Stories


برا والی دوکان از رانا پردیسی

میں نے کہا کوئی بات نہیں آنٹی، آپ پہن کر تو دیکھیں ہو سکتا ہے یہ آپکو پسند آجائے۔ دراصل میں آنٹی کو دوبارہ دیکھنے کا چانس لینا چاہتا تھا، اسی لیے میں نے سوچا، ابھی آںٹی یہ پہن کر کہ دیں گی کہ نہیں کوئی اور دو، تو 2 بار مزید آنٹی کو دیکھنے کا چانس مل سکتا ہے، اور ہو سکتا ہے اس دوران آنٹی کے 38 سائز کے ممے بھی دیکھنے کو مل جائیں۔ ایک بات ماننے والی تھی کہ 40 سال کی عمر ہونے کے باوجود آنٹی کا جسم بہت سیکسی تھا۔ انہوں نے اپنے جسم کو نہ تو زیادہ موٹا ہونے دیا تھا اور نہ ہی انکا جسم لٹکنا شروع ہوا تھا، اس عمر میں عام طور پر پاکستانی خواتین یا تو بہت موٹی ہوجاتی ہیں، یا پھر انکا ماس لٹکنا شروع ہوجاتا ہے، مگر آنٹی کا جسم ایسا بالکل نہیں تھا۔ خیر آنٹی نے اب دوبارہ میرے ہاتھ سے سکن کلر کا برا پکڑ لیا تھا اور اس بار پھر پہلے ہی کی طرح انہوں نے دروازہ بند نہیں کیا تھا۔ جیے ہی آنٹی نے میرے ہاتھ سے برا پکڑا میں پھر سے آگے کو کھسکا اور آنٹی کے درشن کرنے کے لیے دروازے میں موجود تھوڑی سی جگہ سے آنٹی کا جسم دیکھنے کی کوشش کرنے لگا۔ جیسے ہی میں آگے بڑھ کر اندر دیکھنے لگا ، اس وقت آنٹی کا چہرہ میری جانب ہی تھا، مگر انکی نظریں اپنے ہاتھ میں موجود برا پر تھیں۔ اور وہ آہستہ آہستہ دوسری جانب مڑ رہی تھیں۔ اسی دوران میں نے خوش قسمتی سے آنٹی کے 38 سائز کے ممے دیکھ لیے ۔ واہ۔۔۔۔۔ کیا ممے تھے۔ دل کیا کہ انکواپنے منہ میں لیکر انکا سارا دودھ پی جاوں، مگر فی الحال مجھے جوتے کھانے سے ڈر لگ رہا تھا اس لیے میں نے اس خواہش کو دل میں ہی دبا لیا۔ اس عمر میں بھی آنٹی کے ممے چوسنے لائق تھے۔ گو کہ انکے مموں پر براون رنگ کا دائرہ کچھ زیادہ ہی بڑا تھا، اور انکے نپل بھی کچھ بڑے تھے، مگر وہ کسی بھی مرد کو اپنی طرف کھینچجنے کے لیے بہترین ممے تھے۔ اب آںٹی اپنا منہ دوسری طرف کر چکی تھیں اور سکن کلر کا برا پہن رہی تھیں، آنٹی کے دوسری طرف شیشہ ماجود تھا جو مجھے نظر نہیں آرہا تھا،برا پہننے کے بعد آنٹی نے اپنے آپ کو اس شیشے میں دیکھا، مگر شاید انہیں یہ برا پسند نہیں آیا تو انہوں نے وہ برا اتارا اور واپس مڑگئیں، اس دوران میں فورا ہی واپس پیچھے ہوکر کھڑا ہوگیا تھا۔ میں تو پیچھے ہوگیا، مگر میرا لن جو اس وقت میری شلوار میں تھا وہ کھڑا ہوکر اپنی موجودگی کا احساس دلانے لگا تھا۔ آنٹی ایک بار پھر باہر ہوئیں، یعنی اپنا بازہ باہر نکالا اور برا مجھے پکڑایا، اس دوران میں نے ایک اور برا آںٹی کو پکڑایا۔ اسی طرح ، 2، 3 برا مزید آنٹی نے چیک کیے۔ اس دوران دروازہ تھوڑا سا اور کھل گیا تھا اور اب میرے لیے اندز کا نظارہ پہلے سے بہت بہتر ہوگیا تھا۔ اب مجھے آنٹی کے سامنے موجود آئینہ بھی نظر آرہا تھا، اور جس وقت آنٹی اپنا برا اتار رہی تھیں اور دوسرا برا پہن رہی تھیں، اس دوران میں نے آںٹی کے مموں کا بڑی باریک بینی سے معائنہ کر لیا تھا اور انہیں دیکھ دیکھ کر اب میری لن کی بری حالت ہورہی تھی، میرے لن کی ٹوپی سے نکلنے والا لیس دار پانی اب میری شلوار کو گیلا کر رہا تھا مگر مجھے اسکی کوئی فکر نہیں تھی، مجھے تو اسوقت بس ممے دیکھنے کا شوق تھا۔ مختصر یہ کہ میں آںٹی سلمی نے ایک ایک کر کے سارے برا چیک کر لیے اور پھر ایک آخری برا جو میں نے انہیں دکھایا، وہ ہلکے پیلے رنگ کا تھا اور اسکے اوپر سرخ اور ہلکے نیلے رنگ کے چھوٹے چھوٹے پھول بنے ہوئے تھے۔ وہ برا پہن کر آنٹی نے اوپر سے قمیص پہنی اور پھر دوسرے 2 برا اٹھا کر کمرے سے باہر آگئیں۔ میں آنٹی کے آگے چلتا چلتا واپس پہلے والے کمرے میں اپنی جگہ پر بیٹھ گیا اور بیٹھنے سے پہلے اپنے لن کو پکڑ کر ٹانگوں کے بیچ دبا دیا۔ میرے پیچھے پیچھے آنٹی سلمی بھی آکر بیٹھ گئیں اور بولیں بس بیٹا یہ 3 برا ہی رکھوں گی۔ انکا بتا دو کتنے پیسے بنتے ہیں۔ میں نے کہا آنٹی آُ یہ بتائیں آپکو پسند بھی آیا ہے یا نہیں؟؟ آنٹی بولیں اچھے ہیں، سب اچھے ہیں، مگر مجھے بس 3 چاہیے، پہلے والے پھٹے پرانے ہیں، ان 3 سے 2 ماہ تو نکل ہی جائیں گے آرام سے۔ میں نے آنٹی کے مموں پر نظر ڈالتے ہوئے کہا، آنٹی مجھے تو یہی زیادہ پسند آیا تھا جو اس وقت آپ نے پہنا ہوا ہے۔۔۔ آنٹی نے چونک کر اپنے مموں کی طرف دیکھا اور یہ دیکھ کر تھوڑی شرمندہ ہوئیں کہ انکا برا قمیص سے نظر آرہا ہے، مگر پھر وہ بولیں ہاں یہ بھی اچھا ہے، باقی بھی اچھے ہیں۔ اب تم پیسے بتا دو۔ میں نے شاپر میں ایک بار پھر سے ہاتھ ڈالا اور کہا آنٹی یہ آپ نے انڈر وئیر بھی منگوائے تھے، انڈر وئیر بھی میں نے آںٹی کے ہاتھ میں پکڑا دیے، آنٹی نے انہیں کھول کر دیکھا اور بولیں ہاں یہ ٹھیک ہے سائز۔ میں نے آنٹی سے پوچھا آںٹی یہ تو آپ نے شمائلہ کے لیے منگوائے ہیں نہ، سائرہ کے لیے نہیں چاہیے؟؟ آںٹی نے کہا ہاں بیٹا یہ شمائلہ کے لیے ہیں، سائرہ ابھی چھوٹی ہے اسے ضرورت نہیں۔ میں نے کہ ٹھیک ہے آنٹی، آئندہ بھی کبھی آپکو اپنے لیے یا شمائلہ کے لیے برا یا انڈر وئیر چاہیے ہو تو بلا جھجک آپ مجھے کہ سکتی ہیں، دکان پر جا کر غیر مردوں سے لینے سے بہتر ہے کہ میں آپکو گھر پر ہی پہنچا دوں۔ یہ سن کر آنٹی نے کہا ہاں اسی لیے میں نے تمہیں کہا تھا اب زیادہ باتیں مت بناو اور یہ بتاو پیسے کتنے بنے؟ میں نے آںٹی کو پیسے بتائے، آنٹی نے کمرے میں جا کر پیسے اٹھائے اور لاکر مجھے دے دیے۔ میں سمجھ گیا تھا کہ آنٹی اب بغیر کچھ کہے مجھے یہ سمجھا رہی ہیں کہ اب تم جا سکتے ہو، میں نے بھی انکے سر پر سوار ہونا بہتر نہیں سمجھا اور ان سے پیسے لیکر انکو سلام کر کے واپس گھر آگیا۔ گھر آکر سب سے پہلے میں اپنے واش روم میں گیا اور آنٹی سلمی کے 38 انچ کے مموں کو یاد کر کرکے انکے نام کی ایک زبردست سی مٹھ ماری اور اپنے لن کو سکون پہنچایا۔ اگلے دن سے دوبارہ اسی طرح روز مرہ کی زندگی چلتی رہی اس دوران مختلف قسم کی عورتیں اور کبھی کبھار جوان لڑکیاں بھی دوکان پر آتیں اور میں انہیں ان کی پسند کے مطابق برا دکھاتا، وہ میڈیم جنکو میں نے پہلی بار برا فروخت کیا تھا، وہ بھی ایک بار پھر سے آئیں اور اس وقت حاجی صاحب اور میں دونوں ہی دکان پر تھے، مگر وہ سیدھی میرے پاس آئیں اور میں نے دوبارہ سے انہیں برا فروخت کیے، مگر اس بار وہ میری ڈیلنگ سے کافی خوش نظر آرہی تھیں ، انکے جانے کے بعد میں نے حاجی صاحب کو بھی بتایا کہ یہ میڈیم تھیں جنہیں میں نے پہلی بار برا فروخت کیے تھے، حاجی صاحب نے زیرِ لب مسکراتے ہوئے کہا میڈیم تو بہت ٹائٹ ملی ہیں تمہیں، میں انکی بات سن کر ہنسنے لگا اور کہا میڈیم نے پھینٹی بھی لگا دینی ہے میری۔ پھر حاجی صاحب اور میں اپنے اپنے کام میں مصروف ہوگئے اور کچھے عرصے تک کوئی خاص واقعہ پیش نہ آیا۔ اور زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی۔ پھر ایک دن جب میں دکان پر بیٹھا تھا باسط انکل دکان پر آئے اور انہوں نے حاجی صاحب سے کہا کہ اگر آپ برا نا منائیں تو آج سلمان کو چھٹی دے دیں، مجھے کچھ کام ہے اس سے۔۔ حاجی صاحب نے کہا کوئی مسئلہ نہیں بچہ بڑا محنتی ہے اور اس نے ابھی تک کوئی غیر ضروری چھٹی نہیں کی، اگر آپکو کوئی کام ہے تو آپ ضرور لے جائیں مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ باسط انکل نے حاجی صاحب کا شکریہ ادا کیا اور مجھے لیکر موٹر سائیکل پر اپنے گھر لے گئے۔ گھر گیا تو سامنے سلمی آنٹی میک اپ وغیرہ کر کے کہیں جانے کے لیے تیار بیٹھی تھیں۔ میں نے آنٹی کو سلام کیا اور باسط انکل کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ سلمی کو اچانک کبیروالا جانا پڑ رہا ہے، تو میں چاہتا ہوں تم ساتھ چلے جاو۔ وہاں انکی بہن کی بیٹی کی شادی کی تاریخ رکھنے کی رسم ہے تو انکا وہاں ہونا ضروری ہے، شام کو واپسی ہوجائے گی اور کل ویسے ہی جمعہ ہے تو تم چھٹی کر سکتے ہو۔ میں نے کہا ٹھیک ہے انکل کوئی مسئلہ نہیں کب چلنا ہے؟ میری بات پر آنٹی سلمی بولیں ابھی، میں تیار ہوں۔ میں نے آںٹی کو کہا ٹھیک ہے میں منہ ہاتھ دھو لوں اور گھر امی کو اطلاع دے دوں، پھرچلتے ہیں۔ انکل نے کہا ٹھیک ہے تم دونوں نے جب جانا ہوا چلے جانا، میں تو کام پر جا رہا ہوں۔ یہ کہ کر انکل چلے گئے اور آنٹی سلمی نے کہا تم منہ ہاتھ دھو آو، نہانا ہو تو نہا بھی لو، میں تمہاری امی کو فون کر کے بتا دیتی ہوں۔ میں نے کہا ٹھیک ہے آپ امی کو بتا دیں۔ یہ کہ کر میں واش روم چلا گیا، اور کپڑے اتار کر شاور کے نیچے کھڑا ہوگیا، میں نے سوچا آنٹی کی بہن کی طرف مہمان آئے ہونگے تو تھوڑا صاف ستھرا ہوکر جانا چاہیے یہی سوچ کر میں نے غسل کیا اور بال بنا کر باہر نکل آیا۔ کپڑے میرے نئے ہی تھی جو کسی فنکشن میں جانے کے لیے مناسب تھے۔ میں باہر آیا تو آںٹی نے بتایا کہ وہ امی کو فون کر کے میرے بارے میں اطلاع دے چکی ہیں، البتہ تم نے کھانا وغیرہ کھانا ہے تو بتاو، میں نے کہا نہیں آنٹی کھانے کے ضرورت نہیں بس نکلتے ہیں ہم۔ آنٹی نے شمائلہ اور سائرہ کو ساتھ لیا اور ہم رکشے میں بیٹھ کر بس سٹاپ تک گئے۔ وہاں آںٹی نے ایک لوکل بس کا انتخاب کیامگر میں نے آںٹی کو کہا لوکل بس بہت دیر لگا دیتی ہے ہم پنڈی اسلامآباد جانے والی بس میں چلتے ہیں آدھے گھنٹے میں ہم کبیروالہ ہونگے۔ آنٹی نے کہا ہاں یہ بھی ٹھیک ہے۔ پھر ہم ایک پنڈی جانے والی بس میں سوار ہوگئے جو چلنے کے لیے بالکل تیار تھی، مگر اس میں کوئی بھی خالی سیٹ نہیں تھی لہذا ہم بس کے بیچ میں جا کر کھڑے ہوگئے۔ 2، 3 منٹ بس رکی رہی تو کافی سواریاں اور بھی سوار ہوگئیں مگر کسی کے لیے بھی سیٹ دستیاب نہیں تھی۔ ہم جہاں جا کر کھڑے ہوئے وہاں ساتھ والی سیٹ پر 2 خواتین بیٹھی تھیں، انہوں نے سائرہ کو اپنے ساتھ کر لیا اب شمائلہ آنٹی کے ساتھ کھڑی تھی اور انکے پیچھے میں کھڑا تھا کچھ دیر بعد گاڑی چل پڑی اور 5 منٹ میں ہی ہم ملتان شہر سے باہر نکل چکے تھے۔ گاڑی کا ڈرائیور حسبِ عادت ہوا کے گھوڑے پر سوار تھا۔ گاڑی میں رش زیادہ ہونے کی وجہ سے سلمی آنٹی میرے کافی قریب کھڑی تھیں، برقع وہ پہنتی نہیں تھیں بس ایک بڑی سی چارد سر پر لی ہوئی تھی انہوں نے۔ اس دوران بریک لگنے کی وجہ سے ایک دو بار میں آگے کو ہوا تو سلمی آنٹی کے بدن سے میرا بدن ٹچ ہوگیا۔ نرم نرم ٹانگیں اور فوم کی طرح نرم انکے چوتڑ میرے جسم سے ٹکرائے تو میرے اندر ہلچل ہونے لگی۔ میں نے نیچے چہرہ کر کے سلمی آںٹی کی گانڈ دیکھی تو دیکھتا ہی رہ گیا، انکی کمر 32 انچ تھی مگر انکے چوتڑوں کا سائز 36" تھا جو کافی بڑا تھا۔ میری نظر انکے چوتڑوں پر پڑی تو مجھے آنٹی کے ممے بھی یاد آگئے جو میں نے آنٹی کے گھر میں ہی کچھ مہینے پہلے دیکھے تھے جب میں برا دینے کے لیے گیا تھا۔ سلمی آنٹی کی 36" کی گانڈ اور دیکھ کر اور انکے 38" کے مموں کے بارے میں سوچ سوچ کر میرا فوجی شلوار میں سر اٹھا کر کھڑا ہوگیا تھا اور سلمی آنٹی کی فوم جیسی گانڈ کو سلیوٹ کرنے کے لیے تیار تھا۔ حسبِ عادت میں نے بھی انڈر وئیر نہیں پہنا تھا جسی وجہ سے میری شلوار میں ہلکا سا ابھار نظر آنے لگ گیا تھا، میں کوشش تو کر رہا تھا کہ لن بیٹھا ہی رہے، مگر سلمی آنٹی کی گانڈ اسکو شاید اپنی طرف کھینچ رہی تھی اور وہ خود بخود انکی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں یہ سلمی آنٹی کے بدن سے نہ ٹکرا جائے اس لیے میں ان سے کچھ فاصلے پر ہوکر کھڑا ہوا مگر رش زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ فاصلہ بھی محض چند انچ کا ہی تھا۔ ڈرائیور کو شاید میری یہ حرکت پسند نہیں آئی اسی لیے اس نے ایک زور دار بریک لگائی مجھ سمیت ساری سواریاں آگے کی طرف ہوئیں، اور ایکدوسرے سے ٹکرانےلگیں، یہی وہ وقت تھا جب میرا فوجی بھی سیدھا سلمی آنٹی کے 2 پہاڑوں کے درمیان موجود وادی میں گھس گیا۔ میرا لن فل جوبن پر تھا اور جب سلمی آنٹی سے ٹکرایا تو مجھے انکے نرم نرم چوتڑوں کا احساس اپنی ٹانگوں پر ہوا، میرا سخت لوہے کا لن جب انکی گانڈ سے لگا تو یقینی طور پر انہیں بھی وہ محسوس ہوا ہوگا، میں فوری طور پر پیچھے ہٹا اور سلمی آنٹی کا کراکرا تھپڑ کھانے کے لیے تیار ہوگیا، مگر انہوں نے سرسری طور پر پیچھے مڑ کر میری طرف دیکھا اور پھر نیچے دیکھنے لگیں کہ انکی گانڈ میں کیا چیز آکر لگی، مگر پھر بغیر کچھ کہے دوبارہ سے آگے کی طرف دیکھنے لگیں۔
 پھر ایک اور بریک لگی اور میرا لن پہلے کی طرح دوبارہ سے سلمی آنٹی کے چوتڑوں میں گھسنے کی کوشش کرنے لگا اور میں جلدی سے پیچھے ہوکر کھڑا ہوگیا، ایک بار پھر سلمی آنٹی نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور پھر دوبارہ سیدھی ہوکر کھڑی ہوگئیں، مجھے ڈر لگنے لگا تھا اور میں دعائیں مانگ رہا تھا کہ میرا لن بیٹھ جائے، مگر پھر اچانک معلوم نہیں کیا ہوا کہ گاڑی کی بریک بھی نہیں لگی مگر میرا لن ایک بار پھر سلمی آنٹی کے چوتڑوں سے ٹکرا نے لگا۔ میں ایک جھٹکے سے تھوڑا سا پیچھے ہوا تو پیچھے کھڑے ایک آدمی نے مجھے ڈانتے ہوئے کہا کہ اپنے وزن پر کھڑے ہواور مجھے ہلکا سا آگے کی طرف دھکیل دیا۔ اب میرا لن سلمی آنٹی کی چوت سے کچھ ہی فاصلے پر تھا مگر پھر ایک بار دوبارہ سلمی آنٹی غیر محسوس طریقے سے پیچھے ہوئیں تو میرا لن دوبارہ سے انکے پہاڑ جیسے چوتڑوں کے بیچ موجود لائن میں گھس گیا، معلوم نہیں کیوں مگر اس بار میں نے پیچھے ہونے کی کوشش نہیں کی اور حیرت انگیز طور پر سلمی آنٹی نے بھی ایسے ہی کھڑی رہیں انہوں نے دوبارہ سے آگے ہونے کی کوشش نہیں کی۔ ابھی لن صحیح طرح سے سلمی آنٹی کی گانڈ میں نہیں گیا تھا، ایک بار دوبارہ سے بریک لگی تو اب میں سلمی آنٹی کے ساتھ جڑ کر کھڑا ہوگیا اور مجھے اپنے لن پر سلمی آںٹی کی گانڈ کا واضح احساس ہونے لگا، مگر سلمی آنٹی نے کوئی ری ایکشن نہ دیا اور ایسے ہی کھڑی رہیں۔ پھر میں نے غیر محسوس طریقے سے اپنا ایک ہاتھ اپنی قمیص کے نیچے کیا اور وہاں سے اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر اسکا رخ جو ابھی نیچے کی طرف تھا اسکو اٹھا کر سلمی آںٹی کے چوتڑوں کی طرف کر دیا۔ جب میں نے لن اٹھا کر اسکی ٹوپی کا رخ سلمی آنٹی کی گانڈ کی طرف کیا تو سلمی آنٹی تھوڑا سا کسمسائی مگر وہ اپنی جگہ سے ہلیں نہیں جس سے مجھے حوصلہ ہوا اور میں اب اسی پوزیشن میں کھڑا رہا۔ ڈرائیور کی مہربانی کے اس نے ایک بار پھر سے بریک لگائی اور میں پھر سلمی آنٹی سے جا ٹکرایا، گو کہ میرا لن تو پہلے ہی انکی گانڈ کو چھو رہا تھا مگر اب کی بار جو بریک لگی تو میرا سر بھی سلمی آنٹی کے کندھے تک گیااور میرے لن کی ٹوپی نے سلمی آنٹی کی گانڈ پر پریشر بڑھایا تو چوتڑوں نے سائیڈ پر ہٹ کر لن کو اندر آنے کی اجازت دے دی۔ اور شاید میری ٹوپی سلمی آنٹی کی گانڈ کے سوراخ پر بھی لگی جسکو انہوں نے محسوس کیا اور بالکل اسی لمحے جب میرا سر انکے کندھے پر جا کر لگا میں نے سلمی آنٹی کی ہلکی سے سسکی سنی۔ اس سسکی نے میرے لن تک یہ پیغام پہنچا دیا کہ آنٹی مست ہورہی ہیں تو اپنا کام جاری رکھ تبھی میں بے فکر ہوکر وہیں پر کھڑا رہا اور سلمی آنٹی نے اپنے چوتڑوں کو تھوڑا سخت کر کے میرے لن کی ٹوپی کو اپنے چوتڑوں کی لائن میں بھینچ لیا۔ مجھے اب اپنا لن انکی گانڈ میں پھنسا ہوا محسوس ہو رہا تھا، میں نے تھوڑا سا پیچھے ہوکر چیک کرنا چاہا کہ باہر نکلتا ہے یا نہیں، مگر سلمی آنٹی نے کمال مہارت سے میرا لن اپنے چوتڑوں میں پھنسا کر دبا لیا تھا، میں نے بھی کہا ٹھیک ہے جب آنٹی خود ہی مست ہوکر میرا لن سنبھال چکی ہیں تو مجھے کیا ضرورت ہے اسے باہر نکالنے کی۔ لہذا میں بھی ایسے ہی کھڑا رہا اور سلمی آنٹی کی گانڈ کے مزے لینے لگا۔ کچھ دیر بعد میں نے محسوس کیا کہ سلمی آنٹی کبھی اپنی گانڈ کو ڈھیلا چھوڑ رہی تھیں اور پھر دوبارہ سے اپنی گانڈ کو ٹائٹ کر کے اس میں لن کو دبا رہی تھیں۔ مجھے اس کھیل میں ابھی مزہ آنا شروع ہوا تھا کہ کمبخت ڈرائیور نے ایک بار پھر بریک لگائی اور ہم سب کھڑی سواریاں ایک بار پھر آگے کی طرف جھکیں اور پھر واپس پیچھے کی طرف ہوئیں تو اس دوران سلمی آںٹی کی گانڈ کی گرفت میرے لن پر کمزور پڑ گئی اور لن انکی گانڈ سے باہر نکل آیا، جیسے ہی ہم دوبارہ سنبھل کر کھڑے ہوئے، سلمی آنٹی نے ہلکی سی گردن گھما کر میری طرف دیکھا اور اندازہ لگایا کہ میں انسے کتنا دور کھڑا ہوں، پھر سلمی آںٹی خود ہی آہستگی سے پیچھے ہوئیں اور ایک بار پھر انہوں نے اپنے بھاری بھر کم چوتڑ میرے معصوم سے لن پر رکھ دیے، میں نے بھی موقع مناسب دیکھ کر دوبارہ سے قمیص کے نیچے ہاتھ کیا اور اپنے لن کا رخ آنٹی کی گانڈ کی طرف کر دیا۔ ایک بار پھر لوہے کے ہتھیار کے گرد سلمی آںٹی کی نازک اور نرم نرم گانڈ کا احساس ہونے لگا تو مجھے دوبارہ سے سلمی آنٹی پر پیار آنے لگا۔ لیکن چونکہ ہم بس میں تھے اس لیے زیادہ حرکت نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن میں اب اتنا سمجھ چکا تھا کہ سلمی آںٹی کی گانڈ میں اب میرا لن جلد ہی جانے والا ہے بس مناسب موقع کا انتظار کرنا ہوگا۔ کچھ دیر تک میں ایسے ہی کھڑے کھڑے اپنے لن پر سلمی آںٹی کے چوتڑوں کی مضبوط گرفت کے مزے لیتے رہا۔ لیکن پھر فورا سے ہی کنڈیکٹر کی آواز آئی جو کبیر والا کی سواریوں کو آگے آنے کو کہ رہا تھا، یہ سنتے ہی سلمی آنٹی نے اپنے چوتڑوں کی گرفت کو ڈھیلا کر دیا اور تھوڑا سا آگے ہوئیں جس سے میرا لن انکے چوتڑوں سے نکل گیا اور سلمی آنٹی نے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی ہوئی سائرہ کو باہر آنے کو کہا ۔ پھر ہم چاروں بس سے اتر گئے، اس دوران میرا لن بھی خطرے کو محسوس کرتے ہوئے دوبارہ بیٹھ گیا تھا، بس سے اتر کر ہم نے ایک رکشہ پکڑا اور 5 منٹ میں ہی سلمی آنٹی کی بہن کے گھر پہنچ گئے جہاں خاصے مہمان آئے ہوئے تھے اور انکی بھانجی کے سسرال والے بھی موجود تھے۔ سلمی آنٹی نے میرا بھی تعارف کروایا اور دوسری آنٹی جنکا نام سلطانہ تھا انہوں نے مجھے سر پر پیار دیا اور کچھ ہی دیر بعد جب سلمی آنٹی کی موجودگی میں انکی بھتیجی کی تاریخ رکھ لی گئی تو ہمیں کھانا کھلایا گیا، اور پھر سلمی آںٹی اپنی بہن اور بھتیجی کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے لگیں جبکہ سائرہ اور شمائلہ وہاں موجود اپنی ہم عمر کزنوں کے ساتھ کھیلنے میں مصروف ہوگئیں جبکہ میں ایک سائیڈ پر بیٹھ کر بوریت کو انجوائے کرنے لگا۔ اسی دوران میری آنکھ لگ گئی ، جب آنکھ کھلی تو سلمی آںٹی میرے پاس کھڑی مجھے سر سے ہلا کر اٹھانے کی کوشش کر رہی تھیں، اٹھ جاو سلمان بیٹا دیر ہورہی ہے ۔ یہ آواز سن کر میں نے آنکھیں کھولیں تو سلمی آنٹی نے کہا چلو اب واپس چلیں کافی دیر ہوگئی ہے ۔ میں بھی فورا ہی اٹھا اور کچھ ہی دیر میں رکشے کے ذریعے ہم دوبارہ کبیر والا کے مین بس سٹاپ پر کھڑے تھے جہاں سے ہمیں پنڈی سے آںے والی بس اڈے پر ہی کھڑی مل گئی، میں بس میں چڑھا اور میرے پیچھے سلمی آنٹی بھی بس میں آگئیں، مگر پھر سلمی آنٹی نے مجھے واپس بلا لیا اور کہا نیچے آجاو ہم اس بس میں نہیں جائیں گے۔ میں نے سلمی آںٹی کو کہا کیوں آنٹی بس میں جگہ ہے بیٹھنے کی، کنڈیکٹر نے بھی کہا خالہ جی آجائیں بہت سیٹیں پڑی ہیں، مگر خالی جی نے کسی کی نہیں سنی اور چپ چاپ نیچے اتر گئیں جس پر مجھے کنڈیکٹر کی جلی کٹی باتیں سننا پڑیں، مگر میں چپ چاپ سلمی آںٹی کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا، وہ بس چلی گئی تو میں نے آںٹی سے پوچھا کہ آنٹی جگہ تھی تو صحیح بس میں پھر ہم اس بس میں کیوں نہیں گئے، مگر آںٹی نے کوئی جواب نہیں دیا، کچھ ہی دیر میں ایک اور بس آگئی جو کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، سلمی آنٹی اس بس میں سوار ہوگئیں اور میں بھی انکی اس حرکت پر حیران ہوتا ہوا انکے پیچھے پیچھے ہولیا۔ پہلے کی طرح دوبارہ سے اس بس میں ہمیں کوئی سیٹ میسر نہ آئی مگر اس بار شمائلہ اور سائرہ دونوں کو ہی سیٹ مل گئی جبکہ آںٹی اور میں دوسری سواریوں کے ساتھ بس میں کھڑے رہے۔ کچھ ہی دیر بعد میری حیرانگی تب ختم ہوگئی جب آنٹی خود ہی میرے جسم کے ساتھ لگ کر کھڑی ہوگئیں، مگر اس وقت میری سوچ کہیں اور تھی اور میرا لن سویا ہوا تھا، آنٹی کو جب اپنی گانڈ پر کوئی بھی چیز محسوس نہ ہوئی تو انہوں نے پیچھے مڑ کر میرے لن کی طرف دیکھا جہاں سکون ہی سکون تھا، پھر آنٹی نے شرمندہ ہوکر منہ آگے کر لیا اور تھوڑا سا آگے ہوکر کھڑی ہوگئیں۔ لیکن مجھے سمجھ لگ گئی تھی کہ سلمی آںٹی خالی بس میں کیوں نہیں بیٹھیں، انہیں اصل میں لن کے مزے لینے تھے، یہ اشارہ ملتے ہی میرے لن نے شلوار میں سر اٹھانا شروع کر دیا۔ چونکہ یہ رات 9 بجے کا وقت تھا اور باہر ہر طرف اندھیرا تھا، اور بس بھی چونکہ پنڈی سے ملتان آرہی تھی تو زیادہ تر مسافر سورہے تھے اس لیے بس کے اندر ی لائٹس بھی بند تھی اور بس میں قریب قریب مکمل اندھیرا تھا بیٹھی ہوئی سواریوں کی اکثریت سو رہی تھی اور بس میں مکمل سناٹا بھی تھا۔ سلمی آںٹی کی طلب کو تو میں سمجھ ہی گیا تھا لہذا اب میں نے سوچا کہ اب ذرا پہلے سے کچنھ زیادہ ہونا چاہیے اور سلمی آنٹی کی گانڈ کا صحیح مزہ لینا چاہیے۔ اسی سوچ کے ساتھ میرا لن دوبارہ سے اپنے جوبن پر آچکا تھا، میں نے قمیص کے نیچے ہاتھ کیا اور اپنی قمیص سائیڈ پر ہٹا دی اسکے بعد تھوڑا سا آگے ہوا اور بڑی احتیاط کے ساتھ سلمی آنٹی کی قمیص بھی انکی گانڈ سے سائیڈ پر کھسکا دی، جب میں نے سلمی آںٹی کی قمیص سائیڈ پر ہٹائی تو انہوں نے ایک دم پیچھے مڑ کر دیکھا کہ یہ کیا ہورہا ہے؟ پھر انہوں نے میرے لن کی طرف دیکھا جہاں سے میں قمیص ہٹا چکا تھا اور میرا موٹا تازہ لن شلوار کے اندر ہی کھڑا ہوکر اپنے سائز کا اندازہ دے رہا تھا جو اس وقت میرے ہاتھ میں تھا، لن پر نظر پڑتے ہی سلمی آنٹی کی آنکھوں میں ایک چمک آئی اور انہوں نے مجھ سے نظریں چار کیے بنا ہی دوبارہ منہ آگے کر لیا، اور میں نے بھی ادھر ادھر سے مطمئن ہوکر اپنا لن سلمی آنٹی کی چوتڑوں میں پھنسا دیا جس پر سلمی آنٹی پیچھے ہوگئیں۔ چونکہ ہر طرف اندھیرا تھا اور کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ یہاں کیا کھیل چل رہا ہے، میں نے مزید ہمت کی اور اپنا ایک ہاتھ سلمی آنٹی کی موٹی گانڈ پر رکھ کر اسکو تھوڑا سا کھولا اور اپنا لن مزید اندر پھنسا دیا جسکو سلمی آنٹی نے فورا اپنی مضبوط گرفت میں جکڑ لیا۔ اب میں نے اپنا ایک ہاتھ سلمی آنٹی کے چوتڑ پر رکھ لیا اور بالکل غیر محسوس طریقے سے اپنے لن کا دباو سلمی آںٹی کی گانڈ میں بڑھانے لگا۔ ظاہری بات ہے میں اپنا لن سلمی آنٹی کی گانڈ کے سوراخ میں تو داخل نہیں کرسکتا تھا، مگر انکی گاںڈ کی لائن میں لن پھنسا کر انکو مزہ دے سکتا تھا، اور آنٹی بھی مست ہوکر پورا پورا مزہ لے رہی تھیں۔ میں نے اپنے ہاتھ سے سلمی آنٹی کا چوتڑ دبایا تو انہوں نے اپنے چوتڑوں کو پیچھے کر کے دوبارہ سے گرفت مظبوط کر لی اور پھر اسی طرح گرفت مظبوط کرتے ہوئے تھوڑا سا آگے ہوئی تو مجھے اپنے لن کی ٹوپی پر انکی گانڈ کی رگڑ محسوس ہوئی، پھر دوبارہ سے سلمی آںٹی نے اپنی گانڈ کی گرفت کمزور کر کے گانڈ پیچھے کی اور پھر سے گرفت مظبوط کر کے اپنی گانڈ کو آگے کرنے لگیں۔ سلمی آنٹی نے قریب 5 منٹ تک یہ کام جاری رکھا جس سے اب مجھے بے پناہ مزہ آںے لگا تھا، انکی نرم نرم موٹی گانڈ میں لن بہت مزے میں تھا۔ پھر سلمی آنٹی نے اپنا ہاتھ پیچھے کیا اور اپنا ہاتھ میرے لن پر رکھ کر اسکی موٹائی کا اندازہ کرنے لگیں، پھر انہوں نے اپنے ہاتھ سے میرے لن کو گانڈ سے باہر نکالا اور اسکا رخ ہلکا سا نیچے کی طرف کر کے دوبارہ گانڈ کے سوراخ میں داخل کیا۔ اف۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا مزے کی حرکت کی تھی سلمی آنٹی نے، ایک تو انہوں نے جب اپنا ہاتھ میرے لن پر رکھا مجھے اسکا ہی بے حد مزہ آیا پھر انہوں نے گانڈ میں دوبارہ لن تو داخل کیا مگر اسکا رخ نیچے کیا تو لن کی ٹوپی پر سلمی آنٹی کی گیلی چوت لگتے ہی میرے پورے جسم میں کرنٹ دوڑ گیا۔ سلمی آنٹی کی چوت نہ صرف گیلی تھی بلکہ وہ اس حد تک گرم تھی کہ مجھے محسوس ہوا جیسے کسی نے میرے لن کی ٹوپی پر گرم سلگتا ہوا کوئلہ رکھ دیا ہو۔ سلمی آںٹی نے ایک بار پھر میرا لن اپنے چوتڑوں کو ٹائٹ کر کے اپنی لائن میں مضبوطی سے جکڑ لیا اور پھر ہولے ہلے جھٹکے لے لے کر آگے پیچھے ہو ہو کر میرے لن کی ٹوپی کو اپنی چوت پر مسلنے لگیں۔ چونکہ بس بھی چل رہی تھی جسکی وجہ سے کھڑی سواریاں تھوڑا بہت ہلتی ہیں اس لیے ہماری اس حرکت کو کسی نے بھی نوٹ نہیں کیا۔ سلمی آنٹی نے 10 منٹ تک مسلسل میرا لن اپنے چوتڑوں میں پھنسا کر اپنی چوت پر رگڑا جس سے مجھے بہت سکون مل رہا تھا۔ پھر اچانک ہی سلمی آنٹی کی حرکت میں تھوڑی تیزی آگئی،سلمی آنٹی اب پہلے سے زیادہ آگے پیھے ہورہی تھیں اور مجھے ڈر لگنے لگا کہ سلمی آنٹی کی اس حرکت سے کسی نا کسی کا دھیان ہماری طرف ہوجائے گا اور پھر بہت چھترول ہوگی، مگر اس سے پہلے کہ کوئی ہماری اس حرکت کو نوٹ کرتا، مجھے اپنے لن کی ٹوپی پر گرما گرم پانی کا احساس ہوا اور سلمی آنٹی میرے لن کو اپنی چوت کے سوراخ پر لگا کر ایک دم ساکت ہوگئیں اور اپنے چوتڑوں سے میرے لن کو مظبوطی سے جکڑے رکھا۔ سلمی آنٹی کی چوت نے 10 منٹ کی مسلسل رگڑ سے پانی چھوڑ دیا تھا۔ سلمی آنٹی کے جسم کو کچھ دیر جھٹکے لگتے رہے اور پھر انکا جسم پرسکون ہونے لگا ۔ جب انکی چوت نے سارا پانی چھوڑ دیا تو انہوں نے اپنے چوتڑوں کی گرفت کمزور کر کے میرا لن اپنی گانڈ سے نکال دیا اور میرے سے کچھ فاصلے پر کھڑی ہوگئیں، مجھے انکی اس حرکت پر بہت غصہ آیا کیونکہ ابھی میرے لن کو سکون نہیں ملا تھا، مگر میں ایسی حالت میں سلمی آنٹی کو کچھ نہیں کہ سکتا تھا۔ بس دل ہی دل میں کڑھتا رہا اور نتیجہ کے طور پر کچھ ہی دیر میں میرا لن بیٹھ گیا۔ 5 منٹ بعد ہی ملتان وہاڑی چوک پر بس رکی تو سلمی آنٹی نے ساتھ والی سیٹ سے شمائلہ کو اٹھایا جو سو چکی تھی، وہ جاگی تو سلمی آنٹی کے آگے آکر کھڑی ہوگئی، جبکہ چھوٹی سائرہ ابھی تک سوئی ہوئی تھی، سلمی آنٹی نے مجھے کہا کہ تم سائرہ کو اٹھا لو اسکی نیند بہت گہری ہے، گو کہ وہ 10 سال کی تھی اور تھوڑی وزنی بھی تھی مگر بحرحال وہ ایک بچی تھی لہذا میں نے بمشکل اسے گود میں اٹھایا اور بس سے نیچے اتر گیا۔ وہاں سے ہم نے ایک رکشہ لیا اور اس میں بیٹھ کر آنٹی کے گھر کی طرف چلنے لگے۔ رکشے میں سائرہ میری گود میں ہی تھی جبکہ سلمی خالہ میرے ساتھ بیٹھی تھیں، میں نے سلمی آنٹی کے قریب ہوکر انکے کان میں کہا آنٹی آپ نے تو مزہ لے لیا مگر میرا مزہ ادھورا رہ گیا۔ آنٹی نے میر ی طرف دیکھا اور ہلکی آواز میں بولیں خاموش رہو، اور خبردار جو اس بارے میں کسی کو بتایا یا اس بارے میں دوبارہ بات کی۔ سلمی آںٹی کا لہجہ بہت کرخت تھا، میں کچھ نہیں کہ سکا اور اپنا سا منہ لیکر بیٹھ گیا۔ کچھ ہی دیر بعد ہم سلمی آنٹی کے گھر پہنچ چکے تھے جہاں میں نے سائرہ کو انکے کمرے میں جا کر لٹا دیا اور سلمی آںٹی شمائلہ کو لیے اندر آگئیں۔ باسط انکل نے میرا شکریہ ادا کیا اور سلمی آنٹی نے بھی بہت خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا بیٹا تمہارا بہت بہت شکریہ، تم بیٹھو میں تمہارے لیے کھانا بنا لوں، پھر کھانا کھا کر اپنے گھر جانا۔ میں نے کہا نہیں آنٹی آپ بھی تھکی ہوئی ہیں، میں گھر چلتا ہوں امی نے کھانا بنایا ہوا ہے میں گھر جا کر ہی کھانا کھالوں گا۔ یہ کہ کر میں وہاں سے واپس اپنے گھر چلا آیا، اور کھانا کھانے سے پہلے ایک بار پھر واش روم جا کر سلمی آنٹی کی گانڈ اور چوت کو یاد کر کرکے مٹھ مار کر اپنے لن کو سکون پہنچایا۔ اسکے بعد امی کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا کھایا اور سلمی آنٹی کو چودنے کے منصوبے بناتا ہوا رات کے پچھلے پہر سوگیا رات کو سوتے ہوئے تو میں نے خواب میں خوب سلمی آںٹی کی چودائی کی اور سلمی آںٹی نے بھی میرا لن منہ میں ڈال کر مجھے خوب مزے دیے، مگر ان مزوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ آدھی رات کو ہی آنکھ کھل گئی، اور آنکھ کھلنے کی وجہ سلمی آںٹی کے لن چوسنے کے دوران لن کا منی چھوڑنا تھا، جیسے ہی خواب میں میرے لن نے سلمی آنٹی کے منہ میں منی کی دھاریں چھوڑیں تبھی حقیقت میں بھی میرے لن نے منی چھوڑ دی اور میری ساری شلوار کو خراب کر دیا۔ مجبورا آدھی رات کو اٹھ کر نہانا پڑا اور کپڑے تبدیل کرنے پڑے، اسکے بعد کافی دیر سلمی آنٹی کی گانڈ کے بارے میں ہی سوچتا رہا اور نیند آنکھوں سے کوسوں دور رہی۔ پھر نیند آئی تو ایسی کے جمعہ کا ٹائم گزر چکا تھا اور دوپہر 3 کے قریب میں بستر سے اٹھا۔ عام دنوں میں ایسی حرکت پر امی جان سے خوب ڈانٹ پڑتی تھی مگر آج بچت ہوگئی تھی کیونکہ وہ جانتی تھیں کل کا دن سفر میں گزرا ہے تو تھکاوٹ ہوگئی ہوگی۔ اگلے دن سے پھر معمول کی زندگی شروع ہوگئی، اس دوران میں سلمی آنٹی کے فون کا انتظار کرتا رہا کہ کبھی تو وہ اپنے لیے دوبارہ برا منگوائیں گی اور تب میں ایک بار پھر انکی نرم نرم گانڈ میں اپنا لن پھنسا کر خوب مزے کروں گا، مگر یہ انتظار لمبا ہی ہوتا چلا گیا اور کافی مہینے گزر گئے مگر سلمی آنٹی کا کوئی فون نہیں آیا۔ اب تو مجھے لگنے لگا تھا کہ شاید ملتان سے کبیر والا تک کا سفر بھی میں نے خواب میں ہی کیا تھا اور سلمی آنٹی نے میرا لن اپنے چوتڑوں میں پھنسا کر بھی میرے خواب میں مزے کیے تھے حقیقت میں شاید ایسا کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ مگر ایک دن پھر قسمت کی دیوی مہربان ہوئی، میرے فون کی گھنٹی بجی اور نمبر سلمی آنٹی کا تھا، دل کے تار بجنے کے ساتھ ساتھ لن نے بھی انگڑائیاں لینی شروع کر دیں اور ایک بار پھر توقع کے مطابق سلمی آنٹی نے برا گھر لانے کو کہا۔ میں نے ایک بار پھر جمعہ کا دن ہی منتخب کیا کیونکہ اس دن چھٹی ہوتی تھی دکان سے تو میں آرام سے سلمی آنٹی کے گھر جا سکتا تھا۔ اس دن بھی میں دوبارہ سے 5، 6 سیکسی برا شاپر میں ڈال کر صبح 10 بجے سلمی آنٹی کے گھر جا پہنچا۔ دل میں کتنے ہی ارمان تھے کہ آج تو سلمی آنٹی کی گانڈ میرے لن سے نہیں بچ سکے گی، مگر تب میری تمام امیدوں پر پانی پھر گیا جب میں نے گھر میں داخل ہوکر دیکھا کہ آج نہ صرف شمائلہ گھر پر تھی بلکہ جاگ بھی رہی تھی اور سائرہ بھی وہیں پر تھی۔ ان دونوں کے ہوتے ہوئے میرا کچھ بھی بننے والا نہیں تھا۔ وہی ہوا، سلمی آنٹی نے پانی پلایا، اور پھر شاپر اٹھا کر مجھے وہیں انتظار کرنے کو کہا اور سائرہ اور شمائلہ کو میرے پاس بٹھا کر اندر کمرے میں چلے گئیں، جبکہ میں باہر صوفے پر بیٹھا کڑھتا رہا۔ اس دوران میں نے شمائلہ کے جسم کا بغور جائزہ لیا، مگر پھر سوچا کہ نہیں ابھی وہ بہت چھوٹی ہے۔ ابھی تو اسکے چھاتی کے ابھار بھی صحیح طرح سے نہیں بنے تھے، بلکہ چھوٹے چھوٹے سے نوک دار نشان واضح ہورہے تھے جس سےظاہر ہورہا تھا کہ شمائلہ نے ابھی ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ہے، اور ابھی وہ مکمل طور پر چودائی کے قابل نہیں ہوئی۔ پھر شمائلہ سے نظریں ہٹا کر میں سائرہ اور شمائلہ دونوں کو دل ہی دل میں کوسنے لگا۔ کوئی 15 منٹ بعد سلمی آںٹی باہر آئیں تو انہوں نے شاپر مجھے واپس پکڑا دیا جس میں کچھ برا موجود تھے۔ ساتھ ہی سلمی آنٹی نے مجھے بتایا کہ انہوں نے 2 پیس رکھے ہیں اور شمائلہ کو مزید پانی لانے کو کہا، شمائلہ کچن میں گئی تو سلمی آنٹی نے مجھے ان برا کے بارے میں بتایا جو انہوں نے رکھے تھے، ایک نیٹ کا تھا اور ایک فوم والا۔ پھر سلمی آںٹی نے انکی قیمت پوچھی تو میں نے قیمت بتا دی ، سلمی آنٹی نے پیسے دے دیے تبھی کچن سے شمائلہ میٹھا شربت لے آئی۔ میں نے بجھے ہوئے دل کے ساتھ 2 گلاس پانی کے پیے کہ چلو اگر سلمی آنٹی کی گانڈ نہیں ملی تو اس ٹھنڈے پانی سے اپنی محنت کا صلہ تو وصول کریں۔ پانی پی کر کچھ دیر مزید زبردستی میں بیٹھا رہا، مگر جب دیکھا کہ اب سلمی آنٹی مجھے زیادہ لفٹ نہیں کروا رہیں تو میں نے واپس آنے میں ہی آفیت سمجھی اور اور اپنا شاپر اٹھا کر واپس گھر آگیا اور سلمی آنٹی کی دونوں بیٹیوں کو کوسنے لگا۔ مگر کسی حد تک مجھے سلمی آنٹی پر بھی حیرت تھی کہ اس دن بس میں تو خود اپنے ہاتھ میرا لن پکڑ کر انہوں نے اپنے چوتڑوں میں پھنسایا تھا ، پھر آخر ایسی کیا بات ہوئی کہ انہوں نے کوئی اشارہ تک نہ کیا مجھے آج کہ جس سے مجھے کچھ حوصلہ ہی ہوجاتا کہ یہ گانڈ مجھے ملنی والی ہے۔ مگر قسمت میں یہ گانڈ ابھی نہیں لکھی تھی سو نہیں ملی۔ اور زندگی ایک بار پھر معمول پر آگئی۔ اس واقعہ کی وجہ سے سلمی آنٹی کی گانڈ کا بھوت کافی حد تک میرے ذہن سے اتر چکا تھا مگر میرے لن کو کسی گانڈ کی تلاش آج بھی تھی۔ گوکہ محلے کی ایک لڑکی سے میری سیٹنگ تھی اور مجھے جب طلب ہوتی میں کسی نہ کسی طرح اس سے اکیلے میں مل کر اپنے لن کی پیاس بجھا لیتا تھا، مگر نجانے کیوں جب سے میں نے برا بیچنے شروع کیے تھے، میرا بہت دل کرتا تھا کہ جو مجھ سے برا خرید رہی ہے اسی کو چود دوں، اسکے ممے دباوں، انکو منہ میں لیکر چوسوں، انکے منہ میں اپنا لن ڈال دوں۔ اسی لیے میری پیاس کسی طور کم نہیں ہورہی تھی۔ اب مجھے دوکان پر کام کرتے قریب 2 سال سے زیادہ کا عرصہ ہوچکا تھا۔ اور میری تنخواہ بھی اب دس ہزار تک پہنچ چکی تھی جس میں بہت اچھا گزارا ہورہا تھا۔ ساتھ ہی میں نے اپنی نوکری کے 5 ماہ بعد ہی ایک کمیٹی بھی ڈال لی تھی اور اس کمیٹی کے علاوہ بھی میں پیسے جوڑ رہا تھا۔ اب میرا اپنی دوکان بنانے کا ارادہ تھا۔ میرے پاس اب 2 لاکھ سے زیادہ کی رقم موجود تھی، کچھ ابا کی پینشن کچھ میری کمیٹی اور کچھ میری اپنی بچت جو میں ہر ماہ کرتا تھا وہ مل ملا کر اتنی رقم تھی کہ میں ایک چھوٹی دکان کو سامان سے بھر سکتا تھا، مگر مسئلہ تھا دکان لینے کا۔ دکان کی پگڑی ہی اتنی تھی کہ میں حسین آگاہی میں تو دکان بنانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا اس لیے میں کسی چھوٹی مارکیٹ کے بارے میں سوچ رہا تھا جیسے، شاہ رکنِ عالم میں گلشن مارکیٹ یا پھر گلگشت کی طرف گردیزی مارکیٹ۔ یہ دونوں مارکیٹ تھیں تو چھوٹی مگر یہاں پر ذرا ماڈرن لڑکیاں شاپنگ کے لیے آتی تھی۔ پھر ایک دن میری قسمت جاگی اور دوبارہ سے وہی لیلی آنٹی جنہیں پہلی بار برا فروخت کیا تھا وہ میری دکان پر آئیں تو باتوں ہی باتوں میں میری ان سے بات ہوئی کہ میں اپنی دکان بنانے کے بارے میں سوچ رہا ہوں، بس دکان لینے کا مسئلہ ہے۔ جس وقت یہ بات ہوئی اس وقت حاجی صاحب دکان پر موجود نہیں تھے۔ میری بات سن کر لیلی میڈیم نے پوچھا کہ کہاں پر بناو گے دکان؟ اور کتنے پیسے چاہیے ہوتے ہیں دکان کے لیے؟؟ تو میں نے میڈیم کو دونوں مارکیٹس کے بارے میں بتا دیا اور بتایا کہ مال لانے کے لیے جو میرے پاس رقم موجود ہے اتنی ہی رقم دکان کے لیے بھی چاہیے۔ تب میڈیم نے مجھے کہا اگر تم میری بات مانو تو میں تمہاری مشکل آسان کر سکتی ہوں۔۔۔ میرے کان فورا کھڑے ہوگئے اور میں نے کہا جی میڈیم بتائیں ایسی کونسی بات ہے جس کے ماننے پر آپ میری مدد کریں گی؟؟؟ لیلی میڈیم نے کہا اگر تم گلشن مارکیٹ یا گردیزی مارکیٹ کی بجائے شریف پلازہ میں دکان بنا لو تو میں تمہاری مدد کر سکتی ہوں۔۔۔ شریف پلازہ کچہریوں کے پاس ہے جہاں سے ایک فلائی اوور بھی گزرتا ہے۔ شریف پلازہ کا نام سن کر میں ہنسا اور میں نے کہا میڈیم میری اتنی اوقات کہاں کہ میں وہاں دکان بنا سکوں وہاں تو بہت بڑی بڑی اور مہنگی دکانیں ہیں۔ لیلی میڈیم نے کہا وہی تو میں تمہیں کہ رہی ہوں اگر تم وہاں دکان بناو تو میں تمہاری مدد کر سکتی ہوں۔ اگر تم پوری بات سن لو گے تو شاید ہم دونوں کا کام آسان ہوسکے۔ میں نے کہا جی میڈیم بتائیں۔ انہوں نے کہا شریف پلازہ میں ایک دکان ہے جو میری اپنی ہے، وہ ہم نے کسی کو کرائے پر دی ہوئی تھی، مگر پھر میرے میاں نے وہاں اپنا کاروبار بنانے کا سوچا تو جنہیں دکان دی تھی انہوں نے دکان خالی کرنے سے انکار کر دیا۔ کافی کوشش کے باوجود بھی جب انہوں نے دکان خالی نہ کی تو ہم نے انہیں عدالتی نوٹس بھجوا دیا جس پر انہوں نے میرے میاں کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ میں نے میاں سے کہا چھوڑو اس دوکان کو آپ نوٹس واپس لے لو ہم کوئی اور کام کر لیں گے ان غنڈوں سے ٹکر لینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ مگر میرے میاں نہ مانے اور انہوں نے کہا ہم کسی کو اس طرح اپنی جائداد پر قبضہ کرنے نہیں دیں گے ۔ کیس چلا اور عدالت نےہمارے حق میں فیصلہ دے دیا اور پولیس کو کہا کہ دکان خالی کروائی جائے۔ پولیس نے 2 دن میں ہی دکان تو خالی کروادی مگر ان لوگوں نے اپنا غصہ نکالنے کے لیے کچھ غنڈوں کو بھیجا جنہوں نے میرے میاں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اتنا تشدد کیا کہ وہ پچھلے 6 ماہ سے بستر پر ہیں اور ابھی مزید کچھ سال تک وہ اٹھ کر بیٹھ نہیں سکیں گے انکی کمر کی ہڈی کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ ویسے تو ہمیں پیسے کی کمی نہیں، زمینوں سے کافی پیسہ آجاتا ہے مگر میں وہ دکان خالی نہیں رکھنا چاہ رہی، کیا پتا ادھر پھر کوئی قبضہ کر لے خالی دکان دیکھ کر۔ میں وہ دکان تمہیں کرائے پر دے سکتی ہوں، تم وہاں اپنا کام کرو، تم مجھے شریف انسان لگتے ہو، ہمارا معاہدہ ہوگا کہ 5 سال سے پہلے ہم تمہیں دکان خالی کرنے کا نہیں کہیں گے۔ اسکے بعد اگر دکان خالی کروانی ہوئی تو ہم تمہیں 3 ماہ پہلے بتا دیں گے تاکہ تم اپنا بندوبست کر سکو۔ لیلی میڈیم خاموش ہوئیں تو میرے جواب کا انتطار کرنے لگیں۔ میں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا وہ تو ٹھیک ہے میڈیم مگر جتنے کرائے ہیں شریف پلازہ میں وہ میں کیسے دوں گا ؟؟؟ اور پھر دکان کی پگڑی بھی ہوتی ہے جو شریف پلازہ میں 5 لاکھ سے کم نہیں۔ میڈیم نے کہا اسکی تم فکر نہ کرو، ہمیں فی الحال پیسے نہیں چاہیے، بس دکان پر کوئی کام ہونا چاہیے تاکہ خالی اور لاوارث دکان دیکھ کر اس پر کوئی قبضہ نہ کرے۔ پگڑی توم نہ دینا اور دکان کا کریہ 15 ہزار ہوگا مگر وہ بھی پہلے 6 ماہ تم کوئی کرایہ نہ دینا۔ جب تمہارا کام چل پڑے گا تو 6 ماہ بعد تم 15 ہزارہ ماہانہ کے حساب سے کرایہ دیتے رہنا۔ اور دکان کا جو بھی کام کروانا ہو وہ ہم تمہیں کروا کر دیں گے۔ میں کافی دیر سوچتا رہا اور پھر میڈیم سے پوچھا مگر میڈیم آپ مجھ پر ہی کیوں اعتمار کر رہی ہیں؟ ہوسکتا ہے میں بھی آپکی دکان پر قبضہ کر لوں۔ اس پر لیلی میڈیم مسکرائیں اور بولیں تم محنت کرنے والے لڑکے ہو، نوکری کرتے ہو یہاں، 8 سے 10 ہزار تمہاری تنخواہ ہوگی تم ہم لوگوں سے پنگا نہیں لے سکتے۔ جنہیں پہلے دکان دی تھی وہ بڑی پارٹی تھی اور انکا سیاسی لوگوں سے تعلق تھا جسکی وجہ سے ہمیں مشکل ہوئی۔ تم جیسے شریف لڑکے سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں۔

Posted on: 07:09:AM 13-Dec-2020


4 0 1340 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 59 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com