Stories


تین بہنیں تین کہانیاں از بینا 20

نامکمل کہانی ہے

میں قریب کوئی آٹھ سال بعد ان کے گھر جا رہا تھا۔ بچپن میں ھم ایک ساتھ کھیلتے تھے۔وہ ہمارے پڑوسی تھے۔ماں باپ کے علاوہ 3 بہنیں اور ایک بھائی پر مشتمل ان کی فیملی بہت ھی محبت کرنے والے اور پیار دینے والے۔سب سے بڑٰی مونا پھر شاہ زیب پھر مینا اور سب سے چھوٹی نینا تھی۔مونا مجھ سے عمر میں چند ماہ بڑی تھی باقی سب مجھ سے چھوٹے تھے۔ مونا بہت ہی دلکش اور انتہائی خوبصورت تھی۔ قد کوئی خاص لمبا نہیں تھا مگر رنگ و روپ اف کیا کمال کا حسن تھا اسکا۔ جھیل سی آنکھیں لمبی گھنی پلکیں ، گورے گورے گال ، گلاب کی پنکھڑیوں جیسے پتلے ہونٹ ، اورچھاتی تو ایسی ظالم تھی کہ بس دیکھتے ھی دبوچنے کو دل کرتا۔تقریبا اس کا تب سائز 34 ھو گا مگر اسکا سینہ بہت ھی ٹائٹ اور تنا رہتا تھا۔ کبھی کبھار بنا بریزیئر کے وہ سامنے آتی تو اسکا تنا ھوا سینہ پاگل کر دیتا۔ پتلی کمر اور کولہے تھوڑے سے باھر کو نکلے اٹھکیلیاں کرتے تھے۔ اسے دیکھ کر آنکھ جھپکنا بھول جاتے تھے لوگ۔میری اس سے کافی دوستی تھی ھم ہاتھ وغیرہ ملا یا کرتے اور میں کبھی کبھار اس کے بدن کو ٹچ کر لیتا تھا مگر اس نے کبھی اعتراض نہیں کیا تھا۔ ایک دو بار میں نے کسی بات پر جوش میں آکر اسے چوما بھی تھا اور وہ مسکرا دی تھی۔ مگر اس سے آگے کی ہمت کبھی نہیں ھو ئی تھی۔ پھر وہ دوسرے شہر شفٹ ھو گئے۔ مگر میرا ان سے فون پر رابطہ رہا شاہ زیب اکثر آتا تو ھمارے ھی گھر ٹہرتا تھا۔وہ جب بھی آتا اصرار کرتا کہ سب تمہں یاد کرتے ھیں کبھی چکر لگاو مگر مصروفیت کی بنا پر میں کبھی ان کے شہر جاتا بھی تو ان کے ہاں نہیں جا پاتا تھا۔اب مجھے بزنس کے سلسلے میں کچھ دن وہا ں رکنا تھا۔تو میں نے سوچا اس بار مونا والوں کے ہاں ٹہر جاتا ھوں۔ ڈائیوو بس نے صبح صبح وھاں پہنچا دیا میں نے شاہزیب کو فون کیا تو کچھ ھی دیر میں وہ مجھے لینے آگیا۔ تقریبا آدھے گھنٹے بعد میں ان کے خوبصورت سے گھر میں داخل ھو رہا تھا۔ دروازہ مونا کی امی جنیں میں آنٹی کہتا ھوں نے کھولا اور بہت ھی پیار سے مجھ سے ملیں اور اندر ڈرائنگ روم میں لے گئیں۔ ھم وہا ں بیٹھے باتیں کرنے لگے گھر کی محلے اور پرانے پڑوسیوں کی اتنے میں ایک نازک اندام کمسن دوشیزہ اندر آئی اور مجھے سلام کیا تو میں نے پہچاننے کی کوشش کی مگر جب پہچانا تو حیران رہ گیا وہ سب سے چھوٹی نینا تھی۔جب وہ ھمارے محلے سے شفٹ ھوئے تھے تب وہ گیارہ سال کی تھی شاید ور اب تو وہ حور لگ رہی تھی۔ میں نے اس سے کہا
نینا! تم اتنی بڑی ہو گئی یار تم تو بہت ہی چھوٹی تھی تب۔
وہ بولی : اسد بھائی آپ بھی تو کافی بدل گئے ھیں اور ھمیں تو بھلا ھی دیا تھا آپ نے۔
میں : اوھو نینا ایسا بات نہیں دل تو بہت کرتا تھا یہاں آنے کو اور تم لوگوں سے ملنے کو مگر کیا کروں مصروفیت نکلنے ھی نہیں دیتی۔
وہ اپنی گھنی اور لمبی پلکیں اٹھا کر میری طرف غور سے دیکھتے ہوئے بولی " ھاں اسد بھائی آپ بھی بدل گئے ھیں ھمارے سب رشتہ دارون کی طرح۔
یہاں پر آنٹی نے اسے ٹوکا " نینو جاو تم مونا کو بھیجو وہ اسد سے مل لے "
میں اور آنٹی پھر سے باتیں کرنے لگے تھوڑی دیر بعد مونا کی خوشی سے بھر پور آواز سنائی دی "السلام علیکم بے وفا لوگو !"
آس نے یہ کہتے ھوئے ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ میں نے اسکا ہاتھا تھا ما تو یوں لگا جیسے بہت ھی نرم اور گداز شے میرے ھاتھ میں سما گئی ھو۔
میں نے اپس کی آنکھوں میں دیکھتے ھوئے جواب دیا
"وعلیکم السلام مونا جی کر لو خوب گلے شکوے حق ھے تمہارا "
وہ میرے سامنے ھی اپنی امی کیسات بیٹھ گئی۔
وہ پہلے کی نسبت کچھ موٹی ھو گئی تھی۔ اور اس کے سینے کے ابھار بھی اب مسمی مالٹے سے بڑے ھو گئے تھے بلکہ کچھ زیادہ ھی بڑھ چکے تھے۔ اس نے ہلکی لپ سٹک سے اپنے قاتل لبوں کو لال کیا ہوا تھا اور جھیل سی بڑی آنکھوں میں کاجل اسکے حسن کو مزید نکھار رہا تھا۔وہ شاید سکول جانے کیلئے تیار ہوئی تھی۔دوپٹی اسکے گلے میں ھی جھول رہا تھا اور لان کی سفید قمیض کا گریبا ن کچھ کشادہ ہونے کے سبب آسکے قندھاری اناروں سے کچھ بڑے دودھ نمایاں ہو رہے تھے۔
میری نظریں وہیں اٹک کر رہ گئی تو۔
مونا بولی " کہاں گم گئے اسد صاحب ؟"
میں چونکتے ھوئے بولا" ک۔۔کچھ نہیں مونا میں پرانے دن یاد کر رہا تھا۔ تم بھی کافی بد ل گئی ہو "
اس نے کہا " تم امی سے باتیں کرو میں سکول سے واپسی پر تم سے گپ شپ کروں گی۔"
میں نے پوچھا " جاب کب سے شروع کی "؟
اس نے اٹھتے ھوئے کہا " چار سال ھو گئے ہیں "
پھر وہ خدا حافظ کہہ کر چلی گئی۔
آنٹی نے بتایا کہ مونا اور مینا دونو ں سکول پڑھاتی ھیں جبکہ شاہ زیب کہں کمپنی میں جاب کرتا ھے اور انکے ابا کو ٹی بی تھی اور وہ بستر نشیں تھے۔
آنٹی نے پوچھا" بیٹا ناشتہ ابھی کرو گے یا فریش ہونے کے بعد "
میں بولا آنٹی" میں بس نہانے کے بعد چائے لوں گا باقی دوپہر میں "
انہوں نے کہا اچھا تم فریش ہو جاو تو میں چائے لاتی ھوں۔
میں اٹیچ باتھ کا دروازہ کھولا تو اندر مونا سے چھوٹی مینا واش بیسن پر ہاتھ دھو رہی تھی۔ میں نے اسے دیکھتے ہی کہا اوھو۔۔۔۔سوری۔۔۔۔ یہ کہتے ہی میں باہر نکلنے لگا تو ا نے کہا آجائیں اسد بھائی بس میں جا رہ ہو ں۔
دراصل ڈرائنگ روم اور مونا والوں کے بیڈ روم کے درمیاں ایک ھی باتھ روم تھا جس کے دو دروازے تھے ایک انکے بیڈروم میں کھلتا اور دوسرا ڈرائںگ روم میں۔
اور یقینا ڈرائنگ روم والا دروازہ وہ اندر سے لاک کرنا بھول گئی تھی۔
خیر وہ میرے قریب آئی اور ہاتھ ملانے کیلئے آگے بڑھایا تو میں نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا کر ماتھے پر چوما تو وہ جھینپ گئی۔
پھر وہ دوسری طرف سے چلی گئی۔
میں نے باتھ روم کا دروازہ بند کیا اور ڈرائنگ روم والی سائیڈ کا جب بند کرنے کے بعد لاک کی طرف دیکھا تو وہ ٹوٹا ہوا تھا اور دروازہ صرف بند ھوسکتا تھا لاک نہں۔
میں سمجھ گیا یہی وجہ تھی دروازہ لاک نہ ہونے کی۔
میں نے نہا کر چائے پی اور پھر شاہ زیب کیساتھ باہر نکل گیا۔
مارکیٹ کا وزٹ کیا دوپہر 2 بجے کے قریب میں واپس گھر آیا تو سب گھر میں ھی تھے سوائے شاہ زیب کے۔
مونا کچن میں سالن بنا رہی تھی آنٹی کچھن کے ساتھ ھی ایک کمرہ تھا وہاں ریسٹ کر رہی تھی اور میںا کپڑے پریس کر رہی تھی۔
میں ڈرائنگ روم میں گیا اور لیٹ گیا گرمی کافی تھی۔
کچھ دیر بعد مونا آگئی وہ سامنے صوفہ پر بیٹھنے لگی تو میں بولا
" مونا یہاں آجاو بیڈ پر کافی جگہ ھے میں کچھ پیچھے کھسک گیا اور کہا۔۔ یار اتنے سالوں بعد بھی تم اتنی دور بیٹھو گی ؟
وہ ہنستے ھوئے بولی " ارے نہیں نہیں میں تمہارے قریب آجاتی ہوں۔
اس نے بتایا کہ اسکی منگنی ہو چکی ھے۔ اور اپنے منگیتر سے اسکی فون پر گپ شپ ہوتی رہتی ھے۔ میں نے پوچھا کیسا مزاج ھے اسکا تو بولی یار میں بہت پریشان ہوں۔ وہ اکثر ناراض ہو جاتا ھے اور مجھے ڈر لگا رہتا ھے کہ کہں وہ منگنی نہ توڑ دے کیونکہ پہلے بھی تین جگہ ایسے ہو چکا ھے۔ میں نے کہا یار تم اسے احساس دلاو نہ کہ اسکے بنا تم نہیں رہ سکتی اور وہ تمہاری زندگی ھے وغیرہ۔ تو وہ بولی "اسد میرا سب کچھ تو وہ دیکھ چکا ھے اور کسنگ بھی کئی بار کر چکا ھے اب ایک ھی ضد ھے کہ۔شادی سے پہلے سہاگ رات کا تجربہ کرنا ھے مگر میں نے صاف انکار کر دیا ھے۔ یہ کہتے ہوئے اسکی آنکھیں نم ہو گئیں۔ میں نے اسکا ہاتھ پکڑ کر دبایا۔ اور اسکے قریب ہو گیا اور بولا۔ یار تم اتنی حسین ھو وہ بے غیرت کیوں تمہیں مجبور کرتا ھے۔ آخر شادی کے بعد تم نے اسکے پاس ھی جانا ھے جو کرنا ھو کرلے۔ خیر پھر میں اسے کچھ تسلی دی تو اسے حوصلہ ھوا۔ وہ اٹھنے لگی تو میں نے اسکے ہاتھ کو پیار سے چوم لیا۔
وہ اٹھتے ھوئے بولی " اسد کھانے کے بعد امی سو جاتی ھیں اور مینا اکیڈمی پڑھانے جاتی ھے جبکہ نینا اکیڈمی پڑھنے جاتی ھے۔ جب چھلے جائیں گے تو میں آو نگی تم سے بہت سی وہ باتیں کرنی ھیں جو شاید مجھے بہت پہلے کرنی تھیں مگر اس وقت اتنا شعور اور سمجھ نہیں تھی۔
وہ چلی گئی۔ کھانا کھا کر میں لیٹ گیا۔
اسکی قربت نے مجھے بہت بے چین کر دیا تھا۔ میرا دل اس سے پیار کرنے کو چاہ رہا تھا۔ کیونکہ جب میں نے اسکا بوسہ لیا تھا تو میرے ٹانگو ں کے درمیان ھلچل ھوئی تھی۔ یہ سب سوچتے سوچتے مجھے نیند آگئی۔
سوتے میں مجھے ایسا لگا جیسے۔ کوئی میرے پیر چوم رہا ھو۔میں سمجھا شاید خواب ھے مگر پھر۔ کسی نے پاوں کے انگوٹھے پر ہلکا سا کاٹا تو میں ایک دم اٹھ کر بیٹھ گیا دیکھا تو۔مونا میرے پوں کی جانب بیڈ پر الٹی لیٹی تھی اور میرے پاوں کو دونوں میں پکڑ کر سہلاتے ہوئے دبا رہی تھی۔
میں نے حیران ہوکر کہا " مونا۔۔۔! یار تم یہ کیا حرکت ھے یار "؟
وہ بولی " حرکت نہیں اسد پیار کا اظہار ھے۔ تم تو ابھی تک بدھو ھی ھو۔ "
اگر پیار کو سمجھتے تو بہت پہلے اظہار کر لیتے۔"
میں نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کھینچا اور اسکے گلابی لبوں پر اپنے پیاسے ہونٹ ثبت کردیئے۔ اس نے بھی بنا کچھ بولے اپنے بازو میری گردن کے پیچھے ڈالکر مجھے چومنے لگی
وہ میرے ہونٹ چوم رہی تھ اور مجھے مستی چڑھتی جا رہی تھی شلوار میں میرا کیلا اکڑ چکا تھا۔ مگر وہ آنکھیں بند کیئے بس میرے لبوں چوم رہی تھی۔پھر اس نے میرا نچلا ہونٹ اپنے لبوں میں جکڑا اور چوسنے لگی میں بھی اسکا ساتھ دے رہا تھا۔ وہ میرا ہونٹ چوس رہی تھی اور میں اسکا۔ بہت ہی مزے دار تھا اسکے لبوں رس۔ اس نے کچھ دیر بعد اپنی زبان میرے منہ میں داخل کی۔۔ اور میرے سر کو اپنی جانب کھینچا تو میں نے اسکی زبان چوسنے لگا۔اسکی زبان کتنی میٹھی اور لذیذ تھی میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا۔ عجیب مزہ تھا اسکے زبان کے رس میں۔ پھر میں نے اپنی زبان اسکے منہ میں ڈالی تو وہ قلفی کی طرح اسے چوسنے لگی۔
اب وہ اپنے ہاتھوں سے میری کمر کو سہلا رہی تھی۔ جذبات اور گرمی کی وجہ سے پسینہ پرنالے کی طرح بہہ رہا تھا۔ اسکا چہرہ بھی پسینے میں بھیگا بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔میں نے اسکے بھیگے گال پر اپنے لب رکھے تو بے حد مزہ آیا گلابی میٹھے گال پر۔۔۔۔نمکین پسینے کا تڑکا۔۔۔اف۔۔۔۔۔کیا ٹیسٹ تھا۔ میں نے زبا ن نکالی اور اس کے فیس پر مساج کرنے لگا اسکی بھیگی پلکوں کو چوسا آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ۔۔۔پھر ماتھا گال ٹھوڑی۔ پھر گردن۔۔۔ سارا پسینہ میں نے اپنی زبان سے چوس کر صاف کر دیا۔۔ میرے چوسنے سے اسکے فیس کا رنگ کچھ مزید تیز ہو کر آتشی گلابی ہو گیا۔ میں آج بھی جب وہ وقت یاد کرتا ھوں تو میرے منہ میں وہی ذائقہ آجاتا ھے اور منہ پانی سے بھر جاتا ھے۔ کو ئی بیس منٹ کسنگ کرنے کے بعد وہ بولی "اسد جان کیا میرا پیار پسند نہیں آیا ؟"
میں نے اسکی آنکھوں کو چومتے ہوئے کہا " مونا تم نے تو جان بھر دی ھے میرے مردہ جسم میں۔میں تو زندگی بھر ترستا رہا اس پیار کو "
مونا نے میری قمیض کے بٹن کھولتے ہوئے سےنے پر کس کی اور بولی۔
" جان مجھے معلوم ھے تم جھے بہت چاھتے تھے مگر اظہار نہیں کر پائے۔ میں بھی بہت پیار کرتی تھی۔مگر اس وقت مجھ میں بھی اتنی ہمت نہیں تھی۔ کاش ہم وہاں سے یہاں نہ آتے۔ تو میں اپنے پیار کی ابتدا تم سے کرتی۔"
میں نے چونک کر اسے دیکھا تو وہ آنکھیں جھکا ئے میرے سینے کے بال سہلا رہی تھی۔ میں نے پوچھا " مونا میں سمجھا نہیں کیسی ابتدا ؟"
وہ میرے اوپر جھکتے ھوئے بولی " جان پہلے مجھے اپنے پیاسے من کو سیراب کرنے دو۔۔پھر ساری تفصیل تمہیں بتاونگی "
پھر وہ میر ے یس کو چومنے لگی۔ اور زبان سے مساج کرنے لگی۔
کچھ دیر ومنے کے بعد وہ اٹھی اور بولی" جان اپنی قمیض اتاردو ناں"
میں نے اٹھ کر قمیض اور بنیان اتاردی۔ میرا کیلا بہت سخت ہو کر جھٹکے مار رہا تھا۔ میں سیدھا لیٹا تو میری شلوار خیمے کی طرح اوپر کو تن گئی۔
میں نے مونا کی طرف دیکھا تو وہ بھی میری ٹانگوں کے بیچ دیکھ رہی تھی۔
اس نے میرے کیلے کو شلوار کے اوپر سے ھی پکڑا اور دبایا تو میرے کیلے فوجی کی طرح اسے سیلوٹ مارا۔
مونا یہ دیکھ مسکرا دی اور بولی" بہت جوشیلا ھے تمہارا کمانڈو۔جان۔ اسکا جوش تو مجھے بھی مد ہوش کر رہا ہے۔ ساتھ ہی مونا نے ٹوپی سے پکڑ کر کیلے کو دبایا۔ا
ور پھر بولی " یار کافی سخت ھے تمہارا ہتھیار۔ کبھی استعمال بھی کیا ھے "؟
میں نے جواب دیا" مونا جی آپ بے فکر رہو جی بھر کے استعمال کرو دھوکا نہٰیں دے گا۔"
اس نے کہا " یار وقت کم ھے اور میں نے آج سارے ارمان پورے کرنے ہیں۔کچھ ابھی کر لیتے ہیں باقی رات کو۔"
میں بولا " جان میں ابھی یہں ہوں جی بھر کے پیاس بجھانا اپنی جب اجازت دو گی تب واپس جاونگا۔"
اسنے میرا۔۔۔۔۔۔ازار بند کھولا۔۔۔اور شلوار ڈھیلی کردی۔۔۔۔۔پھر میرے پاوں سے نکال دی۔ اب میں بلکل ننگا تھا اسکے سامنے۔
میرا۔۔ لمبا۔۔۔ موٹا۔۔۔۔ اور لوھے جیسا۔۔۔۔سخت لنڈ ایک دم اچھل کر اسکے سامنے آگیا۔جس کی ٹوپی پھولی ہوئی چھتری لگ رہی تھی۔
میرا لنڈ دیکھتے ہی اسکی آنکھوں کی چمک تیز ہو ھو گئی۔اور اس نے آگے بڑھ کر اپنی نرم نرم انگلیوں سے میرے سخت لنڈ کو پکڑا۔۔ تو میرے پورے بدن میں کرنٹ دور گیا۔۔ میرے منہ سے۔۔نکلا۔۔۔اف ف ف ف۔۔۔۔۔۔۔
جان"۔۔۔۔۔۔۔ وہ اپنی انگلیوں سے میرے لنڈ کو سہلانے لگی۔ میری بے چینی بڑھنے لگی۔
اس نے ایک ہاتھ کی مٹھی بنائی اور میرے کھڑے لنڈ کی ٹوپی سے نیچے والے رنگ کے قریب سے پکڑا۔اور دوسری مٹھی اس ہاتھ کے نیچے۔ میرے لنڈ کی جڑ ابھ بھی دور تھی وہ۔۔ مست لہجے میں بولی " یار بہت ٹائٹ مال ھے تمہارا تو کافی لمبا ھے۔ میں سمجھی تھی جیسے تم بدھو تھے۔ تمہارا یہ بھی تم جیسا بدھو ھو گا "
میں نے مونا کو چھیڑا " یہ۔۔۔۔۔ کا کیا مطلب مونا "
وہ بولی " یار۔۔ لنڈ تمہارا اور کیا۔۔ بس اب خوش ؟"
اس کے ہاتھو ں نے مجھے بہت گرم کر دیا تھا۔ دل کر رہا تھا کہ گھس جاون اس میں مگر۔ ابھی صبر ضروری تھا میری فرسٹ انٹری تھی۔اور میں مونا کو مکمل تسکین دینا چاہتا تھا۔۔
پھر اسنے ہاتھ اوپ نیچھے کر کے مٹھ مارنا شروع کر دی۔اسکے نرم و گداز ہاتھوں کی رگڑ سے میرا لنڈ لال ہو رہا تھا اور میری حالت بھی بہت بری تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ مونا اگر سارا دن بھی میری مٹھ مارتی رہے میں ڈسچارج نہٰیں ہوں گا۔ کیوں کہ جب تک میرے لنڈ پر آئل۔۔۔ کریم۔۔۔ یا تھوک سے چکنائی نہ ہو تب تک میں نہیں چھوٹتا۔
پھر مونا نے میری گولیاں پکر لیں اور سہلانے لگی۔اور دوسرے ہاتھ سے وہ میرے لنڈ پر چوڑیاں کستی ہوئی اوپر نیچے کر رہی تھی۔
میں ہاتھ بڑھا کر اسکے دودھ پکڑ لئے۔۔۔ واہ۔۔۔۔۔ کیا مال تھا۔۔۔
اس نے کاٹن کی برا پہنی تھی جو بہت سافٹ تھی۔ میں اس کے اوپر سے ہی دودھ دبانے لگا۔
اتنے میں لائٹ چلی گئی اور پنکھا بند ہو گیا۔۔۔
گرمی بڑھ گئی۔۔ مونا کو پھر پسینہ آنے لگا اور مجھے بھی۔۔ تو مونا اٹھی اور۔۔۔۔میرے پیروں کی جانب بیٹھ گئی اور میرے پیر چومنے لگی۔۔۔ پھر اسنے میرے پاون کے انگوٹھے کو منہ میں لیا اور چوسنے لگی۔۔
کچھ دیر بعد سب انگلیوں کو چوسا۔ اور پھر اپنی زبان سے میرے پاوں پر مساج کرتی اوپرکی طرف آنے لگی۔
پنڈلی پر مساج کرتے ہوئے گٹھنے کے اوپر۔۔۔ران پر آکر اسے چاروں جانب سے چوما۔۔۔ اور پھر اوپر۔۔۔میرے لنڈ کے آس پاس بالوں ولی جگہ جو کہ شیوڈ تھی اس پر زبان پھیر نے لگی۔۔۔ میری تو حالت ہی بہت بری ہو رہی تھی۔۔ مگر میں مجبور تھا نہ اسے روک سکتا تھا اور نہ ہی جلد بازی کرنا چاھتا تھا۔۔۔۔آخر کار۔۔۔ اس نے۔۔۔۔ میرے جھومتے ھو ئے لورے کو پکڑا اور اسکی۔۔۔۔۔۔ گرم ٹوپی پر ہونٹ رکھ دیئے۔۔۔ اف۔۔۔۔ اسکے ہونٹوں پر لگا پسینہ پہلے میرے لنڈ کی ٹوپی پر لگا۔۔ اور پھر اسکے گرم ہونٹ۔۔ اسکے ہونٹ لگتے ہی میں نے سسکاری بھری۔۔۔ آہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ اوہ۔۔۔مونا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جان ن ن "
جبھی۔۔۔۔ باہر سے آنٹی کی آواز آئی۔۔۔" مونا۔۔۔۔۔۔ اری او مونا۔۔۔۔۔۔۔ کہاں ہو "
وہ مونا کو بلا رہی تھی۔۔
اور مونا کے ہونٹ میرے اکڑے ہوئے لنڈ پر تھے۔

مونا ڈسچارج ھو چکی تھی مگر ابھی اصل کام باقی تھا ۔اور میں جانتا تھا کہ مونا کی "کشتی"
اسکے چکنے پانی سے بھیگ چکی ھے اور اس میں اگر اب میں نے اپنا "چپو" ڈالا تو خاک مزہ آئے گا ۔ میں نے سائیڈ ٹیبل سے ٹشو لیئے اور اسکی گیلی"کشتی" کو صاف کرنے لگا ۔
اوپر سے صاف کرنے کے بعد میں نے ٹشو اپنی انگلی پر لپیٹا اور انگلی اسکی چوت میں داخل کی اور اندر سے بھی ساری چکناھٹ صاف کر لی ۔
مونا انکھیں موندے سیدھی لیٹی ہوئی تھی ۔ میں اب مونا کے اوپر آگیا اور اسکی بند آنکھوں کو چوما ۔ تو اس نے آنکھیں کھولیں اسکی آنکھیں جذبات سے سرخ ھو رہی تھیں ۔ میں نے اسکے گلابی گالوں پر بوسہ دیا تو اس نے بھی جوابا میرے لبوں کو چوم لیا ۔ میں گٹھنوں کے بل بیٹھا اور اسکے گول گول ممے دبانے لگا پھر میں نے جھک کر نپل منہ میں لیا اور چوسنے لگا تو مونا کو پھر سے جوش چرھنے لگا ۔ اسکے نپل میری زبان کی گرمائش سے پھر سے اکڑنے لگے ۔
میں پورا نپل منہ میں لیتا اور چوستا جب با ھر نکالنے لگتا تو اسکے نپل پر ھلکا سا کاٹ لیتا تو مونا تڑپ جاتی ۔ دونوں نپلز چوسنے کے بعد میں اٹھا اور مونا کی ٹانگوں کے بیچ آ بیٹھا ۔ میرے بیٹھتے ھی اس نے اپنی ٹانگیں کھول دیں اسکی چوت کافی لال ہو رھی تھی ۔ اسکی لال چوت کو دیکھتے ھی میری رال بہنے لگی دل چاہ رہا تھا اسکا پانی پیوں مگر میں نے سوچا وقت کم رہ گیا ھے اگر کوءی آگیا تو پھر میں پیاسا رہ جاؤن گا ۔ میں نے اسکی چوت کے دونوں لب کھولے تو انکے کنارے پانی سے نم تھے اور مجھے عجیب سی مہک آئی جسے سونگھتے ھی مجھے ایک دم جوش آیا میں نے اپنا اکڑا ھوا سخت لوڑا اسکی چوت کے دھانے پر رکھا اور ٹوپی کو چوت کی درمیانی دراڑ پر رگڑا تو مونا بے چین ھو گئی اور بولی " جان پلیز اب ڈال بھی دو جتنا تڑپاؤ گے ۔"
میں بولا " مونا ! تم بہت حسین ھو یار تمہیں جتنا پیار کروں دل اتنا بے قرار ھوتا ھے اور **** ممزید بڑھتی ھے ۔"
میں نے اسکی چوت کے ابھرے ھوئے مٹر پر ٹوپی رگڑی اور بولا " جان ۔۔۔ تمہاری قربت نے مجھے پاگل کریا ھے ۔ میری خواھش ھے بس ھر وقت تمہں پیار کرتا رہوں ۔"
ٹوپی کی رگڑ سے اسکی چوت نے تھوڑا سا پانی چھوڑ دیا ۔ میں نے اپنے لنڈ کی ٹوپی اسکے پانی سے گیلی کی تو کافی چکنی ھو گئی ۔ اور باقی پانی میں نے ٹوپی سے ھی اسکی چوت پر پھیلا دیا ۔
اب میں نے اسکی ٹانگیں موڑ کر اسکے پیٹ سے لگا دیں جس سے اسکی چوت نمایاں ھو گئی۔ کیا کما ل کا نظارہ تھا ۔ میں نے اپنا لنڈ ایک بار پھر اسکی چوت کے سوراخ پر فٹ کیا اور اپنے ہاتھ آگے ٹکا کر زور لگایا تو ۔ مونا کی لذت بھری آواز نکلی ۔
" آہ ھ ھ ھ ھ ھ ھ ھ ھ ۔۔۔ اُف جان ۔۔۔۔۔۔ دھکیل دو ناں۔۔۔۔۔۔۔۔ پورا ۔۔۔۔ "
یہ سنتے ھی میں نے کس کر دھکا مارا ۔۔۔۔ میرا لنڈ کوئی دو انچ تک مونا کی گرم دھکتی چوت میں گھس گیا ۔۔۔۔ مونا بولی " جان رک جاؤ پلیز ۔۔۔۔ " میں نے اسکے ہونٹ چومتےھوئے پوچھا "کیوں جان ۔۔۔۔ ابھی تو کہ رہی تھیں پورا دھکیل دو اب کیا ھوا "؟
اس نے بھی مجھے چومتے ھوئے کہا " اسد ۔۔۔ تمہارا لنڈ بہت موٹا ھے یار ۔۔۔۔ مجھے کچھ درد سا محسوس ھو رہا ھے ۔۔۔۔اُ ف ف"
میں نے اپنا لنڈ کچھ باہر نکالا ۔ اور پھر سے دھکا مارا تو میرا لنڈ اب 3 انچ تک اسکی چوت میں گھس گیا "
اسکی چوت واقعی تنگ تھی ۔۔۔ اسکی دیواروں نے میرے لنڈ پر بھر پور گرفت کی ھوئی تھی ۔
میں نے اپنے ھاتھ اٹھائے اور اسکے ممے پکڑے اور دباتے ھوئے اگے پیچھے ھلنے لگا ۔
اب اسے بھی مزہ آنے لگا تھا ۔۔ اسکے منہ سے لذت بھری سسکاریا نکلنے لگیں ۔
آھ ھ ھ ھ ۔۔۔ اپٖ ۔۔۔ اوئی ۔۔۔آھ ۔۔۔۔۔۔ فک می ۔۔۔۔۔ جان چود دو اسد ۔۔۔ پھاڑ دو میری چوت کو ۔۔
یہ سن کر میں زاور زور سے دھکے مارنے لگا ۔۔۔ میں ٹوپی تک لنڈ کو باھر نکالتا اور پھر ایک جھٹکے سے اندر ڈالتا میرا لنڈ اسکی چوت کی دیواروں کو رگڑتا ھوا اسکی بچہ دانی پر جا کر چوٹ مارتا تو وہ تڑپ اٹھتی ۔۔۔" اسد پلیز اہستا جان نکالو گے کیا مار ڈالو گے مجھے آج ۔۔ اھ ھا ھا ھ اور چودو ۔۔۔ ھان ایسے ھی زور سے دھکے مارو ۔۔۔۔ اف فف میری جان نکال دو۔۔۔۔ میں بنا رکے اسے چود رہا تھا ۔۔۔۔۔ کہ اچا نک مونا نے ایک جھر جھری لی اور مجھے جکڑ لیا ۔۔۔ اور اسکی چوت نے اندر سے گرم لاوا اُگل دیا ۔۔۔۔۔ وہ مجھے جکڑے ھوئے تھی ۔
اور میں مسلسل دھکے لگائے جا رہا تھا ۔۔۔ میرے منہ سے بھی ۔۔ آھ ھ ھ ھ ھ کی آوازیں نکل رہی تھی ۔
اسکی چوت گیلی ھونے کے بعد پچ پچ کرنے لگی ۔۔۔۔ کبھی کھڑچ کھڑچ کبھی پچ پچ ۔۔۔ کی آوازیں پورے کمرے میں گونج رہی تھیں ۔۔ مگر میں مسلسل دھکے مارے جا رہا تھا ۔۔۔۔کوئی دو منٹ بعد مونا نے ایک بار پھر مجھے زور سے جکڑ لیا وہ پھر سے چھوٹ گئی تھی ۔ اور میرے سر کو پکڑ کر بے تحاشہ مجھے چومے جا رہ تھی ۔ اور اب کی بار اسکی چوت نے پانی چھوڑنے کے بعد میرے لنڈ کو پکڑ لیا تھا اور یوں لگ رہا تھا جیسے اسے چوس رہی ھو ۔۔۔ اسکی چوت کی سکنگ سے میں بھی منز ل پر پہنچ گیا اور مین ایک زبردست ھکا مارا اور اپنا سارا جوس اسکی پیاسی چوت میں خارج کر دیا ۔۔۔ اور میں اسکے اوپر ھی لیٹ گیا ۔۔وہ اب بھی مجھے چوم رھی تھی ۔
اسی وقت ڈور بیل کی آواز آئی ۔۔۔۔ تو مونا نے کہا او ھو ۔۔۔۔ امی سو رھی ھیں دروازہ مجھے کھولنا پڑے گا۔
بیل کی آواز سنتے ھی آنٹی چونک گئیں اور انکی انگلی انکی گیلی چوت میں ھی رُک گئی ۔وہ سٹور سے اسد اور مونا کی مکمل ہوتی پریم کہانی کو لائیو دیکھتے ھوئے اتنی مست ھو گئی تھیں کہ انہیں اپنا ھوش ھی نہیں رہا تھا کہ وہ کہاں ھیں ۔اور کس حالت میں ھیں انکی برسوں سے پیاسی چوت کے مسام اسد اور مونا کے پیار بھرے مناظر دیکھ کر کُھل گئے تھے اور انکے مرجھائے مموں میں زندگی کی نئی لہر دوڑ گئی اور انکا انگ انگ پھر سے جوان ھو گیا ۔ اور اسی دلفریب نظارے میں کھو کر انہوں نے خود کو عارضی تسکین دینے کی کوشش کی مگر یہ کوشش ھی رہی کیونکہ جتنا لطف مونا کو ایک طاقتور لنڈ نے دیا تھا82
آنٹی صرف دیکھ ھی سکتی تھیں ۔ اپنے من کی آگ کو اپنی پتلی اور چھوٹی سی انگلی سے کیسے بجھا سکتی تھیں ۔
انگلی سے آنٹی کی شنگی مزید بڑھ گئی مگر وہ کیا کرتیں ۔ اسد کی زبردست طاقت اور جوش سے وہ کافی متاثر ھوئیں اور دل میں تہیہ کر لیا کہ اسد سے ضرور اپنی تسکیں کریں گی ۔ڈور بیل کی آواز سنتے ھی انہیں خیال آیا کہ اگر میں دروزے پر نہ گئی تو مونا کو اٹھنا پڑے گا ۔ اور انہوں نے سو چا مونا کو ڈسٹرب نہ کیا جائے تو بہتر ھے ۔وہ فورا اٹھیں اور اپنی گیلی انگلی کو شلوار سے صاف کرت ھوئے لاؤنج میں پہچی تو بیل پھر بجی انہوں نے آرہی ہوں
بیٹا کہتے ھوئے گیٹ کھولا ۔ تو مینا اور نینا اکیڈمی سے لوٹی تھیں انہوں نے سلام کیا اور اندر آگئیں ۔
آنٹی وھاں سے اپنے کمرے آگئیں ۔ان کے ذھن میں اسد کا طاقت ور لوڑا گھوم رہا تھا ۔
وہ ان خیالات سے پیچھا چھڑانے کیلئے اٹھیں اور چائے بنانے کچن میں چلی گئیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مونا اٹھنے ھی لگی تھی اسے امی کی آواز سنائی دی وہ دروازہ کھولنے جارہی تھیں ۔ انکی آواز سنتے ھی مونا نے ایک گہری سانس لی ۔ اور پھر اسد کو چوم کر بولی "جان میں اب نہا لوں مینا اور نینا آنے والی ھیں ۔ایسا نہ ھو پھر میں یہں رہ جاؤں رات کو تیار رہنا میں نے تمہارے گھوڑے پر سیر کرنی ھے "
میں بولا " جان تم رات کی بات کرتی ہو یہ ابھی بھی تمہیں سیر کرانے کیلئے تیار ھے ۔ میں نے اپنے لنڈ کی طرف اشارہ کرتے ھوئے کہا ۔ وہ اٹھی اور باتھ روم نہانے چلی گئی ۔ اور میں نے شلوار پہنی اور سو گیا کیونکہ مجھے رات کو پھر جاگنا تھا ۔ کوئی عصر کے وقت آنٹی نے مجھے جگایا ۔ اور سکراتی ہوئی بولی بیٹا کب تک سوتے رہو گے اٹھو فریش ھو جاؤ پھر چائے پیتے ھیں ۔میں نے آنٹی کی آنکھوں کی طرف دیکھا تو وہ بیڈ کے قریب کسی چیز کو غور سے دیکھ رھی تھیں میں نے اٹھتے ھوئے کہا ۔اوھ سوری آنٹی سفر نے بہت تھکا دیا تھا ۔۔بس آنکھ لگ گئی ۔میں ابھی نہا کے آتا ہوں ۔میں نے آنٹی کی آنکھوں کے فوکس کی طرف دیکھا تو میرا سانس خشک ہونے لگا وہاں وہ ٹشو پڑے تھے جن سے میں نے مونا کی چوت صاف کی تھی ۔
آنٹی بولی ٹھیک ھے آپ نہالو بیٹا ۔ میں باتھ لیتے ھوئے سوچتا رہا آنٹی نے اگر ٹشو اٹھا کر سونگھ لیئے تو انہیں پتہ چل جائے گا ۔ کاش ایسا نہ ہو ورنہ وہ کیا سوچیں گی ۔ میں انکے گھر مہمان بن کر کیا گل کھلا رہا ہوں ۔ مجھے خود پر بہت غصہ آرہا تھا کہ اتنی جلدی کی کیا ضرورت تھی ۔ رات کو کر لیتے مونا کیساتھ جو بھی کرنا تھا ۔میں بہت پریشان ہو رہا تھا ۔۔ خیر میں نہا کر نکلا تو دیکھا وہاں سے ٹشو غائب تھے ۔ میں نے دل ھی دل میں سوچا اسد بیٹا نکل لے یہاں سے ورنہ بہت بے عزتی ہو گی ۔ کچھ دیر میں آنٹی چائے لے آئیں میں ان سے نظریں نہیں ملا پا رہا تھا ۔ بہت شرمندہ تھا دل میں چور جو تھا ۔ اور آنٹی تھیں کہ ان کی نظریں مجھ پر سے ھٹ ھی نہیں رہی تھیں ۔ مجھے یقین سا ہونے لگا کہ آنٹی کو معلوم ہوچکا ھے ۔ میں نے آنٹی سے بہانا بناتے ہوئے کہا ۔ آنٹی مجھے کام سے جانا ھے اگر مجھے دیر ہو گئی تو آپ انتظار مت کیجئے گا ۔ میں وہں رک جاؤن گا ۔ وہ بولی ۔ اسد بیٹا یہ کیا بات ہوئی وھاں کیوں ٹہروگے ؟ نہیں بیٹا اگر ایسی بات ھے تو تم جاؤ ھی مت ۔
میں بولا آنٹی مجھے دیر ھو جائے گی ۔ انہوں نے کہا بیٹا چاہے تمہیں جتنی بھی دیر ھو میں انتظار کروں گی کھانا بھی ھمارے ساتھ ھی کھانا ھے تم نے ۔
میں بولا آنٹی آپ سمجھ کیوں نہیں رہیں میری بات ۔ وہ میری بات خاٹتے ھوئے بولیں میں سب سمجھتی ہوں ۔ بس تم نے رات کو یہں آنا ھے ہر صورت میں ۔
پھر میں وہاں سے نکل آیا اور کام کے سلسلے میں ایک بندے سے ملا وہاں مجھے 9 بج گئے تو آنٹی کی کال آئی بولیں ۔ اسد کب تک آؤ گے میں نے کہا آنٹی مجھے مزید ایک گھنٹہ لگے گا ۔اور پھر میں قریب کوئی ساڑھے دس بجے گھر پہنچا بیل بجانے پر شاہزیب نے دروازہ کھولا اور کہا ۔کہاں رہ گئے تھے ابھی ابھی کھانا کھا کر اٹھے ھیں آجائیں اس نے ساتھ ھی کہا ۔ مما ۔۔۔۔ اسد بھائی کے لئے کھانا لے آئیں ۔ میں نے منع کر دیا میرا بلکل بھی موڈ نہیں تھا کچھ کھانے کو ۔ آنٹی نے بھی کافی اصرار کیا مگر میں نے انکار کر دیا ۔ پھر سب لوگ آگئے اور ھم باتیں کرنے لگے ۔پھر آنٹی نے کہا بیٹا اٹھو مونا آپ لوگ سو جاؤ صبح سکول جانا ھے ۔ میں اور شاہزیب ڈرائنگ روم میں لیٹ گئے ۔ کچھ دیرکروٹیں بدلنے کے بعد میں سو گیا مجھے مونا کا بھی خیال بھول چکا تھا کہ اس نے رات کو ملنے کا کہا تھا ۔
نجانے رات کا کونسا پہر تھا مجھے لگا کوئی میرے لنڈ کو مسل رہا ھے ۔ اس احساس کیساتھ ھی یاد آیا مونا ھو گی ۔ میں نے آنکھیں کھولیں کمرے میں نائٹ بلب روشن تھا میرے قریب ھی شاہزیب گہری نیند میں گم تھا ۔
ہاتھوں کے لمس سے میرے بے جان لوڑے می سر سراہٹ ہونے لگی اور وہ سر اتھانے لگا میں نے ہاتھ بڑھایا اور مونا کے ہاتھ کو پکڑ کر دبایا ۔ یہ اس لئے تا کہ شاہزیب نہ اٹھ جائے ۔ مگر یہ کیا وہ مونا کا ہاتھ تو نہیں تھا ۔۔ مجھے لگا یہ کچھ سخت سا ہاتھ ھے ۔ میں نے ایک بار پھر اپنے لنڈ کو پکڑنے والے ہاتھ کو دبایا تو اس ہاتھ نے بھی میرا لنڈ دبا دیا ۔۔ میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو حیران رہ گیا ۔۔ میرے بیڈ کے قریب آنٹی نیچے بیٹھی تھیں اور میرا لنڈ دبا رہی تھی ۔ میں نے آنٹی کو دیکھتے ھی ۔ کہا آنٹی آ۔آ۔ا۔ُ آپ۔۔۔۔انہوں نے اپنی انگلی اپنے ہونٹوں پہ رکھ کر مجھے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔ اور اٹھ کھڑی ہوئیں ۔
میں آنٹی کو دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا ۔ آنٹی نے جالی والا گاؤن پہنا تھا جس سے انکا پورا بدن دکھ رہا تھا اور گاؤن کے نیچے انہوں نے کچھ بھی نہیں پہنا تھا۔ میں نے آنٹی کی آنکھوں میں دیکھا ۔انکی آنکھوں میں پیاس صاف نظر آرہی تھی انکی آنکھیں ھلکی سرخ تھیں ۔ میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کروں ۔آنٹی نے جھک کر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اٹھنے کا اشارہ کیا ۔ جھکنے سے انکے جالی والے گاؤن میں قید انکے ممے نیچے لٹک گئے اور میری نظر ایک دم وھاں گئی ۔تو آنتی کے گورے چٹے ممے دیکھ کر مجھے بھی گرمی چڑھنے لگی ۔
میں نے بستر سے اٹھتے ھوئے شاہزیب کی طرف دیکھا تو وہ گہری نیند میں تھا۔ میں نے پوچھا "آنٹی خیر تو ھے ناں۔۔؟"
وہ بولیں میرے کمرے چلو بتاتی ھوں ۔۔۔۔ میں سمجھ گیا کہ آنٹی کی پیاسی چوت کو سیراب کرنا ھے ۔۔میں نے آنٹی سے سرگوشی میں کہا"آپ چلیں میں آتا ھوں واش روم سے ھو کر"
وہ چلی گئیں ۔اور میں نے انکے پیچھے دیکھا تو انکی موٹی موٹی گانڈ بڑی اٹک متک کرتی ھوئی مجھے بلارہی تھی ۔
میں نے بیگ سے تیبلٹ نکالی اور پانی سے نگل لی ۔۔اور کریم اٹھا کر واش روم میں آ گیا ۔۔کریم کو اپنے لنڈ کی ٹوپی پر لگا یا ۔۔یہ میری آزمودہ کریم تھی جو مجھے اپنے ایک ڈاکٹر دوست نے دی تھی ھربل کریم لگاتے ھی بے پناہ طاقت آجاتی تھی اور بالخصوص میں آنٹیوں کو چودتے وقت استعمال کیا کرتا ۔ کیوں کہ اس سے صنف نازک کو بہت لطف اور لذت ملتی تھی اور میری ٹائمنگ بھی 10 گنا بڑھ جاتی تھی۔
آنٹیاں چاھے جتنی بھی چالو ھوں انکو بہت جلد منزل تک پہنچاتی تھی اور تڑپا کر رکھ دیتی ۔
ایک بار جو چدوا لیتی تو بس دیوانی بن جاتی تھی ۔
آنٹی اور میری عمر میں قریب 20 برس کا فرق تھا وہ بڑی تھیں مگر انہوں نے خود کو کافی سنبھالا ہواتھا جبھی بہت سیکسی لگتی تھیں ۔
میں نے کریم واپس بیگ میں رکھی اور اپنے کمرے سے نکل کر آنٹی کے روم میں داخل ہوا تو ۔ دیکھا وہاں بیڈ پر آنٹی کیساتھ ھی انکی سب سے چھوٹی بیٹی یعنی مونا کی چھوٹی بہن نینا ۔۔ سو رہی تھیں اس کے انداز سے لگتا تھا وہ بھی گہری نیند میں ھے ۔ میں سوچ ھی رہا تھا کہاں بیٹھوں ۔آنٹی اٹھیں اور مجھ سے لپٹ گئیں ۔۔۔۔۔ اُٖ ف ۔۔۔۔۔ انکا جسم بہت تپ رہا تھا ۔۔۔۔ انہوں نے مجھے سینے سے بھینچتے ھوئے ۔۔۔۔میرے ہونٹوں پر اپنے گرم گرم قدرے موٹے ھونٹ رکھ دیئے اور بڑی تیزی سے چومنے لگیں ۔
میں بھی اب کہاں پیچھے رہنے والا تھا ۔۔۔ میں بھی انکا ساتھ دینے لگا ۔۔
میں بولا "آنٹی ۔۔۔۔آپکو بخار ھے کیا ۔ ۔۔۔ ؟۔۔ انہوں نے ایک لمبی سسکاری لی ۔۔۔آ آ آ آ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔ھاں بیٹا جبھی تو تمہیں بلایا ھے تاکہ تم انجکشن لگا دو۔۔۔" اف ۔۔۔۔ بہت پیاس لگ رہی ھے بیٹا ۔۔۔ تمہارے لبوں سے پیاس بجھانے کی کوشش کر رہی ھوں مگر پیاس ھے کہ بڑھتی جا رہی ھے ۔ "
انکی بات سن کر میرا لنڈ جھٹکا مار کر اکڑ گیا ۔۔۔ وہ مجھ سے لپٹی مجھے پیار کر رہی تھیں ۔۔ میرے لنڈ کے جھٹکے کو انہوں نے اپنے پیٹ پر محسوس کیا اور ہاتھ نیچے کر کے لنڈ کو پکرتے ھوئے بولی ۔۔۔ اسد بیٹا ۔۔۔ یہ کیوں بے چین ھو گیا ھے ۔۔۔ اور اتنا سخت اُف۔۔۔۔ "
آنٹی کی باتیں مجھے مستی چڑھارہی تھیں ۔۔۔
آنٹی کا گورا بدن ابکے گلابی گاؤن سے گویا چھلک رہا تھا ۔۔۔۔۔
آنٹی نے اپنی پیاسی زبان میرے لبوں پہ پھیرنا شروع کی۔۔ تو مجھے عجیب مٹھاس سی ملنے لگی میں نے اپنا منہ کھو ل کر آنٹی کے سر کو اپنی جانب دبایا تو انہوں نے زبان میرے منہ میں ڈال دی ۔۔۔ آھ ۔۔۔۔ اف۔۔۔۔۔۔سسسسس ۔۔۔۔۔کیا ٹیسٹ تھا ۔۔انکی میتھی زبان کا میں چوسنے لگا ۔۔۔ میں کافی دیر تک چوستا رہا اور وہ میرے سر کو دباتی رہیں اپنی طرف ۔۔۔۔
پھر انہوں نے میری شرٹ کے بٹن کھولے اور کہا ۔۔ اسد بیٹا ۔۔۔ تم ناراض تو نہٰیں ہو گے ۔۔۔۔ کہ میں یہ سب کر رہی ھوں ۔۔ ؟
میں بولا آنٹی ۔۔۔مجھے حیرت ھے ۔۔۔میں آپکے ساتھ ایسا کرونگا کبھی سوچا ھی نہیں تھا۔۔۔
وہ بولیں ۔بیٹا ۔۔۔۔سوچا تو میں نے بھی کبھی نہیں تھ ایسا ۔۔۔ مگر آج مونا کیساتھ تمہیں پیار کرتے دیکھا تو تمہارے کیلے ۔۔۔ نے میری بلی کی برسوں کی بھوک جگا دی ۔۔۔۔۔بس پھر خود پہ کنٹرول نہیں رہا ۔۔۔ یہ سن کر مجھ حیرت کا جھٹکا لگا ۔۔۔۔ وہ بولیں بیتا۔۔ پریشان مت ھو ۔۔میں جانتی ھوں تم دونو ں پیار کرتے ھو ایک دوسرے سے مگر اب تمہیں اظہار کا موقع ملا۔۔۔ تو تم نے اظہار کر دیا ۔۔ تم بھی خوش ھو گئے اور مونا بھی جو اکثر پریشان رہتی تھی اب بے حد خوش ھے ۔۔ مجھے تو بس اپنی اولاد کی خوشی ھی چاہئے ۔۔۔ ۔۔بیٹا ۔۔میں نے سوا مونا کے پاپا کے کبھی کسی سے پیار نہیں کیا مگر تم تو جانتے ھو پچھلے کئی برس سے میں پیاسی ھوں ۔
بہت صبر سے وقت گزار رہی ھوں مگر آج تمہیں دیکھ کر من مچل گیا ۔
پھر میں نے سوچا چلو تم اپنے ھو گھر کی بات گھر میں ھی رھے گی ۔
۔۔۔۔اس لیئے آج میں نے رات کو سب بچوں کے دود میں نیند کی گولیاں گھول دی تھیں ۔۔ اور
اور اسی لیئے مونا تمہارے پاس نہیں آئی ۔۔ پھر آنٹی نے میرے ننگے سینے کو چومتے ھوئے کہا ۔۔۔ بیٹا مجھے معاف کر دینا ۔۔۔۔ میں نے آج مونا کا حق چھینا ھے ۔۔۔۔ پلیز بیٹا ۔۔۔ اس بات کا کبھی مونا کو بھی مت بتانا کہ تمہارا اور میرا کیا تعلق ھے اور میں مونا اور تمہارا بھی جانتی ھوں یہ اسے پتہ نہیں چلنے دینا ۔۔۔ پھر وہ میرے سینے پر سر رکھ رو پڑیں ۔۔۔۔
میں گھبرا گیا میرا دماغ عجیب ھو رہا تھا ۔۔۔ میں سوچنے لگا یار یہ کیا ھو رہا ھے ۔۔۔۔ کیا کبھی ایسا بھی ھوتا ھے ۔۔ ایک ماں اپنی آنکھوں سے اپنی بیٹی کو سیکس کرواتے ھوئے دیکھے اور پھر اسی لڑکے سے خود سیکس کروائے ۔۔۔ ؟
مگر میں اسے جھٹلا بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ ایسا خود میرے ساتھ بیت رہا تھا ۔۔۔ کچھ دیر کیلئے میں بھول گیا کہ میں کیا کروں پھر آنٹی کی سسکیوں اور روتی ھوئی آواز نے مجھے کیالوں کی دنیا سے واپس کھینچا
میں نے اپنے سینے پر آنٹی کے گرم گرم آنسوؤں کو محسوس کیا تو بے اختیار میں نے آنٹی کا چہرہ اوپر کیا اور انکی آنکھوں کو چوما اور بولا ۔۔۔پلیز آنٹی آپ رونا بند کریں مجھ سے نہیں برداشت ھو رہا۔۔ پلیز۔۔۔ آپکا جو دل چاھے کریں مجھ سے میں ناراض نہٰن ھوں ۔۔۔مگر آپ چپ ھو جائیں ناں ۔
پھر ۔۔۔میں نے انکے رخسار پر بوسہ کیا ۔۔۔۔ اور کہا ۔۔ "آنٹی ۔۔۔۔ آپ بے فکر ھو جائیں یہ راز آپکے اور میرے درمیان ھی رھے گا ۔۔۔۔ آپکو ضرورت ھے پیار کیا محبت کی ۔۔۔وہ میں دوں گا آپکو ۔۔ جب کہیں گی ۔۔۔ جتنی بار کہیں گی ۔"
مگر میری ایک شرط ھے ۔۔۔ " آپ نے بھی کبھ کسی کو نہیں بتانا "
انہوں نے دھیرے سے اپنے سر کو ھاں میں ھلا یا ۔۔۔۔
میں پوری کہانی سمجھ چکا تھا ۔۔۔کہ آنٹی نے سب دیکھا اور پھر رات کو اپنی پلاننگ کے مطابق میرے پاس آگئیں ۔۔۔ اور اب میری بانہوں میں تھیں ۔۔۔
مجھے یہ خوف بھی ختم ھو گیا کہ کوئی اٹھ جائے گا یا پھر مونا نہ آجائے ۔۔ اب میں بے فکر اور آزاد تھا آنٹی کو بھر پور مزہ دینے کیلئے ۔
میں نے آنٹی کے گاؤن کو کھولا اور اتار دیا ۔
آنٹی کے بہت سفید اور گلابی رنگ کے بوبز ۔۔۔ کچھ لٹکے ھوئے تھے ۔۔۔ میں نے اپنے ہاتھ میں آنٹی کے سینے کے ابھار کو پکڑا ۔۔۔۔۔۔۔اف۔۔۔۔۔۔۔ہ کافی ٹائٹ تھا ۔۔۔ آنٹی کے نپلز کافی سخت اور بڑے تھے اور انکا رنگ بہت ڈار براؤن تھا ۔۔۔۔ انکے بوبز پر انکے نپلز بہت جچ رہے تھے ۔۔۔ میں نے نپل کو بھی مسلا ۔۔۔ تو آنٹی نے ایک دم میرا ہاتھ پکڑ لیا اور بولی ۔۔۔ پگلے۔۔۔۔ انہٰن پیار سے چھوا جاتا ھے ۔۔۔ ۔۔ میں بولا آنٹی جی۔۔۔۔ کیا ان میں دودھ ھے میرے لئے ؟
بولیں بیٹا ۔۔۔ یہ تم پر منحصر ھے دودھ نکالو یا جوس ۔۔ اب یہ تمہارے ھیں ۔۔۔
میں نے آنتی کے ۔۔۔ چکنے بدن پر نظر ڈالی ۔۔۔ انکا پیٹ اور درمیان میں ناف ۔۔۔ کیا ۔۔۔۔ بہترین نظارہ تھا ۔۔۔آنٹی کے مموں پر رگیں بھی صاف دکھ رہی تھیں ۔۔۔۔ اور کچھ نرم بال بھی تھے ۔۔۔۔۔ میں نے آنٹی کی چوت ۔۔۔ دیکھنے کی کوشش کی تو مجھے صرف چٹیل میدان ھی نظر آیا چوت انکی ٹانگوں کے بیچ چھپی ھوئی تھی۔
میں نے ہاتھ انکی گود میں ڈالا اور انگلی سے انکی چوت ٹٹولنے لگا انہوں نے تانگیں کھول دیں اور سیدھی لیٹ گئیں ۔۔۔ ھم بیڈ پر تھے ساتھ ھی نینا ۔۔۔ سو رہی تھی اسکا رخ دوسری طرف تھا ۔۔ ھماری طرف پیٹھ تھی ۔۔
میں نے آنٹی کی ٹانگے کھولیں اور انکی چوت کو دیکھا تو بس دیکھتا ھی رہ گیا ۔۔۔ شاید انہوں نے میرے پاس انے سے پہلے بال صاف کیئے تھے ۔۔ اور کوئی پرفیو م بھی لگایا تھا ۔۔ کیونکہ میں جیسے ھی اسے گور سے دیکھنے کیلئے جھکا تو ایک مدھوش کرنے والی خوشبو میرے نتھنوں سے ٹکرائی اور مجھے مست کر گئی ۔
آنٹی کی چوت۔۔۔۔۔ بلکل صاف تھی ۔۔۔۔ اور اسکے ھونٹ بڑے اور سر خی مائل ھو رہے تھے ۔۔۔۔ چوت کا اوپری حصہ کافی پھولا ھوا تھا ۔۔ جو اس بات کی نشاندہی کرتا تھا ۔۔ کہ آنٹی اندر لینے کیلئے بلکل تیار ھین ۔۔۔مگر ۔۔۔میں نے تو بہت کھیلنا تھا ان سے ۔۔۔۔میں جھکا اور ۔۔۔۔ انکی چوت پر اپنے ھونٹ رکھ دیئے ۔۔۔۔ میں نے اپنی زبان نکالی اور آنٹی کی چوت کے موٹے موٹے لبوں کے گوشت پر پھیرنے لگا ۔۔۔۔۔
آنٹی نے میری زبان لگتے ھی ۔۔۔ بہت زور سے سسکاری لی۔۔۔۔آھھھ اوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ اسد۔۔۔۔۔۔۔ بیٹا ۔۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔۔۔ اف۔۔۔۔۔ کیا کر دیا ۔۔۔ آگ لگا دی ۔۔۔۔ میری بھٹی میں ۔۔۔ آنٹی میرا سر بھی اپنی رانوں میں دبا رہی تھی اور بولے بھی جا رہی تھیں ۔
۔۔۔۔۔میں نے چوت کو اچھی چرح چاٹا۔۔۔۔ پھر میں نے اسکے لپس کھولے اور زبان اندر ڈالی ۔۔۔۔ اندر کی چکنائی اور ٹیسٹ نے مجھے مزید لطف دیا میں زبان سے آنٹی کو چود نے لگا ۔۔ اور آنٹی سر پٹخنے لگیں ۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد میں اٹھا اور آنٹی پر لیٹ کر انکے دودھ چومنے لگا ۔۔۔۔۔ آنٹی ۔۔۔ نے اپنے ہاتھ سے مجھے روک دیا ۔۔۔ میں نے انک طرف دیکھا تو ۔۔۔ وہ ڈوبے ھوئے لہجے میں بولیں ۔۔۔۔ اسد۔۔۔ تم نے آگ بھڑکا دی ھے پہلے اسے بجھا دو پلیز۔۔۔۔ یہ سب دوسری

۔۔ اسد۔۔۔ تم نے آگ بھڑکا دی ھے پہلے اسے بجھا دو پلیز۔۔۔۔ یہ سب دوسری باری میں کر لینا ۔۔۔ ورنہ میں مر جاؤن گی ۔۔۔

Posted on: 05:30:AM 07-Jan-2021


1 1 356 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 75 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 59 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com