Stories


سوتیلا باپ از رابعہ رابعہ 338

یہ کہانی ہے ممبئی میں رہنے والی ماں بیٹی کہ

ماں کا نام ہے رشم، عمر 38 سال، بھرا ہوا جسم، گوری-چٹٹي


اور اس کی بیٹی كاويا، 12th میں پڑنے والی، عمر **، چھاتیوں کے ابھار اب ابھرنے شروع ہی ہوئے ہیں، پر اس کے لمبے نپل دور سے ہی دکھائی دے جاتے ہیں


كاويا جیسی ہی اسکول سے گھر آئی، اس کی ماں رشم نے اسے اپنے پاس بٹھا لیا.

ویسے تو ایسے مل کر بیٹھنا ماں بیٹی کا روز کا کام تھا پر آج شاید کچھ خاص بات تھی، کیوک اپنی ماں رشم کو كاويا نے اتنا پریشان کبھی نہیں دیکھا تھا.

اپنے والد کو پانچ سال پہلے ایک حادثہ میں کھو دینے کے بعد اس نے اپنی ماں کو کبھی خوش نہیں دیکھا تھا، وہ ہمیشہ گم-سم سی رہتی تھی، پاپا کے بدلے انہیں اسی کمپنی میں آفس كورڈنےٹر کہ جاب مل گئی تھی جس کی وجہ سے ان کے گھر کا خرچ جیسے - تیسے چل رہا تھا، وہ گھر کا بھی سارا کام کرتی اور اس کی دیکھ بھال کرتی، کھانا کھاتی اور سو جاتی .. بس یہی معمول تھا اس کی ماں کہ.

پر گزشتہ کچھ دنوں سے انمے کافی تبدیلی آئے تھے، وہ تھوڑا سج دھج کر آفس جانے لگی تھی، نغمے بھی گنگناتي رہتی تھی، ہنسنے بھی لگی تھی اور یہ سارے تبدیلی كاويا کو کافی اچھے لگ رہے تھے.

كاويا کے اسکول سے آنے کے بعد دونوں ماں بیٹی قیامت ایک دوسرے سے گپپے مارتی ...

پر آج پھر سے اپنی ماں کو پریشان دیکھ کر كاويا کے من میں ڈر سا بیٹھ گیا کہ کہی کوئی پرابلم تو نہیں ہے.

ویسے پرابلم دور کرنے کہ اس کی خود کہ کوئی عمر نہیں ہے، صرف 12th میں پڑنے والی كاويا بھلا اپنی ماں کہ پریشانیوں کو کس طرح دور کرے گی.

كاويا: "کیا ہوا مم ؟؟ آپ اتنی پریشان کیوں ہو !! ''

رشم: "كاويا، وو .... مجھے تجھ ایک ضروری بات کرنی تھی ''

كاويا: "ہاں مم بولو نہ"

رشم تھوڑی دیر تک چپ رہی اور پھر ایک دم سے بولی: "میں شادی کر رہی ہ ''

رشم کہ بات سن کر تھوڑی دیر تک تو كاويا کو سمجھ نہیں آیا کہ وہ کیا کرے

اس کی ماں کی شادی کر رہی ہے، اس عمر میں ..
38 کہ عمر ویسے تو زیادہ نہیں ہوتی پر ان کی ایک جوان بیٹی ہے، ایسا کیسے کر سکتی ہے وہ ..

پر پھر اس نے اپنی ماں کے نظریہ سے سوچا، ابھی تو ان کے سامنے پوری زندگی پڑی ہے، وہ خود ایک دن پرایے گھر چلی جائے گی، پھر پیچھے سے اس کی ماں کی توجہ کون رکھے گا، اس بات کہ فکر تو ہمیشہ اسے رہتی تھی اور جب آج اس کا حل سامنے آیا ہے تو وہ ایسے کیوں بہیو کر رہی ہے ..

اس نے ساری نےگےٹو باتوں کو اپنے سر سے جھٹک دیا اور چہرے پر خوشی کے اظہار لاتے ہوئے بولی: "واو، یہ تو بہت اچھی بات ہے ماں، کون ہے وہ، میرا مطلب، میرے ہونے والے پاپا، کس کی شادی کر رہی ہو، کب کر رہی ہو، کس طرح ڈسايڈ کیا آپ نے یہ سب، بتاؤ نہ ؟؟ ''

كاويا کے چہرے پر آئی خوشی اور اتنے سارے سوال اور اس کی اتسكتتا دیکھ کر رشم نے چین کہ سانس لی، وہ ڈر رہی تھی کہ اس کی بیٹی کیا سوچےگي اپنی ماں کے بارے میں، پر اس نے سمجھداری سے اس کی بات سمجھ کر رشم کے سر سے ایک بوجھ اتار دیا تھا ..

رشم نے بتانا شروع کیا

"دیکھ كاويا، تو تو جانتی ہے، تیرے پاپا کے جانے کے بعد سے ہمارے گھر کہ حالت کیسی تھی، اگر مجھے اسی کمپنی میں یہ نوکری نہ ملی ہوتی تو شاید ہماری حالت اس سے بھی بری ہوتی، تیرا اسکول، گھر کا خرچ، کچھ بھی طریقے سے نہیں ہو پاتا، اور یہ سب ہوا ہے کمپنی کے مالک سمیر سر کہ وجہ سے، انہوں نے اگر صحیح وقت پر سہارا نہیں دیا ہوتا تو آج یہ سب نہیں ہوتا، اور گزشتہ ہفتے ہی انہوں نے مجھ سے شادی کرنے کہ بات کہی ہے، ان کا طلاق ہو چکا ہے، اور وہ اپنے گھر پر اکیلے رہتے ہے، پر میں نے انہیں صاف کہہ دیا تھا کہ جب تک میری بیٹی اس شادی کے لئے راضی نہیں ہوگی، میں یہ شادی نہیں کروں گی، پر آج تو نے اپنی رضامندی جتاكر میرے سر سے اتنا بڑا بوجھ اتار دیا ہے، تھےكس بیٹا ... ''

اور پھر ماں كاويا سے لپٹ کر اپنی بھاوناو پر قابو پاتے ہوئے سبكنے لگی ..

اور كاويا اپنی ماں کہ باتیں سننے کے بعد اپنی آنکھیں چوڑی کرکے آپ نے والے دنوں کے خواب بننے لگی،

اس نے بھی دیکھا تھا سمیر سر کو، قریب 45 کہ عمر تھی ان کی، ان ہنستے ہوئے کبھی نہیں دیکھا تھا كاويا نے، ہمیشہ سيريس رہتے تھے، ایک بار ان کے گھر میں ہوئی پارٹی میں كاويا اپنی ماں کے ساتھ ان کے بنگلے پر گئی تھی، اتنا الشان گھر اس نے صرف پھلمو میں ہی دیکھا تھا، گھر کے پیچھے کہ طرف سوئمنگ پول بھی تھا، اور تقریبا دس کمرے تھے پورے بنگلے میں، اور رہنے والا صرف ایک.

كاويا سے ملتے ہوئے بھی سمیر سر کے چہرے پر کوئی خوشی نہیں تھی، اس لئے پہلی نظر میں ہی كاويا کو اپنی ماں کا باس ایک كھڈوس انسان لگا تھا.

پر آج وہی كھڈوس انسان اس کا والد بننے جا رہا ہے، اور وہ اپنی ماں کے ساتھ اسی گھر میں رہے گی جسے دیکھ کر اسکی آںکھے چںدھیا گی تھی، وہ بھی نئے -2 پھےشن کرے گی، شوپگ پر جایا کرے گی، اپنی امیر سہیلیوں کہ طرح ..

اور امیر سہیلیوں کی دیکھ آتے ہی اس کے دماغ میں سب سے پہلے اپنی خاص سہیلی شویتا کا دھیان آیا، وہ سب سے پہلے یہ باتیں اسے بتانا چاہتی تھی

اس نے اپنی ماں سے کہا: "ماں، مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ دوسری شادی کر رہی ہے، آپ انہیں ابھی فون کر کے ہاں بول دو، اور تب تک میں یہ بات شویتا کو بتا کر آتی ہ ''

اتنا کہہ کر وہ بغیر اپنے کپڑے بدلے گھر سے باہر کہ طرف بھاگ گئی

شویتا کے پاپا پولیس میں ایک اونچی پوسٹ پر تھے اور وہ پاس کہ ہی ایک سوسائٹی میں کافی بڑے فلیٹ میں رہتے تھے.

جیسے ہی وہ سڑک تک پہنچی، سامنے سے اسے وکی آتا ہوا دکھائی دیا، وہ اس کی گلی میں ہی رہتا تھا اور آتے جاتے ہمیشہ كاويا کو گندی نظروں سے دیکھ کر بھدی-2 باتیں کہہ کر اسے چھےڑتا تھا

وکی: "ہاے میری پھلجھڑي، کہا چلی اپنی توپیں لے کر ''

اس کا اشارہ كاويا کے نوک دار نپپلس کہ طرف تھا

كاويا ویسے تو اس سے کبھی بولتی نہیں تھی، پر آج اس نے اسے مزہ چكھانے کا من بنا لیا: "جہاں جا رہی ہ وہاں پر نہ تو ایسی گندگی ہوگی اور اور نہ ہی تیرے جیسے کتے ''

ہمیشہ چپ رہنے والی كاويا کے منہ سے ایسی باتیں سن کر وکی بھی حیران رہ گیا، وہ کچھ بول پتہ اس سے پہلے ہی كاويا وہاں سے نکل گئی

شویتا کے گھر پہنچ کر وہ اس سے لپٹ گی اور ایک ہی سانس میں اسے پوری بات بتا ڈالی


شویتا اپنی عمر کے حساب سے کافی پہلے جوان ہو چکی تھی، اس کی عمر 18 سال تھی، اور اپنے نشیلی اور جوان جسم کا استعمال کب اور کہا کرنا ہے، اسے اچھی طرح معلوم تھا، پر وہ تھی اب تک کنواری

شویتا بھی اس کی بات سن کر بہت خوش ہوئی اور پھر وہ دونوں سہیلیاں مل کر باتیں کرنے لگی کہ کیا - 2 ہوگا آنے والے دنوں میں.
كاويا کے جانے کے بعد رشم آئینے کے سامنے جا کر کھڑی ہو گی، اس نے اپنے پورے جسم کو نهارا، اور پھر نہ جانے کیا سوچ کر اس نے اپنی ساڈی اتارني شروع کر دی، بلاس میں پھنسے ہوئے اس کے موٹے مممے باہر نکلنے کہ فریاد کر رہیں تھے، اس نے ان کی بات مانتے ہوئے اپنے بلاس کے ہک بھی کھول دئے اور اس کے بعد اپنی برا کو بھی اتار پھینکا، اپنے ہی پسینے کہ بو اس کے نتھنو میں سما گئی، جو اسے ہمیشہ سے بہت اچھی لگتی تھی، انپھےكٹ اس کا شوہر بھی اس کی بو کا دیوانا تھا، رشم کو ابھی بھی یاد ہے کہ اسے چودتے ہوئے وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو اوپر کر کے جب جھٹکے مارتا تھا تو اپنا منہ اس کی بغل میں ڈال کر وہ زور سے ساںسے لیتا تھا، اور وہ بو سوگھكر وہ اور بھی زیادہ جوش و خروش کے ساتھ اس کی چدائی کرتا

وہ سب باتیں یاد کرتے-2 اس کی چوت گیلی ہونے لگی

اس نے اپنا پیٹیکوٹ بھی اتار دیا، اور پھر كچچھي بھی، پوری نںگی ہو گئی وہ ایک دم سے


مکمل طور پر ننگی ہونے کے بعد وہ گھوم گھوم کر اپنے پورے جسم کا مواينا کرنے لگی اور پھر خود ہی باتیں کرنے لگی: "اوہو ... کتنی موٹی ہو گئی ہ میں، پیٹ بھی نکل آیا ہے، برےسٹ بھی موٹے ہو گئے ہے، لٹک بھی گئے، اور پیچھے سے تو، اوہو انہے اب جلد ہی کم کرنا ہوگا ''

وہ ایک ایسی لڑکی کہ طرح بہیو کر رہی تھی جو شادی سے پہلے وزن کم کرنے کہ فکر میں غرق ہو، ویسے یہ فکر ہونا فطری ہی تھا رشم کے لئے، وہ پہلے ایسی نہیں تھی، شادی سے پہلے بھی اور بعد تک بھی ، جب تک اس کا شوہر زندہ تھا وہ ہمیشہ فٹ رہتی تھی، جم بھی جاتی تھی، اس نے تقریبا دس سالوں تک جم میں جا کر یروبک اور كارڈو کرکے اپنے پورے جسم کو فلمی هےرونو کہ طرح لچکدار اور کامل بنا لیا تھا، پر گزشتہ پانچ سالو نے اس کی زندگی کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا، كاويا کہ دیکھ بھال اور آفس کے کام کہ وجہ سے اسے اپنے لئے وقت ہی نہیں ملتا تھا، پر اب جبکہ اس کی دوبارہ شادی ہونے والی ہے، اس نے تہیہ کر لیا کہ وہ جلد ہی اس تھلتھلےپن سے چھٹکارا پايےگي، جم جائے گی، ڈاٹگ کرے گی، پر آپ کے جسم کو پہلے جیسا بنا کر رہے گی.

آخر سمیر سر بھی تو دیکھے کہ وہ چیز کیا ہے

سمیر سر کی توجہ آتے ہی اس کے دل کہ دھڑکنے ایک دم سے بڑھنے لگی، اسے ان کی گہری نظروں کہ یاد آ گی جو اس نے کئی بار محسوس کہ تھی، اور جسے محسوس کر کے اس کا روم روم کھڑا ہو جاتا تھا

ان کے بارے میں یاد کرکے اچانک اس کے ہاتھ اپنی چوت کہ طرف سرک گئے، وہ بیڈ پر لیٹ گئی اور اس کی آنکھیں بند کر کے اپنی چوت کو سہلانے لگی

آج پانچ سالو بعد اس نے اپنی چوت کہ تلاش خبر لی تھی، اس لئے اس کی چوت بھی اپنا گلہ منہ کھولے اس کی مالکن کا کھلے دل سے استقبال کر رہی تھی

رشم نے اپنی چوت کے تیتلی جیسے پروں کو پھیلایا اور اپنی ایک اوںگلی اندر کھسکا دی

اور سسک پڑی

'' اهههههههههههههه سمیر امممممممم ''

 

لال چوت کے اندر سے سرسبز پانی بری طرح سے بہتا ہوا باہر کہ طرف آ رہا تھا، جسے رشم اپنی اںگلیوں سے اکٹھا کرکے اپنی چوت کے چہرے پر مل رہی تھی

اس کے دماغ میں اپنے آپ کو ایک غیر حقیقی فلم چلنے لگی

رشم اپنی آفس کہ کرسی پر بیٹھی تھی، پوری نںگی، آفس میں کوئی بھی نہیں تھا

اس کے ٹیبل کا فون بجا اور سمیر سر نے اسے اندر بلایا

وہ ننگی اٹھی، اپنا نوٹ پیڈ اٹھایا اور ان کیبن میں چلی گئی

وہ اپنی سیٹ پر بیٹھا تھا

وہ بھی پورا نںگا

رشم سامنے جا کر کھڑی ہو گئی

سمیر اپنی سیٹ سے اٹھا اور اس کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا، اور اسے کچھ ڈیٹا نوٹ کرنے کے لئے کہا

وہ ٹیبل پر جھکی اور نوٹ کرنے لگی

تبھی پیچھے سے سمیر نے اپنا لںڈ اسکی چوت میں ڈال دیا

اس نے اپنی آنکھیں بند کئے ہوئے اپنی تین انگلیاں اپنی چوت کے اندر پیل دی

سمیر بولتا جا رہا تھا

رشم لکھتی جا رہی تھی

اور جھٹکے لگتے جا رہے تھے

رشم کے منہ سے بس یہی نکل رہا تھا

'' يےسس سر، اههههه سر، امممم سر، اوکے سر. ....... ''

اسے بند آنکھوں کے ساتھ اپنی انگلیاں سمیر کے لںڈ کہ طرح پھیل ہو رہی تھی

پھر سمیر سے اسے ٹیبل پر پیٹھ کے بل لٹا دیا اورپنا لںڈ اسکی چوت میں پیل کر اسے بری طرح سے جھٹکے دینے لگا


اور وہ چیخ رہی تھی، يےسس يےسس بول رہی تھی

اور ایسے ہی يےسس سر کرتے -2 اسکی چوت سے کب پانی نکل گیا، اسے بھی پتہ نہیں چلا

جھڑنے کے بعد آئی كھماري نے اس کے بھرے ہوئے جسم کو نڈھال سا کر دیا

اور وہ ایک پتلی سی چادر اپنے جسم پر ڈال کر وہیں لیٹ گئی اور یاد کرنے لگی اپنے اور سمیر کے بارے میں جب سے اس نے آفس جوائن کیا تھا

شروع کے تین سالو تک تو اسے پتہ ہی نہیں تھا کہ آفس میں کام کے علاوہ بھی کوئی زندگی ہے، اس کا کام صرف لیٹر ٹائپ کرنا، کوٹیشن بنا کر كلاٹس کو میل کرنا، ماہ کے آخر میں رپورٹیں بنانا، صرف یہی تھا

سمیر سر سے اس کا سامنا کبھی کبھار ہی ہوتا تھا، وہ بھی بس اس کے وش کا جواب دے کر نکل جاتے تھے

اور تقریبا 1 سال پہلے سمیر سر کہ پرسنل سکریٹری جاب چھوڑ کر چلی گئی، اور اتنی جلدی کوئی نئی سیکریٹری نہ مل پانے کی وجہ سے رشم کو ہی ٹےمپرےري طور پر سمیر سر کہ سیکریٹری بنا دیا گیا تب اس نے نوٹ کیا کہ کام کے معاملے میں وہ کتنے سنجیدہ قسم کے انسان کو اگر کوئی یاد نہ کرائے تو وہ لنچ کرنا بھی بھول جاتے تھے اور یہ بات رشم کو صحیح نہیں لگی، اس نے سب سے پہلے صحیح وقت پر انہیں لنچ کرنے کہ عادت ڈالی، سمیر بھی رشم کے اپنےپن کو نرداج نہیں کر پاتا تھا اور صحیح وقت پر لنچ اور اپنی ادویات لینے لگ گیا

اور ایسے ہی کام کرتے ہوئے کمپنی میں ایک ایسا دن آیا جب سمیر نے سبھی کو یہ بتایا کہ ان کی کمپنی نے گزشتہ سال کے مقابلے ستر فیصد زیادہ بزنس کیا ہے اور ساتھ ہی انہیں کینیڈا کے لئے ایک بڑا ایکسپورٹ آرڈر بھی ملا ہے، جس کی وجہ سے ان کا بزنس اگلے سال تک ڈیڈ سو فیصد زیادہ بڑھے گا

اور تب رشم نے یہ مشورہ دیا کہ ایسے موقعے کو سےلےبرےٹ کرنا تو بنتا ہے اور پھر سمیر نے اپنے الشان بنگلے میں ایک پارٹی رکھی جہاں كاويا نے پہلی بار سمیر کو دیکھا تھا

تب تک رشم کے لئے سمیر کے دل میں ایک سافٹ كارنر تو بن ہی چکا تھا اور وہ دل ہی دل اسے اپنا پارٹنر بنانے کے خواب دیکھنے لگا، کیونکہ اب وہ بھی اپنی بور سی لائف سے تنگ آ چکا تھا، اور گزشتہ کچھ دنوں سے رشم کہ طرف سے مل رہی کیار کہ وجہ سے سمیر کو پورا یقین ہو گیا تھا کہ وہ اس کی زندگی اور گھر کو اچھی طرح سے سنبھال سکتی ہے

پر كاويا سے ملنے کے بعد اسے یہ احساس ہوا کہ رشم کہ ٹينےجر لڑکی ہے جو ایسا کبھی نہیں چاہے گی کہ اس کی ماں اس عمر میں شادی کرے اور اس لئے اس وقت كاويا سے براہ راست منہ بات بھی نہیں کہ تھی سمیر نے

آہستہ 2 وقت گزرنے لگا، سمیر کہ آنکھوں میں چھپے محبت کو رشم نے بھی کئی بار محسوس کیا تھا، پر اپنی اوقات اور سماج میں اس کی جگہ اسے بھی پتہ تھی،

سمیر کا ایک وکیل دوست تھا، لوکیش دت، جس کے ساتھ وہ اپنی ساری باتیں شیئر کرتا تھا

اور ایسے ہی ایک دن جب دونوں دوست بیٹھے ہوئے جام چھلكا رہے تھے تو سمیر نے اپنے دل کہ بات اسے بتا دی

لوکیش: "یار سمیر، یہ تو تونے بہت اچھی بات سوچی ہے، تو جلد سے جلد اس معاملے کو نمٹا ڈال ''

سمیر: "پر یار .... ایک پرابلم ہے، اس کی ایک ٹينےجر لڑکی ہے، اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں اس کے ڈر سے رشم مجھ سے شادی کرنے کے لئے منع نہ کر دے، یا پھر وہ لڑکی اپنی ماں کو شادی کرنے کہ پرمشن نہ دے ''

لوکیش: "یار، تو بھی کیسی دكيانسي باتوں کو لے کر بیٹھا ہے، تو ایک بار رشم سے بات تو کر کے دیکھ، اپنی بیٹی کو منانا اس کا کام ہے، اور مجھے یقین ہے کہ اپنی بیٹی کے سنہری مستقبل کے لئے وہ مان جائے گی اور اس کی بیٹی کو بھی منع لے گی ''

اور اس طرح سے اپنے دوست کہ بات سن کر سمیر نے ہمت کرکے اپنے دل کہ بات رشم کو کہہ دی

رشم کے لئے یہ بات ایک شاک جیسی ہی تھی اس نے سمیر کہ آنکھوں میں اپنے لئے لگاؤ تو دیکھا تھا، پر وہ لگاؤ اتنا ہوگا کہ وہ اسے اپنا پارٹنر بنانے کے لئے کہے گا، اس نے سوچا بھی نہیں تھا

پر ساتھ ہی سمیر نے یہ بھی کہا کہ كاويا کہ رضامندی کے بغیر کوئی فیصلہ مت لینا، اور ویسے بھی رشم ایسا کرنا نہیں چاہتی تھی

وہ ایک صحیح موقع کہ تلاش کرنے لگی، جب وہ اپنی بیٹی کو وہ سچائی بتائے جس کے بعد دونوں کہ زندگی مکمل طور پر تبدیل کر جانے والی تھی

اور آج اپنی بیٹی کا ساتھ پا کر اس نے چین کہ سانس لی تھی

اس نے اپنا موبائل نکلا اور ویسے ہی ننگی لیٹے ہوئے سمیر کو فون ملایا

سمیر: "ہیلو رشم، اس وقت کس طرح فون کیا، سب ٹھیک تو ہے نہ ''

رشم کہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس طرح بتائے

وہ دھیما دھیما مسکراتی ہوئی ہوں ہاں کرتی رہی بس

اور پھر آخر میں اس نے بول ہی دیا: "میں نے كاويا سے بات کہ تھی آج ''

سمیر: "اچھا، کیا،،، کیا بولی وہ ؟؟"

اس کی دھڑکنے بڑھ گئی

رشم: "وہ، وہ مان گئی اور کافی خوش بھی تھی وہ ''

رشم کہ بات سن کر سمیر نے بھی چین کہ سانس لی

اسے اپنی بند آنکھوں کے پیچھے رشم اپنے گھر میں دلہن کے لباس میں نظر آنے لگی

اس نے جلد ہی شادی کہ پھرمےلٹي پوری کرنے کہ بات کرتے ہوئے فون رکھ دیا، ویسے بھی شادی کورٹ میں ہونی تھی، اس لئے زیادہ تام جھام کہ ضرورت ہی نہیں تھی

اس نے لوکیش کو فون کرکے سارے بندوبست کرنے کے لئے کہا
جلد ہی شادی کا دن بھی آ گیا، رشم نے طے کر لیا تھا کہ وہ اپنے اس گھر کو کبھی بےچےگي نہیں، اس لئے اس نے اپنے ایک كذن کو وہ گھر رہنے کے لئے دے دیا، کیونکہ وہ کہیں کرائے پر رہ رہا تھا، اس نے سوچا اس طرح سے گھر کہ دیکھ بھال بھی ہوتی رہے گی اور اس کے كذن کا کرایہ بھی بچ جائے گا.

شادی کورٹ میں ہوئی، لیکن كاويا تو اس دن بھی ایسے سجی ہوئی تھی جیسے سچ میں کسی شادی میں آئی ہو، اس نے کاشٹا کھول چولی پہنا ہوا تھا، جس میں اس کا سپاٹ پیٹ صاف دکھ رہا تھا، وہ آج بہت خوش تھی، آج اس کی ماں کہ زندگی تبدیل کرنے والی تھی، وہ بھی اپنی ماں کے ساتھ نئے گھر میں جانے والی تھی.

شادی کہ رسمے ختم ہونے کے بعد تمام گھر کہ طرف چل دئے، راستے سے كاويا نے شویتا کو فون کر دیا کہ وہ جلدی پہنچے، شام کو دونوں نے ایک ساتھ سجنے-سورنے کا پروگرام بنایا تھا.

سمیر نے شام کو اپنے الشان بنگلے میں استقبال پارٹی رکھی تھی، جس میں کافی مہمان آئے ہوئے تھے، پورے گھر میں چہل پہل تھی.

اور اوپر شاعری اپنے کمرے میں بیٹھ کر شویتا سے باتیں بھی کر رہی تھی ..

دونوں نے پھیس پےك لگا رکھا تھا.

شویتا: "یار تیری تو عیش ہو گی، اتنا سیکسی روم ہے تیرا، سپرب ''

كاويا: "تھےكس یار، مجھے تو خود بھی یقین نہیں ہو رہا ہے کہ یہ میرا روم ہے، میرا اپنا پرسنل روم ''

اور وہ روم واقعی شاندار تھا، ایل ای ڈی، بالکنی، اٹےچ باتھ روم، کمپیوٹر اور ساتھ ہی ایک بڑی سی الماری جس سمیر نے پہلے ہی كاويا کے لئے ہر طرح کے کپڑے بھر دیئے تھے.

وہ بہت خوش تھی ..

شویتا: "یار، تیرے پاپا نے تیرے لئے اتنا کچھ کیا ہے، تجھے بھی کچھ کرنا چاہئے ان کے لئے ''

كاويا: "مجھے .... کیا ؟؟؟"

شویتا: "آج ان کی سہاگرات ہے، تیری ممی کے ساتھ، کیوں نہ ہم دونوں مل کر ان کا روم ڈےكورےٹ کرے ''

كاويا نے تو یہ بات سوچی بھی نہیں تھی، اور کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو یہ کام کرتا، انہیں ہی یہ کرنا ہوگا.

دونوں نے طے کیا کہ ان کے کمرے کو گلاب کے پھولو سے سزا دی جائے اور اس کے لئے شویتا نے اپنے بھائی نتن کو فون کیا.

نتن کے بارے میں بتا دو، وہ شویتا سے دو سال بڑا ہے اور کالج جاتا ہے، اور من ہی من وہ كاويا پر مرتا بھی ہے ..

جیسے ہی شویتا نے نتن کو ساری بات بتائی، وہ جھٹ سے مان گیا، وو كاويا کو دیکھنے کا ایک بھی موقع چھوڑنا نہیں چاہتا تھا.

نتن مارکٹ سے جا کر ایک پھول شاپ والے کو لے آیا اور اس نے اپنے دو ساتھيو کے ساتھ آکر پورا کمرہ گلاب سے سزا دی.

نتن کہ نجرے رہ رہ کر كاويا کو گھور رہی تھی، اس کی ناف اس نے آج پہلی بار دےكھ تھی، اندر کہ طرف دھسي ہوئی، وہ من ہی من اسے چوسنے کہ سوچ ہی رہا تھا کہ شویتا بولی: "تھےكس بھائی، تمہاری وجہ سے یہ سب آسانی سے ہوسکا ''
کسی اور چیز کہ ہے ''

كاويا: "کس چیز کہ ''

شویتا: "سہاگرات کہ، آج اتنے سالو کے بعد ان دونوں کو کوئی ملے گا، دھمال ہوگا آج تو ان کے کمرے میں ''

اپنی ماں کے بارے میں ایسی باتیں سن کر كاويا شرما گئی، اس کے دماغ میں فلم ابھرنے لگے، جس کی ماں اور سمیر پاپا ننگے ایک دوسرے کے جسم سے لپٹے ہوئے ہیں اور محبت کر رہے ہیں.

اس کی آنکھوں میں گلابيپن اتر آیا ..

شویتا نے اسے شرماتے ہوئے دیکھا اور آہستہ سے اس کے کان میں بولی: "مجھے معلوم ہے تو کیا سوچ رہی ہے ''

كاويا نے چوںک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا، اور اس کی شرارتی نظروں میں چھپی بات کو وہ سمجھ گئی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ شویتا ان ماملو میں کتنی تیز ہے، اس نے پھر سے اپنی نظریں جھکا لی ..

شویتا دھیرے سے بولی: "ایک ايڈيا آیا ہے، اگر تو ساتھ دے تو مجا آئے گا"

كاويا: "کیا ؟؟"

شویتا: "ان دونوں کہ سہاگرات دیکھتے ہیں، چھپ کر، بول کیا کہتی ہے ''

كاويا کہ آنکھیں حیرت سے فیل گی، اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ شویتا ایسا کچھ کہے گی.

شویتا آگے بولی: "دیکھ، ابھی پارٹی سے سب لوگ چلے جائیں گے، کوئی رشتہ دار رکنے والا نہیں ہے رات کو، پورے گھر میں صرف تیرے ممی پاپا اور تو رہے گی، میں نتن کو بول دوں گی کہ میں رات کو یہیں ركوگي، اور پھر رات کو ہم دونوں مل کر دونوں کہ لائیو سہاگرات دیکھیں گے، وو، کتنا مجا آئے گا، ہمیں بھی کچھ سیکھنے کو ملے گا، ہے نہ ''

كاويا چپ چاپ اس کی باتیں سنتی رہی ..

شویتا آگے بولی: "اور ویسے بھی، اپنی ماں کہ سہاگرات دیکھنے کا موقع ملتا بھی کسے ہے، ي ر لككي ون ''

كاويا کہ ہنسی نکل گئی اور اس نے ہنستے ہوئے اپنا سر ہلا کر اسے اپنی رضامندی دے ڈالی.

ویسے تو اس نے اتنی سی دیر میں بہت کچھ سوچ لیا تھا کہ یہ سب غلط ہے، اپنی ماں کو ایسے جنسی کرتے ہوئے دیکھنا غلط ہو گا، سمیر سر بھی اب اس کے پاپا ہے، اپنے پاپا کو ننگا دیکھنا کتنا غلط ہے یہ وہ اچھی طرح سے جانتی تھی، پر اس کی عمر ہی ایسی تھی کہ یہ سب غلط باتوں کو درکنار کرتے ہوئے اس نے شویتا کہ بات مان لی.

شویتا نے نتن کو واپس گھر بھیج دیا اور ممی کو بھی فون کر کے بتا دیا کہ آج وہ وہی رکے گی.

آہستہ 2 تمام مہمان چلے گئے.

دونوں سهےليا سمیر کے بیڈروم میں چھپنے کہ جگہ دیکھ رہی تھی.

بنگلے میں تمام بیڈروم فرسٹ فلور پر تھے اور تمام بیڈروم کہ بڑی سی بالکنی ایک دوسرے سے ملی ہوئی تھی، صرف درمیان میں چھوٹی سی دیوار تھی، سمیر کے بیڈروم اور كاويا کے بیڈروم کے درمیان ایک سٹور روم بھی تھا، جس کے پیچھے بھی ایک بالکنی تھی.

دونوں سهےليو نے ڈسايڈ کیا کہ كاويا کے روم کہ بالکنی سے ٹاپتے ہوئے وہ اس کی ماں کے بیڈروم تک جائیں گے اور وہاں سے چھپ کر اندر کا نظارہ دےكھنےگے.

باہر سے اندر دیکھنے کے لئے انہوں نے ایک کونے کا پردہ مختصر سا کھسکا کر اوپر کر دیا، ویسے بھی بالکنی میں کافی اندھیرا تھا، وہا کوئی چھپ کر بیٹھ جائے تو دکھائی ہی نہیں دے گا

رات کا 1 بج رہا تھا، تمام تھک کر اپنے-2 کمرے کہ طرف جانے لگے.

اپنے کمرے کے اندر جاتے ہوئے كاويا نے رشم کو دیکھا تو اس نے اپنا انگوٹھا اوپر کرتے ہوئے کہا: "آل دی بیسٹ فار يور نیو لايپھ ''

اور پھر وہ اپنے کمرے کہ طرف چلی گئی، جہا شویتا بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی.

اور اپنے بیڈروم میں جاتے ہی وہاں کہ سجاوٹ دیکھ کر رشم اور سمیر حیران رہ گئے، وہ سمجھ گئے کہ یہ سب كاويا نے کیا ہے.

سمیر نے دروازہ بند کر دیا اور رشم کو اپنے پاس بلایا اور اسے اپنی باہوں میں لپیٹ کر زور سے هگ کیا ..

رشم کا دل دھڑک رہا تھا، آج یہ پہلا موقع تھا جب سمیر اسے اپنی باہوں میں لے رہا تھا ..

اسی درمیان كاويا اور رشم بالکنی کود-2 کر وہاں تک پہنچ گئی تھی، اور باہر چھپ کر سارا نظارہ دیکھ رہی تھی.

سمیر نے اپنی باہے رشم کے چاروں طرف لپیٹ دی اور جھک کر اس کی گردن پر اپنے ہونٹ رکھ دیے

رشم سسک اٹھی

سمیر کے ہاتھ اس کے كلهو پر پھسل رہے تھے، اس نے ساڈی کا پلو نیچے گرا دیا، اور کمر میں پھسي ہوئی ساڈی کھول کر نیچے گرا دی.

اس کے موٹے-2 مممے بڑے ہی دلکش لگ رہے تھے سمیر کو، اس نے اپنے ہاتھوں کو اس کے اروجوں کے نیچے رکھا اور آہستہ سے بولا: "انہی دشهري آموں نے مجھے تمہارا دیوانا بنایا ہے ''

اس کی بات سن کر رشم شرماتي ہوئی سمیر کے سینے سے لپٹ گی ..

سمیر نے ایک دم سے رشم کے چہرے کو پکڑا اور اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ کر ان کو بری طرح سے چوسنے لگا ..

سمیر کے ہاتھ رشم کے جسم پر پھسل رہے تھے، اس کے مممو کو مسل رہے تھے،

اس نے رشم کو چومتے-2 ہی اسکے بلاس کے ہک کھول دئے، اور اس کی برا کے کپ نیچے کھسکا کر اس کے سینوں کو ننگا کر دیا ..

اور پھر اپنا چہرہ نیچے کرتے ہوئے اس نے ایک-2 کرتے ہوئے رشم کے ننھے بچوں کو بے تحاشہ محبت کیا.

اس کے ہاتھ رشم کے کولہوں کو مسل رہے تھے، اس کے پیٹیکوٹ کو اوپر کرتے-2 اسے کمر تک لے آئے، اور ایک ہی جھٹکے سے سمیر نے رشم کہ پیںٹی کو دونوں طرف سے کھینچ کر اس کی چوت اور گانڈ کے درمیان ایسے پھنسا دیا جیسے کوئی پتلی سی رسی، اپنی درارو پر پیںٹی کا دباؤ پڑتے ہی رشم تڑپ اٹھی اور اپنے پنجوں پر کھڑی ہو کر سیتکار اٹھی ..

'' اههههههههههههه سسسسسسسسسسس امممم ''

پر سمیر سے اب صبر نہیں ہو رہا تھا، اتنے سالو تک اپنی بیوی سے الگ رہنے کے بعد اس نے آج تک باہر منہ نہیں مارا تھا، اور آج اس سے صبر نہیں ہو رہا تھا ..


رشم کا بھی تقریبا یہی حال تھا اسے آج تقریبا پانچ سال بعد کسی مرد نے اس طرح سے پکڑا تھا، وہ اپنی چوت والے حصے کو اس کے لںڈ پر رگڑتي جا رہی تھی، اور اس کے منہ سے عجیب -2 سی آوازیں بھی نکل رہی تھی ..

اور یہ سب نظارہ باہر سے پوشیدہ دو جوان لڑکیاں اپنا منہ پھاڑے دیکھ رہی تھی ..

شویتا تو رشم کے مممے دیکھ کر بدبدا اٹھی: "واو، کیا بریسٹ ہے تیری ماں کہ، امممممممم ''

اس کا دل کر رہا تھا کہ اندر جائے اور انہیں چوس ڈالے.

سمیر نے ایک ہی جھٹکے میں رشم کا پیٹیکوٹ بھی نیچے گرا دیا، اور پھر نیچے بیٹھ ہوئے اسکی پیںٹی بھی نیچے تک اتار دی ..

اب وو رشم کہ چوت کے آگے گھٹنو کے بل بیٹھا ہوا تھا، اس کی چكني چوت کو دیکھ کر اس کے منہ میں پانی آ گیا اور اس نے اپنا منہ وہاں لگا دیا ..

رشم کا پورا جسم تھرتھرا اٹھا ....

اس کے شوہر نے بھی آج تک اس کی چوت نہیں چوسی تھی، یہ پہلا موقع تھا جب اس کی چوت کو کسی کے ہونٹوں نے چھوا تھا

اس نے اپنی آنکھیں بند کر لی اور اپنا ایک پاؤں اٹھا کر سمیر کے کندھے کے پیچھے کر دیا، اور اس کی کھلی ہوئی چوت کے اندر سمیر کہ زبان کو مکمل طور پر محسوس کرنے لگی ..

كاويا کو ایسا لگنے لگا کہ اس کی چوت کے اندر چيٹيا رینگ رہی ہے، اس نے ہاتھ پھیرا تو پایا کہ وہاں سے کچھ گیلا -2 نکل رہا ہے.

اور یہی حال شویتا کا بھی تھا، اس نے تو اپنے پائجامہ کے اندر ہاتھ ڈال کر اپنی چوت سہلانی بھی شروع کر دی تھی ..

رشم سے اب کھڑا نہیں ہوا جا رہا تھا، وہ پیچھے کہ طرف ہوتی گئی اور پلنگ پر جا کر پیٹھ کے بل لیٹ گی، گلاب کہ پنکھڑیوں سے آراستہ اس سیج پر ایک طوفان سا آگیا جب سمیر نے رشم کہ دونوں ٹاںگو کو پھےلا کر اپنی جیبھ کو کسی لںڈ کہ طرح اس کی چوت کے اندر اتار دیا اور بری طرح سے اوپر نیچے ہو کر اسے چودنے لگا ..

بالکونی میں چھپی ہوئی شویتا اور كاويا کا برا حال تھا، كاويا تو نیچے بیٹھی تھی، اور شویتا اس کی پیٹھ کے پیچھے کھڑی تھی، شویتا نے نا جانے کب اپنے پائجامہ کو نیچے کھسکا کر اپنی چوت کو ننگا کر لیا تھا، اس بات کا كاويا کو بھی اندازہ نہیں تھا ..

اندر کا ماحول اور بھی گرم ہو گیا جب سمیر نے اٹھ کر اپنا کوٹ پینٹ اتار پھینکا اور اپنے لںڈ کو نکال کر رشم کے سامنے لہرا دیا

اور اس لںڈ-بھسد کو دیکھ کر رشم کے ساتھ -2 كاويا اور شویتا کہ آنکھیں بھی پھٹ گئی.

تقریبا آٹھ انچ کا لنڈ تھا سمیر کا اور تین انچ موٹا ..

رشم نے آج تک لںڈ نہیں چوسا تھا پر اپنی چوت چسوا کر آج اسے اتنا مزا آیا تھا کہ اس نے جھٹ سے اس کے لنڈ کو پکڑا اور اپنے منہ میں لے کر جوروں سے چوسنے لگی ..

سمیر کے منہ سے ایک لمبی ااه نکل گی.
تھوڑی دیر تک اپنا لںڈ چسوانے کے بعد سمیر اصل کام پر آ گیا، اس نے اپنے باقی کے بچے كھچے کپڈے اتار پھینکے اور رشم کو بھی پورا نںگا کر دیا ..

اور ایک ہی جھٹکے میں اس کی چوت کے اندر اپنا لںڈ پےلكر اسے چودنے لگا .. اس رسیلے اور تھرتھراتے ہوئے چوتڑ اپنی ران پر محسوس کرتے ہوئے سمیر کہ مستی کہ کوئی حد ہی نہیں رہی

دونوں کو ننگا دیکھ کر ایک لمحے کے لئے تو كاويا بھی شرما گی ..

اپنی ماں کو حالانکہ اس نے کئی بار نہاتے ہوئے یا کپڑے بدلتے ہوئے دیکھا تھا، پر اس طرح سے نہیں، پوری نںگی ہوکر وہ کس طرح سے بہیو کر رہی تھی

اور شویتا نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ جنسی کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ اتنے مزے آتے ہیں، اس نے آج تک صرف اپنے بی ف کے ساتھ شوكيا طور پر كسس وگےره ہی کہ تھی، اپنی برےسٹ اور چوت پر تو اس نے کسی کو ہاتھ بھی نہیں لگانے دیا تھا

پر آج اتنی پر جنسی کہ کارروائی دیکھ کر اس کے دل کہ بھی کئی شكاے مٹ سی گئی تھی ..

سمیر کا لںڈ اندر - باہر ہوتا جا رہا تھا اور اچانک رشم کو اپنے اندر ایک غبار بنتا ہوا محسوس ہونے لگا اور اگلے ہی پل وہ غبار پھوٹ گیا اور وہ بلبلاتي ہوئی سی جھڑنے لگی ..

'' اييييييييييي اهههههههههههه اوههههههههه ''

اور اس نے اپنی چوت کے منہ پر چپچپا سا دروي چھوڑ دیا، اس کی چپچپاهٹ کو اپنے لںڈ پر محسوس کرکے سمیر نے بھی آخری موقع آتے ہی اپنا لںڈ باہر نکالا اور پچکاری بنا کر اس سے رشم کے جسم کو مکمل رنگ دیا

 

اور اس کے مممو کے توشک پر گر کر گہری ساںسے لینے لگا ..

كاويا اور شویتا وہاں سے نکل کر اپنے کمرے میں آ گئے ..

پر سمیر کو معلوم تھا کہ ابھی تو یہ شروات ہے، اتنے سالو سے جمع کہ ہوئی اےنےرجي سے کم از کم تین - چار بار چودنا تھا اسے آج رات رشم کو
كاويا کے کمرے میں پہنچتے ہی شویتا نے اپنا پائجامہ اور پیںٹی اتار پھینکی اور اس کی درمیان والی انگلی اپنی چوت کے اندر ڈال کر زور - 2 سے ہلانے لگی

كاويا آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی

دونوں نے پہلے بھی کئی بار ماسٹربےٹ کیا تھا اور ایک دوسرے کو بتایا بھی تھا کہ کیسے اور کسے سوچ کر وہ سب کیا، پر ایک دوسرے کے سامنے انہوں نے کبھی نہیں کیا تھا، یہ پہلا موقع تھا جب كاويا نے شویتا کو ایسے دیکھا تھا، نیچے سے ننگی ....

اور اس کی سنہری چوت کو دیکھ کر وہ جادو سی ہو گی، بالکل سپھاچٹ چوت، بغیر بالوں کے اس کی چوت ایسے لگ رہی تھی گویا چہرے کے ہونٹ چپکے ہو وہاں، رسیلے اور موٹے ..

 

وو بولی: "شویتا، کچھ شرم ہے یا نہیں، میرے سامنے ہی شروع ہو گئی تو ''

شویتا اپنی اوںگلی اندر کرتے ہوئے بڑی مشکل سے بولی: "یار، مجھ سے تو وہاں صبر ہی نہیں ہو رہا تھا، ماسٹربےٹ کرتے ہوئے میرے منہ سے چيكھے نکلتی ہے ورنہ وہیں شروع ہو جاتی میں ''

اتنا کہتے ہوئے اس نے ایک زور دار چیخ ماری

'' '' ااييييييييييييييي سسسسسسسسس ''

كاويا: "آہستہ چیخ پاگل، تو تو مرواےگي مجھے، ممی پاپا نے اگر سن لیا تو کیا سوچیں گے ''

تبھی ان کے کمرے سے بھی ممی کہ چیخ آئی ......

'' اههههههههههه اوهههههه گوڈ ...... ''

اور وہ بھی کافی تیز ....

شویتا (مسکراتے ہوئے): "یہ بات جب وہ نہیں سوچ رہے تو تجھے کیا ضرورت ہے ''

اس نے اپنی سپیڈ اور تیز کر دی ..

كاويا کہ چوت کے اندر بھی اب کھجلی ہونے لگی تھی، پہلے تو اس نے اپنی ماں کو سمیر سر یعنی سمیر پاپا سے چدتے ہوئے دیکھا، اور پھر اپنی سہیلی کہ نرالے چوت دےكھ اور اب پھر سے اپنی ماں کہ انماد میں ڈوبی آوازیں سن کر اس کے اندر بھی کچھ ہونے لگا تھا، اسے لگنے لگا کہ اس کے علاوہ آس پاس کے تمام لوگ مزے لے رہے ہیں، جب تمام مزے لے رہے ہیں تو وہ اپنے آپ کو کیوں روک رہی ہے.

اتنا سوچتے ہی اس کی آنکھوں میں گلابی ڈورے اتر آئے، اس کے سرخ سرخ ہونٹ كامپنے لگے اور اس کا چھوٹا سا ہاتھ لهراكر اپنی چوت کہ طرف چل پڑا ..

وہ سوچ رہی تھی کہ ابھی ایک منٹ پہلے وہ شویتا کو تقریر دے رہی تھی اور اب خود پر قابو نہیں رکھ پا رہی ہے.

اس کی پریشانی بھانپ کر مٹھ مارتی ہوئی شویتا بولی: "اب کیا سوچنے لگ گئی، مت روک اپنے آپ کو، یہی ٹائم ہے ہماری زندگی کا، جی لے اسے، مزے لے، جیسے میں لے رہی ہ، تیری ماں لے رہی ہے '' .

اسی کے ساتھ ایک اور چیخ آئی ممی کے کمرے سے.

شویتا: "ویسے ایک بات بولو، تیرے پاپا کا لںڈ ہے شاندار، جیسا بی ف فلموں میں ہوتا ہے، لمبا اور موٹا، میں تو بس اسی کو سوچ کر کر رہی ہ، آجا تو بھی کر لے ''.

شویتا کہ بھی حد تھی، كاويا کے سامنے ہی اس کے نئے پاپا کے لںڈ کے بارے میں بات کر رہی تھی اور اسے بھی سوچنے اور کرنے کہ مشورہ دے رہی تھی.

کتنا غلط کر رہی تھی وہ.

پر اس میں غلط ہی کیا ہے ..

وہ اس کے اصلی پاپا تھوڑے ہی ہیں، وہ تو اس سوتیلا باپ ہے، ایک ایسا انسان جس کا کچھ دن پہلے تک اس کی زندگی میں نامو نشان نہیں تھا، ایک دم سے وہ اس کا باپ بن کر اس کی زندگی میں آ گیا ہے ..

ویسے شویتا ٹھیک کہہ رہی ہے، اس کے پاپا کا لںڈ ہے تو کمال کا، لمبا اور موٹا، جیسا ہر لڑکی سوچتی ہے، دسرو کا تو پتہ نہیں پر وہ ضرور سوچتی ہے ..

وہ یہ سب سوچ ہی رہی تھی کہ شویتا نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ کھینچا اور اپنی گود میں بٹھا لیا.

وہ خود سوفی پر بیٹھ کر اپنی چوت مسل رہی تھی ..

كاويا بھی بغیر کسی مخالفت کے اس کے ساتھ ھیںچتی چلی گی ..

ایک ہاتھ سے اپنی چوت مسلتے ہوئے شویتا نے دوسرے ہاتھ کو جیسے ہی كاويا کہ چوت کے اوپر لگایا وہ سسک اٹھی.

شویتا: "اوہ ماے گوڈ، تیری چوت تو بری طرح سے گرم ہوا پھینک رہی ہے، چل جلدی سے اتار اس کو '' ..

اور اس نے اپنا ہاتھ چوت سے نکال کر كاويا کا کھڑا کیا اپنے سامنے اور اس کا پائجامہ آہستہ 2 نیچے کھسکا دیا ..

اس نے پںک کلر کہ پیںٹی پہنی ہوئی تھی، جس کے آگے کا حصہ چپچپے پانی سے لسڑھ کر بری طرح سے گلہ ہو چکا تھا، شویتا نے اسکی پیںٹی کو بھی نیچے کھسکا دیا.

اس کے چھاتی اگرچہ چھوٹے تھے پر گاںڈ کا فلر بالکل صحیح ہوا تھا، چکنے اور بھرے چوتڑ دیکھ کر شویتا اپنے آپ کو روک نہیں پائی اور انہیں مسل-مسلكر مزے لینے لگی

اس کی کنواری چوت پر ہلکے پھلكے بال تھے، جنہیں دیکھ کر شویتا بولی: "كاوي ڈارلنگ، میں نے تجھے ایک بار پہلے بھی سمجھایا تھا نہ کہ اسے ہمیشہ صاف رکھا کر '' ..

اس بات کا كاويا نے کوئی جواب نہیں دیا، کیونکہ اس وقت اس کی چوت میں جو آگ لگی ہوئی تھی وہ اس کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی ..

شویتا نے اپنی چوت سے نکلی اوںگلی کو اسکی چوت پر پھےرايا، جسے محسوس کرتے ہی كاويا اپنے پجو پر کھڑی ہو کر سلگ اٹھی اور ایک ہلکی سی چیخ اس کے منہ سے بھی نکل آئی ..

'' ااهههههههههههههه اممممممممم '' ..

شویتا کے چہرے پر مسکراہٹ تیر گی ..

اور اگلے ہی پل بغیر کسی وارننگ کے شویتا نے وہی اوںگلی اسکی چوت کے اندر گھسیڑ دی.


كاويا نے اپنی آنکھوں کو پھیلاتے ہوئے، اپنے منہ کو گول کرتے ہوئے، ایک ہنکار بھری اور اپنے دونوں ہاتھوں سے شویتا کے ہاتھ کو تھام لیا اور اپنے پجو پر کھڑی ہو کر گہری-2 ساںسے لینے لگی.

اس نے آج تک اتنی اندر تک اپنی اوںگلی بھی نہیں دھكےلي تھی، ڈر کے مارے کہ کہیں اسکی سیل نہ ٹوٹ جائے، اور آج شویتا نے کتنی بےدردي سے اس کی چوت کے اندر اپنی اوںگلی ڈال دی ہے، کہیں کچھ ہو نہ جائے ..

ایسا سوچتے ہوئے اس نے دھیرے 2 اس کے ہاتھ کو باہر کہ طرف کھینچا، اور اس کی اوںگلی کو غور سے دیکھنے لگی.

شویتا سمجھ گئی کہ اس کے دل میں کیا چل رہا ہے.

وو بولی: "نہےں پاگل، اتنی سی اوںگلی ڈالنے سے کچھ نہیں ہوتا، اس جھلی کو توڑنے کے لئے لںڈ چاہئے لںڈ ...... سمجھی ''.

كاويا نے دھیرے سے سر ہلایا اور اس کی اوںگلی کو پھر سے اپنی چوت کے منہ پر رکھ کر خود ہی اندر دھکیل دیا، اور اس بار جب وہ اوںگلی رگڑ کھاتی ہوئی اندر تک گئی تو اس کا روم روم باغ باغ ہو اٹھا، ایسی پھيلگ اسے آج تک نہیں ہوئی تھی، حتمی لطف، جسے شبدو میں بیاں نہیں کیا جا سکتا.

اس کی چوت کے اندر اوںگلی ڈالنے کے بعد شویتا نے دوسرے ہاتھ کہ اوںگلی اپنے اندر ڈال لی اور ایک ہی تال میں دونوں ہاتھ ہلانے لگی.

شویتا: "ایسے صرف آنکھیں بند کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، تو کسی کے بارے میں سوچ، ایسے کسی لڑکے کے بارے میں، کسی ہیرو کے بارے میں جس کے لںڈ کو تو اس وقت اپنے اندر محسوس کرنا چاہتی ہے، اور میری اوںگلی کو وہی لںڈ سمجھ کر مزے لے بس ''.

بند آنکھوں کے پیچھے كاويا نے کافی کوشش کہ پر ایسا کوئی بھی انسان اس کی سوچ میں نہیں آیا جس کے بارے میں سوچ کر وہ اس لمحے کا مجا لے سکے، اس نے تو آج تک کسی کے بارے میں ایسا نہیں سوچا تھا اور نہ ہی کسی کے لںڈ کہ طرف کبھی دیکھا تھا، پر آج تو اس نے اپنے سمیر پاپا کا لںڈ دیکھ لیا، پہلی بار لںڈ دیکھا اور وہ بھی اپنے باپ کا، اور ان کے لںڈ کے بارے میں سوچتے ہی كاويا کے جسم میں ایک عجیب سی ایٹھن آنے لگی اور وہ شویتا کہ اوںگلی کو سمیر پاپا کا لںڈ سمجھ کر اس کے اوپر لہرانے لگی ..

اور مزے کہ بات یہ تھی کہ شویتا بھی سمیر کے لںڈ کے بارے میں ہی سوچتے ہوئے ماسٹربےٹ کر رہی تھی.

اور ساتھ والے کمرے میں رشم سمیر کا لںڈ سچ میں لے کر مزے کر رہی تھی.

دیکھا جائے تو ایک ہی بندا تین-2 چوتوں کو ایک ساتھ مزے دے رہا تھا.

شویتا کے تو دونوں ہاتھ بزی تھے پر كاويا بالکل خالی تھی، اور ایسی حالت میں آتے ہی سہولت اس دايا ہاتھ اپنی بریسٹ کہ طرف چلا گیا اور اس نے اپنا چيكو بری طرح مسل ڈالا ..

'' اهههههههه اممممممممم '' ...

اپنے ہی ہاتھو درد پانے کا مزہ الگ ہی ہوتا ہے.

اور آج اپنے انچھئے اروجوں کو دبوچكر جو درد كاويا پھیل کر رہی تھی، اس میں ایک الگ ہی مزہ آ رہا تھا اسے ..

اس کی سسکاری سن کر شویتا نے بھی اپنی آنکھیں کھولی اور اس کی خوشی کا سبب علم اس نے اس کا دوسرا ہاتھ اپنی بریسٹ کے اوپر رکھ دیا.

اور پھر كاويا کو سمجھانے کہ ضرورت نہیں پڑی کہ آگے کیا کرنا ہے،

اس نے شویتا کا بھی بھومپو بجانا شروع کر دیا ..

شویتا کہ بریسٹ اس مقابلے کافی بڑی تھی، انپھےكٹ اس ممی کے جتنی تھی، تقریبا 34 کے آس پاس، اور اس کی تو ابھی 32 بھی نہیں ہوئی تھی طریقے سے.

اس نے دل ہی دل سوچا کہ کاش اس کی بریسٹ بھی شویتا کے جیسی بڑی اور ملائم ہوتی کیونکہ لڑکوں کو تو بڑی 2 بریسٹ ہی لبھاتي ہے.

شویتا کے نپل کھڑے ہوکر بری طرح مچل رہے تھے اور یہی حال كاويا کے نپپلس کا بھی تھا، ایک تو وہ اتنے لمبے تھے اوپر سے جو کھجلی اب انمے ہو رہی تھی اس کا تو دل کر رہا تھا کہ انہیں نوچ کر کوئی کھا جائے بس .

Posted on: 04:28:AM 11-Jan-2021


0 0 437 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 62 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com