابو تو کسی عزیز کی شادی میں گئے ہیں کل ہی ایں گے.. تو کیا  آپی نہیں گئی؛  نہیں وہ اپنے کمرے میں سو رہی ہے... آ ہان اس کا مطلب ہے آج ہم دونوں کھل کے مزے لیں گے ...
بہن چود؛ یہاں میری جان پے بنی ہے اور تیرے دماغ سے منی نہیں اتر رہی ...
چپ سالی بہن چود نہیں ہوں مامی چود ہوں میں ...  بس مرے ایک ہی شاندار ڈیلاگ سے اسے اندازہ ہو گے کے میں نشے میں ہوں ..
چپ ہو جاؤ نہیں تو تمہاری بہن اٹھ جانے گی . اٹھ جانے دے سالی کو آج اس کی بھی گانڈ پھاڑ دوں گا .. مامی نے مرے منہ پر ہاتھ رکھا اورمجھے اپنے کمرے میں لے گئی ... یہ کیا بکواس کیے جا رہے ہو ...؛ چھیمو آ جا میری جان آج تو میں روکنے والا نہیں ہوں .. آج مجھے کوئی روکنے والا بھی نہیں ہے ...تو بھی نہیں روک سکتی مجھے..یہ کہ کر میں نے اسے پکڑ لیا اور چومنا شروع کر دیا ... کنتی بو آ رہی ہے تمھارے منہ سے .. میں نے اسے بالوں سے پکڑ لیا .. رنڈی جب روز تیری گٹر جیسی چوت کو چاٹتا ہوں تب کوئی بو نہیں آتی تجھے ....وہ مجھے کہتی رہی تم ہوش میں نہیں جاؤ جا کر آرام کرو پر میں اسکی وجہ سے بہت ذلیل ہو رہا تھا اس کا تو آج میں نے برا حال کرنا ہے  میں نے اپنا لن نکال کے اس کے سامنے کر دیا ...جانی نوشی آ گئی تو ...؛ اسکی ٹین شن نہ لے اسے بھی ٹھیک کر دوں گا ..یہ کہ کر میں نے  اسے بالوں سے پکڑا اور لن زبردستی اس کے منہ میں ڈال دیا ..بیچاری مامی اتنے پیارسے اپنے بھانجے کو دیتی تھی مگر آج پیار نہیں بلاتکار کی باری تھی میں نشے میں دھت اسکے منہ کو چودتا رہاوہ کچھ بولنا چاہ رہی تھی پر میں سننا نہیں چودنا چاہتا تھا بس ... میں نے اسے بستر پر دھکا دیا  اور اپنی آدھی اتری ہوئی پینٹ کو اتار کر اسکی طرف پھینک دیا اور ایسے ہی ننگا صحن میں آ گیا سامنے کے باتھ سے تیل کی شیشی اٹھانے گیا تو راستے میں دو بار ٹھوکر کھاتے بچا تیل لے کر مامی کے کمرے میں آ گیا ...مست آدمی نے دروازہ بند کرنے کی بھی ٹین شن نہیں لی مامی جو اپنا سر پکڑ کر بیٹھی ہی تھی اسے میں نے  اپنے ہاتوں سے اٹھا کر گھوڑی بنایا اورا اسکی گاند کے سوراخ کو چھیڑنے لگا اس نے کافی ہلجل کی لیکن میں نے تیل کی بوتل کا ڈھکن کھولا اور اس کی گاند پر تیل لگانا شروع کر دیا مجھے اندازہ نہیں ہو رہا تھا کے کتنا تیل لگاؤں اس کی گاند پے تو میں اس کی گاند میں انگلی ڈال کے گھمانے لگا اس کو درد ہو رہا تھا پر مجھے کچھ محسوس نہیں ہو رہا تھا میں انگلی گھماتے جا رہا تھا اور اس پر تیل ڈالتا جا رہا تھا پتا نہیں چلا کتنا تیل میں ڈال چکا تھا جو نیچے بستر پر بھی گرا ہوا تھا .... مامی نے کہا بس بھی  کرو ؛ میں سمجھا کہ رہی ہے بس اب کرو بھی؛ میں نے انگلی نکال سیدھا لن اسکی گاند میں ڈال دیا ..آ ہ  ہ ہ ہ ہآ  ہ آ ہ ہاۓ میں مر گئی؛ وہ چیخ اٹھی ،،،،،، کیسے مر گئی ابھی تو تھوڑا سا بھی اندر نہیں گیا میں نے ایک اور جھٹکا دیا ... وہ پھر چیخی میں مر گئی بہن چود پھاڑ دی میری گاند؛ وہ سچ میں رو رہی تھی  لیکن میں رکنے والا نہیں تھا میں اسی طرح تین چار جھٹکے اور مارے اور لن کو جڑ تک اسکی گاند میں گھسا دیا وہ  درد کے مارے رو رہی تھی اور اب مزید گھوڑی نہیں بن سکتی تھی مرے ایک ہاتھ میں تیل کی شیشی تھی میں بھی اس کے ساتھ اس کے اپر گر پڑا ..میں اس کے کان کے پاس جا کر کہا ؛ درد ہو رہا ہے مامی جان .. وہ کچھ نہیں بولی میں نے اور تیل اس کی گاند کی لکیرمیں ڈالنا شرو ع کیا اور آہستہ آہستہ لن کو بھی آگے پیچے کرنے لگا اب اس نے بھی تھوڑا ساتھ دینا شرو کر دیا اپنے دونو ہاتوں سے اپنے چوتڑ کھولنے لگی کچھ آدھ لیٹر تیل ڈالنے کے بعد لن نے اس چھوٹی سی گاند میں چلنا شروع کر دیا میں نے پھر اسے پیچھے کو کھینچ کہ گھوڑی بنایا اب ٹھیک ہے آرام سے تو نہیں پر اندر باہر تو ہو رہا ہے نہ .. آھستہ آھستہ اس کی گاند کی گرفت ڈھیلی ہو رہی تھی میں نے تیل ایک سائیڈ پر رکھ دیا اور اس کی چو ت  میں اپنی دوا نگلیاں آ ہ  ہ ہ ہ ہآ  ہ آ ہمیں روکنے والا نہیں تھا  ڈال دیں اور ہلانے لگا اب اسے کچھ سکوں ملا تو وہ بھی اچھے سے ساتھ دے رہی تھی اسے بھی مزہ آ رہا تھا جو پہلے گانڈ پھٹنے سے چلا رہی  تھی اب مزیدار سسکاریاں بھر رہی تھی ،  وہ  منہ مرے منہ کے پاس لے آئ اور کس کرنا شروع  کر دیا بہنچود آرام سے نہیں کر سکتا تھا میں پہلے بھی تیری تھی اب بھی تیری ہوں ..،؛چپ کر سالی رنڈی میں نے اور زور سے اسکی گانڈ مارنی شرو ع کر دی ساتھ ہی اس کی چوت میں تینوں انگلیاں بھی تیز تیز گھمانی شروع  کر دی ہم لپ لاکڈ ایسے ہی مزے  کرتے رہے اتنی جاندار چودائی سے وہ فارغ ہو گئی...میں نہیں روکا میں اسے چودتا رہا وہ  پھر ڈھیلی پر گئی میرا ہاتھ اس کے چوت رس سے بھر گیا میں نے پوزیشن بدلی اور مسلسل اس کی گانڈ مار رہا تھا لیکن نشے کی وجہ سے چھوٹ نہیں رہا تھا وہ تو جیسے نیم بیہوش ہو چکی تھی اسکی آنکھیں بند تھیں اور میری کھل نہیں رہی تھیں میں نے اس کی چوت سے ہاتھ نکالا اور اسے سونگھنے لگا اتنی تیز خوشبو آ رہی تھی مجھ سے رہا نہیں گیا میں نے اپنی ہی انگلیاں چوسنی شرو ع کر دی جیسے کوئی شیرہ لگا تھا ان پر''' مامی تو جیسے نیند کا انجکشن لے کر سو ہی گئی ..میرا لن ابھی بھی کھڑا انتظار کر رہا تھا اب چوت رس بھی سارا پی چکا تھا میں لیکن لن مسلسل اس کی گانڈ میں اندر باہر ہو رہا تھا مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میری آپی مرے سامنے کھڑی مجھے دیکھ رہی ہے آپی کا خیال آتے ہی میں اس رنڈی کی بچی کو  جو اب میرا ساتھ کیا دے رہی تھی مجھ پر بوجھ بن کر پڑی ہوئی تھی... میں نے اسے بستر پر الٹ دیا اور ایسے ہی اپر چڑھ کر اس کی گانڈ مارتا  رہا اسکی گانڈ کی راننگ پوری ہو جانے کی وجہ سے اب اتنا سموتھ ہو چکی تھی کے مجھے بھی مزہ آنا بند ہو گیا مزہ کیا بند ہوا مجھے آپی بھی نظر آنا بند ہو گئی بس دروازے کھلنے کی آواز آ رہی تھی ...   نشئی آدمی کہیں وہ  سچ میں تو ادھر نہیں کھڑی تھی
مامی شمیم  کی گانڈ ما ر مار کے میں بور ہو چکا تھا میں نے تیل کی بوتل لی ا ور باتھ روم کی طرف چلا گیا . میرا کالا لن  تیل لگنے   کی وجہ سے چمک رہا تھا ابھی تک میں نے یہ نہیں سوچا تھا کے مجھے کیا کرنا ہے میں باتھ روم کے پاس پہنچا تو اندر سے پانی کی آواز آ رہی تھی میں نے دروازے کو دھکا دے کر کھولا تو وہ کھلا  ہوا تھا میں ایسے ہی اکڑے ہوے لن کے ساتھ اندر چلا گیا .....یہ کیا اندر آپی بیٹھی پیشاب کر رہی تھی مجھے  دیکھ کر ایک دم چونک گئی اور کھڑی ہو گی لیکن اس کا پیشاب نہیں روکا شلوار اس نے پہلے ہی اتار  رکھی تھی اسکی ٹانگوں سے بہتا  ہوا چشمہ روک نہیں رہا تھا ...
بے غیرت  یہاں کیا کر رہے ہو دفہ  ہو جا و یہا ں سے آ پی  میرے اکڑ ے  ہو ے لن  کی طرف دیکھ کر چلائی ...
چلاؤ  نہیں ..کوئی پہلی بار نہیں  دیکھ رہی تم اسے؛؛؛ روز دیکھتی ہو اسے چودتے  ہوے آج تم خود چد و گی اسسے ...یہ کہ کر میں نے باتھروم کا دروازہ اندر سے بند کر دیا ... آپی کو یقین نہیں آ رہا تھا کے اسکا اپنا بھائی  ایسی حرکت کر سکتا ہے..
 مجھے یہاں سے جانے دو،.؛ آپی ایسے ہی ننگی  ٹانگوں سے اپنی شلوار پکڑنے ای تو میں نے جلدی سے اس کی شلوار کو پکڑ لیا'''؛   کیسے جانے دوں ..تمہاری وجہ سے میں چھوٹ نہیں رہا کب سے،،، اتنی گانڈ  ماری ہے مامی کی کے وہ بیہوش  ہو گی ہے پر میری گرمی پھر بھی نہیں نکلی  سب تمہارے ان  بڑے بڑے  چوتروں  کا قصور ہے . اس نے یہ سنا تو بھاگ  کر دروازہ کھولنے لگی میں نے جا کر اسے پیچھے سے پکڑ لیا .......واؤ  کیا سین تھا کیا پوزیشن بنی میرا لن سیدھا آپی کی نرم نرم گانڈ کی لکیر کے اندر جا کے پھنس گیا  نرم نرم گانڈ ا ور گرم گرم لنڈ مجھے ایسی جگہ لنڈ  رکھ یقین نہیں ہو رہا تھا...؛،؛،؛،؛،؛،؛،  مجھے جانے دے میرا بھائی  کوئی ایسے کر تا ہے اپنی بہن کے  ساتھ تو یہ نہیں کر سکتا .. میں تیری بڑی  بہن ہوں تو جا کے مامی کے ساتھ کرتا رہ میں کسی کو نہیں بتاؤں گی مجھے چھوڑ دے میں کسی کی امانت  ہوں .. وہ  بولتی جا رہی اور میں اپنا لن  اس کی چوت  کے پاس سے لے کر اسکی گاند کے سوراخ تک رگڑتا  جا رہا تھا ،،مجھے تو جیسے من کی مرا د پوری ہوتی نظر آ رہی تھی...اور میں اسکی باتوں میں آ کر اپنا ارادہ نہیں بدلنا چاہتا تھا میں نے اسکے منہ پے ہاتھ رکھ دیا..اور مزے سے اسکی گانڈ کی نرمی انجوے کرنے لگا وہ احتجاج کر رہی تھی پر میں نہیں روکنے والا تھا ..وہ  جتنا ہل رہی تھی میں اتنا دبا کر اسکی گاند کی لکیر میں اپنا لن  رگڑ رہا تھا..ایک ہاتھ سے اسکا ممہ پکڑنے کی کوشش کررہا تھا پر وہ  مرے ہاتھ میں  نہیں آ رہا تھا میں آپی کی چوچیاں  مسلنے لگا جو تھوڑی دیر میں ہارڈ ہو گی تھیں ..اسکا احتجاج ابھی بھی جاری تھا لیکن اسکی شدت میں کمی آ چکی تھی میں نے اپنا مشن جاری رکھا ،،،،آپی کے نپل ہارڈ ہو چکے تھے میں نے اسکے کا ن میں کہا دیکھو آپی میں آپ کا اپنا بھائی  ہوں کوئی غیر نہیں ہوں جو اپنے مزے کے لیے آپ کو تکلیف دوں گا  آپ بس میری یہ چھوٹی  سی بات مان  لو میں آپ کی ہر بات ما نوں گا؛''؛'؛'؛'؛'؛؛
یہ کوئی چھوٹی سی بات نہیں بہت بڑ ی اور غلط بات ہے میں بھلا کیسے تجھے دے سکتی ہوں یہ تیرے ہونے والے جیجا کی امانت ہے ...
میری اچھی نوشی آپی کیا سمجھ رہی ہو .. اپکا ہونے والا شوہر پہلے آپکی گانڈ چیک  کرے گا آج کل کیسے ملتا ہے سیل پیک سامان ..لیکن اپ ڈرو  نہیں میں اپکی چوت  کی طرف دیکھوں  گا بھی نہیں ...میں صرف چوت  چا ٹتا ہوں مارنی تو مجھے آپ کی پیاری پیاری سی گانڈ ہے . یہ کہ کر میں نے آپی کی گاند کے سوراخ کے عین اپر لن  کی ٹوپی ٹیکا دی..
وہ  نہیں نہیں کرتی بھی مزہ لے رہی تھی میں نے دوںوں ہاتھ اپی کی رانوں  پر رکھ دیے اور آہستہ آہستہ اسکی رانوں پر مساج کرنے لگا . پیچھے سے اسکی گاند کی لکیر میں پھنسے   ہوے  لن  کو تھوڑا تھوڑا دبا رہا تھا ...اور آگے سے اسکی چوٹ کے دانے کو دو انگلیوں کے بیچ  میں مسل  رہا تھا''...آپی نے دونو ں ہاتھوں سے مرے ہاتھوں کو پکڑا ہوا تھا پر وہ مجھے روک نہیں رہی تھی....آپی اب فل موڈ میں تھی؛؛؛ تو سچ کہ رہا ہے تو بس میری گانڈ مارنا چاہتا ہے ....
سچ آپی ... تم تھوڑا سا تعاون  کرو تو میں تمہیں بتا دوں کہ یہ بھائی اپنی بہن کو کتنا چاہتا ہے ...لیکن بہت درد ہوتا ہے مجھے دڑ  لگتا ہے .. کیا آپی اتنی بڑی بونڈ ہے پھر بھی ڈرتی ہو ...مامی شمیم کو دیکھا  کتنے مزے سے سا را  لن  اندر لے لیتی ہے پھر چھوڑتی بھی نہیں... تمہاری تو گانڈ  اتنی بڑی  ہے تم تو گدھے کا بھی لے سکتی ہو ... کیا بکواس کرتے ہو جاؤ میں نہیں بولتی تم سے....نہیں نہیں آپی میں تو اپ کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کہ رہا تھا.. پلیز ... یہ کہ کرمیں آپی  کی گانڈ  کو چومنے لگا آپی بھی واش بیسن کے پاس آ چکی تھی میں بھی  پیچھے پیچھے گانڈ  چاٹتا آ گیا ..آپی نے شا ور ہینڈل لیا اور اپنی چوت کو دھونے لگی... آب چاٹ اس چوت کو بہت دل چاہتا ہے ترا اپنی بہن کی چوت چاٹنے کو ...سچ آپی آپ مجھ سے چوت  مروانا چاہتی ہو ...؛ نہیں بے  بہن چود صرف چا ٹنے کو بولا ہے ...میں اتنے سے ہی پاگل ہو رہا تھا . ؛ آپی واش بیسن سے ٹیک لگا ٹانگیں کھول کے کھڑی ہو گئی..، میں آپی کی چوت بھوکے کتوں کی طرح چاٹ رہا تھا. آپی بھی مزے سے پاگل ہو رہی تھی میں نے اچانک آپی کی گانڈ کے سوراخ کو چاٹنا شروع کیا تو آپی سے بھی نہ رہا گیا اسکی بھی سسکا ریاں نکل پڑیں ..میں باتھ کے فرش پر گھٹنوں کے بل اس کی گانڈ  کے نیچے گسا ہوا تھا .آپی کی گانڈ کا سوراخ اچھے سے نرم ہو چکا تھا ..میری درخواست پر آپی نے ممے بھی نکا ل دئیے اور دونو ں  ہاتھوں سے پکڑ کر ایک ممہ میرے منہ میں ڈال دیا میں اسے چوسنا شروع ہو گیا .تھوڑی دیر بعد میں اپی کو اسی پوزیشن میں الٹا کیا اور تیل کی بوتل لے کر اپنی انگلیوں پر اچھی طرح تیل لگا لیا ور انگلی سیدھا  اپی کی گانڈ میں آپی ہلی پر اتنا نہیں میں نے آپی کی گاند کو اچھے سے تیار کیا جتنا میں  تیز تیز ان کی گانڈ میں انگلی کرتا وہ اور مزے میں ساتھ دیتی .،،.،؛ اب کام تیار ہے میں نے پوزیشن سنبھالی ٹوپے کو سوراخ کے اپر رکھا آخری بار آپی کی مست چوتروں کو دیکھا ایک ہاتھ آپی کے منہ کے پاس کیا آنکھیں بندزور کے جھٹکے سے لن اندر آپی نے درد کے مارے مرے ہاتھ پر کاٹ لیا میں نے ایک اور جھٹکا دیا آپی نے ا ور زور سے کا ٹا تھوڑی دیر  آگے پیچھے کرنے سے کام رننگ میں  آ گیا ./،/.،/، واہ رے واہ کیا مزیدار سین تھا آپی تھوڑی دیر بعد ہی درد بھول کے میرا بھرپور ساتھ دے رہی تھی ....؛ اب درد تو نہیں ہو رہا میری پیاری آپی کو ...،.،..، اوم  اوم ...،..،نہیں.. میں والش بیسن کے شیشے میں انکی سسکارتی ہی صورت دیکھ رہا تھا  ا ور ساتھ اپنی شکل بھی دیکھ کر رشک کررہا تھا کہ کچھ دن پہلے تک میں جو سوچ بھی نہیں سکتا تھا وو آج ہو رہا ہے میری آپی نوشی اپنی مرضی سے گانڈ مروا رہی ہے مزے لے لے کر ..تو مرے ذھن میں آپی کے اچھلتے کوہلے جو میں کالج کے با ھر دیکھے تھے پھر سے گھومنے شروع  ہو گئے میں نے سپیڈ ا ور تیز کر دی ایسے ہی کسی لمحے میں میرے لن  سے منی کا فوارہ چھوٹا جو میں نے لن کو جڑ تک اندرڈال کرآپی کی گانڈ  کو سونپ دیا '''''میرے اندر سے جیسے سا ری جان نکال لی ہو کسی نے
;;;نکل گئی گرمی ... آپی کی آواز کا ن میں پڑی تو کچھ ہوش ای ....،،، اب تو خوش ہے اپنی بہن کی بونڈ ما ر کے'''؛؛؛؛؛؛؛؛ میں نےجا کے آپی کو گلے لگا لیا... منی تو اتر گئی دماغ سے لیکن بہن کے لیے پیار ابھی بھی باقی تھا.......نوشی آپی اپ سب سے اچھی ہو ....اس طرح ہوا ہمارے نے تعلق کا آغاز

Posted on: 05:18:AM 06-Jan-2021


1 0 153 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 74 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com