Stories


زندگی بے بندگی شرمندگی از ولید ملک 474

نامکمل کہانی ہے
اسلام و علیکم دوستو
میرا نام ضروری نہیں بس اتنا بتاتا چلوں کہ بہت پرانا مگر خاموش قاری ہوں کہانی پڑھنے اور لکھنے کا ہمیشہ سے شوق رہا ہے تو آتے ہیں کہانی کی طرف باتیں ہوتی رہیں گی . یہ کہانی بلکل سچی یا آپ بیتی نہیں ہے اسے کہانی سمجھ کر ہی پڑھیے گا تو کہانی شرو کرتے ہیں .
اسکو پہلی نظر دیکھتے ہی مجھے احساس ہو گیا تھا کہ وہ شاید پچھلے کئی دنوں سے بھوکا ہے آس پاس کھڑے لوگوں کو بھی شاید اس بات کا بخوبی اندازہ ہو لیکن کسی غریب کی مدد یا بھوکے کو کھلانے کہ لئے جس حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے  وہ ان میں مفقود تھی .
میں پنجوں کہ بل زمین پر اس کہ سامنے بیٹھ گیا. میرے ساے نے اس کے ننھے وجود کو ڈھانپا تو اس نے نظر اٹھا کر پہلی بار مجمعے میں سے کسی کی طرف دیکھا وہ میں تھا .
اس کی آنکھوں میں بے بسی ،بھوک، لاچاری غرض کیا نہیں تھا. مجمعے سے اب بھی سرگوشیوں کی آوازیں آ رہی تھیں میں نے ہاتھ اس کی جانب بڑھایا جو اس نے فوری تھام لیا جیسے یہاں میرا ہی منتظر ہو.
میرا ڈرائیور جو گاڑی کہ ساتھ پارکنگ میں موجود تھا میری اس بچے میں دلچسپی بھانپ کر میرے قریب آ چکا تھا .
میں نے پہلی بار لب کھولے اور  اس سے نام پوچھا . جواب میں ایک مبہم سی سرگوشی سنائی دی شاید کمزوری کہ سبب وہ  بولنے میں بھی مشکل محسوس کر رہا تھا  .
میرا ہاتھ اب تک اس کے ہاتھ میں تھا میں نے آھستہ سے پوچھا میرے ساتھ چلو گے. ایک لمحے کے توقف کے بعد اس نے دوسرا ہاتھ بھی میری جانب بڑھا دیا جیسے اٹھنے کے لئے سہارا طلب کر رہا ہو .
میں  نے ایک ہاتھ اس کے گھٹنے کے نیچے سے گزارا دوسرا ہاتھ گردن کے پیچھے رکھا اور اسے اٹھا لیا اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی ڈرائیور یہ دیکھ کر فوری اسے لینے کے لئے لپکا مگر میں نے اشارے سے اسے مانا کیا وہ بضد ہوا سر آپ کہ کپڑے .... لیکن مجھے متوجہ نا پا کر خاموش ہو گیا .
اگلے ٢٠ منٹ میں ہم ایک پرائیویٹ ہسپتال میں موجود تھے فون کر کہ میں سونیا کی موجودگی کنفرم کر چکا تھا ہمارے  پہونچنے پر وہ ہماری منتظر تھی.
 اسے دیکھ کر میرے چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ ابھری جواب میں وہ کھلکھلاتی ہی گاڑی تک پہونچی .
لیکن گاڑی کہ اندر کسی کو دیکھ کر اس کی ہنسی کو بریک لگ گے .
سونیا ! یہ کون ہے کیا ہوا اسے یکایک اس کے اندر کی ڈاکٹر بیدار ہو گئی تھی اس کہ ساتھ ہی وہ وارڈ بوائز کو اشارے سے بلا چکی تھی جو کچھ دور ایمرجنسی گیٹ کہ قریب موجود تھے
اگلے کچھ لمحوں میں ہم ایمرجنسی وارڈ میں بچے کہ ساتھ موجود تھے سونیا اسے چیک کرنے کہ ساتھ ساتھ مجھ سے سوال و جواب میں بھی مصروف تھی  مجھے خود نہیں علم  تھا اسے کیا بتاتا ،
مجھے لگتا ہے شدید بھوک اور کمزوری سے اسکا یہ حال ہوا ہے ، اسے کچھ کھلایا نہیں کہ جانے کب سے بھوکا ہو ایک دم زیادہ کھانا کھا لینے سے اس کی حالت مزید نا بگڑ جائے . اسی لئے ذھن میں پہلا خیال تمہارا ہی آیا اور یہاں لے آیا اسے ،
اچھا کیا اسکی حالت واقعی بہت خراب ہے بلڈ پریشر بھی بہت لو ہے لیکن خطرے کی کوئی بات نہیں سونیا نے جواب دیا ،
بچے کو گلوکوز انجیکٹ کیا جا چکا تھا وہ  نیم بیہوشی یا شاید گہری نیند میں تھا .
میں اب اس کی طرف سے مطمئن تھا ،
یہ اب تمہاری ذمے داری ہے جب تک بلکل صحت مند نہیں ہو جاتا میں سونیا سے مخاطب ہوا . لیکن یہ ہے کون تمہیں کہاں سے ملا کس کا بچہ ہے سونیا سراپا سوال تھی ،
تمہیں مجھ سے تو کم از کم یہ سوال نہیں پوچھنا چاہیے تھا مجھے تو خود اپنا علم نہیں میں کسکا بچہ ہوں . بچہ تو بچہ ہوتا ہے نا تمہارا ہو یا میرا یا کسی کا بھی کیا فرق پڑتا ہے ، یہ شاید میں نہیں میرا دکھ بولا تھا،
بچے کا خیال رکھنا کیش کاؤنٹر پر رقم ڈپازٹ کر دیتا ہوں گھر سے کسی ملازم کو بھی  بھیج دوں گا . وہ اس کے ساتھ رہے گا .میں  ضروری کام سے نکلا تھا پہلے ہی کافی دیر ہو چکی ہے ، شام میں وقت ملا تو آؤں گا .
سونیا سے رسمی جملوں کے بعد اجازت لے کر نکل آیا.
سونیا اور میرا تعلق کوئی بہت پرانا نہیں تھا لیکن تھوڑے ہی عرصے میں وہ خود کو ایک اچھی دوست ثابت کر چکی تھی. یہ اس وقت کی بات ہیں جب سونیا لاہور کے ایک میڈیکل کالج میں زیر تعلیم تھی گھر سے دور ہوسٹل لائف ، غرض وہ  خود کو گھر کی پابندیوں سے دور بہت  آزاد محسوس کرتی تھی.
پہلی بار جب وہ  مجھ سے ملنے آئ تو بہت  ڈری سہمی تھی، میں خود بھی حیران تھا جس جگہ کے قریب سے کوئی شریف آدمی گزرنا پسند نہیں کرتا وہ اکیلی لڑکی وہاں تک آ پہونچی تھی. میں اس وقت اپنے ایک ہوٹل کی چھت پر موجود تھا جاننے والے جانتے تھے کے اس ہوٹل میں کیا کچھ ہوتا ہے . مجھے جب ملازم  نے آگاہ کیا  کے کوئی لڑکی مجھ سے ملنا چاہتی ہے تو مجھے بھی حیرت ہوئی لڑکیوں سے میرا واسطہ صرف ضرورت کی حد تک ہی رہا ہے لیکن کسی کا یوں منہ اٹھا کر میرے اڈے پر  چلے آنا مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا،
لیکن اسے دیکھنے کے بعد میرے سب شکوک غلط ثابت ہوے وہ  ان میں سے کوئی بھی نہیں تھی .
اس نے رسمی سلام دعا کا بھی تکلف نہیں کیا
میں آپ کے پاس ایک کام سے حاضر ہوئی تھی لیکن اس سے پہلے آپ کو یہ وعدہ کرنا پڑے گا کے اگر آپ میرا کام کرنے پر راضی نا ہوے تو یہ بات یہیں ختم ہو جائے گی آپ کسی سے اسکا ذکر نہیں کریں گے.
میں اب تک ایک لفظ نہیں بولا تھا . لیکن یہاں کچھ کہنا ضروری ہو گیا تھا مجھے پہلے اسکی گھبراہٹ دور کرنی تھی اس کے چہرے سے لگ رہا تھا وہ  کسی وقتی جذبے کے زیر اثر یہاں تک آ تو گئی ہے لیکن کسی بھی لمحے واپس دوڑ لگا سکتی ہے .
میں نے نہایت تحمل سے اسے بیٹھنے کا کہا ، وہ کرسی کی جانب ایسے بڑھی جیسے مجبوراً بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہو .
وہ دیکھنے میں ایک عام سی لڑکی تھی چہرے پر موجود پریشانی نے اسے مزید کملا دیا تھا لیکن اس کی آنکھوں میں کوئی ایسی بات تھی جو اسے دوبارہ دیکھنے پر مجبور کرتی تھی . میری یوں مشاہدہ کرنا شاید اسے مزید نروس کر گیا تھا،
آپ نے میری بات کا جواب نہیں دیا . وہ منمنانے کے انداز میں بولی.
جب تک آپ کھل کے بات نہیں کریں گی میں کسی بات کا کیسے کوئی جواب دے سکتا ہوں . پہلے آپ یہ بتائے کے آپ کو میرے پاس کس نے بھیجا ہے اور   یہ اندازہ آپ نے کیسے لگایا کے میں  آپ کے کام آ سکتا ہوں  . آپ کا یہاں تک آ جانا یہ بتانے کے لئے کافی ہے کے آپ میرے متعلق تفصیل سے آگاہ نہیں ہیں
ورنہ شاید یہاں تک آنے کی ہمّت نا کرتیں .
وہ  کچھ لمحے خاموشی کے بعد گویا ہوئی . رہی بات آپ کو جاننے کی تو میں واقعی آپ کے بارے میں زیادہ نہیں جانتی لیکن مجھے لگا کے اسس وقت آپ ہی ہیں جو میری مدد کر سکتے ہیں . ورنہ شاید میرے پاس حرام موت مرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا .
اسس گفتگو کے بعد اسکا اعتماد  بھی کچھ بحال ہوتا نظر آ رہا تھا .
میں نے اسے تسلی دی کے یہاں جو بھی بات ہو گی اس کے اور میرے درمیان رہے گی اور مجھ سے جو ہو سکا اس کے لئے ضرور کروں گا . آپ جو بھی کہنا چاہتی ہیں تفصیل سے بتائیے.
میں ملتان کی رہنے والی ہوں یہاں میڈیکل کالج  میں زیر تعلیم ہوں یہیں ایک پرائیویٹ ہوسٹل میں رہتی ہوں مڈل کلاس فیملی سے تعلق ہے . اپنے کالج کے ہی ایک لڑکے سے میری دوستی ہوئی اور بات زیادہ آگے چلی گئی میں  اس کے متعلق سنجیدہ تھی اور میرا بھی یہی خیال تھا کے وہ  بھی میرے متعلق سنجیدہ ہے . لیکن ....... یہاں آ کر وہ رک گئی شاید مزید ہمت جمع کر رہی تھی ... اور شاید اسی غلط فہمی میں میں نے اسے کسی بات سے نہیں روکا یہاں تک کے ہمارا جسمانی تعلق بھی بن گیا تھا وہ اکثر مجھے اپنے یا کسی دوست کے گھر لے کر جاتا رہا .
لیکن میں اصل صورت حال سے بے خبر تھی میری بے خبری میں ان سب لمحات کی ویڈیو ریکارڈنگ ہوتی رہی اور اب وہ بلیک میل کر کے مجھے اپنے دوستو کے سامنے بھی پیش کرنا چاہتا ہے. میرے ابّا بہت شریف انسان ہیں میرے متعلق کوئی ایسی ویسی خبر ان تک پہونچی تو جیتے جی مر جائیں گے وہ. ہمارے خاندان میں لڑکیوں کو زیادہ پڑھانے کا رواج نہیں ہے میرے باپ نے پوری برادری کی مخالفت مول لے کر مجھے یہاں پڑھنے بھیجا انھیں یہ سب پتا لگا تو جیتے جی مر جائیں گے وہ .
اس  تمام گفتگو کے دوران بھی اس کے آنسو ٹپکتے رہے تھے اب وہ باقاعدہ ہچکیوں سے رو رہی تھی . میں نے اسے چپ کرانے کی کوئی کوشش نہیں کی جانے کب سے وہ غبار اندر جمع تھا اچھا تھا اچھا تھا کے نکل جاتا .
کچھ دیر یونہی گزر گئی اس کے رونے دھونے میں بھی کافی کمی آ چکی تھی . اس نے منتظر نظروں سے مجھے دیکھا تو میں مسکرا دیا مجھے اس پاگل سی لڑکی پر ترس بھی آ رہا تھا اور غصّہ بھی لیکن یہ وقت ان باتوں کا نہیں تھا . میں نے اس سے اس لڑکے کے بارے میں تفصیلات پوچھیں اور اسے جانے کو کہا وہ  حیرت بھری نظروں سے مجھے دیکھنے لگی اسے شاید کوئی اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا کے میرا کیا ارادہ ہے . میں نے اسے اپنا فون نمبر دیا اور اگلے دن رابطہ کرنے کو کہا . وہ جاتے جاتے بھی پالت کر میری طرف دیکھنا نہیں بھولی تھی مجھے اس کے چہرے پر مایوسی صف نظر آ رہی تھی لیکن میں اسے زیادہ تسلی بھی نہیں دینا چاہتا تھا آخر جو ہوا اس میں  اسکا بھی قصور تھا سو کچھ سزا اسے بھی ملنا ضرورری تھی جو اسس پریشانی کی صورت میں اسے بھگتنا تھی .
اس کے جانے کے فورن بعد میں نے ٹیپو کو آواز دی اور لڑکے کے متعلق تفصیل سے آگاہ کیا وہ  سر ہلاتا ہوا رخصت ہو گیا . ٹیپو اس جن کا نام تھا جو  شاید پیدا ہی مرنے مارنے کے ہوا تھا بہت کام بولتا تھا اور بہت جلد سمجھ جاتا تھا . مجھ سے بے تکلف بھی تھا لیکن کبھی اسکا ناجائز فائدہ نہیں اٹھایا  تھا یہ کام اس کے ذمے لگانے کے بعد میں دوبارہ بوتل کی طرف متوجہ ہو گیا جو کب سے میرے اندر اترنے کی  منتظر
باس وہ......... آپ باس ................ اس سے کوئی بات نا بن پڑی تو دائیں بائیں دیکھنے لگا.
خان تجھے تیرا  شوق پورا کرنے کا موقع دے رہا ہوں تو لڑکیوں کی طرح نخرے کر رہا ہے . چل شروع ہو جا ... میرے منہ سے ابھی یہ بات نکلی ہے تھی کہ شہزاد کہ منہ سے گالیوں کا طوفان برامد ہوا وہ  مجھ  سمیت سب کو ماں بہن کی گالیوں  سے نواز رہا تھا اور مجھے اس کی بےبسی لطف دے رہی تھی ... میرے کہنے پر لڑکوں نے اسے اوندھا لٹا دیا .. خان اب بھی میرے طرف حیرت سے دیکھ رہا تھا کہ میں واقعی سنجیدہ ہوں یا یہ مذاق  چل رہا ہے لیکن میں شہزاد کو اس کے کیے کی سزا دینے کا ارادہ کئے بیٹھا تھا ..
خان نے جب میرے ارادے میں کوئی ترمیم نہ دیکھی تو چھوٹے چھوٹے قدموں سے چلتا ہوا شہزاد کی جانب بڑھا وو ہچکچاہٹ کا شکار تھا ورنہ گانڈ دیکھ کر اسکی رال ٹپک رہی تھی ...
وہ اوندھے پڑے شہزاد کی گانڈ  سے تھوڑا نیچے گھٹنوں کی پشت پر سوار ہو گیا اس نے ایک بار پھر سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھا میں نے سر کے اشارے سے اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا .
ادھر شہزاد کہ منہ سے مسلسل گالیاں ابل رہی تھیں خان کا ہاتھ اپنے ناڈے کی طرف بڑھا ور اگلےچند سیکنڈ میں اسکا نیم مرجھایا لن برآمد ہوا ..
وہ لن اس حالت میں بھی کافی خوفناک لگ رہا تھا اب تک شہزاد کی نظر خان کے لن پر نہیں پڑی تھی ورنہ شاید خوف سے ہی اسکی گانڈ پھٹ جاتی ....
خان نے لن کو آہستہ آہستہ شہزاد کی گانڈ کے کریک میں پھیرنا شروع کر دیا ادھر شہزاد کو اب تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب واقعی اس کے ساتھ ہو رہا ہے .... خان کا لن اب فل جوبن پر تھا شہزاد مسلسل نیچے سے نکلنے کی کوشش میں تھا لیکن خان کہ بوجھ تلے اسکا ہلنا بھی مشکل تھا .....
خان نے گانڈ کو دونوں ہاتھوں سے کھول کے سوراخ پہ تھوکا ور کچھ تھوک اپنے ٹوپے پر بھی لگا دیا ... خان نے ایک بار پھر مجھے دیکھا اور مجھے مسکراتا دیکھ کر دوبارہ شہزاد کی گانڈ پہ فوکس کیا ..... خان نے ٹوپا موری پہ ایڈجسٹ کیا وے دونوں ہاتھ شہزاد کہ کاندھوں پر رکھ لئے .... اگلا لمحہ شہزاد کے لئے کسی  قیامت سے کم نہیں تھا اس کی چیخ یقینن پوری کالونی نے سنی ہوتی اگر کمرہ ساؤنڈ پروف ناں ہوتا .... ایک لمبی زوردار چیخ کہ بعد اسکے گلے سے عجیب و غریب آوازیں برآمد ہو رہیں تھیں آنکھوں سے آنسو مسلسل بہنے لگے .... ودھات خان نے کچھ لمحوں کے بریک کے بعد اندر باہر کرنا شروع کیا کچھ ہے دیر میں لن گانڈ میں رواں ہو چکا تھا ور شہزاد کی چیخیں بھی سسکیوں میں بدل چکی تھیں خان نے اب لمبے  سٹروکس لگانے شروع کیے  وہ لن کو پورا باہر نکالتا ور ایک جھٹکے سے گانڈ میں دھکیل دیتا ور ہر جھٹکے کہ ساتھ شہزاد کی چیخ بلند ہوتی  شہزاد نے اب مزاحمت چھوڑ دی تھی
وہ  بس کسی طرح اسس برے وقت کہ ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا کہ خان کا لن اپنا پانی نکال کہ اسکی گانڈ سے دفع ہو جائے  چند منٹوں میں وہ  لمحہ بھی آ گیا جب خان کہ جھٹکوں کی رفتار تیز ہوئی خان اسس وقت اپنے علاوہ باقی سب کی موجودگی فراموش کر چکا تھا ... اس کہ چہرے سے اندازہ ہو رہا تھا کہ اسس وقت وہ کس قدر مزے کی حالت میں ہے .....  چند ہے لمحوں می کچھ بے ہنگم آوازوں کے ساتھ خان نے اپنا پانی شہزاد کی گانڈ میں نکال دیا اور نڈھال ہو کر شہزاد کے اپر ہی  گر گیا اس کہ شہزاد پر گرنے سے پہلے میں موبائل کا کیمرے اوف کر چکا تھا .......... جی ہاں.............. ورنہ خان کے لن کے ساتھ اسکا چہرہ بھی ویڈیو کا حصّہ بن جاتا

خان نے مزے کی دنیا سے باہر انے کہ بعد کمرے سے نکلنے میں ہی عافیت سمجھی سب کہ چہروں پر پھیلی شرارتی ہنسی کا سامنا کرنے سے باہر جانا بہتر سمجھا تھا ... شہزاد ابھی تک وہیں ایک لاش کی طرح پڑا تھا اسے قابو میں رکھنے والے تینوں لڑکے بھی اب ہٹ کر کھڑے تھے .
میں  آہستہ آہستہ چلتا ہوا شہزاد کی جانب بڑھا اور موبائل کا رخ اسکی جانب کیا اسکی گانڈ پر بیتنے والے واقعات اب اسے پھر سے نظر آ رہے تھے ... یہ پہلی بار تھا دوبارہ اس لڑکی کہ قریب بھی نظر اے تو ................ خیر تمہیں سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تم خود بھی اس کے ساتھ یہی کچھ کرنے جا رہے تھے .... میں نے اسے آخری بار سمجھایا  اور کمرے سے باہر کا رخ کیا ... اسلم کو ہدایت کی کہ شہزاد کو بیہوش کر کے کہیں بھی پھینک دے اسکا لیپ ٹاپ اپنی گاڑی میں رکھنے کا کہا اور ایک کپ چاے کا که کر اپنے لئے مخصوص کمرے کی جانب بڑھ گیا .....
شام میں مجھے سونیا کی کال موصول ہوئی اسے شہزاد کی گمشدگی اور واپسی کی خبر بھی مل چکی تھی مجھ سے مزید کچھ جاننا چاہ رہی تھی میں نے اختصار کہ ساته ضروری باتیں اسے بتائیں اور  ویڈیوز کی ریکوری کا بھی بتا دیا .... آپ نے وہ  ویڈیوز دیکھی ہیں... اس نے جھجکتے ہویے پوچھا ...
نہیں میں دیکھ نہیں سکا لیکن اسکی طرف سے آپ فکر نہ کریں .... میں نے اسے تسلی دی .....
آپ پلیز مجھے وہ  ویڈیوز دے سکتے ہیں وہ  پھر بولی....!
ٹھیک ہے بی بی آپ جب بھی چاہیں مجھ سے آ کر لے سکتی ہیں ..... میں  نے آخر کار ہار مانتے ہویے کہا ...
کیا میں ابھی آ سکتی ہوں اگر آپ کہ پاس وقت ہو تو .... وہ  شاید اس معاملے میں مجھ پر بھی بھروسہ نہیں کر سکتی تھی ...... جی آ جائیں لیکن ہوٹل مت آئے گا وہ جگہ آپ جیسے لوگوں کے لئے نہیں ہے ........ میں  نے اسے دوسرا ایڈریس سمجھایا جہاں میں اس وقت موجود تھا .... وہ پونے گھنٹے میں میرے پاس آ پہونچی .... ملازم نے اس کے انے کی خبر دی تو میں نے اسے گاڑی سے لیپ ٹاپ لانے اور اسے اندر بھیجنے کی ہدایت کر دی...
کچھ ہی دیر میں سونیا میرے سامنے صوفے پر بیٹھی تھی پہلے کہ مقابلے میں زیادہ پر اعتماد اور بہتر لگ رہی تھی .... میں نے رسمی باتوں کہ بعد اس سے چاے کے لیے پوچھا جسکا جواب اس نے اثبات میں دیا ....
سونیا ، آپ پلیز وہ  ویڈیوز مجھے دے دیں میں شاید اسس زندگی میں آپ کا یہ احسان نہ اتار سکوں لیکن ......
بی بی زیادہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے آپ کے ساتھ زیادتی ہو رہی تھی تو میرا فرض تھا جو مجھ سے ہو سکا میں نے کیا . اسس میں کوئی احسان نہیں ہے بلکہ شاید کسی کا کیا ہوا احسان اتارنے کی ایک معمولی سی کوشش تھی ....
سونیا  ، اس کہ پاس ان  ویڈیوز کی اگر مزید کوئی کاپی ہوئی تو .... ؟
وہ  اب تک گھبرائی ہوئی تھی .... میں  نے جیب سے موبائل نکالا اور شہزاد کی گانڈ مارے جانے کی ویڈیو اس کے سامنے کر دی وہ  موبائل ہاتھ میں  پکڑ کر غور سے ویڈیو دیکھنے لگی ...... اگلے ہے لمحے اس کے ماتھے پر پسینہ چمکنے لگا .... لیکن اسکی نظریں اب بھی موبائل سکرین پر تھیں ......
آخرکار ویڈیو ختم ہوئی تو اس نے میری جانب دیکھا .... میں نے مسکرا کر جواب دیا اگر اس کے پاس کوئی کاپی ہے بھی تو اسس ویڈیو کہ ہوتے وہ کوئی حرکت نہیں کر سکتا ...
سونیا کہ چہرے پر اب اطمینان نظر آ رہا تھا .... اتنے میں چاے آ گئی اور ہم  خاموش سے چاے  پینے لگے...
میری چھٹی حس مجھے بتا رہی تھی کے وہ وقفہ وقفہ سے مجھے دیکھ رہی ہے  لیکن می نے اسے مکمل نظر انداز کے رکھا ... چاے ختم ہوتے ہے میں  نے وہ  لیپ ٹاپ  اس کے  حوالے کیا آپ کی ویڈیوز اسس میں موجود ہیں آپ چاہیں تو لیپ ٹاپ ضایع کر دیں .. سونیا نے فورن لیپ ٹاپ کھولا اور اسے آن کیا ویڈیوز پلے کر کے دیکھنے لگی ... میں چپ چاپ بیٹھا اس کے تاثرات دیکھ رہا تھا
خاموشی سے اٹھ کر میں اس کے قریب صوفے پر جا بیٹھا اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور دوبارہ ویڈیو کی طرف متوجہ ہوئی .... میں نے بھی سکرین پر نظر جمائی ... سونیا کی پشت کیمرے کی طرف تھی اور شہزاد سونیا کہ ہونٹ چوسنے میں مصروف تھا کبھی کبھار وہ  کیمرے کی جانب بھی شرارتی مسکراہٹ سے دیکھتا کسسنگ کرتے کرتے وہ دونوں بیڈ پر جا پہونچے اب منظر مزید واضح تھا ..... جلد ہے دونو کپڑوں سے آزاد ایک دوسرے سے اٹکھیلیاں کرنے میں مصروف تھے سنا نیچے لیٹی تھی اور شہزاد سونیا کے مممے چوسنے میں مصروف تھا اسکا ایک ہاتھ سونیا کی پھدی پر تھا سونیا بھی بھرپور انجونے کر رہی تھی اسکی لذّت بھری سسکیاں سپیکر سے برآمد ہو رہی تھیں شہزاد نے سونیا کو اپر انے کا اشارہ کیا اور خود لیٹ گیا سونیا اب شہزاد کے لن کو چاٹنے میں مصروف تھی بڑی مہارت سے ٹوپے کے گرد زبان گھماتی اور ایک دم سارا لن منہ میں ڈالنے کہ بعد ٹٹوں کو ہاتھ سے ہولے ہولے مسل رہی تھی .....
یہ سب دیکھ کر میرا لن بھی دہائیاں دے رہا تھا کچھ دیر یہی کچھ چلتا رہا سونیا شہزاد کے اپر سوار ہوئی اور لن کو پھدی پہ ایڈجسٹ کیا اتنا میں شہزاد نے نیچے سے زور کا گھسسا مرا اور سارا لن سونیا کی پھدی میں  غائب ہوتا نظر آیا سونیا اسس اچانک جھٹکے سے شہزاد کے اوپر جا گری اس کے ٣٦ کے مممے کے نیچے شہزاد کا منہ چپ گیا تھا شہزاد کے دونوں بازو سونیا کی کمر کے گرد لپٹے تھے اور تابڑ توڑ گھسسے مارنے میں مصروف تھا سونیا نے ایک دم ویڈیو بند کی تو میں جیسے ہوش میں آ گیا .....
سونیا اچانک اٹھ کر میرے قدموں میں بیٹھی گئی میرے گھٹنو پر ہاتھ رکھ کر آنسو بھری آنکھوں سے مجھے دیکھ رہی تھی اس لمحے وہ بہت دلکش لگی
........ میں  آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں آپ نے مجھے مرنے سے بچا لیا ورنہ شہزاد نے مجھے خود کشی کرنے کی حدد تک مجبور کر دیا تھا .
میں اچانک جیسے چونک سا گیا  ارے یہ کیا کر رہی ہو اسے کندھے سے پکڑ کر اٹھنے کا کہا  ساتھ ہی میں بھی صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا میرے کھڑے ہونے سے وہ  بلکل میرے نزدیک ہو گئی اتنا نزدیک کے اس کے مممے مجھے ایک بار اپنے سینے پر لگتے محسوس ہویے می نے دونو ہاتھ اس کے کاندھوں پر رکھے اور اسکی آنکھوں می دیکھتے ہویے اسے مخاطب ہوا .....
 جو کچھ ہوا اسے بھول جاؤ سمجھو ایک برا خواب تھا ..... آئندہ ایسی کوئی غلطی نہ کرنا جس کا خمیازہ جان دے کے بھگتنا پڑے ..
وہ خاموشی سے میری جانب دیکھ رہی تھی  جانے کتنی دیر ہم یونہی ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑے رہے احساس ٹیب ہوا جب میرے ہونٹ اس کے ہونٹو سے مس ہویے کیا لذّت تھی می جیسے نشے میں تھا کچھ دیر پہلے اسکی ویڈیو کا خمار اب تک ذھن پر سوار تھا میں نے اسے گلے سے لگا رکھا تھا اور مسلسل اس کے ہونٹ چوسنے میں مصروف تھا اس نے بھی کوئی مزاحمت نہیں کی .....
اچانک مجھے جیسے کسی نے جھنجوڑ دیا ہو مجھے لگا جیسے میں نیند سے بیدار ہوا ہوں سونیا کو ایک جھٹکے سے اپنے سے دور دھکیلا وو حیران نظروں سے میری جانب دیکھنے لگی مجھے خود اپنی حالت پر حیرت تھی میں اتنا کمزور کبھی نہیں تھا لیکن آج جانے کیا ہوا مجھے خود اپنے آپ پر پشیمانی ہونے لگی ..... میں کتنا گر گیا تھا .........
اچانک کیا ہوا آپ کو سونیا نے مجھے مخاطب کیا ....
یہ سب کیا تھا میں نے سونیا سے پوچھا
جواب خاموشی   ... نظریں جھکا کر چپ چاپ کھڑی تھی وہ..
کیا سمجھ لیا  ہے تم نے مجھے ؟ میں دھاڑا
اگر میں نے اگر تمہاری کوئی مدد کی ہے تو تم اسکی قیمت اپنے جسم سے ادا کرو گی ؟ مجھ میں زامنے بھر کی برائیاں موجود ہیں لیکن میری نظر میں اس سے گھٹیا شخص کوئی نہیں جو کسی کی مجبوری کی قیمت وصول کرے .. نکل جاؤ یہاں سے اور دوبارہ اپنی شکل مت دکھانا مجھے ....
وہ  چپ چاپ باہر کی جانب چل پڑی
یہ لیپ ٹاپ بھی لیٹی جاؤ ... میں پھر گرجا ...
اس نے اپنے قدم روکے لیپ ٹاپ اٹھا کر پلٹی اور خاموشی سے باہر نکل گئ
اگلے دن پروگرام کے مطابق جی ٹی روڈ پر واقع ایک کالونی کے گھر میں موجود تھا جو دیکھنے میں تو گھر تھا لیکن گھر ہرگز نہیں تھا . کالونی میں زیادہ تر پلاٹ  تھے چند ایک ہی گھر تھے جن میں زیادہ تر مزدور طبقہ لوگ رہائش پذیر تھے .
مجھے وہاں پہونچے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کے اسلم جو یہاں کا مستقل ملازم تھا نے ٹیپو کی طرف سے بھیجے گے پارسل کی اطلاع دی.
اسے ایک ساؤنڈ  پروف کمرے میں منتقل کیا جا چکا تھا میرے وہاں پہونچنے تک اسے لانے والوں میں سے ایک اسے ہوش میں لانے کی کوشش کر رہا تھا دوسرے نے مجھے کرسی پیش کی چند منٹوں می اسے ہوش آ چکا تھا .
میرے پاس زیادہ وقت نہیں تھا میں  فوری مدّعا پر آیا ،
ویڈیوز کہاں ہیں ؟ مجھے اپنی آواز خود اجنبی لگی!
جواب توقع کے مطابق تھا . کون سی ویڈیوز ؟
کون ہو تم اور کیوں لاے ہو مجھے یہاں ؟
تم شاید جانتے نہیں میں کون ہوں اپنی موت کو مزید مشکل نہیں بنانا چاہتے تو ایک منٹ سے پہلے مجھے کھول دو ورنہ اچھا نہیں ہو گا .
شبّیر میرے اشارے کا منتظر تھا اس نے کرسی پر بندھی حالت میں ہی اس کی جینز کی پینٹ اتارنی شروع کی وہ  کرسی پر مچلنے لگا  ؟
میں  پھر اس سے مخاطب ہوا . اب بھی موقع ہے بتا دو ویڈیوز کہاں ہیں اور کس کس  کے پاس ہیں .
قسم لے لو میں نہیں جانتا کن ویڈیوز کی بات کر رہے ہو تم . وہ  اپنی ڈھٹائی پر قائم تھا.
ٹھیک ہے تمہاری مرضی بولنا تو تمہیں پڑے گا ابھی یا کچھ دیر میں یہ فیصلہ تمہارا اپنا ہو گا . اتنا که کر میں نے کرسی ایک طرف کھسکائی اور درمیان میں جگہ بناتے ہے شبّیر کو شروع کرنے کا اشارہ کیا.
 ٢ لڑکوں نے اسے کھولا اور کھڑے ہونے کا کہا لیکن اسکا نچلا دھڑ ننگا تھا وو کھڑا ہونے میں تامل کر رہا تھا لڑکوں نے اسے زبردستی کھڑا کیا اور شرٹ بھی اتارنے کا کہا. لیکن وہ  بھی زبردستی اتارنی پڑی.
آخری موقع دے رہا ہوں بتاؤ ویڈیوز کہاں ہیں . اسکا موبائل چیک کیا جا چکا تھا ویڈیوز اس میں نہیں تھی یقیناً کسی اور جگہ محفوظ  کی گیں تھیں .
میرے تاثرات سے اسے اندازہ ہو چکا تھا کے وہ  اسکا انکار سننے کے موڈ میں بلکل نہیں ہوں.
ووووو
وہ  میرے لیپ ٹاپ میں ہیں ، وہ بمشکل بولا
کہاں ہے لیپ ٹاپ ؟ میرے اگلا سوال تھا
میرے گھرمیرے بیڈ روم میں.
اس کے علاوہ کہاں کہاں ہیں ؟ میں نے ایک شک کے تحت پوچھا .
میں کوئی بھی قسم کھانے کو تیار ہوں اس کے علاوہ کہیں نہیں ہیں . وہ گھبرائی ہوئی آواز میں بولا .
وہ لیپ ٹاپ مجھے یہاں چاہئے کیسے منگوانا ہے یہ تمہاری ذمہ داری ہے .
اتنی بات تو وہ  بھی جانتا تھا کے میں اسے گھر جانے کی اجازت تو کسی صورت نہیں دے سکتا .... مجھے فون کرنا ہے .. وہ  تھوک نگلتے ہویے بولا.
 میں نے شبّیر کو ہاں میں اشارہ کیا اور اسے یعنی شہزاد کو سمجھا بھی دیا کے کوئی فالتو بات نہیں ہو گی .... صرف لیپ ٹاپ منگوانا ہے ... غرض کچھ ہی دیر میں اسکا ایک کزن  اسکا لیپ ٹاپ گھر سے لے کر نکلا تھا اور شہزاد کے بتایے ہویے بندے تک پہونچنے والا تھا اسے اصل صورت حال کی ہوا بھی نہیں لگی تھی .. ٢ گھنٹے میں وہ دونوں بندے جو لیپ ٹاپ لینے گئے تھے ہم تک پہونچ گے ان میں ایک ہمارا ٹرک ڈرائیور اول خان  بھی تھا جسکا تعلق میانوالی سے تھا نہایت دلیر ، اور چوکس مگر ایک گندی عادت بھی تھی کے لڑکوں کا شوق تھا اسے لیکن اس ایک بری عادت سے میرے لئے اسکی افادیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا تھا . میں  نے اسے اسس کام کے لئے اسپیشل منتخب کیا تھا  . اصل میں شہزاد کے متعلق میں ایک فیصلہ کر چکا تھا اسے مار دینا یا ہاتھ پاؤں توڑ دینا مسلے کا حل نہیں تھا ہو سکتا ہے اب بھی اس کے پاس ویڈیوز کی کوئی کاپی موجود ہوتی ...
اول خان کو اندر کی صورت حال  کا اندازہ نہیں تھا، لیکن اندر آتے ہی لیپ ٹاپ اس نے میرے حوالے کیا اسکی آنکھوں میں شہزاد کی گانڈ دیکھ کر جو چمک ابھری تھی  مجھ سے چھپی نا رہ سکی .
میں نے اول خان کو مخاطب کیا خان .
وہ  فوری متوجہ ہوا ، اسکی گانڈ مارنی ہے مارو گے ؟
وہ حیرت سے میرا  منہ تکنے لگا ... وو شاید اسس خوش فہمی میں تھا کے میں اس کے شوق کے بارے میں کچھ نہیں جانتا ....
ادھر شہزاد جو کافی دیر سے نگرانی پے کھڑے لڑکوں کو دھمکانے میں لگا تھا  بھی چونک کر میری جانب دیکھنے لگا اسکی آنکھوں میں بے یقینی اور خوف بیک وقت دیکھ کر میرا دل خوش ہو گیا...
خان نے اب تک کوئی جواب نہیں دیا تھا  میں نے پھر سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا ...
باس آپ کے سامنے کیسے ام اسکا گانڈ مار سکتا ام کو شرم اتا باس وہ اپنے مخصوس لہجے میں گویا ہوا ....
مطلب کے تم کو اسکی گانڈ مارنے میں کوئی مسلہ نہیں ہے میرے سامنے اسکی گانڈ مارنے میں مسلہ ہے ...؟ میں نے پوچھا
باس وہ......... آپ باس ................ اس سے کوئی بات نا بن پڑی تو دائیں بائیں دیکھنے لگا
ڈرائیور نے سٹیشن فور کے باہر بریک لگائ تو میں  جھٹکے سے جیسے حال میں لوٹ آیا چار سال پہلے کے واقعات جیسے کل کی بات لگ رہی تھی .... وقت کو جیسے پر لگے ہویے تہے.
کچھ ہی دیر میں سٹیشن فور کے میٹنگ ہال میں موجود تھا زیادہ تر لوگ آ چکے تھے صرف ٢ کرسیاں خالی تھیں  جلد ہی وہ بھی پر ہو گیں میٹنگ کی صدارت گلفام شاہ کر رہا تھا آج ہم سب اسی کے بلانے پر اکٹھے ہویے تھے حال میں بیٹھے ہم ١١ لوگ جو پورے پنجاب کے سیاہ و سفید کے مالک تھے سب نے علاقے بانٹ رکھے تھے اب سے ٦ ماہ پہلے تک سب ٹھیک چل رہا تھا مثلا تب شروع ہوا جب جنوبی پنجاب سے رحیم داد کے مرنے کے بعد اس کے چھوٹے بھائی کریم داد نے کام سنبھالا .
گلفام شاہ اور میں کسی زمانے میں استاد شیردل کے ساتھی تھے استاد جو لاہور کا بے تاج بادشاہ تھا نے مرنے سے پہلے سارا علاقہ اپنے دونوں  چہیتے شاگردوں میں تقسیم کر دیا تھا . استاد مجھے یعنی شاہ زیب چودھری اور گلفام شاہ کو یکساں عزیز رکھتا تھا .. میں اس کے لئے بیٹوں کی طرح تھا ور گلفام شاہ اسکااچھے اور برے وقت کا ساتھی دوست غرض بھائی جیسا تھا .  استاد جگر کے ٹرانسپلانٹ کے لئے بھارت گیا تو اپنی زندگی سے کافی مایوس تھا ڈاکٹرز نے بھی زیادہ امید نہیں دلائی تھی ... استاد نے آپریشن سے ایک دن پہلے  ٹیلیفونک میٹنگ بلائی جس میں گروپ کے تمام بڑے شامل تھے اور باہمی مشورے سے استاد کی خواہش کے مطابق علاقہ ٢ حصوں می تقسیم کر کے  مجھے اور گلفام شاہ کو سربراہی سونپ دی گئی .
اگلے دن آپریشن ٹیبل پہ استاد کی موت کی خبر ہمارے لئے بری ضرور تھی مگر غیر متوقع نہیں تھی .
میں سوچ میں گم تھا کے گلفام شاہ کی آواز نے مجھے چونکا دیا ....
جیسا کے آپ سب کو معلوم ہے کے ہمارا یہاں اکٹھے ہونے کا مقصد کیا ہے ہمارے کاروبار میں مال کا پکڑا جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے لیکن کریم داد کے آنے کے بعد سے سندھ سے انے والا ہر تیسرا ٹرک پکڑا جا رہا ہے .. اسس سے پہلے بھی کریم داد کے حوالے سے کچھ اچھی خبریں موصول نہیں ہوئیں لیکن .. کریم داد اگر اسس حوالے سے اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتا ہے تو کہ سکتا ہے ..
میں بھی اس معاملے میں اتنا ہی لا علم ہوں جتنا آپ ہیں مال تو یقینن مخبری پر پکڑا جاتا ہے مجھ پر الزام لگانے سے زیادہ اس غدّار کا پکڑا جانا ضروری ہے
کریم داد کی مکروہ آواز ابھری ....
کریم داد وہ ہی  کچھ بول رہا تھا جس کی ہمیں توقع تھی..
میں اور گلفام شاہ پچھلے بہت  دن سے مسلسل اسی تگ و دو میں تھے کے رحیم داد کے خلاف مناسب ثبوت  جمع کئے جائیں ..
لیکن ابھی تک کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی تھی . مناسب یہی سمجھا گیا کے رحیم داد کو بلا کر تنبیہ کی جائے لیکن وہ پروں پر پانی نہیں پڑنے دے رہا تھا ...
ہال میں بیٹھے لوگوں میں سے بھی کچھ کرم داد کے حامی تھے اور  کچھ خاموش تماشائی...
بنا کسی ثبوت کے کریم داد پر الزام لگا کر اسکی بے عزتی کی گئی ہے ہو سکتا ہے کے یہ آپ کے کسی اپنے آدمی کا کم ہو ... اسکی آواز میں غصّہ تھا ..
وہ گلفام شاہ سے مخاطب ہوا .. گلفام شاہ نے معنی خیز نظروں سے مجھے دیکھا ... ماحول گرمی کی طرف جا رہا تھا اسے سمبھالنا ضروری تھا ....
 آپ سب کو بلا کر یہاں یہ بات سب کے سامنے رکھنے کا مقصد یہی تھا  کے ہم آپس میں لڑائی جھگڑا نہیں چاہتے  اگر مقصد کسی کی بے عزتی یا دنگا فساد ہوتا تو آج ہم سب یہاں اکٹھے نہ ہوتے گلفام شاہ نے اگر سب کو یہاں اکٹھا کیا ہے تو یہ مسلہ آج صرف گلفام شاہ کا نہیں ہے ہم سب ایک ہیں ایسے ہی اگر ایک دوسرے کے علاقے سے مال پکڑا جاتا رہا تو کام کیسے چلے گا اس مسلے کا یہیں کوئی حل نکالنا ضروری ہے کریم داد کی اخلاقی ذمے داری ہے کے اگر مال اس کے علاقے سے پکڑا جاتا ہے تو وہ اس کے ذمے داروں کو  ہمارے حوالے کرے یہ نہ ممکن سی بات ہے کے اسے مجرموں کا علم نہ ہو.
اور  اگر اسکا یہ کہنا ہے کے وہ واقعی لا علم ہے تو ہم اس معاملے میں آزاد ہیں کے اپنے مجرم خود ڈھونڈ نکالیں اس کے لئے ہمیں اگر رحیم داد کے علاقے میں بھی کوئی کاروائی کرنی پڑے تو اسکا مقصد آپ سب کے سامنے ہو اور کسی کے ذھن میں  شبہات پیدا نہ ہوں ...
میری اس بات سے رحیم داد کے چہرے پر برہمی کے آثار ظاہر ہویے لیکن اس نے خود کو کچھ کہنے سے روکے رکھا  اور سوالیہ نظروں سے اپنے حامیوں کی جانب تکنے لگا .....
لیکن کسی نے بھی اس بات کی مخالفت میں کوئی آواز بلند نہیں کی اصولاً اس بات سے کوئی اختلاف بنتا بھی نہیں تھا سو سب خاموش تھے ...
اس گفتگو کے بعد بات کا رخ بدل کر موجودہ کاروباری حالات کی جانب ہو گیا  سب ایک دسرے سے چھوٹے موٹے گلے شکوے کرنے لگے لیکن یہ معمول کی باتیں تھیں ایسے کاروبار میں چھوٹی موٹی باتوں کو زیادہ اہمیت دی بھی نہیں جاتی .... کریم داد کے چہرے سے لگ رہا تھا کے اسے میری باتیں ہضم نہیں ہوئیں ... وہ مسلسل خاموش تھا ...
واپسی کے سفر میں مجھے گلفام شاہ کا فون آیا .

چودھری کیا لگتا ہے تمہیں کریم داد کا ہاتھ ہے اس معاملے میں ؟
سو فی صد اسی مادر چود کا ہاتھ ہے مجھے اگر پہلے کوئی شک تھا بھی تو آج اسکی باتوں کے بعد یقین ہو گیا ہے کے سارا کیا  دھرا اسی حرامی کا ہے رحیم داد کے ہوتے ہویے  بھی اس کی نظر لاہور پر تھی مگر کریم داد کی وجہ سے چپ تھا اب اس نے پر پرزے نکالنے شروع کئے ہیں لیکن وہ  خود سامنے نا آ کر ہماری طرف سے پہل کا منتظر ہے تا کہ باقی علاقے داروں کی نظر میں مظلوم بن سکے اور  انکی حمایت حاصل کر لے اتنا تو وہ بھی جانتا ہے کے اکیلے ہم سے ٹکرانے کا حوصلہ نہیں ہے اس میں ...
کل کسی وقت ملو مجھے گھر آ کر اسکا جلد کوئی حل نکالنا ہے ایسے ہی مال پکڑا جاتا رہا تو نقصان کے علاوہ مارکیٹ میں بدنامی بھی ہو گی ... گلفام شاہ کی آواز ابھری ..
میں نے حامی بھری اور رابطہ منقطع کر دیا ...
میرا رخ سونیا کے فلیٹ کی جانب تھا اس سے بچے کی موجودہ حالت کا بھی پوچھنا تھا اور بہت دنوں سے سونیا سے کوئی بھرپور ملاقات بھی نہیں ہوئی تھی ..
سونیا کے گھر کے قریب پہونچ کر اسے اپنی آمد سے مطلع کیا...
میں جب سونیا کے گھر داخل ہوا وہ کچن میں مصروف تھی کام چھوڑ کر وہ  میرے پاس لاؤنج میں آ بیٹھی .
بچے کی حالت اب کیسی ہے ....؟
اب بہت بہتر ہے ، ہوش میں تھا باتیں بھی کیں اس نے مجھ سے . سونیا نے جواب دیا .
کیا بتایا اس نے اپنے بارے میں ؟ میں نے اگلا سوال داغا.
اتفاقاً اسکا نام  بھی شاہزیب ہے ، یتیم خانے سے بھاگا ہے وہاں کی مار پیٹ سے خوفزدہ تھا آخر کار ٣ دن پہلے وہاں سے بھاگ نکلا فٹ پاتھ پہ رات گزارتا رہا ہے لیکن اب بھوک سے مجبور ہو کر واپس یتیم خانے جانا چاہتا تھا مگر وہاں کا راستہ بھی یاد نہیں تھا اسے . پیدل چلتے چلتے سڑک پہ گرا جہاں سے تم اسے اٹھا لاے.  تمہارا پوچھ رہا تھا میں نے کہ دیا کہ تم صبح آؤ گے اسے ملنے ..
ہاں! ٹھیک ہے صبح جاؤں گا .. میں نے تائید کی ..
سونیا اٹھی اور کیبنٹ سے بوتل نکال لائی وہ میری مزاج آشنا تھی کچن سے گلاس لا کر میرے حوالے کیا اور  واپس کچن میں چلی گئی...
آج کی سونیا اور چار سال پہلے کی سونیا میں بہت فرق تھا ....
وہ  منظر میری آنکھوں کہ سامنے آ گیا جب  دوسری ملاقات میں میں نے اسے گھر سے نکلنے کا کہا تھا ... اس دن کہ بعد سونیا سے کافی دن کوئی رابطہ نہیں رہا ... آخر ایک دن اسکا ٹیکسٹ میسج آیا... میں جب آپ سے مدد مانگنے آئی تھی تو ذہنی طور پر تیار تھی کہ آپ مجھ سے میرے کام کی قیمت ضرور وصول کریں گے . پہل بھی آپ کی جانب سے ہوئی تو مجھے لگا میرا اندازہ ٹھیک تھا آپ چاہے تسلیم نہ کریں لیکن میری اس غلطی میں مجھ سے زیادہ قصور آپ کی غلط شہرت کا بھی ہے ..
میں نے یہ پڑھنے کے بعد بھی اسے کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ کچھ دن بعد اسکا فون آ گیا ..
رسمی باتوں کے بعد وہ مطلب پر آ گئی ..
آپ نے میری بات کا کوئی جواب نہیں دیا اسکا یہی مطلب ہے کے میں غلط نہیں تھی .. میں نے وہی  کیا جو ان حالات میں کوئی بھی لڑکی کرتی ... ایک غنڈے یا بدمعاش سے اور کیا امید کی جا سکتی ہے . میں بلیک میل ہو کے کئی لوگوں کے ہاتھوں ذلیل ہونے سے کسی ایک کے ہاتھوں ذلیل ہونے کا فیصلہ کیا تھا  ... لیکن آپ کے یوں دھتکارنے سے مجھے لگا کے آپ اتنے برے نہیں ہیں جتنا لوگ آپ کو سمجھتے ہیں ...
بی بی تمہارا کام ہو گیا اب کیا چاہتی ہو ؟  میں تلخی سے بولا
اگر میں کہوں میں آپ کو چاہتی ہوں تو آپ یقین نہیں کریں گے کرنا بھی نہیں چاہی ایسی لڑکی جو پہلے کسی اور کے ساتھ جسمانی تعلق رکھ چکی ہو اسکا یقین کرنا مشکل ہے ،،،
لیکن کیا آپ اتنی اجازت دے سکتے ہیں کے میں کبھی کبھی آپ سے بات کر لیا کروں ،،،،، وہ فریادی انداز میں بولی ...
ٹھیک ہے مجھے  کوئی اعتراض نہیں.. میں نے جواباً کہا ..
اور پھر اس کے بعد  نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا بات باتوں سے ہوتی ہوئی ملاقاتوں  تک جا پہونچی.... ایک غلطی اس سے ہوئی تھی جسکی سزا وہ  بھگت چکی تھی   میرے پاس کوئی اختیار نہیں تھا کے میں  اس حوالے سے اسے ذلیل کرتا .. میں خود کونسا پارسا تھا ...
... کچن سے برتن گرنے کی آواز نے مجھے خیالات سے باہرلاکھینچا ...
میں اٹھ کر کچن کا رخ کیا دروازے سے داخل ہوتے ہی میری نظر کانچ کے ٹکڑے سمیٹتی سونیا پر پڑی.
دوپٹتا کمر پر بندھے جھک کر کانچ اکٹھے کرتے ہویے اپنی حالت سے بے خبر تھی جھکی ہوئی حالت
میں اس کے مممے  قمیض سے باہر آنے کی کوشش میں مصروف تھے ..
اس حلیے میں وہ بلکل ایک گھریلو لڑکی لگ رہی تھی .. اچانک اس نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا اور مجھے ممموں کی  طرف دیکھتا پا کر ایک شرمیلی مسکراہٹ اس کے چہرے پر نمودار ہوئی  ... اس نے مممے ڈھانپنے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی...
کھانے میں کیا بناؤ گی ... میں نے پوچھا
تمہیں بریانی پسند ہے تو وہی بناؤں گی فلحال تو چھوٹے شاہزیب کے لئے دلیہ بنایا ہے کل ڈیوٹی پر جاتے ہویے ساتھ لیتی جاؤں گی ..
کھانا باہر سے منگوا لیتا ہوں تم بھی تھکی ہو گی کچن سمیٹو اور آ جاو..
یہ کہتا ہوا میں  واپس لاؤنج میں پلٹ آیا
کچھ ہی دیر میں سونیا بھی میرے ساتھ صوفے پر آ بیٹھی
میں نے اسے گلاس بھرنے کا اشارہ کیا اور پھر سے  ٹی وی دیکھنے لگا .
 سونیا کھسکتی کھسکتی میری گود میں ڈھیر ہو چکی تھی .
کیا ارادے ہیں جناب کے ..... وہ میری آنکھوں میں دیکھتے ہویے شرارتی لہجے میں بولی ....
تمھارے بارے میں میرے ارادے کبھی بھی غلط نہیں رہے ... میں دھیمے سے مسکرایا ..
لیکن میرے ارادے تو بہت گندے ہیں آج ..... وہ  بدستور شرارتی مسکراہٹ چہرے پے سجاے ہویے بولی  اور کھسک کر میرے مزید قریب آ گئی ... اس کے ہاتھ اٹھکھیلیوں میں مصروف تھے اگلے ہی لمحے وہ دونوں  ٹانگیں دائیں بائیں پھیلاے میری گود میں آ بیٹھی اس کا چہرہ میری طرف تھا .... میرے منہ سے آنے والی شراب کی بو سونگھتے ہی اس نے برا سا منہ بنایا .... اور گال پر کس کرنے لگی اس کے ہاتھ میری شرٹ کے بٹن کھولنے میں مصروف تھے میں  نے بھی بازو اس کی کمر کے گرد کس لئے لوڑے نے بھی آس پاس پھدی کی موجودگی کو محسوس کر کے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا ...
سونیا نے بھی گرمی سوار ہوتے ہی شراب کی بو کو نظر انداز کر دیا تھا اب اس  کے ہونٹ میرے ہونٹوں سے چپکے ہویے تھے میں نے اسے کاندھوں سے پکڑ کر تھوڑا پیچھے کیا اور فون ملانے لگا ....
اسلم کو فون ملایا جو باہر گاڑی میں موجود تھا اسے کھانا یہاں پہونچا کر واپس گھر جانے کی ہدایت کر دی میرے رات یہیں گزارنے کا ارادہ تھا ....
میرے رات ٹھہرنے کا ذکر سن  کر سونیا کے چہرے پر  خوشی دوڑ گئی
وو اسس دوران میری پینٹ اتارنے کی کوشش میں مصروف تھی میں  نے بھی گانڈ اٹھا کر اسکی مشکل آسان کر دی ...
سونیا نے میرے نیم کھڑے لوڑے کو ہاتھ سے پکڑا ور غور سے دیکھنے لگی شاید سوچ رہی تھی کے کہاں سے شروع کرے ....
پھر کوئی فیصلہ کرتے ہویے اس نے سر جھکایا ور ٹوپے پر آیے ہویے مزی کے قطرے کو نزاکت کے ساتھ زبان کی نوک سے چاٹ لیا ...
سونیا کی زبان کا لمس پتے ہی لوڑے میں جیسے جان پر گئی ہو ...

Posted on: 03:36:AM 18-Jan-2021


0 0 169 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 60 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com