Stories


ناگن از رانا پردیسی

نامکمل کہانی ہے

کمرے میں شدید گرمی تھی۔ایک عجیب سے بو چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی جس سے سانس لینا دوبھر ہو رہا تھا۔کمرے میں کے وسط میں پالتی مارے پجاری بیٹھا منہ ہی منہ میں بدبدا رہا تھا۔اس کے سامنے ایک بڑی سی انسانی کھوپڑی پڑی تھی جس کی آنکھوں سے انگارے نکل رہے تھے۔میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔یوں لگ رہا تھا جیسے مجھ میں دھیرے دھیرے جان ختم ہو رہی ہے۔اور میرا خون کوئی نچوڑ رہا ہے۔
جے ہو مہا شیطان کی۔پجاری نے یکدم آنکھیں کھولتے ہوئے سرسراتے ہوئے لہجے میں کہا تو میں سر سے پاؤں تک خوف سے ہل گیا۔پجاری کی بڑی بڑی سرخ آنکھیں مجھ پہ مرکوز تھیں۔وہ گہری نظروں سے میری طرف گھورتے ہوئے دیکھ تھا۔مجھے یوں لگا جیسے اس کی نگاہیں میرے وجود کے اندر تک جھانک رہی ہیں۔ میں خوف سے منجمند ہو گیا۔مجھے یوں لگ رہا تھا جیسےمیراخون میرے رگوں میں خشک ہو گیا ہو۔ سانسیں اٹک اٹک کر آنے لگیں۔اس سے پہلے میری حالت ابتر ہوتی اور میں گرتا۔یکدم میرا سانس ٹھیک ہو گیا۔ناگفتگی ختم ہو گئی۔میں گہرے گہرے سانس لیکر پجاری کی طرف دیکھنے لگا جس نے اب آنکھیں بند کی ہوئیں تھیں اور منہ ہی منہ میں بدبدا رہا تھا۔میں نے شنکر کی طرف دیکھا اور کچھ بولنے ہی والا تھا کہ اس نے مجھے بولنے سے منع کر دیا۔اس وقت میری حالت خاصی دگرگوں تھی۔میرا دل بار بار چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ یہاں سے بھاگ جاؤ مگر گویا میری ساری طاقت ہی کسی نادیدہ شے نے سلب کر لی تھی۔میں کوشش کر کے بھی ایک قدم تک نہ ہلا سکا۔
سن رے بالک۔
پجاری کی گرجدار آواز نے محویت کو پارہ پارہ کر دیا۔میں جو ان گنت سوچوں میں محو تھا اچھل کر ہوش کی دنیا میں لوٹا۔
پجاری کی آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے۔جن کی تپش میں اپنے وجود پہ محسوس کر رہا تھا۔اس کا چہرہ خطرناک حد تک بگڑ چکا تھا۔ناک کے نتھنے پھول چکے تھے جن سے عجیب و غریب آوازیں نکل رہی تھیں۔
میں کانپ کر رہ گیا۔
جی ۔ مہاراج ۔میری بجائے شنکر نے جواب دیا۔میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ خوف سے کانپ تھا۔
خوف کی ایک سرد لہر بار بار میرے رگ وپے میں سرایت کر رہی تھی۔پجاری کو اس حالت میں کوئی بھی زی شعور دیکھ لیتا تو خوف سے بیہوش ہو جاتا۔
میں تیری کوئی سائتا نہیں کر سکتا۔اس کے شکتی کے آگے میرے شکتی دشٹ ہو جائے گی۔
پجاری سرسراتے ہوئے بولا۔
مہاراج آپ جو آگیا دیں گے اس کا ہم پالن کریں گے۔بس کسی طرح سے میرے متر کو اس کالی شکتی سے بچا لو۔ہماری سائتا کرو مہاراج۔شنکر گڑگڑاتے ہوئے بولا۔
میری خوف سے گھگی بند تھی۔پجاری کی ساری باتیں میں سمجھنے سے قاصر تھا۔
موکھ۔سمے بیت چکا ہے۔اب کچھ نہیں ہو سکتا۔
پجاری نے ہاتھ اٹھاکر چنگاڑتے ہوئے کہا۔
نہ مہاراج۔ کرپا کریں ہم پہ۔ ہماری سائتا کریں مہاراج۔ان دشٹ کالی شکتیوں سے ہمیں مکت کریں۔
شنکر گڑگڑاتا ہوا پجاری کے قدموں میں گر پڑا۔
میں بت بنا کھڑا رہا۔میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس وقت کیا رد عمل دوں۔
پجاری سر جھکائے منہ ہی منہ میں منتروں کا جاپ کر رہا تھا۔
دفعتا شنکر نے میری طرف دیکھا اور مجھے بھی پجاری کے قدموں میں آنے کا کہا۔میں نے زرا سا تامل کیا تو شنکر نے سخت نظروں سے میری طرف دیکھا۔میں بمشکل خود کو سنبھالتا ہوا جھکا اور پجاری کےپاؤں پکڑلئے۔
اب میں اور شنکر دونوں زور زور سے آہ بکا کرکے پجاری کی منت سماجت کرنے لگے۔
ہماری آہبکا کا اثر ہوا اور پجاری نے آنکھیں کھول دیں۔
اُٹھو۔پجاری اپنی پاٹ دار آواز میں گویا ہوا۔
ہم ایک جھٹکے میں اُٹھ کھڑے ہوئے۔اور پجاری سے تھوڑے فاصلے پہ کھڑے ہو گیے۔
پجاری چند لمحے خاموش ہوا پھر گویا ہوا۔
دیکھو بالک۔میں تمہاری کوئی سائتا نہیں کر سکتا۔پرنتو(مگر) تمہیں میرے گرو مہاراج گوپال کے پاس جانا ہوگا۔
کہاں جانا ہوگا مہاراج۔اس سے پہلے میں کوئی جواب دیتا شنکر بول اٹھا۔
بھوپال میں۔کیول(صرف) وہی تم لوگوں کی سائتا کرسکتے ہیں۔پجاری گھمبیر لہجے میں بولا۔ان کی شکتی اپرم پار ہے۔بڑی بڑی کالی شکیوں کو انھوں نے دھول چٹائی ہے۔
ہم کب جائیں مہاراج۔ شنکر بولا۔
صرف یہ جائے گا۔وہ بھی اکیلا۔پجاری نے سخت لہجےمیں کہا۔
مگر مہاراج۔اس سے پہلے شنکر بولتا۔پجاری دھاڑا۔
ملیچھ۔ چپ کر۔ اب تو میری آگیا کا پالن نہ کر کے میرا اپمان کر ے گا۔
نہ مہاراج نہ۔شنکر پجاری کے قدموں میں گر پڑا۔شما کر دیں مجھے مہاراج۔مجھ سے پاپ ہو گیا۔
شنکر گڑگڑا اُٹھا۔
شنکر یہ تیری پہلی غلطی ہے اس لئے تجھے شما کر دیتے ہیں۔چند لمحوں بعد پجاری نے سرسراتے ہوئے کہا۔
مہاراج کی جے ہو۔شنکر کا مرجھایا ہوا چہرہ پہ ہلکی سی بشاشت دکھائی دی جو بعد میں معدوم ہو گئی۔
اب تو جا یہاں سے۔پجاری نے ہاتھ اٗٹھاتے ہوئے کہا۔اور آنکھیں موند کر دوبارہ جاپ میں مصروف ہو گیا۔
اکبرخان میرے دوست اپنا خیال رکھنا۔شنکر میرے پاس آکر میرے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے بولا۔
اور مہاراج کی آگیا کا پالن کرنا۔میری دعا ہے کہ تمہیں اس درد سےمکتی مل جائے۔
شنکر جذباتی لہجے میں بولا تو میری آنکھوں سے آنسو رواں ہو گیے۔
شنکر بلاشبہ ایک مخلص دوست تھا جس نے ہر مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا تھا۔مجھ پہ آنے والی ہر مصیبت نے پہلے شنکر کا سامنا کیا تھا۔مگر آج میں ایک ایسی ان دیکھی مصیبت سے نبرد آزما تھا جس نے شنکر تو کیا بڑی بڑی طاقطوں کو بے بس اور لاچار کر دیا تھا۔ہزاراں کوششوں کے باوجود بھی دوا یا دعا میرے درد کے کام نہ آئی۔ہزروں تنتر،منتر اور عمل بیکار ہو گئے۔لیکن شنکر میرے ساتھ ہی رہا۔میرے ساتھ ہر بیماری سے لڑتا رہا۔میں آج اس سے جدا ہونے لگا تھا۔میں نے اسے بھینچ کر اپنے گلے لگا لیا۔اس نے زور سے مجھے دبایا اور ڈھیروں دعائیں دیتا رخصت ہو گیا۔
میں پجاری کی طرف متوجہ ہوا جو اپنا جاپ کرنے میں مشغول تھا۔کافی دیر بعد اس نے اپنا ارتکار توڑا اور اٹھتے ہوئےمجھے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔کمرے کےبائیں جانب کی ایک کھڑکی کے پاس رک کر اس نے ایک لحظہ پلٹ کر میری طرف دیکھا اور پردہ اٹھا دیا۔اندر دور تک اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔
ناک کی سیدھ میں چلتے آؤ۔پجاری نے کہا۔اور اندر داخل ہوگیا۔اندر گھپ اندھیرا تھا۔مگر میں سیدھا چلتا رہا۔کافی دیر چلنے کےمجھے ہلکی ہلکی روشنی کا احساس ہوا۔جو دور سے ایک کپڑے کی جھالر سے جھلکتی نظر آ رہی تھی۔
پجاری وہ جھالر اٹھا کر اندر داخل ہو گیا۔
میں جھالر اٹھا کر جیسے ہی اندر داخل ہوا ٹھٹھک کر رک گیا۔
یہ ایک شاندار ہال نما کمرہ تھا جس میں کافور کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔مگر اس کے دیواروں پہ جا بجا کھوپڑیوں اور ہڈیوں کے نقش و نگار بنائے گئے تھے جس کو دیکھ کر خوف طاری ہو جاتا تھا۔اندر دو خوبصورت حسینائیں جو آپس میں اٹھکیلیاں کر رہی تھیں پجاری کو دیکھ کر فورا بھاگتی آئیں۔
پتا جی آپ آ گئے۔وہ پجاری کے چرن چھوتے ہوئے بولیں۔
پجاری نے شفقت سے ان کے سر پہ ہاتھ پھیرا اور میرے طرف اشارہ کیا۔
پتری ۔یہ ہمارے مہمان ہیں۔ان کی سیوا میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہیئے۔
پجاری نے کہا ۔ اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔
اکبر خاناں۔منش کی جندگی میں کٹھنائیں آتی جاتی ہیں۔پرنتو تمہاری سمسیا میں سمجھ سکتا ہوں۔تمہیں کالی شکتیوں نے اپنے وش میں کر لیا ہے۔جانتا ہوں تم بیاکل ہو۔اور ان سے مکت ہونا چاہتے ہو پرنتو یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ان مہان شکتیوں سے مکت ہونے کے لئے تمہیں اپنے مذہب ،رنگ ،زبان تک ہی بلی دینی ہو گی۔اس اگنی پرکشا سے گزر کر ہی تمہیں مکتی ملے گی۔پجاری کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔
میں ہر قربانی دینے کو تیار ہوں مہاراج۔میں نے کانپتے ہوئے لہجے میں کہا۔بس مجھے ان بلاؤوں سے مکت کر دیں۔میری سائتا کریں۔
چنتا نہ کرو۔سمے کا انتجار کرو۔ان شکتیوں سے تمہیں مکتی مل جائے گی۔
پجاری میرے کندھے تھپتپاتے ہوئے بولا اور واپس اسی غار میں داخل ہو گیا۔
چلئے مہاراج۔ ان میں سے ایک حسینہ نے سر کو خم کرتے ہوئے اپنی کھنکتی آواز میں کہا۔تم مہاراج کے لئے بھوجن کا انتطام کرو۔اس نے دوسری سے مخاطب ہو کر کہا اور مجھے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔میں اس کے پیچھے چلتا ہوا ایک چھوٹے سے کمرے میں داخل ہو گیا جو صرف ایک بستر ، مٹکے اور گلاس پہ مشتمل تھا۔مہاراج کوئی آگیا؟ نہیں۔ میں نے غور سے اس حسینہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔
وہ سیاہ رنگ کی ساڑھی میں ملبوس تھی۔چھوٹی سی ناک تلے خون چھلکاتے سرخ ہونٹ اور گہری سیاہ آنکھوں میں ایک طلسماتی کشش تھی۔
تمہارا نام کیا ہے۔میں کہا۔ شاردا۔اس نے کہا۔اورایک قاتل مسکان میری طرف اچھالی کر کمرے سے باہر چلی گئی۔
میں بستر پہ ڈھے گیا اور پجاری کے بارے میں سوچنے لگا۔
کیا پجاری اور اس کا گرو میری اس منحوس بیماری کا کوئی علاج کر پائیں گے؟
کئے ایسے تنتر منتر کرنے والے پیر اور پجاری سبھی بھاگ گئے اور کئی بیچارے تو اپنی جان بھی ہار گیے تھے۔مجھے اس پراسرار بیماری نے اس قدر اپنےبس میں کر لیا تھا میں نے خود کشی کرنے کا انتہائی فیصلہ کر لیا تھا۔شنکر اور میں نے پورے علاقے کی خاک چھانی تھی مگر کوئی ایسا نہ ملا جو اس بیماری سے مجھے چھٹکارا دلا سکتا۔پھر دلی کے بڑے مندر کے ایک مہان پجاری نے مجھے پجاری اشوک داس کا پتا بتایا۔بقول اس کے وہ کسی اور خدا کو مانتا ہے اور اشوک کا رستہ جدا ہے مگر وہ تمہاری مدد کر سکتا ہے۔
میں اور شنکر دلی سے بنارس گئے اور بڑی مشکلوں سے پجاری اشوک داس تک پہنچ پائے۔مگر آج اس کی بسی بھی دیکھ لی تھی اور میں ناامید ہو گیا تھا۔میرا ہر مذہب ہر خدا پر سے یقین اٹھ گیا تھا۔کوئی ایسا بندہ دنیا میں نہیں تھا جو مجھے میری اس تکلیف سے نجات دلا سکتا۔ پجاری اشوک کے بقول میرا علاج اس کا گرو مہان پجاری گوپال کر سکتا تھا جو ناجانے اس دنیا کے کس کونے میں چھپا ہوا تھا۔
ابھی میں انھی سوچوں میں ہی گم تھا کہ اچانک ایک کٹھکا ہوا اور وہی دلکش حسینہ لبوں پہ قاتل مسکان سجائے داخل ہوئی۔
اس نے ہاتھ میں ایک گلاس تھا ۔اس نے جھک کر مجھے پیش کیا۔یہ لیں مہاراج ۔بڑے پتا جی نے آپ کے لئے رس بھیجا ہے۔اسے پی لیں۔
وہ اس طرح سے جھکی کے میری سانسیں اتھل پتھل ہو گئیں۔
اس کی گوری گوری چھاتیوں کی گولائی تک کو میں نے ماپ لیاتھا۔میرے لن نے ہلکی سی انگڑائی لی ۔
میں اس کی سیاہ خوب صورت آنکھوں میں جھانکتے ہوئے غٹا غت وہ گلا س پی گیا۔
پانی کا ذائقہ کڑوا تھا مگر اس ساقی کا احترام بھی ملوظ خاطر تھا۔
پانی کا گلاس خالی کر کے میں نے ایک سائیڈ پہ رکھ دیا۔
شاردا بڑی گہری نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔اس سے پہلے میں اس کی مظروں کے مفہوم سے کچھ اخذکرپاتا اچانک مجھے اپنے جسم میں گرمی کی شدید لہر داڑتی ہوئی محسوس ہوئی۔میرا لن ایک جھٹکے سے اکڑ گیا کر چھت کو گھورنے لگا۔
میرے پورے جسم سے پسینہ پھوٹنے لگا تھا۔بد حواسی میں میری کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں کیا کروں۔
یہ یہ کیا پلایا ہے تم نے۔میں کانپتے ہوئے لیجے میں شاردا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔جو ہنوز میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔میرے وجود میں گرمی اس قدر بڑھ چکی تھی میرے جسم پھٹنے کے قریب ہو گیا تھا۔میں بدحواسی میں اپنے کپڑے جسم سے نوچ کر پھینک دئے اور الف ننگا ہو گیا۔
میں نے شاردا کی طرف رحم طلب نظروں سے دیکھا۔ خدا کے واسطے مجھے بچاؤ۔میں گڑگڑاتے ہوئے بولا۔
اس کے لبوں کی مسکراہٹ مزید گہری ہو گئی۔اس نے آئیستگی سے اپنےاپنی ساڑھی کا پلو ایک طرف کر دیا تو بلاؤز میں اس کی بھربھری چھاتیوںکو دیکھ کر میرے پورے جسم میں حیوانیت بھر گئی۔
میں نے بجلی کی سی تیزی سے اس کو بازو سے پکڑکر بستر پہ پٹخ دیا۔اس وقت میں نیم پاگل ہو چکا ہوتا مگر میری قوتِ برداشت اتنی تھی کہ میں نے خودپہ جبر کیا ہوا تھا۔یہ شاید اس محلول کا کمال تھا جو مجھے پلایا گیا تھا۔یکبارگی میرا دل پھدی شہوت انگیز خیالات کی بھرمار لئے پھدی پھدی کی گردان کرنے لگا۔
بڑی پھرتی سے میں نے اس کے جسم کو لباس کی قید سے آزاد کر دیا ۔اس کا کورا بدن کورے کاغذ کی مانند صاف و شفاف تھا۔بھربھری چھاتیؤں جن کے سرخی مائل ابھار قیامت خیز تھے ۔خود پہ تو جبر ممکن تھا مگر لن پہ کس کا جبر ہوتا ہے۔میرا لن سختی کی ہر حد پار کر چکا تھا۔میں لازمی اس گداز جسم سے کھیلتا مگر میرے لن نے اس کی اجازت نہ دی۔میں نے بالوں سے پاک شاردا کی پھدی پہ تھوک لگایا اور اپنے لن جو اس وقت اکڑ سے ٹوٹ کے بکھرنے کے قریب تھا اس کی پھدی میں گھسیڑ دیا۔چند ہئ جھٹکوں سے میرے لن کو سکون مل گیا۔اور جسم میں پھیلی بے چینی بھی دور ہو گئی۔میں زور زور سے جھٹکے مار تھا۔شاردا اپنے لب اپنے موتیوں سے دانتوں میں دبائے آکھیں بند کئے مزے سے سسکاریاں لے رہی تھی۔میرے تیز تیز جھٹکوں سے اس کی چھاتیاں تیزی سی ہل جل رہی تھیں۔یہ آتشِ بے دود منظر نگاری انتہائی دیدہ زیب منظر نگاری کر رہی تھی۔؎
میرا لن اس کی مخملی پھدی میں آرے کی مانند چیر پھاڑ کر رہا تھا۔اس کی سسکاریاں لمحہ بہ لمحہ تیز تر ہوتی جا رہی تھیں۔ اچانک میرے لن نے جھٹکے کھانے شروع کر دئے۔اور سارا موادا بل انل کر شاردا کی گلابی اور پسینے سے لتھڑی پھدی کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر گیا۔اور اس کے ساتھ ہی میری لذت بھری سسکاریوں آخری قطرے کے ساتھ ہی دم توڑ گئیں۔اور ساتھ ہی مجھے ہوش آ گیا۔
شاردا ہنور اس طرح ہی ٹانگیں کھولی پڑی رہی۔میرے لن کا مواد اس کی پھدی سے ٹپک ٹپک کر کے باہر نکل رہا تھا۔مگر اس کی حالت میں کوئی فرق نہ آیا۔
شاردا اٹھو اب جاؤ۔ میں نے ہلکی سی آواز میں اپنے ضمیر کی آخری کوششوں کو رائیگاں کرتے ہوئے کہا۔مجھے دھڑکا لگنے لگا کہ کہیں پجاری نے مجھے اس حالت میِں دیکھ لیا تو مجھے موت کے گھاٹ اتار دے گا۔میرا وجود خوف سے منجمد ہونے لگا۔
مگر اس کی جانب سے کوئی جواب نہ ملا۔میں اسے اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اچانک وہی اندیکھی آگ مجھے اپنے وجود میں لگتی محسوس ہوئی۔
اور میرے اندر وہی درندگی بھرنے لگی۔
میرے وجود میں چنگاریاں سی اٹھنے لگیں اور میرا لن پھر سے اسی حالت میں کھڑا ہو گیا۔میرا گلا خشک ہونے لگا۔میں بہتیری کوشش کی مگر خود کو نہ سنبھال سکا۔
میں نے پھر سے شاردا کی ٹانگیں اُٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھی اور اپنے لن کو اس کی پھدی میں گھسا دیا۔
اب کی بار میرے لن کئی پہر شاردا کی پھدی میں رہا مگر کچھ نہ نکلا۔
میری ٹانگیں شل ہو گئیں تھیں مگر میرے وجود لگی آگ کی بھٹی ٹھنڈی نہ ہو سکی۔
آٹھویں پہر جا کر میری جان میں جان آئی جب میرے لن نے پجکاریاں نکالی۔ اور میں بے دم ہوکر گر پڑا۔ اس کے بعد مجھے کچھ ہو ش نہ رہا۔

میرا نام اکبر خان ہے۔میں کون ہوں کہاں سے آیا میرے ماں باپ کون ہیں ان سب باتوں سے میں ناآشنا تھا۔میں نے فقط اپنے سر پہ سردارنواب علی خان کا سایہ ہی دیکھا۔وہی میرے مائی باپ اور سب کچھ تھے۔ان کی بدولت میں زندہ و سلامت ان کی چھتر چھایا میں تھا۔بچپن سے لیکر جوانی تک میرے ایام ان کے ساتھ ہی گزرے تھے۔نواب صاحب کافی سخت جان تھے۔گھڑسواری اور تلوار بازی میں وہ خاص ملکہ رکھتے تھے اور انھوں نے اپنا فن مجھے اپنا جانشیں سمجھتے ہوئے منتقل کرنےمیں کوئی قباحت محسوس نہیں کی تھی۔لیکن ایک ہاتھ برحال میں ان سے آگے تھا۔وہ تھا پہلوانی۔پہلوانی میں میں اس قدر مشاق تھا کہ برے بڑے سورما میرے سامنے چت ہو جاتے تھے۔لیکن ماں باپ کے نہ ہونے کا
غم اور کسک دل میں ہی رہی۔۔میں نے اپنی زات کے حوالے سے نواب صاحب کو بہت کریدنے کی کوشش کی تھی مگر وہ خود لاعلم تھے۔ان کا کہنا تھا آج سے سالوں پہلے ان کے خدام نے مجھ کو حویلی کے دروازے پہ ایک سیاہ رنگ کی چادر میں لپٹا ہوا پایا تھا۔خداموں نے بہتیری کوشش کی مگر کسی وہ تمہارے ماں باپ کو تلاش نہ کر سکے۔میرا دل مسوس ہو گیا تھا۔میں اچھی طرح سمجھتا تھا کہ ایک انسان کی زندگی میں ماں باپ کی کیا اہمیت ہوتی ہے۔میں نے بارہا کوشش کی تھی اور کئی پرانےخدام جو نواب صاحب کی خدمت میں ایک عمر گزار چکے تھے ان کو کریدا میں کوئی ایسا سراغ نہ مل سکا جو مجھے لاوازث ہو نے کے صدمے سے بچا سکتا۔لیکن رفتہ رفتہ میں نے خود کو سنبھالنے لگا۔مجھے امید تھی کہ ایک دن میں ان تک پہنچ جاؤں گا۔میرے دل نے تو ہار مان لی تھی مگر دماغ ہار ماننے کو تیار نہیں تھا۔اور حقیقت میں میں نے خود آج تک ہار کا سامنا نہیں کیا تھا۔انسان کا سب سے بڑا حریف وہ خود ہوتا ہے۔اور جو خود کو ہرا سکتا ہے اس کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں ہرا سکتی۔نواب صاحب کی شخصیت بہت رعب دار تھی۔گفتار میں وہ خاص ملکہ رکھتے تھے۔۔ان کا شمار ریاست جودھ پور کے کافی اثرو رسوخ والے خاندان سے تھا۔ریاست کے دیگر نوابوں میں ہندوراجاووں کی تعداد زیادہ تھی مگر وہ سب نواب صاھب کے زیر نگیں تھے۔لیکن ان دنوں ہی میں بغاوت کر دی گئی۔ جس میں مسلمانوں کو سخت ہزیمت کا سامنت کرنا پڑا۔مسلمان سرداروں پہ کڑا وقت تھا۔جنگ آزادی کی لڑائی میں کوشش کے باوجود مسلمان اس جبری غلامی سے خود کو آزاد نہ کر وا سکے تھے۔اس بغاوت میں مسلمانوں نے اپنا اعتماد کھو دیا تھا۔ انگریزوں کے جاسوس دن رات نواب اکبر خان کی حویلی کی جاسوسی کر رہے تھے۔کون آتا ہے کون جاتا ہے پل پل کی خبریں ریاست کے میئر تک پہنچائی جا رہی تھیں۔نواب کا اثرو رسوخ ختم ہوتا جا رہا تھا۔ ریاست کے لوگوں نے اپنا مسیحا راجا وجے پرتاب میں نظر آنے لگا تھا۔وہ حویلی جس کا رعب و دبدبا پوری ریاست کی گلی کوچوں میں تھا آج ہر طرف راجہ اندر پرتاب کی ذات کے بھجن گا رہا تھا۔چھوٹے موٹے نوابوں نے اپنا گٹھ جوڑ راجہ اندر پرتاب سے کر لیاتھا۔ریاست کے تمام انتظامی امور کی نگرانی راجہ اندر پرتاب کو سونپ دی گئی تھی۔
نواب صاحب تنہا ہو گئے تھے۔لیکن وہ اس صدمے کو برداشت کر گئے۔
اب ان کا زیادہ وقت اپنی خواب گاہ میں ہی گزرتا تھا۔
نواب صاحب کی حالت ان دنوں کافی ناگفتہ تھی۔بڑی بیگم کے انتقال کے بعد ان کی زندگی ویران ہو کر گئی تھی۔ بڑی بیگم سے وہ بے انتہا پیار کرتے تھے۔ ریاست کے ہر امور میں وہ ان سے مشورہ ضرور لیتے تھے۔اور بڑی بیگم کی علم و دانش کا پیکر تھیں۔ فارغ اوقات میں وہ ہم لوگوں کو علم و دانش کی باتیں سکھایا کرتیں تھیں۔ان سے خاص کر مجھے سیکھنے کو بہت کچھ ملا تھا۔ان کا رویہ میرے ساتھ اتنا شفقت آمیز تھا جیسے میں ان کا حقیقی بیٹا ہوں۔خود نواب صاحب بھی مجھ کو اپنے بیٹوں کی طرح چاہتے تھے۔بیگم صاحبہ اولاد کی خواہش لئے ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئیں تھیں۔خود نواب صاحب کی اولاد کے لئے بیقراری کو میں نے کئی بار محسوس کیا تھا۔لیکن ان کے نصیب میں یہ نعمت نہیں تھی جس پہ کف افسوس ملنے کے کچھ نہیں کیا جا سکتا تھا۔
بیگم صاحبہ کے جانے کے بعد نواب صاحب نے بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا تھا۔پھر رشتہ داروں اوردوسرے مصاحبوں کے اصرارپر نواب صاحب نے نواب سلطان خان کے ہاں سگائی کر لی۔نواب سلطان کی بیٹی گل سیمیں حسن و شبا ب میں اپنی مثال آپ تھی۔کچھ ہی دنوں کے بعد شادی طے ہونا پائی تھی مگر بغاوت ہو جانےکے سبب یہ معاملہ کچھ دنوں کے لئے ملتوی کر دیا گیا تھا۔
۔
۔میں اصطبل میں اپنے گھوڑے کو نہلا رہا تھا کہ نیلاں بی بی جو نواب کی پرانی خدمت گزار تھیں نے مجھے آواز دی۔
اکبر خان۔
میں نے چونک کر سر اٹھایا۔
نواب صاحب تیرے کویاد فرما رہے ہیں۔اتنا کہہ کر وہ ایک جھٹکے سے مڑی اور واپس چل دی۔
آج کافی دنوں کے بعد نواب صاحب نے مجھے یاد کیا تھا۔ورنہ تو وہ کافی مہینوں سے خلوت نشیں تھے۔
میں نواب صاحب کی خواب گاہ کے سامنے آ کر رک گیا۔
اور دروازے پہ ہلکی سی دستک دی۔
آ جاؤ اکبرخاناں۔
نواب صاحب کی بھاری بھرکم آواز مجھے سنائی دی۔
میں اندر داخل ہو گیا۔
اندر نواب صاحب ٹہل رہے تھے۔
میں دروازے کے ایک طرف کھڑا ہو گیا۔
نواب صاحب کا چہرہ غصے کی میں تمتما رہا تھا۔وہ بار بار اپنی مٹھیاں بھینچ رہے تھے اور خود سے باتیں کئے جا رہے تھے۔
کیا ہوا حضور ۔بالآخر میں نے ہمت کر کے پوچھا۔
نواب صاحب نے ایک گہری سانس خارج کی ۔
اور اپنی شاہی مسہری پہ بیٹھ گئے۔
اسنے ہماری انا کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ہمیں للکارا ہے۔نواب صاحب دھاڑتے ہوئے بولے ۔
وہ نہیں جانتا کہ وہ کس سے الجھ بیٹھا ہے۔میں اس کا وہ حال کروں گا کہ زمانہ یاد رکھے گا۔
وہ مٹھیاں بھینچ کر غضیلے لہجے میں بولے۔
نواب میرے باپ سمان تھے۔آج مین زندہ تھا تو صرف ان کی وجہ سے ورنہ میری لاش کسی کوڑے کرکٹ کے ڈھیر میں سے برآمد ہوتی۔ میں نے اپنی تمام سانسیں ان کے نام وقف کر دیں تھیں۔
آج میں ان کے چہرے پہ غصہ ، کرب اور تکلیف کے ملے جلے تاثرات دیکھ رہا تھا۔
آج ہماری غیرت کی چادر کو تار تار کر دیا گیا ہے اکبر خاناں۔آج ہماری انا کی دستار کو اپنے پیروں تلے روند دیا گیا ہے۔آج ہماری عزت کو غیروں نے نیلام کر دیا ہے۔ اور ہم کچھ نہیں کر سکے ۔آخری بات کہتے ہوئے نواب صاحب کی آواز بھرا گئی۔
میں آج تک نواب صاحب کو اتنا بے بس اور لاچار کبھی نہیں دیکھا تھا۔
وہ وقت تھا کہ جب نواب صاحب کے سامنے بڑے بڑے نواب تھر تھر کانپنے لگتے۔
بڑے سے بڑا مائی کا لال ان سے نظرین ملانے کی جرات نہ کر سکا تھا۔آج ان کے چہرے پہ شکست کے آثار صاف نظر آ رہے تھے۔کچھی مہینوں میں ہی وہ بیمار اور پزمردہ ہو گئے تھے۔ورنہ ان کا چہرہ ہر وقت شگفتہ اور جازب نظر آتا تھا۔
آج ان کو اس طرح بے بس اور لاچار دیکھ کر میراپارہ چڑھ گیا تھا۔
میں اپنی تلوار میان سے نکالی اور گھٹنوں کے بل جھکتے ہوئے کہا۔
نواب صاحب آپ پہ جان بھی قربان۔
مجھے اس حرامی کا نام بتا دیں جس نے آپ کو اذیت پہنچائی ہے۔میں اس کا وہ بھیانک انجام کروں گا کہ موت بھی کانپ اٹھے گی۔
میں نے غصے سے کانپتے ہوئے کہا۔عام طور پر میرے منہ سے گالی یا اس طرح کے برے القابات کبھی ادا نہیں ہوئے تھے مگر نواب صاحب کی بیچارگی دیکھی نہیں جا رہئ تھی۔
اور بے ساختہ میرے منہ سے نواب صاحب کے دشمن کے لئے گالی نکل گئی۔ہماری منگیتر
نواب زادی گل سیمیں کا رشتہ ایک دوسری ریاست کے نواب سے کر دیا گیا ہے۔
ہم سے ایک بار پوچھا تک نہیں گیا اکبر خاناں۔ہمارے مخبر نے کل ہی ہمیں یہ اطلاع پہنچائی ہے۔
مجھے شدید دھچکا لگا۔نواب سلطان تو نواب صاحب سے خاصی رغبت رکھتے تھے۔ہر دوسرے تیسرے روز وہ لازمی حویلی میں تشریف لاتے اور ان کے لئے ضیافت کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ۔
انکی طرف سے انکار اچنبھے والی بات تھی۔نواب صاحب کی حالت میں سمجھ سکتا تھا۔اس وقت ان کا وجود کس اذیت سے گزر رہا تھا وہ ان کے چہرے پر کھلی کتاب کی طرح عیاں تھا۔
آپ حکم دیں حضور۔میں گل سیمیں کو آپ کے قدموں میں لا پھینکوں گا۔
نواب صاحب نے عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھا۔
میں تجھے کھونا نہیں چاہتا میرے بچے۔
نواب صاحب نے لرزتی آواز میں کہا۔
سلطان کی حویلی پہ درجنوں پہرے دار موجود ہیں۔ ریاست کے سارے راجاؤں نے اپنی اپنی فوج کے بندے وہاں تعینات کر دیئے ہیں۔ انھیں ہماری طرف سے کسی بھی انتہائی قدم اٹھنے کی توقع ہے جو تم کرنے جا رہے ہو۔
ہماری حویلی کی کڑی نگرانی ہورہی ہے۔تم نے ایسی جلد باری میں کوئی قدم اٹھایا تو دھر لئےجاؤ گے۔انھوں نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا اور پھر گو یا ہوئے۔
اور یہ سب کچھ ہمارے ازلی دشمن راجہ اندر پرتاب کا کیا دھرا ہے۔اس کی حویلی میں موجود ہمارے مخبر نے اطلاع دی ہے کہ یہ ساری سازش راجہ اندر پرتاب کی حویلی میں رچی ہے۔اس نے ہمیں نیچا دکھانے کے لئے یہ سوانگ رچایا ہے۔ریاست کے تما م نوابوں کو اس نے اپنی حویلی میں ضیافت پہ بلایا اور ہمارے خلاف ایک اتحاد بنایا۔وہ کئی بار ہماری وجہ سے ہزیمت اٹھا چکا تھا۔بغاوت نے اسے سر اُٹھانے کا موقع دیا ہے اور اب وہ ہماری تذلیل میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتا۔نواب سلطان کو اس نے تحفظ اور ساتھ میں ریاست میں اعلیٰ سطح کے عہدے کا بھی وعدہ کیا ہے۔اس لئے اس نے بھی انکی آشیرباد سے ہمارے خلاف بغاوت کی اور گل سیمیں کا رشتہ دوسری جگہ کر دیا۔اب وہ چونکنے ہیں۔ان کی نظریں ہماری طرف ہیں۔ایسے میں ہماری طرف سے اٹھایا گیا کوئی بھی جارحانہ قدم راستے میں ہی روک لیا جائیگا۔
جانتا ہوں تم اکیلے پوری فوج سے لڑ سکتے ہو ۔مگر یاد رکھو۔دشمن کو موت کے گھاٹ اتار دشمنی کے اصولوں کے خلاف ہے۔
میں چاہتا ہوں تم اسے ایسی اذیت دو جس سے لمحہ بہ لمحہ و ہ تڑپتا رہے۔وہ موت مانگے مگر موت اسے نہ آئے۔ہمیں اب گل سیمیں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔جلد ہی ہم بھی سردار حق داد کی بہن سے شادی کرنے والے ہیں۔
ان سے ہم نے بات کر لی ہے۔آخری بات میں وہ دھماکہ کرتے ہوئے بولے۔
میری حیرت سے سٹی گم ہو گئی۔میں آنکھیں پھاڑے انھیں دیکھتا رہا۔
بات کو ٹھنڈے دماغ سے سمجھنے کی کوشش کرو۔وہ میرے چہرے پہ آئی حیرت کو دیکھتے ہوئے بولے۔ہماری شادی لوگوں کے منہ بند کرنے لئے ہو گی۔ہماری طرف سے کچھ مہینوں کے لئے کسی قسم کا کوئی ردِعمل نہیں آنا چاہیئے۔
ہم انھیں اپنی شکست کا احساس دلائیں گے۔جب وہ جیت کے نشے میں نڈھال ہونگے تب ہم ان پہ کاری وار کریں گے کہ انکی روحیں صدیوں تک بلبلاتی رہیں گیں ۔آخری بات کہتے ہوئے انکی آنکھوں سے چنگاریاں پھوٹنے لگیں۔
ہمیں کرنا کیا ہو گا۔میں نے الجھے ہوئے لہجے میں کہا۔
تمہیں کیا کرنا ہوگا۔وہ گہرے لہجے میں بولے۔
پھر وہ اپنے منصوبے سے مجھے آگاہ کرنے لگے۔
جوں جوں میں سنتا گیا میرا دماغ سن ہو گیا۔نواب صاحب ایک انتہائی خطرناک منصوبہ بنائے ہوئے تھے۔اور یہ تقریبا ناممکن کام تھا۔جس میں بہت زیادہ خطرہ تھا۔لیکن نواب صاحب کو میری صلاحیتوں پہ پورا بھروسہ تھا۔ اور میں انکا بھروسہ کبھی بھی ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا تھا۔
میں پوری توجہ سے انکی ساری بات سن رہا تھا۔اور ان کے ایک ایک لفظ کو ذہن نشین کرتا رہا۔
ان کی پوری منصوبہ بندی سننے کے بعد میں انکو داد دئے بیغیر نہ رہ دسکا۔اگر چہ یہ منصوبہ جو ایک کٹھن اور انتہائی خطرناک تھا گر کامیاب ہو جاتا تو نواب صاحب نہ صرف اپنے دشمنوں کو شکست فاش دینے میں کامیاب ہو جاتے بلکہ ان کو اپنا کھویا ہوا مقام بھی مل جانا تھا۔
لیکن اس میں کئی پہلو ایسے تھے جو خاصے بحث طلب تھے جس کے تسلی بخش جواب مجھےملے۔نواب صاحب کے منصوبے میں بظاہر کوئی جھول نہ تھا۔
خاصی دیر بعد تک ہماری گفت و شنید اسی خاص موضوع پہ ہی ہوتی رہی۔
اس منصوبے پہ عمل پیرا ہونے کے لئے مجھےایک خاص بندے کی ضرورت تھی اور اس کے لئے نواب صاحب نے شنکر کو میرے لئے چنا۔بقول ان کے شنکر جیسا کائیاں بندہ میرے اس معرکے کے لئے کافی مددگار ثابت ہو سکتا تھا۔شنکر آزمودہ تھا۔اور سب سے بڑھ کر میرے بچپن کا دوست۔اس کام کے لئے اس کے سوا کسی پہ بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔
مزید کچھ قیاس آرائیوں کے بعد میں نے ان سے اجازت چاہی اور اپنے کمرے میں آکر سوچ بچار کرنے لگا۔
رات بہت ہو چکی تھی۔
لیکن میری آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔
میرے پورے وجود میں سنسنی دوڑ رہی تھی۔نواب صاحب کی تکلیف کو میں سمجھ رہا تھا۔نواب زادی گل سیمیں انھیں بہت پسند تھیں۔نواب صاحب کو شاعری سے کافی شغف تھا۔اور گل سیمین بھی اردو اور فارسی شاعری میں ملکہ رکھتی تھی۔
نواب صاحب اور گل سیمیں کا جب کبھی آمنا سامنا ہو تا تو نواب صاحب لازمی کوئی مصرع اچھالتے تھے۔تو اس کا جواب بھی اعلیٰ ملتا۔تو وہ عش عش کر اٹھتے۔
یوں یہ لمحوں کی ملاقات امر ہو جاتی تھی۔
بظاہر وہ گل سیمیں کے حوالے سے لاپرواہی دکھا رہے تھے مگر میں ان کی رگ رگ سے واقف تھا۔ بڑی بیگم کے بعد اگر وہ کسی سے مانوس اور مرعوب ہوئے تھے تو وہ گل سیمیں کی واحد ذات تھی۔جس کے جدا ہونے کا انھیں شدید قلق تھا۔اور اس اندو غم میں وہ گوشہ نشیں ہو گئے تھے۔گل سیمیں بھی عمر کے واضح فرق ہونے کے باوجود نواب صاحب کو بہت پسند کرتی تھی۔اسکی آنکھوں میں نواب صاحب کے لئے بارہا پسندیدگی کی جھلک دیکھی تھی۔
اچانک دروازے پہ ہلکی سی دستک ہوئی۔اس مانوس دستک کو میں لاکھوں میں پہچان سکتا تھا۔
میں نے دروازے کی کنڈی کھولی تو سردی میں یخ بستہ اور ٹھٹھرتا وجود میرے سینے سے آ لگا۔
میں نے بھی گرم جوشی سے اسکو زور سے خود سے چمٹا لیا۔اور آستگی سے دروازے کو کنڈی لگا دی۔
آج منہ کیوں اترا ہوا ہے میرے چاندکا۔
نور میرے منہ میں نوالا ڈالتے ہوئے بولی۔
نوالہ میرے حلق میں پھنس گیا۔اور مجھے زور سے کھانسی آ گئی۔
اس نے جلدی سے پانی کا گلاس میرے لبوں سے نکالا۔
کیا ہو گیا ہے آپکو خاناں۔
وہ میرے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولی جو زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
ہائے( )۔وہ نرم و گداز ہاتھ میرے سینے سے ہٹاتے ہوئے اپنے سینے پہ رکھتے ہوئے بولی۔آپ کا دل کس قدر زور زور سے دھڑک رہا ہے۔
بولیں کیا بات ہے۔مجھ سے کچھ نہ چھپائیں۔وہ اپنے دونوں ہاتھ میرے گالوں پہ رکھتی ہوئی فکر آمیز لہجے میں بولی۔
کچھ نہیں چندا۔
میں نرمی سے اس کے ہاتھ اپنے گالوں پر سے ہٹا کر بولا۔
نہیں۔کچھ تو ہے۔وہ پر اصرار لہجے میں بولی۔آج اتنے دنوں بعد مجھ سے مل کر بھی خوش نہیں ہو رہے۔کچھ تو ہے نا۔
کچھ بھی تو نہیں ہے۔
میں نے اس کے دونوں ملائم ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے کہا۔
میں کیا بتاتا کہ نواب صاحب نے ایک ایسے کام میرے سپرد کر دیا ہے جو میری شان کے خلاف تھا۔ایک مرد کی شان کے خلاف تھا۔اور اگر نور کو بتا دیتا تو شاید وہ مجھ سے منہ پھیر لیتی۔عورت کی ذات بڑی عجیب ہے۔اپنی ذات میں ایک سائبان ہے۔جو خود تو دھوپ میں جھلستی ہے مگر اپنے چاہنے والے کو اس کی تمازت سے ہمیشہ بچاتی ہے۔اپنے آنکھوں میں بے انتہا سہانے خواب سجا کر رکھتی ہے۔ لیکن ہم مرد بہت چالاک ہوتے ہیں۔جو ان خوابوں کو کھنگال لیتے ہیں جن کو چھپانے کے لئے وہ لاکھ جتن کرتیں ہیں۔
لیکن اگر اس سائیباں میں شک کی دھوپ پڑ جائے تو اس تناور درخت کی جڑیں کھوکھلی ہو جاتی ہیِں۔قوس قزح کو بد اعتمادی کی تیز چمک معدوم کر دیتی ہے۔
نور مجھ سے والہانہ لگاؤ رکھتی تھی۔ہماری محبت کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں تھی۔اور ہم دونوں کے درمیاں کچھ بھی چھپا ہوا نہیں تھا۔اور آج اس نے میرے دل میں چلنے والی آندھیوں کو محسوس کر لیا تھا۔میں ہر بات دنیا سے چھپا سکتا تھا مگر نور ایک نظر میں ہی میری ہر کیفیت کو بھانپ جاتی تھی۔اور آج بھی اس نےمیرے وجود میں ابھرنے والے طوفان کی لہریں محسوس کر لیں تھیں۔
سچ کہہ رہے ہیں۔ وہ ڈبڈبائی آنکھوں سے بولی۔
غزالی آنکھوں سے جیسے جام چھلکنے کو تھا۔
میں تڑپ کے رہ گیا۔
میں نے زور سے اس کو خود سے لپٹا کر لیا۔اس کا بھر بھر ا نرم و نازک وجود سوکھے پتے کی طرح کانپ رہا تھا۔
کافی دیر تک ہم اسی انداز میں بیٹھے ایک دوسرے سے ہمکلام ہوتے رہے۔دھڑکنوں سے دھرکنیں ٹکرا کے گویا طلاطم برپا کر رہی تھیں۔
نور کےجسم سے انتہائی دلفریب خوشبوِ عبیر امنڈتی میری ناک سے ٹکرا رہی تھی۔
اس کی تپتی سانسوں کی گرمی میں اپنے سینے پہ محسوس کر رہا تھا۔
اچانک مجھے سوں سوں کی آواز سنائی دی۔میں نے اس کے شانوں سے پکڑ کر اٹھایا سیدھا کیا اور اس کا گلابی چہرہ اوپر اٌٹھایا۔
آنسوں کی ایک پتلی سی لکیر اس کی ان سمندر کی سی گہری آنکھوں سے پھوٹ رہی تھی۔
کمان کی طرح ترشے لب ہلکے ہلکے کپکپا رہے تھے۔آنکھوں کی پتلیاں ساکت و جامد میرے چہرے پہ مرکوز تھیں۔بخدا یہ محبت کی انتہا تھی۔اس عدیم النظیر محبت کے سامنے سبھی عاشقوں کے قصے ہیچ تھے۔مجنوں اگر زندہ ہوتا تو اس محبت پہ رشک کر رہا ہوتا۔
میں نے جھک کر اس کی آنکھوں سے چھلکتے جام کو اپنے منہ میں بھر لیا۔
بتائیں کیا ہوا ہے۔ آج اتنے کیوں پریشان ہیں۔ جانتے بھی ہیں آپ کی ذرا سی بھی پریشانی مجھ سے دیکھی نہیں جاتی۔وہ ہنوز اپنی بات پہ مصر تھی ۔
کچھ بھی نہیں ہے۔میں نے اس کی چمکتی پیشانی پہ ہولے سے بوسہ دیتے ہوئے کہا۔
ہلکا سا بخار ہے بس۔ابھی حکیم صاحب نسخہ دے گئے ہیں۔
میں نے پہلی بار نور سے جھوٹ بولتے ہوئے کہا۔نہ جانے کیوں آج مجھے اپنا لہجہ بھی اجنبی لگ رہا تھا۔
اس نے میرا ہاتھ اٹھایا اور اپنے مرمریں ہونٹ میرے ہاتھ کی پشت پہ رکھ دئے۔
میں گہرا سانس لے کر رہ گیا۔
نور میری عبودیت میں بے حد آگے بڑھ چکی تھی۔میری ذرا سی پریشانی بھی وہ بے حد تشویش کا اظہار کرتی تھی۔ضرورت سے زیادہ محبت بھی کبھی کبھی مشکلات کا سبب بن جاتی ہے مگر میں نےاپنی متاع جان کے ہر محبت بھرے جذبے کو دل وجان سے قبول و منظور کیا تھا۔
آج میں نے پہلی بار اس سے جھوٹ بولا تھا۔جو اس نے آنکھیں بند کر کے یقین کر لیا تھا۔
میں نے اسے اپنے ساتھ ہی مسہری پہ لٹا لیا اور رضائی اوپر اوڑھ لی۔
اس کا سر میرے سینے پہ تھا۔
خدا آپ کے سارے دکھ درد مجھے دے دے۔وہ میرے سینے سے سر اٹھاتے ہوئے میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی۔چراغ کی روشنی میں اس کے چہرے کی حد درجہ معصومیت دل کو بھلی لگ رہی تھی۔
میں نے اپنے بازؤں کوجوڑ کر اسے کھینچ کر مزیداپنے قریب کر لیا اور اپنےایک بازو کا تکیہ بنا دیا ۔اس نے اپنا سر وہیں ٹکا دیا اور اپنے چہرے کا رخ میری طرف کر دیا۔
خاناں۔ آپ شاید نہیں جانتے۔عورت اپنی زندگی میں ایک خواہش ایسی کرتی ہے جو کبھی بھی پوری نہیں ہوتی۔
میری خواہش صرف آپ کا قرب ہے۔
میرے لبوں پہ ہر وقت آپ کے نام کی تسبح کا ہی ورد ہوتا ہے۔
مگر ناجانے کیوں میرا دل مطمئن نہیں ہوتا۔
مجھے ہر وقت یہی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کوئی آپ کو مجھ سے چھین ہی نہ لے۔
وہ گہرے لہجے میں بولی تو میرا دل کٹ سا گیا۔
عورت چاہے فاحشہ ہو یا سات پردوں میں چھپی پردہ نشیں۔زندگی میں وہ ایک بار سچی محبت ضرور کرتی ہے۔وہ چاہتی ہے کہ کوئی اس کے سپنوں کا راج کمار ہو جو اس سے اپنی ہر بات منوائے۔جو اس کے جسم وجان کے زرے زرے پہ حکومت کرے۔اور جب کوئی اس کے دل کے چور خانے میں اتر جاتا ہے تو پھر اپنے محبوب کی عبادت میں ساری عمر گزار دیتی ہے۔اس کے چھوٹے چھوٹے خوابوں میں ایک چھوٹا سا گھراور چھوٹے چھوٹے بچے ہوتے ہیں ۔جس میں وہ اپنے مجازی خدا کیساتھ اپنی انگنت خوشیوں کے میلے لگاتی ہے۔
نور کی چاہت روز اول سے مجھ پہ عیاں تھی۔میں ہی اسکی خوشیوں کا محور تھا۔اور اس کے جذبات و احساسات کو میں کبھی بھی ٹھیس نہیں پہچانا چاہتا تھا۔بلاشبہ میری ریگستانی زندگی میں نور نخلستان تھی۔
لیکن میری وفاداری میری محبت سے کہیں بڑھ کر تھی۔
میں نے بار بار اپنے دل کو ٹٹولا مگر انصاف کے ترازو میں محبت سے زیادہ وفاداری کا پلڑا بھاری رہا۔
نواب صاحب کے میری زندگی پہ اتنے احسان تھے جنھیں میں اپنی جان کا نذرانہ دے کر بھی نہ چکا سکتا تھا۔
لیکن میں محبت اور وفاداری میں توازن رکھنا چاہتا تھا جس میں میں ناکام ہو جاتا تھا۔
نور اور بھی بہت کچھ بول رہی تھی مگر میں کچھ بھی نہیں سن رہا تھا۔
یکلخت میں نے اس کے بھربھرے ہونٹوں کو ہولے سے چوم لیا۔
نرم و لطیف لبوں کے ٹکراؤ سے جیسے بجلی کوند گئی۔شہد آنگیں لبوں کی حرارت میں نے اپنے لبوں میں لی تو دنیا کے سارے غم و رنج اسی مٹھاس میں گھل کر غرق ہو گئے۔
میں اس کے لبوں کو بری نرمی سے چومتا رہا۔وہ ماہی بے آب کی مانند تڑپ رہی تھی۔
میں نے اپنا بازو اس کے سر کے نیچے سے نکلا اور خود اوپر آ گیا۔
اس نے کسمسا کے نکلنا چاہا مگر میں نے اس کے دونوں بازو پکڑ کر اس کی سعی ناکام کر دی۔
میرا لن اکڑ کر اس کی قمیص کے اوپر ہی اوپر سے اس کی نرم وملارم پھدی سے ٹکرا رہا تھا۔
میں نے ان آنکھوں میں جھانکا جہاں ہزاروں التجائیں رقص کر رہی تھیں مگر میں آج کی رات کو امر کر دینا چاہتا تھا۔
میں نے ان التجاؤں کو نظر انداز کیا اور مخملی گردن پہ جھک گیا۔
میں نے جیسے ہی گردن کے نرم و نازک گوشت کو اپنے لبوں میں بھر کر چوما۔اس نے اپنی پوری طاقت کو مجتمع کرتے ہوئے میرے نیچے سے نکلنے کی کوشش کی۔مگر میں نے اپنی گرفت زیادہ مضبوط کر دی۔اس کشمکش میں میرا اکڑا ہوا لن پھدی کی نرم دیواروں سے رگریں کھانے لگا جس نے میرے اندر ابھرتی حرارت کو تیز کر دیا تھا۔زبان کے علاوہ اس کا پورا جسم مزاحمت کر رہا تھا ۔میں نے ساری مزاحمت کو ختم کر دیا۔
اور اسکی گردن کو چوپنے چاٹنے لگا۔اس کی بھربھری چھاتیوں کی تپش میں اپنے سینے پہ بخوبی محسوس کر رہا تھا۔
اس کی مزحمت بھی دھیرے دھیرے کم ہوتی گئی اور بالآخر معدوم ہو گئی۔
اس کی خود سپردگی کو میں نے محسوس کرتے ہوئے جھٹ سے اس کے کپڑے اتار دئے۔
اس کا گورا بے داغ بدن طلسم ہو شربا کا ایک رنگین منظر پیش کر رہا تھا۔
ٹمٹماتے چراغ کی روشنی اس کے جسم سے ٹکرا کر گویا پورے کمرے میں پھیل رہی تھی۔
شرم کے مارے اس کے چہرے کی سرخی میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا تھا۔
وہ اپنی بھر بھری چھاتیوں کو اپنے کمزور سے ہاتھوں میں چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
میں نے اپنے کپڑے اتار کے ایک طرف پھینکے اور اس کو اپنے ساتھ زور سے چمٹا لیا۔
آہہہ۔۔لذت سے میرے منہ سے ایک کراہ نکل گئی۔
اس کا جسم آگ کی مانند تپا ہوا تھااور ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔
میں نے اس کے ننگے کندھے پہ اپنے لب رکھ دیے۔
وہ تڑپ گئی اور میری کمر پہ اپنی گرفت سخت کر دی۔
میں نے اس کے گالوں ،پیشانی اور گردن پہ بوسوں کی بوچھاڑ کر دی۔
مجھے اپنے پیٹ اور ٹانگوں پہ کسی گیلی چیز کا احساس بھی ہو رہا تھا جو اس کے آب شباب کےنکلنے کی دلیل تھا۔میرے لن اب سانپ کی مانند پھنکار کر بل میں جانے کو تیا ر تھا۔
میں نے اس کو نیچے لٹا یااور اس کی ٹانگیں کھول دیں۔اس کی پھدی لیس دار مادے سے لتھری ہوئی تھی۔
میں نے ایک نظر اس کی پھدی کی طرف دیکھا اور پھر نور کی آنکھوں میں جھانکا۔
اس نے شرما کر آنکھیں موند لیں

Posted on: 02:53:AM 23-Jan-2021


0 0 134 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 75 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com