Stories


برا والی دوکان از رانا پردیسی

ہیلو دوستو۔۔ آج میں آُپکو اپنی ایک چھوٹی سی کہانی سنانے جا رہا ہوں جس میں میں نے مختلف لڑکیوں اور آنٹیوں کی چدائی کی۔ لمبی تمہید باندھنے کی بجائے سیدھے مدعے کی بات پر آتے ہیں۔ تو دوستو میرا نام سلمان ہے۔ زیادہ پڑھا لکھا تو نہیں مگر کسی لڑکی کی چوت کو کیسے چودنا ہے یہ میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ میری تعلیم محض ایف اے ہے۔ اور میری عمر 24 سال ہے۔ ، 5 فٹ 7 انچ قد ہے ، زیادہ تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے کوئی نوکری تو ملی نہیں گھر میں سب سے بڑا ہونے کی وجہ سے گھر کی ساری زمہ داری مجھ پر آگئی تھی۔ 20 سال کی عمر میں میں نے کام شروع کیا۔ میں آپکو یہ بتانا تو بھول ہی گیا کہ میرا تعلق ملتان سے ہے۔ شاہ رکنِ عالم میں ایک چھوٹا سا گھر ہے جو والد صاحب نے اچھے وقتوں میں اپنی زندگی میں ہی بنا لیا تھا جو اب ہماری واحد جائداد تھا۔ 20 سال کی عمر میں جب والد صاحب اس دنیا سے چلے گئے تو میری والدہ نے مجھے کوئی کام ڈھونڈںے کا کہا کیونکہ گھر کا خرچہ بھی چلانا تھا اور سب سے بڑا ہونے کے ناطے یہ کام مجھی کو کرنا تھا۔ مجھ سے چھوٹا ایک بھائی اور 3 بہنیں تھیں جنکی عمر ابھی بہت کم تھی۔ کام ڈھونڈنے کی غرض سے میں حسین آگاہی بازار چلا گیا جہاں تھوڑی سی جدو جہد کے بعد مجھے ایک شخص نے ایک دکان کا پتا بتایا جنہیں ایک سیلز مین کی ضرورت تھی جو نہ صرف گاہک سے بات کر سکے بلکہ حساب کتاب کا بھی پکا ہو۔ میں ان صاب کی بتائی ہوئی دکان پر پہنچ گیا۔ دوپہر 12 بجے کا وقت تھا ابھی بازار میں زیادہ چہل پہل نہ تھی۔ میں دکان میں داخل ہوگیا تو سامنے ایک باریش بزرگ کاونٹر پر موجود تھے اور انکے سامنے کچھ خواتین کھڑی تھیں، مجھے دکان پر آتا دیکھ کر ان بزرگ نے ایک کپڑا آگے کر دیا جو وہ پردے کے لیے استعمال کرتے تھے، اب میں بزرگ کو تو دیکھ سکتا تھا مگر خواتین اور میرے درمیان اب ایک پردہ آچکا تھا اور میں دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ آخر ایسی بھی کیا بات ہے کہ ان کو پردے کی ضرورت پڑ گئی جبکہ وہ خواتین پہلے ہی برقع پہنے ہوئے تھیں۔ خیر میں دکان کا جائزہ لینے لگا ۔ یہ کاسمیٹکس اور آرٹیفیشل جیولری کی دکان تھی۔ کچھ دیر بعد پردہ ہٹا اور وہ خواتین وہاں سے نکل گئیں۔ اب بزرگ میری طرف متوجہ ہوئے اور بولے بولو بیٹا کیا چاہیے؟؟؟ میں نے بزرگ کی طرف دیکھا اور کہا سر مجھے جاب چاہیے۔ میں نے سنا ہے کہ آپکو ایک سیلز مین کی ضرورت ہے۔ یہ سن کر بزرک نے کہا، ہاں ہاں میں نے مظفر کو کہا تھا کہ کوئی اچھے گھرانے کا بچہ ہو تو بتائے مجھے سیلز مین کی بہت ضرورت ہے۔ کیا لگتے ہو مظفر کے تم؟؟؟ میں نے کہا کچھ نہیں انکل، میں تو مختلف دکانوں پر جا جا کر جاب کا پوچھ رہا تھا تو کچھ پیچھے ایک دکاندار نے ہی مجھے آپکے بارے میں بتایا کہ آپکو ضرورت ہے تو میں ادھر آگیا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ بیٹا ایسے تو میں کسی کو نہیں رکھ سکتا، مجھے تو اعتماد والا لڑکا چاہیے۔ ان بزرگ کا نام اقبال تھا۔ میں نے کہا سر آپ بے فکر رہیں مجھ سے آپکو کبھی کوئی شکایت نہیں ہوگی، مجھے جاب کی بہت سخت ضرورت ہے، میں نے اقبال صاحب کو گھرکا پتہ اور گھر کے حالات سب کچھ بتا دیا۔ اس پر اقبال صاحب کے لہجے میں پہلے سے زیادہ نرمی اور پیار آگیا، مگر وہ ابھی تک ہچکچا رہے تھے ، پھر انہوں نے کہا بیٹا خواتین اور لڑکیوں سے بحث کرنی پڑے تو کر لو گے؟؟؟ میں نے انہیں بتایا جی انکل میرے سکول میں لڑکیاں بھی تھیں اور فی میل استانیاں بھی اور میں بہت اچھا اور سب کا پسندیدہ سٹوڈنٹ تھا، آپکو میری وجہ سے کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ پھر انہوں نے مجھے کہا اچھا چلو تم ابھی جاو، میں تھوڑا سوچ لوں، کل صبح 10 بجے آجانا تم مگر کسی بڑے کو لے کر آنا بہتر ہے اسی مارکیٹ میں کوئی واقف ہو تو اسے لے آنا۔ میں نے انکل سے ہاتھ ملایا اور انکا شکریہ ادا کرتے ہوئے فورا گھر چلا گیا۔ گھر جا کر میں نے امی سے اس بارے میں بات کی تو انہوں نے کافی سوچنے کے بعد ابو کے ایک اچھے دوست کا پتہ مجھے بتایا کہ ان سے جا کر ملو شاید وہ کوئی مدد کر سکیں اس سلسلے میں۔ میں اسی وقت ابو کے دوست سے ملنے چلا گیا، کچھ دیر بعد انکے گھر پہنچا تو قسمت سے وہ گھر پر ہی مل گئے، وہ اپنی بیوی اور 2 بیٹیوں کے ساتھ کہیں گھومنے کے لیے جا رہے تھے مگر میرے آنے کی وجہ سے انہوں نے اپنا پروگرام تھوڑی دیر کے لیے معطل کر دیا تھا۔ میں اپنا تعارف تو جاتے ہی کروا چکا تھا جسکی وجہ سے مجھے انکل اور آنٹی نے بڑے پیار سے اپنے گھر میں بٹھایا اور انکی ایک بیٹی جسکی عمر مشکل سے 15 سال ہوگی میرے لیے میٹھے پانی کا ایک جگ اور ایک شربت لے آئے۔ میں غٹا غٹ 2 گلاس چڑھا گیا تھا کیونکہ صبح سے پھر پھر کر مجھے کافی پیاس لگی ہوئی تھی۔ میں نے انکل کو اپنی مشکل بتائی اور ان سے مدد مانگی تو وہ کچھ دیر سوچنے کے بعد بولے کہ فکر نہیں کرو تمہارا کام ہوجائے گا۔ کل صبح تم پہلے میرے گھر آجانا میں تمہیں اپنے ساتھ لے چلوں گا اور اقبال صاحب کو تمہاری گارنٹی دے دوں گا۔ کچھ دیر اپنی خدمت کروانے کے بعد میں واپس گھر آگیا اور اگلے دن صبح صبح انکل کے گھر جا دھمکا۔ انکل پہلے ہی تیار ہو چکے تھے، 10 بجنے میں ابھی تھوڑا وقت تھا، انکل نے اپنی بائیک نکالی اور سیدھے حسین آگاہی بازار میں داخل ہونے کے بعد اسی دکان کے سامنے لے جا کر میں نے بائک روکنے کو کہا۔ انکل میرے ساتھ دکان میں داخل ہوئے اور اقبال صاحب کو اپنا تعارف کروایا اور اپنا ملازمتی کارڈ نکال کر اقبال صاحب کو دکھا دیا۔ میرے یہ انکل محکمہ جنگلات میں ملازم تھے، سرکاری ملازم کا کارڈ دیکھ کر اقبا ل صاحب کو اطمینان ہوگیا اور وہ بولے کہ اگر آپ بچے کی ضمانت دیتے ہیں تو میں اسے رکھ لیتا ہوں، روزانہ ایک ٹائم کا کھانا دوں گا اور شروع میں 6000 روپے تنخواہ ہوگی اگر اس نے دل لگا کر کام کیا تو تنخواہ بڑھا دی جائے گی۔ میں نے فورا حامی بھر لی تو انکل نے کہا ٹھیک ہے اقبال صاحب میں چلتا ہوں، بِن باپ کے بچہ ہے اسے اپنا ہی بچہ سمجھیے گا اور میں گاہے بگاہے چکر لگاتا رہوں گا امید ہے آپکو اس سے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ یہ کہ کر انکل چلے گئے جبکہ اقبال صاحب بے کاونٹر کا ایک چھوٹا سا دروازہ کھول کر مجھے اندر آنے کو کہا تو میں اب کاونٹر کےپیچھے کھڑا تھا۔ کاونٹر کے اندر جاتے ہوئے میری نظر دکان کے اس حصے میں پڑی جہاں کل کچھ خواتین کھڑی تھیں تو میرے 14 طبق روشن ہوگئے۔ وہاں عورتوں کے اندر کے استعمال کے کپڑے یعنی بریزئیر پڑے تھے۔ اب مجھے سمجھ لگی کہ کل وہ خواتین اپنے لیے بریزئیر خرید رہی ہونگی تبھی اقبال صاحب نے پردہ گرا دیا تھا۔ خیر میں اندر آگیا تو اقبال صاحب نے مجھے کام سمجھانا شروع کر دیا۔ کچھ ہی دیر میں دکان میں کچھ خواتین آئیں تو اقبال صاحب نے کہا تم نے صرف خاموشی سے دیکھنا ہے کہ گاہک سے کس طرح بحث کی جاتی ہےاور اسے مطمئن کیا جاتا ہے۔ میں نے ہاں میں سر ہلایا، خواتین نے اپنے لیے کچھ میک اپ کا سامان خریدا اور میں اقبال صاحب کی ڈیلنگ پر غور کرتا رہا۔ ۔ اسی طرح سارا دن مختلف خواتین گاہے بگاہے آتی رہیں اور میں چپ چاپ اقبال صاحب کو دیکھتا رہا، دوپہر میں انہوں نے اپنے گھر سے کھانا منگوایا جو انکا ایک چھوٹا بیٹا دینے آیا تھا۔ میں نے بھی انکے ساتھ ہی کھانا کھایا۔ پورا دن اسی طرح گزر گیا۔ رات کو 7 بجے اقبال صاحب نے مجھے چھٹی دے دی تو میں جلدی سے گھر چلا گیا کہ کہیں اندھیرا نہ ہوجائے۔ اگلے دن میں دوبارہ سے ٹھیک بجے دکان پر پہنچ گیا تو اس وقت دکان میں ایک خاتون کھڑی تھیں، خاتون نے اپنا چہرہ تھوڑے سے دوپٹے سے ڈھانپ رکھا تھا۔ اپنے قد کاٹھ سے وہ ایک بڑی عمر کی عورت لگ رہی تھی، میں اقبال صاحب کو سلام کر کے اندر ہی چلا گیا تو اقبال صاحب نے اشارے سے مجھے اپنے پاس ہی بلا لیا۔ میں نے دیکھا کہ اقبال صاحب کے ہاتھ میں ایک سکن کلر کا بڑے سائز کا برا تھا جو انہوں نے عورت کے ہاتھ میں تھا دیا۔ عورت نے برا کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر تھوڑا نیچے کیا اور کاونٹر کی اوٹ لے کر اسکو کھول کر دیکھنے کے بعد ویسے ہی واپس دے دیا اور بولی اس سے بڑا سائز دکھائیں۔ اقبال صاحب تھوڑا سا نیچے جھکے اور وہ برا واپس اپنی جگہ پر رکھنے کے بعد ساتھ والی لائن سے دوسرا برا نکال کر اس خاتون کو پکڑا دیا، انہوں نے دوبارہ سے وہ کاونٹرکی اوٹ میں لیجا کر کھول کر دیکھا اور پھر پوچھا اسکے کتنے پیسے؟ تو اقبال صاحب نے 300 کا مطالبہ کیا۔ خاتون نے اپنی چادر ہٹا کر اپنی قمیص میں ہاتھ ڈالا اور اپنے سپیشل لاکر سے ایک چھوٹا سا پرس نکالا اور اقبال صاحب کو 300 روپے نکال کر دیے اور وہ برا اپنے ہاتھ میں موجود شاپر میں کپڑوں کے نیچے چھپا کر فوری دکان سے نکل گئیں۔ خاتون کے جانے کے بعد اقبال صاحب نے مجھے دوبارہ سے وہاں موجود چیزوں کے بارے میں معلومات دیں اور انکے ریٹ بتانے شروع کر دیے، ساتھ میں ایک لسٹ بھی دے دی اور مجھے کہا اسے یاد کر لینا۔ میں سارا دن اس لسٹ کو فارغ وقت میں دیکھتا رہا اور چیزوں کے ریٹش ذہن نشین کرتا رہا، جبکہ کسٹمرز کے آںے پر میں اقبال صاحب کے ساتھ کھڑا ہوکر انکی ڈیلنگ دیکھتا۔ ایک ہفتہ ایسے ہی گزر گیا۔ ایک ہفتے بعد اقبال صاحب نے مجھے کہا کہ بیٹا اب جو خواتین سرخی پاوڈر لینے آئیں گی انکو تم نے ڈیل کرنا ہے اور جو کوئی اپنے اندر کے کپڑے لینے آئیں گی انکو میں دیکھوں گا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے انکل، لیکن اگر مجھے کسی چیز میں پریشان ہو تو آپ نے میری مدد کرنی ہے۔ انکل نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور بولے فکر نہیں کرو میں یہیں پر موجود ہوں۔ بے فکر ہوکر تم آج کام شروع کرو۔ کچھ ہی دیر کے بعد ایک ادھیڑ عمر خاتون دکان میں آئیں جنکے ساتھ انکی 2 بیٹیاں بھی تھیں۔ وہ خاتون اقبال صاحب کے سامنے جا کر کھڑی ہوگئیں اور ہلکی آواز میں بولیں، بچیوں کے لیے اندرونی کپڑے چاہیے۔ تو اقبال صاحب تھوڑا سا آگے ہوکر کھڑے ہوگئے اور چھوٹے سائز کے برا نکال کر دکھانے لگے، انکی ایک چھوٹی بیٹی نے بھِی آگے ہوکر دیکھنا چاہے تو آنٹی نے اسے گھور کر دیکھا اور پیچھے رہنے کی ہدایت کی، وہ لڑکی واپس میرے سامنے آکر کھڑی ہوگئی، میں نے اسکے سینے کی طرف دیکھا تو مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ اس پر ابھی تازہ تازہ جوانی آئی ہے اسکو سب سے چھوٹے سائز کا برا ہی فِٹ آئے گا۔ جتنی دیر میں آںٹی نے اپنی بچیوں کے لیے برا خریدے، اتنی دیر میں انکی بیٹی نے مجھ سے کچھ لپ اسٹک دکھانے کو کہا، میں نے فوری ایک سرخ رنگ کی لپ اسٹک اسے دکھائی تو اس نے کہا کوئی اچھا کلر دکھاو نہ۔ میں نے ایک اور میرون کلر کی لپ اسٹک اسے دکھائی اور کہا یہ دیکھیں باجی یہ آپکے ہونٹوں پر بہت اچھی لگے گی۔ میں نے زیادہ اوور ہونے کی کوشش کی تو اس لڑکی نے مجھے گھور کر دیکھا اور لپ اسٹک واپس کاونٹر پر رکھ کر پیچھے ہوکر کھڑی ہوگئی۔ مجھے تھوڑی شرمندگی بھی ہوئی اور تھوڑا ڈر بھی گیا کہ کہیں یہ اپنی ماں کو میری شکایت نہ لگادے۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہوا اور کچھ ہی دیر بعد خاتون نے اپنی لڑکیوں کے برا خریدے اور دکان سے نکل گئیں۔ شکر ہوا کہ اقبال صاحب نے بھی میری بات نہیں سنی تھی۔ مختصر یہ کہ آہستہ آہستہ میں یہ سیکھ گیا تھا کہ خواتین سے کس طرح بات کرنی ہے، کس طرح کی لڑکی سے فری ہونا ہے اور کس طرح کی لڑکی سے صرف کام کی ہی بات کرنی ہے۔ مجھے یہ کام کرتے ہوئے 2 ماہ کا عرصہ ہوگیا تھا اس دوران اقبال صاحب بھی میری کارکردگی اور سعادت مندی سے بہت خوش تھے۔ وہ اکثر اوقات مجھے دکان پر اکیلا چھوڑ کر دوپہر کے ٹائم اپنے گھر سستانے کے لیے چلے جاتے تھے۔ دوپہر کے وقت گاہک کم ہوتے تھے اس لیے مجھے کبھی کوئی مشکل پیش نہی آئی تھی۔ ابھی تک میں کاسمیٹکس اور جیولری وغیرہ کی اشیا کی سائیڈ پر ہی تھا اور برا وغیرہ سیل کرنے کا مجھے کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ایک دن یوں ہوا کہ اقبال صاحب دوپہر کے وقت سستانے کے لیے اپنے گھر چلے گئے ، انکے جاتے ہی ایک ماڈرن خاتون دکان میں داخل ہوئیں۔ انکی عمر کوئی 30 کے لگ بھگ ہوگی، ساتھ ایک چھوٹا بچہ تھا جسکی عمر مشکل سے 5 سال ہوگی جو انکی انگلی پکڑ کر انکے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ خاتون نے سفید رنگ کی باریک قمیص پہن رکھی تھی اور نیچے سے ایک موٹی شمیص پہن رکھی تھی جو عموما عورتیں اپنی قمیص کے نیچے مگر برا کے اوپر پہنتی ہیں۔ خاتون کے گلے میں دوپٹہ تھا جو انکے سینے تک کو ڈھانپنے کے لیے کافی تھا۔ اندر آکر خاتون نے میری طرف دیکھا پھر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولیں تم ہی ہوتے ہو دکان پر ؟؟؟ یا تمہاری ساتھ کوئی اور ہوتا ہے؟؟؟ میں نے کہا میں تو ملازم ہوں بیگم صاحبہ دکان کے مالک ہوتے ہیں مگر ابھی وہ آرام کرنے گھر گئے ہیں۔ خاتون نے کہا اچھا۔۔۔۔ تو تم سب کچھ سیل کرتے ہو دکان پر؟؟؟ یہ انہوں نے ذو معنی انداز میں کہا، میں نے نہ سمجھتے ہوئے کہا جی میڈیم سب کچھ سیل کرتا ہوں بتائیں آپکو کیا چاہیے۔۔ اصل میں شکل و صورت سے میں 20 سال کا ہونے کے باوجود بچہ ہی لگتا تھا اس لیے وہ خاتون سوچ رہی تھیں کہ نہ جانے اس بچے کو لیڈیز انڈر گارمنٹس کا پتا بھی ہوگا یا نہیں۔ پھر خاتون نے کچھ سوچا اور بولیں مجھے اپنے لیے کچھ برا چاہیے ہیں، کوئی اچھے سے دکھا دو۔ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا، میں سمجھا شاید میں نے سننے میں غلطی کی ہے، میں نے دوبارہ پوچھا جی میڈیم کیا چاہیے؟؟؟ تو وہ بولیں ارے بھائی برا چاہیے ہیں وہ دکھا دو میرے سائز کے مطابق۔ جب انہوں نے اپنے سائز کا کہا تو میں نے ڈائریکٹ اپنی نظروں کا مرکز انکے سینے کو بنا لیا، مگر مجھے خواتین کے سائز کا اسطرح دیکھ کر اندازہ نہیں تھا کیونکہ کبھی دوکان پر میں نے برا سیل ہی نہیں کیا تھا۔ میں نے نطریں انکے سینے پر جمائے تھوڑی کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا میم کیا سائز ہے آپکا؟ خاتون نے بغیر ہچکچائے پورے اطمینان سے جواب دیا، ویسے تو 34 بھی صحیح آجاتا ہے مگر وہ کبھی کبھی تھوڑا تنگ ہوجا تا ہے تو تم 36 سائز میں ہی دکھاو۔ یہ سن کر میں نے خاتون کو آگے آنے کو کہا تو وہ آگے آگئیں، اور میں اس کاونٹر کے سامنے کھڑا ہوگیا جہاں برا پڑے ہوتے تھے، کاونٹر میں مختلف لائنیں بنی ہوئی تھیں ہر لائن کے شروع میں ایک چھوٹی سی پرچی لگی ہوئی تھی جس پر اس لائن میں پڑے ہوئے برا کا نمبر لکھا تھا۔ میں نے 36 والی لائن دیکھی اور اس میں جو پہلا برا پڑا تھا وہ اٹھا کر کانپتے ہاتھوں کے ساتھ میڈیم کو پکڑا دیا۔ نجانے کیوں میرے دل میں ایک انجانا سا خوف تھا ہ میں کچھ غلط کر رہا ہوں۔ حالانکہ اس میں کوئی غلط بات نہیں تھی لیکن اسکے باوجود میرے دل میں خوف تھا کہ ابھی کوئی اور نہ آجائےاور وہ مجھے برا بیچتے ہوئے دیکھ لے گا تو نہ جانے کیا ہوجائے گا۔ میڈیم نے میرے کانپتے ہاتھوں سے برا پکڑا اور فورا ہی واپس پکڑا دیا اور بولیں نہیں یہ نہیں کوئی اچھی کوالٹی کا دکھاو۔ اگر نیٹ والا ہے تو وہ دکھاو۔ میں نے وہ برا انکے ہاتھ سے پکڑ کر واپس رکھا اور نیچے بیٹھ کر اسی لائن میں نیٹ والے برا دیکھنے لگا، تھوڑی سی کوشش کے بعد مجھے کالے رنگ میں ایک نیٹ والا برا مل گیا جو کافی سافٹ تھا۔ اور کوالٹی سے بھی اچھا لگ رہا تھا، میں نے وہ برا اٹھا کر میڈیم کو پکڑایا تو انہوں نے وہ پکڑا اور میرے سامنے ہی اسکو کھول لیا۔ میرے اوسان خطا ہوگئے، ابھی تک میں نے جتنی خواتین کو برا خریدتے دیکھا تھا وہ کاونٹر کی اووٹ میں برا کھول کر دیکھتی تھیں مگر انہوں نے میرے سامنے ہی کاونٹر کے اوپر برا کھولا اور اسکو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگیں۔ پھر بولیں اس میں اور کون کون سے کلر ہیں؟؟؟ میں نے ہکلاتے ہوئے کہا میم ۔۔ یہ کل کلر بھی اچھ ۔ ۔ اچھا ہے۔۔۔ خاتون ہلکا سا مسکرائیں وہ سمجھ گئی تھیں کہ آج سے پہلے میں نے برا سیل نہیں کیے کبھی ۔ پھر وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولیں بیٹا کوئی اور کلر ہے تو دکھا دو۔ میں وہ برا انکے ہاتھ سے لینے لگا تو انہوں نے کہا نہیں یہ یہیں رہنے دو تم اور کلر دکھاو۔ میں نے نیچے بیٹھ کر سرخ اور سکن کلر میں بھی اسی طرح کا برا نکال لیا اور انکے سامنے رکھ دیا۔ میرے ہاتھ ابھی تک کانپ رہے تھے اور میرے ہونٹ خشک ہوچکے تھے۔ شاید میرے چہرے سے میری پریشانی کچھ زیادہ ہی واضح ہورہی تھی۔ پھر خاتون نے مجھ سے انکی قیمت پوچھی تو میں نے بغیر سوچے سمجھے 500 روپے قیمت بتا دی ، کیونہ اسکی کوالٹی مجھے پہلے والے برا سے زیادہ اچھی لگی تھی تو میں نے سوچا یہ مہنگا بھی ہوگا۔ خاتون نے کوئی بحث نہیں کی اور سرخ رنگ کا برا ایک سائیڈ پر کر کے باقی 2 مجھے واپس کر دیے اور بولیں کوئی اور ڈیزائن ہے تو وہ بھی دکھا دو۔ میں نے دل ہی دل میں میڈیم کو برا بھلا کہا اور بیٹھ کر دوبارہ سے برا کے مختلف ڈیزائن دیکھنے لگا میں تو چاہ رہا تھا وہ فوری مجھے پیسے پکڑائیں اور یہاں سے چلتی بنیں تاکہ میری جان چھٹے۔ مگر وہ تو جان چھوڑںے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں شاید انکو میری حالت دیکھ دیکھ کر مزہ آرہا تھا۔ اب کی بار میں نے ایک اور ڈیزائن کا برا نکالا جس کے کپ یعنی کے اگلا حصہ جو مموں کے اوپر آتا ہے وہ فوم والا تھا اور کافی موٹا تھا، اور اسکے کپ پر خوبصورت لیس لگی ہوئی تھی۔ اور دونوں کپس کے درمیان بھی ایک چھوٹا سا پھول بنا ہوا تھا۔ یہ برا نیلے اور کالے رنگ میں تھا۔ میں نے دونوں کلر نکال کر میڈیم کو دکھادیے۔ انہوں نے ہاتھ میں پکڑ کر برا کو کھولا اور کپ کو ہلکا سا دبا کر دیکھا اور پھر اسکا ڈیزائن دیکھا تو بولیں اصل چیز تو تم نے اب دکھائی ہے، یہ خوبصورت ہیں۔ پھر دونوں رنگوں کو باری باری دیکھتی رہیں پھر انہوں نے دونوں برا میرے سامنے کر دیے اور بولیں ان میں سے کونسا کلر اچھا لگے گا؟؟ انکا یہ سوال تو مجھ پر بجلی بن کر گرا۔ اب میں انہیں کیسے بتا سکتا تھا کہ کونسا کلر اچھا لگے گا۔ مگر میں نے ہمت جمع کر کے کہا میم آپکے رنگ کے مطابق تو کالے رنگ کا ہی اچھا لگے گا۔ میں نے کس مشکل سے یہ بات کی میں ہی جانتا ہوں۔ میری بات سن کر میڈیم زیرِ لب مسکرائی اور بولیں ٹھیک ہے اسکے کتنے پیسے ہونگے؟؟ میں نے کہا میڈیم اسکے بھی 500 ، تو وہ بولیں ٹھیک ہے یہ نیلے رنگ کا واپس رکھ دو، میں نے نیل ےرنگ کا برا واپس رکھا تو میڈیم نے نیٹ کا برا اور فوم والا کالا برا دونوں میرے ہاتھ میں پکڑائے اور بولیں انکو شاپر میں ڈال دو۔ میں نے جلدی جلدی ایک سفید شاپر اٹھایا اور دونوں برا اس میں ڈال کر خاتون کو پکڑا دیے۔ انہوں نے ایک نظر مجھے اور پھر ایک نظر شاپر پر ڈالی پھر شاپر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولیں، یہ اسکو بازار میں اسی طرح لے کر پھروں گی میں؟؟؟ اسکو کسی خاکی کاغذ کے لفافے میں پیک کرو پھر کالے رنگ کے شاپر میں ڈالو وہ لفافہ۔ انکی بات سن کر مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا، ایک دو بار میں نے اقبال صاحب کو اسی طرح کاغذ کے خاکی لفافے میں برا ڈال کر دیتے ہوئے دیکھا تھا۔ میں نے میڈیم کے کہنے کے مطابق برا پیک کیے اور انہیں تھما دیے۔ میڈیم نے اپنے ہینڈ بیگ سے ایک چھوٹا پرس نکالا اور اس میں سے 1000 کا ایک نوٹ مجھے تھماتے ہوئے بولیں، پورے لوگے یا کچھ رعایت بھی کرو گے؟؟ میں نے کہا میڈیم فکس ریٹ ہے ہمارا لیکن آپکو 50 روپے کی رعایت کر دوں گا۔ یہ کہ کر میں نے 50 روپے میڈیم کو پکڑاے تو انہوں نے وہ پیسے لیکر اپنے پرس میں ڈالے اور جاتے ہوئے مجھے ایک شرارتی مسکراہٹ سے دیکھ کر گئیں۔ شاید ابھی بھی وہ میری حالت سے محظوظ ہورہی تھیں۔ انکے جاتےہی میں نے کولر سے 2 گلاس پانی پیے اور گہرے گہرے سانس لیکر اپنی حالت درست کی۔ اسکے بعد کچھ مزید عورتیں آئیں مگر وہ سب لپ اسٹک پاوڈر کے لیے آئی تھیں۔ کچھ دیر بعد اقبال صاحب بھی آگئے، انہوں نے حسبِ معمول آتے ہی مجھ سے پوچھا ہاں سلمان بیٹا کوئی چیز فروخت کی ہے؟ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا جی حاجی صاحب۔۔۔۔ انہوں نے کہا کیا چیز فروخت ہوئی؟؟ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا حاجی صاحب وہ ایک خاتون آئی تھیں۔۔۔۔۔ وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ اقبال صاحب بولے کیا وہ؟؟؟ کیا لے کر گئی ہیں/؟؟ میں نے کہا وہ جی ۔۔۔۔۔۔ وہ اپنے لیے۔۔۔۔ ب ۔۔۔۔ بر۔۔۔ برا لیکر گئی ہیں۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے میری حالت غیر ہورہی تھی۔ اس پر حاجی صاحب نے مجھے حیرت سے دیکھا اور بولے تم نے برا فروخت کیے ہیں آج؟؟؟ میں نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا جی حاجی صاحب۔۔۔ وہ اصل میں۔۔۔۔۔۔ انہوں نے پوچھا تو میں نے سوچا کہ گاہک واپس نہیں جانا چاہیے تو میں نے وہ فروخت کر دیے۔ یہ سن کر حاجی صاحب مسکرائے اور میری کمر پر تھپکی دیتے ہوئے بولے بہت خوب بھئی، یعنی اب تم سیکھ گئے ہو۔ پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا کونسے فروخت کیے اور کتنے میں میں نے بتایا تو انہوں نے کہا بہت خوب، تم نے تو 100 روپے زیادہ کی بچت کروا دی۔ آج سے تم صرف جیولری اور کاسمیٹکس نہیں بلکہ انڈر گارمنٹس بھی سیل کیا کرو گے۔ پھر حاجی صاحب نے فارغ وقت پر رات کے 9 بجے کے قریب جب بازار میں رش بالکل ختم ہوگیا تھا مجھے مختلف سائز کے برا کے بارے میں اور انکے ڈیزائن کے بارے میں بتایا ، کونسے برا کہاں پڑے ہیں، دیسی برا، پھر ایمپورٹڈ برا اور پھر بی بیلے اور آئی ایف جی کے برا بھی دکھائے جو کافی مہنگے تھے، ایک ایک برا 1000 روپے تک کا بھی تھا۔ اسکے بعد حاجی اقبال صاحب نے مجھے خواتین کے انڈر وئیر کے بارے میں بھی متایا اس میں سمال، میڈیم اور لارج کے بعد ایکسٹرا لارج سائز تک کے انڈر وئیر تھے۔ پھر اس دن سے میں نے برا بھی سیل کرنا شروع کر دیے، کبھی میں جیولری وغیرہ دکھاتا تو کبھی برا اور انڈر وئیر سیل کرتا۔ دونوں طرف میری توجہ ہوگئی تو جاجی صاحب میری کارکردگی سے کافی خوش ہوئے اور 4 ماہ کے بعد میری تنخواہ 6 سے بڑھا کر 7000 کر دی جسکی مجھے بہت خوشی ہوئی۔ اس دوران انکل باسط بھی مہینے میں ایک دو بار چکر لگا کر میری کارکردگی کے بارے میں حاجی صاحب سے پوچھ لیتے تھے۔ یہاں میں نے ایک چیز نوٹس کی تھی کہ لوکل عورتیں تو حاجی صاحب سے ہی برا طلب کرتی تھیں، مگر جو کچھ ماڈرن قسم کی عورتیں ہوتی تھیں وہ زیادہ تر مجھے ہی کہتی تھیں برا دکھانے کے لیے، اور میں انکی ظاہری حالت کے مطابق اچھی کوالٹی اور لو کوالٹی کے برا دکھاتا تھا۔ اس دوران حاجی صاحب نے مجھے ایک موبائل بھی لے دیا تھا تاکہ ضرورت کے وقت میں ان سے رابطہ کر سکوں۔ پھر کبھی مال ختم ہوتا تو حاجی صاحب لاہور سے مال لینے چلے جاتے اور اس دن صبح سے رات تک دکان پر میں اکیلا ہی ہوتا اور اگلے دن حاجی صاحب کو پچھلے دن کا حساب دے دیتا۔ پھر ایک دن میں دکان پر فارغ ہی بیٹھا تھا کہ میرے نمبر پر ایک کال آئی میں نے ہیلو کہا تو آگے سے ایک خاتون کی آواز آئیں انہوں نے ہیلو کے جواب میں کہا کیسے ہو سلمان بیٹا؟؟ مجھے آواز تو جانی پہچانی لگی مگر میں سمجھ نہیں سکا کہ یہ کس کی آواز ہے۔ میں نے کہا جی میں ٹھیک ہوں مگر آپ کون؟ تو اس پر وہ بولیں ارے بیٹا میں تمہاری سلمی آنٹی بات کر رہی ہوں، تمہارے انکل سے تمہارا نمبر لیا تھا۔ سلمی آنٹی کا نام سن کر میں نے کہا جی آنٹی میں بالکل ٹھیک ہوں آپ سنائیں آپ کیسی ہیں؟؟ آنٹی نے کہا کہ وہ بھی بالک ٹھیک ہیں۔ پھر کچھ ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد آنٹی نے مجھے کہا کہ بیٹا تم سے ایک کام ہے، کہتے ہوئے شرم بھی آرہی ہے ، مگر پھر تم تو اپنے بچوں کی طرح ہی ہو، تو سوچ رہی ہوں تمہیں ہی کہوں، باسط تو مجھے جانے نہیں دیتے بازار۔ اور خود وہ فارغ نہیں انہیں چھٹی ہی نہیں ملتی راتے کو تھکے ہوئے گھر آتے ہیں تو اس وقت میں انہیں کہ نہیں پاتی۔ میں نے کہا آنٹی میں آپکے بچوں کی طرح ہی ہوں آپ بلا جھجک بتائیں کیا کام ہے۔ آنٹی کچھ دیر خاموش رہیں، پھر بولیں بیٹا وہ مجھے اصل میں کچھ چیزیں چاہیے تھیں۔ وہ تم سے منگوانی تھیں۔ میں نے کہا آںٹی آپ حکم کریں آپکو جو چاہیے میں لے کر حاضر ہوجاوں گا۔ پھر آنٹی بولیں بیٹا تمہیں تو پتا ہی ہے دکانوں پر کس طرح کے مرد کھڑے ہوتے ہیں، اور وہ عورتوں کو کسیے گندی گندی نظروں سے دیکھتے ہیں تو اس لیے میں تو یہ لینے دکان پر خود جاتی نہیں تمہارے انکل ہی میرے لیے لے کر آتے ہیں مگر اب وہ مصروف بہت ہیں اور مجھے ضرورت بھی بہت ہے۔ میں نے کہا آنٹی آپ بلا جھجک بولیں کیا چاہیے آپکو۔ مجھے کچھ کچھ سمجھ لگ گئی تھی کہ آنٹی کو کیا کام ہے، مگر پھر بھی کنفرم کر لینا ضروری تھا۔ پھر سلمی آنٹی نے تھوڑا ہچکچاتے ہوئے کہا بیٹا وہ کافی دنوں سے میں سوچ رہی تھی کہ باسط سے اپنے لیے بریزئیر منگواوں مگر انکو وقت نہیں مل رہا اور میں بازار سے خود جا کر کبھی لائی نہیں، مجھے باسط نے بتایا تھا کہ جس دکان پر تم کام کرتے ہو وہاں پر برا وغیرہ بھی ہوتے ہیں تو اگر تم میرے لیے لے آو گے تو میری بڑی مشکل آسان ہوجائے گی۔
 میں پہلے یہ سمجھ گیا تھا آنٹی کی ہچکچاہٹ سے مگر انکے منہ سے سننے کے بعد میں نے کہا آنٹی اس میں شرمانے والی کونسی بات ہے، یہاں تو پتا نہیں کتنی عورتیں آتی ہیں جنہیں میں برا فروخت کرتا ہوں، اگر آپکو چاہیے تو آپکے لیے بھی لیتا آوں گا۔ آنٹی نے کہا بہت بہت شکریہ بیٹا، تم نے تو میری مشکل آسان کر دی۔ پھر کب آوگے تم؟؟ میں نے کہا آنٹی کل جمعہ ہے، دکان بند ہوگی مجھے چھٹی ہے، تو میں کل ہی لیکر آپکی طرف آجاوں گا۔ آنٹی خوش ہوکر بولیں ارے یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ بس پھر تم کل ہی آجاو۔ اچھا پھر کل ہی ملتے ہیں، یہ کہ کر آنٹی شاید فون بند کرنے لگیں تو میں نے جلدی جلدی کہا، آنٹی آنٹی بات تو سنیں۔۔۔ میر ی آواز سن کر آنٹی نے ہاں بولو؟ میں نے کہا آنٹی اپنا سائز تو بتائیں مجھے کیسے پتا لگے گا کہ کونسے سائز کے لینے ہیں، اس پر آنٹی بولیں اوہ۔۔۔۔ مجھے یاد ہی نہی سائز بتانے کا اچھا ہوا تم نے خود ہی پوچھ لیا۔ بیٹا تم 38 نمبر کا لے آنا۔ 38 سائز کا سن کر میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ باسط انکل کے تو مزے ہیں انکو اتنے بڑے مموں والی بیوی ملی ہے۔ پھر میں نے فورا ہی پوچھا اچھا آنٹی فوم والے لانے ہیں یا نیٹ والے یا پھر کاٹن میں؟؟؟ آنٹی نے کچھ سوچا اور پھر بولیں بیٹا ایسا نہیں ہوسکتا تم مختلف لے آو مجھے جو پسند آئے گا میں وہی لے لوں گی؟؟؟ میں نے کہا کیوں نہیں آنٹی میں زیادہ لے آوں گا پھر اس میں سے آپ اپنی پسند کے مطابق جو رکھنا ہوا رکھ لیجیے گا۔ اچھا آنٹی یہ بھی بتا دیں آپکو اپنے لیے انڈر وئیر بھی چاہیے یا پھر صرف برا ہی چاہیے۔ یہ سن کر آنٹی نے کہا نہیں بیٹا بس برا ہی چاہیے۔ پھر اچانک بولیں اچھا سنو سنو۔۔۔۔ انڈر وئیر بھی 2 لے آنا مگر چھوٹے سائز کے۔ میں نے کہا چھوٹے سائز کے؟؟؟ آنٹی نے ہچکچاتے ہوئے کہا ہاں بیٹا مجھے تو ضرورت نہیں مگر وہ شمائلہ اب بڑی ہوچکی ہے نہ تو اسکے لیے چاہیے ہیں ، تو اسکے سائز کے مطابق چھوٹے انڈر وئیر بھی لے آنا۔ میں نے دل ہی دل میں انکی بیٹی شمائلہ کی گانڈ کے بارے میں سوچا تو وہ واقعی ابھی چھوٹے سائز کے انڈر وئیر کے قابل ہی تھی۔ میں نے کہا ٹھیک ہے آنٹی آپ بے فکر ہوجائیں میں لے آوں گا۔ فون بند کر کے میں اب سوچنے لگا کہ حاجی صاحب کو کیا کہوں گا؟؟؟ پھر جب حاجی صاحب آگئے تو میں نے حاجی صاحب کو بتایا کہ باسط انکل نے اپنی وائف کے لیے کچھ برا منگوائے ہیں تو وہ میں لے جاوں ؟ وہ خود آتے ہوئے زرا ہچکچا رہے تھے؟؟ حاجی صاحب نے ہنستے ہوئے کہا ہا ہا ہا اس میں ہچکچانے والی کونسی بات ہے وہ کونسا عورتوں سے لیکر جائیں گے، یہاں تو عورتیں بھی لے جاتی ہیں وہ مرد ہو کر شرما رہا ہے، مگر پھر انہوں نے بغیر کوئی اور بات کیے کہا، ٹھیک ہے لے جانا، مگر مفت میں نہ دے آنا پیسے لے لینا ان سے۔ میں نے کہا جی حاجی صاحب وہ تو ظاہری بات ہے پیسے لوں گا۔ پھر میں نے حاجی صاحب کی موجودگی میں ہی 38 سائز ے 7 برا پسند کیے اور ایک شاپر میں ڈال لیے اور پھر چھوٹے سائز کے 2 انڈر وئیر اٹھائے اور وہ بھی اسی شاپر میں ڈال دیے۔ حاجی صاحب نے کہا ارے اتنے زیادہ کا اچار ڈالے گا کیا ؟؟؟ میں نے کہا حاجی صاحب جو وہ رکھنا چاہیں گے رکھ لیں گے باقی میں اسی طرح واپس لے آوں گا۔ انہوں نے کہا اچھا چلو ٹھیک ہے مگر دھیان سے لانا۔ اگلے دن صبح 11 بجے میں باسط انکل کے گھر پہنچ گیا۔ جمعہ کا دن تھا سرکاری چھٹی نہ ہونے کے باعث باسط انکل گھر پر نہیں تھے جبکہ انکی بیٹی شمائلہ ابھی سکول سے واپس نہیں آئی تھیں۔ شمائلہ سے چھوٹی بیٹی ابھی جو 10 سال کی تھی اسکی طبیعت خراب تھی جسکی وجہ سے وہ سکول نہیں گئی اور گھر پر ہی ایک کمرے میں سو رہی تھی۔ میں گھر گیا تو سلمی آنٹی نے بہت خوش ہوکر مجھے اند ر بلا لیا۔ مگر وہ کچھ کچھ مجھ سے شرما بھی رہی تھیں ۔ انہوں نے مجھے اسی کمرے میں بٹھا دیا جہاں باسط انکل کے ہوتے ہوئے بیٹھا تھا۔ یہ مین کمرہ تھا اس میں ٹی وی بھی لگا ہوا تھا۔ مجھے بٹھا کر آنٹی کچن میں چلی گئیں اور کچھ ہی دیر میں میٹھے شربت کا ایک گلاس بنا کر میرے لیے لے آئیں۔ میرے سامنے پڑی ٹیبل پر سلمی آنٹی جھکی اور شربت کا جگ جو ایک بڑی ٹرے میں تھا میرے سامنے رکھا، جس دوران وہ جھکیں انکی قمیص سے انکے بڑے بڑے 38 سائز کے ممے قمیص سے باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگے، میری نظر انکی قمیص کے اندر موجود مموں اور انکے بیچ گہری لائن پر پڑی تو مجھے کچھ کچھ ہونے لگا، میں نے فورا ہی اپنا چہرہ نیچے کر لیا۔ آنٹی بھی فورا ہی سیدھی ہوگئیں پھر وہ میرے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئیں اور بولیں بیٹا پانی پیو۔ انکی نظریں میرے ہاتھ میں موجود شاپر پر تھیں۔ مگر وہ مجھ سے شاپر مانگتے ہوئے ہچکچا رہی تھیں۔ گرمی زیادہ تھی میں نے جلدی جلدی شربت کا ایک گلاس پیا اور پھر آنٹی کی طرف دیکھا۔ آنٹی نے اس وقت سفید رنگ کی ایک قمیص پہن رکھی تھی اور گلے میں دوپٹہ لے رکھا تھا، قمیص باریک تھی اور گرمی کی وجہ سے شاید آنٹی نے آج شمیص بھی نہیں پہنی تھی جسکی وجہ سے انکا کالے رنگ کا برا بھی سفید قمیص میں سے بڑا واضح نظر آرہا تھا۔ انکو ایسی حالت میں دیکھ کر مجھے اپنے انڈر وئیر میں بے چینی محسوس ہونے لگی تھی، مگر میں پوری کوشش کر رہا تھا کہ شلوار میں موجود ہتھیار اپنا سر نہ ہی اٹھائے تو اچھا ہے ورنہ سلمہ آنٹی نے نوٹ کر لیا تو شرمندگی ہوگی۔ شربت پینے کے بعد آنٹی نے شاپر کو دیکھتے ہوئے پوچھا اور بیٹا تمہارا کام کیسا جا رہا ہے، میں نے کہا آنٹی کام تو اچھا جا رہا ہے، اور بہت جلدی میں سیکھ بھی گیا ہوں، اب تو اقبال صاحب دکان پر ہوں یا نہ ہوں پوری دکان میں ہی سنبھالتا ہوں، چاہے کسی کو اپنے لیے برا لینے ہوں یا میک اپ کا سامان ، سب کچھ میں ہی ڈیل کرتا ہوں۔ یہ کہتے ہوئے میں نے شاپر پکڑ کر اس میں ہاتھ ڈالا اور سارے برا نکال کر آنٹی کےسامنے ٹیبل پر رکھ دیے۔ آنٹی نے برا پر نظر پڑتے ہی پہلے تو بوکھلا کر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا جیسے اطمینان کر رہی ہوں کہ ہمیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا پھر نطریں چرا چرا کر برا کی طرف دیکھنے لگیں۔ میں سمجھ گیا تھا کہ وہ واقعی دکان پر جاتے ہوئے شرماتی ہونگی غیر مردوں سے اپنے اندر پہننے والی چیزیں لیتے ہوئے۔ مگر پچھلے کچھ مہینوں کے دوران میں ایک اچھا سیلز مین بن چکا تھا، اور عورتوں کو برا دکھانے کا کافی تجربہ بھی ہوگیا تھا۔ میں نے سب سے پہلے ایک کالے رنگ کا ہی فوم والا برا اٹھایا اور آنٹی کی طرف کھسک کر بیٹھ گیا، وہ میں نے آںٹی کے سامنے کیا اور آنٹی کو دکھاتے ہوئے بولا، یہ دیکھیں آنٹی یہ بہت اچھی چیز ہے۔ بہت سوفٹ ہے اور اسکے اندر فوم بھی لگا ہوا ہے جس سے سائز تھوڑا بڑا محسوس ہوتا ہے اور خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اب کی بار آںٹی کے ہاتھ کانپتے ہوئے لگ رہے تھے، انہوں نے کانپتے ہاتحوں سے میرے ہاتھ سے برا پکڑا اور اسکو بغور دیکھنے لگیں، مگر انکے چہرے سے پریشان واضح ہورہی تھی۔ میں نے پھر آنٹی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا آپ نے پہلے بھی کالے رنگ کا برا ہی پہن رکھا ہے، یہ رنگ تو آپکے پاس ہے۔ آپ یہ رہنے دیں، سرخ رنگ میں دیکھ لیں، یہ کہ کر میں نے انکے ہاتھ سے برا پکڑ لیا اور سرخ رنگ کا فوم والا برا اٹھا کر انہیں پکڑا دیا۔ آنٹی نے ہچکچاتے ہوئے کہا میرا سائز تو پہلے ہی بہت بڑا ہے اس سے تو اور بھی بڑا نظر آئے گا۔۔۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا نہیں آنٹی آپکا سائز تو آئیڈیل ہے، مردوں کو یہی سائز پسند ہوتا ہے اور اگر تھوڑے بڑے بھی لگیں گے تو بھی برے نہیں لگیں گے بلکہ آپکی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ یہ سن کر سلمی آنٹی زیر لب مسکرائیں اور بولیں اچھا تم کہتے ہو تو مان لیتی ہوں مگر مجھے تو لگتا ہے کہ میرا سائز ضرورت سے زیادہ بڑا ہے۔ سلمی آںٹی کی ہچکچاہٹ آہستہ آہستہ کم ہورہی تھی۔ پھر میں نے کہا آنٹی پہلے آپ یہ پہن کر چیک کر لیں پھر میں آپکو اور بھی دکھا دیتا ہوں۔ آنٹی نے کہا نہیں پہننے کی کیا ضرورت ہے، بعد میں دیکھ لوں گی نہ۔ میں نے کہا ارے آنٹی فائدہ کیا پھر اپنی دکان ہونے کا۔۔۔ یہ تو آپ دکان سے جا کر بھی اس طرح بغیر دیکھے لا سکتی ہیں، اگر سائز بعد میں خراب نکلے تو چیج کرنا پڑتا ہے۔ اب میں آیا ہی ہوا ہوں تو آپ پہن کر چیک کرلیں اگر مناسب ہو تو ٹھیک نہیں تو میں کوئی اور دکھا دوں گا۔ میری بات سن کر آنٹی نے سوچا کہ سلمان کہ تو صحیح رہا ہے۔ یہی سوچ کر وہ سرخ رنگ کا فوم والا برا لے کر اٹھیں اور اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ کمرے میں جا کر آنٹی نے دروازہ اندر سے بند کر لیا اور تھوڑی دیر کے بعد باہر آئیں تو اب انکی قمیص کے نیچے کالے کی بجائے سرخ رنگ کا برا نظر آرہا تھا۔ آنٹی میرے قریب آئیں تومیں نے پوچھا آنٹی کیسا لگا برا؟؟؟ آںٹی نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ٹھیک ہے، مگر مجھے لگ رہا ہے کہ اس سے سائز اور زیادہ بڑا لگنے لگا ہے۔ میں نے آنٹی کے مموں کو گھورتے ہوئے کہا ارے نہیں آنٹی، یہ تو بہت خوبصورت لگ رہا ہے آپ پر۔ انکل باسط تو آپکا یہ سرخ رنگ کا برا دیکھیں گے تو لٹو ہوجائیں گے آپ پر۔ میری بات سن کر آنٹی شرماتے ہوئے بولیں، چل بدمعاش۔۔ پھر میں نے آنٹی سے پوچھا، آنٹی سائز تو ٹھیک ہے نا اس برا کا؟؟؟ آںٹی نے کہا ہاں بیٹا ٹھیک ہے۔ میں نے پوچھا اور کوئی الجھن وغیرہ یا فٹنگ کا کوئی مسئلہ تو نہیں؟؟ آنٹِ نے کہا نہیں بیٹا بالکل صحیح ہے، کوئی مسئلہ نہیں۔ پھر میں نے آنٹی کو ایک نیٹ کا برا دکھایا۔ یہ ہلکے نیلے رنگ کا برا تھا جس کے اوپری حصے پر جالی دار نیٹ لگی ہوئی تھی۔ اس برا میں سے مموں کا اوپر حصہ واضح نظر آتا تھا جبکہ نپل اور اس سے نچلا حصہ ڈھکا رہتا تھا میں نے آںٹی کو برا پکڑایا اور کہا آنٹی یہ بھی چیک کرلیں۔ آنٹی نے میرے ہاتھ سے وہ برا پکڑا اور اسکو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگیں، پھر بولیں اس میں سے تو نظر آئیں گے۔۔ میں نے کہا جی آنٹی، یہ بہت سیکسی برا ہے، اثر خواتین میرے سے نیٹ کا برا لے کر جاتی ہیں۔ میری بات سن کر آنٹی آہستہ آواز میں بولیں، ہاں مگر تمہارے انکل سیکسی نہیں ہیں نہ۔ آنٹی نے یہ بات بڑی آہستہ آواز میں کہی تھی مگر میں نے سن لی، مگر میں انجان بنا رہا اور آںٹی سے پوچھا، آنٹی آپ نے مجھ سے کچھ کہا؟؟؟ آنٹی بولیں نہیں بیٹا کچھ نہیں۔ میں یہ چیک کر لیتی ہوں۔ آنٹی ایک بار پھر اپنے کمرے کی طرف جانے لگیں تو اس بار میں بھی آنٹی کے پیچھے پیچھے برا اٹھا کر چل پڑا۔ آنٹی دروازہ بند کرنے لگیں تو مجھے دروازے پر ہی دیکھ کر بولیں کیا بات ہے؟؟ میں نے کہا آنٹی آپ بار بار قمیص اتاریں گی، پھر برا پہن کر قمیص دوبارہ پہنیں گی، پھر دوبارہ سے باہر آکر دوسرا برا لیں گی، میں یہیں کمرے کے باہر ہی کھڑا ہوجاتا ہوں، آپ برا پہن کر چیک کریں، جو ٹھیک لگے وہ رکھ لیں، اور پھر وہ اتار کر مجھے سے دوسرا برا مانگ لیں، میں باہر سے ہی آپکو پکڑا دوں گا اس طرح آپکا وقت بچے گا۔ آنٹی نے کہا یہ ٹھیک ہے۔ اور دروازہ بند کر لیا۔ کچھ دیر کے بعد دروازہ کھلا تو آنٹی نے ایک ہاتھ باہر نکال کر برا میری طرف بڑھایا اور بولیں یہ ٹھیک نہیں، کافی تنگ ہے کوئی اور دکھاو۔ میں نے آںٹی کا گورا گورا بازو دیکھا اور ایک لمحے کے لیے سوچا کتنا مزہ آئے اگر میں یہ بازو پکڑ کر آنٹی کو ایسے ہی باہر کھینچ لوں، مگر میں نے فورا ہی اس خیال کو اپنے ذہن سے جھٹک دیا۔ اور ایک اور نیٹ کا برا جو پنک کلر کا تھا آنٹی کی طرف بڑھا دیا۔ آنٹی نے وہ برا پکڑا اور پھر سے دروازہ بند کر لیا۔ تھوڑے انتظار کے بعد دروازہ کھلا اور آنٹی نے کہا بیٹا اسکا سائز بالکل ٹھیک ہے، اور میں نے شیشے میں دیکھا ہے ، یہ اچھا بھی لگ رہا ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے آنٹی وہ اتار کر آپ ایک سائیڈ پر رکھ دیں میں آپکو اور برا پکڑاتا ہوں۔ آنٹی نے ٹھیک ہے کہ کر برا اتارنا شروع کیا، مگر اس بار وہ شاید دروازہ بند کرنا بھول گئی تھیں۔ میں نے تھوڑا سا آگے ہوکر ڈرتے ڈرتے اندر جھانکنے کی کوشش کی تو آنٹی کی کمر میری طرف تھی، انکے دونوں ہاتھ پیچھے کمر پر تھے اور وہ اپنے برا کی ہک کھول رہی تھیں۔ کیا چکنی اور خوبصورت کمر تھی آنٹی کی، دیکھ کر مزہ آگیا تھا، نیچے شلوار میں انکے بڑے بڑے چوتڑ بہت ہی خوبصورت لگ رہے تھے ، دل کر رہا تھا کہ ابھی آگے بڑھوں اور ان چوتڑوں کی لائن میں اپنا لن پھنسا دوں۔ آنٹی نے برا اتار کر سامنے پڑی میز پر رکھ دیا اور واپس مڑنے لگیں۔ جیسے ہی آنٹی واپس مڑیں، میں ایکدم سے پیچھے ہوگیا اور ایسے ادھر ادھر دیکھنے لگا جیسے مجھے کچھ پتا ہی نہ ہو۔ پھر آنٹی کا دوبارہ ایک بازو باہر آیا اور آنٹی نے کہا بیٹا اور کونسا برا ہے وہ بھی دکھا دو۔ میں نے ایک اور برا جو کاٹن کا تھا اور سکن کلر کا تھا وہ آگے بڑھا دیا، آنٹی نے کلر دیکھ کر کہا بیٹا یہ کلر تو پڑے ہیں پہلے بھی میرے پاس۔

Posted on: 07:09:AM 13-Dec-2020


137 4 3862 6


Total Comments: 6

hot story: hot storu.


Abdullah Sheikh: اس کہانی کو 8 مرتبہ پڑھا ہے ہر دفعہ ایک الگ ہی مزہ اتا ہے.


chodu: ab to mn soch rha hon bra wli dukan khol lon.


Asad: Ager koi girl ya aunty mujh se apni felling share karna chahti hai.ya Good Friendship Love and Romantic Chat Phone sex Ya Real sex karna chahti hai to contact kar sakti hai 0306_5864795


qamar monir: sir ik story cheaya.

Admin:- Kon si jnab?


Khan: برا والی دوکان Ya adhi ha puri kidhar se Mile ge

Admin:- Pori story hy jnab next page pr click kren



Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 59 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com