Stories


نوکر بنا میرے جسم کا مالک از علی خان لولائی

میرا نام آسیہ ہے میں 35 سال کی ایک شادی شدہ عورت ہوں میرا شوہر ایک بہت بڑا آفیسر ہے میری شادی کو 5 سال گزر چکے ہیں ،میرا شوہر مجھ  سے 15 سال بڑا ہے۔میرے گھر والوں نے یہ رشتہ صرف اُسکے عہدے کو دیکھ کر کیا تھا۔ میرے پاس دنیا کی ہر آسائش تھی مجھے دیکھ کر کوئی نہیں کہ سکتا تھا کہ میں خوش نہیں ہوں پر اندر ہی اندر مجھے جو دکھ تھا وہ کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا میرے جسم کی آگ جو میرا شوہر نہیں بجھا پا رہا تھا۔۔شادی کے بعد سیکس روزانہ ہوتا تھا جو بعد میں ہفتہ میں ایک بار  ہونے لگ پڑا اس کے بعد مہینے میں ایک بار ہونے لگ پڑا ۔اب تو پتا نہیں کتنے مہینے ہو چکے تھے سیکس کیے ہوئے، میرے شوہر کو شوگر بھی تھی جس کی وجہ سے اُن سے اب سیکس نہیں ہو پاتا تھا۔آج  رات کو جب وہ بستر پر لیٹے تو میں ان کے ساتھ چپک کر لیٹ گئی اور اپنی جسم کی گرمی سے ان کے اندر بُجھی ہوئی آگ کو بھڑکانے کی کوشش کرتی رہی میں نے ان کے لن کوہاتھ سے پکڑ لیا وہ کسی بے جان گوشت کا لوتھڑہ لگ رہا تھا میں نے کافی کوشش کی اپنے ہاتھوں اور منھ سے اس میں سختی پیدا کرنے کی پر میری تمام کوششیں ناکام چلی گئیں تھک ہار کر میں لیٹ گئی اور سونے کی کوشش کرنے لگی شوہر کے چہرے سے شرمندگی صاف ظاہر تھی میں نے اُن کا دل رکھنے کی خاطر کہا کوئی بات نہیں پھر کبھی سہی۔
شوہر تو کچھ دیر کے بعد سو گیا پر میری آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔میں  بستر سے اٹھی اور گھر سے باہر باغیچے میں ٹہلنے لگی ۔ہمارے گھر کے ساتھ ہمارا سرونٹ کوارٹر تھا جس میں ایک میاں بیوی رہتے تھے بیوی   کا نام رانی تھااور شوہر کا نام رفیق تھا۔رانی ایک پکے رنگ کی موٹی تازی عورت تھی  بیوی ہمارے گھر میں کام کرتی تھی اور شوہر ہمارا  مالی تھا۔ابھی میں ٹہل ہی رہی تھی کہ مجھے کچھ آوازیں سنائی دیں میں ان کے سرونٹ کوارٹر کی طرف چل دی نزدیک گئی تو کچھ ہلکی دبی دبی جھگڑے کی آوازیں سنائی دیں  میں سمجھ گئی اُن میاں بیوی کا جھگڑا ہو رہا ہوگا کیوں کہ رانی اکثر اپنے میاں کی شکائیت کرتی رہتی تھی کہ وہ مارتا  پیٹتا ہے۔اُس کا شوہر شراب پیتا تھا اس کے بعد وہ اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھا تا تھا۔ پر دونوں کام کے معاملے  میں بہت اچھے تھے  اس لئے ہم اس کی اس حرکت کو نظر انداز کر جاتے تھے،میرے شوہر نے کافی سمجھایا تھا پر شائید پھر آج وہ پھر جھگڑ رہے تھے۔میں نے دروازے کے پاس جا کر کان لگا کر سننا چاہا پر کچھ سنائی نہیں دیا  ۔میں اب ایک سائیڈ پر لگی کھڑکی کے پاس آ گئی اور   مجھے کسی کے کمرے میں رات کے 2 بجے جھانکتے ہوئے اچھا نہیں لگ رہا تھا پر میرا مقصد رانی کو مار پیٹ سے بچا نا تھا۔
میں نے دیکھا کھڑکی کا شیشہ تھوڑا ٹوٹا ہواتھا میں اندر جھانک سکتی تھی میں نے اندر دیکھا تو اندر کا منظر دیکھ کر میرے چودہ طبق روشن ہو گئے۔اندر دونوں میاں بیوی ننگے تھے اور رانی نے اپنی گانڈ پر ہاتھ رکھا ہواتھا اس کا شوہر اس کو گھوڑی بننے کا کہا رہا تھا اور وہ انکار کر رہی تھی اور ا س کے سامنے ہاتھ جوڑ رہی تھی دونوں کے بیچ تکرار ہو رہی تھی۔رانی نے کہا۔بہن چود مجھ پر رحم کھا تیرا گھوڑے جیسا لن میں چوت میں بڑی مشکل سے برداشت کرتی ہوں اور تو اس کو میری گانڈ میں گھسانا چا ہتے ہو۔
اس کی بات سن کر میرا دھیان رفیق کی ٹانگوں میں گیا اس کا کالے رنگ کا موٹا تازہ لن جھول رہا تھا جو میرے اندازے میں کم از کم 10 انچ سے زیادہ ہی ہوگا۔

رانی نے سچ ہی کہا تھا وہ گھوڑے کا لن ہی لگ رہا تھا ایسے لن میں نے فلموں میں ہی دیکھے تھے۔رفیق نے ایک زوردار تھپڑ اس کے منھ پر جڑ دیا اور کہا سالی تو ایسے نخرے کر رہی ہے جیسے کنواری ہو 10 سال ہو گئے ہیں شادی کو۔
کچھ دیر تک دونوں کی تکرار چلتی رہی رانی نے کہا:کرنا ہے تو آگے سے کر پیچھے سے میں نہیں کرنے دونگی ،
 آخر کار رفیق نے ہار مان لی اور رانی کو لیٹنے کو کہا       رانی سیدھی لیٹ گئی رفیق نے اپنا لن اسکے چوت پر رکھا اور اندر گھسا دیا اور جم کر رانی کی چوت کی چدائی کرنے لگ پڑا
رانی کو اس طرح چدتے دیکھ کر مجھے اس کی قسمت پر رشک آ رہا تھا۔سچ کہا ہے کسی نے
 
 دولت مانگے نہ تخت مانگے
عورت بس  لوڑا سخت مانگے

ان کو سیکس کرتے ہوئے کم از کم آدھا گھنٹہ گزر چکا تھا  اتنا ٹائم آج تک میرے شوہر نے کبھی نہیں لگایا تھا۔شادی کےشروع کے دنوں میں بھی زیا دہ سے زیا دہ 10 منٹ کے بعد ہی اسکی بس ہو جاتی تھی،رانی شائید ٹانگیں اٹھائے اٹھائے تھک چکی تھی اس نے دھکا دے کر رفیق کو اُوپر سے اٹھایا اور اٹھ کر شلوار پہننے لگی ،رفیق کا لن ابھی بھی پورے جوبن پر تھا۔اس نے  غصے سے رانی سے کہا:مادر چود اس کو تو فارغ کر
رانی:میری بس ہو گئی ہے ۔
رفیق:اچھا چل اس کو منھ میں لے کر فارغ کر
رانی:نہیں مجھ سے ایسے کام نہیں ہوتے چپ کر کے سو جاؤ
رفیق نے غصے میں آ کر اس کو زور سے دھکا دیا اس کا سر چارپائی پر لگا وہ رونے لگ پڑی۔
رفیق نے اپنی دھوتی اُٹھا ئی اور پہننے لگ پڑا۔
میں اب خا موشی سے اپنے کمرے کی طرف چل پڑی میری نگاہوں میں رفیق کا لن جیسے رچ بس گیا تھا۔میرے دماغ میں بس ایک ہی منظر جیسے نقش ہو گیا تھا۔
کمرے میں داخل ہو کر میں نے ایک نظر اپنے شوہر پر ڈالی اور دل میں سوچا کاش ا س کی جگہ بستر پر رفیق ہوتاتو رات کتنی حسین گزرتی۔
یہی سوچتے سوچتے پتہ نہیں کب جا کر آنکھ لگی صبح دیر سے آنکھ کھلی تو دیکھا میرا شوہر کام پر جا چکا تھا ۔اور رانی بھی آ چکی تھی میرے اٹھنے پر وہ ناشتہ لے آئی  اس کی چال میں کچھ لنگراہٹ سی تھی جو رات کی زبردست چدائی کی وجہ سے تھی اگر میں نے رات کا منظر نہ دیکھا ہوتا تو شائید میں غور نہ کرتی اس کے سر پر بھی چوٹ تھی جو رفیق کے دھکے کی وجہ سےلگی تھی۔
میں نے پو چھ لیا  کہ ماتھے پر چوٹ کیسے لگی
تو اس نے بتایا کہ رات رفیق نے پھر شراب پی کر مجھے مارا ہے۔
میں نے انجان بنتے ہوئے وجہ پوچھی۔
اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا: بی بی نشے میں وہ جانور بن جاتا ہے
میں:مطلب؟
رانی: بی بی بس میں کیا بتاؤں شراب پی کر مجھ سے الٹی سیدھی حرکتیں کرنے کو کہتا ہے
میں:کیسی حرکتیں؟
رانی:بی بی آپ کو نہیں بتا سکتی وہ جانور ہے مجھے اس سے ڈر لگتا ہے۔
میں:اچھا تم اس کو میرے پا س بھیجنا میں اس کو سمجھا دوں گی۔
رانی:بی بی وہ کسی کی نہیں مانتا صاحب نے کتنی بار اس کو سمجھایا ہے کئی بار نوکری سے نکالنے کی دھمکی دی ہے پر وہ شراب پی کر سب کچھ بھول جاتا ہے۔
میں:اچھا ایک بار میں اس کو سمجھا کر دیکھوں گی شائید میری بات اس کو سمجھ آ جائے۔
رانی:اچھا  آپ بھی اپنی کوشش کر کے دیکھ لیں۔
مجھے پتا تھا صبح کا ناشتہ بنانے کے بعد رانی سودا سلف لینے مارکیٹ جاتی تھی اور ہمارے گھر سے مارکیٹ کافی فاصلے پر تھی سودا سلف لینے میں بھی کم از کم اس کو 3 گھنٹے لگ جاتے تھے اتنا ٹائم میرے لئے بہت تھا۔
 رانی جب جانے لگی تو میں نے کہا اچھا رفیق کو بھیج دینا
رانی نے اثبات میں سر ہلایا اور گھر ے نکل گئی میں نے واش روم میں جا کر شاور لیا اور گاؤن پہن کر میں کمرے میں آ گئی اتنے میں باہر بیل ہوئی میں سمجھ گئی رفیق ہو گا میں نے انٹر کام پر اس کو اندر آنے کا کہا وہ ڈرائنگ روم میں آ گیا میں بھی اپنے کمرے سے نکل کر ڈرائینگ روم میں داخل ہو گئی۔میرے گیلے بالو ں سے ابھی بھی پانی ٹپک رہا تھا۔
میں صوفے پر بیٹھ گئی اس کو میں نے بیٹھنے کا کہا وہ میرے سامنے قالین پر نیچے بیٹھ گیا۔
میں:دیکھو رفیق تمہارا گھر کا معاملہ ہے پر تم رانی کو کیوں بلاوجہ مارتے ہو
رفیق:بی بی وہ میں اس سے خو ش نہیں ہوں
میں:کوئی وجہ تو ہو گی تمہا ری شادی کو اتنےسا ل بیت چکے ہیں اب جا کر اچانک کیا ہو گیا ہے
رفیق ہچکچاتے ہوئے:بی بی وہ مجھے خوش نہیں رکھ پاتی
وہ باتیں کررہا تھا اور نظر  یں چرا کر میری ننگی بالوں سے صاف گوری ٹانگوں کو بھی دیکھ لیتا تھا ۔جو میں نے جان بوجھ کر اس کے سامنے  ننگی کی ہوئی تھیں ۔
 میں:کیا وہ تم کو کھانا وغیرہ نہیں پکا کر دیتی
میں  سب کچھ جان کر بھی انجان بنی ہوئی تھی،
رفیق:نہیں بی بی بات کھانے کی نہیں ہے مرد کو کچھ اور بھی چاہیے ہوتا ہے
میں: اچھا میں سمجھ گئی رانی نے کہا ہے تمہا را کسی اور عورت سے بھی تعلق ہے
میں نے جان بوجھ کر اندھیرے میں تیر چلا جو نشانے پر جا لگا۔
رفیق:بی بی جی جب بندے کو گھر سے کچھ نہیں ملے گا تو وہ ادھر اُدھر منھ تو مارے گاہی۔
اس نے نظریں جھکائی ہوئی تھیں میں نے جان بوجھ کر اپنی ٹانگوں کو کھول دیا ،اب میری گلابی چوت اس کی آنکھوں کے سامنے تھی۔
 جیسے اُس نے نظر اٹھائی تو  میری ٹانگوں کے بیچ میں جیسے اُس کے آنکھیں جُڑ سی گئیں تھیں ،
اب اُس نے میری آنکھوں میں دیکھا تو سمجھ گیا میں کیا چاہتی ہوں پر وہ جھجھک رہا تھا۔
میں:رفیق آج اپنی سب خواہشوں کو پورا کر لو میں کسی چیز سے منع نہیں کروں گی۔
میری بات سن کر جیسے اس کی آنکھوں میں چمک سی آ گئی
وہ اٹھ کر میرے قدموں میں بیٹھ گیا اور اجازت بھری نظروں سے مجھے دیکھنے لگ پڑا وہ اب بھی تھوڑا جھجھک رہا تھا۔میں نے اُس کے سر کو پکڑ کر اُس کے منھ کو اپنی چوت پر رکھ دیا اُس نے میری چوت کو چاٹنا شروع کر دیا اُس کی زبان کا لمس پا کر میری چوت میں جیسے لگی آگ اور زیا دہ بھڑک اٹھی تھی وہ بھی ایسے لگ رہا تھا جیسے برسوں کا پیاسا ہو جم کر میری چوت کو چاٹ رہا تھا اپنی زبان کو میری چوت کے سوراخ میں اندر باہر کر رہا تھا۔اس نے ایسی گلابی چوت کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھی ہوگی میں اُس کے سر کو پکڑ کر اور اپنی چوت کی طرف دبا رہی تھی اُس کے چوت کو چاٹنے کا انداز وحشیانہ تھا کبھی اپنی زبان کو میرے اندر کرتا کبھی میری چوت کو اوپر بنے دانے کو چوستا ۔وہ جیسے میری چوت میں کھو سا گیا تھا سب کچھ بھول کر بس میری چوت کو چوس رہا تھا  اُس کے چوسنے کی وجہ سے میری چوت پانی چھوڑ رہی تھی جووہ مزےسےپی رہا تھا۔ اُس نے میری چوت سے سر اٹھا یا تو اُس کےکالے چہرے کے   ارد گرد میری چوت کا پانی لگا ہوا تھا۔
رفیق:بی بی اتنی مزے دار چوت آج زندگی میں پہلی بار ملی ہے   
میں اُس کو لے کر اپنے بیڈ روم میں لے کر آ گئی ۔میں نے اُس کو کپڑے اتارنے کا کہا اوراس نے اپنی قمیض اور شلوار اتار دی اب وہ ننگا ہو چکا تھااُس کا کسرتی کالا جسم چمک رہا تھا۔ اُس کا موٹا لن میری چوت میں جانے کے لیے بے تاب لگ رہا تھا میں نے ا ُسکو بیڈ پر لٹا دیا  اور خود اس کے لن کو منھ میں لے کر چوسنے لگی اس کا لن میری بازو جتنا موٹا تھا اُسکی کالی رنگ کی ٹوپی بڑی مشکل سے میرے منھ میں گئی تھی میں چاہ کر بھی اُسکے لن کو ایک چوتھا ئی سے زیا دہ اندر نہیں دھکیل پا رہی تھی میں نے اپنی زبان سے اُسکے لن کو چاروں طرف سے گیلا کر دیا تھا اب میں اُسکے موٹے کالے ٹٹوں کو چوس رہی تھی ۔رفیق : بی بی میں کبھی زندگی میں بھی نہیں سوچ سکتا تھا کہ میں اتنا خوش قسمت ہوں گا کہ آپ جیسی خوبصورت عورت کو چود سکوں گا
میں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔اب میں لیٹ گئی اور اس کو کہا :رفیق میرا سارا جسم تمہا را ہے آؤ جیسے دل کرے مجھے چودو۔
وہ میری ٹانگوں کے بیچ میں بیٹھ کر اپنے لن کو میری چوت پر رگڑنے لگا

پھر اس نے ایک ہاتھ سے میری چوت کے لبوں کو جدا کیا اور اپنے لن کو میری چوت کے اندر ڈال دیا ۔حالانکہ میں شادی شدہ تھی پر پھر بھی مجھے ایسا لگا کسی نے میری چوت کو چیر دیا ہو میں نے نا چاہتے ہوئے بھی ہلکی چیخ ماری رفیق میری چیخ سن کر رک گیا۔میں نے اُس سے کہا :تم رکو نہیں  ا سکا آدھے سے زیا دہ لن میری چوت میں تھا اب اُس نے لن کو باہر نکالا اور ایک زور دار جھٹکے سے پورا لن میری چوت کی گہرائیوں میں اتار دیا میں نے درد کی شدت سے بے اختیا ر اپنے ہاتھوں سے بیڈ کی چادر کو نوچ ڈالا اب وہ زور زور سے اپنے لن کو میری چوت میں اندر باہر کر رہا تھا۔میری چوت اب اُس کے لن کو برداشت کر پا رہی تھی میں جیسے مزے کی بلندیو ں پر تھی اُس نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دئے اور میرے ہونٹوں اور زبان کو چوسنے لگا اُس کے منھ میں ابھی تک میری چوت کے پانی کا زائقہ آ رہا تھا۔
میں نے جم کر اُس کی کسنگ کا جواب دیا
  اُس کے جھٹکے جاری تھے اور میں نیچے سے اپنی چوت کو اوپر اٹھا اٹھا کر اسکا ساتھ دے رہی تھی مجھے جیسے اپنے آپ پر قابو نہیں رہا تھا۔ایسی مزے دار چدائی میں نے کبھی نہیں کروائی تھی۔میں مزے کی شدت سے چیخ رہی تھی چلا رہی تھی ۔اُس سے کہہ رہی تھی
میں:رفیق اور زور سےچود   اور زور سے چود پھاڑ دے میری چوت
وہ لگاتا ر میری چوت میں کسی مشین کی طرح اپنے لن کو اندر باہر کر رہا تھا۔ا ُسکا لن جب پھنس پھنس کر باہر نکلتا تو ایسا لگتا میری چوت میں کا سارا اند کا گوشت اس کے ساتھ نکل جائے گااُس کی موٹی ٹوپی میری چوت کے آخری دیوار سے ٹکراتی تو میری درد کے مارے چیخ نکل جاتی۔
میں نے ا ُسکو نیچے لٹا لیا اور اسکے لن پر بیٹھ گئی اُسکا کالا موٹا لن میں نے پورا چوت میں لے لیا اور اسکے لن کی سواری کرنے لگی۔میں اوپر نیچے ہو رہی تھی اور وہ اپنے ہاتھوں سے میرے مموں کو دبا رہا تھا۔میری مزے کی شدت سے منھ سے آہیں نکل رہی تھیں ہلکی ہلکی تکلیف کااحساس مجھے بہت مزہ دے رہا تھا۔پتا نہیں کتنی دیر تک میں اس کے لن کی سواری کرتی رہی اچانک مجھے ایسا لگا میرے جسم کا سارا خون میری چوت کی طرف منتقل ہوگیا ہو میرے جسم میں اکڑا ؤ سا پیدا ہوا میں مزے کی بلند یوں پر پہنچ گئی تھی ایسا احسا  س آج تک  کبھی نہیں ہوا تھا۔میں اس کے اوپر جیسے ڈھ سی  گئی میرے جسم کو جھٹکے لگنے لگے میری چوت سےزور کا پانی کا فوارا نکلامیں زندگی میں پہلی بارچدائی میں فارغ ہوئی تھی۔میری بس ہو گئی تھی 30 منٹ کی لگاتار چدائی نے میری چوت کی حالت کر دی تھی ۔وہ ابھی تک فارغ نہیں ہوا تھا اُس نے لن میری چوت ے نکالا ۔میں نے اُس ے پوچھا :یار تمہارا لن ابھی تک کھڑا ہے تم فارغ بھی ہوتے ہو یا نہیں کیا کھاتے ہو۔
رفیق :بی بی میری اسی خاصیت کی وجہ سے کافی عورتیں مجھ سے بھاگ جاتیں ہیں۔
میں:اچھا میں بھاگنے والی نہیں ہوں
میں الٹی لیٹ گئی اور رفیق سے کہا :جاؤ واش روم سے تیل لے کر آؤ۔
وہ تیل لے آیا میں الٹی لیٹ گئی اور اُس سے کہا:مجھے پتا ہے اب تم کیا چاہتے ہو پہلے میری اچھی طرح سے مالش کرو۔
یہ سن کر اُس کے چہرے پر خوشی چمکنے لگ پڑی۔
اُس نے تیل کو میری گانڈ پر انڈیلااور میری گانڈ کی اچھی طرح سے مالش کرنے لگا۔اُس نے میری گانڈ کو کھولا اور اس میں بھی کافی سارا تیل انڈیل دیا  اور اب میری گانڈ  میں اُس نے  اپنی انگلی گھسیڑ دی میری ہلکی سسکاری نکلی میں اپنے شوہر سے بھی گانڈ مروا چکی تھی میرا پہلا تجربہ نہیں تھا۔
اب اُس نے اپنے لن کو بھی اچھی طرح تیل سے نہلایا اور میری اوپر لیٹ کر اپنے لن کو میری گانڈ کےسوراخ پر رکھا اور ہلکے ے دھکے سے میری گانڈ میں اتار دیا میرے منھ ے چیخ نکلی
 میں:ہائے امی مر گئی
رفیق میری چیخ سن کر رک گیا ۔
میں:رکو نہیں میری چیخوں کے پروا نا کرو
رفیق نے اب دوبارا میری گانڈ پر زور لگانا شروع کر دیا ۔
میں:بس بس اتنا بہت ہے ہاے میں مر گئی گانڈ چیر دی میری
رفیق:بی بی جی ابھی تو آدھا بھی نہیں گیا۔
میں:تمہا را آدھا بھی میری جان نکال رہا ہے۔ مجھے گندی گندی گالیا ں دو بی بی جی نا کہو
رفیق:نہیں بی بی جی آپ کو میں گالیا ں نہیں دے سکتا
میں:جان مزہ اور دوبالا ہو جائے گا
رفیق:نہیں آپ میری مالکن ہیں
میں:ابھی تمہا ری کتیا ہوں مجھے گالیاں دو
رفیق:بہن چود چپ کر کے چدوا
میں:سالے تیرا لن گھوڑے کا ہے میری گانڈ کو بخش دے بس   کر دے
رفیق:مادر چود یہ پورا اب تیری گانڈ میں گھساؤں گا تب مجھے سکون ملے گا۔
ا ُس نے جوش میں آکر ایک زوردار جھٹکا مارا اور اُسکا تیل سے لتھڑا ہوا لن میری گانڈ کو چیرتا ہوا جڑ تک میری گانڈ کی گہرائیوں تک اتر گیا۔میرے حلق سے زوردار چیخ نکلی میرے چودہ طبق روشن ہوگئے تھے۔
میں زبح کی ہوئی بکری کی طرح تڑپ رہی تھی۔وہ رکا نہیں اور لگاتار میری گانڈ میں اپنے لن کو اندر باہر سیر کرواتا رہا ۔
میں:کتے حرامزادے مادرچود میری حالت کر دی ہے تم نے۔
رفیق:کتیا تجھے شوق تھا مجھ سے چدوانے کا۔
میں :سالے معاف کر دے مجھے چھوڑ دے
میں سچ میں بے حال ہو چکی تھی،پورے کمرے میں میری چیخیں اور سسکیاں گونج رہی تھیں۔پر اُس نے اپنا کام جاری رکھا اور کوئی 20 منٹ کی طوفانی چدائی کے  بعد ا ُس نے کہا: سالی رانڈ میں چھوٹنے والا ہوں میری منی کو پینا چاہے گی۔
میں:ہاں کیوں نہیں
اُس نے اپنے لن کو نکالا اور میرے منھ کے پاس لے آیا میں سیدھی ہو گئی اُس نے اپنے لن کو میرے منھ میں ڈال دیا میں نے اُس کے لن کو چوسنا شروع کر دیا ابھی ایک منٹ بھی نہیں گزرا تھا اُس نے ایک زور دار چنگھاڑ ماری اُس کے جسم نے  جھٹکا مارا اور ا ُسکے لن سے پریشر سے منی نکلنا شروع ہو گئی ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے ٹونٹی چلا دی ہومنی تھی کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی واقعی اس میں گھوڑے کی تمام خصوصیت شامل تھیں۔میں نے کافی منی کو پی لیا اور کافی کو باہر انڈیل دیا ۔اچھی طرح فارغ ہونے کے بعد اس نے میرے منھ سے اپنے لن کو نکالا ۔
میں بے جان ہو کر بستر پر لیٹ گئی ۔اس نے کپڑے پہنے اور جانے لگا۔میں:رفیق  اپنی بیوی سے جھگڑا مت کیا کرو تمہا ری جو ضرورتیں ہوں گی میں پوری کر دیا کروں گی۔
رفیق:جی بی بی جی آپ کا شکریہ آپ نے مجھے زندگی کا سب سے بڑا تحفہ دیا ہے ۔
میں مسکرا دی دل میں سوچا اصل تحفہ تو تم نے دیا ہے مجھے۔
وہ کمرے سے نکل گیا میں دوبارہ واش روم میں گئی اور شاور لیا ۔کچھ دن بعد رانی آئی تو اس نے میرے پاؤں پکڑ لئے اور کہا بی بی آپ نے چمتکا ر کر دیا ہے رفیق نے مجھ سے معا فی مانگی ہے اور اب وہ میرا بہت خیا ل رکھتا ہے۔اس کو آپ نے بہت اچھے طریقے سے سمجھا دیا ہے۔
میں دل ہی دل میں مسکرا دی۔
اس کے بعد ہمارا روز کا معمول بن گیا جب بھی موقع ملتا ہم ایک دوسرے کی ضرورتیں  پوری کرتے۔
اب میں بھی خوش رہتی تھی ۔

Posted on: 12:49:PM 06-Mar-2021


0 0 105 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 63 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com