Stories


ساحر از خان گل

نامکمل کہانی ہے

میرا نام سلمان  ہے اور میں اٹک کا رہنے والا ہوں۔ ہمارا خاندان ایک آزاد خیال خاندان ہے، ہم بنیادی طور پر ساہیوال کے رہنے والے ہیں پر ہمارے آباؤ اجداد کاروبار کے سلسلے میں پہلے پشاور اور پھراٹک  منتقل ہوئے۔ ہمارا خاندان میرے والد، امی، چچا، چاچی، میرے چھوٹے بھائی عدنان، بہن زینب اور تین کزن شائستہ، سنبل اور ارسلان پر مشتمعل ہے۔ مالی لحاظ سے ہم بہت اچھے ہیں اس لئے ایک شاندار گھر میں رہتے ہیں خاندان چھوٹا پر گھر بہت بڑا ہے۔ ہم سب خاندان والے ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں اس لئے کبھی گھر میں کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔
ہم چار بہن بھائی ہیں تین ہم گھر میں ہیں اور ایک بہن کی شادی ہو چکی ہے۔سونیا کی شادی ہمارے ایک دور کے رشتہ دار سے ہوئی جو کہ ایک بزنس مین ہیں اور ہمیشہ کاروباری لحاظ سے عموماََ بیرونی شہر ہوتے ہیں۔ جو کہانی سنانے جا رہا ہوں ایک حقیقی کہانی ہے پر میں نے جان بوجھ کر جگہیں اور نا م تبدیل کئے۔ اس کہانی نے یکسر میری زندگی بدل ڈالی۔
کہانی تب سے شروع ہوتی ہے جب میں آٹھویں جماعت میں تھا تو میرا ایک دوست جمال جو کہ میرے ساتھ بہت ہی آزاد تھا اس لئے وہ جب بھی کوئی شادی ہوتی خواہ اپنی ہوتی یا پرائی بہت خوش ہوتا تھا۔ میں عموماََ اُس کی خوشی کی وجہ پوچھتا پر وہ ٹال لیتا تھا۔ جب آٹھویں کے امتخانات قریب ہوئے تو جمال نے مجھ سے منتیں شروع کی کہ میں امتخانات میں نقل میں اُس کی مددکروں۔ میں نے اُس کے سامنے ایک شرط رکھی کہ میں مدد کرونگا پر وہ مجھے اپنی خوشی کی وجہ بتائے گا۔ تو وہ راضی ہوا۔ اُس نے کہا کہ جب کوئی شادی ہوتی ہے تو جب خواتین ڈھول بجاتی ہیں اور سب ناچتی ہیں تو میں کسی نہ کسی عورت کے پیچھے کھڑا ہو جاتا ہوں او ر اپنا لن اُس کے ساتھ ٹچ کرتا ہوں اگر عورت چلی جائے وہ جگہ چھوڑ کے تو میں دوسری کے پیچھے کھڑا ہو جاتا ہوں۔ اور جب تک خود کو فارغ نہیں کرتا تب تک سکون نہیں ملتا۔ میں نے اُس وقت اس بات کو خاص توجہ نہیں دی اور خیر سے امتخانات گزر گئے۔ جو ہی امتخانات گزرے تو امی نے اعلان کیا کہ سونیا کے دیور کی شادی  ہو رہی ہے اور ہم سب اگلے ہفتے اُن کے گھر جا رہے ہیں۔ پورے گھر میں شادی پہ جانے کی تیاریاں شروع ہو گئی۔
اگلے ہفتے ہم سونیا کے گھر میں تھے اور ہم سب پوری تیاری کے ساتھ وہاں گئے تھے کیونکہ شادی پورے ہفتے تک ہونے تھی۔ ہم جب وہاں پہنچے تو سب نے ہمارا بہت اچھا استقبال کیا۔ خاص کر میری بھانجی کومل اور بھانجے یوسف کی تو عید ہو گئی ہم کو دیکھ کر۔ اگلے دن شادی کی تقریبات شروع ہو گئی اور میرا کام زنانہ حصے میں پانی کے انتظامات کو دیکھنا تھا۔ جو کہ انتہائی بور کام تھا۔ رات کو خواتین کے ناچ اور گانے کا پروگرام شروع ہوا تو اچانک مجھے جمال کی بات یاد آگئی اور مجھ میں بھی ایک خواہش جاگ گئی کہ کسی عورت کے پیچھے کھڑا ہو کر دیکھ لوں کہ کیسا محسوس ہوتا ہے جو وہ اتنا خوش ہوتا تھا شادیوں کے لئے۔ اس لئے میں   پرُہجوم گانے ناچنے کے تقریب کے اُس کونے میں چلا گیا جہاں قدرے اندھیرا تھا جہاں بلب کی روشنی کم جا رہی تھی اور میں دیوار کے ساتھ کھڑا ہو کر دیکھنے لگا کہ کس عورت کے پیچھے کھڑا ہوا جائے۔ اس دوران ایک سرخ رنگ کا رشمی جوڑا پہنے ایک عورت آکر کھڑی ہوگئی۔ میں تین چار منٹ تک اپنا حوصلہ بڑھاتا رہا اور آخر ہمت کرکے اس کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ میں کچھ اپنے بارے میں بتا دوں کہ اگر چہ میں آٹھویں جماعت میں پڑھتا ہوں پر میرے قد اور جسامت کو دیکھ کہ آسانی سے اندازہ ہو جاتا تھا کہ میں کوئی پانچویں یا چوتھی جماعت کا لڑکا ہوں اس لئے عورتیں مجھے اپنے درمیان پا کر یہ سمجھتی تھی کہ میں چھوٹا بچہ ہوں پر میں کچھ ماہ پہلے ہی بالغ ہو گیا تھا۔ اس لئے جب اُس عورت کے پیچھے کھڑا ہوا تو جیسے میرا جسم اُس سے ٹچ ہوا مجھے لگا جیسے میں کسی بجلی کے کمبے سے ٹکرا گیا ہوں اور بجلی سے میرے جسم میں کھود گئی کیونکہ یہ پہلی بار تھا کسی عورت کے ساتھ ٹچ ہونے کا۔ جیسے میں اُس عورت کے ساتھ ٹچ ہوا مجھے اپنے عضو میں آہستہ اہستہ تناو محسوس ہونے لگا جو کہ جلد ہی سخت تناو میں بدل گیا اور میرا عضو اُس عورت کے چوتڑ کے درمیانی حصے میں لگ گیا۔ پر مجھے خیرانگی اس بات پہ ہوئی کہ اُس عورت نے کوئی توجہ نہیں دی۔ اس کی وجہ سے میری ہمت اور بڑھ گئی چونکہ ہم اس حصے میں تھے جہاں روشنی بہت کم تھی اس لئے میں اُس عورت کے اور قریب ہو گیا اب میرا عضو مکمل اُس کے چوتڑ کے درمیان پھنس گیا۔ اور میں نا چاہتے ہوئے بھی مستی کی انتہائیوں میں پہنچ گیا اور بے ساختہ اگے پیچھے ہونے لگا وہ عورت بھی یہ سب جان گئی تھی اس لئے وہ تھوڑا سا آگے کو جھک گئی جس سے اُس کے چوتڑ اور باہرآگئے  مجھے اچانک لگا کہ میرے عضو سے پانی نکلنا شرو ع ہوا جس سے اُس عورت کے اور میرے بھی کپڑے گیلے ہو گئے اور میں وہاں سے گھبرا کر بھاگ گیا۔ میرا دل میرے سینے سے باہر نکل رہا تھاپہلی بار مجھے عورت کے جسم کا مزا ملا۔ ہم کو جو کمرہ دیا گیا تھا میں اُس میں آگیا اور اپنے بیڈ پہ سو گیا مجھے رہ رہ کہ سوچ آرہا تھا کہ اگر عورت کے ساتھ ننگا سویا جائے تو کیسا ہوگا۔ میں پورا ایک گھنٹہ یہ بات سوچتا رہا اور یہ سوچتے سوچتے میری طبعیت پر گرم ہو گئی اور میں نے سوچا کہ وہاں جا کر پھر دیکھا جائے کہ شاید پھر کوئی عورت ہو اور میں پھر مزا لے سکوں۔ میں جیسے وہاں پہنچا وہی عورت وہاں کھڑی تھی لیکن اس بار بالکل دیوار کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔ میں اُن کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو وہ تھوڑی اگے ہوگئی میں اشارہ سمجھ گیا اور اُس کے پیچھے پھر کھڑا ہو گیا اور اپنا لن اُس کے چوتڑ میں پھر رکھ دیا پانچ منٹ تک میں پھر وہی کھیل کھیلتا  رہا۔ اچانک وہ عورت ایک طرف چل پڑی میں نے تھوڑا انتظار کیا پھر اُس کے پیچھے چل پڑا یہ تقریباََ رات کے بارہ بجے کا وقت ہوگا۔ وہ ایک راہداری سے گزرنے کے بعد گھر کے دوسرے صحن میں داخل ہوئی جہاں پرانا فرنیچر پڑا ہوا تھا اور صحن میں مکمل اندھیرا تھا۔ وہ صحن کے ایک دیوار کے ساتھ لگ کے کھڑی ہو گئی مجھ میں پتہ نہیں کیوں اتنی ہمت آگئی کہ میں خود اُس کے پیچھے کھڑا ہو کر اپنا لن اُس کے چوتڑ سے ملا لیا اور میرا لن فوراََ کھڑا ہو گیا۔ وہ تھوڑی آگے جھکی تو میں فوراََ اپنا اور اُس کا شلوار نیچے کئے اور میں اپنا لن اُس کی چوتڑ سے رگڑنے لگا مجھے پتہ تک نہیں تک کہ عورت کے جس میں کوئی چوت نامی چیز بھی ہوتی ہے جہاں اپنے لن کو اندر کرکے مزا لیا جاتا ہے۔ اُس کو میری اس سادگی کا اندازہ ہوا تو اُس نے میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اپنی چوت پہ رکھا اور خود پیچھے کی طرف آئی تو میرا پورا لن اُس کی چوت میں اُتر گیا مجھے لگا کہ میں مزے کے ساتویں آسمان میں پہنچ گیا، وہ خود ہی آگے پیچھے ہونے لگی تو مجھے بھی انداز ہ ہوگیا اور میں نے بھی اُسی طرح دھکے لگانے شروع کئے اور پوری رفتار سے کرنے لگا اور مجھے اتنا مزا زندگی میں کبھی نہیں آیا تھا، مجھے کچھ دیر بعد احساس ہوا  کو اُس کی چوت میں پانی آگیا ہو کیونکہ میرے جھٹکوں کے ساتھ چکناہٹ کی وجہ سے کچ کچ کی آوازیں آنے لگیں وہ تو سسکاریاں لے رہی تھی میرے منہ سے بھی بے ساختگی سے مزے کی آوازیں نکلنا شروع ہوئی اور اچانک میں اُس کے چوت کے اندر ہی فارغ ہو گیا۔ اُس نے فوراََ میرا لن اپنے چوت سے نکا ل کراپنی شلوار اُوپر کی اور اندر کی طرف بھاگ گئی۔ پر میری زندگی بدل کے رہ گئی، میں جب بارآمدے میں سے گزرنے لگا تو پیچھے سے کسی نے زور سے آواز دے کے مجھے میرے نام سے پکار ا جب میں نے پیچھے دیکھا تو تو میرے اوسان حطا ہوگئے اور مجھے لگا کہ میں زمین پر گھبراہٹ سے بے خوش ہو جاؤں گا اور۔۔۔
آواز دینے والی کوئی اور نہیں سونیا تھی جو مجھے ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہاں آگئی وہ تو شکر تھا کہ ہم نے سب کر دیا تھا۔ سونیا نے پوچھا کہ تم وہاں کیا کرنے گئے تھے اور وہاں سے سعدیہ آنٹی بھی تیزی سے باہر نکلی ہے۔ میں نے کہا کہ وہاں سے مجھے کچھ آوازیں سنائی دی تو میں نے دیکھا کہ کون ہے پر اندھیرے میں مجھے کچھ نظر نہیں آیا بس ایک سایہ میرے ساتھ گزر گیا میں ڈر کی وجہ سے بھاگتا ہوا وہاں سے آیا کہ آپ کی آواز نے اور جان نکال دی۔ سونیا مطمین ہو گئی اور مجھے کہا کہ میں تھوڑی خواتین کے ساتھ مصروف ہوں تم اُوپر جاؤ وہاں یوسف اور کومل سوئے ہیں اکیلے تم اُن کے ساتھ روم میں سو جاؤ کہیں وہ اکیلے ڈر نہ جائیں۔ میری جان میں جان آگئی کہ بچ گئے اور ایک بات کا بھی اندازہ ہو گیا کہ جس عورت کے ساتھ میں نے وہ سب کچھ کیا وہ میرے چھوٹے ماموں کی بیوی یعنی میری چھوٹی ممانی تھی۔ مجھے لگا میں اُس رات بالغ ہو گیا ہوں۔ جیسے میں اوپر کمرے میں پہنچا تو یوسف اور کومل سوئے ہوئے تھے چونکہ سردیوں کے آخری دن تھے اس لئے دونوں کمبل اُوڑھے ہوئے تھے۔ یوسف کی عمر اُس وقت پانچ سال جبکہ کومل کی عمر آٹھ سال تھی۔ یوسف دیوار کی طرف سویا تھا جبکہ کومل درمیان میں سوئی تھی میں بھی بڑے کمبل میں گھس گیا۔ پر سعدیہ ممانی کو چوتڑوں کا سوچ کر میرا دماغ پھر گرم ہو گیا اور میرا لن پھر سے کھڑا ہو گیا۔ اور سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کروں۔ پر مرتا کیا کرتا مصادق کمبل میں کومل پر ہاتھ رکھ کر اُس کی طرف کروٹ کرکے لیٹ گیا۔ لیکن جوں ہی کومل کے ساتھ میرا لن ٹچ ہوا مجھ پر پھر وہی لطف کا دورہ چھا گیا اور اُس وقت مجھے پہ شیطان کا اتنا غلبہ تھا کہ میں یہ بھی بھول گیا کہ وہ میری بہن کی بیٹی ہے اور میری سگی بھانجی ہے۔ اُس نے ریشمی جوڑا پہنا ہوا تھا جس کی ملائمت اور اس کی جسم کی ملائمت مجھے دیوانہ بنا رہی تھی۔ میں آہستہ آہستہ اُس کے ساتھ ٹچ ہوا اور اپنا لن اُس کے نرم چوتڑوں کے ساتھ ٹچ کیا، کچھ وقت کے لئے میں اسی طرح اُس کے ساتھ پڑا رہا پھر آہستہ سے اپنا شلوار نیچے کیا اور اُس کا شلوار بھی نیچے کر لیا، اور پہلے اُس کے چوتڑوں پر دو تین بر ہاتھ پیرا جو بہت ملائم اور نرم تھے، اُس وقت مجھے وہ پوری عورت لگ رہی تھی۔ اس وقت میرا لن بہت سخت تن گیا تھا۔ میں نے اپنی قمیص بھی اُپر کرلی اور اُس کی بھی آہستگی سے کہ کہیں وہ اُٹھ نا جائے۔ اب میں آہستگی سے اپنا لن کو اُس کو چوتڑ وں میں رکھا اور اپنا ایک پاؤں اُس کے اُوپر رکھ کر کمبل کو اپنے اُوپر پوری طرح سرک لیا۔ اب میں نے آہستہ آہستہ جھٹکے بھی لگانے شروع کئے۔ میں زہنی طور پر تیار تھا کہ اگر وہ اُٹھ بھی جائے تو میں اُس کی شلوار فوراََ اُوپر کرکے خود کہ سویا تصور کرونگا اور اُس کو اتنی سمجھ نہیں تھی کہ ماموں بھی یہ کر سکتے ہیں۔ میں جوں جوں جھٹکے لگا رہا تھا مجھے اور بھی مزا آرہا تھا۔ میں نے جھٹکوں کے ساتھ ساتھ اُس کے سینے پر بھی ہلکا ہلکا ہاتھ پھرنے لگا۔ مجھے آنٹی سعدیہ کے چوت کے اندر کرنا یاد آیا تو دل کیا کہ اس کے اندر بھی کردوں پر مجبوری تھی۔ میں دس منٹ تک کرتا رہا اور مجھے محسوس ہوا کہ میں فارغ ہونے والا ہوں تو یہ سوچ کے کہ کہیں بستر اور کمبل مرے منی سے خراب نہ  ہو جائے اُٹھ کے واش روم بھاگ گیا اور خود کو موٹ مار کے فارغ کر دیا۔ اور پھر مجھے پتہ بھی نہ چلا کہ میں کس وقت سو گیا ہوں۔
صبح سونیا نے جاگیا کہ اُٹھو دن کے 11  بج گئے ہیں اور مجھے احساس بھی نہیں ہوا۔ ناشتہ کرنے کے بعد میں باہر ٹہلنے نکل گیا، مجھے اُس وقت احساس ہوا کہ جمال کیوں ہر وقت خوش رہتا تھا۔ پر میں اند ر جوں جوں وقت گزر رہا تھا ایک آگ بھڑک رہی تھی۔ اور میرا دل کر رہا تھا کہ کوئی ایسا موقع مل جائے کہ میں یہ سب آزادانہ طور پر اور بغیر ڈر کے کر سکوں۔ اور کہتے ہیں کہ اگر دل کی مراد سچی ہو تو کوئی نہ کوئی وسیلہ نکل آتا ہے۔ شام کو مہندی کی تقریب تھی اور گاؤں سے بہت سے مہمان آنا شروع ہوئے۔ اور امی، سونیا، تمام خالائیں اور رشتہ دار خواتین مہمانوں کو کمروں میں منتقل کر رہے تھے۔ شام کو مہندی کی تقریب سے پہلے تمام مہمانوں کو خصوصی کھانے دئے گئے اور میرا کام دیگوں اور میزبان خواتین کو چاول کے پلیٹ تھمانے کا کام تھا۔ جس کوسرانجام دیتے دیتے تھکن سے میرا بُرا خال ہو گیا۔ رات کو رنگا رنگ پروگرام میں دلہن کے گھر مہندی لے جائے گئی، ہم سب خواتین کے مہندی کے آگے خوب ناچ رہے تھے۔ مجھے واقعی بہت مزا آرہا تھا۔ دو گھنٹے کے تقریب کے بعد ہماری واپسی ہوئی تو سب ناچ گانے اور مہمانوں کی خدمت سے اتنے تھک چکے تھے کہ ہر کوئی اپنے بستر کی تلاش میں تھا۔ مہمان تو جلد اپنے اپنے بستروں میں گھس گئے پر ہم گھر والے سامان کو ترتیب دینے میں لگ گئے جس میں رات کے 12 بج گئے۔ اُس کے بعد بھی میں امی اور خالاؤں کے ساتھ بیٹھا رہا، جب نیند کا غلبہ زیادہ ہوا تو سونیا سے کہا کہ مجھے نیند آرہی ہے تو اُس نے کہا کہ ہم تو یہاں سو رہے ہیں تم ہمارے کمرے میں جا کر سو جانا۔ میں نیند کی خمار میں ایک شرابی کی طرح جھولتا ہوا کمرے پہنچا تو اندر کا منظر الگ تھا۔کمرے میں ہلکا بلب جل رہا تھا جس سے یہ پتا چل رہا تھا کہ ڈبل بیڈ پہ یوسف اور کومل کے ساتھ تین اور خواتین کمبل میں گھسی ہوئی ہیں۔ نیچے فرش پر بھی چٹایاں بچا کر کئی خواتین کمبل اُوڑھی سو رہی ہیں۔ یہ حالت دیکھ کر میرے اوسان خطا ہو گئے کہ اب سوؤں تو کہاں سوؤں۔ پر نیند کی حالت ایسی تھی کہ کچھ سجائی نہیں دیا تو واش روم کے قریب سوئی ہوئی خاتون کے ساتھ کمبل میں گھس گیا اور لیٹ گیا۔ معلوم نہیں رات کا کونسا پہر ہوگا کہ پیشاب کا تقاضا ہوا تو جوں آنکھ کھلی مجھے حالات کا اندازہ ہوا کہ میں تو ایک خاتوں کے ساتھ لیتا ہوں جو دنیا مافہا سے بے خبر میری طرف منہ کرکے سو رہی ہے۔ میں پیشاب کے لئے اُٹھا اور پیشاب کرنے کے بعد جب پھر اُس خاتون کے ساتھ سویا تو پھر شیطان مجھے پر خاوی ہونے لگا۔ کیونکہ اُس عورت کا دوپٹہ اُس کے جسم پہ نہیں تھا اور بلب کی ہلکی روشنی میں اُس کے تندرست اور موٹے پستان مجھے بہت کچھ کرنے پر اکتا رہے تھے۔ وہ کوئی 35 سا ل کی خاتوں تھی۔ میں نے کبھی بھی کسی عورت کے پستانوں کو ہاتھ نہیں لگائے تھے۔ پر اُس ٹائم تو میں اپنے ہوش میں نہیں تھا اس لئے ڈرتے ڈرتے اُس کے پستانوں کو اپنے ہاتھوں سے ہلکا ہلکا دبایا تو ایک نئے مزے سے آشنائی حاصل ہوئی کہ عورت کے پستانوں میں بھی کتنا مزہ ہوتا ہے۔ اب میری ہمت بڑھ رہی تھی اور میں نے پستانوں کے ساتھ ساتھ اُس کے سینے پر بھی ہاتھ پھیرنا شروع کیا۔ اور انجانے میں میں نے اپنے ہونٹ اُس عورت کے گلوں پر رکھ کر اُس کو چومنا شروع کیا، مجھے محسوس ہوا کہ اچانک اُس عورت کی سانسیں بھی تیز ہونے لگی، مجھے لگا کہ وہ جان بوجھ کہ سو رہی ہے یہ دیکھ کے میں اور بھی شیر ہو گیا اور اُس کے گردان پر بھی  چومنے لگا اور میرا بایاں ہاتھ سرکتا ہوا اُس کی شلوار کے اندر چلا گیا جوں ہی میں نے اُس کے چوت پر اپنا ہاتھ رکھا اُس عورت نے ایک ہلکی سر جرجری لی جو اس بات کاغمازی کر رہا تھا کہ اُس کو یہ سب کچھ اچھا لگ رہا ہے اور وہ پوری طرح جاگ رہی ہے۔ میں نے فوراََ اپنا شلوار اُتار دیا اور اُس کا شلوار بھی نیچے کر لیا اور اپنا لن اُس کے رانوں میں دے کر ہلکا جھٹکا دیا تو اُس عورت کی منہ سے عجیب سے آواز نکلی۔ اُس وقت میرا لن ایک لوہے کی راڈ کی طرح سخت ہو گیا تھا۔ میں نے اُس عورت کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھا تو اُس نے فوراََ میرے لن کو ہاتھ میں سختی سے پکڑ لیا، یہ میرے  لئے ایک نیا تجربہ تھا۔ مجھے لگا کہ وہ عورت اس کھیل کی ماہر لگ رہی ہے کیونکہ وہ ہاتھ میں پکڑنے کے بعد میرے لن کو عجیب طریقے سے مسلنے لگی جس سے میرا جوش اور بڑھ گیا اور میں دیوانہ وار اُس کے چہرے اور گردن پر چومنے لگا اور وہ پوری طرح سسک رہی تھی۔ اُس نے خود ہی اپنی شلوار پاؤں سے بھی نکال دی اور مجھے فوراََ اپنے پاؤں کے درمیان کرلیا، اب اتنا تو میں آنٹی سعدیہ کے ساتھ کرکے سمجھ گیا تھا کہ اب کیا کرنا ہے میں نے فوراََ اپنے لن پہ ہلکا تھوک لگایا اور چوت کے سرے پہ لن رکھ کر ایک جھٹکا جو مارا تو میرا پورا کے پورا لن اندر تک چلا گیا۔ اب میں پاگلوں کی طرح اندر باہر کرنے لگا، میرے جوش کو دیکھ کر وہ عورت بھی پاگل ہو رہی تھی اور میرے پیٹ پر اپنے ہاتھ پھیر پھیر کرکے مجھے اور بھی جوش دلا رہی تھی۔ ابھی 5 منٹ بھی نہیں گزرے ہونگے کہ اس عورت کا جسم اچانک اُکڑنے لگا اور مجھے زور سے اپنے ساتھ چمٹ لیا میں پھر بھی جھٹکے لگا رہا تھا اُس کے جسم نے دو تین جھٹکے لئے اور اچانک مجھے لگا کہ اُس کا چوت پہلے سے زیادہ چکنا ہوگیا اور میرے لن کے اند ر باہروہنے سے پچ پچ کی آوازیں نکلنے لگی میں مزے کے ساتویں آسمان پر تھا کہ اچانک ایک آواز نے مجھے ہمیں آسمان سے زمیں پر لے آیا، اور آواز دینے والی کوئی اور نہیں بلکہ
آواز دینے والی پھر وہی سونیا تھی جو کہ عزرہ آنٹی کو تلاش کرتی ہوئی برامدے سے آوازیں لگا رہی تھی۔ میرے کانوں میں جوں ہی پہلی آواز پڑی میں فوراََ کمبل میں چھپ گیا اور مجھے یہ بھی لگا کہ اُس آنٹی نے بھی فوراََ اپنی شلوار اوپر کرلی۔ پر اگر چہ میں فارغ نہیں بھی ہوا تھا پھر بھی گھبراہٹ کی وجہ سے میرے سارے جزبات جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ خیر سونیانے آتے ہیں ایک بلب روشن کی کئی طرف سے اُس کے خواتین کی گندی گندی گالیاں سننا پڑی کے کنجر بند کرو لائٹ پر وہ عزرہ آنٹی کو نہ پاکر لائٹ آف کرکے چلی گئی۔ میں دس منٹ تک اسی طرح بغیر شلوار کے لیٹا رہا پھر آہستہ آہستہ دوبارہ شیطان مجھے پہ سوار ہوا تو اُس آنٹی کی شلوار کو پھر نیچے کیا اور یہ دیکھے بغیر کہ وہ گرم ہے یا نہیں پھر اُس کے ٹانگوں کے درمیان آکر اندر کرکے جوش سے جھٹکے لگانے لگا۔ تھوڑی دیر بعد مجھے لگا کہ آنٹی پھر جاگ رہی ہے اور گرم ہو رہی ہے۔ میں پہلے ہلکے ہلکے پھر جوس سے جھٹکے لگانے لگا اور آنٹی کی شلوار اُوپر کرکے اس کے چھاتیوں کو چاٹنے لگا اور ایک دیوانے کی طرح کبھی نپل منہ میں لے کر دانتوں سے دباتا کبھی اُس کے چھاتیوں کو زبان سے چوستا۔ آنٹی اسی دوران جوش میں آگئی اور میرا سر اپنے ہاتھوں میں پکڑ کرمیرے منہ اور گالوں کو چاٹنے لگی جس سے میں اور جوش میں آگیا اور آنٹی کی ٹانگے پوری طرح اُس کے سر تک لے کر اُس کو انتہائی گہرائی میں چودنے لگا۔ اچانک آنٹی نے پھر پانی چھوڑ دیا پر اس بار اُس کے چوت گیلے ہونے سے میرے لنڈ سے آوازیں آنے لگی اور اُس نے مجھے زور سے اپنے ساتھ دبایا اور دبانے کے ساتھ ہیں میں بھی اُس کے اندر فارغ ہوگیا۔ میں تھوڑی دیر تک اندر رکھے لیٹا رہا پھر کروٹ بدل کر لیٹ گیا اور اپنی شلوار پہن کر ایسا سویا کہ پتہ ہی نہیں چلا کہ کب صبح اُٹھا۔
صبح دس بجے اُٹھا تو سیدھا کچن پہنچا اور امی نے ناشتہ کرایا۔ امی نے کہا کہ کیا بات ہے جب سے یہاں آئے ہو تم میں بہت سے تبدیلیاں دیکھ رہی ہوں۔ میں نے کہا نہیں امی وہ کیا ہے کہ نیا گھر ہے اس لئے بے چینی سی ہے۔ امی نے کہا کہ شام کو برات ہے جلدی تیار رہنا کیونکہ تم جیسا سست بندہ میں نے دیکھا نہیں۔ میں نے اچھا امی کہا اور اُوپر سونیا کے کمرے کی طرف چلنے لگا۔ جیسے میں دوسرے منزل پہنچا تو پہلے کمرے سے کچھ ہلکی ہلکی آوازیں آرہی تھی۔ مجھے میں اشتیاق پیدا ہوا کہ یہ کون ہے اس روم میں جس میں پرانا سامان ہی پڑا ہے۔ میں نے آہستہ سے دووازہ پہ زور دیا تو دروازہ بغیر آواز کے کھول گیا پھر بھی ہلکی ہلکی سرگوشیوں کی آوازیں آرہی تھی۔ میں نے تھوڑا سر اندر کیا تو میرے پاؤں تلے سے زمین سرک گئی اور مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ جو میں دیکھ رہا ہوں وہ حقیقت بھی ہو سکتا ہے۔ سونیا میری بڑی بہن کو اُس کے چھوٹے دیور نے پیچھے سے جھکڑا تھا اور سونیا کی قمیص اُوپر کرکے اپنے ہاتھوں سے اُس کے چھاتیاں دبا رہا تھا۔چونکہ دونوں کی پشت میری طرف تھی اس لئے دونوں مجھے نہ دیکھ سکے۔ اُس کا دیور صفدر کہہ رہا تھا کہ بھابی پانچ منٹ لگتے ہیں چلو ایک راونڈ کرلیتے ہیں پر سونیا کہہ رہی تھی کہ نہیں اتنے مہمان ہے کوئی آنہ جائے، تم جلدی کرو مجھے بہت کام ہے۔ پر صفدر دیوانوں کی طرح اُس کے چوتڑ سے اپنا لنڈ دبائے اُس کے چاتیاں دبا رہا تھا۔ یہ منظر دیکھ کہ میں یہ بھول گیا کہ وہ لڑکی میری اپنی بہن ہے پھر بھی میں گرم ہو گیا اور مجھے لگا کہ کاش صفدر کی جگہ میں یہ سب کر رہا ہوتا۔ پر اس ڈر سے کہ کہیں باجی مجھے دیکھ نہ لے میں باہر نکل آیا اور باجی کے کمر ے میں جا کر واش روم میں گھس گیا اور نہ چاہتے ہوئے بھی باجی کے اُس منظر کو آنکھوں میں سجا کر موٹ مارنے لگا۔ خود کو فارغ کرنے کے بعد اور نہا کر باہر نکلا تو باجی اپنے سنگار میز کے سامنے بیٹھی اپنے بال سنوار رہی تھی۔ مجھ سے کہا کہ سلمان  تم کہاں اچانک غائب ہو جاتے ہو۔ میں نے کہا کہ باجی بس کوئی نہ کوئی کام دے دیتا ہے اس لئے۔ تو باجی نے کہا کہ آج برات ہے اور تم، عدنان اور زینب میرے ساتھ گاڑی میں جاؤ گے۔ خدا خدا کرکے برات کا ٹائم آیا سب خواتین ایک سے بڑھ کر ایک ٹھن بن کے تیار ہوئی تھی اور میک آپ کا پورا بازار اپنے اُوپر تاپ لئے تھے۔ باجی نے بھی خود کو بہت سنوارا تھا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ صفدر کسی کام کے بہانے باجی کے قریب گیا اور کوئی بات کی تو باجی نے ہنس کے کوئی جواب دیا اور مجھے اندازہ ہو گیا کہ اُس نے کیا بات کی ہوگی۔ بہرحال ہم برات میں جانے کے لئے گاڑی میں بیٹھ گئے بھائی جان گاڑی چلا رہے تھے، عدن اور یوسف بھائی جان کے ساتھ آگے بیٹھ گئے اور میں، زینب، کومل اور باجی پچھلے سیٹ پر بیٹھ گئے۔ میں کھڑکی کی طرف، پھر باجی، پھر کومل اور دوسری کھڑکی کی طرف زینب بیٹھ گئی۔ جب گاڑی چل پڑی تو مجھے اچانک باجی کے جسم کی گرماہٹ محسوس ہوئی تو مجھے کل رات والا منظر یاد آگیا اور میں اچانک یہ سوچے بنا کہ میں کہاں ہو ں گرم ہوگیا اور اپنی ایک کہنی باجی کے چھاتیوں کے ساتھ ٹچ کی چونکہ ہم بہت تنگ بیٹھے تھے اس لئے باجی کو پتہ ہی نہ چلا کہ میں کیا کر رہا ہوں پر باجی کے چھاتیوں کے ساتھ کہنی کا ٹچ ہونا تھا کہ شلوار میں میرا لن پوری طرح تن گیا۔ میں باجی کے جسم کے گرمائش کو انجوائے کرنے لگا کہ اچانک باجی کا ایک ہاتھ سیٹ سے ہوتا ہوا انجانے میں میرے گود میں پڑا تو باجی چونک گئی کیونکہ اُس کو میرے تنے ہوئے لن کا فوراََ احساس ہو گیا پر اُس نے میری طرف ایک نظر دیکھا پر میں انجان بنا کھڑکی کے باہر دیکھتا رہا پر باجی نے میرے کہنی کا اپنے چھاتی پر رکھنے کو مائنڈ نہیں کیا اور برات ڈھول باجوں کے ساتھ گھر واپس آگئی۔ برات کے بعد کھانے تک میری یہ کوشش رہی کہ میں باجی سے نظر نہ ملا لوں۔ خیر رات کا کھانا گزرنے کے بعد جب میں باجی کے کمرے میں چلا گیا تو مجھے باجی نے آواز دی کے سلمان تم سے ایک کام ہے میرے پیچھے آؤ۔ میں بوجھل قدموں کے ساتھ اُس کے پیچھے چلنے لگا تو وہ مجھے اُسی تاریک صحن میں لے گئی جہاں میں نے پہلی بار سعدیہ آنٹی سے سکس کیا تھا۔ میں ایک معمول کی طرح باجی کے پیچھے چل رہا تھا اور وہ ایک عامل کی طرح مجھے اپنے پیچھے آنے پر مجبور کر رہی تھی۔ صحن کے بیچ پہنچ کر باجی نے مجھے سے کہا کہ یہاں ہماری بات سننے اور دیکھنے والا کوئی نہیں ہے۔ اب میرے چند سوالوں کے جواب دو۔ میں خاموش رہا تو باجی نے کہا کہ یہ بتاؤ کہ اُس رات تم اور سعدیہ آنٹی اس صحن میں کیا کر رہے تھے؟ دوسری بات یہ کہ گاڑی میں تم میری وجہ سے گرم تھے یا کوئی اور وجہ تھی۔ میں پھر بھی خاموش رہا تو باجی نے کہا کہ کیا تم چاہتے ہو کہ یہ سوالات میں امی کے سامنے کروں تو یہ سن کر میرے پاؤں تلے زمین سرک گئی میں۔ رونے لگا تو باجی نے حوصلہ دیا کہ میں کسی کو نہیں بتاؤنگی مجھے سچ سچ سب بتا دو۔ تو میں نے ایک ربورٹ کی طرح سعدیہ باجی سے سکس، صفدر کے ساتھ باجی کا منظر اور کار میں اپنے جزبات کا سب خال سنا دیا۔ یہ سن کر باجی بھی گھبرا گئی اور مجھے کہا کہ خبردار یہ بات تم نے کسی سے بھی کی تو خیر نہیں ہوگی۔ باجی کی گھبراہٹ دیکھ کر میرا بھی کچھ حوصلہ بڑھا تو میں نے کہا کہ اگر تم نے یہ بات کسی کو بتائی تو میں تو ضرور بتاؤنگا۔ تو باجی نے موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے کہا کہ پھر اس مسئلے کا کیا حل ہوگا۔ تو میں نے کہا کہ ایک حل ہے پر تم مجھے ماروگی اگر میں نے بتایا۔ باجی نے کہا کے جلدی بتاؤ میں نہیں کہونگی کچھ۔ تو میں نے کہا کہ میں وہی کرنا چاہتا ہوں جو صفدر کر رہا تھا۔ باجی یہ سن کر ہکا بکا رہ گئی اور کہا کہ تم کو شرم نہیں آتی میں تمہاری بڑی بہن ہوں۔ میرا بھی حوصلہ بڑھ گیا تھا کیونکہ شیطان مجھے پر اُس وقت مسلط ہو چکا تھا۔ میں نے کہا کہ کیا تم کو شرم آئی تھی جب اپنے بھائی جیسے دیور کو مزا دے رہی تھی۔ یہ سن کے باجی نے کہا کہ ٹھیک ہے پر یہ بار بار نہیں ہوگا۔ تم جلدی کرلو۔ میں نے کہا کہ جب شرط پہ ہوگا تو میں جاتا ہوں۔ باجی نے کہا ٹھیک ہے کرلو پر جلدی۔ میں نے فوراََ باجی کو پیچھے سے پکڑا اور اپنا لن جو کہ پہلے ہی کھڑا ہو گیا تھا باجی کے چوتڑ سے لگا لیا واہ کیا نرم اور موٹے چوتڑ تھے میرا تو لن رکھ کر بُرا حال ہو گیا اور فوراََ میں نے باجی کی قمیص اُٹھا کر اُس کی چھاتیاں بھی دبانے لگا۔ آہستہ آہستہ جھٹکے لگاتے لگاتے میں جوش سے دیوانا ہونے لگا اور مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ باجی بھی اب پوری طرح گرم ہو رہی ہے تو میں نے باجی کو کہا کہ تھوڑا سے جھک جاؤ اُس نے کہا کہ کیوں میں نے کہا تم جھک جاؤ۔ وہ جیسی جھکی میں نے اُس کی شلوار نیچے کی اُس نے کوئی مزاحمت نہیں کی تو میں نے بھی اپنی شلوار اُتار کے اپنا لن کا ٹوپ باجی کے چوت پہ فٹ کرکے جو ایک جھٹکا لگایا تو پورا لن ایک ساتھ گہرائی تک چلا گیا۔ باجی کے منہ سے مزے کی ایک ہلکی سی آواز نلکی اور میں مستی میں اگے پیچھے جھٹکے لگانے لگا۔ مجھے اتنے جوش میں دیکھ کر باجی بھی ہلکے ہلکے جھٹکے لگانے لگی جس سے میرا جوش اور بھی بڑھ گیا ہم دس منٹ تک کرتے رہے کہ اچانک مجھے لگا کہ کسی کے پاؤ ں کے چلنے کی آواز آرہی ہے جو کہ قریب آرہی تھی
میں نے فوراََ اپنا لن نکالا اور اپنی شلوار اُوپر کردی۔ باجی نے بھی اپنی شلوار اُوپر کی اور کچھ ڈھونڈنے لگ گئی میں باجی کی چال سمجھ گیا اور میں بھی کچھ ڈھونڈنے لگ گیا۔ اسی دوران قدموں کی آواز قریب آکر پھر دور چلی گئی۔ اور ہم دونوں سے سکھ کا سانس لیا اور پہلے باجی وہاں سے رفو چکر ہوئی اُس کے بعد میں وہاں سے چلا گیا۔ میں ڈرتا ڈرتا باجی کے کمرے میں پہنچ گیا تو باجی بھائی جان کے ساتھ بیٹھی گپ شپ لگا رہی تھی تو میری بھی کچھ جان میں جان آگئی۔ باجی نے کہا کہ تم ہمارے ساتھ ہمارے کمرے میں سونا۔ رات کو دلہن کے لئے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔ نکاح پڑھایا گیا تو اور تقریبات بھی اہتمام پزیر ہوئی۔ اورخوب ناچ اور گانے کا پروگرام بھی ہوا۔ پر میری تو اب پوری توجہ صرف خواتین کا جسم ہی تھا۔ جس عورت کو دیکھتا تو میں سوچ میں چلا جاتا کہ اس کے ساتھ سکس کرنے میں کتنا مزا آئے گا۔
خیر تمام تقریبات اہتمام پزیر ہوئے تو سب تھکے ہوئے اپنے اپنے کمروں کی راہ لینے لگے۔ میں بھی ان سب میں شامل باجی کے کمرے میں آگیا تو یوسف اور کومل سو چکی تھیں میں بھی یوسف اور کومل کے بیڈ پر کمبل میں گھس گیا اور پتہ بھی نہیں چلا کہ کیسے سو گیا۔ پتہ نہیں رات کا کونسا پہر ہوگا کہ اچانک میری آنکھ کھل گئی تو کچھ مستی کی آوازیں میرے کانوں میں پڑ رہی تھی۔ چونکہ کمرے میں زیرو والٹ کا بلب لگا ہوا تھا اس لئے جب میرے کچھ خواص قابو میں آئے تو تھوڑی آنکھیں کھولی تو آوازیں باجی اور بھائی جان کے بیڈ سے آرہی تھیں۔ دونو ں مکمل طور پر ننگے تھے اور باجی نیچے لیٹی تھی اور بھائی جان کے کاندھوں پر اُس کی ٹانگے رکھی تھیں اور بھائی جان بڑی مستی میں اپنا لن اندر کئے ہوئے تیزی سے باجی کو جھٹکے لگا رہا تھا اور باجی پاگلوں کی طرح اپنا سر ادھر اُدھر ہلا رہی تھی اور جوش سے دونوں کی آوازیں نکل رہی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر میرا لن بھی فوراََ کھڑا ہوگیا۔ اور فوراََمیرا لن کومل کے ساتھ ٹچ ہو گیا تو میرے لن میں اور بھی جان پڑ گئی۔ چونکہ اس سے پہلے میں باجی کی چوت کا مزا لے چکا تھا اس لئے جو ں جوں بھائی جان اندر باہر کر رہے تھے میرا بھی جوش سے بُرا خال ہو گیا دل کر رہا تھا کہ بھائی جان وہاں سے ہٹے اور میں شروع ہو جاؤں۔ پر یہ ممکن نہیں تھا۔ پر اس بار کومل کے ساتھ کرنے کو دل نہیں کر رہا تھا اس لئے اپنا لن کو اپنے ہاتھوں سے مسلنے لگا۔ اب بھائی جان نے باجی کو کتیا کی سٹائل میں کیا اور خود اُس کے پیچھے سے اندر کرکے کرنے لگا اب باجی کی پستان نیچے کی طرف مکمل ہوگئیں تو بھاری بھر کم پستانوں نے میری حالت اور خراب کردی۔ اور میں اور تیزی سے مُٹ مارنے لگا۔ بھائی جان پانچ منٹ تک کرتا رہا اچانک بھائی جان کی سپیڈ تیز ہو گئی اور اچانک باجی کے اُوپر گر گیا۔ باجی نے ناگواری سے بھائی جان سے آہستگی سے کہا کہ تم ہر بار مجھے ادھورا چھوڑ کے خود کو فارغ کردیتے ہو۔ پر بھائی جان پر کچھ اثر نہیں ہوا وہ واش روم چلا گیا اور خود کو صاف کرکے شلوار بنیان پہن کے دیوار کی طرف منہ کرکے سو گیا اور باجی اُسی طرح ننگی پڑی رہی۔ میں اُس کو دیکھ رہا تھا کہ اب بھی اُس کے اندر آگ لگی ہوئی ہے کیونکہ وہ اب بھی اپنے چوت کو کبھی کبھی ہاتھ سے سہلا لیتی۔ یو دس منٹ گزر گئے تو میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا اور میں نے ایک فیصلہ کیا جو کہ شاید جوش کی وجہ سے تھا میں اُٹھا اور واش روم کی طرف چلا گیا۔ پیشاب کرکے باہر نکلا تو باجی ویسی پڑی ہوئی تھی۔ میں سیدھا باجی کے بیڈ کی طرف گیا باجی کہیں اور سوچ میں تھی۔ میں نے فوراََ اپنی شلوار نیچے کرلی اور باجی کے اوپر لیٹ گیا باجی اچانک یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئی پر جلد ہی وہ حالات کو سمجھ گئی اس لئے اُس نے کوئی مزاحمت نہیں کی میں نے بھائی جان کی طرز پر فوراََ باجی کی ٹانگیں اپنے کاندھوں پر رکھی اور فوراََ اپنا لن اندر کردیا۔ باجی کی آگ ویسے بھی جل رہی تھی اس پر نئے جوش نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور ہم دونوں ایک دوسرے کو چودنے لگے۔ ہم کمبل میں آگئے تھے کہ اگر بھائی جان اچانک اُٹھ بھی جائیں تو ہم آسانی سے نظر نہ آسکیں۔ میرا تو جوش سے برا خال تھا اور یہی خال باجی کا بھی تھا۔ میں جتنا جوش سے جھٹکے مارتا باجی کا رسپانس بھی اُتنا ہی گرم تھا۔ ہم ایک دوسرے کے جسم میں سمائے یہ سب کر رہے تھے اور ایک دوسرے کا خوب مزا لے رہے تھے کہ مجھے لگا کہ باجی کے چوت سے پانی کا سیلاب اُمڈ آیا یہ دیکھ کر میں نے بھی اپنی رفتار تیز کردی اور اپنا سارا پانی باجی کے اندر چھوڑ دیا۔ باجی نے پیار سے مجھے اپنے ساتھ چمٹ لیا اور میرے گالوں پر پیار سے دو تین بوسے لئے۔ میں فارغ ہو کر اُٹھا اور واش روم میں جاکر خود کو صاف کیا اور اپنے بیڈ پہ جا کر سوگیا۔
صبح ناشتے پر باجی مجھے بڑی شرارتی نظر سے دیکھ رہی تھی۔ میں نے ناشتہ کیا اور سیدھا باہر بازار نکل گیا۔ اور بلا ارادہ مارکیٹ گھومنے لگا کیونکہ آج جانے کا دن تھا پر وہاں سے جانے کو بالکل دل نہیں کر رہا تھاکیونکہ وہی پر تو میرے سکس لائف کا آغاز ہوا۔ بہر خال دوپہر کے کھانے کے بعد ہم نے گاڑی پکڑی اور سب خاندان والے اشکبار آنکھوں کے ساتھ اپنے گاؤں واپس آگئے۔ عدنا ن اور زینب کو تو کوئی پرواہ نہیں تھی پر مجھے وہ چند رنگین راتیں بہت بے قرار کر رہی تھیں۔ اپنے گھر آنے کے بعد میں بس اپنے کمرے میں گھسا رہتا اور کبھی کبھار ٹی وی دیکھ لیتا یہ میرا معمول بن گیا تھا۔ رات کو بھی میں نے اپنا معمول بنا لیا تھا کہ چھت پر چڑھ جاتا اور دیر رات تک اُوپر بیٹھا رہتا۔ اسی دوران ہمارے ایک کزن نوید بھی اپنی چھٹیاں منانے ہمارے گھر آگیا۔ وہ میرا ہم عمر تھا اس لئے ہم دنوں بہت بے تکلف تھے۔ بہرحال میرے معمول میں کچھ اچھی تبدیلی آگئی۔ نوید نے میرے کمرے کا انتخاب کیا بقول ِ اُس کے عدنا ن سے بور کوئی انسان اُس نے نہیں دیکھا تھا۔ شام کا کھانا کھانے کے بعد میں اور نوید ہلکی والک پر نکلے تو نوید نے بے تکلفی سے کہا کہ یار سلمان کوئی گرل فرینڈ ہے کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ یار مجھے کون گھاس ڈالے گا تو اُس نے کہا کہ یار بڑے مولوی ہو میں تو تین تین کے ساتھ یاری کر رہا ہوں پر سب سالیاں اتنی چالوں ہیں پر بھی مجھے قریب نہیں آنے دیتی۔ میں ہنسا کہ یار پھر کیا فائدہ ایسی یاریوں کا۔ تو کہا کہ یار اُن کے لئے مُٹ تو مار لیتا ہوں۔ تو میں ہنسا کہ اُس کے لئے یہ فلمیں کافی نہیں ہیں کیا تو نوید نے کہا کہ سلمان یار کیا تمہارے پاس ہے کوئی سکس فلم تو میں نے کہا کہ ہاں میر ے لیپ ٹاپ میں ہیں پر ہیڈن رکھے ہیں کہ کہیں عدنان اور زینب کی نظر نہ پڑ جائے۔ تو نوید نے کہا کہ پھر آج ہو جائے فلم تو میں نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ کھانا کھانے کے بعد میں اور نوید اپنے روم میں آگئے امی نے ہمارے لئے چائے کی ترماس رکھی اور ہم نے کمرے کو لاک کرکے فلم لیپ ٹاپ پر چلا دی۔ جوں جوں فلم چلتی رہی ایک لڑکی اپنے بوائے فرینڈ کا لنڈ چوس رہی تھی اور بڑے جوش سے یہ کر رہی تھی وہ منظر ایسا تھا کہ ہم دنوں کا گرم ہونا ضروری تھا۔ میرے شلوار میں میرا لن تنا دیکھ کر نوید نے کہا کہ یار سلمان تمہارا ہتھیار تو مجھے بہت بھاری لگ رہا ہے زرا دیکھاوہ تو یار۔میں نے کہا کہ دیکھ کہ کیا کروگے کوئی لڑکی تو نہیں ہو۔ تو اُس نے کہا کہ تم دیکھاؤ تو سہی کیا کرنا ہے وہ تو بعد میں دیکھیں گے۔ میں نے جب اپنا شلوار نیچے کرکے اپنا لن نوید کو دیکھایا تو اُس کی آنکھوں میں اپنے لن کے لئے ستائش دیکھ کر میرا لن اور بھی تن گیا۔ نوید نے اپنا لن بھی نکالا پر وہ پتلا اور چھوٹا سا تھا۔ نوید نے کہا یار سلمان کیا میں آپ کے لن کو ہاتھ میں لے سکتا ہوں میں اُس وقت ویسے بھی گرم تھا تو میں نے کہا کہ ہاں لے لو۔ وہ فوراََ میرے پاس آیا اور میرا لن میرے ہاتھ میں لے کر مسلنے لگا۔ مجھے لگا جیسے میرے لن میں کرنٹ دوڑ گیا کیونکہ نوید ایک خوبصورت اور سرخ و سفید لڑکا تھا۔ اب میں نوید کو ایک اور نظر سے دیکھ رہا تھا۔ وہ تھوڑی دیر تک میرے لن کو ہاتھ میں مسلتا رہا پھر اچانک جھک کر میرے لن کو اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگا اور مجھے محسوس ہوا کہ اُس کو اس کام میں کافی مہارت حاصل ہے۔ میرا تو جوش سے برا حال ہو رہا تھا۔ میں نے پوری شلوار اُتار دی اور نوید میرا لن چوس رہا تھا اور میں نے اُس کے قمیص میں ہاتھ ڈال کر اُس کے سینے پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اور مجھے کیا ہو گیا کہ نوید کے گردن کو چومنے لگا۔ اور اچانک نوید کو کہا کہ چلو بیڈ پر چلتے ہیں۔ بیڈ پر جیسے ہم گئے میں نے نوید کی شلوار اُتار دی اور مجھ سے پہلے ہی نوید حالات کی نزاکت سمجھ گیا تھا اور شاید وہ اس کام کا ماہر تھا اس لئے وہ پہلے ہی سے اپنے گھٹنوں کے بل بیڈ پر بیٹھ گیا اور میں نے اپنے لن پر تھوک لگائی اور نوید کے گانڈ پر اپنے لن کا ٹوپ رکھ کر ہلکا سا جو جھٹکا لگا یا تو لوہے کی طرح تنا ہوا میرا لن آدھا اندر چلا گیا، اُوہ کیا گرمائش تھی اُس کی گانڈ کی اور کیا نرمی مجھے لگا کہ شاید کسی لڑکی کو چودنے لگا ہوں۔ میں ابھی زور لگایا ہی تھا کہ میں اپنا پورا لن اندر ڈال دوں کہ دروازے پر ہلکی ہلکی دستک شروع ہوگئی۔ اور مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس موقع پر کیا کروں پر۔۔۔
میں نے فوراََاپنی شلوار پہن لی اورنوید ویسے ہی کمبل لپٹ کر سو گیا۔ میں نے ایسا ظاہر کیا جیسے نیند میں اُٹھ کے آیا ہوں۔ دروازہ کھولا تو امی دو چائے کے کپ لئے کھڑی تھی۔ میں نے کہا کہ امی نوید تو سو رہا ہے اور میں بھی نیند سے اُٹھا ہو ں اور چائے کا بالکل موڈ نہیں ہے۔ امی نے کہا کو سوری بیٹا میں سمجھی تم دونوں گپ شپ لگا رہے ہو۔ چلو اب تم بھی سو جاؤ۔ یہ کہہ کہ امی چلی گئی اور میں نے دوبارہ دروازہ بند کرکے وہیں سے شلوار پھینک دی اور نوید کے پاس کمبل میں گھس گیا۔ اور دیوانہ وار نوید کو کے جسم کو چومنے لگا جیسے کو وہ لڑکا نہیں کوئی لڑکی ہو۔ وہ بھی میرے اس جزبات سے اور گرم ہو گیا اور مجھے سے چمٹ گیا۔ میں نے فوراََ اُس کو اُلٹا لیٹنے کا کہا اور اُس کے اوپر آکر اپنے لن پر ہلکی تھوک لگائی اور نوید کی موری پر لن رکھ کر زور کا جھٹکا دیا تو میرا پورا کے پورا لن اندر گہرائی تک چلا گیا نوید کی منہ سے ایک ہلکی سی درد کی آہ نکلی جو جلد ہی مزے کی آواز میں بدل گئی کیونکہ میں نے دیوانہ وار جھٹکے لگانے شروع کر دئے۔ جوں جوں نوید کی سسکیاں نکلتی جا رہی تھی میرا جوش بھی اور بڑھ رہا تھا اور میں دیوانوں کی طرح اندر باہر کر رہا تھا اور پتہ نہیں کیا کیا غلیظ گالیاں نوید کی ماں اور بہن کو جوش میں دے رہا تھا۔ 15 منٹ تک میں لگا تار جھٹکے لگا رہا تھا کہ اچانک مجھے لگا کہ میرا سارا خون میرے لن میں جمع ہو رہا ہے اور میں نے نوید کا کہا کہ میں فارغ ہو رہا ہوں اور لن اُس کے موری سے نکال کر اُس کی رانوں میں اپنی ساری منی خارج کر دی۔ اور میں اسی طرح اُلٹ کر بستر پر لیٹ گیا اور مجھے پتہ بھی نہیں چلا کہ میں کس وقت سو گیا۔

Posted on: 05:58:AM 06-Jan-2021


0 1 135 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 75 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 59 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com