Stories


گناہ از گرے ڈون

نامکمل کہانی ہے

سعدیہ میری بہن ہے اور اس کی عمر 18 سال ہے۔ میں بھی بہت سے بھائیوں کی طرح ہی ہوں اور اپنی بہن کو بہت چاہتا بھی ہوں اور میری یہ چاہت ایک بھائی کی طرح کی ہی ہے۔ لیکن ایک گناہ جو مجھ سے سرزد ہو گیا اس پر بہت شرمندہ ہوں اور جانتا

ہوں کے اس کا کفارہ ممکن نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کے اس گناہ کے کرنے کیلئے کوئی دلیل نہیں ہے جو میں اپنی صفائی پیش کرنے کیلئے دوں۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ سعدیہ کچھ دنوں سے ہماری خالہ کے گھر گئی ہوئی تھی۔ کیونکہ سکول میں اس کے

امتحان ہو چکے تھے اور وہ فارغ تھی۔ حمیرا جو ہماری خالہ زاد ہے نے بہت اصرار کر کے امی جان سے سعدیہ کو اپنے ہاں کچھ دن کیلئے لے جانے کی اجازت لے لی تھی۔ اور جیسے ہی سعدیہ امتحانوں سے فارغ ہوئی حمیرا اسے لینے کیلئے اپنی

ماں کے ساتھ آ دھمکی۔ اور آج تقریباً دو ہفتے ہونے کو تھے کہ سعدیہ اُن کے ہاں رہ رہی تھی ۔امی جان نے مجھے کہا کہ میں خالہ کے گھر سے سعدیہ کو لے آؤں۔ میں نہا دھو کر تیار ہوا اور موٹرسائیکل نکال کے خالہ کے گھر کے لیئے روانہ ہوا۔

خالہ کا گھر ایک دوسرے گاؤں میں تھا جو کے ہمارے گاؤں سے چودہ پندرہ کلومیٹر کی دوری پر ہوگا۔ میں کوئی آدھے گھنٹے میں ہی خالہ کے گھر جا پہنچا۔ حال احوال کے بعد حمیرا چائے بنا کر لے آئی۔ چائے پی چُکنے کے بعد میں نے خالہ سے اجازت

چاہی تو خالہ نے کہا کے اتنی جلدی کیا ہے ابھی آئے اور ابھی چل دیئے۔ آرام سے بیٹھو کھانا وغیرہ تیار ہوتا ہے تو کھا کر آرام سے چلے جانا۔ اب خالہ کہہ رہی تھیں تو میں انکار کیسے کرتا ویسے بھی میرا دل چاہ رہا تھا کے میں کچھ دیر اور یہیں

رکوں کیونکہ میں دل ہی دل میں حمیرا کو بہت پسند کرتا تھا۔ اور اس کو بارہا دل ہی دل میں اپنی بیوی کے روپ میں دیکھ چُکا تھا۔ میں نے بھی موقع مناسب جانا اور سوچا کے چلو اسی بہانے کچھ دیر اس کے ساتھ بھی وقت بیت جائے گا۔

خالہ نے اسے کہا کے جلدی سے کھانا تیار کرو۔ اور خود میرے ساتھ باتیں کرنے لگیں۔ ہم ابھی باتیں کر ہی رہے تھے کے خالہ کے پڑوس سے ایک عورت آگئی۔ خالہ اس عورت کے پاس بیٹھ گئیں تو میں چُپکے سے وہاں سے اُٹھا اور کچن میں چلا گیا

جہاں حمیرا کھانا بنا رہی تھی۔ سعدیہ بھی اُس کی بھرپور مدد کر رہی تھی۔ میں سائیڈ پر کھڑا ہو کے اُن سے ادھر اُدھر کی باتیں کرنے لگا۔ وہ بھی کھانا بناتے ہوئے مجھ سے باتیں کر رہی تھیں۔ میں چور نگاہوں سے حمیرا کے بھرپور سراپے کا بھی جائزہ

لے رہا تھا۔ وہ یقیناً قدرت کا شاہکار تھی۔ وہ بھی سعدیہ کی ہی ہم عمر تھی۔ گورے رنگ کے ساتھ خوبصورت اور پر فیکٹ فِگر اُس پر قیامت خیز لباس مجھ پر بجلیاں گرا رہے تھے۔ اس کی ہر ہر ادا پر میری جان نکل رہی تھی۔ میں باتیں تو اُن کے ساتھ کر رہا

تھا لیکن لیکن دماغ سے میں کسی اور ہی دُنیا میں تھا۔

وہ دونوں کھانا بنانے میں مصروف تھیں جبکہ میں حمیرا کے سحر میں گرفتار تھا۔ میں بار بار بہانے بہانے سے اُس سے ٹکرانے کی کوشش کر رہا تھا۔ دو تین دفعہ میں نے اپنے کندھے سے اُس کے مموں کو دبایا تھا جبکہ ایک آدھ دفعہ ہاتھ اس کی گانڈ پر

بھی لگایا تھا۔ میں سرور اور مستی کی سی کیفیت میں تھا۔ حمیرا سے چھونا اُسے بُرا نہیں لگا تھا یا پھر اُس کی نظر میں یہ سب حادثاتی تھا۔ کیونکہ کوئی خاص ری ایکشن اُس کی جانب سے دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔ پر سچ بات یہ ہے کے میری حالت غیر

تھی۔

خیر کھانا تیار ہوا اور ٹیبل پر لگا دیا گیا۔ ہم نے مل کر کھانا کھایا ۔ اس کے بعد میں نے خالہ سے اجازت چاہی تو انہوں نے بھی اجازت دیتے ہوئے کہا کے دھیان سے جانا راستے میں موٹرسائیکل چلاتے ہوئے مستی نہ کرنا۔ میں نے جی اچھا کہہ کر سعدیہ

کو چلنے کو کہا۔ سعدیہ بھی تیار تھی بس اُس نے کپڑے تبدیل کرنے تھے۔ وہ پانچ منٹ میں کپڑے تبدیل کر کے آ گئی۔ ہم گھر کیلئے نکلے تو شام ہونے کو تھی لیکن فاصلہ کوئی بہت زیادہ نہیں تھا اس لیئے کوئی زیادہ فکر بھی نہ تھی۔ سعدیہ ہلکے پیلے رنگ

کی قمیض جبکہ سفید شلوار اور دوپٹّے میں قیامت لگ رہی تھی۔ ہم ابھی کوئی آٹھ نو کلومیٹر ہی آئے ہوں گے کے کھڑاک کی ایک سخت آواز کے ساتھ موٹر سائیکل کی چین ٹوٹ گئی۔ میں نے اپنے طور پر اسے مرمت کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہ ہو

سکی۔ آس پاس کسی مکینک کا ہونا بھی ممکن نہیں تھا۔ کیونکہ یہ چند دیہاتوں کو ملانے والی ایک چھوٹی سی روڈ تھی۔ اور میں اگلے تمام راستے تک اسے دھکیل کر بھی نہیں لے جا سکتا تھا۔ میں نے دیکھا کے کوئی پانچ چھ سو گز دور ایک گھر تھا۔ میں نے

فیصلہ کیا کے موٹرسائیکل اس گھر میں کھڑی کر کے باقی تمام فاصلہ پیدل طے کرتے ہیں۔ اور موٹرسائیکل کو دھکیل کر اُس گھر تک لے گیا۔ گھر کے مکین اچھے تھے اُنہوں نے بھی وہاں موٹرسائیکل کھڑی کرنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ وہاں پر

موٹرسائیکل چھوڑنے کے بعد میں اور سعدیہ پیدل ہی گھر کیلئے روانہ ہوگئے۔ سڑک سے ہٹ کر ایک اور راستہ بھی ہمارے گاؤں کی طرف جاتا تھا جو کے نسبتاً چھوٹا تھا ہم اُسی راستے پر ہو لیئے۔ تا کہ جلد سے جلد گھر پہنچ سکیں۔ لیکن کہتے ہیں نا کے

مصیبت آنی ہو تو چھوٹی مسافتیں بھی لمبی ہو جاتی ہیں۔ کُچھ ایسا ہی ہمارے ساتھ ہونے جا رہا تھا۔ سعدیہ اور میں نے ابھی مُشکل سے ایک آدھ کلومیٹر ہی طے کیا ہو گا کہ آسمان یکا یک بادلوں سے بھرنے لگا۔ ہم اپنی بساط بھر تیز تیز چلنے کی کوشش کر

رہے تھے لیکن بارش شروع ہوگئی۔ ہم دونوں بہن بھائی بالکل اکیلے تھے دُور دُور تک کسی انسان کا نام نشان نہیں تھا اور راستہ بھی قدرے سُنسان تھا اُس پر بارش نے زور پکڑنا شروع کر دیا ہمارے کپڑے بُری طرح سے بھیگ چُکے تھے۔ ہم نے خود کو

بارش سے بچانے کیلئے درختوں کے ایک گھنے جھُنڈ کی اوٹ لی۔ بارش مزید تیز ہو رہی تھی جبکہ اندھیرا بھی بڑھ رہا تھا۔ سعدیہ کُچھ بھیگنے کی وجہ سے اور کُچھ اس سُنسان جگہ پر خوف کی وجہ سے بُری طرح سے کانپ رہی تھی۔ میں اُس کا دھیان

بٹانے کیلئے اُس سے ادھر اُدھر کی باتیں کر رہا تھا تاکہ اس کا دھیان باتوں میں لگا رہا تاکہ اُسے خوف اور سردی کا احساس نہ ہو۔ لیکن اُس کی حالت غیر سے غیر ہوتی جا رہی تھی۔ وہ میرے ساتھ بالکل چپک کر کھڑی تھی۔ میں اُسے دلاسہ دیئے جا رہا تھا

کہ ابھی بارش رُک جائے گی اور ہم گھر پہنچ جائیں گے۔ لیکن بارش تھی کے مزید رفتار پکڑ رہی تھی۔ بھائی مُجھے بہت سردی لگ رہی ہے۔ سعدیہ نے انتہائی کانپتی آواز میں بمشکل کہا۔ میں نے اُسے کہا کے اپنے بیگ سے چادر یا کوئی اور کپڑے نکال

کر لپیٹ لو، ” لیکن بھائی بیگ تو موٹرسائیکل کے ساتھ ہی رہ گیا۔سعدیہ نے انتہائی معصومیت سے کہا۔ میں بھی بُدھو ہی تھا کہ اندازہ ہی نہیں کر پایا کے ہم خالی ہاتھ ہی بھاگے چلے آرہے تھے۔ خیر اب کیا ہو سکتا تھا سوائے اس کے کہ سردی کو

برداشت کیا جائے ۔ لہذا میں نے سعدیہ کو یہی کہا کہ سردی کو برداشت کرے۔ اور ہمت سے کام لے لیکن۔ وہ نازک اندام نہ تو برداشت ہی کر پا رہی تھی اور نہ ہی اُس کے پاس ہمت تھی۔ قریب تھا کہ وہ گر جاتی میں نے فوراً اُسے سنبھالا دیا۔ اور اُسے

اپنے دونوں بازؤوں میں سمیٹ لیا۔ وہ بہت بُری طرح کانپ رہی تھی۔ اُس کی یہ حالت دیکھ کر مُجھے بھی ڈر سا لگ گیا۔ میں نے باری باری اُس کے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو اپنے ہاتھوں سے رگڑنا شروع کیا تاکہ اُسے کُچھ حرارت پہنچا سکوں۔ لیکن ایسا

کرنا کچھ فائدہ مند ثابت نہیں ہو رہا تھا۔ میں سعدیہ کا سر اپنی گود میں لیئے ایک درخت سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔اور اس کے دونوں ہاتھوں کی مالش کر رہا تھا۔ لیکن اُس کی حالت بدستور غیر سے غیر ہو رہی تھی۔ میں نے اُسے کھینچ کر گود میں لے لیا۔ بڑی

عجیب سی کیفیت تھی۔ میں درخت سے ٹیک لگائے ٹانگیں لمبی کر کے بیٹھا تھا جبکہ سعدیہ کو میں نے گود میں لیا ہوا تھا۔ اُس کا سر میرے بائیں کندھے پر تھا جبکہ میں نے اپنے دونوں بازوں اُس کے بازؤوں کے نیچے سے گُذار کر اُس کی پُشت پر لے گیا

تھا۔ اور اپنے بازؤوں سے اسکے سینے کو اپنے سینے سے بھینچ رکھا تھا۔ اب میں دائیں ہاتھ سے سعدیہ کی کمر کو رگڑ رہا تھا تاکہ اس کو کچھ نہ کچھ حرارت ملتی رہے۔ آپ کو بتاتا چلوں کے میں جو کچھ بھی کر رہا تھا وہ ایک بھائی کی بہن کیساتھ

خالص برادرانہ شفقت کے سوا کچھ نہ تھا۔ سعدیہ کی کپکپاہٹ کسی طور کم نہیں ہو رہی تھی۔ سردی کے مارے اُس کی حالت بُری تھی۔ میں اپنے دائیں ہاتھ کی ہتھیلی اُس کی کمر پر رگڑ رگڑ کر اُس کو حرارت دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ اچانک سعدیہ کی

قمیض کچھ ہٹ گئی اور میرا ہاتھ اُس کی ننگی کمر پر چلا گیا۔ مجھے اس کا جسم بہت ٹھنڈا لگا۔ میں ادھر ہی اُس کی ننگی کمر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ مجھے کچھ عجیب سا لگا۔ وہ کیفیت کیا تھی میرے لیئے اس کا اظہار اتنا آسان نہیں ہے۔ بہرحال میں نے اپنا

ہاتھ سعدیہ کی کمر پر نیچے سے اوپر تک پھیرنا شروع کر دیا۔ سعدیہ تقریباً نیم بیہوشی کی سی حالت میں تھی اور آنکھیں بند کیئے میرے ساتھ چپک کے لگی ہوئی تھی ۔ اُس کی ننگی کمر پر ہاتھ پھیرنے پر اُس نے میری طرف آنکھ کھول کے دیکھا اور پھر

آنکھ کو بند کر لیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد مجھے لگا کے سعدیہ کا جسم ابھی بھی ٹھنڈا ہے لیکن پہلے جیسا نہیں تو میں نے اسے اٹھا کر پوری طرح اپنی گود میں اس طرح لیا کے اس کی دونوں ٹانگیں میری کمر کی دونوں اطراف میں تھیں اس کا منہ میری طرف

تھا اور ہم دونوں کے سینے جُڑے ہوئے تھے۔جبکہ میرے دونوں ہاتھ اب اس کی کمر پر تھے۔ میں دونوں ہاتھ اوپر سے نیچے تک اس کی کمر پر پھیرنے لگا۔ یہی وہ لمحہ تھا شائید جب ایک بھائی کی شفقت ایک مرد کی چاہت میں تبدیل ہو رہی تھی۔ اور اسی

کمزور لمحے میں میں سعدیہ کے جسم سے مزہ لینے لگا۔ مجھے ناف کے نیچے اپنی ٹانگوں کے درمیان ہلچل سی محسوس ہوئی۔ اور میرے ہاتھ سعدیہ کی کمر پر اوپر گردن کے قریب سے لے کر نیچے اسکے کولہوں تک حرکت کر رہے تھے۔ ان ہی

لمحوں میں میں نے سعدیہ کے بریزیئر کی ہُک بھی اُٹھا دی۔ میرے ہاتھ آزادانہ اُس کی پوری کمر کی پیمائش کر رہے تھے۔ میں نے دھیرے دھیرے اپنے ہونٹوں کو سعدیہ کے کان کی لو کے بالکل نیچے اس کی گردن پر لگا دیا۔ میرا لن بڑی تیزی سے سختی

پکڑ رہا تھا۔میرے ہاتھ اب کمر سے ہوتے ہوئے سعدیہ کے مموں کی جانب بھی بڑھ رہے تھے۔ میرے ہونٹ گردن سے ٹھوڑی اور گالوں تک کی مسافت کر رہے تھے۔ میں اپنے ہونٹ اب سعدیہ کے منہ تک لے گیا اور آہستہ سے اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ

جما دیئے۔ میرے ہاتھ اب مزید نیچے کی طرف سعدیہ کی چوتڑ تک سہلا رہے تھے۔ سعدیہ کی شلوار میں الاسٹک ہونے کی وجہ سے میرے ہاتھوں کو نیچے تک جانے میں کچھ رکاوٹ نہیں ہو رہی تھی۔ میرا لن پوری طرح کھڑا ہوگیا تھا اور وہ شلوار کے

اوپر سے ہی سعدیہ کی پھُدی سے رگڑ کھائے ہوئے تھا۔ میں ایک بھائی کی بجائے ایک عام مرد تھا اور سعدیہ میرے لیئے بس ایک عورت ہی تھی۔ میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے ایک ہاتھ سے اپنا آزاربند کھولا پھردونوں ہاتھوں سے سعدیہ کی گانڈ کو اوپر اُٹھا کر

اس کی شلوار کو نیچے کھینچ لیا۔
سعدیہ جو پہلے صرف کسمسا رہی تھی۔ جیسے ہی اس کی ننگی گانڈ میرے برہنہ لن کے ساتھ لگی اسے بھی شائید جھٹکا سا لگا۔ اس کی آنکھیں بھی کھل گئیں اور اس کے منہ سے بس اتنا ہی نکلا بھائی کیا کر رہے ہو۔ لیکن یہ وہ وقت تھا شائید جہاں سے پیچھے نہیں جایا جا سکتا۔ میں نے بھی گویا کچھ نہیں سُنا تھا۔ نہ میرے ہاتھ رُکے نہ ہونٹوں نے اپنا کام روکا اور نہ ہی میرے لن کو کوئی فرق پڑا۔ میرا لن سعدیہ کی پھُدی سے رگڑ کھاتا ہوا اُس کی ناف سے ٹکرا رہا تھا۔ میں نے اُدھر ہی جھٹکے دے کر لن کو ناف اور پھُدی سے رگڑنا شروع کر دیا جبکہ میرے ہاتھ سعدیہ کے گول مٹول مموں کا مساج کر رہے تھے۔ جبکہ سعدیہ کے ہونٹوں کو میں اب باقاعدہ چوس رہا تھا۔ سعدیہ اب ہوش میں آ چُکی تھی اور خود کو چھڑانے کی کوشش بھی کر رہی تھی۔ لیکن یہ اب اس کیلئے شائید ممکن نہیں تھا۔بھائی مت کرو ایسا، بھائی ہوش کرو، بھائی رکو وغیرہ کے بہت سے جملے میرے کانوں سے ٹکرا رہے تھے، لیکن میں سب ان سُنی کرتے ہوئے اپنے کام میں لگا رہا۔میرے نہ تو جھٹکے رُکے نہ اس کے ہونٹ چومنا رکے اور نہ ہی میرے ہاتھ۔ سعدیہ کے بدن کو حرارت دیتے دیتے میرے اپنے اندر الاؤ بھڑک اُٹھا تھا۔ مجھے یہ بھی احساس ہوا کے سعدیہ کا جسم بھی اب پہلے سا ٹھنڈا نہیں بلکہ اس کا پورا بدن بھی گرم تھا۔ مجھے اب یہ بھی لگ رہا تھا کہ سعدیہ اب خود کو چھڑانے کی بھی کوشش نہیں کر رہی تھی۔ میں نے اسی طرح اپنے لن کو سعدیہ کی پھُدی پر رگڑتے ہوئے جھٹکے جاری رکھے۔ جبکہ اب میں سعدیہ کی دونوں نپلز کو مسل رہا تھا جس پر سعدیہ کے منہ سے سسکاری سی نکل رہی تھی۔

ہماری پوزیشن اب بھی وہی تھی۔ یعنی میں اپنی ٹانگیں لمبی کیئے درخت کے ساتھ بیٹھا تھا اور سعدیہ میری طرف منہ کیئے ہوئے میری رانوں پر بیٹھی تھی، جہاں میرا لن اس کی پھُدی سے رگڑ کھاتے ہوئے اس کی ناف سے ٹکرا رہا تھا۔ میرا لن تن کر لوہے کی طرح سخت اور کسی انگارے کی طرح گرم ہو چُکا تھا۔ اسی لمحے مجھے لگا کہ سعدیہ کے ہاتھ بھی آہستہ آہستہ میری کمر پر گھوم رہے ہیں اور ان کی گرفت بھی سخت ہو رہی ہے۔ مجھ پر گویا ایک جنون کی سی کیفیت طاری تھی۔ میری سوچ سمجھ سب مفلوج ہو کےرہ گیا تھا۔ سعدیہ کے اس عمل سے مجھے اور ہمت ہوئی میں نے دیکھا کے سعدیہ بھی جیسے ہلکے ہلکے جھٹکے لے رہی تھی اور شائید میرے لن کا اُس کی پھُدی سے رگڑ کھانا اُسے بھی مزا دے رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کے میں جب بھی اپنے لن کو اُس کی پھُدی سے رگڑتے ہوئے اوپر اُٹھاتا وہ پھُدی سے میرے لن پر اپنا دباؤ بڑھاتی۔ اس کی پُھدی نے پانی چھوڑنا شُروع کر دیا جو کہ مُجھے اپنے لن پر محسوس ہو رہا تھا۔ میں مسلسل سعدیہ کے ہونٹوں کو چُوس رہا تھا جبکہ دائیں بازو سے اُس کی کمر کے گرد اپنی گرفت مضبوط کیئے ہوئے تھا۔جبکہ بایاں ہاتھ اُس کے پورے جسم کی پیمائش کر رہا تھا۔ میں نے اب اگلا قدم لینے کا فیصلہ کیا۔ میرا بایاں ہاتھ اب سعدیہ کی ٹانگوں کے درمیان ٹھیک اُس کی پھُدی پر تھا۔ میرے ہاتھ کی درمیانی اُنگلی سعدیہ کی پھُدی کے دونوں ہونٹوں کے درمیان میں تھی۔ کُچھ دیر میں نے سعدیہ کی پھُدی پر یونہی ہاتھ پھیرتا رہا پھر میں نے اپنی اُنگلی کو پھُدی کے اندر ڈال دیا۔ بہت تنگ سوراخ تو تھا ہی بُہت زیادہ گرم بھی تھا۔ اُنگلی جیسے ہی پھُدی کے اندر گئی سعدیہ کی چیخ بھی نکل گئی۔ میں نے کچھ لمحوں کیلئے ہاتھ روک لیا اور پھر دوبارہ سے اُنگلی کو مزید اندر کیا تو سعدیہ پھر چیخ پڑی۔ میں نے اس کے ہونٹوں پر ایک لمبی کس کی اور دونوں ہاتھوں سے سعدیہ کی گانڈ کو اوپر اٹھایا اور اپنے لن کو ٹھیک اُس کی پھُدی کے ہونٹوں کے بیچ ٹکا دیا۔ اور لن کے ٹوپے کو سوراخ پر دھیرے دھیرے رگڑنے لگا۔ سعدیہ کی پھُدی سے نکلنے والا پانی بہت گھنا اور چکنا تھا جس سے میرے لن کا پورا ٹوپا بھیگ کر چکنا ہو چکا تھا یہی وجہ تھی کے وہ سوراخ میں جانے کے بجائے آگے پیچھے پھسل رہا تھا۔ سعدیہ ابھی تک کنواری تھی اور اس کی پھُدی کا سوراخ بہت چھوٹا اور تنگ تھا جبکہ میرا لن آٹھ انچ لمبا اور تقریباً ڈیڑھ انچ گولائی میں موٹا تھا۔ سعدیہ بیہوشی سے مدہوشی تک آ گئی تھی۔ وہ بھی سیکس میں پورا مزہ لے رہی تھی۔ میں نے اپنے بائیں ہاتھ سے لن کو پکڑ کر سعدیہ کی پھُدی کے عین سوراخ پر رکھ کر تھوڑا سا دباؤ ڈالا تو لن کا ٹوپا تھوڑا سا پھُدی کے اندر چلا گیا لیکن اسی وقت سعدیہ کی ایک دلخراش چیخ بھی نکلی جس سے میرے دل میں اُس کیلئے رحم جاگا پر شیطان مردود آج رحمدلی کے سارے جذبوں کو قتل کرنے پر آمادہ تھا۔ میں نے چند لمحے انتظار کے بعد دوبارہ لن کو جھٹکا دیا اس بار بھی سعدیہ کا ردعمل ویسا ہی تھا۔ ایک اور چیخ "اوئی ماں میں مر گئی” کے الفاظ کے ساتھ اس کے منہ سے نکلی۔ اس دفعہ لن کا ٹوپا اندر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ مجھے لگ رہا تھا کہ جیسے میرا لن کسی شکنجے میں جکڑ گیا ہو۔ سعدیہ شدید درد کی کیفیت میں تھی وہ درد کے مارے پیچھے کو جھُک گئی۔ میرے دونوں ہاتھ اب اُس کے کولہوں پر تھے اور میں اُس کے پیٹ پر بوسے دے رہا تھا۔ وہیں سے میں نے کولہوں پر نیچے کی جانب دباؤ ڈالا جبکہ نیچے سے لن کو اوپر کی جانب زرا زور سے جھٹکا دیا۔ کوئی دو ڈھائی انچ تک لن پھُدی کے اندر تھا لیکن ابھی اسے کُچھ اور مسافت طے کرنی تھی۔ سعدیہ سے شائید اب برداشت نہیں ہو رہا تھا وہ دونوں ہاتھوں سے مجھے دھکیلنے کی کوشش کرتے ہوئے خود کو چھڑانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔ ” بھائی میں مر جاؤں گی، بھائی پلیز اسے باہر نکالو، ہائے ماں میں کیا کروں، ” میں نے اُس کی کمر کے گرد اپنے بازؤوں کا گھیرا بنا کر مضبوطی سے پکڑ لیا، اور وہیں سے اسے ایک اور جھٹکا دیا۔ لن آہستہ آہستہ اندر جا رہا تھا جبکہ سعدیہ کی حالت غیر ہو رہی تھی۔ اُس نے دونوں ہاتھوں سے میرے سینے پر پیٹنا شروع کر دیا۔ وہ مسلسل کہے جا رہی تھی۔” بھائی قسم سے میں مر جاؤں گی، میری پھُدی جل رہی ہے، پلیز اسے نکالو باہر، بہت درد ہو رہی ہے،” میں جیسے گونگا بہرا ہو گیا تھا۔ اس کی کسی بات پر کوئی دھیان نہیں دے رہا تھا۔ اُس وقت مُجھے بس ایک ہی دھیان تھا، وہ یہ کے کس طرح سے لن کو مکمل پھُدی کے اندر گھسیڑنا ہے۔ اور میں اپنی پوری کوشش بھی کر رہا تھا۔ اس کوشش میں میں ابھی آدھا ہی کامیاب ہوا تھا۔ سعدیہ واقعی میں مری جا رہی تھی۔ اُس کی آنکھیں پوری کھُلی تھیں اور چہرے کا رنگ زرد ہو رہا تھا۔ شائید یہ درد کی شدت ہی تھی جسے وہ برداشت کر رہی تھی۔ اب کی بار میں نے جھٹکا دیا تو وہ بلبلا کر اُچھل پڑی۔ اُس کا اُچھلنا اتنا اچانک اور شدید تھا کہ وہ میری گرفت سے نکل کر پرے جا پڑی۔ میرا لن پھُدی سے نکل گیا اور وہ جیسے سخت غُصے میں تن تنا رہا تھا۔ جبکہ سعدیہ نے اپنے دونوں ہاتھ پھُدی پر رکھ دیئے۔ وہ پھُدی کو دونوں ہاتھوں سے سہلاتے ہوئے منہ سے پھونکیں مارنے لگی جیسے حقیقت میں اُس کی پھُدی جل گئی ہو اور وہ اُسے پھونکیں مار کر ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔ اسی وقت اسے اپنے ہاتھوں پر لگا خون نظر آیا تو وہ زور سے رونے لگی۔اپنے دونوں ہاتھوں کو میری آنکھوں کے بالکل سامنے لاتے ہوئے پوچھا بھیا یہ خون کیسا ہے؟ آپ نے کیا کیا میرے ساتھ؟ میں مر جاؤں گی بھائی۔ وہ بہت ڈر گئی تھی۔ میں نے اُسے بازو سے پکڑ کر قریب کرتے ہوئے کہا کے کُچھ نہیں ہوا۔ ایسا سب کے ساتھ ہوتا ہے اور زندگی میں ایک ہی بار ہوتا ہے۔ تم نے جو درد اٹھانا تھا وہ اٹھا لیا اب وہ مزہ شروع ہونا تھا جس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتی۔ میں نے اس کا ڈر ختم کرنے کیلئے اسے بانہوں میں بھر کے اس کے ہونٹوں پر اُس کی گردن کندھوں اور مموں پر بوسے دینے شروع کر دیئے۔ اور ساتھ ساتھ میں اسے بتا بھی رہا تھا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ میں بار بار اُسے آنے والے مزے کا کہہ رہا تھا تاکہ اُس مزے کیلئے تجسس پیدا ہو اور وہ جلد سیکس کیلئے دوبارہ آمادہ ہو جائے۔ آگ تو اُسے بھی جھُلسائے ہوئے تھی۔ جلد ہی مجھے لگا کے وہ اب نہیں روکے گی۔ میں نے اُسے پکڑ کے واپس اُسی پوزیشن پر بٹھایا۔ میں اب جلدی میں تھا میں نے لن کو تھوک سے گیلا کیا اور پھُدی پر رکھ کر زور کا جھٹکا دیا۔سعدیہ اب کی بار بھی تڑپ کر رہ گئی لیکن اب میری گرفت بہت مضبوط تھی۔ میں نے دوسرا پھر تیسرا جھٹکا دیا تو لن اپنی آدھی منزل طے کر چکا تھا۔ سعدیہ اب کی بار بھی چیخ رہی تھی۔ بھائی رک جاؤ، بھائی اس کو نکالو بہت درد ہو رہی ہے، میں مر جاؤں گی، میں نے اس کے ہونٹوں کو چُوستے ہوئے کہا سعدیہ یقین کرو تمہیں کُچھ نہیں ہو گا اس کے تمہارے اندر جانے سے تم نہیں مرو گی پر اگر میں نے اس کو نکال لیا تو میں ضرور مر جاؤں گا۔ میں مسلسل جھٹکے دے رہا تھا اور ہر جھٹکے کے ساتھ لن پھُدی کے اندر غرق ہو رہا تھا۔ ہر جھٹکے پر سعدیہ تڑپ اُٹھتی۔ ہر جھٹکے کے بعد اگلے جھٹکے کے لیئے میرا جوش اور بڑھ جاتا۔ میرا پورا لن سعدیہ کی پھُدی کے اندر پہنچ گیا۔پھُدی اتنی تنگ تھی کے میرے لن پر شکنجہ سا محسوس ہو رہا تھا۔ پھُدی کی دیواروں نے پوری طرح لن کو جکڑ لیا تھا۔ اور لگ رہا تھا جیسے لن آگ میں رکھ دیا ہو۔ سعدیہ کی آنکھیں بند منہ کھلا ہوا جبکہ ہونٹ خشک تھے جن کو میں چُوس چُوس کر تر رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں کچھ دیر کیلئے رکا، میں اس احساس کو کُچھ دیر برقرار رکھنا چاہتا تھا۔ سعدیہ سے پوچھا کے اب بھی درد ہو رہی ہے تو اُس نے بتایا کہ اب درد کم ہے اور عجیب سی پُرلطف کیفیت ہے، میں نے اُسے کہا کے اب درد نہیں رہے گا اور تم کو بہت مزہ آئے گا۔ پھر میں نے لن کو پھُدی کے اندر ہی گھُمانا شروع کیا چند لمحوں کے بعد میں نے لن کو آہستہ آہستہ واپس کھینچا اور ٹوپے تک باہر آ جانے دیا اور پھر جھٹکے سے اسے واپس پھُدی کے اندر دھکیل دیا۔ سعدیہ کی ایک مرتبہ پھر آہ نکلی۔ لیکن اب اس نے دونوں ہاتھوں سے میرے کندھوں کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ میں نے لن کو اندر باہر دھکیلنے کا عمل دھیرے دھیرے جاری رکھا۔ سعدیہ آنکھیں بند کیئے ہوئے تھی جبکہ اُس کا مُنہ کھلا تھا اور جب بھی میں لن کو اندر دھکیلتا اُس کا مُنہ تھوڑا اور کُھل جاتا۔ میں نے ہونٹ اُس کے ہونٹوں پر رکھ کر زبان اُس کے منہ میں ڈال دی اور اس کے منہ کے اندر زبان کو گھمانے لگا ساتھ ہی میں نے لن کو جھٹکے دینے کی رفتار بھی بڑھا دی۔ سعدیہ کو بھی مزہ آنے لگا تھا۔ وہ بھی اب اپنی گانڈ کو ہلا ہلا کر اُچھل رہی تھی۔ اُس کے منہ سے نکلنے والی آہہہہ اووو ھمممم ممممممم کی آوازیں پتہ دے رہیں تھیں کے وہ اب پوری طرح سے مزے کی وادی میں اُتر چُکی ہے۔ میں نے بھی جھٹکے دینے کی رفتار تیز کر دی۔ سعدیہ بےخود ہو رہی تھی اُس نے مجھے چُومنا چاٹنا شروع کر دیا۔ اُس کے اس عمل نے مزہ دوگنا کر دیا۔ میں بھی پورے جوش سے جھٹکے دے رہا تھا۔ اچانک مجھے اُس کے جسم میں کُچھ تناؤ لگا میں نے اُس کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہ سانس روکے آنکھیں بند کیئے ہوئے تھی۔ پھر اُس نے آہستہ آہستہ سانس چھوڑنا شروع کی اور اس کا تنا ہوا بدن بھی ڈھیلا پڑنے لگا۔ وہ چُھوٹ رہی تھی اُس کی پھُدی سے نکلنے والا پانی میرے پیٹ پر پھیل گیا۔ میرا لن اُس کی پھُدی کے پانی سے پورا تر تھا۔ اور میں اب پُوری رفتار سے لن کو اندر باہر جھٹکے دے رہا تھا۔ سعدیہ کے منہ سے نکلنے والی اُممممم ممممم آہہہہہ اووووو کی آوازیں بدستور جاری تھیں۔ اس کی پھُدی سے نکلنے والا پانی رگڑ کھا کھا کر کریم کی صُورت گاڑھا ہو گیا تھا۔ میرے جھٹکے اپنی پوری رفتار سے جاری تھے سعدیہ بھی میرا ساتھ دے رہی تھی۔ کُچھ دیر بعد مجھے لگا کہ میرا لن بھی لاوا اُگلنے والا ہے۔ میں نے جھٹکے دینا روک دیا۔ کیونکہ میں اس مزے اور سرور کی وادی میں کُچھ دیر اور رہنا چاہتا تھا۔ تھوڑی دیر میں ہی میں اپنی قوت کو جمع کر کے دوبارہ شروع ہو گیا۔ سعدیہ کے منہ سے بدستور آوازیں نکل رہی تھیں اور وہ میرے لن کے ہر ہر جھٹکے پر اپنی پھُدی سے واپس جھٹکے دے رہی تھی۔ مجھے لگا کے وہ دوبارہ سے چھُوٹنے والی ہے تو میں نے بھی اُس کے ساتھ چُھوٹنے کا فیصلہ کیا۔ میں کسی مشین کی طرح تیزی سے جھٹکے دینے لگا- سعدیہ کے منہ سے عجیب سی آوازیں برآمد ہو رہی تھیں۔ میں مسلسل اُس کے مموں اور ہونٹوں پر بوسے دیئے جا رہا تھا۔ سعدیہ بھی بھرپور جواب دے رہی تھی۔ اس نے لن کے اوپر تیز تیز اُچھلنا شروع کیا تو مجھے علم ہو گیا کہ وہ اب پھر سے چھُوٹنے والی ہے۔ میں نے بھی جھٹکے لگانے کی رفتار تیز کر دی۔ میرے لن کی رگیں اُبھر سی گئیں تھیں۔ لاوا تیار تھا اور بس نکلنے کو ہی تھا۔ اچانک سعدیہ ہلکان ہو کر میرے سینے پر گر سی گئی۔ وہ دوبارہ فارغ ہو چُکی تھی۔ میں بھی لاوا اُگلنے ہی والا تھا اور پھر اچانک مجھے لگا کہ تپتے ہوئے صحرا میں جیسے بادل سے چھا گئے ہوں۔ اک سکون سا تھا۔ ہم دونوں کُچھ دیر اُسی حالت میں ایک دوسرے کو بانہوں میں بھر کر بیٹھے رہے۔ جب سب سکون ہو گیا تو تب ہمیں حالات اور واقِعات کی نزاکت کا احساس ہوا۔ سعدیہ میرے سینے پے سر رکھے رونے لگی میں بھی شرم ، ندامت اور گُناہ کے احساس سے زمین میں گڑھا جا رہا تھا۔ کُچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کروں کیا نہ کروں۔ میں سعدیہ کے سامنے دونوں ہاتھ باندھ کے کھڑا ہو گیا اور کہا کہ جو گُناہ مجھ سے سرزد ہو گیا ہے اگرچہ میں کسی صورت بھی معافی کا حقدار نہیں پھر بھی تم سے معافی مانگتا ہوں ہو سکے تو اس گناہگار کو معاف کر دینا کیونکہ میں نے اب زندہ نہ رہنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تُم کو گھر پہنچا کر میں کہیں دور جا کے خودکُشی کر لوں گا۔ سعدیہ نے یہ سُنا تو رونا بند کر دیا۔ میرے دونوں ہاتھ پکڑ کر بولی، بھائی جو گُناہ آپ نے کیا ہے میں بھی اُس گُناہ میں شریک تھی۔ آپ خودکُشی کر لو گے تو کیا میں زندہ رہ پاؤں گی۔ اور ہم دونوں کی اس طرح موت پر لوگ اُنگلی نہیں اُٹھائیں گے کیا۔ دُنیا ہمارے ماں باپ اور بہن بھائیوں کا جینا حرام نہیں کر دیں گی کیا؟ تو کیا کروں مجھے کُچھ سمجھ نہیں آ رہا میں نے پوری بےبسی اور رو دیتے ہوئے کہا۔ کیوں نا ہم اس وقت کو ہی مار دیں جو ہم پربیت چُکا ہے۔ سعدیہ نے رازدارانہ انداز میں مشورہ دیتے ہوئے کہا۔ میں نے حیرانی سے اُسے دیکھتے ہوئے پوچھا کیا مطلب؟ مطلب یہ کے کیوں نہ ہم اس وقت اور اس واقعے کو یہیں دفن کر دیں اور بھول جائیں کے یہ واقعہ کبھی ہمارے ساتھ پیش آیا تھا۔ ہم وہاں سے شروع کرتے ہیں جہاں دوگھنٹے پہلے ہم تھے۔ اگرچہ میں اُس کی بات سے مُتفق ہو گیا تھا لیکن گناہ کے بوجھ سے میرے کندھے جُھکے ہوئے تھے اور نگاہ اوپر اُٹھ ہی نہیں رہی تھی۔ ہم دونوں اُٹھے تو دیکھا کپڑے کیچڑ سے بھرے تھے۔ بارش کا پانی ایک جگہ جمع ہوا تھا جس سے ہم نے کپڑوں سے کیچڑ اُتاری۔ سعدیہ کی شلوار پر خون بھی لگا تھا جسے ہم نے دھونے کی کوشش کی لیکن دھبے بدستور برقرار رہے تو ہمنے ان دھبوں پر اچھی طرح سے کیچڑ مل دی تاکہ خون نظر نہ آئے۔ وہاں سے ہم یہ عہد کر کے چلے کے یہ جو وقت گُذرا ہے ہم اسے بالکل بھول جائیں گے جیسے کُچھ ہوا ہی نہیں۔
ہم گھر پہنچے تو گھر میں تمام لوگ کافی پریشان تھے۔ جیسے ہی ہم کو دیکھا تو ان کی جان میں جان آئی۔ امی تو ہم دونوں پر فدا ہو رہی تھیں کبھی مجھے اور کبھی سعدیہ کو بانہوں میں بھر بھر کے چُوم رہی تھیں۔ ہم نے نہا دھو کر کپڑے تبدیل کیئے۔ پھر کھانا سب نے مل کر ہی کھایا۔ کھانے کے دوران میں کبھی کبھی آنکھ اُٹھا کر سعدیہ کو دیکھ لیتا۔ مجھے نہیں معلوم کے وہ بھی مجھے دیکھ رہی تھی یا نہیں۔ آج ہمارے ساتھ بیتنے والا ہر پل میری نظروں میں گھوم جاتا۔ مجھے خود پر غُصہ آ جاتا کے کیسے میں نے ان کمزور لمحوں کو خود پر ہاوی ہونے دیا۔ کیسے میں رشتے کا تقدس نہ کر سکا۔ مجھے خود سے شرم آ رہی تھی۔ اگرچہ سعدیہ نے کہا تھا کے ہم اس وقت کو ہی یاد نہیں رکھیں گے اور سمجھیں گے کے یہ ہماری زندگی کا حصہ ہی نہیں۔ لیکن یہ خیال کے کیا ہم واقعی اس تلخ حقیقت کو بھول پائیں گے اور ساتھ ہی یہ ڈر اور خوف کے اگر کسی کو اس بات کا پتہ چل گیا تب کیا ہو گا۔ سعدیہ بھی شائید اپنی طور پر انہیں سوچوں میں گُم تھی۔ کھانے کی میز سے اُٹھے تو بجائے ٹی وی لاؤنج میں بیٹھنے کے میں اپنی روم میں چلا گیا۔ امی نے سعدیہ سے بھی کہا کے اُس کی حالت بھی ٹھیک نہیں لگ رہی وہ بھی جا کر اپنے بیڈ روم میں آرام کرے۔ سعدیہ جو امی کو برتن سمیٹنے میں ہیلپ کر رہی تھی ، جی اچھا کہہ کر اپنی بیڈ روم میں چلی گئی۔ صُبح کافی دن چڑھ آیا تھا جب میری آنکھ کھُلی وقت دیکھا تو دن کا ایک بج رہا تھا۔ میں جھٹکے سے اُٹھ بیٹھا۔ گھر کے تمام کمروں میں جھانک کر دیکھا پر گھر میں کوئی موجود نہ تھا۔ میں ٹی وی آن کر کے بیٹھ گیا۔ ہزار طرح کی سوچیں تھیں جو میرے دماغ کو بوجھل کیئے ہوئے تھیں۔ خوف میرے دماغ میں گھنٹیاں بجا رہا تھا۔ مجھے لگا جیسے میں پاگل ہو جاؤں گا۔ اگر تھوڑی ہی دیر بعد امی اور سعدیہ واپس نہ آگئیں ہوتیں تو مجھے پورا یقین تھا کے میں چیخنے چلانے لگتا۔ اندر کی وحشت تھی جو مجھے پاگل کیئے دے رہی تھی۔ امی نے آتے ہی مجھے پوچھا کے میری طبیعت اب کیسی ہے۔ تو میں نے کہا ٹھیک ہوں ۔ تب امی نے بتایا کے رات میں اور سعدیہ سخت بخار میں تھے۔ لیکن صبح چونکہ میں گہری نیند میں تھا اس لیئے وہ سعدیہ کو اکیلے ہی ڈاکٹر کے پاس لے گئی تھیں۔ انہوں نے ڈاکٹر سے لائی ہوئی دوائی مجھے اور سعدیہ کو پلائی وہ کہہ رہی تھیں ” فکر نہ کرو شام تک تم دونوں بالکل ٹھیک ہو جاؤ گے، کل بارش میں بھیگتے رہے ہو نا اس لیئے بخار ہو گیا ہے۔ ” میں نے بس اوں آں میں ہی جواب دیا جبکہ سعدیہ صوفے کے کونے پر کمبل کیئے آنکھیں بند کر کے لیٹی تھی۔ وہ کچھ نہ بولی۔ میں چور نگاہوں سے کبھی کبھی سعدیہ کو دیکھ لیتا اور پھر نظریں جھکا لیتا۔ شام تک واقعی ہم ٹھیک تھے۔ سعدیہ بھی شام کو امی کیساتھ کچن میں ان کی ہیلپ کر رہی تھی اور میں بھی تھوڑی دیر کیلئے گھر سے باہر نکل آیا۔ میں کوشش کر رہا تھا کے اس واقعے کو دماغ کے کونے کھدروں سے کھُرچ کر پھینک دوں لیکن لیکن میری ہر کوشش ناکام ہو رہی تھی۔ میں جتنا بھولنا چاہتا تھا وہ اتنا ہی دماغ میں فلم کی طرح چلنا شروع ہو جاتا۔

میں بظاہر ٹھیک تھا لیکن میرے اندر کا خلفشار مجھے چین نہیں لینے دے رہا تھا۔ رات جب کھانا کھانے کے بعد ہم سب ٹی وی لاؤنج میں ٹی وی دیکھ رہے تھے تو امی نے شائید نوٹ بھی کیا کہ میں ذہنی طور پر حاضر نہیں ہوں تو انہوں نے پوچھ بھی لیا، ” جہانزیب تم ٹھیک تو ہو..ایسے کہا کھوئے ہوئے ہو، کوئی پریشانی ہے کیا؟ ” امی نے ایک دم سے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی تو میں بوکھلا سا گیا۔ ” جی….جی جی وہ کچھ بھی نہیں بس آج کالج نہیں جا سکا نا اس لیئے کالج کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ یہ کہتے ہوئے میری نظر سعدیہ کی طرف اُٹھی تو وہ میرا جواب سُن کر ہنس رہی تھی۔ "تو کوئی بات نہیں صُبح تم کالج چلے ہی جاؤں گے اس میں پریشانی کیا ہے۔” امی دوبارہ سے ٹی وی کی جانب دیکھتے ہوئے بولیں۔ ” جی ہاں… ایسے ہی ہے۔” میں نے بھی ٹی وی پر نظریں گاڑ دیں۔ صُبح اُٹھ کر کالج گیا تو وہاں بھی ہر چیز عجیب سی لگ رہی تھی۔ واپس گھر پہنچا تو سعدیہ گھر میں اکیلی تھی۔ اس سے پوچھنے پر پتا چلا امی پڑوس کے کسی گھر گئ ہیں۔ سعدیہ نے میرے لیئے کھانا نکالا اور میرے پاس ہی بیٹھ گئی۔ میں اس کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا۔ ابھی پہلا لُقمہ ہی لیا تھا کے مجھے سعدیہ کی آواز سُنائی دی ” بھائی یہ احمقوں کا طرزعمل بند کریں اور خود کو سنبھالیں، ورنہ آپ کے رویّے سے سب کو شق ہو گا کے کوئی بات ہوئی تھی۔” ” میں کیا کروں سعدیہ، جو کُچھ ہوا وہ میرے دماغ سے جاتا ہی نہیں” میں نے نظریں جھکائے ہی جواب دیا۔ ” میں جتنا بھولنے کی کوشش کرتا ہوں، یہ اتنا ہی میرے دماغ میں چپک جاتا ہے۔” میری حالت کسی ہارے ہوئے جواری سے بھی بدتر تھی۔ سعدیہ اُٹھی اور گوشت کاٹنے والی بڑی چھُری لے آئی, ” اگر خود کو سنبھال نہیں سکتے تو یہ چھُری لو اور پھیر دو میرے گلے پر، کیونکہ جو ہوا اس میں میں بھی شریک تھی۔” اس کے تیور دیکھ کر میرے پورے بدن میں ایک سرد لہر دوڑ گئی۔ میں اُسے دیکھے جا رہا تھا۔ اگرچہ وہ مجھ سے تین سال چھوٹی تھی اور ساتھ میں لڑکی تھی لیکن اُس کے اعصاب مجھ سے مضبوط تھے وہ اتنے بڑے واقعے کو اتنا جلدی فراموش کر دے گی بلکہ مجھے بھی حوصلہ دے گی کہ میں بھی اسے فراموش کر دوں۔ ایسا میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ "سعدیہ اگر کسی کو علم ہو گیا تو؟ ” میں اس ذلت کا سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا ہوں۔” ابھی الفاظ میرے منہ میں تھے کے سعدیہ بول پڑی ” کسی کو کیسے علم ہو گا، اس بات کو آپ جانتے ہیں یا میں۔ کیا آپ بتائیں گے؟ کیونکہ میں تو کسی کو بتانے والی نہیں۔” سعدیہ میرے چہرے پر نظریں جمائے بولے جا رہی تھی اور میں سُن رہا تھا۔ اس کی باتیں مجھے حوصلہ دے رہی تھیں۔ سعدیہ نے ایک بار پھر مُجھ سے وعدہ لیا کہ میں اس واقعے کو بھول جاؤں گا اور اپنے کسی عمل یا بات سے کبھی اسے ظاہر نہیں ہونے دوں گا۔

کچھ دن کرب و اذیت کے گُذرے لیکن پھر آہستہ آہستہ حالات معمول پر آنے لگے۔ میں یہ تو نہیں کہتا کے میں اس واقعے کو بالکل بھول گیا تھا۔ مگر یہ ضرور تھے کے میں پہلے جیسی نارمل زندگی کی طرف لوٹ آیا تھا۔ ہر چیز پہلے جیسی تھی لیکن کبھی کبھی یہ احساس ہوتا کے کچھ نہ کچھ ضرور بدلہ ہوا ہے۔ لیکن پھر سب کو اپنی اپنی زندگی میں مگن دیکھ کر اسے اپنا وہم خیال کر کے ذہن سے جھٹک دیتا۔ لیکن ایک روز مجھے لگا کے میں جسے وہم سمجھ رہا تھا وہ محض وہم نہ تھا۔ بلکہ حقیقت میں بدلاؤ تھا۔ اور یہ بدلاؤ سعدیہ کے رویے میں تھا۔ میں جب بھی گھر ہوتا وہ میرے قریب ہونے کی کوشش کرتی۔ میرے ساتھ اس کے انداز بڑے دلربانہ ہوتے۔ وہ میرے سامنے ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر اور چھاتی پھیلا پھیلا کر انگڑائیاں لیا کرتی۔ میں اگر کچن میں اس کے ہوتے ہوئے کچھ لینے چلا جاتا تو وہ بہانے بہانے سے مجھ سے ٹکراتی۔ میں صوفے پر ہوتا تو وہ میرے ساتھ جُڑ کے بیٹھنے کی کوشش کرتی۔ اگر اسے دوسرے صوفے پر بیٹھنا پڑتا تو وہ ایسے انداز سے بیٹھتی کے میری نظر اس کی گانڈ پر ضرور پڑے۔ بہت دفعہ میرے قریب سے گُذرتے ہوئے بڑے غیر محسوس انداز سے اس کے ہاتھ نے یا گانڈ نے میرے لن کو چھوا تھا۔ صوفے پر اگر اسے میرے ساتھ بیٹھنے کا موقع مل جاتا تو وہ ہمیشہ اپنا ہاتھ میری ران پر رکھ دیتی اور چھیڑ چھاڑ کرنے لگتی۔ اُسے چونکہ سکول یا کالج جانا نہیں ہوتا تھا اسی لیئے رات سونے والے پاجامے میں ہی سارا دن گھر میں گھومتی رہتی جس سے اس کی گانڈ کی گولائیوں کے اُبھار واضح نظر آتے۔ میں ان سب چیزوں کو اہمیت نہیں دینا چاہتا تھا۔ اور اگر دماغ میں کوئی بات آتی بھی تو یہ سوچ کر کے چونکہ ہم ایک واقعے سے گُذر چُکے ہیں اس لیئے یہ میرا ذہنی خلفشار ہے ورنہ ایسی کوئی بات نہیں۔
میں ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا اس واقعے سے پہلے اور بعد میں ہونے والی چیزوں کا موازنہ کرتا۔ اور پھر خود کو سمجھانے کی کوشش کرتا کے سعدیہ کے ساتھ ایک صوفے پر بیٹھنا یا پھر گھر میں آگے پیچھے ٹکرانا پہلے بھی ہوا کرتا تھا لیکن پہلے کبھی خیالات ایسے نہیں ہوتے تھے۔ اور پھر خود کو کہتا کے میرا وہم ہے۔ لیکن اُس دن میں کالج سے آیا تو امی گھر میں نہیں تھیں اور سعدیہ اپنے کمرے میں تھی۔ مجھے بہت بھوک لگ رہی تھی۔ اس لیئے میں اسے کھانا لگانے کا کہنے کے لیئے اسے آوازیں دیتا ہوا اس کے کمرے میں چلا گیا تو دیکھا وہ بغیر قمیض پہنے ہوئے صرف برا میں بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ شائید وہ کچھ کر رہی تھی۔ مجھے ایک جھٹکا لگا اور میں کچھ لمحوں کیلئے وہیں ٹھٹھک کر رک گیا اور پھر الٹے قدموں اس کے کمرے سے باہر آ گیا۔ باہر آکر میں نے پھر اسے آواز دی سعدیہ میں تمہیں آوازیں دے رہا تھا تو تم مجھے ٹھہرنے کا کہہ سکتی تھی کے تم ایسی حالت میں ہو تو میں بے دھڑک اندر نہیں آتا۔ میں اوٹ سے ہی بول رہا تھا۔ وہ اسی طرح اُٹھ کر دروازے میں آگئی ، ” بھائی یہ قمیض ہی ہے جسے سی رہی تھی، تھوڑی پھٹ گئی تھی، اور آپ سے کیا پردہ ” میں نے اسے یوں دروازے میں برہنہ جسم آتے دیکھ تو منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ وہ میرے سامنے آتے ہوئے بولی ” آپ منہ تو ایسے پھیر رہے ہیں جیسے آپ کے دیکھے بھالے نہیں” ” وہی ہیں جنہیں آپ نے پہلے دیکھا بھی ہے اور ٹیسٹ بھی کیا ہوا ہے۔” وہ برا کے اوپر سے ہے اپنے مموں کو دبا کر بولی۔ اس کی اس بات نے مجھے بُت کی طرح ساکت کر دیا تھا کیونکہ اس بات کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ پھر اس خیال نے جگا دیا کے اگر اس وقت اچانک کوئی گھر میں آ گیا تو وہ ہمیں ایسی حالت میں دیکھ لے گا۔ میں نے سعدیہ کو بازو سے پکڑ کر کمرے میں دھکیل دیا اور کہا جلدی قمیض پہنو اور مجھے کھانے کیلئے کچھ دو بہت بھوک لگی ہے۔ اس واقعے کے بعد سے یہ آج پہلا موقع تھا جب سعدیہ نے میرے سامنے یوں بیباکی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اس دن وہ میرے جذبات پھر سے بھڑکا دیتی لیکن امی آگئیں تو وہ بھی قمیض پہن کر میرے لیئے کھانا تیار کر کے لے آئی۔ وہ میری طرف دیکھتے ہوئے مُسکرا رہی تھی۔ لیکن میں کسی اور سوچ میں غرق تھا۔ میں سوچ رہا تھا کے آگے کیا ہونے والا ہے۔ لیکن میری سوچنا لا حاصل رہا۔ سعدیہ برتن اٹھانے آئی تو سرگوشی سے کہہ گئی بھائی سوچ کر اپنی جان ہلکان نہ کریں بس زندگی کے دھارے پر بہتے رہیں۔ میں اس کی طرف دیکھ کر رہ گیا۔

Posted on: 02:30:AM 07-Jan-2021


0 0 314 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 59 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com