Stories


سکول کی کہانی

نامکمل کہانی ہے

علی کی اوارہ گردی اب بہت بڑھ چکی تھی روز روز کی لڑائی سے اب گھر والے بھی تنگ تھے لیکن علی کو.ان سب کی پروا نہیں تھی اسے تو بس اپنی مستی میں رہنا پسند تھا
ایک دن علی کا ایک دوست علی سے ملنے ایا تو باتوں باتوں میں اس نے علی کو ایک ایسا مشورہ دیا جس کا علی صرف سوچ سکتا تھا لیکن کر نہیں سکتا تھا
اظہر: علی یار سکول شروع کر دو زیادہ نہیں تو میٹرک تو کر لو
علی:دل تو میرا بھی ہے لیکن سمجھ نہیں آ رہی کیا کروں اب کون مجھ جیسے لڑاکا لڑکے کو سکول میں رکھے گا
اظہر: کوشش کرو یار ہو سکتا ہے تمہیں ایڈمیشن مل جاۓ
ویسے سنا ہے پاس ایک نیا سکول کھلا ہے اور مزے کی بات ہے اس سکول کی پرنسپل بھی ایک لڑکی ہے تم اگر کوشش کرو تو تمیں داخلہ مل سکتا ہے
علی :چلو میں کوشش کر کے دیکھتا ہوں
علی ماں باپ کا بگڑا ہوا بیٹا جسے ہر کام میں اپنی مرضی کرنی ہوتی اسی وجہ سے آٹھویں تک پڑھ کر سکول چھوڑ دیا اور لڑائی جھگڑوں میں اپنی زندگی خراب کرنے لگا حقیقت میں اس کو اچھا برا بتانے والا کوئی نہیں تھا ویسے تو کافی زہین تھا اور اسی وجہ سے ہر کوئی اس کی عزت کرتا تھا لیکن لوگ اس کی عزت کم اور  ڈرتے زیادہ تھے. کیوں کے اس کی بات کا انکار کرنے والا بازار میں اس سے جوتیاں ہی کھا سکتا تھا کچھ سیاسی رکھ رکھاؤ کی وجہ سے ہر کوئی اس سے دبتا تھا خیر اگلی صبح گھر والوں کے لیے ایک حیران کن ثابت ہوئی جب علی نے یہ نوید سنائی کے وہ سکول داخلہ لینے جا رہا ہے پہلے تو سب نے خوب سنائیں پھر اجازت دے دی
علی تیار ہو کر گھر سے نکلا اور پیدل ہی سکول کی طرف چل دیا دس منٹ کے بعد علی پرنسپل کے آفس میں تھا سکول کوئی بہت بڑا نہیں تھا لیکن اچھا تھا اس سکول کی ایک خاص بات یہ تھی یہاں زیادہ تر فیمیل اساتزہ تھیں
علی جب آفس میں داخل ہوا تو اسے پرنسل نہیں نظر ائی بقول کلرک کے وہ کلاسز وزٹ کرنے گئی ہیں خیر علی نے سکول میں اپنا داخلہ کروایا اور گھر واپس آ گیا دو دن میں اس نے اپنی کتابیں اور باقی چیزیں پوری کی اور دو دن بعد سکول روانہ ہو گیا اب دیکھنے والے سمجھ نہیں رہے تھے دن کہا سے نکلا ہے لیکن علی ان سب کی پرواہ کیے بغیر ہی اپنی مستی میں چلتا ہوا سکول داخل ہوا
علی اپنے قد کی وجہ سے سب سے بڑا لگ رہا تھا اور اسمبلی میں اس کے ساتھی اس کو عجیب عجیب نظروں سے دیکھ کر اپس میں باتیں کرنے میں مصروف تھے علی ان سب کو ڈنگروں کی طرح دیکھ رہا تھا اسملی کے بعد علی کلاس میں ایا تو اسے یہ جان کر حیرت ہوئی کے اس کی کلاس میں لڑکیاں بھی موجود ہیں یہ ایک کو ایجوکیشن سکول تھا
لیکن یہ وہ وقت تھا جب علی نے کسی لڑکی سے سکس نہیں کیا تھا
کچھ دیر بعد کلاس شروع ہوئی اور علی کتابیں کھول کر دیکھنے لگا کہ کہا سے شروع کرے
پوری کلاس علی کو دیکھ کر مزاق کر رہی تھی علی نے اپنے غصہ پر کافی قابو کر رکھا تھا
ایسے میں کلاس میں پرنسپل داخل ہوئی لیکن علی اس کو دیکھ کر حیران رہ گیا 26 سال کی عمر کی لڑکی جس نے بلیو سوٹ پہنا تھا گلے میں دپٹہ کھلے بال شانوں تک اور جس چیز نے علی کو مدہوش کیا وہ اس کی چوڑی بھری ہوئی چھاتی اس نے آ کر روٹین ورک دیکھا اور ٹیچر سے باتیں کر کے جانے کے لیے مڑی تو اچانک سے رک گئی
پرنسپل: جو کلاس میں نیا لڑکا ایا ہے کون ہے کھڑا ہو جاۓ
ایک کڑک دار اواز کلاس میں گونجی
علی خاموشی سے کھڑا ہو گیا
پرنسپل: تمہارا نام کیا ہے؟
علی: جی میڈم میررراا نا نام ع علی ہے
سب کو ڈرانے والا ایک دم سے بھیگی بلی بن گیا
پرنسپل: سکول میں دھیان سے پڑھنا اور ہاں اگر کوئی شکایت آئی تو کان سے پکڑ کر سکول سے نکال دوں گی مجھے کسی قسم کی بدتمیزی نہیں پسند اور نا ہی کوئی فضول کام
علی:جججی میڈم کچھ نہیں کرو گا علی کو اس سب کی امید نہیں تھی علی کی اس وقت گانڈ پھٹ کر حلق میں آئی ہوئی تھی
پرنسپل: چھٹی سے پہلے تم آفس آؤ گے
علی :جی ٹھیک
علی دل میں سوچنے لگا یہ چنال ہے تو بڑی مست اس کے ممے دیکھ کر پتہ نہیں دل میں کیا ہونے لگا ہے اب یہ چھٹی وقت آفس بلا رہی ہے پتہ نہیں وہاں کہا ڈرامہ کر کے ماں چداۓ گی
پرنسپل چلی گئی تو علی کی جان میں جان آئی
سکول کا پہلا دن کافی بور تھا ہر کوئی اپس میں مصروف تھا علی نے بھی کسی پر دھیان نہیں دیا علی کلاس کی بچیاں دیکھ کر دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا یہاں ہر کسی پر نئی نئی جوانی تھی اور غور کرنے ہر پتہ چلایہاں ایک لڑکی تو بریزیر بھی نہیں پہن کر آئی جب اس کا سکارف تھوڈا سا سائیڈ پر ہوتا تو اس کے ممے کی جھلک دیکھ جاتی سارا دن یہی چلتا رہا
علی کلاس میں سب سے بڑاتھا علی کی عمر 17 سال اور باقی سبھی بچے14 اور15 کے تھے سکول ٹائم ختم ہونے کے بعد علی آفس گیا اورپرنسپل سے بات کی اس نے بھی کوئی خاص نہیں کہا اور علی گھر چلا گیا اگلے دن بھی کچھ خاص نہیں ہوا بس کل والی روٹین تھی چند دنوں میں ہی علی نے محنت اور لگن سے پوری کلاس میں اپنا لوہا منوا لیا علی ہر کام میں بہت تیز تھا پھر چاہے وہ پڑھائی ہو یا دوسری کوئی سر گرمی اب ہر کوئی علی سے دوستی کرنا چاہتا تھا لیکن علی ان سے الگ رہتا اس نے حمزہ کو اپنا دوست بنا لیا تھا حمزہ کلاس میں کافی زہین تھا کلاس میں حمزہ کی بہن بھی ہڑھتی تھی جس کا نام عالیہ تھا بقول حمزہ کے عالیہ اور حمزہ جڑوا تھے عالیہ کی عمر 14 سال تھی اس نے ابھی ابھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تھا اس کے چھوٹے چھوٹے ممے ابھی جوانی کا سفر طے کرنے میں مصروف تھے اور ابھی سے کسی چھوٹے مالٹے کی طرح تھے عالیہ کی ایک خاص بات جو اسے سب سے الگ کرتی تھی وہ اس کا لمبا قد اور گہری نیلی انکھیں تھی  بہت جلد علی کی زہانت پورے سکول میں پھیل گئی اور علی کو سارا سکول عزت کی نظر سے دیکھنے لگا اس دوران علی کو پتہ چلا اس سکول کی مالک پرنسپل کا نام ریحانہ ہے اور اس کے علاوہ اس کی ایک اور پاٹنر بھی ہے جس کا نام فرزانہ ہے اور یہ دونوں اپس میں کزن ہیں یا یوں سمجھ لو دو جسم ایک جان ہیں دونوں کے جسم بھی خوب بھرے ہوے تھے ان دونوں میں جو خاص تھا وہ ان دونوں کے ممے تھے جب یہ چلتی تو دیکھنے والا اپنا لن مسل کے رہ جاتا فرزانہ بھی اسی سکول میں پڑھاتی ہے اور وہ سکول کے معاملات میں زیادہ دخل اندازی نہیں کرتی .ایک دن علی کلاس میں کام کر رہا تھا کے آفس سے علی کو بلایا گیا
علی آفس ایا تو دیکھا ریحانہ اور فرزانہ دونوں بیٹھی ہیں اور کسی بات پر بات کر رہی ہیں علی اجازت لے کر اندر گیا تو اسے بیٹھنے کو کہا
ریحانہ: علی ہم نے تمہاری زہانت کا کافی سنا ہے اور تم کو بتا دوں ہر سال ہمارے سکول میں شہر بھر کے سکول کے ساتھ ایک کوئز مقابلہ ہوتا ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارا سکول پچھلے 5 سال سے ایک بار بھی نہیں جیت سکا ہم چاہتی ہیں اس بار سکول کی طرف سے تم حصہ لو
علی: میم مجھے خوشی ہے اپنے مجھ پر اعتماد کیا اور مجھے امید ہے میں اپکی امید ہر پورا اتروں گا
ریحانہ: علی تمہارے پاس اس کام کے لیے ایک ہفتہ ہے اور اس ایک ہفتے میں تم کلاس میں 3 پریڈ کر کے آفس آ جایا کرو گے اور اپنی تیاری میرے سامنے کرو گے
علی: جی میم جیسے اپ کہیں علی نے دل ہی دل میں سوچا چلو اسی بہانے اس کے مموں کا بھی دیدار ہوتا رہے گا
اس دن کے بعد علی نے آفس جانا شروع کر دیا اور مقابلے کی تیاری شروع کر دی دوسرے ہی دن ایک عجیب بات ہوئی جس نے علی کی سوچ بدل دی ہوا کچھ یوں کے ریحانہ کو کسی نے فون پر کوئی دھمکی دی جس کے جواب میں ریحانہ کافی غصہ کرنے لگی اس دوران علی اس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا ریحانہ کا.منہ غصہ کی وجہ سے سرخ ہو چکا تھا اور سانس تیز چل رہا تھا جس وجہ سے اس کے ممے صاف ہلتے ہوۓ دیکھائ دے رہے تھے

علی نے ریحانہ کو دیکھا تو لن نے پینٹ میں انگڑائی لینا شروع کر دی علی کی نظر دونوں مموں کے درمیان ٹک سی گئی تھی وہ بھول گیا سامنے کون بیٹھا ہے اس کے دماغ میں بس ممے ہی گھوم رہے تھے جبکہ نیچے پینٹ میں لن اکڑ کر ایک تنبو سا بنا چکا تھا ایسے میں ریحانہ کی گراجدار آواز نے اسے واپس لایا
وہ فون ہر بات کر رہی تھی اس نے علی کی انکھوں میں دیکھ کر فون پر کہا 5 سال سے میں ٹیچر ہوں مردوں کی زہنیت میں جانتی ہوں اور فخر ہے اج تک کسی کی اتنی اوقات نہیں ہوئی جو میرے سامنے سر اٹھا سکے اور فون بند کر دیا
علی کا لن یہ سن کر بیٹھتا گیا لیکن علی کو یہ الفاظ ایسے لگے جیسے وہ الفاظ علی کو بولے گیے ہیں علی کا پینٹ میں ابھا ر ریحانہ کی نظروں میں آ گیا اور وہ اٹھ کر باہر چلی گئی
اس کے بعد علی نے سوچا وہ ریحانہ سے اس بات کا بدلہ ضرور لے گا اور اس نے ریحانہ کے نزدیک انا شروع کر دیا بات بات پر وہ ریحانہ سے سوال کرتا اور اسے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتا
علی مقابلے کی تیاری میں اتنا مصروف تھا کے اسے سکول کلاس اور آفس کے علاوہ کچھ یاد نہیں تھا کیوں کے علی کے پاس دو دن باقی تھے علی نے سوچا یہ دو دن کلاس نہیں لوں گا اور آفس جا کر تیاری کرو گا
علی اج گھر سے آ کر اسمبلی کے بعد سیدھا آفس چل پڑا آفس میں داخل ہو کر علی نے میم کو بتایا کہ وہ دو دن کلاس نہیں اٹینڈ کرے گا اور تیاری کرے گا
ریحانہ نے اجازت دے دی اور علی بکس کھول.کر پڑھنے لگا
علی نے محسوس کیا اج ریحانہ کچھ پریشان ہے اور کافی بیچین پھر رہی ہے
علی نے بک بند کی اور بولا
علی: میم میں کیا اپ سے کچھ پوچھ سکتا ہوں
ریحانہ خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی علی کی آواز سے واپس آ گئی اور بولی ہاں پوچھو لیکن آواز کافی کھوئی ہوئی تھی
علی: میم میں کچھ دنوں سے دیکھ رہا ہوں اپ کافی پریشان ہیں خیر تو ہے ؟
ریحانہ: مسکرا کر نہیں بچے ایسی کوئی بات نہیں اپ اپنا کام کرو
علی:میم جب کوئی میرے پاس ہو اور پریشان ہو کر کچھ چھپا رہا ہو تو میں خود الجھ جاتا ہوں
اس لیے پلیز بتا دیں نہیں تو میں ٹھیک سے تیاری نہیں کر سکوں گا
ریحانہ نے غور سے علی کو دیکھا اور مسکرا کر بولی بچے ہر بات کسی کو بتانے والی نہیں ہوتی
علی : پلیز میم بتائیں ہو سکتا ہے میں اپکی کچھ مدد کر سکوں
ریحانہ: مسکرائی اور بولی علی مجھے خوشی ہے تم نے میری پریشانی محسوس کی لیکن میں تمیں نہیں بتا سکتی ان باتوں کے لیے تم بہت چھوٹے ہو
علی:میم کیا پتہ میں چھوٹا ہو کر بھی اپ کے اس مسئلے کا حل نکال لوں لیکن اپ بتاؤ تو پھیر ہی ہے وگرنہ تو نہیں
ریحانہ: علی اپ مقابلے پر دھیان دو ان باتوں کا وقت نہیں ہے
علی :ویسےمیم اپ کے انداز سے لگتا ہے اپ اج گھر میں کسی سے جھگڑا کر کے آئی ہیں اور اپنے کھانا بھی نہیں کھایا
ریحانہ :حیران ہوتے ہوۓ لیکن تمہں کیسے پتہ چلا اور یہ کھانے والی بات تمہیں کس نے بتائی
علی : مسکرا کر میم میں اپ کی انکھوں جو پڑھ لیتا ہوں (اصل میں آفس اتے ہوئے علی نے باہر سے سن لیا تھا کے میم ریحانہ گھر پر فون کر کے اپنی ماں سے کسی بات پر جھگڑا کر رہی ہیں اور کھانےوالی بات بھی اس نے باہر ہی سنی تھی )
ریحانہ :تھوڑا غصے سے لیکن جلد ہی نارمل ہو کر مسکرائی اور بولی کتابیں پڑھو کسی کو پڑھنے کی ابھی تمہاری عمر نہیں ہے
علی:کتاب اٹھا کر میم کی طرف دیکھ کربولا تو میرا اندازہ ٹھیک ہے اب میں ارام سے پڑھ سکتا ہوں علی کا انداز اس وقت ایک معصوم بچے سا تھا
ریحانہ علی کو دیکھ مسکرائی اور روٹین وزٹ کے لیے کلاسز میں چلی گئی
علی نے کن اکھیوں سے اس کی مسکراہٹ دیکھ لی تھی علی کا پہلا تیر ٹھیک نشانے پر بیٹھا تھا اور اب علی اگے کی سوچ رہا تھا علی جانتا تھا اب بریک تک میم آفس نہیں ائیں گی اس لیے علی کے دماغ میں ایک ایڈیا ایا
علی نے کام والی ماسی کو بلایا اور اسے کچھ پیسے دیے اور کہا سموسے اور.کولڈ ڈرنکس میم نے منگوائی ہیں اور یہ بھی کہا ہے کے بریک میں واپس.لانا
اس نے پیسے پکڑے اور چلی گئی
علی بہت چالاکی سے ریحانہ کو اپنے جال میں پھنسا رہا تھا بریک سے کچھ پہلے کام والی ماسی نے سب کچھ آفس میں لا دیا اور واپس چلی گئی کچھ دیر بعد بریک ہو گئی علی خاموشی سے اٹھا اور باہر چلا گیا کچھ دیر میں جب ریحانہ واپس ائی تو سموسے اور کولڈ ڈرنکس دیکھ حیران رہ گئی کہ یہ کس نے منگوائی ہیں کچھ دیر سوچتی رہی اور پھر مسکرا کر اپنی کرسی ہر بیٹھ گئی
علی حمزہ کے پاس ایا اور بتانے لگا کہ تیاری خوب چل رہی ہے اور یہ بھی بتایا کےاس سال جیت ہمارے سکول کی ہی ہو گی عالیہ بھی علی کو دیکھ پاس ائی اور تیاری کا پوچھ کر اپنی نیک تمناؤں کا اظہار کیا کچھ دیر کے بعد بریک ختم کوئی اور علی واپس آفس آیا اور دیکھا میم ریحانہ بھی وہاں موجود ہیں علی خاموشی سے بکس نکالنے لگا تو ریحانہ نے اسے بلایا
ریحانہ:علی زرا یہاں آو میرے سامنے بیٹھو
علی:جی میم
ریحانہ :علی یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی
علی:میم اپنے صبح سے کچھ نہیں کھایا تو سوچا میں ہی کچھ منگوا لوں اخر اتنے دنوں سے میں بھی تو آفس میں اپکے ساتھ ہوں تو میرا حق بنتا ہے اپکا میں بھی کچھ خیال رکھوں
ریحانہ:لیکن علی میں یہ سب نہیں کھا سکتی تم میرے سٹوڈینٹ ہو
علی:میم اپ اس ناطے نا کھاؤ بلکے ایک دوست کے ناطے کھا لو اور اگر اپکو پھر بھی اچھا نا لگے تو کل مجھے کھلا کر حساب برابر کر دینا لیکن. آج تو اپکو کھانا ہی ہڑے گا
ریحانہ مسکرائی اور کھا ٹھیک ہے لیکن میں ایک شرط پر کھاؤں گی
علی:جی میم بولیں
ریحانہ :تم کو بھی میرے ساتھ کھانا ہوگا
علی:خوش ہوتے ہوۓ ٹھیک ہے میم میں بھی کھا لیتا ہوں اور پھر دونوں نے مل کر سموسے کھاۓ اور علی نے بکس نکال کر اپنی پڑھائی شروع کر دی چھٹی وقت علی جانے لگا تو ریحانہ نے علی کو شکریہ کہا اور علی مسکرا کر چلا گیا
اگلا دن مقابلے کا تھا اور تمام سکولوں کے بچے اپنے اپنے سکول سے حصہ لے رہے تھے سکول میں کافی گہما گہمی تھی سکول کے ہر بچے اور ٹیچر کی نظر علی ہر تھی ریحانہ نے علی کو بلایا اور سمجھا کر مقابلے میں بھیج دیا 1 گھنٹے کے مقابلے کے بعد وہ ہوا جو پچھلے 5 سال سے نہیں ہو رہا تھا علی نے اپنے سکول کو شہر بھر میں پہلی پوزیشن دلوا کر اپنا اور سکول کا نام روشن کر دیاسارا سکول خوش تھا اگلے دن اسمبلی میں پرنسپل نے علی کو انعام دیا اور پھر کلاس.میں بھیج دیا
کلاس.میں سبھی علی کی تعریف کررہے تھے خاص طود پر عالیہ اور حمزہ تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے اس کے بعد پڑھائی شروع ہو گئی   بریک میں پرنسپل نے علی کو آفس بلوایا اور شکریہ ادا کیا
ریحانہ:شکریہ علی مجھے تم سے یہی امید تھی
علی:میم شکریہ اپ کا اپ نے مجھ پر یقین کیا اور ویسے بھی میم اگر اپ شکریہ ادا کرنا چاہتی ہیں تو اپکو میرا ایک کام کرنا ہوگا
ریحانہ: ہاں علی بولو مجھے کیسے تمہارا شکریہ ادا کرنا ہوگا
علی:میم اپکو مجھ سے دوستی کرنا ہو گی ایک اچھے والا دوست جس سے میں اپنی ہر بات کھل کے کر سکوں اور اپ مجھ سے میں جانتا ہوں اپ بھی میری طرح اکیلی ہیں اور بہت سی باتیں اپ کر نہیں سکتی
ریحانہ :مسکرا کر مجھے خوشی ہوگی تم سے دوستی کر کے لیکن ہماری یہ دوستی سکول کی حد تک نہیں ہوگی یہاں ہم ٹیچر سٹوڈنٹ ہی ہوں گےلیکن اکیلے میں ہم دوست ہوں گے
علی: مجھے منظور ہے اور علی نے ہاتھ ملا کر باقاعدہ دوستی کا اعلان کیا
کچھ دن تو یہ دوستی چلتی رہی لیکن ایک دن سب کچھ تبدیل ہو گیا ہوا کچھ یوں کے سکول میں ایک بچے سے موبائیل ملا اور بچوں کے بقول وہ گندی مووی دیکھ رہا تھا بات پرنسپل تک گئی اور پرنسپل نے موبائیل لے لیا
کچھ دیر بعد علی کو افس سے بلایا گیا اورعلی کو موبائیل دے کر.کہا دیکھو اس.میں کیا ہے
علی کے زیہن میں ایک خیال ایا اور.اس.نے موبایل سے سکسی مووی چلا.کر ٹیبل پر.رکھی اور.خود.یہ.کہ کر چلا گیا.میں یہ.نہیں دیکھ سکتا
ریحانہ نے جب موبائیل دیکھا تو اس وقت ایک حبشی ایک لڑکی کو.ننگا کر.کے اپنا لن اس.کے منہ میں ڈال کر.بیٹھا تھا اور لڑکے مزے سے چوس رہی تھی کچھ دیر بعد ریحانہ کی حالت غیر ہو.گئی اور اس کی چوت میں پانی بھر گیا حوس کی وجہ سے اس کا چہرہ لال.ہو.گیا تھا اور انکھوں میں لالی دوڑنے لگی اس سے اب اور برداشت نہیں ہو رہا تھا اس نے موبائیل.بند کیا اور انکھیں بند کر کے بیٹھ گئی
چھٹی وقت اس نے علی کو پیغام بھیجا کے آج تم گھر نہیں جاؤ گے تمہارا ٹیسٹ ہے تم چھٹی کے وقت آفس آ جانا
علی کو غصہ تو بہت تھا لیکن علی چپ چاپ چلا گیا خیر جب چھٹی ہوئی تو علی آفس گیا
ریحانہ: علی تم اپنی ریاضی نکالو اور مجھے اج ٹیسٹ دو
علی نے بک دی اور سوال.پوچھ کر ان کو حل کرنے لگا 20 منٹ تک سب لوگ جا چکے تھے
ریحانہ:علی میری ایک بات کا جواب دے سکو گے
علی:جی پوچھیں
ریحانہ: علی کیا تم.نے کبھی کوئی ایسی مووی دیکھی ہے جو اج موبائیل میں تھی
علی: جی ہاں کافی بار
ریحانہ :تم ایسی گندی مووی کیسے دیکھ سکتے ہو
علی:میم اس عمر میں سب دیکھتے ہیں
ریحانہ :علی ہم دوست ہیں اگر دوست میں میں تم سے کچھ کہوں تو تم برا تو نہیں مانو گے
علی:نہیں میم بلکہ مجھے خوشی ہوگی اپکے کام آ کر
ریحانہ:علی میرے پاس آؤ
علی :جی میم
ریحانہ:تھوڑا خاموش رہ کر علی کیا تم.مجھے کس کرو گے
علی نے یہ سنا تو اس کی گانڈ پھٹ گئی اس نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ریحانہ مجھ سے یہ کہے گی
علی نے ہمت کی اور لرزتے ہونٹ ریحانہ کی گال ہر رکھ دیے
افففف اتنی نرم اور گرم.گال.علی کا دماغ ہی گھوم گیا اور اس نے دیکھا ریحانہ کی انکھیں گرمی سے بند ہو گئی ہیں اس کے چہرے سے ہلکاہلکا پسینہ آ رہٹ ہے جس میں ایک خوشبو سی طاری ہے
علی نے ہونٹ پیچھے کیے تو ریحانہ نے انکھ کھولی تو علی نے مسکرا کر دیکھا
ریحانہ شرما کر بولی کیا دیکھ رہے ہو
علی نے بھی پہلی بار کس کیا تھا اس لیے سمجھ نہیں پا رہا تھا کیا کرے اچانک سے  علی بھاگا اور گھر چلا گیا
ریحانہ اپنی پھدی مسل کر رہ گئی اگلے دن علی پھر چھٹی وقت افس تھا اور پھر سے بات کس سے شروع ہو گئی لیکن اج علی شیرتھا اس نے اگے بڑھ کر پہلے گال پر کس کیا پھر کچھ یاد اتے ہی رکا اور آفس کا ڈور لاک کر.دیا
ریحانہ: یہ کیا.کر رہے ہو
علی:میں نہیں چاہتا کوئی اۓ اور تمہیں ایسے دیکھے اور تم میری وجہ سے بدنام ہو جاؤ علی کے یہ الفاظ سن کر ریحانہ علی کو پیار کی نظر سے دیکھنے لگی علی. نے اگے بڑھ کے اسے پھر سے کس کیا تو ریحانہ نے منہ دوسری طرف کر لیا علی نے جب یہ دیکھا تو اور شیر ہو گیا اور اس کی گردن ہر اپنے ہونٹ رکھ دیے ریحانہ مووی دیکھ پہلے ہی گرم ہو چکی تھی علی کے اس عمل.نے اس کو پگھلا کر.رکھ دیا  علی نے اس کی گردن ہر کس کرتے ہوۓ اپنے ہاتھ اگے کی طرف بڑھا دیے اور ریحانہ کے مموں پر اپنے ہاتھ رکھ کر دبانے لگا
ریحانہ کے ممے افففففف اتنے نرم تھے جیسے روئی کے گال ہوتے ہیں علی کے ہاتھو کو اپنے مموں پر محسوس کر کے ریحانہ نے علی کو روکنا چاہا مگر اب دیر ہو چکی تھی علی کی پینٹ میں اب تنبو سا بن گیا تھا جو ریحانہ کو اپنی گانڈ کی دراڑ میں محسوس ہو رہا تھا اس نے علی کی طرف منہ کی اور اپنے ہونٹ علی کے ہونوں سے ملا دیے علی کو یو لگا جیسے اس نے اگ کے انگاروں پر ہونٹ رکھ دیے ہو اور علی نے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر کھانا شروع کر.دیا علی ایک منجھے ہوۓ کھلاڑی کی طرح ریحانہ سے کسنگ کر رہا تھا اس کے ہاتھ ریحانہ کی قمیض کے اوپر سے ہی اس کے بڑے بڑے مموں کودبا رہے تھے کچھ دیر کسنگ کے بعد علی نے اس کی گردن سے کسنگ کرتے ہوۓ ریحانہ کی کھلے گلے والی قمیض کے اوپر سے ہی اس کے مموں کو کس کرنے لگا اب ریحانہ سے کھڑا ہونا مشکل تھا اس نے اپنے اپ کو علی کے سپرد کر دیا علی نے اسے کرسی ہر بیٹھایا اور جھک کر اس کی قمیض کو اوپر کر دیا لیکن علی کے سامنے جو نظارہ تھ علی نے اس سے پہلے ایسا کچھ نہیں دیکھا تھا ایک سنگ مر مر سا جسم اس پرایک گہری کھائی کی طرح ناف علی نے اپنے ہاتھ مموں پر روک کر اپنے ہونٹوں کو کانپتے ہوۓ اس گورے بدن لر رکھ دیا اور اس کے پیٹ پر کسنگ کرنے لگا اور دانتوں سے ہلا ہلکا کاٹ کاٹ کر مزہ لینے لگا ریحانہ کی حالت غیرہو رہی تھی اس کے منہ سے مزے کی شدت کی وجہ سے سسکاریاں نکل.رہی تھی وہ بار بار اپنا سر ادھر ادھر پٹخ رہی تھی علی اس کے مموں کا مساج کر رہا تھا اور ہونٹوں سے اس کے بدن پر اپنے دانت گاڑ رہا.تھا
ریحانہ نے علی کو پیچھے کیا اور دونوں ہاتھوں سے اپنی قمیض اتار دی علی نے اس کے بریزئر میں قید بڑے بڑے مموں کو دیکھا تو پاگل سا ہو گیا علی نے اگے بڑھ کر اس کے مموں کو قید سے ازاد کیا اور ان پر بھوکے عقاب کی طرح جھپٹ پڑا اس نے اس کے گلابی نپلز کو دانتوں سے بڑی بے رحمی سے کاٹنا شروع کر دیا اور اس کے علاوہ زور زور سے دبانا شروع کیا اس سے ریحانہ کی سسکاریا ں اب ہلکی ہلکی چیخوں میں بدلنے لگی مگر علی اس سے بےپرواہ اپنے کام میں لگا رہا ریحانہ علی کے سر کو چوم رہی تھی اور اس کے ہاتھ علی کی شرٹ کے بٹن کھول چکے تھے مگر علی سیدھا نہیں ہو رہا تھا جس وجہ سے شرٹ ابھی بھی بازو میں جھول رہی تھی ریحانہ نے اب علی کو سیدھا کیا اورخود سے الگ کر کے علی کی شرٹ اتار کراس کو نیچھے قالین پر لٹا دیا اور خود علی کے اوپر بیٹھ کر علی کے چھاتی پر کس کرنے لگی اور ساتھ ہی ہونٹوں سے ہو کر اس کی گردن پر کس کتی ہوئی لیٹ گئی
علی نے ریحانہ کو اوپر اٹھا کر سائیڈ میں کھڑا کیا اور اپنی پینٹ اتار دی اب علی کا 7 انچ لمبا اور 2 انچ موٹا لن انڈروئیر میں فل کھڑا تھا جسے دیکھ کر  ریحانہ کو خوف انے لگا علی نے ریحانہ کی شلوار اتاری اس نے نیچے کچھ نہیں پہنا تھا ریحانہ کی پھدی بلکل صاف تھی اور چمک رہی تھی ایسا لگتا تھا جیسے ابھی صفائی کی گئی ہو
علی نے اس کی شلوار کو ایک طرف کیا اور اس کو لٹا کر اس کے مموں ہر کس کرتا ہوا اس کے پیٹ پر پہنچ گیا یہاں اس نے اس کی ناف ہر زبان پھیری تو اس نے کمر اٹھا کر خود کو جھٹکا دیا علی نے اس کی ناف کو چھوڑا اور فل شیوڈ پدی پر کس کرنے لگا ریحانہ اس کے لیے تیار نہیں تھی اور علی کا سر پکڑ لیا مگر علی اب کہا سننےوالا تھا علی نے اس کے ہاتھوں کو جھٹکا دیا اور اٹھ کر اس کی ٹانگوں کے ردمیان آ گیا ریحانہ نہیں جانتی تھی اب وہ کیا کرنےوالا ہے علی نے اس کی رانوں پر کس کرنا شروع کیا اور دونوں ٹانگوں کو کھول کر اپنا سر اس کی پھدی کے سوراخ پر رکھ دیا علی کی زبان جیسے ہی ریحانہ کی پھدی کو لگی ریحانہ تڑپ گئی ان نے اٹھنے کی کوشش کی مگر علی نے اس کو جھٹک کر گرا دیا اور اس کی ٹانگوں کو مضبوطی سے تھام رکھا اس کے بعد علی نے اس کی پھدی پر زبان سے حملہ کر دیا علی کی زبان نیچے سے اوپر.کی طرف جاتی اور اس کی پھدی کے دانے کو جا کر زور سے چوس کر رکھ دیتی اسی طرح چند بار کرنے کے بعد علی نے اپنی انگلی کو اس کی پھدی پر پھیرا اور ایک انگی اندر ڈالنے لگا اس کے ساتھ ہی اس نے دانتوں سے اس کی پھدی کے دانے کو پکڑ لیا اور ہلکا ہلکا کاٹنے لگا ریحانہ پوری طرح مست ہو چکی تھی اس نے سر کو دبا رکھا تھا اور انکھیں بند کر کے پھدی چسوا رہی تھی اچانک علی نے ریحانہ کے جسم میں ہلچل سی محسوس کی اور اس نے زبان اور نگلی تیزی سے ہلانی شروع کر دی علی نے دانتوں کو تھڑا سا دبایا تو ایک دم جھٹکا کھا کر ریحانہ کی چوت نے پانی چھوڑ دیا اور کے منہ کو اپنے پانی سے بھگونا شروع کر دیا علی نے اس کو مکمل طور پر چاٹ کر صاف کیا اور پھر اٹھ کر بیٹھ گیا ریحانہ اب ہلکے ہلکے سانس لے رہی تھی علی نے اس کو پکڑا اور اور اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے لگا دیے ریحانہ نے اس کا بھرپور جواب دیا اور علی کی چھاتی پر ہاتھ پھیرنے لگی علی نے اس کے ہاتھ کو پکڑا اور اپنے لن ہر رکھا مگر ریحانہ نے ہاتھ یک دم پیچھے کر لیا علی نے اس کے کان میں کہا
علی:جان اسے پکڑو
ریحانہ:نہیں یہ گندہ ہے میں نہیں پکڑو گی
علی نے زبردستی اس کا ہاتھ اپنے لن پر رکھا اور کھا نہیں گندا اسے پکڑو کچھ دیر تو اس نے ہاتھ پکڑے رکھا پھر اہستہ اہستہ اس نے لن پر ہاتھ اگے پیچھے کرنے لگا ب ریحانہ پھر سے گرم ہونے لگی لی نے اسے بیٹھا کر اپنا لن ریحانہ کے منہ کے پاس کر دیا اور اس کو چوسنے کا بولا مگر ریحانہ نے نخرہ شروع کر دیا
ریحانہ:یہ گندہ ہے اور میں اسے منہ میں کیسے لے سکتی ہوں
علی:تو کیا تمہاری گندی نہیں تھی جسے میں نے منہ میں لیا چلو اب نخرہ نا کرو اور منہ کھولو
مگر وہ.نا مانی علی نے اس کا منہ تھوڑا زور سے پکڑا اور ہونٹوں کو اپنے لن پر رکھ کر رگڑنے لگا جیسے ہی اس نے سانس لینے کے لیے تھوڑا سا منہ کھولا علی نے لن کا ٹوپا اس کے ہونٹوں میں پھنسا دیا پہلے تو ریحانہ نے انکار کیا مگر پھر اہستہ اہستہ اس نے اپنی زبان سے ٹچ کرنا شروع کر دیا کچھ دیر کے بعد وہ لن کو اند باہر کرنے لگی اور ساتھ میں ٹٹوں کو ہاتھ سے ہلا کر چوسنے لگی وہ کسی ماہر کی طرح لن کو اندر حلق تک لے جاتی اور ہھر ٹوپی تک نکال کر پھر انر کرتی علی کو اس سب میں بہت مزا آ رہا تھا وہ.انکھیں بند کیے اس کے سر کے پیچھے ہاتھ رکھ کے اس کے سر کو چود رہا تھا 10 منٹ اسی طرح گزر ے کے بعد علی نے اس کے منہ سے لن کو نکالا اور اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ گیا اس نے ریحانہ پر جھک کر اس کے مموں پر پہلے کس کیا
فیر اس نے اس کے ہونٹوں کو چوس کر کہا
علی: جان اب تھوڑا برداشت کرنا
ریحانہ:علی پلیز آرام سے کرنا تمہارا لن بہت بڑا ہے کہیں میری پھدی پھٹ نا جاۓ
علی نے مسکرا کر اسے دلاسہ دیا اور لن کو اس کی پھدی کے ہونٹوں پر رکھ کر اہستہ سے رگڑنے لگا
علی بار بار لن کو پھدی پر سیٹ کرتا اور اٹھا کر پھیرنے لگا اب ریحانہ سے برداشت نا ہوا اور وہ تھوڑا غصے سے بولی
ریحانہ:حرامی کتے کیوں تڑپا رہا ہے سیدھی طرح اندر کیوں نہیں ڈال رہا کیوں تڑپا رہا ہے
علی بھی اسی بات کا انتظار کر رہا تھا علی نے یہ سن کر اپنے لن کو اس کی پھدی ہر ایڈجسٹ کر کے ہلکا سا دھکا مارا اور لن کی ٹوپی پھدی کے ہونٹوں میں پھنس گئی ریحانہ کے چہرے پر سختی سی آ گئی علی نے اگے جھک کر اس کی گردن پر ہاتھ رکھا اور پھر تھوڑا سا جھٹکا.مارا
لن کا ٹوپا اندر داخل ہو.گیا ریحانہ کا چہرا بگڑنے لگا علی نے کچھ دیر رک کر اس کے مموں کے نپلز کو دبایا اور پھر جب اس نے محسوس کیا کے اب ریحانہ کچھ بہتر ہے علی نے اک زور کا.جھٹکا مارا لن تیزی سے پھدی کی دیواروں کو ہٹا کر 3 انچ تک اگے کسی چیز سے ٹکرا کر رک گیا مگر ریحانہ تکلیف کے مارے سر پٹخنے لگی مگر علی نے اسے ہلنے نہیں دیا ریحانہ کے منہ سے اوی ماں اوی ماں میں مر گئی کی آواز نکل رہی تھی وہ بار بار علی کو باہر نکالنے کا.بولتی جا.رہی تھی اس کی انکھوں میں انسو تھے علی نے کچھ دیر رک کر اس کو کس.کیا اور اس کے نارمل ہونے کا انتظار کیا اور برابر اس کے مموں کو دبا دبا کر مسلتا رہا 5 منٹ بعد ریحانہ نے نیچے سے حرکت.کرنی شروع کر دی اور جسم بھی ڈھیلا.کر لیا کیوں کے اسے لگا جو ہونا تھا وہ.ہو گیا مگر حقیقت کچھ اور تھی جب علی نے دیکھا سب  نارمل.ہے تو علی نے لن باہر کی طرف نکالنا شروع کیا اور جب ٹوپی ہی اندر رہ گئی تو ایک دم سے زوردار جھٹکا مارا لن پانچ انچ تک سیل توڑتا ہوا اندر داخل ہو گیا اور علی کو.لن پر.کچھ گرم.گرم سا محسوس ہونے لگا ریحانہ کی تو جیسے جان نکل.چکی تھی اس کے منہ سے ہاۓ مار ڈالا کتے گشتی کے مادر چود نکال اسے میں تجھے مار ڈالوں ھی ہاۓ ماں مر گئی نکال.اسے حرامی جیسی گالیاں نکل رہی تھی مگر علی سکون سے اس کے نپلز.کو.کاٹ رہا تھا اور اس کے دوسرے ممے کو دبا دبا کر.اس کو ارام دلا.رہا تھا کچھ دیر بعد علی نے اخری جھٹکا مارا اور سارا لن جڑ تک ریحانہ کی پھدی میں ڈال دیا
اس کےاس جھٹکے سے اسے درد تو کافی ہوا مگر برداشت ہو گیا کچھ دیر دونوں نے کوئی حرکت نہیں کی اورعلی سکون سے لیٹا رہا قریب7 منٹ بعد ریحانہ نے جسم کو حرکت دی اور نیچے سے ہلنا شروع کر.دیا.علی نے بھی اب لن کو اہستہ اہستہ ہلانا شروع کر دیا جس سے ریحانہ کو تکلیف ہونے لگی اور وہ پھر سے سسکنے لگی مگر اب ان سسکیوں میں مزا اور درد دونوں شامل تھے کچھ دیر بعد علی نے سارا لن نکال کر جھٹکے مارنے لگا اور ریحانہ بھی اس کا ساتھ دے رہی تھی کمر ہلا.ہلا کر اور بار بار کمر اٹھا کر علی کے ہونٹوں کو چوستی تھی پھر اچانک سے ریحانہ کے جسم.میں اکڑاؤ پیدا ہوا اور وہ پھر سے فارغ ہو گئی مگر علی کے جھٹکوں میں کوئی فرق نہیں ایا وہ.لگاتار اسے چود رہا تھا کچھ دیر.بعد علی نے اپنا لن نکالا اور پوزیشن تبدیل.کر کے اسے گھوڑی بنا کر پیچھے آ گیا ریحانہ کا جسم کانپ رہا تھا مگر وہ علی کو اب ناراض نہیں کر سکتی تھی اس لیے گھوڑی بن گئی علی نے پیچھے سے آ کر ایک ہی جھٹکے سے پورا لن پھدی میں اتار دیا ریحانہ یہ جھٹکا برداشت نا٠ کر سکی اور اگے کو گر گئی اور لن باہر نکل.گیا علی نے ہوچھا کیا تم ساتھ دے سکو گی مگر وہ.نا بولی علی سیدھا لیٹ گیا اور ریحانہ کو اپنے لن پر بیٹھنے کا بولا ریحانہ اوپر آ گئی اور علی نے لن پکڑ کرسیدھا کرکے پھدی ہر رکھا اور ریحانہ اہستہ سے اوپر بیٹھنے لگی اچانک علی نے اپنی گانڈ اٹھا کر جھٹکا.مارا اور لن سیدھا اندر تک چلا گیا اور کسی چیز سے ٹکرا کر.رک سا.گیا ریحانہ بھی چلا اٹھی مگر اس نے خود کو سنبھالا اور اوپر نیچے ہونے لگی علی نے نیچے سے جھٹکے مارنے شروع کیے اور پھر ایک ردھم سا بن گیا پورا لن باہر اتا اور ہھر جڑ تک اندر چلا جاتا اسی دوران علی پھر سے اوپر آ گیا کچھ دیر اسی طرح چدائی کے بعد علی نے محسوس کیا اس کا لن اب کچھ بڑھ رہا ہے اور یوں لگتا ہے جیسے ابھی پھٹنے والا ہوااسی دوران علی نے ریحانہ کو کہا.میں فارغ ہونے لگا ہوں تو ریحانہ نے کہا میں بھی ہونے لگی ہوں علی لن باہر نکالنے لگا مگر ریحانہ نے اسکی کمر کو اپنی ٹانگوں سے جکڑلیا اور علی کے لن نے اور ریحانہ کی پھدی نے ایک ساتھ ہی ریحانہ کی پھدی میں پچکایاں چھوڑ دیں اس سب کے دوران دونوں کافی نڈھال ہو چکے تھے علی ریحانہ کے مموں پر گر چکا تھا کچھ دیر بعد جب یہ طوفان چھٹا تو ریحانہ نے علی کو پیچھے کیا تو دیکھا قالین پر منی اور خون کا ملا جلا پانی جزب ہو چکا ہے اس نے علی کو ہٹایا اور کہا
ریحانہ:اوہ علی یہ سب کیا ہو گیا تم نے یہ کیا کر دیا تم نے مجھے برباد کر کے رکھ دیا اب میں کیا.منہ دیکھاؤ گی تم نے میری زندگی تباہ کر دی
علی:مگر میم جو بھی ہوا ہم دونوں کی مرضی سے ہوا میں نے اپ پر کوئی زبردستی تو نہیں کی
ریحانہ :تم نے میرا یقین توڑا ہے  تم نے مجھے تباہ کر دیا
علی:دیکھو میم میں یہ نہیں سوچ سکتا تھا مگرمجھے اس سب کی خود امید نہیں تھہی جو ہوا برا ہوا سوری میں یہ سب نہیں چاہتا تھا لیکن مجھے افسوس ہے
ریحانہ: تم میری نظر سے دور ہو جاؤ میں تمہاری شکل نہیں دیکھنا چاہتی یہ کہتے ہوۓ ریحانہ نے خود کھڑے ہونے کی کوشش کی مگر لڑکھڑا کر گر گئی اس کی انکھوں سے مسلسل انسو نکل رہے تھے
علی نے اگے بڑھ کر اسے سنبھالنا چاہا لیکن ریحانہ نے کہا
ریحانہ:دور رہو مجھ سے مجھے ہاتھ مت لگاؤ اور دفا ہو جاؤ یہاں سے
علی نے خاموشی سے اپنے کپڑے پہنے اور ایک نظر ریحانہ کو دیکھ کر اپنا بیگ اٹھایا اور بولا
علی:سوری میم میں یہ سب نہیں چاہتا تھا مجھے امید ہے اج کے بعد میں اپکے سامنے نہیں آؤ گا لیکن ہ سوچنا ضرور اس سب میں میرا کوئی قصور نہیں غلطی ہم دونوں کی تھی نا میں خود کو روک سکا اورنا اپ روک سکی اپ مجھ پر سب الزام دے کر خود کو بری کرنا چاہتی ہیں تو ٹھیک ہے مجھے منظور ہے مگر یاد رکھنا ہم ہر حال میں دوست ہیں اور میں اپکو ہمیشہ سمجھتا رہوں گا
علی کے جانے کے بعد کافی دیر ریحانہ اپنے ننگے جسم کو دیکھتی رہی اور جو کچھ ہوا اس پر سوچتی رہی اس کی سوچ کے مطابق جو ہوا اس میں قصور دونوں کا تھا
ریحانہ نے کچھ سوچا اور اٹھنے کی کوشش کی اور باتھ میں جا کر اپنی پھدی کی صفائی کی اور کپڑے پہن کر گھر کی طرف چل پڑی
علی کے جانے کے بعد ریحانہ نے خود جو سنبھالا اور باتھ میں گرتے سنبھلتے گئی تو وہاں اس نے منہ ہر پانی کے چھینٹے مارے چھاتی پر جگہ جگہ زخم لگ رہے تھے پورا جنگلی نکلا علی تو ریحانہ نے پیشاب کرنے کے لیے جب بیٹھنے کی کوشش کی تو اس کی ٹانگوں میں درد کی شدید لہر اٹھی اس نے خود کو سنبھالا اور بیٹھ گئی پیشاب جیسے ہی پھدی کو لگا ریحانہ کے جسم میں جلن اور مزے کی عجیب سی لہر دوڑ گئی اس نےپیشاب کر کے جب اپنی پھدی کو دیکھا تو اب وہ بند کلی سے کھلا گلاب بن چکی تھی اس کی پھدی کے ہونٹ اب کھل چکے تھے اس نے اپنی پھدی کو صاف کیا اور باہر نکل کے اس نے خود کو کور کیا اور گھر چلی گئی
علی گھر آ کر سیدھا کمرے میں گیا اور اج کے بارے میں سوچنے لگا اس کو یقین نہیں ہو رہا تھا اس نے اتنی جلدی اتنے بڑے ٹارگٹ کو اتنی آسانی سے چود ڈالا اس کے دل میں اج ایک عجیب سی خوشی تھی اسے پتہ تھا ریحانہ نے مصنوعی غصہ دیکھایا ہے اور یہ غصہ أج نہیں تو کل ختم ہو جانا ہے یہ سوچ کر وہ واشروم میں گھس گیا اور کپڑے اتار کر شیشے کے سامنے کھڑا ہو گیا اج علی کو اپنا لن کچھ زیادہ ہی بڑا لگ رہا تھا اس نے غور سے دیکھا تو اس کا لن کچھ لال تھا اج زندگی کے پہلے سیکس نے اسے بہت کچھ سیکھا دیا تھا اس کو یقین نہیں ہو رہا تھا سکس اتنا مزا دیتا ہے علی نہا کر باہر ایا اور تھکاوٹ کی وجہ سے سو گیا شام ماں کے اٹھانے پراس کی انکھ کھلی اس نے پہلے تو ماں کی پھٹکار کھائی جو اسے اتنا سونے پر پڑی اس کے بعد کھانا کھا کر باہر نکلا اور سیدھا سنوکر پر چلا گیا وہاں بھی اس کا.دل کھیلنے کو نہیں کیا کیوں کے اب اس کی سوچ کا پہلو بدل چکا تھا اس کے دماغ میں ریحانہ کی پھدی اور موٹے موٹے ممے گھوم رہے تھے جلدہی علی وہاں سے نکلا اور گھر کی طرف جانے لگا رستے میں چلتی اب ہر لڑکی اس کی نگاہ کا.مرکز تھی وہ ہر لڑکی کی چھاتی اور گانڈ دیکھ رہا تھا گھر آ کر سیدھا کمرے میں گیا اور پھر سونے کی تیاری کرنے لگا بستر پر لیٹ کر اس نے اج کی ساری کاروائی یاد کی اپنے لن کو شاباش دی اور انکھیں بند کر کے لیٹ گیا کچھ دیر بعد علی کے نمبر پر ایک میسج ایا علی نے میسج کرنے والے کو گندی سی گالی نکالی اور لیٹا رہا کچھ منٹ بعد پھر میسج ایا ٹون سن کر علی تپ گیا اور موبائیل اٹھایا تو ریحانہ کے میسج تھے علی نے دیکھا تو ریحانہ اسے اج کے موڈ پر معزرت کر رہی تھی اور کل سکول انے کا بول رہی تھی علی دل میں مسکریا اور ہاں میں جواب دے کر سو گیا اگلی صبح سکول میں علی گیا تو ریحانہ وہاں پہلے سے تھی علی کو دیکھ اس کا انداز تھوڑا بدل گیا اس کی انکھوں میں اک خماری سی نظر آ رہی تھی اور اج وہ پہلے سے زیادہ کھلی لگ رہی تھی علی نے موقع دیکھا اور انکھ مار دی جسے دیکھ ریحانہ شرما گئی کچھ دیر پڑھائی کرنے کے بعد علی کو یوں لگا جیسے اسے کوئی گھور رہا ہے اس نے ادھر ادھر دیکھا مگر کسی کو ناا دیکھ کر پڑھنے لگا اچانک حمزہ نے اسے کہنی ماری تو علی نے اسے موٹی سی گالی دی اور پوچھا کیا تکلیف ہے حمزہ بولا یار وہ سونیہ تجھے یا مجھے بہت دیکھ رہی ہے علی نے دیکھا تو بولا لن تے چڑھے تو پڑھائی کراسی طرح بریک کے وقت علی آفس گیا تو ریحانہ دوسری طرف منہ کر کے کچھ کام کر رہی تھی علی نے چپکے سے جا کر اس کے پیچھے سے ہاتھ ڈال کر اس کے ممے پکڑ لیے اور زور سے دبا دیا اس اچانک حملے سے ریحانہ گڑبڑا گئی اور گھبرا کر چیخ اٹھی علی نے جلدی سے اسے چھوڑا اور سیدھا ہو گیاریحانہ نے غصے سے کہا یہ کیا بد تمیزی ہے تو علی نے کہا یہ پیار ہے جان ریحانہ شرم کرو ابھی کوئی آ سکتا ہے تو علی نے کہا انے دو میں کسی سے نہیں ڈرتا تو ریحانہ نے شوخی سے کہا وہ تو میں دیکھ چکی ہوں علی نے اگے بڑھ کر اس کے ہونٹ چوم لیے اور بولا تمہارے ہوتے مجھے ڈر کس بات کا تو ریحانہ بھی خوشی سے جھوم گئی اچانک انہیں کسی کے انے کا احساس ہوا اور وہ ٹھیک سے بیٹھ گئے کچھ دیر بعد ایک بچہ ایا کوئی بات کی اور چلا گیا ریحانہ نے علی سے کہا تم بہت جنگلی ہو تم نے بہت ظلم کیا دیکھنا جس دن میرے ہاتھ لگے بچہ تو رونے لگ جاۓ گا علی نے مسکرا کرکہا اپ یہ شوق ابھی پورا کر لو تو ریحانہ نے مسکرا کر کہا کیوں چھٹی وقت کہیں جانا ہے ؟ علی نے کہا میں نے کہا جانا ہے جب اپ جیسی سیکسی اور بھرپور عورت سامنے ہو میں چلا جاؤں یہ ممکن نہیں ریحانہ ویسے کافی اچھی چدائی کرتے ہو کہا سے سیکھا تم نے علی نےانکھ ماری اور کہا اج کے دور میں موویز سب سیکھا دیتی ہیں تو ریحانہ بولی تم نے کل مجھے پاگل کر دیا تھا کیا تم نے مجھ سے پہلی کبھی چدائی کی تھی تو علی بولا یہ میری زندگی کا پہلا تجربہ تھا اور مزے کی بات ہے یہ گر بھی مجھے اپنے ہی سیکھایا ہے اس حساب سے اپ سکس میں بھی میری ٹیچر بن چکی ہو

Posted on: 11:38:AM 24-Jan-2021


0 0 169 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 75 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 58 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com