Stories


انیتا چچی از کھوکھر 1

نامکمل کہانی ہے

انیتا چاچی روم صاف کرنے آئی تھی. میں یوںہی آنکھیں بند کر کے پڑا رہا. رات کو پورن دیکھتے دیکھتے دو بار مٹھ مار چکا تھا اس لئے تھک گیا تھا.

چاچی میرے کمپیوٹر ٹیبل کو صاف کر رہی تھی. تبھی مجھے یاد آیا کی میں نے جس نیوز پیپر میں موٹھ ماری تھی اس کو وہی پر چھوڑ دیا تھا
چچي نے وہ کاغذ اٹھایا اور نیچے پھیںک دیا. میری جان میں جان آئی تبھی چچي پیچھے مڑی اور انہوں نے کاغذ پھر سے اٹھا لیا

سارا مال تو سکھ چکا تھا مگر سوکھے مال کے داغ اور اسمے سے آتی نمکین خوشبو یہ بتانے کے لئے کافی تھے کی وہ کیا ہے. چچي نے ایک دم سے اسے پھیںک دیا اچانک مجھے دیکھا اور کمرے سے باہر نکل گئی. میری گاںڈ بھی پھٹ رہی تھی اور ہنسی بھی آ رہی تھی

میرا نام شيل ہے، فرسٹ اير میں ہوں اور اپنی عمر کے سب لڑکوں جیسے مہا ٹھرکی ہوں. آج تک صرف کمپیوٹر پر پورن دیکھ دیکھ کر مٹھ ہی ماری ہے اور کچھ کیا نہیں تھا. شروع سے ہی تھوڑا گاںڈ پھٹ ہوں اور سکول میں بھی چپ چاپ ہی رہا کرتا تھا کیونکہ میں هكلاتا ہوں. کہی کسی لڑکی سے بات ہی نہیں کر پایا. اسکول میں ریا جو میری کلاس میں تھی، اسے پسند کرتا تھا مگر کبھی بات بھی نہیں کی.

ابھی چچي کے جانے کے بات میری گاںڈ پھٹنے لگی کی کہیں چچي موم، پاپا یا چاچا کو دھن نہ دے. روم سے باہر آیا تو کوئی بھی نہیں تھا. چچا اور پاپا دکان پر جا چکے تھے.
موم مندر گئی ہوگی اور چچي شاید نہا رہی تھی.

میں نے سوچا کہ بات دبا ہی لیتے ہیں. تبھی چچي آ گئی

چچي: ارے شيل چائے پیےگا کیا؟
میں:  ہا چ چ چچي

چچي: کیا ہوا تجھے؟ (میں جب بھی غصے میں یا نروس ہوتا ہوں تو هكلانے لگتا ہوں)
میں: نہ نہ نہیں ایک ایک کچھ نہیں

میں: وہ چ چ چچي ..... م م میرے روم میں ...... اور اور وہ کاغذ تھ تھ تھا نا ....... اور اور وہ س س ساری.

شاید وہ کچھ سمجھی نہیں. تبھی ان کو کلک ہوا کی میں موٹھ والے کاغذ کی بات کر رہا ہوں

چچي: (پیشانی پر غصہ لا کر بولی) دیکھ شيل یہ گندے غلط کام مت کیا کر. پڑھنے لکھنے کی عمر ہے. پڑھ لے نہیں تو تیرے چچا جیسے دکان کی غلامی ہی کرتا رہ جائے گا
میں نے چین کی ٹھنڈی سانس لی اور سر جھکا کے بولا کی اب نہیں کروں گا چچي. چچي نے سویٹ سے سمائیل دی اور کہا  چل میں چاے بنا دیتی ہوں.
تبھی موم آ گئی اور بولی کی چچي بھتیجے میں صبح صبح کیا کھچڑی پک رہی ہے. چچي نے کچھ نہیں کہا اور مجھے چائے دے دی.

کالج میں میرے زیادہ دوست نہیں تھے. سب بھےنچود میرے هكلے پن کا مذاق بناتے تھے اس لئے میں تھوڑا رسادور ہی رہتا تھا. آج کالج کے لئے نکلا تو بس چھوٹ گئی اور مجھے پیدل جانا پڑا. لیٹ تو ہو ہی گیا تھا سوچا کینٹین میں کچھ کھا لوں. میں گھسا اور مجھے نوجوت اور اس کا گینگ دکھ گیا. میں چپ چاپ سائیڈ میں جاکے بیٹھ گیا اور سر جھکا کے بک دیکھنے لگا. تبھی

نوجوت: اے هكلے ......... ابے او هكلے ........ ادھر آ
میں (نروس ہوکے): ایک ایک کیا ہوا؟

نوجوت: ادھر آ لوڈو

میں گیا اور ان کی میز کے پاس کھڑا ہو گیا:

نوجوت: چل گانا سنا

ہوا یوں تھا کی کالج میں میرے فرسٹ ڈے کو جب ہم سب کی رےگگ لی گئی تھی تو مجھے کہا گیا کی "سلامے عشق میری جان" گانا گاو. اس دن نروس ہونے کی وجہ سے میں بہت هكلايا تھا اور نوجوت جو کہ میرے سے 2 سال سینئر تھا ان سب کا لیڈر تھا. اس نے میری عزت دھول میں ملا دی تھی اور سب جان گئے تھے کی میں ہکلا ہوں

میں: ساری میرا گلا خراب ہے
نوجوت: سالے لوڈو گاتا ہے یا دوں گاںڈ پے لات.

اور اس نے میرے چھوٹے سر پر ہاتھ مار دیا، چٹاك کی آواز آئی. دل تو ایسا کیا کہ سالے کا خون کر دوں. اس نے دوبارہ ہاتھ اٹھایا ہی تھا.

تبھی کینٹین میں کچھ لڑکیاں آئیں ان میں سے ایک لڑکی جو پںک کلر کے سوٹ میں تھی، کھلے ہوئے سنہرے بال، سونے اور دودھ کی ملاوٹ کا رنگ. ایک ہاتھ میں چوڑياں اور گاںڈ میں بلا کی لچک. وہ براہ راست ہماری ٹیبل کے پاس آئی اور نوجوت سے بولی

بھیا، میری گاڑی پنکچر ہو گئی ہے. کیا آپ مجھے ساتھ میں گھر لے چلیں گے

نوجوت: ارے پیا کہاں ہوئی پنکچر؟ گاڑی کہاں ہے؟

(او تو اس کا نام پیا ہے اور یہ اپسرا اس مادرچود کی بہن ہے)

پیا: کالج میں ہی ہے بھیا. یہ لو چابی
نوجوت: ارے وکی، یہ لے چابی اور گھر چھوڑ دینا

نوجوت جانے لگا اچانک مڑا اور مجھے بولا کہ پھر سنیں گے تیرا گانا تان سین ...... پیا نے بھی میری طرف دیکھا. ہماری نظریں ملیں اور اس نے معافی سے بھری ایک ہاف سمائیل دی. اور چلی گئی
رات کو خواب میں میں نے دیکھا کی چاچی میرے روم کو صاف کر رہی ہے مگر انہوں نے ساڑہی نہیں پہنی ہوئی ہے. بلاوز میں  ان کے بوبس ہل رہے ہے اور پیٹیکوٹ میں ان کی گاںڈ کا شیپ صاف نظر آ رہا ہے. پھر وہ میرے پاس آئی اور آہستہ آہستہ میرے لںڈ پر ہاتھ پھیرنے لگی. تبھی میری نیند کھلی اور پجامے میں ہی میرا مال نکلنے لگا. میں نے فٹافٹ  کاپی میں سے ایک پیج پھاڑا  اور لںڈ کو صاف کر لیا اور واپس سو گیا.

صبح کسی کے ہلانے سے میری آنکھ کھلی. دیکھا تو چاچی تھی اور کافی غصے میں لگ رہی تھی.

میں: کیا ہوا چاچی؟؟
چاچی: کل ہی سمجھایا تھا نا؟ کیا ہے یہ؟ اس کاغذ کی طرف اشارہ کر کے انہوں نے پوچھا

میں: او او وہ میرا نہیں ہے.
چاچی: مطلب کوئی اور آکے رکھ گیا ہے کیا؟

میں: نہ نہ نہ نہیں وہ اپنے آپ ہو گیا تھا
چاچی: مطلب؟

میں: نہ نہ نہ نیند میں ہو گیا تھا چاچی نے نہیں کیا
چاچی: ایسا کوئی ہوتا ہے کیا؟ جھوٹ مت بول.

میں: نہ نہ نہیں چاچی میں نے خ خ خواب دیکھا اور اپنے آپ ہو گیا. م میں نے تو اس سے صرف صاف کیا تھا
چاچی: ایسا کیا خواب دیکھا؟

اب میری بولتی پوری طرح سے بند.
فٹافٹ ریڈی ہوا اور گھر سے نکل لیا. چاچی کو منہ نہیں دکھایا

کالج میں گھسا اور باغ میں بیٹھا تھا تبھی میں نے دیکھا کی نوتوج کی بہن، اپسرا سی خوبصورت پیا ایک لڑکے سے باتیں کر رہی ہے. میری گاںڈ سلگنے لگی کہ بھن چود ایسا مال مجھے کیوں نہیں ملتا.

اکاؤنٹ کی کلاس میں میں نے دیکھا کی وہ بھی بیٹھی تھی. میں نے اپنے پاس والے سے پوچھا بھائی یہ ابھی نیو ایڈمشن کہاں سے آیا. وہ بولا ابے سردار پرتاپ سنگھ کی بیٹی ہے.
فاينل ایگزام کے پہلے بھی آتی تو ایڈمشن مل جاتا. میں اکاونٹ میں لائق تھا اور جو سر ہمیں اکاؤنٹ پڑتے تھے، وہ نہ جانے کیوں مجھ سے نرمی سے پیش آتے تھے
شاید میرے مارکس اچھے آتے تھے اور پھر میں ان کی نظر میں سیدھا سادہ ہکلا تھا.

کلاس ختم ہوئی اور سب نکل لئے. مگر پیا رک کے سر سے باتیں کرنے لگی. میں جا ہی رہا تھا کی سر نے مجھے آواز دی اور بلا لیا.

سر: یہ پیا ہے. لیٹ ایڈمشن ہے اس لئے سٹارٹنگ کے تینوں پرچے مس کر چکی ہے. تمہارے نوٹس وغیره اسے دے دینا.

میں نے کچھ بولا نہیں صرف سر ہلا دیا. پھر سر کے جانے کے بعد تھوڑا دھیرے دھیرے بغیر هكلايے اس سے بولا کہ کل دیتا ہوں تاکہ اس کے سامنے عزت بچ جائے. وہ بھی تھینکس بول کے نکل لی.

گھر پہ گیا تو آنکھوں میں پیا کا ہی چہرہ گھوم رہا تھا. ڈاينگ ٹیبل پر بیٹھا تھا اور ٹی وی دیکھا تھا تبھی چاچی وہاں پر جھاڑو مارنے لگی. میں چاچی کو بولنے ہی والا تھا کی میری نظر چاچی کے بلاوز پر گئی.  سانولے سلونے دونو بوبس زور زور سے ہل رہے تھے. شادی کے 5 سال بعد بھی انہیں بچہ نہیں ہوا تھا اس لئے آج بھی کڑک تھی. ابھی تک میں نے ان کو اس نظر سے دیکھا نہیں تھا پر خواب میں مال نکل دینے کے بعد سے میری نظر بدل گئی تھی.

تبھی وہ سیدھی ہوئی. میں نے فوری طور پر نظر ٹی وی کی طرف کر لی. چاچی نے اپنے دھیان سے گلے کا پسینہ پونچھا اور اچانک اپنی چوت کی سائیڈ میں کھجانے لگی.

میرا ماحول بننے لگا. اچانک انہوں نے مجھے دیکھا اور اپنا ہاتھ ہٹا لیا. چاچی کو شاید غصہ آ گیا تھا کیونکہ ان کے ماتھے پر دوبارہ شکن آ گئی تھا. میں وہاں سے چپ چاپ نکل گیا

اگلے دن کالج میں اکاؤنٹ کے لیکچر کے بعد پیا میرے پاس آئی اور بولی

پیا: ہاے
میں: ےس پآ ہاے

پیا: نوٹس لائے ہو تم

ماں کی چوت ..... میں نوٹ گھر پر بھول آیا تھا.

میں: س س سوری ..... کل دیتا ہوں

اس کا چہرہ تھوڑا اتر گیا. قسم سے اتنی كيوٹ اور سیکسی لگ رہی تھی کی بس پکڑو اور .......... میں نے اپنے سر جھٹکا اور اس کو بائی بول کے نکل آیا.

رات تو گھر لیٹ پہنچا. سب سو چکے تھے میرے پاس میں گھر کے ڈور کی چابی رہتی ہے. بغیر آواز  ڈور کھول دیا اور اپنے روم میں جانے لگا تبھی چاچی کے کمرے سے کچھ آواز آئی ان کا روم اور میرا روم پاس پاس ہے اور ان کے درمیان میں ایک ڈور تھا جو اب بند کر دیا ہے، میں اپنے روم میں گیا اور کان لگا کے سننے لگا

چاچی: ممم سنو نہ ..... اے جی .... سو گئے کیا؟
چچا: ہمم کیا ہے؟

چاچی: یہاں آؤ نا
چچا: کیا ہے نيلو؟

چاچی: دیکھو نا مجھے یہاں پر آج کل بہت کھجلی ہوتی ہے
چاچی: نيلو گرمی میں ریش آ جاتا ہے. کریم لگا لے.

میں سمجھ گیا تھا کی چاچی کو کہاں کھجلی ہو رہی ہے. میں نے ڈور کی دڑار میں دیکھنے کی کوشش کی اور ایک شگاف سے ان کا بیڈ نظر آنے لگا. چاچی نے سامنے سے اوپن ہونے والا گاؤن پہنا تھا اور میرا چچا چڈی میں تھا.

چاچی: ارے دیکھو تو صحیح کی مجھے ہوا کیا ہے؟ اتنی کھجلی کیوں ہوتی ہے؟
چچا: نيلو سو جا یار. دن بھر دکان میں گاںڈ مرانے کے بعد مجھ میں اتنی طاقت نہیں کی تیرا چیک اپ کروں.

چاچی: ممم دیکھو نا جی. ایسی کھجلی ہو گی تو نیند نہیں آے گي

سالی مجھے بولتی ہے کی گندی غلط کم مت کر اور یہاں پر .....

چچا: نيلو پلیز یار
چاچی گون کھولتے ہوئے: دیکھو نا جی ....... کیا ہوا اے. دن بھر کھجلی ہوتی رہتی ہے. کیا آپ کو بھی وہاں پر کھجلی ہوتی اے.

یہ بول کر چاچی نے چچا کے چڈی میں ہاتھ ڈال دیا اور چچا کے لنڈ کو سہلانے لگی. سالی چاچی تو بہت گرم ہے.

چاچا نے هنكار بھری اور چاچی کو کس کرنے لگا. چاچی کے منہ سے مم مم کی آواز صاف آ رہی تھی. چاچا نے اس گاؤن کو کھول دیا اور چاچی کے گول مموں کو ہاتھ پھیرنے لگا. بچہ چاہے نہ ہوا مگر میری چاچی کے ممے اتنے شاندار ہو اس کا مجھے اندازہ نہیں تھا. سالی لیٹی ہوئی تھی پھر بھی اس کے بادام جیسے نپپل الگ ہی دکھائی دے رہے تھے. اچانک میرے چچا نے چڈی کھولی چاچی کا گاؤن کھولا. میں تو چاچی کی چوت بھی نہیں دیکھ پایا اور میرا چچا اس کی ٹانگوں کے بیچ میں بیٹھ گیا. بس چاچی کی موٹی موٹی جاںگھیں دکھ رہی تھی. میں نے اپنا لنڈ باہر نکال لیا اور مٹھ لگانے لگا.

چاچی: ممم مجھے اور کس کرو نا. ان کا خیال کون رکھے گا (اپنے ممے اپنے ہاتھوں میں لے کر بولی)

چچا نے اپنا تھوک لںڈ پر لگایا اور سیدھا ہی چاچی کی چوت میں ٹھوک دیا. چاچی کے منہ سے آہ نکل گئی. چچا کی بال بھری گاںڈ زور زور سے ہلنے لگی.
دس پندرہ دھکے مارے اور چچا سانڈ جیسا هنكارنے لگا.

چاچی: نہیں ابھی نہیں. . پیچھے سے ڈالو آ اه. نہیں نا نا آہ

چاچا تو ان سنی کر کے دھکے مرتا گیا اور ایک دم اس کا جسم اکڑا اور چاچا نے اپنا مال چھوڑ دیا.

چاچی: یہ کیا کیا آپ نے؟ اوه مجھے ہر بار ایسے ہی چھوڑ دیتے ہو. مجھے اور زور سے کھجلی ہو رہی

چاچا نے اپنے لںڈ کو صاف کیا اور چاچی کی طرف پیٹھ کر کے سو گیا. چاچی کے ساتھ تو سین ہو گیا. کہاں تو ڈؤگی میں چودنے کا بول رہی تھی اور کہاں دس دھکے میں کہانی ختم.

میرا لںڈ میرے ہاتھ میں ہی تھا. میں کبھی اپنے لںڈ کو دیکھتا اور کبھی بیچاری چاچی کو.

چاچی کی چوت نظر نہیں رہی تھی. مگر میں نے دیکھا کی ان کا ہاتھ دھیرے دھیرے اس کی چوت کی طرف گیا اور وہ اسے رگڑنے لگی. ان کے منہ سے پھر سسکاری چھٹي اور میرا لںڈ پھر تننے لگا. چاچی کا ایک ہاتھ سے اپنے مموں کو دبا رہی تھا، ان نپپلز ان کی انگلیوں کے درمیان تھے. واو کیا سین تھا.

میں نے ابھی اپنا لںڈ زور سے ہلانا شروع کر دیا. چاچی کی سسکاریاں تیز ہوتی گئی اور میرے ہاتھ کی رفتار اور ان کی انگلیوں کا موشن فاسٹ ہوتا گیا.

اچانک انہوں نے زور زور سے سانس لینا شروع کر دیا اور ہ آہ اههو ...... اهه .... آہ ... کرنے لگی. چاچی کا اورگےزم ہو رہا تھا
میرا لنڈبھی کڑک ہونے لگا. میں نے ادھر ادھر دیکھا اور ٹیبل پہ پڑا ہوا کاغذ اٹھایا اور اس میں اپنے لںڈ ہلانے لگا. اچانک ایک سرسري اور گدگدی کا ملا جلا احساس ہوا اور میرے لںڈ نے پانی چھوڑنا شروع کر دیا. مگر یہ کیا ....... پہلی دھار زور سے نکلی اور ہوا میں اڑ کے ڈور پہ جا گری. پھچ پھچ کرکے پانی نکلتا ہی رہا. میرا سر پیچھے ہو گیا آنکھیں بند ہو گئی ..... او  ..... یس.

میں نے کاغذ فولڈ کر کے وہیں رکھا اور بستر پے پڑ گیا. واو اتنا مزہ آج تک نہیں آیا تھا.
صبح نیند کھلی تو دس بج چکے تھے. 10.30 پر تو کالج ہی تھا.  تیار ہوا بکس اٹھائیں اور پرانے نوٹس بھی اٹھا لئے. پیا کے لئے

چاچی ناشتہ لگا رہی تھی. پر میں جانے لگا تو بولی

چاچی: ، ناشتا کر لے.
میں: نہیں چاچی لیٹ ہو گیا ہوں.

چاچی کے پاس آکے مجھے بٹھاتے ہوئے: ناشتہ نہیں کرے گا تو طاقت کس طرح آئے گی. اب تو جوان ہو گیا ہے

کل رات کی   جو مال نکلا تھا وہ تو کاغذ پھر سے کمپیوٹر ٹیبل پر ہی چھوڑ دیا تھا.
کہیں پھر سے چاچی نے وہ کاغذ تو نہیں دیکھ لیا. میری گانڈ پھٹی.

میں: چ چ چاچی ...... وہ ....... م میرا مطلب ہے کی وہ کاغذ ...... آئی م ساری ...... اب نہیں ہو گا

 مسکراہٹ کے ساتھ بولی: کونسا کاغذ ... اچھا وہ والا .....

میں نے سر نیچے جھکا لیا.

چاچی: اب تو کالج جانے لگا اے جوان ہو گیا ہے .... چلتا ہے مگر تھوڑا کنٹرول رکھا کر ..... روز روز کوئی کرتا ہے کیا؟

میں نے جھٹکے سے سر اٹھایا، چاچی آہستہ  سے مسکرا رہی تھی. تبھی انہوں نے وہ کیا جس سے میرے دماغ میں هتوڑے پڑنے لگے

اچانک وہ اپنی ٹانگوں کے درمیان کھجلی کرنے لگی یہ کرتے ہوئے  مجھ سے باتیں بھی کر رہی تھی. مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کی وہ کیا بول رہی ہے. میرا سارا دھیان ان انگليوں کے کھیل پر تھا.

چاچی:  تو سن رہا ہے نا؟ شام کو جلدی آ جانا
میں: یس پآ ہاں چ چ چاچی

چاچی: اچھا تو لیٹ ہو رہا ہے. جلدی کر نہیں تو بس نہیں ملے گی.

اور جھک کر میری پلیٹ اٹھائی. ہائے کیا نظارہ دکھا. ان دونوں مموںکو جو بلیک برا میں قید تھے اور ہمیشہ کی طرح انہوں نے کافی ٹائیٹ بلاوز پہنا تھا جس کی وجہ سے ان کے ممے ابھر کے باہر نکل رہے تھے. مموں کے درمیان وادی پوری اندر تک دکھ رہی تھی. میرے بدن کی نسیں گرم ہو گئیں اور وہیں میرا ماحول بن گیا. جینز میں جیسے تیسے ایڈجسٹ کیا. چاچی مجھے وہ ہی بےشرمي بھری مسکراہٹ سے دیکھے جا رہی تھی. بڑی مشکل سے میں نے بکس سمیٹیں اور کالج کے لئے بھاگا.
انیتا چاچی جن کو پیار سےنيلو کہتے ہیں. میرے چچا کی بیوی. گزشتہ سال ہی گاؤں سے آئی تھی. جب گاؤں میں سیلاب آنے سے سب تباہ ہو گیا اور چچا سڑک پہ آ گیا تو میرے پاپا نے ان کو شہر بلا لیا اور اپنے ساتھ دکان پہ لگا لیا. میرا بنیا باپ بہت سیانا ہے. دوکان کے دو نوكروں کی چھٹی کرکے ان کا مکمل کام میرے چاچا سے ہی کراتا تھا، شاید اسی لئے میرا چچا اتنا تھک رہتا تھا کی نيلو کی کھجلی نہیں مٹا پا رہا تھا. بیچاری کو شادی کے 5 سال بعد بھی بچہ نہیں تھا.
سانولے رنگ میں ڈھلی اس .  ناک جیسے چونچ ہو، كٹيلي بھویں، تھوڑے بھرے بھرے ہونٹ اور اس کے اوپر ایک تل.

گاؤں سے آئی چاچی کو ڈؤگی پوزیشن میں کرنا پسند ہے یہ سوچ سوچ کے میرا سانپ پھر پھن اٹھانے لگا.

پیا گاڑی کو بریک لگا کر کالج میں داخل ہوئی. اکاؤنٹ کا لیکچر ختم ہو چکا تھا. تبھی سامنے سے آتی پیا نظر آئی. اس نے سفید شرٹ اور بلو جینز پہنی تھی، بال کھلے تھے، قیامت دکھ رہی تھی. وہ آئی اور

پیا: ہیلو ... میرے نوٹس لائے ہو نہ
میں: ےس پآ ہاے (سالا یہ هكلاپن). جی ہاں یہ لو.

پیا: تھینكس. تمہیں جلدی تو نہیں چاہئے.
میں: نہ نہ نہیں. ا ا آپ آرام سے کاپی کر لو.

پیا: یہ آپ کو آپ کیا لگا رکھا ہے. ارے ہم دوست ہے. اتنے فارمل مت بنو
میں: تھ تھ ٹھیک ہے ..... ا ا آپ .... میرا مطلب ہے کی تم کو اب تم کہوں گا

وہ ہنسی اور اس کے گلابی ہونٹوں کے درمیان میں اس کے موتی جیسے دانت چمک اٹھے. تبھی میں نوٹس کیا کیا کی اس کے ہونٹوں کے اوپر ایک تل ہے. ایسا ہی ایک تل چاچی کے ہونٹوں پر بھی ہے. چاچی کی یاد آتے ہی میرا دماغ ان کی رات کی اور صبح کی باتیں یاد کرنے لگا. تبھی پیا بولی

پیا: ارے کہاں کھو گئے. آج لیٹ کیسے ہو گئے. کلاس میں تو نظر آئے ہی نہیں آج.
میں: ےس پآ ہاں م میں وہ .....

پیا (شرارتی مسکراہٹ کے ساتھ بولی): پارک میں گرل فرینڈ کے ساتھ تھے

میں تو ایک دم گھبرا گیا اور میرا منہ لال ہو گیا

میں: م م میری کوئی gf نہیں ہیں.
پیا: اچھا پورے کولیج میں ایسا کوئی لڑکا یا لڑکی نہیں جس کا کوئی سین نہیں ہے

میں: س س سچ میں نہیں ہے. ا ا قسم سے.
پیا: اٹس اوکے یار. ویسے تو میرا بھی نہیں پر بولنا یہی پڑتا ہے، کی کوئی ہے. بھائی کے ڈر سے سب دور ہی رہتے ہیں.
اچھا چلو مجھے جانا ہے بائی

آج مجھے اپنے هكلے ہونے پر جتنا غصہ اور شرم آئی کی کیا بولو.
گھر پہ پہنچا تو مکمل گھر خالی تھا. اپنی چابی سے دروازہ کھول کے جب اندر گیا اور آواز لگائی تو چاچی کے کمرے سے
آواز آئی

چاچی: کون ہیں؟
میں: جی ہاں چاچی ...... سب کہاں گئے؟

چاچی: ارے صبح بولا تو تھا کی سب مندر میں جائیں گے. رچھوڑ داس جی کے بھجن ہیں.

اب میں کیا بولو کی صبح میرا دھیان کہاں تھا.

چاچی: میں کپڑے دھو کر آتی ہوں. کھانا ریڈی ہے.
میں: ارے چاچی ... میرے کپڑے بھی دھو دیے کیا؟

چاچی: نہیں .... لا دے ... جلد.

میں روم میں گیا اور اپنی جینز، ٹی شرٹ اور انڈرویر اٹھائی. جیسے ہی باتھ روم میں گھسا میری ساںسیں رک گئی.
چاچی گاؤں والو کی طرح اكڑو بیٹھ کر کپڑے دھو رہی تھی، ان کو واشنگ مشین میں کپڑے دھونا نہیں آتا تھا. آنچل گرا ہوا تھا اور ایسے بیٹھنے کی وجہ سے ان کے بوبس مچل مچل کے باہر آ رہے تھے. انہوں نے ساڑہی گھٹنوں کے اوپر تک اٹھا رکھی تھی جس سے ان کی پانی سے بھیگی ہموار جانگھیں چمک رہی تھی.

میں: یہ لو چ چ چاچی
چاچی: سارے کپڑے لے آیا نا؟

میں: جی ہاں .. جینز ... ٹی شرٹ .... اور یہ ........ (کہہ کر مینے انڈرویئر بھی رکھ دی)
چاچی: یہاں رکھ دے ...... (پھر وہ ہی ٹیڑھی مسکراہٹ کے ساتھ بولی) .... انڈرویر کی حالت تو کاغذ جیسے نہیں کر رکھی؟

میرے تو کان گرم ہو گئے.
میں: نہ نہ نہیں چاچی

چاچی: سن ...... یہ ساڑی درست کر دے نا.

وہ اپنے ڈھلکا ہوا آنچل کی طرف اشارہ کر رہی تھی. میں نے کاںپتے ہوئے ہاتھوں سے ان آنچل جو ان کے کندھے سے گر گیا تھا اسے پھر سے کندھے پر رکھنے لگا تبھی وہ تھوڑا سا مڑی اور میرا ہاتھ ان  مموں سے ٹکرا گیا.
چاچی آہستہ آہستہ مسکرا رہی تھی. پھر بولی

چاچی: ا .... یہ بالٹی بھی خالی کر کے دے دے نا.

میں نے بالٹی اٹھائی اور مڑا. فرش ہموار ہونے سے میرا بیلنس نہ رہا اور بالٹی میرے ہاتھ سے چھوٹ کر ٹھیک چاچی کے پیچھے گر گئی. ان کا مکمل پچھواڑا گیلا ہو گیا.

چاچی: ہائے رام یہ کیا کیا. میری پوری ساڑی گیلی ہو گئی.

اور وہ کھڑی ہوکر ساڑی کو جھٹكنے لگی.

چاچی: کیا کرتا ہے ...... اندر تک پانی چلا گیا ..... سارے کپڑے دھو رکھے ہے ... میرے پاس تو الماری میں دوسرا پیٹیکوٹ بھی نہیں ہے.

کہہ کر انہوں نے ساڑی کھولنا شروع کر دی. میرے سامنے میری کھجلی والی چاچی بغیر آنچل کے .. اور .... بھیگی ہوئی ....... ساڑہی کھول رہی تھی. میری جینز میں خیمہ تن چکا تھا. تبھی جیسے اسے ہوش آیا بولی

چاچی:  .. باہر جا. دیکھتا نہیں میں کپڑے تبدیل کر رہی ہوں

میں هكلاتا ہوا ساری بولتا ہوا باہر آکے کھڑا ہو گیا.

چاچی: میرے سارے کپڑے گیلے کر دیئے . اب میں کیا پہنوں؟ جا جاکے میرے روم میں کوئی بلاوز ملے تو لے آ.

میں نے جاکے دیکھا مگر کچھ نہیں تھا. تبھی مجھے چاچی کا نائیٹ گان دکھا. مکمل شفاف تھا.

میں: یہ لو چاچی.
چاچی: اندر مت آ. باہر سے ہی دے دے.

میں نے دیا اور چاچی اندر ہی چلائی

چاچی:  اور کچھ نہ ملا کیا؟
میں: چاچی مجھے اور کچھ نہیں دکھا ..... آپ ہی تو بولی کی سارے ہی کپڑے دھو دیئے.

چاچی: ہائے رام یہ تو بہت مختصر ہیں. ارے باہر کا دروازہ بند ہے نا؟ ایسے میں بھابھی اور بھائی صاحب آ گئے تو.
میں: چاچی میں كنڈی لگا دیتا ہوں.

میں جیسے ہی مڑا چاچی باتھ روم سے باہر آئی اور اپنے روم کی طرف بھاگی. گاؤن سامنے سے کھلا ہوا تھا اور اندر وہ صرف برا اور پیںٹی میں تھی. بھیگنے سے ان کا گاؤن مکمل ہی شفاف ہو گیا تھا. کالی برا اور پھول کی پرنٹ والی پیںٹی صاف صاف دکھائی دے رہی تھی. ان کے ممے دوڑنے کی وجہ سے زور زور سے ہل رہے تھے اور ان کے بھرے بھرے گول گول ممےک اندر باہر آنے کے لئے مچل رہے تھے. انہوں نے اپنے روم میں گھس کر دروازہ بند کر لیا اور زور زور سے ہنسنے لگی. میرا دماغ خراب ہو گیا
میرا سانپ پھنكارے مار رہا تھا، مجھ سے رہا نہیں گیا میں  روم میں گیا اور صبح کے نيوذپیپر کو کھول کر ٹیبل پار رکھا، جینز اتاری اور اپنا لنڈ ہلانے لگا. جوش کی وجہ سے میری آنکھیں بند ہو گئی تھی. آج صبح سے ہی چاچی نے مجھے اتنا گرم کر دیا تھا کہ رکنا مشکل تھا. بار بار چاچی کے بھیگے بدن کی تصویر میری آنکھوں کے سامنے آ رہی تھا.
میرا نکلنے والا تھا. تبھی بھڑاك سے میرے روم کا دروازہ کھلا اور چاچی اندر آ گئی.

چاچی: چل  .. ساڑی مل گئی اور کھانا لگا دیا ہے ..... آج دال ...... ہاے رام یہ کیا .....

میرا مال نکلنا شروع ہو گیا ..... میںنے اپنے لںڈ ہاتھ میں چھپانے کہ کوشش کہ مگر اس میں سے پھچ پھچ .... ..... دھار چھٹتي
ہی جا رہی تھی. کچھ اڑ کر چاچی کے پیروں کے پاس بھی گری. چاچی کی آنکھوں گول گول ہو گئی تھی اور وہ کبھی مجھے اور کبھی دھار پہ دھار مارتے میرے لںڈ کو دیکھ رہی تھی. اچانک جیسے انہیں ہوش آیا اور وہ باہر چلی گئی.

میں نے اسی کاغذ سے لںڈ کو پوچھا. میری گاںڈ پھٹپھٹي کی طرح پھٹ رہی تھی. بیٹا آج تو گئے. باپ جلاد ہے .... مار مار کے گاںڈ سجا دے گا اور ماں مارے شرم کے مار جائے گی. میں سر جھکا کے باہر گیا.

میں: چ چ چ چاچی ........

چاچی میری طرف مڑی. ان کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا. ان کی وہ تیکھی ناک كونو سے پھولی ہوئی تھی. یا تو وہ غصے میں تھی یا ان کو بھی مستی آ گئی تھی.

چاچی:  ...... حد ہوتی ہے ..... تو بہت بگڑ گیا ہے ...... بھابھی اور بھائی صاحب کو پتہ چلا کی تم پڑھائی چھوڑ کر یہ سب
حركتیں کرتا ہے تو ان کر کیا گزرےگي؟ ایسی عادات کی وجہ سے ہی تیرے چچا کا یہ حال ہے. جو آج تک باپ نہیں
بن پائے

میں: چ چ چاچی پلیز مجھے معاف کر دو م م ماں اور  پاپا کو مت بولنا. اب میں کبھی موٹھ نہیں ماروںگا.
پلیز چاچی پلیز

چاچی ایک دم سے خاموش ہو گئی. پھر سے ان کے چہرے پہ وہ ہی ٹیڑھي مسکراہٹ ہلکے ہلکے آئی

چاچی:  ....... میں یہ نہیں کہتی کی بالکل مت کر. پر روز روز کرنا تو غلط ہے. کمزوری آ جائے گی. کل تیری
شادی ہو گی، پھر کیا کرے گا. بیوی کو خوش نہیں رکھے گا تو ادھر ادھر جھاكےگي. مرد بنے گا کہ گوالا؟

میں: ٹھ ٹھ ٹھیک ہے چاچی ...... توجہ رکھوں گا .....

چاچی: یہ لے کھانا کھا لے ....

میں: چاچی .... یہ روٹی پر کتنا گھی لگایا ہے؟ ؟ مجھے اتنا گھی مت دو
چاچی  مسکراہٹ کے ساتھ بولی: ارے  ...... گھی نہیں کھاتا ہے تو طاقت کس طرح آئے گی. گھی ہی تو دھات بنتی ہے.

میں: کیا؟
چاچی: وہ ہی جو تم روز ادھر ادھر ..... كاغذ میں اڑاتے کرتے ہو.

ماں قسم ...... ابھی مٹھ ماری تھی اور چاچی کی  مسکراہٹ اور ایسی باتیں سن کر سانپ نے پھن اٹھا ہی لیا. میں نے ایڈجسٹ کرنے کے لئے نیچے ہاتھ لگایا اور چاچی بولی

چاچی: لو اب گھی کھایا بھی نہیں اور پھر نکالنے چلے؟

میں نے گھبرا کے ہاتھ اوپر کر لیا اور چاچی زور زور سے ہنسنے لگی. انہوں نے پھر وہیں پر کھڑے کھڑے میرے سامنے ہی اپنی ٹاںگو کے درمیان کھجانا شروع کر دیا. میں ادھر ادھر دیکھنے لگا. تبھی چاچی بولی

چاچی: ارے  .... بہت پریشان ہو گئی ہوں ..... میری اس کھجلی کے مارے ...... کوئی کریم وریم لا دے نا ..... کھجلی مٹتی ہی نہیں.

میرے سر میں هتھوڑے چلنے لگے. سارا جسم سن ہو گیا بس لںڈ دھڑک رہا تھا. چاچی اب بھی مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی. تبھی بیل کی آواز آئی ماں - پاپا آ چکے تھےمیں کھانا کھا کے سیدھا روم میں گھس گیا. سر چکرا رہا تھا کی یہ آج کل ہو کیا رہا ہے ..... چاچی نے کبھی ایسے نہیں کیا تھا .... اور نہ ہی میں نے ان کو اس نظر سے دیکھا تھا.
مگر آج کل جب بھی میں ان کو دیکھتا تو وہ مجھے ہی دیکھ رہی ہوتی اور دھیما دھیما مسکرا رہی ہوتی. سالے چچا سے اس كھاج مٹ نہیں رہی اسی لئے چاچی دوسرا راستہ دیکھ رہی تھی. یہ سوچ کر مجھے تھوڑا کانفیڈنس آ گیا. چلو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ......

سوچتے سوچتے کب نیند لگ گئی پتا ہی نہیں چلا. اچانک میرا سیل بجنے لگا اور میں جھٹکے سے اٹھا. گھڑی میں 12 بجے تھے. میں نے نمبر دیکھا. انجانا نمبر تھا.

میں: یس ی ہیلو ....
فون پر: ہیلو ..... ؟

میں: ے ے یس ....... ؟
فون پر: اس کا مطلب تم نہیں پہچانے ....

میں: نہ نہ نہیں؟
فون پر: بھول گئے ...... روز بس سٹاپ پر ملتے ہو ....... اس دن مجھے سمايل بھی دی تھی .... میرا نمبر مانگا تھا اور اپنا نمبر دیا تھا

میں کنفیوز ہو گیا. کون ہے یہ؟ ڈالی شرما سے آج تک بات نہیں کی وہ بھےنچود تو نكچڑي ہے ....... یہ ہیں کون؟ ؟

میں: دی دی دیکھئے ..... میں ا ا آپ کو نہیں جانتا ....... اور نہ ہی میں نے میرا نمبر آپ کو دیا تھا.
فون پر: پھر آپ ...... تم سے کہا تھا نہ آپ کو نہیں بولنا ......

میں: پیا ..... تم ہو؟
پیا: کھل کھلا کے ہنستے ہوئے: ہاں یار ..... کیا تم بھی .....

میری تو اڑ کے لگ گئی. خود اپسرا یہ مٹی کے مادھو کو فون کرے .........

میں: پر تمہیں میرا نمبر دیا کس نے؟
: کہیں سے بھی ملا ..... تم مطلب ....... ارے وہ لائبریری کے کارڈ پر لکھا تھا. میں نے محفوظ کر لیا تھا کی کبھی کام پڑا تو ......

میں: اتنی رات کو کس طرح فون کیا .....
پیا: اتنی رات کو مطلب ...... ارے جناب ابھی تو 12 ہی بجے ہے ... كونسا تم کو نیند میں سے اٹھا دیا. ارے تم سوئے تھے کیا؟

میں: ےس پآ ہاں ... نہ نہ نہیں وہ ....
پیا: یار ساری ... مجھے لگا کی میں لیٹ سوتی ہوں تو سب لیٹ سوتے ہوں گے ....

میں: ارے نہیں نہیں ..... بولو نہ .... کیا ہوا؟
پیا: یار ..... وہ نوٹس نہ ...... مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آ رہا ہے ....... نیكسٹ منتھ تو سیمسٹر کی ایگزام ہی ہیں ...... اب میں کیا کرو ؟

میں: ا ا کیا سمجھ نہیں آ رہا؟
پیا: دیکھو ..... میں نے لیسٹ شیٹ بنا لی ........ ٹریڈنگ اکاؤنٹ بنا لیا .... مگر پروفٹ ان لوس بنایا تو کل نہیں ملتی

میں نے سر ٹھوک لیا. اس پاگل کو جب یہی نہیں پتہ تو گھنٹہ اکاؤنٹ میں پاس ہو گی. میں نے تھوڑی دیر اس کو سمجھایا مگر وہ سب اس کے سر کے اوپر سے چلا گیا.
آخر میں نے اس کو بولا.

میں: پیا ..... تمہارے تو بنیادی ہی نالج نہیں ہیے،
پیا: ہاں یار ..... میں نے سائنس سے کامرس میں سوئچ کیا تھا نا ..... اب کیا ہوگا ..... 15 دن کے لئے کوئی ٹیوشن بھی نہیں ملے گی اور ملی بھی تو بیس کہاں سے آئے گی.

میں چپ تھا ..... مگر میرے دماغ میں کیڑا كلبلانے لگا تھا.

میں: پیا ... تم گھر پر کسی پرايوےٹ ٹیوٹر سے پڑھ لو؟
پیا: ارے پر ابھی ملے گا کون یار؟؟؟ ایک منٹ ........ تم بھی تو پڑھ سکتے ہو ....

میرا دل ہائی جمپ مار رہا تھا. پہلے تو میں نے ڈرامہ کیا پھر آہستہ سے مان گیا.

میں: ٹھیک ہے، تم کل شام کو میرے گھر آ جاؤ ........ پانچ بجے ٹھیک ہیں؟
پیا: یار ... وہ کیا ہے کے بھائی کو تم جانتے ہو ....... وہ آنے نہیں دے گا ..... کیا تم میرے گھر پر آکے نہیں پڑھ سکتے؟

اگر گاںڈ پھٹنے سے آواز آتی ہوتی تو تیز آواز میری گاںڈ پھٹنے کی آتی. میں اس ساڈ نوجوت کے سامنے تو پھٹكتا نہیں تھا ..... اس کے گھر جانا تو موت کو گلے لگانے جیسا تھا ..... پیا مجھے منانے لگی اور میں چوتيا اس کی باتوں میں آ گیا
سنڈے تھا. اس لئے آرام سے اٹھا. چائے پی کر ٹی وی دیکھ رہا تھا کی چاچی آئی اور بولی

چاچی:  وہ کریم لایا کیا؟
میں: کون سی کریم؟ اچھا وہ ..... ہاں وہ والی. سامنے ہی رکھی ہے ...... چاچی وہ دوائی والے نے کہا ہے کی اس کو لگانے کے بعد ....

اور میں جھجھكنے کی ایکٹنگ کرنے لگا ......

چاچی: لگانے کے بعد کیا؟ بول نا ...
میں: اور اور وہ .... وہ آپ مت پہننا ..

چاچی: کیا؟ ساڑی؟ دھن نہ ؟
میں: اور وہ پیںٹی .... م م مت پہننا ..... ایسا بولا دوائی والے نے.

چاچی: اوف او ........ ارے  وہ تو میں دو دن سے انہی نہیں پہن رہی ..... اتنی کھجلی چلتی ہے. پیںٹی پہنتی تو اب تک
چھیل جاتی میری ..........

میری وہاں پر حالت خراب ہو گئی ....... چاچی مجھے مسکرا کر دیکھ رہی تھی اور میں کالی داس ان آدھے ڈھلکا آنچل میں مچلتے ممممے اور ساڑی کی طرف سے نظر اتی ان کی ناف کو دیکھے جا رہا تھا. میری سانسیں تیز ہو گئی تھی .......... تبھی وہ بولی

چاچی:  .... کیا بیٹھے بیٹھے سوفے توڑ رہا ہے، چل میری مدد کروا دے. پانی کی ٹنکی صاف کرنی ہے. تیری چھٹی ہے اور آج
پانی بھی نہیں آئے گا ٹنکی پوری خالی ہے.

اب چاچی بولے اور میں انکار کر دوں یہ ممکن ہے کیا ....... میں چپ چاپ چاچی کے ساتھ چھت پر گیا اور سیدھا ٹنکی میں اترنے لگا.

چاچی: ارے ... یہ کپڑے گندے نہیں ہو جائیں گے کیا؟ پھر مجھے ہی دھونا پڑیں گے ...... یہ پجاما اور ٹی شرٹ کھول اور پھر اندر جا.

یہ کہہ کر وہ پھر وہ ہی دھیما دھیما مسکرانے لگی.

میں نے چاچی سے اآنکھیں ملاتے ہوئے اپنی ٹی شرٹ کھولی .... اندر کچھ بھی نہیں پہنا تھا ...... میرے سینے پر بال اگ چکے تھے ......
روز جم لگانے سے کندھے اور سینہ بھی  کسرتی ہو گیا تھا. چاچی بولی

چاچی: ہاے رام ......  تو تو مکمل گبرو جوان ہو گیا ہے رے ...... جب شادی ہو کر آئی تھی تب تو لڑکیوں جیسی آواز تھی
تیری اور ویسے ہی دیکھتا تھا. ایک دم چکنا ....... مگر اب تو پہلوان نظر آنے لگا ہے.

میرا لن پھنكاري مارنے لگا تھا. صبح صبح کی ٹھنڈی ہوا ....... میرا ننگا سینہ اور چاچی کی گرما گرم باتیں.

میں نے ان کو تھوڑا چھیڑا ...

میں: تو کیا چاچی ..... تب تو آپ کی لڑکی جیسی دکھائی دیتی تھی ..... اب تو آنٹی ہو گئی ہو
چاچی: رام ..... رام ...... آنٹی؟ کیوں رے ؟ میں آنٹی جیسی کہاں سے لگنے لگی؟

میں نے ہمت کی اور ان ابھرے ہوئے مموں کی طرف اشارہ کر دیا ......

چاچی آنکھیں ٹیڑہی کر کے  بولی: ہیں ....... اتنے بھی موٹے نہیں ہوئے کہ آنٹی بولو .......

یہ کہہ کر وہ اپنے ہی ممے دبا دبا کر دیکھنے لگی ..... جیسے جتانا چاہ رہی ہو کی ان کے ممے آج بھی سڈول ھوں .... کوئی بھی ان کو دیکھتا تو سب سے پہلے ان کے ہونٹوں کے اوپر کا وہ تل ہی دیکھتا اور پھر سیدھی نظر ان کے گول گول ابھرے ہوئے مموں پر ہی جاتی ... ..... چاچی اچھی خاصی گداز ہوئی تھی ....... ممے بھی ایسے تھے کی بلاوز سے باہر ہی نکلنے کو بےتاب رہتے ...... کمر اس قدر نشہ آور تھی کی نظر اس پر رک نہیں پاتی اور ان کی ناف پر ہی جاکے کر روكتي.

میں: چاچی ...... آپ کے پیچھے سے دیکھتا نہیں ..... مگر سچی بہت بڑھ گئے ہے یہ ....
چاچی: تو تو یوںہی کہتا ہے  ..... مجھے چڑا رہا ہے نا؟ میں کوئی موٹی تھوڑی نہ ہوئی ہوں؟

کہہ کر تھوڑی مایوس سی شکل بنا لی.
میں نے همت کی اور آگے بڑھ کر ان مموں پر ہاتھ ركھا اور دباتے ہوئے بولا ......

میں: ے ے یہ دیکھو ..... ے ے یہ جو ہے نا ...... یہاں پر تھوڑا سا موٹاپا دکھتا ہے. اتنا گوشت ہونے سے ا ا ا اپ م م موٹی
دکھتی ہو.

میں مسلسل ان کے مموں کو اپنے ہاتھوں سے ناپ رہا تھا. وہ  میری طرف ہی دیکھ رہی تھی ...... ان کی آنکھیں تھوڑی سے نشیلی ہو گئی تھی ..... میں ہاتھ ان کی کمر پر لگایا اور بولا

میں: ا ا اب ح کہ جیسے یہاں پر ....... ا ا کم گوشت ہے ........ پر آپ کے  کے پچھواڑے اور (پھر ہاتھ ان کی موٹی موٹی جاںگھوں پر پھرا کر بولا) اور آپ کے یہاں پر تھوڑا موٹاپا آ گیا ہے ......... اور ..... یہ جو ہے نا ..... (کہہ کر ان کی گاںڈ مسكانے لگا)
یہاں پر ہی آپ کو دیکھ کر کوئی ب ب ب بول سکتا ہے
ماں نیچے سے آواز لگا رہی تھی.

ماں: نيلو ارے او نيلو

میں نے تو ماں کی آواز سنتے ہی گھبرا کر ہاتھ چاچی کے مموں  سے ہٹا دیا. مگر چاچی کے چہرے پر شکن تک نہیں آئی انہوں نے اوپر کھڑے کھڑے ہی ماں کو بتایا کہ وہ ٹنکی دھلوا رہی ہے اور آدھے گھنٹے میں نیچے آئے گی. یہ بول کر میری طرف مڑی اور بولی

چاچی: چل .... مجھے تو تنے آنٹی بنا ہی دیا .... اب تو ٹنکی دھو لے ......
میں ٹنکی میں اترنے لگا اور چاچی پھر سے میرے پجامے کی طرف اشارہ کر کے بولی

چاچی: ارے .... اس کو تو کھول  .....

میں نے ججھکتے ہوئے پجاما کا ناڑا كھيچا اور اس کو نیچے اتار کر کھڑا ہو گیا. میں نے جوكي کا انڈرویر پہنا تھا. چاچی کے بدن کا موٹاپا بتانے کے چکر میں لن کھڑا ہو گیا تھا ..... چاچی کے ماں سے بات کرنے کے دوران وہ تو پھر سے بیٹھ گیا تھا مگر کچھ  نے سیدھا وہی پر دیکھا. میں اسے ہاتھوں سے چھپانے لگا مگر وہ بے عورت تو ایسے گھر گھر کر دیکھ رہی تھی جیسے بلی چوہے کو گھورتی ہے. ان کے چہرے پر وہ ہی ٹیڑہی  مسکراہٹ تھی. میں چپ چاپ ٹنکی میں اتار گیا. ہماری ٹنکی بہت بڑی ہے، اسے صاف کرنا تھا مگر کچھ دن پہلے ٹنکی میں پانی دیکھنے کے چکر میں ماں کی ایک سونے کی چوڑی بھی اس میں گر گئی تھی. ٹنکی میں پانی تو ذرا سا تھا مگر نیچے گندگی ہونے سے کچھ دکھ نہیں رہا تھا، میں نے چاچی سے ٹارچ مانگی، وہ تو سب سامان ساتھ لائی تھی. میں نے ٹورچ لی اور اسے نیچے گھما گھما کر تلاش شروع کر دیا، تبھی چاچی نے کچھ کہا اور میں نے ٹنکی میں سے اوپر دیکھا.

ٹنکی کا منہ ذرا سا تھا، اور چاچی اس کے دونوں اور پاؤں کر کے کھڑی تھی. دونوں پاؤں کھل جانے سے ساڑی جھول گئی تھی. میں نے ان کی ٹاںگو کے درمیان دیکھا،  گھٹنوں تک دکھ رہی تھی. میں نے ٹورچ اوپر کی اور اس کا فوکس چاچی کی ٹاںگو کے درمیان کر دیا اور نظارے کا مزا لینے لگا. میری نظر ایک کیڑے کی طرح ان کے پیروں پر  چلی گئی. جیسے میں نے بتایا ان کی ٹاںگیں بہت ہی چکنی تھی ...... انکی جاںگھیں صاف صاف نظر آ رہی تھی ..... چاچی سانولی تھی مگر ان کی ٹاںگے ہموار ہونے کے وجہ سے گوری گوری لگ رہی تھی. تبھی میں نے توجہ سے دیکھا .... ان کی دائیں ران پر کچھ لکھا تھا ..... میں نے توجہ سے دیکھنے کی کوشش کی تو دکھا کی وہ ٹیٹو تھے. چاچی نے ران پر کچھ لکھوا رکھا تھا. میں نے گاؤں کے لوگو کو اکثر ہاتھوں پر اپنا یا بھگون کا نام گدوايے ہوئے دیکھا تھا مگر ران پر ...... ؟؟؟ کیا لکھا ہے سوچتے سوچتے میری نظر اور اوپر اٹھی اور میری نس نس سنسنانے لگی.

چاچی کی چوت وہ، جو میں نہ ہی دروازے کی آڑ سے جب وہ چچا سے ٹھكوا رہی تھی اور نہ ہی جب وہ کپڑے دھو رہی تھی، نہیں دیکھا پایا تھا. وہ چوت میری نظر کے سامنے تھی.
انہوں نے صحیح میں پیںٹی نہیں پہنی تھی.

چاچی مستی میں اپنی دونوں ٹانگیں چوڑی کر کے ٹینک کے منہ پر کھڑی تھی اور میں ٹینک کے اندر سے ٹورچ ان کی ساڑی کے اندر مار کر وہ نظارہ دیکھ رہا تھا جو کسی سنياسي کو بھی حق دار بنا دیتا. بھلے چاچی سانولی تھی مگر ان کی چوت کا ساولاپن مدہوش کر دینے والا تھا. چوت کے بالوں سے بھری ہوئی تھی ......... چاروں طرح جھانٹیں اس طرح اگي ہوئی تھی جیسے کھیت کی حفاظت میں باڑ لگی ہو. ان کی چوت کے دونوں ہونٹ تھوڑے تھوڑے سے کھلے اور باہر آئے ہوئے تھے. جیسے ہی ٹورچ کی روشنی اس پر پڑی وہ چمکنے لگی پہلے تو میں نے سوچا کے یہ کیا ہے؟ پھر مجھے سمجھ میں آیا کی چاچی کی موٹی موٹی گاںڈ دبانے سے ان کی چوت پنيا گئی ہے اور رس نکلنے لگی ہے. میرے دل میں آیا کے ہاتھ بڑھا کر چوت کو چھو لوں ...... مگر میں ٹھہرا گانڈپھٹ ..... بڑی مشکل سے اپنے آپ کو روکا، مگر لںڈ مہاراج اپنا سر اٹھا چکے تھے.
میں شش و پنج میں تھا. کہاں چھپاتا؟ تبھی چوڑی میرے پاؤں سے ٹکرائی اور میں نے چاچی کی چوڑی پکڑا دی ....... وہ جھکی اور مجھے ان کسے ہوئے ممے میرے چہرے کے ٹھیک اوپر جھولتے نظر آئے. سالی نے کھجلی کی وجہ سے پیںٹی نہیں پہنی تھی مگر برا کیوں نہیں پہنی یہ میری سمجھ سے باہر تھا
چاچی کے جھولتے ممے میرے چہرے سے مشکل سے 2 فٹ کی دري پر تھے. ان کی میٹھی سانس میرے چہرے سے ٹکرا رہی تھی. انہوں نے چوڑی لی اور خوش ہوکے بولی.
چاچی ...... یہ تو ماننا پڑے گا کی نظر تو تیری تیز ہے. بھابھی جی خوش ہو جائیں گے. چل اب باہر آ جا.
میں کیا بولتا اور کیا باہر آتا. اتنی سی دیر میں اتنا نظارہ دیکھ کر لنڈ اتنا کڑک ہو گیا تھا کی ٹراوزر میں خیمہ بن چکا تھا. ایک بڑا سا دھبہ سامنے کی طرف آ گیا تھا جو میرے تھوک ٹپكاتے لنڈ کی كارستاني تھی. میںنے چاچی کو ٹالا کہ آپ جاؤ میں آ رہا ہوں. پر وہ تو ضد نمبر ون تھی. مانی نہیں اور مجھے اوپر کھینچ لیا. میں باہر آ کے ان کے سامنے سر جھکا کے کھڑا ہو گیا. وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر بولی:
چاچی: ہاے رام ..... ٹنکی صاف کر رہا تھا کہ گندی؟؟
میں: نہ نہ نہیں چاچی ....... اور اور وہ ..... میں
میں اپنے کھڑے لنڈ کو ہاتھ سے چھپا رہا تھا اور وہ آنکھیں سکوڑ کر کبھی میرا چہرہ تو کبھی میرا لؤڑا دیکھ رہی تھی. تبھی پھر سے ماں کی آواز آئی چاچی نے میرے لنڈ سے بغیر نظریں هٹايے ماں سے کہاں کہ وہ آ رہی ہے اور مجھے مسکرا تی ہوئی گانڈ ہلا ہلا کر نیچے چلی گئی. مجھے ایسا لگا کہ شاید آج ان کی گانڈ زیادہ ہی لچک کھا رہی ہے. میں جاننا چاہتا تھا کی ان کی ران پر کیا نام گدا ہوا ہے
موبائل کی گھنٹی بجی. میں نے دیکھا تو دل نے جھٹکا کھایا ...... پیا کا فون تھا

Posted on: 01:08:AM 20-Jan-2021


0 0 131 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 11 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 74 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com