Stories


کچھ اچھے اور برے دنوں کی بات از گریٹ جنجوعہ

نامکمل کہانی ہے

میرا نام حمزہ اور میرا تعلق پاکستان کے شہر راولپنڈی سے ہے . میں نے اِس سائٹ کو کچھ دنوں پہلے ہی دیکھا اور بہت زیادہ پسند آئی میں جو اسٹوری لکھنے جا رہا ہوں یہ کچھ سال پہلے کی ہے اور ویسے تو میں اِس کہانی کو اک کہانی کے طور پر ہی لکھوں گا لیکن گا لیکن اِس میں کچھ نا کچھ میری زندگی کی سچائی شامل ہے اور وہ سچائی ہی مجھے مجبور کر رہی ہے کے میں اِس اسٹوری کو لکھوں لہذا میں اب اسٹوری کی طرف جاتا ہوں لیکن پہلی دفع    کسی فورم پر لکھ رہا ہوں اگر اچھی لگے یا بری کمنٹس ذرور کر دیجیئے گا
جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کے میں راولپنڈی میں رہتا ہوں اور یہ بات اس وقت کی ہے جب میری عمر 14سال تھی گھر میں میرے ابو اور ایک پیار کرنے والی ماں اور بہن تھی جس کی عمر مجھ سے 4 سال بڑی تھی میں چھی  کلاس میں پڑھتا تھا امی ابو کا لاڈلا تھا ابو ایک گورنمنٹ جاب کرتے تھے باجی دسویں میں پڑتی تھی امی ایک ہاؤس وائف تھیں جو بس گھر کے کاموں میں ہی مصروف رہتی تھیں ہم سب ایک اچھی زندگی گزار رہے تھے لیکن پِھر اچانک وہ سب ہو گیا جس نے آج 5 سال بعد مجھے مجبور کر دیا کے میں وہ سب آپ کو بتاؤں میرے ابو ایک دن دفتر سے واپس آ رہے تھے کے ان کی موٹر سائیکل ایک کار سے ٹکرا گئی اور ایک بہت برا ایکسڈینٹ ہوا جس کے برا ہونے کا اندازہ آپ اِس سے لگا سکتے ہیں کے موٹر سائیکل کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے اور ابو بری طرح زخمی ہو گئے آس پاس موجود لوگ فوراً ان کو لے کر اسپتال میں لے گئے ہمیں جب اطلاع ملی تو ہم سب بے حد پرشان ہو گئے امی کو سنبھالنا مشکل ہو گیا تھا ہم جب اسپتال پہنچے تو بتایا گیا کے ابو کی حالت بہت خراب ہے اور ان کو آئی سی یو میں رکھا گیا ہے اور ساتھ ہی ایک میل نرس آیا اور اس نے امی سے کہا کے بڑے ڈاکٹر صاحب آپ سے ملنا چاھتے ہیں امی مجھے لے کر فوراً بڑے ڈاکٹر صاحب کے آفس میں پہنچی تو ڈاکٹر صاحب امی سے بولے کے آپ کے شوہر کی حالت بہت زیادہ خراب ہے فوراً ہی کچھ ٹیسٹ کرنے پڑیں گے اور وہ اگر کلیئر نہیں آئے تو ان کا آپْریشَن کرنا ہو گا جس کے لیے ایک بڑی رقم کی ضرورت ہو گی امی نے کہا کے آپ پیسوں کی فکر نہ کریں اور صرف ان کو بچانے پر پُورا زور لگا دیں ہم پیسوں کا انتظام کرتے ہیں

امی نے مجھے کہا کے میں یہاں ہی اپنی بہن کے ساتھ رک جاؤں اور وہ پیسوں کے انتظام کے لیے گھر جاتی ہیں میں نے کہا ٹھیک ہے امی آپ گھر جاؤ میں یہاں پر ہی ہوں امی گھر چلی گئیں میں اور باجی اسپتال میں ہی رہ گئے اور دعا کرنے لگے کے ابو کو کچھ نہ ہو 2 گھنٹے بعد امی واپس آ گائیں انہوں نے ڈاکٹر کو بتایا کے انہوں نے اپنا سارا زیور بیچ دیا اور گھر میں موجود جو کچھ تھا لے آئی ہیں پلیز ان کے سہارا اور ان کے بچوں کے واحد سہارے کو بچا  لیں.ڈاکٹر نے ان کی بات سن کر کہا کے وہ پوری کوشش کریں گے اور ان کے شوہر کو بچانے کی پوری کوشش کریں گے لیکن ہونا وہی ہوتا ہے جو زمین کے مالک کو منظور ہوتا ہے 4 دن بعد جب صبح کے وقت ہم نے اس شخص کو کھو دیا جو ہمیں بہت پیارا تھا ہم نے اپنے ابو کو کھو دیا امی کو روتا دیکھ کر ہم بھی سمجھ گئے کے اب مشکل وقعت شروع ہو گیا ہے میں نے اپنی ماں کو کبھی روٹ ہوئے نہیں دیکھا تھا ابو نے ہمیشہ ہی ہمارے آنسو کبھی بہنے ہی نہیں دیئے تھے. پِھر ہم ابو کی میت لے کر گھر آ گئے اور ان کو اسی شام بپھٹ ساری مٹی کے نیچی دفن کر دیا اور گھر آ گئے اب ایک اجڑا ہوا گھر لگ رہا تھا اور ہم تینوں تھے . چند دن تک محلے والے دکھ بانٹنے آتے رہے . اور کچھ کے ساتھ کم کرنے والے بھی لیکن وہ چند دنوں سے زیادہ ہمارا ساتھ نہ دے سکے ہمارا کوئی رشتہ دار نہیں تھے میرے ابو نے میری امی سے بھاگ کر شادی کی تھی میرے ابو ایک پنجابی تھے اور میری امی اک پٹھان فیملی سے تعلق رکھتی تھی. اور انہوں نے شادی اِس امید پر کی تھی کے شاید کبھی ان گھر والے ان کی شادی کے بعد ان کو اپنا لیں گا لیکن ایسا نہ ہو سکا اور ہم ساری عمر اپنے خون کے رشتوں سے دور رہے اور جب ابو کے مرنے کے بعد ہم نے رابطہ کر کے ان کو بتایا کے ابو اب نہیں رہے تب بھی ان سخت دِل لوگوں کے دِل میں کوئی رحم نہیں آیا اور انہوں نے ہمیں کہا کے ہمارا اور ان کا کوئی تعلق نہیں ہے کچھ دن تو گزر گئے لیکن جلد ہی ہمیں احساس ہو گیا کے اب جینا بہت مشکل ہو گیا ہے امی نے اپنی تمام جمع پونجی خرچ کر دی تھی اور ابو کی آخری مہینے کی تنخواہ تو مل گئی تھی لیکن ان کی پینشن کے لیا جب گئے تو پتہ چلا کے حکومت اِس سرکاری ادارے کو جس میں ابو کام کرتے تھے کرائے پر کسی غیر ملکی کمپنی کو دے رہی ہے اِس لیا جب ادارے ہی پرائیویٹ ہو رہا ہو تو پِھر پینشن کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا. اور آہستہ آہستہ جب پیسے ختم ہو گئے تو میری اور باجی کی پڑھائی بھی ختم کرنے کے بارے میں سوچا جانے لگا اور گھر میں کھانے تک کے لالےپڑگئے تو میری امی جو کے گھر سے باہر بھی نہیں نکلی تھیں ان کو کام کے لیے نکلنا پڑا وہ کوئی پڑھی لکھی نہیں تھیں پٹھان اپنے بچوں کی تعلیم کو ضروری نہیں سمجھتے تھے اِس لیا وہ بھی ان پڑھ تھیں انہوں نے ایک محلے میں رہنے والی ایک ڈاکٹر کی سفارش سے نزدیک کے ایک اسپتال میں صفائی کرنی والی کے طور پر کم کرنا شروع کر دیا اور بے حد کم تنخواہ پر لیکن اِس کے سوا کوئی چارا بھی نہیں تھا
یہ ابو کے فوت ہونے کے 4 مہینے بعد کی بات ہے اِس تنخواہ سے گھر کا چولہا بڑی مشکل سے جل رہا تھا میری اور باجی کی پڑھائی جاری رکھنا ناممکن سی بات تھی. تو میں نے سوچا کے مجھے بھی گھر کی حالت کو دیکھتے ہوئے میں میں بھی کوئی کام کروں میری عمر اس وقت 14سال تھی لیکن میں اک دبلا پتلہ اک نازک سا لڑکا اور میری حالت ایسی نہیں تھی کے میں کوئی سخت محنت کا کام کر سکوں اِس لیے میں کسی ہلکے  کام کے لیے امی سے اِجازَت لی کے امی اب مجھے بھی کم کرنا چاہیے تو امی کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے لیکن اب آنسو سے پیٹ نہیں بھرا جا سکتا تھا.  ہمارے محلے کے ساتھ والے محلے میں ایک گھر میں ایک کام والے لڑکے کی ضرورت تھی اور یہ بات میں نے اپنے محلے کی ایک دکان پر سنی تو میں نے سوچا کے وہاں جا کر پتہ کرتا ہوں کے ان کو اگر میری ضرورت ہے تو میں کام کر سکتا ہوں ان کے گھر پہنچا ایک شاندار گھر تھا جب میں نے ان کے گھر کی ڈور بیل تو دروازہ کھلا اور اندر سے ایک30 یا35 سال کی آنٹی ٹائپ خوبصورت لیڈی نے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا آپ کون ہو چھوٹے لڑکے تو میں نے ان کو اپنے آنے کی وجہ بتائی كے میں کام کی تلاش میں ہوں اور مجھے کام کی ضرورت ہے تو آنٹی مجھے اندر لے گئی .
اور صوفہ پر بٹھا کے مجھ سے میرے بارےمیں پوچھا تو میں نے اپنی تمام اسٹوری پوری طرح ان کو بتا دی اور یہ بھی کے میں پڑھتا ہوں اور مجھے میری ضرورت مجبور کر رہی کے کام کروں تو آنٹی بہت متاثر دکھائی دے رہی تھی انہوں نے فوراً کہا بیٹا تم یہاں پر کام کر سکتے ہو لیکن میں کوشش کروں گی کے تمہاری پڑھائی میرے کام کی وجہ سے متاثر نہ ہو میں نے تھینکس کہا اور پوچھا کے کام کیا کرنا ہو گا تو انہوں نے کہا کچھ خاص نہیں بس گھر کی صفائی اور سودا سلف لانا جو تم اسکول سے آنے کے بَعْد بھی کر سکتے ہو اِس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کے تم کل سے کام پر آ سکتے ہو اور میں نے تھینکس کہا اور ان کے گھر سے نکل گیا
ان آنٹی نے اپنا نام فرحت بتایا تھا اور وہ اک رحم دِل خاتون تھیں. جب میں گھر گیا اور باجی اور امی کو بتایا کے مجھے ایک جگہ کام مل گیا ہے اور وہ کام بے حد آسان بھی ہے تو امی بہت خوش ہوئی کے شکر ہے تمہاری پڑھائی نہیں رکے گی اور تمہاری بہن کی بھی نہیں رکے گی اور یہ سن کے باجی نے بھی مجھے پیار سے گلے لگا لیا
اس دن بہت دنوں بعد ہمارے گھر میں تھوڑی خوشی دکھائی دی جو مجھے بہت اچھا لگا
میں یہاں پر یہ بتا دوں کے ہَم تینوں بہت خوبصورت تھے امی تو پہلے ہی ایک گوری چٹی پٹھا نی تھی اور ابو بھی خوبصورت تھے جس کی وجہ سے ہم بہن بھائی بھی بہت خوبصورت ہیں باجی کا جسم تھوڑا بھرا بھرا اور گورے رنگ کے ساتھ اس کے چہرے کی شیپ اِس طرح کی تھی کے ہر کوئی دیکھتا ہی رہ جاتا تھا تھا اور امی کے حسن کے بارے میں اتنا بتا کر ہی واضح کر دیتا ہوں کے جب محلے میں کوئی ابو سے کہتا تھا کے آپ نے آخر کیا دیکھ کر اِس عورت کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ دیا تھا لیکن جب وہ کبھی میری امی کو دیکھ لیتا تو یہی کہتا تھا کے ابو نے درست کیا ایسی خوبصورت عورت کے لیا بندہ کچھ بھی کر سکتا ہے ان کا سب سے دلچسپ چیز ان کا فگر تھا ان کے 2 بچے ہونے کے باوجود ان کی کمر اور پیٹ تو نظر ہی نہیں آتے تھے ان کے ٹانگیں سڈول ممے اور بیک فگر اتنا زبردست تھا کے ہر کوئی دوبارہ دیکھنے کے لیا بیچین ہو جاتا تھا

دوسرے دن جب میں اسکول سے واپس آ کر فوراً ہی آنٹی فرحت کے گھر چلا گیا تو وہاں وہ میرا ہی انتظار کر رہی تھی پہلے تو انہوں نے كھانا کا پوچھا میں نے بتایا کے میں نے كھانا نہیں كھایا ہے اور جلدی میں آ گیا ہوں کیا آپ نے برا تو نہیں مانا تو فرحت آنٹی خوبصورت اندازِ میں ہنسنے لگی پیار سے کہنے لگی کے آرام سے آ جایا کرو اور کہا کے بیٹھو میں تمھارے لیے كھانا لے کر آتی ہوں تو میں بیٹھ گیا اور وہ کچن کی طرف چلی گئی. مجھے ابھی بیٹھے ہوئے تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی کے دروازہ کھلا اور ایک آدمی اندر داخل ہوا اس آدمی کو دیکھ کر میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا اور آپ اگر وہاں ہوتے تو آپ بھی ایسا ہی کرتے وہ دبلا پتلہ آدمی تھا 45 سال کے لگ بھاگ عمر کا اس کی شکل بگڑی ہوئی تھی اور آپ اس کو بدصورت بھی کہہ سکتے ہیں سب سے عجیب چیز اس کے چہرے پر اس کی مونچھ تھی جو اس کے چہرےکے حساب سے بہت بڑی لگ رہی تھی. وہ آتے ہی مجھے گوےر نے لگ گیا جیسے میں کوئی عجیب چیز ہوں اور میرے ساتھ بیٹھ گیا میں نے سلام کیا سلام انکل تو جب اس نے جواب دیا تو میں پچھتانے لگ گیا کے میں نے سلام کیوں کیا ہے کیونکہ اس کے منہ سے بدبو آ رہی تھی جو مجھے بہت ہی بری لگی ایسے لگ رہا تھا کے اس نے چرس پی ہو اور اس کے ہوش بھی ٹھکانے پر نہیں تھے اتنے میں آنٹی فرحت كھانا لے کر آ گئی اور ان گندے سے انکل کو دیکھ کر ان کا منہ بگڑ گیا. اور وہ انکل ان کو دیکھ کر کہنے لگا یہ لڑکا کون ہے اور اس کے پوچھنے کے اندازِ میں سمجھ گیا کے وہ واقعی میں کوئی نشے میں ہے آنٹی فرحت نے ان کو جواب دیا  کے یہ میں نے گھر کے کام کاج کے لیے رکھا ہے آپ تو کسی کام کے ہو نہیں میں گھر بھی چلاوں اور گھر میں کام بھی کروں تو وہ گندا انکل غصے میں آ گیا اور بولا کیاو تم نے میرے سامنے زُبان چلائی تمہاری یہ جرات اور کافی دیر تک گلیاں دیتا رہا میں اس کی گلیاں سن کر دَر گیا لیکن کیا کرتا میں ان کے گھر میں نیا آیا تھا اور یہ بھی نہیں جانتا تھا کے ان کا آنٹی کے ساتھ تعلق کیا ہے اور وہ کون ہیں اِس کے بَعْد وہ چرسی انکل اوپر کی طرف چل پڑا اور گلیاں دیتا ہوا اوپر چلا گیا . اور ساتھ ساتھ گلیاں بھی دیتا جا رہا تھا میں اس شخص کو دیکھ کر حیران ہو رہا تھا کے آخر یہ ہے کون جب تھوڑی دیر بعد اس کی آوازیں آنا بند ہو گئیں تو میں نے ڈرتے ڈرتے آنٹی کی طرف دیکھا وہ بھی غصے سے اور میرے سامنے گلیاں پڑنے پر شرمندہ ہونے کی وجہ سے ان کا گورا رنگ لال سرخ سا لگ رہا تھا . پِھر میں جلدی سے اٹھا اور پانی جگ سے نکال کر ان کو پیش کیا تو وہ بیٹھ کر پینے لگیں اور پِھر پانی پینے کے بعد کچھ نارمل ہوئی اور میری طرف دیکھ کر مسکرائی. اور کہا شکریہ میں نے کہا کوئی بات نہیں آنٹی اور پِھر پوچھا یہ آپ کے کون تھے تو بتانے لگی یہ میرے شوہر ہیں اور ان کے ماں باپ نے ان کے ساتھ ان کی شادی کی جو ذرا بھی کامیاب نہ ہوئی یہ ایک نشہ کرتے ہیں اور ہم روزانہ ایسے ہی لڑتے ہیں . اور ذرا بھی خوش نہیں ہیں تو مجھے بہت دکھ لگا ہمارے گھر میں بے شک پیسوں کا مسئلہ تھا لیکن میں نے اپنے امی ابو کو اتنا پیار سے رہتے دیکھا تھا کے مجھے لگتا تھا کے ہر کوئی ایسے ہی رہتا ہو گا . كھانا کھا کر پِھر وہ کہنے لگی کے کوئی بات نہیں تم آؤ اب گھر کا کام کرتے ہیں انہوں نے مجھے با یا کے مجھے کہا ں کہا ں صفائی کرنی ہے جو آساَن تھی اور میں نے ایک گھنٹے میں ہی کمپلیٹ کر لی پِھر انہوں نے پیسے دیئے اور کچھ سامان لکھ کر دیا کے جاؤ یہ خرید لاؤ میں گیا اور ان کا سامان خرید کر لے آیا وہ سامان دیکھ کر خوش ہوئی اور کہا ٹھیک ہے اب تم جاؤ اور گھر جا کر پڑھو اور کچھ پیسے بھی دیئے کے کوئی چیز خرید کر کھا لینا میں نے شکریہ ا د ا کیا اور واپس آ گیا ان کی شخصیت مجھے بہت اچھی اور محبت کرنے والی لگی. میں نے گھر امی کو بتایا تو وہ بھی خوش ہوئی لیکن ان کو آنٹی فرحت کے شوہر کے بارے میں سن کر دکھ لگا کے ایسی اچھی عورت ایسے شخص کے ساتھ گزارا کر رہی ہیں
پِھر ہم شام کا كھانا کھا کر سو گئے صبح اٹھ کر منہ ہاتھ دھو کر ناشتہ کیا اور اسکول کی طرف چلا گیا اسکول سے واپس آ کر جب میں واپس آ رہا تھا تو میں نے آنٹی فرحت کے شوہر کو راستے میں اک گندی جگہ پر دیکھا وہ اپنے بازو پر ٹیکہ لگا رہے تھے مجھے عجیب لگا لیکن میں فوراً ہی آگے بڑھ گیا اور گھر آنے کے بَعْد میں آنٹی کے گھر کی طرف چل پڑا جب آنٹی کے گھر پاچگ تو انہوں نے بڑے ہی اچھے موڈ میں مجھے بلایا اور پِھر كھانا دیا جو میں نے کھا لیا وہ جتنی خوبصورت تھی اتنا ہی اچھا كھانا بناتی تھیں . پِھر اس کے بعد اپنا روز کا کام کرنے لگا اتنے میں ان کا شوہر آ گیا جو کچھ نارمل لگ رہا تھا میں اس وقت ٹیبل صاف کر رہا تھا اور آگے کی طرف جھکا ہوا تھا تو وہ پیچھے ہی کھڑا رہا اور شاید مجھے گھور رہا تھا میں اس سے ڈرنے لگا تھا وہ آنٹی فرحت جیسی خوبصورت اور اچھی عورت کے ساتھ برا سلوک کر سکتا ہے تو میں کون ہوتا ہوں پِھر وہ میرے نزدیک آ کر اپنے گندے دانت نکال کر بولا ٹھیک ہے لڑکے کام کرتے رہو اور کمر پر ہاتھ مار کر آگے چلا گیا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا.

اسی طرح دن گزرتے رہے اور میں آنٹی کے گھر پر کام کرتا رہا اور ساتھ میں اسکول اور گھر بھی دیکھتا رہا اور اگر ان دنوں میں کوئی پریشانی تھی تو آنٹی کا شوہر جو مجھے بہت بری طرح سے گھور تاتھا اور مجھے جان بوجھ کر ٹچ کرتا تھا . ایک ہفتے بَعْد ایک دن جب میں آنٹی کے گھر گیا تو دروازہ کھلا ہوا
تھا میں اندر چلا گیا تو آنٹی کہیں نظر نہیں آئی کچن میں ایک چٹ ملی جو آنٹی کی لکھی ہوئی تھی کے میں ایک فرینڈ سے ملنے جا رہی ہوں تم روٹین ورک کر کے چلے جانا اور میرے روم کے سائڈ ٹیبل پر پیسے رکھے ہیں وہ اٹھا کر بازار سے کچھ سبزی وغیرہ خرید لانا میں نے اِرادَہ کیا اور صفائی کرنے لگا اور وہ ختم کر کے آنٹی کے کمرے کی طرف گیا جوسیڑھیاں چڑھ کے اوپر کی طرف تھا جیسے ہی میں نے روم کھولا تو آنٹی کا شوہر سامنے صوفے پر بیٹھا کوئی عجیب سی اور بدبو دار سی چیز پی رہا تھا میں نے سلام کیا اور کہا کے آنٹی نے یہ چٹ چھوڑی ہے کے میں پیسے سائڈ ٹیبل سے اٹھا کر بازار سے سامان لے آؤں تو وہ بولا ٹھیک ہے چلے جانا پہلے اِس کمرے کو تھوڑا صاف کر دو میں نے کہا اچھا جی
اور صفائی شروع کر دی صفائی کے دوران کئی بار اس کی نظر مجھ پر ہی تھی نا جانے وہ کیا دیکھتا تھا پِھر تھوڑی دیر بعد اس نے کہا کے میرے قریب آؤ اور یہاں بیٹھو میں نے پہلے تو کہا مجھے دیر ہو رہی ہے لیکن وہ جب زور سے بولا

میرے ساتھ بیٹھو تو میں مجبور ہو کر بیٹھ گیا
تو مجھ سے میرے بارے میں پوچھنے لگا میں آہستہ آہستہ بتاتا رہا جو وہ پوچھ رہا تھا اِس دوران وہ میرا ٹانگوں اور رانوں پر ہاتھ بھی پھر دیتا تھا وہ میری گردن اور میرے چہرے پر ہاتھ پھیر نے لگا تو میں اٹھ کر جانے لگا

میں یہ بتا دوں کے مجھے اس وقت اِس قسِم کے کسی کام کا نہیں پتہ تھا اور میں حیران ہو رہا تھا اور سوچ رہا تھا شاید مجھے چھوٹا بچہ سمجھ کر ہاتھ پھر رہا ہے لیکن تھوڑی دیر بَعْد اس نے مجھے چوم لیا وہ بہت بدبو دار تھا اور مجھے برا لگا لیکن وہ مجھے ہاتھ پھرتا رہا اور چومتا رہا پِھر میں نے دیکھا کے اس کی ٹانگوں کے درمیاں تھوڑا کپڑا اٹھا ہوا ہے لیکن میں اس وقت نا سمجھ تھا

اور کچھ نہیں جان پایا تھا پِھر اس کی کس بڑھتی گئیں اور میں نے کہا انکل مجھے جانے دیں

تو اس نے کہا میں تم کو پیسے دوں گا تھوڑی دیر بیٹھو پیسہ اس وقت ایسی چیز تھا جو مجھے عزیز تھا اور میں نے برداشت کیا اور ویسی بھی وہ صرف چوم رہا تھا جیسے میری امی روز چومتی تھی یہ اور بات ہے ان کے سانس کی مہک اور ان کے جسم کی خوشبو کسی اور سے نہیں آتی تھی پِھر اس کے ہاتھ کی شرارتںی بڑھنے لگی تھیں اور اس کا بدبو دار ہونٹ مجھے بہت برے لگنے لگے لیکن اس نے مجھے نہ چھوڑا. اور مسلسل چومتے ہوئے میری قمیض میں ہاتھ ڈال کر

میرے پیٹ اور سینے پر ہاتھ لگانے لگا میرا گورا اور

نرم سا بدن اس سخت ھاتھوں کے ٹچ سے تکلیف میں تھا

لیکن مجبوری تھی

اک تو اس نے پیسے دینے کی بات کی تھی اور دوسرا وہ آنٹی

کا شوہر تھا اور میں ان کے گھر پر نوکری کرتا تھا پِھر

اس نے کہا کے میں قمیض اُتار دوں میں نے انکار کر دیا اور

کہا آپ قمیض کیوں اتروا رہے ہو ؟

تو وہ بولا یار کچھ نہیں تم مجھے اچھے لگتے ہو میں

بس پیار کرنا چاہتا ہوں .

میں کچھ دیر سوچنے کے بَعْد قمیض اُتاَر دی کے صرف وہ پیار

ہی تو کرے گا میں ناداں اس وقت نہیں جانتا تھا کے پیار آگے

جا کر کیا بن جاتا ہے

پِھر میرے پیٹ اور سینے کو چومنے اور کس کرنے

لگا اور اپنی گندی زُبان میرے سفید ، گورے ، اور نرم

پیٹ اور سینے پر لگانے لگا اور اس کا تھوک میرے جسم پر لگ

رہا تھا میں نے پوچھا کتنی دیر اور پیار کریں گے انکل ؟

وہ بولا بس کچھ دیر ، اور میں نے دیکھا کے اس کی شلوار

میں جو جگہ پہلے تھوڑی سی ابھری ہوئی تھی وہ اور زیادہ

ابھری ہوئی تھی اور تمبو سا بنا ہوا تھا . پِھر اس نے مجھے

سے کہا کے گھوم جاؤ میں تمہاری کمر پر بھی پیار کرنا

چاہتا ہوں

تو میں مان گیا اور گھوم گیا تو میری گردن پر بھی پیار

کرنا شروع ہو گئے اور آہستہ آہستہ نیچی آتا گیا اور

میری کمر بھی اس کی چومنے اور چاٹنے سے گیلی ہونے

لگی پِھر اوپر ہو کر میرے کان اور منہ کو چاٹنے لگا مجھے

اس کی بدبو بری لگ رہی تھی

لیکن ساتھ ہی یہ احساس کے وہ مجھے سے پیار کر رہا ہے

مجھے اچھا لگ رہا تھا لیکن یہ احساس کچھ دیر کے لیے ہی

تھا

پِھر اس نے میرے ہونٹوں پر کس کرنے کے لیے جیسے ہی اپنے

بھدےاور گندے ہونٹ بڑھائے تو میں ایک دم سے پیچھے ہٹ

گیا اور کہا یہ آپ کیا کر رہے ہو تو وہ بولا لڑکے پیار

کر رہا ہوں میں نے کہا

آپ کے منہ سے بدبو آ رہی ہے اور مجھے برا لگ رہا ہے

تو وہ ہنسا اور بولا ٹھیک ہے میں کس نہیں کرتا لیکن ایک شرط

ہے تم اپنی شلوار بھی اتارو میں وہاں بھی پیار کرنا

چاہتا ہوں میں نے فوراً انکار کر دیا کے نہیں مجھے شرم

آتی ہے اور وہاں کون سے پیار کی جگہ ہے وہاں تو سب

گندی جگہ ہے

تو وہ بولا میں تم کو 1000روپے دوں گا اگر تم شلوار
اتارو تو میں 1000روپے کا نام سن کر اچھل پڑا
اور کہا سچ میں لیکن کیوں ؟
تو وہ بولا کے بس ویسے ہی تم مجھے اچھے لگتے ہو اور ساتھ
 
میں 1000کا نوٹ مجھے دے دیا جو میں نے فوراً پکڑ
لیا اپنے ساتھ پڑی قمیض اٹھا کر اس میں ڈال دیا اور
کہا ٹھیک ہے میں اُتار دیتا ہوں اور ساتھ ہی میاں نے اپنی شلوار اُتَار دی اور میں اس کی پھٹی ہوئی آنکھیں دیکھ رہا تھا جب وہ میری گانڈ کو دیکھ رہا تھا اور مجھے بہت شرم آ رہی تھی لیکن مجبوری تھی اس نے پیسے دیئے تھے اور میں نے وہ لے لیے تھے . پِھر وہ میرے نزدیک ہوا اور میری رانوں پر ہاتھ پھرتا
ہوا مجھے کس کرنے لگا پِھر نیچی ہو کر میری ٹانگوں کو
چومنے لگا اور میری چھوٹی سی سو سو کو جو اس وقعت بہت
مشکل سے 3 انچ کی ہو گی اس کو پکڑ کر چومنے لگا اور
ایک بار تو اس کو منہ میں بھی لے لیا مجھے بہت عجیب سا لگا
اور میں نے کہا یہ گندی چیز آپ منہ میں کیوں لے رہے
ہو ؟
وہ کچھ نہ بولا او رس نے صرف سر ہلا دیا اور مسکرا نے لگا پِھر مجھے کہا کے میں صوفے پر اُلٹا لیٹ جاؤں تو میں نے اعتراض اٹھایا اس نے کہا میں تمہاری گانڈ کو بھی پیار کرنا چاہتا ہوں لیکن اس سے پہلے میں اپنے کپڑے بھی اُتار دیتا ہوں کیا خیال ہے اور پِھر میرا جواب سنے کی بجائے اس نے اپنے کپڑے اُتار دیئے اور جب اس نے اپنے کپڑے اُتار ے تو اس کا بعد شکل بدن نکل آیا اور جو چیز سب سے حیران کن تھی وہ یہ
تھی کے اس کی سو سو مجھے سے بڑی تھی وہ بالکل سیدھی کھڑی
تھی لیکن میں اس وقعت نہیں جانتا تھا کے یہ کیوں کھڑی ہوتی
ہے میں نے کچھ خاص نوٹس نہیں لیا پِھر
وہ آگے بڑھا میں صوفے پر اُلٹا لیٹ گیا وہ پہلے میرے جسم کو دیکھتا رہا میری گانڈ جو اوپر تھی اور میرا گورا بدن اس کو
شاید اچھا لگ رہا تھا کی اس سو سو بہت سخت ہو
رہی تھی اس کو دیکھ کر اور جھٹکے لے رہی تھی
میں نے کچھ خاص نوٹس نہیں لیا پِھر
وہ آگے بڑھا میں صوفے پر اُلٹا لیٹ گیا وہ پہلے میرے جسم کو دیکھتا رہا میری گانڈ جو اوپر تھی اور میرا گورا بدن اس کو
شاید اچھا لگ رہا تھا کی اس سو سو بہت سخت ہو
رہی تھی اس کو دیکھ کر اور جھٹکے لے رہی تھی.
پِھر اس نے میری گانڈ پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا تو
مجھے کچھ عجیب سا لگا مجھے نہ ہی برا لگا اور نا ہی
اچھا پِھر اس نے میری گانڈ کو چومنا شروع کر دیا اور اور
تھوک اور زُبان کو میں گانڈ پر محسوس کر سکتا تھا
اور وہ مجھے اچھا بھی لگ رہا تھا پِھر اس نے میری گانڈ کو دونوں
طرف سے پکڑ کر اوپن کیا اور پِھر زُبان میری گانڈ کے
سوراخ پر رکھ دی میں فوراً ہی اچھلا مجھے حیرانگی
ہوئی کے کوئی اِس طرح کیسے کر سکتا ہے لیکن اس نے ایک ہاتھ سے
مجھے پِھر لیٹا دیا اور کہا اِس تارا ہی پڑے رہو اور میں پڑا رہا اور وہ میری گانڈ کو زُبان سے چاٹ رہا تھا پِھر ایک انگلی کو اچھی طرح گیلا کر کے میری گانڈ کے سوراخ پر لگا کر پِھر ایک جھٹکے سے اندر ڈال دی
میری گانڈ کی موری بے حد نرم تھی جس کی وجہ سے انگلی اندر
چلی گئی
اور میں صوفے پر کم سے کم 6 انچ اوپر اچھلا
اور میری چیخ نکلی اور آنکھ سے آنسو بھی میں اس کی
منت کرنے لگا کے اپنی انگلی نکالو لیکن وہ نہیں سن
رہا تھا کچھ دیر میں جب کچھ آرام ملا تو وہ انگلی
گھمانے لگ گیا تھا
جس سے پِھر دَرْد بڑھا اور اس نے کہا کے میں تمہیں
500 اور دوں گا لیکن جو میں کہوں گا تم وہی کرنا ہو گا صرف یہ
دَرْد برداشت کرو اور مجھے ایک بار خوش کر دو
میں نے کہا میں کیسے خوش کروں اور مجھ کو دَرْد دینے سے آپ
کو کون سی خوشی ملتی ہے تو اس نے کہا کے ملے گی بس تم
ساتھ دو میں نے کہا ٹھیک ہے 500 کا سن کر میں مان گیا
اگر تھوڑا سا دَرْد سہہ کر 1500 روپے گھر لے جاؤں گا تو اِس میں کیا برا تھا.
میں نے کہا ٹھیک ہے تو وہ بولا تو جو میں کرتا ہوں وہ مجھ کو کر نے دو میں نے کہا ٹھیک ہے
وہ اٹھا اور الماری میں سے لوشن کی ایک بوتل نکال لایا اور وہ کھول کر اپنی سو سو پر ملنے لگا اور ساتھ ہی اس نے میری گانڈ پر بھی وہ لوشن لگانا شروع کر دیا

اور پِھر اس لوشن سے میری گانڈ کے سوراخ پر مل کر اتنا نرم کر دیا کے اس کی چھوٹی انگلی آسانی سے اندر باہر ہونے لگی اب مجھے کم دَرْد ہو رہا تھا یہ سب کرنے کے بعد وہ میرے پیچھے آیا
اس نے کہا کے میں نیچے کھڑا ہو کر صوفے کو پکڑ کر جھک جاؤں میں نے ایسا ہی کیا اور جھک گیا اور اس نے اور لوشن میری گانڈ کے اوپر اور سائیڈ میں مل دیا جس سے اس کے ہاتھ پھسل رہے تھے . اِس کے بَعْد اس نے کہا کے تمہیں اب کچھ دَرْد ہو گا اِس کو برداشت کرنا میں نے کہا ٹھیک ہے لیکن اندر سے بے حد ڈرا بھی ہوا تھا کے نا جانے کیا کریں گے پِھر اس نے اپنی سو سو کو میری گانڈ کھول کر سوراخ کے اوپر رکھا اور ہلکا سا زور
دیا
اور اس کی ٹوپی میری گانڈ میں داخل ہو گئی اور مجھے ایسے لگا جیسے کسی نے مرچیں بھر کے میری گانڈ میں ڈال دی ہوں اور میں دَرْد سے آہ آہ آہ کی آوازیں نکالنے اور دَرْد برداشت کرنے كے علاوہ کچھ نہ کر سکا میری طرف سے کسی قسم کی مزحمت نہ دیکھ ایک اور جھٹکا لگایا جو کے کافی زور کا تھا تو اس کا لن جو اتنا بڑا بھی نہیں تھا لیکن میری گانڈ کے چھوٹے سے سوراخ کے سامنے بڑا تھا اس نے میری گانڈ کو چِیر پھاڑ کے رکھ دیا اور آدھے سے زیادہ اندر چلا گیا اور اب میرے لیے برداست کرنا مشکل تھا میں اس کو پیچھے دھکیلنے لگا لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا وہ بے حد کمزور لگتا تھا لیکن اِس وقعت کوئی شیطانی طاقت اس میں آئی ہوئی تھی اس نے جھٹکے لگانے شروع کر دیئے اور پِھر پُورا سو سو میری گانڈ کے اندر ڈال کر میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا

میں اب نہ چیخ سکتا نا کچھ بول سکتا تھا صرف رَو رہا تھا اور دَرْد کے مارے میرا برا حال تھا اور وہ زور زور سے جھٹکے لگانے لگا مجھے زندگی میں کبھی اتنی تکلیف نہیں ہوئی تھی جتنی اب ہو رہی تھی وہ کافی دیر میرے دونوں بازو پیچھے کی طرف پکڑ کا اور میرے منہ پر ہاتھ رکھ کر زور سے آگے پیچھے ہوتا رہا اور میری گانڈ کو زخمی کرتا رہا پِھر اچانک ایک جھٹکے سے میرے ساتھ آ لگا
اور مجھے یوں لگا جیسے میری گانڈ میں سیلاب آ گیا ہو اور پِھر پیچھے ہٹ گیا اور جیسے ہی اس نے لن باہر نکلا دَرْد کی تیز لہر سے میرے منہ سے ایک چیخ نکل گئی اور میں کافی دیر تک روتا رہا اور وہ صوفے پر گر گیا اور پِھر اٹھ کر واشروم چلا گیا پِھر جب میں اٹھا تو مجھ سے اٹھا ہی نہیں جا رہا تھا لیکن جب میں نے اپنا ہی خون دیکھا جو میری ٹانگوں سے بہہ رہا تھا اور قالین پر گرا ہوا تھا تو میں ڈر گیا.
اور دیکھا تو وہ میری گانڈ سے نکل رہا تھا اور دَرْد کے احساس کو بڑھا رہا تھا میں اٹھا اور اتنی دیر میں انکل باہر آ گیا اور جب اس نے خون دیکھا تو کہا کوئی بات نہیں ایسا پہلی دفعہ ہوتا ہے آؤ میں تمہاری صفائی کر دیتا ہوں

اور وہ مجھے واشروم لے گیا میرا دَرْد سے برا حال تھا اس نے پانی میں ڈیٹول ڈالا اور میری ٹانگوں کی اور گانڈ کی صفائی کرنےلگا پِھر باہر لا کر مجھ سے کہا کپڑے پہن لو

میں نے کپڑے پہن لیے اس نے قالین صاف کیا اور مجھے 500 روپے دیئے اور کہا کسی سے ذکر مت کرنا اور کہا اب جاؤ میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا جب باہر نکلا تو جب میں میں گیٹ کے پاس پہنچا تو دیکھا

آنٹی فرحت آدر داخل ہو رہی تھی اور یہ وہی وقت تھا جب میں گانڈ میں تکلیف کی شدید لہر کی وجہ سے رَو رہا تھا اور میرے آنسو نکل رہے تھے اور آنٹی نے سب دیکھ لیا تھا

وہ فوراً میرے پس آئی اور مجھے سے اتنے پیار سے پوچھا کے کیا ہوا حمزہ اور ان کا وہ پیار دیکھ کر میری گانڈ میں دَرْد کم ہوا اور دِل کا دَرْد جو تھوڑی دیر پہلے ہونے والی زیادتی سے ہوا تھا وہ بڑھ گیا اور میں اور زیادہ رونے لگا لیکن جلد ہی سنبھل گیا اور جلدی سے کہا کچھ نہیں آنٹی مجھے ذرا جلدی ہے

میں پِھر بتاؤں گا اور جلدی سے گیٹ سے باہر نکل گیا
وہ پیچے سے آوازیں دیتی رہی لیکن میں جلدی جلدی چلتا گیا تکلیف تھی لیکن میں نہیں چاہتا تھا کے میری وجہ سے پِھر انکل اور آنٹی فرحت کی لڑائی ہو

میں گھر گیا لیٹ آنے کی وجہ سے امی اور باجی میرا ہی انتظار کر رہی تھیں اور انہوں نے مجھ سے دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو میں نے بتایا کے میں آنٹی کے ساتھ باہر گیا ہوا تھا

اور ساتھ ہی وہ 1500 روپے جو میں نے اپنی روح زخمی کروانے کے بَعْد لیے تھے وہ میں نے اپنی امی کو دیئے اور کہا کے آنٹی نے دیئے ہیں امی بہت حیران ہوئی

اور خوش بھی پیسوں کی بہت ضرورت تھی محلے کے دوکاندار کا بہت حساب رہتا تھا جس سے سودا سلف خرید تے تھے.
امی نے کہا کے وہ کل ہی جا کر دکان دار کو دیں گی جس کا 3 مہینے سے حساب رہتا تھا اور پِھر مجھ سے کہا کے میں منہ ہاتھ دھو لوں اور كھانا کھا لوں مجھے بھوک بالکل نہیں تھی تو میں نے امی سے کہا نہیں امی مجھے بھوک بالکل نہیں ہے آپ کھا لو میں نے راستے میں کچھ چیز کھا لی تھی میں روم میں جا رہا ہوں تو امی نے کہا ٹھیک ہے بیٹا تم جا کر آرام کرو تو میں کمرے میں آ گیا اور میری گانڈ میں بھی ایسے لگ رہا تھا کے جیسے کسی نے چُھری لے کر زخمی کر دیا ہو بہت دَرْد ہو رہا تھا میرے گھر میں ایک پین کلر رکھی تھی میں نے وہ لے لی جس سے کچھ دیر بَعْد کچھ آرام آیا اور بہت کچھ بدلہ تھا آج میری زندگی میں وہ14 سال کا لڑکا کافی بَدَل گیا تھا آج مجھے زندگی کی تلخی کا احساس ہوا جو کے بہت برا احساس تھا . اور ان ہی خیالات کے ساتھ میں کب سو گیا مجھے پتہ ہی نہیں چلا . اگلی صبح اٹھا تو پُورا جِسَم دکھ رہا تھا اور بہت ہی برا محسوس ہو رہا تھا . میں اٹھا واشروم میں نہانے چلا گیا وہاں سے نکلا تو کچھ سکون محسوس ہوا لیکن دَرْد ابھی بھی تھا اور گانڈ میں جلن بہت زیادہ ہو رہی تھی . جس کی وجہ سے بہت مسئلہ ہو رہا تھا امی کام پر جا چکی تھیں اور میں نے اسکول نہ جانے کا فیصلہ کیا اور گھر پر ہی لیٹ گیا باجی بھی اسکول گئی ہوئی تھی اِس لیے میں کچھ دیر بیٹھا رہا پِھر سوچا کے اِس طرح گزارا نہیں ہو سکتا مجھے باہر چلنا چاہیے اور محلے میں نکل گیا اور ایک دوست اَرْشَد کو تلاش کرنے لگا جو میرا محلے میں واحد دوست تھا . جس کے ساتھ میں کبھی کبھی کھیل لیتا تھا لیکن وہ مجھے اس وقت کہیں نظر نہیں آیا پِھر میرے ذہن میں خیال آیا کے میں نے تو اسکول سے چھٹی کی ہے تو پِھر سوچا ویسے ہی گھومتے ہیں اور بازار کی طرف نکل گیا گھومتے گھومتے اچانک میری نظر آنٹی فرحت پر پڑی جو اس وقت ایک اسکول سے نکل رہی تھی اور جیسے ہی میں نے ان کو دیکھا میں چھپنے کے لیےجگه تلاش کرنےلگا لیکن انہوں نے مجھے دیکھ لیا اور فوراً اشارہ کیا کے میں ان کے پاس آؤں میں مرتا کیا نہ کرتا ان کے آپس چلا گیا وہ مجھے دیکھ کر مسکرائی . وہ مسکراہٹ جو احساس دلاتی تھی کے زندگی میں صرف اگر کوئی کام کی چیز ہے تو وہ محبت ہے شفقت ہے پیار ہے اور میں ان کی مسکراہٹ کا دیوانہ ہو گیا تھا.

انہوں نے مجھ سے کل کے بارے میں کچھ نہ پوچھا اور کہا آؤ میں اسکول سے ابھی چھٹی کر کے گھر جا رہی ہوں آج طبیعت تھوڑی خراب ہے تو میں نے کہا کے آنٹی آپ بھی اسکول میں پڑھتی ہو تو وہ زور سے ہنسنے لگی اور کہا کے نہیں میں اسکول میں پڑھاتی ہوں اور یہ میری جاب ہے یہ بات مجھے اب پتہ چلی تھی کے وہ اسکول میں پڑھاتی ہیں اِس کے بعد میں ان کے ساتھ چلنے لگا لیکن پِھر مجھے کل کا وہ واقعہ یاد آیا تو میں فوراً رک گیا اور میں نے کہا آنٹی مجھے کچھ کام جانا ہے میں شام کو آؤں گا تو انہوں نے مجھے ڈانٹ دیا اور کہا چلو میرے ساتھ میں سہم گیا اور ان کے ساتھ چلنے لگا اور پِھر میراڈر یہ سوچ کر کم ہوا کے آنٹی اب میرے ساتھ ہیں اب میرے ساتھ ان کا شوہر ایسا نہیں کر پائے گا جیسا وہ کل کرنے میں کامیاب ہوا تھا . ہم ساتھ ساتھ چلتے ہوئے گھر جا رہے تھے آنٹی سے میں تھوڑا آہستہ چل رہا تھا ابھی بھی تکلیف کم نہیں ہوئی تھی اور جلن تو گویا بڑھ ہی رہی تھی اور یہ بات آنٹی محسوس کر رہی تھی لیکن بولی کچھ نہیں اور مجھے ساتھ لیتے ہوئے گھر چل پڑی اور جب ہم گھرپہنچ گئے تو گھر کو باہر سے لا ک لگا ہوا تھا جس کا مطلب تھا کے آنٹی کے شوہر آج گھر پر نہیں ہیں جس پر میری سانس میں کچھ سانس آ گیا . وہ مجھے اندر لے گئی اور کہا کے لنچ کا وقعت ہو رہا ہے میں لنچ بناتی ہوں تم ادھر بیٹھ جاؤ تو میں نے ہاں میں سر ہلا دیا صبح اور رات سے بھوکا تھا اور میں اُدھر صوفے پر بیٹھ گیا . آنٹی فرحت اندر گئی اور کچھ دیر بعد وہ کھانے کی ٹرے لے آئی اس میں بریانی بھی تھی شاید انہوں نے راستے میں کہیں سے خریدی تھی اتنے وقعت میں وہ بریانی تو نہیں بنا سکتی تھیں انہوں نے مجھے کھانے کو کہا اور خود بھی ساتھ میں کھانے لگی كھانا کھانے کے بعد انہوں نے کہا وہ چائے لاتی ہیں تم اتنی دیر میں ڈرائنگ روم میں تھوڑی صفائی کر دو میں اٹھا لیکن شاید کھانے کا اثر تھا کے میری جلن بڑھ گئی تھی . اور میں سہی طرح سے کام نہیں کر پا رہا تھا کچھ دیر بعد آنٹی آئی اور میری حالت دیکھ کر انہوں نے کہا بیٹھ جاؤ اور پِھر پوچھا حمزہ ایک بات پوچھوں سچ بتاؤ گے تو میں فوراً بولا جی آنٹی آپ پوچھو
وہ بولی کل کیا ہوا تھا سچ بتاؤ تم رو کیوں رہے تھے  گانڈ میں اتنی شدید جلن ہو رہی تھی کل سے میرا جسم درد کر رہا تھا دِل تو چاہتا تھا کے پھوٹ پھوٹ کر رو دوں اور محبت کرنے والی اِس خوبصورت اور حَسِین عورت کو اپنے اندر کا دکھ بتا دوں لیکن پِھر میں نے سوچا آنٹی کے شوہر اور آنٹی میں جھگڑا ہو جائے گا لیکن وہ بہت اصرار کرنے لگی کے بتاؤ کل تم کیوں رو رہے تھے اور میں مسلسل ان کو کہتا رہا کے کل کچھ نہیں ہوا تھا . ویسے ہی کل میرے پاؤں پر کام کرتے ہوئے کوئی چیز لگ گئی تھی اِس لیے رو رہا تھا لیکن آنٹی نے کہا اگر نہیں بتاؤ گے تو تمہیں کام سے نکال دوں گی مجھے جھوٹ بالکل پسند نہیں ہے. تو میں یہ سنتے ہی ڈر گیا یہ نوکری نوکری نہیں تھی یہ میری اور میری باجی کی پڑھائی جاری رکھنے کا ذریعہ تھی . امی کی مشکلوں کو کم کرنے میں تھوڑی سی مدد تھی میں نے فوراً کہا نہیں آنٹی آپ پلیز مجھے نوکری سے مت نکالو تو وہ غصے سے بولی تو پِھر مجھے بتاؤ کے کل کیا ہوا تھا
تو میں نے پِھر مجبور ہو کر سب بتا دیا کے کس طرح ان کے شوہر نے مجھ پر کل ظلم کیا اور جیسے جیسے میں بتاتا رہا آنٹی رونے لگی
 میرے نزدیک آ کر میرے سر کو اپنے سینے سے لگا لیا ان کے نرم اور ابھرے ہوئے سینے سے لگ کر مجھ میں ہمت ختم ہو گئی اور میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا.
اور وہ مجھے روتا ہوا دیکھ کر خود چُپ ہو گئی اور مجھے دلاسہ دینے لگی میرے منہ کو چومنے لگی اور نرم اور گُداز سرخ ہونٹ مجھے جب کس کر رہے تھے تو میں کچھ آرام محسوس ہونے لگا پِھر وہ مجھ سے الگ ہوئی اور چائے کا کپ مجھے دیا اور کہا یہ پیو میں نے وہ کپ اٹھایا اور پینے لگا اب دِل کو کچھ سکون تھا یہ بات میں امی کو نہیں بتا سکتا تھا لیکن چاہتا تھا کے میرے ساتھ کوئی تو اِس دکھ میں شریک ہو تو آنٹی ہی ایسی پیار کرنی والی شخصیت تھی اور اِس کے بعد جب میں چائے پی چکا تو آنٹی نے پیار سے کہا جاؤ یہ برتن اندر رکھ آؤ تو میں اٹھا اور جب میں ٹرے اٹھا کر کچن کی طرف جا رہا تھا تو جلن کی شدت کی وجہ سے میں سیدھی طرح چل نہیں پا رہا تھا جس کو آنٹی نے نوٹ کیا اور جب میں کچن سے واپس آیا تو آنٹی نے پوچھا کے کیا زیادہ درد ہو رہا ہے تو میں نے شرماتے ہوئے کہا نہیں آنٹی دَرْد تو کم ہے لیکن جلن بہت زیادہ ہو رہی ہے جیسے کسی نے میری اِس جگہ پر مرچیں بھر دی ہوں . تو آنٹی غمزدہ نظر آئی اور انہوں نے کہا آؤ میں آئل لگا دیتی ہوں تم شلوار اُتاَر دو میں نے انکار کیا نہیں آنٹی میں ٹھیک ہو جاؤں گا .
لیکن آنٹی نے زور لگایا اور کہا شلوار ُتاَرومیں آئل لے کر آتی ہوں جب وہ آئل لے کر واپس آئی تو میں ویسے ہی کھڑا تھا تو انہوں نے کہا کے ابھی تک تم نے شلوار نہیں اُتاَری چلو جلدی کرو میں نے ان کے حکم کی وجہ سے مجبور ہو گیا اور وہ صوفے پر بیٹھ گئی اور کہا کے شلوار اُتار کر دوسری طرف گھوم جاؤ اور قمیض اوپر کر لو میں نے شلوار اُتار کے آگے آیا اور آنٹی کی طرف اپنی گانڈ کر دی اور قمیض اوپر کر لی آنٹی نے بڑے پیار سے میری گانڈ کو سہلایا اور اس کو اوپن کر کے دیکھا اور بولی اس ظالم نے کتنا ظلم کیا ہے یہاں تو زخم بنا ہوا ہے تمہاری نازک سی اس نے پھاڑ دی ہے پِھر انہوں نے کہا کے تیل کی ضرورت نہیں ہے تیل خراب کرے گا میں دوسری کریم جو زخموں پر لگاتے ہیں وہ لے کر آتی ہوں تم یہاں سے نہ ہٹنا میں ابھی آئی اور وہ جلدی سے کریم لے کر آ گئی اور انہوں نے مجھے جھکایا اور گانڈ کو اچھی طرح کھول کر اپنی مخروطی اور نازک انگلی سے میری گانڈ پر کریم لگائی تو مجھے ٹھنڈک کا احساس ہوا میں اِس سکون کی وجہ سے اُدھر ہی کھڑا رہا اور وہ میری گانڈ کو کریم لگانے کے بعد کہا کے کچھ دیر اِس طرح کھڑے رہو کریم جذب ہو جائے تو سیدھے ہو جانا ابھی انہوں نے اتنا ہی کہا تھا کے اچانک ایک طرف سے زور سے آواز آئی.
یہ کیا ہو رہا یہ آواز اس گندے انکل کی تھی جو یہ سب دیکھ کر کہہ رہا تھا . اور اس وقت پوزیشن یہ تھی کے میں صوفے کے آگے شلوار اُتار کر جھکا ہوا تھا اور میری گانڈ ننگی تھی . اور میرے پیچھے آنٹی میری گانڈ کو دونوں ہاتھوں سے کھولے بیٹھی تھی .
یہ دیکھ کر انکل سخت غصے میں آ گیا اور آنٹی سے بولا یہ کیا کر رہی ہو .
آنٹی بھی اس کو دیکھ کر غصے میں آ گی اور کہا یہ سب تمہارا کیا دھرا ہے جو تم نے اِس معصوم کے ساتھ اتنا بری طرح کیا تم ظالم ہو .
یہ سنتے ہی انکل کا پارا بھی آسمان پر ہو گیا اور کہا کے تم ہوتی کون ہو مجھ سے اِس طرح بات کرنے والی کیاع میں تجھے چھوڑ دوں گا اور آنٹی بھی غصے سے بولی 8 سال ہو گئے ہیں شادی کو کبھی خوش تو کر پائے نہیں ابھی بکواس بند کرو دفعہ ہو جاؤ
یہ سن کر انکل کو میرے سامنے شاید بے عزتی کا احساس ہوا اور آنٹی کو بری طرح گالیاں دینے لگا اور آنٹی کے قریب آ کر تھپڑ آنٹی کے گالوں پر جڑ دیا . یہ دیکھ کر مجھے غصہ آیا اور میں غصے سے لال ہو گیا . اور جب انکل نے مجھے دیکھا تو وہ بھی غصے میں تھے اور انہوں نے بھی غصے سے کہا کیا دیکھ رہا ہے کیک کے بچے گانڈو اور مجھے غصہ آیا میں آگے بڑھا لیکن وہ مجھ سے بڑا اور طاقت ور تھا . اس نے مجھے تھپڑ مارنے شروع کر دیئے اور ساتھ میں گالیاں دینے لگا آنٹی جو یہ سب دیکھ رہی تھی
وہ ہمیں چھوڑا نے لگی اور اپنے شوہرکی منت کرنے لگی کے اِس کو چھوڑ دو یہ بچہ ہے اور کل تم نے اِس کے ساتھ ظلم کیا تھا اِس کی تم نے گانڈ پھاڑ کر رکھ دی ہے تو انکل اچانک پیچھے مڑا اور کہا کتیا آج میں تیری بھی گانڈ مار وں گا اور اِس کے سامنے تم نے مجھے نامرد ہونے کا طعنہ دیا ہے
آنٹی سن کے اور ڈر کے پیچھے ہٹ گئی لیکن انکل نے فوراً ہی اس کو پکڑ اور کپڑے اُتار نہیں تو میں اِس بچے کو مار دوں گا آنٹی نے میری طرف دیکھا تو میں پہلے ہی اِس قدر سہما ہوا تھا کے آنٹی کو ترس آ گیا اور انہوں نے کہا چلو کمرے میں چلتے ہیں وہاں جو کرنا ہے کر لو لیکن انکل غصے میں تھا اس نے کہا نہیں میں گانڈ ماروں گا تو یہاں پر ماروں گا اور اِس بچے کے سامنے ماروں گا جس کے سامنے تم نے مجھے نامردی کا طعنہ دیا ہے

Posted on: 06:51:AM 06-Jan-2021


1 2 231 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 10 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 74 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com