Stories


آنٹی نازیہ نے پورا مرد بنایا از کامران 00093

نامکمل کہانی ہے

میری کہانی 100℅ حقیقت ہے اور میں آپ ک ساتھ اپنے سیکس ایکسپیرینس کو آہستہ آہستہ آپ کو بتاؤں گا۔ کہانی میں میرا اور باقی لوگوں کا اصلی نام نہیں لے سکتا۔ اس لیے نام فرضی ہونگے ۔ اب آتے ہیں میری زندگی ک پہلے سیکس کی طرف۔میرا نام کامران ہے اور میری عمر 28 ہے۔ میں نےبی اے کیا ہوا ہے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب میں مشکل سے 21 سال کا تھا۔ ہم 4 بھائی ہیں اور اممی ابو ۔ ہم لاہور میں رہتے ہیں۔ میں بی اے کر ک فری ہوتا تھا گھر میں۔ گھر کا سودا لا کر دے دیتا اور کبھی کبھی پورن ویڈیوز دیکھ کر ٹائم گزر رہا تھا۔ میری اممی کی کزن نازیہ جو ک ٹیچر تھی وہ اپنے شوہر ک ساتھ لاہور میں شفٹ ہو گئے ۔ وہ پہلے ملتان رہتے تھے لیکن انکل کی پرچون کی شاپ نہیں چل رہی تھی تو وہ لاہور آ کر یہاں کوئی کام کرنا چاھتے تھے۔
 انٹی نازیہ کی عمر 30 یا 31 ک پاس تھی۔ رنگ فیئر اور جسم پرکشش تھا۔ ان کا ممموں کا سائز 34 تھا اور پیچھے سے بھی بہت پرکشش لگتی تھی ۔ انکل کی اور ان کی عمر میں 10 سال کا فرق تھا اور وہ 40 ک تھے۔رنگ سانولا تھا ۔
 انکل انٹی نے گھر ھمارے محلے پے کرایہ پے لیا تھا۔ ان کا 1 بیٹا تھا جو 4 سال کا تھا۔
 ان ک آنے سے اممی بہت خوش تھی کیونکہ اممی اسے بہن کی طرح سمجھتی تھیں ۔ خیر انہوں نے ہمارے گھر انا جانا شروع کر دیا۔ انٹی بہت جلد ہم سب میں گھل مل گئیں اور میرے ساتھ سب سے فری تھیں کیوں ک وہ ٹیچنگ کرتی رہی تھیں اور میں بھی بی اے کر ک فری تھا۔ لاہور میں ان کا اور کوئی جاننے والا نہیں تھااس لیے اممی نے میری ڈیوٹی لگائی ک انکل تو نئی دکان ک چکر میں روز شہر کاوزٹ کرنے چلے جاتے ہیں تو تم اپنی انٹی کے گھر جایا کرو اور کوئی سودا یا سامان لانا ہو تو لا دیا کرو۔ میں روزانہ صبح ناشتہ کر کے انٹی کے گھر چلا جاتا اور ان کو ثمن لا دیتا اور شام میں بھی 1 دفعہ جاتا۔ انٹی بہت اچھی عادت کی تھیں ۔ وہ میرا بڑا خیال رکھتی اور بچوں کی طرح میرے گال بھی کھینچتی۔ میں اکثر لنچ بھی وہیں کرتا اور انٹی کے ساتھ  لڈو کھیلتا۔ میں ان سے بہت مانوس ہو گیا تھا۔ 1 دن اممی نے کہا کے انٹی کو رائیونڈ اپنی خالہ ک گھر لے کر جانا ہے اور انکل نہیں جا رہے تو تم لے جاو ۔ رائیونڈ لاہور سے 35 سے 40 کلومیٹر دور ہے ، اس لیے بس میں جانا تھا۔ اگلے دن میں انٹی اور ان کے بچے کو لے کر بس اڈے پے آیا۔ پلان یہ تھا کے وہاں 2 دن رہنا ہے اور میں بھی اپنی خالہ کو مل لوں گا اور پھر انٹی نازیہ کو لے کر واپس آ جاؤں گا۔بس میں سوار ھوے تو بدقسمتی کے سیٹ نئی تھی اور 1 گھنٹے کا سفر کھڑا ہو کر کرنا تھا۔خیر انٹی نازیہ اور میں بس میں کھڑے ہو گئے اور ان کے بیٹے کو 1 سیٹ والی اماں نے اپنی گود میں بیٹھا لیا۔جوں جوں بس چلتی جا رہی تھی ہر اسٹاپ کے بعد رش بڑھ رہا تھا ۔ادھے گھنٹے بعد حال یہ تھا کے پوری بس فل رش کی وجہ سے بھر چکی تھی۔ اب مسافر اتنے تھے کے انٹی نازیہ اگے کھڑی تھی اور میں ان کے ساتھ پچھے۔ میرے اور ان کے اگے بھی بہت لوگ تھے اور بہت سی لیڈیز بھی کھڑی تھیں۔ اب جب بس تیز ہوتی یا روکتی تو جھٹکے لگتے۔۔۔جس سے میرے جسم انٹی کی ہپ پے لگتا۔ میں بہت کوشش کرتا کے جسم کو ساتھ نا لگنے دوں لیکن جگہ اتنی کم تھی کے میں ایسا نہیں کر پا رہا تھا۔ 10 15 مینٹ تک تو میرا جسم کنٹرول کرتا رہا لیکن انٹی کے ہپ کے ساتھ رگڑ مسلسل لگ رہی تھی۔۔۔اس کی وجہ سے میرا 7 انچ کا لن اکڑنا شروع ہو گیا۔ اب میرا سخت لن انٹی نازیہ کی گانڈ کو بار بار ٹچ ہو رہا تھا۔ انٹی نازیہ نے گردن موڑ کر میری طرف دیکھا۔ میں نے شرم سے سر جھکا لیا۔ انٹی نازیہ نے کوئی بات نا کی۔ 1 گھنٹے کا سفر اسی طرح کٹا اور میرا لن انٹی کی گانڈ کے ساتھ لگاتار رگڑ کھاتا رہا۔ رائیونڈ پہنچ کر ہم نے خالہ کے گھر کا رستہ لیا ۔ وہاں ہم نے 2 دن رہنا تھا ۔ خالہ خالو نے خوب اؤ بھگت کی ۔ان کا گھر چھوٹا سا تھا۔۔۔جس میں 2 روم تھے۔ خالہ کے 2 بچے تھے۔ ہم نے رات کو کھانا کھایا تو خالہ نے ساتھ والے روم میں 2 چارپائی لگا دی۔ رات 10 بجے تک ہم سب آپس میں باتیں کرتے رہے پھر سونے کے لیے نازیہ انٹی اور میں ساتھ والے روم میں آ گئے ۔ انٹی کا بیٹا 7 بجے ہی خالہ کے روم میں سو گیا تھا۔
 رات اپنی چارپائی پے لیٹا انٹی سے باتیں کرتا رہا۔ میں بس والی بات بھول چکا تھا۔ انٹی نے مجھے کہا کامران 1 بات بتاؤ ۔ میں نے کہا جی انٹی پوچھیں۔ وہ بولی "صبح بس میں بہت رش تھا اور تم میرے ساتھ لگ کر کھڑے تھے" ۔ میں تھوڑا گھبرا گیا۔ میں نے کہا "ہاں انٹی لوگ زیادہ تھے تو جگہ کم تھی" ۔ انٹی نے کہا کہ وہ میں سمجھ سکتی ہوں وہ مسلہ نہیں لیکن تم میرے ساتھ کیا رگڑ رہے تھے ؟"
 میرا حلق خشک ہونے لگا۔ میں نے کھا کچھ بھی نہیں انٹی بس جگہ تنگ تھی تو جسم ٹچ ہو رہا تھا"۔ انٹی بولی دیکھو کامران تم میرے بھتیجے لگتے ہو اور میں سمجھ سکتی ہوں کہ تم کیا رگڑ رہے تھے اور تمہارے کان بھی کھینچ سکتی ہوں" ۔ اب تو میری پھٹ گئی۔ میں نے دبی آواز میں کہا انٹی قسم لے لو لیکن میں نے جان بوجھ کے کچھ نہیں کیا تھا بس جگہ کم ہونے کی وجہ سے میرا نفس آپ کے ساتھ لگ رہا تھا"_ انٹی یکدم اپنی چارپائی سے اٹھی اور میری چارپائی پے آ کر بیٹھ گئی۔ کہنے لگی "تم لگتا ہے جوان ہو گے ہو جبھی تم نے اپنی انٹی کے ساتھ یہ حرکت کی ہے اور میں واپس جا کر باجی (میری اممی) کو بتاؤں گی" ۔ میں یہ بات سن کر بہت پریشان ہو گیا۔ میں نے کہا کے انٹی جی میں آپ کو اپنی خالہ ہی سمجھتا ہوں کیوں کے آپ میری اممی کی کزن ہے اور ماں جیسی ہیں" ۔
 انٹی نے کہا کے تمہاری اممی کی عمر 40 سال ہے اور میری ابھی 30۔۔۔۔ابھی اتنی عمر نہیں کے تم مجھے ماں سمجھو صرف انٹی ہی سمجھو۔ میں نے کہا ٹھیک ہے انٹی ہی ہیں آپ۔  انٹی نے کچھ سیکنڈ میری حالت دیکھی جو پریشانی کی کفیت میرے چہرے پے تھی وہ قابل رحم تھی۔ انٹی نے کہا ٹھیک ہے نہیں بتاتی تمہاری اممی کو کچھ۔ اب بتاؤ کیا لگا رہے تھے میرے ہپ پر ۔ انٹی نے پہلی دفعہ "ہپ " لفظ بولا۔۔۔اور یہ سب سے پہلا اوپن لفظ تھا جو انہوں نے میرے سامنے بولا تھا۔ میں نے کہا انٹی بتایا تو ہے میرا نفس۔ انٹی نے کہا نفس کیا ہوتا ہے ؟ سیدھا سیدھا بولو۔ میں نے جھجھکتے جھجھکتے کہا انٹی نفس مطلب لن۔اور نظر جھکا لی۔ انٹی ایک لمحے چپ ہو گئیں اور کچھ سوچنے لگیں۔ میں شرمندہ سا ہو کے نظریں نیچے کے بیٹھا تھا۔
 1 لمحے بعد انٹی بولی "کامران دکھاو مجھے اپنا لن تاکے مجھے بھی پتا چلے کے تم سہی سے جوان ہو گئے ہو کیونکہ میں تو تم کو ابھی تک بچہ ہی سمجھتی رہی ہوں" ۔ اب میں ایکدم یہ بات سن کر گھبرا گیا کیوں کے میں انٹی سے بہت ڈر رہا تھا اور ایسا کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ مجھے ایسا کبھی بول بھی سکتی ہیں۔ میں نے کہا انٹی پلیز ایسا نا کہیں۔ لیکن انٹی نے غصّے سے گھورا تو میں نے اپنا ٹراوُزر نیچے کر کے اپنے انڈرویر کے اندر سے اپنا لن باہر نکالا جو کے سو رہا تھا اور 7 انچ کا تھا۔ شرم سے میری نظر نہیں اٹھ رہی تھی۔ ہمت کر کے میں نے انٹی کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھیں پھیل چکی تھیں اور ان میں ایک چمک تھی۔
 اب میں نے لن کو اندر کر انڈرویر میں ڈال لیا ۔انٹی بولی روکو کامران۔۔۔۔۔ابھی تو میں نے نظر بھر کر دیکھ بھی نہیں۔ انٹی اٹھی اور دروازے کو اندر سے کنڈی لگا دی۔ میں اور پریشان ہو گیا کے انٹی ایسا کیوں کر رہی ہیں ۔ انٹی واپس میری چارپائی پے آ کر بیٹھ گئیں اور بولی کے کامران بات سنو۔۔۔۔میں تمہاری حرکت کسی کو نہیں بتاؤں گی لیکن تم نے بھی اس روم میں ہونے والی کوئی بات کسی سے نہیں کرنی۔ میں کنفیوز ہو رہا تھا اور سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہی ہیں۔ انہوں نے میرا انڈرویر نیچے کیا اور پہلے میرے لن کو غور سے دیکھنے لگیں۔ 10 15 سیکنڈ بعد انہوں نے میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔ میں اس ناقابل یقین حرکت کے لیے تیار نہیں تھا۔ جیسے ہی میرا لن ان کے ہاتھ آیا تو لن تن گیا۔ میں نے تھوڑی کوشش کی اور منا کیا کے آپ میری انٹی ہیں پلیز نا کریں کہیں خالہ یا اممی کو پتہ چل گیا تو بہت مسلہ ہوگا۔ انہوں نے بولا چپ ہو جاو بچے اور آنکھیں بند کرو۔
 میں نے آنکھیں بند کر لیں۔انٹی میرے لن پکڑ کرہاتھ سے اگے پیچھے کر رہی تھیں۔ میرا کنٹرول کر رہا تھا۔ مزہ آنے لگا تھا۔ انٹی نے لن پے تھوکا اور خوب مل مل کر میرے لن کی مٹھ مارنے لگیں۔ میں پاگل ہو رہا تھا۔ اب میں نے آنکھیں کھولی لیں۔ انٹی نے 5 مینٹ تک مٹھ ماری اور پھر میرا ٹروزار اتار دیا۔ میں نے کبھی سوچا بھی نا تھا کے میری انٹی میرا لن پکڑ کر کھیلیں گی۔ ان کے بارے تو کبھی ایسا سوچا تک نا تھا۔ ایک دم انٹی نے 1 عجیب کام کیا۔ انٹی نے میرے لن کی ٹوپی اپنے مھ میں ڈال کر راؤنڈ راؤنڈ زباں گھومانا شروع کر دیا۔ یہ کاری وار بہت زبردست تھا۔ میں مارے مزے کے مچلنے لگا۔ میرے اندر کا بھتیجا سو گیا اور ایک جوان باہر آ گیا۔ انٹی میرے لن کو اب پورا مھ میں ڈال کر جڑ تک چوس رہی تھیں۔ میرا لن اب فل 7 انچ تک کھڑا ہو چکا تھا۔ میری جھجھک اب ختم ہو رہی تھی۔ انٹی جس طرح سے میرا لن آپنے مھ میں ڈال کر چوس رہی تھی اس طرح صرف انگلش فلم میں دیکھا کرتا تھا۔ یہ میری لائف کا دوسرا موقع تھا جب کوئی میرا لن مھ میں لے کر چوس رہا تھا۔ اس سے پہلے 10 کلاس میں 1 ساتھ لڑکی نے بریک ٹائم اسکول کے پیچھے چوسا تھا۔ لیکن یہ والا مزہ نہیں تھا۔انٹی پاگلوں کی طرح حلق تک لن لے جاتی اور مھ اگے پیچھے کرتی۔ 20 مینٹ تک لن کو چوسنے کے بعد انٹی کو میری باڈی کی حرکت سے اندازہ ہو گیا کے میں چھوٹنے والا ہوں۔ میں مچل رہا تھا اور مزے سے بےحال تھا۔ آخر میرے لن کی ٹوپی سے منی کا 1 فوارہ نکلنا شروع  ہوا اور سیدھا انٹی کے مھ میں جانے لگا۔ انٹی نے لن کو جڑ تک مھ میں دبا لیا اور ساتھ زور زور سے میری مٹھ مار رہی تھیں۔ مسلسل منی کا لاوا نکلتا رہا اور ان کے حلق میں اترتا رہا۔ آخری قطرہ تک انٹی نے پی لیا ۔ مجھے اپنی پوری زندگی میں کبھی اتنا لطف نہیں آیا تھا جتنا اس وقت منی انٹی کے مھ میں نکال کر آیا تھا۔ میں نڈھال ہو کر لیٹ گیا۔ مجھے ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا کے ایسا انٹی اور میں نے کیا ہے۔ انٹی نے پیار سے میرے سر کے بال سہلاے اور بولی کے مزہ آیا ؟ ۔ میں نے جواب دیا ہاں انٹی بہت۔ انٹی بولیں اب اگر تمہارا لن تنگ کرے تو چپ چاپ بس مجھے بتا دیا کرنا اور اس کا علاج میں خود کروں گی۔ یہ کہ کر انٹی نے لائف میں پہلی دفعہ میرے ہونٹوں پے کس کی ۔ رات کے 12:30 ہو چکے تھے۔ ہم دونوں 1 ہی چارپائی پے لیٹے تھے ۔ میرا لن پھر کھڑا ہو رہا تھا۔ انٹی نے اس مرتبہ میرے سارے کپڑے اتار دیے اور خود بھی فل ننگی ہو گئیں۔ ان کا مممے بڑے اور گول گول تھے۔ میں نے ان کے مممے مھ میں لے کر زور زور سے چوسنا شروع کر دیے۔ انٹی کے مھ سے اف آہ آہ آہ آہ اففففف کی آوازیں نکل رہی تھیں۔ میں نے ان کے مھ میں اپنی زبان ڈالی اور ان کی زبان اپنے مھ میں لے کر زور زور سے چوسنے لگا اور دونوں ہاتھوں سے ان کے مممے مسل رہا تھا اور نیپلز دبا رہا تھا۔ میں ان کے ہونٹوں کو شدید چوس رہا تھا اور ان کا سانس بہت تیز چل رہا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ ان کا جسم چومتے ھوے میں ان کی ٹانگوں کے بیچ اپنا منہ لے کر آیا۔ سب سے پہلے میں نے اپنے ہاتھ سے انٹی کی پھدی کے دانے کو رگڑنا شروع کیا۔ انٹی تو جسے مچلنے لگیں۔ میں نے اپنی 1 انگلی ان کی پھدی میں ڈالی تو وہ آہ آہ آہا آہ اففف اففف اففففف کی آوازیں نکالنے لگیں۔ میں نے 1 ہاتھ سے ان کی پھدی کا دانہ رگڑنے  لگا ساتھ دسرے ہاتھ کی 2 انگلیاں انٹی کی پھدی میں اندر باہر کررہا تھا اور ساتھ پھدی پے منہ لگا کر زبان سے چاٹ رہا تھا۔ ایک ہی ٹائم میں 3 طرح سے انٹی نازیہ کی پھدی کو مزہ دے رہا تھا ۔ یہ اتنا شدید مزہ تھا کے انٹی سے لذّت برداشت نہیں ہو رہی تھی اور وہ بن پانی کی مچھلی کی طرح مچل رہی تھیں۔ میں نے ان کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا۔ 10 مینٹ تک یہ کھیل چلتا رہا اور انٹی کی ہمت جواب دے رہی تھی ۔انٹی بولی کامران اب اور نا تڑپاؤ اور اب اپنی انٹی کو اپنے لن کا جلوہ دکھاؤ۔ میں ایسے جملے انٹی کے منہ سے سن کر بلکل پاگل ہو گیا۔
 میں نے انٹی کی دونوں ٹانگیں کھولی اور بیچ میں آ کر بیٹھ گیا۔ میں نے اپنے لن کی ٹوپی انٹی کی پھدی کے منہ پے رکھی اور آہستہ آہستہ 3 4 مرتبہ اندر باہر کیا۔ انٹی پورا ساتھ دے رہی تھیں۔ پھر میں نے 1 زور دار جھٹکا مارا اور پورا کا پورا 7 انچ کا میرا لن انٹی کی پھدی کی گہرائی میں اتر گیا۔ جیسے ہی لن انٹی کے اندر گیا انٹی کے منہ سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی اور میں نے انٹی کے منہ پے ہاتھ رکھا۔1 2 مینٹ میں آہستہ آہستہ انٹی کی پھدی میں لن اندر باہر کرتا رہا۔ اس کے بعد میں نے زور زور سے جھٹکے مارنے شروع کیے ۔ انٹی سرور کی کفیت میں تھی اور آہ آہ آہ آہ کی آوازیں نکال رہی تھی۔ ہماری قسمت اچھی تھی کے یہ روم خالہ کے روم سے دور تھا اور زیادہ آواز نہیں باہر جا سکتی تھی۔  میں لگاتار انٹی کی پھدی میں لن اندر باہر کرتا رہا اور مزے سے بے حال ہو رہا تھا۔ 10 مینٹ بعد انٹی بولی نیچے لیٹو۔ میں لیٹ گیا اور انٹی میرے اوپر آ گئیں ۔ انہوں نے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی کے سراخ پے سیٹ کیا اور لن کے اوپر بیٹھ کر اپ ڈاون ہونے لگیں۔ میں تو جیسے مزے سے آسمان پے پہنچا ہوا تھا۔ 5 مینٹ تک اوپر نیچے ہونے کے بعد انٹی کا جسم جھٹکے مارنے لگا۔ میں سمجھ گیا کے انٹی چھوٹ رہی ہیں اور پھدی سے پانی کا فوارہ نکلا اور میرے پیٹ پے گرتا رہا۔ انٹی ہانپ رہی تھیں۔ وہ فرغ ہو گئی تھیں لیکن مجھے 5 سے 10 مینٹ مزید چاہیے تھے۔ میں نے کہا انٹی پلیز گھوڑی بنو نا۔ انٹی ڈوگی پوزیشن میں آ گئیں۔ میرا دل کر رہا تھا کے اب انٹی کی گانڈ مار لوں ۔ میں ڈر بھی رہا تھا کے انٹی منع نا کر دیں لیکن حیرت انگیز طور پر وہ بولیں کے کامران تم کو اب پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ میں تو ساتویں آسمان پے پوھنچا ہوا تھا۔
 میں نے لن کو انٹی کی گانڈ کے ہول میں ڈالا تو ابھی لن کی ٹوپی ہی اندر گئی تو انٹی کی آہ آہ کی آوازیں شروع ہو گئیں ۔ انٹی نے نے بہت زبردست بات کہی کے تم جتنا ہارڈ سیکس کرو گے اتنا زیادہ مزہ آے گا۔ بس پھر کیا تھا۔۔۔۔میں نے لن کو تھوڑا زور لگا کر آدھا انٹی کی گانڈ میں ڈالا۔۔۔۔پھر ایک فائنل جھٹکا مارا تو پورا کا پورا لن انٹی کی ٹائٹ گانڈ کے  اندر چلا گیا۔ انٹی افففف آہ آہ آہ کی سسکاری بھر رہی تھیں ۔ اب میں نے زور زور سے نازیہ انٹی کی۔ گانڈ میں اپنا 7 انچ کا لن پورا اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔ وہ مجھ سے زیادہ انجوانے کر رہی تھیں ۔ 8 سے 10 مینٹ کے بعد مجھے لگا میں چھوٹنے والا ہوں۔ میں نے انٹی کو بتایا تو انٹی نے کہا کے اندر ہی منی نکال دو۔ 1 2 مینٹ بعد میرا جسم جھٹکے مارنے لگا اور منی میرے لن سے نکل کر انٹی نازیہ کی گانڈ میں جانے لگی۔ میں بھی فل تھک گیا تھا اور لیٹ گیا۔ انٹی نے مجھے گلے لگایا اور کس کی ۔ ہم دونوں نے کپڑے پہنے اور باری باری واشروم سے ہو کر آے۔ اس کے بعد انٹی نے مجھے پہلی دفعہ کھل کر اپنی میرج لائف کے بارے میں بتایا۔۔۔جسے سن کر میں حیران رہ گیا۔۔
رات سیکس کے بعد انٹی تو سو گئیں لیکن میں بہت دیر تک جاگتا رہا۔ میرا ضمیر ملامت کر رہا تھا کے انٹی تو میرے رشتے میں میری اممی کی کزن ہے میری کزن نہیں۔۔۔۔اور مجھے ان کے ساتھ سیکس نہیں کرنا چاہیے تھا۔ لیکن پھر وہ سیکس کی لذّت یاد آ گئی جو ان کو چودتے ھوے مجھے ہو رہی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں تھا کے انٹی میں سیکس کی خواہش بیحد تھی  اور وہ تجربہ کار تھیں ۔ ان کا لن چوسنے کا انداز بہت مدہوش کر دینے والا تھا۔

انٹی نے بتایا تھا کے انکل بیمار ہیں اور ان کا علاج چل رہا ہے جس کی وجہ سے وہ ابھی سیکس نہیں کر پا رہے۔ مجھے یہ سن کے سمجھ آنے لگی کے کیوں انٹی کی نظر مجھ پے بدل گئی تھی۔ ظاہر سی بات ہے کے مرد سیکس نا کر پاتا ہو تو عورت کب تک اپنی نفسانی خواھش کو روکے۔ شادی کے بعد تو ہر عورت لن کا مزہ چکھ چکی ہوتی ہے تو اگر اس کا شوہر چودنا بند کر دے تو عورت زیادہ عرصہ خود کو روک نہیں پاتی۔۔۔۔۔یا پھر روکتی تو ہے لیکن اگر حالات یا ماحول یکدم ایسا بن جائے جس میں وقتی طور پے سیکس کرنے کا موقع پیدا ہو جائے تو وہی عورت جو کب سے اپنی سیکس کی آگ کو کنٹرول کر رہی تھی وہی عورت اس موقع کو غنیمت جان کر اس کا پورا فائدہ اٹھاتی ہے اور کسی کا بھی لن لے کر اپنی پھدی کی آگ کو ٹھنڈا کرتی ہے۔ میرے کیس میں بھی شاید یہی ہوا تھا۔ انٹی مجھے اپنا بیٹا سمجھتی تھیں لیکن کب سے سیکس نا ہونے کی وجہ سے جب بس میں ایسا ماحول بن گیا کے میرا لن ان کی گانڈ کو رگڑتا رہا تو شاید ان کے دل میں یکدم امید کی کرن جاگی اور ان کی میرے بارے نظر اور سوچ بدل گئی۔ انہوں نے مجھے اپنے دماغ میں بھتیجے کی جگہ صرف 1 مرد کے طور پے سوچنا شروع کر دیا تھا اور مقصد یہی تھا کے وہ اس طرح مجھ سے اپنی جنسی حوس پوری کریں گی اور لن کا خوب مزہ لیں گی۔۔۔۔۔اس کے لیے انہوں نے بھتیجے کے رشتے کو ختم کر کے سیکس پارٹنر کا رشتہ بنا لیا تھا۔ یہ سب سوچتے سوچتے معلوم نہیں کب آنکھ لگ گئی۔

صبح 11 بجے اٹھا تو انٹی میری خالہ کے ساتھ بازار گئی ہوئیں تھیں ۔ خالو مجھے باہر گھومانے لے گئے۔ ہم شام کو واپس آے۔ انٹی سب کے سامنے میرے ساتھ بلکل نارمل باتیں کر رہی تھیں جیسے کچھ ہوا ہی نا ہو۔ بحرحال میرا ذہن بھی رات کے بعد سے کافی چینج ہو چکا تھا اور میں بھی اب دوبارہ سے انٹی کو چودنا چاہتا تھا۔ رات جب ہم سونے کے لیے الگ روم میں آے تو میں نے 1 شرارت یہ کی کہ ٹراوزر کے نیچے انڈرویر نہیں پہنا، جس سے میرے لن کافی واضح ہو رہا تھا۔

میں نے انٹی سے نارمل بات کی اور سونے کی ایکٹنگ کرنے لگا۔ 1 گھنٹے کے بعد میں نے محسوس کیا کے انٹی میری چارپائی پے ہیں، لیکن میں سونے کی ایکٹنگ کر رہا تھا اور آنکھیں بند تھیں۔ میرا 7 انچ کا لوڑا فل سیدھا کھڑا تھا اور مینار لگ رہا تھا۔ انٹی نے بنا ہچکچاہٹ کے میرا ٹروزار نیچے کیا اور میرے لن کو پکڑ کر اس سے کھیلنے لگیں۔ آہستہ آہستہ انٹی میری مٹھ مار رہی تھیں۔ میں آنکھیں بند کیے لیٹا تھا۔ یہ سلسلہ 5 مینٹ تک چلتا رہا۔ پھر انٹی نے لن کو اپنے منہ میں ڈال کر دیوانہ وار چوسنا شروع کیا ۔

میں اس اچانک حملے کے لیے تیار تھا۔ انٹی اس طرح سے لن چوس رہی تھی جیسے کھوے والی قلفی یا لولے پاپ چوستے ہیں۔ اب مزہ میری کنٹرول سے باہر ہو گیا تھا اور میں مچلنے لگا ، ساتھ میرے منہ سےاف آہ کی آواز نکل گئی۔ انٹی بولی میں جانتی ہوں تم ناٹک کر رہے تھے اور یاد رکھنا جس طرح میں تمہارے لن کے چوپے لگا رہی ہوں ایسے میرے بعد نا کوئی لڑکی تم کو اتنا مزہ دیگی نا وہ لڑکی جس سے تمہاری شادی ہوگی ۔ میں نے ہاں میں سر ہلا دیا ۔ میں مزے سے دونوں ٹانگیں ادھر ادھر مرنے لگا۔ انٹی سمجھ گئیں کے میں مزے سے بے حال ہو رہا ہوں ، انٹی نے پوری طاقت سے میری ٹانگوں کو کس کے اپنے بازو کی گرفت میں لاک کر لیا تاکہ میں نیچے سے ہل نا سکوں اور وہ میرا پورا لن اپنے حلق تک لے کر منہ سے مزے دے رہی تھیں۔ اب حالت یہ تھی کے ایسا لگ رہا تھا کے انٹی میری ٹانگیں باندھ کر میرا لن چوس رہی تھیں اور یہ بیحد حسین سین تھا۔ 15 مینٹ بعد میرا جسم اکڑنے لگا۔ انٹی سمجھ گئیں کے منی نکلنے والی ہے۔ انہوں نے میری دونوں ٹانگوں کو اور زور سے پکڑ لیا تاکہ میں ہل نا سکوں اور لن اور تیزی سے چوسنا شروع کر دیا۔ میں اب پوری طرح مزے سے پاگل ہو چکا تھا اور چھوٹ رہا تھا۔ منی کا 1 فوارہ میرے لن سے نکلا اور سیدھا انٹی کی زبان گال اور سر کے بالوں پے گرتا گیا۔ انٹی اٹھی اور پرس سے اپنے ٹشو نکال کر اپنا چہرہ اور بال صاف کرنے لگیں۔ میں نے پیار سے ان دیکھا اور اٹھ کر واش روم چلا گیا۔
10 سے 15 مینٹ بعد واپس آیا تو دیکھا انٹی فل ننگی ہیں۔ میں ان کے ساتھ آ کر لیٹ گیا۔ ان کے ہونٹ چوسنے لگا۔ اس کے بعد ان کے ممموں کو بچوں کی طرح چوسنا شروع کیا۔ وہ بیقرار ہو رہی تھیں۔ اب وہ زیادہ باتیں نہیں کر رہی تھیں، بلکہ آنکھوں کے اشارے سے ہدایات دے رہی تھیں۔ انہوں نے مجھے پھدی چوسنے کا اشارہ کیا۔ میں فورن ان کی ٹانگوں کے بیچ پھدی پے منہ رکھ کر لیٹ گیا۔

اب انٹی کا فیورٹ کام کر رہا تھا۔ پھدی کا دانہ 1 ہاتھ سے رگڑ رہا تھا اور دوسرے ہاتھ کی 2 انگلیاں انٹی کی پھدی میں اندر باہر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا منہ ان کی پھدی کو زبان سے لیک کر رہا تھا۔ یہ ایسا منظر تھا کے انٹی مچلتی جا رہی تھیں۔ مزے کی تاب لانا۔ مشکل تھا۔ وو اپنے دونوں ہاتھوں سے میرا سر اپنی پھدی پے دبا رہی تھیں اور دونوں ٹانگیں پوری طرح کھول کر ہوا میں کر رکھیں تھیں۔ ایسا لطف صرف پورن فلم والے بھی نہیں لیٹے ہونگے جتنا اس ٹائم انٹی اور میں لے رہے تھے۔

5 مینٹ کرنے کے بعد انٹی بولی اب جلدی سے لن ڈال دو اور برداشت نہیں ہو رہا۔ میں نے جلدی سے ان کی پھدی میں لن رکھا اور زور سے جھٹکا مارا  تو پورا کا پورا لن 1 ہی دفع میں اندر چلا گیا۔ انٹی کی پھدی ٹائٹ تھی لیکن لیک کرنے کی وجہ سے پھدی گیلی تھی جس سے لن فورن پورا گھس گیا۔ اب کیا تھا۔۔۔میں زور زور کے جھٹکے مار رہا تھا اور انٹی آہ آہ آہ آہ اوہ اوہ اوہ کی آواز نکال رہی تھیں۔ میں نے اشارہ کیا کے آواز آہستہ رکھیں کوئی سن نا لے۔ 5 مینٹ تک ایسے ہی اوپر لیٹ کر پھدی مارتا رہا۔ پھر انٹی بولی روکو  پوزیشن بدل کرو۔ میں روک گیا۔ انٹی نے ایک سائیڈ پے کروٹ لے اور بولی کے میرے پیچھے آ کر ایسے ہی کروٹ لے کر لیٹو اور پھر پیچھے سے میری پھدی مارو۔ میں ویسے ہی لیٹ گیا اور کروٹ کے کر انٹی کی طرف منہ کر کے پچھے سے لن پھدی میں ڈالا اور لن اندر باہر کرنے لگا۔ انٹی کی کمر میری طرف تھی اور میں پیچھے سے زبردست طریکے سے چودائی کر رہا تھا۔ 5 سے 6 مینٹ لگے تو مجھے لگا کے میں چھوٹنے والا ہوں۔ میں نے انٹی کو بولا کے میں جھڑنے والا ہوں۔ انٹی نے کہا کے اپنے 1 ہاتھ سے میری پھدی کے دانہ کو بھی مسلتے رہو ۔ میں1 ہاتھ سے انٹی کی پھدی کے دانے کو بھی رگڑنے لگا۔ اب حال یہ تھا کے انٹی چھوٹ رہی تھیں اور ان کا جسم بھی جھوم رہا تھا اور 1 سے 2 مینٹ کے بعد میں نے لن پھدی سے نکال کر انٹی کے پیٹ پر منی گرا دی۔ میں سرور کی بلندی پے پہنچ چکا تھا۔ ٹشو سے اپنا اور انٹی کا جسم صاف کیا اور انٹی کو واش روم بھیجا۔ خود میں بہت تھک چکا تھا۔ اس لیے مشکل سے تروزار شرٹ پہنا سو انٹی کے آنے سے پہلے سو چکا تھا۔
صبح ہم نے واپس لاہور انا تھا۔۔۔۔
صبح ناشتہ کر کے ہم لوگ لاہور واپسی کے لیے نکل گئے۔ ان دو دنوں میں سب کچھ بدل چکا تھا اور انٹی اور میرے بیچ 1 نیا رشتہ بن چکا تھا جو کے جسم کی ضرورت کا رشتہ تھا۔ لاہور واپس پوھنچے تو میں نے انٹی کو ان کے گھر چھوڑا۔ انکل پہلے سے موجود تھے اور شاید ان کی طبعیت سہی نہیں تھی تو وہ سو رہے تھے۔ میں نے انکل کو بولا کے میں آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہوں تو انکل نے کہا کے میں نے پیناڈول کہا لی ہے اور ہلکا سا بخار ہے بس اتر جائے گا۔ انٹی بھی انکل کی صحت کو لے کر کافی فکر مند تھیں۔ وہ چاہتی تھیں کے انکل ڈاکٹر کے پاس جائیں لیکن انکل نے دوبارہ سے کہا کے نازو (انٹی نازیہ) میں بہتر ہوں اب پہلے سے۔

خیر میں انٹی کے گھر سے نکل کر اپنے گھر آ گیا۔ میری خالہ نے کچھ چیزیں میں میری کے لیے دی تھیں۔ وہ سب اممی کے حوالے کیں۔ میں نہا کر لیٹ گیا اور کوئی کام تو تھا نہیں تو گزرے دنوں کو سوچنے لگا۔ انٹی بلاشبہ بہت پیاری تھیں اور میں نے کبھی ان کو اس نظر سے دیکھا تک نہیں تھا۔لیکن 48 گھنٹے میں ہم دونوں انگلش ٹائپ کا سیکس بھی کر چکے تھے۔ سب یاد آتے ہی مجھے ہوشیاری آنے لگی اور میرا لن سخت ہو گیا۔ لیکن ابھی فلحال کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ میں نہیں چاہتا تھا کے میری کوئی حرکت انٹی کے لیے مسلہ بنے۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا کے خود کو قابو میں رکھوں گا۔

شام کو انٹی نازیہ کی کال آ گئی۔ انہوں نے کہا کے بازار سے کچھ سامان لا دو کیونکہ انکل ابھی ٹھیک نہیں۔ میں نے مارکیٹ سے جا کر ان کی تمام چیزیں لی اور انٹی کے گھر پہنچا دیں۔ رات کھانا انکل انٹی اور میں نے ایک ساتھ کھایا۔ انکل نے کہا بیٹا کامران۔۔۔۔مجھے تمہاری وجہ سے بہت سپورٹ ملی ہے اور تم جس طرح سے ہمارا خیال رکھتے ہو وہ کوئی اپنا ہی رکھ سکتا ہے۔ انکل نے کہا کے تمہاری انٹی نازیہ نے بتایا ہے کے جس طرح تم نے ان کا ہمیشہ خیال رکھا ہے وہ صرف گھر کا اپنا فرد ہی رکھ سکتا ہے۔ میں نے ترچھی نظر سے انٹی نازیہ کی جانب دیکھا اور مسکرا کر کہا "انکل آپ انٹی بھی میری فیملی ہیں اور اگر میں آپ سب کا خیال نہیں رکھوں گا تو کون رکھے گا۔ یہ بات سن کر انکل نے مجھے گلے لگا لیا۔ رات 9 بجے میں آپنے گھر واپس آ گیا۔  انکل کی موجودگی میں انٹی سے زیادہ بات نہیں کی۔

رات سونے لگا تو انٹی کی کال آئی ۔ کہنے لگی کے تمہارے انکل تو سو چکے ہیں لیکن مجھے نیند نہیں آ رہی۔ میں نے خود پے کنٹرول رکھتے ھوے انجان بنننے کی ایکٹنگ کرتے ھوے پوچھا کے کیوں نیند نہیں آ رہی؟ انٹی نازیہ ہسی اور بولی کے تمہارے ساتھ گزاری 2 راتوں سے مجھے اتنا تو پتا چل چکا ہے کے تم اتنے بھی بچے نہیں ہو۔ میں قہقہ مار کر ہسنے لگا ۔ میں نے کہا انٹی آپ بولو تو ابھی آ جاؤں ؟ انٹی نے کہا نہیں۔۔۔۔ابھی نہیں لیکن جب مناسب ہوگا تو میں بتاؤں گی۔ اس کے بعد کال کاٹ دی۔ میں بھی سو گیا ۔
اگلے 2 3 دن نارمل گزرے۔ میں روزانہ 1 ادھ دفعہ انٹی کی طرف جاتا رہا لیکن کیوں کے انکل ابھی ٹھیک نہیں ھوے تھے تو وہ گھر ہی رهتے تھے اس لیے مجھے انٹی کے زیادہ قریب ہونے کا موقع نہیں مل پاتا تھا۔ صرف 2 دفعہ کچن میں کام کرتے ھوے ان کو پیچھے سے لپٹ کر چومتا رہا اور 1دفعہ بہت ضد کرنے پر کچن میں کھڑے ہو کر انٹی نازیہ کی پھدی کو زبان سے لیک کیا اور ساتھ انگلی سے مزہ دیا۔۔۔۔پھر انٹی سے لن چسوا کر منی نکال کر خود کو ٹھنڈا کیا۔ وقت کی کمی اور انکل کی موجودگی ہم دونوں کو بھر پور چودائی کا موقع نہیں دے رہی تھی۔

وقت ایسے ہی گزر رہا تھا۔ ایک دن اممی کو گاؤں جانا تھا کسی رشتے دار کی شادی تھی اور ابو نے خود جانے سے منع کر دیا۔ اب اممی نے مجھے ساتھ جانے کا کہا تو میں نے بہت بہانہ بنایا لیکن کیوں کے میں کوئی جاب بھی نہیں کر رہا تھا تو اممی نے میری 1 نا سنی۔ میں اممی کو ساتھ لے کر گاؤں نارووال چلا گیا۔ وہاں شادی میں میرا بلکل دل نہیں تھا۔ انٹی کو مس کرتا رہا۔ انٹی کے میسج اتے تو اور گرم ہو جاتا۔ 4 دن کی شادی میں جس دن دولہا دلہن کی سہاگ رات تھی اس دن انٹی کے نام کی 2 دفعہ مٹھ ماری۔ کسی طرح شادی ختم ہوئی تو اممی کو بولا کے واپس چلیں۔ اممی جلدی جانا نہیں چاہتی تھیں اور کہنے لگیں کے تم تو ایسے جلدی لاہور جانا چاھتے ہو جیسے تم لاہور کے ناظم ہو جو اگر ٹائم سے لاہور نہیں پوھنچو گے تو لاہور کا کام بند ہو جائے گا۔ میں نے اممی سے کہا کے اممی بات یہ ہے کے گاؤں میں میرا دل نہیں لگتا کبھی بھی، کیوں کے یہاں لوگ مغرب کے بعد سو جاتے ہیں نا کیبل ٹی وی ہے اور بازار بھی بند ہو جاتا ہے ۔ اممی میری کسی بات سے قائل تو نا ہوئیں لیکن انہوں نے اگلے دن واپسی کی حامی بھر لی۔

اگلے دن صبح ناشتہ کر کے لاہور کی بس میں سوار ھوے اور لاہور کی راہ لی۔ 4 گھنٹے کا سفر کر کے واپس گھر آے تو میں بھی تھک چکا تھا۔ آ کر سو گیا اور شام کو اٹھا۔ فریش ہو کر انٹی کی طرف گیا تو انکل گھر نہیں تھے اور کچن میں انٹی کھانا پکا رہی تھیں۔ انٹی کو سلام کیا اور ان کو انکل کا پوچھا۔ انٹی نے بتایا کے واشروم کا بلب فیوز ہو گیا تو شاپ تک گئے ہیں نیا بلب لانے۔ انٹی کا بیٹا دوسرے روم میں لیٹا ہوا تھا۔ میں نے انٹی سے کہا کے میں نے آپ کو بہت مس کیا، سن کر انٹی ہس پڑیں اور بولیں مس تو ایسے کرتے ہو جیسے میں تمہاری انٹی نہیں بلکہ گرل فرینڈ ہوں۔ یہ سن کر میں نے انٹی کو اٹھ کر پیچھے سے جھکڑ لیا اور کہا ہاں آپ میری گرل فرینڈ ہی ہیں۔ انٹی نے مصنوعی غصّہ دکھاتے ھوے کہا کے میں تمہاری انٹی ہی ہوں اور ابھی ایسے نا لپٹو کہیں تمہارے انکل نا آ جائیں۔ میں ان کی آنکھوں میں 1 گرم کر دینے والی چمک دیکھ چکا تھا اور آگے بڑھ کر ہوں کے ہونٹوں کو کس کرنے لگا۔ انٹی نے بھی بھر پور ساتھ دیا۔ میں ساتھ ساتھ انٹی خ مموں کو اپنے ہاتھوں سے دبا رہا تھا اور انٹی مچل رہی تھیں۔ 5 مینٹ تک ایسا ہی چلتا رہا لیکن پھر انٹی نے مجھے الگ کیا اور کہا کے انکل آجائیں گے تم ہال میں جا کر بیٹھو۔ میں نے 1 کس اور کی اور کچن سے نکل کر ہال میں آگیا۔ ہال پوھنچتے ہی میرا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا، ہال میں انکل پہلے سے بیٹھے ھوے تھے۔ میں نے اپنے حواس پے قابو رکھتے ھوے انکل کو سلام کیا تو انکل بھی اٹھ کر مجھے گلے ملے اور بولے کامران بیٹا تم کب آئے؟ میں نے کہا انکل گاؤں سے تو دوپہر کو ہی آ گئے تھے اور یہاں ابھی 10 مینٹ پہلے آیا ہوں۔
انکل نے کہا مگر تم کچن گئے تھے ؟ میں نے کہا جب آیا تو گھر کا دروازہ کھلا تھا اور آپ بھی نہیں تھے اور انٹی بھی نظر نہیں آ رہی تھیں۔ پیاس بھی لگ رہی تھی تو پانی پینے کچن گیا تو پاتا چلا انٹی کچن میں کھانا بنا رہی تھیں، اس لیے وہیں پانی پی کر ان سے باتیں کر رہا تھا۔ انکل کو کوئی شک نہیں ہوا تھا۔ خوش قسمتی سے وہ گھر آ کر سیدھا کچن میں نہیں آئے۔

اس کے بعد گپ شپ چلتی رہی اور رات کا کھانا ہم نے 1 ساتھ کھایا۔ اس کے بعد انٹی نے چاے پلائی ۔ رات 10 کے آس پاس میں انکل انٹی سے اجازت لے کر گھر آ گیا۔ آ کر لیٹ گیا ۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی اور انٹی کے جسم کی گرمی ابھی تک فیل ہو رہی تھی۔ لن انتا اکڑا ہوا تھا کہ نیند بھی نہیں آ رہی تھی۔ رات انٹی کا میسج بھی نہیں آیا۔ یہ بھی خیال آتا رہا کے اگر انکل آج سیدھا کچن میں آ کر انٹی اور مجھے ایک دوسرے کے جسم کی لذت کا مزہ لیتے ھوے دیکھ لیتے تو کیا ہوتا۔ سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ گئی۔

اگلا دن کافی مصروف تھا کیوں کے میرا لیپ ٹاپ چل نہیں رہا تھا اور مجھے اس کو ٹھیک کروانے ہال روڈ مارکیٹ جانا تھا۔ میں نے وہاں  شاپ پر بیٹھ کر لیپ ٹاپ ٹھیک کروایا اور ونڈو کروائی۔ شام کے ٹائم واپس آیا تو کھانا کہا کر اممی نے گھر کے راشن کی 1 لسٹ میرے حوالے کی اور مجھے بازار سامان لینے بھیج دیا۔ اس دن میں انٹی کی طرف نہیں جا سکا اور شاید یہ بہتر ہی تھا کیوں کے اب میرے دل میں انکل کا ڈر بھی تھا تو 1 ادھ دن کا وقفہ بہتر تھا۔ اس دن انٹی کا بھی میسج نہیں آیا۔ رات تھکاوٹ کی وجہ سے میں جلدی سو گیا۔

دوسرے دن دوپہر کے بعد میں انٹی کی طرف گیا تو انکل گھر نہی تھے۔ انٹی نے کہا کے انکل نے 1 دکان دیکھی ہے تو اس کے مالک سے بات کرنے گئے ہیں۔ موقع اچھا تھا اس لیے میں انٹی کو کس کرنے کے لیے اٹھا تو انٹی نے غصّہ میں دانٹ دیا اور کہا کے کامران ہر وقت ایسا نا کیا کرو۔ شاید ابھی انٹی کا موڈ نہیں تھا۔ میں چپ کر کے منہ بنا کر صوفہ پے بیٹھ گیا۔ میرا موڈ دیکھ کر انٹی میرے پاس آ کر بیٹھ گئیں اور پیار سے میرے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگیں اور کہا کے کامران جو ھمارے بیچ ہے وہ ہر وقت تو نہیں کر سکتے نا۔ کبھی کبھی کرنے کا جو لطف ہے وہ زیادہ ہوتا ہے اور تمہارا کنوارہ لن اب میرے جسم کا کوئی سوراخ بھی نہیں چھوڑتا۔ میں ہس پڑا اور کہا انٹی میرا لن کنوارہ نہیں رہا اور آپ سے پہلے بھی میں 1 2 دفعہ کسی لڑکی سے لن چسوا کر منی نکلتا رہا ہوں۔ انٹی حیران ہو کر بولی کامران تم بہت شرارتی ہو۔ میں ہسا اور اگے بڑھ کر انٹی کو دوبارہ کس کرنے لگا۔ اس دفعہ انٹی مجھ سے زیادہ گرم ہو چکی تھیں۔ انہوں نے مجھے گھر کی چھت پے آنے کے لیے کہا۔ انٹی کے گھر  کی چھت کی 4 طرف اونچی دیواریں تھیں اور کسی کی نظر نہیں پڑتی تھی۔ میں نے گھر کا دروازہ لاک کیا اور اوپر چلا گیا۔ انٹی بھی اوپر آ گئیں۔ انٹی نے بولا کے جیسے میں کہتی جاؤں ویسا کرنا ہے۔ میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ انہوں نے مجھے دیوار کے ساتھ لگ کر نیچے بیٹھنے کا کہا اور خود میرے سامنے آ کر کھڑی ہو گئیں۔ اب انہوں نے اپنی شلوار اتار دی اور اپنی پھدی کو سیدھا میرے منہ کے ساتھ لگا دیا۔ میں سمجھ گیا کے انٹی کیا چاہتی ہیں۔ میں نے اپنی زبان سے انٹی کی پھدی کے ہونٹ کھولے اور اپنی زبان کو ان کی پھدی میں اتار دیا۔ ان کے منہ سے آہ آہ کی آواز نکلنا شروع ہو گئی۔ میں نیچے سے اوپر اور اوپر سے نیچے ان کی پھدی میں زبان گھما رہا تھا۔ ساتھ ساتھ میں 1 ہاتھ سے ان کی پھدی کا دانا بھی چاٹتا اور ہاتھ سے مسلتا۔ میری یہ حرکت انٹی کو بےحال کر رہی تھی اور وہ افففففف فففف فففف آہ آہ کی سسکاری مارنے لگیں۔ 5 مینٹ تک انٹی کی پھدی چاٹنے کے بعد اب وہ اتنی گیلی ہو چکی تھی کے اب میں نے اپنے دوسرے ہاتھ کی 2 انگلیاں بھی انٹی کی پھدی میں ڈال کر اندرباہر کرنا سٹارٹ کر دیا۔ اب تو مزے کا یہ عالَم تھا کے انٹی بن پانی کے مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھیں اور دونوں ہاتھوں سے میرے سر پے پیار کر رہی تھیں۔ میں نیچے سے ان کی پھدی کا دانا مسل رہا تھا دوسرے ہاتھ کی 2 انگلیاں انٹی کی پھدی میں تیزی سے اندر باہر کر رہا تھا اور اپنا منہ پھدی کے ساتھ لگا کر زبان سے بھی مزہ دے رہا تھا۔ یہ وہ مزہ تھا جو 95℅ لڑکیوں کا سپنا ہوتا ہے۔ مزید 5 مینٹ میں انٹی کو ایسے ہی مزہ دیتا رہا۔ اس کے بعد انٹی نے میری بیلٹ کھولی اور پینٹ اتار کر میرا 7 انچ کا گلابی رنگ کا لن نکالا۔

انٹی نے سب سے پہلے تو لن پے تھوک لگایا اور خوب مل مل کر مٹھ مارنے لگیں۔ ان کے ہاتھ کا لمس مجھے مست کر رہا تھا۔مجھے اس طرح چھت پے کھڑا ہو کر ایسے سیکس کرنے میں بیحد لذت محسوس ہو رہی تھی۔  تھوڑی دیر میری مٹھ مارنے کے بعد انٹی نے لن کی ٹوپی کے ساتھ اپنی زبان سے کھیلنا شروع کیا۔ اففففففففف مزہ ❤ میں مدہوش ہو رہا تھا۔انٹی کا جنون بھی بڑھتا جا رہا تھا۔ وہ میرے لن کی ٹوپی کے گرد جس طرح اپنی زبان گھوماتی کے میں مزے سے کانپ جاتا۔ اب انٹی نے سہی سے میرے لوڑے کو پورا منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔ میں بہت مشکل سے اپنے اوپر کنٹرول کر رہا تھا۔ انٹی نیچے بیٹھ کر میرا لن چاٹ رہی تھیں اور ان کی نظریں صرف میرے چہرے پر جمی ہوئی تھیں اور وہ دیکھ رہیں تھیں کے کس جگہ پے چوسنے سے میرے چہرے پے زیادہ لذت کے اثار آتے ہیں۔۔۔۔پھر وہ جگہ پے پورا منہ ڈال کر اندر سے فل گیلی زبان پھرتیں۔ انٹی کی آنکھوں کا کنکشن میری طرف تھا اور مجھے جہاں زیادہ مزہ آتا وہیں انٹی اور ڈیپ سککنگ کرتیں۔ لن چوس چوس کر انٹی اب پہلی دفعہ میرے دونوں ٹٹوں کو اپنے منہ میں لے کر چوس رہی تھیں۔ مجھے مزے کے آخری درجہ تک پوھنچا دیا تھا۔ ان کے منہ میں 1 ساتھ میرے دونو ں ٹٹے موجود تھے اور وہ زور زور سے چوس رہی تھیں۔

اب میری برداشت جواب دے رہی تھی۔ انٹی نے محسوس کر لیا اور فورن دیوار کی طرف منہ کر کے گھوڑی بن گئیں۔ میں پیچھے آ کر کھڑا ہوا اور اپنا لن ان کی پھدی پے سیٹ کیا اور تھوڑا زور لگایا تو لن آدھا اندر چلا گیا۔ اب میں سلوو سلوو اگے پیچھے ہونے لگا اور انٹی کی۔ قمیض اوپر کر کے ان کے بریزر سے ان کے دونوں مممے نکال کر دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیے اور پیچھے سے زور زور سے گھسے مارنے لگا۔ انٹی پورا ساتھ دے رہی تھیں اور خود بھی اپنی گانڈ کو اگے پیچھے کر رہی تھیں۔ اتنا زبردست مزہ آ رہا تھا کے انٹی کے ساتھ ساتھ میرے منہ سے بھی آہ آہ کی آوازیں نکل رہی تھیں۔ میں 5 مینٹ تک اسی طرح انٹی کی۔ پھدی مارتا رہا۔ اس کے بعد انٹی نے مجھے التی پالتی یعنی چوکڑی مار کر بیٹھنے کا کہا۔ میں نے ایسا ہی کیا اور وو میرے میرے لن کے اوپر اس طرح سے بیٹھ گئیں کے ان کی دونوں ٹانگیں میری دونوں سائیڈ پے میری کمر کے گرد حلقہ بنا کر ٹائٹ ہو گئیں۔ اب ان کا منہ میری طرف تھا اور نیچے میرا لن ان کی چھوت میں اور وہ میری گود میں اوپر نیچے ہو رہی تھیں۔۔۔ساتھ ساتھ ان کے دونوں بازو میری گردن کے گرد لپٹے ھوے تھے اور ہمارے منہ میں ایکدنے کے ہونٹ تھے۔ یہ مزے کی اخیر تھی۔ مجھے لگ رہا تھا کے انٹی چھوٹ رہی ہیں کیوں کے وہ بہت مچل رہی تھیں اور زور زور سے اپ ڈاؤن  ہو رہی تھیں۔ ان کی پھدی سے پانی نکل کر میرے سینے تک پھیل رہا تھا۔ ان کا جسم جھٹکے مار کر ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ اب میں بھی چھوٹنے کو تھا اور اب خود زور زور سے دونوں ہاتھوں سے انٹی کی۔ گانڈ کو نیچے سے تھام کر زور زور سے اوپر نیچے کرنے لگا۔ میرے سے مزہ برداشت نہیں ہو رہا تھا اور یکدم سے منی نکلنا شروع ہوئی لیکن میں اتنا ہوٹ ہو چکا تھا کے انٹی کی پھدی سے اپنا لن۔ نکال کر مزہ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس لیے منی پوری کی پوری انٹی کی پھدی میں ہی نکال دی۔ انٹی کو بھی احساس ہو چکا تھا کے میں نے اندر کی مادہ چھوڑ دیا ہے۔ وہ ہسی اور بولی کے لگتا ہے مجھے اپنے بچے کی ماں بنانا چاھتے ہو۔ میں شرمندہ سا ہو گیا اور کچھ نہیں بولا۔ انٹی نے کہا چھت سے ہی 1 کپڑا دیا جو انہوں نے دھو کر ڈالے ھوے تھے۔ میں نے جلدی سے اپنا لن اور سینہ صاف کیا اور انٹی کی پھدی کو بھی اچھی طرح صاف کیا۔ انٹی جلدی سے شلوار پہن کر نیچے چلی گئیں اور میں نے وہاں موجود زمین پے منی کے نشان پے بھی کپڑا مارا۔

سب صاف کرنے کے بعد میں بھی نیچے آ کر واش روم میں  پانی سے جسم صاف کر کے۔ نکلا۔ انٹی بھی اپنا حلیہ سہی کر چکی تھیں۔ میں اب چونکے اچھی خاصی چدائی کر چکا تھا اور ابھی تک انکل بھی نہیں آے تھے تو نکلنا چاہتا تھا۔ انٹی نے بھی یہی مناسب سمجھا اور میں جلدی سے ان کے گھر سے نکل گیا۔

Posted on: 04:11:AM 18-Jan-2021


0 0 164 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 60 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com