Stories


امی اور میں از عائزہ شاہ

نامکمل کہانی ہے

شیری ! شیری! اب جاو بیٹا دیر ہو رہی ہے
 
 میں کمرے میں لیٹا بہت فٹ قسم کی مووی دیکھ رہا تھا جب باہر سے امی کی آواز آیی۔ صبح سے وہ کہہ رہی تھیں کہ بازار جانا ہے کچھ چیزیں لانی ہیں۔ ہم فیصل آباد کے قریب جڑانوالہ کے ایک قصبے میں دہتے تھے ایک مہینے بعدباجی کی شادی تھی اور جہیز کی تیاری میں لگے تھے آج ںھی کپڑے لینے فیصل آباد جانا تھامووی بہت سیکسی تھی بالکل دل نہیں تھا لیکن جانا تو تھا ہی۔
 
 “اچھا امی آتا ہوں ایک منٹ ” میں نے اونچی آواز میں کہا اور اٹھ کر کپڑے بدل کر باہر آ گیا امی ساتھ والے کمرے میں سٹول پر بیٹھے آئینے کے سامنے بال بنا رہی تھیں ہمیشہ کی طرح میں نے امی کا بھرپور جایزہ لیا قمیض بہت تنگ تھی امی کے بڑے بڑے تھن جسم سے بالکل الگ تنے کھڑے تھے۔ چالیس سے اوپر عمر میں بھی اس طرح کی اکڑ مموں میں کم کم ہی ہوتی ہے امی کی کی خمدار گانڈ سٹول سے باہر نکلی ہوئی تھی گول گپے کی طرح اور مست لگ رہی تھی۔ میرے ٹراوزر میں ہلچل شروع ہو رہی تھی اس لئیے بیرونی دروازے کی طرف چل پڑا
 
 “امی میں رکشہ لے کر آتا ہوں آپ باہر آ جائیں۔ ” اور دل میں کہا باہر کھڑے حرامیوں کو نظارے بھی دیں
 
 میں اور امی ساتھ ساتھ بیٹھ کر بلکہ پھنس کر رکشے میں سوار ہو گئے۔ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا تھا مجھے خوب مزہ آتا تھا امی کو شاید اندازہ تھا کہ میں جان بوجھ کر کچھ زیادہ ہی ساتھ لگ کر بیٹھتا ہوں لیکن وہ کبھی کچھ بولیں نہیں تھیں۔ اڈے پہ پہنچے بس نکل رہی تھی فوراً دوڈ کر سوار ہوا کنڈکٹر کو امی کی طرف اشارہ کر کے بتایا کہ ایک سواری اور بھی ہے کنڈکٹر نے تیز تیز چلتی امی پر غور کرنے کے بعد اپنا ہتھیار کھجایا اور پھر چلایا “استا جی روکے”
 
 “جگہ نہیں ہے یہاں اپنے ساتھ کھڑا کرنا پڑے گا ” وہ پھر بولا۔
 
 میں کھڑا کر لوں گا میں نے کہا اور ایک بار پھر زہن میں مطلب دوسرا آیا۔ کاش کسی دن میں واقعی امی کے سامنے کھڑا کر کے جا سکتا ان کے جسم پر ننگے جسم پر اپنا لن رگڑ سکتا ٹروازر میں للی نے زبردست انگڑائی لی تو خیال ٹوٹا امی بس میں آ چکی تھیں وہ سیٹوں کی طرف دیکھ رہی تھیں مگر سیٹیں تو فل تھیں
 
 “جگہ نہیں ہے کیا” امی نےپریشان ہو کر مجھ سے پوچھا
 
 نہیں امی توڑا سا تو سفر ہے اپ ادھر کونے میں آ جائیں میں نے ایک طرف ہو کر امی کو جگہ دی اور وہ میرے آ گے آ کر کھڑی ہو گئیں۔ بس چل پڑی۔ بس میں کافی رش تھا سب مسافر پھنسے کھڑے تھے اور امی میرے آ گے پھنسی کھڑی تھیں
 
 میری ہائٹ امی سے زیادہ تھی لیکن اس وقت نہ جانے کیسے میں اور امی بڑی آئیڈیل پوزیشن میں تھے پتہ نہیں میرا لن نیچے لگا ہوا تھا یا امی کی گانڈ اونچی تھی دونوں ایک دوسرے کے بالکل آگے پیچھے تھے پہلی دو تین بار امی کے نرم چوتڑ میرے سے ٹکرائے تو للی سوئی ہوئی تھی پیٹ پر امی کی گانڈ کا نازک دباو محسوس ہوا جس سے ٹراوزر کے اندر للی لن میں بدلنے لگی۔ جوں جوں سخت ہوا امی کی بنڈ نے واضح طور پر یہ محسوس کیا امی کسمسا کر ادھ ادھر ہوئیں چوتڑوں کو سکیڑا کہ شاید لن ایک سایڈ پہ ہو جائے لیکن میری خوش بختی کہ جگہ ہی نہیں تھی۔ لن چوتڑوں کی درمیانی لیکر کے عین اوپر تھا۔
 ایک ایک جھٹکے سے چوتڑوں کے اندر اترتا اور باہر اتا میرا لن مزید سخت ہو گیا امی کی بے چینی واضح تھی لیکن وہ کہاں جا سکتی تھیں امی نے ایک دفعہ پھر دونوں چوتڑوں کو سکیڑا لیکن اس بار لن پتھر کی طرح سخت تھا وہ نرم چوتروں کے بالکل درمیان بھینچ گیا مزے کی ایک شدید لہر میرے پورے بدن میں سرایت کر گئی یہ امی کی آ خری کوشش تھی امی نے گانڈ ڈھیلی چھوڑ دی وہ بار بار ارد گرد دیکھ رہی تھیں شاید پریشان تھیں کہ کوئی دیکھ نہ لے

 بنڈ ڈھیلی ہوتے ہی میں شیر ہو گیا- بس اتنے جھٹکے نہیں کھا رہی تھی لیکن میں لن کو خوب امی کی گانڈ میں رگڑ رہا تھا امی کی طرف سے اب مکمل آزادی تھی میں پوری محنت سے گانڈ کے مورے کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا اور کبھی کبھی کامیاب بھی ہوتا تھا۔ امی کی گانڈ کی گہرائی قابل رشک تھی کاش یہ کپڑوں کی دیوار نہ ہوتی کاش میں اندر ہی ڈال سکتا


 بس اچانک آہستہ ہوئی تو امی کی گانڈ کا دباو میرے لن پر مزید بڑھ گیا پھر رک گئی اب جھٹکے ممکن نہیں تھے میں اور امی اس حالت میں کھڑے تھے کہ میرا تقریباً پورا لن ان کے چوتڑوں کے درمیان پھنسا ہوا اور ٹوپی شاید سوراخ کے عین اوپر تھی اس وقت امی تھوڑی سی آگے سرک سکتی تھیں لیکن انہوں نے کوئی حرکت نہیں کی۔


 بس پھر چل پڑی امی کی بنڈ مزید پیچھے آئی اور میں نے واضح طور پر امی کی بنڈ کی کھڑکی کے خلا کو اپنی ٹوپی پر محسوس کیا۔ میری للی سے نکلا پانی جو منی سےبپہلے آتا ہے اس سے شاید امی کی شلوار گیلا ہو چکا تھا اس لئیے فیلنگ بڑھ چکی تھی اسی وقت امی نے ایک بار پھر چوتڑوں کو سکیڑ کر لن کو پھنسا لیا میری مزے سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی


 امی نے پھر بنڈ ڈھیلی چھوڑی اور اگلے ہی لمحے انہوں نے پھر چوتڑوں کو سکیڑ کر لن کو پھنسا لیا۔ اف امی یہ جان بوجھ کے کر رہیں تھیں یعنی انجوائے کر رہی تھیں پھر امی نے وقفے وقفے سے میرے لن کو اسی طرح دبانا شروع کر دیا میری پیاری امی اپنی گانڈ سے مجھے بھرپور مزہ دے رہی تھیں میں بالکل فارغ ہونے کے قریب تھا


 بس کریں میرا ہو جائے گا پلیز میں نے سر جھکا کر امی کے کان کے قریب سرگوشی کی


 لیکن بنڈ پھیلتی سکڑتی رہی امی شاید بہت مزے میں آ گئی تھیں رک نہیں رہیں تھی میں نے دوبارہ کہنے کیلئے سر جھکایا لیکن اسی وقت امی نے ایک بار پھر لن کو پھنسا کر زرا سی بنڈ ہلائی تو میرا پرنالہ بہہ نکلا میرے حلق سے نکلتی لزت کی چیخ میں نے بڑی مشکل سے روکی
بس سے اتر کر پھر رکشے میں بیٹھے امی کے رویے پر میں بہت خوش تھا انہوں نے زرا بھی احساس نہیں ہونے دیا بالکل نارمل تھیں بازار میں کھوے سے کھوا چھل رہا تھا جیسا یہاں ہمیشہ ہوتا ہے امی میرے پیچھے چل رہیں تھیں
 “شیری ادھر” اچانک امی نے پکارا میں مڑا تو امی کی شاندار بنڈ ساتھ ہی ایک دکان کی طرف مٹکتی جا رہی تھی میں بھی پیچھے ہو لیا
 امی کو دکاندار نے سٹول پیش کیا جبکہ میں پیچھے کھڑا ہو گیا۔ امی کپڑے دیکھنے لگیں میں کچھ اور سوچ رہا تھا بہت بار فلموں میں دیکھا تھا سٹول کے نیچے سوراخ ہوتا تھا ہیروئن اپنی بنڈ سوراخ کے اوپر رکھ دیتی اور نیچے سے کوئی چاٹتا تھا یا ٹھوکتا تھا۔ اگر امی کا اسٹول اسی طرح کا ہوتا اور ٹھوکو میں ہوتا تو کیا بات تھی میرا لن بھی اس سوچ پر جھوم کر امی کی کمر سے سر ٹکرانے لگا۔
 امی کمر پر لگتے ہتھوڑے سے سے بے پروا وہاں بیٹھی رہیں ایک دو بار میرا بھی مشورہ لیا جو میں نے ہوں ہاں کر کے بتا دیا میرا دھیان امی کے کپڑوں پر زیادہ تھا میرا بس چلتا تو یہیں امی کے کپڑے اتارتا اور خوب جی بھر کر چودتا۔ امی اچانک اٹھیں اور ان کی گانڈ میری ٹوپی کو رگڑتی ہوئی سیدھی ہو گئی۔ وہ کچھ دیر میرے سامنے کھڑی رہیں پتہ نہیں لن رگھڑوانا چاہتی تھیں یا میرے کھڑے لن کو لوگوں کی نظروں سے بچانے کی کوشش تھی۔لن ایک سمجھدار جانور ہے حالات محسوس کرتے ہی بیٹھنا شروع ہو گیا۔ امی مجھے پیسے دینے کا اشارہ کرتے ہوئے آگے سے ہٹ کر باہر کی طرف چل پڑیں۔
 بس میں امی کے کمالات اور دکان کے واقعے کے بعد یہ طے تھا کہ اب مجھے امی کی طرف سے پوری اجازت تھی اسی لئےبھیڑ میں امی کے پیچھےچلتے ہوئے میں نے پھر موقع دیکھ کر نرم چوتڑوں کو دو تین گھسے لگا دئیے امی یقیناً ٹھیک ٹھاک مزہ لے رہی تھیں لیکن محسوس نہیں ہونے دینا چاہتی تھیں۔
 اگلی منزل ایک ریڈی میڈ گارمنٹس سپر سٹور تھا۔ اس میں ہینگرز اور ریکس میں کپڑے سجے تھے ہم چل پھر کر دیکھتے رہے سٹور میں کافی پردے والی جگہیں بھی تھیں جہاں سے آپ باقی لوگوں کی نظروں سے چھپ جاتے تھے ایک ایسی ہی جگہ امی اچانک رک گئیں اور ہنگروں سے کپڑے اتار کر دیکھنے لگیں میں نے قریب ہو کر امی کے کندھے کے اوپر سے دیکھ کر سوٹ کی طرف اشارہ کیا
 یہ والا اچھا ہے ناں
 میرا لن پھر امی کی بنڈ کو چوم رہا تھا
 “ہاں لگ تو رہا ہے مجھے بھی” امی نے کہا میرا واقعی لگ رہا تھا اور امی کی اس بات سے مزید حوصلہ ملا میں نے پہلی بار لن کو پکڑ کر امی کی گانڈ کے صحیح مقام پر فٹ کیا ہاتھ بھی امی کے گداز گوشت سے ٹکرایا لیکن امی بھولی بنی رہی۔ میں نے خوب زور سے لن کو امی کی گانڈ میں دبایا امی تھوڑی سی ہلیں لیکن کچھ کہے بنا ہینگر کے سٹینڈ کو گما کر دوسرا جوڑا دیکھنے لگیں میرا لوڑا جتنا سخت ہو رہا تھا امی کی بنڈ مزید نرم ہوتی جا رہی تھی گھسوں میں بھی شدت آتی جا رہی تھی لن آسانی سے گانڈ کی موری سے ٹکرا رہا تھا کپڑوں کے اوپر سے ہی جیسے اندر گھسنے والا ہو۔
 ماں اپنی ممتا سے مجبور بیٹے کی خواہش چپ چاپ اور مزے سہ رہی تھی کئی بار میرا جی چاہا کہ ٹراوزر اتارکر لن امی کو ننگا کر کے ڈال ہی دوں لن اتنا سخت ہو گیا تھا کہ درد کرنے لگا کاش امی بس کی طرح بنڈ کو پچکا کر لن پھنسا لیتیں لیکن وہ ویسے ہی کھڑی تھیں میں بہت گرم ہوا تو اپنے دونوں ہاتھ امی کے چوتڑوں پر رکھ کر ان کو دبایا تا کہ اسی طرح اندر پھنس جائے۔ لیکن امی فوراً آگے چل پڑیں لن امی کی نازک گانڈ سے محروم ہو گیا
 امی زیادہ دور نہیں گئی دو قدم لے کر اگے ایک ریک کے پاس پھر رک گئیں۔ مجھ پر وحشت سوار تھی میں بھی آگے بڑہا اور لوڑے کو پھر گانڈ کی نرم گرم وادی میں رگڑنے لگا امی بنڈ سکیڑ نہیں رہی تھیں میں نے پھر امی کی بنڈ کو دونوں سائڈوں سےدبا کر لن اندر پھنسانا چاہا لیکن وہ بس والی بات نہیں بنی
 “امی بس کی طرح کریں ناں پلیز ” میں نے مجبور ہو کر کہا لیکن امی نے کوئی حرکت نہ کی کپڑے دیکھتی رہیں میرا جی چاہا کہ امی کی گانڈ پھاڑ دوں “
 پلیزایک بار” میں رونے والا ہو رہا تھا مگر امی نے پھر بھی بنڈ نہیں سکیڑی تنگ ا کر میں نے گھسوں کی بجائے لن پکڑا اور گانڈ کے اندر اوپر نیچے پھیرنے لگا میری ٹوپی کئی بار امی کی پھدی سے بھی ٹکرائی اسی وقت جب رگڑائی تیز تھی امی نےاچانک جھک کر نیچے والے ریک سے ایک سوٹ اٹھایا جھکتے ہی چوتڑ ایک دوسرے سے تھوڑا دور ہوئے اور لن کو امی کی گانڈ کے سوراخ میں تقریباً پھنس سا گیا۔ مزے کی اس وادی میں میرا انگ انگ تپ اٹھا سوٹ اٹھا کر امی سیدھی ہوئی تو لن مکمل طور پر موم کی گانڈ کے شکنجے میں آ گیا۔
 اب امی کی بنڈ کی گرفت بس کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط اور کہیں زیادہ لزت اندوز تھی
 امی وہ دوسرا سوٹ بھی اچھا ہے میں نے بڑی مشکل سے آواز نکالی
 امی دوبارہ جھکی تو میرا لوڑا چوتڑوں سے نکلنےہی والاتھا کہ امی پھر سیدھی ہو گئیں اور بنڈ نے ایک بار پھر لن کو اپنی ریشمی پکڑ میں کس لیا۔ اب لن کی ہمت جواب دے چکی تھی اتنی نازک اتنی گرم اتنی گہری گانڈ میں پھنس کر لن ایک بار پھر بہہ نکلا۔
میں اور امی اس دن کئی دکانوں اور سٹالز پر گئے بہت بار شرارتیں ہوئیں امی نے بھرپور انجوائے بھی کرایا اور اپنا وقار بھی قائم رکھا منہ سے ایک بار بھی نہیں بولیں شام کو واپسی پہ میں گدھے کی طرح لدا ہوا تھا بس میں سوار ہوتے ہوئے خواہش تھی کہ کاش پھر سیٹ نہ ملے مگر مل گئی۔۔ نو بجے گھر پہنچ گئے۔

 امی باجی کو کپڑے دکھانے لگیں اور میں اپنے کمرے میں دن بھر کی باتیں یاد کرکے للی کو مسلتا رہا۔ یقین نہیں آ رہا تھا کہ امی نے اتنا کچھ کرنے دیا اور کہا بھی کچھ نہیں یہ سکون ضرود تھا کہ اب امی کی چدائی کا خواب حقیقت ضرور بنے گا میں لن کو مسل رہا تھا کہ امی کمرے میں آ گئیں میرا کھانا لائی تھیں ٹراوزر کا ابھار صاف تھا مگر امی نے مکمل نظر انداز کیا اور کھانا پلنگ پر رکھ کر کہا “
 
 کھا لو اور برتن کچن میں لے آنا آج تو بہت برتن ہیں دھونے والے”
 
 “ٹھیک ہے امی”
 
 ہممم کچن میں گھسوں کا بھی موقع مل سکتا ہے شاید اسی لئے امی نے بلایا ہو جلدی جلدی کھانا ختم کیا اور کچن میں پہنچ گیا مگر باجی کو برتن دھوتا دیکھ کر سارا جذبہ ٹھنڈا پڑ گیا خواہش تو مجھ میں باجی کو چودنے کی بھی بہت تھی لیکن کبھی ہمت نہیں پڑی تھی۔
 
 باجی مجھ سے تین سال بڑی تھیں ان کا جسم بھرا بھرا تھا ممے اور بنڈ بھی مناسب تھی نہ بہت بڑی نہ چھوٹی۔ باجی کی خاص بات ان کی بے شرم لا پرواہی تھی زرا خیال نہیں کرتی تھیں کہ میں اب جوان تھا اور ان کی مست اداؤں سے گرم ہو جاتا تھا باجی کی گانڈ میں نے ہر پوز میں دیکھی تھی بیٹھے ہوئے لیٹے ہوئے کھڑے ہوئے۔ بنڈ میں قمیض پھنسی ہو تو باجی نے کبھی نکالنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ کھلے گلے کے کپڑے پہنتی تھیں ممے ڈھلکتے پھرتےتھے بوبز کی لکیر کا آغاز تو ہمیشہ صاف نظر آتا تھا میرے دل سے ہوکیں اٹھتی رہتی تھیں مگر باجی اپنے جسم کے ساتھ مست تھیں ان کو کیا پرواہ. باجی کے نام کتنی ہی بار مٹھ مار چکا تھا
 
 سفیدقمیض کے نیچے باجی کی کمر پر بندھا بریزئراس وقت بھی نظر آ رہا تھا ایک مہینے بعد باجی کو کوئی اجنبی لے جانے والا تھا جو اس خوبصورت جوان جسم کو روز چودے گا یہ خیال آتے ہی میرا لن کھڑا ہو نا شروع ہوگیا
 
 برتن دھونے ہیں باجی نے اچانک مڑ کر کہا
 
 “ن نن نہیں تو” میں گڑبڑا گیا
 
 تو پھر کیوں کھڑے ہو باجی نے پوچھا
 
 میں اب سنبھل چکا تھا “ویسے ہی سوچ رہا تھا کہ تم کچھ دن بعد چلی جاو گی ” دلہا بھائی تمہیں چودا کرے گا یہ آخری جملہ دل میں ہی رہ گیا
 
 “اچھا جی آج تو بڑا پیار جتایا جا رہا ہے” باجی میرے پاس آ کر کھڑی ہو گئیں
 
 میں مسکرا دیا مگر کہا کچھ نہیں. دل سے پھر آواز ائی تو پیار کرنے دو ناں
 
 اگلے ہی لمحے باجی نے آگے بڑھ کر مجھے گلے لگا لیا “ ہمیشہ کیلئے تھوڑی جانا ہے آیا کروں گی ناں ” باجی کے ممے میرے سینے کو گرم کر رہے تھے میں نے باجی کو بازوں میں بھینچ لیا مزہ ہی آ گیا باجی نے الگ ہو کر میرا ماتھا چوما اور بولی “جاو اب سو جاو ابھی مہینہ ادھر ہی ہوں"۔
 
 اپنے کمرے میں میں کافی دیر سوچتا رہا کہ یہ پیار والی کہانی اگر آگے بڑھا لوں تو شادی سے پہلے باجی کو چدائی کی اچھی طرح ریہرسل کروا سکتا ہوں
 
 صبح اٹھا تو باہر کافی شور تھا قہقہے اور ہنسی کی آوازیں تھیں لگتا تھا گھر میں کافی رونق تھی خالہ رابعہ اور سعدیہ بچوں سمیت آئی ہوئی تھیں شا دی سے پہلے خاندان والے تحائف لے کر اس طرح آتے ہی ہیں خالاوں سے ملا خالہ رابعہ امی سےبڑی تھیں ان کی ایک ہی بیٹی تھی جو باجی کی عمر کی تھی شادی شدہ جبکہ خالہ سعدیہ سب سے چھوٹی تھیں ان کے تین بچے تھے وہی ادھر ادھر دوڈ بھاگ میں شور کر رہے تھے خالہ رابعہ فیصل آباد ہی میں جبکہ خالہ سعدیہ لاہور میں رہتی تھیں مجھے ان کے آنے کی خاص خوشی تھی خاندان میں سب سے سیکسی عورت تھیں ہر وقت زو معنی چھیڑ چھاڑ کی شوقین تھیں میری عمر کے لڑکوں سے ان کی گاڑھی چھنتی تھی میری بھی دوست تھیں۔ ان کی عمر کوئی پینتیس کے قریب ہوگی بڑے بڑے سڈول ممے اور آئیڈیل سائز کی تھوڑی سی پیچھے کو نکلی ہوئی ہپس ،وہ ہمیشہ بھڑکیلے کپڑے پہنتی تھیں
 
 کچھ دیر خالاوں سے گپ شپ میں پتہ چلا کہ بڑی خالہ تو شام کو واپس چلی جائیں گی خالہ سعدیہ دو دن اتوار تک رکیں گی۔ امی کی ساتھ چھیڑ چھاڑ باجی کی جھپی کے بعد یہ تیسری خوشخبری تھی خالہ چھوٹی موٹی مستی شوق سے کرواتی تھیں۔ سنا تھا کہ چدائی بھی کراتی ہیں دو دن میں شاید میری بھی قسمت جاگ جائے
 
 جمہ پڑھ کر واپس آیا تو امی اور خالائیں برآمدے میں ہی گپ شپ کر رہی تھیں خالہ سعدیہ اپنی ایک سائیڈ پہ لیٹی ہوئی تھیں بنڈ سے قمیض تھوڑی سی ہٹی ہوئی تھی اور چوتڑوں میں پھنسی شلوار نے دل میں ہلچل مچا دی گانڈ سے تھوڑی اوپران کے پہلو کی گوری جلد کی ایک جھلک بھی نمایاں تھی
 
 ربیعہ اب کی بھی بات پکی کر دے خالہ رابعہ نے مجھے دیکھ کر کہا
 
 ہاں ہاں بے چارے نے کوئی قصور تو نہیں کیا کب تک پھراو گی اسے خالی خالہ سعدیہ بھی چہکی
 
 ارے میں تو آج ہی کر دوں مگر کوئی کام وام تو کرے امی نے ملبہ مجھ پر ہی ڈال دیا
 
 “کام وام کیوں نہیں کرتا تو شیری” خالہ سعدیہ مسکرا کر بولیں “آج کل تو نوجوانوں کیلئے بڑے مواقع ہیں”
 
 ہاں ہاں ٹھیک کہتی ہے سعدیہ خالہ رابعہ ان کا مطلب سمجھے بغیر بولیں
 
 “جی خالہ ڈھونڈھ رہا ہوں مل جائے گی کوئی نہ کوئی” میں نے بھی خالہ سعدیہ کی طرح زو معنی جواب دیا
 
 نوکری شروع کرو تو پھر میں بھی ڈھونڈوں گی لڑکی تیرے لئے “خالہ سعدیہ نے فوراً جواب دیا” اب کام کے بغیر لڑکی بے چاری کیا رہے گی تیرے ساتھ لیکن تو اپنی پسند تو بتا پہلے”
 
 میں مسکرا کر اپنے کمرے کی طرف چل پڑا
 
 اررر ے یہ شرماتا بھی ہے میں بھی پوچھ کر رہوں گی خالہ سعدیہ کی آواز آئی۔
 
 جسکی آپ جیسی بڑی سی گانڈ ہو ممے ہاتھ میں پورے نہ آسکیں اور ہر وقت چدوانے کے موڈ میں ہو ۔۔۔ میں نے دل ہی دل میں خالہ کی بات کا جواب دے دیا
رات کھانے کے بعد میں باجی اور خالہ سعدیہ ایک ہی کمرے میں بیٹھے تھے بڑی خالہ جا چکی تھیں امی ابھی کچن میں مصروف تھیں میں خالہ کے سرہانے کی طرف بیٹھا تھاخالہ جان بوجھ کر ایسے پوز میں لیٹیں تھیں کہ ان کا انگ انگ نمایاں تھا ممے کافی گہرائی تک مجھے نظر آ رہے تھے گانڈ ان کی ویسے ہی نکلی ہوئی تھی لیکن اس وقت کچھ زیادہ ہی پیچھے نکالی ہو ئی تھی
باجی خالہ کے سامنے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے پیر خالہ کی طرف کئے بیٹھی تھیں میری طرف سائیڈ تھی سینے سے ابھرے ہوئے دونوں خربوزے کاٹ کر کھانے کی دعوت دے رہے تھے ان کی ایک ٹانگ سیدھی اور دوسری موڑ کر پیر زمین پہ رکھا ہوا تھا اور گھٹنا اٹھا ہوا تھا تنگ ٹراؤزر میں ان کی بنڈ کی قوس سائیڈ سے بالکل صحیح نظر آتی تھی زرا غور کرنے سے ٹانگوں میں پھنسی پھدی کا ہلکا سا ابھار بھی نظر آتا تھا۔
شیری !” خالہ نے گردن اوپر میری طرف موڑی ان کے بوبز مزید سامنے آئے" تو نے بتایا نہیں کیسی لڑکی ڈھونڈھیں تیرے لئے
خالہ نے اپنا ایک ہتھ گانڈ کی سائڈ کے اوپر رکھا ہوا تھا سوال کرتے ہوئے وہ اسے اپنے چوتڑوں کے درمیان لے کر گئیں اور انگلیاں اندر اتار کر باہر نکالیں باجی کیونکہ سامنے تھی وہ خالہ کی کمر کے پیچھے یہ حرکت نہ دیکھ سکی لیکن مجھے صاف نظر آئی اور آگ لگا گئئ
 
 بے اختیار میرے منہ سے نکلا" آپ جیسی"
 
 خالہ کھلکھلا کر ہنس پڑی جبکہ باجی نے بڑے اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ کر شرمانے کی ایکٹنگ کی اور بولیں
 
 “شرم کر شیری خالہ ہیں”
 
 “نہیں وہ میرا مطلب تھا ۔۔۔” مجھے کچھ سوجھ نہیں رہا تھا
 
 “میرے جیسی زندہ دل” خالہ نے خود میری مدد کی
 
 “جی بالکل بالکل” میں نے تائید کی
 
 “پکی بات ہے ناں تیرا یہی مطلب تھا” خالہ نے پھر شرارت کی اوراپنی بنڈ کو پھر ایک بار سہلایا ٹراوزر میں میری سوئی ہوئی للی نے تھوڑی سی حرکت کی۔ خالہ کی بات کا میں نے جواب نہیں دیا اور اٹھ کھڑا ہوا
 
 “پھر بھاگ کر جا رہا ہے میں تو پوچھ کر ہی جاوں گی” خالہ معاف نہیں کر رہی تھیں میں باہر ایا تو امی دروازے کے سامنے ہی کھڑی تھیں شاید وہ کچن سے اسی وقت آئی تھیں امی کے پاس سے گزرا تو جی چاہا کہ ان کو کہیں مموں یا گانڈ پر ہاتھ لگاوں لیکن جھجھک گیا اور امی اندر چلی گئیں۔ میں اپنے کمرے میں آ کر مووی لگا کر بیٹھ گیا۔ لیکن جو مووی خالہ نے اپنی گانڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے دکھائی تھی وہ مزہ کہاں۔۔
 
 میرا ہاتھ خود بخود میرے لن پر چلا گیا خالہ کی گانڈ کا تصور ہی ایسا تھااور پھر میرے سامنے جب خالہ نے اپنا ہاتھ چوتڑوں میں دںایا تھا تو وہ بالکل فوم کی طرح دھنس گیا تھا خالہ کی کتنی نرم تھی اور بڑی بڑی اس پہ ہاتھ پھرنے میں کتنا مزا آئے گا خالہ بنڈ چٹواتی بھی ہو شاید جس طرح کل امی کی بس میں کپڑوں کے اوپر سے چدائی کی تھی کاش اسی طرح خالہ میرے آگے کبھی پھنسے تو اور بھی مزہ آئے خالہ کی بنڈ تو امی سے بہت جوان اور بہت گرم ہو گی
 
 میرا ہاتھ میرے لن پر تیزی سے پھرنا شروع ہو گیا میں نے خیال میں خالہ کے مموں چوسے ان کے اوپر اور درمیان میں لن پھیرتا رہا خالہ کی گانڈ پہ چکیاں کاٹیں لن گول گول بڑے چوتڑوں کے اندر رگڑا پھر خالہ کی ٹانگیں اٹھا کر گھوڑی بنا کر الٹی لٹا کر خیالی پھدی ماری خالہ کے ہونٹوں پر اور منہ کے اندر لوڑا ڈالا سوچ کر ہی اتنا مزہ آ رہا تھا ہاتھ لن پر اور تیزی سے چلنا شروع ہو گیا آخر میں میں نے خالہ کی گانڈ میں لن ڈال دیا خالہ بہت خوش ہوئی لن خالہ کی بنڈ میں جانے کے خیال سے مزید سخت ہوا اور چند ہی لمحوں میں گرم گرم پانی میرے ہاتھ پہ بہنے لگا آج کی مٹھ نے بہت مزہ دیا میں نے پکا ارادہ کر لیا کہ خالہ کی واپسی سے پہلے ان کی گانڈ ضرور ماروں گا
صبح کرکٹ کا میچ کھیل کر تقریباً دس بجے گھر پہنچا امی بازار گئی ہوئی تھیں پڑوس کی صغریٰ خالہ کے ساتھ امی نے مجھے نہیں کہا تھا شاید اس دن کی چھیڑ چھاڑ سے پریشان ہو گئیں تھیں گھر میں خالہ اور باجی ہی تھیں خالہ کے بچے باہر کھیل رہے تھے میں باجی کے کمرے کے باہر رکھی کرسی پر بیٹھ گیا اندر خالہ اور باجی باتیں کر رہی تھیں
“فائزہ تمہیں شادی کا کچھ پتہ بھی ہے ناں” خالہ کی آواز آئی
“جی خالہ پتہ ہے سب اب بچی تو نہیں میں” باجی ہنس کر بولی
“ناں بچو آج کل کے لڑکے بالکل حرامی ہیں بیوی کو پوری گشتی بناتے ہیں آگے پیچھے اوپر ہر جگہ ڈالتے ہیں” خالہ نے مزے لے کر کہا
اوپر کہاں ؟ کیا ڈالتے ہیں خالہ باجی بھی موڈ میں لگ رہی تھی
“ اچھا ۔۔۔ بڑا دل کرتا ہے تیرا سننے کا میں کہاں رہنے والی ہوں سناوں گی پوچھ کیا پوچھنا ہے” خالہ نے جتایا
شاید انہیں میرے آنے کا پتہ نہیں چلا تھا اسی لئے انتہائی سیکسی باتیں جاری رکھیں۔ خیر خالہ کو پتہ چل بھی جاتا تو وہ جان بوجھ کر بھی کرتیں۔
تو بتائیں ناں باجی نے زور سے کہا اوپر کہاں کیا ڈالتے ہیں
“لن ڈالتے ہیں لن بڑے بڑے موٹے تازے سخت لن ” خالہ اور باجی دونوں کھی کھی کر کے ہنس رہی تھیں
منہ میں بھی ڈالتے ہیں باجی نے پھر مزہ لیا
“اری آج کل تو ڈالتے ہی منہ میں ہیں ” خالہ نے خوب خوشی سے کہا “ پھدی تو صرف رات کو لیتے ہیں اور وہ بھی چسوائے بغیر نہیں لیتے”
تو رات کے علاوہ بھی ڈالتے ہیں منہ میں باجی حیران ہوئی
تو اور کیا خالہ نے کہا بھئی جب جی چاہے نظر بچا کر للی نکالی اور منہ میں ڈالدی نوید تو شادی کے شروع میں دن میں بھی مجھ سے دو تین بار چسوا لیتا تھا۔۔اکثر کچن میں۔
“کوئی دیکھ لیتا تو” باجی نے پوچھا
“پگلی اس میں ننگا تو ہو نا نہیں پڑتا کوئی نہیں دیکھتا اور دیکھ بھی لے تو شوہر کا لن ہے بھائی کا تو نہیں چوس رہی تھی” خالہ کھلکھلائی “ لن ہوتا ہی اتنا مزیدار ہے تو چوسے گی تو تجھے بھی ڈر ختم ہو جائے گا”
خالہ کتنی گندی ہو بھائی کا کون چوستا ہے شرم کرو کچھ" باجی چلائی
“چوستی ہیں چوسنے والیاں” خالہ نے ہار نہیں مانی"۔ ایک بھائی کیا بھانجوں بھتیجوں دیوروں سب کے چوستی ہیں اور گانڈ بھی مرواتی ہیں
باہر میرا عجیب حال ہو رہا تھا۔ خالہ تجربہ کار گشتی تھی اس نے یقیناَ مجھے آتے ہوئے دیکھ لیا ہو گا اسی لئے ساتھ ساتھ مجھے بھی گرم کر رہی تھی لن میرا سخت ہو چکا تھا لیکن باتیں چھوڑ کر بھی نہیں جا سکتا تھا
“خالہ سنا ہے بہت بڑا ہو تو بہت درد ہوتا ہے ” باجی نے بات بدل دی
“لڑکی بڑے کا درد تو صرف پہلی دو تین رات ہوتا ہے پھر مزہ ہی مزہ۔ اصل درد تو چھوٹے کا ہوتا ہے ساری عمر نہیں جاتا “خالہ اداس ہو گئی” دعا کر احسن کا بڑا ہو نوید کی اتی سی للی ہے شروع میں مزہ دیتی تھی اب تو۔۔۔” خالہ ٹھنڈی سانس بھر کے چپ ہو گئی۔
“اسی لئے اپ سب لڑکوں کے ساتھ ۔۔۔۔ خالہ ایک بات پوچھوں ” باجی کے سوال سے لگتا تھا ان کو بھی معلوم تھا کہ خالہ چدکڑ ہے مجھے پوری امید تھی کہ یہ اسی طرح باتیں کرتی رہیں تو ابھی پتہ چل جائے گا کہ باجی بھی ایک نمبر کی گانڈو ہے
پوچھو خالہ نے کہا
“تم نے شیری کے ساتھ بھی کیا ہے کام” باجی کا سوال میرے لن کو ہلا دینے والا تھا
ارررے تو تو بڑی تیز نکلی بھائی پہ دل ہی دل میں ٹھرک چپکیلی ٹھرکی لڑکی شاوا بھئ شاوا۔۔۔۔۔خالہ زور زور سے ہنس رہی تھی
خالہ تم بہت وہ ہو میں تو بس ویسے ہی پوچھ بیٹھی باجی زچ ہو گئی تھی
ارے بھئی اس کے ساتھ کیا کرے کوئی۔ اتنا تو دبو ہے پلیٹ میں رکھ کر کوئی پھدی دے گی تو لے گا۔ خود سے ہمت نہیں ہے ۔ تیرا بھائی ہے دور دور سے ترسا رہتا ہے تیری طرح
“مجھے تو چانس ہی نہیں ملا کبھی” باجی نے حسرت سے کہا
شادی بیاہ پر سب کنواریاں لوڑے لے لے نہیں تھکتیں ایک تجھے ہی موقع نہیں ملا “خالہ نے طنز سے کہا” اچھا خیر اب تو چند ہی دن کی بات ہے۔ صبح شام بے دھڑک احسن کے لن سے کھیلنا
مجھ سے اور نہیں بیٹھا جا رہا تھا باجی کے متعلق لن سے کھیلنے کا تصور ہی بہت گرم تھا۔مٹھ فرض ہو چکی تھی میں چپکے سےاٹھ کر اپنے کمرے کے باتھ روم کی طرف چل پڑا
ابھی دروازے میں داخل نہیں ہوا تھا کہ امی داخلی دروازے سے اندر آئیں “شیری ادھر آ “انہوں نے پکارا میں کھڑے لن کو ہلاتا امی کے پاس پہنچا انہوں نے غور سے میرے ٹرائوزر کی طرف دیکھا بہت ہلکی سی مسکراہٹ ان کے ہونٹوں پر ابھیری اور غائب ہو گئی "باہر رکشے سے اتار لا” انہوں نے میرے لن سے نظر ہٹا کر کہا۔ رکشے میں بہت سےبرتن تھے جو میں ایک ایک ڈبہ اٹھا کر اندر لا رہا تھا باجی اور خالہ بھی باہر آ چکی تھیں اور ڈبے کھول کر دیکھ رہی تھیں برتن لاتے ہوئے کئی بار میرے پیر نیچے بیٹھی خالہ کے چوتڑوں سے ٹکرائے ایک دو بار تو میں نے جان بوجھ کر ہی پیر ان کی گانڈ میں دبایا خالہ برتنوں کی زیادہ تعریف شاید اسی خوشی میں کر رہی تھیں
سامان کے ڈبے لا کر رکھ دئیے تو میں بھی خالہ کے ساتھ ہی بیٹھ گیا پیروں پر ابھی بھی نرم گانڈ کی حرارت محسوس ہو رہی تھی دل چاہ رہا تھا کہ خالہ کو یہیں امی اور باجی کے سامنے ننگا کر کے گانڈ ماروں امی اور باجی بھی خوش ہوتیں لیکن۔۔افسوس یہ خواب ابھی پورا کرنا ممکن نہیں تھا
کچھ دیر وہیں بیٹھے پھر امی نے باجی کو کھانے کیلئے کچن بھیج دیا خالہ بھی باجی کے ساتھ چلی گئیں میں اپنے کمرے میں آ کر بیڈ پہ لیٹ گیا لنڈ ٹانگوں سے سر مار رہا تھا گھر میں تین تین گرم عورتیں موجود تھیں لیکن مجھے ٹھنڈا کرنے والی کوئی نہیں تھی۔۔ٹراوزر کے اوپر سے ہی لنڈ پکڑ کر ہلا رہا تھا اسی وقت دروازہ کھلا اور امی اندر آئیں دوپٹہ نہیں تھا تنگ کپڑوں میں گانڈ اور مموں کی گولائیاں لنڈ کو مزید سخت کر گیئں
شیری میں تیرے واش روم میں نہا لوں ہمارے والے کا شاور خراب ہے کھانے کے بعد ٹھیک کروا دینا انہوں نے میرے لنڈ کی طرف بھر پور نظر ڈالی اب کوئی کام بھی جلدی ڈھونڈھ ہر وقت خود کو کھپاتا رہتا ہے انہوں نے بہت پیار سے کہا ابھی بھی دیکھ لنڈ کو رہی تھیں
امی چوپا ہی لگا دو میں نے دل ہی دل میں کہا
امی واش روم میں چلی گئیں۔ صرف ایک دروازے سے ادھر امی ننگی کھڑی تھیں کاش چودنے دیتی۔۔۔۔ لنڈ کی سختی سے مجبور ہو کر میں نے ٹروئزر نیچے کیا ہاتھ میں لیا اور امی کی خوبصورت گول گانڈ کے خیال میں مٹھ لگانے لگا
شیری “واش روم سے امی کی آواز آئی” بیٹا تولیہ دیکھو بیڈ پہ رہ گیا ہے دیکھو دینا زرا
جی پڑا ہے میں نے کہا یقیناً امی نے جان بوجھ کے رکھا ہوگا میں اسی طرح اٹھا لن فل کھڑا تھا تولیے کو لن پہ رگڑا اور واش روم کے دروازے پر پہنچ گیا
یہ لیں امی
امی نے تھوڑا سا دروازہ کھولا ان کے ایک ممے کا نپل نظر آرہا تھا لنڈ اتنا اکڑ گیا تھا کہ میں سیدھا کھڑا نہیں ہو پا رہا تھا مگر میں نے تو لیہ آگے نہیں کیا
شیری امی کی آواز آئی مگر میں نے جواب نہیں دیا ایک دو لمحے بعد امی نےباہر جھانکا تولیہ اور میرا لنڈ ساتھ ساتھ ہی تھے امی نے اطمینان سے چند سیکنڈ میرے کھڑے ہوئے لنڈ کا جائزہ لیا اور پھر ایک سانس بھر کر میرے ہاتھ سے تولیہ لے کر دروازہ بند کر دیا میں وہیں کھڑے کھڑے زور سے مٹھ لگانے لگا اور ادھر ہی ریلیز ہو گیا منی کچھ ٹراوزر پر اور کچھ فرش پہ گر گئی میری آوازیں امی نے یقیناً اندر سنی ہوں گی لن تو کھڑا دیکھ ہی لیا تھا اب یقین تھا کہ اب امی کی چدائی کی منزل قریب تھی۔ باجی کی شادی تک تو شاید مشکل ہو لیکن اس کے بعد تو گھر میں صرف میں اور امی ہو ہر جانے تھے۔۔۔
میں فرش پر ہی بیٹھ گیا تھا امی باہر آئیں تو مست لگ رہی تھیں گیلے بال بنڈ تک آ رہے تھے ممے پہلے سے زیادہ اکڑے ہوئے لگ رہے تھے
بیٹا نہا کر آ جاؤ کھانا کھا لو اور کپڑے بدل لینا" امی نے ٹراوزر پر لگی منی دیکھ لی ہو گی
جی اچھا میں نے کہا اور باہر جاتی امی کی گانڈ دیکھ کر مسکرا دیا۔ جلد یہ گانڈ میرے لنڈ کو ٹھنڈا کرنے والی تھی کھانے کے بعد پلمبر کو لے کر آیا تو امی باجی کے واش روم میں ایک برا لٹکا ہوا تھا جسے دیکھ کر پلمبر کی باچھیں کھل گئیں میں نے جلدی سے وہ اتارا اور لپیٹ کر جیب میں ڈال لیا گھر کی گرم گشتوں کو زرا خیال نہیں آیا کہ اتار لیں پلمبر آ رہا ہےتم یہ کرو میں آتا ہوں میں پلمبر سے کہہ کر باہر نکلا اوراپنے کمرے میں جا کر برا کو الماری میں رکھ دیا باجی کے ممے تو چھوٹے تھے یہ امی یا خالہ کا ہو گا امی کا ہی ہو گا وہںہی آخر میں گرمی نکالنے کیلئے نہانے گئی تھیں ۔۔۔ پلمبر کے پاس پہنچا تو وہ شاور بدل رہا تھا جلد ہی وہ اپنا کام کر کے چلا گیا۔ میں نے برآمدے میں خالہ کو دیکھا تو فوراً کہہ دیا پلمبر کے آنے سے پہلے کپڑے تو اتار لینے تھے اتنا عجیب لگا مجھے کونسے کس کے کپڑے کھڑے تھے مجھے کہتا اتار دیتی سارے کپڑے” خالہ اٹھلائی
مزاق نہیں کر رہا خالہ یہ کوئی اچھا لگتا ہےآئیں میں دکھاتا ہوں میں انہیں کمرے میں لے گیا اور الماری کھول کر برا ان کے سامنے لہرایا یہ دیکھیں وہ پلمبر بھی ہنس رہا تھا بی غیرت خالہ زور سے ہنس دیں یہ تو نے الماری میں کیوں رکھاتو اور اس کے سامنے رکھ دیتا اپنی چیزیں سنبھال کر رکھا کریں میرا پیارا بھانجا جو ہے میری چیزوں کی فکر کرنے والا ” خالہ اپنی عادت کے مطابق مست باتیں کر رہی تھیں۔۔اور تمہیں کیسے پتہ یہ میرا ہے انہون نے سوال داغا آپ کا ہی لگتا ہے سائز سےاو ہو ہو لڑکے تو تو بڑا ہو گیا سائز ارے واہ بھئی سائز خالہ مزاق اڑاتے ہوئے بولیں لگتا تو مولوی ہے مگر نکلا شیطان خالہ پلیز یہ تو ۔۔۔ میں نے ابھی آدھی بات ہی کی تھی کہ خالہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پہ رکھ دیا لے سائز لے لے میرا اور پھر بتاخالہ کے مموں کا گداز میرے ہاتھوں کو پگھلا رہا تھا میں نے دو تین بار دبائے تو خالہ پیچھے ہٹ گئیں پھر ہنس کر میری طرف اشارہ کیا اور بولیں تیرے سائز کا بھی پتہ چل گیا مجھے پدا سا سائز وہ منہ چڑا کر دروازے کی طرف بڑھیں اور پھر مڑ کر بولیںویسے وہ میرا نہیں ہے اور باہر نکل گئیںیہ سب خالہ نے اتنی جلدی میں کیا کہ میں حیران رہ گیا پانچ منٹ بعد مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ خالہ نے مجھے اپنے تھن پکڑائے نرم گرم موٹے موٹے ممے ۔۔آج کا دن بہت اچھا جا رہا تھاصبح باجی اور خالہ کی باتیں پھر خالہ کی گانڈ میں پاوں سے کھجلی پھر امی کو لن دکھایا اور اب خالہ نے ممے پکڑادئیے تھے۔ یہی سپیڈ رہی تو رات تک باجی کی پھدی بھی مار سکتا تھا میں۔۔یا کم سے کم لنڈ تو تینوں میں سے کوئی چوس ہی لیتی
اپنے ہی گھر میں ماں بہن خالہ کو چودنے کی خواہش ایک بات ہے لیکن اس پر عمل بہت مشکل ہے۔ امی اور خالہ چدنے کو تیار تو تھیں لیکن باجی کی موجودگی اور پھر وہ ایک دوسرے کے سامنے بھی تو شریف بنی ہوئی تھیں آسان نہیں تھا لیکن کوئی طریقہ تو نکالنا ہی تھا اس لئے میرے زہن میں نسرین آ گئی نسرین باجی کی دوست تھی پڑوسن خالہ کلثوم کی بیٹی ۔۔ بہت گرم اور چدائی کی شوقین تھی گانڈ مروانا اور لن چوسنا اسے بہت پسند تھا محلے میں بہت سے لڑکے اسے چود چکے تھے میں نے بھی اس کی بنڈ ایک دو بار ماری تھی لنڈ تو بہت دفع چسایا تھا وہ اس معاملے میں مدد کر سکتی تھی میں نے اسے ایس ایم ایس کر کے بتا دیا کہ رات کو چھت پہ آ جانارات کھانے کے بعد جب امی وغیرہ اپنے کمرے میں سونے گئیں تو میں کچھ دیر بعد چھت پہ آ گیا نسرین پہلے ہی موجود تھی خالہ کلثوم کواس کے کرتوتوں کا سارا پتہ تھا اس لئے وہ ڈرتی بالکل نہیں تھی میں اپنی چھت کی دیوار پھلانگ کر اس کی چھت پہ پہنچ گیا وہ لگتا ہے ترسی پڑی تھی فوراً گلے لگ کر چومنے لگ گئی میں نے بھی اسے کئی بار چوما اس کے ممے دبائے اور بنڈ پہ بھی ہاتھ پھیرتا رہا دو منٹ بعد وہ نیچے بیٹھ گئی اور میرا ٹراوزر کھنچ کر لن نکال لیا۔ نسرین کو لنڈ چوسنا بہت پسند تھا اس لئے وہ ماہر بھی ہو گئی تھی پہلے پکڑ کر ہلاتی رہی مٹھ لگانے کی طرح لنڈ پر ہاتھ پھیرتی رہی میں اس کے سر کو پکڑ کر کھڑا تھا دو تین بار ہاتھ سے لنڈ کو ہلا کر جب فل ٹایئٹ کر لیا تو اس نے ٹوپی پر زبان پھیرنا شروع کر دی وہ بڑے مزے سے آ ہستہ آہستہ ہر طرف سے زبان پھیرتی رہی ٹوپی پہ ناچتی ہوئی گیلی نرم زبان کے مزے سے میں پاگل ہوتا رہا ٹوپی کے بعد اس نے لنڈ اوپر اٹھا کر نیچے سے زبان پھیری پھر اوپر سے اورپھر ٹوپی پر پہنچ گئی پورے لنڈ کو زبان پھیر پھیر کر گیلا کرنے کے بعد اس نے منہ کھولا اور آدھا لنڈ اندر لے گئی لنڈ کو منہ کی گرمی اور زبان کی تری نے سرور کی حدوں تک پہنچا دیا میں مزے سے ہلکی ہلکی کراہیں لے رہا تھا چھت پہ نہ ہوتا تو اونچی آواز میں کراہتاوہ خود بھی بہت محنت سے چوس رہی تھی لیکن مزے سے مجبور ہو کر میں نے خود بھی اسے سر سے پکڑ کر آ گے پیچھے کرنا شروع کردیا تھا کافی دیر یہ لطف اندوز چوسائی جاری رہی وہ اتنے زور سے چوس رہی تھی کہ لنڈ میں ہلکا ہلکا سا درد ہونے لگا اور میں فارغ بھی ہو نے کے قریب تھا میں نے اس بتایا تو وہ فوراً لن چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی اور چھتوں کی درمیانی دیوار کا سہارا لے کر منہ دوسری طرف کر لیا میں نے اسے کی قمیض اوپر کر کے اسے ہی پکڑا دی شلوار نیچے کر کے اس کی گول گانڈ نکال لی۔ہاتھ پر تھوک لگا کر اس کی بنڈ میں اوپر نیچے پھیر کر کریک کو گیلا کیا اور اندر انگلی کرنے لگا۔ جلد ہی انگلی رواں ہو گئی جس کا مطلب تھا کہ گانڈ لنڈ کیلئے تیار ہو چکی ہے میں نے دوبارہ ہاتھ پر تھوک لگا کر لن کی ٹوپی کو گیلا کیا اور لنڈ کو ایک بار نسرین کی گانڈ کی دراڑ میں رگڑ کر سوراخ پہ فٹ کر دیا آہستہ سے دھکا دیا تو لنڈ اندر چلا گیا نسرین کی گانڈ اتنے لنڈ لیتی تھی اب پھدی جیسی بن چکی تھی میں آہستہ آہستہ لنڈ آگے کرتا رہا اور آ خر اس کے چوتڑ میرے پیٹ سے لگ گئے لن پورا اندر جا چکا تھا بے حد مزہ آ رہا تھاگانڈ مارنے کا آدھا مزہ چوتڑوں کی نرمی اور آدھا بنڈ کی گرمی سے ملتا ہے نسرین کی نرم بھی تھی اور گرم بھی میں نے لنڈ پیچھے کھینچ کر دوبارہ آگے زور لگایا اس بار پہلے سے تیزی سے لنڈ پھسلتا ہو گیا اور چوتڑ زور سے پیٹ پر لگے لطف آ گیا میں نے نسرین کی گردن پر چوما اور زور زور سے جھٹکے لگانے لگا نسرین پوری ہل رہی تھی لنڈ اندر پھسلتا نکلتا رہا اور لزت سے ہم دونوں ہلکی ہلکی کراہیں لیتے رہے جلد ہی میں ریلیز ہونے کے قریب تھا گانڈ مارنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ ریلیز ہونے کا ڈر نہیں ہوتا اندر ہو جائیں یا باہر ۔ نسرین کو اندر ہی پسند تھا اسی لئے میں جھٹکے مارتا رہا اور اس کی بنڈ کے اندر ہی منی چھوڑ دی
لن باہر نکالا تو تھوڑی سی منی بھی بنڈ کے سوراخ سے نکلی جو میں نے ہاتھ رگڑ کر صاف کر دی۔۔لنڈ پر بھی منی لگی تھی لیکن اس پر نسرین کا حق تھا وہ شلوار اوپر کرکے باندھ کر مڑی اور میرا لنڈ جو اب چھوٹی سی للی بنا ہوا تھا اپنی شلوار سے صاف کر کے نیچے بیٹھی اور پھر منہ میں لے لیا ایک دو چوپے لگا کر اس نے پھر لنڈ شلوار سے صاف کر کے میرا ٹراوزر اوپر کر دیا پھر میں وہیں بیٹھ گیا اور وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ گئی۔ نسرین بہت خوش تھی شاید آج میں نے اس کی گانڈ صحیح ماری تھی۔
کچھ دیر ہم ایک دوسرے کے ساتھ خاموش بیٹھے رہے پھر وہ بولی تم نے میسج میں لکھا تھا ایک اور کام بھی ہے
ہاں ہے تو سہی میں نے کہا خالہ کی لینی ہے اور تمہاری مدد چاہئے تم سے اس کی اچھی ہے وہ مجھے دکھاتی رہتی ہے باتیں بھی اشارے بھی کرتی ہے مگر میں اسے کیسے کہوں ؟؟ سمجھ نہیں آ رہی
ہاہا نسرین ہنس دی میں سمجھی واقعی کوئی کام ہےکیا مطلب؟؟ میں حیران ہواارے بابا اس کی پھدی کو روز لن چاہئیے ادھر آتی ہے تو مجھ سے رابطے میں رہتی ہے جمعے کی صبح مجھے کہا تھا جس دن آئی تھی۔ اسی چھت پہ راشد نے اس کو ٹھنڈا کیا میرے سامنےکل کا پھر اس کا پروگرام ہے کل تم کو بلا لوں گی مار لینا اس کی گانڈنسرین نے تو مسئلہ ہی حل کر دیا میں خوشی سے جھوم اٹھا نسرین کی چدائی کے بعد اپنے کمرے میں پہنچا تو سرشار تھا نسرین نے پہلے بنڈ مروا کر مزہ دیا اور پھر خالہ تک پہنچنے کا آسان ترین راستہ بھی بتا دیاتھا اب صرف کل رات تک انتظار کرنا تھا اور میری پیاری خالہ جان اپنی تمام خوبصورتیوں کے ساتھ میرے سامنے ہوتی۔ ننگی خالہ کو دیکھنے سے لے کر چودنے تک کا تصوراتی منظر ایک لمحے میں آنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔ میں بہت خوشی خوشی سو گیا خواب میں بھی ہر طرف خالہ کی گانڈ مٹکتی رہی صبح اٹھا تو ناشتے کے دوران ہی خالہ کا ایک بار پھر بھرپور جائزہ لیا بھرے بھرے کولہے وسیع گولائیں بڑی بڑی متناسب اٹھی ہوئی چھاتیاں گورا رنگ۔ خالہ مکمل تباہی تھی۔ ایک خدشہ بھی میرے زہن میں تھا کہ پتہ نہیں نسرین خالہ کو بتائے گی کہ آج رات ٹھکائی کرنے والا کوئی غیر نہیں اس کا سگا پیارا بھانجا ہو گا

Posted on: 08:28:AM 27-Jan-2021


0 0 339 0


Total Comments: 0

Write Your Comment



Recent Posts


Hello Doston, Ek baar fir aap sabhi.....


0 0 19 1 0
Posted on: 06:27:AM 14-Jun-2021

Meri Arrange marriage hui hai….mere wife ka.....


0 0 15 1 0
Posted on: 05:56:AM 14-Jun-2021

Mera naam aakash hai man madhya pradesh.....


0 0 14 1 0
Posted on: 05:46:AM 14-Jun-2021

Hi friends i am Amit from Bilaspur.....


0 0 76 1 0
Posted on: 04:01:AM 09-Jun-2021

Main 21 saal kahu. main apne mummy.....


1 0 60 1 0
Posted on: 03:59:AM 09-Jun-2021

Send stories at
upload@xyzstory.com